Saturday, May 23, 2020

kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

قراقرم_کا_تاج_محل_از_نمرہ_احمد

#قسط_نمبر_01


"راکاپوشی پر گلیشئر پھٹنے سے کوہ پیما لڑکی گر کر ہلاک"
ج
ہنزہ (اے ایف پی)، راکاپوشی سر کرنے والی ٹیم کی ایک لڑکی گلیشئر پھٹنے سے کئی فٹ گہرے شگاف میں گر کر ہلاک۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز صبح تین سے چار بجے کے درمیان پاک ترک برٹش ایکسپیڈیشن کی ایک کوہ پیما، چڑھائی کے دوران برف پھٹنے سے ظاہر ہونے والی پہاڑوں کی درز میں گر گئی۔ ایکسپیڈیشن ٹیم نے لڑکی کی فوری ہلاکت کی تصدیق کردی۔ مزید تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔
                      ________________
بدھ،20 جولائی 2005ء۔ ایک ماہ قبل

سفید گیٹ عبور کر کے اس نے چند لمحے رک کر ارد گرد کا جائزہ لیا۔ گیٹ سے آگے سفید پتھروں سے بنا خوبصورت اور طویل ڈرائیو وے  تھا اور دائیں جانب کھلا سا لان۔ جس کے دہانے پر بنے جدید طرز کے برآمدے میں بچھی چار کرسیوں میں سے ایک پر نشاء بیٹھی تھی۔ اس کے ھاتھ میں صبح کا اخبار تھا جو وہ عادتاً شام کے وقت ہی پڑھا کرتی تھی۔
   نشاء کو سامنے پا کر وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ڈرائیو وے عبور کر کے برآمدے تک آئی۔اس سے پہلے کہ نشا ء اس کے استقبال کے لئے اٹھتی، وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے، ناک اور ابرو چڑھا کر پوچھنے لگی، "یہ لڑکا کون تھا؟"
پیج نمبر 15 لکھنے پر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں آپ ممبرز کا ساتھ تھا تو یہ ناول پی ڈی ایف سے راٹینگ میں میں خود لکھ پایا۔

"کون سا لڑکا؟" اس نے اخبار تہہ کرکے میز پر رکھ دیا، اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
"وہی جو باہر کھڑا تھا"
"باہر کھڑا تھا؟" نشاء حیران سی کھڑی ہو گئی۔ ایک نظر اس نے پریشے کے چہرے کے بگڑے زاویے اور کھڑے ہونے کا تھانے دارانہ انداز دیکھا۔ "کس کی بات کر رہی ہو؟"
"وہی جو حسیب کے ساتھ باہر کھڑا تھا"
"اوہ! وہ؟ وہ حسیب کا دوست ہے، ملنے آیا تھا اور اب تو واپس جا رہا تھا۔ کیوں، خیریت؟"
"خیریت؟ مجھے دیکھ کر اس بدتمیز لڑکے نے سیٹی بجائی، شرم تو آتی نہیں ہے آج کل کے لڑکوں کو۔ آنے دو حسیب کو ابھی پوچھتی ہوں اس سے کہ کس قسم کے واہیات لوگوں سے دوستی ہے"
"کم آن، پری!" نشاء نے واپس کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبائی اور ایک نظر اسے دیکھا۔
سادہ گلابی شلوار قمیض میں ملبوس، اپنے سیدھے اور بے حد سیاہ بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کیے، پاؤں میں سفید اور ہلکے گلابی جوگرز پہنے وہ بہت خفگی سے نشاء کو دیکھ رہی تھی۔
"بھئی سیٹی بجا دی تو کیا ہوا، بچہ ہے۔"
"ہاں، چھ فٹ کا بچہ ہے؟"
"حسیب کا کلاس فیلو ہے، یعنی ہو گا سترہ اٹھارہ سال کا، مطلب عمر میں ہم سے کم از کم آٹھ سال چھوٹا، تو بچہ ہی ہوا نا" وہ اپنی کزن کی بہ نسبت زیادہ لا پرواہ رہی تھی۔"اور یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟"
"لو،مری کیوں جا رہی ہو؟ تمہارے لیے ہی ہے۔ بیف چلی بنایا تھا سوچا کچھ تمہیں بھی دے آؤں۔" اس نے ڈونگا نشاء کو دیا، اس کا موڈ سخت آف تھا۔
"واؤ، ممی کو بیف چلی بہت پسند ہے۔" نشاء کا اس کے موڈ کو خاطر میں لانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
" ہاں تو ممانی کے لیے ہی لائی ہوں۔ کونسا تمہارے لیے بنایا ہے؟"
"نشاء آپی ! دراصل پری آپا ہمیں بیمار کر کہ اپنی ڈاکٹری چمکانا چاہتی ہیں" اپنے دوست کو رخصت کر کے حسیب بھی وہیں ا گیا تھا۔

"تمہارے لیے نہیں ہے، منہ دھو رکھو"
"شیروں کہ منہ دھلے ہوئے ہوتے ہیں آپا"
"ہاں،یاد آیا۔ تمہیں تو ماموں اور ممانی چڑیا گھر سے لائے تھے"
"کم آن!" وہ ہنسنے لگا۔" ویسے کس لوفر لفنگے کی بات ہو رہی تھی؟"
"وہی جس کے ساتھ باہر گیٹ پر کھڑے تم قہقے لگا رہے تھے۔وہ بد تمیز لڑکا مجھے دیکھ کر سیٹی بجا رہا تھا۔کیسے لڑکوں سے دوستی ہے تمہاری؟"
"ارے وہ،وہ میرا دوست ہے۔ بڑے باپ کا بیٹا ہے اور وہ آپ کو دیکھ کر سیٹی نہیں بجا رہا تھا، وہ تو بس اس کی عادت ہے۔ نیور مائینڈ، وہ تھوڑا سا اسپائلڈ چائلڈ ہے" اپنے دوست کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ حسیب جھک کر میز پر رکھے ڈونگے سے بیف کے چٹ پٹے فنگر لٹس اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔ "اور سنبھل کر آپا، اس کا باپ صدر پاکستان کا دوست ہے۔"
جواب میں پری بڑبڑا کر رہ گئی۔ پھر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
"کدھر جا رہی ہو؟ ممی کو سلام تو کر لو"
" پچاس گز کے فاصلے پر میرا گھر ہے۔ پھر آ جاؤں گی،ابھی مجھے جانا ہے."
بھئی بریکنگ نیوز تو سنتی جاؤ، حسیب اور اس کے چار دوست راکاپوشی بیس کیمپ کا ٹریک کر رہے ہیں"
"تو کرتے رہیں" اپنے تیئں نشاء نے چونکا دینے والی خبر سنائی تھی مگر اس نے لاپروائی سے کندھے اچکا  دیے۔
"پری آپا! یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ جیلس نہیں ہو رہیں۔" حسیب اس کا انداز دیکھ کر شرارت سے مسکرایا۔
"میں ہو بھی نہیں رہی" وہ کھٹ سے کہہ کر گیٹ کی طرف تیز قدموں سے بڑھ گئی۔
"سنو تو! تمہارے کپڑے آئے پڑے ہیں درزی سے،وہ تو لیتی جاؤ۔" نشاء بھاگتی ہوئی اس کے پیچھے آئی۔
"تم رات کو دے جانا۔ابھی میں جلدی میں ہوں۔"
وہ گیٹ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے ایک لمحہ کو مڑی تھی۔

"کیوں، کیا جلدی ہے؟"
"وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" گیٹ پر رکھا اس کا ہاتھ ایک دم ڈھیلا پڑ گیا، قدرے ہچکچائی ۔ "وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی پھپھو اور ندا آپا آئی ہوئیں ہیں نا!"
آب کی بار نشاء کا موڈ سخت آف ہوا تھا۔ "کیا مطلب؟ ان کو اپنے گھر میں چین نہیں ہے؟ ہر دوسری شام تو وہ تمہاری طرف ہوتی ہیں اور وہ ندا آپا کے شیطان بچے اتنا شیطان بھی کوئی ہو گا؟ جاؤ، جلدی گھر جاؤ۔ وہ درجن بھر چیزیں توڑ چکے ہوں گے۔"
تھوڑی دیر پہلے کے تاثرات پریشے کے چہرے سے غائب ہو چکے تھے، وہ بےبسی سے لب چبا کر رہ گئی۔
"ویسے رات کا کھانا بھی یقیناً وہ تمہاری طرف ہی کھائیں گے نا؟ سیف بھائی بھی رات کو آیئں گے نا اور یقیناً کھانا کھا کر ہی جائیں گے نا۔ حد ہوتی ہے روز روز کسی کے گھر کھانے کی، لیکن پھپھو۔۔۔۔۔۔۔ اور معزرت کے ساتھ، سیف بھائی کی وہی مثال ہے کہ نیت سیر نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"چلو کچھ نہیں ہوتا۔ پاپا کی اکلوتی بہن ہیں، ان کے آنے سے پاپا ہی خوش ہو جاتے ہیں۔"
" مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی ڈاکٹر پریشے جہانزیب! تم اتنی کمزور اور جذباتی قسم کی دلیلیں کیوں دیتی ہو؟ اتنی اچھی طرح جانتی ہو سیف بھائی کو۔ پھر بھی تم نے ان سے منگنی سے انکار کیوں نہیں کیا؟"
سیف سے منگنی کے ان 3 سالوں میں نشاء نے کوئی 30 ہزار بار یہ بات کہی تھی۔
"یہ پاپا کی خواہش تھی نشاء ۔ اب اس بات کو بار بار دہرانے سے کیا حاصل؟ اور پھر میں انکار کس کے لیے کرتی ؟"
جواباً نشاء خاموش رہی تو وہ گیٹ کھول کر باہر نکل آئی۔
" اس کے لیے کر دیتی انکار." پیچھے سے بہت آہستہ سے نشاء نے کہا۔ اس کے قدم ایک لمحے کو زنجیر ہوئے۔
"تمہیں وہ احمقانہ بات ابھی تک یاد ہے؟" وہ اداسی سے مسکرائی اور. سر جھٹکتے ہوئے اپنے بنگلے کے گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔
وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو پھپھو اور ندا آپا ایک ہی صوفے پر بیٹھے سر جوڑے سرگوشی کے انداز میں کوئی بات کر رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر فوراً سیدھی ہو گئیں۔


"تم کدھر گئیں تھیں؟" ندا آپا اور پھپھو نے اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ کچن کے پچھلے دروازے سے باہر گئی تھی۔
"وہ نشاء کی طرف گئی تھی۔ اس کے کچھ برتن رکھے تھے۔" اس نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ برتنوں میں بیف چلی تھا۔
"سنو پری! یہ زیادہ میل جول نہ رکھا کرو ان لوگوں سے۔ برا مت ماننا مگر تمہارے ماموں کی لڑکی بڑی چلتر ہے۔ماں بھی ایسی ہی ہے اس کی۔ دیکھنے سے ان سے معصوم کوئی نہیں لگتا جبکہ اندر سے پوری ہیں"
" اور وہ نشاء تو جب بھی بات ہو سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی۔"
نشاء اور ممانی کے متعلق تو ایسی گفتگو وہ کبھی نہیں سنتی، آگر وہ اس کے سسرال والے نہیں ہوتے۔
" جی، میں ذرا چائے لے آؤں۔" وہ آہستگی سے کہہ کر کچن میں چلی گئی۔ وحید (ملازم) ٹرالی سیٹ کر رہا تھا، وہ ٹرالی کو دیکھتی رہی۔ اس کے ذہن میں خیالات کا ہجوم تھا۔
وہ جانتی تھی کہ پھپھو نشاء اور ممانی کے متعلق ایسی گفتگو کیوں کرتی ہیں؟ انہیں ڈر تھا کہ کہیں ماموں اور ممانی، جہانزیب صاحب پر دباؤ ڈال کر سیف اور پریشے کی منگنی ختم ہی نہیں کروا دیں۔ اس کے خیال میں یہ ناممکن تھا کیونکہ اول تو ماموں اور ممانی اس کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تھے اور اگر دیتے بھی تو صرف اس کے کہنے پر۔ اس کی مرضی کے خلاف وہ جہانزیب صاحب سے کوئی بات نہیں کرتے اور اگر اس معاملے میں بولنے کا حق اگر اس نے ماموں اور ممانی کو دینا ہوتا تو تین برس پہلے ہی دے چکی ہوتی۔
پھپھو کو نشاء سے دوسرا خوف یہ تھا کہ کہیں نشاء پری کو ان کے خلاف بھڑکایا نہ دے۔ کیونکہ نشاء اور ممانی خاصی صاف گو واقع ہوئی تھیں۔ بقول پھپھو کے منہ پھٹ، بد لحاظ ، اور بد تمیز حالاں کہ پری کا خیال تھا کہ جتنی سویٹ اور کئیرنگ ممانی تھیں۔ اور جس طرح اس کی ماں کی وفات کے بعد انہوں نے اس کا خیال رکھا تھا، کوئی سگی خالہ بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔
"باجی! یہ لے جائیں" وحید کی شرمیلی آواز اس کو خیالات کے بھنور سے باہر نکال لائی۔ اس نے قدرے چونک کر اسے دیکھا اور سر جھٹکتے ہوئے ٹرالی تھام لی۔


اے ہے پری بیٹا یہ کیا لڑکوں کی طرح جوگرز پہنے پھرتی ہو کوئی سینڈل یا ہیل والی جوتی پہنا کرو" چائے کے ساتھ دیگر لوازمات بھرتے ہوئے پھپو نے ہر دفعہ کی طرح اسکے جوگرز پر اعتراض کیا۔
"اور کیا وہ پرپل والی سینڈل ہی پہن لیتی جو تمہیں سیف بھائی نے لے کر دی تھی" ندا آپا اپنے بچوں کو کیک کہلاتے ہوئے بولی اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ سیف کی پسند اس سے بہت مختلف تھی۔وہ شوخ کلر اور ظاہری چمک دھمک کو دیکھتا تھا ،جبکہ وہ سوفٹ کلرز اور کوالٹی کو ترجیح دیتی تھی۔
"جی بہتر"  وہ سر جھکاتے ہوئے انکے سامنے بیٹھ گئی اسے علم تھا کہ وہ دونوں جب تک بیٹھی رہیں گی انکے اعتراضات ختم نہیں ہوں گے۔
آٹھ بجے تک جہاںزیب صاحب بھی آگئے وہ ہمیشہ کی طرح ان لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے،روشان اور سنی کو خوب پیار کیا کہ انکی زندگی میں ساری رونق انہی لوگوں سے تھی۔  انکے سامنے انکی ٹون بدل جایا کرتی تھی۔
"پری وحید سے کہہ کر اچھا سا کھانا بنوانا،کڑاہی، بریانی کچھ اور بھی ایڈ کر لینا۔ " انہوں نے آہستہ سے پریشے کو ہدایت دی۔ اسکا دل چاہا کہہ دے کہ" پاپا یہ لوگ روز تو یہاں کھنا کھاتے ہے پھر ہر روز کا اتنا اہتمام کیوں؟"
مگر وہ جانتی تھی پاپا ان لوگوں کو کتنا عزیز رکھتے ہیں سو وہ انہیں باتیں کرتا چھڑ کر خود کچن میں آگئی۔
پھپو کی فیملی ہر دوسری شام یہی ہوتی تھی اور اسے کبھی اتنی کوفت نہیں ہوتی تھی جتنی آج اسے ہو رہی تھی شائد اس لئے کہ آج نشاء نے اسے برسوں پرانی ایک بھولی بسری بات یاددلا دی تھی۔
 پرانی یادیں، ٹوٹے خواب بکھرے سپنے ہر انسان کو تھکا دیتے ہیں اس پر بھی عجیب سی تھکن اور بےزاری سوار ہو رہی تھی۔
  "مامامیں یہ کھا لوں" نو سالہ روشان نے فریج کھول کر اس میں سے پینٹ بٹر کا جار نکال کر دور سےماں کو آواز دی۔
"ہاں بیٹا کھا لو تمہارے نانا کا گھر ہے۔" ندا آپا نے لاپروائی سے کہا اور وہ جس نے ملائشین چکن بنانے کے لئے اتنا بڑا جار منگوایا تھا بے بسی سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔

سنی پورے گھر میں دوڑ رہا تھا -اسے کوفت ہو رہی تھی مگر وہ خاموش رہی- پھر چند منٹ بعد جب وہ چاولوں کو دم دے رہی تھی اسے بلی کی وحشیانہ میاؤں میاؤں کی آواز آئی -
یا اللہ ! اس نے گھبرا کر کفگیر میز پر رکھا اور بھاگتی ہوئی کچن سے باہر نکلی باہر زمین پر اسکی پالتو بلی کو روشان نے پکڑ رکھا تھا اور سنی اسکی دم کو ماچس کی تیلی سے آگ لگا رہا تھا- بلی تڑپتی ہوئی چیخ رہی تھی ۔
ہٹو تم دونوں- اسے نے زور سے سنی کے ماچس والے ہاتھ پر تھپڑ مارا؛ بلی کو روشان سے کھینچا اور ماچس کی ڈبی اٹھا کر اپنے قبضے میں کر لی ۔  یہ کیا کر رہے تھے تم لوگ۔
آپکو کیا مسئلہ ہے جو بھی کر رہے تھے ۔ ہماری مرضی ۔ ہمارے نانا کا گھر۔ آپ کون ہوتی ہیں پوچھنے والی ۔؟ سنی کو تھپڑ لگا تھا؛  جس کا جواب اس نے بے حد بد تمیزی سے دیا ۔
پورے دن کی کوفت ، بے زاری ، نشاء کی آخری بات  ، پھپھو اور ندا آپا کے طنز اور طعنے  ، ان دونوں کی بد  تمیزیاں اس نے سب کچھ برداشت کر لیا تھا مگر سنی کی بد تمیزی پر اسکی برداشت جواب دے گئی تھی اس نے رکھ کر دو تھپڑ سنی اور دو روشان کو لگائے ۔
دفع ہو جاؤ ادھر سے تم دونوں ۔ درد سے چلاتی ہوئی بلی کو اپنی آغوش میں سہلاتے ہوئے اس نے غصے سے کہا اور واپس کچن میں آ گئی ۔
دونوں حلق پھاڑ کر روتے ہوئے ندا آپا کے پاس چلے گئے ۔ عین اس وقت سیف بھی آ گیا ۔ وہ آفس سے سیدھا  ادھر ہی آیا تھا اسکا کوٹ اسکے ہاتھ میں تھا ۔  گھر اس لئیے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے علم تھا کہ گھر میں کھانا نہیں بنا ہو گا ۔
کیا ہوا ہے؟ کس نے مارا ہے؟  ندا آپا نے ان دونوں کو روتے دیکھ کر آسمان سر پر اٹھا لیا ۔
وہ تمام ڈرامے کی آوازیں  کچن میں بخوبی سن سکتی تھی ۔ اسکی کوفت میں  اضافہ ہو رہا تھا ۔
پری آپا نے مارا ہے ۔ بال بھی کھینچے اور منہ  پر تھپڑ بھی مارا ہے ۔  روشان چلاتے ہوئے بتا رہا تھا ۔وہ تیزی سے کچن سے نکلی ،بلی اسکی آغوش سے چھلانگ لگا کر کودی اور  بھاگتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی ۔وہ انسانوں سے بہت ڈر گئی تھی ۔
ہائے اللہ! پری تم نے میرے معصوم بچوں کو کیوں پیٹ ڈالا؟

 ماموں! میں نے تو کبھی انہیں زور سے جھڑکا تک نہیں ہے ۔ ندا آپا اسکو دیکھتے ہی اونچی آواز میں رونے لگی ۔ ہائے میرے معصوم بچے ۔
یہ دونوں اس بلی کو آگ لگا رہے تھے ۔ میں نے روکا تو سنی نے مجھ سے بد تمیزی کی ۔ میں نے صرف تھپڑ مارا تھا بال نہیں نوچے تھے ۔ کسی مجرم کی طرح کھڑی وہ صفائیاں دے رہی تھی ۔
لو! اتنے چھوٹے بچے بلی کو آگ لگا سکتے ہیں ؟ انہیں تو ماچس جلانا بھی نہیں آتی ۔ پھپھو چمک کر بولی ۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی پھپھو ۔ یہ دونوں اس بلی کو اذیت دے رہے تھے ۔
تمہیں اپنے بھانجوں سے زیادہ کسی جانور سے پیار ہے۔؟  یہ بچے ہیں،کچھ کر بھی دیا تو آرام سے بھی ٹوکا جا سکتا ہے پری! اب کے سیف بولا تھا ۔ سیف اسکی حمایت تو کیا کرتا اس نے اس کا یقین نہیں کیا کہ اس نے روشان اور سنی کے بال نہیں نوچے تھے ۔
اچھا پری! اب سوری کر لو ان دونوں سے۔
یہ پاپا تھے ۔
اس نے بے حد شاکی نظروں سے انہیں دیکھا۔ اسکی بات کا کسی کو یقین نہیں تھا۔
پاپا میں بڑی ہوں میں نے کچھ کہہ بھی دیا تو۔  آپ اس طرح کیوں ری ایکٹ کر رہے ہیں؟
پری ! تم ندا آپا اور بچوں سے سوری کرو۔ دیکھو آپا ابھی تک تو رہی ہیں ۔سیف نے بہت سنجیدگی اور خفگی سے اسے مخاطب کیا ۔
اس کا دل چاہا کہ وہ زمین پر بیٹھ کر رونا شروع کر دے مگر اسے ضبط کرنا تھا ۔ خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا تھا۔
میری کوئی غلطی نہیں تھی پھر بھی ندا آپا سوری۔؛
ندا آپا نے منہ پھیر لیا ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ ابھی تک خفا ہیں ۔
میں کھانا لگواتی ہوں ۔ وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی وحید کو کھانا لگانے کا کہا اور خود کچن میں بیٹھی رہی ۔  جب تک وہ لوگ چلے نہیں گئے ۔ وہ باہر نکلی ۔ اسے اپنی بے عزتی پر شکوہ ان لوگوں سے نہیں پاپا سے تھا ۔ پتا نہیں پھپھو نے پاپا کو کیا گھول کر پلا دیا تھا ۔ وہ کبھی بھی انکے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔
کیا میں اپنی  پوری زندگی ان لوگوں کے درمیان میں گزار سکتی ہوں؟ ۔اف!۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتنا کٹھن ہو۔
گا! یہ تکلف دہ خیال اسکے ذہن میں چکرا رہا تھا۔
”کدہر گم ہو؟ “نشاء نے کچن کے دروازے میں سے سر نکال کر جھانکاتو وہ چونکی پھر زبردستی مسکرا دی۔”میں تو یہیں ہوں۔تم کہو میرے کپڑے لے آئی ہو؟“
ہاں، تمہارے کمرے میں رکھ دئے ہیں۔مہمان چلے گئےتمھارے؟ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔پریشے کھڑی ہوگئ۔
”ہاں چلے گئے، آؤ باہر بیٹھتے ہیں۔“نشاء کو دیکھ کر اس کا ڈپریشن قدرے کم ہوا تھا۔وہ دونوں ان کپڑوں کے متعلق باتیں کرتی لاؤنج میں آئیں تو جہاں زیب صاحب کو وہیں بیٹھے پایا۔
”انکل! امی کہہ رہی تھیں کہ سیف بہائی کی امی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے آنے والی ہیں، کب تک آئیں گی؟“ نشاء کی ان سے بہت بے تکلفی تھی اور وہ تھی بھی بہت بولڈ۔........ہر بات بلا جھجک پوچھ لیا کرتی تھی۔اسے معلوم تھا کہ آج پھپھو اسی لئے آئیں تھیں،پھر بھی اس نے پوچھا۔
پریشے کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
       ”بیٹا! ڈیٹ تو تقریباً فکس ہو گئی ہے۔عید نومبر کے پہلے ہفتے میں آرہی ہے تو ہم یہ سوچ رہے تھے کہ عید کے تیسرے دن مہندی رکھ لیں گے۔“وہ خوش دلی سے بتارہے تھے۔اس کو اپنی گردن کے گرد پھندا تنگ ہوتا محسوس ہو رہا تھا، ایک دم کمرے میں گھٹن اتنی بڑھ گئی کہ اس کا سانس رکنے لگا۔
     ”نشاء!“اچانک اسے کچھ یاد آیا۔”حسیب اور اسکے دوست ہنزہ جا رہے ہیں نہ؟تم نے آج کچھ بتایا تھا؟“
”ہاں وہ راکاپوشی بیس کیمپ کا ٹریک کر رہے ہیں۔“
”کون کہاں جا رہا ہے؟ “ان کی سرگوشیاں وہ ٹھیک سے سن نہیں سکے تھے۔
”پاپا! وہ......... نشاء کے ایک کزن کی اپنی ٹور کمپنی ہے مری میں، نشاء نے ان سے نادرن ایریا کے ٹورز کا پتا کیا تھا۔وہ کہہ رہے تھے کے جلد ہی انکا کوئی ٹور جائے گا نادرن ایریاز۔تو پاپا!میں نشاء کے ساتھ چلی جاؤں؟بس تین چار دن کے لئے؟ “
”مگر ندا تو ہفتہ بھر کے لئے میکے تمہاری وجہ سے آئی ہے۔اسکی نند کا کوئی مسئلہ تھا تو اسکی ساس اور شوہر چند دنوں کے لئے سیالکوٹ گئے ہیں۔وہ اگلا پورا ہفتہ ارھر آگئی کہ تمہارے ساتھ مل کر شادی کی شاپنگ کر لےگی۔“
وہ سوچ رہی تھی کہ چند دنوں تک کسی دور دراز پُرفضا مقام پر چلی جائے، مگر جیسے ہی پاپا نے ندا آپا کی ایک ہفتے کی چھٹی کا بتایا، اس نے پکا ارادہ کر لیا کہ وہ جلد ہی اسلام آباد سے پورے ہفتے کے لئے غائب ہو جائے گی۔وہ کسی کے ساتھ بھی شاپنگ کرسکتی تھی مگر ندا آپا کے ساتھ نہیں۔
”آ.........اچھامگر کس جگہ جانا چاھتی ہو تم؟“وہ نیم رضامند تھے۔وہ جواباً کہنا چاہتی تھی کہ ہنزہ، گلگت، اسکردو، مگر اسے معلوم تھا کہ ان علاقوں کا نام سن کر پاپا سختی سے انکار کریں گے۔
        ”پشاور، سوات، کالام..........اسی سائیڈ جائیں گے۔“اس نے سوات کا ذکر اسلئے کیا کہ وہاں کوئی ڈھائی ہزار فٹ بلند پہاڑ نہ تھا اور یہ سب سے بڑی وجہ تھی کہ پاپا نے اگلے ہی لمحےاسے اجازت دے دی۔
اس نے بے اختیار ایک چور نگاہ اپنے بائیں کندھے پر ڈالی۔صرف اس کندھے کی وجہ سے وہ سکردو سائیڈ پر ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر نہیں جا سکتی تھی۔
.......جہانزیب صاحب اٹھ کر اندر چلے گئے تو نشاء تیزی سے اسکی طرف مڑی،”میں نے کب پتہ کیا تھا زوار بھائی کی ٹور کمپنی سے؟“
       ”نہیں کیا تو اب کر لینا۔“اس نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔ندا آپا کی مع فیملی آمد کے باعث چند لمحے پہلے تک اس کے سر میں جو درد کی ٹیس اٹھ رہی تھی۔وہ اب غائب ہو چکی تھیں۔
       ”تم اسلام آباد کی کسی ٹور کمپنی کا نام نہیں لے سکتی تھیں؟ “اب خواہ مخواہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے مری جانا پڑے گا اور اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہو رہا ہے سیر سپاٹے کا،تو حسیب اود اسکے فرینڈز کے ساتھ راکا پوشی چلے جاتے ہیں۔
      ”جسکی اجازت پاپا مجھے کبھی نہیں دیں گے اور حسیب کے دوست؟“ اس کی نگاہوں کے سامنے شام والا وہ لڑکا آگیا جس نے اسے دیکھ کر بے اختیار سیٹی بجائی تھی۔ اس نے تنفر سے سر جھٹکا۔”میں حسیب کے دوستوں کاسر پھاڑ سکتی ہوں، ان کے ساتھ چار دن پیدل راکا پوشی کا ٹریک نہیں کر سکتی۔“اس کو وہ لڑکا بہت ہی برا لگا تھا، نشاء خاموش ہو گئی۔
    نشاء کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی۔اس کے کمرے کی ترتیب ایسی تھی کہ

دروازا کھلتے ہی سامنے پلنگ نظر اتا تھا جسکے سرہانے دیوار پر "تومازہیومر" کا بہت بڑا چسپاں تھا ۔ کمرے کی باقی تین دیواروں میں سے دو پر "میمیز" اور چند جاپانی کوہ پیماوں کے آویزاں تھے ۔ان تصویروں کو دیکھتے ہی ایک اداس مسکان نے اس کے لبوں کا احتاط کر لیا _
. . . . . . . . . . . . . . . . . . .  💚💛💜. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے جہاں زیب ، جس کے نام کا آخری حصہ شے ہٹا کر سب اسے پری  کہا کرتے تھے ۔ بچپن سے ہی ایک آئیڈیلسٹ تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھی، جن کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا ،جنہیں چیلنجز کا سامنا کرنے میں مزا آتا ہے ۔ سیف سے منگنی سے پہلے تک وہ واقعی  پر جوش تھی ،مگر ان چار برسوں میں بہت کچھ بدلا تھا۔ 
اس کو بچپن سے پہاڑ سر کرنے کا بہت شوق تھا ۔ وو اپنے پاپا اور  مما کی اکلوتی  اولاد ہونے کے باعث خاصی لاڈلی تھی ۔ ان کے لاڈ پیار نے اسکو بگاڑا نہیں بلکے بہت بہادر مضبوط اور پراعتماد بنا دیا تھا ۔ اس کو مما کو اس کا کوہ پیمائی کا شوق بہت عزیز تھا اور یہ سب سے بڑی  واجہ تھی جس کے باعث مما اس کو 1995ء میں اپنے ساتھ انگلینڈ لے گئی تھیں ۔پاپا ن اس کی وجہ سے اپنے بزنس بھی ادھر ہی منتقل کردیا تھا ۔مگر وو لندن میں ہوتے تھے اور مما اور پریشے لیک ڈسٹرکٹ میں ۔
وہ چار برس لیک ڈسٹرکٹ میں رہی ، وہا اس نے بہت کچھ سیکھا ۔ اس دوران وو صرف ایک دافع پاکستان آئی تھی وو بھی سردیون کی چوتھیوں میں گرمیوں کی چوٹیاں وو کہا گزرتی تھا وہ  ایک تین ایج سیکرٹ تھا ،جس کی بہنک اگر پاپا کو پڑ جاتی تو وہ بہت خفا ہوتے (البتہ مما جانتی تھئیں ) دونو بار اسے اپنے سے آٹھ نو سال بڑا سیف الملوک بہت برا لگا تھا ۔ وہ اس سے بہت لاڈاٹھواتا تھا اور اس کو بڑی  عجیب نگاہہوں تکتا تھا ، اسے اس کی نگہاہیں اچھی لگتی تھی نا باتیں ۔اس نے ایک دو ایک دافع پریشے سے جب یہ کہا "تم بہت خوبصورت ہو " تو اس ن سیف کو بری طرح جھڑک دیا تھا۔
چھے سال پہلے زندگی کسی حد تک بدل گے ۔ جب مما کی وفات ہوگئ اور پھپھو کے بے حد اصرار پر پاپا اسے اسلام آباد لے اے ۔تب پہلی دافع اسے احساس ہوا تھا کے ۔۔۔ ماں اس کی کسی بڑی مضبوط ڈھال تھی جس کے نہ ہونے سے پاپا پر اور لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بزنس پڑھنا چاہتی تھی مگر پھپھو نہ پاپا کو مجبور کیا ک وہ پریشے کو ڈاکٹر بنایں ۔ یوں اسکا ایک سال ضائع ہوگیا ۔مگر وو میڈیکل میں پہنچ ہی گئ ۔
پھر 2001ء کے جولائی میں کچھ ایسا ہوا کے اس کا کوہ پیمائی کا کیرئیر ختم ہوگیا ۔ سپانتک کے ناکبل فراموش حادثے کے بعد پاپا نے اس کی کوہ پیمائی پر پابندی لگا دی ،تو اس نے خاموشی سے ان کا۔ فیصلہ مان لیا ۔اگلے سال پاپا نے اسے بتایا کے انہونے اس کا رشتہ سیف سے طے کردیا ہے ۔ " اسے کوئی اعترض تو نہیں " تب بھی اسنے خاموشی سے سر جھکا دیا ، ہاں تب اسنے ایک دافع اسکے �

اسنے ایک دافع اسکے متعلق ضرور سوچا تھا ، جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔
لیک ڈسٹرکٹ جانے سے پہلے وو ایک خوابوں میں رہنے والی کم عمر ،لاپروہ سی لڑکی تھی ،جس کے "آئیڈیلزم"نے اسے ایک زندگی بھر پھانس کی طرح چھبنے والا خواب دیا تھا ۔
اس اجنبی کا خواب ،جس کا انتظار ہر لڑکی کرتی ہے ۔
اس نے برسوں پہلے نشاء کو بتایا تھا۔  " تمہیں یاد ہے ،ہم فیری ٹیلز میں پرستان کی ایک پری کا قصہ پڑھا کرتے تھے جس کو ظالم دیو نے قید کر رکھا تھا اور پھر اس کی رہائی کے لیے ایک شیزدہ آیا تھا ۔
سفید گھوڑے پر سوار بھورے بالوں اور شہد رنگ آنکھوں والا گھوڑے سوار ،وہ دیس دیس کی خاک چھانتا ،
پرستان کی خوبصورت وادییوں کے قصے سن کے کر اس طرف آ نکلا تھا ۔ پری کی قید کا سنا تو وہ بہادر شہزادہ اسے ظالم دیو کی قید سے چھڑا کر خوبصورت وادییوں ،چشموں  اور پہاڑوں میں اپنے ہمراہ لے گیا اور پھر دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے "اس نے ایک گہری سانس بھر کر نشاء کو دیکھا تھا ۔ "کاش میرے لیے بھی ایک ایسا ہی شخص اے ،شہزادون کی سی آن بان رکھنے والا ،بہادر مضبوط ،جو ظاہریت کے پجاریوں جیسا نا ہو ،۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی کچی عمر کا سپنا نہیں تھا ،ایک امید تھی ،ایک وجدآن تھا کے کوئی ہے ،جسے اس کے لیے تخلیق کیا گیا ہے ۔ وہی جو دیس دیس کی خاک چھانتا کسی اور اس کے پریستان میں آ نکلے گا ، جس کو دیکھ کر اس کا دل کہے گا کے ہاں ، ظالم دیو کی قید میں موجود اس پری نے صدیوں اسی کا تو انتظار کیا تھا۔ ۔۔۔
ہاں یہی تو ہے جس سے اس نے روح سے وجود میں انے سے قبل عشق کیا تھا ، جو اس کی ذات کا ٹوٹ کر بکہرنے والا ایک گم شدہ حصہ تھا۔ ۔

اور ہاں وہ یہ بھی تو کہتی تھی کہ " اگر میں پریوں کی ہی طرح حسین ہوں ، تو یونھی کسی سے شادی نھی کروگی بلکہ وہ جیسے پریاں اور شہزادیاں شرائط رکھا کرتی تھی ناں ،سات سوالوں کی شرط سامری جادوگر کے منکے کی شرط ،ویسی ہی شرط رکھوگی " تو نشاء نے بحد تجسس سے پوچھا تھا کہ "کیسی شرط ؟ تب وہ  کھلکھلا کر بولی تھی" میں صرف اس کا ہاتھ تھاموں گی ،جو میرے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت پہاڑ ، راکا پوشی سر کریگا "،
کتنے ہی برس گزرتے گے , وہ خوابوں کا شہزادہ نہ آیا ، یہا تک کہ وہ تمام خواب پریشے کو بچکانے اور اھمقانہ لگنے لگے اور وہ اب نشاء کے ساتھ ان پر خوب ہنستی تھی پھر سیف سے منگنی کے بعد اس نے ہنسنا بھی چھوڑ دیا ۔
آج اتنے عرصے بعد نشاء نے اسے وہ بات یاد دلا دی تھی وہ اھمقا نہ اور بچکانہ بات۔
ہاں وہ بچکانے خواب ہی تو تھے !  اب پریشے جہانزیب کی سمجھ میں اگیا تھا کہ وہ کوئی پری نھین ۔ وہ خوبصورت سہی ، مگر ایک عام سی لڑکی ہے اور عام
سی لڑکیوں ک لیے شہزادے نہیں آیا کرتے

ہفتہ 23 جولائی 2005ء
چودہ ہزار فی کس کا پیکج ہے ۔ آٹھ دن کا ٹور ،تمام انتظامات کمیٹی کے زمے ۔۔۔۔ واو یار زبردست " زوار بھائی کے آفس سے نکلتے ہوئے نشاء بہت خوش تھی
۔"لگتا ہے بارش ہونے والی ہے " سڑک کنارے بہت آہستہ چلتے ہوئے پریشے نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ۔ وہ  دن کے تین بجے کا عمل تھا مگر سیاہ بادلوں سے دھکے آسمان نے جولائی کی دوپہر کو ٹھنڈی شام میں تبدیل کردیا تھا ۔وہ ورکنگ ڈے تھا ،شاید اسی لیے سڑک پر رش نا ہونے کے برابر تھا ، ورنہ مری جیسے گنجان  ) علاقے میں سڑک پر ادھر ادھر بس اکا دکا لوگوں کا پھر نا خاصی غیر معمولی بات تھی ۔
پریشے اور نشاء باتیں کرتے ہوئے ۔آہستہ آہستہ بلند ہوتی سڑک پر چل رہی تھییں وہ جس جگہ پر تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💜💛27💜💛💚💙۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں نشیب تھا ،سڑک ان کے سامنے اوپر بلند ہوتی ہوئی اس حد تک چلی جاتی تھی کے دوسری سمت سے انے والی کا پہلے سر اور پھر آہستہ آہستہ دھڑ نمایاں ہوتا تھا ۔ وہ دراصل کسی پہاڑی کی چوٹی تھی جس کو کاٹ کر سڑک بنا دی گئی تھی۔

سڑک کی دائیں جانب کھائی تھی جس سے بچنے کے لیے پتھروں کے چھوٹے چھوٹے تکڑوں کی ایک باڑ سی بنی تھی ، وہ دونوں ان سفید بلاکس کے ساتھ چل رہی تھیں ۔
" تھک گئی ہو " نشاء نے اسے چونے سے ڈھکے پتھر کے اس سفید بلاک پر کھائی کی جانب پشت کر کے بیٹھتے دیکھا تو پوچھ لیا ۔
"نہیں ••••••بس یونہی "وہ گہٹنوں پر کہنیاں نکاے، ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی جماےء بلند ہوتی سڑک کو گردن اونچی کرکے بہت اداسی سے دیکھنے لگی ۔ بارش سے چند لمہے پہلے کا موسم اسے ہمیشہ افسردہ کردیا کرتا تھا۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کہیں اور بیٹھ جاو پری ! یہاں سے زرا پیچہےہوئی تو گر پڑوگی " نشاء نے بہت فکرمندی سے اسے یوں اتنی خطرناک جگہ پر بیٹھے دیکھ کر کہا تھا ۔ اس کا ہلکا گلابی اور سفید امتزاج والا لان کا سوٹ سفید پتھر کے بلاک کا حصہ لگ رہا تھا۔
"نہیں گرتی" وہ لاپروائی سے گردن موڑ کر پیچہے دکہائی دینے والی سر سبز پہاڑیاں دیکہنے لگی ۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر اس روز بادل اترے ہوے تھے۔ پانی سے لدے بھاری ، سرمئ بادلوں نہ پھر یکا یک انہوں نے اپنا بوجھہ بارش کہ قطروں کی صورت نیچے گرانا شروع
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کردیا ۔پریشے نے بے اختیار اپنی دونوں بانہیں سامنے پہیلادیں ، بارش کے ننھے ننھے قطرے اس کی ہتہلیاں بہگونے لگے تھے ۔ اسی لمہے اس کی سماعتوں میں کسی گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز گونجی ۔
اس نے ہتھلیاں نیچے گرادیں اور کسی خواب کی سی کیفیت میں سر اٹھا کر بلند ہوتی سڑک کو دیکھا ۔ اس بلندی سے پیچھے کا منظر اس کی نگاہوں سے اوجھل تھا ۔ ٹاپوں کی آواز وہیں سے آرہی تھی ۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ یک ٹک بلندی کی جانب جاتی سڑک کو دیکھے گئی ، پہاڑی کی دوسری جانب سے کوئی گھوڑا دوڑاتا ہوا اس طرف آرہا تھا۔ ہر گزرتے لمہے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز بلند ہوتی جارہی تھی ۔ اسے لگا وہ سڑک  کے بلند حصے سے نگہاہیں ہٹا نہیں سکے گی ، وقت جیسے وہیں ٹہر سا گیا تھا۔ لمہے تھم گئے تھے ۔ بارش کے قطرے فضا میں رک گئے تھے ۔ ہر طرف خاموشی تھی۔



آنے والے کا سر پہلے نمایاں ہوا تھا ،وہ گھوڑے کی باگ تھامے اسے بہت مہارت سے سڑک پر دوراتا نشیب کی سمت آرہا تھا۔ اس کا گھوڑا سفید تھا ، چونے کے پتھر
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کے بلاکس سے بھی زتیادہ سفید اور چمک دار ۔۔۔ وہ اسی طرف آرہا تھا۔ اس کی نظریں اپنے گہوڑے پر تھیں ۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھے گئی۔
اتنی دور سے بھی وہ دیکھ سکتی تھی کہ گھوڑے سوار کی آنکہوں کا رنگ ہلکا تھا، ہلکا اور بہت چمکدار۔ اس کی رنگت سنہری مائل سرخ و سفید تھی ، ناک
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کھڑی اور یونانی طرز کی تھی۔ مغرور بحد مغرور ناک۔
اس نے آدھی آستینوں والی نیلی شرٹ کے اوپر بغیر بازوں والی سفید لیدر جیکٹ، جس کی بہت ساری جیبیں تھیں ، پہن رکھی تھی۔ گردن کے گرد خوبصورت سرخ رنگ کا مفلر بندھا تھا ۔ جیکٹ اور مفلر ہلکے میٹریل کے تھے ؛ جن کا مقصد سردی سے بچاو نہیں
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) بلکے یونہی فیشن اور سٹائل تھا ۔ برستی بارش میں اس کے بھورے بال ماتھے پر چپکے ہوئے تھے مگر وہ جیسے ہر چیز سے بے نیاز اپنے سفید گھوڑے کی جانب متوجہ تھا۔
اس نے اپنا گھوڑا ان دونوں کے قریب سفید بلاکس کے ساتھہ روک دیا اور گردن ترچھی کر کے عقب میں موجود پہاڑیوں کو دیکہنے لگا۔ وہ پیچھے والے منظر سے جیسے غیر مطمئن سا تھا۔ سسے شاید گھوڑا کہڑا (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کرنے کی کوئی صحیح جگہ نہیں مل رہی تھی ۔
بارش رک چکی تھی ہوا پھر سے چلنے لگی تھی۔ پری کے گیلے بال اس کے چہرے کو چھو رے تھے۔ مگر وہ تو اس شخص سے نگاہیں ہٹا ہی نہیں پا رہی تھی
وہ اب ایک جگہ گھوڑا کھڑا کرکے مطمئن سا ہوگیا تھا۔ تب ہی گردن میں لٹکتے کور سے کیمرہ باہر نکالا اور چہرے کا رخ ان دونوں کی جانب کیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
" بات سنو! " اس نے پریشے کو براہ راست مخاطب کیا تھا ۔ اس پل جیسے کوہی طلسم سا ٹوٹا۔ سہر خواب خیال سب کچھہ ختم ہوگیا تھا۔وہ جیسے اب ہوش میں آئی اور چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
"جی" اس نے اپنے ازلی پر اعتماد انداز میں سنجیدگی سے جواب دیا۔ اسے خود پر حیرت ہوئی تھی کہ وہ اتنی بے خود اور مسھور کیوں ہوگئی تھی؟ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
گھوڑے سوار نے اپنا کیمرہ اس کی جانب بڑھایا۔ " کیا تم میری ایک تصویر اتار سکتی ہو" وہ شستہ انگریزی میں اس سے مخاطب تھا۔اس کا سر خود بخود اثبات میں ہل گیا۔ اس نے کیمرہ تھام لیا۔
" سنو پکچر یوں کیھنچنا کہ یے گھوڑا اور پیچھے والے پہاڑ اچھی طرح آئیں" وہ جو اتنی دیر سے


غالبا اس تصویر کے لیے ہی گھوڑا مناسب جگہ پر کھڑا کر رہا تھا،اب بہت مہزب انداز میں ہدایت دیتے ہوئے بولا۔
اس نے کیمرے کو دیکہا، بلکل ویسا ہی اولمپکس کا ڈیجیٹل کیمرہ وہ بھی استعمال کرتی تھی اس نے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کیمرہ چہرے کے سامنے لا کر اس کی ایل ای ڈی اسکرین کو دیکھا اور پھر ریڈی کہے بغیر تصویر کھینچ لی۔صد
" تمہارا شکریہ۔مگر کیا یہ پہاڑ ائے تھے؟،بغیر ریڈی کہے تصویر کہینچنے پر اس اجنبی گھوڑے سوار کو قدرے بے چینی ہوئی تھی"،اس نے ایک نظر اس کی شہد رنگ آنکہوں میں دیکہا اور پہر سر ہلا دیا ۔ " ہاں بہت (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) خوبصورت تصویر آئی ہے "،نشاء نے پریشے کے ہاتھہ میں کیمرے کی اسکرین پر موجود تصویر کو دیکہ کر کہا تو اسے خیال آیا کہ نشاء بھی وہاں موجود تھی۔
"ویسے یے تمہارا گھوڑا ہے"؟ نشاء نے ہی اگلی بات کی۔
"نہیں یے میں نے کرائے پر ایک آدمی سے لیا ہے۔ اصولا۔ اسے گھوڑے کی باگ تھامے میرے ہمراہ چلنا چاہیے تھا، مگر میں اس کو بھگا کر یہاں لے آیا " وہ شکل سے بہت مغرور لگتا تھا اس وقت بہت بے تکلفی کے ساتھہ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) انگریزی میں بات کر رہا تھا۔
انگریزی؟ پری نے غور سے اسے دیکہا۔ وہ انگریزی کیوں بول رہا تھا؟ اسے غورسے دیکہنے پر احساس ہوا کہ گھوڑے پر سوار وہ بھورے بالوں اور گوری رنگت واکا خوبصورت مرد پاکستانی نہیں، کوئی غیر ملکی تھا۔ وہ اس کی شناخت کے متعلق صہیح اندازا نہیں کر سکی تھی۔
"تم دونوں ایک منٹ ٹھرو،میں اس آدمی کو اس کا گھوڑا واپس کر آوں "اس نے پہر مہارت سے گھوڑا موڑا اور اس ے بلند ہوتی سڑک کی طرف بھگا کر کے گیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کتنا گڈ لکنگ تھا یار" نشاء اس خے جاتے ہی بے حد ستائشی انداز میں بولی۔ "پتا نہیں" وہ سر جھٹک کر دائیں جانب کھڑے اونچے پہاڑوں کو دیکہنے لگی۔ بادل غائب ہورے تھے۔۔
"اوہ نشاء !وہ اپنا کیمرہ مجھے دے گیا ہے" ایک دم اسے ہاتھہ میں پکڑے کیمرے کا خیال آیا ،وہ پریشان سی ہوگئی۔
"واپس آئے تو دے دینا"
حالاں کہ وہ اس کے واپس آنے سے پہلے پہلے نکلنا (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) چاہتی تھی، مگر ہاتھ میں پکڑا کیمرہ


اس کا انتظار کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
چند منٹ بعد ہی وہ انہیں بل کھاتی سڑک پر سے نیچے اترتے ہوئے اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ گھاڑے پر سوار ہونے کی وجہ سے اس کا قد کاٹھہ انہیں ٹھیک سے نظر نہیں آیا تھا مگر جیسے ہی وہ ان کے قریب آیا، اسے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) احساس ہوا کہ وہ اس سے خاصا لمبا تھا۔
"وہ سمجھہ رہا تھا، میں اس کا گھوڑا لے کر بھاگ لیا ہوں۔
ان کے قریب آکر وہ ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔
ہنستے ہوئے اس کی شہد رنگ آنکہیں چھوٹی ہو جا تی تھیں ۔ وہ اندازا نہ کر سکی کہ وہ ہنستے ہوئے زیادہ پر کشش لگتا ہے یا لب بھنچے۔
"تم اتنے خطرناک طریقے سے رائیڈنگ کیوں کر رہے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) تھے؟" نشاء کو بزرگی جھاڑنے کا شوق تھا سو اس لاپروائی پر اس کو ڈانٹنا اس نے اپنا فرض سمجھا۔
"میڈم! میں پانچ سال کی عمر سے رائیڈنگ کر رہا ہوں اوت گھوڑوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں"اس نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ وہ اور نشاء سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگے، پریشے وہیں کھڑی رہی۔دفعتہ اسے کیمرے کا خیال آیا۔
"سنو" ان دونوں نے مڑ کر پیچہے دیکہا۔۔
" تمہارا کیمرہ" اس نے قدرے زور سے کیمرہ اس کے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) ہاتھ میں تھمایا۔وہ مسکرا کر رہ گیا۔
"شکریہ!"
"سنو تمہیں یوں اپنا اتنا قیمتی کیمرہ دے کر نہیں جانا چاہیے تھا۔ میں اگر لے کر بھاگ جاتی تو؟"
وہ پہر مسکرایا " مجھہ پتا تھا تم ایسا نہ کرتیں" سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس کے عین سامنے آکھڑا ہوا۔
"اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو تمہارا کیمرہ لے کر بھاگ چکا ہوتا "
" تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کیمرہ ہرگز نہ دیتا" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) وہ مسکراہٹ دبائے بہت سنجیدگی سی بولا۔
"ہونہہ" وہ اس کے اس انداز پر سر جھٹک کر سڑک کے دوسری جانب پھیلی دکانوں کی قطار کو دیکہنے لگی۔ وہاں رش اب بڑھتا جا رہا تھا۔
نشاء نے اس "بدتمیزی" پر اسے گھورا بھی ،مگر وہ اسے دیکھہ بھی نہیں رہی تھی۔


گھڑ سوار نے گردن جھکا کر کیمرے کی اسکرین پر نگاہ ڈالی اور زیر لب مسکرایا۔
"اچھی تصویر کھینچنے کا شکریہ" تصویر دیکہ کر اس نے سر اٹھاتے ہوئے کہا اور کیمرہ کو کور میں ڈال دیا۔ وہ پھر مغرور نظر آنے کی اداکاری کرتی جواب دیئے بنا (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) دکانوں کو دیکھتی رہی۔
"تم اس تصویر کا کیا کروگے؟" اس کی بے رخی کے اثر کو کم کرنے کے لیے نشاء نے بہت دوستانہ انداز میں اسے مخاطب کیا۔
"میں بیس برس بعد ایک سفرنامہ لکھوں گا،اس کے فرنٹ پر یہ تصویر لگاوں گا"
"اور اس تصویر کا کیپشن کیا ہوگا؟" نشاء نے دلچسپی سے پوچھا۔
"میں اس کے نیچے لکھوں گا" اس کوہ پیما کی تصویر، جوراکاپوشی سر کرنے جارہا تھس" وہ فخر سے بتا رہا تھا۔
پریشے نے تیزی سے گردن گھما کر اسے دیکھا۔اسے جھٹکا سا لگا تھا۔"تم تم راکاپوشی سیر کرنے جا رہے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) ہو؟" بے اختیار پوچھ لینے کے بعد اسے یاد آیا کہ۔۔۔۔ اس کو تو خود کو لا تعلق ظاہر کرنا تھا،اسے پچھتاوا سا ہوا۔
"ہاں۔۔!" پریشے کی بے ساختگی پر اس نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔
"خیر راکاپوشی سر کرنا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ ایورسٹ یا کے ٹو سر کرنا اسل کامیابی ہے" کہہ کر وہ پہر سے دکانوں کو دیکہنے لگی۔
"ویسے کل ہم لوگ ایک ٹور کمپنی کے ساتھہ کالام جارہے ہیں" نشاء کے بتانے پر گھڑسوار نے آنکہیں سکوڑ کر مال روڈ کی طرف دیکھا۔ سن شائن ٹریولز کافی سامنے تھا۔اس نے ایک لمھے کو سوچا پہر بولا۔
"میں بھی کل کالام جا رہا ہوں ،سن شائن ٹریولز کے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) ساتھ تم کس کے ساتھ جا رہی ہو؟"
"واقعی؟تم تو ہمارے ساتھ جارہے ہو!" نشاء کو اس "اتفاق" سے ازحد خوشی ہوئی تھی۔ اور پریشے کو کچھہ شک سا ہوا تھا۔
"یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ویسے تمہارے دوست بھی جارہے ہے کیا؟" مسکراہٹ لبوں پے دبائے، اس نے بہت معصومیت سے پوچھا۔پریشے نے رخ قدرے مزید موڑلیا۔
"ہاں مگر تمہیں کیسے پتا یہ میری دوست ہے؟" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"بہت آسان ۔۔۔وہ خوبصورت ہے۔" اس کے سنجیدہ انداز پر نشاء ہنس پڑی جب کے


پریشے کے ماتھے پر نا گواری کی شکن ابھری تھی۔
"میں نشاء ہوں ۔ نشاء سعید اور یہ میری کزن کم دوسwت ہے، ڈاکٹر پریشے جہانزیب۔" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"پاری شے"؟ اس نے اپنے یورپی لب و لحجے میں اس کا نام دہرایا۔
"پاری شے نہیں ، پری۔۔۔۔شے"
"میرے نام کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو،نشاء؟" خود کو یوں موضوع گفتگو بنتے دیکھ کر وہ تنگ ا کر اردو میں بولی۔
 "یہ مینرز کے خلاف ہے۔ تم دونوں کو میری موجودگی میں اپنی زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے"۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ مسلسل پریشے خو دیکہہ رہا تھا۔ ایک تو کمبخت بلا کا ہینڈسم تھا،اوپر سے اتنے خوبصورت انداز میں آنکھیں سکیٹر دیکھتا تھا، وہ خوامخواہ کنفیوز ہونے لگی۔
"مطلب کیا ہوا تمہاری کزن کے نام کا"؟ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"پری چہرہ لڑکی۔ یہ ایران کی ایک شہزادی کا نام تھا۔اس لیے تو میں اس کو پری کہتی ہوں"۔
"تمہاری کزن پر سوٹ بھی کرتا ہے۔پری مطلب فیری؟ ہماری زباں میں بھی فیری کو پری کہا جاتا ہے"۔
"تم نے اپنا تعارف نہیں کرایا"۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اوہ سوری!میں افق ارسلان ہوں۔ ترکی سے آیا ہوں۔ ویسے پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہوں مگر ساتھ ساتھ ایک تجربہ کار کلائمبر بھی ہوں۔ تمہارے پاکستان میں دنیا کے سب سے خوبصورت پہاڑ ،راکاپوشی کے لیے آیا ہوں"۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اس نے جھک کر اپنا تعارف کروایا "اور تم لوگ کیا کرتی ہو؟"
"نشاء !ہمیں دیر ہورہی ہے۔میں گاڑی کی طرف جارہی ہوں چلنا ہے تو چلو"
قدرے غصے سے کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی گاڑی کی طرف آگئی۔ عجلت میں افق ارسلان کو خدا حافظ کہہ کر نشاء دوڑتے قدموں کے ساتھ اس تک پہنچی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تمہارا مسئلہ کیا ہے نشی؟ نہ جان نہ پہچان، خوامخواہ کسی اجنبی وہ بھی گورے کے ساتھ یوں سرراہ گپیں لگانے کا مقصد؟" ڈرئیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ نشاء پر برس پڑی تھی۔ چند گز کے فاصلے پر وہ ترک سیاح ان سفید چوکور بلاکس کے ساتھ ابھی تک کھڑا تھا۔ دفعتآ اس نے پری کو دیکہ کر ہاتھ ہلایا۔ جسے اس نے نظر انداز کردیا۔


"بھائی میرا مسلمان بھائی ہے،ایک برادر اسلامی ملک سے آیا ہے۔ہمارا مہمان ہے۔میرا اسلامی فریضہ ہے کہ میں میزبانی نبھائوں۔" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اچھی طرح جانتی ہوں میں تمہیں ۔مسلمان لڑکی!۔گاڑی واپس اسلام آباد کے رستھ ڈالتے ہوئے اس نے دانت پیسے تھے۔" کیا ہم اب کسی اور ٹور کمپنی کے ساتھ نہ چلے جائیں؟
"اس بات کا تو زکر ہی مت کرنا۔اگر ہم اس ٹور کمپنی کے ساتھ نہیں جائیں گے ،تو پہر ہم نہیں جائینگے!" نشاء نے بڑے اطمینان سے فیصلہ سنا دیا۔
وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتی رہی ۔ آٹھ دن ندا آپا کے ساتھ یا آٹھ دن اس ترک سیاہ کے ساتھ؟ اس کے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کیوں کی ندا آپا کے ساتھ آٹھ دن گزارنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
وہ نشاء کو ڈراپ کرکے گھر آئی تو فون بج رہا تھا۔ اس نے کریڈل پر دھرا ریسیور اٹھایا "ہیلو"
"تم اپنی کزن کے ساتھ کہاں جارہی ہو؟" ناگوار سا باز پرس کرنے لہجہ تھا سیف کا۔
"کالام اور بھی لوگ جا رہے ہیں۔"
"ماموں نے مجھ سے پوچھے بغیر تمہیں کیسے اکیلے جانے کی اجازت دے دی؟ کیا اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں دور افتادہ علاقوں میں باپ بھائی کے بغیر (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) سڑکیں ٹاپتی پھریں گی؟"
وہ اس سے واضع طور پر ناراض تھا۔
"پاپا نے مجھ اجازت دے دی ہے سیف !" کہیں ایک نیا مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے ، اس خیال نے اسے تھکا دیا تھا۔
"مگر میں کہہ رہا ہوں کہ تم یوں نہیں جاوگی۔تم اپنی کزن کو منع کردو۔"
تحکم بھرا انداز۔ وہ بے بسی سے لب کاٹ کر رہ گئی۔
"ہم اسکول میں بھی تو ٹورز کے ساتھ چلے جاتے تھے،ایک قابل اعتماد  ٹریول ایجنسی کے ساتھ۔۔۔۔"
"یہ یو کے نہیں ہے پریشے !" اس کا انداز دو ٹوک تھا۔
"بس تم اپنی کزن کو منع کردو"۔
"اچھا" پریشے نے فون رکھ دیا۔ چند لمحے آزردگی سے فون کو دیکہتی رہی پہر نشاء کا نمبر ملایا۔
"میری آواز سنے بغیر چین نہیں آرہا،جو گھر پہنچتے ہی فون کھڑ کا رہی ہو؟"
"نشاء ! میں کالام نہ جاوں تو؟"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛❤💙34💜💚💜💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 35
نشاء ایک لمحہ کو چپ سی ہوگئی۔
 "پری"
 وہ کچھ دیر بعد بولی۔
"وہ ایک اچھا انسان ہے، تم اس کے ساتھ  ان کمفرٹیبل فیل نہیں کروگی ۔
"بلیومی پری"!
"نہیں نشاء !سیف نے منع کیا ہے۔"
"واٹ دی ہیل ؟" اس کا پارہ ہائی ہوگیا تھا۔
"وہ ہوتا کون ہے تمہیں منع کرنے والا؟میں تو ابھی تک تمہاری منگنی کو قبول نہیں کر سکی۔تم دونوں ایک (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) دوسرے کے لیے ہو ہی نہیں ، لیکن تم نے شاید شادی سے پہلے ہی اس کی غلامی قبول کر لی ہے۔ ٹھیک ہے ،فائن!میں یونہی تمہارے لیے ہلکان ہوتی ہوں ۔ جہنم میں جائو تم،جہنم میں جائے سیف،جہنم میں جائے افق ارسلان،"۔
ایک پژمردہ مسکراہٹ پریشے کے لبوں پر بکھر گئی۔
"میں نے اس کی غلامی نہیں قبول کی اور سنو ،میں نے پروگرام بھی کینسل نہیں کیا، لیکن اگر تم نے میرے نام کے ساتھ افق کا نام پہر لیا تو میں پروگرام کینسل کر ہی دوگی۔"
مزید کچھ کہے بغیر اس نے فون رکھ دیا۔
اسے سیف کے غصے کی پرواہ نہ تھی۔ کالام سے واپسی کے بعد اس کی شادی ہو ہی جانی تھی، دل نہ تب مر ہی جانا تھا اور شاید سیف جیسے انسان کے ساتھ زندگی کی شروعات کرنے کے بعد اسے کسی کی بھی (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) پرواہ نہ رہے۔ نہ دکھ کی،نہ خوشی کی شاید تب وہ بے حس ہو جائے،مگر اس بے حسی کے دور کا آغاز سے قبل صرف آتھ دن، وہ زندگی کے ساتھ گزارنا چہاتی تھی۔
(برائے مہربانی اس ناول کو اپنے پیج پر کاپی پیسٹ کرنے سے پہلے فس بُک پیج ناول ہی ناول سے اجازت لیں جنہوں نے نمرہ احمد کے اس ناول قراقرم کو بُکس سے دیکھ کر اردو میں لکھ کر آپ ممبرز تک پہنچایا۔)
شکریہ عروصہ علی جنہوں نے بکس سے دیکھ کر اردو میں وہ بھی موبائل پر لکھ کر ہمیں ناول ہی ناول پیج کو دیا ۔جن کی وجہ سے آپ سب یہ ناول پڑھ رہے ہیں۔


اتوار،24 جولائی 2005ء
پاپا کی ڈھیر ساری دعائیں لے کر وہ گھر کی گیٹ سے باہر ٹور کمپنی کی بس میں آگئی۔
ان کا گائیڈ کم ڈرائیور،ظفر اس کا سامان لوڈ کرکے ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔
بس میں اسئ چار انجان چہرے دکہائی دیئے تھے۔
وہ ایک نسبتآ پچھلی سیٹ پر کھڑ کی کی طرف بیٹہہ گئی۔نشاء یا وہ ترک سیاح ابھی تک نہیں آئے تھے۔
کھلے شیشے سے آتی ٹھٹندی ہوا اس کی آنکہوں کو بند کر رہی تھی۔
اس نے شیشہ بند کردیا اور
لیزئر میں کٹے سیاہ بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں باندھا۔
دفعتآ اسے دوسرے مسافروں کا خیال ایا
اس نے ایک سرسری نگاہ ان پر ڈالی۔
اس کے بائیں طرف نشستوں کی قطار میں اس کے برابر ایک کم عمر لڑکی بیٹہی تھی۔ عمر بمشکل بیس اکیس برس ہوگئی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💜36💙💛۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 37

کندھوں سے اوپر آتے کھلے بال،جو ماتھ پر بینڈز کی صورت میں کٹے تھے اور گوری رنگت۔
وہ محویت سے سڑک کے کنارے بھاگتے درختوں کو دیکہ رہی تھی۔ اس نے سفید ٹراوزر اور گھٹنوں تک کرتا پہن اکھا تھا اور پاوں میں سینڈل تھے۔
دوسرے مسافروں میں پچاس پچپن سالہ ایک انکل تھے ۔ غالبآ کوئی ریٹائرڈ افسر یا کوئی امیر بزنس مین وہ خاصے وجہیہ تھے اور سب سے اگلی سیٹ پر براجمان تھے۔
ان کے علاوہ ایک جوڑا تھا۔ بیوی قدرے کرخت اور نک چڑھی سی لگی البتہ میاں "بیبا" سا تھا۔ پریشے کو قیافہ شناسی سے گہری دلچسپی تھی۔
"صبح چھے بجے کوئی وقت ہے جانے کا؟ مجھے سونے بھی نہیں دیا۔" نشاء اس کے مقابل آکر بیٹھی تو بس جو نشاء کو پک کرنے رکی تھی،پھر چل پڑی۔
" سو جاوء لمبا سفر ہے۔" اس نے نشاء کی خوابیدہ آنکہیں دیکہ کر کہا۔
ظفر نے اپنا آخری مسافر ایک اعلی درجے سے اتھایا۔تھا ۔ وہ بس میں داخل ہوا اور پریشے کی توقعات کے برعکس ان دونوں کی جانب آنے بجائے "ریٹائرڈ" صاحب کے ساتھ والی خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ اس نے تو گردن کو جنبش دے کر ان دونوں کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔
چوں کہ وہ ان سے کافی آگے بیٹھا ہوا تھا اور وہ بھی بائیں قطار میں ،سو وہ اس کا محض دایاں کندھا،بازو اور سر ہی پیچھے سے دیکھ سکتی تھی۔لائٹ براون شرٹ ،سفید پینٹ،وہی کل والی سلیو لیس ہلکی سی ٹورسٹ جیکٹ ،گردن میں لٹکتا مفلر ، پاوں میں جوگرز ،وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
ہاں،اج اس کے سر پر پی کیپ بھی تھی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکہتی رہی پہر نشاء کی طرح سو گئی۔
کوئی دو گھنٹے بعد اس کی انکھ کھلی۔ وہ لوگ ابھی
 تک حالت سفر مین تھے۔ نشاء جاگ چکی تھی۔
اس نے چور نظروں سے افق کو دیکھا،وہ اپنے سیل فون کے بٹنز سے کھیل رہا تھا۔
"سنو پری!تمہیں یہ شخص اچھا نہیں لگا؟"
"نہیں اور میں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتی"۔ وہ کھڑکی کے باہر دیکہنے لگی.
"مگر میں کرنا چاہتی ہوں"۔ نشاء بضد تھی۔
"ٹھیک ہے پہر جاکر اسی کے پاس بیٹھ جاو"۔
بقیہ  سارا راستہ خاموشی سے کٹا۔ دن چڑھے بس پشاور کی حدود میں داخل ہوئی سڑکوں پر خاصا رش تھا ۔اپنے جوبن پر چمکتا سورج شہر کو جھلسا رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚❤37💜💛💚❤۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 38
"کتنی گرمی ہے یہاں حالاں کہ پشاور پہاڑوں پر واقع ہے۔۔ یار اس سے ٹھنڈا تو اسلام آباد تھا۔" نشاء کو اپنا شہر یاد آیا۔
ٹور کمپنی نے پہلے سے ایک متوسط درجے کے ہوٹل میں ان کی بکنگ کروا رکھی تھی ۔
ہوٹل کے باہر تنگ سی سڑک پر بے تحاشا رش تھا۔ سڑک کے اچھے خاصے حصے پر ریڑھیوں کا قبضہ تھا۔ گاڑی ایک ڈھلوان پر چڑھ کر ہوٹل کے پارکنگ ایریا تک آئی۔ وہاں گاڑیوں کی لمبی قطار تھی۔
"ناٹ بیڈ" بس سے نکل کر نشاء نے تبصرہ کیا۔ پری ہوٹل کی بلند عمارت کو دیکہنے لگی۔
ترک سیاح ان دونوں سے فاصلے پر کھڑا سفید جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ، آنکہیں سکیڑے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا۔وہ اپنی طرف متوجہ پاکر مسکرایا،پریشے نے نگہاون کا رخ بدل لیا۔
"ہیلو گرلز،کیسی ہو تم دونوں؟"وہ ان کے قریب چلا آیا۔
"اوہ تو آپ ہمیں پہنچاتے ہیں؟" نشاء کو اس کا پورا راستہ انہیں لفٹ نہ دینا بہت کھٹکا تھا۔ شکوہ کیے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ جوابآ ہنس پڑا۔
"میں نے سوچا صبع صبع نیند سے بے حال ہوتے لاگوں کو نہ جگایا جائے،ذرا کہیں پہنچ جائیں تو آرام سے گپ شپ کرتے رہیں گے۔" وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا۔
پریشے ان دونوں کو چھوڑ کر اس ٹین ایج لڑکی کے پیچھے چلتے ہوئے سیڑیاں چڑھنے لگی۔
246 نمبر کمرے میں پہنچ کر ظفر نے چابی اس کے حوالے کی۔ وہ ٹرپل بیڈروم اس کو نشاء اور اس لڑکی کے ساتھ شیئر کرنا تھا۔
"اوکے ،شام کو ملاقات ہوگی۔" افق ان دونوں سے یہ کہہ کر ساتھ والے کمرہ میں چلا گیا۔ میاں بیوی سامنے والے کمرے میں چلے گئے۔
"میں ڈاکٹر پریشے جہاں زیب ہوں"۔ کمرے میں آکر اپنے لبوں پہ مسکراہٹ سجا کر اس نے اس لڑکی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
"میں ارسہ بخاری ہوں ۔ ویسے آپ کا نام بہت پیارا ہے پریشے !" وہ رکی اور تصیح کر کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💙38💚💛💜💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 39
بولی "پریشے آپی!
"آپی"؟ ان دونوں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے قدرے حیرت سے  اسے دیکہا۔
"دراصل میں پاکستانی کزنز کو اگر بغیر آپی باجی کہے بلاوں تو دادو "انگریز"کہہ کر ٹوکتی ہیں،
سو میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی پاکستانی لڑکی کو آپی باجی کہے بغیر نہیں بلانا"
وہ دونوں ہنس پڑیں۔
کھانا انہوں نے ساتھ ہی کھایا تب تک تعارف کا سلسلہ مکمل ہو چکا تھا۔
ارسہ کا تعلق لاہور سے تھا،مگر وہ پلی بڑھی انگل

ینڈ میں تھی ۔ اردو لکھ اور پڑھ لیتی تھی مگر بولتی بہت بہت مشکل سے تھی۔اس کے پاس اس کم عمری میں بھی ایک اچھا الپائن ریکارڈ تھا وہ زیادہ تر یورپی الپس سر کر چکی تھی،اس کے علاوہ تبت میں اس نے shishapangmaاور chooyu کو سر کیا تھا۔
"تو تم افق کے ساتھ راکاپوشی جارہی ہو؟" نشاء کو وہ معصوم اور زہین سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔
"ہاں! "اس نے سر ہلا دیا۔ "رکاپوشی میرے ناول کی سیٹنگ ہے ۔ اوہ میں بتانا بھول گئی، میں رائیٹر بھی ہوں۔ دو ناول لکھ چکی ہوں ، یہ  میرا تیسرا ناول ہے۔ "
"اتنی سی عمر میں دو ناول؟" پریشے کے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
ارسہ ہنس پڑی ۔"محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کیا تھا،میں نے تو اس عمر میں صرف پہلا ناول لکھا تھا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔"
"اچھا تو تمہارے ناول کی سٹوری کیا ہے؟ " اسے دلچسپی ہوئی۔
"ایک کوہ پیما ہیروئن کی راکاپوشی سر کرنے کی رومانوی داستان "وہ مزے سے بولی۔ نشاء سونے کے لے لیٹ چکی تھی۔
"اینڈ ہیپی کروگے یا ٹریجک ؟"
ٹریجک کیوں کے ٹریجک اینڈ یادگار ہوتا ہے۔ ویسے آپ نہیں آئیں گی راکاپوشی ؟ آپ بتا رہی تھیں ک آپ بھی کلامبر ہیں "
"ہاں، میں کمبریا کے ٹو اسکول، لیک ڈسٹرکٹ سے سات ہفتے کے کورسز کیے تھے،  مگر میں راکاپوشی نہیں آؤگی ک مجھے اپنے فادر کی پرمشن نہیں ہے۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗39💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 40
"کمبریا کے ٹو سے ؟ واہ ،ائی ایم امپریسڈ! "
"اور سوئس الپس کے علاوہ ،میں نے سپانتک (spantik) کو بھی سر کر رکھا ہے ۔
وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی ۔
"اوہ ویسے آپ آتیں تو مزا آتا ۔افق بھائی بہت اچھے ہیں۔ میری ان سے ملاقات فلاایٹ کے دوران ہوئے تھی وہ مصر سے آرہے تھے اور میں انگلنڈ سے۔ "
"اب سوتے ہیں "۔اس سے پہلے کے وہ "افق نامہ " شروع کرتی ، پریشے نے اس کی بات کاٹ دی۔  ارسہ تابعداری سے بستر پر لیٹ گئی ۔
جلدی ہی اسے نیند نے ان گھیرا۔ پھر وہ شام تک سوتی رہی ارسہ اور نشاء صبح تڑکے، ہی اٹھ گی تھیں اور با آواز بلند گپیں ہانکتے ہوئے انہونے اسے بھی جگا ڈالا تھا ۔ مگر وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے سوتی بنی رہی۔
دفتعآ  دروازے پر دستک ہوئی پریشے کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔ اس نے آنکھوں پر سے بازو نہیں ہٹایا مگر وہ جانتی تھی کے باہر کون تھا۔  وہ دستک نہیں ،افق ارسلان کی خوشبو پہچانتی تھی۔
"اندر آ سکتا ہوں اچھی لڑکیوں ؟" اس کا شرارت سے کہنکتا لہجہ پریشے کی سماعت سے ٹکریا ۔ اس کی آنکھوں پر بازو نہ ہوتا تو وہ شاید اس کی پلکوں کا ارتعاش دیکھ لیتا ۔
"لگتا ہے اچھی لڑکیوں کے بگیر دل نہیں لگ رہا ۔ آؤ بیٹھو۔" وہ اتنا مہزب ، شائستہ ہنس مکہہ تھا کے نشاء اور ارسہ فورآ اس کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے کرسی پیش کی ۔
"یونہی سمجھ لو "وہ پریشے کے بیڈ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرسی اور بیڈ کی پانپتی کے درمیان فاصلہ خاصا کم تھا۔  جگہ تانگ تھی، وہ بیٹھ تو گیا مگر اس کے جوگرز بیڈ کا سرا کو چھو رہے تھے۔
"میں اس سفر کو یادگار بنانا چاہتا ہوں اور بطور ایک اچھے سیاح، میں کوئی لمحہ فارغ نہیں بیٹھنا چاہتا۔ سو پھر تم لوگ بتاؤ شام کیا پروگرام ہے؟ " اسے محسوس ہورہا تھا کے بولتے ہوئے بھی نظر بھٹک کر افق کی ناگاہیں اسی کے چہرے پر پڑ رہی تھیں جو اس نے اپنے سفید بازو کی اوٹ میں آنکھوں کو چھپا رکھا تھا۔  کمبل گردن تک لے رکھا تھا، صرف چہرے کا نچلا حصہ کھلا تھا۔
"پری اٹھ جاۓ تو کوئی پروگرام بناتے ہیں" ۔
"تمہاری دوست بہت زیادہ سوتی ہے کیا" ؟ اس۔ کے انداز سے پریشے کو لگا ، وہ جان گیا ہے کے وہ سو نھ رہی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 💜💛💚💗40💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 41
"نہیں آج بس ذرا تھک گئی۔ تم اپنا پروگرام بتاؤ۔ "
"میں آج تمہارے پشاور کے بازار، یہی کینٹ اور صدر وغیرہ کھنگالنے کا سوچ رہا ہوں۔ باقی ایورسٹ اٹریکشن کل دیکھو گا۔"
"تو پھر ہم تینوں بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں افق بھائی ! احمر صاحب اور افتخار فیملی کی مرضی وہ جہاں بھی جایں یا پھر ان سے پوچھ لیں ؟"ارسہ متذبذب تھی۔
"وہ کپل بہت ریزور ہے، وہ یقینن ہم سے گھلنا ملنا پسند نہیں کریں گے ۔ احمر صاحب تو آدھا گھنٹہ ہوا کہیں چلے بھی گے ہیں پھر ہم چاروں ساتھ چلتے ہیں مگر۔ ۔۔۔،
وہ ایک لمحے کو روکا، پری کے کان کھڑے ہوگئے ۔
"مگر کیا" ؟
"مگر ہو سکتا ہے تمہاری دوست کو۔ کوئی اعتراض ہو"
"ارے نہیں۔ وہ بہت نائس اور سویٹ ہے۔  اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا" ،
"ویسے نشاء!مجھے بہت خشی ہوئی تھے۔ جب تم نے مجھے بتایا تھا کے تمہاری دوست میری بہت تعریف کر رہی تھی" ،
پریشے نے ایک جھٹکے سے کمبل اٹھارہ اور تیزی سے سیدھی ہوئی ۔
"میں نے ایسا کب کہا تھا؟ "
افق کا فھقهہ بے اختیار بلند ہوا، اسے اپنی حماقت پر شرمندگی ہوئی ۔ نشاء اور ارسہ قدرے حیران تھی
"انھیں ابھی "لطیفہ"  سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
"تم اٹھ گیں ؟ میں سمجھی سو رہی ہو" ،
"میرے سر پر جو تم لوگ گول میز کانفرنس کر رہے ہو، میں بھلا کیسے سکوں سے سو سکتی تھی"
شرمندگی چھپانے کو اس نے غصے کا سہارا لیا اور بستر سے نیچے اتر گئی ۔ ڈریسنگ روم جانے کے راستے میں افق کی لمبی ٹانگیں حائل تھیں۔ اسے قریب آتا دیکھ کر اس نے پیر سمیٹ  لیے۔ وہ پیر پٹختے ہوئے اس تنگ جگہ سے گزری ۔
"سوری پری! " میں مذاق کر رہا تھا۔ "
وہ بے مشکل ہنسی کنٹرول کرتے معذرت کرنے لگا مگر وہ جھنجھلاتی ہوئی زور زور سے الماری کے پٹ کھول بند کرتی رہی۔
"اچھی لڑکیو ! ،تیار ہو کر لابی میں آجاؤ ۔تمہارے پاس صرف پندرہ  ہیں۔ " وہ جانے کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗41💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 42
لیے اٹھ کھڑا ہوا تو پری نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا، اس نے لباس تبدیل کر لیا تھا۔ شرٹ کی استینیں ادھی،مگر رنگ سیاہ تھا ۔ اور اوپر سفید ٹوریسٹ جیکٹ ،گردن کے گرد بلکل سرخ مفلر ۔
"رائیٹ باس، ! ارسہ نے تابعداری دکھائی۔ وہ مسکراتے ہوئے ایک نگاہ پریشے پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔  وہ "اف"  کہتے ہوئے کلکس کر رہ گئی۔
ان پندرہ منٹ میں پریشے نے کوئی دو سو دفعہ ان دونو کو "ضرور پروگرام بنانا تھا تم نے اس کے ساتھ ؟" سنیا تھا۔ نشاء ڈھیٹ بنی سنتی رہی ،ارسہ کو البتہ حیرت ہوئے تھی ۔
"یہ پریشے آپی کی کوئی لڑائی ہوئی ہے افق بھائی سے؟ ! وہ تو اتنے کئیرنگ اور سویٹ ہیں ۔
"یہ ایک صدیوں کی داستان ہے، تمہیں ایک شام میں سمجھ نہیں آسکتی ۔"نشاء نے آہ بھر کر کہا ۔
ہیئر برش کرتے پریشے کے ہاتھ ایک لمحے کو تھمے تھے۔ وہ اندر سے کانپ کر رہ گئی تھے ۔ پلٹ کر شاک کی نظر  نشاء پر ڈالی اور دوسری اپنی انگلی میں موجود انگوتھی پر ۔ نشاء نے لاپروئی سے کاندھہ اچکا دیے۔ ارسہ کے سر کے اوپر سے سب کچھ گزر گیا تھا۔
وہ پیر پٹخ کر باتھروم میں چلی گئی۔ نشاء کی بات وہ عمومآ مانا نہیں کرتی تھی ،مگر اب اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ نشاء اور ارسہ چلی جاتی تو اس نے بھلا کیا قصور کیا تھا۔ جو وہ اکیلی چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی رہتی؟  یوں بھی افق کے ساتھ مارکیٹ جانا اسے برا نہیں لگ رہا تھا ۔البتہ یوں ظاہر کرنا وہ اپنا فرض سمجھتی تھی ۔
پارکنگ ایریا میں کھڑی ٹور کمپنی کی بس کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا افق ان کا انتظار کر رہا تھا ۔انھیں دیکھ کر سیدھا ہوگیا۔  ایک استقبالیہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احتاط کر لیا تھا۔ پی کیپ ابھی بھی اس کے سر پر تھی۔
"کینٹ چلتے ہیں،  یہاں سے بہت قریب ہے۔ "ان کا رہنمائی کرتے ہوئے وہ ہوٹل سے پارکنگ ایریا سے نیچے سڑک تک جاتی دھلان سے اتر رہا تھا۔
"تم ترکی سے اے ہو یا صوبہء سرحد سے؟ " نشاء کو اس کا پشاور اور ارد گرد کی معلومات حیران کرتے تھیں ۔
وہ بے اختیار ہنس پڑا ۔"بس پچھلی دافع ادھر آیا تھا تو خاصے دن یہاں گزارے تھے ۔ اس لیے آئیڈیا ہوگیا ہے۔ "


