Thursday, May 28, 2020

Nrali Muhabt Urdu Novel By since pari Downlod PDF


#_نرالی_محبت
#رائیٹر_سندس_پری
#قسط_نمبر_1

آج وہ اپنی ماں کیلئے شاپنگ کرنے آیا تھا . انکی زندگی میں تھا ہی کون بس وہ اور اسکی ماں ہی تو رهتے تھے .لیکن اسکے بابا بہت امیر تھے . اور انکی ہی عنایت تھی کے وہ انکے جانے کے بعد بھی اچھا کھا اور پی رہے تھے .

وہ خود کیا تھا 6 فٹ لمبا چوڑی جسامت کا مالک , کالی گہری آنکھیں اور ان پر لگے کمزور نظر کے گلاسز تو اسے سب سے الگ بناتے تھے . بلیک پینٹ اور ساتھ وہائٹ شرٹ پہنے وہ اپنی ماں کو تو شہزادہ لگا تھا .

جب کہ اسکے دوستوں ور باقی سب کی نظروں میں وہ چمپو تھا .ماں کا لاڈلا جس نے ابھی تک ماں کے پلو کو پکڑ کر رکھا ہوا تھا . کہا جانا ہے ,کیا کھانا ہے ,کیا پہننا ہے حتا کہ ہر چیز ہی شرمیلا بیگم نے پسند کرنی ہوتی تھی . اور یہ اسکی خواہش ہوتی تھی .

جب کہ اب تو انہوں نے بھی کہہ دیا تھا کہ خود جا کر اپنی پسند سے کپڑے لے لیا کرو . لیکن وہ کہا مانتا تھا .تھا کہتا تھا

“ ماما اپ اپ ہی ہمیشہ سے سب کچھ لیتی آئی ہیں تو اب اگے بھی اپ ہی لینگی . مجھے آپکی پسند ہی پسند ہے .اور یہاں اکر وہ خود بھی پگھل جاتی تھیں .آخر انکا بیٹا اتنا فرمابدار ہے تو بہو بھی وہ اپنو پسند کی چاند سی ہی لائے گی . ”

 وہ خود بھی تو کمزور دل کا مالک تھا اگر پڑھ رہا ہوتا اور کوئی اکر غبارہ بھی اسکے قریب پھاڑ دیتا تو وہ ڈر کر سکول ہی نا جاتا .کچھ دن بستر پر ہی رہتا . وہ تھا بہت ہی کمزور دل کا مالک .

داشاب ایک بہت ہی شریف پر معصوم لڑکا تھا . ایم_بی_اے وہ کر چکا تھا.اپنی پڑھائی کے لئے اسے امریکا بھی جانا پڑا تھا . اور اس ٹائم وہ کسی دلہن کی طرح اپنی ماں سے لپٹ کر رویا تھا . سکالرشپ آئی تھی اسکی تو جانا تو تھا ہی کیوں کہ ماں کی خواہش تھی .

اور آج داشاب اسی لئے بازار آیا تھا کہ اپنی ماما کو سرپرائز گفٹ دے سکے . لیکن اسکے دوست مل گئے جو کہ تھے سدا کے بھوکے .اسے دیکھتے ہی قریبی ریسٹورینٹ لے گئے .اور اپنی ہی پیٹ پوجا کرنے لگے .

__________________________________

نوال براؤن آنکھوں والی حسینہ , پنکھڑیوں جیسے لب ,گوری سفید رنگت شولڈر تک اتے بال وہ مکمل حسن کا پیکر تھی . اور اسکے کپڑے بلیک ہی جینز اور بلیک ہی شرٹ پہنے وہ غضب ڈھا رہی تھی .

لیکن مجال کسی کی جو اسکی طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھ لے .نوال کوئی عام لڑکی نہیں تھی .وہ اپنے گاؤں کی غنڈی تھی .

شازیہ بیگم کا کوئی بھی بیٹا نہیں تھا . انکی ایک ہی اولاد تھی اور وہ تھی …….. تو پڑھی لکھی لیکن بولی اسکی وہی تھی گاؤں کے لوگوں جیسی تھی .

گاؤں کے لوگ تو ڈر کر بھاگتے تھے دور اس سے..…………. لیکن اسکی ماں کو اسکے لئے رشتہ کی تلاش تھی جب کہ اسے تو کوئی دبو سا لڑکا چاہیے تھا .

تاکہ باقیوں کی طرح اس پر بھی اپنا روعب جھاڑ سکے نا کہ اسکی سنے .خیر سننے والی تو وہ تھی نہیں اچھے اچھوں کے چھکے چھڑا دیتی تھی .

اور آج وہ شہر آئی تھی .اب کوئی لڑکا تو تھا نہی جو یہ سب کام بھی دیکھتا تو اسے ہی کرنا ہوتے تھے یہ سب کام بھی …………..اور بچپن سے کر کر کے وہ عادی ہو گئی تھی .

نوال اپنے آدمیوں کے ساتھ اسکے ریسٹورینٹ میں داخل ہوئی تھی . اور اپنی گن وہاں اسکے مینیجر پر تان گئی .

ابے او کسی کھوئے ہوئے سکے کی اولاد .چل جلدی سے اپنے مالک کو بلا وارنہ یہ جو میرا کھوکا ہے نا بہت دنوں سے بھوکا ہے اسکی ساری گولیاں تیرے بھیجے میں اتار دوں گی .

ریسٹورینٹ میں تو ہر طرف افرا تفری پھیل گئی تھی کہ شور سن لر اس نے ایک فائر کھولا تھا .

ابے کیا ہے بے تم لوگ پڑھے لکھے جاہل ہو کیا دکھ نہیں رہا اپن کی میٹینگ چل رہی ہے . اور میٹنگ کے درمیان نو ڈسٹربنس آئی سمجھ گن کو سب کی طرف گھوماتے ہوئے اس نے ان سب کی عقل میں اضافہ کیا تھا .

جب کہ سب اس لڑکی کے روپ میں گنڈی کو اور اسکے ہاتھ میں موجود کھوکا بقول اسکے ڈرتے ہوئے دیکھ رہے تھے .

اتنے میں ریسٹورنٹ کا مالک بھی آگیا . ہاں بے تو ہم سے زمین لیکر اس پر فصل اگا کر اور اسے کھا کر تو زمین بیچ رہا ہے . بتا وارنہ یہ ساری کی ساری تجھ پر خالی کر دوں گی تو تو جانتا ہی نہ مجھے میں ملکہ ہوں گاؤں کی پھر بھی تو نے یہ گستاخی کی .اب سزا کے لئے تیار ہو جا سالے .

کہنے کی ساتھ ہی اس نے اپنی گن لوڈ کی ور اور اسکی کنپٹی پر تان دی . جب کا کہ اپنی جان کو مشکل میں دیکھتے وہ جلدی سی بولا …..ماف……….معاف کر دو ملکہ مجھ سے غلطی ہو گئی .میں وہ زمین ابھی اسی وقت دینے کو تیار ہوں .

یہ ہوئی نہ بات ……………اوئے بشیر کیا دیکھ رہا ہے آجا کاغذ قلم لیکر چل اب جلدی سے سین( سائن ) کر اپنی گن کو اسکی کنپٹی پر رکھتے وہاں پہ دباؤ دیتے کہا تھا .

جب کہ وہ دور بیٹھا کانپ رہا تھا آج سے پہلے اس نے لڑکیوں کو بے بس ہی دیکھا تھا آج یہ نیا روپ تو اسے کانپنے پر مجبور کر گیا تھا .

جب کا سین کروانے کہ بد وہ بھر جا ہی رہی تھی کہ اسکی نظر اس کانپتے وجود پر پڑی ور وہ ایڑیوں کے بل مڑی تھی اسکی طرف .

پر جا کر اسکے سر پر کھڑی ہو گئی . واہ بے کیا چکنا مال ہے تو تو …..اسکے چاروں طرف گھومتے ہوئے وہ اپنے ہاتھ میں موجود گن کو اسکی طرف کرتے ہوئے بولی …….

جب کہ اسکی بات سن لر اسے اتنا خوف نہیں آیا تھا جتنا اسکی گن دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا . ور تھر تھر کانپنے لگا تھا .جب کہ اسکے دوست آرام سے سائیڈ پر ہو گئے تھے .

وہ فری کا کھانا کھانے آئے تھے نا کہ گولی اس لئے پیچھے ہو کر اپنے دوست کو اس شیرنی کے سامنے یوں کانپتا دیکھنے
 لگے .

یار آج تو یہ گیا پہلے ہی کمزور دل کا ہے ور اوپر سے وہ گنڈی ……….چل اناللہ ہی پڑھ لے آج اس پر ………….

ابے چکنے کیا کھاتا ہے تو ……… ہاں اتنی تو میں گوری نہیں جیت تو گورا ور چکنا ہے ………….ابے شرما نا بتا بھی …………

وہ اسکے پاس ہی ٹیبل پر بیٹھ گئی تھی اور اس سے اسکی خوبصورتی کا راز پوچھنے لگی . اسی یہ لڑکا یا یوں کہے کہ پٹاخہ اپنے لئے پسند اگیا تھا .

ابے بول نا میرے کو تیری آواز ایچ بھی سننے کا ہے . وہ کیا ہی نا میں ہر چیز دلہ بھال کر لیتی ہے اگر خراب ہو گئی تو …………

لیکن یہ تو اپن کی زندگی ایچ کا ہی معاملہ ہے ……..چل بتا نا ………….

جب کہ اس سے تو کچھ بولا بھی نہیں ج رہا تھا …… بہت مشکل سے الفاظ جمع کر کے وہ گویا ہوا ………….

مم …………. میری ماما کو جو پسند ہوتا ہے وہی کھا …….کھاتا ہوں …….. پر وہ میری پسند کا ہی سب بن ………..بناتی ہیں …………

ارے واہ……….واہ اسکا مطلب ہے ساسو اماں کی محنت کا کمال ہے. جو تو اتن چکنا ہے .……………

ساس کا ……..کا کیا مطلب ہے ……….

ابے سب کچھ کیا ایک ایچ یت میں کرنے کا ارادہ ہے کیا ………..

چل اگلی بار پھر ملے گے ابھی اپن کو تھوڑی جلدی ہے یل دو جگہ ور بھی جانا ہی لوگوں کا دماغ ٹریک پر لانے کے لئے ……….

اور اب جب میں تیرے سے ملے گی نا تو تو ہمیشہ کے لئے اپن کا ہو جائیگا ………..

 اور یہ گیرینٹی ہے اپن کی ………….. چل اب تو بھی پھوٹ ادھر سے اور آئندہ ان چوزوں کے ساتھ نا گھومنا وارنہ میرا اگلا ٹارگٹ یہ ہونگے ………

اپنی بات کہتے ہی وہ جیسے تن فن کرتی آئی تھی ویسے ہی خارجی دروازے کی طرف بڑھی ……….لیکن جاتے ہوئے پھر مڑی تھی اور پوچھا تھا ………..

آجا تجھے لفٹ دے دوں …………

نہی ……….نہیں میں خود چلا جاؤں گا میری ماما میرا ویٹ کر رہی ہونگی ……..

کہتے ہی وہ دوسرے گیٹ سے باہر بھاگا تھا ………

ارے ڈر گیا اپن کا وہ …………. کہتے ساتھ ہی وہ قہقہ لگاتی اپنے گارڈز کے ہمراہ باہر چلی گئی ……..


نوال نے گھر اتے ہی سب سے پہلے اپنے خاص بندے کو بولایا تھا اپنے پاس ………….

بشیر ………………

کہا مر گیا ہے تو ہاں کب سے آواز دے رہی ہوں .

شریفہ جا جا کر اپنے خسم کو بلا ……..کہا مر گیا ہے……… جلدی بلا ..…….وارنہ اسکا فیصلہ میری رانی ( گن ) کرے گی .

جی جی ………. سرکار ……

اسی وقت بشیر کسی بوتل کے جن کی طرح نازل ہوا تھا …….

معاف کرنا سرکار …..وہ میں غسل خانے میں تھا ……

تو نا سدھری کام کے وقت تجھے دو نمبر آجاتا ہے ……..

اور وہ غسل خانا نہیں باتھراااام ہے . تجھے کب عقل آئیگی …….میں تو سیکھا سیکھا کر ہی بڈھی ہو جاؤ گی .

چل چھوڑ ان باتوں کو ….اور سن جو پٹاخہ ابھی میں دیکھ کر آئی ہوں . میرا راجہ …… ہائے ……. مجھے کل تک اسکی ساری معلومات چاہیے …

اسکی ہر بات کدھر رہتا کیا کرتا اور ہاں کوئی گڑبڑھ نئی ہونی چاہیے …..سمجھا اگر کچھ رہ گیا تو گیا تو ……… سمجھا ……..

جی جی سرکار ……..

چل اب شکل گم کر اپنی ……..

جب کہ خود اپنی ماں کے کمرے میں گئی …..

ہائے …. میری ہیروئن کیسی ہے . تیرے لئے ایک سو پرائز ہے . کل کا انتظار کر …. تو بھی خوش ہو جائیگی …….

کب سدھرو گی تم بیٹا یہ زبان چھوڑ دو اب ایسے کون کرے گا تم سے شادی …………..کوئی شریف لڑکا تو کبھی نہیں کرے گا جیسی تمہاری بولی اور پہناوا ہے .

آری او میری ہیروئن دنیا بہت تیز ہے اور اس سے بھی زیادہ تیری یہ چھوری تیز ہے . ایسا مست مال ہوگا میرا کہ تو بھی رشک کرے گی میری قسمت پر .

قہقہ لگاتے ہوئے وہ شازیہ بیگم کے گال پر ایک پپی دیتی اپنے کمرے میں چلی گئی .

پیچھے شازیہ بیگم اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی تھی کہ مجبوری میں   انہوں نے اپنی بیٹی کو یہاں ان کاموں میں ملوث کروایا تھا لیکن نوال نے تو اسے ہی اپنی زندگی مان لیا تھا .

اور اب وہ پتا نہی کیا کرنے والی تھی شازیہ بیگم تو بس اسکے لئے اور اسکے اچھے نصیبوں کی دعا مانگنے لگی . پر یہی شاید قبولیت کا وقت تھا .

اسکا نصیب تو اچھا ہو جانا تھا لیکن اسکی زندگی میں انے والے کی کوئی خبر نہیں تھی .

____________________________

داشاب جو کہ کل کے واقع کے بعد گھر پر ہی تھا کافی حد تک خود کو کمپوز کرتا باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا .

کیوں کہ اسکے دوستوں نے آج پھر اسکی جیب خالی کروانے کا فیصلہ کیا تھا .

اور داشاب وہ انکی باتوں میں آ بھی گیا تھا . اور اپنا وہی ہمیشہ کا سٹائل بالوں میں تیل لگائے اور کنگھی کئے انکو ایک طرف کئے وہ آمنہ بیگم کو چاند کا ٹکڑا لگا تھا .

آمنہ بیگم خود تو پڑوسی کے گھر چلی گئی جب کہ ادشاب ابھی گھر سے باہر نکلتا کے ایک ساتھ اتنے سارے لوگ اکھٹے اسکے گھر میں داخل ہوئے اور اسے سوچنا کا موقع دیے بغیر اپنے ساتھ جیپ میں ڈال کر لے گئے .

پر وہ ان سب سے در کر ایک کونے میں بیٹھ گیا .کسی کا کیا بھروسہ کہ کوئی غصّہ ہو کر گولی ہی نہ چلا دے .

وہ اسے ایک کھنڈر نما بلڈنگ میں لے گئے . جب کہ داشاب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی .

ور اسے راہدری سے ہوتے ہوئے ایک کمرے میں لے جا کر بڑی عزت ور احترام کے ساتھ بیٹھا دیا . اور جو کپڑے اسکے لئے لائے تھے .وہ اسے دیے اور کہا

‘’ کہ اگر اپنی ماں کی اور اپنی جان پیاری ہے تو جلدی سے یہ کپڑے پہن کر باہر او ”.

جب کہ یہ سننے کی دیر تھی کہ وہ فورا سے کپڑے چینج کرنے چلا گیا .

جب کہ وہ حیران تھا کہ وہ لوگ کیوں اسے یہاں لائے ہیں اور اب اسکے ساتھ کیا کرنے والے ہیں .

_________________________________

نوال نے اپنے آدمی کی مدد سے داشاب کی ساری انفارمیشن نکال دی تھی . اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ کسی کو پتا نہیں تھا .

اور آج صبح اس نے بشیر کو کہہ کر اسے گھر سے اٹھوا لیا تھا .اور آج وہ اپنی زندگی کا سب سے اچھا کام بقول اسکے کرنے جا رہی تھی .

جب اسکے فون پر کال آئی تھی . …… ہاں بول بشیر …….. ہاں کام ہو گیا چل … اپن بھی آرہی ہے ……. اپن کوئی آڈیااااانس تھوڑی ہے جو پہلے آئے گی .

لیٹ اینٹری از گریٹ اینٹری………..

 ببل چباتے ہوئے اس نے ایک قہقہ لگایا اور اپنے دبنگ سٹائل میں لینڈکروز میں بیٹھتی وہ گاڑی کو فل سپیڈ اڑاتی اپنے چکنے کے پاس جا رہی تھی .

جہاں اسکا دل کر رہا تھا کہ اسکے پر ہوتے تو اڑ کر چلی جاتی ……

وہاں پر جاتے ہی وہ بڑی شان و شوکت سے اپنی گاڑی سے نکلی اور   لڑکیوں کی طرح لہرا اور بلکھا کر چلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی .

اور جب کوشش کرنے کے باوجود بھی نا چل سکی تو ادھر ادھر دیکھتی اپنی ہی غنڈوں والی چال بڑے تفاخر سے چلتی اندر داخل ہوئی جہاں اسکا چکنا پہلے ہی موجود تھا .

اسے دیکھتے ہی بے اختیار اسکے منہ سے نکلا ………

زہ نصیب ……. آج تو تو غضب ڈھا رہا ہے .

ہائے………ہائے کہی یہ دل بے قابو نا ہو جائے ……. لوفرانہ انداز میں ایک ہاتھ دل پر رکھے گویا ہوئی …….

چل مولوی اسٹارٹ کر اپن کا ویا….. مطلب نکاح .…..