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 💜💛💚💖42💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 43
"پچھلی دافع کب اے تھے ؟"
"دو۔ سال پہلے" وہ لوگ ڈھالان اتر کر نیچے سڑک پر آچکے تھے ۔ سڑک اچھی خاصی کھلی تھی
مگر پھلوں کی ریڑھیون اور خوانچہ فروشوں کی باہمی تعاون سے اب بہت تانگ ہو چکی تھی۔  اس جگہ ہوٹلز تھے یا پی سی او ۔
"دو سال پہلے کیا سیرو سیاحت کے لیے اے تھے" ؟
ریڑیوں سے دونوں طرف سے گہری سڑک پر راستہ بنا کر چلنا بہت مشکل تھا، پھر بھی وہ بہت دھیان سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔
"ہاں سیرو سیاحت کے لیے اور۔ ۔۔"بولتے بولتے وہ یک دم خاموش ہوگیا ۔
"اور ۔۔بس کچھ کم تھا۔ "وہ صاف ٹال گیا تھا۔ نشاء اخلاقیات سے اتنے تو اگاہ تھی کے اگر وہ ٹال رہا تھا تو وہ اس کام کی تفصیل نہ پوچھتی  ۔
افق نے ٹیکسی روکی ۔ ٹیکسی والا انگریزی سے نابلد تھا۔ سو کریہ کا معملا نشاء نے ہی طے کیا۔
کئینٹ کی خوبصورت دکانوں کے باہر آہستگی سے چلتے ہوئے وہ چاروں خاصی دیر تک شوپنگ کرتے رہے۔ پھر ارسہ ان کو چھوڑ کر سعید بک بینک کی طرف چلی گئی۔ وہ تینوں ایک جیولری شاپ میں داخل ہوگئے۔
یہ اتفاق ہی تھا کے جب نشاء مختلف ایرینگز دیکھ رہی تھی تو اپنی ڈھیلی پونی کو کستے ہوئے پریشے  کے بالوں کا جکڑا ربر بینڈ ٹوٹ گیا۔ اس کے بال کسی ابشار کی طرح کمر پر گر گے۔
"نشی تمہارے پاس کوئی کیچر ہے۔ اپنے لمبے لیزر میں کٹے بالوں کو سمبھالتی وہ پریشانی سے نشاء سے بولی۔
"اپنا خردیتے تمہے موت پڑتی ہے۔ ؟" وہ بہت مصروف تھی ،سو کھٹ سے بولی۔
"دافع ہو جاؤ " وہ بڑ بڑاتے ہوئے سامنے شوکس پر پڑی باسکٹ میں رکھے کیچرز اور پونیاں دیکھنے لگی۔
"یہ کیسا ہے۔ ؟
اس نے چونک کر سر اٹھیا ۔ افق ہاتھ۔ میں ایک کیچر لیے اسے دیکھا رہا تھا۔ اس نے نظریں جھکا کر کیچر کو دیکھا۔ وہ سلور کلر کا تھا،  اس کے ایک طرف گول بڑا سا فیروزی رنگ کا پتھر جب کے دوسری طرف سبز اور نیلا دورنگا پتھر جڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💗43💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 44
"اچھا ہے" اس نے خوبصورت کیچر لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔ اق نے وہ اس کی ہاتھ پر رکھنا چاہا، پکڑتے پکڑتے وہ زمین پر گرپڑا۔ وہ گھبرا کر جھکی اور کیچر اٹھا لیا۔ اس کے دو رنگے پھول کے درمیان ضرب لگنے سے ایک ہلکی سے سیدھی لکیر پڑ گئی تھی۔
"ٹوٹ تو نہیں گیا" ؟وہ پوچھ رہا تھا، اس نے نفی میں گردن کو جنبش دی پھر اسے نظر انداز کر کے سیلز مین سے قیمت پوچھی ۔
"دو سو پچاس روپے"
افق نے پیسے دکان دار کی طرف بڑھاے ۔
"سوری،  یہ میں خود خریدوں گی" اس۔ نے دبی آواز میں اسے ٹوکا۔
"میں اس لالچ میں تمہیں یہ گفت کر رہا ہوں۔  کے کل تم بھی مجھے کوئی چیز گفت کرو گی ۔"
"میں گفٹس نہ لیتی ہوں نہ دیتی ہوں۔ " اس نے پرس سے پیسے نکالے ۔
"مگر میں دیتا بھی ہوں اور لینا بھی پسند کرتا ہوں"۔ وہ بضد تھا اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پیسے سیلز مین کو تھمائے ۔
خاکی لفافے میں پیک کیا گیا کیچر نکل کر بالوں میں لگیا اور نشاء کی طرف آگئی ۔
ارسہ کے انے اور نشاء کی شاپنگ مکمل ہو جانے کے بعد وہ لوگ باہر نکل اے ۔
باہر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ شاپس کے اندر اور باہر روشنیاں جاگمگانے لگی تھیں۔ سٹریٹ لائٹس اور سائن بورڈ۔ روشن تھے ۔
"رات کے کھانے کے لیے تم لوگوں کو پشاور کے بہترین ریسٹورنٹ لے چلوں؟ " وہ ان کے دایں طرف، جیب میں ہاتھ ڈالے سامنے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا۔  وہ اسکے جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
"پی سی ؟" ارسہ نے جہٹ سے پوچھا۔
"نہیں میں بدمزہ ،باسی اور پہیکہے کھانوں سے لطف اندوز نہیں ہوتا۔  میں تمہے ایک بہترین  ریسٹورنٹ لے۔ کر جا رہا ہوں"
شہر کی تنگ و ترک گلیوں سے ٹیکسی میں گزرتے ہوئے انھیں وہ ایک اسی تنگ گلی میں لے آیا ،جہاں بے تہاشا تیسرے درجے کے ریسٹورنٹ بنے ہوئے تھے۔ فضا میں ہر طرف مزے کی خوشبو پہلی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖44💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 45
وہ انھیں نمک منڈی لے۔ آیا تھا۔ پریشے کو حیرت ہوئی،وہ اسکے ملک کو اس سے زیادہ جانتا تھا۔
نمک منڈی نمک والی کڑھائی کھا کر جب وہ لوگ وہاں سے نکلے، تو نشاء نے بے اختیار پوچھ لیا۔
"تم اگر ان جگہوں پر اتنی دافع گھوم چکے ہو تو اب پھر کیوں ادھر اے ہو؟ "
"یہی تو میں کہہ رہی تھی۔  اچھے بھلے ہم جولائی میں ہی راکاپوشی کلایمب شروع کر دیتے
خامخوواہ ادھر انے کی کیا ضرورت تھی۔  پتا نہیں افق بھائ کو اچانک ان علاقوں کا وزٹ کرنے کا خیال کیوں اگیا اور مجھے بھی گھسیٹ لاۓ۔" ارسہ بے اختیار بول اٹھی۔ افق نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اپنے ہوٹل کے کمرے میں واپس اکر نشاء پھر رطب الانسان تھی۔
"میں نے اتنا سوفٹ،نیس اور اچھا انسان زندگی میں پہلی دافع دیکھا ہے۔
"اور۔ نہیں تو کیا۔ جتنی معلومات ان علاقوں کے متلعق انھیں ہیں، میرا خیال ہے وہ ایک بہت کامیاب سفر نامہ نگار بن سکتے ہیں"
"رہنے دو ارسہ " وہ جو ٹی وی ٹرالی کے قریب کھڑی بوتل منہ سے لگاۓ پانی پی رہی تھی،
قدرے چڑ کر بوتل منہ سے ہٹا کر بولی، "یہ مگربی دنیا کے لوگ ہمارے ملک مے آکر معلومات اس لیے اکہتھی نہیں کرتے کے علمی دنیا کو ہمارا سوفٹ امیج دیکھایں ،بلکے اگر تم ان گوروں کے سفر نامے اٹھا کر پڑھو تو تمہیں علم ہو۔ کے یہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کیا زہر اگلتے ہیں۔ ہمیں جاہل پسمندہ اور گیر ترقی یافتہ کہتے ہیں۔ تمہارے یہ افق ارسلان بھی ترکی جا کر یہی کام کرگے ۔سفر نامہ لکھ کر عالمی برادری کو یہ بتایں گے کے ہمارا ملک کتنا قدامت پسند،غریب اور سہولیات سے نا بلد ہے،  یہاں کتنی گندگی اور بدنظمی ہے۔  یہ سارے ایک جیسے ہوتے ہیں ،پرو پیگنڈا کرنے والے" ۔
بوتل رکھ کر وہ پلٹی تو ساکت رہ گئی۔ افق لب  بہینچھ دروازے کے بیچ کھڑا تھا۔ وہ یقیننا ٹیکسی کا کرایا ادا کرکے انھیں شب بخیر کہنے آیا تھا۔ اور چوں کے وہ ارسہ کے لیے انگلش میں بات کر رہی تھی تو نہ سن لینے کا۔ تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
وہ یک دم تیز تیز قدم اٹھاتا راہداری سے واپس پلٹ گیا۔
نشاء اور ارسہ نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس کی ناراضگی وہ محسوس کر چکی تھیں ۔
احساس تو اسے بھی تھا۔ اندر سے وہ بہت پیشمان اور بچیں بھی تھی مگر خاموشی سے لیٹ گئی
۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💖💗45💖💜💛💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 46

"تمہارے پیسے" !نشاء نے اس کے سائیڈ ٹیبل پر 250 روپے رکھے تو اس نے تکیہ چہرے سے ہٹایا ۔
"کون سے پیسے" ؟ وہ اس جیولری والے نے واپس کے تھے ۔ کہہ رہا تھا تم نے اسے دیے ہیں۔
تم اس وقت ارسہ سے بات کر رہی تھیں،میں دینا بھول گئی۔
اس کے انداز میں ہلکی سی خفگی تھی۔
وہ۔ کچھ۔ دیر تو بول ہی نہ سکی۔ کیچر جو اس نے بہت استہقاق سے لگا رکہا تھا، اس کی قیمت ادا اس شخص نے کی تھی جس کی وہ چند منٹ پہلے بے عزتی کر چکی تھی ۔ اس کا دل چاہا کے وہ دہائی سو روپے اسی وقت اس کے منہ پر مر بھی آتی مگر اس نے احمر صاحب کے ساتھ کمرا شیر کیا تھا۔ اور پھر جو کچھ وہ کر چکی تھی سو اب مجبوری تھی۔ وہ خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ پیسے اس نے پرس میں رکھ لیے، جتنا وہ اس سے دور بھاگنے کی کوشیش کرتی، وہ اتنا اس کے راستے میں آ جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💜💛💚46💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(برائے مہربانی اس ناول کو اپنے پیج پر کاپی پیسٹ کرنے سے پہلے فس بُک پیج ناول ہی ناول سے اجازت لیں جنہوں نے نمرہ احمد کے اس ناول قراقرم کو بُکس سے دیکھ کر اردو میں لکھ کر آپ ممبرز تک پہنچایا۔)

(اگلی چوٹی 5 April کو پوسٹ کی جائے گی کوشش ہو گی جلدی لکھ کر پوسٹ کر دی (برائے مہربانی اس ناول کو اپنے پیج پر کاپی پیسٹ کرنے سے پہلے فس بُک پیج ناول ہی ناول سے اجازت لیں جنہوں نے نمرہ احمد کے اس ناول قراقرم کو بُکس سے دیکھ کر اردو میں لکھ کر آپ ممبرز تک پہنچایا۔)
شکریہ عروصہ علی جنہوں نے بکس سے دیکھ کر اردو میں وہ بھی موبائل پر لکھ کر ہمیں ناول ہی ناول پیج کو دیا ۔جن کی وجہ سے آپ سب یہ ناول پڑھ رہے ہیں۔

پیر،25 جولائی 2005ء
پوری رات بے چین و مضطرب رہنے کے باعث وہ ٹھیک سے  سو نہیں سکی تھی، صبح خاصی دیر سے آنکہ کھلی۔ دن چڑھ چکا تھا، اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود سورج کی شعاعیں جو کھڑکیوں کے پیچھے سے  جہانک رہی۔ تھیں، تپش پیدا کر رہی تھیں۔ اس نے کسل مندی سے کروٹ بدلہ نشاء اور ارسہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"مجھے چھوڑ کر جارہے ہو تم لوگ؟ ""بگیر کسی "صبح بخیر "کے اس نے لیٹے لیٹے ہی دونوں کو مخاطب کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖47💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 48

"صبح سے ایک سو دس آوازیں دے چکی ہوں کے اٹھ جاؤ،  مگر تم پتا نہیں کون سے اصطراب میں سو رہی تھیں۔ ابھی ارسہ
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
 تم پر پانی پھینکنے لگی تھی۔ "وہاں سے بھی جواب تر سے آیا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
شہلا افتخار کو شاپنگ کے لیے جاناں تھا، ان کی بہن کی شادی عید کے بعد تھی تو وہ اس کو گفت کرنے کے لیے کوئی کراکری یا الیکٹرانک کا سامان خریدنا چاہتی تھی۔  نشاء کو بتایا تو اس نے فورن ساتھ چلنے کی ہامی بھرلی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
جب وہ سب باہر نکلے تو پریشے کی متلاشی ناگہایں افق کی تلاشی میں ادھر ادھر بھٹک رہی تھی کے اسے بے اختیار اسے اپنی رات والی حرکت یاد آئی تھی۔
"شرمندگی ورمندگی نہیں ہے مجھے، بلکے ابھی تو مجھے وہ کیچر بھی اس کے منہ پر مارنا ہے پر ملے تو نا"!وہ شاید خود کو تسلی دے رہی تھی۔
"سنو ارسہ !کون کون جارہا ہے حیات آباد ؟" بہت لاپروہی سے ٹیکسی کی طرف جاتے ہوئے اس نے ارسہ کو مخاطب کیا۔
"ہم سب" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اب اس "ہم سب"  میں وہ شامل تھا یا نہیں۔ وہ پوچھ نہیں سکتی تھی۔  ارسہ اور نشا کے ارادے بتانے والے نہیں تھے۔ سو وہ خاموش ہی رہی ۔ گرمی زوروں کی تھی اوپر سے شیلا اور نشا کی دکان داروں سے بحث سن کر ہی وہ اکتا گئی۔ شہلا کو ایک ڈنر سیٹ پسند آیا مگر وہ آٹھ ہزار کا تھا۔
"کچھ رایت کرو بھائی !، میں کوئی پہلی دافع آرہی ہوں تمہاری دکان پر؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
ابھی راستے میں ہی تو افتخار صاحب نے بتایا تھا کے وہ اور شہلا حیات آباد دوسری دافع اے تھے۔
" باجی!ام سے قسم لے لو یہ ڈنر سیٹ آپکو پوری مارکیٹ میں اس سے کم  کوئی بھی نہیں لیا خالص جاپان کا مال ہے اور باکی لوگ مارکیٹ میں چے نا (چائنا)کا مال رکھتا ہے ۔ وہ اٹھارہ انیس سالہ گورا چٹا لڑکا تھا، چہرے پر چوٹی داڑھی تھی۔
سہلا نے ڈنر سیٹ چھے ہزار مے خریدا ۔ دوسری دکان پر وہی ڈنر سیٹ تین ہزار میں مل رہا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗48💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 49
مگر پریشے کو یقین تھا کے وہ ڈنر سیٹ چار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوگا۔ آخر چائنا اور افگانستان سے انے والا اسمگل شدہ مال تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ حیات آباد کے پٹھانوں اور سکھ دکانداروں سے خاصی بور ہوئی تھی۔ شام کو جب وہ واپس آئی تب تک افق کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ وہ انتظار کرتی رہی کہ ارسہ اور نشاء اس کے بارے میں منہ سے کچھ پھوٹیں گی مگر وہ تو شاید اسے بھول بھی چکی تھیں۔
بی حد تھکاوٹ کے باوجود بھی پری سو نہ سکی۔  اگر وہ ناراض تھا تو وہ اسے منانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ مگر وہ ایک دافع نظر تو اے ۔کدھر چلا گیا تھا؟ شاید واپس؟ یہ خیال ہی بہت تکلیف دہ تھا۔ اگر وہ واپس چلا گیا تو وہ ادھر کیا کر رہی تھی؟ اسکو بھی واپس چلے جانا چاہیے ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تو کیا وہ صرف افق کے لیے یہاں تک آئی تھی؟ " اس خیال نے اسے بچیں کردیا تھا۔
"نہیں میں تو ندا آپا سے۔ ۔۔۔" اسکی دلیل بہت کمزور تھی۔
رات کو نشاء اور ارسہ اسے پشاور کے مشور " جلیل کے چپل کباب"  کھلانے لے گئیں ۔افق کا کوئی پتا نہ تھا۔  اس پر ایک بے نام سی اداسی طاری تھی وہ جو ایک دن بعد ہی بیچ راستے میں چھوڑ کر چلا گیا تھا، وہ اس کا خوابوں کا شہزادہ کیسے ہوسکتا تھا؟ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
جلیل کے اوپن ایئر ریستورنٹ میں سبز گھاس پر رکھی کرسی پر بیٹھی وہ یہی سوچ رہی تھی ۔لان کی طرز کے سبز گھاس سے ڈھکے قطعہء اراضی کے چاروں طرف سفید باڑ لگی تھی۔ رات کا وقت تھا،
روشنی کے لیے باہر ایک دو  ٹیوب لائٹس لگی تھیں اور یہ مدھم مدھم سی روشنی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
"تمہیں کچھ اور لینا ہے تو بتادو! "نشاء نے اسکی راہے مانگی اسنے چونک کر نشاء اور وردی ویٹر کو دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ تو ٹھیک سے سن بھی نہ پائی تھی کے ارسہ اور نشاء نے کیا آرڈر کیا تھا، سجی اور شاید چپل کباب۔ ۔۔ اس کا دماگ تو سیف اور افق کے درمیان پھنسا تھا۔
"معاف کرنا لڑکیوں ! میں ہر گز دیر سے نہیں آنا چاہتا تھا، مگر مجھے راستے میں ایک دلچسپ آدمی جو کسی زمانے کا پورٹر تھا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے وقت ۔ گزرنے  کا احساس ہی نہیں ہوا "بہت معذرت" ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
نہایت عجلت میں ہمیشہ کی طرح بشاش لہجے میں کہتے ہوئے اس دراز قد اور ستواں ناک والے ترک سیاہ نے ارسہ کے ساتھ والی کرسی سبھالی ۔ایک لمحے کو تو پریشے کا دل اچھل کر حلق میں اگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖49💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF
صفحہ نمبر 50
دوسرے ہی لمحے وہ شانت ہوگئی۔ اسے یوں لگا جیسے اس کا کوئی گمشدہ حصہ واپس مل گیا ہو۔
وہ اگیا تھا،  وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا تھا، یہ احساس ہی اسے سکوں دینے کے لیے کافی تھا ۔وہ اتنے پر سکوں ہوگئی تھی کے اسے خود پر حیرت ہوئی۔
"اچھا۔ ۔۔۔وہ کیا کہہ رہا تھا؟ " ارسہ نے بہت دلچسپی سے پوچھا۔ وہ اسے بیٹھے تھے کے پریشے کے بایں طرف نشاء اور سامنے افق تھا اور نشاء کے سامنے ارسہ بیٹھی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
افق مسکراتے ہوئے اسے وہ باتیں بتانے لگا،  جو اسے اس پورٹر سے معلوم ہوئی تھیں ایک دافع بھی اسنے نظر اٹھا کر پریشے کو نہیں دیکھا تھا۔
"اور نشاء تمہارا دن کیسا گزرا۔ "کارخانہ بازار"  میں دماگ تو خالی ہوگیا ہوگا اب تک اسنے رخ سیدھا کر کے نشاء کو مخاطب کیا۔ پریشے کو وہ مکمل طور پر نظرانداز کر رہا تھا۔
"بہت تھکا دینے والا ایک آدمی پندرہ ہزار کا قآلین بیچ رہا تھا،  میں نے جان چھڑانے کے لیے پندرہ سو میں دے دو اور کیا تم یقین کروگے ،وہ بولا کے ہاں لے لو! میرے خدایا ۔"
افق لبوں پر ہلکی مسکراہٹ لیے بہت دھیان سے سن رہا تھا۔ خود کو یوں نظرانداز ہوتا دیکھ وہ اپنے ناخونوں سے کھیلنے لگے، اس کے انداز میں اضطراب تھا ۔
وہ بات کرتا تھا وہ رکھائی برتتی تھی ۔اب وہ دور ہو رہا تھا تو وہ بہت بے چین تھی ۔ اگر چہ بظاہر بے نیاز تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
ویٹر ہاتھ میں پکڑی بڑی سی ٹرے لیے انکی میز پر پہنچا تو اسنے چہرہ اونچا کیا ۔نظر سیدھی افق پر پڑی ۔وہ ویٹر کی طرف متوجہ تھا۔ گرے شرٹ کی استینیں کہنیوں تک فولڈ کر رکھی تھی ۔کیپ میں بھورے بال چھپ گے تھے۔
"میں نے تمہیں جلیل ریسٹورنٹ کا اس لیے کہا تھا کیوں کے ان کے چپلی کباب کے ساتھ ان کے نان زیادہ پسند ہیں۔ "سفید بے حد سفید ،آنسو کی شکل کے نان پلیٹ میں نکالتے وہ مسلسل بول رہا تھا۔  اس کی بات سے ظاھر ہوتا تھا کے یہ سارا پروگرام ان تینوں کا طے شدہ تھا وہی لا علم تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💖💗50💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 51
پریشے کے قدموں کے قریب ایک سفید بلی چکراتی پھر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اسے اپنی بلی یاد آگئی، ساتھ ساتھ روشن اور سنی کا رویہ یاد آیا۔ اس نے تھوڑا سا کباب توڑ کر نیچے گھاس پر پھینکا، بلی نے جھٹ سے منہ میں ڈال لیا،  وہ مسکرا دی ۔اب وہ ایک نوالہ خود لیتی اور ایک بلی کو دیتی۔ وہ افق کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کر رہی تھی،
"میں پچھلی دافع ادھر آئی تھی تو جلیل بھی آئی تھی مگر وہ یہ والا نہیں تھا۔ "ارسہ کہہرہی تھی۔
" یہاں ایک سے زیادہ جلیل ہیں۔ بہرحال یہ جلیل اوریجنل ہے۔ "وہ واقعی ان کے ملک کو بہت زیادہ جانتا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ویسے افق بھائی!  آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں ہے کے آپ اتنا کھاتے ہے ایک کوہ پیما کے لیے یہ خاصی عجیب بات ہے۔ "
"دیکھو، میرا زندگی کا فلسفہ یہ ہے کے دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کھا کر مرتے ہیں اور دوسرے وہ بگیر کھاۓ مرتے ہیں۔ مارنا سب نے ہے، سو بہتر ہے کے کھاکر مراجاۓ"
وہ سر جھکاے بلی کو کباب کے چھوٹے چھوٹے  ٹکڑے کھلا رہی تھی۔
"ویسے آپ نے سارا دن کیا کیا ؟ہمارے بگیر بور تو ہوئے ہوں گے ناں ؟"
"قطعآ نہیں۔ میں میوزیم اور دیگر ٹورسٹ! ٹریکشنز دیکھ آیا ہوں اور میں نے خوب مزہ کیا، جو آزادی تنہائی میں ہوتی ہے، وہ یقین جانو دو لڑکیوں کے ساتھ ہر گز نہیں مل سکتی۔ "
اس نے تین کے بجاۓ دو لڑکیاں کہا تھا، اس کے دل کو تکلیف ہوئی تھی۔
"آپ نے چاول وغیرہ لے لیے؟ "
"ہاں"
"اور مچھلی بھی؟ "
"اوہ ہو ارسہ ۔۔۔۔۔ میں بچہ نہیں ہوں۔ پچھلے چودہ سال سے کوہ پیمای  کر رہا ہوں۔ "وہ بے اختیار ہنسا تھا۔ " میں نے فوڈ سپلائی بلکل درست رکھی ہے۔ انشاءاللّه ہم رکاپوشی کی چوٹی پر بھوک سے نہیں مریں گے۔ "
ویٹر بل لے آیا تھا، افق نے بل خود ادا کیا۔ وہ ان کے ہمراہ ہوتا تو ریسٹورنٹ کا بل، ٹیکسی کا بل ٹپ وگیرہ خود دیتا تھا۔ نشاء نے بہت دافع ٹوکنے کی کوشش کی، مگر اس معاملے میں وہ خاصی آنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💓💜💛💚51💜💛💚💓۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 52
والا تھا۔ اب بھی اسنے سو روپے ٹپ رکھی تو ویٹر حیران سا ہو گیا۔
"یہ کیا ہے سر" ؟(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"رکھ لو نیور مائنڈ ! " وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔بلی جس کا پیٹ آدھا چپل کباب کھا کر بھی نہیں بھرا تھا۔ پریشے کے قدموں کے ساتھ لوٹنے لگی۔ وہ البتہ اچھنبے سے ویٹر کی حیرانی کو دیکھ رہی تھی۔ یہ بعد میں علم ہوا تھا کے پشاور میں ٹپ یا بخشش کا کوئی رواج نے تھا۔
وہ پرس اٹھا کر دو قدم آگے بڑھی تو بلی نے بے اختیار میاؤں کی آواز نکالی اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا، افق میز کے پیچھے سے نکل کر آرہا تھا۔ افق نے اسکی ناگہاوں کے تعاقب سے بلی کو دیکھا۔
"اوہ ہاو سویٹ! "جھک کر اس نے بایاں بازو بڑھایا اور بلی کو اٹھالیا۔ اب وہ اس کی سر پر ہاتھ پھیرے پیار کر رہا تھا۔ ٹیوب لائٹ کی دور سے آتی مدھم روشنی اور چاند کی چاندنی اس کے چہرے کے نقوش کو بہت خوبصورت بنا رہی تھی۔
بلی نے اس کے پیار کا خاصا برا منایا۔ وہ ایک دم چھلانگ لگا کر پریشے کے قدموں میں آگئی ۔اس نے چونک کر قدموں میں لوٹتی بلی کو دیکھا پھر گردن اٹھا کر افق کو،  وہ بلی پر ایک نگاہ ڈالتا سائیڈ سے نکل گیا تھا۔
اسے بے اختیار رونا سا آیا ۔وہ ایسا کیوں کر رہا تھا؟ اتنے بے رخی کیوں کر رہا تھا۔ ؟
جھک کر اس نے بلی کی سفید، نرم کھال پر چمکارنے والے انداز میں ہاتھ پھیرا ۔اسی کھال کو ابھی افق نے چھوا تھا۔ اس کی لمس کے تمازت اسے محسوس ہوئی تھی، اس نے ہاتھ کھینچ لیا اور تیزی سے بھاگتی ہوئی ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئی، جہاں وہ سب کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ افق البتہ ایک چھوٹے سے بچے کی جانب متوجہ تھا، جو بھیک مانگ رہا تھا، اس کا لباس ابتر اور پاؤں ننگے تھے۔
"یہ لو اور ان سے شوز خریدنا "افق نے پانچ سو کا نوٹ بچے کے طرف بڑھایا ۔ بچے نے فورن جھپٹ لیا اور
اور تیزی سے وہاں سے بھاگ گیا کے کہیں وہ واپس نا مانگ لے۔ افق بے چینی فکرمندی سے اسے بھاگتے دیکھتا رہا پھر اس نے بے اختیار سر جھٹکا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💗52💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 53
"کاش میں ان پہاڑوں میں بسنے والے بچوں کے لیے کچھ کر سکوں"
وہ خاموشی سے لب کاٹتی،  سر جھکائے ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگل ،26جولائی 2005ء
ہوٹل کی لابی میں استقبالیہ دسک کے سامنے دیوار کے ساتھ چند صوفے رکھے تھے۔ وہ ایک صوفے پر ٹانگ پر  ٹانگ رکھے بیٹھی اخبار دیکھ رہی تھی۔
سر خیوں پر ناگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ باقی لوگوں کے نیچے اترنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ظفر پہلے ہی باہر بس کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے علاوہ ابھی تک سب اوپر تھے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"انٹرنیشنل کال ریلیز ہے"  انگریزی لب و لہجہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔ اخبار پڑھتے پڑھتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ اس کی جانب کمرے کے استقلیہ ڈسک پر کہنی رکھے قدرے جھک کر استقالیہ کلارک سے کہہ رہا تھا ۔اس کی گردن کے پچھلے حصے میں اس سرخ مفلر دکھائی دے رہا تھا، بھورے بالوں پر پی کیپ بھی تھی۔ اس نے شاید ابھی تک پریشے کو نہیں دیکھا تھا۔
اسے بے اختیار اس کا رات والا مگرور اور بے رخی بھرے انداز یاد اگیا۔ اس نے نظریں جھکالیں۔
افق نے ڈسک کلارک کو ایک لمبا چوڑا نمبر بتایا،کلارک نے سلسلے ملنے پر ریسیور افق کو تھمادیا ۔
"سلام و الیکم آنے" اپنے مخصوص ترک لب و لہجے میں وہ اپنی زبان میں بہت پر جوش انداز  میں بات کر رہا تھا۔ آخر میں اس نے "گلے گلے آنے" کہہ کر ریسیور رکھ دیا۔
"ایک کال اور کرنی ہے" اس نے دوبارہ ایک اور لمبا چوڑا نمبر ملایا۔
"مرحبا ،از دس تو ماز ؟آئی ایم ارسلان۔ کین آئی سپیک ٹو مسٹر جینیک یقین پلیز؟ " وہ کسی "جینیک یقین" سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔
مطلوبہ شخص شاید لائن پر اگیا تھا ،وہ یک دم بہت بے تکلف انداز میں بات کرنے لگا۔
انگریزی کے چند جملوں کے باعث وہ اتنا سمجھ چکی تھی۔  کے مخاطب سے اس خاصی بے تکلفی تھی اور وہ اس کو اپنے پشاور سے سوات جانے کے بارے میں اگاہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب سے کسی نے کچھ کہا تو وہ بے اختیار ہنس پڑا اور بولا "میں بچپن میں قصے کہانیوں میں جو بات پڑھی تھی، وہ آج سچ ہوگئی ہے۔ یقین کرو، قراقرم کے پہاڑوں پر واقعی پریاں اترتی ہیں"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💖53💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 54
پریشے کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا،اس کے ہاتھوں پر نمی در آئی تھی۔اس نے گھبرا کر چہرہ بلکل جھکا کر اخبار اگے کر لیا۔وہ یقینآ اس کی موجودگی سے بے خبر، اب اپنی مادری زبان میں الوداعی کلمات ادا کر رہا تھا۔گلے گلے کہہ کر اس نے ریسیور رکھا، پیسے ادا کیے،بقیہ رقم بٹوے میں ڈالی اور بٹوہ جیب میں رکہتے ہوئے پلٹا ہی تھا کے اسے وہاں بیٹھے دیکہہ کر ٹھٹکا۔پریشے نے اپنا چہرہ جھکایا ہوا تھا کہ وہ اس کے چہرے کی اڑی اڑی رنگت نہیں دیکہہ سکتا تھا۔وہ بس ایک لمہے کو وہاں رکا اور پہر باہر نکل گیا۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اس نے اخبار میز پر رکھہ دیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ یہ اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا وہ جیسے اس کی بے رخی اور بے اعتنائی سمجھ رہی تھی، وہ سوائے ایک مصنوعی خول کے کچھ نہ تھا؟ وہ خود کو مسلسل تین دن سے اس کے متعلق کیوں سوچے جارہی تھی۔وہ ایک منگنی شدہ لڑکی تھی،حالاں کے منگنی کوئی شرعی تعلق نہ تھا پہر بھی اسے لگتا تھا کے اسے سیف کے علاوہ کسی کے متعلق نہیں سوچنا چاہیں ۔ وہ اسی لیے اسے خود سے دور رکھ رہی تھی، وہ دراصل خود سے لڑ رہی تھی۔پچہلے تین دن سے اسے سکون چاہیے،وہ اسی لیے اسے خود سے دور رکھ رہی تھی،وہ درصل خود سے لڑ رہی تھی۔پچلے تین دن سے جاری اس اعصابی جنگ مین وہ تھکنے لگی تھی۔
وہ کب بس میں بیٹھی بس کب چلی،اسے کچھ ہوش نہ تھا۔اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر انکہیں موند لیں۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
زندگی کی سچائیاں اور حقیقتیں کتنی تلخ ہوتی ہیں۔وہ قفس میں قید اور اپنی مرضی سے سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔نومبر میں اس کی شادی سیف جیسے ناپسندیدہ سخص سے ہو جائے گی۔وہ کس طرح اپنی زندگی گزارے گی اس سطہی انسان کے ساتھ؟ وہ اس کے لیے نہیں بنا تھا وہ اسکے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔
اس لمحے جب ٹور کمپنی کی بس صاف ستھری،کشادہ سڑک پر دوڑتی ہوئی پشاور کے حدود سے باہر نکل رہی تھی تو پریشے کے ذہن میں بس ایک ہی فقرہ کی بازگشت گونج رہی تھی۔
"قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں"
وہ بند آنکہوں سے مسکرائی۔اس کی مسکراہٹ بہت سوگوار تھی۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اڑتی ہیں افق ارسلان،مگر وہ سیف الملوک تک محدود ہوجاتی ہیں۔پردیسی کوہ پیمائوں کے لیے پریاں نہیں ہوتیں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💜💛54💛💜💚❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 55
اسنے آنکہیں کھول کر دائیں جانب دیکھا۔ اس کے ساتھ نشاء بیٹھی تھی۔ نشاء کے دائیں جانب برابر والی قطار میں افق ترچھا ہو کر بیٹھا نشاء سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ خاصا خوشگوار موڈ میں تھا۔ پریشے کو جاگتے دیکھ کر اس نے ایک دوستانہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھلی ۔
"ہماری گفتگو سے تم ڈسٹرب تو نہیں ہورہی۔ "کل رات والی akr ،بے نیازی، بے اعتنائی، سب غایب تھا۔ وہ واقعی اس کو نہیں سمجھ پائی تھی۔
"نہیں" مختصرآ کہہ کر اس نے رخ کھڑ کی کی طرف پھر لیا ۔شاید وہ بھی خود سے لڑتے لڑتے عاجز آچکا تھا یا پھر شاید کل رات والا رویہ محض اس کو پرسوں رات والی تقریر کے جواب میں نارضگی کا اظہار تھا۔ یا پھر شاید وہ سب کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ اس کے متلق کوئی احساس ہی نہیں رکھتا تھا۔
اس کا ذہن منفی انداز میں سوچنے لگا تھا۔
"میں غلط سوچ رہی ہوں" وہ نشا اور ارسہ سے بات کرتا ہے، مجھسے نہیں پھر میں نے کیسے فرض کر لیا کے وہ میرے متلق کوئی خاصا جزبہ رکھتا ہے؟ وہ تو نگر نگر پھر نے والا ایک مسافر ہے جو دنیا کے سب سے حسیں پہاڑ کو سر کرنے کا عزم لیے میرے دیس آیا ہے اور چند دن ان خوبصورت وادیوں ،چشمو،اور پہاڑوں کے درمیان بتا کر اسے یہاں سے چلے جانا ہے۔ وہ جانے کے لیے ہی تی آیا ہے پھر میں اتنی جذباتی کیوں ہورہی ہوں؟ مجھے اس کے ساتھ نارمل رویہ اختیار کرنا چاہیے "
وہ اس کا ہم سفر تھا، وہ کیوں خواہ مکھوا کی خود سے جنگ لڑ رہی تھی؟ افق کو تو واپس ترکی جا کر یہ بھی یاد نے رہے  کے مارگلہ کے پہاڑوں پر جب بادل اترے ہوئے تھے۔ تو گھوڑا دوڑاتے ہوئے بیچ سڑک پر اسے کوئی لڑکی ملی تھی۔ سیاہ تو بہت کٹھور ہوتا ہے، خوبصورت ماناظر پلکوں میں جذب کر کے اپنے دیس لوٹ جاتا ہے، پھر پلٹ کر نہیں اتا۔ تو وہ کیوں اپنے اندر کوئی جذبہ پالنے لگی تھی؟
اس کا دل قدرے ہلکا ہوا تھا۔ کوئی پریشانی جیسے ختم ہوگئی تھی۔ اگر اس کے اندر  کوئی جذبہ پنپ بھی رہا تھا تو اس نے قطرے جتنے جذبے کو سختی سے سیپ میں بند کر کر اپنے دل کے وسیع سمندر میں دفن کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗55💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

56
"گاڑی کا انجن قدرے گرم ہوگیا ہے۔ میں نے سوچا اس میں پانی ڈال لوں، آپ تب تک آس پاس گھوم پھر لیں"
گاڑی اچانک روک کر ظفر نے وضاحت دی۔
وہ دوسرے مسافروں کے ہمراہ بس سے باہر نکلی تو اسے احساس ہوا کے بس کافی دیر سے مرگلہ کے پہاڑوں پر چڑھ چکی تھی۔ اس وقت  بھی وہ در گئی کے سرخ ور بھورے خشک پہاڑوں بہت اونچے تھے۔ سڑک کشادہ تھی، دائیں جانب کھائی ور بائیں جانب پہاڑ تھے۔
ظفر بس کا تیل پانی چیک کرنے لگا افتخار صاحب ور سہلا قریب موجود کھوکھ کے طرف کولڈ ڈرنک کا کارنر تھا، وہاں چلے گے۔ احمر انکل تصویر کھینچنے لگے افق بھی تصویر بنا رہا تھا۔
وہاں سڑک خالی ہی تھی۔ چند منٹ بعد کوئی ٹرک یا کار گزر جاتی تھی۔ سبھا ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ موسم پشاور کی نسبت خوشگواڑ تھا۔
"سنو پریشے"  وہ پہاڑ کے دہانے پر ایک سرخ پتھر پر اپنے قیمتی سوٹ کی پرواہ نا کرتے ہوئے خاموش بیٹھی تھی، جب افق نے اسے آواز دی۔ اس نے سر اٹھا کر افق کو دیکھا ۔وہ کیمرے گلے میں ڈال کر اسی کی طرف آرہا تھا۔
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ "سن رہی ہوں، تم بولو" خود سے اعصابی ترک کرکے ور مصنوعی خول اتار کے وہ خاصی ہلکی ہوگئی تھی۔
"تم شرط لگاؤ گی میرے ساتھ" ؟وہ کل سے مختلف اصلی والا افق لگ رہا تھا۔
"بلکل! کیوں کے مجھے پتا ہے میں جیت جاؤں گی" وہ پچھلے تین دن سے مختلف بلکل اصلی والی پریشے تھی۔
"اوہ !اتنی خود پسندی ؟"وہ مسکرایا۔
"خود پسندی نہیں، خود اعتمادی کہو"
"فائن! تم پلیز ایک شرط لگاؤ گی؟ "افق کا انداز ایسا تھا جیسے وہ بچپن سے دوست رہے ہو۔
"ہاں اب بتا بھی دو"
"وہ اوپر جاہڑی دیکھ رہی ہو، وہ تقریبآ یہاں سے چالیس فٹ اونچی ہے۔ تم میرے ساتھ ایک ریس لگاؤ، دیکھتے ہیں اوپر پہلے کون پہنچتا ہے" ،افق نے ہاتھ سے اوپر جہاڑی کی طرف اشارہ کر کر کے کہا۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💝💟💕💛56💜💛💕💖۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 57

"ایک  مخلصانہ مشورہ دوں؟ اگر تم اسی وقت یہاں سے نیچےچھلانگ لگا دو یقین کرو بہت جلدی اوپر پہنچو گے۔ "
"وری فنی !میں ارسہ اور نشاء کو بلاتا ہوں، وہ ججز ہوں گی" وہ پلٹ کر ان دونوں کو بلانے چلا گیا۔
"جو جیتے گا اسے کیا ملے گا؟ "ان تینوں کے واپس آنے پر پری نے پوچھا۔ نشاء کو اسکے رویہ کی تبدیلی پر خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
"مرسیڈیز بینز "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"نہیں تبت کا ریٹرن ٹکٹ" ارسہ فورن بولی۔
"پوری دنیا امریکا،انگلینڈ جانے کی خوائش کرتی ہے، لیکن تم کوہ پیما تبت سے اگے مت بڑھنا" نشاء ان لوگوں مے سے تھی،  جن کو کوہ پیما کے متلعق علم کلف ہیںگر اور وارٹکل لمٹ جیسی فلموں تک محدود تھا، البتہ تبت کو وہ تبت سنو کریم کے حوالے سے تھوڑا زیادہ جانتی تھی۔
"اچھا خاموش رہو تم دونوں_  میں بتاتا ہوں جو ہارے گا اسے جیتنے والے کا ڈیئر (dare)  پورا کرنا ہوگا ٹھیک ؟"
"ٹھیک تو میرا dare پورا کرنے کے لیے تیار رہنا" وہ عتماد سے مسکرای ۔
"دیکھتے ہیں میڈم "اسکا انداز بھی بہت چیلنجنگ تھا۔
"اب شروع کرو، اس سے پہلے کے دوسری ٹرافک آئے اور لوگ تمہارے اس بچکانہ ایڈونچر کو دیکھیں"
پھر ان پہاڑوں پر پہلا ایڈونچر شروع ہوا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ خاصی پر عتماد تھی، مگر چار سال سے وہ پہاڑوں پر نہیں چڑھی تھی، ناتیجنآ وہ قدرے سست تھی اور ان خاردار کانٹوں اور جہاڑیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بہت تیزی سے اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچ گیا تھا۔ وہ چند فٹ ہی پیچھے رہ گئی تھی۔
"میں جیت چکا ہوں"  جہاڑی کو چھو کر وہ ناہموار ڈھالان میں سے راستہ بناتا اس کے قریب آیا۔ شکست کے احساس سے اس کے اندر کوہ پیما لڑکی خاصی بری طرح مجروح ہوئی تھی۔
"میں مشکل راستے سے آرہی تھی جب کے جس جگہ سے تم چڑھے تھے، وہ مقامی لوگوں کا بنایا گیا ہموار راستہ ہے اور اس سے چڑنا خاصا آسان ہے۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💚57💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 58
"میڈم ،جب زندگی ایک آسان راستہ دے رہی ہو تو کٹھن راستوں سے سفر نہیں کیا کرتے ہماری منزل ایک ہی تھی تو راستہ بھی میرے والا ہی چنتی! "
پریشے نے شانے اچکادیے "میں ہار مانتی ہوں۔ بہرحل تم شاعری اچھی کر لیٹے ہو۔ وہ اپنے جوگرز نیچے والے پتھر پر رکھ کر اترنے لگی۔ اترائی چڑہائی کی نسبت زیادہ مشکل تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"شکریہ اور تمہیں میرا ڈیئر تو پورا کرنا پڑے گا وہ اس کے عقب میں اتر رہا تھا۔
"بہتر ہے کے وہ آپ سوات پہنچ کر ہی بتائیں ،کیوں کے ظفر بلا رہا ہے" ۔ارسہ نے ان کو ظفر کی طرف اشارہ کرت ہوئے کہا۔
"سوات کتنی دور ہوگا یہاں سے" ؟ اپنی قمیس کے دامن سے چپکا ایک کانٹا الگ کرتے ہوئے پریشے نے پوچھا۔
"دو گھنٹے" جواب افق کی جانب سے آیا تھا۔ وہ اف کر کے رہ گئی۔ وہ ہر جگہ کا جاغرافیہ جان چکا تھا۔
"کبھی میں ترکی آئی ناں تو تمہارے ملک کے چپے چپے کا نام نام حفظ کر کے تمہیں بھی امپریس کروگی "
بس کی طرف جاتے ہوئے وہ بولی۔ افق اس کے آگے تھا اس کا ہاتھ دروازے پر تھا، اس کے بات سن کر وہ ٹہٹک کر پلٹآ۔
"کب آؤ گی ترکی؟ " اس کے لہجے میں خوشی اور آنکھوں میں امید تھی۔ وہ ہنس پڑی ۔
"میں مزاق کر رہی تھی" ۔
"اچھا" وہ اسے راستہ دینے کو پیچھے ہوا، وہ دروازے کے ساتھ لگی راڈ پکڑ کر اندر چڑھ گئی اسی وقت وہ بہت مدھم آواز میں بولا۔ ()
"سنو ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو ۔ہنستی رہا کرو!"
پریشے کے چہرے سے یک دم مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس کی بھنویں تن گئیں۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ پر بیٹھی اور سختی سے لب بھینچے کہڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ وہ اس کے موڈ کی خرابی کو دیکھ نا سکا تھا۔
تقریبن ساڑھے دس کے قریب وہ لوگ ان پہاڑوں تک پہنچ چکے تھے، جن کے دامن میں وادی سوات کا خوبصورت دریا،  دریائے سوات بہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖58💜💛💚💝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 59
"یہ انسانی فطرت ہے کے پانی کے قریب جا کر وہ  خود کو بہت ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے۔
اکثر جب ہم دریا کے قریب ہوتے ہیں تو خود کو بہت تازہ دم محسوس کرتے ہن " آواز بہت اجنبی تھی۔ پریشے نے تعجب سے سر گھما کر پیچھے دیکھا کے یہ بات کس نے کہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کیوں کے یہ افتخار صاحب تھے ۔
"یہ بولتے بھی ہیں؟ میں تو سمجھتی تھی گھونگے ہیں" نشاء نے بہت متعجب انداز میں اس کے کان کے قریب سر گوشی کی۔ اس کے لبوں سے ہنسی کا فووار چھوٹا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
سب نے ۔۔۔۔ یہاں تک کے ڈرائیو کرتے ظفر نے بھی اسے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کے باوجود ہنستی چلی جارہی تھی۔ افق اس کو یوں بچوں کی طرح ہنستے دیکھ کر مسکرایا۔
اس کی ہنسی تھم گئی، وہ سختی سے لب بہینچ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
"نشاء!اپنی دوست سے کہو اس کی کھڑکی کے باہر خشک پہاڑ ہیں، دریا تو بائین طرف بہ رہا ہے۔ وہ کس کو دیکھ رہی ہے؟ "وہ نشاء کے ساتھ والی نشست پر تھا، اس کی اور نشاء کی نشست کے بیچ درمیانی راستہ تھا۔ وہ ایک جوگر  اگلی نشست پر اور دوسرا درمیانی راستے میں رکھے قدرے جھک کر آہستہ سے نشاء سے بولا،
"پری !تمہاری کھڑ کی کے باہر خشک پہاڑ ہیں، دریا تو بائیں طرف بہ رہا ہے تم کس کو دیکھ رہی ہو؟ "
"پہاڑوں کو" !اس نے چہرہ موڑے بگیر سنجیدگی سے کہا ۔
"لگتا ہے ڈاکٹر کا موڈ پھر سے خراب ھوگیا ہے۔ ویسے اس کو یہ دورے دن میں کتنی دافع پڑھتے ہن؟ "
"جتنی دافع کوئی عامیانہ انداز میں میری تعریف کرے" کھٹ سے جواب آیا تھا۔
"اوہ !"وہ سمجھ گیا تھا۔
"میں تو بس دل رکھنے کو کہہ رہا تھا تا کے تم ہنستی رہو اور اتنی غصے والی کھڑی اکھڑی سے شکل ہر وقت نہ بنائے رکھو۔ تمہیں برا لگا؟ "
"ہاں" وہ ابھی تک کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
افق نے بے مشکل مسکراہٹ لبوں تک روکی تھی۔
"بہت معذرت میں آیندہ اسے جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں کرو گا"
"تمہارے حق میں یہی ٹھیک رہے گا" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💓💜💛💚59💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 60
"بہتر! اب اس طرف دیکھ لو۔ دریا بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ "
اس نے گردن کو بائیں جانب جبںش دی، افق مسکراہٹ چھپانے کو چہرہ اپنی دوسری جانب موڑ چکا تھا۔ اس نے افق کی کھڑکی کے کھلے شیشے کے پار نگاہ دوڑائی۔ اور پھر نگاہ ہٹانا بھول گئی۔
سبز سے ڈھکے سبز پہاڑوں کے درمیان، سڑک سے کوئی سو میٹر نیچے، بل کھاتا ۔اس کا پاٹ کسی ندی سے تھوڑا سا ہی زیادہ چوڑا تھا۔ پانی۔ بہت نیلا تھا۔ جس کے اوپر جھاگ پتھروں سے ٹکرانے کے باعث پیدا ہورہے تھے۔  اس میں رکھے دیو قامت پتھروں سے ٹکراتے پانی کا شور بہت بلند تھا۔ سوات اور کلام میں یہ شور آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
دریا کے دونوں طرف کے پہاڑ سر سبز تھے جن پر مقامی لوگوں نے فصلیں اگا رکھی تھی۔
پہاڑوں کی ڈھالان ہموار نہیں ہوتی، فصلیں بھو سیڑیوں کی شکل میں اگائی گئی تھیں۔ یوں بھی ہوتا تھا کے جیسے چوٹی تک جانے کے لیے بے شمار سبز زینے سے بنے تھے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
کبل سے گزر کر جس وقت بس مینگورہ میں داخل ہوئی وہ اپنی اور افق کی گوفتگو بھلا چکی تھی دراصل وہ نیلا دریا اتنا خوبصورت تھا کے وہ اس پر سے نگاہ ہو نہ ہٹا پارہی تھی۔
پھر بس شہر میں داخل ہوئی۔ سرینہ ہوٹل، سید و شریف کی عمارت کے قریب سے ٹرن لے کر بس "مرغزار"  کی جانب روانہ ہوگئی جہاں کے فائیو سٹار ہوٹل میں ان کی بکنگ تھی۔
"ظفر! وہ ہوٹل رائل پلس کہاں گیا" ؟افق کھڑکی سے  باہر متلاشی نظروں سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
"سر! وہ جو والی سوات کا محل تھا" ؟
"ہاں وہی" ۔
"وہ تو اب کوئی ٹیوشن اکادمی بن چکا ہے" ظفر کے انداز سے لگ رہا تھا کے اسے  والیء سوات کا یہ اقدام پسند نہیں آیا۔
"ویسے سر! قسم سے وہ بہت خوبصورت ہوٹل تھا"
"ہاں وہ بہت خوبصورت تھا۔ میں دو سال پہلے ادھر آیا تھا تو ایک دن رہا تھا وہاں ،ٹیوشن سینٹر بنا کر والیء سوات نے اچھا نہیں کیا" ۔
پری نے چونک کر افسوس سے سر ہلا تے افق کو دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗60💝💛💜💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 61
پرسوں جب نشاء نے اس سے برس قبل پاکستان آنے کے متعلق استفار کیا تھا تو وہ ٹال گیا تھا۔ وہ دو سال پہلے یہاں کیوں آیا ؟ایسا کون سا کم تھا جس کے متعلق وہ نہیں بتاتا تھا؟ اسے الجھن کے ساتھ ساتھ تجسس بھی ہوا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ " وہ الجھن کے عالم میں افق کو دیکھ رہی تھی تو اسنے مسکرا کر ٹوکا۔
"کچھ نہیں" ۔وہ سر جھٹک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
مرغزار جانے والا راستہ شہر سے دور ہٹ کر خاصا سنسان اور پر سکون سا تھا۔ دور دور تک ان کی بس کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں تھی۔ ہر طرف اتنا سکوت اور ویرانہ سا تھا کے پریشے کو لگا ظفر راستہ بھول گیا ہے۔ وہ یقینن کسی انجان وادی میں بھٹک رہے ہیں، مگر ہر کلو میٹر بعد "وائٹ پلس اتنے کلو میٹر دور" کا بورڈ اس کے دل کو تسلی دیتا تھا۔
"ہوٹل منجمنٹ کے نقطہ نظر سے وائٹ پلس کی لوکیشن زبردست ہے۔ آبادی سے بہت دور اس مرغزار میں واحد یہ ہوٹل ہے کے جب ٹورسٹ کئی کلو میٹر سفر کر کے تھکا ہر ہوٹل تک پہنچتا ہے تو ۔۔۔۔۔ظفر ایک منٹ گاڑی روکو" وہ ہوٹل کی لوکیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے اچانک سیدھا ہو کر بولا۔
ظفر نے گاڑی رو کی افق نے اپنا بند شیشہ نیچے کر لیا۔
باہر ایک سرخ رنگت اور سنہری بالوں والا بچہ کھڑا تھا۔ اس کا۔ لباس میلا تھا، پاؤں میں جوتا بھی نہ تھا۔ اس۔ نے لمبے پتلے تنکوں پر انجیر اور اخروٹ لگا رکھے تھے۔ اخروٹ سبز اور کچے تھے۔
"اس سے کہو سو روپے کے دے دے "افق نے ایک سرخ نوٹ شیشے سے باہر بچے کی طرف بڑھایا۔ احمر صاحب نے ترجمانی کی۔
"یہ سب تو چالیس روپے کی ہے۔ "بچہ بولا تھا۔ احمر صاحب نے افق کو بتایا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تو پھر یہ ساری دے دو" !
"تم ساری لے لے گا تو ام شام تک تمہارا سر بچے گا؟ "بچہ سارے انجیر دینے پر راضی نے تھا۔
احمر صاحب ترجمانی کر رہے تھے۔
"اوہو، تو دے دو اور باقی پیسے تم رکھ لو"
"افق!وہ ایسے نہیں رکھے گا۔ تم اس سے صرف بیس روپے کی انجیر خرید سکتے ہو"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖61💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 62
"اچھا" افق نے دس کے دو نوٹ باہر بچے کو دے دیے ۔اس نے دو ٹہنیان اس کی طرف بڑہائیں۔
بس پھر سے چل پڑی تھی۔ پریشے جانتی تھی کے افق کو انجیر کھانے کا کوئی شوق نہ تھا، وہ صرف بچے کی مدد کرنا چاہتا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ باقی لوگوں میں انجیر بانٹ رہا تھا۔
"تم خود بھی کھاؤ نا! "
"میں پھل وغیرہ نہیں کھاتا" اس نے لاپروائی سے شانے جھٹکے۔
ظفر نے بس روک دی۔ بس سے بھر نکلتے ہوئے اس نے بالوں میں لگے کیچڑ کو جھٹکا۔ اسے احساس ہوا کے کیچر کا دو رنگا پتھر قدرے ڈھیلا ہو چکا تھا۔ بس ایک بار کیچر گرنے پر پھر وہ الگ ہوجاتا۔
اس نے وہ افق کو واپس کرنے کا سوچا تھا مگر جانے کیوں اس کا دل ہی نہیں چاہا تھا کے وہ واپس کرے۔ اب وہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی ہمیشہ کے لیے۔
وہاں ایک کھلا سا پارکنگ لاٹ بنا تھا، جس کے آخر میں خاصی چوڑی سیڑحیان تھی۔
پارکنگ لاٹ کے بائیں جانب ڈھالان تھی۔ وہاں چند فٹ نشیب میں تین چار دکانیں تھیں۔ جہاں سواتی شالیں لٹکی دیکھائی دے رہی تھیں۔ دکانوں کی بائیں طرف پہاڑ ختم ہو جاتا تھا اور چشمہ بہ رہا تھا۔ بہتے پانی کی آواز اسے بہت پسند تھی۔
سیڑیوں کے اختتام پر دور تک پھیلا سبز لان تھا جس میں سنگ مر مر کے بینچ کرسی اور میز رکھی تھیں۔ لان کے اختتام پر سفید رنگ کا محل تھا،  دودھ کی طرح سفید اور خوبصورت کے اس پر نگاہ نہ ٹھہڑتی۔ لان کی دائیں طرف سیدھی پتھریلی روش تھی۔
"پری ! یہ ہوٹل میں نہ دیکھ رکھا ہے۔ وہ ڈرامہ "موم کا چہرہ" یہیں تو شوٹ ہوا۔ تھا نشاء ن آہستہ سے اسے بتایا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
شحلا اور افتخار کو اس روش کی دائیں جانب بنے کمروں میں سے ایک مل گیا تھا باقی سب کو دوسری منزل پر کمرہ ملا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"مجھے نہیں رہنا دوسری منزل پر نانگا پر بت سر کرنا آسان ہے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖62💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 63
"دوسری منزل چڑھنا بہت مشکل "افق ن یہ سنتے ہی کی اسے دوسری منزل پر رہنا ہوگا، منہ بنایا تھا مگر کسی نے اس کی بت کو اہمیت نہ دی۔
وائٹ پلس کی وہ سفید عمارت دراصل اس کی پہلی منزل تھی۔ پتھریلی روش کے بائیں جانب جہاں چند کمرے اور دکانیں تھیں، ان کے اگے طویل سیڑحیان پہاڑ کے اوپر لے جاتی تھیں، جہاں دوسری منزل تھی۔ وائٹ پلس کی چاروں منزلیں اس طرح مختلف بلندیوں مگر ایک ہی پہاڑ پر اوپر تلے بنی تھیں۔
وہ سیڑیاں واقعی مشکل تھیں۔ یہ احساس اسے انہیں عبور کرتے ہوئے ہی ہوگیا تھا۔ نیچے بہتے جھرنے کا شور ابھی  تک اس کی سماعت سے ٹکرا رہا تھا۔ اس نے ارادہ کر لیا کے وہ شام کو اس جھرنے تک ضرور جاۓ گی۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"دور سے دیکھنے میں یہ طویل سیڑیاں جتنی خوبصورت لگتی ہیں۔ انھیں چڑھنے لگو تو اتنی ہی تھکاتی ہیں۔ اف اللہ !" سیڑیاں نیچے اترتے ہوئے اس نے بے اختیار جہنجھلا کر دائیں طرف نسب پنجرے پر ہاتھ مرا تو  اندر بیٹھا خوبصورت مور سہم کر پیچھے ہوا۔
"سوری"  اسے بے اختیار شرمندگی ہوئی۔ اس کے اگے سیڑیان اترتے افق نے سر گھما کر اسے دیکھا اور پھر ہولے سے مسکرایا۔ پھر مسکراہٹ چھپانے کو رخ اگے پھیر کر نیچے اترنے لگا۔ اس نے اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی، وہ بہت مسحور سی ہو کر اس خوبصورت مور کو دیکھ رہی تھی۔
ان سیڑیوں کے دائیں اور بائیں جانب بہت بڑے بڑے پنجرے بنے تھے جیسے چڑیا گھر میں ہوتے ہیں۔ ان پنجروں میں مختلف پرندے ،مور اور بندر مقید تھے۔ اسے افسوس ہوا تھا کے اس نے اتنے خوبصورت مور کو ڈرا دیا تھا۔
"رک کیوں گئی ہو؟ چلو" !نشاء نے پلٹ کر اسے دیکھا، وہ سر جھٹک کر سیڑیاں اترنے لگی۔ وہ چاروں نیچے جھرنے پر جارہے تھے۔
پتھریلی روش جہاں ختم ہوتی اور جہاں سے پارکنگ لاٹ میں جانے کے لیے چند بے حد چوڑے زینے بنے تھے، اس جگہ پر ناشپتی کا ایک درخت تھا، جس کے تنے کے ساتھ کرسی پر ایک بوڑھا سیکورٹی گارڈ بیٹھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💓💜💛💚63💜💛💚💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 64
"یہاں سے ناشپتی نہیں توڑ سکتے؟ "اس نے بڑی حسرت سے درخت کو دیکھا۔
افق دھیرے سے مسکرایا، "وہاں جھرنے کے اوپر دائیں طرف کے پہاڑ پر چڑہتے ہوئے اگے جنگل ہے وہاں جنگلی ناشپتی کے بہت سارے درخت ہیں۔ وہاں سے توڑ لینا، اس درخت کو تو یہ آدمی تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گا" اس کی آواز میں تھکاوٹ تھی۔
"تم ادھر ہی پیدا ہوئے تھے یا یہ انفارمیشن ہم پر اپنے علم کا رعب جھاڑنے کو دیتے ہو؟
"نہیں ،دراصل میں جینیک ،جنگلی ناشپتی بہت شوق سے کھاتا ہے۔ پچھلی دفعہ وہ میرے ساتھ آیا تھا تو وہاں چشمے کے اوپر ہم نے ناشپتی کے درخت دریافت کیے تھے" ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"جینیک کون؟ "ارسہ اور نشاء نے پارکنگ لاٹ احاطہ عبور کرتے ہوئے بہ یک ساتھ پوچھا تھا۔
"میرا دوست، جینیک یقین۔ (jenk yakin )"اس کی آواز قدرے پژ مردہ سی ہوگئی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں، شاید سفر کے باعث تھک گیا تھا۔
جھرنے کا لکڑی کا پل عبور کر کے وہ دوسرے پہاڑ پر مقامی لوگوں کے بنائے گے کچے راستے پر اوپر چڑنے لگے۔ راستہ بہت کچا تھا، پریشے کے جوگرز پر مٹی لگ رہی تھی، اس نے ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے اور سر جھکا ہوا تھا۔ افق جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے برابر میں مگر چند قدم کا فاصلہ رکھے چل رہا تھا۔
"وہ رہے ناشپتی کے درخت "۔افق کی آواز پر اس نے چلتے ہوئے سر اٹھا کر اوپر دیکھا وہاں درختوں کے جھنڈ تھے۔ اسے سامنے پڑا پتھر دکھائی نہیں دیا، اس کا پاؤں پتھر سے ہلکا سا ٹکرآیا اور وہ جھٹکا کھا کر لڑ کھڑائی۔ افق نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
وہ لڑھکنے نہیں لگی تھی،  بلکے ہلکی سی لڑکھڑائی ہی تھی۔ مگر وہ سمجھا تھا کے وہ پہاڑ پر سے گر رہی ہے۔ اس لیے اس نے فوری ردعمل کے تحت اس کا ہاتھ پکڑ کر سہارا اور پھر فورن ہاتھ چھوڑ دیا۔ ارسہ اور نشاء ان سی کافی اگے جا چکی تھیں۔
وہ چلنے کے بجاۓ رک کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ قدرے وضاحت دینے والے انداز میں بولا
"سوری، میں سمجھا تم گرنے لگی ہو" ۔
"تمہارا داماغ درست ہے؟ "وہ اس کے سامنے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖64💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 65
"پری۔۔۔۔۔۔میں" ۔
اس نے افق کی بات سنے بگیر تیزی سی اس کی کلائی تھامی۔
"تمہیں بخار ہے، اتنا تیز بخار ہاتھ دیکھو، کتنا گرم ہورہا ہے اور نبض دیکھو کیسے دوڑ رہی ہے اور تم بجاۓ ریسٹ کرنے کے ہائیکنگ کرنے نکلے ہوئے ہو، ہاں! "اسے اس لاپروہ انسان پر بہت غصہ آیا تھا۔
"تم سے اتنا بھی نہیں ہوا کے مجھے بتا ہی دو۔ میں ڈاکٹر ہوں، تمہیں دوائی تو دے ہی سکتی تھی، مگر تمہیں خود کو اذیت دے کر اپنے آپ کو بہادر کھلوانے کا شوق ہے۔ تم انتہائی فضول انسان ہو! فورن واپس چلو میرے ساتھ"
وہ جو پہلے بوکھلا گیا تھا، اب مسکراہٹ لبوں تلے دبائے، سر جھکائے کھڑا اس کی ڈانٹ سن رہا تھا۔
"معاف کرنا ڈاکٹر، میرا نہیں خیال کے میں اتنا بیمار ہوں کے بستر سے لگ کر بیٹھ جاؤں۔"(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یہ فاصلہ کرنے والے تم نہیں میں ہوں۔ سمجھے تم؟ " وہ واپس جانے کو پلٹی تو وہ بھی سر جھکائے اس کی فکرمندی بھرے غصے سے محفوظ ہوتا اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی پہاڑ سے نیچے اتر رہی تھی۔
"ڈاکٹر میں واقعی اتنا زیادہ۔ ۔۔۔۔"(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی ۔وہ اس کے عقب میں محض ایک قدم کے فاصلے پر تھا، اس کے ایک دم مڑنے پر فورن پیچھے نہ ہوتا تو اس سے ٹکرا جاتا۔
"سنو تمہیں آخری مرتبہ بتا رہی ہوں۔ میرے سامنے اپنا منہ بند رکھو، مجھے بڑبڑاتے ہوئے مریض زہر لگتے ہیں"
افق نے تابعداری سے لبوں پر انگلی رکھ لی ۔
"سوری ڈاکٹر، اب نہیں بولوں گا"
اس کے لہجے اور شہد رنگ آنکھوں سے شرارت جھلک رہی تھی۔
"ہاں، اب ٹھیک ہے، چلو! " وہ اس کے اگے چلنے لگی۔
"ویسے کتنی دیر ٹک نہیں بولنا؟ "
"جب ٹک میں نہ کہوں اور اب خاموش رہو" وہ اسکے اگے چلتی ہوئی اوپر کمروں تک لے آئی ۔اسے پیراسیٹامول کی دو گولیاں دے کر سختی سے سو جانے کو کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖65💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 66
"مگر میں سونا نہیں چاہتا" بیڈ پر بیٹھے افق نے احتجاج کیا۔
"خاموش، بلکل خاموش رہو، ڈاکٹر کے سامنے اپنی زبان بند رکھا کرو" ۔
اس کو باقاعدہ ڈانٹ کر وہ اس کے کمرے سے آگئی۔ دوسری منزل پر کمروں کی قطاریں تھیں۔ سامنے لان تھا جو مسطیل شکل کا تھا۔ لان کے دھانے پر جہاں کھائی تھی، جھاڑیوں اور چند درختوں کی معمولی باڑ سی بنی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ اپنے بیگ سے دائری اور پین نکال لائی اور لان کے وسط میں بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر اپنے سفر کے متلعق لکھنے لگی۔ جب اسے یقین ہوگیا کے آس پاس اس کے سوا کوئی نہیں ہے تو جوگرز اتار کر پاؤں میز پر رکھ لیے اور ڈائری گھٹنوں پر۔ ڈائری لکھتے ہوئے وہ افق کے کمرے کی جانب نگاہ بھی دوڑالیتی تھی۔ ایک بار جا کر دیکھ بھی آئی،وہ آنکہ پر بازو رکھے سورہا تھا۔ وہ مطمئن ہو کر واپس آئی تو ایک چھوٹا سا بندر میز پر بیٹھا اس کی ڈائری کو چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔ ایک بندر نیچے گھاس پر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ اس کے قریب آتے دیکھ کر ایک بندر تو چھپاک سے غائب ہوگیا جب کے گھاس پر لیتا بندر احترامآ سیدھا ہوگیا۔
اس نے مسکراتے ہوئے اپنا پین بندر کی طرف بڑھایا جسے اس نے اپنی ہاتھوں کی مدد سے پکڑلیا، کچھ دیر وہ اس سے کھیلتا رہا، وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔ پھر یک دم بندر نے اس کا پین زور سے اچھلا ۔وہ لان کے دھانے پر سے ہوتا ہوا۔  نیچے کھائی میں گر گیا۔ پریشے کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
"دفع ہوجاؤ تم! "اس نے غصے سے پاؤں زور سے زمین پر مارا، بندر اچھلتا ہوا بھاگ گیا۔ پری نے افسوس سے کھائی کی طرف دیکھا۔ اس کا پین اب واپس نہیں آسکتا تھا۔
پھر وہ افق کے متلعق سوچنے لگی۔ اسے سیف کے متلعق سوچنا برا لگتا تھا، مگر افق کی باتوں کی شرارت بھری شہد رنگ آنکھوں اور اس کی لبوں میں چھپی مسکراہٹوں کو سوچنا اسے بہت اچھا  لگ رہا تھا۔
وہ شخص جسے چار دن پہلے تک وہ جانتی بھی نہیں تھی، اب بہت شناسا لگ رہا رہا تھا بلکہ نہیں  وہ شاید اس کوہ پیما کو صدیوں سے جانتی تھی، روح سے وجود میں آنے سے بھی پہلے، پہلی سانس سے بھی پہلے سے۔ ۔۔۔۔۔۔
اسے لگا افق کسی کو پکار رہا ہے، وہ کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑ کر آئی تھی۔ تب ہی آواز آرہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗66💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 67
وہ اتنی جلدی جاگ گیا؟
وہ جگا نہیں تھا، وہ شاید سو بھی نہیں رہا تھا۔ اس کا بازو اب اسکی آنکھوں پر نہیں تھا، اس کی پیشانی اور
پورا چہرہ پسینے سے تر تھا۔
"افق" !پریشے نے اس کے نزدیک ہو کر بغور اسے دیکھا۔ اس کے لب ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ وہ شاید کچھ کہہ رہا تھا۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میرا اکسیجن کین کہاں ہے؟ میرا اکساجن کین کہاں ہے؟ "بند آنکھوں اور نفی مے ہلتے سر کے ساتھ وہ مدھم آواز میں جیسے پکار رہا تھا۔
"افق، اٹھو۔ ۔۔"اس نے اس کا شانہ دھیرے سے ہلآیا اس کی قمیض پسینے میں بھیگی ہوئی تھی۔
"میرا اکسیجن کین۔ ۔۔حنادے، میرا اکسیجن۔ ۔۔۔۔"اس نے درمیان میں ترک زبان کا کوئی لفظ بولا تھا، وہ جیسے سمجھ نہیں سکی تھی۔ اس نے زور سے اس کا کندھا ھلآیا ۔افق نے فورن آنکھیں کھول دیں اور جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی اور خوف تھا۔ "مم،میرا اکسیجن کنٹیسز کہان ہے؟ "
"افق! " تمہارے پاس کوئی اکسیجن کین نہیں ہے، کیا تمہیں اکسیجن نہیں آرہی؟ سانس گھٹ رہا ہے کیا؟ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔
اس نے چونک کر پری کو دیکھا۔ "میں کہاں ہوں؟"پھر وہ اپنی ترک زبان میں کچھ بولا۔
"تم وائٹ پلس، مرغزار ،سوات میں ہو، تم نے شاید کوئی برا خواب دیکھا ہے"
"خواب؟ "وہ جھٹکے سے کمبل اتار کر بیڈ سے اتر آیا۔
"تم ٹھیک تو ہو" ؟اس نے دھیرے سے افق کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر چند قدم اگے بڑھ گیا۔ وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"تم، تم جاؤ یہاں سے" وہ اس کے جانب کمر کیے دیوار کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ اس سے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر انجآنا خوف اور  اضطراب رقم تھا۔
وہ اس کے سامنے آگئی اور بغور اس کے چہرے کو دیکھا جس کی رنگت کسی مرجائے ،پیلے گلاب کی طرح زرد ہو رہی تھے۔
"مجھے بتاؤ تمہیں کیا ہوا ہے؟ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖67💜💛💚💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 68
"تم جاؤ ادھر سے" وہ رخ موڑ کر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھسائے یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"تم ٹھیک نہیں ہو، تمہیں۔ ۔۔۔"
"جاؤ۔ ۔۔۔خدا کے لیے جاؤ یہاں سے۔ ۔۔جسٹ گیٹ اوٹ آف ہیر!" وہ ایک دم سے چلایا تھا، وہ سہم کر پیچھے ہوئی۔ اگلے ہی لمحے وہ کمرے سے باہر نکال آئی۔
اسے حیرت ہوئی تھی، وہ بہت بہادر کوہ پیما تھا، وہ تو جسمانی تکالیف کو خاطر میں نہیں لاتا پھر ایک خواب سے اس طرح سے کیوں ڈر گیا تھا؟ اس کے چہرے پر اتنا انجانا خوف کیوں تھا؟ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)