اور مولوی نے بھی حکم ملتے ہی نکاح شروع کروا دیا ………

نوال علی ولد عدنان علی آپ کو داشاب احمد ولد ارسلان احمد کے نکاح میں حق مہر پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت دیا جاتا ہے کیا آپکو"" "قبول ہے" ""

نوال سے جب پوچھا گیا تو جھٹ سے جواب حاضر تھا ……

اپن کو تو یہ چکنا ہر حال میں……. قبول ہے  قبول ہے  قبول ہے

اسکے بعد مولوی صاحب داشاب سے گویا ہوئے …………..

 داشاب احمد ولد ارسلان احمد آپ کو نوال علی ولد عدنان علی کے نکاح میں حق مہر اپنی جان کے عوض دیا جاتا ہے کیا آپکو"" "قبول ہے" ""

مولوی کی آواز تھی یا گویا کوئی بمب تھا جو داشاب پر پھوٹنے والا تھا مطلب اپنی جان کے عوض نکاح ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کون کرتا ہے ایسے نکاح ؟؟؟؟؟؟؟

وہ پریشان سا اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرنے لگا………

بولنے کے ساتھ ہی مولوی نے حیران نظروں سے نوال کی طرف دیکھا تھا ……. جیسے پوچ رہا ہو کہ یہ کیا ہے ………

لیکن نوال کے ہاتھ میں موجود گن ( کھوکھا+رانی ) دیکھ کر اس نے اپنے الفاظ اپنے منہ میں رکھنا ہی بہتر جانا اور پھر سے گویا ہوا ………

کیا اپ کو یہ نکاح قبول ہے .

جب کہ وہ پریشان سا سب کا منہ دیکھے جا رہا تھا . جو 10 لوگ اس پر بندوکیں تانے کھڑے تھے .

جب نوال نے اسکے چہرے پر سوال دیکھ تو خود ہی بول پڑی………….

دیکھ بیڑو اب یہ نا ہو بعد میں تو مکر جائے یاں تیری ماں نا مانے تو اپن کا یہ سب اتنی محنت اور ٹائم تو کھوٹی گیا نا اس لئے حق مہر میں تیری جان لکھوایا ہے ………

تا کہ اگر تو اپن سے دور جانا بھی چاہے تو سیدھا اوپر جائے ……….

سہی ہے کہ نہیں بولو سب لوگ اپنے عقلمندی والے کارنامے پر سب سے رائے لینا چاہی اور کس میں ہمت تھی جو نوال علی کو غلط کہہ سکے ………

تو سب نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی ……

جب کہ نوال خود ایک طرف اپنی اسی ڈریسینگ بلیک جینز ور بلیک ہی شرٹ میں ملبوس تھی اور ایمرجنسی کے طور پر اس نے اسی ڈریس کے اوپر ریڈ لہنگا پہنا ہوا تھا .

اپنے چہرے پر دل کش مسکراہٹ سجائے وہ داشاب کو دیکھنے میں مصروف تھی .

جسے وہ اسکے گھر سے اٹھا کر لائے تھے اور ایمرجنسی شیروانی پہنائے اب بندوکوں کی نوک پر اس سے نکاح پڑھوا رہے تھے .

اپ ایسا کیوں کر رہی ہیں ایسا مت کریں …………م..…. میں نے کی بگاڑا ہے اپ کا ………….

” ہاآئے کمبخت تو نے ہی تو بگاڑا ہے سب اپن کے اس دل کا اس دل کی لو بیٹری تو تجھے اس دن پہلی بار دیکھ کر ہی چارج ہو گئی تھی ” …………

نوال اپنے دل پر ہاتھ رکھے گھونگھٹ کو ذرا سا اٹھائے گویا ہوئی تھی . اور داشاب کو دیکھ کر اپنی ایک آنکھ دبائی تھی .

یار جلدی کرو میرے سے یہ تھان نہیں سنبھالا جا رہا . چلیں مولوی سرکار یا اپن کو غصّہ دلانا ہے .

دیکھ میرے غصّے کا کوئی بھروسہ نہیں کچھ بھی کر جاتی ہے میں غصّے میں………… اس لئے بھلائی اسی میں ہے جلدی کر تو ………..

نوال جو کہ اب زچ آگئی تھی اس طرح کی ڈریسینگ سے فورا سے سبکو ایک ساتھ دھمکی دے ڈالی ……

اور اسکی دھمکی کار گر بھی ثابت ہوئی تھی . مولوی نے نکاح پڑھوانا شروع کروا دیا .

اور داشاب سدا کا ڈر پوک مرتا کیا نا کرتا . چپ چاپ نکاح نامہ پر دستخط کئے اپنی پوری زندگی اس گاؤں کی ملکہ ( غنڈی ) کے نام کر چکا تھا .

جب کہ نکاح ہوتے ہی نوال اور اسکے آدمیوں نے دل کھول کر فائرنگ کھول دی .


نکاح کے بعد داشاب ایک جگہ پریشان ہو کر بیٹھ گیا ….. کہ اب وہ کیا کرے گا کیوں کہ اسکی ماں نے تو کتنے خواب دیکھے تھے اسکی شادی کے جب انہیں پتا لگا تو کیا ہوگا ………

اسکی شکل پوری رونے والی ہو گئی تھی . …… جب نوال بڑے مزے سے اسکے پاس آئی اور شرمانے کی ناکام اداکاری کرتی اسکا خون مزید جلا گئی ……..

اوئے میرے سئیاں چل پکڑ لے میری بئیاں اور آ چل  تجھے میں لے چلوں اپنی خوابوں کی دنیا میں ………..

کی………… کیا مطلب اپنی دنیا؟؟؟؟؟؟

کیا کی کی کر رہا ہے ….. کیا تجھے بھی وہ انگلش سانگ پسند ہے ……. کی کی ڈا یو لو مے …….

وہ گانا ایسے ہے …… کی کی ڈو یو لوو می ……….

دیکھ تو سمجھ گیا اپن کے الفاظ بے شک غلط تھے پھر بھی …… اسی لئے تو اپن نے تجھ سے شادی پروگرام کر کے تجھے ہمیشہ کے لئے اپن کے نام کر لیا ہے ….. ہے نہ جھکاس آئیڈیا …….

ور رہی بات کر گھر جانے کی تو تو نے تو اپن کو اغوا کر کے نکاح نہیں کیا نا اگر تو کرتا تو بھی اپن تجھے ہی اپنے ساتھ اپن کے ایچ گھر لے کر جانے والی تھی .

اپن نے اپنی ہیروئن بولے تو اپن کو اس دنیا میں لانے والی اپن کی جنت کو سوپرائز جو دینا ہے ……

لیکن شادی کے بعد تو لڑکی اپنے ہسبنڈ کے گھر جاتی ہیں نا آئی مین میاں  کے گھر …….

دیکھ اپن کا شادی کوئی نارمل شادی تو ہے نہیں …… تو خود کو ہی دیکھ لے اب تیرے کرنے والے سارے کام اپن نے کئے ور اپن کے تو نے ………

میں نے کونسا اپکا کام کیا ہے ……….

ابے بیدآئی پر لڑکی روتی ہے ور ادھر دیکھ تو روتی صورت بنا کر بیٹھا ہے ……. اور تو اور لڑکی یہ ……….یہ اپ …..اپ کرتی ہے وہ ایچ بھی تو کر رہا ہے ……

دل خوش کر دیا ہے ویسے تو نے کیوں کے اپن کو تو رونا آ نہیں رہا …… اپن کا دل کر رہا ہے کہ اپن بھنگڑا ڈالے لیکن کیا ہے نا نئی نئی دلہن ایسے اچھی نہیں لگے گی …….

جب اتن کر لیا ہے تو بھنگڑا بھی ڈال ہی لو……… داشاب نے غصّہ سے دانت پستے ہوئے کہا ………

لیکن اسکے کہنے کی دیر تھی کہ نوال سچ مچ میں اٹھ کر بھنگڑا کرنے لگی …….. یارو اپن نے بلکل سہی مال چنا ہے . کتنی فکر ہے چکنے کو اپن کی کہتا ہے دل کر رہا تو کرو جو کرنا ………

جب کہ داشاب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور ٹھیک پندرہ منٹ بعد داشاب رخصت ہو کر نوال کی شیرنی حویلی پہنچا …… لیکن پورے راستے تھوڑی دیر کے لئے بھی نوال کے گارڈز نے فائرنگ نہیں روکی تھی …….

اور تو اور وہ جہاں سے بھی گزرتی سب اسکے احترام میں کھڑے ہو جاتے یہ دیکھ کر داشاب بھی حیران تھا .پھر سوچا ان پر بھی ایسے ہی حکم چلاتی ہوگی …….

اللّه اللّه کر کے وہ حویلی پہنچا اور وہاں ایک ور مصیبت تیار تھی .

جب نوال کی اماں نے دیکھا تو حیران ہی رہ گئی …… انہیں صرف اس کام کی امید نہیں تھی نوال سے لیکن اس نے یہ بھی کر دکھایا تھا . آخر کو انکی سر پھری بیٹی تھی اس سے کسی بھی چیز کی امید کی جا سکتی تھی ور یہ آج اسکی ماں کو بھی پتا چل گیا تھا .

چل اب رات ہو گئی ہے اب سونے کا ٹیم ہے چل میرے چکنے کمرے میں چلے ……. آنکھ دبا کر کہتے ہوئے وہ داشاب کو لیکر جانے لگی جو کہ اسکی ماں کے سامنے خومخوا شرمندا ہو گیا تھا نوال کی ہرکت پر …….

جب کہ شازیہ بیگم خود فورا سے انکو اپنے کمرے میں جانے کا کہہ کر خود بھی چلی گئی …… تھوڑی دیر اور روکتی تو کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ وہ انکے سامنے ہی کیا کچھ کر دیتی …..

چل بیڑو اب کسکا وٹ کر رہا ہے .چل چلیں …….

اسے بازو سے پکڑتی وہ سیڑھیاں چڑھتی اسے کمرے کے باہر کھڑا کر کے خود اسکے اگے ہاتھ پھیلا کر کھڑی ہو گئی ……. جب کہ دا شاب پھر سے ٹکٹکی باندھے اسے دکھنے لگا کہ اب کیا باقی رہ گیا ہے ………

دیکھ چکنے اب اپن کا کوئی چھوٹا بھائی یا میرے جیسی شیرنی تو ہے نہیں جو تجھ سے یہ دروازے پر روکنے کی رسم کرے اور میرے کو کچھ بھی غلط نہی مانگتا ہے .

اس لئے شادی پورے رواج سےاور رسموں سے ہی ہوگی نا اب چل رسم پوری کر اور میرا نیگ دے ……

مجھے کیا خواب آیا تھا کہ اغوا ہو کر میری شادی ہونے والی ہی جو میں تیاری سے اتا ……. اپن کے ……. میرا مطلب ہے کہ میرے پاس نہیں ہے کچھ بھی ابھی …….

ہمم چل کوئی گل نہیں جیسے باقی سب رسمیں ایک دوسرے کی کی ہیں یا بھی اپن کر لیتی ہے ……..

نوری اوووو نوری ادھر آ………

نوال نے لہنگا کے نیچے سے اپنی پینٹ میں سے پچاس ہزار کی گڈی نکالی اور داشاب پر سے وار کر نوری کو دی اور کہا …..

یہ اپن کے خون پسینہ کی کمائی ہے اسکو شاپنگ میں نا اڑانا ……..

اپنی چھوکری کو پڑھانا…….. تا کہ اپن کے مافک کامیاب ہو سکے ……..

جی جی سرکار بہت مہربانی آپکی ……. میں ابھی اپنی بیٹی کو پڑھانا چاہتی ہوں لیکن پیسے نا ہونے کی وجہ سے کہہ نہیں سکی …….
اپن لی نظر ہر جگہ رہتی ہے . اپن کو معلوم ہے تبھی تجھے دیا ہے یہ ڈھوکڑا …… چل اب اپنی شکل گم کر ……..

جب کہ داشاب خاموشی سے ساری کروائی دیکھ رہا تھا …… کمرے میں داخل ہوتے ہی گویا ہوا . …… شادی تو ہو چکی ہے اب مجھے جن دو تا کہ اپنی ماں کو تو بتا سکوں ……….

ابے چکنے اب تو اپن کا بن گیا ہو تو تیری ماں بھی تو اپن کی ماں ہوئی نا وہ بھی بس انے والی ہے . اب تم دونوں یہی رہوگے ور رات ہو گئے ہے وہ تو اتے ہی میری جنت سے پوچھے گی ور وہ سمجھا دے گی کہ آج اپن لوگوں کی پہلی رات ہے تو ڈسٹرب نا کرے .

اب تو چل آجا آخری رسم ابھی باقی ہے ……….

اپنی ماں کا سن کر ویسے ہی پریشان تھا …….اور جب آخری رسم کا سنا تو ایک بر پھر حیران ہو کر اپنی تھوڑی دیر پہلے کی بیوی کی طرف مڑا ……. لیکن دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کا وہ اسکے سامنے ہی ……….……

اپنا لہنگا اتار چکی تھی . شکر تھا کے اس نے جینز پہنی ہوئی تھی لیکن اسکے باوجود بھی داشاب نے منہ موڑ لیا تھا ……..

اوه اپن کے سائیاں اپن کے سر کا تاج اور یار اب اور تو اپن کو نہی اتا لیکن چکنے تیرے لئے اپن سیکھ لے گی سب …….

چل آجا اب آخری رسم کر لے ………..

کون ………کون کونسی رسم ……..

ابے یار تو ڈرتا کیوں ہے .میں تیری بیوی ہے کوئی چوڑیل تھوڑی ہے جو تجھے کھا جائیگی ……

اس سے کم بھی نہیں ہو ……

کیا کیا کہا …..

میں نے کہا میں اگیا لو ……

داشاب اسکے پاس جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا ……

نوال نے پاس پڑی چنری اٹھائی ور گھونگھٹ کر کہ بیٹھ گئی …… اور اپنا ایک ہاتھ اسکے اگے کیا …….

مطلب صاف تھا منہ دکھائی دو …….

داشاب کا بس چلتا تو اسکا کیا اپنی ہی شکل اسے کبھی نہ دکھاتا لیکن فلحال تو پھنس چکا تھا …..

دیکھو …….. دا شاب کو تپ اسکا نام بھی نہیں پتا تھا ….. اب کیا کہتا ……

تو اپن کو نوال کہہ سکتا ہے .اپن کا نام ہے نوال تجھے بھول گیا نا مولوی نے بتایا ایچ بھی تھا .لیکن کوئی نہیں پہلی غلطی معاف ….

اوکے دیکھو نوال ہماری شادی ایسی سیچویشن میں ہوئی ہے کہ مجھے بھی اب تک یقین نہیں آرہا کہ میری شادی ہو گئی ہے . تو منہ دکھائی کا تحفہ کہا سے لاؤں …… ور اس سے بڑھ کر کیا چاہیے آپکو کہ میری زندگی ہی آپکے نام ہو گئی ہے …..

بات تو تیری 100 سو ٹکا سہی ہے . لیکن رسم بھی تو کرنی ہے نا .تو چل یہ چنری تو اڑھ کر بیٹھ جب تیرے سارے کام اپن کر چکی ہی تو یہ خوشی خوشی کرے گی ……

اور اب داشاب گھونگھٹ نکال کر بیٹھا ہوا تھا ور سوچ رہا تھا کہا پھنس گیا یہ دن بھی دیکھنا باقی تھا ….. ایک دن میں وہ کیا سے کیا ہو گیا تھا …….

کہ اتنے میں نوال نے اسکا ذرا سا گھونگھٹ اٹھایا اور اپنا ہاتھ اپنے ہونٹھوں پر لے جا کر ایک فلائینگ پپی دے ڈالی ور اتنا ہی نہیں اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ میں دال کر لوفروں کی طرح سیٹی بھی بجا ڈالی ………….

“ قسم سے یار تو تو بڑا ہی چکنا ہے دل کر رہا ہے ایک چوما لے ہی لوں لیکن پہلے تحفہ  ”

اس نے ایک بہت ہی پیاری اور نفیس سی چاندی کی انگوٹھی داشاب کو پہناآئی تھی …… جسکے اوپر ایک بہت ہی خوبصورت نگینہ جڑا ہوا تھا اور ایک سائیڈ پر نوال کے نام کا پہلا حرف N جب کہ دوسری سائیڈ پر داشاب کے نام کا پہلا حرف D لکھا گیا تھا .

انگوٹھی دیکھ کر اسے یقین ہی نا آیا کے یہ نوال کی پسند ہے . کیوں کہ وہ واقعی میں بہت خوبصورت تھی اور قابل تعریف تھی .

کیسا لگا …….

بہت خوبصورت ور یہ پہلی بار تھی جب اس نے نوال سے مسکرا کر بات کی وارنہ کب سے تو وہ خاموش تماشائی بنا ہوا تھا .

دیکھ میرے کو پتا ہے تو ابھی تیار ماہی ہے اس رشتہ کے لئے اس لئے اپن تیرے کو ٹیم دے رہی ہے جتنا لینا حیا لے . کیوں کہ اب ہی تو تو اپن کا ہی نہ فلحال یہی ایچ کافی ہے .

چل جا اب کپڑے بدل لے سامنے بولے تو تیرے الٹا ہاتھ کی الماری میں تیرے کپڑے رکھے ہوئے ہے .

جب تک وہ چینج کر کے آیا تب تک  نوال بھی چینج لر چکی تھی اس نے کالے رنگ کی لڑکوں والا کرتا اور شلوار پہنی تھی ….. کھلے بال جو کہ بار بار اسکے چہرے پر آرہے تھے .

براؤن نشیلی آنکھیں جن پر پلکوں کو جھالر سایہ فگن تھی .گلابی پنکھڑیوں جیسے لب جنکو اپس میں پیوست کئے وہ ادھر سے ادھر دیکھ رہی تھی .

پہلی بار بغیر ڈرے فرصت سے اس نے نوال کو دیکھا تھا . اور کھو گیا تھا اسکے معصوم چہرے میں .اسکی عمر ہی کیا تھی صرف 20 بیس سال لیکن پھر وہ ایسی کیوں تھی ………… معصوم بھی تب تک جب تک وہ کچھ بولے نا جیسے ہی بولتی ہے اگلے کی دنیا ہلا کر رکھ دیتی ہے .

وہ تو بس یک ٹک اسے دیکھ کر سوچے جا رہا جب اچانک ہی اس نے ……………………..اسے ایک پکڑ کر کھنچا .نوال کا مقصد اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھانے کا تھا.

 لیکن ہائے رے داشاب کی قسمت ..….. داشاب جو اس سب کے لئے تیار نہیں تھا . بیٹھنے کی بجائے سیدھا نوال پر جا گرا اور محویت سے اسے دیکھنے لگا . کہ نوال کو چٹکی بجا کر اسے ہوش کی دنیا میں لانا پڑا ………..

لیکن داشاب کو دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ہوش کی دنیا میں آنا چاہتا ہے ……..

کیا بے تو تو کپڑے بدلنے میں اتنا ٹیم لگاتا ہے . اتنا تو لڑکی بھی نہیں لگاتی …….. اپن یہاں کب سے تیرا وٹ کر رہی ہے ور تو پتا نہیں کہا کھویا ہوا ہے .

کہی تو اپن کو دیکھ کر اپنے ہوش تو نہیں کھو بیٹھا تھا نا …….. نوال نے شرارت سے آنکھ دبا کر پوچھا ……..

جب کہ داشاب کا دل تو چاہا کی ہاں کہہ دے لیکن نوال کے کارنامہ یاد کر کے خاموش ہی رہا …….

یار چکنے ایک تو تو بولتا نہیں ہے ….. اپن تیرے کو بھی سننا مانگتی ہے ……… لیکن تو ہے کی …….

چل چھوڑ ان باتوں کو دیکھ جس بھی حال میں اپن لوگوں کا شادی ہوا ….. لیکن شادی تو شادی ہے نہ تھوڑا تو برداشت کرنا تھوڑا اپن کر لے گی.

یہاں تو مجھے لگتا ہے سب مجھے ہی برداشت کرنا پڑے گا …….

کچھ کہا چکنے تو نے ………

نہیں نہیں تو ……..

تو کہنے کا مقصد یہ ہے . اب تجھ پر کوئی زبردستی نہیں ہے . تو آرام سے اپنا ٹیم لے جتنا لینا ہے اس رشتے کو سمجھنے کے لئے ……

تو چل پھر سونے کا ٹیم ہے . اور تو اب صوفے پہ مت چلا جانا آجا اپن کے باجو میں ………

جب کہ داشاب تو سوچ میں پڑ گیا تھا . چل آ بھی جا …… جب نوال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے باجو میں لٹایا تھا ……… اور خود اسکے سینے پر سر رکھ کر سو گئی …….

یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ اسے موقع ہی نہ ملا کچھ سوچنے کا …….. چل اب سو جا جلدی …… ورنہ اپن کی رانی کو بھی بھوک لگی ہے . ….. یہ سننے لی دیر تھی وہ خود بھی آنکھیں بند کئے سونے کی کوشش کرنے لگا ور دن بھر کا تھکا جلد ہی نیند کی وادیوی میں چلا گیا ……..

_________________________________

نئی صبح روشن تھی …..داشاب ور نوال ایک ساتھ نیچے آئے …..آئی ور سبکو سلام کیا پھر ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے …….

جس حد تک ہو سکتا تھا شازیہ بیگم نے اس حد تک آمنہ بیگم کو سمجھا دیا تھا نوال اور داشاب کے بارے میں .

آمنہ بیگم کو شازیہ بیگم کافی نرم مزاج کی لگی تھی . لیکن ناول تو اسکے برعکس تھی ………. فلحال تو انہوں نے کچھ نہ کہا تھا …….. انکا ماننا تھا شادی تو ہو گئی ہے اب اختلافات کر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ……… لیکن وہ بات چیت کم ہی کر رہی تھی ……..

کیوں کہ انکو یہاں اکر رہنا اچھا نہیں لگا تھا . اور وہ جلد جانے کا ارادہ رکھتی تھی ………

ارے اپن کے چکنے کی جنت تو بھی کچھ لے نا ……… جب کہ داشاب اور آمنہ بیگم ایک بار پھر اسے دیکھنے لگے جب شازیہ بیگم نے نوال کو ڈانٹا تھا کی چپ کر کے کھانا کھاؤ ….. اور وہ بھی خاموشی سے کھانا کھانے لگی ……

کھانے کے بعد آمنہ بیگم کی ضد پر داشاب انکو گھر چھوڑ آیا تھا . اب وہ نوال کو سمجھانے کا ارادہ رکھتا تھا کہ اب وہ اسکے ساتھ اسکے گھر میں رہے گی نا کی داشاب ……..

داشاب گھر آیا تو اسے پتا چلا نوال بیٹھک مو موجود ہے وہ وہاں گیا لیکن اسکی باتیں سن لر باہر ہی رک گیا ……..

تیرے کہنے کا مطلب ہے ہمارے علاقے سے لڑکیاں غائب ہو رہی ہے ور تجھے معلوم نہیں ہاں چل اٹھ ور نکل کل تک اپن کو اس حرام خور کا نام چاہیے جو معصوم چھوریوں کو اغوا کر رہا ہے .

اور ہاں جلدی کام ہو جانا چاہیے یہ نا ہو کہ تیری چھوری بھی غائب ہو جائے ……..

نہیں ………نہیں سرکار ایسا نہیں ہوگا میں پوری کوشش کروں گا جلد از جلد پتا لگا لوں اس گینگ کا ………

کچھ سوچتے ہوئے داشاب وہی سے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا ……… جب اسکے پیچھے نوال بھی داخل ہوئی ……

ارے جان من تو آگیا …….. چل اچھا ہے . ویسے تیری جنت گھر واپس چلی گئی میرے کو اچھا نہیں لگا تو اپنی ماں سے دور کیسے رہے گا …….. اپن بھی نہیں رہ سکتی ……

اپن لوگ روز اس سے ملنے جایا کریں گے ………. وہ چہک کر بولی تھی  …..

نہیں ہم کہیں نہیں جائے گے اور اپ میری بات سنے ……..

ہاں بول ……

میری ماں کو اور مجھے شریف اور معصوم لڑکی چاہیے تھی ……

کیا مطلب تیرا اپن شریف نہیں ہے ……. وہ اپنی گن نکال کر بولی تھی …. 

ارے پہلے پوری بات تو سن لو ……..

چل اچھا بول اب نہیں بولے گی …….

پہلے اسے اندر رکھیں ……..

ہان چل اب بول ٹیم کھوٹی مت کر ………

میری ماں کو ور مجھے شریف ور معصوم لڑکی چاہیے تھی شریف تو اپ ہیں اور …… اور معصوم بھی لیکن آپکی یہ لینگویچ اسے تھوڑا چینج کرنا پڑے گا ……….

مطلب سہی سمجھا نا آسان لفظوں میں یہ انگریزی نا بولا کر ……. کہی اپن گالی سمجھ کر تیرے کو اڑا نا دے ………. ڈر لگتا نا اپن کو تو اپن کا چکنا ہے اپن نہیں چھٹی تجھے کچھ ہو ……

اوکے اوکے مطلب اچھا آسان لفظوں میں سمجھاتا ہوں …….

دیکھیں اپ کیلئے میں بہت کمپرومائز کر چکا ہوں اب آپکی باری اور ہم شروعات آپکے بولنے کے طریقے سے کریں گے …..

لیکن اپن تو اتنا میٹھا بولتی ہے سارا گاؤں جانتا ہے …….. بس ایک اپن کی جنت نئی مانتی اور اب تو بھی ………

کیا اپ میرے لئے اتنا نہیں کر سکتی ……… میں تو اپنی جان بھی حق مہر میں آپکو دے چکا ہوں ….

چل ٹھیک ہے کر لے گی اپن اپنے ہیرو کے لئے ….

تو چلے آج سے سٹارٹ کرتے ہیں ابھی تو مجھے کچھ کام ہے رات سے کلاس سٹارٹ ہوگی …

ٹھیک ہے . اپن تیار ہے ………

اسکے بعد سے داشاب کام سے اتا اسے بولنے کے آداب سکھاتا ور بیچ بیچ میں آسان انگلش بھی سکھاتا جسے وہ بڑے شوق سے سیکھ رہی تھی ……….

لیکن ایک بات جو حیران کن تھی وہ کبھی کبھی اپنی ماں کی پاس سونے کا بہانہ کر کے کہی چلا جاتا تھا جسکا نوال کو اب تک پتا نہیں چلا تھا ورنہ ایک نیا بوال مچ جاتا …..

نوال کو یہ سب سیکھتے ٣ تین مہینہ گزر چکے تھے اور  اب وہ کافی حد تک سہی بولنے لگی تھی ……..

جب کہ داشاب کی وجہ سے شازیہ بیگم خوش تھی کہ انکو نیک ور سلجھا ہوا داماد بیٹے کی صورت میں مل گیا ہے .

اب کسی دن داشاب اس سے اپنے گھر شفٹ ہونے کی بات کرنا چاہتا تھا . کیوں کہ اب وہ بھی کافی حد تک سمجھ چکی تھی اس بارے میں ………..

بے تکلفی اگر چہ زیادہ نہیں تھی لیکن اب وہ تو سے تم پر اچکی تھی ور دا شاب کو بھی کہا تھا . تم بھی مجھے تم کہہ کر پکارا کرو ……….. جس پر داشاب ہنسا تھا پر اور اگلے دن سے بلاجھجک تم کہہ کر پکار رہا تھا .

جب کہ نوال اب بھی آمنہ بیگم کو اپنی جنت کہہ کر بلاتی تھی .اسکا ماننا تھا وہ اپنی ماں کے معاملے میں کوئی ردو بدل نہیں کرے گی ………. اور اس بات سے داشاب کو خوشی ہوئی تھی .

نوال آج صبح سے داشاب کا ویٹ کر رہی تھی لیکن وہ تھا کے آ ہی نہیں رہا تھا …… اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کے آج کل نوال کر کیا رہی ہے کیوں کے اب وہ گھر سے بھائ کم ہی نکلتی تھی .

سارے کام تو وہ بشیر سے ہی کروا رہی تھی ……. اسکا سب سے فرما بدار ور بھروسے کا بندہ تھا ….. ور اسے سب معلوم بھی تھی کہ کب کیا کرنا ہے ور کیسے وہ تو اپنی نوال سرکار کے ایک حکم کا پابند تھا .

آج نوال نے اپنے ہاتھوں سے داشاب کے لئے کھانا بنایا تھا . جس میں چکن کباب ,بریانی اور میٹھے میں کھیر تھی . ان تین مہینوں میں اس میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی تھی ……….

جنکا داشاب کو بھی اندازہ تھا لیکن جان کر بھی انجن بن رہا تھا ایسا نوال کو لگتا تھا .اس لئے جب اپنی جنت سے اس نے پوچھا کے شوہر کو خوش کیسے کیا جاتا ہے .

تو انہوں نے تو یہی کھا تھ کے ہر مرد کہ دل کا راستہ اسکے پیٹ سے ہوکر جاتا ہے . تم کچھ اچھا سا بنا لو وہ کش ہو جائیگا ………

یہی سوچتے ہوئے آج نوال نے داشاب کے لئے اتنا احتمام کیا تھا لیکن دو بجنے والے تھے ور اسکا کوئی اتا پتا نہیں تھا ………

ابھی وہ اسکے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کے اسے بھر سی اسکی گاڑی کا ہارن سنائی دیا . وہ تو خوشی سے جھوم ہی اٹھی تھی ……….. فورا سے باہر کی طرف بڑھی تھی پہلے تو وہ اسکی کلاس لینے کا ارادہ رکھتی تھی ……….

اور تو اور آج نوال نے اسکے پسندیدہ کپڑے بھی پہنے ہوئے تھے .لال کلر کا سٹائیلش سا کرتا جسکے ساتھ پٹیالہ شلوار ور لال کلر کی ہی چنری تھی .

میک اپ کے نام پر صرف ہونٹوں پر ہلکی گلابی کلر کی لپسٹک لگائے وہ غضب ڈھا رہی تھی .

وہ جیسے ہی سیڑھییوں سے نیچے اترنے لگی تو داشاب کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی . لیکن اگلے ہی پل وہ مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی تھی جیسے کبھی اس نے نوال کے ہونٹوں کا آہاطہ کیا ہی نا ہو ………

وہ اس لئے کیوں کے داشاب کے پیچھے پیچھے ایک لڑکی بھی گھر میں داخل ہوئی تھی . جو کہ دیکھنے میں ہی بہت ماڈرن لگ رہی تھی .

اس نے اپنے بالوں کو پونی ٹیل کو شکل دی ہوئی تھی اور میک اپ  تو ایسے کیا ہوا تھا جیسے کسی کی شادی میں آئی ہو . پنک ٹاپ اور اسکے ساتھ سکن کلر کی ٹائیڈز پہنے کوئی ڈول ہی لگ رہی تھی .

لیکن نوال کو تپ وہ اس وقت زہر ہی لگ رہی تھی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر اسکا دل کر رہا تھا کہی سے نیم کے پتے لائے ور اسکے منہ میں ڈال دے اتنا ہی نہی اسے جوس بھی کریلے کا پلائے………

دانت پستے ہوئے وہ اپنے کمرے می جن ہی والی تھی کہ اچانک خیال آیا کہ یہ گھر بھی اسکا ہے وہ شوہر بھی پھر میں کون جاؤں کمرے میں بلکہ یہ چڑیل جائے گی یہاں سے ……… کہتے ساتھ وہ خود بھی بڑھی تھی نیچے کی طرف جہاں وہ دونوں ہنستے ہوئے باتیں کر رہے تھے .

آگئے اپ کتنی دیر لگا دی اپ نے میں کب سے اپ کا انتظار کر رہی تھی . اپ بھی نا …… آپکو بھی بڑا مزہ انے لگا ہے نا مجھے ستاتے ہوئے …..

بڑے ہی میٹھے لہجے میں وہ داشاب سے گویا ہوئی تھی ور بات کرتے وقت وہ اس چڑیل کو سراسر نظر انداز کر گئی تھی .

جب کہ داشاب نوال کا یہ روپ دیکھکر حیران ہی تو ہو گیا تھا .لیکن اپنی حیرانگی پر قابو پا کر وہ عینی سے گویا ہوا …..

“ میٹ ہر شی ایز مائی وائف  ”

اور نوال یہ میری دوست ہے .ہم ایک ہی کالج میں پڑھے ہیں .آج مل گئی تو سوچا تم سے بھی ملوا دوں .

ہیلو ………….عینی نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا .

جسے نوال نے تھام کر تقرباً مروڑ ہی دیا تھا .لیکن داشاب کے دیکھنے سے پہلے چھوڑ دیا …… جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ….

اور پیچھے عینی اپنا ہاتھ مسلتی رہ گئی .جب کہ نوال مسکرا کر وہاں سے ڈآئینینگ حال کی طرف چل دی ……….

نوال نے اپنے ہاتھوں سے داشاب اور عینی کو کھانا سروو کیا تھا .

داشاب تو آرام سے کھا رہا تھا جب کہ عینی پہلے ہی نوالے پر کھانستے ہوئے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو نوال نے اپنے پاس پڑا ہوا جوس کا گلاس اسکی طرف بڑھایا جسے پیتے ہی اسنے اپنے منہ سے سارا پانی اپنی ہی پلیٹ میں نکال دیا .

داشاب تو حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا کہ آخر وہ ایسا کر کیوں رہی ہے . لیکن ناول کے چہرے پر رقص کرتی ہنسی نے اسے سب سمجھا دیا تھا ………

کھانا تو اس نے کھا لیا تھا اب وہ نوال سے پوچھنے کے لئے اٹھا ہی تھا کہ اسکا فون چنگاڑ اٹھا ور وہ ایکسکیوز کرتا فون کی طرف متوجہ ہوا ………

لیکن اگے سے پتا نہیں کیا کہا گیا کے وہ فورا سے نوال کو جلدی انے کا اور عینی کو ڈراپ کرانے کا کہہ کر باہر کی طرف بھاگا تھا ……..

جب کہ اب نوال بھی اپنی کرسی پیچھے کر کے اٹھ گئی تھی اور عینی بھی ………..

اب نوال عینی کے چاروں طرف گھوم کر انگلی اٹھا کر اس سے گویا ہوئی تھی ……….

“ میرے شوہر سے دور رہو سمجھی اور یہ جو مردوں کو قابو کرنے کے تریقے ہیں نا کسی اور پر آزمانا …..یہاں یہ سب نہیں چلے گا …….. داشاب صرف میرا ہے وہ میری پراپرٹی ہے …….

اور نوال کی چیز کوئی ہاتھ تو دور دیکھے بھی تو وہ معاف نہیں کرتی سیدھا اوپر سیٹی بجا کر اوپر کی طرف اشارہ کیا تھا صاف وارننگ تھی اسکے انداز میں ”

اور اگر میں نا جاؤں تو ……… ور ویسے بھی تم جیسی پینڈو لڑکی کر بھی کیا سکتی ہے ………… داشاب پتا نہیں کیسے تم سے شادی کر بیٹھا ………..

اسکے ساتھ تو میں جچتی ہوں میرے جیسی بولڈ اور ماڈرن لڑکی اور تم ………تم نے کبھی دیکھا بھی ہے خود کو آئینہ میں ……… وہ طنزیہ گویا ہوئی تھی اپنا انجام جانے بغیر ……..

تمہاری تو …….. نوال نے اسے بازو سے پکڑ کر اسکا بازو اسکی کمر پر لگا دیا اور الٹے ہاتھ سے اسے اسکے بالوں سے پکڑ کر قابو کر لیا ………. اب عینی اسکی پکڑ میں بلکل بے بس کھڑی تھی اگر ہلنے کی کوشش کرتی تو بال کھنچنے کی کی وجہ سے تکلیف برداشت کرنی پڑتی ………….

ہاں بہت زبان چل رہی تھی نہ تمہاری اب بولو وہ ہیرو تو ہے لیکن صرف میرا نوال کا صرف اور صرف نوال کا سمجھی ……..نوال نے اسکے بالوں کو جھٹکا دے کر بتایا تھا ……….