پھر تمام شام وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلا۔ پریشے نے اسکو رات کے کھانے پر اسکا انتظار کیا ۔تینوں وائٹ پلس کی پہلی منزل کی سفید عمارت کے برآمدے میں رکھے خوبصورت صوفوں پر بیٹھی کھانے کا انتظار کر رہی تھیں۔ جب وہ ان سے آن ملا۔
"میں ذرا لیٹ ہوگیا، معاف کرنا۔ میں اس بندر سے کھیلنے لگا تھا۔
"گھوڑوں کے علاوہ بندروں سے بھی آپکی اچھی خاصی انڈرسٹنڈنگ لگتی ہے۔ نشاء نے بے ساختہ کہا۔
"سمجھا کریں ناں۔۔۔!ڈراون کہتا تھا انسان پہلے بندر تھا۔ کیوں افق بھائی؟ "
"انسان پہلے بندر تھا یا نہیں، البتہ ڈراون کے آباواجداد ضرور بندر تھے"
وہ ایک۔ دم وہی پرانا، ہنستا مسکراتا افق لگ رہا تھا۔ شام والے واقعے کا اس کے چہرے پر شائبہ تل نہیں تھا۔ وہ سر جھٹک کر خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖68💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بدھ 27 جولائی 2005ء
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر بر آمدے میں آگئی۔ برآمدہ کافی طویل تھا اور ہر کمرے کے دروازے جی دونوں اطراف خوشنما پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ بر آمدے کے اگے سفید ستوں سے بنے تھے، وہ ایک ستون سے ٹیک لگاۓ سامنے کا منظر دیکھنے لگی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
قدرتی گرین گھاس سے ڈھکے مستطیل لان کے دہانے پر لگی جھاڑیوں کی باڑ کے ارد گرد ہی چھوٹا بندر چکراتا پھر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ادھ کھایا، چھوٹا سبز سیب تھا۔ وہ فجر کا۔ وقت تھا۔ ہر طرف گھیرا نیلاہٹ بھرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دور جنگل سے جانوروں کے بولنے کی آوازیں ماحول پر چھایا سکون چیر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖69💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 70
رات خوب بارش ہوئی تھی، برآمدے کی مخروطی چھت سے پانی تپک رہا تھا۔
تب ہی اس کی نگاہ گیلی گھاس پر پڑی ،جہاں ایک طرف سی کیاری میں جاۓ نماز بچہاے افق ارسلان نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے نیلی جینز کے پائنچے اوپر فولد کیے تھے۔ جسم پر جیکٹ اور مفلر نہ تھا البتہ اس نے پی کیپ الٹی کر کے سر دھانپ رکھا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
سینے پر ہاتھ باندھے ،سر جھکاے کھڑا وہ بہت اچھا لگ رہا تھا وہ گھاس پر آگئی، جوگرز کے بجاۓ نرم چپل پہنے کے باعث گیلی گھاس اس کے پیروں کو گیلا کرنے لگی تھی وہ سیڑیاں اترنے لگی۔
سیڑھیوں۔ کے دائیں طرف پنجرے میں مقید مور جاگے ہوئے تھے۔ نیلے اور سبز رنگ مور اپنے بدصورت پاؤں کے ساتھ ناچ رہا تھا۔ سفید مورنی کونے میں بیٹھی ناچ دیکھ رہی تھی۔
وہ ستائش سے رک کر انھیں دیکھنے لگی۔ اس کی موجودگی کا احساس کرکے مور رک گیا تھا اسی لمحے اسے مور اور خود میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ تھا وہ اتنا حسین مور اپنی خوبصورتی کے باعث تمام عمر کے لیے اس پینجرے میں مقید کردیا گیا تھا، بلکل ایسے جیسے خود اس نی خوبصورتی اور دولت نے(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) اسکے قدموں میں سیف کے نام کی زنجیر ڈالی تھی۔ کاش وہ اس وقت تھوڑی سی ہمت کر کے پاپا کو۔ منع کر دیتی۔
سیف کے متلعق سوچ کر ہی وہ اداس ہوگئی تھی۔ اس سمے اسے نیلے اندھیرے میں اس وقت مرغزاز بہت اداس لگا تھا اور جب وہ نیچے جھرنے کے پل تک آئی تو اسے سامنے والے درخت پر بیٹھی وہ چڑیا بھی بہت اداس گیت گاتی محسوس ہوئی تھی۔
وہ اس وقت پہاڑ پر بنے بل کھاتے کچے راستے پر چڑھ کر اوپر ناشپتی اور سیبوں کے درختوں تک پہنچ گئی تھی۔ ،جب اس نے اپنے عقب میں پکار سنی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اس نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔ افق پل پر چلتا ہوا اس تک آرہا تھا اسکے پاؤں میں جوگرز اور گردن میں مفلر تھا، الٹی پی کیپ اب سیدھی  ہو چکی تھی۔
وہ رک کر اس کا انتظار کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗70💛💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 71
"تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ "وہ چند قدم نشیب میں تھا۔
"تمہارا انتظار۔ مجھے علم تھا تم میرے پیچھے جھرنے تک ضرور آؤ گے۔ وہ سوچ کر بولی۔ "میرا ناشپتی کھانے کو دل چاہ رہا تھا" وہ اب اس کے قریب آ چکا تھا۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ اوپر چڑھنے لگے۔ گھیرا نیلا اندھیرا قدرے ہلکا ہوا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تم میری وجہ سے کل نہیں کھا سکی تھیں نا؟ "افق نے  بغیر کسی شرمندگی کے کہہ کر اسے ایک نظر دیکھا۔ وہ سرخ اور گلابی امتزاج کے شلوار قمیص میں ملبوس تھی، دوپٹہ گردن کے گرد لپٹا تھا اور بال اونچی پونی ٹیل میں باندھے تھے۔ اس پر اونچی پونی بہت اچھی لگتی تھی۔
"ہاں! "
وہ چڑھتے چڑھتے اب پہاڑ کے اوپر پہنچ گے تھے، اب بہت چھوٹا اور وائٹ پلس بہت دور دکھائی دے رہا تھا۔ وہ جگہ ناہموار تھی، بہت سے درخت اونچے نیچے ڈھالان پر اگے تھے۔ وہ ایک درخت پر چلی آئی۔
"کھاؤ گے؟ "ایک ناشپتی توڑ کر اس نے دوپٹے سے خوب رگڑ کر صاف کی یہ اس کا یہ اس کا سیبوں اور ناشپتیوں کو صاف کرنے کا اپنا طریقہ تھا اور افق کی طرف بڑہائی ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلادیا۔
"میں پھل نہیں کھاتا"
"کیوں؟ "پری نے حیرت سے بڑھا ہوا ہاتھ نیچے گرا دیا۔
"یونھی ۔اچھے نہیں لگتے" وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
"کھایا کرو، ان میں فائبرز ہوتے ہیں، معدے کے لیے اچھے ہوتے ہیں" وہ ڈاکٹروں کے مخصوص انداز میں کہتی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ "اور سنو ،تمہاری طبیت کسی ہے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"خود دیکھ لو" افق نے اپنی کلائی اس کی جانب بڑھائی ۔سنجیدہ لہجے کے پیچھے شرارت تھی۔ اس نے بس ایک سیکنڈ کو نبض پکڑی، پھر چھوڑدی۔
"ابھی تک بخار ہے، مگر کل کی نسبت ہلکا ہے۔ "افق نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
دور نیلے آسمان پر نارنجی سورج طلوع ہونے کو بے تاب تھا مگر گھرے سیاہ بادل اسے راستہ نہیں دے رہے تھے۔
"تم نے آج مور کو ناچتے دیکھا تھا، پری؟ "اس کی نگائیں آسمان پر چھاے بادلوں پر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖71💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 72
وہ خاموش رہی۔
"میں جب بھی ادھر آتا ہوں، یہ مور مجھے پہچان کر اپنا ناچ ضرور دیکھا تے ہیں۔ جن کو سیاح صرف لطف اندوزی کا سامان سمجھتے ہیں، وہ ہمارے جانے کے بعد ہمیں کرتے ہیں ہمیں پکارتے ہیں۔ تمہیں نہیں لگتا پری(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کے وائٹ پلس کی سیڑیوں کے ساتھ نصب پنجرے میں بند مور ہمارے جانے کے بعد ہمیں یاد کرے گا۔ اس جھرنے کا تیز بہتا پانی، پانی میں رکھے پتھر اور اس کے قریب لگے درخت پر وہ اداس گیت گاتی چڑیا ہمیں یاد کرے گی؟ سیاح سمجھ نھیں پاتا ورنہ وہ قدموں کے نشان تو صدیوں ان پتھروں مرغزاروں اور ان کچے راستوں اور ثبت رہتے ہیں۔
"کل شام تمہیں کیا ہوگیا تھا، افق؟ "وہ خاموش ہوا تو اس نے پوچھا۔ سوال اتنا غیر متقوا تھا کے افق نے چونک کے اسے دیکھا۔
"کل شام؟"
"ہاں۔ ۔۔کل۔ ۔۔شام! "پری نے آہستہ سے اپنی آواز دھورائی۔ ۔
"تم نے اپنی ناشپتی نہیں کھائی" ۔
"بات مت بدلو"_
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "بارش ہونے والی ہے، چلو واپس چلتے ہیں" کھڑے ہو کر اس بے ہاتھوں سے پینٹ جھاڑی،ایک سرخ رنگ کا کیڑا اس کے گھٹنے سے نیچے پتھرالی زمین پر گرا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تم جاؤ۔ میں بعد میں آجاؤ گی" پریشے نے خفگی سے منہ پھیر لیا۔
جھرنے کے بہتے پانی نے دیکھا تھا کے وہ دونوں اس پل ایک بر پھر اجنبی ہوگئے تھے۔
وہ کچھ کہے بنا وہاں سے چلا گیا وہ پھر ویسا ہوگیا تھا، جیسا کل شام تھا، جیسے جلیل کے ریسٹورنٹ میں تھا۔ اجنبی، ناشنا سا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پھر کتنی ہی دائر وہ بغیر کھائی ناشپتی ہاتھ میں لیے وہاں بیٹھی بیتے لمحوں کا شمار کرتی رہی تھی یہاں تک کے سیاہ بادل برسنے لگے۔ تب وہ اٹھی اور پہاڑ کی ڈھالاں سے اترنے لگی۔
وہ پری کو سیڑیوں پر موروں کے پنجرے کے قریب کھڑا تیز بارش میں بھیگتا ہوا دیکھا تھا۔ وہ بہت اداسی سے ترک زبان میں ان موروں کو کوئی گیت سنا رہا تھا، سبز اور نیلے پنہکھ فیلاے مور ناچ رہا تھا۔ افق کے سر پر پی کیپ نہیں تھی۔ بارش نے اسکا پورا جسم بھگو ڈالا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💓💜💛💚72💛💚💜💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 73
اسے یوں بارش میں دیکھ کھڑا دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا تھا۔
" کیوں کھڑے ہو تم ادھر ؟جاؤ اپنے کمرے میں۔ کتنی مرتبہ کہوں تم سے یہ بت؟ سمجھ میں نھیں آتی تمہیں؟  ابھی تمہارا بھی نہیں اترا ۔جاؤں جا کر آرام کرو" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ غصے سے بلند آواز میں چلائی تھی۔ سر پر ٹرے رکھ کر بارش کے پانی سے بچتے اس ویٹر نے جو تیزی سے سیڑیاں پہلانگتے ہوئے اتر رہا تھا، حیرت سے گردن پھیر کر ایک لمحے کو اسے دیکھا ضرور تھا،جو خود بارش میں بھیگتی اسے ڈانٹ رہی تھی۔
"تمہیں کوئی حق حاصل نہیں مجھ پر حکم چلانے کا! "وہ بھی جوابا چلایا تھا۔ ایک لمحے کو وہ چھپ سی ہوگئی۔ واقعی کہاں حق رکھتی تھی وہ ایک اجنبی پر؟
"ٹھیک ہے پھر مرو اس بارش میں"۔
وہ تیزی سے سڑیاں پہلانگتی اوپر آگئی۔ لان میں تین بندر  اٹکہیلیاں کر رہے تھے۔ لان کو بھاگتے ہوئے عبور کرتے اس نے راستے میں پڑی منرل واٹر کی خالی بوتل اٹھا کر میز پر چڑھے بندر کو زور سے ماری، بندر سہم کر جھاڑیوں کے پیچھے گم ہوگیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ بارش میں بھیگتی کمرے تک آئی تھی۔ ایک بارش سوات کے پہاڑوں پر ہو رہی تھی، ایک اس کی آنکھوں سے برس رہی تھی۔ وہ خود پر کمبل تان کر پوری دنیا سے چھپ کر رونے لگی۔ ارسہ اور نشاء پر سکون سو رہی تھیں۔
باہر موسلا دھار بارش میں چوڑی سیڑیوں کے درمیان موروں  کے پینجرے کے ساتھ کھڑا افق ارسلان ابھی ٹک بھیگ رہا تھا۔
وہ تمام دن کمرے میں رہی تھی پھر جب دن ڈھل گیا اور افق پر سیاہی پھیلنے لگی تو وہ ٹی وی کے اگے سے ہٹی ،جس پر پی ٹی وی اور جیو کے سوائے کوئی چنیل نہیں آتا تھا۔ اس نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا، پھر نشاء اسے زبردستی اٹھا کر وائٹ پلس کے باہر بنی(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) دکانوں تک لے آئی ۔اس کو سواتی شالوں اور قیمتی پتھروں کی شاپنگ کا کوئی شوق نہیں تھا، مگر محض نشاء کا ساتھ دینے کو وہ کافی دیر تک وہاں سرکھپاتی رہی۔
دونوں واپس آئیں تو وائٹ پلس کی سفید عمارت کے سامنے پھیلے وسیع و عریض لان کے وسط میں دائرے کی صورت میں احمر صاحب، شہلا ،آفتخار ،ارسہ اور افق بیٹھے تھے۔ افق کے پیچھے سنگ مر مر کی سفید بینچ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💖73💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 74
جس سے ٹیک لگاۓ وہ ایسے بیٹھا تھا کے دائیں ٹانگ گھاس پر پھیلا رکھی تھی بایاں گھٹنا سیدھا کھڑا تھا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے گھاس کے تنکے نوچ رہا تھا۔ اس کی پی کیپ اس کے سر پر تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
احمر صاحب اور باقی افراد کسی بحث محو تھے۔ نشاء بھی شامل ہوگئی ۔صرف اور وہ اور افق خاموش تھے۔ وہاں وائٹ پلس کے برآمدے سے انے والی روشنی اور چاند کی چاندنی کے  کے الوہ دوسری کوئی لائٹ نہیں تھی جس کے باعثاس کا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکی تھی۔ مگر وہ اسے صبح کی نسبت بہتر لگا تھا ۔
"اتا ترک کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے، افق؟ "احمر انکل بحث کو مشرف سے اتا ترک ٹک لے گے تھے، ان کے پکارنے پر اس کی گھاس نوچتی انگلیاں رکیں، اس نے چہرہ اونچا کیا تو چمکتی چاندنی نے اس کے چہرے کے خدو خال کو قدرے واضح کیا تھا۔ نقاہت اور بیماری واضح تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اتا ترک؟ "اس نے دہرآیا پھر شانے اچکادیے۔
"وہ ترکوں کا۔ باپ تھا"kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

"باپ کبھی بچے کی غلط رہنمائی کرتا" احمر صاحب سے پہلے ہی پریشے تیزی سے بولی۔ وہ خفیف سا مسکرایا۔
"تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں اردگان کا حامی ہوں۔ "اسنے اپنی پی کیپ کی جانب کچھ اشارہ کیا ض جیسے وہ سمجھ نہ سکی۔
"ویسے میں نے سنا ہے تمہارا ڈکٹیٹر اتا ترک کو آئیڈیالائز کرتا ہے اور روانی سے ترک زبان بولتا ہے؟ "قدرے توقف سے اس نے سوال کیا ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"وہ اس لیے کے ہمارے ڈکٹیٹر کو اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے" نشا ڈکٹیٹر کے ذکر سے چڑ گئی۔
"نشا یہ ڈکٹیٹر پادشاہ (padshah)  ہوتے ہیں۔ پادشاہوں سے بھی زیادہ اختیار ہوتے ہیں ان کے پاس۔ ویسے میں نے سنا ہے کہ تمہارا پادشاہ ۔۔۔۔یورپ اور امریکا سے انے والوں کی بہت قدر کرتا ہے۔ مجھے تو اسنے آج تک نہیں پوچھا۔ شاید اس لیے کے میں مسلمان ہوں؟ "
"فکر مت کرو۔ تم رکاپوشی سر کر لو، تمہیں کوئی ایوارڈ دلوا ہی دیں گے! "نشا نے کہا۔
"کون سا ایوارڈ؟ نشان حیدر؟ "وہ دلچسپی سے بولا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗74💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 75
"نہیں نہیں۔وہ تو شہید ہونے کے بعد ملتا ہے اور ملٹری عزاز ہے۔ خیر تم پہلے کوئی پاکستانی پہاڑ سر گو کرو قومی عزاز کے بارے میں بعد میں سوچیں گے" ۔
وہ بدمزہ سا ہو کر پیچھے ہوا۔ "میں گیشر بروم ٹو، براڈ پیک اور نانگا پر بت سر کر چکا ہوں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
تمہارے صدر نے مجھے کبھی نہیں بلایا۔ اب تو میں نے امید لگانا بھی چھوڑ دی ہے" وہ بہت مصنوعی افسوس سے کہہ رہا تھا۔
"تم نے نانگا پر بت سر کیا ھے؟ دی کلر ماؤنٹین؟"پریشے چونکی تھی۔
"ہاں" ؛وہ کیپ ٹھیک کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
"میں چلتا ہوں، آپ لوگ باتیں کریں"۔
پری کی نگاہوں نے لان عبور کر کے سیریان چڑتے افق کا دور تک تعاقب کیا تھا، آج وہ موروں کے پنجرے کے پاس نہیں روکا تھا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
محفل جاری تھی جب وہ وہاں سے اٹھ کر اوپر آگئی۔ وہ افق کو تلاش کر رہی تھی۔ وہ مستطیل لان میں نہیں تھا،  نہ ہی اپنے کمرے کے آگے بنے برآمدے میں، وہ تو اپنے کمرے میں بھی نہیں تھا۔ لان میں اس رات بندر بھی نہیں تھے۔
وہ تیسری منزل پر آگئی۔ ایک نگاہ میں اس نے اطراف کا جائزہ لیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
چوکور احاطے کے دائیں طرف کونے میں اگے جا کر ایک بالکونی بنی تھی۔ اسے وہاں افق کی جھلک دیکھائی دی۔ وہ وہیں آگئی۔
وہ بالکونی پورانے وقتوں کے محلوں کی طرز پر بنی تھی۔ اس کی ریلنگ اونچی تھی جس پر کہنیاں ٹکاے وہ قدرے جھک کر نیچے جہرنے کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے عقب میں آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کی کیپ کا پچھلا حصہ اس کے سامنے تھا،  اس پر سفید مر کر سے کسی نے ہاتھ سے لکھ رکھا تھا،
۔ Hail to tayyip erdogan اس نے یہ فقرہ پہلی بار نوٹ کیا تھا۔
افق اپنے گردپیش سے بے خبر دھیمی آواز میں کچھ گنگنا رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"سون اکشام استورین ۔۔۔۔انجے بانا سوزویر۔ ۔۔"
یک دم کسی کی موجودگی کا احساس کر کے اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
"تمہاری کیپ پر طیب کے بے غلط لکھے ہیں، طیب کے آخر میں "B" آتا ہے، تم نے "P" لکھا رکھا ہے۔ "اس کے خود کو سولیہ نظروں سے گھورنے پر جو اس کے منہ میں آیا وہ بول پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖75💛💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 76
"میں نے نہیں لکھا۔ "چہرہ واپس جھرنے کی طرف موڑ کر وہ بے نیازی سے بولا، یہ جینیک کی کیپ ہے اس نے لکھا ہے۔ ترک زبان میں "B" کی جگہ "P" استمال ہوتا ھے یہ اس نے انگریزی میں اس لیے لکھا ہے کے وہاں ترک میں لوگ انگریزی سے نابلد ہیں۔ اور وہاں  کی ملٹری ،اردگان کو پسند نہیں کرتی۔ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"مگر تمہاری انگریزی تو بہت اچھی ہے" وہ اس کی طرح ریلنگ پر کہنیان ٹکاے کھڑی ہو گئی۔ فرق یہ تھا کے وہ سامنے دیکھ رہا تھا اور وہ اسے۔
"میں بچپن میں کافی عرصہ امریکا میں رہا ہوں، شاید اس کا اثر ہو"
"اچھا تم نے جینیک کی کیپ کیوں لے رکھی ہے" ؟
"میں مصر جا رہا تھا تو انقرہ کے ایئرپورٹ پر یونہی مزاق میں،  میں نے اس کے کیپ چھینی اور اس نے میری۔ بس پھر بعد میں واپس ہی نہیں کر سکا" ۔وہ رکا اور قدرے توقف سے بولا۔
"ہم دونوں انجنیر ہیں اور سائٹ پر جاتے ہوۓ کیپ لیتے ہیں کہ دھوپ ہوتی ہے، تو بس عادت پڑگئی ہے۔
"اور یہ مفلر؟" اس نے گردن میں موجود مفلر کی طرف اشارہ کیا۔ افق نے گردن جھکا اسے دیکھا۔
"یہ مفلر نہیں ہے۔ یہ ترکی کا جھنڈا ہے" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اوہ! " وہ حیران ہوئی، میں تو اسے مفلر سمجھی تھی" ۔
"میں اسے رکاپوشی پر لہرانے کو لایا ہوں۔ "وہ پھر سے اندھیرے میں دیکھنے لگا تھا۔ وہ اس کی جانب دیکھنے سے دانستہ گریز ترچھی کر کے اسے دیکھا۔
"تم ابھی کیا گا رہے تھے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کچھ نہیں۔ ۔۔ہمارا ایک لکھاری ہے احمت اومت، اس نے لکھی تھی۔ ایک نظم ہے۔ ۔۔۔۔۔پھر وہ رخ پھیر کر ریلنگ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا اور دونوں بازو سینے پر باندھ لیے۔
"کیا۔ مطلب ہے اس کا؟ "
افق اس کا مطلب سمجھانے لگا۔
"مجھے سناؤ نا۔ ویسے ہی جیسے تم ابھی گنگارہے تھے۔ "وہ ضد کر رہی تھی۔ چند لمحے خاموش رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖76💜💛💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 77
پھر وہ بہت مدھم آواز میں گنگنانے لگا۔
"سون اکشام استودیں۔۔۔۔انجے بانا سوزویر۔ ۔۔"
"زندگی کے سفر میں بکھرنے سے
ملن کی آخری شام کے ڈھالنے سے
اور ایک دوسرے کی سانسوں (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
دھڑکنوں کی آخری آواز سننے سے
کہ جس کے بعد تم میری دنیا سے دور چلے جاؤگے
تمہیں مجھے سے
ایک وعدہ کرنا ہوگا
کہ جب بھی سورج طلوع
اور انا طولیا کی گلیوں میں روشنی
کے قطروں کی طرح گرے گی (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اور ارا رات کے جامنی پہاڑوں پر جمی برف پگہلے گی۔
اور پھر جب اس برف میں دبی داستان مر مرا کے
پانیوں میں بہ جاۓ گی۔
تب تمہیں مجھے سے ایک وعدہ نبھانا ہوگا
کے اس رات کے بعد اپنی زندگی میں انے والی
ہر صبح کی ٹھنڈی ہوا
اور ہر بارش کے بعد گیلی مٹی
اور جامنی پہاڑوں پر دودھ کی سی
جمی برف کو دیکھ کر (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
تم مجھے یاد کرنا
کے یہ میرا تم پر
اور تمہارا مجھے پر
قرض ہے
وہ اسی مدھم سر میں ریلنگ سے ٹیک لگاۓ، آنکھیں موندے گنگنا رہا تھا اور وہ اس کے لہجے میں اس کی آواز میں کھوئی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖77💛💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ عروصہ علی جنہوں نے بکس سے دیکھ کر اردو میں وہ بھی موبائل پر لکھ کر ہمیں

دفتا بادل گرجے تو افق چونک کر رک گیا اور گردن اٹھا کر سیاہ تاریک آسمان کو دیکھنے لگا۔
"چلو چلتے ہیں، بارش ہونے لگی ہے" وہ چل پڑا۔ پری اس سے پیچھے، اس کے جوتوں کے نشانات پر جو گھاس میں گم ہو رہے تھے، پاؤں رکھتی چلنے لگی۔
نیچے، اپنے کمرے کی چوکہٹ پر پہنچ کر، دروازہ بند کرنے سے پہلے افق نے ایک لمحے کو رک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ آئی ایم سوری۔ ۔۔۔آئی ایم سوری فار ایوری تھنگ۔ "صبح والے واقع کے متعلق دھیمے سے کہہ کر اس نے دروازہ بند کردیا۔ وہ بے اختیار مسکرا دی۔

جمرات ،28جولائی 2005ء
سوات کے پہاڑوں پر ٹھنڈی، پر نم اور بادلوں سے ڈھکی صبح اتری ہوئی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح طلوح نہیں ہوا تھا، کل کی طرح آج بھی بادلوں نے آسمان کو اپنی راجدہانی بنایا ہوا تھا۔ مگر آج ان کا رنگ ہلکا تھا۔
"خدا کرے آج بارش نہ ہو" اپنے کمرے سے باہر برآمدے میں آتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں بے اختیار دعا(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) مانگی تھی۔ آج انھیں سوات سے کالم جانا تھا۔ کالام تھا تو ضلع سوات تہصیل ہی مگر پھر بھی لوگ مینگورہ اور سید و شریف کو ہی سوات بولتے تھے۔
برآمدے سے باہر لان کے وسط میں جس جگہ کل وہ نماز پڑھ رہا تھا، آج بھی ادھر ہی بیٹھا تھا پر آج وہ نماز نہیں پڑھ رہا تھا۔ اس نے کیپ الٹی کر کے پہن رکھی(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) تھی، پاؤں میں جرابیں تھیں اور جینز کے پائنچے اوپر تہ کیے ہوئے تھے اور آنکھیں بند کیے وہ بلکل گو تم بدھا  کے انداز میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے یوگا کر رہا تھا۔
وہ دبے قدموں سے چلتی اس کے عاقب میں آئی جوتے ایک طرف اتارے  اور اس کے پیچھے دائیں طرف اسی بدھا والے انداز میں التی پالتی کر کے بیٹھ گئی۔
افق نے آنکھیں کھولیں اور ہاتھوں کی پوزیشن بدلنے ہی لگا تھا کے کسی احساس کے تحت سر پیچھے کر کے(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) دیکھا۔پریشے  کو اپنے پیچھے یوگا کے انداز میں بیٹھے دیکھ کر اسکی آنکھوں

۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚❤78💜💛💚💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفحہ نمبر 79
میں خوشگوار حیرت در آئی ۔
"صبح بخیر۔۔۔یوگا؟ "اس نے یک لفظی استفسار کیا۔
"صبح بخیر۔ ۔۔۔ہاں، یوگا! "
وہ گھاس پر لیٹ گیا، بازو سر کے پیچھے کر کے پاؤں کیاری کی اینٹوں تک لمبے کیے اور فلور پوز کرتے ہوئے(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) پوری قوت سے اینٹوں کو دھکیلا۔
"کب سے کر رہی ہو یوگا" ؟
"دو منٹ پہلے سے" وہ اپنے جواب پر خود ہی ہنس پڑی ۔
"واقعی؟ "گھٹنے کو لیٹے لیٹے سینے تک لے جاتے ہوئے افق نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"نہیں۔ ۔میں سولہ سال کی عمر سے یوگا کر رہی ہوں"
"تب ہی تم اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی ہو" وہ اب بائیں گھٹنے کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے کر رہا تھا۔
"شکریہ۔ ۔۔۔میں کتنے سال کی دکھائی دیتی ہوں؟ "
"سولہ سال کی! "
"میرا خیال ہے اب تم جھوٹ بول رہے ہو"
"جھوٹ نہیں، مبالغہ آرائی ۔"وہ ہولے سے ہنسا" تم اکیس بائیس برس کی عمر کی لگتی ہو۔ اس سے زیادہ نہیں" وہ یوگا چھوڑ کر لان میں رکھی سفید کرسی پر جا بیٹھی۔
"کیا ناراض ہوگئیں؟" وہ ماؤنٹین پوز کرنے کے لیے کھڑا(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) ہوگیا تھا۔
"اونہوں"  اس نے نفی میں گردن ہلائی،
"میں ہفتے میں تین دن یوگا کرتے ہوں، آج وہ دن نہیں ہیں"
وہ سر ہلا کر خاموشی سے یوگا کرتا رہا۔ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ دور جنگل سے جانوروں کے بولنے کی آوازیں وقفے وقفے بعد سنائی دے رہی تھیں۔
"کتنے بجے جانا ہے کالام؟ "وہ اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی، سو یہی پوچھ لیا۔
"ظفر نے آٹھ بجے کہا تھا" اپنی مشق ختم کر کے اس نے گھاس پر رکھی کیپ، جو اس نے لیٹنے سے پہلے اتار دی تھی، اٹھا کر سر پر رکھی اور میز پر پڑی گھڑی اپنی بائیں کلائی میں پہننے لگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤79❤💙❤💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 80
"تم کتنی دفعہ ان علاقوں میں آچکے ہو؟ "
"دو مرتبہ پہلے آیا تھا، ایک بار تب جب گیشر بروم ٹو سر کرنے آیا تھا اور دوسری بار دو سال پہلے" وہ گھاس پر بیٹھا جوگرز پہن رہا تھا۔
"دو سال پہلے کیوں آئے تھے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یونھی"وہ سر جھکاے جوگرز کے تسمے بند کرتا رہا۔ پریشے جواب کے انتظار میں اس کے ہاتھوں پر نگاہیں مرکوز کیے رہی، بائیں کلائی میں پہنی گھڑی کو آج پہلی دفعہ اس نے غور سے دیکھا تھا۔ اس کے سیاہ چمکتے ڈائل کے درمیاں میں ہیروں کا چھوٹا سا اہرام بنا تھا۔
"اچھی ہے نا میری گھڑی؟ سکندریہ سے لی تھی۔ مصری اپنا ٹریڈ مارک ہر چیز میں بہت اچھے سے ڈالتے ہیں" وہ ہنس کر کہتا ہوا پینٹ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔
"یہ ہمارے وائٹ پلس میں آخری دو گھنٹے ہیں آؤ یہاں گھومتے پھرتے ہیں"وہ اسکے ہمراہ سیڑیون کی طرف چلی آئی۔
"تم نے وہ کمرہ دیکھا ہے پہلی منزل، جسے رائل سویٹ کہتے ہیں، وہ سیڑیوں سے  اترتے ہوئے۔ اس کو اس تین سو سال قدیم وائٹ پلس کی تاریخ بتانے لگا اس نے بے اختیار جماہی روکی۔
"یہ ہوٹل پہلے والیء سوات کا محل تھا پھر۔ ۔۔"وہ سیڑیاں اترتے ہوئے اسے بہت کچھ بتا رہا تھا۔ وہ بور ہونے لگی تھی۔ اسے وائٹ پلس کی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر محض جس کا دل رکھنے کو وہ سنتی رہی۔
موروں کا پنجرہ پیچھے چھوڑ کر وہ نیچے روش پر آئے تو وہ بڑا سالان خاموشی میں ڈوبا تھا۔  لان کے اختتام پر ناشپتی کا درخت تھا، جس کے ساتھ کرسی ڈالے بوڑھا سیکیورٹی گارڈ بیٹھا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تم کیا ہر سال یونھی سیر و سیاحت کے لیے نکل جاتے ہو؟ "وہ دونوں چلتے چلتے لان کی ایک طرف بنے نیلی ٹائلز والے فوارے کی منڈیر پر بیٹھ گے۔
"ہر سال؟ میں تو سال کے دس مہینے نگر نگر پھرتا ہوں۔ میں پیدائشی سیاہ ہوں۔ مجھے ہر جگہ ایکسپلور (دریافت )کرنے کا شوق ہے۔ اس کل گھوم پھر کر دیکھنے کا شوق ہے۔ سیاحت  زندگی بدل ڈالتی ہے۔ آپ ایک دفعہ پہاڑوں پر نکل جائیں تو واپسی پر آپ ویسے نہیں ہوتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤80💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 81
آپ بدل جاتے ہیں پہاڑوں کا سفر انسان کو بدل ڈالتا ہے۔ اس کے بعد "the life is never same again .
میمز نے کہا ths، اگر عالمی لیڈرز چند دن کسی پہاڑ پر اکٹھے چڑتے گزار دیں، تو دنیا کے تمام معملات اور مسائل حل ہوسکتے ہیں اور اگر دو اچھے کوہ پیما بھی چند دن رکاپوشیپر ساتھ گزاردیں تو یقین کرو ان کے بھی سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ "افق نر بڑی سنجیدگی اور معصومیت سے کہا تھا وہ مسکرا دی۔
"ہوسکتا ہے مسائل بڑھ جائیں" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کم آن۔ تم ایک کلائمبر ہو، تمہیں دنیا کا سب سے خوبصورت پہاڑ دیکھنا چاہیے"
"میں نے تصویر میں دیکھ رکھا ہے" "تمہیں اسے سر کرنا چاہیے"!
"وہ میں خیالوں اور خوابوں میں کئی دفعہ کر چکی ہوں"
"مگر تمہیں "میرے" ساتھ سر کرنا چاہیے۔ اس نے "میرے" پر زور دیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"نا ممکن ہے کیوں کے پاپا مجھے قراقرم کی شکل دوبارہ نہیں دیکھنے دیں گے، میں انھیں اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ گارڈ کہاں جا رہا ہے؟ "اس کے اصرار سے بچنے کی خاطر اس نے اس کی توجہ بوڑھے گارڈ کی طرف دلائی ،جو کسی کام سے ہوٹل کی عمارت کی طرف جا رہا تھا۔ افق نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ "اس کو شاید کسی نے بلایا ہے۔ "
"تم نے کبھی چوری کی ہے؟ "افق نے گردن واپس گھما کر آنکھیں سکیڑ کر مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔"نہیں" !
"میں نے بھی نہیں کی مگر اب دل کر رہا ہے" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"چوری کرنے کا" ؟
"نہیں تم سے کروانے کا" اس نے معصومیت سے کہا۔
"مطلب کیا ہے تمہارا" ؟افق نے اسے گھورا ۔
"تم جانتے ہو، تم بہت گڈ لوکنگ ہو"
"میں خوشامد سے متاثر نہیں ہوتا۔ سوری" !
"اور تم ایک بہت اچھے انسان بھی ہو" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙81💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 82
"میں سچ سن کر بھی غلط کم نہیں کرتا"
"اور میں دعا کروگی کے تم راکاپوشی سر کر لو۔ اگر تم مجھ اس درخت پر سے ایک ناشپتی لادو تو" !
وہ چند لمحے خاموشی سے اسے گھورتا رہا پھر بولا۔
"بہت بہتر ۔لاتا ہوں" وہ چند قدم فاصلے پر اگے درخت تک گیا اور ہاتھ بڑھا کر ایک شاخ کو اتنی زور سے پکڑا کے اس پے بیٹھی چڑیا سہم کر اڑ گئی۔
"اوہ۔ تم نے اسے ڈرا دیا" پری نے تاسف سے آسمان پر اڑتی چڑیا کو دیکھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
شاخ ہاتھ میں پکڑے،افق نے رک کر بغور اسے دیکھا۔ پھر مسکرا دیا۔
"تم میری زندگی میں انے والی پہلی لڑکی ہو،  جو چڑیا کی پرواہ اور موروں سے سوری کرتی ہے"
(زندگی میں؟ کیا وہ اس کی زندگی میں آچکی تھی؟)
"ادھر ترکی میں ہوتی ہیں ناشپاتیاں؟"اس نے بے تکا سوال کیا۔
"ترکی میں سب کچھ ہوتا ہے" اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک موٹی تازی رسیلی سی ناشپتی توڑی ۔
"اس کو میں مبالغہ آرائی کہوں؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"نہیں، تم اس کو ایک محب وطن ترک کا فخر کہو" وہ مسکراتا ہوا ناشپتی لیے اس کے قریب لے آیا۔
"یورہائنیس،  ایک ترک سیاہ کی طرف سے یہ حقیر سا تحفہ قبول فرمایں "اس نے ناشپتی ہتھیلی پر رکھے اس کی طرف بڑھائی۔
"شکریہ، ویسے کیا سارے ترک چوری کے تحفے دیتے ہیں" ؟اس نے اسے چڑاتے ہوئے ناشپتی اٹھالی۔
"کوئی پری مانگے تو دے بھی دیتے ہیں" وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ دونوں فوارے کے کنارے بیٹھے تھے اور ٹانگیں نیچے لٹکا رکھی تھیں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یہ۔ ایک یادگار ناشپتی ہوگی ۔میں شروع کروگی اور تم ختم۔ ٹھیک؟ "پری نے ناشپتی کی ایک بائٹ لی، اس کا ذائقہ منہ میں محسوس کیا اور اگلے ہی پل اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
"ہنس کیوں رہی ہو؟ "
"یہ ناشپتی نہیں ہے افق! ہمارے ساتھ تو دھوکا ہوگیا۔ یہ تو ببو گوشہ ہے"  وہ مسلسل ہنسے جارہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💖82💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 83
"اور کرو چوریاں ۔دیکھ لیا، یہ ہوتا ہے چوری کا انجام۔ تم ناشپتی سے ملتے جلتے پھل کو ناشپتی سمجھ کر دھوکا کھا گئیں۔ بہت اچھا ہوا" وہ مصنوعی انداز میں ڈانٹ رہا تھا وہ ہنستی جارہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اچھا سنو، مجھے بھی چکھاوء اور اس کو ختم نہیں کرنا۔ یہ ہم اس فووارے کے پیچھے رکھ دیگے ۔
یہ ایک یادگار ہے۔ کبھی ہم دوبارہ ادھر آئے تو اسے ضرور ڈھونڈیں گے" اس نے ایک بائٹ لے کر آدھا کھاۓ بگو گوشے کو فوارے کے پیچھے کر کے ایک جگہ چھپا دیا اور وہ جو ہنسے جا رہی تھی یک دم رک گئی۔
"کبھی ہم دوبارہ ادھر آئے ۔۔۔؟ہم۔۔۔؟افق نے "ہم" بولا تھا مگر کیوں؟ "
اس نے ایک نگاہ اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر ڈالی اور پھر سر جھکا لیا۔ مستقبل کسی آٹھ ہزار میٹر پہاڑ کی چوٹی کی طرح دھند میں لپٹا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)

جمعہ ،29 جولائی 2005ء
"ارسہ تم اپنے ناول میں یہ بھی لکھنا کے جب ہم لوگ ۔۔۔سوری ،میرا مطلب ہے جب تمہارے کردار کلام کی مال روڈ اور پہنچے تو وہاں مری مال روڈ کی طرح رش تھا، پورے پاکستان کی لوفر لڑکے وہاں جمع تھے اور یہ بھی لکھنا کے کلام سے روز صبح نو بجے کرائے کی لینڈ کروزر،جیپیں پجاروز دو مختلف "روٹس"پر جاتی ہیں اور سنو تم یہ بھی لکھنا کے تمہارے کردار آنسو جھیل والے روٹ کے بجاۓ ماہوڈ ھند جھیل والے روٹ پر جارہے تھے، ہماری طرح ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔"(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ چاروں اگے پیچھے مال روڈ کے کنارے پر چلتے ہوئے دائیں طرف بہتے دریا پر بنے پل کی طرف جا رہے تھے، جس کے دوسری طرف سڑک پر لینڈ کروزر اور پراڈوز کی لمبی قطار کھڑی تھی،  ان کرائے  کی گاڑیوں کے ماہر ڈرائیور اپنے اپنے مسافروں کا انتظار کر رہے تھے۔
"اگے میں بتاتا ہوں ارسہ! اگے تم لکھنا،  ان کے پاؤں کے نیچے سڑک تھی اور سر پر آسمان تھا اور دریا کا پانی بہت شور مچاتا تھا۔ ۔۔"وہ ارسہ کو۔ جس طرح کے مشورے دے رہے تھی، اس انداز میں نکل کرتے ہوئے وہ بولا تو پریشے نے برا سا منہ بنایا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💙❤83💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 84
"زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔ میں صرف اسے مشوارہ دے رہی تھی۔
"ہاں تو میں بھی مشوارہ ہی دے رہا ہوں۔ "وہ اسے چڑا رہا تھا، وہ خفگی سے سر سب سے تیز چل کے اگے نکل گئی۔
"سنو ارسہ! ایک خبر سناؤ؟ "پیچھے آتے افق نے دانستہ آواز میں محض اسے چڑانے کے غرض سے کہا، پری نے چلتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ارسہ ،توماز ہومر پاکستان میں ہے"
کانوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود اسے سنائی تو دیا تھا، خبر ہی ایسی تھی کے وہ جھٹکے سے پوری آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا۔ "واقعی؟ کدھر؟ کالام میں ہے؟ "
"میں تو ارسہ کو بتا رہا تھا" وہ تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
"ہاں تو اسے ہی بتاؤ میں کون سا سن رہی ہوں" اس نے شانے جھٹکے اور اگے نکل گئی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ویسے ارسہ ،وہ نانگا پر بت جا رہا ہے"
"میں نہیں سن رہی" ۔پری نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اتنی بلند آواز میں کہا کے پاس سے گزرتے دو لڑکے رک کر اسے دیکھنے لگے۔
"تم لوگ کیا سڑک کے بیچ میں کھڑے ہو کر ٹین ایجیرز والی حرکتیں کر رہے ہو؟ تینوں کے گھورنے کا اسے احساس ہوا اور پھر پل پار کرنے تک وہ سارا راستہ خاموش رہی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ اس گرے اور سلوار پیراڈو پر ماہوڈ ہنڈ کے روٹ پر جارہے تھے زیادہ تر گاڑیاں ماہونڈ دھند ہی جارہے تھیں ،آنسوں جھیل کی طرف سیاح بہت کم جاتے تھے۔ کرائے کی ان گاڑیوں کے ڈرائیور پر خطر راستوں پر ڈرائیونگ میں مہارت رکھتے تھے۔ لاہور، کراچی میں گاڑی چلانے والا عام ڈرائیور کالام سے اگے کے ان راستوں پر گاڑی نہیں چلا سکتا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ پراڈو کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ڈرائیور اسے پہچان گیا تھا۔ کل شام کالام پہنچتے وقت پریشے ہی تو۔ تھی، جس نے ظفر کے ساتھ اس ڈرائیور سے آج کی سواری کا سودا طے کیا تھا۔ ظفر اسے بارہ سو دینا چاہتا تھا جب کے ڈرائیور پندرہ سو مانگ رہا تھا۔ پریشے کو تین سو روپے ک لیے بحث کرنا صہیح نہیں لگا، اس لیے اس نے معملا خود ہی طے کر دیا تھا۔
وہ پراڈو کے ساتھ کھڑی پل کی جانب دیکھنے لگی، جہاں وہ تینوں اگے پیچھے کھڑے تھے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙84💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 85
افق سب سے اگے تھا۔ سیاہ جینز ،مہرون شرٹ، سفید ٹورسٹ جیکٹ، گردن میں سرخ مفلر سر پر پی کیپ، پاؤں میں جوگرز اور کندھے پر بیک بیگ اٹھاۓ چیونگم چباتا وہ اسکی جانب آرہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
ملتے رنگوں کے اس امتزاج پر پریشے کو حیرت ہوئی تھی، کیوں کے اس نے خود بھی سیاہ ٹراوززر کے ساتھ مہرون ،کشمیری کڑھائی والا کرتا اور بڑا سا ڈوپٹہ لے رکھا تھا۔ بالوں کو اس نے کیچر میں باندھ رکھے تھے اور پاؤں میں گلابی اور سفید جوگرز تھے۔
افق پراڈو کی اگلی جانب کے وہ تینوں پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ سے بلکل پیچھے بیٹھی تھی تا کے اسے افق کا چہرہ ٹھیک سے دکھائی دے۔ اسے خود پر بھی حیرت ہوئی کے جب وہ مری میں تھے تو وہ اس سے بات تک نہیں کر رہی تھی۔ اور اب وہ کتنے اچھے دوست بن چکے تھے۔ اس سفر میں اسے پانچ دن بھی نہیں ہوئے تھے اور یوں لگتا تھا کے جسے صدیاں بیت گئی ہوں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پراڈو پر خطر راستوں پر دوڑنے لگی تو وہ کھڑکی سے بائیں طرف بہتے نیلے دریا کو دیکھنے کے بجاۓ افق سے پوچھنے لگی،۔
"تمہیں کیسے پتا کے توماز پاکستان آیا ہوا ہے؟ "
"میں اسکا میڈیا ایڈوائزر تو ہوں نہیں، ظاہر ہے اخبار میں ہی پڑھا ہے"
"تم اس سے کبھی ملے ہو؟ "اسے جاننے کا بہت اشتیاق تھا۔
"پریشے جہاں زیب، یہ کلائمبنگ ورلڈ بہت چھوٹی اور گول ہوتی ہے،  یہاں درجنوں بار آپ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ میں توماز سے پچھلی بار نانگا پر بت پر ٹکرایا تھا، وہ آرہا تھا اور میں جارہا تھا "
"کیسا ہے دیکھنے میں؟ اتنا ہی گڈ لوکنگ جتنا تصویروں میں آتا ہے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اب میں اس سے جیلیس ہو رہا ہوں اس لیے پلیز اس موضوع کو بند کرو" وہ مسکین سی صورت بنائے ہاتھ جوڑ کر بولا تو وہ بڑبڑاتی ہوئی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
"ویسے پری"  اس نے محض چھیڑنے کی غرض سے اسے پکارا،
"تمہاری گورنمنٹ ان علاقوں میں گیس کیوں نہیں لاتی؟ یہ لوگ دیار کی قیمتی لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"گورنمنٹ وردی اتار دے یہ بہت ہے۔ گیس بھی آتی رہے گی" نشاء گورنمنٹ کے ذکر پر بدمزہ ہوگئی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔ پریشے خاموش رہی کیوں کے غیر ملکیوں کے سامنے وہ اپنے ملک کی کسی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙85💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔



صفحہ نمبر 86

خامی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی کے افق یہ موضوع چھوڑ دے ۔چور نظروں سے اسنے ارسہ کو بھی دیکھا۔ ارسہ نے بات سنی ہی نہیں تھی۔ وہ بیتابی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کچھ تلاش کر رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کیا ہوا ارسہ" ؟
"وہ۔۔۔۔ابھی آتا ہے تو دکھاتی ہوں۔ ۔۔پچھلے سال تو ادھر ہی تھا۔ پتا نہیں کدھر گیا وہ دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے کو متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
"مگر تھا کیا" ؟
"پہاڑ تھا، پتا نہیں کدھر گم ہوگیا ہے" وہ فکرمند سی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"لیں۔ ۔۔ان کی سنیں۔ پہاڑ کبھی گم ہوئے ہیں ارسہ میڈم "؟ افق خوب ہنسا تھا۔ ارسہ نے جسے سنا ہی نہیں۔
"مجھے لگتا ہے اس ڈرائیور کی گاڑی کے مالک سے کوئی دشمنی ہے، تب ہی اتنی تیز ڈرائیو کر رہا ہے۔ ابھی پھیہ ادھر ہوا اور ہم گے نیچے" نشا نے پریشے سے انگریزی میں کہا پری نے کھٹ سے وہی بات ڈرائیور سے کہہ دی۔
"باجی !یہ مارہ روز کا روٹ ہے،  آپ نہیں گروگی ،اللہ خیر کرے گا" وہ جھنپ کر بولا ۔
"آپ" ایسے کہہ رہا ہے جیسے ہم اکیلے گریں گے، خود بھی تو ساتھ ہی گرے گا نا نشا زیر لب بڑبڑائی۔ اسے اتنے پر خطر راستے سے بہت خوف آرہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
افق تصویریں بنا رہا تھا، ارسہ ابھی تک پریشانی سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ پریشے نے راستہ دیکھتے ہوئے پوچھا "کتنا فاصلہ رہ گیا ہے" ؟
"گھنٹے تک اشوویلی پہنچ جائیں گے" جواب افق نے دیا تھا۔ وہ آج بہت بول رہا تھا۔ خاصے ہشاش بشاش موڈ میں تھا۔ "پہلے اشوویلی رکیں گے پھر گلشئر پھر آبشار پر اور آخر میں وہ جگہ جہاں ہم آج رات گھاس پر گزاریں گے۔ پری! تم اس ملک میں رہتی ہو اور تم نے ابھی ٹک یہ جگہیں ۔۔۔۔"(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"وہ اگیا۔ وہ دیکھو بلکل سامنے۔ "ایک دم ارسہ خوشی سے چلائی تھی۔" وہ سامنے دیکھو ۔۔۔شاہگوری !"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙86💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 87

"شاہگوری؟ادھر؟ کالام میں؟ "پری نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا، جہاں بلکل سامنے جامنی پہاڑوں کے سلسلے کے درمیان ایک الگ سا برف سے ڈھکا سفید پہاڑ کھڑا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یہ شاہگوری ہے؟ مگر شاہگوری تو سکردوسائیڈ پر ہے ۔۔۔قراقرم کے پہاڑوں میں۔ ۔۔ہے نا افق؟ "اس نے الجھ کر افق کو مخاطب کیا، مگر وہ اپنی گود میں رکھے کیمرے کو دیکھ رہا تھا، اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
"یہ شاہگوری نہیں ہے، مگر مقامی لوگ اسے شاہگوری کا چھوٹا بھائی کہتے ہیں۔ بلکل وہی اہرام نما شکل ہے اس کی۔ ویسا ہی دیکھتا ہے ناں؟ "ارسہ بڑی خوشی خوشی بتا رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"واقعی۔۔۔بلکل ویسا ہی ہے" اس کے لہجے میں فخر اتر آیا تھا۔ آخر شاہگوری ،دنیا کو دوسری بلند ترین چوٹی اس کے ملک میں تھی، وہ فخر کیوں نہ کرتی؟
"ویسے افق شاہگوری کا نام کے ٹو کس نے رکھا تھا؟ "افق اپنے کیمرے میں مصروف تھا، اس نے جواب نہیں دیا۔
"افق !پری نے پھر اسے پکارا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"پتا نہیں، مجھے یہ سیٹ کرنے دو نا" وہ کیمرے پر جھکے بے زاری سی آواز میں بولا۔ پریشے نے بری طرح چونک کر اسے دیکھا۔
"میں بتاتی ہوں پری آپی! جب کپٹیں ٹی جی نے قراقرم کے پہاڑوں کا سروے کیا تھا تو اسنے جس ترتیب سے پہاڑ دیکھے تھے، اسی ترتیب سے ان کا نام رکھ دیا تھا۔ کے ون، کے ٹو ،کے تھری،اور کے فور وغیرہ"،
"کے سے کیا مراد ہے" ؟نشاء نے پوچھا
"۔k is for karakoram وہ مزے سے بولی "ہے نا پری آپی؟ "اس نے تائید چاہی۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ہوں" پریشے نے تو اس کی بات ٹھیک سے سنی بھی نہیں تھی۔ وہ تو افق کو دیکھ رہی تھی جو سر جھکائے کیمرے کے بٹنز کو خوامخواہ دبا رہا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا ذہن کہیں اور ہے۔ وہ ایک دم اتنا بیزار اور اکتا کیوں گیا تھا، وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔
اشوویلی پہنچنے تک سارا راستہ وہ اور افق خاموش رہے تھے۔ وہ اپنے کیمرے پر جھکا رہا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤87💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 88

 اور پریشے خالی الذہنی کی کفیت میں کھڑکی سے باہر، نیچے بہتے نیلے دریا کو دیکھتی رہی۔
کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا کہ افق اس سے کچھ کہے۔ اپنے اور اس کے نا معلوم تعلق کی وضاحت کرے۔ اسے بتاۓ کے وہ اس کے لیے کیا سوچتا ہے۔ وہ جاننا چاہتی تھی کے ان دونوں کے درمیان اگر کچھ ہے تو وہ کیا ہے مگر یہ سب وہ اس سے کہنے سے قاصر تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اشو، فلک بوس پہاڑوں کے درمیان بنی ایک چھوٹی سی وادی تھی، جس کے درمیان نیلا دریا بہتا تھا۔ وادی میں سیاہوں کی خاصی گہماگہمی تھی۔ ان کی پراڈو کے ساتھ پجارو اور جیپیوں کا ایک پورا قافلہ کالام سے نکلا تھا، ان میں سے تقریبآ سب ہی گاڑیاں اشو میں رک گئی تھیں۔ باکی پیچھے آرہی تھیں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"آؤ۔اس کیبن میں چلتے ہیں" یہ پہلی بات تھی جو ادھر آکر افق نے کی تھی۔ اس نے موڑ کر اسے دیکھا پھر اس کے پیچھے چل دی۔
سڑک کے دائیں طرف نیچے شور مچاتا نیلا دریا بہ رہا تھا۔
وہ جس طرف سے کیبن میں داخل ہوئے وہ کھلی تھی باقی تین طرف بند تھے۔  اور وہ کبین بلکل بلککونی لگ رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
کبین میں دونوں طرف لکڑی کے بنچ اور درمیان میں لکڑی کی بنی میز رکھی تھی۔ وہ ایک طرف کے آخری سرے پر ٹک گئی، تا کہ بائیں طرف بہتا دریا اچھی طرح دیکھ سکے۔ نشا اور ارسہ وہاں سے نہیں آئی تھیں، وہ کولڈ ڈرنک لینے چلی گئی تھیں۔ افق لکڑی کی ریلنگ کو تھامے جھک کر نیچے بہتے دریا کو دیکھ رہا تھا۔
"سنو" !اس نے افق کو پکارا، مگر دیوقامت سرمئی پتھروں سے ٹکراتے نیلے پانی کے شور اتنا تھا کے وہ سن نہ سکا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آگئی۔
"سنو، تمہارا موڈ کیوں خراب ہوا تھا؟ "لکڑی کی ریلنگ سے پشت ٹکا کر ایسے کھڑی ہوگئی کہ دریا پشت پر اور افق سامنے تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ چونک کر سیدھا ہوا، "میرا موڈ؟ نہیں تو"

۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤88💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 89

"کبھی کبھی تم اتنے اجنبی بن جاتے ہو کہ۔۔۔۔"وہ رک گئی اور گردن پھیر کر پیچھے بہتے دریا کو دیکھنے لگی۔
"کہ"؟وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کہ مجھے خوف انے لگتا ہے" نیچے بہتے نیلے پانی اور اس کی سفید جھاگ پر نظریں جمائے وہ سر گوشی میں بولی ۔
"اچھا" ؟وہ ہولے سے ہنس دیا۔
پریشے نے رخ موڑ کر سنجیدگی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ "اس روز جلیل کے ریسٹورنٹ میں بھی تم ایسے ہوگئے تھے۔ مجھے دکھانے کو بلی کو پیار کر رھے تھے۔ ہے ناں؟ "
"تمہیں وہ بات ابھی تک یاد ہے؟ "وہ جواب دیے بنا گردن پھیر کر پانی کو دیکھنے لگی۔
"آئی ایم سوری فار ڈیٹ پری، میں۔۔۔۔بس۔ ۔۔پتا نہیں کبھی کبھی مجھے کچھ ہو جاتا ہے" اس نے گردن موڑ کر اسے نہیں دیکھا، وہ یونہی پیچھے بہتے دریا کو دیکھتی رہی۔ چند لمحے خاموشی کے نذر ہوگئے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پتھروں سے سر پٹخہتے پانی کے شور کے باوجود اسے بہت خاموشی محسوس ہو رہی تھی۔
"جانتی ہو پری! جب میں نے تمہیں مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہلی دفعہ دیکھا تھا تو مجھے کیا لگا ؟مجھے لگا میں واقعی کسی پری کو دیکھ رہا ہوں۔ تم نے وائٹ اور پنک رنگ پہن رکھا تھا، تمہیں یاد ہے؟ میں یوں کبھی بھی اجنبیوں سے فرینک نہیں ہوتا، میری طبیعت کچھ اور ہے۔ موڈی کہہ لو، اکھڑ کہہ لو۔ ۔۔مگر تم سے بات کرنے کو میرا دل چاہا تھا" ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
کیبن کی دائیں طرف دھوپ اندر انے لگی تھی، سورج کی شعاعیں براہراست پریشے کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، وہ اس کے دائیں طرف آکر کھڑا ہوگیا، دھوپ۔ کا راستہ رک گیا تھا۔
"تمہیں دیکھ کر مجھے یوں لگا تھا جیسے میں تمہیں جانتا ہوں، ہزاروں برس سے جانتا ہوں، تم میری ذات کا وہ گمشدہ حصہ ہو، جو ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا۔ ہم دونوں صدیوں پہلے کسی اور دنیا میں بیچہڑے تھے اور اس روز مارگلہ کی پہاڑیوں پر پھر سے مل گئے تھے۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) تمہیں ایسا لگتا ہے پری؟ "بہت یشے نے سر جھکا لیا اپنے جوگرز تلے لکڑی کے تختوں کی درزوں سے اسے جھاگ اڑاتا نیلآ پانی نظر آرہا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا، وہ کچھ نہ بولی۔ تب ہی اسے ارسہ کی آواز سنائی دی ،وہ افق کو بلا رہی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ چند گز فاصلے پر کھڑی دور ہی سے بہت

۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙89💙❤💙💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 90

بلند آواز میں اسے کسی ٹریک کا بتا رہی تھی۔ وہ سر ہلا کر پریشے کے دائیں طرف سے ہٹ گیا سورج کی تیز شعاعیں اس کے چہرے  سے ٹکرائی تھیں،اسے لگا وہ اس کے جانے سے ایک دم تنہا سی ہو گئی۔ بھری دھوپ میں بلکل تنہا۔
ارسہ کی طرف جاتے افق کی پشت کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگتے چلے گے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اس دونوں کا سات دونوں کا ساتھ تھا، دو دن مزید رہ گے تھے، پرسوں انہوں نے واپس لوٹ جانا تھا، پھر راستے اور منزلیں جدا ہو جانی تھیں۔ وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن ہو جاۓ گی اور وہ ترک کوہ پیما دنیا کی سب سے حسین چوٹی سر کر کے واپس چلا جاۓ گا اسے تو شاید یاد بھی نہ آئے کے مارگلہ کی پہاڑیوں پر جب بادل نیچے اترے ہوئے تھے، تب اسے بیچ سڑک پر ایک لڑکی ملی تھی وہ بھلا دے گا ک اس لڑکی کے ساتھ اس نے سوات کے مرغزاروں میں نو دن بتاۓ تھے، وہ نو دن جو صدیوں پر بھاری تھے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ک وہ مسافر تھا اور وہ جانے کے لیے آیا تھا اور خود اسکی سیف سے تین ماہ بعد شادی ہونے والی تھی، وہ اس مسافر سے محبت کرنے لگی تھی(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) سختی سے آنکھیں رگڑ کر وہ نیچے شور مچاتے دریا کو دیکھنے لگی۔

گلیشیئر پر گاڑی نہیں روکی گئی، ان کے خیال میں یہ وقت ضیاع تھا۔ آبشار تک کے سارے راستے میں گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ نشا سو رہی تھی۔ ارسہ سٹیفن کنگ کا ناول پڑھ رہی تھی۔ اور افق کھلی کھڑکی پر کہنی جمائے مسلسل باہر دیکھ رہا تھا۔ اب(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) دریا اس کی طرف تھا جب کے پریشے سامنے پربتوں پر نگاہیں ٹکائے کسی بیتے لمحے کے فسوں میں کھوئی تھی۔
اس کے ذہن میں افق کے الفاظ گردش کر رہے تھے۔
وہ کیا کہنا چاہتا تھا؟ وہ کیا نہیں کہہ رہا تھا؟ کوئی اظھار،کوئی اعتراف،کوئی اقرار؟ یا پھر وہ محض لفظوں سے کھیل رہا تھا اور وہ یک طرفہ محبت کا(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) شکار تھی۔ جس قطرے جتنی محبت کو اس نے سیپ میں بند کردیا تھا، وہ قید رہ کر موتی  بن گیا تھا۔ اسے یہ ادراک خاصی دیر سے ہوا تھا۔
وہ آبشار بہت بلندع سے گررہی تھی۔ اس کا منبع پہاڑ کی چوٹی کے قریب تھا، وہاں سے شروح ہو کر وہ کئی سوفٹ نشیب میں سڑک تک آتی تھی اور سڑک کے نیچے سے ہو کر اشو دریا میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙90💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 91

سڑک کے کنارے کولڈڈرنک کارنرز بنے تھے۔ وہاں خاصی گہماگہمی تھی۔ ان کے انے سے پہلے بھی وہاں خاصی بڑی تعداد میں بچے، بوڑھے، نوجوان جوڑے اور فیملیز گھوم پھر رہی تھیں۔ چند لڑکے پتھروں پر چڑھتے ہوئے اوپر آبشار کے منبع تک جا رہے تھے۔ ایک سبز کیپ والا لڑکا سب سے اگے تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"مجھے یقین نہیں آرہا ک اتنی بڑی آبشار پاکستان میں ہے" نشاء نے ان تینوں کے ہمراہ پتھروں پر اوپر چڑھتے ہوئے بے اختیار کہا تھا۔ وہ پتھر آبشار کے کنارے پر ہی تھے، اتنے خطرناک کے ذرا پاؤں پھسلے اور بندہ پانی(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) میں جاگرے۔ تیز رفتار بہتے پانی میں تو یوں بھی لاش نہیں ملا کرتی۔
"میں نے ہمیشہ خوبصورتی کے بارے میں ناران کا غان کا نام سنا تھا"
"نشا مائنڈ مت کرنا مگر ناران کاغان اتنے خوبصورت نہیں جتنا ان کو کہا جاتا ہے ۔وہاں پہاڑ قدرے خشک ہیں اور واحد خوبصورتی جھیل سیف الملوک ہے، جس پر پریاں اترٹی ہیں۔ ناران کاغان کو اگر کوئی پاکستان کا بہترین تفریہی مقام سمجھتا ہے تو اس نے یقینن کالام اور سوات کا حسن نہیں دیکھا ہوگا میں ان دونوں(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) جگہوں کو کئی بار وزٹ کر چکا ہوں اور میری رائے میں ناران، کاغان،  شوگران،یہ سب جگہیں سوات اور کالام سے زیادہ حسین نہیں"
وہ اگے پیچھے سرمئی پتھروں پر چڑھ رہے تھے۔ نشا اور ارسہ کھانے پینے کی جگہ پر رک گئی تھیں، افق کو ایک خالی چارپائی نظر آئی اس نے کسی محنتی مزدور کی طرح وہ چارپائی اپنے کندھے پر اٹھائی اور اوپر چڑھنے لگا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"بس یہی رکھ دو" وہ سڑک سے کافی اوپر پتھروں پر چڑھتے ہوئے آگے تھے، افق نے اس کے کہنے پر پتھروں اور پانی کے درمیان چار پائی رکھ دی۔
"گندے بچوں کی طرح جوتے اتار کر پانی میں پاؤں مارنا مجھے ہمشہ سے بہت اچھا لگتا ہے" اس نے ہنستے ہوئے جوگر ،جرابیں اتار کر چارپائی پر رکھیں اور اس پر بیٹھ کر سیاہ ٹراوزر نخنٹوں سے کافی اوپر تہ کر کے اپنے سپید پاؤں ٹھنڈے پانی میں ڈال دیے۔ افق بھی ساتھ بیٹھ گیا مگر اس نے جوگرز نہیں اتارے۔
"تم بھی جوتے اتار دوناں ،اتنا مزہ آرہا ہے" وہ بچوں کی طرح پانی میں اپنے پاؤں سے دائرے بنا رہی تھی، افق نے مسکرا کر سر نفی میں ہلا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤91💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کم آن افق، جوتے اتار دو۔ پانی اتنا ٹھنڈا ہے، لگتا نہیں یہ جولائی کا مہینہ ہے" افق نے پھر بھی جوتے نہیں اتارے ۔اس کے بجاۓ اس نے قدرے جھک کر ہاتھ پانی میں ڈال دیے تھے۔(
"تم جوگرز بھی اتاردو "پری نے تیسری دفعہ اصرار کیا۔
"نہیں ،میں ٹھیک ہوں" وہ گردن اونچی کر کے اوپر پہاڑ سے پہوٹتی آبشار کو دیکھنے لگی اسے حیرت ہوئی تھی وہ ایک اس کی بات فورن مان جاتا تھا، تو اب؟ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یہاں پر ایک ہوٹل بنایا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے پہلے ان کو اس علاقے کی مٹی کے ٹیسٹس کرانے پڑیں گے اور۔ ۔۔۔۔"
"میں بھول گئی کہ تم انجنیر ہو یاد کروانے کا شکریہ" وہ اسکی بات پر ہنس پڑا۔
"بہت جلدی بھول جاتی ہو، مجھے بھی اتنی جلدی بھول جاؤگی؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ویسے تم نے کس چیز میں انجنیرنگ کی ہے" ؟وہ اس کا سوال نظر انداز کر کے جھکی ہوئی پانی میں ہاتھ مار رہی تھی۔
"میں جیولوجیکل انجینیر ہوں"
"اوہ۔۔۔پھر ہم پاکستانیوں کے تو کسی کام کے نہیں ہو" گرتے پانی سے جہینٹے اڑ رہے تھے۔
وہ چہرے پر آئے پانی کے چہینٹے صاف کرتے ہوئے سیدھی ہو کر شرارت سے مسکرائی ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کیوں کد پاکستان میں زلزلے نہیں آتے" ۔
"اچھا" ؟
"ہاں۔۔۔آخری زلزالہ 80 سال پہلے کوئٹہ میں آیا تھا، اس سے غالبآ 35ہزار لوگ مر گے تھے۔ پھر اس کے بعد ایسا زلزلہ نہیں آیا۔ اس لیے تم ہمارے تو کسی کم کے نہیں ہو"
"ڈاکٹر صاحبہ ،میری معلومات کے مطابق صرف بلوچستان میں ہی 1935ء کے زلزلہ کے بعد تین زلزلہ آئے تھے"
"میں بڑے زلزلوں کی بات کر رہی ہوں" وہ سر اٹھا کر گرتے پانی کو دیکھنے لگی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میں چند سال پہلے جب پہلی دفعہ ایورسٹ سیر کرنے گیا تھا تو ترکی میں زلزلہ آیا تھا میں ایکسپیڈیشن لیڈ کر رہا تھا اور ہم بالکونی پر تھے، جب مجھے زلزلے کی اطلاع ملی" وہ اوپر آبشار کی چوڑی دھار کو دیکھتے ہوئے یاد کر کے بتا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤92💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 93

"اوہ۔۔۔تو پھر۔۔۔ بالکونی سے ایورسٹ کی چوٹی تک کا سفر یقینآ تم نے ڈپریشن میں کیا ہوگا" ۔
افق نے گردن پھیر کر سنجیدگی سے پریشے کو دیکھا۔ "میں زلزلے کے متلعق سنتے ہی "بالکونی" سے واپس پلٹ گیا تھا" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کیا" ؟ اس نے تھیر سے آنکھیں پہاڑ کر اسے دیکھا۔ "ڈونٹ ٹیل می، تم بالکونی سے واپس پلٹ گے تھ، ادھر سے ایورسٹ کی چوٹی کا فاصلہ ہی کتنا تھا بھلا" ۔
"میں چوٹی سے ایک قدم دور بھی ہوتا تو زلزلے کا سن کر واپس چلا جاتا۔ میں ایورسٹ کی فتح کس کے لیے کر رہا تھا؟ اپنے ملک کے لیے ناں؟ تو میرے ہاتھ میں میرے ملک کا جو سرخ جھنڈا تھا، وہ جھنڈا مجھے کہہ رہا تھا کہ تمہارے ایورسٹ  سر کر لینے سے ترکی کے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں اگر تم واپس پلٹ جاؤ تو شاید بہت سے بے یارو مددگار لوگوں کی کچھ مدد کر سکو اور پھر میں واپس اگیا۔ اس بیحد کامیاب انٹرنیشنل ایکسپیڈیشن کو چھوڑ کر جس میں بیسیوں کوہ پیما شامل تھے ۔ساٹھ تو صرف مقامی sherpas( شرپا) تھے مگر میں ترکی اگیا۔ وہاں بہت بری حالت تھی۔ ہر طرف ملبہ تھا، لاشیں بکھری تھیں۔ اس کے بعد سے مجھے زلزلوں سے بہت خوف سا آتا ہے"
"وہ تحیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کیا کوئی انسان اتنا نرم دل بھی ہو سکتا ہے ک بالکونی سے ایورسٹ(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) summit کیے بغیر پلٹ جاۓ؟ کیا کوئی کوہ پیما بالکونی سے بھی واپس آسکتا ہے، بغیر کسی جسمانی یا موسمی تاخیر کے؟
"پھر تم ایورسٹ نہیں سر کر سکے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کر لیا تھا، 2001ء میں ۔اور پلیز زیادہ ایکسائیٹڈ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے علاوہ تقریبآ سترہ سو اور لوگ بھی کر چکے ہیں، یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے"
"تم میں بہت عاجزی ہے"
"ان پہاڑوں پر اتنی مار پڑی ہے۔ کہ سارے کس بل نکل گئے ہیں۔ تمہیں دنیا کا کوئی بہت اچھا کوہ پیما مغرور نہیں ملے گا۔ کیوں کے ہم کلائمبرز سے زیادہ کون جان سکتا ہے ک ہم انسان mother nature  کی ایک حقیر سی مخلوق ہیں۔  میں اتنی بلندیاں دیکھ چکا ہوں کے اپنا آپ کچھ بھی نہیں لگتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤93❤💙❤💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 94

"سوری مگر آپ کے رومانس میں مخل تو نہیں ہوئی" ؟ارسہ اچانک ہی چارپائی کے سامنے آئی تھی۔ پریشے نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔
"ہاں، بلکل مخل ہوئی ہو" افق نے بات کاٹے جانے پر اسے برا سا منہ بنا کر دیکھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"نہیں۔ ارسہ !ایسی کوئی بات نہیں ہے" وہ گھبرا کر وضاحت دینے والے انداز میں کہہ رہی تھی مگر ارسہ نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔ وہ نیچے سے آتے ایک گلابی رخساروں والے بچے کی طرف متوجہ ہو چکی تھی، جو ہیٹ بیچ رہا تھا۔ پریشے نے سر جھکا کر خشک لبوں پر زبان پھیری ۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ۔اس کے ارد گرد کے لوگ کیا واقعی سب کچھ جان گئے تھے؟
"میں کسی لگ رہی ہوں؟ "ارسہ بچے سے ایک ہیٹ لے کر سر پر ٹرائی کر رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"بلکل ٹائی ٹینک والی کیٹ و نسلٹ !" افق نے مسکرا کر کہا۔
"میں اتنی موٹی لگ رہی ہوں؟ بس رہنے دو، مجھے نہیں چائیے ہیٹ "اس نے فورن ہیٹ اتار کر بچے کو واپس کردی، اس کی گلابی رنگت پر مایوسی چھا گئی، وہ بجھے چہرے کے ساتھ پلٹنے لگا۔
"سنو مجھے تو دکھاؤ ہیٹ! " پری سے رہا نہ گیا تو بچے کو بلا لیا۔ وہ فورآ پلٹا اور سارے ہیٹ اس کے سامنے رکھ دیے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میں اسے پہن کر کچھ اور تو نہیں لگ رہی؟ " اس نے ایک سکن کلر کا سادہ ہیٹ خرید لیا تھا۔
"نہیں،بہت اچھا ہیٹ ہے" افق نے مسکرا کر کہا۔
اس نے یہ نہیں کہا تھا ک "تم اچھی لگ رہی ہو" ۔اس نے یل دفعہ غلطی سے اسکے ہنسی کی تعریف کردی تھی، وہ بھی شاید مزاق میں کی تھی۔ وہ کبھی اس کی مغلئی آنکھوں ،رسیلے ہونٹوں یا سیاہ چمک دار بالوں(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کی تعریف  نہیں کرتا تھا۔ شاید اس کو غور سے دیکھتا بھی نہیں تھا۔ وہ ظاہری چیزوں کی پوجا کرنے والوں سے بہت مختلف تھا ۔
"افق ہاتھ پانی میں ڈالے اس ہیٹ والے بچے کی طرف پانی اچھال رہا تھا، بچہ اپنا ہیٹ کا ٹھیلا ایک طرف رکھ آیا تھا اور آبشار کے بلکل کنارے پر اپنی پنڈلیاں ڈالے ایک "گورے" سیاہ کے مزاق کو انجوائے کر رہا تھا، ساتھ ساتھ وہ بھی اس پر پانی اچھال رہا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤94❤💙❤💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 95

"مت کرو تم دونوں ،میرے اوپر پانی آرہا ہے" اپنا کڑھائی والا نیا کرتا خراب ہوتے دیکھ کر وہ غصے سے بولی۔
"ہم کھیل رہے ہیں" ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"بہتر۔۔۔تم شاید بیس سال پہلے، اپنے بچپن میں چلے گئے ہو، مگر میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ۔میں جا رہی ہوں" وہ کسی صورت پانی اچھالنے سے باز نہیں آرہا تھا، یہ دیکھتے ہوئے وہ اپنے جوگرز ہاتھ میں اٹھاۓ پتھروں سے نیچے اترنے لگی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ لوگ خاصی دیر آبشار پر بیٹھے رہے، یہاں تک ک سورج ان کے سروں پر اگیا اور آبشار کا پانی سنہری دھوپ میں مزید چمکنے لگا۔ بہت سے ٹورسیٹ آبشار سے جا رہے تھے،  کچھ اب آرہے تھے، غرض آبشار پر ہر وقت رونق لگی رہتی تھی۔
دوپہر میں جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے تو پریشے اتنی تھک چکی تھی ک گاڑی میں بیٹھتے ہی سو گئی۔ اسے نیند سے نشا نے تب جگایا جب ماہوڈھنڈ آگئی تھی۔
وہ گاڑی سے نکلی تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں، مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی نیند تو غائب ہوئی ہی، ساتھ ہی سانس بھی ایک دم رک گیا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
سامنے تاحد نگاہ سبزہ پھیلا تھا ،جیسے ہزاروں ایکڑ پر پھیلا کوئی لان ہو، سبزے کے اختتام پر اشو دریا کا پانی ایک جگہ اکھٹھا ہو جاتا ٹھا اور وہاں اس کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی، اس  جھیل کی صورت اکٹھے ہوئے پانی کو ماہوھنڈ جھیل کہتے تھے۔
جھیل کا پانی سبزی مائل نیلا ٹھا، اس کی سطح پر ڈوبتے سورج کی آخری سنہری پریاں رقص رہی تھیں۔ جھیل کے پیچھے بلند و بالا سبز پہاڑ تھے جنہوں نے پورے علاقے پر سایہ سا کر رکھا ٹھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
ان پہاڑوں کے ساتھ ماہوھنڈ کے دائیں طرف دیار کے درختوں کا جھنڈ ٹھا۔ وہ اس سبزہ زار میں واحد درخت تھے، بلکل ایسے جیسے کرسمس ٹریز ہوتے ہیں۔
ٹولیوں کی صورت میں ٹورسٹ دور دور تک گھاس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک ٹوپی والا پٹھان گھوڑے کی باگ تھامے کھڑا تھا۔اسے دیکھ کر پریشے کو بے اختیار مری والا واقعہ یاد آیا۔ افق نے کیپ سیدھی کرتے ہوئے گھوڑے والے کو اشارے سے اپنے قریب بلایا۔
"اللہ کا، انگلش راجی کا" قریب انے پر اس نے شلوار قمیص میں ملبوص چھوٹی چھوٹی داڑھی والے پٹھان سے پوچھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙95💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 96