ابھی تو صرف کباب میں مرچی , ٢٠ دانے اجوآئن اور جوس میں 4 چمچ نمک ڈالا تھا وہ بھی صرف میرے شوہر سے ہنس کر بات کرنے کی سزا کے طور پر ………… تو سوچو اگے کیا کچھ نہیں کر سکتی میں ………

کہتے ہوئے ایک جھٹکے سے اس نے عینی کے بالوں کو گرفت سے آزاد کرتے ہوئے اسے دور دھکآ دیا کے وہ زمین پر جا گری ……..

نوال نے اپنی گن نکالی اور ایک گھوٹنا نیچے ٹکا کر اس نے اپنی گن اسکے سر پر تانی تھی کہ عینی جو کہ دوبارہ سے اپنا زہر اگلنے لگی تھی نوال کے ہاتھ میں گن دیکھ کر اسکی سیٹی ہی گم ہو گئی …………………

اب بول کون قابل ہے داشاب کے ……… بول ……..

تو…….تو …….. تم ………تم قابل ہو اسکے اور کوئی نہیں ……..

اب اپنی جان بخشی بھی تو کروانی تھی اس لئے عینی نے فورا سے پینترا بدلہ تھا ……….. وہ خود در گئی تھی کہ کس سرپھری کے پاس اکر پھنس گئی ……… ایک بار یہاں سے خلاصی ہو تو کبھی مڑ کر نا آئے وہ یہاں ……..

یہ ہوئی نا بات ویسے دیکھو لوگ کہتے ہیں ہم عورتوں میں ہمت نہیں ہے لیکن یہاں دیکھو میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں میری رانی ( گن ) نے ہی کر دیا سب کچھ ………

تھوڑی دیر پہلے مجھے مس میچ کہنے والی اب خود میرے قدموں میں پڑی ہے ……..

چلو اب اٹھو اور میرے تین کہنے تک یہاں سے رفوچکر ہو جاؤ ………. اسنے موقع غنیمت جان کر بھاگنا چاہا تو نوال پھر سے اسکے راستے میں آکر اسکی سانس روک گئی ……..

اب اگر تم مجھے مرو شوہر کے اس پاس نظر آئی یا مجھے کوئی خبر بھی ملی نا تو داشاب کو بہت دکھ ہوگا کے اسکی دوست اب اس دنیا میں نہیں رہی چچ چچ

جب کہ یہ سننے کی دیر تھی کہ عینی نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی اور نوال قہقہ لگاتی خود کمرے میں چلی گئی ……..

داشاب کی کلاس وہ بعد میں اچھی خاصی لینے والی تھی …….

وہ رات کیا اگلے 3 دن تک داشاب گھر ہی نا آیا ……… نوال اسکے گھر بھی گئی تھی بہانہ یہی تھا کہ ملنے آئی ہے اور شازیہ بیگم خوش بھی ہوئی تھی اسے پہلی بار خود سے گھر میں دیکھ کر ………

انہوں نے تو بہت احتمام کیا تھا . ور اسکے لئے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرنے لگ گئی تھی ……..

آخر کو انکی ایکلوتی اولاد تھی اور نوال انکی ایکلوتی بہو ……… نوال کو یوں خود فارغ بیٹھنا اچھا نا لگا تو وہ بھی انکے ساتھ کچن میں کام کروانے لگی حلانکہ وہ تو منا بھی کر رہیں تھی ……

بیٹا تم پہلی بار گھر آئی ہو تو کام کرتے ہوئے اچھی تھوڑی نا لگو گی لاؤ میں کرتی ہوں ………

اوہو انٹی اب اسکا تو یہ ہی مطلب ہوا کہ اپ مجھے اپنی بیٹی مانتی ہی نہی ہیں …….. اگر مانتی ہیں تو لائیں میں مدد کروا دیتی ہوں …….

پھر دونوں نے ملکر کھانا بنایا اور کھانا کے دوران ڈھیر ساری باتیں بھی کی ……. اور اسی دوران نوال کو پتا لگا کہ داشاب پچھلے ٣ تین دن سے یہاں بھی نہیں آیا ………. بس ایک چکر لگا کر چلا گیا تھا دوست کا کہہ کر ……….

شام میں نوال نا نا کرنے کے باوجود شازیہ بیگم کو بھی ساتھ لے آئی تھی …………. اور ان سے یہی کہا تھا کی داشاب کام سے باہر گیا ہے .

اب اسے داشاب کا انتظار تھا …… رات داشاب آیا تو نوال نے اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا ………. بس کھانا کھانے کے بعد خود بھی سو گئی .

اور اسکے سونے کی ٹھیک آدھا گھنٹہ بعد داشاب کمرے سے باہر گیا تھا …..  دبے پاؤں وہ گھر کے پچھلے راستے سے باہر چلا گیا جہاں ایک کار پہلے سے ہی اسکا انتظار کر رہی تھی اسکے اتے ہی گاڑی سٹارٹ ہوئی ور اپنی منزل کی طرف فراٹے بھرنے لگی …….

________________________________

داشاب جو کہ دیکھنے میں ہی نہیں بلکہ خود بھی ایک شریف لڑکا تھا لیکن جب اسے سیکریٹ ایجینٹ کے طور پر افر آئی تو پہلے تو وہ سوچ میں پڑ گیا ……

لیکن دو دن اچھے سے سوچ سمجھ کر اس نے جانے کا فیصلہ کر لیا اور ماں کو یہ کہا کہ امریکا جا رہا ہے سکالر شپ آئی ہے ………ہے شازیہ بیگم تو نہال ہو گئی تھی اپنے بیٹے پر ………

دور جانے کا غم تو تھا لیکن روشن مستقبل کے لئے یہ بھی ضروری تھا ………. اگلے دن وہ لوگ لاہور روانہ ہو گئے تھے …….. 2 سال ٹرینینگ لی تھی .

پچھلے 1 سال سے اسے جو ٹاسک دیا ج رہا تھا اسے پورا کرنا تھا اگر ناکام رہتا تو واپس جانا پڑتا کیوں کہ یہ کام بہت خطرے کا ہوتا تھا ………

لیکن داشاب کی پروگریس دیکھ کر سب ہی دنگ رہ گئے تھے . وہ بہت ہی باریکی سے ایک ایک چیز کو دیکھتا سمجھتا اور کیس سولو کر دیتا ……..

3 سال بعد اب وہ اپنے گھر آیا تھا …… یہاں کی اسے خبر ملی تھی کے ایک تنظیم ہے جو لڑکیوں کو اغوا کرتے ہیں ور انکی درجنوں ویڈیوز بنا کر وائیرل کرتے ہیں ور اسکے باوجود بھی وہ ان لڑکیوں کو چھوڑتے نہیں بلکہ ان سے نازیبا کام کرواتے ہیں ………

داشاب کو انکا خاتمہ کرنا تھا لیکن جب وہ میٹنگ کرنے کے لئے ریسٹوریٹ آرہا تھا کالج کے دوست مل گئے …… جب ان سے جان چھوڑوانا چاہی تو نوال آگئی ……..

وہ لڑکی اسے پسند آگئی تھی اسکا سٹائل پیاری سی آنکھیں,کویل جیسی آواز جیسے وہ موٹا بنا لر لوگوں سے بات کرتی تھی …….

جب داشاب نے پتا کروایا تو اسے جو انفارمیشن ملی اسکے مطابق نوال کے گاؤں میں بھی ایسی تنظیم تھی ….. جس سے شاید نوال انجان تھی ……….

اسکی باتیں جب جب داشاب سنتا تو اسکی ہنسی نکل جاتی تھی دل تو لوٹ پوٹ ہوتا تھا لیکن کہتا کچھ بھی نہیں تھا .

سب کی نظروں میں معصوم جو رہنا تھا ………. لیکن اکیلے میں سوچ سوچ کر قہقہ قہ لگاتا تھا …… اسے تو بس انتظار تھا .اس تنظیم کے پکڑے جانے کا …….

پھوڑ وہ اپنی شیرنی کو قابو میں کرنے والا تھا …… لیکن اپنی ماما کا سوچ کر اس نے نوال کو عام لڑکیوں کی طرح کے طور طریقہ پر بولنا سکھایا باقی کا کام آمنہ بیگم نے کر دیا تھا ……

پچھلے 3 مہینوں سے اس نے اس تنظیم کی جڑیں کاٹنا شروع کر دی تھی اور اسکے لئے زیادہ محنت نہیں لگی تھی …….

. نوال کے گارڈز میں سے ایک پر اسے شک ہوا اور گاؤں جانے کا بہانہ جمیل خود کر چکا تھا …… جب نکلا تو داشاب نے اگے جا لیا اسے ….. اور اس ذریعہ اس نے باقی کے اڈوں کا بھی پتا لگوا لیا .

اور اب تین دنوں سے وہ انکو اپنی نظروں لئے ہوا تھا اور آج کامیاب بھی ہونے والا تھا آج وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ان پر حملہ کرنے جا رہا تھا .

جہاں انہوں نے گاڑی روکی وہ کوئی کھنڈر نما جگہ تھی . وہ دونوں اس کھنڈر کے پاس اکر روکے اور اپنی ٹیم کا انتظار کرنے لگے .جو کہ انہیں دور سے اتی دکھائی دے گئی تھی .

داشاب اندر گیا اور جاتے ہوئے ہر چیز پر اپنی چیل جیسی نظریں استعمال کرتے ہوئے اسکا معائینہ کر رہا تھا . وہ سیدھا سٹور مو موجود دروازے کے ذریعہ نیچے موجود خفیہ حصّے میں داخل ہوا . اسکی پوری ٹیم اسکے پیچھے پیچھے ہی تھی .

جاتے ہی بغیر دیر کئے انہوں نے ان پر حملہ کیا اور یکے بعد دیگرے وہ انکو مار کر گراتے گئے .ابھی داشاب اس کمرے کی طرف ہی تھا جہاں لڑکی کو بند کر لے رکھا گیا تھا کہ فائرنگ شروع ہو گئی ……..

ابھی وہ وار کرنے کے لئے پیچھے مڑا ہی تھا کے گولی چلی تھی اور اگلے بندے کا سینہ چیرتے ہوئے گئی تھی ……….

دا شاب نے شکریہ ادا کرنے کے لئے جب دیکھ اسکی طرف تو حیران ہی رہ گیا …….. جب کہ وہ وجود مسکرا کر اگے بڑھنے لگا تو داشاب نے اسے اپنی طرف کھنچا تھا …………

لیکن اس سے پہلے اسکی ٹیم وہاں آگئی اور سب اکھٹے نعرہ تکبیر پڑھتے ہوئے اندر داخل ہو گئے …….. اور ایسا کبھی ہوا ہے کہ ہم اللّه کا نام لیکر کام شروع کریں اور وہ ہو نا ………

وہ سب لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہو گئے تھے …….. انکی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی ………..

جب کہ مجرموں کو انکی اصل جگا اور لڑکیوں انکے اپنے ہی پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا کیوں کے سب ہی بہت بری حالت میں تھی .

اب کوئی گھر والے تو انکو رکھنے نہیں والی تھے پھر بھی جو جو راضی تھے ان سے رابطہ کیا گیا اور باقیوں کو این_جی_او کے حوالے کیا گیا تھا . جہاں وہ لوگ ایک نئی اور پرسکون زندگی گزار سکتی تھی ……….

وہ وہاں سے سیدھا گھر آیا تھا اور اتے ہی اپنے کمرے میں چلا گیا جہاں وہ بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹ کر انگور کا گچھا ہاتھ میں لئے ایک ادا سے کھا رہی تھی ……..

داشاب دندناتا ہوا اسکے سر پر جا پہنچا انگور لیکر سائیڈ پر رکھے اور اسے بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا ………

کیوں آئی تھی تم وہاں …….. ہاں ……..جواب دو میرے سوال کا ……

کیوں ……..کیوں دوں میں تمہیں کوئی بھی صفائی اور تمہارے سو کالڈ سوالوں کے جواب ……….ہاں مجھے بتا کر گئے تھے ……..

اتنے دنوں سے غائب تھے تم پتا ہے میں کتنا پریشان تھی ……. تم سے ملنے گھر چلی گئی تھی لیکن وہاں جا کر پتا چلا تم ہو ہی نئی ……..

اس لئے ماما کو گھر لے آئی............ تمہے میری تو چھوڑو انکی بھی فکر نہیں ……..

کل جب گھر آئی تو غصّہ میں تمہاری ساری کبرڈ خراب کر دی تب مجھے یہ ملا تھا وہاں سے ……. تمہارا کارڈ جس پر صاف لفظوں میں سیکریٹ ایجینٹ لکھا ہوا تھا …….

پھر کیا تھا میں نے سونے کی اداکاری کی جب تم کمرے سے باہر گئے تو تمہارا پیچھا کر کے وہاں پہنچ گئی ……..

وہ لوگ تو اندر جانے نہی دے رہے تھے تب تمہارا یہ کارڈ کام آیا ……. یہ لو اب یہ میرے کسی کام کا نہیں ……..

نوال نے کارڈ اسکی طرف اچھالا تھا اور خود سائیڈ سے گزرنے لگی تو داشاب نے اسے پھر سے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور اس بار وہ سیدھا اسکے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی …..

اب کیا ہے چھوڑو میرا ہاتھ ورنہ اچھا نہیں ہوگا ……..

تمہیں برا نہی لگا کے میں نے تم سے یہ بات چھپاآئی تھی …….. داشاب نے اسکے بالوں کی لٹ کو اسکے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے پوچھا تھا …..

جب کہ اس حرکت پر نوال اپنا سانس روک گئی تھی اور اسکی گرفت سے آزاد ہونے کے لئے فورا سے اسکے سوالوں کا جواب دینے لگی .

ہاں تھوڑا لگا تھا لیکن ان لڑکیوں کا اور تمہارے کام کی مناسبت کا سوچ کر خاموش ہو گئی ……..

واہ اسکا تو یہ مطلب ہوا کہ میری شیرنی اب سمجھدار ہو گئی ہے …….. تو کیوں نا پھر رخصتی کی بات کر کے ولیمہ رکھوا لیا جائے ………

اب تم نے تو مجھے پرکھ بھی لیا اور اپنی اداوں سے میرا دل بھی جیت لیا ….. جو کہ پہلی نظر میں تم چرا چکی تھی ……..

 تو کیوں نا اب میں بھی تمہیں انعام کے طور پر اپنی پوری زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی قربت سے بھی روشناس کروا ہی دوں جس سے انجان تم سارے گھر میں دندناتی پھرتی ہو ……..

مخمور لہجے میں کہتے ساتھ ہی اس نے اسکے کان کو اپنے لبوں سے کاٹا تھا ………..

اور نوال جو کہ پورا لڑنے کا موڈ بنائے بیٹھی تھی اسکی قربت سے گھبرا کر اب راہ فرار تلاش کرنے لگی ……….

جب کہ داشاب تو مزید اسے تنگ کرنے کے لئے اسکی گردن پر جھکا تھا۔۔

 اور اپنا دہکتا نرم گرم لمس اسکی گردن پہ چھوڑ کر اسکے چہرے پر پھیلے اپنی محبت کے رنگ دیکھنے لگا …….

تو کیا ارادہ ہے مسز باقی کی فلم بعد کے لئے رکھیں؟؟؟؟؟

 یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی ہی دیکھنی ہے ……. آنکھ دبا کر کہتے اس نے نوال کا ہی لوفرانہ لہجہ اپنایا تھا …….

جب کہ نوال اسے دھکا دے کر بھاگی ور دروازے میں کھڑی ہو کر وہی سے چلاآئی …….. بےشرم , بے حیا ,کمینے انسان میں کہی نہیں جاؤ گی تمہارے ساتھ ……..

جب داشاب نوال کی بات سن کر اسکی طرف بڑھا تھا تو فورا سے وہ کمرے سے بھاگ گئی ….. اب اسے اس جلاد سے اسکی ماں ہی بچا سکتی تھی ….. ایسا نوال کو لگتا تھا ………

جب کہ نوال کی سپیڈ دلہ کر داشاب کا قہقہ کمرے میں گونجا تھا ……. ہاے بڑا مزہ انے والا نوال ڈش کھانے میں تھوڑی تیکھی ہے …… لیکن آئی لائک تیکھا ……….

سوچتے ہوئے سرشاری سی کیفیت میں سونے کے لئے لیٹ گیا …. پچھلی 3 راتوں سے مسلسل جاگ جو رہا تھا .

_____________________________________

آج صبح سے نوال جلے بیر کی بلی بنی یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی ……

کیوں کہ داشاب نے پتا نہیں کیا جادو کیا تھا کہ اسکی ماں اسکی جنت بھی اسکی ایک نہیں سن رہی تھی سب بس ایک ہی بات کر رہے تھے …..

ولیمہ کے ساتھ ہی رخصتی رکھ لیتے ہیں جب کہ نوال کو یہ گھر چھوڑ کر کہی نہیں جانا تھا ……

وہ کیسے اپنی ماں کو یہاں اکیلا چھوڑ کر جا سکتی ہے اور تو اور یہاں کے سارے کام کون دیکھے گا …….

یہ سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹا جا رہا تھا ……. اب تو وہ اپنے ناخن چبا نا سٹارٹ کر چکی تھی اور آرام سے صوفہ پر بیٹھ گئی …..

اچانک اسکے ذھن میں ایک آئیڈیا آیا تھا …… اسکا دماغ سو کی سپیڈ سے کام کر رہا تھا …….

اب وہ سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے یہی سوچتے ہوئے وہ داشاب کے پاس گئی اور اس سے کہا کے باہر او مجھے سب سے بات کرنی ہے …..

داشاب کافی حد تک سمجھ چکا تھا کی وہ کیا بات کرنے والی ہے اور اسکا حل بھی اسکے پاس موجود تھا …….

نوال ایک کمرے میں اسے لے گئی جہاں شازیہ بیگم ور آمنہ بیگم پہلے سے ہی موجود تھی ……

اور اب سٹارٹ ہوا تھا نوال کا ڈرامہ …….. دیکھیں اپ لوگ دھیان سے میری بات سنے …….. میں رخصت ہو کر داشاب کے ساتھ انکے گھر نہیں جا سکتی …….