"نہ۔۔۔ انگلش نہ راجیکا۔ پختو راجی کا؟ "
افق نے مایوسی سے نفی میں گردن ہلا دی۔
"تم پشتو بول رہے ہو؟ "اس نے حیرت سے افق کو دیکھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ارے نہیں، یہ تو امببیسی والوں نے دو چار لفظ لکھا دیے تھے۔ تم اس سے کہو کے صبح کو یہ گھوڑا لے آئے میں اس پر سواری کرو گا"
پریشے نے یہ جاننے کے بعد کے اس گھوڑے بان، جس کا نام امیر حسن تھا، کو اردو آتی ہے اس تک افق کا پیغام پہنچایا۔ ورنہ پشاور اور اس سے اگے لوگوں کی اکثریت اردو سے نابلد تھی۔
"آج ہمارے ٹرپ کا آخری دن ہے، کل واپسی ہے، سو آج رات ہم کیمپ لگایں گے" گھاس پر ایک ساتھ بیٹھتے ہوئے اپنے بیک بگس کسی بوجھ کی طرح ایک طرف رکھتے ہوئے پریشے نے کہا۔
"اور میرے پاس مناپلی بھی ہے، وہ بھی کھلیں گے۔ بس یہ ٹورسٹ یہاں سے چلے جاۓ پھر یہ پورا سبزہ زار ہمارا ہوگا اور ہاں افق بھائی، آپ نے پریشے آپی کو dare. بھی دینا تھا" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
""اوہ۔۔۔میں ٹو بھول بھی چکا تھا" وہ کہنییوں کے بل گھاس پر نیم دراز تھا، مفلر اس کے چہرے اور کیپ سینے پر رکھی تھی۔ اس کی  شرٹ سامنے سے ابھی تک گیلی تھی۔
"تو پھر کیا ہے آپ کا دیر ؟"پری کے لاکھوں گھورنے پر (ک اگر وہ بھول چکا تھا تو تم بھی جانے دو) ارسہ کہہ اٹھی۔
"ایسا ہے پریشے جہاں زیب، آپ کل صبح ہمیں ماہوڈھنڈ سے مچھلیاں پکڑ کر دیں گی۔ جو میں خود لو گا"
"اور ہم بھی کھائیں گے؟ "
"ہاں،بلکل۔ ۔۔"وہ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پری نے شانے اچکادئیے ۔
"پکڑدوں گی، بنسیاں اور کنڈیاں ہیں" ؟
"میرے پاس سب ہے، مادام! "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙96💙❤💙💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 97

پھر جب شام کا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا اور سورج کی کرنیں ماہوڈھنڈ کے پانیوں سے روتھ کر روپوش ہونے لگیں اور سیاہوں کی گہماگہمی ماند پڑنے لگی، تو ایسے میں وہ چاروں کھلے آسمان تلے گزارنے والی رات کی تیاری کرنے لگے۔ اپنے بیک پیکس سے کیمپنگ کا سامان ہنستے بولتے باتیں کرتے خیموں کے پولز اور جوائنٹس سیٹ  کیے۔ ان پر شیٹ ڈالی، سلیپنگز بچھائے اور خود خیموں کے ایک طرف کھلے آسمان تلے دائرے بنا کر بیٹھ گے ۔درمیان میں امیر حسن کے توسط سے منگوائی لکڑیوں سے آگ جلالی گئی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میں بینکر ہوں گی۔ بینکر کم پلیئر" ارسہ منا پلی کا بورڈ  اور کارڈ وغیرہ سیٹ کرتے ہوئے بولی۔ الاؤ کے ایک طرف وہ اور نشا تھیں۔ دوسری طرف پری اور افق نے مناپلی کا بورڈ درمیان میں ہی آگ کے قریب کسی طرح ایڈجسٹ کر لیا تھا۔
مناپلی جیسی گیم میں گھنٹوں منٹوں کی طرح گزرتے ہیں، دو گھنٹے گزر گئے اور انھیں پتا ہی نہیں چلا۔
"یہ پکاڈلی کس کی ہے؟ " پریشے کی گوٹ پہلے رنگ کی پکاڈلی پر آئی تھی، اس کے اپنے پاس چار زمینیں تھیں قسمت اتنی خراب ک ہر باری پر وہ افق یا نشا کی کسی زمین پر چڑھ جاتی یا پھر سیدھی جیل جاتی ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میری ہے" نشا نے مطلوبہ کریا بتایا۔ اس نے منہ بناتے ہوئے چند پاؤنڈز نکل کر اسے تھمائے۔افق نے نظر اٹھا کر اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا پھر دھیرے سے اپنے کارڈز میں سے آکسفورڈ سٹریٹ کا گرین کارڈ نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑایا، پریشے نے چونک کر اسے دیکھا۔
"رکھ لو ،ابھی نشا اس پر آئے گی تو تم اس سے یہ کرایہ لے لینا" اس نے سر گوشی میں کہا۔ پریشے نے چور نظروں سے الاؤ کے اس پار بیٹھی ارسہ اور نشا کو دیکھا۔ وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہی تھیں۔
"شکریہ" اس نے جھٹ کارڈ رکھ لیا۔
نشا کی گوٹ ریجنٹ سٹریٹ پر آئی ۔ارسہ کی مے فیر پر پھر نشا کی کنگ کراس سٹیشن پر اور وہ افق کی زمینیں تھیں مگر وہ بڑے حق کے ساتھ کریہ وصول کرتی رہی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میرا خیال ہے یہاں کوئی بے ایمانی کر رہا ہے" ادھے گھنٹے بعد ارسہ کو تب احساس ہوا جب وہ واٹر ورکس پر آئی اور پریشے نے کرایہ مانگا ۔
یہ واٹر ورکس اور الیکٹرک کمپنی تو افق بھائی آپ کی تھیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💙❤97💙❤💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 98

میں بینکر ہوں" پری نے قدرے بوکھلا کر افق کو دیکھا۔
"اوہو  ارسہ! میری کہاں تھیں؟ میری تو صرف الیکٹرک کمپنی تھی"
"پری آپی! ذرا کارڈ نکال کر دکھائیں واٹر ورکس کا" اس کا اندازہ قطعی تھا، پریشے پکڑی جا چکی تھی ک کارڈ افق کے پاس تھا۔
"کیا کرتی ہو ارسہ !پری جھوٹ تھوڑی بول رہی ہے۔ میں نے اپنی گناہ گر آنکھوں سے اسے یہ زمین خریدتے دیکھا ہے" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"گناہ گاروں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ پری آپی! مجھے کارڈ دیکھائیں"وہ بضد تھی۔
"ارسہ !تمہاری گردن پر کوئی کیڑا چل رہا ہے" افق نے فلمی اور تھرڈ کلاس حربہ آزمایا، جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا۔ ارسہ کارڈز چھوڑ کر گردن جھاڑنے لگی۔
"کیڑا ؟کدھر ہے؟ "
"ابھی تک تمہاری گردن پر بیٹھا ہے کتنا خون پی چکا ہوگا اب تک تمہارا۔ ویسے گروپ کیا ہے؟ "وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہا تھا، صرف پریشے کو بچانے کے لیے اس نے ممنونیت سے افق کو دیکھا۔الاؤ کی زرد روشنی اس کے چہرے کے نقوش کو مزید تیکھا بنا رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اے پازیٹو۔ ۔۔۔۔اور نہیں ہے کیڑا" ۔
"اے پازیٹو؟ ہوں۔۔۔میرا او نیگیٹو ہے" وہ یونہی بولا تو مجرموں کی طرح گردن جھکائے بیٹھی پریشے نے چونک کر سر اٹھایا، "سیف کا بھی او نیگیٹو ہے" اس نے بے اختیار زبان دانتوں تلے کرلی، نشا نے ہڑ بڑا کے اسے دیکھا۔
"سیف کون" ؟افق نے تجسس سے نہیں محض ارسہ کی توجہ واٹر ورکس والی بات سے ہٹانے کو پوچھا تھا اور اب وہ پری کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی ڈائس ہاتھ میں لیے باری کرنے لگا تھا ۔مگر جواب تو پری کو دینا(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) ہی تھا۔ نشا نے خاموش نگاہوں سے التجا کی تھی ک وہ چپ رہے لیکن اس کو ہر صورت افق کو وہ بتانا تھا جو بتانے کا اسے موقع نہیں مل رہا تھا۔
"سیف میرا کزن ہے، پھوپھو کا بیٹا اور میرا۔ ۔"وہ لمحے بھر کو رکی، افق کی ڈائس کھیلتی انگلیاں تھمیں، اس نے گردن اٹھا کر سوالیہ نگاہوں سے پریشے کو دیکھا۔
"اور میرا منگیتر بھی۔ ۔۔تین ماہ بعد میری اس سے شادی ہے" بہت پر اعتماد انداز میں اس نے کہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙❤💙98❤💙❤💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ جو کچھ کہنے لگا تھا، یک دم رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت در آئی پھر الجھن اور بالا آخر واضح بے یقینی۔
پل بھر کو ماہوڈھنڈ کے کنارے اس وسیع و عریض سبزہ زار میں سکوت سا چھا گیا۔ اونچے الاؤ سے چنگاریاں نکل کر فضا میں گم ہو رہی تھیں۔
"آپ۔ ۔۔انگجیڈ ہیں؟ "واٹر ورکس کو بھول کر بے یقینی سے ارسہ اسے دیکھ رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ہاں، تین سال سے" اس کے دل سے کوئی نا دیدہ بوجھ ہٹ گیا تھا، مگر پھر افق کا زرد چہرہ دیکھ کر اسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
"اوہ اچھا" وہ سمبھل گیا اور پھر اپنی نگاہیں ہاتھ میں پکڑی ڈبیا پر مرکوز کیے جیسے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔ پھیکی رنگت پھیکی مسکراہٹ۔
"مبارک ہو، تم نے۔۔۔۔تم نے کبھی بتایا نہیں۔۔۔۔تو۔۔تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ ۔۔۔ہوں گڈ۔۔۔۔۔تو کیا کرتا ہے۔ وہ؟ "وہ رکا"وہ۔۔۔سیف؟ "وہ اپنے لہجے میں کچھ ٹوٹنے کا کرب نہ چھپاسکا تھا۔
"بزنس" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"آہاں!ویری نائس"افق نے ڈبیا رکھ دی اسے شاید بھول چکا تھا ک اس کی باری تھی۔ الاؤ کے اس پار نشا سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ اداس تھی، پریشے سمجھ سکتی تھی مگر اس کو ہر صورت میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی اگر تھی تو ختم کرنی تھی۔
لکڑیوں میں سے بار بار چیخنے کی آواز آرہی تھی۔
"چلیں، گیم دوبارہ شروع کریں" ارسہ کی لہجہ بھجا بھجا سا تھا۔
"کل کھیل لیں گے، اب سوتے ہیں" نشا نے افق کی مشکل آسان کردی۔ وہ غالبآ وہاں سے ہٹنا چاہ رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
نشا کے کہنے پر کارڈ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ واٹر ورکس کا کارڈ سب کے سامنے ہی تھا، مگر کسی نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے گھاس پر رکھی اپنی "ہیل ٹو طیب اردگان" والی کیپ اٹھائی اور ان سے دور جھیل کی طرف چلا گیا۔
"صبح آبشار پر میں نے۔ ۔۔آئی ایم سوری پری آپی۔ ۔۔وہ میرے منہ سے یونہی، غلطی سے نکل گیا تھا۔ میں نے صرف مزاق کیا تھا، مجھے نہیں علم تھا کے او انگجڈ ہیں۔ ورنہ۔۔۔ آئی ایم سو سوری پری آپی۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💚💖99💜💖💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 100

تزبزب اور شرمندگی اس کے لہجے سے ٹپک رہی تھی۔
"اٹس اوکے ارسہ! میں نے برا نہیں مانا ۔تم یہ گیم سمیٹ لو"
"تھنکس" بے دلی سے گیم سمیٹ کر ارسہ اپنے خیمے کی طرف چلی گئی۔ پریشے نے گردن موڑ کر افق کو دیکھا۔ وہ جھیل کے کنارے، سر جھکائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے خاموشی سے آہستہ چل رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
صبح وہ کتنا خوش تھا اور اب بھی اس کے ساتھ مل کر بے ایمانی کرتے ہوئے وہ کتنا ہشاش بشاش لگ رہا تھا،پھر ایک لفظ "منگیتر" سن کر یوں اس کے چہرے کی مسکراہٹ کیوں غائب ہوگئی تھی؟ پریشے نے گہری سانس لے کر گردن سیدھی کی۔ نشاء شا کی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ نظریں چراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
رات قطرہ قطرہ بھیگ رہی تھی اور کشمیر سے انے والی تیز سرد ہوائیں ان کے خیمے کے کپڑے کو پہڑ پہڑا رہی تھیں۔ وہ اپنے سلیپنگ بیگ میں چت لیٹی خیمے کی چھت کو گھور رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"پری" باہر سے کسی نے اسے پکارا تھا۔ وہ یک لخت اٹھ بیٹھی، پکارنے والا افق تھا۔  اس نے  سلیپنگ بیگ کھولا قریب پڑا ہیٹ اٹھا کر سر پر رکھا اور خیمے کی زپ کھول کر باہر نکل آئی۔
"مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ سوچا کچھ دیر اکٹھے واک کرتے ہیں"kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

وہ کچھ کہے بنا افق کے ساتھ گھاس پر چلنے لگی۔ وہ دونوں ایک ہی انداز میں سر جھکائے گھوم رہے تھے۔ پریشے نے ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے جب ک اس کے ہاتھ جیبوں میں تھے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"کیسا ہے وہ؟ تمہارا منگیتر" ؟ چلتے چلتے بغیر تھمید کے افق نے سوال کیا۔ اس کے لہجے میں عجیب بے بسی اور شکست خوردی تھی۔ "اچھا ہے" ؟
"سیف؟ " اس نے پل بھر کو سوچا "امیر ہے، ہنڈسم ہے، ویل مینرڈ ہے، مجھے سے بہت محبت کرتا ہے"
وہ چلتے۔ چلتے جھیل کے کنارے تک پہنچ گئے تھے۔ رات کے اس پھر وہاں چھائی خاموشی کو ان پہاڑوں سے جنگلی جانوروں کے بولنے کی آواز چیر رہی تھی۔
"مگر تم۔ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ میں نے پوچھا تھا، وہ اچھا ہے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"اچھا"بہت عجیب ہوتا ہے ۔افق! ایک ظالم و جابر بادشاہ اپنی راعایا کے لیے جتنا برا ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😄😄😄😄100😄😄😄😄۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب 100 پورے ہونے کی خوشی میں ہنس رہے ہیں۔

صفحہ نمبر 101

اپنی اولاد کے لیے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے پھر ہم اسے کیا کہیں؟ برا یا اچھا؟ یہ لفظ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اس لیے شاید میں تمہیں یہ نہ بتا سکوں ک وہ اچھا ہے یا نہیں، البتہ پسند نا پسند کی بات اور ہوتی ہے۔ "
وہ جھیل کے کنارے گھاس پر بیٹھ گیا تھا۔ پریشے بھی اس کے بائیں طرف، اس سے ذرا پیچھے گھاس پر گھٹنوں کے گرد بازؤں کا حلقہ بنا کر ان پر تھوڑی ٹکائے بیٹھ گئی۔ برفیلی ،تیز ہوا اس کا ہیٹ اڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"تم اسے پسند کرتی ہو؟ "وہ سامنے چاندنی میں نہائی جھیل کو دیکھ رہا تھا۔
"وہ میری پھوپھو کا بیٹا ہے، پاپا کو بہت پسند ہے، انہوں نے منگنی سے پہلے میری مرضی نہیں پوچھی تھی۔ پھوپھو نے رشتہ مانگا، انہوں نے فورآ ہاں کردی۔تم ہمارے ہاں کی "رشتوں کی بلیک میلنگ"کو نہیں جانتے۔ پاکستان میں رسم و رواج ترکی سے بہت مختلف ہیں۔ یہاں اگر رشتہ مانگنے پر کسی پھوپھی، چچا یا مامو کو انکار کر دیا جاۓ تو وہ آنا میں آکر خون کے رشتے تک(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) توڑ ڈالتے ہیں۔ پھوپھو کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ پاپا کی اکلوتی بہن ہیں، پاپا کا واحد خونی رشتہ جو اس دنیا میں ہیں۔ میں اس وقت شاید انکار بھی کر
 دیتی مگر جب سیف کا رشتہ آیا تھا تو وہ ملی طور پر
اتنا مستہکم ہو چکا تھا کے پاپا سے تعلق توڑ لیتا ملی مدد کے لحاظ سے کوئی گھاٹے کا سودا نہ ہوتا، پھر وہ پاپا کو بہت پسند ہے اور میں پاپا کو دکھ نہیں دینا چاتی تھی" ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ گردن اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی۔ وہاں ہر سو جگمگاتے تارے بکھرے تھے۔ جمادی الثانی کی آخری تاریخوں کا ہر پل گھٹتا چاند پوری جھیل کو چمکا رہا تھا۔
"تمہیں کبھی نہیں لگا ک تمہاری زندگی میں کبھی نہ کبھی کوئی ایسا آئے گا جو تم سے محبت کرتا ہوگا، جس کو دیکھ کر تمہیں یہ لگے گا ک یہی ہے جس کا ساتھ تمہیں عمر بھر کے لیے چاہیے؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پریشے نے مغموم مسکراہٹ کے ساتھ اس کی چوڑی پشت اور جھکے سر کو دیکھا۔
"بعض لوگ زندگی میں بہت دیر سے ملتے ہیں، افق ارسلان! اتنی دیر سے ک ہم چاہیں بھی تو انھیں اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتے"
"تو جو لوگ زندگی میں بہت دیر سے ملتے ہیں، ان کو آپ اپنی ترجیحات میں کس مقام پر رکھتی ہیں، ڈاکٹر پریشے جہاں زیب؟ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💙💜💚101💜💚💙💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 102

پری نے چونک کر اسے دیکھا، گردن اس کی طرف موڑے سختی سے لب بہینچے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ شکوہ کرتی خفا آنکھیں، طنزیہ لہجہ۔۔۔۔۔وہ گہری سانس بھر کر رہ گئی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میرے نزدیک ہر فرد کی اہمیت۔ ۔۔۔۔"تیز ہوا کا جھونکا اس کا ہیٹ اڑا کر لے گیا۔  وہ بات روک کر اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ "میرا ہیٹ! "
چند قدم دور جا کر اس نے گھاس اور پڑا ہیٹ اٹھایا۔ وہ بھی اٹھ کر اس کے قریب اگیا۔
"چلو خیر۔ جانے دو تم منگنی شدہ ہو تو کیا ہوا،ہمارے درمیان ایک اور تعلق تو ہے ہی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ چونکی، "وہ کیا؟ " اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
"ہم اچھے دوست تو ہیں نا" وہ ایک دم پھر سے پرانا افق ارسلان لگنے لگا تھا۔ وہی پرانا ہنس مکھ اور اپنا اپنا سا۔
"ہاں، وہ تو ہیں۔ وہ کھل کر مسکرا دی۔
"تو پھر تم اس اچھے دوست کے ساتھ راکاپوشی آرہی ہو نا ؟" وہ پھر سے پرانے موڈ میں اگیا تھا۔
وہ دونوں ماہوڈھنڈ جی چمکتے پانیوں کے کنارے  ٹہلنے لگے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"یہ میرے لیے نا ممکن ہے۔ مجھے پاپا کبھی اجازت نہیں دیں گے" ۔
"وہ بہت کنزرویٹو ہیں کیا؟ "
"نہیں۔ یہ بات نہیں ہے۔ اس لحاظ سے تو وہ بہت لبرل ہیں"
"اچھا۔ ۔۔۔پھر؟ "(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"چار سال پہلے میں"سپانتک"  کی ایکسپیڈیشن پر گئی تھی۔ بنیادی طور پر ملٹری ایکسپیڈیشن تھی، پاکستان نیوی کی۔ میں ایکسپیڈیشن ڈاکٹر کے طور پر یوں ہی ساتھ فٹ ہوگئی تھی۔ وہ بتا کر کے ہنسی، "بہت منتیں کی تھیں نذیر صابر کی، انہوں نے ہی ایڈجسٹ کرایا تھا مجھے پاک نیوی کے ساتھ۔ ہم نے بڑے کم وقت میں سپانتک کو سر بھی کر لیا مگر واپسی پر، چوٹی سے چند فٹ دور سے گر گئی۔ میرا بایاں کندھا بری طرح(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) زخمی ہوگیا۔ اس کے بعد پاپا نے میری کوہ پیمائی اور پابندی لگا دی۔ وہ۔ میرا اسکردو سے اگے، قراقرم کا پہلا تجربہ تھا۔ میں اور کرنا چاہتی تھی پر پاپا اجازت نہیں دیتے۔ وہ ڈرتے ہیں ک میں گر نہ پڑوں "
"میں تمہارے ساتھ ہوں گا تو تم کیوں گروگی؟ "بہت اپنائیت سے افق نے کہا ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💙💚💖102💜💙💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 103

"یہ بات تم میرے پاپا کو نہیں سمجھا سکتے"
"کوشش تو کر سکتا ہوں"
"نن۔۔نہیں۔ ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے" وہ گھبرا کر تیزی سے بولی۔ پھر فورآ اپنی کفیت کو چھپا کر وضاحت کرنے والے انداز میں کہا، "وہ۔ نہیں مانیں گے، اس قصے کو چھوڑ دو" ۔
"اچھا۔ٹھیک۔ اور اگر زیادہ پرسنل نہیں ہو رہا تو ایک بات پوچھوں؟ "
"پوچھو"
"تم نے کبھی بتایا نہیں۔ تم کہاں رہتی ہو مری میں؟ "
"ہم نے شاید اپنے اپنے بارے میں ایک دوسرے کو کچھ بھی نہیں بتایا افق! "وہ مسکرا کر بولی۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"شاید۔ ۔مگر تم کہاں رہتی ہو؟ "
یہ وہ سوال تھا، ،جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ پرسوں شام وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر واپس جانا چاہتی تھی ک جلی ہوئی کشتیوں پر سواری کر کے افق ارسلان اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
"میں اس ملک اور ان ہی پہاڑوں میں رہتی ہوں۔ قراقرم کے پہاڑ ہی میرا گھر ہیں" وہ سمجھ گیا ک وہ نہیں بتانا چاہ رہی، سو مسکرا کر بولا، (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ہاں، میں نے سن رکھا تھا ک قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اتر تی ہیں"
"اور تم نے اس روز یہ بات جینیک یقین سے بھی کہی تھی ناں؟ "۔
"میں اس بات سے بے خبر تھا ک تم پیچھے بیٹھی ہو"
"مگر میں پری نہیں ہوں" اس نے اداسی سے ہاتھ میں پکڑے ہیٹ پر کھلے سرخ گلاب کو دیکھا۔
"تم پری ہو" ؟
"نہیں" اس نے نفی میں گردن ہلائی، "نام سے کوئی پری نہیں بن جاتا_ میرا صرف  نام پری ہے" (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"جانتی ہو پری !جب میں نے تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا تو مجھے کیا لگا تھا؟ یوں جیسے قراقرم کے پر بتوں سے رستہ بھول کر مرگلہ کی اس پہاڑ پر برستی بارش میں پناہ لینے والی کوئی معصوم سی خوف زدہ سی پری ہو۔۔۔۔۔"۔
"میں نے عرصہ ہوا خوابوں کی دنیا میں رہنا چھوڑ دیا ہے۔ ٹوٹے خواب بہت اذیت دیتے ہیں۔ افق!

۔۔۔۔۔۔۔۔💜💙💚💖103💜💙💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 104

وہ خاموش رہا، پھر چند ثانیے بعد آسمان کو دیکھ کر بولا، "رات بہت گہری ہو چکی ہے اب سونا چائیے "
"تم جاؤ، میں ابھی جھیل کے۔ کنارے بیٹھنا چاہتی ہوں" وہ اس سے دور جھیل ک کنارے پر بیٹھ گئی، جوتے اتار کر ایک طرف رکھے اور ماہوڈھنڈ کے سیاہ نظر انے والی جھیل جس پر چاندنی کی تہ چڑھی تھی، پاؤں لٹکا دیے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔ البتہ خیمے کی زپ کھولنے سے پہلے ایک لمحے کو اس نے پیچھے موڑ کر ضرور دیکھا تھا، جہاں وہ پانی میں پاؤں لٹکائے، چاند کی۔ میٹھی چاندنی کے خاموش گیت سن رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔💜💙💚💜104💙💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہفتہ ،30جولائی 2005ء
گھوڑے کی تیز دوڑتی ٹاپوں کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ دور خیموں کے قریب سے گھوڑا دوڑاتا اس کی طرف آرہا تھا۔ وہ وہیں بیٹھی تھی جہاں رات کو افق نے اسے آخری بار دیکھا تھا۔ دور افق پر ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ جھیل کا پانی سبزی مائل لگ رہا تھا، ابھی تک سورج کی کرنوں نے اس پر اپنا رقص شروع نہیں کیا تھا۔
"تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ "گھوڑا اس کے قریب لے جاکر افق نے رفتار کم کردی۔
"زندگی میں پہلی دفعہ ہار نے کی سزا پوری کر رہی ہوں، مگر یا تو ماہوڈھنڈ کی مچھلیاں بہت ہوشیار ہیں، یا پھر میری قسمت بہت خراب ہے"

۔۔۔۔۔۔۔۔💚❤💜💙105❤💚💜💙۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 106
اس نے ہاتھ میں فشنگ راڈ پکڑ رکھی تھی۔
"اوہ خدایا۔ تم رات بھر یہی کرتی رہی ہو کیا؟ "شہد رنگ آنکھوں میں حیرت در آئی۔
"سوئی نہیں ہو کیا"
"کسی دانشور نے کہا تھا، سونا وقت کا ضیاع ہے" وہ کیا کہتی کے رات بھر نیند ہی نہیں آئی تھی۔
"بہت معذرت، مگر میں تمہیں بتانا بھول گیا ک آج کل ماہوڈھنڈ میں مچھلیاں نہیں ہوتی۔ گھوڑے کی لگام تھامے، آنکھوں میں شوخی لیے وہ مسکرا رہا تھا، وہ ابھی تک گھوڑے پر بیٹھا تھا۔
"کیا" وہ چلا کر کھڑی ہوئی، گود میں رکھا ہیٹ نیچے گھاس پر گر پڑا۔
"تم۔ نے مجھے غلط ڈیئر کیوں دیا؟ "
"مجھے بھی اسی دانشور نے بتایا تھا ک وقت ضائع کروانے کے اور بہت طریقے ہوتے ہیں۔ وہ ہنسا۔
"بہتر۔ اب تم نئی راڈ خریدنا" غصہ اتنا شدید تھا کے اس نے افق کی راڈ اٹھا کر جھیل کی طرف اچھال دی، راڈ نے ایک غوطہ کھایا اور پھر پانی میں ڈوب گئی۔
"میں یہ راڈ دریا سے ٹروٹ کا شکار کرنے کے لیے لایا تھا مگر تم نے خود کو ٹرراؤٹ کھانے سے محروم کر لیا ہے"
"میں ٹرراؤٹ کھاۓ بغیر بھی ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں" وہ ہیٹ سر پر رکھ کر چل پڑی۔
"سنو قراقرم کی پری"!۔
پریشے کے قدم زنجیر ہوئے تھے، اس نے پلٹ کر گھوڑے پر بیٹھے افق کو دیکھا۔
"تمہارے ساتھ ایک یادگار تصویر کھینچوانے کو دل چاہ رہا ہے؟ "
"نہیں" ! وہ دو قدم مزید اگے چل دی۔
"مگر میرا دل چاہ رہا ہے" وہ جست لگا کر گھوڑے سے اترا اور بھاگ کر اس کی طرف آیا۔ تیزی سے ہاتھ بڑا کر اس نے اس کا ہیٹ اتار دیا۔
"کیا ہے" ؟وہ ایڑیوں کے بل گھومی۔افق نے اپنی کیپ اس کے سر پر رکھی۔
"تم یہ پہنو"اپنی جیکٹ،گھڑی اور مفلر اس نے پریشے کو تھمادیےاور اس سے اسکی گھڑی لے لی۔
"تم کرنا کیا چاہ رہے ہو" ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔💚💙💚💖106💙💚💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 107
"مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ہمارے آخری دن میں نے اور جینیک نے ایک دوسرے کی ٹوپییاں،جیکٹیں، ٹائیاں، گہڑیاں اور سن گلاسز پھن کر تصویر کہنچوائی تھی۔ بہت یادگار ہے" اس نے افق کی چیزیں پہن کر اس کو اپنا ہیٹ پہنے دیکھا اور بے اختیار ہنس دی۔
"ہم مضہکہ لگ رہے ہیں، افق! "۔
"ہم نہیں،صرف تم! "مسکراتے ہوئے اسے چھڑا کر، اس نے دور کھڑے امیر حسن کو آواز دی وہ پاس آیا تو اشاروں سے تصویر کہنچنا سکھا کر اپنا پولا رائیڈ کیمرہ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
تصویر کے لیے دونوں گھوڑے کے ساتھ کھڑے ہوگئے، افق نے ایک ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھام لی۔
"تصویر بن کر آئے تو لکھ دینا کے گھوڑا میرے دائیں طرف ہے" پچھلی بات کا بدلہ اتار کر وہ خود ہی ہنس دی، اسی لمحے گھوڑے والے نے بٹن دبا دیا۔ فلیش چمکی اور چند ہی لمحوں بعد تصویر بھر نکل کر آگئی۔
"ایک فوٹو گرافر کی حثیت سے تمہارا مستقبل بہت روشن ہے مسٹر" !اس۔ کے یوں ریڈی نہ کہنے پر وہ تصویر جھاڑتے ہوئے بہت جل کر بولا تھا۔ امیر حسن ٹکر ٹکر اس۔ کا چہرہ دیکھنے لگا۔
"یہ شکریہ کہہ رہا ہے" اپنی ہنسی روک کر اسنے اسے بتایا۔
"خیر، اس کا قصور نہیں، تم سارے پاکستانی ریڈی کہے بغیر تصویر کہینچتے ہو" تصویر جھاڑتے ہوئے وہ مسکرایا۔
پری کو یاد آیا، مری میں اس نے بھی ریڈی کہے بغیر تصویر کہینچی تھی۔
"ہم بہت سے کام ریڈی کہے بغیر کرتے ہیں۔ خیر تصویر دکھاؤ "۔
اس نے تصویر افق کے ہاتھ سے لی۔ وہ ہنس رہی تھی، ہنستے ہوئے وہ گردن کو قدرے پیچھے پھینک دیتی تھی۔ ہنسی روکنے کو اس۔ نے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا، کلائی میں موجود سیاہ گھڑی کے ڈائل کا  اہرام چمک رہا تھا۔ افق گھوڑے کی لگام تھامے گردن موڑ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے سر پر موجود ہیٹ جس کا گلاب اب مرجھا سا گیا تھا، اس کو بلکل کاؤ بوائے کی طرح دکھا تھا۔
"اچھی ہے" اس نے تصویر واپس کردی۔
"تم رکھنا چاہتی ہو؟ "
"نہیں" وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر جانا چاہتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💚💜💖107💚💜💖💙۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 108
"بہت اچھا" افق نے تصویر جیکٹ کی جیب میں ڈال لی، جو پریشے اسے دوسری چیزوں کے ساتھ واپس کر چکی تھی۔
"رائیڈنگ کروگی" ؟
"نہیں،مجھے گھوڑوں سے ڈر لگتا ہے" وہ فورن پیچھے ہٹی۔
"ایک بہادر کوہ پیما کو گھوڑے سے ڈر نہیں لگنا چاہیے"
"بلکل ایسے ہی، ایک بہادر کوہ پیما کو برے خواب سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے" وہ سوچ کر بولی۔
"بیٹھ جاؤ۔ یہ بہت اچھا گھوڑا ہے، خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے" وہ اسکی بات کو نظرانداز کر گیا۔
"شکریہ، مگر میں تو لڑکی ہوں" ۔
"اچھا اوپر بیٹھو ناں، ایک پاؤں ادھر رکاب پر رکھو۔ ۔۔رکھو تو سہی"اسکے اصرار پر قدرے ہچکچاتے ہوئے وہ اگے بڑھی اور پاؤں رکاب میں ڈالا۔
"اوکے،اب دیاں ہاتھ میرے کندھے پر رکھو اور بیان پیٹھ پر"
"کس کی پیٹھ پر" ؟وہ چڑھتے چڑھتے رکی۔
"گھوڑے کی پیٹھ، مادام!وہ تحمل سے مسکراہٹ دبائے بولا۔
"اچھا" وہ شرمندہ سی ہنسی ،پھر قدرے ڈرتے ہوئے، اس کے کندھے کا سہارا لے کر گھوڑے پر بیٹھ گئی۔
"ڈرو نہیں، میں نے کہا نا یہ خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے" اس کی ڈری ہوئی صورت دیکھ کر وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا۔
"مجھے زمین پر پٹخنا اس کے احترام کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں؟ "وہ اپنی تمام کوشش کے باوجود گھوڑے سے سخت خوف زدہ تھی۔
"یہ تو میں نے اس سے نہیں پوچھا، خیر تم یہ  باگ پکڑو اور اس طرح کروگی تو یہ چل پڑیگا۔
پریشے نے ہڑ بڑا کر اسے دکھا، "کیا مطلب؟تم نہیں بیٹھو گے؟ "
"نہیں۔فکر مت کرو، یہ تمہیں نہیں گرائے گا"
"نہیں نہیں، مجھے اتارو۔ مجھے نہیں بیٹھنا اس پر۔ "وہ گھبرا گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💜💙💚❤108💙💚❤💜۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 109
"کم ان پریشے ڈیئر،یہ زیادہ سے زیادہ تمہیں ماہوڈھنڈ میں پھینک دے گا؟ تو پھینک دے۔۔۔میں تمہارے پیچھے پانی میں چھلانگ لگا دوں گا" ۔
"مگر تم تو کہہ رہے تھے کے تمہیں سوئمنگ نہیں آتی"
"ہاں مگر مجھے ایک پری کے پیچھے جھیل میں ڈوبنا تو آتا ہے ناں" وہ اس کی حالت۔ سے محفوظ ہو رہا تھا۔
"پلیز مجھے نیچے اتارو۔ یہ مجھے گرا دے گا" وہ رو دینے کے قریب تھی۔
"یہ اچھا گھوڑا ہے، خوبصورت عورتوں کا۔۔۔۔"فقرہ اس کے لبوں میں تھا جب بے حد گھبراہٹ میں پری نے گھوڑے سے اترنا چاہا، گھوڑا یک دم کسی گولی کی طرح تیز رفتار سے بھگا تھا۔
"افق" وہ چلائی تھی۔
"اوہ گاڈ۔۔۔پری،اسے روکو۔ ۔نیچے مت اترو"وہ جو اتنی دیر سے مزاق کر رہا تھا، گھوڑے کو بھاگتا دیکھ کر بوکھلا گیا۔ مگر وہ اس سے زیادہ بوکھلائی ہوئی تھی، سو لگام چھوڑ کر نیچے چالانگ لگا دی، اس کا بایاں  پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور وہ تیورا کر گھاس پر گری۔ کھینچ کر پاؤں رکاب سے آزاد کریا مگر اس کا بایاں ہاتھ ایک پتھر سے ٹکرا کر معمولی سا زخمی ہوگیا تھا۔ وہ بمشکل سیدھی ہوئی۔ اس کا ہیٹ اڑتا ہوا دور ماہوڈھنڈ میں جا گرا تھا اور اب نیلے سبزی مائل پانی کی سطع پر تیر رہا تھا۔
"پری۔ ۔۔تم ٹھیک ہو" ؟ وہ بھگتا ہوا اس تک آیا تھا اور پنجوں کے بل اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
"میں مزاق کر رہا تھا آئی ایم سوری۔ مگر تمہیں کس نے کہا تھا ک تم لگام کھینچ دو" ؟
"تم نے ہی کہا تھا" اس نے شکوہ کرتے ہوئے بڑی بڑی آنکھیں اٹھائیں، جن میں آنسوں بہہ رہے تھے۔
"میں تو بس یونہی۔۔۔"وہ سخت شرمندہ تھا۔
"ادھر دکھاؤ، ہاتھ کو کیا ہوا ہے" ؟افق نے اس کا ہاتھ تھام لیا، جس میں انگلیوں کے نیچے، ہتھیلی پر رگڑنے سے ایک معمولی سا کٹ اگیا تھا جس سے بمشکل خون کی دو تین بونڈیں ٹپکی تھیں مگر وہ پریشان ہوگیا تھا۔
"کیا بہت درد ہو رہا ہے" ؟وہ جواب دیے بنا سر جھکائے اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھتی رہی۔ آنسوں اس کی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔
"اچھا دیکھو رو تو مت، میں دوا لے کر آتا ہوں ٹھیک؟ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💜❤💙109💜❤💙💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 110
وہ اسے کیسے بتاتی ک وہ اس معمولی خراش پر نہیں رو رہی، رات بھر سے اندر جمع ہوئے آنسوں کو کسی صورت تو راستہ ملنا ہی تھا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا، پریشے نے دائیں ہاتھ کی پشت سے آنسوں۔ صاف کیے" بس سنی پلاسٹ لے آؤ"
وہ جاتے جاتے پلٹا"کیا؟ "
"پلاسٹک والا بینڈیج"
"اچھا یو مین سانیتا بانت ؟ابھی لایا" وہ سمجھ کر اپنے خیمے میں چلا گیا۔ شاید ترکی میں سنی پلاسٹ کو سانیتا بانت  کہتے ہو گے۔
وہ وہیں گھاس پر بیٹھی اپنی قسمت کی لکیروں کے درمیان لگے کٹ کو دیکھتی رہی۔وہ سنی پلاسٹ لے کر واپس بھی اگیا۔
"اب خبردار،رونا نہیں ہے" اس کے ہاتھ اور سنی پلاسٹ کی طرز کا بینڈیج لگا کر وہ پری کو ڈانٹتے ہوئے بولا،
"اتنی پیاری آنکھوں۔ کو رو رو کر سرخ کر ڈالا ہے تم نے"
اس نے چونک کر نم آنکھوں سے اپنے ساتھ گھاس پر بیٹھے افق کو دکھا براہراست اس ند اسے خوبصورت کہا تھا، اس کے دل میں جیسے کوئی نرم احساس جگا تھا۔
"اب درد ہو رہا ہے" ؟ وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا۔ وہ کہنا چاہتی تھی کے ہاں، درد تو بہت ہے اذیت دیتا درد اس کے دل میں ہو رہا ہے، مگر اس نے گردن کو نفی میں جنبش دی۔
"گڈ۔اب اپنی آنکھیں صاف کرو۔ اپنی چیخہوں سے تم نے نشا اور ارسہ کو اٹھا ہی دیا ہوگا۔ ابھی آکر پوچھیں گی ک میں نے ایک منگنی شدہ لڑکی کو کیا کہہ ڈالا ک وہ یوں رو رہی ہے" ۔
وہ بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی، "تم نے تو کہا تبا یہ گھوڑا خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے" ؟
"ہاں مگر تم تو لڑکی ہو ناں! "وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ پریشے نے تاسف سے ماہوڈہند کو دکھا سبزی مائل نیلے پانی پر اس کا ہیٹ تیر رہا تھا، افق نے اسکی نگاہوں کا تعاقب کیا۔
"جانے دو۔  تم نیا لے سکتی ہو"
"اونہوں" ۔اس نے اداسی سے نفی میں گردن ہلائی۔ "نئے ہیٹ پر ایسا باسی سرخ گلاب لگا ہوگا جس کی پتیاں کنارے سے سیاہ ہو کر مرجھائی ہوں گی"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙💚❤💜110💚❤💜💙۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 111
"صہیح کہہ رہی۔ ہو۔ بعض چیزیں کھو جائیں تو پھر نہیں ملتیں، ان۔ کا نعم البدل بھی نہیں ملتا اور بعض انسان بھی۔ چلو خیموں کی طرف چلتے ہیں" ۔
وہ ساتھ ساتھ گھاس پر چلنے لگے، وہ ننگے پاؤں تھی جب ک افق کے پاؤں میں جرابیں تھیں۔
"تمہارا ڈیر ابھی تک نامکمل ہے"
"جانتا ہوں اور میں تمہیں اب کوئی مشکل dare دو گا"
"مگر وہ راکاپوشی کر کرنے سے متعلق نہیں ہوگا" اس نے متنبہ کیا۔
"اوکے، اب سنو۔ نشا کہہ رہی تھی اس کے بھائی کے کسی دوست کا باپ کسی انٹیلی جینس ایجنسی کا چیف ہے" ؟
"ہاں ہے پھر؟"
"تم اسے کہو، اپنے صدر سے کہہ کر مجھے گوورمنٹ اف پاکستان کی طرف سے کوئی صدارتی ایوارڈ دلوادے"۔وہ بچوں کے انداز میں ضد کر رہا تھا۔
اسے ہنسی آگئی۔ "تمہیں ہماری گوورمنٹ کی طرف سے ایوارڈ لینے کا شوق کیوں ہے" ؟
"میں بیس سال بعد اپنے سفرنامے میں لکھنا چاہتا ہوں ک جب میں اسلامی دنیا کے سب سے طاقت ور ملک میں گیا تو اس۔ کے "پادشاہ" نے میری خوب آؤ بھگت کی وغیرہ وغیرہ۔ سمجھا کرو نا شو آف"۔
"خیر حسیب کے دوست کا باپ ایک سرکاری ملازم ہی ہے، رچرڈ آر میٹج نہیں جو اس کی بات مان لی جاۓ گی" .
افق ہنس پڑا۔"کیا خوب بات کہی۔ عراق امریکا جنگ میں امریکا ہماری منتیں کرتا رہا تھا مگر ترکی نے اور طیب اردگان، نے اپنی سر زمین استعمال کرنے کی ۔ اجازت نہیں دی" ۔وہ دونوں گھاس پر چلتے ہوئے اردگان، مشرف اور افغان جنگ کی باتیں کرتے رہے۔ خیموں کے بجاۓ جھیل کی طرف آئے تھے۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا فجر کا وقت تھا۔
"میں نے نماز نہیں پڑھی، تم تھرو، میں وضو کرلوں"۔
وہ جھیل کے پانی کے قریب چلا گیا اور گھاس پر پنجوں کے بل بیٹھ کر چلتے صاف پانی سے ہاتھ دھونے لگا۔
وہ اسکے ساتھ کھڑی مسکراتے ہوئے اسے وضو کرتے دیکھنے لگی۔ بازو کہنیوں تک دھو کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙💜❤💚111💜❤💙💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ نمبر 112
اس نے کیپ اتاری اور مسح کیا پھر دونوں پاؤں کی جرابیں اتار کر انھیں پانی میں ڈبو کر دھونے لگا۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کی انگلیوں کی حرکت کو دیکھ رہی تھی، یک دم اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ وہ جھٹکے سے دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
"افق۔ ۔۔۔یہ۔ ۔۔۔"وہ بے یقینی سے اس کے بائیں پاؤں کو دیکھ رہی تھی۔
"یہ کوہ پیماؤں کی زندگی ہے، مادام جہاں زیب۔ ۔کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑھتا ہے"وہ بہت اطمینان سے اپنا بایاں پاؤں دھو رہا تھا جس کی آخری دو انگلیاں نہیں تھیں۔
"مگر۔ ۔۔۔۔کیسے۔ ۔۔۔۔یہ کیسے ہوا" ؟اس کے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔
افق نے لاپروائی سے شانے اچکادیئے ،"فروسٹ بائٹ"اب وہ جرابیں واپس پہن رہا تھا ۔
"نماز قضا ہوگئی ہے شاید مجھے جانے کیوں دھیان ہی نہیں رہا"۔وہ افسوس کرتا گھاس سے کیپ اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔
"کتنی دیر رکنا پڑے گا ادھر" ؟پریشے نے قدرے جھنجھلا کر پوچھا۔ یہ ماہوڈھنڈ سے انے کے دوران پہلی بات تھی، جو اس نے کہی تھی۔ ورنہ وہ افق کی طرح بلکل خاموش رہی تھی مگر جب لینڈ کروزر سڑک کے درمیان میں رک گئی تھی تو اسے پوچھنا ہی پڑا۔
"جب تک یہ پتھر راستے سے نہیں ہٹے گا، ہم آگے نہیں جا سکتے" ۔
ابھی آدھا گھنٹہ پہلے محض پانچ منٹ کی بوندا بندی ہوئی تھی، جس سے سڑک کے بلکل  بائیں  طرف پہاڑ سے چپکا ایک دیوقامت پتھر ذرا سا سرک کر دائیں طرف ہوگیا تھا اور اس کے ذرا سے سرکنے پر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار جو دوسری جانب سے آرہی تھی، رک گئی تھی، وہ جگہ اتنی تنگ تھی ک اگر پتھر کے سائیڈ سے گاڑی نکلنے کی کوشش کی جاتی تو وہ سیدھا کھائی میں بہتے اشو میں گر جاتی۔ یہ جگہ آبشار اور اشو ویلی کے درمیان میں تھی، ان کی گاڑی کے پیچھے آبشار سے پلٹنے والی گاڑیوں کی لمبی قطار تھی اور دوسری جانب سے آبشار پر انے والی گاڑیوں کا قافلہ تھا۔
لوگ گاڑیوں سے نکل کر اس وزنی پتھر کو دھکا دینے لگے تھے، مگر وہ بل کے ہی نہیں دے رہا تھا۔
"اس۔ کو امریکا سمجھ کر دکا(دھکا) لگاؤ" ایک گاڑی کے پٹھان ڈرائیور  نے جوش سے ماحول کشت زعفران بن گیا ۔
"آؤ نیچے دریا پر اترتے ہیں" وہ افق کے کہنے پر خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگی۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💜💚112💙❤💜💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 113
اتنی دیر سے کیا سوچ رہی ہو" ؟ مسلسل خاموشی سے وہ جلدی ہی اکتا گیا تھا۔
"یہی ک ہم کل یہاں سے چلے جائیں گے۔ اس حسین وادیؤں اور مرغزاروں کو چھوڑتے ہوئے میں بہت اداس محسوس کر رہی ہوں" ۔
"تم حسین یادیں ساتھ لے جا رہی ہو"۔
"بچھڑنے کا دکھ حسین یادوں کو دل پر لگا گھاو بنا دیتا ہے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ناسور بن جاتا ہے اور نا سور کوئی مسہیا نہیں بہر سکتا، وقت بھی۔ نہیں" ۔وہ سر جھکائے احتیات سے پتھروں پر پاؤں رکھ رہی تھی چلتے چلتے اس نے جوتے کی نوک سے ایک پتھر ہٹایا،نیچے بے تہاشا سیاہ موٹے موٹے کیڑے تھے، اس نے فورن پتھر واپس رکھ دیا۔ کیڑے دب گے۔
"ہم بچھڑ نہیں رہے۔ ہم پھر ملیں گے۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے"
وہ چونکی"کدھر" ؟۔
"رکاپوشی بیس کیمپ میں آٹھ تاریخ کو بیس کیمپ میں میں تمہارا انتظار کروں گا"
"کم آن" !۔اس نے سر جھٹکا ایک زخمی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی۔
"میں دمانی نہیں آؤں گی"
"تم دمانی ضرور آؤ گی" ۔وہ پر یقین تھا۔
ہنزہ کے باسی رکاپوشی کو پیار سے دمانی کہتے تھے۔
"تمہیں اتنا یقین کیسے ہے" ؟۔
"ایسے ک تمہیں معلوم ہے ک میں تمہارا انتظار کرو گا" ۔
"تم بے جا انتظار کرو گے۔ میں نہیں آؤں گی۔ چلو اوپر چلتے ہیں۔ شاید امریکا میرا مطلب ہے پتھر اب سرک چکا ہو"۔وہ واپس اوپر چڑنے لگی۔ دریا ان سے کئی فٹ نیچے نشیب میں بہہ رہا تھا
"ہم اچھے دوست بھی تو ہیں، پری! "۔
(ہم اچھے دوست "ہی" تو ہیں؟ ہم اور کیا ہیں؟ )وہ پوچھنا چاہتی تھی، اس کے جذبات کی شدت ان کہے تعلق کی نوعیت ،مگر بولی تو بس یہ ک "میری شادی ہے اور مجھے اس کی تیاری کرنی ہے میں نہیں آسکوں گی تمہیں بیس کیمپ سے سی آف کرنے بھی نہیں"
"مجھے بلاؤ گی اپنی شادی میں" ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔❤💜💙💚113❤💜💜💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 114
وہ ایک لمحے کو چپ سی ہوگئی ۔وہ ہنس پڑا۔
"میں مزاق کر رہا تھا،جانتا ہوں تم مجھے اپنی خوشیوں میں کبھی شریک نہیں کروگی" ۔
"خوشیوں میں؟ "اس نے یاسییت سے سوچا۔کتنا بڑا مزاق کیا تھا نا افق نے بچھڑتے وقت۔ مگر اس نے کہا تھا وہ بچھڑ نہیں رہے اور اگلی شام، 31جولائی کو پشاور ائیرپورٹ پر اسے سی آف کرتے ہوئے بھی اس نے یہی کہا تھا۔
"میں تم سے دوبارہ ملنے کا منتظر ہوں" ۔
"میرا خیال ہے، میں تمہیں زندگی میں آخری دفعہ دیکھ رہی ہوں" ۔
افق نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا، "میں نے کہا ناں ۔ہم بچھڑ نہیں رہے میں رکاپوشی بیس کیمپ میں ایک بہت اچھی کوہ پیما کا منتظر رہوں گا" ۔
اپنے بیگز کی ٹرالی دھکیل کرڈیپار چر لاؤنج کی طرف بڑھتے وقت پریشے نے ایک اداس نظر اس پر ڈالی۔
"میں نہیں آؤں گی،افق! کوہ پیما کو اب پری کو بھلا دینا چاہیے"۔
"کوہ پیما اور پری کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میں قراقرم کے تاج محل پر قراقرم کی پری کا انتظار کروں گا" ۔
وہ مسکرایا،شہد رنگ آنکھیں چھوٹی ہوگئیں، پھر اس کی مسکراہٹ دھند لا گئی۔ اس کے ہر نقش پریشے کی آنکھوں میں چھائی دھند میں دھندلا ہوتا چلا گیا۔ وہ تیزی سے مڑی اور بھاگ کر وہاں سے چلی گئی، اس سے پہلے ک قدم یونانی دیو مالا کے اس کردار کا کوئی لفظ روایات میں اس کے قدموں کو زنجیر کر دیتا۔

۔منگل، 2اگست 2005ء
"میں کھانے کو دیکھ لوں" کہہ کر وہ لاؤنج سے جانے ہی لگی تھی ک پاپا نے روک کر آہستگی سے کہا، "وحید سے کہو، بازار سے چپلی کباب بنوالاۓ" ۔
"جلیل کے" ؟وہ بے خیالی سے بولی۔
"کیا" وہ سمجھ نہ پاۓ تھے۔
"نہیں نہیں۔ کچھ نہیں۔ میں وحید سے کہتی ہوں" ۔
وہ گڑ بڑا کر سمبھلی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💙❤💚💜114💚❤💜💙۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 115
"کتنی کمزور ہوگئی ہو پری بیٹا۔ خامکھا اتنی دور چلی گئیں۔ بھلا کیا رکھا ہے ادھر؟ "۔پھپھو پاپا کے سامنے پیار جتاتی اسے بہت مصنوعی لگ رہی تھیں۔(ادھر کیا رکھا تھا؟ ادھر ہی تو سب کچھ رکھا تھا) ۔
"بس یونہی" ۔وہ مزید کچھ نہ کہہ سکی اور کچن میں آگئی۔ پھوپھو ٹھیک کہہ رہی تھیں، اس نے کچن کے کیمبنٹ کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر سوچا، وہ واقعی بہت کمزور اور الجھی الجھی لگ رہی تھی۔ یہ اسے کیا ہوگیا تھا؟
"میں قراقرم کے تاج محل پر قراقرم کی پری کا انتظار کروں گا" وہ آواز کو کسی نغمہ ساز کی دھن سے زیادہ خوبصورت تھی، پچھلے تین دن سے اس کی سماعتوں میں گونج رہی تھی۔
وہ اس کا انتظار کرے گا اور اسے نہ پاکر واپس چلا جاۓ گا۔ قراقرم کی پری اور کوہ پیما کی کہانی کا یہی منتقی انجام تھا پھر وہ کس کر لیے اداس تھی؟ اس کے لیے جس نے ایک دفعہ بھی نہیں کہا تھا ک وہ اس سے محبت کرتا ہے، جس نے یہ تک نہیں بتایا تھا ک اس کا گھر ترکی ک کس شہر میں ہے؟ پھر وہ کیوں اتنی جذباتی ہورہی تھی؟ ۔
ان دو تین دنوں میں خوش گمانی کے سارے رنگ اس کی آنکھوں سے اتر چکے تھے۔ وہ بے شک اس سے محبت کرنے لگی تھی، مگر وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے، یہ اس نے کیسے اخذ کرلیا تھا۔
اب غیر جانبداری سے اس معاملے کو دیکھتی تو اسے لگتا ک وہ یک طرفہ محبت کا شکار تھی۔
"پری کسی ہو" ؟وہ سلاد کاٹ رہی تھی جب سیف بغیر کسی دستک کے اندر داخل ہوا اور عین اس کے پیچھے آکر بولا۔ وہ چونک کر پلٹی۔سیف کو اتنے قریب دیکھ کر نا گواری سے اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے ۔
"آپ اندر جا کر بیٹھیں میں کھانا لگانے ہی لگی ہوں" وہ واپس پلٹ کر جھک گئی۔
"میں ادھر ٹھیک ہوں۔ تم نے فون نہیں کیا وہاں سے؟ "۔
"پاپا کو کرتی تھی روزانہ یہ بہت تھا" ۔اس کا انداز اتنا روکھا تھا ک سیف چونکے بغیر نہ رہ سکا۔
"پھر بھی۔ ۔۔۔خیر گنوار قسم کے پہاڑی لوگوں میں جا کر رہنا کیسا تجربہ تھا؟ "۔
اس نے زور سے  چھری رکھی۔ "پہاڑی لوگ گنوار نہیں، مخلص اور بہادر ہوتے ہیں"۔
"مگر میں نے تو سنا ہے ک حیات آباد کے دکان داروں سے زیادہ چرب زبان اور بے ایمان کوئی نہیں ہوتا" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💙💜❤💚115💜❤💙💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 116
"دکاندار تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، چاہے حیات آباد کے ہوں یا اسلام آباد کے" اب وہ سلاد میں لیموں نچوڑنے لگی۔
"پری" پاپا نے اسے آواز دی ۔وہ "جی" کہہ کر سیف کو مکمل طور نظر انداز کرکے باہر آگئی۔
"اپنے ماموں،ممانی کو بلالاؤ "۔وہاں اس کی شادی تاریخ رکھی جا رہی تھی اور ماموں،ممانی کی موجودگی لازمی تھی۔
"ہاں ہاں، ان کو بھی ہونا چاہیے۔ آخر کو اکلوتی بھانجی ہے" پھپھو نے فورن خوش ہوکر کہا۔ وہ انھیں دیکھ کر رہ گئی۔
"جاتی ہوں پاپا" وہ دانستہ لاؤنج کے دروازے سے باہر گئی، نہ ک کچن سے، کیوں کے وہاں سیف تھا۔
اسے سیف اور پھوپھو جتنے برے اور منافق آج لگ رہے تھے، اتنے پہلے کبھی نہیں لگے تھے۔ پہلے وہ ان کو پسند نہیں کرتی تھی مگر اب نا پسند کرنے لگی تھی۔ اس کا رویہ اتنا روکھا پھیکا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، جتنا آج وہ بے اختیار کیے ہوئے تھی۔ پچھلے آٹھ دنوں نے اسکی زندگی بدل ڈالی تھی۔ اگر ایک دفعہ انسان پہاڑوں پڑ چلا جاۓ،تو پھر زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
نشاء کے لان میں آج پھر وہ لڑکا۔ ۔۔۔۔حسیب کے ساتھ بیٹھا کاغذ پر کوئی لسٹ بنا رہا تھا اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
"السلام علیکم پری آپا"۔
"ڈونٹ کال می آپا" ۔وہ ناک سکوڑ کر کہتی اندر چلی آئی۔ وہ اسے بہت برا لگتا تھا۔
ماموں اور ممانی لونگ روم میں ہی تھے۔ اس نے چہرے کے زاویے درست کرتے ہوئے انھیں سلام کیا۔
"وہ آپ کو پاپا بلا رہے ہیں، دراصل پھپھو آئی ہوئی ہیں تو پاپا نے کہا کے آپ لوگ بھی آجائیں" ۔
"اچھا ڈیٹ فکس کرنے آئی ہوں گی۔ تم جاؤ پری! ہم آرہے ہیں" ۔ماموں نے کہا۔
"اور کھانا وغیرہ سب ٹھیک ہے نا، کوئی مدد چاہیے تو بتاؤ، بنوادوں تمہارے ساتھ کچھ" ممانی بلکل ماؤں والے انداز میں فکرمند ہورہی تھیں، وہ مسکرادی۔
"مامی سب کچھ تیار ہے۔ بس آپ لوگ آجائیں" ۔وہ وہاں سے جارہی تھی، جب ماموں نے دھیرے سے ممانی سے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💙💜💚116❤💙💜💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ نمبر 117
"میرا بیٹا بڑا ہوتا تو میں کبھی پریشے کو ان نا قدروں میں میں نہ جانے دیتی" ۔
"کبھی میں سوچتا ہوں ک جہاں زیب سے ایک دفعہ تو پوچھو ک سیف میں اچھی شکل اور پیسے کے علاوہ اسے کیا نظر آیا جو اس نے۔ ۔۔۔۔"اس سے اگے وہ سن نہ سکی ک باہر آگئی تھی۔
وہ دونوں لان میں بیٹھے تھے، اس کو دیکھ کر بولتے بولتے رک گئے۔
"ویسے تمہارا نام کیا ہے؟ "وہ ان کے قریب سے گزر کر جانے ہی لگی تھی، مگر کسی خیال کے تحت رک کر پوچھ لیا۔ وہ اس کا نام ہمیشہ بھول جایا کرتی تھی۔
"مصعب۔۔۔۔مصعب عمر۔ ۔۔۔"وہ کھڑا ہوگیا۔
"تم وہی ہونا،تمہارے ابا شاید کورکمانڈر تھے اور پچھلے سال شاید ان کو ایجنسی کا اعلی عھدہ دے دیا گیا ہے، ہے ناں؟ "
"بلکل! پنڈی کو ان جیسا ہنڈسم کور کمانڈر آج تک نہیں ملا" وہ اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔
"میں نے سنا ہے ان کو اگے بھی "بہت زیادہ" ترقی ملنے کے چانسز ہیں اور یہ ک وہ صدر کے خاص دوستوں میں شمار ہوتے ہیں" وہ بڑے اکھڑے اکھڑے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
"میں نے کبھی ان سے پوچھا نہیں" ۔
"کم آن۔ اتنا تو مجھے بہت پتا ہے ک پنڈی کا کور کمانڈر آرمی چیف کا فیورٹ ہوتا ہے" ۔
"فیورٹ کی بات نہیں ہے بعض لوگوں میں اتنی خوبیاں ہوتی ہیں ک آپ کے لیے انھیں نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور مجھے زیادہ نہیں پتا ہوتا۔ یوسی،میں ادھر نہیں گھوڑا گلی میں ہوتا ہوں"۔اس نے لاپروئی سے شانے اچکائے۔
پریشے نے کھڑے کھڑے اسے گھور کر دکھا۔ "ویسے باجیوں کی عمر کی لڑکیوں کو دیکھ کر سیٹی بجانا بھی لارنس کالج میں سکھایا جاتا ہے" ؟
"وہ پریشے آپی، میں۔ ۔۔۔۔"
"جسٹ ڈونٹ کال می آپی" وہ کھٹ کھٹ کرتی وہاں سے چلی گئی۔

بدھ 3اگست 2005ء
"میں گھنٹے تک تمہیں پک کر لوں گ، ڈنر ساتھ کریگے"سیف کا اس کے موبائل پر فون آیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💙❤💚117❤💜💙💚۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 118
"کدھر" ؟
"کسی ریسٹورنٹ میں یار" !
"نمبر ایک میں کوئی "یار" نہیں ہوں۔ دوسری بات، میں ابھی بہت بزی ہوں،"اس کا انداز کھردراسا تھا۔
"تم اپنی مصروفیت ملتوی کردو اور۔۔۔۔۔"
"سیف،میری کال آرہی ہے، میں بعد میں بات کرتی ہوں" اس نے موبائل اف کردی تھی۔ اسے یاد آیا افق نے گہری رات میں اسے جھیل کے کنارے واک کرنے کو کہا تھا، تو وہ ساتھ چل پڑی تھی، مگر سیف پر اسے ذرا برابر اعتبار نہ تھا۔
"کیا وہ شخص اس کی قسمت میں نہیں ہو سکتا تھا؟ اگر ایسا تھا تو وہ دونوں برستی بارش میں مرگلہ کی پہاڑیوں پر ایک دوسرے سے کیوں ٹکرائے تھے؟ "وہ ہمیشہ یہ بات سوچتی تھی۔

چاۓ کا مگ اس نے ٹرے میں رکھا اور پاپا کے کمرے کے قریب آ کر در پر دستک دی۔
"آؤ پریشے" وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بزنس میگزین دیکھ رہے تھے۔ اسے دیکھ کر میگزین  رکھ دیا۔
"کیا پڑھ رہے تھے آپ؟ "ان کو چاۓ کا مگ تھما کر وہ بیڈ کی پائینتی پر ٹک گئی۔
"شوکت عزیز کی بتائی گئی گروتھ ریٹ میں اضافے کی فگرز کا رٹیل فگرز سے موزانہ،آدمی اسٹاک مارکیٹ سکینڈل کا حصہ رہا ہے، یہ تو اس ملک کا اکانومی تباہ کردے گا۔اور باقی جھوٹ۔ ۔۔۔"وہ۔ کہتے کہتے اس کے چہرے کا تاثرات کو دیکھ کر رک گئے۔
"تم کچھ کہنا چاہتی ہو؟ "
"پاپا۔۔۔۔۔وہ۔ ۔۔اگر آپ اجازت دیں تو وہ البر تو ہے۔ نا۔۔۔میں نے آپکو بتایا تھا ک البر کی گیارہ افراد کی ایکسپیڈیشن ٹیم رکاپوشی summit کرنے جا رہی ہے ایک ترکی کا ایکسپیڈیشن اور بھی ہے، بائیس دن کی کوہ پیمائی ہوگی اور۔ ۔۔۔۔"
"تم ان کے ساتھ آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑ پر۔ جانا چاہتی ہو" ؟ان کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔
"آٹھ ہزار کہاں، رکاپوشی تو بس سات ہزار اور چند میٹر بلند ہے" ۔(اس خیال نہیں آیا ک  چند میٹر 788میٹر تھا)۔
"اور اس کی کلائمب تو خاصی مختصر ہے" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💙💚💜❤118💜💚💙❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 119
(اس نے دعا کی ک ان کو۔ علم نہ ہو ک رکاپوشی کا شمال مغربی Ridge دنیا کا طویل ترین رج ہے)۔
"اور موسم تو ادھر بلکل بھی خراب نہیں ہوتا"(اس نے یہ بھی نہیں بتایا ک البر تو اپنی ٹیم کے ساتھ کئی دن سے رکاپوشی بیس کیمپ میں موسم ٹھیک ہو نے کا انتظار کر رہا ہے)۔"میں چلی جاؤں پاپا؟ "۔
"تم جانتی ہو، میں تمہیں اجازت نہیں دوں گا" ۔ان کا لہجہ قطعی تھا۔
"جی" وہ مایوس ہو کر وہاں سے چلی آئی۔
باہر بر آمدے میں آکر وہ ستون سے ٹیک لگا کر سیاہ آسمان کو دیکھنے لگی۔ تاریکی کے پردے کی اوٹ سے کمان سا بریک چاند جھانک رہا تھا۔ پریشے نے اداسی سے چاند کو دکھا، یہ چاند ہنزہ کے آسمان پر بھی روشن ہوگا، نگر کے دریا کے پانی پر چاندنی کی پریوں نے رقص کیا ہوگا، ہو سکتا ہے اس وقت افق ارسلان بھی اسے ہی دیکھ رہا ہو، اس کے روشن وجود میں کسی اور کو تلاش کر رہا ہو۔
"میں قراقرم کے تاج محل پر قراقرم کی پری۔ کا انتظار کروں گا"۔یونانی دیو مالا وہ کردار قراقرم کے تاج محل پر اس کا انتظار کر رہا تھا، مگر وہ وہاں نہیں جا سکتی تھی۔ پری کے پر کاٹ دیے گئے تھے۔
پھر پتا نہیں اس کے دل میں کیا سمائی، وہ اپنے کمرے میں آئی اور دیوار پر لگے پوسٹرز اتارنے لگی۔ اتار کر کچن میں آگئی اور ۔ چولہا جلایا۔
مایہ ناز کوہ پیما اور دنیا کے بلند پہاڑ اس نے آگ میں ڈالنے شروع کر دیے، ایورسٹ ،کے تو، براڈ پیک، گیشر برم تو، nuptse، Annapurna کی دیوار، سب اس کے چولہے میں جل رہے تھے۔زندگی میں ایک مقام ایسا آجاتا ہے جہاں انسان کو اپنے تمام خوابوں سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ پریشے کی زندگی میں وہ مقام آگیا تھا۔
"پری" اس نے چونک کر بھیگے چہرے کے ساتھ پیچھے دکھا۔ پاپا دروازے میں حیران سے کھڑے تھے۔ اس نے جلدی آنسوں صاف کیے۔
"یہ کیا کر رہی ہو؟ "انہوں نے اگے بڑھ کر چولہا بند کیا اور اس کے ہاتھ میں موجود آخری پوسٹر تھاما ۔تو ماز ہومر نانگا پر بت کے سامنے کھڑا تھا۔
"انھیں کیوں جلا رہی ہو؟ یہ تو تم۔ نے بہت شوق سے خریدے تھے" ۔
"بس پاپا، اس شوق کا کیا فائدہ جو صرف خوابوں تک محدود رہے" ۔زبردستی مسکرانے کی کوشش کی آنکھیں مزید بھیگتی چلی گئیں۔ کتنی ہی دیر وہ اس کو مزید دیکھتے رہے، ان کی پیاری اور فرماں بردار بیٹی یوں رو رہی تھی، وہ بھی ایک چھوٹی سی خوائش کے پیچھے؟ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💙💚❤💜119💙💚❤💜۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 120
"تم جا سکتی ہو،پری! "
"جی، میں سو نے جا ہی رہی تھی" وہ سر جھکا کر ان کے سامنے سے ہٹنے ہی لگی تھی ک انہونے کہا۔
"تم رکاپوشی جا سکتی ہو"۔
وہ جاتے جاتے تیزی۔ سے ایڑیوں کے بل گہومی،  اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔
"آپ نے کیا کہا، پاپا" ؟
"تم رکاپوشی کلائمب (کوہ پیمائی) کے لیے جا سکتی ہو مگر صرف 22دن کے لیے" وہ ہلکے سے مسکرائے۔
وہ ہکا بکا سی انھیں دیکھ رہی تھی۔
"میں۔۔۔میں جا سکتی ہوں" ؟
"ہاں۔ مجھے آج اندازہ ہوا ہے ک اگر میں نے اپنی بیٹی کو اس کا سب سے بڑا خواب پورا کرنے  نہیں دیا تو یہ اس کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا" انہونے ہولے سے اس کا سر تھپکا، "مگر تم جاؤ گی کیسے ؟میں سیف کو کہوں،تمہارے ساتھ چلا جاۓ" ؟
"نہیں ،سیف نہیں، پاپا! "اس سے تو بہتر تھا وہ نہ ہی جاتی۔ "نشا اور حسیب ساتھ ہے ناں، حسیب کے فرینڈز کا گروپ ویسے پرسوں ہنزہ جا رہا ہے، رکا پوشی بیس کیمپ سر کرنے۔ میں ان ک ساتھ چلی جاؤں گی" اسے یقین نہیں آرہا تھا ک پاپا اتنی جلدی اجازت دے دیں گے۔
"تم نے تو پوری پلاننگ کر رکھی ہے" انہوں نے مشکوک انداز میں اسے گھورا تو وہ مسکرا دی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے باہر لاؤنج میں آگے۔
"اچھا، مجھے بتاؤ۔ کتنے پیسے چاہیے ہوں گے، تمہاری ٹور کمپنی نے تو گیارہ ہزار لیے تھے۔ انہوں نے والیٹ جیب سے نکلا۔
"رکاپوشی کے لیے پاپا، سات آٹھ۔ ۔۔۔"اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
"بس آٹھ ہزار؟ "وہ ہزار ہزار کے نوٹ گننے لگے۔
"آٹھ لکھ پاپا" اس نے تھوک نگل کر کہا۔پہلے ہمیشہ وہ سپانسرڈ اور فنڈز ایکسپیڈیشن کے ساتھ جاتی تھی۔ اب دو دن میں وہ فنڈز ریز کرنے سے یا سپانسر شپ حاصل کرنے سے تو بہتر تھا۔
"پری،آر یو سیریس ؟"وہ حیران ہوئے تھے۔ ان کا دل تنگ تھا، نہ ہاتھ مگر انھیں حیرانی ہوئی تھی۔
"بس پاپا تھوڑا مہنگا شوق ہے ناں" وہ جھینپ کر ہنس دی۔ اسے اندازہ نہیں تھا ک یہ سب اتنا آسان ہوگا، اگر ہوتا تو وہ کافی عرصہ پہلے ہی پوسٹرز جلانا شروع ہو جاتی۔ اسے تو ماز ہو مر کا وہ پوسٹر پہلے کبھی اتنا اچھا نہیں لگا تھا، جتنا آج لگ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔💙💚💙❤💜120💙💚💜💙۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ نمبر 121

پیر، 8 آگسٹ 2005ء
"کدھر پھنسا دیا ہے اپنے پریشے آپا؟ میں تو پتا نہیں کتنا رومانٹک  سفر سوچ کر آیا تھا کہ ہنزہ پہنچ کر چار پانچ پورٹرز لیں گے،سامان گدھوں پر اور پھر آئگا جگلت کے دریا کے کنارے سفر کرنے کے بعد تغافری کا بیس کیمپ،خوبصورت دریا،جنگل سبزہ ہی سبزہ،وہ جیسے عمار نے بتایا تھا۔آللہ بھلا کرے آپ کا،آپ ہمیں رومانٹک قسم کے راکاپوشی کے ویسٹ فیس ک بجائے،کدھر برف زاروں میں لے آئی ہیں،اتنی برف اور اتنے کریوس ہیں ادھر۔یہاں تو گدھے بھی نہیں آتے،ہم تو پھر انسان ہیں"۔
"خیر تمہارے انسان ہونے پر مجھے شک ہے،حسیب!"شاہراہ قراقرم سے راکاپوشی کہ شمالی مغربی رخ کا فاصلہ دو دن کی پیدل مسافت پر تھا اور پچھلے دو دن میں حسیب یہ بات کوئی چھے سو بار دفعہ کہہ چکا تھا۔سو بے حد تنگ آکر نشاء نے جواب دیا۔
"یہ اتنا خطرناک علاقہ ہے،اس ایکسپیڈیشن ٹیم کی مت ماری گئی ہے جو راکا پوشی نارتھ ویسٹ پر سے سر کرنا چاہتی ہے؟اس راستے سے کوئی بھی چوٹی تک نہیں پہنچ سکا"۔
"وہ سب ایک گلیشیئل وادی میں آگے پیچھے ایک قطار میں ریے تھے۔پریشے نشاء اور حسیب سے پیچھے اس کا دوست اور ان سے پیچھے اٹھائیس پورٹر تھے،جو انہوں نے ہہنزہ سے ہی لیے تھے۔
"حسیب!تمہیں تکلیف کیا ہے؟تمہارا "بوجھ"تو پورٹرز نے اٹھایا ہوا ہے"۔حسیب کی مسلسل چلتی زبان پر پریشے غصے سے بولی۔دو دن پورٹرز کے ساتھ رہ کر وہ بھی سامان اور کندھے پر  اٹھائے رک سیک کو"بوجھ"بولنے لگی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚❤121💜💛💚💚۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 122

پورٹرز پاکستان میں وہی کام کرتے ہیں،جو نیپال میں شرپا کرتے کیں۔سیزن میں جب سیاحوں کی آمدورفت عروج پر ہوتی ہے،یہ پورٹر ان کا سامان اٹھاتے ہیں اور انہیں ان کی منزل تک پہنچادیتے ہیں۔نشاء نے اتنے سارے پورترز لینے پر دو دن پہلے پریشے کو حیرت سے کہا تھا۔
"ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کہ بجائے ہم ان کے بغیر چلے جاتے ہیں۔۔۔کیا فرق پڑے گا؟"۔
"فرق تو کوئی نہیں پڑے گا،بس ہم دو دن تو کیا دو مہینوں میں بھی راکا پوشی نہیں پہنچ سکیں گے"۔
پچھلے دو دن سے وہ پیدل ان برفیلی وادیوں میں سفر کر رہے تھے۔یہ وہ علاقہ تھے،جہاں آپ فاصلے کو کلومیٹر ،میٹر ،یا میل سے نہیں ،دنوں ہفتوں اور مہینوں سے ناپتے ہیں۔
پریشے نے دو دن پہلے جب پیدل سفر شروع کیا تھا تو اسے اسلامآباد ،کراچی،لیک ڈسٹرکٹ ،سب بھول گیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے وہ سینکڑوں سال پہلے وقت میں پیچھے صلے گئے ہوں،جب انسان پیدل پتھروں اور برف پر سفر کیا کرتے تھا۔
"ویسے مجھے لگتا ہے،ہم سا پاگل کوئی نہیں ہوگا،جو گھروں کا سکون چھوڑ کر پہاڑوں میں ٹریکنگ پر نکل جاتے ہیں اور آپا جیسا پاگل بھی کوئی نہیں ہوگا،جو پہاڑوں کو سر کرنا چاہتی ہیں"۔
"اب کتنا فاصلہ رہ گیا ہے؟"وہ حسیب کے مزاق کو نظر انداز کر کے عقب میں اس تنگ راستے پر چلتے پورٹرز کے سردار سے پوچھنے لگی۔
"بس میڈم،آدھہ گھنٹہ اور!"پورٹرز کے سردار نے پورٹرز کے دستور کے مطابق بولا۔
"پچھلے 12 گھنٹوں سے یہ بلڈی چیپ "آدھہ گھنٹہ اور"کہہ رہا ہے"عقب میں کوئی انگریزی میں بڑ بڑایا۔
پریشے نے گردن پھیر کر دیکھا۔حسیب کا وہی دوست ایک برفانی نالے ک کنارے کھڑا ہوا بڑ بڑا رہا تھا۔وہ کوئی سخت بات کہنا چاہتی تھی،مگر سامنے سے آتے افراد دیکھ کر ان کی طرف ہوگئی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚❤122💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 123