اور اس سے پہلے آمنہ بیگم کی جوتی نوال کو سلامی پیش کرتی وہ فورا بول اٹھی …… کیوں کی کیوں کے ………

میری ماں کا میرے سوا اور میرے انکا سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے …… میرا دل تو بہت تھا انٹی لیکن میں کیا کروں میں بھی مجبور ہوں ……

 اگر میں چلی گئی تو یہاں کام کون دیکھے گا ……..میری ماں کھائے گی کیا …… اور اکیلی رہے گی کیسے …….


کوئی بہت ہی معصوم شکل بنا کر نوال نے اداکاری کی تھی .ا اگر کوئی اور ہوتا تو یقین بھی کر لیتا لیکن یہاں اگے بھی اسکی ماں تھی جانتی تھی اسے …..

اور اب تو شازیہ بیگم اور داشاب بھی اس ڈرامہ کوئین کو جان گئے تھے ….. کہ یہ سب ڈرامہ ہے اپنی بات منوانے کا اور کچھ نہیں ..

دیکھو نوال میں نے کہہ دیا کہ دو دن بعد رخصتی اور ساتھ ہی ولیمہ بھی ہوگا ….

اب میں کچھ نہیں سنو گی تم جاؤ بہت ہو گیا تماشہ ……. پہلے ہی بچے کو اتنا تنگ کر چکی ہو …….

جب کہ نوال اپنی باتوں کا ان پر کوئی بھی اثر ہوتا نا دیکھ کر پاؤں پٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئی …….

پیچھے داشاب شازیہ بیگم اور آمنہ بیگم رہ گئی تھی ….. میں معافی چاہتی ہوں تھوڑی سی جھلی ہے ….. مجھ سے دور جانے کا سوچ کر ایسا کہہ گئی ہے ……

تو وہ سہی ہی کہہ رہی ہے .اور اپ بھی ہمارے ساتھ ہی جائے گی میں سارا بندوبست کر چکا ہوں …… یہاں کا سارا کام بشیر دیکھ لے گا اور اسکی نگرانی نوال وہاں رہ کر بھی کر سکتی ہے ……

اور اپکا اور نوال کا جب دل چاہے گا اپ لوگ یہاں اسکتے ہیں ….

بلکل آمنہ بہن داشاب سہی کہہ رہا ہے ….. میں بھی گھر میں اکیلی ہوتی ہوں …… یہ دونوں تو اب ہنی مون پہ چلے جائے گے تو ہم دونوں ہی تو ہونگی ایک دوسرے کے لئے …….

اپ پریشان نا ہوں لوگوں کے بارے میں تو کچھ بھی مت سوچے انکا کام تو ایک ہی ہے اور وہ ہے بولنا…….. اب ان لوگوں کی باتیں بنانے کے ڈر سے کیا ہم جینا چھوڑ دے ………. نہیں نا …….

 تو بس طے ہو گیا ولیمہ کے بعد اپ بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں گی ….. میں جانتی ہوں اکیلے پن کا احساس کیا ہوتا ہے ……

واقعی نوال نے داشاب چن کر زندگی کا بلکل سہی فیصلہ کیا ہے ….
اپ لوگ واقعی بہت اچھے ہیں ……. میری بچی نادان ہے اگے کوئی غلطی کرے تو درگزر کر دیجیۓ گا …..

اماں جی اپ پریشان نا ہوں میں ہمیشہ نوال کا خیال رکھوں گا وہ میری ذمہ داری ہے ……و اور جہاں تک نادان کی بات ہے تو وہ کوئی نادان نہیں بلکہ پوری فلم ہے ……

اب تک تیگنی کا ناچ نچا چکی ہے وہ مجھے …… لیکن دل کی بہت صاف ہے …… صرف دکھاتی ہے کہ بہادر ہے …… جب کہ ہے وہ نازک مزاج اتنا تو میں جان ہی گیا ہوں ……

اب میں ذرا اسکی خبر بھی لے لوں وارنہ وہ تو جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جائیگی …….

کہتے ساتھ ہی داشاب اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا …… جب کہ شازیہ بیگم اور آمنہ بیگم رخصتی اور ولیمہ کی تیاریوں میں جٹ گئی تھی …….

اور انکی مدد کرنے کے لئے داشاب کی ٹیم کے لوگ جو کہ اسکے دوست تھے سب کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے ……..



داشاب جب کمرے میں آیا تو نوال اپنا چہرہ دوسری طرف کئے بیٹھی تھی ……

داشاب نے اندر اتے ہی دروازہ اندر سے بند کیا . اور سیدھا نوال کے پاس جا کر بیٹھ گیا ……. لیکن یہ کیا جب اسکی نظر نوال کے چہرے پر پڑی تو حیران رہ گیا ………

کیوں کہ سب کی اینٹ سے اینٹ بجانے والی نوال اس وقت رو رہی تھی …….

نوال کو روتے دیکھ کر داشاب کو بے چینی سی ہوئی تھی ……. وہ تو اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا ……..

داشاب نے جب نوال سے رونے کی وجہ پوچھ تو وہ بولی کچھ نہیں بس خاموشی سے روتی رہی ……….

داشاب نے نوال کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اپنے سینے سے لگائے خاموش کروانے لگا ………

بس خاموش ہو جاؤ کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے یار ……. شادی کے بعد تو لڑکی کو جانا ہی پڑتا ہے نہ اپنے شوہر کے گھر …….. نکاح تو سنت ہے اور جب نکاح ہوا ہے تو رخصتی بھی تو ہوگی نہ …..

تم بہت برے ہو سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ………. مجھے اپ …………….اپنی اماں کو چھو…………. چھوڑ کر کہی نہیں جانا ………

لیک……… لیکن وہ بھی مجھ سے پیار نہیں لڑتی تبھی مجھے خود سے دور بھیج رہی ہے ……..

اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے …….. وہ مسلسل داشاب کے سینے پر مکوں کی برسات کئے جا رہے تھی اور داشاب مسکراتے ہوئے اسکا یہ نیا انداز دیکھ رہا تھا …….

ادھر میری طرف دیکھو ……… کیا تمہیں لگتا ہے تمہارا داشاب تمہاری ماں کو تم سے الگ کرے گا ………

تمہاری مما بھی ہمارے ساتھ ہی جائے گی رخصتی کے بعد اور یہاں کے کام کا بھی سارا انتظام کر دیا ہے میں نے …….

اب تو خوش ہو نا ………..نوال ٹھوڑی سے تھام لر اسکا چہرہ اوپر کئے وہ اس سے استفسار کر رہا تھا …….

رونے کی وجہ سے نوال کی چھوٹی سی ناک اور دونوں آنکھیں سرخ ہو گئی تھی ….. جب کا گال الگ سے دہک اٹھے تھے …..

نوال نے اسکی آنکھوں میں ٹھاٹھیں مارتا جذبات کا سمندر دیکھا تو نظریں جھکا کر اثبات میں سر ہلایا ………

جب کہ نوال کو ایسی حالت میں دیکھ کر اسکا دل ایک الگ ہی لہہ پر دھڑک رہا تھا ……..

آور داشاب خود پر اور جبر نا کرتے ہوئے جھکا تھا اور نوال لے ماتھے پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی تھی ……..

جب کہ نوال سن سی کیفیت میں یل جگہ ہی بیٹھی اپنی اور اسکی سانسوں لا شمار کر رہی تھی …….

پتا ہے جب تمہیں پہلی بار اس ریسٹورینٹ میں دیکھا تھا نا تو وہی تمہارا یہ خادم اپنا دل ہار بیٹھا تھا تم پر پھر تم مے خود ہی مجھے اپنی زندگی میں شامل کر لیا ……..

اس دن میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا …… کیوں کہ یہ ایک نیا احساس تھا جو اس دن مجھے سرور بخش رہا تھا …… کہ جسکو میں نے چاہا ہے وہ بھی مجھے پسند کرتی ہے ……

بس پھر اس دن سے میں تمہاری ہر بات مانتے آیا اور کچھ اپنی بھی منوا لی ………

لیکن اب صبر کا پھل ملنے کا وقت ہے جو میں نے اپنے مشن کے لئے خود بر جبر کر کے کیا تھا …….. تم توکڑھا امتحان ثابت ہوئی ہو میرے لئے ……

تم خود ہی میرے اتنے قریب رہتی کہ میں ہی ڈر جاتا کی کہیں بہک نا جاؤں ……. اس لئے تمہارے سونے کے بعد صوفہ پہ جا کر سو جاتا تھا صبح بیڈ پر اجاتا …….

تو کیوں نا صبر کا تھوڑا پھل ٹیسٹ کر لیا جائے کہتے ہی وہ جھکا ……..لیکن نوال اسے دھکا دے کر فورا بھاگی …..

جہاں اتنا صبر کیا ہی وہاں یہ 2 دو دن بھی صبر کر لو ……. پھر پھل میٹھا ہی میٹھا ہوگا …….کہتے ہی بھاگ گئی ……

میرا پھل تو بہت میٹھا ہے او ذرا چکھ کر بتاؤں ……. داشاب نے دور سے ہی ہانک لگائی تھی ……….

_____________

دو دن کیسے گزرے پتا ہی نا چلا آج ولیمہ تھا ان دونوں کا فنکشن نوال کی طرف کیا گیا تھا ……..تا کہ یہی سے فنکشن رخصتی کر کے نوال داشاب کے گھر چلی جائے ……..

فنکشن بہت ہی بڑے پیمانے پر ارینج کیا گیا تھا ……. داشاب کب سے اسٹیج پر بیٹھا نوال کا انتظار کر رہا تھا جو کہ آ ہی نہیں رہی تھی ……

صاف گوری رنگت ,کالی گہری آنکھیں ,تنی ہوئی مونچھے ,داڑھی کے ساتھ وہ آج واقعی نوال کا ہیرو لگ رہا تھا .وہ بلیک کلر کی شیروانی جسکے گلے پر موتیوں سے کام ہوا وا تھا اس میں موجود تھا اور ساتھ ہی وہائٹ کلر کا مفلر گلے میں ڈالے ہوئے وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا …….

وہ بے چینی سے انٹرینس پر نظریں گاڑھے بیٹھا ہوا تھا اور اسکا انتظار ختم ہوا تھا ….. اسکی آنکھوں کو قرار آیا تھا جب اسے آمنہ بیگم کے ساتھ نوال اتی ہوئی نظر آئی ..

اس نے اتنا بڑا گھونگھٹ کیا ہوا تھا کے وہ اسے دیکھ بھی نہی پا رہا تھا ……. ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اسکی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک سے لائٹ بند ہو گئی …………

اب سپاٹ لائٹ نوال پر پڑ رہی تھی جس نے ایک جھٹکا سے اپنا گھونگھٹ اپر اٹھایا تھا اور بلیک کلر کے گاگلز پہنے وہ مسکرا کر داشاب کی طرف دیکھ رہی تھی …….

جب اچانک سے میوزک بجا تھا اور اسکے ساتھ ہی نوال نے گانے کے بول بولنا شروع کئے تھے ……

ھوگا ہینڈسم سونا سب سے
میرے دِل کو گیا لیکر
میری نیند چرالی اس نے
اور خواب گیا دے کر

ھوگا ہینڈسم سونا سب سے
میرے دِل کو گیا لیکر
میری نیند چرالی اس نے
اور خواب گیا دے کر

اب یہ نینا بولے یار
بولے یہی لگاتار
کوئی چاہیں کتنا روکے
کرونگی پیار……..
میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

میں فین ہوئی انکی

میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

میں فین ہوئی انکی

میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

ہو جب سے اس نے انکھیوں سے
دِل پہ آٹو گراف دیا
تب سے ایوری ڈے میں نے
بس اسکو ہی یاد کیا

ہاں جب سے اس نے انکھیوں سے
دِل پہ آٹو گراف دیا
تب سے ایوری ڈے میں نے
بس اسکو ہی یاد کیا

سینتی میرے جذبات
سن لے میرے دِل کی بات
ساتھ مجھکو ، لے کے جائے ، میں ہوں تیار . . .

میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

میں فین ہوئی انکی
میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

فلمی اسٹائل سے جب اس نے
کل رات مجھے پروپوز کیا
دائیں نا دیکھا بائیں  نا دیکھا
اسکو دِل کا روز دیا🌹

فلمی اسٹائل سے جب اس نے
کل رات مجھے پروپوز کیا
دائیں نا دیکھا بائیں نا دیکھا
اسکو دِل کا روز دیا

ہوئے چرچے چار ہزار
فوٹو چھپ گئی ان اخبار
مجھکو پرواہ نہیں کوئی
آئی ایم ویٹ تھے اسٹار

میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

میں فین ہوئی انکی

میرے سئیاں سپر سٹار
میرے سئیاں سپر سٹار

جب کہ داشاب اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا کوئی شک نہیں تھا کہ نوال کچھ بھی کر سکتی ہے .

گانے کے بول ختم ہوتے ہی وہ اسکے قریب آئی تھی ڈانس کرنے کی وجہ سے اسکا سانس پھول گیا تھا ………….

داشاب نے اسے ہاتھ دے کر اوپر پاس کھڑا کر لیا ور خود اپنے دوست کو اشارہ کیا ہٹو وہ مائیک لیکر اسکی طرف آیا …….

جب نوال نے حیرانگی سے داشاب کی طرف دیکھا مطلب وہ بھی اسکے لئے کچھ پلین کر کے بیٹھا تھا …….

داشابنے مائیک لیا اور گانے کے بول کے ساتھ نوال کے ارد گرد چکر لگانے لگا

جنم جنم جنم ساتھ چلنا یونہی،
قسم تمہیں قسم آکے ملنا یہی،
ایک جاں ہے بھلے دو بدن ہو جُدا،
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع،

میری صبح ہو تم ہی اور تم ہی شام ہو،
تم درد ہو تم ہی آرام ہو،
میری دعاؤں سے آتی ہے بس یہ صدا،
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع،
آہا۔۔۔ہاہاں۔۔او۔۔
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع،

تیری باہوں میں ہے میرے دونوں جہاں،
تُو رہے جدھر میری جنّت وہی،
جل رہی اگان ہے جو یہ دو طرفہ نہ بجھے کبھی میری منت یہی،
تُو میری آرزو میں تیری عاشقی،
تُو میری شاعری،میں تیری موسقی،

طلب طلب طلب بس تیری ہے مجھے،
نسوں میں تُو نشہ بن کے گھلنا یونہی،
میری محبت کا کرنا تُو حق یہ ادا،
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع،

میری صبح ہو تم ہی اور تم ہی شام ہو،
تم درد ہو تم ہی آرام ہو،
میری دعاؤں سے آتی ہے بس یہ صدا،
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع،
او ناں ناں۔

ون مور فور مائی لائف ……… داشاب نے نوال کا ہاتھ تھام لیا تھا دوبارہ سے گانے کے بول بولنا سٹارٹ کر دیے ………

میں زمیں تُو آسماں،
میں داغ ہوں تُو چاند سا،
تُو بارش ہے میں ریت ہوں،
میں دُھن کوئی تُو راگ سا،

میں زمیں تُو آسماں،
میں داغ ہوں تُو چاند سا،
تُو بارش ہے میں ریت ہوں،
میں دُھن کوئی تُو راگ سا،

مینوں اپنا بنالے میری ہیریے،
مینوں اپنا بنالے میری ہیریے،
میں رہنا ہے تیرا بن کے،

بُوہے باریاں ہائے بُوہے باریاں،
بوہے باریاں تے اینا لے کندہ ٹپکے،
تُو آجا وی ہوا بن کے،
بُوہے باریاں ہائے بُوہے باریاں،
بُوہے باریاں ہائے بُوہے باریاں۔

گانے کے بولو کے ساتھ ہی داشاب گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا اور نوال کا ہاتھ پکڑ کر گویا ہوا تھا ……

“ میری زندگی میں انے کا بہت بہت شکریہ …….. کیا تم پوری زندگی مجھے اور میری شرارتوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو ”

شکریہ ادا کرتے ہوئے آخر میں تھوڑا شرارتی سا سوال آیا تھا ….. جسے سن کر نوال مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی اور داشاب کے سارے فرینڈز نے پیچھے سے ہوٹنگ سٹارٹ کر دی تھی ……

جب کہ داشاب نے نوال کو اپنے ساتھ بٹھا دیا تھا ……

رات دیر تک فنکشن چلا تھا ….. اسکے بعد رخصتی کا وقت آیا تھا . تو نوال نے پوچھا تھا اپنی جنت سے …… کہ رونے کا کیا فائدہ اپ تو ہمیشہ میرے واس ہی رہنے ولی ہیں نا تو یہ نہیں کرتے ہیں جب کہ شازیہ بیگم نے اسے ایک گھوری سے نوازا تھا اور کہا تھا یہ رسم ہوتی ہے …… لیکن اماں مجھے رونا نہیں آرہا ………

اففففففف لڑکی میں کیا کروں تمہارا ……… شازیہ بیگم نے تو اپنا سر پیٹ لیا تھا …….

اور بس نوال کا رونا شروع ہو گیا تھا …….. سوں سوں کرتی وہ ان سے شکایت کر رہی تھی ……

اپ آج میری رخصتی پر بھی مجھے ڈانٹ رہی ہیں ….. گھر آئے میں نے آپکو لفٹ ہی نہیں کروانی میں ……. داشاب کی ماما کی سائیڈ ہوں ……..

اور میں میری شازیہ ماما کی سائیڈ……. داشاب جو کب سے پنی ڈرامہ کوئین کے ڈرامے دیکھ رہا تھا فورا سے اپنی ساس کی طرف داری کرنے بیچ میں کودہ ……..

تمہیں تو می کمرے میں بتاؤ گی …… جب کہ شازیہ بیگم آمنہ بیگم کے پاس گئی تھی ……

دیکھتے ہیں ….. پہلے کمرے میں تو پھنچو میں منتظر ہوں ….. آنکھ دبا کر کہتے دا شاب گاڑی مو بیٹھا تھا اور آمنہ بیگم اور نوال کے ساتھ بیٹھی تھی جب کہ شازیہ بیگم کچھ سامان لیکر دوسری گاڑی مو نے والی تھی ………

انکی گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں تھی ……..

____________

آمنہ بیگم نوال کو داشاب کے کمرے میں چھوڑ کر لہو باہر چلی گئی ور سے پہلے کہ نوال میڈم داشاب کے انے سے پہلے چینج کرتی داشاب کمرے میں داخل ہوا تو وہ فورا سے بیڈ پر بیٹھ گئی …..

ارے تم ڈر کیوں رہی ہو تمہارا کمرہ ہی دلہ لو جتنا دیکھنا ہے لیکن نظر کرم یہاں بھی کر دو خادم اپکا بے چین ہے ……

داشاب کمرے کو لاک کرتے ہوئے نوال سے گویا ہوا جو کہ ریوایتی دلہنوں کی طرح گھونگھٹ کئے اسکا اسکا انتظار کر رہی تھی …..

داشاب اسے پاس آیا اور وہی پر بیڈ پہ جگہ بنا کر بیٹھ گیا اور اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے گویا ہوا …….
“ تو اے چکنی منہ دکھائی لینے کا یا اپن اپنی فلم سٹارٹ ایچ کرے ”

داشاب کے بولنے کی دیر تھی کہ وہ اپنا گھونگھٹ اٹھائے ہونکوں کی طرح اسے دیکھنے لگی ……..

جب کہ داشاب تو اسے دیکھ کر ہنسنا بھول کر پزل ہو گیا تھا …..
سرخ سفید رنگت ,گھنی خمدار پلکیں ,بھرے بھرے گلاب رخسار ,پنکھڑیوں جیسے لب ,خوبصورتی سے طراشے گئے میک اپ میں وہ آسمان سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی ……

داشاب ہر شہ بھولائے بس اسکے نو خیز حسن میں کھو رہا تھا …… اس سے پہلے وہ کچھ اور کرتا نوال نے اسے چونٹی کاٹی تھی.

اور خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی …… مطلب صاف تھا کے یہ لینگویج کیوں یوز کر رہے ہو …..

جب کہ داشاب اسکی کسی بھی گھوری کو خاطر میں نا لاتے ہوئے اسے کلآئی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا …….. اور اب بڑے آرام سے اسکے دوپٹے کو پنز سے آزاد کر رہا تھا ……..

جب کہ اس اچانک افتادہ پہ نوال گھبرا گئی تھی ….. کہ کیا کرے پھر خود کو قدرے کنٹرول کئے وہ داشاب سی گویا ہوئے تھی …….

مم……… منہ دکھائی تو تم نے دی ہی نئی ……..

اب کیا منہ دکھائی دیتا تم نے خود ہی اپنا گھونگھٹ اٹھا دیا . اگر میں کرتا تو دیتا نا ………..

اب ہم اگے کی سب سے مین رسم کرے گے اور اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں گے …….

لیکن یہ تو غلط ہے …… جب نوال نے رونے جیسی شکل بنائی تو داشاب نے دوپٹہ آزاد کروانے کے بعد سائیڈ پر رکھا.

 اور اب اسکا رخ اپنی طرف کئے ایک بہت ہی خوبصورت اور نفیس سی سونے کی چین جس میں ایک ہارٹ تھا اس ہارٹ کے دونوں سائیڈ پر نوال اور داشاب کا نام لکھا تھا جب کہ اندر دونو کی کی پہلی ملاقات کی تصویر تھی .

جسے دیکھتے ہی نوال کے چہرے پر خوبصورت سی سمائل آئی تھی اور بے اختیار ہونٹھوں نے واؤ میں جنبش دی تھی …..

یہ بہت خوبصورت ہے داشاب تھنک یو سو مچ……….

آہا مجھے تھنک یو نہیں کچھ اور چاہیے ….. کہتے ہوئے داشاب نے اپنے ہونٹھوں کی طرف اشارہ کیا تھا …….

نوال نے شرما کر کہا تھا اپنی آنکھیں بند کرو…… داشاب نے فورا عمل کیا تھا …… 

 نوال نے اسکے گال پر پیار کرتے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا …..

جب کہ داشاب نے نوال پر گرفت مضبوط کر کے اسے مکمل اپنے حصار میں قید کر لیا …….

آج کی رات انکی محبت کی سب سے حسین رات تھی جو کہ قطرہ قطرہ گزر رہی تھی …….. اور محبت کی ایک انوکھی داستان لکھ رہی تھی …..

جب کہ دور افک میں بھی چاند آج ان کے ملن پر جھوم اٹھا تھا …..

___________

آٹھ سال بعد …….

نوال صبح سے کچن میں بزی تھی …… سب کو ناشتہ کروانے کے بعد وہ اب دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی جب بھر سے رونے کی آواز آئی تو وہ سارے کام چھوڑ کر اپنے لخت جگر کے پاس گئی ……..

آمان کیا ہوا ہے احسان کو ……… یہ اتنا رو کیوں رہا ہے …….

آ میرا بچا کا ہوا ……. کش نے مالا میرے بابو کو ….

نشال یہاں آؤ اور بتاؤ کس نے کیا یہ سب اور کیا کر رہی تھی .

ارے مام اپن کو سب پتا ہوتا ہے یہ سب اس حضیر کے چھوٹے بھائی معاز کا کام ہے ……

اس پٹاخہ کو اپن اچھا سبق سکھ کر آئی ہے اب وہ اپن کے جگر کو کبھی تنگ نہیں کرے گا ……

ارے جگر تو کیوں رو رہا ہے بہادر بن اپن کی طرح پھر سب تجھ سے بھی ڈرے گے ……. 7 سات سالہ نشال کی زبان پٹر پٹر چل رہی تھی …….

نوال نے احسان کو خاموش کروا کر امان کو دیا اور اپنی غنڈی بیٹی کی طرف بڑھی جو خود تو چھوٹی سی تھی جب کہ کام اور ہرکتیں ساری بڑوں جیسی تھی ……..

نوال نے جاتے ہی نشال کو کان سے پکڑا تھا کب سدھرو گی تم ہاں …… بہت تنگ کرنے لگی ہو ….. اور یہ کونسی لینگویج میں بات کرتی رہتی ہو تم …….

اب دیکھنا حضیر آجائے گا تمہاری شکایت لیکر ….. پھر تم فورا فورا چھپ جاتی ہو …… اگر بہاد ہو تو اسک بھی مقابلہ کیا کرو …….

ارے مام چھوڑ دو پکا اب نہیں کرے گی اپن ………

نوال نے بھی چھوڑ دیا تھا اسکا کان ……… جب کہ نشال کان سہلاتے ہوئے اپنی چکنی مادر ملت کو دیکھ رہی تھی …….

مادر ملت اپ اپن کو تو کہتی ہو نا کرو ور خود جو کرتی تھی نہ سب بتایا ہے اپن کو بابا نے کیسے اپ انکو تنگ کرتی تھی …..

اور بابا روز جو سپر وومن کی سٹوری اپن لوگوں کو سناتے ہیں نہ اپن جانتی ہے وہ اپ ہی ہو ………

نشال کمرے کی طرف بھاگتے ہوئے ہانک لگائی تھی ور جاتے ہی کمرہ بند کر لیا تھا ……. کیوں کہ اسے پتا تھا اب اسکی مادر ملت کی جوتی نے یہاں تک اسکا پیچھا کرنا ہے …..

جب کہ نوال پیچھے داشاب کو سو سلوآتیں سناتی احسان کو امان کے ساتھ کمرے میں بھیج کر خد پھر سے کھانا بنانے لگی ……. آج 1 ایک ہفتے بعد داشاب نے گھر آنا تھا …..

نوال تو تنگ آگئی تھی داشاب کی اس جاب سے …… کتنے کتنے دن وہ خود تو گھر سے باہر رہتا جب کہ اسکے پیچھے یہ ٣ تینوں اسکے ناک میں دم کر دیتے ……..

نشال اور امان دونوں  7 سات سالہ جڑوا تھے لیکن عادت دونوں کی میں زمین آسمان کا فرق تھا ……..

امان سمجھدار, معصوم  اور کم گو بچہ تھا ……. جب کہ نشال تو نوال سے بھی چار قدم اگے تھی ………. نہایت ہی ضدی ہو گئی تھی وہ اور سب سے زیادہ نوال کو جس بات پر غصّہ اتا تھا وہ اسکے بولنے کا سٹائل تھا ……..

اب نوال کو پتا لگا تھا کہ شازیہ بیگم کیسے اسے سمبھالتی تھی ….. اور یا سب داشاب کی دی ہوئی چھوٹ کی وجہ سے ہوا تھا ……..

اسکا ماننا تھا جیسے تمہارے لئے میں ہوں ویسے ہی ہماری نشال کو بھی اسکا ہیرو سدھار دے گا …… اور تو وہ بچی ہے ….. بچی بچی کر کے بگاڑ دیا تھا اس نے …….

جب کہ سب سے چھوٹا تھا احسان جو 5 سال کا تھا ابھی تینو بہن بھائیوں میں اتفاق بہت تھا ….. اور ان سب کی لیڈر تھی نشال اسنے اپنا فرض سمجھا ہو تھا کہ کوئی ایک کہے گا یا لگائے گا تو وہ 5 گنا کر کے دے گی اسے ……..

جب کہ ڈرتی صرف حضیر کے غصّہ سے تھی …… حضیر نوال کی دوست کا بیٹا تھا جو کہ یہاں انے کے بعد بنی تھی اسکی فرینڈ …………. تھا تو حضیر بھی کم گو لیکن نشال کی ہرکتیں اسکے غصّے کو ہوا دے جاتی تھی ………

نوال ابھی کام کر رہی تھی کہ اچانک کسی نے اسے پیچھے سے اکر ہگ کیا تھا وہ ایک دم سے ڈری تھی ….. اور داشاب کو دیکھ کر منہ بنا گئی ………

کیا ہوا اب کیا کر دیا میری رانی نے جو تم یوں منہ پھلا کر کام کر رہی ہو …

داشاب نے اسکے بال سرکاتے ہوئے اپنی ٹھوڑی نوال کے کندھے پر رکھتے اپنی بیٹی کی شرارت کے بارے میں دریافت کرنا چاہا تھا ….

تمہاری بیٹی آج پھر حضیر کے چھوٹے بھائی کو پیٹ کر آئی ہے …….ہے حضیر ہمیشہ کی طرح اتا ہی ہوگا معاز لیکر مجھے نشال کا کارنامہ دکھانے ………

اوہ تم اتنا پریشان کیوں ہوتی ہو …………بچے ہی تو ہیں ہو جائے گے سہی …… ویسے میں کیا سوچ رہا تھا اگر نشال کی ایک اور بہن آجائے تو اسکا دھیان باہر جائے گا ہی نہیں ……. تو کیا کہتی ہو پھر میری چکنی ہو جائے ایک اور …….

اپ ……اپ نا بہت ہی بے شرم تو پہلے ہی تھے اب بتمیز بھی ہو گئے ہیں ……..

ابھی وہ کچھ کرتا ہی کہ باہر سے بچو کے رونے کی آواز سن کر نوال نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا تھا …..

جائے پہلے جا کر انکو تو سمبھال لے پھر اور بھی کر لیں گے  داشاب بھاگتے ہوئے اپنے جگر کے ٹکرو کے پاس گیا تھا …..

جب کہ اسکے اس طرح بھاگنے پر نوال کا زندگی سے بھر پور قہقہ گونجا تھا کچن میں …….

اور اس خوش حال فیمیلی کو دیکھ کر قسمت بھی مسکرائی تھی……..


Wednesday, May 27, 2020

Meri Dulhan By Um e Umera Urdu Novel pdf


💕میری دلہن💕
قسط#1
تحریر #ام _عمیر

عمر نہایت مؤدب دین دار اپنے والدین کی اکلوتی اولاد،والدین کی آنکھوں کا تارا،تمام دوست احباب اسکے اعلی اخلاق کے گرویدہ،اللہ نے اس کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔۔۔۔۔۔
عمر پڑھائی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم عمر نہایت ذہین اور ہونہار اپنے ساتھیوں اور اساتذہ کا پسندیدہ طالب علم جسکو دن رات مفید علم پا لینے کی جستجو رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا اور امی جان کی ہر فون کال پہ ایک ہی رٹ ہوتی،بیٹا اپنا گھر بسا لے نکاح کر لے !!!تیرا دین مکمل ہو جائے گا ان شاءاللہ!!!!ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں نا جانے کب زندگی کی بازی ہار جائیں،ہم چاہتے ہیں تیرے لئےاپنے ہاتھوں سے دین دار نیک لڑکی بیاہ کر لائیں جو تیری دین و دنیا کا کل سرمایہ ہو گی ۔ تیری آنے والی نسل کو پروان چڑھاے گی ان شاءاللہ ۔۔۔

عمر جو نہایت ادب سے والدین کی نصیحتوں کو سن رہا تھا آخر کار اس کو ہتھیار ڈالنے پڑ گئے ۔۔
لمبی سانس لے کر بولا ٹھیک ہے بابا جان! جیسے آپ کی خواہش ہے میں خوش ہوں لیکن میں صرف 2 ہفتے کی چھٹی کے لیے آ سکتا ہوں مجھے واپس آ کر اپنے امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہے ان شاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر بیٹا ایک بہت اچھا رشتہ ہے میرے بہت قریبی دوست کی بھانجی ہے تمھاری ماں مل چکی ہے اس سے بہت ہی عمدہ اخلاق اور اعلی صفات کی مالک ہے ۔ تیرے لیے بہترین جیون ساتھی ہو گی اور میں اپنی تحقیق کروا چکا ہوں الحمدللہ ۔۔۔۔۔۔عمر کا دل تھوڑی دیر کے لیے خیالی تصورات میں چلا گیا ۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ٹھیک ہے بابا جان جو آپ کو مناسب لگتا ہے کر گزریں،مجھے پورا یقین ہے آپکا یہ فیصلہ خیر سے خالی نہیں ہو گا ۔ آپ نے ہمیشہ میری بہترین رہنمائی کی ہے اور مجھے آپ کی پسند پہ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا تو نے میرا مان رکھ لیا ہے مجھے تم سے یہی امید تھی؛بابا بھرائی ہوئی آواز میں بولے ۔ فرحت جذبات سے لبریز بابا بولے بیٹا!اللہ تجھے دین اور دنیا میں کامیاب کرے میرے بچے آمین ۔
بابا کی آنکھیں شدت جذبات سے امڈ آئیں ۔
یہ لے میرے بچے ماں سے بات کر، ماں کی مامتا جوکہ پہلے ہی نچھاور تھی اپنے فرمانبردار بیٹےپہ، سلام اور دعا کے طویل سلسلے کے بعد امی بولیں میرے چاند تو جمعرات کو آ رہا ہے تو کیا ہم نکاح جمعہ کی نماز کے بعد طے کر لیں؟؟؟؟
میرے لعل تو ادھر زیادہ دنوں کے لیے نہیں ہوگا تو ہم چاہتے ہیں تو اپنی دلہن کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارے ۔ ۔۔۔۔۔۔

پر میرے بچے تو نے ابھی تک زلیخا کو تو دیکھا ہی نہیں ہے؟! جی امی نہیں دیکھا ہے میں نے زلیخا کو ؛آپ نے دیکھا میں نے دیکھا ایک ہی بات ہے۔۔۔ مجھے آپ دونوں پر مکمل بھروسہ ہے میری طرف سے آپ دونوں کو مکمل اختیار ہے!
آپ اپنے فیصلے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں ان شاءاللہ ۔۔۔۔

ایک دم عمر کے دل کے نرم گوشے نے انگڑائی لی ۔زلیخا اس کی ہونے والی جیون ساتھی جسکو نہ کبھی اس نے دیکھا نہ سنا لیکن پھر بھی دل اس کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔

☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_

جوں جوں وقت گزر رہا تھا عمر کی دعاؤں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا تھا ۔ سوچا جانے سے پہلے عمرے کی ادائیگی کی جائے ۔اللہ کے گھر عمر نے اپنے ہونے والی جیون ساتھی کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے،تقوی اور خیر و برکت کی دعائیں مانگی،چونکہ یہ اسکی زندگی کا ایک بہت اہم فیصلہ تھا ۔۔۔۔۔۔

دل میں سنت کی تڑپ اور لگاؤ نے اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔۔۔۔۔۔
مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت،6 فٹ کا قد ،کشادہ سینہ ۔۔۔

سرخ و سپید عمر چہرے پہ سنت رسول سجائے کسی بھی لحاظ سے کم نہ تھا ماشاءاللہ ۔۔۔۔
موتیوں جیسےدانت جو کثرت مسواک سے اور دمکتے تھے ،خوبصورت روشن آنکھیں اور کشادہ پیشانی کسی بھی دین دار دوشیزہ کے لیےایک عظیم نعمت سے کم نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان آمد پر والدین کی خوشی دیدنی تھی،ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا ۔نکاح کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔

بابا جان نے صبح کے انتظامات سے آگاہ کیا
راولپنڈی سے جہلم دو سے اڑھائی گھنٹے کا سفر ہے اور ہم سیدھا مسجد جائیں گے،نماز جمعہ کی ادائیگی اور پھر نکاح ان شاءاللہ ۔
عمر کے دل میں زلیخا کے دیدار نے ایک بار شدت سے انگڑائی لی ۔ ان دیکھی انجان زلیخا اس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
Next وہ وقت بھی آن پہنچا دعائیہ کلمات اور مبارکباد کی پر جوش آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔
چھوارے اور مٹھائی کا دور دورہ چل رہا تھا،فضا میں مسرت بھرے قہقہے بلند ہو رہے تھے ۔ طے پایا رخصتی نماز عصر کے بعد ان شاءاللہ ۔

چند قریبی لوگوں کی بارات رخصتی کے لیے پر تول رہی تھی کہ سر سے پاؤں تک ڈھکی زلیخا کو امی نے اپنے پہلو میں بٹھایا ۔ بابا جان نے ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھالا اور پھر عمر اگلی سیٹ پر بابا جانی کے ساتھ براجمان ہو گیا ۔

کچھ دیر بعد گاڑی جی ٹی روڈ پر فراٹے لے رہی تھی،بابا جانی اور عمر ملکی حالات پر مہو گفتگو تھے ۔ عمر کی بھاری مردانہ آواز زلیخا کو بہت بھا گئی جبکہ امی جان زلیخا کو ساتھ لگا کر بار بار دعائیہ کلمات دہرا رہی تھیں ۔
مسافت کو مد نظر رکھتے ہوئے بابا جان نے کہا کیوں نہ کسی جگہ پہ رکا جائے لیکن امی بضد تھیں کہ مغرب سے پہلے گھر پہنچا جائے ۔

دھیرے دھیرے سورج اپنی تپش کھو رہا تھا ۔
زلیخا کا دل دھک دھک کر رہا تھا لیکن دل ہی دل میں دعائیہ کلمات دہرا رہی تھی ۔ اجنبی منزل کا عجیب مزا، تڑپ،شوق اور تجسس کے ملے جلے جذبات کا امتزاج!!