وہاں گلشئیر پر ان کے سامنے سے ایک ٹیم آرہی تھی۔پریشے اپنی ٹریکنگ اسٹک کی مدد سے چلتی،تیز قزمی سے ان تک جا پہنچی۔یوں لگتا تھا جیسے سالوں بعد ان تنہا ،سنسان وادیوں میں کسی انسان کو دیکھا ہو۔
"السلام علیکم۔پاکستانی؟"ان کے چہروں سے ظاہر تھا،پھر بھی قریب پہنچنے پر اس نے پوچھا،وہ پانچ تھے،ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا،ان سے کئی گز پیچھے ان کے پورٹرز کی جوج آرہی تھی۔
"جی میڈم۔پاکستانی الحمد اللہ!"وہ خاصا تھکا ہوا لگ رہا تھا،پھر بھی بہت رووب مگر تحمل سے بولا۔وہ اس کی کٹنگ سے ہی پہچان گئی تھی کہ فوجی تھا۔باقی بھی آرمی کے تھے،وہ گلاسز اور مفلر کی وجہ سے اس کا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکی تھی۔
"بیس کیمپ سے آرہے ہیں آپ؟وہاں موسم کیسا تھا؟"
"موسم؟"تازہ دم پانچویں ساتھی نے ہنس کر سر جھٹکا اور آگے بڑھ گیا۔لیڈر، جس کا نام میجر اطہر تھا،کہنے لگا۔
"موسم کی مت پوچھیں،مس!ہم پاکستانی آرمی کی ملٹری ایکسپیڈیشن کر رہے تھے،راکاپوشی کے اوپر پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر خیموں میں قید ہو کر موسم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رتے رہے۔آٹھویں دن ہار مان کر نیچے اتر آئے۔جس دن بیس کیمپ پہنچے،موسم بلکل ٹھیک ہوگیا۔اس کی بات پر پریشے ہنس پڑی۔
"اب کون کون ہے بیس کیمپ میں؟"اس نے میجر اطہر سے پوچھا۔
"البر تو کی ٹیم ہے مگر وہ بھی ہمت ہار کر جانے لگے ہیں،اس کے علاوہ دو پاگل موجود ہیں"۔
"افق ارسلان کی ٹیم؟"اس کا دل زور سے دھڑکا۔اس نے ایک نظر میجر اطہر کی پشت پر دیکھا سیاہ قراقرم کے پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتے "بگ وائٹ ماونٹین"راکاپوشی پر ڈالی۔وہ قریب ہی تھا۔
"جی وہی،یہ میجر عاصم،جو ابھی آگے گیا ہے،افق ارسلان کا دوست بھی ہے اور لیزان آفیسر بھی۔ارسلان کو کچھ چاہیے تھا،اس کے لیے ہی ہنزہ جا رہا ہے"۔پریشے نے پلٹ کر دیکھا،میجر عاصم خاصا دور جا چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚❤123💜💛💚💚۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 124

وہ پاک آرمی کی ملٹری ایکسپیڈیشن ٹیم کو خدا حافظ کہہ کر اپنی ٹیم کے ساتھ چلنے لگی۔نگر اور ہنزہ کے دریاوں کو وہ کافی پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ہنزہ کے دریا کے پانی سے اس نے سونے کے ذرات ڈھونڈنے کی کوشش کی،مگر اسے بکامی ہوئی۔اس نے سن رکھا تھا ک سکندر اعظم کی فوج کی نسل جس وادی میں آباد ہے،(ہنزہ کی وادی )وہاں کے دریائے ہنزہ سے سونا نکلتا ہے۔
"اف کتنا لمبا راستہ ہے نا!حکومت کو چاہیے،راکاپوشی تک سڑک بنادے،بندہ آرام سے پہنچ تو جائے"۔حسیب کا دوست،جس کا نام وہ پھر بھول چکی تھی،کہہ رہا تھا۔
"ہاں تا کہ مری کی طرح ہر بندہ منہ اٹھائے چلا آئے؟نہیں بیٹا،راکاپوشی کا حسن خراج مانگتا ہے،اس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے پیدل میلوں کی مسافتیں طے کرنی پڑتی ہیں"۔
"ثابت ہوا ک بندہ "پربتوں کی دیوی"راکاپوشی کو دیکھ کر عقلمند ہوجاتا ہے،مثلآ حسیب جس نے زندگی بھر کبھی عقلمندی کی بات نہیں کی،مگر بیس کیمپ پہنچتے ہی۔۔"
وہ آگے سن نہ سکی،کیوں کہ بیس کیمپ کے قریب پہنچ کر اس نے اپنا رک سیک برف پر پھینکا وہ اپنی ٹیم سے آگے بھاگ پڑی۔ اس کے سامنے پربتوں کی دیوی اپنے تمام تر حسن کے ساتھ کھڑی تھی،مگر اسے اس کی تلاش تھی جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی۔
برف سے ڈھکے راکاپوشی کے قدموں میں پتھروں کے moraine پر بالکونی کی صورت ایک بیس کیمپ تھا۔ہر طرف نیلے،پیلئ اور سرخ خیمے لگے تھے۔بیس کیمپ سے 100 میٹر نیچے ایک دیو قامت بے ترتیب گلشئیر تھا۔یہ تمام "برو"کا گلشئیر تھا اور برو کا گلشئیر پر افق ارسلان اور البر تو کی ٹیم بیس کیمپ ٹھیک اس جگہ لگیا تھا،جہاں 1979ء میں ایک پولش (polish) پاکستانی ٹیم نے نصب کیا تھا۔اس پر اگلے دن ہی راکاپوآی سے برف کی ایک دیوار گر گئی تھی۔برفشار (avalanche) سے پیدا ہونے والی ہواہوں سے ہی تمام خیموں کی میخیں اکھڑ گئی تھیں۔پریشے برو کے خطرناک گلشئیر پر اپنے ہلکے،واٹر پروف،تریکنگ بوٹس کی مدد سے بھاگتی خیموں کی طرف ائی۔وہاں درجنوں خیمے نصب تھے۔
"افق ارسلان کہاں ہے؟" دھڑکتے دل سے اس نے سامنے سے آتے اطالوی سے پوچھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💙124💜💛💚💙۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 125

"ان دی میس ٹینٹ۔دی لاسٹ ون! "وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتا کر عجلت میں اگے بڑھ گیا۔ وہ دوڑتی ہوئی آخری نیلے خیمے کے قریب آئی؛باہر رک کر اس نے اپنا تنفس درست کیا سر سے اونی ٹوپی اتار کر پونی ٹھیک سے باندھی ؛پھر ٹوپی پہنی، سن گلاسز اتار کر اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھے اور خود کو نارمل کرتے اور اندرونی خوشی چھپاتے ہوئے خیمے کی زپ سے اندر جھانکا۔
وہ میس ٹینٹ کے اندر کرسی پر بیٹھا تھا، اس کی پشت پریشے کی جانب تھی۔دمانی سے آتی سرد ہوا کے تھپیڑوں کے باعث خیمے کا کپڑا پھڑ پھڑا رہا تھا۔ وہ اندر آگئی۔
"کیسے ہو افق؟ "اس ک عقب میں بازو باندھے ،اس ن افق سے پوچھا۔ اس نے چونک کر گردن گھمائی اور اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
"ایم فائن"۔اس کی توقع کے بر عکس وہ حیران نہیں ہوا تھا، اس کے چہرے کے تاثر ایسے تھے، جیسے وہ کسی گہری سوچ سے چونکا تھا اور پھر دوبارہ اس میں کھو گیا تھا۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ کیسا ہے، اس نے اتنے دن کیسے گزارے۔ اس کا انتظار کیا یا نہیں اور اس کا سرپرائز کیسا لگا! مگر کچھ بھی پوچھنے سے پہلے اس کی نظر افق ک ہاتھ میں پکڑی ایک چھوٹی سی پاسپورٹ سائز تصویر پر پڑی۔
"یہ کیا ہے؟ "پچھلے دو دن سے اس نے اپنی اور افق کی۔ جو گفتگو تصور کی تھی، وہ بلکل بھی نہیں  ہوئی تھی۔  وہ جو بہت سی باتیں بتانا اور پوچھنا چاہتی تھی، اب اچہنبے سے اس تصویر کو دیکھ رہی تھی۔
"یہ ؟"افق ن گردن جھکا کر تصویر کو دیکھا، زخمی انداز میں مسکرایا اور تصویر اس کی جانب بڑھا دی۔
"یہ حنادے ہے"۔
"کون حنا دے؟ "اس نے تصویر کے لیے ہاتھ بڑھایا، جس میں ایک سنہری بالوں اور خوبصورت آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی۔
"حنادے۔۔۔۔۔میری بیوی"۔😲😲
تصویر تھامنے کو بڑھا پریشے کا ہاتھ نیچے گر گیا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
"بیوی؟"kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

قراقرم کے سارے پہاڑ اس ک سر پر گرے تھے۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اپنی حیرت،صدمہ کچھ بھی چھپانے کی سعی نہیں کی تھی۔ کسی نے جیسے اس کے قدموں تلے زمین کھینچ لی تھی۔اور وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے تکے جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔125💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 126

ہاں، یہ اس کی پکچر یونہی نکال لی تھی۔ خیر، تم کب آئین؟ "تصویر واپس والٹ میں رکھ کر جیب میں ڈالتے ہوئے افق کا انداز بہت نارمل تھا۔
"ابھی" اس کا لہجہ ایک دم روکھا سا ہوگیا تھا۔ اس نے گردن دوسری جانب پھیرلی۔
"مجھے علم تھا، تم ضرور آؤگی۔میں نے تمہارا انتظار کیا اور دیکھ لو، بے جا انتظار نہیں کیا"۔وہ مسکرایا۔
کوئی دھوکا کھا جاۓ تو دھوکا دینے والا ایسے ہی مسکراتا ہے۔ پریشے کا نسوانی وقار بری طرح مجروح ہوا تھا۔
"ٹھرو میں اپنی باقی ٹیم کو دیکھ آؤں" افق نے اس کا خشک اور رکھائی بھرا انداز نوٹ نہیں کیا۔وہ اسے چھوڑ کر قدرے بے دلی سے باہر آگئی۔ وہ بھی اس کے پیچھے اگیا۔
"یہ تمہاری سپورٹ ٹیم ہے، ٹریکرز ہیں یا یہ بھی کلائمب کریں گے؟"
"ٹریکرز ہیں" وہ اس سے دور ہٹ کر پتھروں پر چلتے ہوئے نیچے کی سمت سے انے والی اپنی ٹیم کے افراد تک آئی۔ وہ سب پر جوش سے ہو کر اپنے رک سیک اتار کر نیچے برف پر پھینک رہے تھے اور رکاپوشی کی حسین چوٹی کو گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے۔ صرف وہ تھی جس کی دلچسپی وہاں موجود ہر شے سے ختم ہوگئی تھی۔
دور ایک پتھر پر ارسہ بیٹھی ہوئی۔ تھی۔ اس نے گھٹنوں پر کاگز رکھے تھے اور ان پر کچھ لکھ رہی تھی۔ شور ہلچل اور ٹریکرز کی آوازیں سن کر اس نے سر اٹھایا۔ پریشے کو سامنے دیکھ کر وہ سارے کاگز وہاں چھوڑ کر  بھاگتے ہوئے اس کی جانب آئی۔
"پریشے آپی!آپ ادھر؟ اوہ گاڈ،مجھے یقین نہیں آرہا "وہ خوشی کے مارے اس سے لپٹ گئی۔ پھر الگ ہوکر اسے کندھوں سے تھام۔ کر خوشی سے مخمور لہجے میں بولی، "یقین کریں آج صبح ہی میں آپ کے متعلق سوچ رہی تھی۔ بہت اچھا کیا جو آپ آگئیں۔ ویسے اتنی۔ جلدی کلائمنگ پرمٹ کیسے بنا آپ کا؟ "
"کم آن ،میں پاکستانی ہوں، مجھے کلائمنگ پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے" اپنی آواز میں بشاشت پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ بیس کیمپ کے ہنگامے ٹریکرز کی آمد کے بائث جاگ اٹھے تھے۔ چند پورٹرز خیمے لگا رہے تھے، لڑکے ان کی مدد کرنے لگے۔ پریشے نے اپنے ساتھ ایک کک "شفالی" بھی لائی تھی، جو چولہہ لگا کر چپاتیاں پکانے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💖126💜💚💛💖۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 127

۔paulo Alberto(پالوالبر تو) کی اطلوی ٹیم بھی ان کے قریب آگئی تھی۔ البرتو انگریزی سے نابلد تھا، باقی اطالویوں میں سے ایک کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی۔ وہ سب کو بتا رہا تھا ک کل صبح اس کی ٹیم واپس جارہی ہے۔ اور وہ رکا پوشی کو چھوڑ کر بلتو رو کی کسی چوٹی کو سر کر نے جارہے ہیں۔
پریشے نے پورٹرز کی مزدوری کی تمام رقم "سردار" پورٹر کے ہاتھ میں رکھ دی اور اپنے خیمے میں چلی آئی۔  پورٹرز کا دستور تھا ک ہمیشہ رقم سردار کو ملتی تھی، پھر وہ اگے اس کو۔ تمام پورٹرز میں تقسیم کرتا تھا۔
اپنے خیمے میں آکر اس نے میٹ بچھا کر سلیپنگ بیگ رکھا اور اس میں لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی سماعتوں سے باہر ہونے والا شور و غل اور فھقهوں کی آوازیں ٹکرا رہی تھیں مگر اس کا ذہن کہیں اور تھا۔
حنا دے۔۔۔۔افق کی بیوی۔ ۔۔وہ شادی شدہ تھا۔کسی اور کا پابند تھا تو پھر اسے کیوں قراقرم کے تاج محل پر بلایا تھا؟ وہ غلط سمجھی تھی اسے؟ اس نے دھوکا کھایا تھا؟ جانے کب اسے نیند نے آ گھیرا۔ افق اسے رات کے کھانے پر بلانے آیا تھا۔ مگر سو تا خیال۔ کر۔ کے واپس چلا گیا۔

منگل،9 اگست 2005ءء
ہر سو گہری دھند چھائی تھی۔ وہ کسی بادل کے وسط میں پھانسی تھی دھند میں اسے اس۔ کے ساتھ کوئی دکھائی دیا۔ سبز آنکھوں اور سنہری بالوں والی۔ لڑکی۔ وہ پریشے کو دیکھ کر تمسخر سے مسکرائی۔ پھر زور سے چلانے لگی۔ "افق میرا ہے صرف میرا ہے" اسے لگا اس کی آواز سے اس کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ نہایت طیش میں آکر وہ اگے بڑھی اور دونوں ہاتھوں سے زور سے حنادے کو دھکا دیا۔ وہ چیختی ،زور زور سے چلاتے ہوئے اس برفیلی چوٹی سے نیچے لڑھک گئی۔ اگلے ہی پل کسی چوٹی سی گڑیا کی منند اس کا جسم نیچے کھائی میں گر رہا تھا، وہ بلند آواز میں چیخ رہی تھی، اتنی بلند گڑگڑاہٹ نما آواز کہ اس کو لگا وہ بھری ہو جاۓ گی۔ ہوا کو اری کی طرح چیرتی بھاری گڑگڑاہٹ۔۔۔۔۔۔۔،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💖127💛💚💜💖۔۔۔۔۔


صفحہ نمبر 128

ہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ اس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا اور چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے چہرے کو چھوا اور گھبراہٹ میں ادھر ادھر دیکھا۔ وہ اپنے خیمے میں تھی۔ یہ سب ایک بھایانک خواب تھا مگر وہ آواز ابھی تک سنائی دے رہی۔ تھی۔ ہوا کے زور سے اس کے خیمے کا گور نیکس پھڑ پھڑا رہا تھا۔ وہ تیزی سے زپ کھول کر باہر آئی۔
ہنزہ کے دریا کے ساتھ واقع کریم  آباد گاؤں پر صبح طلوع ہو رہی تھی۔ نیلا۔ ہٹ سنہری روشنی سے رکاپوشی کا دودھ کی طرح سفید اور اطراف کے سیاہ دیو ہیکل پہاڑ چمک اٹھے تھے۔
پریشے نے ارد گرد دیکھا۔ سامنے ہی خالی قطعے پر پاکستان آرمی کا سبز ہیلی کاپٹر لینڈ کر رہا تھا۔ اس۔ کے گھومتے پروں کی تیز ہوا سے اطراف کے تمام خیموں کے گورٹیکس پھڑ پھڑا رہے تھے۔
دور نصب نیلے خیمے کے سامنے کھڑے افق ارسلان نے شنا سا انداز میں ہیلی کاپٹر کی جانب ہاتھ ہلایا۔ وہ سیاہ فلیس جیکٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس ،گرے اونی ٹوپی سے سر ڈھکے مسکراتے ہوئے پائلٹ کو۔ دیکھ رہا تھا۔
ہیلی کاپٹر کے پر  سست ہے چکے تھے۔کھلے دروازے سے پستہ قد پھیکے نقوش کے حمل سیاہ اتر رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کا چہرہ اسے دور سے ٹھیک طرح دکھائی نہیں دیا تھا، نہ اسے  دیکھنے کا شوق تھا۔ وہ اپنے کھلے بال انگلیوں سے سنوارتی، آنکھیں ملتی ان سے دور ہٹتی گئی۔ اس کا ذہن حنادے اور اپنے خواب کے درمیان پھنسا تھا۔ یہاں نرم گدلی برف کے درمیان ایک برفانی نالہ بہ رہا تھا۔ سورج کے چمکنے کے باعث نالے کا آدھا پانی پگھل چکا تھا اور اس میں برف کے بڑے بڑے ٹکرے تیر رہے تھے۔ نالے کے اس طرف حسیب کا دوست بیٹھا تھا۔
"یہ ہیلی کاپٹر پر کون آیا ہے، پری آپا ؟"
وہ اپنے خیالات سے چونکی ،پھر ناگوار شکنیں ماتھے پر ابھریں۔"جسٹ ڈونٹ کال می آپا،پہلے آپا اور بہن جیسے رشتوں کا احترام سیکھو اور پھر یہ لفظ کہو" اپنے نئے ٹراؤزر اور جیکٹ کی پرواہ نا کرتے ہوئے وہ وہیں گدلی برف پر بیٹھ گئی۔
"آپ مجھے سے ہر وقت خفا کیوں رہتی ہیں؟ "
"مجھے زہر لگتے ہیں تمہارے جیسے لاابالی قسم کے نوجوان ،جو لڑکیوں کو دیکھ کر سیٹی  بجاتے ہوں۔ ۔"وہ رخ پھیر کر پہاڑوں پر بنی قدرتی چراہ گاہوں کو دیکھنے لگی۔البر تو کے ٹیم ممبرز اور اس کے پورٹرز سامان کندھوں پر اٹھاۓ، چیونٹیوں کی طرح ایک ہی قطار میں چلتے ہوئے بیس کیمپ سے واپس نیچے جارہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💖128💜💚💛💖۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 129

"یہ عمر ایسی ہوتی ہے۔ سب اس عمر میں ایسے ہی ہوتے ہیں"
"سب نہیں ہوتے۔ محمد بن قاسم نے اس عمر میں سندھ فتح کیا تھا"
"وہ تو۔ میں نے بھی کر لینا تھا اگر یہ تلواروں کا دور ہوتا!"وہ لاپروائی سے ہنسا۔
"شٹ اپ!"اس۔ نے اسے جھاڑدیا، "آیندہ مجھے آپا مت کہنا" ۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے ناشتہ کرنا تھا، بال بندہ کر کان بھی دھکنے تھے کیوں کہ ہلکی ہلکی برفیلی ہوا اس کے کانوں میں گھس رہی تھی۔ وہ جانے کے لیے مڑی،تب اسے خیال آیا۔
"سنو، تمہارا نام کیا ہے؟ "وہ پھر بھول گئی تھی۔
نالے ک اس پار برف پر بیٹھا لڑکا مسکرایا، "مصعب عمر"
"فائن" وہ سر جھٹک کر بیس کیمپ کی جانب بڑھ گئی۔
بیس کیمپ جاگ رہا تھا۔ ناشتے کی خوشبو، چھل پھل ،پورٹرز کی واپسی، پستہ قد سیاہ کی آمد۔ وہ۔ کچن ٹینٹ کی طرف جاتے جاتے رک کر افق کو دیکھنے لگی جو ہیلی کاپٹر کے دروازے کے قریب کھڑا ہنس ہنس کر اندر بیٹھے پائلٹ سے بات کر رہا تھا۔ کچھ سوچ کر وہ ان ک قریب چلی آئی۔
"ایکسکیوزمی افسر! یہ کون لوگ ہیں؟ "افق کو یکسر نظرانداز کر کے اس نے پائلٹ سے سوال کیا۔
"یہ۔ کچھ  امیر و کبیر جاپانی سیاہ ہیں، جو رکاپوشی کے  N W supr (شمالی مغربی رج) پر فوٹو گرافی کرنے کے لیے دو دن پیدل چل کر بیس کیمپ انے کے بجائے پاکستانی آرمی کا ہیلی کاپٹر افورڈ کر سکتے ہیں" مسکراتے ہوئے افق نے جواب دیا۔
"کیا واقعی تو ماز ہو مر کو نانگا پر بت سے اپ لوگ نکال لیں گے؟ "دوبارہ پائلٹ کو مخاطب کیا۔اس نے۔ یوں ظاہر کیا جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں۔
 ان دونوں تو ماز ہو مر نانگا پر بت پر پھنسا ہوا تھا۔
"میم! اس میں بے یقینی کی کوئی بات نہیں ہے۔ پاکستان آرمی کے پہاڑوں پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز دنیا بھر میں مہشور ہیں۔ تو ماز ہو مر کو ہم انشاء اللہ جلدی ہی نکال لیں گے" پروفیشنل مگر آہستہ لب و لہجے میں افسر نے جواب دیا۔ اس کا چہرہ سیاہ گلاسز اور کیپ کے باعث واضح نہ تھا۔
"پری!یہ میرا دوست ہے۔ میجر عاصم اور عاصم ،یہ میری ساتھی کلائمبر ہیں، ڈاکٹر پریشے جہاں زیب"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💚💖💚129💚💖💜💜۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 130

نائس ٹو میٹ یو ڈاکٹر! آپکو کل بیس کیمپ کے راستے میں دیکھا تھا"۔
"جی،مگر بیس کیمپ ٹو ہنزہ سے دو دن دور ہے۔ اپ اتنی جلدی واپس جا کر ادھر کیسے پہنچ لئے؟ اور میجر اطہر کہہ رہے تھے آپ ترک ٹیم کے لیزان افسر ہیں۔ حالاں کہ لیزان افسر کا قانون تو پچھلے سال نومبر میں ختم ہوگیا تھا، بلتو روکے"
"میں ہیلی سے پہنچ گیا تھا اور ارسلان کا لیزان افسر دو سال پہلے بلتورو میں تھا اب ان جاپانیوں کو لانا تھا، ساتھ ارسلان کی۔ کچھ چیزیں بھی بغیر فیس لیے لے آیا ہوں" وہ ہنسا۔
"اچھا" وہ افق کو بغیر لفٹ کراۓ وہاں سے ہٹ گئی۔
ناشتے کے بعد وہ اس کے پاس آیا۔ وہ اپنے خیمے کے باہر پتھروں پر بیٹھی تھی۔
"تم نے آج اور کل ٹھیک سے ریسٹ کیا؟ "وہ اپنائیت اور فکرمندی سے کہتا اس کے ساتھ پتھروں پر بیٹھ گیا یوں ک دونوں کے سامنے رکاپوشی کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
"ہوں" اس نے نظر بھی اس کی جانب نہ اٹھائی۔
"آج ہم 4800 میٹر تک جائیں گے۔ رکا کا موسم بہتر ہو رہا ہے۔ ہمیں آج Accelimatization شروع کر دینی چاہیے"۔
"بہتر"
"تم اتنی فکر مند تھیں ک تمہیں اجازت نہیں ملے گی اور دیکھو، ذرا لگن سے تم نے ریکویسٹ کی اور تمہارے پاپا۔ نے فورن تمہیں۔ ۔۔۔۔۔"
"میں چینج کر لوں" وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بولتے بولتے رک گیا، پھر سر ہلا کر کہا،"ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں" ۔
(ہونہہ۔انتظار تو میں نے کیا تھا) وہ اسے نظر انداز کیے اپنے نارنجی خیمے میں۔ چلی آئی۔
گھنٹے بعد وہ فرید اور افق کے ہمراہ ہاتھ میں آئس ایکس لیے رکاپوشی کے قدموں پر چڑھنے لگی۔ اسے Accelimatization کی شدید ضرورت تھی۔اسے اپنے جسم اور پھیپھڑوں کو کم اکسیجن اور سطح سمندر سے زیادہ بلندی کا عادی بنانا تھا، مگر ابھی اس کا ذہن نئی حقیقتوں کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💖💚💛130💛💚💖💜۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 131

وہ سارا راستہ خاموش رہی۔ افق بولتا اور اس کو ڈھالان کا راستہ سمجھاتا رہا۔
رکاپوشی سر کرنے کے تین روٹ تھے، جنوب مشرقی فیس، جو،"جو گلت گوہ" کے گلشئر سر کر ک جاتا تھا، طویل مگر آسان ترین تھا۔ دوسرا مغربی فیس(پسان گلشیئر) اور پھر تھا،نارتھ،ویسٹ رج (N W ridge) دنیا کا طویل ترین رج جو آج تک کوئی سر نہیں کر سکا تھا۔ افق کی ٹیم یہی کرنے ادھر آئی تھی۔
دو پھر تک کیمپ ون میں پہنچ کر افق اور فرید نے تمام سامان خیموں میں بہرنا شروع  کیا۔ اس نے اس پر ڈالی جو پوری مستعدی سے سامان نکال رہا تھا۔ اس کے سر پر گرے اونی ٹوپی پر سفید بنائی سے   "rakaposhi 2005ء" لکھا تھا۔ وہ رخ پھیر کر اطراف کا جائزہ لینے لگی۔
وسیع برفیلا میدان، تین شوخ رنگوں کے خیمے ارد گرد کہیں کہیں سے گدلی برف ،جو فلموں کے بر عکس صاف ستھری نہیں تھی۔ بیس کیمپ سے کیمپ ون تک برف کم تھی ،کیمپ ون سے اوپر رکاپوشی کی بلندیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
پریشے نے گلشیئر گلاسز آنکھوں پر چڑہائے اور گردن پوری طرح اٹھا کر چوٹی کو دیکھا۔ پہاڑ کی "گردن" سے اوپر برف سے ڈھکی چوٹی کے گرد بادلوں کا ہالہ تھا، ایسے کے دھند اور بالوں میں گم تھی۔ اوپر  آسمان نیلا اور صاف تھا، مگر چوٹی دھند میں لپٹی تھی  اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی تھی۔ اسی باعث اسے دنیا بھر کے پہاڑوں میں خوبصورت پہاڑ کہا جاتا تھا۔ چوٹی سے نیچے پہاڑ کئی ہزار میٹر تک ایک خاص زاوے سے نیچے اتا تھا۔جیسے کسی نے سانچے میں ڈھال کر مہارت سے بنایا ہو۔ دنیا کا۔ کوئی پہاڑ ایسی انوکھی اور منفرد ساخت نہیں رکھتا۔ یہ خصوصیت صرف دمانی کو حاصل ہے۔
رکاپوشی کا مطلب ہنز و کثر زبان میں "چمکتی دیوار"ہے
اور دمانی ،"دھند کی۔ ماں" کو کہتے ہیں۔
وہ واقعی دھند کی۔ ماں تھی۔
واپسی کا۔ سفر، کمر پر خالی رک سیک کے باعث آسان تھا۔ وہ افق کے اگے اگے اتر رہی تھی۔ اس کا جوتا کاٹ رہا تھا، جس کے باعث اسے چلنے میں وقت کا سامنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💖💛💜131💖💛💚💜۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 132

"جس طرح پیپر کبھی نئے پین سے حل نہیں کرتے، اسے طرح کوہ پیمائی یا کوہ نوردی (ٹریکنگ) کا آغاز نئے جوتے سے کبھی نہیں کرتے" اس کی ذہنی رو سے بے خبر وہ اس کے عقب میں کہہ رہا تھا، "تم نے غالبآ نئے ٹریکنگ بوٹس لیے ہیں اور۔ ۔۔۔"
"مجھے پتا ہے" ۔اس نے اتنے درشتی سے اس کی۔ بات کٹی کہ وہ خاموش ہوگیا۔ پریشے نے اپنی رفتار تیز کردی۔ افق نے اس کے رویے کو ماحول کی تبدیلی پر مہمول کیا۔
سورج ڈوب چکا تھا۔بیس کیمپ کے رنگ برنگے خیموں میں واضح کمی اچکی تھی۔ اطلوی جاتے جاتے اپنا کچرہ بھی سمیٹ کر نہیں گئے تھے۔ خالی بوتلیں، کین، بے کار سامان ان کی خیموں کی جگہ بکھرا پڑا تھا۔سرمئی اندھیرا پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ خیموں کے اندر روشنیاں جل اٹھی تھیں۔ وہ تیز قدموں سے کچن ٹینٹ میں آئی۔
شفالی چپاتیاں پکا رہا تھا۔ نشاء اور ارسہ قریب ہی پلاسٹک چیئرز پر بیٹھی تھیں۔
"ارسہ باجی! آپ اپنی کتاب میں یہ ضرور لکھنا کہ یہ گورا لوگ دال چاول اور چپاتی کو مکس کر کے کیسے مزے سے کھاتا ہے۔ پھر کہہ رہا ہوتا ہے"نو کارب ،نو فیٹ،چپاتی از دی بیسٹ! "شفالی ارسہ کو مشوارہ دیتے ہوئے البر تو کی کسی اطلوی ٹیم ممبر کی نکل اتار رہا تھا۔ پریشے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور سپورٹس ڈرنک اٹھا کر منہ سے لگا لی۔
"ارسہ!تم اتنا رومنٹک ناول اس پہاڑ کے بارے میں کیسے لکھ سکتی ہو؟ اس بلندی پر تمہاری کرداروں کی کلفی جمی ہوگی، ،نا کہ وہ رومانس جھاڑ رہے ہوں گے" ۔
نشاء ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی، دفعتآ پریشے کو خاموش دیکھ کر سنجیدہ ہوئی۔
"تمہیں کیا ہوا ہے؟ "
"کچھ نہیں" وہ ڈرنک کا۔ گھونٹ لیتی رہی۔
"میں جا رہی ہوں ادھر سے۔ ایک تو لوگ بھی ناں،جدہر رائیٹر دیکھتے ہیں، مشورہ دینا شروع کر دیتے ہیں" ارسہ کافی دیر سے تانگ آئی بیٹھی تھی، بلا آخر اٹھ کر چلی گئی۔ شفالی۔ کسی کام سے باہر گیا تو نشاءنے کہا،
"تم نے خمکھا اتنا ہوا بنا رکھا تھا ک انکل اجازت نہیں دیگے، بلکل نہیں دیگے، مگر انہونے اتنی جلدی اجازت دے دی، مجھے۔ تو یقین نہیں آیا تھا،"۔
"یقین؟ یقین تو مجھ بھی نہیں آیا تھا" اس کی نگاہوں کے سامنے حنادے کی تصویر گھوم رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💚💛💖132💜💚💛💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 133

"پری اگر ممی اور پاپا، انکل سے بات کریں تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میں ممی کو جا کر سب؟آخر ماؤں سے کیا پردہ ہوتا ہے"
پری چونکی، "کیا بتادوں ؟"
"جو۔ تمہارے اور افق کے درمیان ہے"
"ہمارے درمیان کیا "ہے؟ اس نے الٹا سوال کیا۔
نشا نے ۔ بغور اسے دیکھا،"پری کیا ہوا ہے؟ "
"نہیں۔تم بتاؤ۔ ہمارے درمیان کیا ہے؟ "اس نے خالی بوتل میز پر رکھ دی۔
"تمہارے درمیان۔۔۔تم دونوں۔ ۔۔۔"نشاءالجھی۔وہ۔ زور۔ سے۔ ہنس دی۔
"ہمارے درمیان کچھ بھی نہیں ہے۔ تم پاگل ہو نشی"وہ اٹھی اور خیمے سے باہر نکل آئی۔ نشاء اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ مگر ہر۔ بات بتانے کی۔ نہیں ہوتی۔ وہ۔ نشا کو نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ شادی شدہ تھا۔ اگر بتا دیتی تو نشا اس کا چہرہ پڑھ کر جان جاتی کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ اس کی نسوانی غرور اور انا مجروح ہوتی، سو اس نے نشا کو کچھ نہیں بتایا۔
وہ۔ سر جھکاے اپنے خیمے کی طرف بڑھنے لگی۔ راستے میں اسے وہ برفانی نالہ نظر آیا، جس کے کنارے وہ صبح مصعب کے ساتھ بیٹھی تھی۔ صبح اس میں پانی تیر رہا تھا، مگر رات کو درجہ ہرارت گرنے کے باعث اب وہ مکمل برف ہو چکا تھا۔ وہ ہر چند گھنٹوں بعد روپ بدل لیتا تھا۔
"بلکل افق کی طرح۔ ہونہہ "اس نے سر جھٹکا اور اپنے قدم خیمے کی طرف تیز کر دیے۔

بدھ، 10 اگست 2005ء
بیس کیمپ میں آج پورٹرز نے بہت اچھا ناشتا دیا تھا۔ دلیہ،انڈے، چپاتی، جوس اور پنیر، جس کے باعث اگلی صبح وہ کیمپ ون تک فرید اور افق کے ساتھ چڑھ رہی تھی،تو اس کی طبعیت بوجھل سی تھی۔ افق اس سے اگے تھا اور مسلسل اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کابھ اس کے جوتوں کے متعلق پوچھتا تو کبھی کھانسی کے بارے میں، کیوں کہ وہ مسلسل کھانس رہی تھی۔
"تم احمت کو دیکھا لیتیں تو اچھا تھا" اس نے بیس کیمپ مینجر اور ڈاکٹر احمت دوران کا نام لیا۔ وہ جواب دیے بنا سر جھکائے اپنے "سکی پولز" کی مدد سے برف پر چلتی رہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💜💚💖133💜💚💛💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔


افق کی Acclimatization مکمل تھی ،مگر محض پریشے کے۔ لیے کہ وہ گر نہ جاۓ، اس کی۔ طبیعت نہ خراب ہو جاۓ، اسے کوئی مسئلہ نا ہو، وہ روز اتنا بوجھ لے کر اس کے ساتھ چڑہتا تھا۔ اس کا ارادہ آج تمام سامان کیمپ ون پہنچا کر، پوری شام ریسٹ کرنے کے بعد اگلی صبح بلکل تازہ دم ہو کر بیس کیمپ کو الوداع کہہ کر چڑہائی شروع کرنے کا تھا۔
سورج ابھی چمک ہی رہا تھا جب انہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ وہ اگے پیچھے ڈھلان سے نیچے اتر رہے تھے۔ گرمی اتنی شدید تھی ک پری نے دستانے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے تھے۔ تقریبن سات ہزار میٹر تک سورج جب چمکتا تھا تو گرمی۔ شدید ہو جاتی تھی اور رات کو درجہ ءحرارت ایسا گرتا کہ بوتلوں میں موجود پانی بھی برف ہوجاتا۔
اونچائی کم ہو رہی تھی، مگر اس کی کھانسی شدید ہوتی جارہی تھی۔ چکر آرہے تھے، سر میں درد تھا، Nausea بھی ہو رہا تھا، ایک جگہ کھڑے ہونے کی کوشش میں وہ پھسلنے لگی تو افق نے پیچھے سے اس کا بازو تھام کر اسے سہارا دیتے ہوئے قریب پتھر پر بیٹھایا۔
"تمہیں Altitude sickness ہو رہی ہے"
"نہیں میں ٹھیک ہوں" گھومتے سر کو اس نے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
"سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کیا؟ "اس کو اپنی کنپٹی سہلاتے۔ دیکھ کر وہ فکرمندی سے کہتا اس کے بلکل سامنے آگیا۔سورج اب افق کی پشت پر تھا، اس کی نارنجی شعاعیں اس کے اطراف سے نکل کر پریشے تک پہنچ رہی تھیں۔
"میں Diamox لے۔ لوں گی" ۔وہ اس کے فکر کر رہا تھا، وہ چڑ سی۔ گئی۔ اسے اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟
"۔diamoc سے کام نہیں چلے گا۔ اگر یہ الٹی تیوڈ سک نیس ہے تو یہ سیر برل ایڈیما یا پلمزی ایڈیما میں تبدیل ہو سکتی ہے اور۔ ۔۔۔۔"
افوہ افق۔ ۔۔۔!کیا مسئلہ ہے؟ میں ڈاکٹر ہوں، مجھے پتا ہے۔ تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے" وہ اتنے غصے سے بولی کہ افق نے  حیران ہو کر اسے دیکھا۔
"پری! کیا ہوا ہے؟ میں کل سے نوٹ کر رہا ہوں۔ تم کچھ اپ سیٹ ہو" ۔
"مجھے جو بھی ہو، یہ تمہارا درد سر نہیں ہے۔تم میری فکر مت کرو سمجھے تم" وہ کھڑی ہوگئی اس کا درد سر بڑھتا جا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💖💚💜134💖💚💜💛۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 135

"کیوں نا کروں تمہاری فکر؟ تم میری۔ ۔۔۔۔"
"میں کچھ نہیں ہوں تمہاری" وہ ایک دم ہلک پہاڑ کر چلائی ،"تمہاری صرف حنادے ہے، تم اس کی فکر کرو" ۔
افق کے ماتھے پر ناگوار شکن در آئی۔ "حنادے کا یہاں کیا ذکر؟ تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟ "اس کا لہجہ سخت ہوگیا تھا۔
"ہونہہ!مجھے تمہاری بیوی کے ساتھ کیا مسئلہ ہوگا؟ "
"شٹ اپ۔ ۔۔اس کا نام مت لو بیچ میں" ۔
پریشے نے پہلی دافع اسے غصے میں دیکھا تھا اور اسے غصہ آیا بھی تو کس بات پر تھا کہ وہ اس کی بیوی کا نام تحقیر سے نہ لے۔ وہ اس سے اتنی محبت کرتا تھا کہ صرف نام لینے پر۔ ۔۔؟ پریشے کے ھلک میں آنسوں کا گولہ پھنسنے لگا۔ وہ جھٹکے سے مڑی اور تیزی سے ڈھالان سے نیچے اترنے لگی۔
"پری! رکو" وہ اس کے پیچھے لپکا۔ وہ جتنا تیز دوڑ سکتی تھی دوڑی۔بیس کیمپ اب نظر آرہا تھا۔ برفانی نالہ پگھل چکا تھا۔ اس میں پانی تیر رہا تھا اور برف کے بڑے بڑے ٹکرے۔ ۔۔ وہ بہت تیزی سے خیموں کی طرف آئی تھی۔ اس کا دماغ ایک نہج پر پہنچ چکا تھا۔ اسے اب کسی صورت وہاں نہیں رہنا تھا۔ اسے واپس گھر جانا تھا۔ بس اب بہت ہو چکا تھا۔ وہ رکاپوشی تسخیر کرنے نہیں آئی تھی، وہ تو خود تسخیر ہو کر آئی تھی مگر اب اور نہیں۔ اپنے خیمے میں آکر اس نے اپنا مختصر سامان اٹھایا اور رک سیک میں بھر نے لگی۔ اس نے سوچا وہ کریم آباد سے کوئی پورٹر اور شفالی کو ساتھ لے لے گی۔ حسیب لوگ ابھی صبح ہی نکلے تھے زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔ وہ ان کو جا لے گی۔
"پری! تمہیں کیا ہوا ہے؟ "وہ بھاگتا، ہانپتا اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ پریشے نے جواب نہیں دیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی چیزیں اکھتھی کر رہی تھی۔ وہ اس کو بیگ تیار کرتے دیکھ کر ٹھٹکا،"تم کہاں جا رہی ہو؟ "
"گھر" وہ اپنی شیل جیکٹ، ڈاؤن جیکٹ اور دوسری واٹر پروف بیگ میں بھر رہی تھی۔
"مگر کیوں؟"
"مجھے تمہارے ساتھ کلائمب نہیں کرنی" اس نے دوسرے بیگ میں جرابیں،دستانے اور اسکارف ڈالے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗135💛💜💚💖۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 136

"یہ اچانک تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم ادھر کلائمب کرنے آئی تھیں اور بہت خوشی سے آئی تھیں"
"وہ۔ میری غلطی تھی، حماقت تھی" اس نے لوشن اور آخر میں کریم ڈال کر زپ چڑہائی۔
"مگر ہوا کیا ہے؟ "وہ حیران تھا۔
بیگ ایک طرف رکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑی۔ "ہوا کیا ہے؟ مجھے سے پوچھتے ہو کہ کیا ہوا ہے؟ تم۔ ۔۔۔تم دھوکے باز ہو۔ ۔۔تم نے دھوکا دیا ہے۔ مجھے۔بہت ہرٹ کیا ہے تم نے مجھے افق! بہت زیادہ"
اس نے اسے پرے دھکیلا۔وہ حیران سا دو قدم پیچھے ہٹا،"کیا دھوکا دیا ہے میں نے؟ "
"تم شادی شدہ ہو اور تم نے۔ ۔۔تم نے مجھے کبھی یہ نہیں بتایا۔ تمہاری ایک بیوی بھی ہے۔اور تم نے مجھے اندھیرے میں رکھا" وہ چلائی تھی۔
"تم نے بھی تو مجھے نہیں بتایا تھا کہ تم  انگجڈ ہو" وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی۔
"ہاں نہیں بتایا تھا، کیوں کہ منگنی اور شادی میں فرق ہوتا ہے۔"
"کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ساری بات کمینٹمنٹ کی ہوتی ہے"
"کوئی فرق نہیں ہوتا افق؟ کوئی فرق نہیں ہوتا؟ تم۔ ۔۔تم اس فضول عورت کے ساتھ۔ ۔۔۔"
"اس کا نام مت لو" وہ پھر غصے میں آگیا۔
پریشے نے بہت بے بسی سے اسے دیکھا۔ سامنے کھڑا وہ شان دار سا مرد اس کا تھا، نا کبھی ہو سکتا تھا اور جس کا ساتھ،اس کا نام بھی احترام سے لینے کو کہتا تھا۔
"اتنی محبت ہے تمہیں اس سے افق؟ "اس کا گلا رندھ گیا،"اتنی محبت ہے اس سے تو پھر مجھے کیوں بلایا تھا ادھر؟ ہاں۔ ۔۔بولو۔۔۔ جواب دو" اس کی آواز بھیگی آواز بلند ہونے لگی۔ "تم اس کے ہو اور صرف اس کے ہی ہو، باوجود اس کے تم نے مجھے بلایا اتنی دور، صرف اپنی انا کی تسقین کے لیے کیا چاہتے تھے تم؟ ایک لڑکی دو دن پیدل چل کر تم سے ملنے، محض تمہارے ایک فقرے کا مان رکھنے آئے اور تم اس کا  استقبال یہ کہہ کر کرو کہ"اسے دیکھو، یہ میری بیوی ہے" تمہیں ایک لمحے کو بھی لگا ککہ تم کسی کا دل توڑ رہے ہو۔ کسی کی روح چھلننی کر رہے ہو؟ پھر کہتے ہو، میں اسے کچھ بھی نا کہوں؟ کیوں نا کہوں، وہ گھٹیا ہے اور تم بھی گھٹیا ہو" وہ رونے لگی تھی۔ وہ بری طرح ہاری تھی۔ پیار کی پہلی بساط پر ہی اسے شہ مات دے دی گئی تھی۔ "چلے جاؤ تم ادھر سے۔ مجھے تمہاری شکل سے بھی نفرت ہے۔چلے جاؤ خدا کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو" وہ پھر چلائی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💚💜💛136💚💜💖💛۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 137

وہ بلکل خاموشی سے کھڑا اس کی ہر بات، نفرت کا ہر اظہار سن رہا تھا، وہ خاموش ہوئی تو وہ اس کے قریب آیا، اتنا قریب کہ اس کے عقب میں پریشے کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اس سے بلکل سامنے آکر افق نے اس کے دونوں شنوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا۔
"تمہیں مجھے سے نفرت ہے؟ میری صورت سے بھی نفرت ہے؟ یہ نفرت اس وقت سے ہے جب سے تمہیں حنادے کا علم ہوا ہے، ہاں؟ تو پھر میری بات غور سے سنو۔مزید کچھ کہنے سے پہلے یہ بات سنو۔ تم حنادے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتیں۔دو سال پہلے کے ٹو پر برفشار آیا تھا،حنادے اس میں دب کر مر گئی تھی۔ اس کا نام اس طرح مت لو۔ وہ میری بیوی تھی" 😲😲۔
اس نے پریشے کے کندھوں کو ایک جھٹکا دے کر چھوڑ دیا۔ پھر آخری نظر اس پر ڈال کر،تیزی سے پلٹا اور خیمے کا گور ٹیکس اٹھایا۔ باہر سے رکاپوشی کے سرمئی قدموں کی جھلک نظر آرہی تھی،ساتھ میں سرد ہوا کے ٹھپیڑے بھی اندر آئے۔وہ باہر نکلا، خیمے کا پردہ گرادیا۔ رکاپوشی چھپ گئی ہوا کا راستہ رک گیا اور وہ۔ ۔۔۔۔وہ۔۔۔جہاں تھی، ابھی تک وہیں منجمدسی کھڑی تھی.۔

بیس کیمپ پر رات اتر آئی تھی۔ اندھیرے میں دمانی کی سفید چوٹی کسی ہیرے کی طرح  جگر چمک رہی تہی۔پہاڑ کے قدموں میں، خیموں سے ایک طرف ہٹ کر، خالی جگہ پر اگ کا الاؤ جلا تھا۔ اس الاؤ کے گرد افق کی سپورٹ ٹیم کے افراد، مقامی پورٹرز اور کریم آباد کے باسی جھنڈ لگاۓ بیٹھے تھے۔ بیس کیمپ کی پر رونق فضا میں لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز کے ساتھ بلند و بانگ اور نعرے بھی گونج رہے تھے۔ کریم آباد کے لوگوں نے افق سے وعدہ کیا تھا خ اگر وہ رکاپوشی سر کر لے گا تو اس کے عزاز میں پورا گاؤں دعوت دے گا۔
کبھی اس محفل سے ہنزہ کے روایتی نغموں کی صدا گونجنے لگتی تو کبھی ترک اپنے گیت سنانے لگتے۔ ان عروج پر پہنچی رونقوں میں دو افراد کی کمی تھی۔ ایک ارسہ جو اپنے خیمے میں بیٹھی اپنا ناول لکھنے میں محو تھی اور دوسری پریشے، جو ان سب سے دور اس برفانی نالے کے اس پار سوگوار سی بیٹھی تھی۔ وہ کہنی گھٹنے پر رکھے اور مٹھی تھوڑی تلے جمائے سامنے خیموں کو دیکھ رہی تھی خیموں کے اس پار بون فائر کا منظر آدھا نظر آرہا تھا، آدھا خیموں کے باعث چھپ گیا تھا۔
تم دفتعآ اس نے افق کو محفل میں سے اٹھتے دیکھا۔ وہ خیموں کے درمیان میں سے جگہ بناتا، اپنی گرے فلیس جیکٹ کی زپ بند کرتا اسکی جانب آرہا تھا۔ پریشے نے سر جھکا دیا۔

صفحہ نمبر 138

"تم کیا ادھر بور۔ لوگوں کی طرح بیٹھی ہو؟ آؤ وہاں چلو سب اتنا انجوائے کر رہے۔ ہیں۔ میں صرف تمہارے لیے اتنا شغل چھوڑ کر آیا ہوں" وہ اتنے فریش انداز میں مخاطب تھا جیسے صبح کچھ ہوا ہی نا ہو۔
پریشے نے اپنی لانبی پلکیں اٹھا کر ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے سامنے ایک پتھر پر کہنی جمائے آرام سے بیٹھ چکا تھا اور اب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"تم نے ہم ترکوں کے گیت مس کر دیے۔ ابھی میں انھیں اتنا اچھا گانا سنا رہا تھا، وہ پورٹرز تو کہنے لگے، صاحب اپ نے غلط پروفیشن چوز کیا ہے۔اپ کو تو۔ ۔۔۔"
"افق! "اس کی آنکھوں میں آنسو تیر نے لگے۔ وہ اسے ڈانٹے،یا اس پر خفا ہونے کے بجاۓ یوں اتنا لاپرواہ اور ہشاش بشاش کیوں لگ رہا تھا؟
"میں۔ ۔۔میں بہت بری ہوں ناں افق؟ "
"تمہیں واقعی آج پتا چلا ہے؟ "
"افق پلیز!میں سیریس ہوں" ۔
"میں بھی ڈیڈ سیریس ہوں، پیاری پری" ۔وہ مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔ دور الاؤ کے قریب سے اٹھتا شور یہاں tتک سنائی دے رہا تھا۔
"افق پلیز !مجھے بات تو کرنے دو" وہ روہانسی ہوگئی۔
"کم آن۔مجھے پتا ہے تم نے کیا کہنا ہے۔ یہی کے" افق مجھے معاف کردو۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے نہیں پتا تھا کے وہ مر چکی ہے ورنہ میں وہ سب نہ کہتی"۔یہی کہنا ہے ناں تمہیں؟ تو بس فرق صرف یہ ہے میں نے کہہ دیا تمہاری جگہ۔ اب اس قصے کو ختم کرو"۔
"افق !مجھے واقعی نہیں پتا تھا۔ میں اتنا کچھ کہتی رہی اور۔ ۔۔"وہ رو دینے کے قریب تھی جب وہ جہنجھلا گیا۔
"ایک تو تم پاکستانیوں میں یہ بڑی خرابی ہے۔ بات کو چباتے رہتے ہو۔ پلیز، باتوں کو ہضم کر لیا کرو۔ جو ہوا بھول جاؤ پلیز! "۔
وہ اسی طرح بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💗138💛💜💚💗۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 139

"ویسے مجھے علم ہوتا کے تم حنا دے سے اتنی جیلس ہوگی تو اس کا ذکر بہت پہلے کر دیتا،ویسے۔ ۔۔"وہ شرارت سے تھوڑا سا جھکا۔ "میں تمہیں اتنا اچھا لگتا ہوں کیا؟ "مسکراہٹ دبائے وہ بمشکل خود پر سنجیدگی طاری کیے وہ مصنوعی معصومیت سے پوچھتا اتنا اچھا لگ رہا تھا۔
"ہاں، لگتے ہو نا! "خفگی بھرے انداز میں کہہ کر وہ خیموں کو دیکھنے لگی۔ افق کی طرح اس کی ناک بھی سرخ ہو رہی تھی اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا، جیسے کوئی بڑا کسی بچے کی معصومانہ شرارت پر اسے پیار سے دیکھتا ہے، مگر کہتا کچھ نہیں ہے۔
"پری آج تک یہ ہوتا آیا ہے کہ کوہ پیما خوب جسمانی مشقیں جھیل کر خود کو ان خوبصورت پہاڑوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ آج رات یہ پہلی دفعہ کہ میرے عقب میں موجود یہ پہاڑ خد کو ایک بہت خوبصورت کوہ پیما کے لیے تیار کرے گا"۔
پریشے نے نگاہوں کا زاویہ اس کی جانب واپس موڑا۔قدرے اتراہٹ، قدرے معصومیت سے وہ بولی،"کون، میں؟ "
"نہیں یار، میں اپنی بات کر رہا ہوں" ۔وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ پریشے نے ناراضی سے اسے دیکھا۔
"اچھا اٹھو، تمہارا چیک اپ کراتے ہیں احمت sسے۔ سارا دن روتی رہی ہو۔ اب تک تو تمہارا ایلٹی ٹیوڈ سک نیس عروج پر ہوگی"۔کھڑے کھڑے افق نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ وہ نالہ کے دوسرے طرف تھا۔ اس نے پہلے خفگی سے اسے دیکھا، مگر وہ اس سے زیادہ دیر خفا نہیں رہ سکتی تھی۔ اس نے افق کا ہاتھ تھام لیا۔ اور کھڑی ہوگئی۔ پھر اس کا ہاتھ تھامے، نالہ کراس کیا۔ دوسری جانب پہنچ کر افق نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ دونوں ساتھ چلتے ہوئے خیموں تک آئے۔کریم آباد کے دیہاتی اب اٹھ کر جا رہے تھے۔ احمت ابھی تک ۔ بیٹھا کوئی گانا سنا رہا تھا۔ پریشے کو آتے دیکھ کر جھینپ کر خاموش ہوگیا۔
افق نے اس سے ترک زبان میں کچھ کہا۔ وہ سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا اور ان کو اپنے ساتھ لیے ایک خیمے میں آگیا۔
"تمہارا تارف نہیں کرایا۔ یہ میرا دوست ہے ڈاکٹر احمت دوران۔ جینیک اور کینیک جیسا بہترین دوست، اس سے میری دوستی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ میں ہر ممکن طریقے سے اس کے مریض پکڑ کر لاتا ہوں۔ "۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖❤💜💞139💜❤💖💚۔۔۔۔۔۔۔

(

احمت کے خیمے میں کرسی سمبھالتے ہوئے افق نے ہنس کر کہا۔ وہاں بڑی سی میز رکھی تھی۔
پریشے کے مقابل کرسی احمت کی تھی۔ افق اس کی دائیں جانب بیٹھ گیا۔
پریشے کے چیکاپ کے دوران احمت مسلسل ترک میں افق کو کچھ بتاتا رہا۔
"یہ کہہ رہا ہے تم صبح تک بلکل ٹھیک ہوگی اور تمہاری کھانسی تو اب پہلے سے بہتر ہے"۔
پریشے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے احمت کو دیکھتی رہی۔ وہ افق کا ہم عمر تھا، مگر بے حد دبلا پتلا اور چہرہ نو عمر لڑکوں جیسا تھا۔ بال سنہری مائل بھورے تھے۔ پریشے کے دیکھنے پر اس نے شرما کر ہونٹ ایسے بند کر لیے کہ جیسے کوئی بچہ غلط کام کرتا پکڑا جاۓ تو گھبرانے کے بجاۓ جھینپ کر مسکرا دے۔ وہ اتنا معصوم تھا کہ پریشے کہے بغیر نہ رہ سکی۔
"تمہارا دوست بہت کیوٹ ہے" ۔
فق نے ایک نظر پریشے کو دیکھا، دوسری نگاہ احمت پر ڈالی جو جھینپ کر ہنس دیا تھا اور پھر دوبارہ پریشے کو دیکھا،"میرے کیوٹ دوست کو بہت اچھی انگریزی بھی آتی ہے"
"اوہ۔ ۔۔"اب بوکھلانے کی باری پری کی تھی، "میں سمجھی اسے انگریزی نہیں آتی اور اگر ایسا نہیں ہے تو تم دونوں ترک میں کیوں بات کر رہے تھے؟ "
"اب ترک ہو کر ہم فرنچ میں بات کرنے سے رہے، ویسے یہ اندر  اچھا خاصا ہے، مادام۔کسی زمانے میں احمت اومت(رائیٹر) بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا" ۔
"اور تم نصوع محرو کی بننے کے" کھٹ سے احمت کی جانب سے جواب آیا۔
"یہ صاحب کیا شاعر ہیں؟ "
"اتنا بڑا ترک کلائمبر ہے،تمہیں علم نہیں؟ خیر جتنا بھی بڑا ہو جاۓ، افق ارسلان جیسا نہیں ہوسکتا" وہ مصنوعی تفاخر سے بولا مگر پریشے نے سر کو اثبات میں جنبش دی۔
(صہیح کہتے ہو۔ کوئی بندہ افق ارسلان نہیں ہو سکتا)
"اس کے علاوہ احمت انتہائی ذلیل قسم کا کمپیوٹر جینیس اور ہیکر بھی ہے" اس نے اسے ذلیل کہا پھر بھی وہ اسی طرح شرما کر مسکرا دیا۔
"کمپیوٹر سے یاد آیا احمت، میں تمہارا کمیونیکشین ٹینٹ استمال کر لوں؟ مجھے پاپا کو ای میل کرنی تھی"پری کو۔ اچانک یاد آیا ۔
"کر لو اس سے کیا پوچھ رہی ہو جیسے اس کا پیسہ لگا ہو، مادام! یہ میرے باپ حسن حسین ارسلان کی خون پسینے کی کمائی ہے،  جسے ہم یوں ہمالیہ میں جھونک رہے ہیں۔ جینیک اکثر کہتا ہے کے اگر "اور رہن یقین" اور حسن حسین کے آباو اجداد نے اتنی جائیداد نہ چھوڑی ہوتی تو کتنے  ملک افق اور جینیک کی مہمان نوازی سے محروم رہ جاتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛💚💗140💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 141

وہ دونوں باہر نکل آئے۔پورٹرز ادھر ادھر پھر تے ،اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ الاؤ کے چند گز فاصلے پر البر تو کے کیمپ کی جگہ کل والا کچرہ ابھی تک پڑا تھا۔
"تم اسے نیلے ٹینٹ میں چلی جاؤ۔ وہ کمیونیکشن ٹینٹ ہے۔ میں ذرا یہ صاف کردوں" وہ زمین اور بیٹھ کر بکھرا کچرا چننے لگا۔
"خود کیوں ہلکان ہوتے ہو؟ پورٹرز سے کہہ دو"
"کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ بیچارے تھکے ہوئے ہوں گے۔میں خود کر لوں گا یہ سب" وہ خالی کین، بوتلیں، اور یورپین، پروسیسڈ فوڈ کے خالی دبے سمیٹنے لگا۔
وہ  کمیونیکشن ٹینٹ میں چلی آئی۔ احمت ۔ نے اسے زبردست انداز میں ترتیب دے رکھا تھا،سیٹلائٹ فون، لیپ ٹاپ،کمپیوٹرز،جنریٹرز ،بجلی کے سولر پینل، دوسرے کچھ آلات۔ ۔۔وہ ایک ستائشی نگاہ اس سب پر ڈال کر اس کی کرسی کے قریب آئی، جس پر ارسہ بیٹھی تھی۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ "
"فین میل چیک کر رہی ہوں۔ اب تو ایک ہی قسم کی ای میلز سے بور بلکہ زچ ہونے لگی ہوں، پتا نہیں لوگ ہر بات میں،"اتنی سی عمر میں ناول کیسے لکھا؟ "کیوں کہتے ہیں؟ خود کیا اس عمر میں فیڈر پیتے اور روٹی کو چوچی کہتے تھے؟ میری۔  عمر کے بارے میں ایسے رشک کرتے ہیں ک نظر لگا دیں گے اور شاید لکھنا ہی بند کر دوں" وہ سخت بھری بیٹھی تھی، "اور ہر میل میں مجھے کہتے ہیں، کیا آپ مجھسے دوستی کریں گی ؟خدایا میں نے قلمی دوستی کا اشتہار تو نہیں دیا تھا جو مجھے ہر بندہ یہی کہتا ہے اور میرے پاکستانی مداحوں کی تو مت پوچھیں۔ چوں کے میں عمر میں میں ان سے چھوٹی ہوں سو "تم اور "یار" کہہ کر خود ہی فری ہونے لگتے ہیں، پتا نہیں لوگوں کو اپنے ارد گرد فرینڈز نہیں ملتے جو۔ ۔۔۔"
"اچھا ہٹو نا ۔مجھے کمپیوٹر چاہیے" اس نے پیار سے ارسہ کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
"بیٹھ جائیں اور کبھی لطیفے پڑھنے کا شوق ہو تو میری فین میل کھول کر پڑھنا "وہ کہہ کر باہر چلی گئی۔
پری نے میل کھولی۔ سیف کی تین ای میلز تھیں، جو اس نے پڑھے بغیر مٹادیں۔ پاپا کی ایک تھی۔ وہ کچھ دنوں kکے لیے کام سے برسلز جارہے تھے۔ کام کچھ لمبا تھا۔ شکر تھا ک وہ مصروف تھے۔
"بیٹھ جاؤ مادام؟ اگر کچھ پرسنل نہیں ہے تو؟ "افق اندر داخل۔ ہوا۔
"ہوں، تم سے کیا پرسنل ؟اور ہوگئی جمعداری؟ "وہ ای میل لکھ کر بھیج رہی تھی۔ افق نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ وہ بہت خاموشی سے اس کے دائیں جانب کرسی پر بیٹھا سوچتی نگاہوں سے لیپ ٹاپ کی چمکتی سکرین کو دیکھتا رہا۔
 141

صفحہ نمبر 142

 "سنو پری،تمہیں سائیکک لوگوں پر یقین ہے؟ "

"تھوڑا بہت۔  کیوں؟ "۔
"برائزر کلوز مت کرو۔ تمہیں کچھ دکھاتا ہوں۔ اڈریس بار میں لکھو ،"www.peteranswers.com"
پری نے ٹائپ کیا۔ فورن ایک صفہ کھل گیا۔ افق نے لیپ ٹاپ اپنی جانب کھسکالیا۔
"یہ ایک سائیکک ہے پیٹر! تمہیں تمہارے ہر سوال، ہر پریشانی کا حل بتاۓ گا۔ کوئی سوال پوچھنا ہے تو پوچھو۔ ہاں، ٹائپ میں کرتا ہوں، کیوں کہ میری اس سے تھوڑی جان پہچان ہے"
"افوہ !مجھے ان چیزوں کا کوئی یقین نہیں ہے۔ خیر تم پوچھو۔ میرا نام کیا ہے؟ "۔
افق کی انگلیاں لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر متحرک تھیں۔ وہ بہت تیز ٹائپ کرتا تھا۔ وہاں دو خانے تھے۔ پہلے میں اس نے لکھا۔ "پیٹر پلیز انسر "
اور دوسرے میں لکھا، "میرے ساتھ بیٹھی لڑکی کا نام کیا ہے ؟"
"پریشے جہاں زیب" سکرین پر سفید رنگ کے دو الفاظ ابھرے۔افق نے فخر سے پری کو دیکھا، جو کچھ حیران، کچھ بے یقین سی تھی۔
"اچھا پوچھو ،میری عمر کیا ہے؟ "
افق نے ٹائپ کیا۔ "پیٹر پلیز انسر۔پری کی عمر کیا ہے ؟"
"پچیس سال" سکرین پر لکھا آیا۔
"اسے کیسے پتا؟ "وہ بے یقینی سے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔
"یہ سائیکک ہے اور دماغ پڑھ سکتا ہے"
پھر پریشے نے اپنے متلق کئی سوالات کیے ۔تمام جوابات درست نکلے۔ اسے تھوڑا سا خوف محسوس ہونے لگا۔ پیٹر واقعی کوئی عامل تھا۔
"اچھا پوچھو ک۔ ۔ک کیا میں کسی کو پسند کرتی ہوں؟ "
"اس کا جواب مجھ سے پوچھ لو۔ تم رکاپوشی کو پسند کرتی ہو" وہ ہنستے ہوئے،لیپ ٹاپ پر لکھنے لگا۔
"پیٹر پلیز انسر۔کیا پریشے کسی کو پسند کرتی ہے؟ "
"تم بار بار پیٹر پلیز انسر کیوں لکھتے ہو؟ "وہ بار بار کی تکرار سے جھنجھلائی۔
"اس دنیا میں کام نکلوانے کے لیے منت کرنا شرط ہے" ۔
پیٹر کا جواب سکرین پر جگمگا رہا تھا۔
"ہاں، اور اس کا نام "k" پر ختم ہوتا ہے"
اس کی ریڑہ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔اس نے گھبرا کر افق کو دیکھا۔
"۔k پر ؟ لیکن رکاپوشی تو "k" پر ختم نہیں ہوتا" وہ شاید سمجھا نہیں تھا، یا پھر بن رہا تھا، پری نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔"کیا وہ مجھے ملے گا؟ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💖142💜💛💖💛۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 143

"ہاں، اگر وہ کوشش کرے تو! "جواب آیا۔
وہ بیحد خوف زدہ نگاہوں سے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔
"اچھا اب۔ ۔اب پوچھو ،کیا وہ مجھے سے محبت کرتا ہے؟۔"افق نے فورن پوچھ دیا۔ جواب بھی فورن آیا۔
"محبت؟ وہ تو عشق کرتا ہے" ۔
وہ سانس روکے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے اتنا کچھ جانتا تھا؟ ۔
"افق۔۔۔افق۔ ۔۔سوز۔ ۔۔"احمت خیمے کا دروازہ کھول کے تیزی سے اندر داخل ہوا اور افق سے ترک میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ پریشے کو دیکھنے پر فورن پیچھے ہٹا۔ اس کے چہرے پر معذرت کے تاثرات آئے تھے۔
وہ پیٹر کے سہر میں ایسے بری طرح جاکڑی ہوئی تھی کہ یہ مداخلت اسے بری طرح کھلی۔ افق نے بھی قدرے اکتا کر اسے دیکھا۔ پھر دونوں کچھ دیر ترک میں بات کرتے رہے۔ تب وہ اٹھا اور جیکٹ کی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے خیمے سے باہر چلا گیا۔"ذرا ان پورٹرز کا جھگڑا نمٹالوں۔ ۔۔پتا نہیں کیا مسئلہ ہے ان کو؟ "
اس کے جانے کے بعد احمت نے پریشے سے معذرت کی۔
"معاف کرنا ڈاکٹر، وہ پورٹرز میں جھگڑا ہو گیا تھا، افق اسے ہی نمٹانے گیا ہے۔ دراصل۔ ۔۔۔" دفعتآ اسکی۔ نگاہ سکرین پر پڑی۔وہ قدرے قریب آیا اور جس کرسی پر افق بیٹھا تھا، اسکی پشت کو پکڑ کر قدرے جھک کر بغور سکرین کو دیکھا۔
"اچھا۔ تم peter answer کھیل رہی ہو"
"کھیل رہی ہوں؟ "وہ بری طرح چونکی۔
"ہاں۔ اٹ از اے گریٹ گیم! "😄😄 .
"گیم؟ "پریشے کے ذہن میں الارم سا بجا، "احمت ادھر میرے پاس آکر بیٹھو اور مجھے شروع سے بتاؤ ک یہ کیسے کھیلتے ہیں" ۔
"یہ تو بہت آسان ہے" وہ کھڑے کھڑے بتانے لگا۔
"یہ دیکھو سکرین پر دو خانے بنے ہیں پہلے خانے میں۔ ۔۔"
"مجھے پتا ہے، اس میں "پیٹر انسر"لکھنا ہے" ۔
"نہیں،یہ ہی تو نہیں لکھنا۔ اس میں تم نے فل اسٹاپ دبا کر اصل "جواب" لکھنا ہے۔ فل اسٹاپ دبا کر تم جو بھی لکھو گی،اس جگہ سکرین پر پیٹر پلیز انسر ہی لکھا آئے گا۔ پھر دوسرے خانے میں تم سوال لکھو اور انٹر کرو۔ اب جو تم نے اوپر والے باکس میں چھپا کر لکھا تھا، وہ پیٹر کے جواب کے طور پر لکھا آئگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔💖💜💛❤143💜💛💖❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 144

"تو ۔۔تو پھر پیٹر کون ہے؟ "
"وہی جو بیٹھا ٹائپ کر رہا ہے" 😂😂😂
"تمہارا مطلب ہے ک جواب، ٹائپ کرنے والا خود لکھتا ہے اور پیٹر کوئی نہیں ہے؟"وہ آہستہ سے بولی اب اسے سمجھ آرہا تھا۔
"ہاں اس سے بڑے بڑے لوگ بے وقوف بن جاتے ہیں" احمت کا اندازہ معصومیت بھری بے وقوفی سے لبریز تھا۔
"ویسے تم کسے بنا رہی تھیں؟ "
"میں بن رہی تھی" 😄😄😄
"اچھا"اس نے شانے جھٹکے۔"افق اور جینیک کا یہ مشغلہ ہے۔ جب بھی میرے پاس آتے ہیں، ڈاکٹرز اور نرسوں کو گھیر گھار کر بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔ انھیں ٹائپ نہیں کرنے دیتے اور کہتے ہیں۔ "ہماری پیٹر سے تھوڑی۔ ۔۔"
"تھوڑی جان پہچان ہے" پری نے فقرہ مکمل کیا۔
"ہاں۔ بڑے عرصے تک ڈاکٹرز بے وقوف بنتے رہے"
"پھر انھیں کیسے پتا چلا؟ "
"میں نے بتا دیا۔ اب مجھ کیا پتا تھا ک افق انھیں بے وقوف بنا رہا ہے ۔وہ تو میں نے ڈاکٹر کو یہ ویب سائٹ کھولتے دیکھا تو سمجھا دیا کہ پیٹر انسر کو کیسے کھیلتے ہیں۔ میری آنے کہتی تھی، کوئی کام کی بات ہو تو سب کو بتا دیا کرتے ہیں۔ میں نے اس ڈاکٹر کو بتایا، اس نے باقی سب کو بتا دیا اور پھر۔ ۔"وہ جھینپ سا گیا، "پھر افق اور جینیک نے سخت سردی میں مجھے پول میں پھینک دیا اور مارا بھی بہت۔ ۔۔"
پریشے ہنس دی۔ "چلو آج تمہارا بدلہ لیتے ہیں۔ تم بس افق کو مت بتانا ک تم نے مجھ سب بتا دیا ہے۔ "۔
"نو پروبلم" وہ شانے جھٹکتے ہوئے چلا گیا۔
افق تھوڑی دیر بعد آیا۔ اس کی ٹوپی اور جیکٹ پر برف کے ذرات پڑے تھے۔ وہ جھاڑتے ہوئے کرسی سمبھال کر بیٹھ گیا۔"یہ پورٹرز بھی نا، خیر ہم کہاں تھے؟ "اس نے سکرین کو دیکھا،
"ہوں، تو وہ تم سے عشق کرتا ہے،کون ہے وہ؟ "وہ بڑے لاپرواہ سے انداز میں بولا۔
"ابھی پتا چل جاتا ہے۔ تم اس سے اس کی ہائیٹ اور آنکھوں کا رنگ پوچھو" اب وہ افق کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھ رہی تھی۔
"سکس ون ہائیٹ اور ہنی کلرڈ آئز"پیٹر کا جواب آیا۔
"بس میں سمجھ گئی یہ کس کی بات کر رہا ہے۔ سکس ون ہائیٹ ہنی کلرڈ آئز ،اور "k" پر نام ختم ہوتا ہے، بلکل ٹھیک" وہ خوشی سے بولی۔
"اچھا"وہ ہولے سے مسکرایا، "پھر کون ہے؟ "
"سیف الملوک اور کون"۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💖💛💜144💛💖💜❤۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 145

افق کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس نے قدرے الجھ کر سکرین اور پھر پری کو دیکھا۔
"نہیں، سیف نہیں۔ ۔۔یہ تو۔ ۔۔"
"سیف ہی ہے۔ مجھے پتا تھا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے مگر اتنی زیادہ کرتا ہے، یہ علم نہیں تھا۔ اوہ گاڈ کتنی لکی ہوں نا "افق!
"نہیں ناں" وہ جہنجھلایا، "ضروری تو نہیں یہ سیف کی بات کر رہا ہو۔ کسی اور کا نام بھی تو "k" پر ختم ہو سکتا ہے" ۔
"اور کسی کا نہیں ہوتا" ۔
"ہوتا ہے" اس نے جھلا کر کی بورڈ پر ہاتھ مارا۔
"کس کا؟"۔
"میرا! اور یہ سب میں لکھ رہا تھا، سمجھیں تم! "وہ غصے سے بولا۔
"اچھا، مجھے تو نہیں پتا تھا" پری نے تھوڑی تلے مٹھی جما کر معصومیت سے اسے دیکھا۔
"اگر مجھے پتا ہوتا ک تم سیف کے نام سے اتنے جیلس ہوگے تو بہت پہلے اس کا نام لے دیتی،ویسے میں تمہیں اتنی اچھی لگتی ہوں کیا؟ "۔
اس کا انداز افق کو بتانے کے لیے کافی تھا ک وہ تمام ڈرامہ جان گئی تھی، سو وہ ناراضی سے کھڑا ہوا اور کرسی کے پیچھے سے نکل کے خیمے کے دروازے کی جانب بڑھا، پھر پلٹ کر ایک خفگی بھری نگاہ۔ اس پر ڈالی۔
"ہاں، لگتی ہو ناں! "کچھ نروتھے پن، کچھ محبت سے اس نے جیسے بہت ناراضی سے اعتراف کیا۔ وہ ہنس دی۔
"تم اس وقت اتنے کیوٹ لگ رہے ہو، مگر میں تعریف کر کے تمہارا دماغ نہیں خراب کرنا چاہتی"۔
وہ اسی طرح برا سا منہ بنا کر جھٹکتے ہوئے جانے لگا، پھر رک کر پوچھا۔
"تمہیں پیٹر کے سیکرٹ کا پہلے سے پتا تھا؟ "
"نہیں، یہ تو ابھی احمت نے۔ ۔۔"بے اختیار اس نے زبان دانتوں تلے دبالی۔
"واٹ؟ احمت نے بتایا ہے؟ میں آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس گدھے نے پہلے بھی  مجھے ڈاکٹر اور نرسوں سے پٹوایا تھا۔ کدھر گیا یہ۔ ۔۔۔"
وہ غصے سو بولتا خیمے سے باہر نکل گیا۔ اور وہ، جسے احمت پر بے انتہا ترس بھی آرہا تھا اور ہنسے بھی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💖💛❤145💖💛💜❤۔۔۔۔۔۔۔۔

ہ نمبر 146

جعمرات ،11آگست 2005ءء

اس نے میس ٹینٹ کی میز پر رکھے کئی پاور بارز اور انرجی بارز اٹھا کر اپنے رک سیک میں بھر لیے اور جوتوں کے نیچے crampons چڑھا کر باہر نکل آئی۔ وہاں ارسہ،فرید اور افق اپنے بیک ٹیکس کمر پر چڑھائے ،بوٹس، کریمینز،ٹوپیاں اور گلاسز پہنے تیار کھڑے تھے۔
شیڈیول کے مطابق کیمپ فور تک پورٹرز ساتھ لے کے جانا تھا، مگر شیر خان نے صبح سویرے سورج نکلنے کے وقت بغیر گلاسز لگاۓ راکآ پوشی کا نظارہ کیا تھا اور اب وہ سنو بلآئنڈ ہو کر اپنے گھر پڑا تھا۔
ان کے پاس اتنا گیئر اور فیول نہیں تھا ک وہ ایک دن بھی تاخیر کر سکیں۔ فرید خان جانے کے لیے تیار تھا۔  وہ بنیادی طور پر ہنزہ کا باشندہ تھا اور ہنزہ و پورٹرز بلتی پورٹرز سے جسمانی اور دمگی دونوں لحاظ سے مختلف ہوتے تھے۔ بلتو رو کے بلتی پورٹرز کو غیر ملکیوں خصوصن یورپین پر وہ زیادہ تجربہ ہوتا تھا۔ افق انھیں "شرپاز کا قراقرم ورژن" کہتا تھا۔ پورٹرز کو گلہریوں کی چڑہائی کے لیے بہت کچھ محفوظ کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث یہ نہ چاہتے ہوئے بھی کوہ پیماؤں کو  ساتھ ان بلندیوں پر جاتے ہیں۔ کوہ پیمائی بعض لوگ پیسہ کمانے کے لیے کرتے ہیں اور بعض سیر کرنے کے لیے ۔۔
جب ان چاروں نے بیس کیمپ کو آلودہ کہا tتو افق، احمت سے گلے ملا پھر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے، اسے سنجیدگی سے اپنی زبان میں کچھ سمجھاتا رہا۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) احمت پہاڑ پر تقریبن تین دفعہ ان کے ہمراہ آیا تھا۔ اس دوران افق مسلسل اسے کسی لیڈر کی طرح ہدایت دیتا رہا۔ اور وہ ازلی معصوم انداز میں تابعداری سے سر ہلاتا رہا۔
پھر احمت چلا گیا تو افق اسے نیچے اترتے دیکھتا رہا۔ یہاں۔  تک کے وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ پری اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ احمت غائب ہوگیا تو افق نے ایک آخری نظر دور چھوٹے سے دکھائی دینے والے بیس کیمپ پر ڈالی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💜💚💖146💚💜❤💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 147