ٹھیک آدھا گھنٹہ مغرب سے قبل وہ اپنے گھر کے دروازے پہ تھے امی سے چابی لے کر عمر نے مین گیٹ کھولا چنانچہ موقع غنیمت جان کر زلیخا نے دلہا جی کو دیکھنے کی ٹھانی لیکن گیٹ کھولتے ہی دلہا میاں اندر تشریف لے جا چکے تھے

بابا جانی نے کھلے گیٹ سے گاڑی گھر کے بڑے صحن میں پارک کی ۔۔
جبکہ دلہا میاں گھر کے تالے اور گھر کی بتیاں جلانے کی تگ و دو میں دکھائی دیئے ۔۔۔۔

زلیخا کا دل مچلا اور جی چاہا وقت ادھر ہی رک جائے اور وہ اپنے دلہا جی کو دیکھتی رہے ۔۔

واپڈا کی کرم نوازی کے کیا کہنے،بجلی کا جنازہ اٹھ چکا تھا ۔" واپڈا کے کارنامے ہر وقت لوگوں کی خوشیوں کو دوبالا کرنے میں کارفرماں "

پورے گھر کے دروازے کھل چکے تھے لیکن ہلکا اندھیرا چھا رہا تھا ۔
امی نے آواز لگائی عمر موبائل کی بیٹری لے آؤ تو دلہن اور سامان کو کمرے تک لے چلیں ۔ بابا واش روم جا چکے تھے اپنے موبائل کی بیٹری کے سہارے سے
جی امی آیا عمر کی مؤدب آواز گونجی ۔
بیٹے زلیخا کو اندر لے چلو میں تمھارے بابا کے ساتھ سامان نکالتی ہوں ۔ نہیں امی میں کرتا ہوں آپ جائیں ۔
ارے نہیں نہیں بیٹا دلہن لمبے سفر سے آئی ہے اس کو کمرے میں لے چلو ________
عمر نے اپنے دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا آ جائیں میں آپ کو اندر لے چلوں ۔

زلیخا کا دل بلیوں اچھل رہا تھا،خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کہ دین دار،خوبصورت اور خوب سیرت شخص اس کی زندگی کا ہم سفر ہے ۔ دل میں بسم اللہ بول کر اس نے اپنا دستانے والا ہاتھ آ گے بڑھا دیا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی خواب ہو، زلیخا نے دل ہی دل میں سوچا ۔

چند لمحوں میں وہ اپنے کمرے میں آن پہنچے ۔ آپ ادھر رکیں میں کچن سے موم بتیاں لے کر آتا ہوں اور آپ اپنا برقعہ(عبایہ ) اتار لیں

چند لمحوں بعد عمر دو موم بتیوں سمیت ان کو جلانے کی تگ و دو میں مصروف تھا،پھر بولا میں ایک موم بتی واش روم میں رکھ رہا ہوں اور ایک کمرے کے لیے ہے ۔

مغرب کی اذان کا وقت ہوا چاہتا ہے اور میں وضو کر کے مسجد جا رہا ہوں ۔
زلیخا نے دھیرے سے بولا جی ۔۔۔۔۔
دستانے اور برقعہ اتارا ہی تھا کہ عمر واش روم سے باہر نکلا، اچانک نظر اس کے مرمری پتلے ھاتھوں پہ پڑی ۔ بہت پتلے اور نازک ہاتھ لیکن رنگت کا اندازہ کرنے سے قاصر تھا

جی وہ مجھے وضو کرنا ہے،زلیخا دھیمے لہجے میں بولی ۔

جی جی ضرور لیکن آپ اس لباس میں کیسے وضو کریں گی؟؟؟ عمر نے اچٹتی نگاہ ڈال کر استفسار کیا
جی وہ میں کر لوں گی مجھے عادت ہے اکثر برقعے میں بھی وضو کرنے کی جی ۔۔۔۔
عمر لمبی سانس کھینچ کر چلیں جیسے آپ کو مناسب لگتا ہے میں مغرب کے لیے جا رہا ہوں السلام علیکم!
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکتہ زلیخا نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔

نکاح کے دو بولوں نے اس کی ساری سوچوں کا مرکز عمر کو بنا دیا ۔ اس نے تو کبھی نہ کسی غیر محرم مرد کو چاہا ، نہ دیکھا اور نہ ہی کبھی کسی کو چھوا ، لیکن یہ شخص تو ابھی سے ہی اس کے دل میں ڈیرہ ڈال چکا ہے ۔ ایک الگ سا اطمینان ، تحفظ کا احساس اور شدید کشش کا احساس اسکو سرشار کیے جا رہا تھا

وضو سے سارا بناؤ سنگار،اور میک اپ پانی کی نظر ہو چکا تھا لیکن زلیخا اس چیز کی پرواہ کیے بغیر جائے نماز پہ کھڑی تھی، اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز تھی اور گڑا گڑا کر دعائیں مانگ رہی تھی ۔

دروازے پہ آہٹ نے زلیخا کے دل کو ایک اور بار تیزی سے دھڑکنے پر مجبور کر دیا، خود سے بولی یقینا عمر واپس آگئے ہیں ۔ باہر سے امی کی آواز آئی بیٹی میں ہوں!
زلیخا دروازے کی طرف لپکی اور امی کا استقبال کیا۔
امی اس حلیے میں بہو کو دیکھ کر صدقے واری ہو رہی تھیں
میری بچی، میری بہو کا اپنے رب سے مضبوط تعلق ہے ماشاءاللہ ۔ پیار سے گلے لگایا،ماتھا چوما اور ڈھیروں دعائیں دیں ۔

میری بچی کھانا لگاؤں؟ نہیں امی مجھے بھوک نہیں آپ ان سے پوچھ لیں شاید وہ کھائیں ۔

واپڈا کی کرم نواز یوں کے کیا کہنے؟!بجلی کے نزول کے ساتھ عمر اور بابا جان کمرے میں داخل ہو چکے تھے ۔قدرے اونچی آواز سے سلام بولا، اچانک نظر دلہن کے سانولے ہاتھوں پہ پڑی تو ایک دم دل بجھ سا گیا لیکن اپنے جذبات کو نا ظاہر کرنے میں کامیابی کا جھنڈا گاڑا۔
بابا جان نے بھی خوب محبتیں نچھاور کی اور کھانے کے لیے بلایا لیکن عمر نے بھی صاف انکار کر دیا کہ بھوک نہیں ہے ۔

بابا جان نے بولا بیگم پسے بادام اور دودھ لے آئیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا اس سنت کو پورا کرے۔
امی ٹھیک دو منٹ بعد ٹھنڈے دودھ کا گلاس لیے عمر کو تھماتے ہوئے بولیں بیٹا پہلے خود پیو اور پھر زلیخا کو پلاؤ

اور دودھ کی دعا یاد دلائی ۔ عمر نے غٹا غٹ دودھ کا آدھا گلاس پیا اور باقی زلیخا کو پکڑایا ، اس نے بھی عظیم دقت کے ساتھ چند گھونٹ نیچے اتارے اور امی بابا کی طرف دیکھا تو دونوں مسرت بھرے جذبات سے بولے اور پیو بیٹی، لیکن زلیخا کے مسلسل انکار پر عمر کو بقیہ دودھ ختم کرنے کا حکم صادر ہوا ۔ اس کے بعد امی بابا کو لے کر کمرے سے جاتے ہوئے بولیں بیٹی میں نے تمھاری ضرورت کا سارا سامان اس کونے میں رکھ دیا ہے، وہ دونوں جا چکے تھے، کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔

زلیخا شرم سے سر جھکائے کھڑی تھی تو عمر بولا آپ تشریف رکھیں اور خود وہ اپنی کتابوں کو اوپر نیچے کرنے لگا ، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ گود میں ہاتھ رکھے سر ضرورت سے زیادہ جھکائے بیٹھی تھی ۔

چہرہ تو ٹھیک طرح سے دکھائی نہیں دیالیکن ہاتھوں کی رنگت بتا رہی تھی محترمہ کافی سانولی ہیں
جس کےغم نے عمر کو اندر ہی اندر چاٹا ۔

اس کا دل بجھ سا گیا کہ آخر امی بابا نے اس کا انتخاب کیوں کیا؟؟؟ میرا اور اس کا بھلا کیا جوڑ ہے؟؟؟؟؟وہ خود ہی دل میں سوال و جواب کیے جا رہا تھا ۔
عمر کا دل ٹوٹ چکا تھا اس کو اپنے والدین سے ایسے انتخاب کی امید نہ تھی، آخر ظاہری حسن بھی کوئی چیز ہے؟؟؟؟
اتنے سال خود کو عورت کے فتنوں سے بچائے رکھا، زنا کاری کے گند سے خود کو بچایا تو کس کے لیے؟؟؟ ایک حلال رشتے کے لئے ایک دل کو موہ لینے والی بیوی کے لیے لیکن اس میں تو کشش ہی نہیں ہے، سانولی سی مریل ککڑی ۔

عمر کے اندر سرد جنگ کا سلسلہ جاری تھا ، دماغ جیسے ماؤف ہو رہا ہو۔

لیکن اس کا ضمیر بار بار ملامت کر رہا تھا
احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

"""دنیا ایک پونجی ہے اور دنیا کی سب سے بہترین پونجی نیک عورت ہے ""(صحیح مسلم )

"""کسی عورت سے ان چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے:
1-اس کا مال 2-اس کا حسب نصب 3- اس کا حسن و جمال
لیکن دیکھو!!!!!
تم دین والی کو ترجیح دینا """(بخاری،مسلم،ابو داؤد،نسائی،بیہقی)
لیکن اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لیکن اس کا ضمیر بار بار ملامت کر رہا تھا
احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

"""دنیا ایک پونجی ہے اور دنیا کی سب سے بہترین پونجی نیک عورت ہے ""(صحیح مسلم )

"""کسی عورت سے ان چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے:
1-اس کا مال 2-اس کا حسب نصب 3- اس کا حسن و جمال
لیکن دیکھو!!!!!
تم دین والی کو ترجیح دینا """(بخاری،مسلم،ابو داؤد،نسائی،بیہقی )

کتابوں کی ترتیب کے بعد عمر زلیخا کی طرف پلٹا اور بولا دیکھیں میں کتابی کیڑا ہوں،کتابوں میں رہنے والا لہذا محدود وقت کی بنا پر آپ کے لیے ایک کتاب کا انتخاب کیا ہے" تحفتہ العروس "یہ صنف نازک کے موضوع پر پہلی جامع اور دلکش کتاب ہے ۔ امید ہے آپ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔

زلیخا جھکے چہرے اور دھیمے لہجے سے صرف "جی "کر پائی ۔
میرے خیال میں آپ یہ بھاری بھرکم لباس تبدیل کر سکتی ہیں، عمر کو جیسے اس کے بناؤ سنگار سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن اس نے اس احساس کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی ۔۔۔
زلیخا بھی جوان، جذبات، احساسات رکھنے والی لڑکی تھی ۔

اسکے رویے کو سمجھ گئی اور لباس تبدیل کرنے کے لئے کونے میں پڑے سوٹ کیس کا رخ کیا اور سفید کاٹن کا سادہ سا شلوار قمیض نکالا جسکے اوپر ہلکے گلابی اور کالے رنگ کی کڑھائی تھی اور ساتھ بڑا سا چھوٹے چھوٹے پھولوں والا دوپٹہ ۔۔۔۔۔

""اللهم انی أعوذ بك من الخبث و الخبایث "
دعا پڑھتے ہی وہ واش روم کے اندر تھی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر اپنے بے قابو آنسوؤں کی جھڑی کو نہیں روک سکی ۔

خوب آنسو بہا کر شاور لیا اور باہر نکلنے سے پہلے چاروں طرف دوپٹا لپیٹ کر ماتھے پہ ہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا۔
باہر آئی تو عمر عشاء کے لیے جا چکا تھا تو اس نے بھی عافیت نماز میں ہی جانی اور پورے خشوع کے ساتھ نماز شروع کر لی، اپنی ہمیشہ کی عادت کو اپناتے ہوئے لمبی سورتوں کا انتخاب کیا اور اپنی نماز کو تسلی سے مکمل کیا ۔۔۔۔۔۔۔

اپنے مرمریں ھاتھوں کو اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے پھیلا دیا ۔۔۔

"اے میرے رب میرے خاوند کے دل میں میرے لیے محبت اور الفت پیدا کر، مجھے ان کی نظر میں پر کشش بنا دے۔"آمین
بنا کسی دقت کے آنسوؤں کی جھڑی زلیخا کے گالوں کو بھگوےء جا رہی تھی ۔

نا چاہتے ہوئے بھی آنسو سارے بند توڑ کر لگا تار اس کے سوتی دوپٹے کو گیلا کیے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دم سے آہٹ سن کر اس نے اپنے چہرے کو رگڑ ڈالا اور بستر پہ پڑی تحفتہ العروس کے اوراق الٹنا پلٹنا شروع کر دئیے ۔

دوبارہ سے مردانہ سلام نے اس کے دل پہ دستک دی ۔
پھر وہی دھیما انداز اور جکھی جکھی گردن سے جواب آیا ۔
سنیں!!!!عمر پکارا!
جی زلیخا کا جواب ۔
آپ نے کھانا کھانا ہے؟؟؟؟؟؟؟میں امی کو بولتا ہوں آپ کو گرم کر دیں ۔۔۔۔
جی نہیں شکریہ مجھے بھوک نہیں ہے،!زلیخا بولی۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آپ نہیں کھاتی تو میں بھی نہیں کھاتا ۔۔۔۔۔
میں سونے کے لیے جا رہا ہوں، دو دنوں سے سفر کی تھکاوٹ ہے اور آپ بھی لمبے سفر سے آئی ہیں آرام کریں ۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کسی روبوٹ کی طرح اٹھی اور بستر کے ایک کونے میں لیٹ کر خود کو اپنے دوپٹے میں لپیٹا اور" اذکار مسنونہ "میں مشغول ہو گئی ۔
ادھر دوسری طرف بھی یہی سلسلہ جاری تھا ۔۔۔۔۔
نیند کے آثار دونوں طرف دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔
لیکن راہ فرار کا یہی ایک ذریعہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر بند آنکھیں لیکن دل دماغ شدت غم سے چور تھا ۔ زلیخا بار بار اس نقطہ کو سوچے جا رہی تھی کہ کیا میری نادرا والی تصویر عمر کو نہیں دکھائی گی؟؟جبکہ امی جان نے ممانی سے خاص درخواست کر کے عمر کو دیکھانے کے لیے لی تھی ، پھر آخر کیا ہوا ہے؟؟؟؟؟
جو ان کی آنکھوں میں میرے لئے کسی قسم کے جذبات نہیں ہیں؟مجھے تو ان لوگوں نے تصویر دکھا دی پر اپنے بیٹے کو کیوں نا دکھائی؟؟؟؟
میں تو رشتوں سے ترسی ہوئی ہوں،بچپن میں والدین کا انتقال،نا کوئی بہن اور نا کوئی بھائی اور اب خاوند ملا ہے وہ اتنا قریب ہو کے بھی کوسوں دور ۔
دل میں ٹھیس اٹھی اور آنکھوں نے کھل کر برسنا شروع کر دیا، کیا ہوا جو میرا رنگ سانولا ہے؟؟؟ دل ودماغ تو نہیں ہے ؟!!!۔ آنکھوں میں برسات کا سلسلہ تسلسل سے جاری تھا ۔ دل شدت غم سے نڈھال تھا اور اپنے پسندیدہ شعر کو دہرا رہا تھا ۔

عجب رنگوں میں گزری ہے زندگی اپنی
دلوں پہ راج کیا پھر بھی پیار کو ترسے

سفید کاٹن کا دوپٹہ زخموں پہ مرہم کا کام کر رہا تھا آنکھوں سے برستی برسات کو کافی حد تک جزب کر چکا تھا ۔ نیند کوسوں دور تھی، دل کر رہا تھا زور زور سے دھاڑیں مارےلیکن وہ عمر کو اپنی کمزوری نہیں دکھانا چاہتی تھی ۔
اگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہیں تو میں کبھی ان کو مجبور نہیں کروں گی ہاں اپنے حقوق ضرور پورے کروں گی جو کہ میری تربیت کا حصہ ہیں ۔ میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابیات کی رضی اللہ علیھن کی سنت پہ عمل پیرا ہوں گی ان شااللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
بے شک خاوند کی فرمانبردار عورتیں ہی جنت جائیں گی ۔
کمرے میں دیوار پہ لگےگھڑیال کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی ۔ واپڈا کی آنکھ مچولی جاری تھی، کمرے میں لگا زیرو واٹ کا بلب بھی بجھ چکا تھا ۔