"میری خوائش ہے کہ ہم سب ان خیموں کو دیکھنے کے لیے زندہ رہیں" ۔وہ بڑ بڑا  ٹی ہوئی ۔اس نے بے حد خوف سے اوپر "برو"  کے گلشیئر کو دیکھا اور دل میں دعا کی کہ خدا کرے برو کو علم نا ہو ک۔ کوئی دبے قدموں اس کی راجدھانی میں داخل ہو رہا ہے۔کاش برو سو تا رہے۔ وہ کبھی نا جاگے وہ اس کے تخت پر قدم رکھ کر زندہ سلامت واپس آجائیں۔
اس کی ہراساں صورت دیکھ کر وہ مسکرایا،فکر نہیں کرو۔ ہم راکآپوشی۔ کو سر کر لیں گے تو گاؤں کے لوگ ہمیں گرینڈ دعوت دیں گے" ۔
پریشے نے ایک نظر برف میں پیوست نوکدار بیضوی سے کریمپنز کو دیکھا جو کے نیچے لگے تھے اور جس سے وہ برف پر پھسل نہیں سکتی تھی اور سر جھٹک کر مسکرائی۔اس کا خوف قدرے کم ہوا۔
"ہاں میں نے دیکھا تھا، دعوت کا سن کر تم نے بڑے حریصانہ انداز میں پوری آنکھیں کھول کر انھیں دیکھا تھا"
"میری آنکھوں کو کچھ مت کہو۔ ترک لڑکیاں ان آنکھوں پر مارتی ہیں" ۔
"ترک لڑکیوں کا ٹیسٹ اتنا خراب ہے؟ چچ چچ،مجھے ان سے ہمدردی ہے" ۔
"اچھا ابھی لڑو نہیں۔ ابھی لمبا سفر ساتھ کرنا ہے" افق نے اپنا بھاری دستانے والا ہاتھ بڑھایا، پری نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اب اس نے خد کو قدرے محفوظ تصور کیا۔ وہ گرنے لگے گی تو کوئی اسے تھام لے گا اور گر نے نہیں دے گا۔
وہاں برف گدلی اور بے حد نرم تھی۔ سورج ذرا تیز چمکتا تو برف پگہلنے اور ٹپکنے لگتی۔ راکاپوشی سر کرنے کا بہترین وقت جولائی ہوتا ہے اور وہ ایک مہینہ لیٹ ہو چکے تھے۔ آگست میں برف بہت خراب حالت میں تھی۔ ایسی ہی برف کھد کر ایک برفیلے میدان میں کیمپ ون نصب تھا جس میں تین ٹینٹ لگاۓ گئے تھے۔ یہ کوہ پیمائی کا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ کیمپ ون تک وہ دوپہر تک پہنچ گے تھے۔ پہلی رات انہونے وہیں گزاری۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖❤💜💚147❤💜💖💚۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 148

دوسری صبح افق، فرید اور ارسہ کیمپ ٹو تک کے راستے پر رسیاں لگانے چلے گئے۔افق کا ارادہ اوپر بارہ سو میٹر تک راستہ متعین کرنے کا تھا اور آگے کیمپ ٹو کے لیے کہیں مناسب جگہ ڈھونڈ کر وہاں خیمے بھی لگانے تھے۔ وہ سیمی الپائن سٹائل سے چڑھ رہے تھے یعنی بعض جگہ رسیاں لگانی تھیں اور بعض جگہ نہیں۔ پریشے اس روز خیمے میں ہی رک گئی۔ اس کی ایلٹی ٹیوڈ سک نیس کم ہو رہی تھی اور بہت جلدی اوپر جانے سے وہ بڑھ سکتی تھی۔ سو اپنی Accelimatization کو بلکل پرفیکٹ کرنے کے لیے اس نے وہیں رک کر ان کے لیے کھانا بنانے کی زمیداری لے لی۔
کچھ دور تک وہ ان کے ساتھ گئی۔ ارسہ کے کندھے پر رسیوں کا گچھا تھا اور ہاتھ میں چند آئس سکریوز اور پی ٹونز (pitons) تھے۔ افق نے زمین پر بیٹھ کر ایک پی ٹون ٹھونکا، پھر رسی کو اس سے اینکر کیا۔ ۔۔یہ تمام کروائی دیکھنا خاصا غیر دلچسپ تھا، سو وہ واپس خیمے میں آکر کھانے کی تیاری کرنے لگی۔
پری کو اپنی کوکنگ پر ناز تھا۔ اس کے ہاتھ میں ذائقہ بھی بہت تھا، سو ان تمام چیزوں سے جو وہ خاص بریانی بنانے کے لیے لائی تھی، اس نے بڑے پیار اور محبت سے سندھی بریانی بنائی۔شام تک وہ اس کام سے فارغ ہوئی اگے تمام دن ۔Add. Some. Hot..water..ٹائپ کی یورپی چیزیں ہی کہانی تھیں، سو آج بریانی کھا کر افق کو اچھا لگے گا، یہی سوچ کر اس نے یہ بنائی تھی۔
کھانا دھک کر وہ باہر چلی آئی۔ وہاں ہر طرف سخت برف کے اوپر پاؤڈر سنو کی تہ چڑہی ہوئی تھی۔ دو تین دن سے ۔ نئی برف نہیں گری تھی، اس لیے یہ برف پیلی سی تھی۔ وہاں خیموں سے دور ایک بڑے گرنائٹ کے پتھر پر بیٹھ کر وہ بے حد خوش گوار موسم کو انجواے کرنے لگی۔ اس وقت راکا پوشی پر شام اتر رہی تھی۔ ہر سو ٹھنڈی میٹھی سی چھایا تھی۔ وہ پہاڑ کی جانب پیٹھ کر کے کہنیاں گھٹنوں پر جمائے ہاتھلی تھوڑی تلے رکھے خاموشی سے ان خوبصورت مناظر کو اپنے اندر میں جذب کرتے ہوئے ڈھلتی شام کے سحر میں ڈوبنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜❤💖💚148❤💜💖💚۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 149

خیموں کے باہر اس بے حد تنہا اور خاموش برفیلے میدان میں اس حد تک خاموشی تھی ک سوئی گرنے سے بھی گونج پیدا ہوتی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ارد گرد موجود تمام دیوہیکل سیاہ بلکل خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ شام کے اس پھر وہ۔ دنیا کا حسین ترین پہاڑ راجدھانی۔  تھا۔ سارے کا سارا دمانی اس کا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے پاپا، پھپھو، سیف،نشاء،  سب دوسری دنیا میں رہتے تھے، جہاں بلند و بانگ عمارتیں تھیں، جہاں ٹرافک کا شور اور موسیقی کی بے حد آواز گونجتی تھی۔ یہ کوئی اور دنیا تھی۔ جب اس  دوسری دنیا کی رات شروع نہیں ہوتی تھی،اور اس کی صبح ہو جاتی تھی۔ منہ اندھیرے کوہ پیما برف پر اپنے کلہاڑے مارتے ہوئے آٹھ کلو میٹر چلنا شروع کر دیتے تھے، جس کی بلندیوں تک جانے کو ان کی روحیں مچلا کرتی تھیں۔ وہ آٹھ کلو میٹر دوسری دنیا میں گاڑی پر آٹھ منٹ میں طے ہو جاتے تھے۔ پہاڑوں پر مہینوں میں ہوتے تھے۔ انسان کی فطرت ہے اور یہی جستجو انسان کو ان آٹھ کلومیٹر کا سفر کرنے پر اکساتی ہے۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ اسی طرح پتھر پر بیٹھی کتنی دیر سوچتی رہی۔ کیا وہ سیف جیسے شخص کے ساتھ رہ سکتی تھی یا وہ ایک انسان نہیں ایک اسٹاک ایکسچینج تھا؟ جیس کے سینے میں دل کی جگہ کیلکیو لیٹر نصب تھا۔ بغاوت اس کی سرشت میں نہیں تھی مگر صرف ایک دفعہ وہ سیف سے متعلق اپنے تمام تہفظات پاپا کے سامنے رکھے گی ضرور، وہ ان کو افق سے ملواے گی، ان کی آنکھوں سے رشتے داروں کی اندھی محبت کی پٹی اتارنے کی کوشش ضرور کرے گی۔
وہ بدل رہی تھی۔ پہاڑ اسے تبدیل کر رہے تھے۔ وہ خودکشی نہیں کرنا چاہتی تھی، سو سیف سے منگنی ختم کرنے کا فیصلہ اس نے کر لیا تھا۔ وہ الجھنوں کے سرے تلاش کر کے ان کو سلجھانے لگی تھی۔
اور افق، جس کی طرح سے اسے پہلے بے یقینی سی تھی، اب مکمل نہیں تو کسی حد تک یقین تھا، پیٹر انسر کھیلتے کھیلتے اس نے اعتراف کیا تھا،"محبت؟وہ تو عشق کرتا ہے"اور پھر ناراضگی بھرا اظہار"ہاں،لگتی ہو نا! "وہ ایک فقرہ اس کے اوپر نرم پھوار برسانے لگا۔ کتنا مان، اپنائیت اور محبت تھی اس ایک فقرے میں۔ ہاں ایک بے کلی بھی تھی کہ وہ براہراست اظھار کیوں نہیں کرتا تھا۔ وہ تین لفظ کیوں نہیں کہہ سکتا تھا؟ شاید کبھی اس نے حنادے کو یہ بات کہی ہو۔ پتا نہیں ان کی محبت کی شادی تھی بھی یا۔ ۔۔یہ بات وہ افق سے نہیں پوچھ سکتی تھی، پھر۔ ۔۔۔
اسے ایک دم خیال آیا۔ اس نے جھٹ اپنی پاکٹ سے ٹرانسیور نکالا۔
149

صفحہ نمبر 150

اس کا میکنزم بس دو بٹن کا تھا۔ اس نے ٹرانسمٹ بٹن دبایا۔ تھوڑی دیر بعد احمت لائن پر تھا۔
"گڈ آفٹرنون بیس کیمپ ڈاکٹر! کیسی ہو؟ "احمت اس کی آواز سن کر خوش ہوا تھا۔
"کیمپ ون کے باہر برف پر بیٹھی ہوں۔ باقی سب روٹ فکس کرنے گے ہیں۔ میں نے چاول بنائے ہیں۔ تم سناؤ بیس کیمپ کیسا ہے؟ "
"تمہیں یاد کر رہا ہے اور خاصا اداس ہے سب ٹریکرز اور پورٹرز سوائے شفالی کے، جا چکے ہیں۔ میں بور ہو رہا تھا۔ اچھا کیا کال کر لیا۔ تمہاری ای میلز آئی ہوئی ہیں۔ تم نے اپنا ای میل اور پاس ورڈ میرے پورٹیبل پر محفوظ کر دیا تھا۔مگر قسم لے لو،میں نے کوئی میل نہیں کھولی" ۔
"افوہ۔کر لو چیک اور میری طرف سے جواب لکھ لو" ۔وہ اسے ای میلز کے جواب لکھوانے لگی۔ پھر قدرے سوچ سوچ کر بولی، "احمت!ایک بات پوچھو؟ "
"ہاں پوچھو ڈاکٹر تمہاری بیماری۔ ۔۔"
"اوہو۔ضروری تو نہیں تم سے میڈیکل کے متلعق کچھ پوچھوں۔ میں کچھ اور پوچھنا چاہ رہی تھی" ۔پھر قدرے توقف سے بولی، "تمہیں حنادے یاد ہے؟ "
"کون حنا دے ؟"
پری کو حیرت ہوئی۔ افق نے حنادے کو اپنی بیوی بنایا تھا اور اس کا اتنا اچھا دوست اس بات سے لا علم تھا۔
"افق کی بیوی، حنادے"۔
"اچھا میں سمجھا تم "حوا"کی بات کر ررہی ہو۔حضرت حوا کی،جن کو انگلش میں Eve اور ترک میں حنادے کہتے ہیں" ۔
پری کا دل سر پیٹ لینے کو۔ چاہا۔اپنا نہیں،احمت کا۔ 😄
"ہاں وہی،  تمہیں یاد ہے؟ کیسی تھی وہ؟ "۔
"خوبصورت تھی"
"اور۔۔۔۔؟"
"تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ "
پری سٹپٹا گئی۔ وہ اتنا سیدھا نہیں تھا، جتنا وہ سمجھ رہی تھی۔
"وہ یونہی، افق اس کو یاد کر کے اداس ہوجاتا ہے ناں" ۔
"یہ تم سے کس نے کہا؟ "احمت کے لہجے میں حیرت تھی۔
"افق نے"
"وہ مذاق کر رہا ہوگا۔ وہ تو اس سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا" ۔😍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖❤💜💚150💚💜❤💖۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 151

"مگر کیوں؟ "اسے کرید ہوئی۔
"اسے کسی اور سے محبت تھی"kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

پری کا دل ڈوب کر ابھرا"کس سے؟ "
"کیا واقعی قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں؟ افق کو جانے کتنے برسوں سے ان پریوں کی تلاش تھی۔ وہ کے ٹو کے رو پل فیس کے بیس کیمپ کا ٹریک بہت بہت باد کیا کرتا تھا"۔
"کے ٹو کا نہیں، نانگا پر بت کا رو پل فیس ہوگا۔ ۔"اس نے بے مشکل "سٹوپڈ "کہنا سے خود کو روکا۔
"ہاں وہی، وہاں بیاں کیمپ سے فری میڈوز کے درمیان، اس نے سن رکھا تھا کہ پریاں اترتی ہیں اور رات کو سیاہوں کے پاس آکر انھیں گیت سناتی ہیں۔ وہ ہر مرتبہ پاکستان آکر رو پل فیس کا ٹریک ضرور کرتا تھا۔ حالاں کہ میں نے کہا بھی تھا کہ سٹوپڈ آدمی، یہ پریاں واریاں کچھ نہیں ہوتیں، ایویں سیاہوں کو بے وقوف بناتے ہیں مگر افق اور جینیک تو پاگل ہیں،صرف پریوں۔ کو ڈھونڈنے ہر گرما میں پہاڑوں میں نکل جاتا تھا۔ اور افق جینیک کے بغیر کہیں جاۓ یہ ہو نہیں سکتا۔ "۔
"پھر اب جینیک کیوں نہیں آیا؟ "
"اس کے تو ماز کے باس نے کام میں پھنسا رکھا ہے، جینیک بڑا خبیث آدمی ہے، کہہ رہا تھا کے احمت دعا کرو کہیں زلزلہ ،طوفان یا سیلاب آجاۓ میں ریلیف ایکٹیویٹی کے بہانے ہی یہاں سے نکلوں" ۔احمت زور سے ہنسا۔
"اور وہ حنادے۔ ۔اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا تو اب اس کے بارے میں اتنا حساس کیوں ہے؟ "اس کے ذہن کی۔ سوئی وہیں تھی۔
"اس کی بیوی تھی ناں۔ جیسی بھی تھی، مرے ہوئے کو کچھ نہیں کہا کرتے۔ ویسے بڑی عجیب سائکوکیس تھی۔ بہت میک اپ کرتی تھی۔ سلمیٰ کہتی تھی، افق نے لگتا ہے کسی پیسٹری سے شادی کی ہے۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💖💜💚151💜💖❤💚۔۔۔۔۔۔۔

"اچھا" کچھ سوچتے ہوئے اس نے ریڈیو کو دیکھا۔ پھر الودائی کلمات کہہ کر سلسلہ منقطع کر دیا اور احمت کی باتوں پر ازسر نو غور کرنے لگی۔
اس کے سامنے آسمان پر سرخ و سرمئی بادلوں کے درمیان خالی جگہوں سے، ڈھلتے سورج کی آخری نارنجی شعاعیں جھانک رہی تھیں۔ دور نانگا پر بت کو بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا اور وہ بادل اب یقیناً قرا قرم کی جانب بڑھنے لگے تھے۔
"خدا کرے یہ ہمیں بائی پاس کر کے گزر جائیں اور موسم نہ خراب ہو"۔وہ دعا کرتے ہوئے اور اوپر پہاڑ پر بار بار نگاہیں دوڑاتی ان تینوں کا انتظار کر رہی تھی۔
شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ درجہء حرارت گر رہا تھا۔ سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ پھر رات کا اندھیرا پوری طرح پھیل گیا تو اسے تھکے تھکے قدموں کی آہٹ اور باتوں کی آوازیں سنائی دی۔ وہ تینوں اگے پیچھے برف چلتے اس کی جانب آرہے تھے۔ افق کے کندھے پر رسیوں کا آخری گچہا اور ہاتھ میں سنو سٹک تھی۔
"کدھر رہ گے تھے؟ اتنی دیر سے انتظار کر رہی تھی" ۔
اس کے غصے کے جواب میں اس کے چہرے پر تھکن زدہ مسکراہٹ ابھری۔
"اچھی لگ رہی ہو اتنی فکر کرتے ہوئے اور بھی اچھی لگو گی اگر جلدی کھانا کھلا دو تو" ۔وہ اس کے پاس سے گزر کر خیمے میں چلا گیا۔ ارسہ نے بھی اس کی تقلید کی۔ دونوں خاصے تھک چکے تھے۔
"میں نے بریانی پکائی ہے" اس کے پاس اندر آکر اس نے دبے دبے جوش سے بتایا۔
"لائیں اپ کی ہیلپ کراؤں"ارسہ اس کے ساتھ کھانا نکالنے لگی۔پری نے بریانی والا برتن کھولا افق نے جھک کر چاولوں کی شکل دیکھی اور ایک سیکنڈ کو چپ سا ہوگیا۔
"چلو ذائقہ اچھا ہوگا" افق کا مطلب تھا کے شکل اچھی نہیں ہے۔ 😄😄
"میری کوکنگ پوری فیملی میں مشہور ہے۔ بے شک نشاء سے پوچھ لو" ۔اس نے جاتایا۔
"ہمارے ہاں یہ اعزاز احمت کی۔ بیوی سلمیٰ کو حاصل ہے" افق نے بریانی اپنے برتن میں نکالی اور پہلا چمچہ منہ میں ڈالا، پھر اسے چبا کر نگلا۔ اس کے بعد مرغی کی بوٹی توڑنے کی۔ کوشش کی جو ٹھیک سے گلی نہیں تھی اور کچھ سردی کا اثر بھی تھا۔ اس نے ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں  رکھااور چیونگم کی طرح چبایا۔ ارسہ سے بھی بوٹی نہیں چبائی جا رہی تھی۔ پریشے بغور دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💖💜❤152💖💜💚❤۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 153

"تمہیں پتا ہے۔ پری، ترکی یورپ میں ہے" ۔
اور میں بھی یورپ سے آئی ہوں" ارسہ نے پلٹ رکھ دی۔
"مطلب؟ "پری نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا۔
"مطلب یہ کہ یورپ سے آئے ہیں، افریقہ سے نہیں۔ کچا گوشت تو صرف افریقہ والے ہی کھا سکتے ہیں" ۔
"افق بھائی کا مطلب ہے کہ۔ ۔۔مچھلی پڑی ہے؟ "ارسہ نے اس کے چہرے کو دیکھ کر وضاحت کی۔
"ہاں پڑی ہے، تمہارے پیچھے سیرینہ ہوٹل کے شیف دے کر گے تھے ناں" ۔وہ اپنے حصے کی بریانی لے کر وہاں سے چلی آئی تھی۔ مطلب تھا کہ "خود پکا لو مچھلی" ۔۔
"اگر 4800 میٹر بلندی پر کو کب خواجہ بھی بنائیں گی تو اس سے اچھی نہیں بنا سکتیں۔سارا دن لگ کر میں ان کے لیے کھانا بنا تی رہی، کیا تھا اگر جھوٹے منہ ہی تعریف کر دیتا افق؟ اتنی بری نہیں تھی کہ اسے کچا گوشت کہا جاتا"۔اسے سچ مچ رونا آیا تھا۔ "ٹھیک ہے، مصالاح تیز، بلکے خاصے تیز تیز اور گوشت ٹھیک سے گلا نہ تھا، مگر چپ کر کے کھاتے رہتے میرا دل رکھنے کو۔ اتنی سٹرکٹ فار ورڈ نیس کی کیا ضرورت تھی؟ میں کوئی پورٹر تو نہیں ہوں جو کھانا پکاؤں۔ ٹھیک ہے دوبارہ نہیں پکاؤں گی" ۔
رات وہ اپنے خیمے سے باہر اسی پتھر پر بیٹھی اپنے جوگرز کے نیچے کریمپنز سے برف پر لکیر سی بنا رہی تھی۔ گردن اس نے اٹھا رکھی تھی اور نگاہیں اوپر ساتویں کے چاند پر تھیں، جس کی چاندنی سے برو کا گلشیئر چمک اٹھا تھا۔ راکاپوشی پر چاند خاصا بڑا اور واضح دکھائی دیتا تھا۔ شاید اسے اس دھند سے ڈھکی اس حسین چوٹی سے عشق ہو گیا تھا اور وہ اس کو دیکھنے بہت قریب اتر آیا تھا۔
دفعتآ اس نے افق کو اپنے خیمے سے نکلتے دیکھا تو چہرے کا رخ جھٹکے سے موڑ لیا۔ چند منٹ بعد اسے کسی کے اپنے ساتھ پتھر پر بیٹھنے کی آہٹ محسوس ہوئی۔
"اہم۔۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ بریانی پڑی۔ ہوگی؟ "گلا کہنکھارتے ہوئے بہت معصومیت سے پوچھا گیا۔
پری نے رخ قدرے مزید پھیر لیا۔
"یقین کرو بریانی بہت مزیدار بنی تھی۔ اتنی لذیز بریانی تو میں نے زندگی بھر نہیں کھائی۔ یہ ممبئی کے شیف تو جھک مار رہے ہیں۔ ان کو تو تم سے سیکھنا چاہیے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💚💜💖153💜💚💖❤۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 154

وہ جوابآ کچھ بولے بنا چہرے کا رخ اس کی جانب سے موڑ دائیں طرف سیدھی پتھروں کی دیوار کو دیکھتی رہی جس پر چاندی کا چھڑکاؤ ہوا تھا۔
"اچھا پلیز! دیکھو ناراض مت ہو۔ میں نے تعریف کی ہے"
پری نے گردن گھما کر قہر الود نگاہوں سے اسے دیکھا۔ "نہیں ،تم تو افریقہ سے نہیں آئے اور تم تو کچا گوشت نہیں کھاتے" ۔
"اب کچھ گوشت کو میں پکا گوشت کہنے سے تو رہا" 😄(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"ہاں خود تو اوپر چلے گے تھے۔ میں نے سارا دن اتنی محنت سے بریانی تیار کی اور پھر اتنی دیر تمہارا اتنی پریشانی سے انتظار کیا اور تم؟ "
"کاش قراقرم کی پری! تم نے اتنی دیر گوشت گلانے پر لگائی ہوتی تو۔ ۔۔۔۔"
"افق" اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
"اچھا پلیز رونا مت۔میں تو مذاق کر رہا تھا۔ دیکھو تمہارے لیے اتنا گرم سلیپنگ بیگ چھوڑ کر آیا ہوں" ۔
"تو نہ آتے" ۔
"کیوں نہ آتا؟مجھے پتا ہے تم نے کھانا نہیں کھایا۔ میں تمہارے لیے خود پکا کر مچھلی لیا ہوں" افق نے پیکٹ اسے تھمایا۔ پری نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔
"تمہیں کیسے پتا میں نے بریانی نہیں کھائی؟ "
"لو وہ کوئی کھانے والی چیز تھی؟ "وہ ہنسا😄😄
پری نے روہانسی ہو کر وہ پیکٹ زور سے اس کے کندھے پر مارا۔ ۔
"ویسے پری!نشاء کہہ رہی تھی، تم سیف سے منگنی سے انکار نہیں کر سکتیں۔تم واپس جا کر ایک۔ کام کرنا۔ سیف کو اپنی بنائی گئی بریانی کھلا دینا، وہ خود ہی رشتہ توڑ جاۓ گا، لکھ کر رکھ لو" ۔وہ ہنستے کہہ رہا تھا۔
"میری بریانی کے بارے میں تم نے ایک لفظ اور کہا، تو میں تمہیں یہاں سے دھکا دے دوں گی۔ اور رہاں منگنی کا سوال ،تو وہ میں ویسے ہی ختم کردوں گی" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💖💚💜154💖💚❤💜۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 155

وہ۔ ہنستے ہنستے رک گیا اور خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا، "کیوں؟ "
"مجھے ٹام کروز نے پرپوز کیا ہے، اس لیے"وہ جل۔ کر بولی۔
وہ پھر سے ہنس دیا، "ہاں، اچھا آدمی ہے، کر لو شادی" ۔
"ہاں، تمہیں قتل کر کے اس سے ہی شادی کروں گی" ۔وہ غصے سے کہہ کر تیزی سے اپنے خیمے میں چلی گئی۔

ہفتہ، 13اگست 2005ء
خیمے کی گورٹیکس کی دیوار سے ٹیک لاگائے،گھٹنوں پر کتاب رکھے وہ مطالعے میں منجمد تھی۔ قدرے فاصلے پر ارسہ اسی انداز میں بیٹھی کاغزوں کا پلندہ گود میں رکھے تیز تیز قلم چلا رہی تھی۔ خیمے کی کپڑے کی دیوار میں شفاف چوکور چھوٹی سی کھڑکی تھی، جس پر برف کے ذرارت جگمگا رہے تھے۔ دوپہر ہونے کے باوجود باہر اندھیرا سا تھا۔ بادل راکاپوشی پر چھا چکے تھے۔ موسم سخت خراب تھا۔ برف کا طوفان خاصی دیر تک چل رہا تھا۔ اور اب برف باری ہورہی تھی۔ احمت نے بتایا تھا کہ بیس کیمپ میں آج بارش ہو رہی تھی۔ پوری رات برفانی جھکڑ چلنے کے باعث بیس کیمپ کا کچن ٹینٹ اڑ کر قریبی گلشیئر پر جا گرا تھا۔
افق اپنے خیمے سے نکل کر دھند میں چلتے ہوئے ان کے خیمے میں داخل ہوا۔
"کیا ہو رہا ہے؟ "اس کے آنے سے خیمے کی خاموش فضا میں ارتعاشپیدا ہوا۔ پری نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا، جو نیچے میٹرس بچھا کر رک سیک کا تکیہ بنا کر نیم دراز ہو چکا تھا۔ اور پھر کتاب کی طرف متوجہ ہوگئی۔
"لائبریری میں بولنا منع ہے" صفہے پر نگاہیں جمائے پری نے اطلاح دی۔
"میں اتنے خراب موسم میں پورے چھے قدم چل کر تمہارے خیمے میں آیا ہوں اور تم کہہ رہی ہو بے مروت ہو؟ "
ارسہ نے قدرے اکتا کر سر اٹھایا اور پھر بڑ بڑاتی۔ ہوئی کاغز پر جھک گئی۔
"میں سوچ رہا ہوں اگلے سال بطور گائیڈ کسی ایکسپیڈیشن کے ساتھ ایورسٹ جاؤں۔ بندے کو اس فیلڈ میں کچھ کمانا بھی چاہیے۔ انجینرنگ میں میرا دل نہیں لگتا۔ وہ توماز کا باس مجھے برداشت بھی اسی لیے کرتا ہے ک میرے باپ کا دوست ہے" ۔
افوہ افق بھائی! کتنا بولتے ہیں اپ کوئی کام نہیں کرنے دیتے"۔ارسہ جہنجھلا کر اپنے کاغز سمٹے اور بڑبڑاتی ہوئی خیمے سے باہر نکل گئی۔ پری نے کتاب پر سے نگاہیں ہٹا کر حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔ افق مسکرادیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💚💜💖155💚💜❤💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 156

سکاٹ فشر سے معذرت کے ساتھ۔
"۔"its not attitude.its altitude".
اس ایلٹی ٹیوڈ پر بندہ تھوڑا بہت چڑچڑا تو ہو ہی جاتا ہے۔ میں مائنڈ نہیں کرتا۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا اگلے مارچ کی، جب میں ایورسٹ ایکسپیڈیشن لیڈ کروں گا۔ تم سن رہی ہو؟ "
"نہیں" وہ کتاب پڑھتی رہی۔
"تو پھر سنو، وہ بریانی پھر سے کھلاؤ ناں" ۔
"زہر نہ کھلاؤں؟"اس نے پڑھتے پڑھتے ایک طنزیہ نگاہ سامنے بیٹھے افق پر ڈالی۔
"تمہارے ہاتھ سے زہر بھی کھالوں گا۔ تم کھلاؤ تو" ۔
"کیا پاکستانی فلمیںبہت دیکھنے لگے ہو؟ "۔
"پشاور میں ایک پشتو فلم دیکھی تھی۔ سمجھ میں تو نہیں آئی مگر اس کی ہیروئن کنگ فو بہت اچھی کرتی تھی" ۔
"کنگ فو؟ جیسے تمہیں پتا ہی نہیں ک وہ ڈانس تھا۔ بنو مت" وہ پھر سے مطالعے میں منہمک ہوگئی۔ وہ جھنجھلا گیا۔ "یہ کتاب مجھے سے زیادہ اچھی ہے کیا؟ "۔
"ہاں بلکل" ۔اس نے سنجیدگی سے کہا پھر افق کے خفا تاثرات دیکھ کر ہنس دی۔"خفا ہوگئے کیا؟ "پری نے کتاب ایک طرف رکھ دی۔
"پری! "وہ ایک دم سچ مچ اداس نظر آنے لگا۔ "مجھے آنے بہت یاد آرہی ہے" ۔
ترک اپنی ماں کو "آنے" بولتے ہیں۔
"ہوں۔ مجھے بھی پاپا اور نشاء لوگ بہت یاد آرہے ہیں۔ پتا نہیں پہاڑوں پر پیچھے والے لوگ کیوں اتنے یاد آتے ہیں"
افق اٹھ کر بیٹھ گیا اور پری کے مقابل خیمے کی دیوار سے ٹیک لگالی۔ کھڑکی سے باہر سرمئی آسمان نظر آرہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💚❤💖156💚💜❤💖۔۔۔۔۔۔۔

"کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں کوہ پیمائی ترک کردوں۔ آنے کو یہ سب اچھا نہیں لگتا"،کھڑکی پر گرتی،جمتی برف کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا، "میرے تین بھائی پہاڑوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے بعد میری ماں بہت اکیلی اور دکھی ہوگئی ہے۔ وہ اکثر مجھے کہتی ہے افق! پہاڑوں پر نہ جایا کرو میرے بیٹے پہاڑوں سے لوٹ کر نہیں آتے۔ تب میں سوچتا ہوں کہ صرف آنے کے کیے یہ تمام کام ترک کردوں، آرام سے جاب کروں، پرکشش تنخواہ ہاتھ میں ہو اور اپنے ماں کے ساتھ رہوں۔ تب میرا دل یہ سب کچھ چھوڑنے کو چاہتا ہے" ۔کچھ دیر پہلے کی شوخی اب اس کے چہرے سے مفقود تھی
"تو پھر چھوڑتے کیوں نہیں ہو یہ سب؟ "
وہ پژ مردگی سے مسکرایا، "جنون ہے یہ پری۔ ایڈکشن ہے پہاڑوں کی۔ کوہ پیمائی چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ مجھے ہمالیہ سے عشق ہے۔ مجھے بچپن سے ہی شوق تھا۔ "بگ فائیو" سر کرنے کا ایورسٹ، کے ٹو،kangchenjunga، lhotese اور makalu میں گھنٹوں تصور کیا کرتا کہ وہ لمحہ کیسا ہوگا جب میں ان سب کو سیر کر لوں گا۔ وہ لمحہ جب تمام خواب پورے ہوجائیں گے جب دو سال پہلے میں نے کے ٹو کی چوٹی پر قدم رکھا tتو جانتی ہو کیا ہوا؟ میرے خواب اچانک خالی ہوگئے۔ سارے خواب ،خوائشات سب ختم ہوگیا۔ ہر خواب پورا نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی میں ایک عجیب خالی پن در آتا ہے۔ کچھ ادھورا بھی رہنا چاہیے۔ میری آخری آرزو ہے ک دنیا کی حسین ترین پہاڑ پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتورو کی چوٹیاں دیکھنے کی، پھر میں کبھی پہاڑوں میں نہیں آؤں گا" ۔
"اگر یہ آرزو تشنہ رہ گئی پھر بھی؟ "۔
وہ دھیرے سے مسکرایا، "ہاں پھر بھی کیوں ک جس کی جستجو تھی وہ مل گئی، ہے۔ "۔پری کا دل زور سے دھڑکا۔
"میں نے سن رکھا تھا کہ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں" وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا، "میں نانگا پر بت بیس کیمپ کے ٹریک میں بیال کیمپ سے۔ ۔"۔
"بیال کیمپ سے فیری میڈوز تک کا سفر بہت باد کرتے تھے، کیوں ک ان دو جگہوں کے درمیان شام ڈھلے پریاں مدھر نغمے گاتی ہوئی اڑتی پھرتی ہیں اور تمہیں ان کو دیکھنے کی آرزو تھی ہے ناں؟ "اس نے فقرہ مکمل کیا۔
شہد رنگ آنکھوں میں حیرت در آئی۔ "تمہیں کیسے پتا؟ "۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚❤💖💚157💖💜💚💚۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 158

پری نے مسکراتے ہوئے شانے اچکا دیے اور کتاب اٹھالی۔ "جس کی۔ جستجو کی جاۓ اسے آزل سے علم ہوتا ہے،بے وقوف کوہ پیمائی کھوجنے والا تو دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے، مگر جنہیں کھوجا جاتا ہے ناں، وہ ایک ہی راستے پر صدیوں نگاہیں جمائے انتظار کر رہے ہوتے ہیں" اپنا مطلوبہ صحفہ پلٹتے ہوئے وہ کتاب پر سر جھکائے کہہ رہی تھی۔ ایک دل نشین مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھری تھی۔
کتنی ہی دیر تک وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ بہت کچھ کہہ کر بھی وہ کچھ نہ کہہ سکا تھا اور پری نے دو فقروں میں داشت آرزو سمٹ کر رکھ دیا تھا پھر وہ جیسے کھل کر مسکرا دیا۔
"یہاں سے جا کر تمہارے فادر کے پاس چلیں گے، ٹھیک؟ "
اس کی جھکی پلکوں میں ارتاش پیدا ہوا۔ اس کے سامنے بیٹھا شخص بہت کچھ کہہ گیا تھا، مگر تین لفظ، جذبوں کی شدت کوئی اظھار، کوئی اعتراف نہیں کرتا تھا۔ پری nنے پلکیں اٹھا کر قدم یونانی دیو مالا کے اس کردار کو دیکھا جو جانے اس کی قسمت میں لکھا بھی تھا یا نہیں۔
"یہاں سے جاکر؟ تمہیں یقین ہے ہم یہاں سے زندہ واپس جائیں گے؟ "وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھی، مگر لبوں sسے یہی پھسل پڑا۔
افق نے شانے اچکادیے۔ "راکاپوشی بھی خوبصورت ہے اور جو خوبصورت ہوتے ہیں، ان سے زیادہ ظالم بھی کوئی نہیں ہوتا" ۔
"مگر میں مارنا نہیں چاہتی۔ اب۔۔۔اب زندہ رہنے کو دل کرتا ہے افق! زندگی اب بہت حسین لگتی ہے" ۔وہ۔ کہیں کھو سی گئی۔ افق اٹھ کر اس کے قریب آیا۔
"تم فکر کیوں کرتی ہو پری! تم اکیلی نہیں ہوں میں ہوں ناں تمہارے ساتھ" ۔پری نے ممنون نگاہوں سے اسے دیکھا۔ "میں تین ہفتے پہلے تک تمہیں جانتی بھی نہیں تھی اور اب یوں لگتا ہے ک جیسے تم سے بڑھ کر اپنا اور کوئی نہیں ہے۔ جانے کیوں اب یقین سا ہے اگر میں گری تو تم مجھے تھام لو گے" ۔
افق نے بہت عجیب نظروں سے اسے دیکھا، "اور اگر میں گرا تو؟ تو تم بھی حنادے کی طرح مجھے چھوڑ جاؤگی ؟"(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ سناٹے میں رہ گئی۔ وہ اس پل اتنا اجنبی اور سرد مہر لگا تھا کہ وہ چند لمحوں تک تو کچھ بول ہی۔ نہیں سکی۔ پھر افق اس کے پاس سے اٹھ کر تیزی سے خیمے سے نکل گیا، مگر وہ اسی طرح  اس جگہ کو دیکھتی رہی، جہاں تھوڑی پر قبل وہ بیٹھا تھا۔  کھڑکی پر برف ابھی تک گر رہی۔ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💛💚💜💖158💜💛💚💖۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 159

اتوار،14اگست 2005 ءءkira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

پری nنے آہستگی سے خیمے کا پردہ سر کایا اور اندر جھانکا۔ وہ اپنے سلیپنگ بیگ میں سو رہا تھا وہ دبے قدموں اندر آگئی۔ خیمے کے فرش پر اس کے قدموں سے آہٹ ہوئی، مگر وہ بے سدھ سو تا رہا۔رات ارسہ نے اسے بتایا تھا کہ افق نے صبح دو بجے اٹھانے کی تاکید کی۔ تھی۔ پری رات الارم لگا کر سو گئی تھی۔ نیند بمشکل ہی آئی تھی۔ ساری رات ارسہ کی کھانسی سنتے گزری تھی۔ اب میں دس منٹ پہلے ہی وہ اسے جگانے آئی تھی مگر وہ سوتے ہوئے اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ وہ اس کے سرہانے دورزانو بیٹھ گئی۔ "راکاپوشی 2005ء" کی سرمئی ٹوپی نے اس کے بھورے سر  کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اب اس کی ہیل ٹو طیب اردگان والی کیپ اسے نہیں آتی تھی۔
وہ۔ کچھ دیر بیٹھی رہی،اس میں اس کی نیند میں خلل ڈالنے کی ہمت نہیں تھی، سو اسے اٹھاۓ بغیر وہ خاموشی سے اس کے خیمے سے نکل آئی۔
باہر آسمان سیاہ، مگر صاف تھا برف باری گھنٹوں ہوئے رک چکی تھی۔ خیمء کے گور نیکس پر چند انچ برف جمی تھی۔ دور سیاہ آسمان پر تاحد نگاہ جھلملاتے تارے بکھرے تھے، جو ایک کھلے کھلے دن کی پشین گوئی کر رہے تھے۔ ہمالیہ کا آسمان پل پل رنگ بدلتا تھا۔
اپنے خیمے میں آکر وہ افق کی جگہ خود ناشتہ بنانے لگی۔ یوں لگتا تھا اس گہرے اندھیرے میں وہ سحری کی تیار کر رہی ہو اور وہ رمضان کے دن ہوں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
دروازے پر آہٹ ہوئی، پری نے بے اختیار اس طرف دیکھا۔ وہ عجلت میں اندر داخل ہوا تھا۔ آنکھیں سرخ اور بوجھل سی تھیں۔
"مجھے اٹھایا کیوں نہیں" ؟اس کے قریب بیٹھے ہوئے افق نے ماچس اس کے ہاتھ سے لے لی۔ پری نے بغور اسے دیکھا۔ اب وہ شنا سا لگ رہا تھا۔ (کبھی کبھی اتنے اجنبی کیوں ہو جاتے ہو افق؟ کیوں اس کو بھلا نہیں دیتے؟ کیوں وہ ہر پل میرے اور تمہارے درمیان کسی دیوار کی طرح آجاتی ہے؟ کیوں خواب میں آکر بھی ستاتی ہے، حالاں کہ وہ تو تمہارے خوابوں میں کبھی بھی نہیں آتی تھی) ۔اسے افق سے پچھلے شام کے متلعق کوئی سوال نہیں کرنا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ اس سے کبھی یہ بات نہیں پوچھے گی۔ ایک دن افق خود بتاۓ گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💚💛💜159💚💛💖💜۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 160

وہ اب چولہے کی گیس کھول کر، بڑی لاپروائی سے تیلی جلا کر چولہے میں جھونک رہا تھا۔ آگ تیزی سے بڑھک اٹھی۔
"اتنی بے احتیاطی سے کیوں چولھا جلا رہے ہو؟ "اس کی بے احتیاطی دیکھ کر پری کو ٹوکنا ہی پڑا۔
"چولہے کو چھوڑو۔ رسیوں کی فقر کرو۔ خدا کرے وہ برف میں دب کر گم نہ ہوگئی ہوں" ۔
مگر رسیوں کی خبر ہوگئی۔ ان پر برف گری ضرور تھی، مگر وہ جلدی نکل آئین۔رات کے اس پھر راکاپوشی بہت خاموش تھا۔ وہ اگے پیچھے فکسڈ روپ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پری اپنے جوگرز کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی وہ اگلا قدم برف پر رکھتی برف کی تہ ایک انچ دب جاتی۔ ایک لمحے کو اس کا سانس رک جاتا، مگر یہ احساس کے اس کے نیچے ٹھوس زمین ہے اور وہ پہاڑوں کی کسی درز (crevase) کے اوپر نہیں کھڑی بہت فرحت بخش ہوتا تھا۔
اوںچے پہاڑوں اور گلشیئر میں کئی جگہ دراڑیں ہوتی ہیں، جو اندر کئی سو فٹ گہری ہوتی ہیں،بعض جگہوں پر یہ واضح ہوتی ہیں مگر عمومآ ان کے دہانے پر برف باری کے باعث  چند انچ موٹی برف کی تہ جم جاتی ہے۔ ایسے میں یہ دراڑیں برف کا نقاب اوڑھے چھپ جاتی ہیں برف کے ۔نقاب پر پاؤں پڑنے کی صورت میں برف فورن پھٹتی ہے اور کوہ پیما اندر گر جاتا ہے۔ پہاڑوں کی ان دراڑوں، شگاف یا کریوس سے عمومآ لاشیں بھی نہیں نکالی جا سکتیں۔😲😲۔
اس وقت بھی فکسڈ روپ پر خود کو "جومر"(ایک ایلومینیم کا بیضوی آلہ جس کو فکسڈ روپ اور کمر کے گرد باندھی کلائمنگ ہارنس سے باندھا جاتا ہے) کی مدد سے رسی پر کلپ آن کرتے وقت اسے آس پاس سرمئی برف میں ہلکی ہلکی کریز سے واضح ہوتے شگاف نظر آرہے تھے۔ وہ جومر کو اوپر چڑھاتے ہوئے اس روز ساری چڑھائی میں گنگناتی رہی۔ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💖💛💚160💛💖💜💚۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 161

وہ سارا راستہ گنگناتی رہی۔
"آؤ بچو!سیر کراؤں تم کو پاکستان کی، جس کی خاطر   ہم نے دی قربانی لاکھوں کی، پاکستان زندہ باد۔ ۔۔۔"۔
افق نے مطلب پوچھا تو اس نے کندھے اچکا کر کہہ دیا۔
"آج ہمارا انڈیپینڈنس دن ہے۔میں اسے منا رہی ہوں۔ اس لیے تم اپنا منہ بند رکھو" ۔
وہ تپانے والے انداز میں مسکرایا۔
"ٹھیک ہے، مگر اب تو سنا ہے بھارت سے دوستی ہورہی ہے۔ امن معاہدے ہورہے ہیں" ۔
"سانپوں سے امن معاہدے نہیں کیے جاتے" ۔اس کی حب الوطنی  اچھی خاصی ہو گئی تھی۔ کیمپ ٹو تک وہ نظریہء پاکستان کے متعلق اس طرح کی کئی ارشادات سناتی آئی۔آج خاصی مشکل تھی۔ برف کی حالت خراب تھی۔ وہ بے حد نرم اور پکڑنے پر پگھلنے اور ٹپکنے لگتی تھی۔
کیمپ ٹو پر برف کھود کر خیمے نصب کرنے کا سارا کام فرید اور افق نے کیا تھا۔ پری  نے خیمے لگ جانے کے بعد ان تمام کے اندر چند جہنڈیاں لگائی تھیں۔ جو وہ اسلام آباد سے اپنے ساتھ لائی تھی۔ وہ تو بڑا جہنڈا بھی لگانا چاہتی تھی، مگر شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ حوا میں تیزی آگئی تھی۔ گور ٹیکس کے ہیٹ لائزز نے خیموں کے اندرونی ماحول کو خاصا گرم رکھا ہوا تھا، اس کے باوجود تیز چلتی برفیلی حوا اتنی سرد تھی کہ خون منجمد ہونے لگا تھا۔ اوپر ویسے بھی آکسیجن بے حد کم تھی۔ کیمپ تقریبآ 6200 میٹر پر نصب تھا اور اس بلندی اور موسم میں باہر جا کر بڑا جہنڈا لگانے کے لے خطرہ نہیں مول لے سکتی تھی، سو رات کو کھانا کھاۓ بغیر ،بس چاۓ پی کر سوگئی۔سطح سمندر کی بلندی پر ویسے بھی بھوک مر جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💜💛💚161💛💚💖💚۔۔۔۔۔



پیر،15 اگست 2005ءء
وہ دونوں لاؤنج میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سیف کچھ دیر خاموش رہا، پھر بغیر کسی تہمید کے کہنے لگا، "پری! میں جانتا ہوں تمہیں یہ سن کر دکھ ہوگا، مگر میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔ میں اپنے دوست کی بہن کو پسند کرتا ہوں اور یہ منگنی میں نے اپنی ماں کو خوائش پر کی تھی۔ اب بہت ہو چکا۔ میں یہ منگنی توڑنا چاہتا ہوں۔ تم بتاؤ، تم کیا کہتی ہو؟"۔
اور وہ کیا کہتی؟ اس کی تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
"بتاؤ پری! میں ماموں سے بات کروں؟ "وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔ پریشے کی آنکھیں چمک پڑیں۔
"سیف تم پلیز، یہ منگنی توڑ دو۔ تمہارا مجھے پر بہت احسان ہوگا" ۔وہ کہنا چاہتی تھی۔ مگر جانے کیوں حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
"اٹھ بھی جائیں پری آپی! کب تک سوتی رہیں گی؟"۔کسی نے اسے جہنجھوڑا۔وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔اور ارد گرد دیکھا۔ اس کا لاؤنج اور سیف،کچھ ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا۔ وہ ان سے ہزاروں میل دور کے برفیلے میدان میں۔ نصب ایک خیمے کے اندر لیٹی تھی۔
"خدایا! "اس نے اپنی کنپٹی سہلائی۔خوائشات اب خواب بن کر ستانے لگی تھیں۔
پھر وہ خاموشی سے تیار ہونے لگی۔ تیار۔ ہو کر اس نے ناشتہ کیا، اور پھر آخر میں اپنے کندھے نیچے کریمپینز چڑھائے اور گلشیئر گاگلز لگالیں۔ارسہ قریب ہی بیٹھی کاغزوں کا پلندہ اپنے بیگ میں ٹھونسنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
"میرے پیک۔ میں رسی ہے۔ اس لیے یہ پورا نہیں آرہے۔ اپ یہ اپنے والے بیگ میں ڈال لیں" ۔اس نے ارسہ کے ہاتھ سے کاغذ لے لیے۔ سامان سمٹ کر کھڑی ہوئی تو گود سے دو بیٹریاں گریں۔وہ انھیں مٹھی میں۔ دبوچے باہر نکل آئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💖💜❤162💜💖❤💚۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 163

آسمان ابھی تک سیاہ تھا۔ رات۔ تمام نہیں ہوئی تھی۔ پچھلے پوری شام سونے کے باعث وہ خاصی تازہ دم۔ تھی، آسمان بھی صاف اور تارے دور دور تک جگمگا رہے تھے۔ آج بھی یقیناً پورا صاف دن ہونا تھا۔
خیمے کے باہر برف پر افق اور فرید تیار کھڑے تھے۔ افق جھک کر جوتوں کے تسمے بند کر رہا تھا وہ اس کے عقب میں آئی اور اس کی پشت پر باندھے رک سیک کے ایک خانے میں دونوں بیٹریاں ڈال کر زپ بند کردی۔ صرف بیٹری رکھنے کو اس میں دوبارہ اپنا بیگ کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔
"صاحب !،ایک بات کہوں؟ "سر پر ٹوپی درست کرتے ہوئے فرید نے افق کو مخاطب کیا۔
"ہاں کہو" ۔
"صاب میری مانو تو آگے نہ جاؤ۔ یہ شمالی مغربی رج آج تک کوئی سر نہیں کر سکا" ۔
"افق ارسلان کرلے گا۔ تم فکر مت کرو" ۔اس نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔ پری نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ حد سے زیادہ خود اعتماد اور ہٹ دھرم تھا۔
"صاب موسم خراب ہوجاۓ گا" ۔
"آسمان تو صاف ہے" ۔
"صاب وہ شمالی میں ستاروں کا جہنڈ دیکھ رہے ہو؟ یہ ستارے میں نے کبھی اس مہینے میں چوٹی کے آسمان پر نہیں دیکھے ،یہ اچھی پیشن گوئی نہیں کرتے۔ اپ دمانی کو ہم ہنزہ و کثر سے زیادہ نہیں جانتے" ۔
"ہمارے پاس اتنا فیول اور گیئر نہیں ہے کہ ہم بیٹھ کر انتظار کرتے رہیں" ۔پینٹ جھاڑتے ہوئے وہ سیدھا ہوگیا۔ فرید بھی چپ ہوگیا۔
وہ اسی طرح خاموشی سے سر جھکائے کھڑی تھی۔ اچانک اس کے سر کے پیچھے کوئی نوکدار چیز زور سے لگی۔ وہ گھبرا کر پلٹی، تین پہاڑی کووں (raven) نے اس پر حملہ کر دیا تھا۔ اس نے زور سے سر سر پر ہاتھ مارا، وہ اڑ گئے۔اس نے ان کو دیکھتے ہوئے سر کا پچھلا۔ حصہ سہلیا، جہاں انہونے چونچیں مری تھیں۔
"کیا ہوا! تم ٹھیک ہو؟ "افق قدرے فکرمندی سے اس کے قریب آیا۔ وہ اسی طرح عجیب نگاہوں سے دور سیاہ آسمان پر اڑتے کووں کو دیکھتی رہی۔
"پری! کیا ہوا؟ "اس نے دوبارہ پوچھا۔
اس نے چونک کر سر جھٹکا۔ "کچھ نہیں۔ یونہی کچھ یاد آگیا۔ تھا" ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚❤💖💜163❤💖💚💜۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 164

اس۔ نے دوبارہ سر جھٹکا اور بھلانے کی۔ کوشش کی جو یاد آیا تھا۔ ٹھیک چھے سال پہلے جس دن اس کی مما کی وفات ہوئی تھی، اس روز بھی صبح جوگنگ کے دوران اس پر یونہی کوؤں نے اس پر حملہ کر دیا تھا۔ وہ بھی ایسے ہی پہاڑی کوے تھے۔ پتا نہیں کیوں اس کو عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔
ارسہ کان پر فون لگاۓ بولتے ہوئے خیمے سے باہر آئی۔ "جی جی بلکل، میں کیمپ تھری پہنچ کر بابا سے بات کرلوں گی۔ جی شیور۔اوکے ٹیک کیئر۔لو یو مما بائے۔"اس نے سیٹلائٹ فون بند کر کے پری کو تھمایا ور خود سر پر ہیلمٹ جوڑنے لگی۔ اس وقت پریشے کا دل چاہا کہ وہ بھی پاپا سے بات کرے، مگر اس کے پاس ان کا کوئی نمبر نہیں تھا۔ اس نے خاموشی سے فون بیگ میں رکھ دیا۔
"ہمیں جلد از جلد کیمپ تھری پہنچنا ہے۔ آج رسیاں آپس میں نہیں بندہیں گے، کیوں کہ ایسے میں ہماری رفتار سست ہو جاۓ گی۔ چلو نا پری! تم کیا سوچ رہی ہو؟ "اسے کلائمنگ ہیلمیٹ ہاتھ میں پکڑے گم صم دیکھ کر وہ جاتے جاتے پلٹا۔اس نے قدرے سوچتی،متذبذب نگاہوں سے اسے دیکھا۔ "افق! ۔۔۔فرید ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آسمان پر ستاروں کا جھنڈ اور یہ کوؤں کا حملہ،یہ بری علامتیں ہیں"
"کیا ہیری پوٹر بہت پڑھنے لگی ہو؟"وہ مسکرایا۔
"افق میں سیریس ہوں۔ یہ ان کلائمبڈ رج ہے۔ موسم کو دیکھو، چند گھنٹوں تک برف پھر شروع ہوگئی تو۔ ۔۔؟"
"میں انقرہ سے ہنزہ اس لیے نہیں آیا تھا کہ برف باری سے ڈر کر بیس کیمپ میں چھپ جاؤ" ۔
"پتا نہیں کیوں، مجھے ڈر لگ رہا ہے میری چھٹی حس ہے یا کچھ اور، میرا خیال ہے ہمیں آج نہیں کرنا چاہیے۔ آج کے دن کا آغاز ہی بد شگونی سے ہوا ہے" ۔جانے کیوں اس کا دل گھبرا رہا تھا۔
وہ چند لمحے بے حد سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا، پھر بولا، "بدھ مت کے بھکشو نیپال والے سیاہوں کے متعلق کہا کرتے تھے۔ صاحبوں کو جانے دو جہاں ان کا دل کرے، مگر یہ نہیں کہ وہ بدھا کا مسکن ہوتی ہیں۔ بدھا کے پیرو کار  ایورسٹ کو (chololungma) یعنی،
۔Mothergoddess of the world اور "ساگرماتا" کہا کرتے تھے اور آج بھی یہی کہتے ہیں۔ چھے نسلوں پہلے شرپا، سگرماتا کی۔ چوٹی پر قدم رکھنا گناہ سمجھتے تھے۔ ان کے خیالات تب بدلے جب تینزنگ نے سرایڈمنڈ ہیلری کے ساتھ ایورسٹ سر کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤💛💖💚164💛💖❤💚۔۔۔۔

صفحہ نمبر 165

۔"یقین کرو اس وقت اتنی تو ہم پر ست باتیں کرتی تم مجھے بدھ مت کی کسی مٹھ میں رہنے والی رہبہ لگ رہی ہو" اس کا انداز اتنا قطعی اور منطقی تھا کہ وہ کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ حالاں کہ کہنا چاہتی تھی ک مجھے توہم پرست کہو یا جو بھی، میں اور اگے نہیں جانا چاہتی۔
"پری آپی! اگر ہم رج سر کر لیں تو ہمارا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں لکھا جاۓ گا" ۔ان دونوں نے کسی بات کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ اب اگر وہ ان کے ساتھ نہ چلتی تو وہ اسے اس کی بزدلی شمار کرتے۔ وہ کسی ریکارڈ بک میں نام نہیں لکھوانا چاہتی تھی، وہ ادھر راکاپوشی سر کرنے بھی نہیں آئی تھی، وہ تو خود تسخیر ہو کر اپنے فاتح کو لینے آئی تھی اور اس وقت جس طرح اس کا دل کسی انہونی کے باعث گھبرا رہا تھا، وہ بلکل بھی نہیں جانا چاہتی تھی ،مگر۔ ۔۔ٹھرنہ اس کے خلاف تھا۔
وہ ان کے اگے چل رہا تھا اس کے قدموں سے بننے والے نشانات پر قدم رکھتی سر جھکائے خاموشی سے اس کے پیچھے آرہی تھی۔ اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا اور قدموں کے نیچے موجود گلشیئر کے اندر سے سلائڈنگ کی آواز بخوبی سنائی دے رہی تھیں۔
اس کی مسلسل خاموشی محسوس کر کے وہ کہنے لگا،"ارسہ!تمہارے ناول کا نام کیا ہوگا؟ دی راکاپوشی کلائمب؟ یا پھر راکاپوشی دی ان کلائمبڈ رج یا پھر ان ٹوتھن ایئر آف راکاپوشی؟ "وہ مشہور کتابوں کے نام بگاڑ رہا تھا ،ارسہ ہنس دی۔
"خیر، میرے ناول کا نام خاصا مختلف ہے" ۔
"کیا ہے؟ "
"جب چھپ جاۓ ٹو پڑھ لیجئے گا" ارسہ اپنے ناولوں کے متلعق خاصی شرمیلی تھی۔
وہ ہنوز خاموشی سے جھک کر برف پر آئیس ایکس مارتے ہوئے چل رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے پری کی بات نہیں مانی،سو اس کا موڈ ٹھیک کرنے کو پوچھنے لگا۔
"کھانسی ٹھیک ہے تمہاری؟ تم کل شام نیند میں کھانس رہی تھیں" ۔
"ہاں۔ اب ٹھیک ہے" وہ مختصرآ کہہ کر چپ ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💚💛💜💖165💜💛💚💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 166

"موسم صاف ہو تو راکاپوشی کی چوٹی سے میلوں دور تک پھیلے پہاڑ سلسلے نظر آتے ہیں" وہ اپنے تیئس اسے summit کرنے کی ترغیب دلا رہا تھا۔
"اچھا" ۔
"میں تو یہاں اس کی چوٹی پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتو رو کی چوٹیاں دیکھنے ہی آیا ہوں" ۔
وہ اسے کیا بتاتی ک جس پہاڑ کے حسن کی وہ دیوانی تھی، آج پہلی بار اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا (خدا کرے "برو" سوتا رہے اور اسے علم نہ ہو کہ کوئی دبے قدموں اس کی اقلیم میں داخل ہو رہا ہے) ۔
وہ نیچے برف کو بغور دیکھتی احتیاط سے قدم رکھ رہی تھی۔ برف کے ایک قطعے پر وہ پاؤں رکھنے ہی والی تھی کہ ایک دم اس نے قدم چند فٹ آگے رکھتے ہوئے اس ٹکڑے کو پہلانگا،پھر مڑ کر بغور اس جگہ کو دیکھا۔ یونہی اسے شک سا ہوا تھا کہ اس کے اندر پہاڑوں کی کوئی درز (crevasse) چھپی تھی۔
"کیا ہوا؟ "وہ اس سے چند قدم آگے تھا، اسے رکتے دیکھ کر خود بھی رک گیا۔
"کچھ نہیں۔تم ایک بات تو بتاؤ" ۔وہ سر جھٹک کر دوبارہ چلنے لگی۔ حوا قدرے تیز ہوگئی تھی اور ہلکی ہلکی برف گرنے لگی تھی۔ اس نے ہیڈ لیمپ آن کر لیا ۔
"راکاپوشی کی چوٹی سے کون کون سے پہاڑ نظر آتے ہیں؟"۔
"بہت سے "افق نے شانے اچکائے۔
"مثلآ ؟"
"مثلآ کے ٹو یا شاہگوری"شاہگوری بلتی زبان میں پہاڑوں کے بادشاہ کو کہتے تھے۔
"اور؟"
"اور میشر بروم اور گیشئر بروم کی چوٹیاں" ۔
"اور؟"
"اور براڈ پیک اور کنکورڈیا کے دوسرے پہاڑ"
"اور؟ "
"راکاپوشی سلسلے کے دوسرے پہاڑ، ہراموش اور دومانی"۔
"اور؟ "
"اور نانگا پر بت" ۔
""اور؟"۔
"فکر نہیں کرو۔ تمہارا گھر نظر نہیں آتا" ۔اس کی مسلسل "اور ۔اور" کی تکرار پر وہ چڑ کر بولا۔ 😄😄
وہ بد مزہ سی ہوگئی۔ "ہر وقت سڑے رہا کرو تم"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💜💛❤💖166💛❤💜💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ۔ مسکراتے ہوئے پلٹا،پھر دستانے والا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا، جسے پری نے آگے بڑھ کر تھام لیا۔ افق نے اس کا ہاتھ قدرے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔
"یہ اس لیے کے اگر گریں ٹو اکٹھے گریں"۔وہ اتنی سنجیدگی سے بولا کے پری کی ہانسی چھوٹ گئی۔ ہنستے ہنستے اس نے سر کو ہلکی جنبش دی۔ قریبآ تیس میٹر کے فاصلے پر ارسہ آرہی تھی۔ اس کا ہیڈ لیمپ آف تھا۔ اس کے عقب میں فرید تھا۔اس نے گردن واپس موڑلی۔ وہ اور افق ہاتھ تھامے چاندنی میں نہائے راکاپوشی پر قدم بڑھانے لگے۔
اسی ثناء میں اس کے عقب میں دھماکا ہوا۔ وہ دونوں گھبرا کر پلٹے ۔پیچھے میلوں دور تک چاندنی سے چمکتی برف پھیلی تھی اور چند میٹر دور ایک لمبا سا گڑھا تھا۔ پہلے تو اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک لمحے میں ہوا کیا ہے اور جب سمجھ میں آیا تو۔ ۔۔۔
"اوہ میرے ۔خدا۔ ۔۔ارسہ پہاڑوں کی کسی درز میں گر گئی ہے" ۔😲😲۔
"ارسہ۔۔۔۔ارسہ !"وہ دوڑتے ہوئے گڑھے کے قریب آئی۔ گڑھے کے اندر گہرا اندھیرا تھا۔
"ارسہ۔۔۔تم ٹھیک ہو؟ "گڑھے کے قریب دوزانو ہو کر اس نے اندر جھانکا۔ وہاں مھیب سناٹا اور تاریکی تھی۔ اس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
افق بھاگتا ہوا اس تک آیا۔ فرید چند قدم دور تھا۔
"افق کچھ کرو۔ پلیز افق۔ ۔وہ گر گئی ہے۔ ۔۔اسے باہر نکالو" ۔افق کا بازو جہنجھوڑتے ہوئے اس کے لبوں سے بے ربط فقرے ادا ہو رہے تھے۔
"میں کچھ کرتا ہوں" ۔اس نے اپنے ہیلمٹ پر لگے سرچ بلب سے گڑھے میں روشنی ڈالی۔
فرید بھی اندر روشنی کرنے لگا۔ اب وہ دونوں اسے آوازیں دے رہے تھے۔ "ارسہ ۔تم ادھر ہو؟ ارسہ جواب دو" ۔وہ اسے پکارتے رہے۔ ہیڈ لیمپ کی روشنی شگاف میں ڈالتے رہے، مگر اندر چند میٹر برف کے علاوہ کچھ نظر نہ آتا تھا۔ پری کے جسم سے جان نکال رہی تھی۔ وہ جواب کیوں نہیں دے رہی۔ وہ بولتی کیوں نہیں ہے؟ شاید اس سے بولا نہ جارہا ہو۔ وہ ٹھیک ہوگی۔ اسے کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ افق   اسے  باہر نکال لاۓ گا۔ وہ خود kکو تسلیاں دے رہی تھی، مگر اس کا دل گھبرا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢167😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 168

"ارسہ پلیز جواب دو۔ تم ٹھیک ہو؟ " وہ کتنی ہی دیر اسے آوازیں دیتا رہا۔ اس کا گلا بیٹھ گیا تھا اور آواز پھٹ رہی تھی، مگر پہاڑ کی تاریک ،عمیق درز (crevasse) بلکل خاموش تھی۔ ہلکی سی کراہ ،کمزور سی کھانسی، زندگی کی کوئی رمق اس درز (crevasse) میں نہیں تھی۔
برف گرنے لگی۔ حوا کا زور زیادہ ہوگیا۔ افق اور فرید جھک کر ارسہ کو آوازیں دیتے رہے۔ دونوں کے ہیلمٹ اور چہروں پر برف کے ذرات لگے تھے۔ مگر درز (crevasse) سے کوئی۔ جواب نہ آیا۔پری کا دل ڈوب رہا تھا۔
"افق کچھ کرو پلیز" ۔اس کا جیسے سانس رک رہا تھا۔ ارسہ کتنی دیر سے اس عمیق درز (crevasse) میں منوں برف تلے دبی ہوگی، اس کا سانس بھی ایسے ہی بند ہو رہا ہوگا۔ اس تصور سے ہی اس کی روح تک کانپ گئی۔
افق اور فرید تھک ہار کر خاموشی سے گڑھے کے کنارے بیٹھ گئے۔ان کی خاموش صورتیں پری کو ہو لا رہی تھیں۔
"تم دونوں ایسے کیوں بیٹھے ہو؟ اسے نکالتے کیوں نہیں ہو؟ افق جواب دو، میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں" ۔اس نے اس کا کندھا زور سے ہلایا۔
افق نے سر اٹھایا۔ وہ گلشیئر گاگلز اتار چکا تھا۔ اس کے سر، ناک ،آنکھوں اور چھوٹی چھوٹی بڑھی شیو میں برف کے ذرات پھنسے تھے۔ ۔۔اس نے دھیرے سے نفی میں گردن ہلائی، "میرا نہیں خیال۔ اب کوئی امید ہے۔ وہ اب تک مار چکی ہوگی"۔😢😢😢
کرنٹ کھا کر پری نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا۔
"نہیں۔ ۔تم۔۔تم غلط کہہ رہے ہو۔ وہ کیسے۔ ۔۔؟نہیں"۔وہ بے یقینی سے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ "تم تم دیکھو تو سہی افق! اندر ھی ہوگی۔ اس کا سانس گھٹ رہا ہوگا۔ وہ مدد کے لیے پکار رہی ہوگی۔ ہواؤں کے شور سے اس کی آواز یہاں تک نہیں پہنچ رہی ہوگی۔ تم۔ ۔۔تم ۔۔۔دیکھو تو سہی۔ ۔۔"کسی موہوم امید کے تحت اس نے کہا۔
"وہ نہیں ہے پری۔ ۔"کسی تھکے ہارے شکست خوردہ سپاہی کے مانند اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔ "وہ ہوتی تو جواب دیتی۔ اوہ خدایا" ۔وہ سر دونوں ہاتھوں میں لیے خود بھی بے یقین سا تھا۔پری نے استعجاب اور خوف سے نفی میں گردن کو جنبش دی۔ "نہیں افق۔ ۔۔تم۔ ۔۔"اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔ افق کیا کہہ rrha تھا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔
بھلا ارسہ کیسے مر سکتی تھی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢168😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 169

"ابھی۔۔ابھی تو وہ ہمارے ساتھ چل رہی تھی۔ ۔۔بلکل ابھی میں نے اسے برف پر کھڑے دیکھا تھا۔ ۔۔وہ بلکل ٹھیک تھی۔ ۔۔تم ۔۔۔تم ایسے کیوں؟ وہ۔ ۔۔نہیں۔ ۔"اس کا سر گھوم رہا تھا۔ چاندنی میں نہائی ہراموش اور دومانی کی چوٹیاں اسے گھومتی دکھائی دے رہی تھیں۔ اسے آوازیں آنا بند ہوگئی تھیں۔ سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔
پھر اس نے افق کو اٹھتے دیکھا۔ فرید اسے منح کر رہا تھا، مگر وہ پھر بھی اپنی ہارنس کے گرد رسی باندھ کر اس گہرے شگاف میں اتر رہا تھا۔ رسی کا ایک سرا فرید کے ہاتھ میں تھا، وہ آہستہ آہستہ رسی چھوڑ رہا تھا۔ شاید رسی  کہیں سے اینکر بھی کر رکھی تھی۔ وہ اب نیچے اتر چکا تھا۔
"پانچ میٹر کھودا ہے۔ ۔وہ۔ نہیں ہے"  گڑھے میں سے آواز آئی۔ وہ آواز اسے بہت اجنبی لگی تھی۔ اس کا ذہن مکمل طور مفلوج ہو چکا تھا۔
بھلا ارسہ کیسے مر سکتی تھی؟ ابھی ایک منٹ پہلے تو اس نے ارسہ کو اپنے عقب میں آتے دیکھا تھا۔ بس ایک لمحے میں اس کا پاؤں درز (crevasse) کے اوپر برف کے تہ پر پڑا گلشیئر پھٹا ،اور وہ نیچے گری، ہزاروں من برف اس کے اوپر گرتی چلی گئی، اس کا سانس رک گیا اور وہ دم گھٹنے سے برف میں دفن ہونے سے مر گئی۔ بس ایک لمحے کا عمل تھا اس کا دل  کے اندر کہیں بہت زور سے درد ہوا تھا۔ درد کی شدت بڑھی تو اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ آسمان برف کے ننھے ننھے گالے برسا رہا تھا۔
چوٹی اس جگہ سے نظر نہیں آتی تھی، مگر یقینآ وہ بادلوں کے ہالے میں چمک رہی ہوگی۔ رات کے اس پھر "برو" جاگ اٹھا تھا اور اسے علم ہو چکا تھا کہ کوئی دبے قدموں اس کی راجدھانی میں داخل ہو رہا تھا۔
افق واپس آ چکا تھا۔ اس کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے وہ سردی میں ٹھٹھر رہا تھا، تیز تیز سانسوں کے درمیان کچھ کہہ بھی رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢169😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 170

"تم ۔۔تم افق! "وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور اس کی جیکٹ کا کالر زور سے پکڑ کر کھینچا۔
"میں نے کہا تھا تم سے کے واپس چلتے ہیں ،مگر تم نہیں مانے۔ تمہیں اوپر جانا تھا، ہر قیمت پر اور وہ۔ ۔وہ مرگئی۔۔افق ۔۔ارسہ مرگئی۔ ۔۔!کر لی تم نے summit؟ بنالیا تم نے ورلڈ ریکارڈ، ہاں؟ بولو۔ ۔۔بلکل ابھی تو اس نے اپنی ماں سے بات کی تھی۔باپ سے اس نے کیمپ تھری جا کر بات کرنی تھی۔ اس کا باپ اس کی کال کا انتظار کر رہا ہوگا۔ ۔"اس کا گریبان پکڑ کر جہنجھوڑتے ہوئے غم و غصے سے اس پر چلا تے ہوئے اسے پتا بھی نہیں چلا اور کب وہ اس کے کندھے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑا رہا۔اتنا بھی نہیں کہا کہ ارسہ خود اوپر جانا چاہتی تھی۔
"وہ ۔۔۔وہ میری۔ چھوٹی بہن تھی افق۔ ۔اتنی ٹیلنٹڈ،اتنی زہین۔اور۔ ۔اور اس ظالم پہاڑ نے اسے مجھ سے چھین لیا؟"وہ اس کے کندھوں پر سر رکھے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ افق نے اس کے شانوں کے گرد بازو رکھ کر ہولے سے اس کا سر تھپکا۔
"ریلیکس پری ریلیکس !"
مگر وہ ریلیکس نہیں ہو سکتی تھی اس نے زندگی میں پہلی دفعہ ایک دوست کو اپنے سامنے پہاڑ میں دفن ہوتے دیکھا تھا۔ وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی۔ برف ان دونوں پر گر رہی تھی۔ فرید کچھ ہی فاصلے پر خاموشی سے گردن جھکائے بیٹھا تھا۔
"افق! اسے باہر نکالو، مجھے اسے دیکھنا ہے۔ خدا کے لیے افق! ہم ارسہ کے ساتھ آئے تھے، ہمیں اس کے ساتھ ہی واپس جانا ہے" ۔
"ریلیکس ۔پری۔ ۔اب کچھ نہیں ہو سکتا۔  ۔میں اس کی باڈی لینے گیا تھا ابھی، مگر وہ کہیں بہت نیچے ہے"۔وہ اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ خود پر سکون نہیں تھا۔ اس کا دل ٹوٹا ہوا تھا، مگر جانے وہ کیسے ضبط کر رہا تھا۔
"کم ان بیس کیمپ" ۔اپنے کندھے کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اس نے ریڈیو نکالا اور ٹریکر کا بٹن دبایا۔ دوسرا بازو ابھی تک پری کے شانوں کے گرد تھا۔ ریڈیو میں شور سا سنائی دیا،پھر ترک میں کچھ اکتاہٹ بھرے الفاظ۔ ۔۔
"میری بات گور سے سنو احمت! ارسہ بخاری از ڈیتھ۔ میں دہراتا ہوں، ارسہ بخاری از ڈیتھ۔ ۔وہ ایک شگاف میں گر گئی ہے۔ اس کی موت کونفرم ہے، مگر باڈی ریکوور کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں جلد از جلد کیمپ تھری تک جانا ہے۔ یہاں برف پڑ رہی ہے، ہم رک نہیں سکتے۔ ڈو یو کاپی اٹ؟"
"اوہ گاڈ۔۔۔۔یس آئی کاپی۔ ۔۔!"