زلیخا انتظار میں تھی کہ لائٹ آئے تو وہ وقت کا تعین کر سکے اور اپنی روزانہ کی روٹین" تہجد "کے نوافل شروع کرے ۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے لگ بھگ بجلی کا نزول ہو چکا تھا ۔
رات کے دو بج رہے تھے،زلیخا چپکے سے دھیمی چال سے کمرے سے نکل کر واش روم میں جا چکی تھی ۔
اچھی طرح سے وضو کیا چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور واپس خاموشی سے کونے میں پڑے جائے نماز پہ کھڑی ہو گئی ۔
نوافل میں طویل قیام کے بعد اپنے مرمری ہاتھ اپنے رب کے سامنے پھیلا دیئے
پھر وہی برسات کا سلسلہ اور سینے میں تڑپ،چار و ناچار خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود ۔۔۔
اپنی پیشانی کو سجدہ ریز کر دیا اور خوب گڑگڑائی، میرے مالک میری اس آزمائش کو آسان کر،بے شک تو ہی مشکل کشا ہے ۔
طویل دعاؤں کے بعد دل میں اطمینان محسوس کیا،اتنے میں فجر کی آذان سنائی دی ۔۔۔
عمر تو نجانے رات کےکس پہر نیند کی گہری وادی میں جا چکا تھا ۔۔۔
اب زلیخا اس شش و پنج میں تھی کہ ان کو اٹھاؤں یا نا اٹھاؤں اور اگر اٹھاوں تو کیسے؟؟؟؟؟؟
5 منٹ کی سوچ بچار کے بعد زلیخا نے عمر کے پاؤں کو ہلکا سا جھنجھوڑا لیکن وہ گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا ۔ آخر تیسری کوشش پہ ہڑ بڑا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں ملیں تو دیکھا زلیخا اسے کی پالتی پہ کھڑی تھی،فورا بولی ج ج جی وہ آپ کی فجر کی جماعت نکل جائے گی اذان ہو چکی ہے ۔
عمر دل ہی دل میں خوش ہوا چلو محترمہ نماز کی تو پابند ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
فورا اٹھ کھڑا ہوا،وضو کیا اور مسجد کا رخ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا نے فجر ادا کی اور تلاوت کلام پاک شروع کر دی ۔۔۔۔
خوبصورت آواز اور قواعد التجويد ،اور مخارج سے بخوبی واقف زلیخا رقت آمیز لہجے میں تلاوت میں مشغول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کی تلاوت نے عمر کو دروازے پہ ہی سننے پر مجبور کر دیا
اتنی خوبصورت آواز اور شیریں لہجہ اس نے آج دن تک نہ سنا ۔۔۔۔ماشااللہ
وہ دل ہی دل میں داد دے گیا
عمر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بابا نے آواز لگائی، جی بابا جان فرمایئے،وہ بیٹا مجھے لگتا ہے ہمیں کل اتوا کا ولیمہ ملتوی کرنا پڑے گا؟؟؟
سب خیریت ہے نا بابا جان؟؟؟؟؟
تھوڑی دیر پہلے تمھارے پھوپھا کا فون آیا تھا،تمھاری پھپھو کافی بیمار ہیں اس لیے مجھے کھاریاں جانا پڑے گا ہو سکتا ہے کچھ دن رکنا بھی پڑھ جا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔
پیچھے سے امی کی آواز آئی میں بھی جاؤں گی اتنا اچھا وقت گزرا ہے ہمارا باجی نصرت کے ساتھ،زندگی موت کا کچھ پتا نہیں لہذا میں جاؤں گی ۔۔۔
پر عمر کی ماں پیچھے دلہن اکیلی ہے اس کو گھر کی کسی چیز کا پتا نہیں ہے کونسی چیز کدھر پڑی ہے ۔۔۔
مجھے اپنی زلیخا پہ پورا بھروسہ ہے یہ مجھے کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گی، امی فاتحانہ انداز میں مسکرائیں ۔۔۔۔۔۔۔
آخر بابا کو ماننا ہی پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا میری بچی ادھر آ میں تجھے ضرورت کی ساری چیزیں دکھاؤں، زلیخا قرآن مجید کو رکھ کر فورا ان کے پاس آن پہنچی ۔۔۔۔۔
امی بابا کی دعاؤں کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ۔
بابا بولے عمر کی ماں پھر سے سوچ لو ،
ارے آپ کیوں گھبراتے ہیں؟؟؟؟ میرا عمر ہے نا زلیخا کا خیال رکھنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے زلیخا کے دل میں ٹھیس اٹھی اور آنکھوں کی نمی کو چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔۔
چند سیکنڈوں میں امی اور زلیخا کچن میں جا چکے تھے ۔۔۔
انکے جاتے ہی بابا نے لمبی سانس لی اور سمجھانے کے انداز میں بولے؛ دیکھو بیٹا ہمارے پیچھے تم نے بہو کا خاص خیال رکھنا ہے اس بچی نے یتیمی کی زندگی گزاری ہے اور بہت مشکلات دیکھی ہیں ۔۔۔۔

جی بابا آپ گھبرائیں نہیں میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا ان شااللہ ۔۔۔۔مجھے تم سے یہی امید تھی میرے بچے اللہ تیرا دامن خوشیوں سے بھر دے آمین ۔۔۔۔۔
اور ہاں میں گاڑی چھوڑے جا رہا ہوں پیچھے سے تمہیں ضرورت پڑ سکتی ہے، بہو کو تھوڑی دیر باہر لے جانا یا ایک چکر مری کا لگا لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچوں میں گم عمر جی جی بابا جانی ۔۔۔۔۔

اچھا بیٹا ہم ابھی ناشتےکے بعد نکلیں گے ان شاءاللہ، تم آرام کرو ۔۔۔۔ جی بابا جانی
امی اور زلیخا کی ہنسنے کی آوازیں کیچن سے آ رہی تھیں جیسے ایک دوسرے کو سالوں سے جانتی ہیں

عمر دوبارہ سونے کے لئے پر تولنے لگا جبکہ زلیخا امی کے ساتھ گوش گپیوں میں مصروف تھی اور ساتھ ساتھ ہر چیز کا جائزہ بھی لے رہی تھی ، ماموں کے گھر کتنی غربت تھی اور یہاں ہر چیز کتنی نفیس ہے ۔۔۔۔۔۔
کاش ان چیزوں کا مالک بھی میرا ہو جائے، دل میں دوبارہ سے ایک ہوک اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا میری بچی جاؤ ناشتےکے لیے عمر کو بھی بلا لاؤ تم دونوں نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔
زلیخا کمرے میں آئی تو دیکھا عمر تو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔
کمرے کی ہلکی سی روشنی میں دل کیا ادھر ہی کھڑی ہو کر ا پنے دل کے مالک کو اسی طرح دیکھتی رہے لیکن امی ابو کو خوش کرنے کے لئے چار و ناچار ناشتہ ان کے ساتھ کھایا ۔

ان کی روانگی کا وقت آ گیا، زلیخا کا دل غمگین تھا میں تو اکیلی رہ جاؤں گی عمر کے ساتھ اور ان کو تو کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے میرے میں، بجھے دل کے ساتھ سوچا ۔۔۔۔
امی بابا کو رخصت کر کے کیچن میں صفائی کی ٹھانی، پھر صحن میں سفید کپڑوں کی ٹوکری سے کپڑے نکال کر ان کو سرف میں ڈبو دیا ۔۔۔۔۔
کچن کو لشکا کر دوپٹے کو ایک سائیڈ پہ رکھا اور کپڑوں کی رگڑائی شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔۔
کپڑوں کی رگڑائی میں اس قدر مگن تھی کہ آگے پیچھے کا کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے 5 منٹ خوب جائزہ لیا اور پھر سلام جھاڑا ۔۔۔۔زلیخا ایک دم اپنے خیالوں میں مگن گھبرا گئی اور منہ پہ ہاتھ رکھ کر چیخ کو روک لیا

بے دھیانی میں صابن والے ہاتھ چہرے کو کافی حد تک میلا کر چکے تھے اور صابن کا جھاگ نمایاں ہو رہا تھا ۔۔۔ عمر نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئےپوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟؟؟
جی جی جی وہ میں کپڑے دھو رہی ہوں ۔۔۔۔
اچھا تو یہ مشین کس خوشی میں پڑی ہے ؟؟؟ صرف گھر کی خوبصورتی کے لیے؟؟؟؟؟؟
آپ کو پتا ہے آپ کون ہیں؟؟؟؟؟
جی مجھے پتا ہےمیں زلیخا مراد ہوں !!!!!
عمر ہنسی چھپاتے ہوئے بولا نہیں بالکل غلط بول رہی ہیں آپ!!!
زلیخا حیرت سے اس کا چہرہ پڑنے لگی
آپ دلہن ہیں اور وہ بھی نئی نویلی ،،، عمر نے زور دےکر بولا
ایک ٹھیس پھر اٹھی اور آہستہ سے جی بول پائی۔۔۔۔۔
ہوا کے جھونکے نے ماتھے پہ پڑے بالوں کو الجھا دیا پھر بنا سوچے صابن والے ہاتھوں سے انکو پیچھے ہٹایا ۔۔۔۔۔
عمر کی ہنسی چھوٹ گئی یہ کیا حال بنایا ہوا ہے؟؟؟؟
شکل دیکھیں آئینے میں اپنی ذرا،
زلیخا نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن آئینہ نظر نہ آیا،
چھوڑیں آئینہ کو میں خود صاف کر دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
عمر نے گیلے ہاتھوں سے صابن سے اٹے بال اور چہرہ صاف کیا اور پھر پوچھا آپ کو کھانا پکانا آتا ہے؟؟؟؟؟؟
بڑے ہی پرجوش لہجے میں جی مجھے سب کچھ آتا ہے زلیخا نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ماشااللہ ۔ عمر بولا
پھر تو آپ مکانوں کی تعمیر کا کام بھی جانتی ہوں گی؟؟؟؟
زلیخا حیرت سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

میں سوچ رہا ہوں آپکو اینٹیں، بجری اور ریت منگوا دوں اور آپ مجھے ایک غسل خانہ تعمیر کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ساختہ زلیخا کی ہنسی چھوٹ گئی اور عمر نے بھی زور کا قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں باہر سے کھانا لاتا ہوں آپ یہ سب سمیٹیں ۔۔۔

ارے نہیں نہیں باہر سے کھانا نا لائیں میں نے تو پراٹھوں کے لیے مصالحہ اور آٹا تیار کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔

آپ کچھ بھول رہی ہیں کہ آپ نئی نویلی دلہن ہیں اور نئی دلہنیں ایسے کارنامے سر انجام نہیں دیتی بلکہ نخرے اٹھواتی ہیں ۔۔۔۔۔
زلیخا: دلہن پرانی ہو یا نئی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس احساس ذمہ داری ہونا چاہئے، اور یہ سب میری تربیت کا حصہ ہے اور ویسے بھی مجھے فارغ بیٹھنا پسند نہیں ہے
فارغ انسان شیطان کا گھر ہے "۔۔۔۔۔۔۔عمر بڑے انہماک سے اس کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ اچھا جی جیسے آپ کی خوشی عمر بولا۔۔۔۔۔

یہ دیں میں تار پہ لٹکا دوں عمر نے ہمدردی جھاڑی ۔۔۔
بس میں اچھی طرح کھنگال کے لائی۔۔۔
زلیخا کا پاؤں ایک دم گیلے فرش پر پھیلے سرف سے پھسلا جو کہ اس کے 14 طبق روشن کرنے کیلئے کافی تھا ۔۔۔۔
عمر نے فورا آگے بڑھ کر اس کو مضبوطی سے تھام لیا ۔
عمر زلیخا کو تھامے ہوئے بولا سنیں محترمہ آپکے یہ شوق میرا کچومر نکال دیں گے اگر کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی تو بابا نے میری ہڈیاں بھی توڑ دینی تھی لہذا ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔
زلیخا ایک دم سنبھلی اور شرمندگی سے بولی کوشش کروں گی آئندہ شکایت کا موقع نہیں دوں ان شااللہ
جائیں جا کر کپڑے بدلیں میں یہ سب فارغ کرتا ہوں جی اچھا زلیخا بولی ۔۔۔۔
اور ہاں سنیں دھیان سے پلیز ۔۔۔۔۔۔۔جی اچھا ان شااللہ

زلیخا کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے تھا کمرے میں آکر لمبی سانس لی
سوٹ کیس سے سادہ سا فیروزی سوٹ نکالا،شاور لیا اور سیدھی کچن میں پراٹھے بنانے لگ گی ۔۔۔باہر دیکھا تو عمر کپڑوں کو پھیلانے کی تگ و دو میں مصروف تھا ۔۔۔
پراٹھوں کی تیاری کے ساتھ زلیخا دل ہی دل میں ذکر بھی کر رہی تھی جوکہ اس کی عادت کا حصہ تھا ۔۔۔
تیار شدہ پراٹھے اور چائے میز پہ سجائی اور دھیمے لہجے میں عمر کو پکارا ۔۔
اندر آتے ہی عمر کی نظر زلیخا کے گھٹاؤں جیسے کالے لمبے بالوں پہ پڑی جن سے پانی کی بوندیں موتیوں کی طرح ٹپک رہی تھیں ۔۔۔ دل ہی دل میں بولا سانولی تو ضرور ہے لیکن خوبیوں سے بھری ہوئی ہے ۔۔۔ماشااللہ
آپ بھی آ جائیں عمر نے پکارا ۔۔
نہیں میں امی اور بابا کے ساتھ کھا چکی ہوں ، میں ذرا کمرہ درست کر لوں، ساری چیزیں سمیٹیں بستر درست کیا،
باہر سے عمر نے پکارا!!!
آئی جی!!
ادھر بیٹھیں ۔
کرسی کھینچ کر سامنے بیٹھ گئی ۔
میری طرف دیکھیں ۔۔۔ عمر نے نرمی سے پکارا
ایک دم سے نظر یں اٹھائیں اور پھر فورا نیچے جھکا لیں ۔
آپ کھانا کھا چکے ہیں تو میں یہ برتن دھو لوں، بڑی مشکل سے پھنسی ہوئی آواز نکالی ۔

جی میں کھا چکا ہوں اور بہت مزا آیا ہے آپ کو شکریہ کے لئے بلایا تھا ۔
ظہر کے بعد ہم دامن کوہ جائیں گے اور اس کے بعد عصر فیصل مسجد میں ان شااللہ ۔۔۔۔
آپ کبھی آئی ہیں پنڈی پہلے؟؟؟؟
جی کبھی بھی نہیں، میں تو صرف جہلم سے دینہ اور دینہ سے جہلم تک ہی محدود تھی۔

ظہر کے بعد نوبیاہتا جوڑا دامن کوہ کی طرف روانہ تھا ۔۔۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی، زلیخا پردے میں لپٹی گہری سوچوں میں گم تھی ۔۔۔۔
عمر نے خاموشی کو توڑ ا آپ بولتی بہت کم ہیں؟!
میں بولتی ہوں وقت ضرورت !!
اچھا پھر مجھے 1 سے100 تک گنتی سنائیں
جی؟؟؟؟ زلیخا نےسوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا
اچھا اگر 100 تک نہیں آتی تو 1 سے 10 تک سنائیں اور پھر 10 سے 1
آپ واقعی مجھ سے گنتی سننا چاہتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟
زلیخا سراپا احتجاج تھی
پھر میں 1 سے 100 تک سناؤں گی کیونکہ مجھے گنتی آتی ہے ۔
زلیخا نے بھی ایک ہی سپیڈ میں ساری سنا ڈالی ، ابھی اور کچھ سننا ہے آپ نے ؟؟؟؟؟؟؟؟جی 12 کا پہاڑا سنائیں
اچھا وہ بھی سن لیں کیا یاد کریں گے
ایک ہی سانس میں سارا سنا دیا، جوکہ عمر کو بھی نہیں آتا تھا ۔۔۔۔
دونوں دامن کوہ پہنچ چکے تھے، گہرے سر سبز سرو اور سفیدے کے درخت، ناہموار زمین پھر دونوں ایک کونے میں جا بیٹھے ۔۔۔۔
زلیخا پھر سے خاموش اور سوچوں میں گم ۔۔۔
عمر نے سوال داغا، آپ کہاں تک پڑھی ہیں؟؟؟؟؟ اور شادی سے پہلے کیا مصروفیات تھیں؟؟؟؟

پرائیویٹ بی-اے کیا ہے ، مدرسے میں قرآن اور گھر میں ٹیوشن پڑھاتی تھی
آپکے والدین کو کیا ہوا تھا؟؟؟؟
میں دو سال کی تھی تو ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے اور پھر میرے ماموں نے میری کفالت کی ذمہ داری لے لی ۔۔۔
بچپن سے آج تک غربت کے باوجود دونوں نے دین کو نہیں چھوڑا اور دینی تربیت کی الحمدللہ ۔۔۔۔
زلیخا دل بول رہی تھی اور عمر پوری توجہ سے اس کو سن رہا تھا ۔۔۔۔
شاعری پسند کرتی ہوں؟؟؟؟؟
جی!
پھر سناؤ کچھ!

"نگاہیں میرے گرد آلود چہرے پہ ہیں دنیا کی
جو پوشیدہ ہے باطن میں وہ جوہر کون دیکھے گا
یہاں تو سنگ مر مر کی----- چمک پہ لوگ مرتے ہیں
میرے کچے مکان تیرا کھلا در----- کون دیکھے گا؟!"

واہ واہ ہم ہیں نا آپکا کھلا در دیکھنے کے لیے، عمر نے زور سے قہقہہ لگایا ۔ ۔۔۔
میں آپکو ایک شعر سناتا ہوں

""ڈبے میں ڈبا،ڈبے میں کیک
میری زلیخا لاکھوں میں ایک "

بے ساختہ زلیخا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔۔

سنیں آپ کو میرا سانولا رنگ پسند نہیں ہے اور میں یہ کل ہی جان گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا مراد کل رات تک نہیں تھا ، لیکن تہجد کی نماز اور تلاوت قرآن نے آپ کو دنیا کی سب سے خوبصورت عورت بنا دیا ہے اور مجھے پتا تھا کہ آپ تہجد کے لیے اٹھی تھیں مجھےفخر ہے کہ میری مضبوط عقیدہ اور سنت سے لگاؤ رکھنے والی بیوی میری مضموط نسل کو پروان چڑھاے گی ان شاءاللہ

میں داد دیتا ہوں امی بابا کی پسند کو
زلیخا مراد آپ "میری دلہن " ہیں

آپ میری پاکیزہ،باکردار اور با حیا دلہن ہیں
جس کی اعلی تربیت نے میرے دل میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے بھر آئیں جنکو عمر نے اپنے ہاتھوں میں سمو لیا۔۔

ختم شد:::::::::::::::::::::::::::::::::
(مصر کے ایک سچے واقعے سے متاثر ہو کر یہ فرضی کہانی لکھی تھی ، چونکہ مجھے اردو ٹائپنگ میں عبور حاصل نہ تھا جس کی بنا پر ناول لمبا نہیں لکھ پائی ۔ قارئین کرام اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں)

OR Facebook Pa HI Novel Hasil krna Kaly mra page ko like zror krn 
Click hear