۔۔۔۔۔۔۔۔ 😢😢😢😢170😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 171

افق نے ٹرانسیور بند کر کے بیگ میں رکھ دیا۔ پری ابھی تک رو رہی تھی۔ اس نے افق کا بازو سختی سے یوں پکڑ رکھا تھا، جیسے کوئی چھوٹا بچہ بھرے میلے میں گم ہو جانے کے ڈر سے اپنو کی انگلی پکڑ تا ہے۔ وہ بہت خوف زدہ تھی۔ افق نے آہستگی سے اس کا سر تھپکا۔
"شش۔ اب رونا نہیں ہے۔ اپنے آپکو سمبھالو۔ ہمیں کیمپ تھری جانا ہے" ۔
"نہیں افق! "اس کی آنکھوں سے آنسوں پھر سے گر نے لگے۔ "میں ارسہ کو چھوڑ کر۔ ۔۔۔"
"پری پاگل مت بنو۔ ۔۔ہم یہاں نہیں تھر سکتے"۔
"مگر اس کی ڈیڈ باڈی۔ ۔۔"یہ لفظ کہنا بھی دشوار تھا۔
"وہ ریکوور کرنا مشکل ہے۔ زیادہ رسی بھی نہیں ہے میرے پاس۔ ۔ساری رسی تو ارسہ کے پاس تھی۔ باڈی ہم واپسی پر نکال لیں گے" ۔اس نے بھاری دستانے والے ہاتھوں سے پری کے چہرے پر گرتے آنسوں اور برف صاف کی۔
"تم۔ ۔تم بعد میں نکال لوگے ناں اسے؟"اس کی بھیگی آنکھوں میں موہم سی امید چمکی تھی۔
"ہاں۔ ۔واپسی ۔۔پر۔ ۔ٹھیک؟ اب چلو۔ ۔"
"مجھے میں ہمت نہیں ہے" ۔اس کی ٹانگیں بے جان ہو رہی تھیں۔
"ہمت کرو پری! بہادر بنو۔ اپنے لیے نہیں تو میرے لیے"۔افق نے اسے سہارا دیتے ہوئے دونوں کندھوں سے ابھی تک تھام رکھا تھا پری نے بھی مضبوطی سے اس کا بازو پکڑ رکھا تھا۔ اس نے اپنا وزن افق پر ڈال رکھا تھا اور پھر بہت نڈھال سی وہ اس کے ہمراہ قدم بڑھانے لگی۔ آنسوں اب بھی اس کی آنکھوں سے نکل کر گردن پر لڑہک رہے تھے۔
اس نے زندگی میں کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آئے گا جب اسے اپنی بہت اچھی دوست کو برف میں جانا پڑے گا۔ اس شگاف کے دہانے سے پلٹنا اور آہستہ آہستہ برستی برف باری میں کیمپ تھری کی طرف قدم بڑھانا بہت کٹھن تھا، اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ افق نے اسے سہارا دیا ہوا تھا۔ اگر وہ نہ ہوتا تو شاید وہ اسی شگاف کے آس پاس راستہ بھٹک کر برف پر دب چکی ہوتی یا شاید کسی شگاف میں گر کر مر چکی ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢171😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 172

اس رات کیمپ تھری میں وہ دونوں گھنٹوں خاموشی سے بیٹھے رہے اور پھر جب رات تاریک ہوتی چلی گئی تو وہ باتیں کرنے لگے۔ طیب اردگان کی باتیں، عراق جنگ کی باتیں، ترک ملٹری کی باتیں، نیٹو اور sco بلاکس کی باتیں، انہونے بلاتکان صرف ایک "بات" سے بچنے کے لیے دنیا کے ہر موضوع پر بات کی کہ شاید دکھ کم ہو۔ شاید ڈپریشن اور نفسیاتی اثر قدرے زائل ہو، مگر سب کچھ ویسا ہی تھا۔ احمت کی بیوی سلمیٰ نے ارسہ کے والدین کو انگلینڈ میں اطلاح کردی تھی۔ پری رات بھر ان دونوں کے متلعق سوچتی رہی تھی، جانے کیا گزری ہوگی ان پر؟ کیسے سنا ہوگا انہونے اس خبر کو؟ ۔رات کو اس کے سلیپنگ بیگ کے قریب جگہ بہت خالی تھی۔ افق اپنے خیمے میں سونے جا چکا تھا۔وہ ارسہ اور ارسہ کی باتوں کو یاد کر کے پھر سے رونے لگی۔ وہ کتنی اکیلی رہ گئی تھی۔ اور شاید اسے گڑھے شگاف میں گری ارسہ اس سے زیادہ اکیلی  ہوگی۔ وہ محسوس نہیں کر سکتی۔  تھی۔
تب اس نے اپنے بیگ سے ارسہ کے کاغزات نکالے اور انھیں ترتیب سے جوڑا۔ سیاہ روشنائی سے انگریزی میں لکھے صفحے بھرے ہوئے تھے۔ لکھائی خاصی رف تھی اور جگہ جگہ سے کاٹا بھی گیا تھا مگر وہ پڑھ سکتی تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ کہانی ادھوری تھی۔
اس نے پہلے صفحے پر نگاہ ڈالی۔ "قراقرم کا تاج محل" موٹے مارکر سے انگریزی میں لکھا تھا۔ہنزہ کے باسی راکاپوشی کو "ہنزہ و کثر تاج محل "یا"  قراقرم کا تاج محل" کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برف سے ڈھکی راکاپوشی کی "چمکتی دیوار" آگرہ کے تاج محل جیسی سفید اور حسین دکھائی دیتی تھی۔ پری کو ان سے اختلاف تھا۔ اس کا خیال تھا، راکاپوشی کی چمکتی دیوار آگرہ کے تاج محل سے زیادہ سفید اور حسین دیکھتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢172😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 173

منگل، 16 اگست 2005 ءء
"صاحب، اوپر سارا سنو۔ فیلڈ ہے" ۔
وہ دونوں خاموشی سے خیموں کے آگے بیٹھے تھے، جب فرید ان کی طرف آیا۔ وہ آج کلائمب کے لیے نہیں گے تھے۔ ان کے ذہنوں کو کل کے واقعے کو وقتی طور پر بھلانا تھا، جس کے لیے انھیں ایک دن کا ریسٹ چاہیے تھا۔ فرید البتہ کچھ مخصوص مقامات پر رسیاں لگا کر آیا تھا۔
"پھر؟ "افق نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
"تم مانو یا نہ مانو،اوپر سارا سنو فیلڈ ہے اور برف تازہ گری ہے۔ اس کا گلشیئر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور جب برف گرے گی تو تم بھی مارے گا اور ہم بھی۔ سو ہم تی ابھی سے بتا رہا ہے ہم سویرے واپس چلا جاۓ گا" ۔
"مگر فرید تم نے تو کیمپ فور تک ہمارے ساتھ جانا تھا" ۔
"صاحب تم کل خود کیمپ۔ فور تک چلے جانا۔ ہم نہیں جاۓ گا۔ بس ہم نے تم کو بتا دیا"۔وہ کسی اڑیل گھوڑے کی ۔ طرح ضد پر اڑ چکا تھا۔
"فرید دیکھو، ہم بھی تو اوپر جارہے ہیں" ۔پری نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، "ہم بھی تو جا رہے ہیں؟ "۔
"باجی تم پاگل ہو، ام ابھی پاگل نہیں ہوا۔ تمہارے دونوں کے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے۔ تم ادھر مر بھی جاؤ تو تمہارا بچہ بھوکا نہیں مارے گا جب ک ادھر ہمارا باپ کریم آباد میں ایک چھوٹی زمین بھی نہیں چھوڑ کر گیا ہمارے لیے۔ ہمارے حال پر رحم کرو باجی، اوپر جا کے کوئی نہیں ملے گا۔ میری مانو تو تم بھی واپس چلو" ۔پری اور افق نے نگاہوں کا تبادلہ کیا، پھر افق نے شانے اچکا دیے۔
"تمہاری مرضی! "وہ سر جھٹک کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔ماتھے پر ناگواری کی لکیریں۔  آئیں تھیں۔ "میں نے نانگا پر بت کا سولو کلائمب کیا تھا مر نہیں گیا تھا میں پورٹرز کے بغیر پورٹرز صرف لڑکیوں کے لیے ۔۔۔ٹھیک کہتی تھی وہ عورت تم پورٹرز کے بارے میں" ۔وہ بڑ بڑایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢173😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ نمبر 174

"صاحب! وہ عورت جھوٹ کہتی تھی" ۔پھر پری کی کنفیوز شکل۔ دیکھ کر بولا، "باجی ادھر ایک یورپن عورت گیشر بروم ٹو سر کرنے آئی تھی۔ ہمارے ماموں کا لڑکا ادھر بلتستان میں رہتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ پورٹر بن کر اس اکیلی کو گلشیر بروم ٹو کی چوٹی تک لے کر گیا۔ بعد میں جب وہ نیچے آئی تو اخبار والوں کو بولی کہ میں سولو کلائمب کیا، میرا پورٹر تو مجھ کیمپ ٹو میں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ میرے ماموں کا لڑکا،بے چارہ، غریب آدمی ہے، چپ کر کے بیٹھ گیا۔ پر صاحب، وہ۔ عورت بولتی تھی، اسx کو سچ خیال مت۔ کرنا۔ اس کا فیصلہ گیشر بروم ٹو نے کیا تھا۔ پہاڑوں کا اپنا عدالت ہوتا ہے۔ وہ عورت اگلے سال پھر گیشر بروم ٹو سر کرنے آئی، پہاڑ نے واپس جانے نہیں دیا۔ اس کی تو لاش بھی نہیں ملی"۔
"ہاں ٹھیک ہے۔ تم جاؤ پھر" ۔افق نے سابقہ لہجے میں بولا۔
"صاحب! ہم نے کیمپ فور پہنچانے کے پیسے لیے تھے۔ رسیاں وسیاں لگا دیا ہے۔ آگے تم جانو تمہارا کم" ۔
افق جواب میں کچھ بڑبڑا کر رہ گیا۔ وجہ یہ نہیں تھی ک فرید انھیں چھوڑ کر جارہا تھا، وجہ یہ تھی کہ وہ صرف خفا خفا سا تھا یا شاید حد سے زیادہ دباؤ میں۔

نویں چوٹی مکمل۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔😢😢😢😢174😢😢😢😢۔۔۔۔۔۔۔۔



بدھ 17 اگست 2005
آج صبح سے موسم بہت خراب تھا اور موسم سے زیادہ افق کا موڈ خراب تھا۔۔وہ پریشے کے سامنے میٹ پر چٹ لیٹا۔
ایک بازو ماتھے پر رکھے خیمے کی چھت پر گھور رہا تھا ۔
شیڈول کے مطابق ان کا کیمب فور میں ہونا چاہئے تھا ۔مگر قراقرم کا اپنا شیڈول تھا ۔
خیمے کے باہر طوفانی جھکڑ چل رہے تھے جس سے خیمے پھڑ پھڑا رہے تھے ۔کچھ جگہ سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی ۔ان کو ٹھر ٹھرا رہی تھی برف سے اوپر سے نیچے خیمے کی دیواریں کمپریس ہو رہی تھی
179
"فرید صبح منہ اندھیرےہی بغیر نتائج چلا گیا"اس نے یونہی بولنے کی غرض سے کہا. تم نہ بھی دیتا تو میں نہ روکھا. "وہ اس طرح چٹ لیٹا اوپر دیکھتا رہا.
وہ ٹھیک کہتا تھا افق! ہم دونوں پاگل ہیں . سب کوہ پیما پالگل ہوتے ہیں. گھروں کا سکون چھوڑ کر برفانی وادیوں میں نکل جاتے ہیں اور آخر میں مر جاتے ہیں.
ایسے بھی تو مر جاتے ہیں. روئ ایکسیڈنٹ میں لفٹ میں پھنس کر دم گھنٹے سے کسی یا بم بلاسٹ میں. تم مسلمان نہیں ہو؟تمہارا ایمان نہیں ہے کہ جہاں موت آنی ہے وہاں آجائے گی کبھی موت بھی ٹلی ہے کیا ؟"
پریشے نے ایک اچٹنتی نظر اس پر ڈالی جو بغیر پلکیں جھپکاے چھت کو گھور رہا تھا اور پھر تھک کر خیمہ دیوار سے سر ٹکا دیا. سامنے والی دیوار کے دوسری طرف برف اکٹھی ہو رہی تھی.
"پھر بھی افق! کیا نل جاتا ہے پہاڑوں پر جا کر ؟اتنی مشقت کرکے؟"
"یہ بات ہمیشہ وہ کاہل ترین لوگ کہا کرتے ہیں جن سے روز ایک گھنٹہ لان میں واک بھی نہیں ہوتی. یہ بھلا کیا رکھا ہے پہاڑوں میں والا فقرہ ان دونوں کے منہ سے نکلتا ہے جن کے انگور ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں. وہ تلخی سے بولا.
پھر بھی زندگی نارمل طریقہ سے گزری جا سکتی ہے "وہ شاہد بحث کے موڑ میں تھی ."نارمل طریقہ کیا ہے؟ گھنٹوں فون پر رشتہ داروں کئ برائیاں کرنا نت نئے بے ہودہ فیشن اپنانا غیر حقیقی فلموں کے غیر حقیقی ہیروز کو دیوتا تسلیم کرکے ان کئ پرستش کرنا راتوں کو جاگ جاگ کر گھٹیا قسم کے عشقیہ ناول پڑھنا باس سے کو لیگز کئ چغلیاں کرنا اگر یہ نارمل لائف ہے تو پھر کوہ پیما کی ابنارمل لائف اس سے بہتر ہے مادام! "
جانتے ہو افق! مجھے نہیں پتا لوگ پہاڑٹا کیوں سر کرتے ہیں مگر میں پہاڑوں میں خوش رہتی ہوں مجھے یہاں سکون ملتا ہے لیکن نشاءپاپا سیف ان سب کو بہت حیرت ہوتی ہے کہ لوگ پہاڑ کیوں سر کرتے ہیں. "برف قطروں کی شکل میں بہ رہی تھی اور قطرے راستے میں آنے والے ہر ذرت کے ساتھ مل کر بڑے ہوتے جا رہے تھے.
"یہ وہی بات ہے کہ "لوگ کتابیں کیوں پڑھتے ہیں " علم حاصل کرنے کے لیے ؟تو جتنا نیچر کے بارے میں پہاڑوں میں جا کر ملتا ہے اتنا وہ دنیا کی کسی درسگاہ میں نہیں ملتا ہے آپ پہاڑ کو ایکسپیرنیس کرتے ہو اور یقین کرو ,نان کلائمبر حیران ہوتے ہیں جب وہ سنتے ہیں کہ
180
ہم کوہ پیما پربتوں کا احترام کرتے ہیں. ان کی جانب تمیز اور ادب سے دیکھتے ہیں. چوٹ پر بھی احترام سے رکھتے ہیں. پہاڑ عظیم ہوتے ہیں. "
"اور ظالم بھی! "پریشے نے استہزئیہ انداز میں سر جھٹکا. وہ دیوار کے اس پار نظر آتے پانی کے قطروں کو دیکھ رہی تھی. جو دیوار کے نیچے خالی درز سے ہر مکمن طور پر خیمے میں داخل ہونے کئ کوشش کر رہے تھے. ان کا تاک سامان گیلا ہوچکا تھا.
"بے شک ظالم ہوں مگر میں ہمالیہ سے تعلق رکھتا ہوں. میں انقرہ اور اپنے گھر سے اور پہاڑوں سے تعلق رکھتا ہوں پری. "
"تمہیں لگتا ہے ہم بچ کے نکل جاے گے؟"
"کوہ پیمائی تو نام ہئ بلندیوں سے زندہ بد کر واپس آنے کا ہے. یہ تو بونس ہوتی ہے. "
"پھر بھی تم واپس پلٹنا چاہتے ؟"
"تمہیں جانا ہے تو جاؤ میں چوٹی فتح کئے بغیر نہیں جاؤ گا. "برف کے چھوٹی چھوٹی گیندیں بن کر دیوار کے اس پار اکھٹے ہو رہے تھے.
"افق پلیز.... واپس چلو. اس رج کو ناقابل تسخیر ہی رہنے دو. "
"میں ذرا برف صاف کر آؤں. "وہ چھوٹا سا بیلچہ اٹھا کر باہر نکل گیا.
وہ چوٹی پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتورہ کے پربت دیکھے بغیر نہیں پلٹے گا. وہ جانتی تھی. نہ وہ اس کے ساتھ وہاں تک جانا چاہتی تھی .اور نہ اسے چھوڑ کر نیچے اترنا چاہتی تھی. دنیا میں کوئی بھی انسان بہترین نہیں ہوتا. افق ارسلان میں بھی ایک خامی تھی .ہٹ دھرمی ضد اور حد سے زیادہ بڑھی خوداعمتادی.
کوہ پیماوں کئ اکثریت انہی خصوصیات کئ حامل ہوتی ہے. وہ عموماً موسم کی خرابی کے باعث اپنے ہدف کے انتہا ئی قریب پہنچ کر واپس نہیں پلٹنا چاہتے. وہ اتنا کچھ صرف کرکے یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں کہ واپس پلٹ جانا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے ابھی صبح ہئ افق نے کیمپ تھری سے واپس جانے کے متعلق کہا تھا کہ. "یہ تو ایسے ہے کہ تم ایک سو میٹر دوڑ کر نوے میٹر پر رک کر متپ جانے جوکہ. "
افق کی سب سے بڑھی خامی یہی تھی کہ اس نے سو میٹر دوڑ اور کوہ پیمائی میں فرق کو ختم کر دیا.
181
جمعرات 18اگست2005
کیمپ فور 7500 میٹر پر تھا کیمپ تھری سے سات سو میٹر اوپر. آج برفانی جھکڑ نہیں چل رہے تھے موسم ٹھیک تھا مگر برف باری ہنوز جاری تھی. وہ اتنی ہلکی اور کم تھی کہ حد بصارت خاصی تھی. ان کے پاس اتنا گیئر اور فیول نہیں تھا. کہ وہ بیٹھ کر ایک دن بھی مزید انتظار کرتے.
گزشتہ روز کے سخت طوفان کے باعث رسیاں اور کورڈذ بری طرح الجھ چکی تھیں. ان کو ٹھیک کرنے میں خاصہ وقت ضائع ہوا. رسیاں ویسے بھی کیمپ تھری سے کئی میٹر اوپر کیمپ فور سے تھوڑی نیچے لگائی گئ تھیں. رسیاں کے آغاز تک کا سفر خاموشی سے کیا . پھر ان کو ٹھیک کر کے جب پریشے نے جومر کرنے کے بعد رسی کھنیچی تو وہ جام رہی. اس نے گلیشئر کو گلزاتار کر اس پر چڑھاے اور نیچے اتری. اس نے گرہ ڈھونڈی جو رسی میں بن کر اسے جام ایک میں پھنسی تھی اس نے گرہ کھولی اور سوغات اوپر چڑھنے لگی. اس کی ایک غلطی کی وجہ سے اس کے بیس منہ ضائع ہوئے مگر افق نے کچھ نہ کہا. وہ خاموشی سے تمام کارروائی دیکھتا رہا.
وہ دونوں اس وقت "ڈیتھ زون" میں تھے. سطح سمندر سے چھے ہزار میٹر سے زائد بلندی کا حصہ "ڈیتھ زون "یا "ورٹکل لمنٹ" کہلاتا ہے. اس بلندی پر ہوا بے حد کم اور آکسیجن ان کے جسموں کے لیے ناکافی تھی. سانس لنیے کے لیے پریشے کے پھیھڑوں کو بہت زور لگانا پڑتا تھا اور وہ اس وقت پورا منہ جھول کر سانس لے رہی تھی.
وہ کیمپ فور سے قدرے نیچے تھے. ان سے تقریباً تین سو میٹر اوپر پہاڑ کی ڈھلان جمے ہوے ندی نالوں سےمزین تھی. یہ وہ جگہ تھی جہاں سے چوٹی سامنے دیکھی دے رہی تھی یوں کے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھولے گی مگر اس کے لیے بہت لمبا ہاتھ چاہے تھا. وہ رک رک کر آئس ایکس برف پر مار کر آہستہ آہستہ چڑھ رہی تھی. اس کی طاقت اتنی کم رہ گئی تھی کہ یوں لگتا تھا ابھی کسی وقت تھک کر نیچے لڑھک جائے گی. دفعتاً وہ ذرا سستانے کو ایک برف تلے چھیے شگانوں کے دہانوں پر موجود ایک برفانی تودے کے پیچھے کھڑی ہوئی. اور اپنے تنفس درست کرنے لگی. برفانی تودے جب گرتے ہیں تو خوب تباہی مچاتے ہیں مگر اس وقت خود کو پناہ دیتےوہ برفانی تودے جس کے عقب میں وہ محفوظ سی جھکی کھڑی تھی اسے بہت اچھا لگ رہا تھا افق اس سے سو میٹر دائیں جانب تھا.
دفعتا اسے برف کے ٹوٹنے اور چٹخنے کی آواز سنائی فی. اس نے گھبرا کر سر اٹھایا.
182
اس کے سر سے کئی میٹر اوپر قدرے دائیں طرف برف میں ایک لمبا شگاف پیدا ہو گئ تھی ایسے جیسے ہنگر سے لٹکے سفید کپڑے کے اوپر سے قینچی سے کاٹ دیا جاے .برف کئ پلیٹوں میں ہوتا بے حد خوبصورت مگر بے حد مہلک ثابت ہوا کیوں کہ اگلے پل اس پلیٹوں کے نیچے کی برف کے بڑے بڑے ٹکڑے نیچے گرتے اور سفید بے حد گہری دھول پیدا کرتے ہوے نیچے گرتے آرہے تھے.
پریشے کا سانس رک گیا. برفشار نیچے کی طرف آرہا تھا. مگر وہ ایک بڑے تودے کے پیچھے محفوظ تھی لیکن افق....
افق! "".... وہ بے اختیار چلائی"برفشار آرہا ہے. خود کو بچاؤ.
افق نے بوکھلا کر اوپر دیکھا جہاں تیزی سے گرتی برف اس کی جانب بڑھ رہی تھی اس سے پہلے خود کو محفوظ کرپاتا برف کئ سفید دھول ہر طرف پھیل گئ اس دبیز ڈھول کے پیچھے ہو گیا.
اپنی آئس ایکس کو برف میں گاڑے خوف کے مارے اسے مضبوطی سے پکڑے ہوے پری بند کیے دیوار سے چیکی کھڑی تھی. اس کا پورا جسم لزر رہا تھا . دل زور زور سے دھڑک رہا تھا.
پھر دھول آہستہ آہستہ چھنٹے لگی . اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں جھول کے سر اونچا کیا.
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
دودھیا سفید برف راکا پوشی کے جسم سے بالکل ویسے ہی چمٹی ہوئی تھی جیسے چند لمحوں پہلی تھی . اس نے گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا. راکا پوشی کے پہاڑی سلسلے پر سکوت تھا. آوازآسمان سے گرتی برف کی تھی باقی پورا پہاڑ خاموش اور پر سکون تھا جیسے وہ برفشار یہاں نہ ہوئی ہو. میلوں دور تک پھیلی برف ویسی ہی حسین نظر آرہی تھی . بس ایک فرق تھا اس کے دائیں جانب افق اور ارسلان نہیں تھا.
افق! وہ بلند آواز چلائی تم کہاں ہو؟اس کی آواز اردگرد کے پہاڑی سالوں سے ٹکرا کر ہنزہ کے آسمان میں تحلیل ہوگی. برف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا.
پریشے نے گردن ترچھی کرکے عقب میں دیکھا. گرتی برف کے اس پار دمانی چوٹیاں تھیں. دور بہت دور شاہکوری کا سر مت اہرام برفیلی چادر کی بکل مارے دائیں طرف ملیوں دور نانگا پربت کئ خونی/قاتل چوٹی تھی. ہمالیہ کے تمام پہاڑ اس کو دیکھ رہے تھے اس پر ہنسے رہے تھے اس کا تمسخر اڑاتے ہوے کہا رہے تھے "بے وقوف لڑکی تم احمق ہو.
183
وہ واقعی اکیلی تھی. اس کے اطراف میں ان دیو ہیکل پہاڑوں کے سوا کوئی نہیں تھا . وہ تمام اتنے خوف ناک اور اونچے تھے کہ خود آسمان جھک لر ان کی پیشانی چوم رہا تھا.
"افق تم کہاں ہو. ؟"بہت بے بسی سے اس نے پکار, "جواب دو.... خدا کے لیے کچھ تو بولو افق ورنہ میرا دل پھٹ جاے گا."اس کا دل واقعی پھٹنے کو تھا.
وہ جدھر تھا ؟وہ خواب کیوں نہیں سے رہا تھا ؟ اوپر سے ہزاروں ٹن برف چند لمحوں میں گری اس برف میں وہ اسے کہاں ڈھونڈے ؟برف اسے آڑا کر گلیشئیر کے قدموں میں پٹخ چکی تھی یا وہ کہیں اپنی آئس ایکس سے چمٹے ہوئے کھڑا تھا ؟
پریشے نے اس جگہ دیکھا جہاں چند لمحوں قبل وہ کھڑا تھا. وہاں اب دودھیا سفید برف تھی. وہ تیز اس نے لگائی تھی اس برف کے سند گم ہوگئ تھی . البتہ غور سے دیکھنے پر اس کا ایک سرا واضح ہو جو ٹوٹ چکا تھا. یعنی اب افق اس رسی پر نہیں تھا اور نیچے برف میں سب چکا تھا ؟پریشے کا دل ڈوبنا لگا.
نہیں. وہ ادھر ہئ ہوگا. میں ڈھونڈتی ہوں اسے میں اسے ڈھونڈ نکالو گئ. "اس نے خود کلامی کی اور نیچے اترنے لگی . رسی سے نیچے اترنا بالکل ایسا تھا جیسے کسی عمارت کی دسویں منزل کی کھڑکی تک پہنیچے کے لیے عمارت کے باہر سے سیڑھی رکھی جائےاور پھر کیسے اس سیڑھی سے نیچے اترا جاتا ہے مضبوطی سے اسے پکڑے سہج سہج کر پیچھے اور نیچے دیکھتے ہوئے ایک ایک پاؤں نیچے رکھنا وہ ایسے ہی اتری تھی.
اسے علم نہیں تھا کہ وہ برف میں کہاں تھا مگر اسے یہ علم تھا کہ افق کو ڈھونڈنے کے لیے راکا پوشی کی تمام برف بھی کھودنی پڑی تو وہ کھوڈالے گئ.
وہ بمشکل بیس میٹر نیچے اتری. اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا اور وہ باقاعدہ ہانپ رہی تھی. اس کے ہاتھوں میں جان نہیں تھی مگر پھر بھی وہ سردرد برف میں افق کو کھوج رہی تھی.
دفعتا اسے قریب برف سے سرمئ رنگ کی جھلک دکھائی فی. وہ خود کو رسی سے ان کلپ کرکے اس کی طرف بھاگی برف گھٹنے گھٹنے گہری تھی . وہ اس میں گھٹنوں تک دھنسی خود کو گھسیٹی ہوئی اس کے قریب آئی اور دستانوں سے تیزی سے برف ہٹانے لگی.
وہ ایک سر مئی رنگ کا پتھر تھا.
184
اس کا دل بیٹھنے لگا تھا-اس نے گردن جھکا کر نیچے دیکھا اور ایک دفعہ پھر پوری قوت سے آواز دی-"افق.....تم کہاں ہو?"
اگر وہ اس جگہ سے نیچے تھا تو یقیننا آواز اس تک گئی ہوگی-اگر اوپر ہوتا تو ہوا کے روخ کی وجہ شے آواز اوپر سے نیچے نہ جاتی-یعنی اب اگر وہ جواب میں کچھ کہتا بھی تو وہ پریشے کو نہ سنائی دیتا-ایک ہوا اس کی دشمن بنی اوپر سے نیچے کی جانب چل رہی تھی-شدت بےبسی سے اسے رونا آگیا-
"نہی,وہ ادھر ھی ہوگا-میں ﮈھونﮈتی ہوں اسے-میں اسے ﮈھونﮈ نکالونگی-"وہ دبارہ رسی پر کلپ اون کر کے,بڑبڑاتے ہوے نیچے اترنے لگی-
ہمالیہ کے عظیم پربتوں نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی,اور وہ استہزائیہ ہنسے تھے-اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے-
"میں اسے ﮈھونﮈ نکالوں گی-تم دیکھتے رہنا,ظالم پہاڑوں!میں اسے برف میں دفن نہی ہونے دوں گی,میں اس قراقرم کے ظالم پہاڑوں اور ہمالیہ کے ظالم آسمان سے دور لے جاوں گی دیکھتے رہنا"
وہ زور زور سے روتے اور چلاتے ہوے نیچے اتر رہی تھی-ان بلند چوٹیوں نے بھرپور وحشیانہ انداز میں قہقہ لگایا تھا,مگر اب وہ انہے نہی سن رہی تھی-وہ افق کو تلاش کر رہی تھی-اسے ہر حال میں افق کو برف سے باہر نکالنا تھا-
تقریبا چالیس میٹر نیچے اتر کر اس نے خود کو رسی سے آزاد کیا,چالیس میٹر اوپر اور دائیں طرف افق چند لمہے پہلے موجود تھا-وہ یقینا وہیں کہیں گرا ہوگا-اسے اب سو میٹر نیچے کی طرف جانا تھا-
وہ گٹھنوں تک برف میں دھنسی خود کو گھنسیٹتی ہوئی دائیں طرف جانے لگی-اس کی ٹانگیں اکڑ کر لکڑی بن چکی تھی-اس سے چلا نہی جارہا تھا, مگر وہ کتنی ہی دیر چلتی رہی,پھر بلاآخر نﮈھال ہو کر وہیں گٹھنوں کے بل برف میں گر گئی-
اس میں مزید چلنے کی سکت باقی نہ رہی تھی-تیز تیز ساتھ لیتے ہوے وہ باقائدہ ہانپ رہی تھی-اس نے اٹھنے کی کوشش کی, مگر جسم پر طاری تھکاوٹ اور عجیب سی نکاہت کے باعث اس سےاٹھا ہی نہی گیا-
"افق"وہ پھر سے حلق کے بل چلا کر اسے پکارنے لگی-"تم کہاں ہو?"
185
بروکا گلیشئیر خاموش رہا.
آسمان سے بہت خاموشی سے برف باری ہوتی رہی. گھٹنوں کے بل برف میں گھسٹتے ہوے اپنا آئس أیکس برف میں مارتی وہ آگے بڑھنے لگی.
وہاں ہر سو دودھیا سفید برف کئ چادر بچھی ہوئ تھی. کہیں کہیں سے جھلکتے سیاہی مائل سرمئ پتھر اور دیورایں بھی اب برف باری کے باعث چاندی سے ڈھک گئ تھیں. دور دور تک برف کا ایک نہ ختم ہونے والا صحرا پھیلا تھا اور اسے افق کو تلاش کرنے کے لیے وہ صحرا پار کرنا تھا.
وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ادھر ادھر برف پر بیچلہ مارتی اسے توڑتی آگے بڑھ رہی تھی. یہ اترائی یا چڑھائی کا سفر نہیں تھا. وہ دراصل پہاڑ کی ڈھلان پر شمال کئ جانب بڑھ رہی تھی.
ہ برفیلا میدان تھا. جانے سو میٹر ہوئے تھے یا نہیں کہ وہ ایک جگہ برف میں گر سی گئ . اب اس میں مزید حرکت کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی. وہ ذرا دیر کو ستانے کے لیے تنفس درست کرنے لگی.
پھر اس نے گردن ادھر ادھر گھما کر دیکھا. افق کو انداز اسی جگہ کے قریب ہونا چاہیے تھا, کیونکہ برفشار کا زور بہت شدید نہیں تھا کہ وہ بہت نیچے جاگتا. اسے یقین تھا کہ وہ اس کے آس پاس ہی کہیں برف میں ڈبا سانس لے رہا ہو گا وہ اسے کہاں ڈھونڈے ؟
پریشے اپنے قریب برف میں ایکس مارتے ہوئے اسے توڑنے لگی کہ شاہد وہ اس کے قریب ہی کہیں ہو. اس نے بہت سی برف کھود ڈالی مگر وہ کہیں نہیں تھا.
وہ پھر سے برف پر تقریباً جھک کر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ساتھ ساتھ وہ اسے آوازیں بھی دیں رہی تھی مگر وہ خواب نہیں سے رہا تھا. پریشے کو جہاں جہاں کسی سیاہ سرمئ شے کی جھلک دکھائی اس نے وہاں کی برف کھو ڈالی مگر ہر جگہ برف کے نیچے سے وہی سیاہ پتھر نکلتے تھے, جنہیں لوگ ترکی زبان میں قراقرم کہتے تھے.
برف باری تیز ہوتی جا رہی تھی . وہ تھک کر حوصلہ ہارنے والی تھی کہ اس جگہ جہاں سے وہ غائب ہوا تھا اس سے ٹھیک چالیس پنتتالیس میٹر نیچے دوبار سرمئی رنگ کی جھلک دکھائی دی. وہ اس کی طرف لپکی. اس کا رواں رواں دعا گو تھا . کہ وہ افق ہئ ہو. اس نے زور سے وہ سرمئی چیز کھنچی ... وہ افق ہئ تھا ..
افق.... افق. " پاگلوں کی طرح اسے پکارتے ہوے وہ اس پر سے برف ہٹانے لگی. وہاں اوندھے منہ پڑا تھا
186
ہوٹٹ بالکل خانہ پڑچکے تھے اور آنکھیں بند تھیں. اس کے برف سے اٹے کپڑوں اور اردگرد برف پر لگے خون کے دھبوں کے علاوہ کوئی بھی شے کسی قیامت کے مانند گزر جانے والے برفشار کا پتا دیتی تھی.
افق... افق تم ٹھیک ہو؟ آنکھیں کھولو افق""! جھنجھوڑتے ہوئے اس کا نیلا پڑتا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے وہ رو پڑی تھی. وہ کیوں آنکھیں نہیں کھول رہا تھا ؟وہ کیوں نہیں بول رہا تھا ؟"افق خدا کے لیے آنکھیں کھولو ...پلیز آٹھ.... اس کے چہرے سے برف صاف کرتے ہوئے اس نے اس کا منجمد ہوتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے مسلنے لگی.
وہ ہلکا سا کھانسا منہ سے برف کے ذرات باہر نکلے . پریشے نے طمانیت بھری گہری سانس کئ.... وہ زندہ تھا. اسے کچھ نہیں ہوا تھا. وہ ان ظالم پہاڑوں کے درمیان تنہا نہیں تھی.
اب وہ آنکھیں نیم وا کرکے بمشکل سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا. اس کی سانس اکھڑی اکھڑی سی آرہی تھی. پریشے نے اسے کندھوں سے تھام کر بٹھانے کی کوشش کی تب اسے محسوس ہوا کہ وہ زخمی تھا. اس کے چہرے ناک اور گردن پر گہری خراشیں تھیں . جن پر خون جما تھا.
اس کو بمشکل سہارا سے کر اس نےوہیں برف میں بٹھایا تو وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا. اس کے چہرے کی رنگت واپس آنے لگی مگر وہ آنکھیں پوری نہیں جھول پا رہا تھا
اٹھو.... کھڑے ہو طوفان زور پکڑ رہا ہے. ہمیں جلد ہئ کسی محفوظ جگہ جانا ہو گا. برف باری کی تیز ہوتی رفتار اور سرد ہواؤں کے جھکڑوں کی خوف ناک آواز سے وہ پریشان سی ہو کر اسے سہارا سے کر کھڑا کرنے لگی مگر زخمی ہونے کے باعث وہ اٹھ نہیں پا رہا تھا. وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہا تھا, اس سے تو کچھ بولا بھی نہیں جا رہا تھا آنکھیں بھی اسی طرح ادھ کھلی تھیں. وہ نڈھال سا نیم بے ہوشی کے عالم میں تھا.
وہ اس کو کھڑا نہیں کر سکتی تھی. یہ ادراک ہوتے ہئ اس نے اپنی کمر کے گرد بندھی کلائسک ہارنس سے چھوٹی سی رسی باندھی . اسے افق کی ہارنس سے کیربز کی مدد سے نتھی کیا پھر دونوں ہاتھوں سے اس کے بازوں اور کندھوں کو پکڑے اسے برف میں گھسٹینے لگی.
تب اسے علم ہوا کہ اس کی دائیں ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا اور اس کا بیک پیک غائب تھا. برف باری اب شدید قسم کی ژالہ باری میں تبدیل ہو رہی تھی. سرد ہواؤں کی رفتار تیز ہوگی تھی. آسمان کا رنگ یکایک سرمئی سے سفید ہوچکا تھا. حد بصارت جو کچھ دیر پہلے اتنی زیادہ تھی
187
نگاپربت بھی دیکھ تھی، اب محض دوسوفٹ رہ گئی تھی-رسیوں سے بنایا گیا راستہ چندمیٹراوپرتک ہی واضح تھااور آگے دھند میں گم ہوجاتا تھا-تیز چلتی برفیلی ہوائیں اسے ادھر ادھر لڑھکانے کی کوشش کررہی تھیں - وہ وقت اپنے قدموں پےکھڑی،اسے لاش کی ماندممانند کھینچ رہی تھی - سخت پتھروں کی طرح کے اولے اسکے سرپرپڑرہےتھے-ہمالیہ کے پہاڑ اگر اس پرہنس بھی رہےتھے،تو اب وہ انہیں نہیں دیکھ سکتی تھی-
وہ افق کو گھسیٹتی نو دس میٹر نیچے لائی،پھر نڈھال سی ہو کر اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی-اس کی تو باقاعدہ سانس چڑھ گئی تھی اور اس میں مزید ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک چھے فٹ کے اونچے پورے مرد کو اس کے بھاری بھرکم کپڑوں سمیت کھینچ کر چند قدم بھی نیچے لے جاسکے-اسے یہ بھی علم نہیں تھاکہ اسے نیچے جانا ھے یا اوپر - دونوں جانب جانے والے راستے دھند اور بادلوں میں گم ہورہے تھے-کیمپ فور چند میٹر ہی اوپر تھا،مگر اوپر چڑھنا خودکشی تھا-کیمپ تھری خاصا نیچے تھااوروہ افق کو اتنا نیچے نہیں لے جاسکتی تھی -
اس کا دماغ سن ہو چکا تھا،کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ اس ظالم طوفان میں وہ کس پتھر سے پناہ مانگے،کس برفانی دیورکےپیچھےجاچھپے؟
سب کچھ جیسے کسی خواب کی سی کیفیت میں ہورہاتھا-ذہن ماوءف تھا،ٹانگوں سےقوت سلب تھی،بصارت چند میٹر تک محدود تھی - یاخدا، وہ کیا کرے؟
اس نے سر اٹھا کراوپر دیکھا - آسمان مکمل طورپر سفیدتھااورسفیدسفیدسےپتھرنیچےبرسارہاتھا-تیزہوایں ڈراؤنی آواز کے ساتھ چل رہی تھیں - اس نے گردن ادھر ادھر گما کر اپنے اعتراف میں دیکھا - وہ برف میں جس جگہ بیٹھی تھی، اس سے تھوڑی دور تک ہی اس کی بصارت کام کر ہی تھی،آگے سب کچھ دھند اور دبیز برف میں غائب ہوجاتاتھا - جہاں تک وہ دیکھ سکتی تھی، وہاں تک برف کا میدان تھا-ہر طرف سفیدبرف تھی - وہ کسی برف کے صحرا میں بیٹھی تھی، خس کی کوئی سرحدیں نہیں تھیں -دنیا جیسے ختم ہوچکی تھی - شب برف تھا،سفید اجلی برف-
اسکے اعصاب اب اس کا ساتھ چھوڑ نے لگے تھے - دماغ مفلوج ہوچکاتھا -
پھر اس نے افق کو دیکھا - وہ اس کے قریب برف پر پڑا کراہ رہا تھا-اس کی آنکھیں ادھ کھلی تھیں جیسے وہ نیم بےہوش ہو-پریشے کچھ بھی سن یا سمجھ نہیں پارہی تھی - شدید سردی اس کی ہڈیوں
188
میں گھس کر انہیں کھارہی تھی - انتہائی بلندی کےباعث اس کا ذہن اورجسم آپس میں مربوط نہیں ہورہے تھے - وہ بس متلاشی نگاہوں سےاردگرددیکھ رہی تھی - اسےآسمان سےپتھروں کی طرح گرتی ہوئی آفت سےبچاو کےلیے کچھ کرنا تھا - اس کی یاداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت گوکہ اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی، مگرلاشعوری قوت مدافعت بیدار تھی -
اس بلندی پر ذہن کوایک نقطے پرمرکوزکرنا،کچھ سوچنا بہت کٹھن تھا - اس نے بدقت تمام اپنا پیک بیگ کھولا،آئس ایکس (بیلچہ)snow shovel آئس اسکریوز اور کچھ رسی نکالی اور پھر افق کو وہیں برف میں رسی سے باندھنے لگی-اس کی کمر کے گردرسی باندھ کردائیں اور بائیں رسی کوآئس اسکریوز سے برف میں ٹھونک دیا یوں کہ اب وہ حرکت نہیں کرسکتا تھا - پھر اس نے ایک دفعہ اسکی حفاظتی رسیوں کی مظبوطی چیک کی اور تسلی کرکے نیچے اترنے لگی-
طوفانی جھکڑوں اور شدید قسم کی برفباری کے دوران اسے بمشکل تیس میٹر نیچے ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ برف کھود کر خیمہ لگا سکتی تھی - پھر جانے کتنی دیر وہ برف پر پھاوڑا مارتے ہوئے برف کھودتی رہی،برف کا پاؤڈر سا اس کے چہرے اور کپڑوں پر گرتا رہا،ٹانگیں منجمد ہونے لگیں - افق وہیں اوپر سخت سردی میں زخمی پڑا رہا،پریشے کے ہاتھوں سے جان نکلنے لگی مگر خیمہ لگ کے نہیں دے رہا تھا - طوفانی، ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہوا اسے ہر چند سیکنڈ میں گرادیتی اور وہ پھر سے کھڑی ہوتی - ایک چھوٹا سادو آدمیوں کا ٹینٹ اس نے کتنی مشکل سے اس برفانی ہوا میں لگایا، یہ صرف وہی جانتی تھی -
پھر وہ واپس گرتی پڑتی اوپر آئی - وہ اسی طرح برف اور پتھروں سے بندھا پڑا تھا - اس کی آنکھیں بند اور لب جامنی تھے - "افق،"اس پکارنے کے باوجود اس کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی-وہ تیزی سے اس کے قریب آئی تیز ہوا اسے کھڑابھی نہیں ہونے دے رہی تھی -
"افق!اٹھو اوراندرچلو-"اس کے کان کے قریب چیخنے پر اس نے آنکھیں کھولیں -پریشےنےاس کی رسیاں کھولیں، اسے دوبارہ خودسےباندھااورسہارادےکرنیچےلائی-وہ چلنے کے توقابل بھی نہیں تھا - غالبا"اس کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اورٹانگ میں آنے والازخم اتنا گہرا اورخون رساں تھا کہ خیمے کے فرش پر گرتے ہی وہ پھر سے کراہنے لگاتھا - وہ کبھی بھی درد سے کراہتا نہیں تھا-اب آگر کراہ رہا تھا تو یقینا"شدید زخمی تھا -
پریشے وہیں اس کے قریب دوزانو بیٹھ گئی-خیمے کی گول چھت پر برف مسلسل گر رہی تھی ۔

اورٹیکس میں لگے دو ہیٹ لائٹرز کے باعث اندر اور باہر کے درجہ حرارت میں خاصا فرق پڑجاتا تھا. سند گرمائش تھی .پھر بھی اس کے دانت بج رہے تھے اور ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی تھیں. وہ بیٹھے بیٹھے گھسٹ کر اس کے پاس آئی اور اپنا بیگ کھول کر فرش پر الٹ دیا پھر فرش پر پڑے سامان میں سے دستانے نکال کر افق کے ہاتھوں میں پہنائے . سلپینگ بیگ میں اسے دیا کیونکہ وہ اپنا سلپینگ بیگ پہلے ہئ اپنے سمیت گم کر چکا تھا اور پھر میڈیکل لٹ سے ضروری سامان نکال کر اس کا زخم دیکھنے لگی.
اس وقت اس کا تھکاوٹ اور سردی کے مارے برا حال تھا . دل چاہا رہا تھا. کہ فورا کمبل اوڑھ کر سو جائے مگر سامنے وہ شخص وہ لیٹا تھا جس سے اس کی سانسوں کی ڈور بندھی تھی . یہ وہ شخص تھا جس کے لیے وہ دو دن پیدل برف زراروں کو عبور کرکے آئی تھی جو اگر درد سے کراہتا تھا تو وہ درد پریشے کو اپنی روح میں لگتے محسوس ہوتے تھے. وہ سو نہیں سکتی تھی. جب تک وہ پر سکون نہ ہوجانا اسے چین نہیں آسکتا تھا.
اس کا زخم گہرا تھا . شاہد ہڈی فریکچر ہوگی تھی خون بھی بہہ رہا تھا . سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کسی حد تک کمی کے باعثوہ ٹھیک سے سمجھ نہ پا رہی تھی اور بمشکل پٹی کر رہی تھی. اس کی اپنی سانس بھی اکھڑ اکھڑ کر آرہی تھی. وہ "ڈیتھ زون" میں تھی اور اس کے جسم کے خلیوں کو اس بات کا علم ہو چکا تھا اس کے تمام خلیوں کو ٹھیک سے آکسیجن نہیں مل رہی تھی اور وہ اسے اس بات کا بخوبی احساس ہو رہا تھا چونکہ دماغ کو بھی آکسیجن نہیں نل رہی تھی سو اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا. اس کے پاس آکسیجن کینسٹر بھی نہیں تھے . بیس کیمپ میں جب اس نے افق سے آکسیجن رکھنے کی بات کئ تو اس نے لا پروائی سے انکار کر دیا تھا. میں نے بگ فائیو بغیر آکسیجن کے سر کیے ہیں کبھی کبھی دل کر ہے دیکھوں تو سہی کہ میرے پھپھڑے کتنا حوصلہ رکھتے ہیں.
اس کے پھپھڑے جیسے بھی ہوں وہ بہت حال کم آکسیجن کے عادی تھے مگر پریشے عادی نہیں تھی. اس نے اپنے طور پر کچھ آکسیجن ایمرجنسی صورت حال کے لیے رکھی بھی تھی مگر وہ لانا بھول گئ تھی. افق کے پاس ایک کینسٹر تو لازمی ہونا تھا مگر وہ اپنا بیگ کھو چکا تھا . یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑی ٹریجڈی بنتی جارہی تھیں.
زخم صاف کرکے اس کی پٹی تو کر دی مگر فریکچر کے بارے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی. اسے افق کو لازما بیس کیمپ لے لر جانا تھا. فریکچر ایسا تھا کہ سرجری ناگزیر تھی مگر وہ نیچے کیسے جائے. ؟
190
وہاں جانے کے تمام راستے مسند تھے.
افق کو اس نے دوبارہ سلپینگ بیگ پہنا دیا. زپ بند ہوتے ہئ اس کے یخ جسم کو گرمائش ملنے لگی اور اس کی نیم وا آنکھیں پوری بند ہوگئیں. وہ اسی پوزیشن میں آدھا بیٹھا آدھا لیٹ رہا.
پریشے کے پاس اب سلپینگ بیگ نہیں تھا صرف دو لائیز تھے جہنیں اپنے لپیٹ کر بھی وہ ٹھٹھر رہی تھی.
ٹوٹی ٹانگ اور گہرے زخم کے باوجود وہ کیسے پر سکون سو رہا تھا وہ اس کے قریب ہوئی ٹیک لگائے بوجھل ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھی گئی. اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ افق کو سیدھا کرے یا خود سیدھی ہو کر لیٹ جائے. وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئ.
نیند میں اسے عجیب عجیب خواب آتے رہے. آخری جو خواب آیا اس میں اس نے دیکھا کہ وہ خود احمت,افق,ارسہ,حبیب,نشا,مصعب,جاپانی ٹورسٹ, پاک فوج کے پائلٹس وہ سب کیمپ فور میں ایک ہئ خیمے میں دبکے بیٹھے خوش گپیاں کر رہے ہیں. خشک میوے گرم چائے ہاٹ چاکلیٹ سرو کی جا رہی ہے. شفالی بھی وہاں تھا اور اس کا اپنا ملزم وحید بھی. شفالی اور اس کی شکلیں بہت مل رہی تھیں.
کوئی اس کا گھٹنا جھنجھنوڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا. اس نے جھٹکے سے آنکھیں دین.
وہاں شفالی تھا نہ وحید نہ آرمی سب کچھ راکا پوشی کی لطیف ہوا میں تحلیل ہوا گیا تھا. وہ اپنے خیمے میں تھی اور اس کا گھٹنا ہلانے والا افق تہا.
ہاں.... کیا ؟پریشے کا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا. باہر طوفان کا شور اب بھی جارہی تھا. وہ کتنے گھنٹے بے خبر سوتی رہی اسے انداز نہیں تھا.
پانی دو.. ... گرم پانی. بہت دقت سے وہ آہستہ آہستہ یوں بولا جیسے بولنے سے اسے بہت تکلیف ہوتی ہو. وہ خیمے کی دیوار سے ٹیک لگائے ٹانگیں سیدھی پھیلائے بیٹھا تھا. دونوں کے درمیان پریشے کے تک سیک سے نکلنے والی اشیا کا ڈھیر تھا. وہ اس کی بات پر سر ہلاتے ہوے چیزیں سمٹینے لگی.
برفشار میں افق کے گم ہونے والے بیچ میں کھانے کا زیادہ تر سامان تھا اس کے پاس گیس آئس اسکریوز(برف میں لگائی جانے والی)پی ٹونز اور کچھ رسی تھی.
191
کے نام پراس کےبیگ میں بس ایک دن کا کھانا تھا جو ڈی ہائیڈریٹڈ تھا اور اس کی برف پگلانے اور اسے ری ہائیڈریٹ کرکے اصل حالت میں لانے کے لئے انہیں ایندھن کی بےحد ضرورت تھی، جو اس وقت محض دو سے تین دن کا رہ گیا تھا، وہ بھی صرف پانی بنانے کےلیے - دو سے تین دن کا دورانیہ کم ہوسکتا تھا اگر وہ کھانا گرم کرنے لگتی،سو اس کےلیے اب وہ تمام فوڈ سپلائی بےکار تھی - وہ گیس ضائع کرنا افورڈ نہیں کرسکتی تھی، کیونکہ اس بلندی پرانسان بغیر کچھ کھائے بھی ہفتہ بھر زندہ رہ سکتاہے، مگر پانی -
وہ بےرنگ مائع جو زمین پر صرف آب ہوتا ہے،پہاڑوں پر آب حیات ہوتا ہے-بغیر کچھ پیئے وہ چند گھنٹوں میں ہی مرجاتے - البتہ بھوک دونوں کو نہیں لگنی تھی، نہ ہی اس بلندی پرلگتی تھی - پریشے نےانتہائی بلندی پرکام کرنے والا اپنا سٹوو جلایا - چھوٹے سے پین میں برف توڑ کر ڈالی اور اسے پگلانے لگی-خیمے کی چھت پربرف مسلسل پڑرہی تھی مگر صد شکرکہ وہ اس زاویے سے نصب تھا کہ برفانی طوفان خیمہ اکھاڑ یا گرا نہیں سکتا تھا -
برف پانی بن گئی تو اس نے آخری چاکلیٹ سے ہاٹ چاکلیٹ بنائی-ہاٹ چاکلیٹ اور گرم چائے افق کو پلائی - خود صرف گرم پانی پر گزارا کیا - اپنے حصے کی چائے بھی وہ افق کو دے چکی تھی -
جسم کو کچھ گرم مائع ملا تو دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا-افق کی توانائی بھی قدرے بحال ہوئی تھی - اس کے چہرے پر شدید درد کے آثار رقم تھےمگر وہ اب کراہ نہیں رہا تھا بلکہ خیمے کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا - آنکھیں بند تھیں اور وہ دھیرے دھیرے کچھ گنگنا رہا تھا-یہ وہی گاناتھا جو اس کو اور بیس کیمپ میں ہنزہ وکثر لوگوں کو سنا رہا تھا اور کئی دن پہلے برستی بارش میں وائٹ پیلس کے وزیروں کو سنایا تھا -
we are Leyla
we are mecnun
اس کی آواز بے حد دھیمی تھی، مگر اس نے سن لی تھی - وہ جانتی تھی کہ وہ تکلیف اور دکھ میں ہمیشہ گنگنایا کرتا تھا -
"یہ لیلی کی تو سمجھ آتی ہے،مگر Mecnun کون ہے افق؟"
افق نے آنکھیں کھولیں جو بے حد سرخ ہورہی تھیں -
192
"مجنوں! "ایک لفظ کہہ کر اس نے آنکھیں موند لیں-"ارے!"اسے حیرت ہوئی، "یہ لیلی مجنوں ترکی میں بھی ہوتے ہیں؟""ہاں،مجنوں ترک بھی ہوسکتا ہے-"وہ دھیرے سے مسکرایا اور پھر بند آنکھوں سےوہی گنگنانے لگا-وی آر لیلی وی آر مجنوں-"یہ وہ پہلی نارمل بات تھی، جو دونوں نے طوفان میں پھنس جانےکے بعد کی تھی - یہ گرم پانی کا اثر تھا - آب حیات کا اثر -
افق کچھ دیر گنگناتا رہا،پھر خاموش ہوگیا، اب اس پر نقاہت تاری ہورہی تھی - پریشے اپنے ذہن کو مجتمع کرکے اس صورتحال کوسمجھنے لگی جس سے اسکا زندگی میں پہلی بار پالا پڑا تھا اور جب حالات سمجھ میں آنے لگے تو اس کا دل ڈوبنے لگا -
اس کا میٹر بتارہا تھا کہ وہ 7437میٹر بلندی پر سخت برفانی طوفان کے درمیان ایک خیمے میں پھنسی بیٹھی ہے-اس کے ساتھ ایک ایسا زخمی کوہ پیما ہے،جس کازخم نہ صرف اسے چند قدم چلنے سے معذور کرچکا ہے بلکہ زخم کے باعث اس کی ٹانگیں کم وقت میں فروسٹ بائٹ کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتی ہیں-اس کے ایک پاوں کی انگلیاں پہلے ہی فروسٹ بائٹ کا شکار ہوچکی تھی - پرانے زخم تو ویسے بھی فروسٹ بائٹ کے عمل کےدوران تیز ترین عامل یا عمل انگیز بن جایا کرتے ہیں-فروسٹ بائٹ کو صرف ایک عنصر روک سکتا تھا اور وہ تھا پانی - جسم میں پانی کی کمی کا مطلب تھا، فروسٹ بائٹ اور جسم میں پانی کی کمی،سطع سمندر سے انتہائی بلندی کا مطلب سیربرل ایڈیما یا پلمنری ایڈیما -اس وقت حالت یہ تھی کہ اسے جلدازجلد افق کو وہاں سے نکالنا تھا - اس کے پاس تقریبا"80میٹر رسی تھی اور اسے کئی ہزار میٹر نیچے اترنا تھا - (بیس کیمپ 3400میٹر پر تھا )اگر وہ جلد ہی افق کو وہاں سے نہیں نکالتی تو وہ مر بھی سکتا تھا - اسے جلد کچھ سوچنا تھا، کچھ کرنا تھا -
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
اوپر جانے اور چوٹی سر کرنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا - افق کی مخصوص اور خالصتا"کوہ پیماوں والی ضد کے باعث وہ turn around time کا انتخاب وہ کھوچکے تھے -
کوہ پیمائی میں ایک ٹرن ارونڈ ٹائم ہوتا ہے،پیچھے مڑنے کا وقت - پہاڑوں پر موسم ہر پل بدلتا ہے-کوہ پیما تعین کرتے ہیں کہ اگر آج اتنے بجے تک ہم نے یہ چوٹی سر کرلی تو ٹھیک، ورنہ اتنے بجے تک ہم جہاں بھی ہوئے، واپس مڑجائیں گے-کوہ پیما عموما"نہ پلٹنے کی غلطی کرتے ہیں - غلطی افق ارسلان نے بھی کی کہ وہ بہرحال کوئی افسانوی کردار نہیں، ایک جیتا جاگتا انسان تھا -
193
اب انہیں راکاپوشی کے نا قابل تسخیر رج کو نا قابل تسخیر ہی چھوڑ کر واپس جانا تھا اور واپس جانے کے لیے طوفان کا رکنا ضروری تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. وہ جا سکتے تھے نہ اور نہ ہی یہاں بیٹھے رہ سکتے تھے. خدایا! وہ کیا کرے؟
بڑی دیر بعد وہ ایک نتیجہ پر پہنچی . اس نے ٹراٹسیور نکال کر احمت سے رابطہ کیا اور بنا کسی تمہید کے کہنے لگی. "احمت ...... احمت افق زخمی ہے ہم کیمپ تھری اور کیمپ فور کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں. باہر سخت طوفان ہے ہمیں ہر حال میں نیچے اترانا ہے. بتاو میں کیا کروں ؟؟
افق زخمی ہے؟ اسے کیا ہوا؟حسب توقع وہ پریشان ہوگیا.
صبح برفشار آیا تھا. افق کی رسی ٹوٹ گئی اور وہ چالیس میٹر نیچے گرا . ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہوئی اور چوٹیں بھی شدید ہیں. " سخت سردی کے باعثاس کے بجتے دانت اسے بولنے نہیں دے رہے تھے.
"اوہ تم یوں کرو اس کے فریکچر کو..... "
فارگاڈسیک احمت! میں ڈاکٹر ہوں. مجھے اس کے فریکچر کے ساتھ کیا کرنا ہے. تم مشورے اپنے پاس رکھو. مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے. اس نے ایک دم غصہ سے بات کاٹی .پل بھر کو احمت خاموش سا رہ گیا. اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.
آئی ایم سوری احمت.... میں بہت پریشان ہوں.... پلیز ناراض مت ہونا.. "وہ روہانسی ٹولی.
ریلیکس پریشے !جب طوفان رکے تو تم نیچے اتر آنا.... اس طرح پریشان ہونے سے تمہارے اعصاب پر برا اثر پڑے گا. خود کو پر سکون رکھو. "
میں خود کو پر سکون نہیں رکھ سکتی احمت! ہماری پوزیشن بہت خراب ہے. افق شدید زخمی ہے. اسے شدید درد ہو رہا ہے. "احمت سے بات کرتے ہوئے اس نے ایک نظر افق پر ڈالی جو آنکھیں موندے شدت ضبط سے لب سختی سے ایک دوسرے میں کیے بیٹھا تھا.
"تم اس کو پین کلر دو.. "
"مگر اس کی ٹانگ کام نہیں کر رہی. وہ چل نہیں سکتا. تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے؟"
ڈپریشن پھر سے غصے میں ڈھلنے لگا.
194
دفعتا افق نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس کا گھٹنا پکایا. پریشے نے اسے بولتے تک کر اسے دیکھا.
"انقرہ کال کور... جبنیک کو.. اس سے ویدر کنڈیشن پوچھو. وہ نقاہت بارے آہستہ آہستہ بول رہا تھا. پریشے نے سمجھ کر سر ہلایا اور ریڈیو میں بولی.
احمت.....! انقرہ کال کرو جنینیک کو اور اس سے ویدرکنڈیشن کے بارے میں...
افق نے جھنجھلا کر نفی میں سر ہلایا:"احمت نہیں تم پوچھو پری! "
میں؟میں کیسے پوچھوں؟
"سٹیلائٹ فون تھا تمہارے پاس. "
وہ ہوں... احمت میں تم سے پھر بات کرتی ہوں. آوٹ. اس نے ٹرانسیو بند کیا اور جھٹ بیگ سے سٹیلائٹ فون نکال کر اسے تھمایا.
وہ خود ہئ کتنی دیر کسی سے بات کرتا رہا. تھکا تھکا لہجہ نقاہت اور پثرمردگی سے آنکھیں موندے وہ یقیناً شدید کرب کے عالم میں تھا
"ویدر کلئیرنس کا امکان اگلے اڑتالیس گھنٹے تک کوئی نہیں ہے. خدایا. فوں بند کر کے اس نے پریشے کو تھمایا.
وہ دو دن اس سردی اور موسم میں گزارا کر لیتی مگر افق..... اس نے پھر سے احمت بات کی اور اسے تمام حالات سمجھائے
"اب کچھ کرو احمت! ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہے. "
"میں کچھ کرتا ہوں تم فکر نہ کرو. "
"کیسے فکر نہ کروں؟وہ....مر جائے گا احمت..... خدا کے لیے کچھ کرو وہ مت جائے گا. "شدت بے بسی سے اسے رونا آگیا.
"میں کیا کروں ؟اس کے رونا ہر وہ بوکھلا سا گیا",اس بیس کیمپ میں میرے اور ایک دوست کے علاوہ کوئی نہیں ہے. بتاؤں میں کیا کروں. "
"کسی بھی اتھارٹی سے بات کرو کہ وہ ہمیں یہاں ریسکیو کریم. الپائن کلن پاکستان سے کہو نذیر صانع سے کہو منسٹری آف ٹورازم سے کہو کسی سے بھی کہو خدا کے لیے
"میں کچھ کرتا ہوں. تم میری کال کا انتظار کرو. احمت نے کہا اور سلسلہ منقطع ہوگیا ۔
195
پریشے کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے احمت کو کال کی
احمت سنو تم پاکستانی آرمی سے بات کرو۔ان سے کہو کہ کلائمرز کو evacuate کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیجیں۔
دوسری جانب تھوڑی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی ۔
ڈاکٹر پریشے کیا سطح سمندر کی انتہائی اونچائی پر انسانی دماغ خراب ہو جاتا ہے ۔؟
کیوں کیا غلط کہا میں نے؟
سنو میری بات دنیا میں کوئی ایسا پائلٹ پیدا نہیں ہوا جو
تمہیں سات ہزار میڑ بلندی سے ریسکیو کر سکے۔اس سے پہلے کہ تماری ہمت انرجی جواب دے جائے تم نیچے آنے کی کوشش کرو۔یہی تمارے مسلے کا حل ہے ۔
استاد مت بنو آرمی سے بات کرو
اس نے ریڈیو رکھ دیا اور افق کو دیکھا جو سر جھکائے اسے بیٹھا تھا جیسے ہمت ہار چکا ہے
افق، پریشے نے دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے گردن اٹھائی کیا درد ہو رہا ہے ؟
اس نے آہستہ سے گردن کو نفی میں جنبش دی نہیں درد نہیں ہے مگر اس درد جتنا ہو رہا تھا آنکھوں میں تحریر تھا
کیا تم نیچے اتر سکتے ہو کن از کم کیمپ تھری تک؟ اس نے بہت پیار سے پوچھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا
چند میڑ بھی نہیں؟
اس ٹانگ کے ساتھ بہت مشکل ہے وہ سمجھ سکتی تھی ۔
اچھا اس ٹینٹ میں جیتا ہو سکے اپنے ہاتھ پیر ہلاتے رہو تا کہ جسم گرم رہے ٹھنڈ سے بھی بچ سکو خود بھی یہی کر رہی تھی مگر افق وہی بیٹھا رہا
196
پھر کتنی دیر گزر گئی احمت نے کوئی رابطہ نہیں کیا طوفان اسی طرح راکاپوشی کو لپیٹ میں لیے ہوئے تھا ۔باہر اولے پڑنے کا شور سنائی دے رہا تھا ۔پریشے نے کھڑکی سے جھانکا باہر مکمل وائٹ آوٹ تھا رات کٹ ہی نہیں رہی تھی ۔ہر لمہ صدیوں بھاری لگ رہا تھا دونوں بغیر کوئی بات کیے بیٹھے تھے ۔پریشے کو احمت کی  کال کا انتظار تھا ۔وہ رابطہ کر رہا ہو گا خود کو تسلیاں دے رہی تھی ساتھ جو زبانی سورتیں یاد تھی پڑھ رہی تھی طوفان نے تھما وہ کوئی شہر میں آنے والا طوفان نہیں تھا وہ ہمالیہ کا برفانی طوفان جودن رات رہنے والا ہے
اچانک ریڈیو میں شور پیدا ہوا وہ اس کی جانب لپکی
ہیلو احمت وہ بے تابی سے بولی
ہوں ڈاکٹر میں نے بات کی انہوں نے تمہارے منسٹر سے بات کی
پھر؟
وہ کہہ رہا تھا آرمی سے بات کر کے ۔۔۔۔۔۔
کب کرے گا بات پیپلز احمت تم خود کرو بات مجھے ان پر بھروسہ نہیں ہے ۔
تم میری پوری بات کیوں نہیں سن رہی میں ادھر کوئی جھک نہیں مار رہا
اپنا منہ بند رکھو اور سنو میں  نے پائلٹس سوئس سے رابطہ کیا مگر ان کی فلائٹ پر پرابلم ہے ۔چار دن لگ سکتے
مگر افق کے پہ پاس تین دن سوری تم بات مکمل کرو
تم بھی نا اچھا سنو سوئس کا انا مشکل ہے مگر تمارے مارن منسٹر نے پاکستان سے رابطہ کیا میں اتنی دیر میں آرمی والوں ککال کا انتظار کر رہا تھا ابھی دس منٹ پہلے
197
میری بات ہوئی انہوں نے تمارے ریڈیو کی  فریکونیسی پوچھی ہے تمارے کپڑوں کا رنگ وغیرہ اور یہ تم  انگیزی بول سکتی ہو یا نہیں  میں نے کہا بول سکتی ہے  ٹھیک کہا نا؟
تو میں تم سے فرنچ میں بات کر رہی ہوں کیا۔
نہیں وہ تماری آررمی ہے تم اپنی زبان میں بھی بات کر سکتی ہو۔
اچھا وہ کب آئیں گے اس نے بے قراری سے پوچھا
ائیں گے کیا مطلب وہ ابھی تم سے رابطہ کریں گے ہر کام آرام سے ہوتا ہے ڈاکٹر۔
اس نے ریڈیو بند کر کے افق کو دیکھا وہ مسکرا دیا اس کی مسکراہٹ میں تھکان اداسی تھی ۔
وہ ابھی آ جائیں گے تمہیں بس جند قدم چل کر ہیلی کاپٹر تک جانا ہوگا ۔چل لو گے نا اس نے افق کا ہاتھ تھپتھپا ۔
چل لو گا اگر وہ آئے تو
وہ ضرور آئیں گے تم اداس مت ہو وہ اس کے ساتھ خود کو بھی تسلی دے رہی تھی ۔پھر آنکھیں موند لی
رات شور غل میں وہ چند گھنٹے سو پائی اس  کے ریڈیو کی آواز آئی اس نے آنکھ کھولی اس کی ٹانگ یخ ہو رہی تھی بمشکل ریڈیو ریڈیو کان سے لگایا ۔
کم ان ایکسپڈیشن ٹیم آواز تھی یا نئ زندگی کی نوید
آئی ایم ہیر سر اس نے ریڈیو کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔
ڈاکٹر پریشے جہاں زیب آر افق ارسلان؟ بھاری رب دار آواز میں پوچھا
پریشے جہاں زیب
دس از کرنل فاروق ڈاکٹر جہان زیب
صفحہ نمبر198
"آئی نو,سر!" وہ خوشی سے بولی-وہ یقیننا انہیں بچانے آ رہے تھے اور ہیلی کاپٹر میں سے قبل اس کو اپنی آمد سے آگاہ کرنے والے تھے,اس نے سوچا-
"اوکے گیو می یور اسٹیٹس,پریشے"
ہم نے ایک ٹینٹ پچ کر رکھا ہے جس کا رنگ اورنج ہے ,یہ کیمپ تھری سے خاصہ اوپر ہے-وہ اب اردو بولنے لگی تھی-
"اور بیٹا,آپ کے کپڑوں کا رنگ-"
"میں نے پنک اور لائٹ گرین جیکٹ پہن رکھی ہے-میرے ساتھی کی گرے جیکٹ اور ریﮈیشن براون ٹراوزر ہے-سر پر یلو ہیلمٹ ہے,اوررر" یہ اتنا رنگ برنگا ہلیہ صرف برف میں واضح نظر آنے کے لیے تھا-
اوکے اب مجھے اپنی لوکیشن دیں,ٹھیک ٹھیک-پہاڑ کی ﮈھلان اور فیس کا اینگل بتائیں- وہ بتانے لگی,پھر وہ بولے ,"اوکے,اب آپ میری بات غور سے سنیں,ہم جلد ہی آپ کو لینے آ جائیں گے-"
اسے لگا اس نے غلط سنا ہے,"آجائیں گے?آپ کا مطلب ہے آپ آ نہی رہے?"
"طوفان بہت شدید ہے ﮈاکڑر پریشے-وزیبلیٹی نہی ہے-"
"ےو جب طوفان روکے گا تب تو آپ آ جائیں گے نہ?"وہ کسی امید کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی تھی-
جی بلکل,اب آپ بتائیں-تقریبنا کیا بلندی ہوگی آپکی?اس نے فورأ میٹر دیکھا-
7437 میٹر
دوسری جانب چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی پھر ریﮈیو سے آواز آئی-
"تو پھر آپ یوں کریں کہ کم از کم ساڑھے انیس ہزار تک آ جائیں-"
"میں ساڑھے سات ہزار پر ہوں,گپ انیس ہزار کی بات کر رہے ہیں-میری سمجھ میں نہی آ رہا-"اب اسے کفت ہونے لگی-
"میﮈم!اپ انیس ہزار فٹ تک ﮈیسنﮈ کر لیں"
"فا گاﮈ سیک کرنل فاروق مجھے میٹرز میں بتائیں-وہ جھنجھلائی-
"اوکے,ھپ تقریبا چھے ہزار میٹر تک نیچے اتر آئیں-"
199نمبر
پریشے کا دماغ بھک سے اڑ گیا.
"کرنل صاحب !میرا ساتھی شدید زخمی ہے. اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے. اس سے ڈیڑھ انچ نہیں چلا جاتا اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں ایک زخمی کو لر ڈیڑھ ہزار میٹر نیچے اتروں؟آر یو آوٹ یور مائنڈ!؟اس کا ضبط جواب سے گیا تھا.
دیکھیں پریشے چھے سوا چھے ہزار میٹر سے اوپر دنیا کا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں آسکتا . ہم آپکو اس صورت ریسکیو کر سکتے ہیں کہ طوفان رک جائے اور آپ ڈیسنڈ کر لیں.
مگر میرا ساتھی زخمی ہے. وہ نہیں چل سکتا. اوپر آپ آ نہیں سکتے. نیچے میں نہیں جا سکتی میں کروں تو کیا کروں ؟
افق نے اس کے ہاتھ پر ہولے سے اپنا ہاتھ اسے اپنا غصہ دبانے کا اشارہ کیا مگر وہ شدید پریشان ہو رہی تھی.
"طوفان تھم جاے تو آپ کوشش کریں. "
کرنل صاحب کا لہجہ اتنا پر سکون اور ٹھنڈا تھا کہ پریشے کو لگا وہ اس کے معاملے میں دلچسپی نہیں لے رہے.
سنگین لہو میں کوشش کرتی ہوں اور ڈیسنڈ کرکے آپ کو بتاتی ہوں. افق کی ہدایت پر اس نے یہ کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا اور ریڈیو فرش پر رکھ کر اسے دیکھا.
"عجیب بے حس لوگ ہیں کوئی اور مر رہا ہے اور انہوں نے رٹ لگا رکھی ہے کہ نہیں سکتے ہیں. وہ بڑبڑائی.
وہ واقعی نہیں آ سکتے وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں. میں جانتا تھا وہ نہیں آئیں گے میری پوری زندگی ہمالیہ میں گزری ہے اس لیے تمہیں کہا تھا وہ آئے تا میں طل لوں گا چھ ہزار سے اوپر ہوا اور دھند اتنی شدید ہوتی ہے کہ ہیلی کاپٹر وہاں نہیں آسکتا. وہ آہستگی سے کہتا اسے سمجھ نے کی کوشش کر رہا تھا.
"تو پھر ہم نیچے کیسے اتریں؟میں کیا کروں ؟ وہ بے حد پریشان تھی.
وہ کتنی دیر اسے چپ چاپ دیکھتا رہا پھر بالاآخر چند قدم گھسٹ کر اس کے نزدیک آیا اور اس کے مثل بیٹھ کر اس کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنا لگا. میری بات غور سے سنو اور جو میں کہوں ویسے ہی کرو. تمہیں یاد ہے پری! میں نے تمہیں ایک دفعہ بتایا تھا کہ میری ماں بہت بہادر ہے. "
200
وہ سمجھی تھی افق اسے نیچے اترنا کے کسی منصوبے اور حکمت علمی کے متعلق بتائے گا مگر وہ نہایت غیر متعلقہ بات کر رہا تھا.
"ہوں مجھے یاد ہے مگر اس وقت. "
"میری ماں بہت بہادر ہے پری اس نے اپنے تین جوان بیٹوں کی موت کا غم سہا ہے ان کے بیٹوں کے بعد ان کے بچے اس کے پاس ہیں اور وہ ان میں بہت خوش اور مگن ہے. "
" وہ تو ٹھیک ہے افق مگر کرنل صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ....."
"یقین کرو پری! میرے ماں باپ کے پاس دوسری بہت سی مصروفیات ہیں. وہ خود کو ان سب جھمیلوں میں گم لر سکتے ہیں اور ان کے لیے یہ سب مشکل نہیں ہوگا.
اس نے جیسے پریشے کئ بات سنی ہی نہیں تھی اور پتا نہیں کون سے قصے لے کر بیٹھ گیا وہ الجھنے لگی. وہ کہہ رہا تھا . تمہاری نومبر میں شادی ہے. تمہیں اس کی تیاری کرنی ہوگی. تمہاری پھپھو تم سے بہت پیار کرتی ہے. تمہارے پاپا بھی تو ہے ناں ان کے لیے ایک واحد راشتہ تم ہو پری! میری ماں باپ کی اور بات ہے. "وہ رک رک کر ٹھہر ٹھہر کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا.
میرے ماں باپ عادی ہو چکے ہیں. ان کے دو بیٹے اور بھی ہیں مگر تم اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہو. ایک دم پریشے کے لاشعور میں خطرے کا الارم بجا.
تم.... تم کھل کر بات کرو افق.
پری یہ سب صرف اور صرف میری وجہ سے ہوا ہے. میں تمہیں اس جگہ پھنسانے نہیں دوں گا .کیوں کہ میں جلدی ٹرن اراؤنڈ نہیں کیا. ورنہ اس وقت تم بیس کیمپ میں ہوتی وہ پلک جھپکے بغیر اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا.
نہیں افق میں خود... تم تم کیا کہنا چاہ رہے ہو؟؟ اس طرح بات کیوں کر رہے ہو. کرنل فاروق نے کہا ہے کہ جیسے ہی ڈیڑھ ہزار میٹر ڈیسنڈ کریں گے وہ ہمیں لینے خود آئے گے خود کہا تھا انہوں نے میں کوشش کرتی ہوں. اس نے اسے یاد دلسا.
افق نے اثبات میں سر ہلا دیا میں نے ٹھیک کہا تھا. تم کوشش کرکے ڈیسنڈ کر سکتی ہو.
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جس پر وہ بری طرح چونکی تم؟کیا مطلب ہے تمہارا ؟ اسے اب کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا تھا.
201
پری تم نیچے جا سکتی ہو تم نیچے چلی جاؤ۔افق پریشے نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑایا ۔
خدا کے لیے پری جزباتی مت بنو۔میری وجہ سے خود کو خطرے میں مت ڈالو۔تم نیچے چلی جاؤ پلیز۔
وہ سناٹے میں رہ گئی ۔
افق تم یہ چاہتے ہو میں تمہیں اس برفانی طوفان میں اکیلا چھوڑ کر چلی جاؤں ۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
ہاں تم چلی جاؤ وہ اوپر کبھی نہیں ائیں گے  چھ ہزار میڑ پر تم جاؤ میری فکر مت کرو وہ تھکے لہجے میں بول کر پیچھے بیٹھ گیا ۔
تمہیں چھوڑ کر اس ٹینٹ میں چھوڑ کر وہ بے یقین تھی
میں نیچے نہیں جا، سکتا پری کبھی بھی نہیں میں جانتا ہوں میں ادھر مر جاؤں گا اگر تم رہی تو تم بھی مر جاؤ گی۔تمارے پیچھے بہت لوگ ہیں جو تمارے بغیر نہیں رہ پائیں گے تمارے باپ کے بچے نہیں ہیں ۔پری میرے لیے اپنی اور سب کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالو۔تم بہت لوگوں کی زندگی ہو میرا کیا ہے میں تو کوہ پیما ہوں مجھے ازل سے پتہ تھا میری موت پہاڑوں میں آنی ہے ۔میں نے ہمالیہ میں ہی مرنا ہے میرا کیا ہے پریشے میرا رونے والا کوئی نہیں ہے ۔
اس نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا اس نے چھڑا ریا۔
تم کیا سمجھتے ہو مجھے میں اتنی خود غرض اور بے حس ہوں کے تمیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی ۔تم مجھے سمجھتے ہی نہیں کیا سمجھو گے مجھے ۔اس کی آواز میں رونا تھا۔کیا سمجھ کر تم نے مجھے یہ سب کہا۔تمیں لگتا ہے تمارے کہنے سے چھوڑ کر چلی جاؤں گی اتنی بری ہوں میں ۔
پاگل مت بنو خدا کے لیے چلی جاؤ ورنہ تمارے باپ کو تماری لاش بھی نہیں ملے گی ۔سب میری غلطی تھی میں تمہیں پہاڑوں میں لایا تھا ۔پھر برفشار کے بعد تم نے میری جان بچائی میری پٹی کر دی بہت شکریہ
اس سے زیادہ تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکتی میں جانتا ہوں
202
میں مر جاؤں گا کبھی بھی نیچے نہیں جا سکوں گا ۔میں ہمالیہ سے جڑا ہوں مجھے یہی مرنا ہے میں یہی خوش ہوں ۔وہ تھک کر گہری سانس لینے لگا۔
میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں تمہیں لگتا ہے زندہ رہ لو گی۔کتنی آسانی سے سب کہہ ڈالا ہے جیسے دونوں کے بیچ کوئی تعلق حثیت نہیں رکھتا ۔
تم رہ لو گی تمارے پاس بہت رشتے ہیں تم چند ماہ میں ہی مجھے بھلا دو گی۔بہت سے کلا ئمبنگ پارٹنر مہموں کے دوران ہی مر جاتے ہیں
سو واٹ؟  کلائمبنگ پارٹنر ؟؟؟کیا یہی ہوں میں تماری؟؟؟
افق نے نقاہت بھرے انداز میں اسے دیکھا تم چلی جاؤ پری اسلام آباد پنجاب جہاں سے آئی ہو واپس چلی جاؤ
ہاں ایک بار ترکی ضرور جانا ڈاؤن ٹاون میں میرا گھر ہے حسن حسین ارسلان کا گھر وہاں میری ماں سے ضرور مل لینا۔اسے بتانا اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا بس راکاشی کے پہاڑوں سے لڑ نہیں سکا اس نے ہار مان لی ۔
پریشے نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تم کیا سمجھتے ہو مجھے یہاں سے بھیج کر قربانی کی مثال پیش کرو گے ۔
تمارے لیے قراقرم محل تعمیر کروایا جائے گا۔تماری بہادری کے قصے سنائے جائیں گے ۔یوں چپ کر کے موت کا انتظار کرنا بہادری نہیں بزدلی ہے ۔ایسے تو ڈر کے چوہا بھی نہیں بیٹھتا تم چوہے سے بھی بزدل نکلے۔۔۔تم تو ۔۔۔۔۔۔
چاٹخ کی آواز کے ساتھ زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔
ایک لمحے کے لئے آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔
شٹ اپ جسٹ  شٹ دی ہیل اپ
دفع ہوجاؤ تم یہاں سے مجھے تماری شکل سے نفرت ہے نہیں چاہئے ہمدردی مدد تماری نکل جاؤ یہاں سے وہ بھی ایسے ہی چلی گئیں تھی سب ایک سی ہوتی ہو تم لوگ۔۔۔
203
وہ زور زور سے چلاتےہوئے اسے وہاں سے نکل جانے کو کہہ رہا تھااور اپنے بائیں رخسار پے ہاتھ رکھے وہ سن سی ہو کراسے دیکھ رہی تھی - یقینا"اس کی آنکھوں نے غلط دیکھا تھا، اس کے گال نے تھپڑ محسوس کیا تھا -
"تم نے.......مجھے تھپڑ مارا؟"اس نے بےیقینی سے اپنا ہاتھ رخسار سے ہٹا کر دیکھا جیسے اس پر افق کے ہاتھ کا نشان ہو اور اسے دوبارہ گال پر رکھا-اسے یقین نہیں آرہا تھا -
افق نے اسے تھپڑ مارا؟ افق نے؟وہ بھی اتنے زور سے-اس کا پورا دماغ گھوم گیا؟وہ اتنا طاقتور تھپڑ افق نے مارا؟واقعی؟
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور باہر نکل گئی-
خیمے کے باہر برفانی طوفان اسی طرح جاری تھا - سرد طوفانی ہوا اس کے باہر نکلتے ہی اسے ادھر ادھر لڑھکانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ مظبوطی سے خیمے کے دروازے دو گز دور ،بازو سینے ہے باندھے کھڑی سامنے دیکھتی رہی -
صبح صادق کا وقت تھا - سورج کہیں سے بھی دیکھائی نہ دیتا تھا ، کیونکہ آسمان پر سیاہ بادلوں اور ان سے نیچے برفانی طوفان کا راج تھا - روشنی صرف اتنی تھی کے وہ شدید دھند میں محض پچاس میٹر تک دیکھ سکتی تھی - برف ابھی تک گررہی تھی، مگر رات کی طرح کا شدید وآئٹ آوٹ نہیں تھا -
کتنی دیر وہ برف میں ہاتھ باندھے اسی طرح، ساکت پتلیوں سے پلکیں جھپکے بغیر سامنے دیکھتی رہی،جیسے دھند، برف باری اور طوفان میں کوئی جیتی جاگتی ممی کھڑی ہو-اس کی ٹوپی ہوا کے باعث اڑ کر دو گز دور گرگئی - ہر پل گرتی برف اسے سفید کرتی رہی ، مگر وہ اسی طرح کھڑی دھند میں دیکھتی رہی-دفعتا"اس کے عقب میں دھیمی آہٹ ہوئی -
بہت مشکل اور شدید تکلیف کے عالم میں وہ ski poleکا سہارا لئے چل کر باہر آرہا تھا - اس سے اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اور طوفانی ہواؤں کی چنگھاڑتی آواز کے باوجود اس کی ہر قدم رکھنے کے ساتھ لبوں سے نکلنے والی کراہیں سنائی دے رہی تھیں - وہ بمشکل چلتا ، لنگڑاتا اس کے قریب آیا مگر پریشے گردن کو جنبش دیئے بغیر سامنے دیکھتی رہی - اسے گال پر افق کے طمانچے کی حرارت اور درد ابھی تک محسوس ہورہا تھا -
چندلمحےوہ کچھ کہے بغیر اسے دیکھتا رہا، پھر اس کی نگاہیں پریشے کے چہرے سے پھسلتی اس کے اڑتے بالوں پر جا ٹھہریں - اس نے اردگرد متلاشی نگاہیں دوڑا کر کچھ ڈھونڈنا چاہا،پھر جس

204
طرف ٹوپی گری تھی،اس طرف بڑھنے لگا-
پریشے نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو لنگڑاتے ہوئے، بدقت ایک ٹانگ پر زور ڈالے چل کر ٹوپی کے قریب آگیا - اس نے جھک کر ٹوپی اٹھائی، اس پر لگی برف جھاڑی اور اسے لے کے واپس پریشے کےقریب آنے لگا - تب اس نے محسوس کیاکہ وہ دایاں پاؤں قدرے ٹیڑھا کرکے رکھ رہا تھا جیسے اس میں بہت تکلیف ہو-
"اسے پہن لو-"اس نے ٹوپی اس کی جانب بڑھائی -
اس نے چپ چاپ ٹوپی تھام کر سر پر پہن لی اور پھر گھنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا ، "اگر تمہیں لگتاہے کہ مجھے تھپڑ مارکر، مجھ پر چیخ چلا کر ، مجھے خود سے متنفر کرکے تم مجھے یہاں سے جانے پر مجبور کردو گے تو تم غلط ہو-میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاوں گی -میں حنادے نہیں ہوں افق میں پریشے ہوں-"
افق نے خاموشی سے سر کو اثبات میں ہلایا -
"اب چلو اندر-"اس نے ڈپٹا - وہ سر جھکائے اس کے آگے چلتا ہوا اندر خیمے میں داخل ہوا-
بیٹھو اوراب اپنا جوتا اتار کر مجھے اپنا پاؤں دیکھاو -"وہ دیوار سے ٹیک لگا کر ٹانگیں سیدھی پھیلائے بیٹھ گیا تو وہ تحکم سے بولی-kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

میرا پاوں ٹھیک ہے-اسے کچھ نہیں ہوا-"افق نے فورا"اپنا دایاں پاؤں دور ہٹایا -
"میں نے جو کہا ہے،جوگر اتارو-"
"مگر میں تھک گیا ہوں ڈاکٹر -"اس نے جوتے پر یوں ہاتھ رکھ دیا جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنی غلطی چھپانے کی کوشش کرتاہے -
"یہ فیصلہ کرنے والی میں ہوں کہ تم ٹھیک ہو یا غلط-مجھ سے بحث مت کرو اور جوگر اتارو-"
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"میں کہہ جو رہا ہوں کہ میرا پاوں ٹھیک. .........."
اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر پریشے نے اس کے چہرے پے زوردار تھپڑ مارا -
"پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہی ہوں - مجھے اپنے سامنے بڑبڑاتے ہوئے مریض زہر لگتے ہیں-ڈاکٹر کے سامنے خاموش رہا کرو-اب اتارواپناجوتا -"
افق نے حیرت اور بے یقینی سے ہاتھ سے رخسار کو ہو لے سے چھوا، جیسے کچھ محسوس کرنے کی کوشش
105
کر رہا ہو۔پھر اس کے تاثرات حیرت سے مدھم مسکراہٹ میں بدل گئے ۔اس نے خاموشی سے سر جھکائے مسکراتے ہوئے جوگر کا تسمہ کھولا۔پریشے نے جیسے کہیں کچھ برابر کر دیا تھا ۔
اس کے پاؤں کا انگوٹھا زخمی تھا ناخن ٹوٹ چکا تھا ۔خون جما ہوا تھا ۔ناخن کے نیچے والی جگہ وہ اس لیے پریشان تھی افق نے اسے بتایا نہیں ۔
مجھے سے یہ زخم چھپاتے ہوئے شرم نہیں آئی۔اس کا زخم صاف کرتے ہوئے طنز کیا۔
بالکل نہیں آئی اس نے معصومیت سے جواب دیا۔
اب پہن لو جرابیں اس نے پٹی کر کے بولا وہ آرام سے جرابیں پہن کر تسمے بندھنے لگا اس کے لبوں پر اداس مسکان تھی ۔
ہمیں ہر حال میں نیچے کا سفر آج ہی شروع کرنا ہے ۔دعا کرو آج طوفان کا زور ٹوٹے اور سورج نکل آئے۔پھر برف باری بھی ہوئی تو ہم ڈسینڈکر لیں گے ۔چولہے پر برف پگھلا کر پانی گرم اچھا افق کے برتن میں ڈالا آدھا خود تھام لیا۔
میں جانتی ہوں تمارا ذخم گہرا ہے مگر ہمت کرنی ہو گی اپنے لیے نہ سہی میرے لیے کرو گے نا افق؟؟
گھونٹ گھونٹ پانی پیتے افق نے اثبات میں سر ہلایا۔
پریشے نے آخری پادر با اس کی طرف بڑھایا کھا لو۔
کھا لو طاقت ملے گی وہ خاموشی سے کھانے لگا۔
پریشے نے گیس کی مقدار چک کرتے ہوئے کہا بس دو دن کی بچی ہے گیس۔وہ بھی پانی بنانے کے لیے ان کو ہر آدھے گھنٹے بعد گرم پانی کی ضرورت پڑتی تھی ۔ساڈھے سات ہزار میڑ دو گھونٹ گرم چائے تھوڑی سی گیس زندگی اور موت کے درمیان فرق کرتے تھے ۔
پاور بار ختم کر کے جانے کب وہ بیٹھے بیٹھے سو گیا ۔پریشے کو پتہ بھی نہیں چلا۔جب وہ اپنے خیال سے باہر نکلی اسے انگھتے دیکھا کتنا کمزور لگ رہا تھا زردی نما سفید چہرہ
106
اس کا سرخ سہنری پن رنگت آج میں نظر نہیں آ رہی تھی ۔
باہر طوفان کا شور وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔نیند میں کبھی وہ ہلکا سا کھانس دیتا۔
اسے افق پر  بہت ترس آ رہا تھا ۔اس کی ٹانگ یقیناً اتنی دکھ رہی تھی۔اس کا عزم حوصلہ ہمت جواب دے گیاتھا۔اسے علم ہو چکا تھا کہ وہ مر جائے گا لیکن مرتے مرتے بھی وہ اپنی سانس اسے دینا چاہتا تھا ۔اسے وہاں سے بھیجنا چاہتا تھا ۔وہ اسے لفظوں میں نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ خیمے میں زندگی بچانے نہیں بیٹھی تھی ۔جو اس کے سامنے سویا ہوا تھا وہ اس کی زندگی تھا ۔بعض لوگوں کی زندگی اتنی ہمیں اہم ہوتی ان کے بغیر رہ نہیں جا سکتا ۔ان کے بغیر بس مرا جا سکتا ہے ۔
اسے افق سے پہلی نظر کی محبت ہوئی تھی وہ شاید اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا پری نے اسے کتنا ٹوٹ کر چاہا تھا جب اس نے اسے تھپڑ مارا پھر بھی ایک لمحے کو بھی چھوڑ کر جانے کا نہیں سوچا۔وہ جانتی تھی وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔اس لئے اس کے باہر نکلنے پر پیچھے ہی آ گیا تھا ۔اظہار نہیں کرتا تھا مگر محبت کرتا تھا کتنی خاموش محبت تھی دونوں کی چاہنا بھی اور نہ بتانا بھی کیا ایسے بھی کسی نے محبت کی ہو گی۔
برف باری جاری سورج طلوع نہیں ہو پا رہا تھا غلبا صبع کا ٹائم ہے اس نے ریڈیو کا سلسہ کیمپ سے جوارا۔
احمت ہمیں آج رات تک ہر حال میں ڈیڑھ ہزار میڑ ڈیسنڈ کرنا ہے مگر میرے پاس صرف اسی میڑ لمبی رسی ہے باقی چوری سو میڑ کیسی ڈیسنڈ کروں آواز میں تھکن تھی وہ کوئی سپر مین تو نہیں تھی کہ عصاب جواب نہیں دیتے مگر اس نے ایک شخص کے لیے خود کو ٹوٹنے سے روکا وہ افق کو مرنے نہیں دے گی اس نے عہد کر رکھا تھا ۔
میں کلائمبر نہیں ہوں ڈاکٹر میں کیا کہہ سکتا ہوں ویسے تم نے جو رسی پہلے لگائی تھی وہ کہاں گئی ۔؟
وہ بوف میں دب کر گم گی ہوتی بھی تو کیا فائدہ ہم رستہ بھٹک گئے
207
ہم دوسرے رستے پر آ چکے ہیں تھوڑا سا شمال کی طرف اب سمجھ نہیں آ رہا کے اسی میڑ سے  ڈیڑھ ہزار میڑ کیسے ڈیسنڈ کروں؟
کچھ کرو کچھ سوچو۔
افق کیسا ہے؟
اس کے پاؤں پر بھی بہت ذخم تھا صاف کر کے پٹی باندھی اب سو رہا اس نے ایک نظر افق پر ڈالی۔
اچھا وہ ہنس دیا
ہنسے کیوں؟
افق کو پچھلی بار ناگاپربت پر برفشار نے 480 میڑ نیچے پٹخا تھا ۔آٹھ ایک ہی رسی پر تھی ایک گرتا سارے جاتے مگر سب بچ گئے تھے صرف افق کے پاؤں میں چوٹ آئی تھی اس کا باس کہتا تھا  تم بے عزتی اور برفشار پروف ہو۔
وہ ہنس دی
یقین کرو ڈاکٹر اگر وہ اس کے باپ کو دوست نہیں ہوتا اب تک اسے شوٹ کر چکا ہوتا مگر اس بار افق نے باس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ راگاپوشی کی چوٹی سے کنکروڑیا  بلتورو دیکھ کر واپس آ جائے گا اور پھر کبھی پہاڑوں میں نہیں جائے گا۔
میں نے راگاپوشی کی دیوار سے وہ چوٹیاں دیکھ لی مگر یقین کرو کوئی خوشی نہیں ہوئی وہ زندگی سے زیادہ حسن نہیں ہیں اور سنو وہ کرنل فاروق کدھر ہے ؟
آج سارا دن یہی رہے دور بینوں سے تمہیں کھوجنے کی کوشش کرتے رہے ۔
انہیں کہنا ہم رات تک ڈیسنڈ کرنے کی کوشش کریں گے  اور پاپا کی کوئی میل تو نہیں آئی؟
اس نے بے قراری سے پوچھا
آئی تھی کہہ رہے تھے ارسہ کی موت کی خبر نیوز پر آئی
تمارے لئے سخت
208
پریشان ہیں میں نے کچھ سچ کچھ جھوٹ ملا کر تماری طرف سے مکمل خیریت کی اطلاع دی۔
بہت اچھا کیا اور فرید بیس کیمپ پہنچ گیا ہے؟ اسے یہ بات پوچھنا آج یاد آیا
وہ ادھر نہیں آیا۔
پریشے کے قدموں سے زمین نکل گئی
تو پھر وہ کہاں گیا؟ وہ پریشان ہو گئی وہ نیچے نہیں اترا؟
نیچے تو وہ دو دن پہلے ہی آ گیا تھا پھر وہ کریم آباد واپس چلا گیا مجھے لگا تم اس کے آنے کے متعلق پوچھ رہی ہو ۔
احمت تم نے میری جان نکال دی اس کا دل احمت کا سر پھوڑنے کو چاہا۔
پھر کتنے پل گزر گئے طوفان نہ روکا نہ آہستہ ہوا
اگر رسی زیادہ ہوتی تو دونوں طوفان میں بھی نیچے اتر سکتے تھے زخمی ٹانگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ رسی تھی افق اسی طرح سو رہا تھا اس کی جیب سے کچھ سرخ نظر آ رہا تھا پریشے نے اگے بڑھ کر اس سرخ کپڑے کو کھنچا وہ افق کا ترکی والا مفلر تھا وہ مفلر کو دیکھ کر سوات میں گزرنے والے پل یاد کرنے لگی کتنی دیر وہ مفلر سے کھیلتی رہی۔یہ وہی ترکی کا جھنڈا نما مفلر تھا جو راگاپوشی پر لہرانا تھا پریشے چوٹی پر رکھنے کے لئے ماں کی تصویر لائی تھی۔پاکستان کا جھنڈا وہ بھول آئی تھی
مفلر لمبا سا تھا اس نے اس کے دونوں سرے ہاتھوں پر لپیٹ لئے او خدا اس نے چونک کر سر اٹھایا میں کتنی اسٹوپڈ ہوں مجھے پہلے کیوں نہیں خیال آیا وہ افق کو اٹھانے لگی افق افق ااٹھو وہ مفلر چھوڑ کر اسے جھنجھوڑ کر اٹھانے لگی وہ ہڑ بڑا کر اٹھا چلو جلدی جہاں سے ہمیں نکلنا ہے مجھے سمجھ آگئ کیسے اترنا ہے ۔
209
کیسے؟
وہ حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا ۔آنکھیں نیند کے باعث ابھی تک ٹھیک سے کھلی نہیں تھی ۔
ہم Rapelling کر کے اتر سکتے ہیں رسی کو ڈبل کر کے میرے پاس 80میڑ لمبا رسا ہے ڈبل کر کے اتر سکتے ہیں اٹھو جلدی کرو۔
سارا سامان باندھنے لگی اپنی ہارنس سے افق کی ہارنس باندھنے لگی۔
بیگ ہلگا ہے تمارا افق نے یوہی پوچھ لیا
سب یہی چھوڑو اس نے ادق کو سہارا دیا اور باہر نکل آئے
اس نے برستے طوفان میں کام کرنا تھا ساتھ ساتھ اپنے مرد کا وزن بھی اپنی کمر اٹھانا تھا وہ کوئی نازک چھوٹی موٹی لڑکی نہیں تھی ۔سپورٹس وومن تھی ایک اچھی کوہ پیما وہ یہ سب کر سکتی تھی باوجود اس کے اس نے کچھ کھایا نہیں مگر اسے افق کو بچانا تھا ہر حال میں یہاں سے نکلنا تھا ۔وہی خیمے کے قریب اس نے بال برابر کریک تلاش کیا اب اس نے رسی پی ٹون سے باندھی ایسے کے دونوں سرے ہاتھ میں پکڑ لیے وہ افق کو لیے اترنے لگی
رسی ڈبل ہو کر اب چالیس رہ گئی تھی وہ دونوں چالیس میڑ نیچے اترے۔پریشے نے ایک سرا چھوڑ کر دوسرا سرا زور سے کھنچا پوری رسی اس کے ہاتھ میں آ گئی ۔اب جہاں سے اتری بیگ سے دوسرا پی نکال کر نصب کرنا شروع کیا ۔
طوفانی ہوائیں اوپر نیچے چل رہی تھی افق مسلسل کرا رہا تھا نہ چل سکتا نہ مزید برداشت کر سکتا تھا مسلسل گرتی برف سے پریشے پی ٹون
210
گاڑے نہیں جا رہے تھے ۔شروع کے چند گھنٹے افق چل کر اترا تھا  مگر وہ بھی  بہر حال کوشش کر رہا تھا مگر ہمت جواب دے گئ اب اسے پریشے سہارا دے کر اتار رہی تھی ۔
پلیز افق ہمت کرو۔تمہیں زندہ رہنا ہے تمہیں پریشے کے لیے زندہ رہنا ہے
پری مت کر اب مجھے ہمت نہیں ہے
میں تمارے سر میں یہ پی ٹون ماروں گی اگر اب ٹر ٹر کی
چپ کر کے اترتے جاؤ اترنے کے دوران اس کے زہین میں سب حادثے آ رہے تھے وہ ایک زخمی کے ساتھ تھی جیسے چلنے کی سکت نہیں تھی
برف گرتی رہی ہواہیں چلتی رہی وہ نیچے اترتے رہے وہ ان کی راہ میں آ جاتا وہ بڑھتی دھند کی دشمن بن جاتی
وہ دوپہر کا وقت تھا مگر شام لگ رہی تھی گلیشئر پر برف پڑ رہی بار بار اسے صاف کرنا پڑتا افق گلاسز کے بغیر اتر رہا تھا وہ شدید تکلیف میں تھا اس کی ٹانگ ٹوٹی اور شدید سردی سے زخم خراب ہو رہے تھے بہادر انسان تھا جانے کیسے برداشت کر رہا تھا ۔
بس ہمت کرو افق ہمیں پہنچنا ہے پھر کرنل فاروق اپنا ہیلی کاپٹر لے کر وہاں پہنچ جائیں گے بس چند گھنٹوں کی بات ہے وہ بمشکل سانس لے کر افق کی ہمت بنا رہی تھی
ایک جگہ وہ گلیشئر میں گلاسسز صاف کرنے رکی تو افق زور سے کھانسا اس کے زہین میں الارم بجا ایڈیما
مگر شکر کے وہ ایڈیما نہیں تھوڑا تنفس پرابلم تھا ایڈیما بھی ہوتا تو کوہ ہمالیہ کا ابِحیات اس کے پاس علاج تھا
211
راکا پوشی پر دھیرے دھیرے شام اترنے لگی-ان کے اطراف میں موجود دیوہیکل سیاہ اور سفید پہاڑ دھند کے پردے میں خاموشی میں ﮈوبے تھے-ہزاروں میٹر نیچے دلکش وادیاں پھیلی تھیں-وہاں فرید کا کریم آباد بھی تھا,جس کی باسیوں کو علم بھی نہ تھا کہ وہ دو نفوس شام کی نیلگوں کی روشنی میں اترائی کا سفر....زندگی کا سفر کر رہے ہیں-آےدن کوہ پیماؤں کے مرنے کی خبریں ملجایا کرتی تھیں,کریم آباد کے باسیوں کے لیے یہ معمول کی بات تھی-
پھر اندھیرا پھیلنے لگا-انہیں اس سفر میں جتنی دیر ہو چکی تھی,اس میں کوئی آدمی لاہور سے پنﮈی جا کر واپس لاہور بھی آ سکتا تھا-اور ان سے ابھی تک ایک کلو میٹر طے نہی ہو پایا تھا-جو سفر صاف موسم میں وہ چند گھنٹوں میں کد سکتے تھے,وہ اب تین گنا زیادہ وقت لے رہا تھا-وہ بار بار میٹر چیک کرتی,مگر سوئیابھی چھے ہزار کے ہندسے سے اوپر تھی-
دفعتا طوفان نے زور پکڑنا شروع کر دیا-برو پھر سے جاگ اٹھا-برف باری میں شدت آ گئی اور بلاآخر افق کی ہمت جواب دے گئی-وہ اترتے اترتے وہیں برف پر نﮈھال سا ہو کر گر گیا-
"نہی اور نہیں.....تم بے شک جاو,میں اور نہی-"طویل سانس لیتا وہ بے ربت جملے کہتا برف پر پڑا تھا-پریشے نے پریشانی سے میٹر دیکھا-6320 میٹر-
"نو نیور....تم جاو.....مجھے......مجھے ادھر ہی مرنے دو....میں اور نہی جا سکتا-"وہ اکھڑتی سانسوں کے درمیان نفی میں سر ہلاتے ہوے انکار کر رہا تھا-
وہ جگہ بلکل امودی تھی-جیسے کسی تکون کی ایک سائﮈ ہوتی ہے یاجیسے کسی چھت کی منﮈیر-چند قدم آگے بڑھتے تو نیچے گر جاتے-وہاں تو خیمہ بھی نصب نہی کیا جا سکتا تھا-
طوفان ہر گزرتے پل وحشی ہو رہا تھا-برفیلی ہوا ہﮈیوں میں گھس کر خون منجمد کر رہی تھی مگر افق اس سے ایک انچ نیچے نہیں اترنا چاہتا تھا-پریشے نے کھینچ کر رسی کو اپنے ہاتھ میں کر لیااور فولﮈ کر کے ایک کندھے پر ﮈال لیا-اب اسے خیمہ گاڑنے کو جگہ ﮈھونﮈنی تھی-کون کہہ سکتا تھا کہ وہ وہی پریشے تھی جو گھوڑے سے ﮈرتی تھی-
اس نے افق کو برف میں دونو اطراف سے رسی گزار کر باندھ دیا,ایک اور ﮈھیلا سا بھی برف کی دیوار میں نصب کر دیا تاکہ وہ نہ گرے-اس کی"سیفٹی روپ"کا کھینچاؤ چیک
212
کر کے وہ خیمے کی جگہ ڈھونڈھنے کی خاطر تاریکی اور طوفان میں گھٹنوں کے بل برف پر رینگتی رہی۔ادھر آئس ایکس مارتے ہوئے کوئی پلیٹ فارم تلاش کرنے لگی۔
کم بصارت گہری تاریکی ہڈیوں کو کھاتی سردی وہ زیادہ دور نہیں جا سکتی تھی  اگر سکاف فشر نے کہا کے کوہ ہمالیہ کا اندھیرا آپ کا دوست نہیں ہو سکتا تو بالکل ٹھیک کہا وہ ویسے ہی دیوار کے ساتھ باندھا بیٹھا تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئ تھی چہرے پر بڑھتی شیو پر برف کے زرات
وہ تھک کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔طوفان کا شور ناقابل برداشت کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا ۔
یہ سوا چھے ہزار میٹر ہے  یہاں ہیلی کاپٹر آ سکتا ہے وہ کانپتے ہوئے بولی جواب میں افق نے کچھ نہیں کہا۔
اس نے ڈرتے ہوئے افق کا کندھا ہلایا افق مگر اس میں جنبش نہیں آئی وہ پھر افق
اس نے بہت ہلکا سا ہوں کیا پریشے کو سکون ہوا
درد ہو رہا ہے؟
نہیں
مگر اس کی آواز سے ظاہر ہو رہا تھا
فکر نہ کرو وہ آتے ہی ہوں گے اس کو سہارا دے رہی تھی یا لے رہی تھی سمجھ نہیں آئی
جانے ہیلی کاپٹر کب آئے گا اس نے  کمر سے بندھی ریسک سے ریڈیو نکالا
کم ان بیس کیمپ ہاتھ اتنے منجمد تھے کے بٹن بھی نہیں دب رہے تھے ۔
ائی اہم ہیر احمت کی آواز غنودگی سے بھری تھی
احمت ہم کوئی سواچھے ہزار میڑ کی بلندی پر ہیں ایسا کروں میری کرنک فاروق سے بات کرواؤ انہیں لوکیشن دیتی ہوں
#Typing_Salma_Naaz

کرنل فاروق تو چلے گئے
پریشے کو لگا اس نے غلط سنا
کہاں چلے گئے؟
واپس سکردو
جیسے پورا گلیشئر اس کے سر پر پھٹا وہ ریڈیو کو کنگ سے دیکھ رہی تھی
وہ کیسے چلے گئے انہوں نے تو ہمیں ریسکو کرنا تھا اس سے الفاظ ادا نہیں ہو پا رہے تھے جیسے ساری قوت سلب ہوگئ ہو
وہ کہہ رہے تھے موسم خراب ہے اور بھی کوئی پرابلم تآئی ڈونٹ نو صبع ہی چلے گئے
تب پریشے کو حساس ہوا وہ کھلے آسمان تلے تہنا بے بس پڑی ہے
احمت وہ کیسے جا سکتے ہیں ہم نے ان کے کہنے پر ڈیسنڈ کیا اور وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے کیوں؟؟؟؟
اس کا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہا رہا تھا وہ چھے فٹ مرد کو کندھے پر سہارا دے کر یہاں تک لائی اور اب وہ چلے گئے
فکر نہیں کرو صبع تک آجائیں گے ویسے تم نے اتنا زیادہ سفر نیچے کیسے طے کر لیا۔
رسی کو Repelled  کر کے
وہ کیا ہوتا ہے؟
تمارا سر ہوتا ہے وہ زور سے چلائی۔
مجھ پر کیوں غصہ ہو رہی ہو میں سارا دن یہاں اکیلا پڑا راگاپوشی کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں شاید تم سے زیادہ سفر کر رہا ہوں وہ خفا سا ہوا
تم غلط وقت پر غلط بات کیوں کرتے ہو بجائے سوری کے اس پر چلائی۔
اچھا تم نیچے اترنے کی کوشش کرنا۔
جیسے مجھے معلوم نہیں خدا کے لیے احمت یہاں حالات بہت خراب ہیں برف
214
بہت پڑی ہے اور  افق زخمی پڑا ہے  ہم مزید رسی سے نہیں اتر سکتے ہمت نہیں ہے وہ چلائی۔
اچھا ہمت نہیں ہارو وہ صبع تک آ جائیں گے تم بس دو گھنٹے بعد گرم پانی کا کپ پی لو
پتہ ہے مجھے تم دنیا کے واحد ڈاکٹر نہیں ہو  اس نے ریڈیو بند کر دیا۔
وہ سب سے رابطہ کر چکا تھا جہاں تک ہو سکا مگر پریشے کو لگا کے احمت اور فوج کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے وہ غصے سے ریڈیو واپس رکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
پاکستان آرمی سے اتنا نہیں ہوتا کے ۔۔۔۔۔
آرمی نے ہماری منت نہیں کی تھی کے اگست میں راگاپوشی جاؤ ہماری غلطی ہے وہ ہمارے لیے جو کر سکے کیا وہ تیز تیز بولتے کھانستے واپس برف سے ٹیک لگا لی۔یہاں سوچنا بھی مشکل کام تھا تازہ برف پڑ رہی تھی
وہ شرمندہ ہوئی شاہد خالص پاکستانی تھی اس لیے جلدی بدگمان ہو جاتی تھی ۔
اب ان کو یہاں پناہ چاہےتھی جو صرف دیوار پر جمی برف دے سکتی تھی  اس نے تھکن کے باوجود تیز تیز ہاتھوں سے برف کھودنے لگی برف اس کے چہرے بالوں میں پھسنے لگی۔
215
پورا دن افق کو سہارا دینے سے اس کی کمر میں شدید درد تھا۔وہ اسی دیوار سے بندھا آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا سو رہا تھا یا کچی آنکھیں تھا پریشے نے اسے جگایا ۔
اٹھ جاؤ میں  نے ہم دونوں کے لئے ایک زبردست اپارٹمنٹ تیار کیا ہے زرا موسم ٹھیک ہو جہاں سے پورا قراقرم نظر آتا ہے ۔اب ہمیں اس میں شفٹ ہونا ہے دیکھو دار دو میں نے کیسے اکیلے سب کر لیا۔وہ پہلی خوشگوار بات تھی جو اس نے نہایت ناخوشگوار ماحول میں کہی تھی افق کی رسیاں کھولنے لگی یوں لگتا ہے میں  نے تمہیں یہاں اغوا کر کے رکھا ہوا ہے وہ اپنی بات پر خود ہی ہنس رہی تھی  وہ اسے غنودگی کی حالت میں  حیرانی سے دیکھ رہا تھا اسے شک گزرا کے پریشے کا دماغ خراب ہو گیا کہاں اتنا پریشان اور اب اتنی خوش اس کی حس مزاع جھاگ اٹھی۔
وہ افق کو نہیں احساس دلانا چاہتی تھی کہ انہیں اس چھوٹے سے برف کے سراغ میں زندہ رہنا ہے رو رو کر نہیں تو ہنس ہنس کر جی لیں۔
اس نے سرنگ ایسی نبنائی تھی جیسے ٹی سی سکین کے لیے مریض کو لیٹایا جاتا ہے اس میں ان دونوں کو رہنا تھا وہ بس اتنی تھی کے دو آدمی کمر ٹیکا کر ٹانگیں پھیلا کر گھس سکتے تھے برف سے انسان کو صرف برف بچاتی ہے جیسے ہیرے کو ہیرا کاٹتا ہے اسی طرح برف گرمی حرارت بھی پہنچاتی ہے اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے اگر ان کے پاس دو سلیپنگ بیگ ہوتے تو اسے غار نہ کھودنی پڑتی۔ورنہ اسی میں گزارہ ہو جاتا ایک بیگ ان  کا برف فشار نے چھین لیا تھا  وہ مشکل سے افق کو اس میں لائی اس کو لٹا کر پاس بیٹھ گیا افق کے شوز والے پاؤ غار سے تھوڑا باہر تھے برفانی غار ایسے تھا جیسے کسی نے فریزر کے اوپر ڈال کر اگے سے ڈکن کھولا ہوا ہے ایسا لگ رہا تھا وہ پرانے وقتوں میں چلی گئی ہے جب لوگ غاروں میں دیتے تھے
216
یہ سب سوچتے اسے جلد نیند آ گئی ۔خواب میں اس نے خود کو  قدیم زمانے میں  پایا ۔وہ لکڑہارے کی بیٹی ہے وہ ایک ذخمی سپاہی کو  غار میں چھپا کر بیٹھی ہے  دشمن اس کی تعاقب میں ہیں گھوڑوں کے بھاگنے کی آواز اس کے سر پر ہتھوڑے برسا رہی تھی اس کی آنکھ کھلی قدیم کا سارا رومانس غائب تھا اور جو گھوڑوں کا شور تھا وہ طوفان کا  تھا۔برفانی غار رات سے اب قدرے گرم تھی۔وہ دوبارہ بیٹھے بیٹھے سو گئ افق بھی ساتھ سو رہا تھا ۔فرق یہ تھا افق چھوٹے بچے کی طرح اس کے گھٹنے پر سر رکھا تھا وہ گہری نیند میں واقعی ہی معصوم بچہ لگ رہا تھا ۔
ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ اس کے جینے کے لیے کافی تھی وہ آتے ہی ہوں گے دور تک دھند میں اس کی نگاہ انہیں گھوج رہی تھی وہ دل کو تسلی دے رہی تھی مگر زمین سے انہیں بچانے کوئی نہیں آیا تھا ۔
دونوں جانے کتنے گھنٹے اس غار میں ٹہھرٹھراتے رہے جو غار کم اور برف کا تابوت زیادہ لگ رہی تھی ۔
افق اٹھ گیا تو اس نے چائے بنا کر خود بھی پی اسے بھی دی۔چائے کیا تھی شکر کے بخیر قہوہ تھا۔افق نے دونوں ہاتھوں سے تھام کے کہنوں کے بل ہو کر گھونٹ گھونٹ کر کے گلے سے اتارا خالی کپ کر کے سائیڈ میں رکھ کر پھر سے پریشے کے گھٹنے پر لیٹ گیا ۔
پتہ نہیں کیا وقت تھا کیا تاریخ تھی حساب بھول گیا
پری افق نے اسے پکارا. ساتھ دور چند انچ دیکھ رہا تھا  سو رہی ہو؟
نہیں سو نہیں رہی بس یوہی تھک گئی ہوں اس نے بند آنکھوں سے جواب دیا
217
پری میری جان بچانے کا شکریہ ۔تم نہ ہوتی میں مر گیا ہوتا۔تم نہ ہوتے تو میں شاید مر گئی ہوتی وہ کرب سے مسکرائی
پھر کتنے پل خاموشی چھا گئی
پری سو گئ ہو اس نے پھر پوچھا؟
نہیں آواز بے حد ہلکی تھی ۔
پھر بولتی کیوں نہیں ہو مجھ سے باتیں کرو۔تا کے مجھے لگے میں  جہاں برف تابوت میں اکیلا نہیں ہوں وہ اس وقت ڑرا ہوا بچہ لگ رہا تھا  شوخ چنچل افق سے اس طرح کی امید نہیں تھی
کیا بولوں تمہیں درد ہو رہا ہے ؟
ہر وقت یہی پوچھتی ہو
اور کچھ سوجتا ہی نہیں
غار میں ایک بار پھر خاموشی
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ کافی دیر کچھ نہیں بولا تو پریشے نے آنکھیں کھول دیں
وہ اسی طرح لیٹے چھوٹی سی تصویر کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔حناوے مر چکی تھی مگر اس کے ہاتھ میں ایسے دیکھ کر اس کے اندر درد کی ٹیس اٹھی۔
پری اس کی آواز بہت دھیمی تھی  تم نے کل یہ کیوں کہا تھا  میں تمہیں حناوے سمجھتا ہوں میں نے تمہیں کبھی حناوے نہیں سمجھا تم پریشے ہو تم کبھی حناوے ہو ہی نہیں سکتی ۔وہ اسطرح بے ربط فقرے ایسے نہیں بول رہا تھا گرم چاہئے کی بخشی توانائی تھی ۔وہ جواباً کچھ نہیں بولی کیوں کہ اب افق نے سب خود بولنا تھا ۔
جانتی ہو لوگ کے ٹو کو سفاک پہاڑ کہتے ہیں بالکل ٹھیک کہتے ہیں وہ را گا پوشی کا نہیں کے ٹو عاشق تھا قراقرم میں رہنے والے شاہگوری بولتے ہیں اب میرے لیے اس کا نام لینا بھی تکلیف رے ہے وہ کہتے کہتے گھانسنے لگا گھانسی رکی تو کہنے لگا حناوے میرے چچا کی بیٹی تھی بہت  خوبصورت
218
بہت مکمل اور بہت آرٹیفیشل ۔اس کی پرفیکشن کے متعلق تو تم تصور بھی نہیں کر سکتی ہمیشہ ٹپ ٹاپ میں رہتی تھی  بنی سنوری فل میک آپ بہت آزاد خیال تھی ہمارے درمیان بہت فرق تھا آزار خیال نہیں روشن خیال ہوں اور بھی کئ فرق تھے وہ جیسے زہن پر زور دے کر یاد کر کے بتا رہا تھا ۔ہمارے خیالات کبھی نہیں ملے وہ مجھے بہت اختلافات کرتی تھی  غالباً افق لڑتی تھی کہنے سے احتراز برت رہا تھا ۔وہ ہر بات سے مرضی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں نا وہ بھی ان میں سے تھی ہماری شادی کے چار سال ہوئے تھے دو سال بد ترین سال تھے وہ امرات سے آئی تھی وہی جانا چاہتی تھی اور میں ترکی میں اپنے والدین کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا
احمت کو بچپن سے  بھانڈا پھوڑنے کی عادت ہے ہو سکتا ہے آپ کو سیدھا لگتا ہو میں اسے اٹھائس سال سے  جانتا ہوں وہ میرا ہمسایہ بھی اور دوست بھی ہے احمت انتہائی تیز اور عقل مند ہے وہ جان بوجھ کر بھانڈا پھوڑتا تھا شکل کے بھوپن سے لگتا نہیں ہے ایسا۔ہاں زندگی میں پہلی بار اس نے حناوے کے سامنے اپنا منہ بند رکھا تھا قراقرم اور ہمالیہ کی پریوں کی بات اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی مگر نقصان ہو چکا تھا حناوے نے پریوں کے متعلق سن کر اعتبار نہیں کیا مجھے ہر پل طعنے دیتی۔
طوفان اب بھی ویسا ہی تھا  پریشے نے پوچھا پھر شادی کیوں کی تھی اس سے؟
میری ماں کی خواہش تھی کہ میں ایک کلائمبر ہوں اور ایک کلائمبر کے ساتھ خوش ہوں گا حناوے بہت زبردست امریکن کلائمبر تھی اس سے پہلے میری
219
میری زندگی میں ایک لڑکی آئی تھی میری کلاس فیلو ہریٰ مجھے گمان گزرا کہ وہ میری آئیڈیل ہے  اس کے ساتھ چھوٹا سا افیئر بھی چلا تھا  مگر وہ میری آئیڈیل نہیں تھی یونہی ایک کرش تھی میں کوئی بہت فلمی ہیرو نہیں ہوں ۔جس کی اٹھائیس سالہ زندگی میں کوئی لڑکی نہ آئی ہو چھوٹے موٹے افیئر سب کی زندگی میں ہوتے ہیں پھر حناوے آئی میں اپنی جستجو میں ناکام ہو گیا  سوچا نارمل انسان کی طرح رہنا چاہئے وہ مرتی نہ بھی تو شاید اب تک ہماری علیحدگی ہو چکی ہوتی میں اسی لیے کچھ اچھا برا سننا پسند نہیں کرتا
غار میں ایک بار پھر خاموشی
افق وہ کچھ دیر بعد بولی کے ٹو پر کیا ہوا تھا؟ تم دو سال پہلے حناوے کے ساتھ سر کرنے آئے تھے ناں؟
کتنی دیر خاموش رہا اس کی آنکھوں میں درد کرب تھا
وہ بھی کے ٹو کو ڈیسنڈ کرتے  بہت مشکل ہے وہ بھی جتنے لوگ جاتے بہت کم واپس آتے اسے فتع کر کے انا اسان نہیں پھر کھانسنے لگا اس کی توانائی ختم ہوتی جا رہی تھی وہ بہت سخت طوفان تھا ناگاپریت راگاپوشی  ایورسٹ سب جیسا ایک سا طوفان ہوتا ہے  میرے ٹیچر کہا کرتے تھے کے ٹو پر طوفان آ جائے سامان پھینک کر زندگی کو بچاؤ بس
میں اور حناوے ساتھ تھے اس کی آکسجن ختم ہو گئی مجھے ایڈیما ہو گیا مجھے آکسجن کی ضرورت تھی ماسک چہرے پر لگائے رکھتا تھا وہ ڈیتھ زون تھا آٹھ ہزار میڑ یاد نہیں بس میں نڈھال ہو کر گر گیا حناوے کو آکسجن چاہیے تھی وہ بغیر اکسجن کے بھی ڈیسنڈ کر سکتی تھی مگر اس نے  میرا ماسک سب مجھ سے نوچ کر نیچے چلی گئی وہ میری ساتھی کلائمبر نہیں
220
تھی وہ میری بیوی تھی مگر پھر بھی اس نے ایسا کیا میں بغیر اکسجن کے تین گھنٹے برف پر پڑا رہا کے ٹو کے  طوفان کے دوران
حناوے نے کیمپ فور میں جا کر میرے متعلق بتایا کہ میں لاپتا ہو چکا ہوں مجھے دوسرے مہم کے گائیڈ نے اٹھایا اور نیچے لے آیا گرم چائے دی میرا ایڈیما بد ترین ہو رہا تھا میں نیم مردہ تھا وہی گائیڈ مجھے اٹھا کر نیچے لایا جہاں منیجر عاصم نے مجھے پک کیا میرے ہاتھ فراست بائٹ ہو چکے تھے عاصم نے بہت جدوجہد کی دوستی کا حق ادا کیا مجھے وہ لمہ نہیں بھولتا میں برف میں مردہ پڑا تھا مرنے ہی والا تھا دور ہیلی کاپٹر کی نظر مجھ پر آئی میرا نیا جنم ہوا تھا
اور حناوے؟
وہ ڈیسنڈ کے دوران کمیپ تھری میں برفشار کا شکار ہو گئی  اس کی رسی ٹوٹ گئی تھی  کیونکہ برفشار بہت تیز تھی وہ برف میں گم ہو گئی پھر حناوے کو کبھی کے ٹو نہیں دیکھا دفن کے لیے اس کی لاش بھی نہیں ملی
تم خواب میں بھی ڈر جاتے ہو نا؟
افق نے شاید کرب سے آنکھیں میچ لی
بس خواب پیچھا نہیں چھوڑتے جس مقام پر حناوے مجھے چھوڑ کر گئ تھی میں اس سے آکسجن مانگتا نہیں دیتی پری میری آکسجن بھی نہیں دی. اور مجھے برف پر مرنے کے لئے چھوڑ دیا میں خواب میں بھی دیکھتا ہوں تو درد سفاک شخص کوئی ہو سکتا جیسے وہ تھی ۔
وقت گزر رہا تھا باہر برف غار کا منہ بند کرنے کی سعی کر رہی تھی
221
بس شام تک ہمارے ڈیسنڈ ہوتے ہی وہ آ جائیں گے بس آتے ہی ہوں گے اس کی بے قرار نگائیں باہر دھند میں بھٹک رہی تھی انتظار کے لمبے طویل ہوتے جا رہے تھے دنیا کا سب سے مشکل کام انتطار راگاپوشی پر اور بھی گھٹن تھا
شام تک آ جائیں گے  افق ڈونٹ یووری
پھر شام بھی آئی سیاہ رات بھی جن کو نہ آنا تھا نہ آئے
اس کا یقین ڈگمگا گیا مگر پھر بھی اپنی اور اس کی ڈارس باندھ رہی تھی رات گہری ہو رہی تھی انہیں بغیر کچھ تھا کھائے تیسرا دن تھا جو اپنے اختتام کو پہنچ رہا
ایندھن کی بھی ایک آخری بوتل بچی تھی ۔اس نے اسے ایسے تھما تھا جیسے خزانے کی کنجی بس ایک دن کے پانی کی گیس۔پاؤں سے زمین اور سر سے آسمان کھینچ لیا جائے تو کیا حال ہوتا ہے آج علم ہوا جانے کب یہاں سے نکل کر تازہ آکسجن میں سانس لیں گے ۔پریشے کے عصاب جواب دے رہے تھے افق بند آنکھوں سے مسکرایا
222
سو جاؤ ہیلی کاپٹر کے آتے ہی تمہیں اٹھا لوں گی ۔افق کو اس کی بات پر زخمی مسکراہٹ آئی جیسے پریشے یقین سے کہہ رہی تھی پھر وہ وہی نیند میں چلا گیا۔
اس کے سونے کے بعد اس نے ریڈیو نکال کر احمت سے رابطہ کیا
کیسی ہو ڈاکٹر وہ جیسے اس کی کال کے انتظار میں سویا نہیں پتہ نہیں کیسی ہوں میری ای میلز تو پڑھ کر سناؤ۔
اچھا سنو وہ لیپ ٹاپ کے سامنے ہی بیٹھتا تھا پہلی تو میری بیوی سلمی کی ہے لکھتی ہے پیاری پریشے جلدی سے عافیت سے نیچے آؤ۔سلمی کو میری طرف سے جواب دو۔
223
وہ میں پہلے ہی دے چکا ہوں
کیا لکھا ہے؟
تماری طرف سے اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ دیا ہے اور کیا وہ ہنسا۔اچھا یہ کسی کی سیف الملوک سے ای میل آئی ہوئی ہے
پریشے کے لبوں پر یکساں مسکراہٹ غائب ہو گئی سیف الملوک کو میں ان تین دنوں میں بھلا چکی تھی کیا لکھا ہے؟
میں نے اور ندا آپا نے برائیڈل ڈرس اڈر کر دیا ہے ماموں کہہ رہے تھے کارڈ رمضان کے بعد چھپائیں گے اور ماموں پرسوں کے بجائے ایک ہفتے بعد آییں گے ۔اب بس جلدی سے اپنا ایڈونچر ختم کر کے آؤ آنکھیں دیکھنے کو ترس گی ہیں ۔
تمارا سیف
اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے اس نے مشکل سے احمت کو بائے کہا اور ریڈیو بند کر دی ۔
جیسے وہ آسان سمجھ رہی تھی  کہ افق کو پاپا سے ملوا دے گی اور تین سال پرانی منگنی توڑ دیں گے تو بہت غلطی پر تھی ۔وہ کبھی بھی کسی غیر ملکی کو اپنے بھانجے پر ترجیح نہیں دیں گے ۔راگاپوشی کے لئے اجازت دے دی مگر یہ ان کی عزت کا مسئلہ ہے وہ اپنے پیار کے لیے اپنے باپ کے خونی رشتوں کو ختم نہیں کر سکتی تھی ادھر اس کی شادی کی تیاری عروج پر تھی ادھر یہ منگنی توڑنے کا سوچ رہی تھی وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔وہ جانتی تھی پاپا بے دلی سے مان بھی گے تو افق کبھی بھی اسے یہاں نہیں چھوڑے گا ساتھ ترکی لے کر جائے گا اسے جانا پڑے گا پیچھے پاپا اپنے رشتے داروں کے ہوتے بھی اکیلے
224
ہوئے بھی ویسے ہی اکیلے ہوں گے ۔جیسے وہ اس وقت ان ویران پہاڑوں میں اکیلی پڑی تھی ۔وہ شخص اس کا باپ تھا وہ انہیں کوئی دکھ نہیں دے سکتی تھی ۔وہ برو کے خطرناک گلیشئر سے لڑ سکتی تھی وہ اپنے رشتےداروں کی منگنی توڑنے کے بعد کی ممکنہ بلیک میلنگ سے ہار گئی تھی ۔رات میں اس برفانی غار میں بیٹھے اسے افق اور اپنے باپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا ۔اس نے ایک نظر گہری نیند اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر سو رہا تھوڑی تھوڑی دیر بعد کراہتا شاہد زخم ناسور بنتا جا رہا تھا ناکابلِ برداشت تکلیف دے رہا تھا اس نے ٹوپی پہن رکھی تھی مگر بھورے بال اس کے ماتھے پر پڑے تھے باہر چاند نہیں تھا روشنی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی
وہ زیرِ لب بڑبڑائی اور آنکھیں موند لی۔اس نے اپنا انتخاب کر لیا تھا ۔
تم مجھے بہت دیر سے ملے ادق ارسلان ۔کاش پہلے ملے ہوتے آنسو اس کی پلکوں سے نیچے گر نے لگے۔۔#قر


اتوار 21 اگست 2005
کسی دھماکے کی آواز نے اسے جگایا تھا ۔وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔وہ غار میں تہنا اس کے گھٹنے پر بوجھ نہیں تھا ۔افق کہاں گیا  او میرے الله وہ چکرا کر رہ گئی اور تیزی سے رہنگتی ہوئی باہر آئی ۔وہ غار کے دائیں طرف کچھ قدم دور بیٹھا تھا ۔اس نے ذخمی ٹانک برف پر لٹا رکھی تھی ۔برف کی دیوار سے ٹیک لگائے سامنے دیکھ رہا تھا
226
تم ادھر کیوں بیٹھے ہو؟  اس کے ساتھ ویسے ہی دوزانوہو کر بیٹھے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا ۔برستی برف کے ٹکرے اس کے  کپڑوں ٹوپی اور سر پر ٹہھرے ہوئے تھے ۔طوفان اب تھمنے کو تھا مگر برف بے حد خراب تھی اب بھی اسے کسی برفشار کے گرنے کی آواز نے جگایا تھا ۔
نہیں بیٹھ سکتا اس قبر میں  نامور۔۔۔۔۔نامور۔۔اسکی سانس رک رہی تھی کل کے مقابلے میں  آج اس کے چہرے سے کمزوری نظر آ رہی تھی اس کی توانائی ختم ہو رہی تھی وہ اندر ہی اندر مر رہا تھا ۔
تمہیں درد ہو رہا ہے؟؟
ہاں ۔وہ جھوٹ بول بول کر تھک گیا تھا  جانے کب سے  باہر بیٹھا تھا پلٹ کر  اس نے  نگاہ غار پر  ڈالی وہ واقعی ہی برفانی قبر لگ رہی تھی ۔
تم فکر نہیں  کرو صبع ہونے والی ہے  وہ لوگ آنے والے ہوں گے دھند میں  دور تک نظر گئ ہیلی کاپٹر کو نہ پا کر  مایوس لوٹ آئی۔صبع کی روشنی سے قراقرم کے پہاڑ منور تو ہو گئے تھے  مگر دھند کے باعث سورج کا نام  و نشان نہیں  تھا اس کی نظر افق کے ہاتھ میں  سرخ مفلر پر پڑی
اس مفلر کے  ساتھ اس کے  بہت لمے یاد آ رہے تھے وہ سب اب صدیوں پرانی لگ رہی تھی ۔برف میں  ڈوبے پہاڑوں کو دیکھ کر  اس کا دل چاہا رہا تھا  وہ اس کے کندھے پر  سر رکھ کر بہت روئے اس کے  آنسو راگاپوشی کی ساری برف پگھلا دیں پھر وہ تھک کر سو جائے اٹھے تو ساری مشکلات ختم ہوئی ہوں۔وہ جاگے تو گھر ہو اور سواتجیسا ہستا مسکراتا افق اس کے سرانے کرسی پر بیٹھتا ہو مگر سوچ اور حقیقت میں کتنا فرق ہے؟
227
اس نے  اپنے منجمند ہاتھوں سے  افق کے  ٹھنڈے ہاتھ تھام لیے۔دونوں کے ہاتھ دستانے میں  یغ تھے ۔اسیے لگ رہا تھا برف کے  ٹکڑے اوپر نیچے رکھے ہوئے ہیں ۔
جب میں  چھوٹی تھی تو  ایک کہانی بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی دنیا کا بہادر شہزادہ پہاڑوں کی چوٹی پر قید شہزادی کو بچانے جاتا ہے شہزادی نگاہیں جمائے کسی شہزادے کے انتظار میں  ہوتی ہے پھر شہزادہ اس پہاڑ پر  جاتا ہے  اور ۔۔۔۔
وہ یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گئی اب افق گردن موڑ کر  اسے بغور دیکھ رہا ہے
میری ماما میرا راز تھی مجھے ہر طرح سے بچا لیتی پا پاپا سے بھی اب وہ ہوتی تو  ڈھال بن جاتی مگر اب وہ نہیں  ہیں  ۔۔وہ ادھوری باتیں کر  رہی تھی
فکر کیوں کرتی ہو خود ہی تو کہتی ہو وہ آ جائیں گے جیسے فلموں میں  بچا لیا جاتا ہے  پھر میں  تمہارے پاپا پاس جاؤ ں گا۔
کیوں جاؤ گے؟؟ اس کی نگاہ ٹوٹی برف پر تھی
تم میرے منہ سے  کیا سننا چاہتی ہو وہ با وقت بول پڑا
کچھ  نہیں کچھ بھی تو نہیں  اب کچھ  سننے کی حسرت نہیں رہی
پری پریشان مت ہو۔ہم سب کو منا لیں گے پھر میں  تمہیں ترکی لے جاؤں گا ۔
228
اور... وہ کھانسے کو رجا.
"مجھے خواب مت دیکھاؤ افق. "اس کی آنکھیں پانی سے بھرگئیں ."خواب نہیں چاہئیں . یہ ٹوٹ کر ساری عمر آنکھوں میں کرچیوں کی طرح چبھتے رہتے ہیں. آنکھیں زخمی ہوتی ہیں روح بھی زخمی ہوجاتی ہے. مجھے خواب مت دکھاؤ". سفید دھول نے نیچے حرفت ہوئے زمین کا بڑا حصہ اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا.
"پری! تم....... "
"نہیں افق..... ابھی تم صرف میری سنو. میں ساری رات ٹھیک سے سو نہیں سکی. میں افق انشا تم ہم سب غلط تھے. بابا نے دس لوگوں کے سامنے میری منگنی کی ہے. میں وہ منگنی توڑ کر ان کو دکھ نہیں دے سکتی. میں ایسا کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی جس کی بنیاد پر پرانے رشتے قبروں میں ہوں. میں نے ایک فیصلہ کیا ہے. میری بات غور سے سنو.
تم مجھ سے آج اس برفانی غار کے باہر بیٹھے ایک وعدہ کرو. راکا پوشی گلیشئیر یہ برفانی برفشار اور یہ گرتی برف اس عہد کی گواہ ہوگی. محض سے وعدہ کرو کہ یہاں سے نکلتے ہی تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ گے . ہمیشہ کے لیے ترکی واپس چلے جاؤ گے .اور پری کے لیے کھبی واپس نہیں آؤ گے پری اب سونے کے پنجرے سے آزاد نہیں ہونا چاہتی. "
وہ اسے دیکھ کر رہ گیا. "بس؟صرف اپنے بارے میں سوچا سود فیصلہ سنا دیا؟میرے بارے میں کچھ نہیں سوچا ؟"
"تمہیں واقعی لگتا کے تمہارے بارے میں کچھ نہیں سوچا؟ہر طرف خاموشی بالکل سکوت تھا جیسے برفشار کبھی آیا ہی نہ ہو.
افق نے گردن نفی میں ہلائی اور دوبار سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں موندلیں. "جو تم کہو میں وہ کروں گا. "وہ ہار مان گیا تھا. اتنے مختصر الفاظ میں فیصلہ صادر کرکے پریشے نے اس کے لیے کوئی انتخاب نہیں چھوڑا تھا.
مگر پری...... تمہیں بھی مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا. "وہ پھر کتنی ہی دیر چپ رہا اور بولا. اس میں مزید بولنے کی سکت نہیں تھی.
برف کے تینوں ٹکڑوں نے ابھی تک ایک دوسرے کو تھاما ہوا تھا. پھر پریشے نے درمیان میں پھنسا وہ سرخ کپڑا نکالا ترکی کا جھنڈا جسے کئی دن تک مفلر سمجھتی رہی تھی. اسے
229
نکالا اور سرخ مفلر جھاڑا . برف کی قلمیں نیچے گریں. وہ بے حد گیلا تھا . ان دونوں کے کپڑوں کی طرح گیل.
پھر اس نے غار کے دہانے کے قریب برف چندانچ گہری کھودیسرخ مفلر اندر دبایااور اوپر برف ڈالنے لگی. چند لمحوں بعد کپڑا برف کی تہوں تلے چھپ گیا.
بس اب یہ ہمیشہ ادھر ہئ رہے گا. غار کے دہانے پر برف برابر کرتے ہوئے وہ بہت پیار سے بولی جیسے کوئی اپنی بے حد قیمتی شے محفوظ کرنے کے لیےدفن کرتا ہے.
جانتے ہو افق!قطبین کے بود.... دنیا کے سب سے بڑے گلیشئیر میرے ملک میں ہیں.
جہیں فور ہسپار, بلتورہ کہتے ہیں. یہ گلیشئیر اب تیز سے پگھل رہے ہیں . میں سوچتی ہوںآج سے دس بیس سو سال یا پھر سینکڑوں ہزاروں سال بعد جب یہ گلیشئیر پگھل جائیں گے پھر ایک روز ایسے آئے گا جب قراقرم کے پہاڑوں پر سورج بہت روشن طلوع ہوگا جس کی روشنی سے راکا پوشی کی صدیوں پرانی جائے گی اور پھر" برو"میں دفن یہ مفلر اور قراقرم کے محل میں دبی داستان نگر کے دریا میں بہ جائے گی پھر جہاں جہاں نگر بہے گا اس کے ساتھ پڑے پتھر پتھروں سے دوراگے درخت درختوں پر پھدکتی نیلی چڑیاں اور اس سے اوپر سیاہ پہاڑوں کی سفید چوٹیوں کو چومتے روئی سے نرم بادل بادلوں کے درمیان چکمتی سورج کی سرخ شعاعیں اور ان سب کے اوپر چھایا آسمان سب نگر کے دریا میں والی داستان کے نغمے سنیں گے پھر نگر جس وادی میں جائے گا جس دریا کے ساتھ ملے گا ہنزہ جہلم اور نیلم کے دریاوں میں ہر سو وہ داستان خاموشی سے سنائی جائے گی. کبھی تو نگر کا پانی اس پر چڑھی چاندنی کئ تک سوات کے مرغزاروں میں اس جھرنے کے قریب پہنچے گئ وہ جھرنا جس کے پہاڑ پر کبھی بیٹھا کرتے تھے جہاں اداس چڑیا گیت گاتی تھی کسی کئ روٹھی محبت کی نارسائی کے کسی کئ جدائی کے..... تب وہ چڑیا ہمارا کہانی سیاحوں کو سنایا کرے گی. وہ جو اس جھرنے کے پانی اور پانی میں پڑے سرمئی پتھروں کے نیچے بہت پہلے سے دبی ہوگی.
افق اور پری اور کوہ پیما کی کہانی.... ہوں کبھی تو راکا پوشی کی برف پگھلے گی اور برف میں دبی کہانی اس دریا میں بہہ جائے گی. "
اتنی مدھم سر گوشی میں کہہ رہی تھی کہ اسے یقین بھی نہیں تھا کہ وہ سن رہا ہے.
"اس مفلر کو یہیں رہنے دو. یہیں قراقرم کے تاج محل میں سونے دو. جانے اس کی دیواروں
230
اور کتنے پیار کرنے والوں کی یادیں رقم ہیں، ایک اور سہی" وہ خود سے بڑبڑائی-
برف ویسے ہی اس کے اوپر اور آس پاس گرتی رہی- دھند کبھی بڑھتی' کبھی گھٹتی' پریشے خاموش تھی- افق خاموش تھا- قراقرم کے پہاڑ خاموش تھے-
سورج تب بھی نہیں چمکا جب اسے سوا نیزے پر ہونا چاہیے تھا- پہر سفید سی دھند چھٹ گئی اور شام کا نیلگو اندھیرا قراقرم کے پربتوں اور ان کی دیوی کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا-
ہر دو گھنٹے بعد پانی کی آدھی پیالی اس کی ضرورت تھی مگر اس ڈھلتی شام میں اندازا دو ڈھائی گھنٹے بعد اس نے چولھا جلایا تو وہ ٹھنڈا پڑا رہا- اس نے فیول کی آخری بوتل ہلائی وہ خالی تھی' اس نے ٹرانسمنٹ بٹن دبایا وہ بھی مردہ تھا' اسکی بیٹری مر چکی تھی' دوسری بیٹریاں افق کے بیک پیک میں کہیں بہت اوپر برف میں دفن تھیں-
کہر میں ڈوبے دہیوکیل جامنی پہاڑ اپنے چہروں پر سفید چادر تکا بکل مارے خاموشی سے دیکھتے رہے- ان پہاڑوں کے اس پار بھی میلوں دور تک پہاڑی سلسلے تھے- وہ ان کی اوٹ میں بےقرار منتظر نگاہوں سے کسی کی راہ تک رہی تھی-
گیس تھی ' نہ پانی' خشکی اور سردی کے باوجود اس کے حلق میں کانٹے اگ آئے تھے' بغیر پانی اس کے پاس زندگی کے بس چند آخری گھنٹے رہ گئے تھے' وہ کپکپا بھی نہیں رہی تھی' کپکپنے سے گو کہ اس کا جسم ایک دو لمحہ کے لیے گرم ہوجاتا مگر اس اضافی حرکت سے اس کی دسترس میں موجود چند آخری گھنٹوں میں کمی ہوجاتی' کانپنے کے لئے توانائی خرچ ہوتی اور اسے توانائی بچانا تھی' چند گھنٹوں کی مہلت کو کھینچنے کے لیئے۔۔۔ چند منٹ مزید حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ زندگی کا ایک دن مزید گزارنے کے لئے۔۔۔
"بس وہ آتے ہی ہوں گے رات کی تاریکی پھیلنے سے پہلے وہ آتے ہی ہوں گے۔ ہمیں اب آیک اور سفید رات نہیں گزارنی پڑے گی۔" اسکی متلانشی نگاہیں دور پہاڑوں سے ہو کر بار بار واپس آرہی تھیں۔
"سب کہاں چلے گئے؟ کرنل فاروق آپ نے تو کہا تھا آپ ہمیں لینے آجائیں گے' آپ کدھر رہ گے؟ میرے اللہ انہیں جلدی بھیج دو ورنہ ادق ل
مر جاے گا۔ وہ بضیر پانی کے سفید رات میں مر جائے گا۔" وہ پہر سے رونے لگی۔
برف باری پھر سے شروع ہو گئی یوں جیسے وہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پریشے نے امید کا ٹمٹما۔۔
231
آنکھوں میں سجائے دھند میں لپٹے آسمان پر دور تک نگاہ ڈالی۔ اس کی پلکھیں بھیگتی چلی گئیں۔
" کوئی ہے؟"اس نے زور سے چلا کر کہا۔ "کوئی ہے جو ہماری مدد کرے' ہمیں اس برفیلے پہاڑوں سے نکالے؟ خدا کے لیے کوئی تو آئے ورنہ ادق مر جاے گا۔" اسکی آواز پہاڑوں میں گونجی اور ٹکرا کر واپس آگئی۔
"مت کرو وہ آتے ہی ہوں گے۔" بند آنکھوں سے وہ بڑبڑایا۔
پریشے نے نفی میں سر ہلایا اور نڈھال سی ہو کر پیچھے برف سے ٹیک لگالی اور آخری بار دعا کی کوئی آجاے' مگر راکاپوشی پر تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتی تھیں۔
"وہ نہیں آئیں گے افق ' کبھی نہیں ' ہم نے جانے کتنے دن ان کا انتظار کیا' مگر وہ نہیں آئیں' اب وہ نہیں آئیں گے۔ یہاں سے ہمیں نکالنے کوئی نہیں آئے گا۔ ہمیں ادھر ہی مرنا ہے' آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے۔۔۔"
اس نے آنکھیں بند نہیں کیں' بس پھترائی آنکھوں سے دھند میں تقریبا سو میٹر تک نظر جمائے سرمئی سے سفید پن کو دیکھتی رہی۔ پھر برف باری اور تیز ہو گئی تو اس کا پینو راما اور چھوٹا ہوتا چلا گیا۔ طوفان کئیں گھنٹے ہوئے تھم چکا تھا۔ لمحےبھی تھم چکے تھے۔ لوگ کہتے ہیں وقت نہیں ٹھرتامگر تومازہومر کہا کرتا تھا' بعض اوقات وقت بھی ٹھر جایا کرتا ہے۔
زندگی میں چند لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت رک جاتا ہے' گھڑیاں جم جاتی ہیں۔
تب کوئی گزرا کل اور آنے والا کل نہیں ہوتا۔
تب صرف آپ ہوتے ہیں اور آپ کی تنہائی۔
وقت کی تفریق اور حساب ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔
آپ عجیب سے ٹائم' ٹائم لیس میں پھنسے ہوتے ہیں، جو در حقیقت وہاں ہوتا ہی نہیں ہے۔
ان لمحوں میں پوری کائنات رک جاتی ہے۔
راکاپوشی پر بھی وقت ٹھر گیا تھا۔
وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی تھی' نہ وہ سوچ پا رہی تھی' نہ وہ وقت کا حساب رکھ پا رہی تھی۔ کتنے بجے تھے ' رات کا کونسا پہر تھا' اس کی یاداشت نے کام کرنا ترک کر دیا تھا۔ ہاں بس اسے نیند آرہی تھی' وہ گہری میٹھی نیند سونا چاہ رہی تھی مگر اسے اپنے لبوں کی قید سے آزاد ہوتے۔۔
232
الفاظ ہوا میں تحلیل ہوتے سنائی دے رہے تھے-
"سونا نہی افق......!سونا نہی-اگر ہم سو گئے تو پھر کبھی نہیں جاگیں گے-"
وہ سونا چاہتی تھی,نیند,تھکاوٹ اور پیاس سے اس کا برا حال تھا مگر دور اندر کوئی اسے جھنجھوڑ کر اسے جگاۓ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا,,اسے کہہ رہا تھا کہ وہ نہ سوۓ-ہاں اندر سے وہ بھی جانتی تھی کہ اگر وہ اس رات سو گئی تو پھر کبھی نہیں جاگے گی-اسے سونا نہیں تھا,خود کو اور افق کو جگاۓ رکھنا تھا-وہ وہی الفاظ باد بار کسی غیر ارادی عمل کے طور پر دہراتی,جانے کب اس دنیا سے,سردی اور دھند کی اس دنیا سے اس دنیا میں چلی گئی جہاں کوئی درد,کوئی تکلیف,کوئی خیال,کوئی ﺫہنی کشمکش,کوئی زماں اور مکاں کی تفریق نہ تھی-وہ دنیا,زمان و مکان کی قید سے آزاد تھی-وہاں مکمل خاموشی اور سکون تھی-
وہ سو گئی تھی-
*...............*..............*
پیر,22اگست 2005ء
اس کے ﺫہن میں اندھیرا تھا-سماعتوں میں کوئی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی مگر نگاہوں کے سامنے گہری تاریخی چھائی تھی-کمر کے پیچھے برف کی دیوار وہ محسوس کر سکتی تھی پھر اس کی آنکھوں سے تاریخی چھٹنے لگی اور گہرا نیلاہٹ بھرا اندھیرا ان میں بھرنے لگا-
اس نے پلکیں چھپکائیں-ایک دفعہ,دو دفعہ,تین دفعہ پھر کئی دفعہ-منظر قدر واضح ہوا تو سامنے دور دور تک پھیلے سلسلہ قراقرم کی جامنی چوٹیوں کی برف نیلگوں روشنی میں چمک رہی تھی- آسمان صاف تھا-دھند چھٹ چکی تھی-گہرے نیلے آسمان پر ستارے بکھرے تھے-جھلملاتے,ہر سو بکھرے چمکتے ستارے-پہاڑوں سے بہت اوپر بہت اوپر تیرتے بادلوں کے پیچھے سے نارنجی شوعائیں جھانک رہی تھیں-
راکا پوشی پر صبح اتر رہی تھی-
گھومتے سر اور چکراتے ﺫہن کے ساتھ اس نے دونوں ہاتھ برف پر رکھ کر زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کی-وہ بامشکل گٹھنوں پر زور دے کر کھڑی ہو پائی-اس کی ٹانگیں جم کر سن ہو چکی تھیں-دماغ پوری طرح ماؤف تھا-
افق وہیں بیٹھا تھا-اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ جاگ رہا تھا-پریشے کو کھڑے ہونے کی کوشش کرتے دیکھ وہ مسکرایا-
صفحہ نمبر 233
جلد اتنی خشک ہو چکی تھی کہ مسکراتے ہوۓ کھنچنے سے جگہ جگہ سے نکلنے لگتے-
پریشے نے بے یقینی سے خود کو اور پھر اسے دیکھا-وہ زندہ تھی-وہ اب تک مری نہیں تھی اور اب بھی شاید کسی کے پکارنے پر اٹھی تھی-کس نے پکارا تھا اسے?اس نے سامنے پھیلے پہاڑی سلسلے پر نظر دوڑائی-دور ان پہاڑوں کے درمیان سے آواز آ رہی تھی-برفانی طوفان کے چنگھاڑنے کی آواز مگر وہ طوفان کی آواز نہیں تھی-وہ کوئی دھبا سا تھا,جو ان کی جانب بڑھ رہا تھا-اس نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا-دھبا بڑا ہوتا جا رہا تھا-سبز رنگ,درمیان میں چمکتا چاند ستارہ.......
"افق اٹھو...وہ آ گۓ ہیں-"وہ ایک دم زور سے پھٹی آواز میں چلائی-اس کی بے حد خشک جلد سے خون نکلنے لگا مگر وہ پرواہ کیے بغیر اس سبز ہیلی کاپٹر کو دیکھتے چلانے لگی,جو فضہ کا سینہ چیرتے ہوۓ ان کے قریب پہاڑ کے سامنے کی جانب بڑھ رہا تھا-
افق اٹھو.......میں نے کہا تھا نہ وہ آ جائیں گے-وہ آ گئے ہیں-وہ خوشی سے رونے لگی تھی-وہ ہمیں چھوڑ کر نہیں. گئے.........دیکھو سامنے وہ آ گئے ہیں-
وہ کھڑی تو تھی ہی,اب اس نے پوری قوت سے دونوں بازو ان کی جانب ہلاۓ پھر منہ کے گرد ہاتھوں کا پیالا بنا کر ان کو آواز دینے لگی-
"ہیلپ........ہیلپ-"وہ انہیں دونوں ہاتھوں کو ہلاتی اپنی جانب بلا رہی تھی-سبز ہیلی کاپٹر کی ایک جھلک نے اس میں جیسے نئی روح پھونک دی تھی-
ہیلی کاپٹر بہت چھوٹا سا تھا-اس میں دو سرمئی یونیفارم میں ملبوس پائلٹ بیٹھے تھے-ایک کے چہرے پر گلاسس تھے اور قدر درمیانی عمر کے دکھائی دیتے تھے-وہ ہیلی کاپٹر اڑا رہے تھے-وہ سمجھ گئی کے وہ کانل فاروق تھے-ان کا معاون پائلٹ نوجوان تھا اور اس کے چہرے پر گلاسس نہیں تھے-اس نے پریشے کو ہاتھ سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا-
چلو افق.......اٹھو-نقاہت کے باوجود اس نے افق کو کندھے سے پکڑ کر اٹھانا چاہا-
"تم جاؤ ان کے قریب-"بہ وقت تمام وہ بولا-
اس کی سمجھ میں نہیں آیا کے وہ کیا کرے-وہ افق کو چلنے کا کہہ رہی تھی اور وہ اسے آگے بھیج رہا تھا-دوسری جانب وہ معاون پائلٹ مسلسل اسے اپنی جانب آنے کا اشارہ کر رہا تھا-
جاو ناں-افق نے بیٹھے بیٹھے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے دھکیلا پریشے نے اپنی حفاظتی
134
رسی کھولی پھر افق کی کھولنی چاہی۔وہ کھل کے نہیں دے
 رہی تھی ۔اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اس نے چاقو نکال کر رسی کاٹنے کی کوشش کی ۔اس کے اردگرد دستانوں پر برف گرنے لگی ۔رسی کاٹنے کے ہی نہیں دے رہی تھی ۔اس نے گردن موڑ کر بے چینی سے ہیلی کاپٹر کو دیکھا معاون پائلٹ نے اپنی طرف دروازہ کھول دیا وہ ہاتھ میں چھوٹا سا کیمرہ پکڑے مووی بنا رہا تھا ۔
لرزتے منجمد ہاتھوں سے رسی کاٹ کر ہیلی کاپٹر کی طرف جانے لگی وہ جگہ کسی منڈیر کی طرح لگ رہی تھی ۔
برف کا پل اصراط
وہ ہیلی کاپٹر کی جانب بڑی جو اس کے قریب ابھی تک چکر لگا رہا تھا اس کے پنجے برف کے بہت قریب تھے مگر وہ وہاں لینڈ نہیں کر پا رہا تھا
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پریشے کے قدم من من بھاری ہو رہے تھے
اس کو قریب آتے دیکھ کر مووی بنانے والے نے کیمرہ رکھ دیا اور بازو اس کی جانب بڑھایا وہ اس کو اندر آنے کا کہہ رہا تھا ۔
پریشے نے اسے اور پھر پلٹ کر افق کو دیکھا جو اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر اندر جانے کا اشارہ کر رہا تھا وہ واپس پلٹی مینیجر اسے اندر انے کا کہہ رہا تھا ۔
میرا ساتھی زخمی ہے پہلے اسے اٹھاؤ وہ زور سے چلائی۔مگر ہیلی کاپٹر کے بھاری پروں کی گڑ گڑ میں آواز دب جاتی۔
مینیجر بلال نے سمجھنے والے انداز میں کہا اور اندر انے کا اشارہ کیا وہ ایک پل لو ہچکچائی پھر اس کا بازو تھام لیا اور ایک ہی پل میں وہ ہیلی کاپٹر میں تھی۔
سر ہم گئے ۔۔سر ہم گئے کلمہ پڑھ لیں مینیجر بلال ہنس کر دروازہ ہیلی کاپٹر کا بند کر دیا
میرا ساتھی زخمی ہے اسے سہارہ دے کر لانا پڑے گا وہ چل نہیں سکتا اتنا شور تھا کہ وہ چیخ کر بھی بولے تو سنائی نہیں دیا مینیجر بلال نے اسے ہیڈ فون دیا
یو اوکے میم؟  اسے پہن لیں
135
اس نے ہیڈ فون مامگر پہنا نہیں ۔بس وہ پھٹی نگاہوں سے شیشے کے اس پار برف پر افق کو دیکھ رہی تھی ۔جس نے سر برف پر رکھ کر انکھیں موند لی تھی ۔تب دفعتاً اسے احساس ہوا افق دور ہوتا جا رہا ہے ۔ہیلی کاپٹر ہوا میں بند ہو رہا تھا اس کے اندر جیسے الارم سا بجا۔
وہ میرا ساتھی اسے بھی تو اٹھائیں مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی بے چین نگاہیں افق پر جمی ہوئی تھی وہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا وہ گردن کیوں نہیں سیدھی کر رہا ۔اس کے اندر خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی ۔
اسے مت چھوڑ کر جائیں مینیجر وہ زخمی ہے اسے اٹھا لیں
جیسے جیسے ہیلی کاپٹر اوپر اٹھ رہا تھا پروں کی آواز اور زیادہ ہو گئی تھی ۔اس کے اگے والی سیٹ سے ایک پائلٹ بولا لڑکی چیخ کیوں رہی ہو؟
سر ان کو کوئی شاک ہے یا نفساتی اثر
وہ دوسرا لڑکا تمہارا خیال ہے وہاں ہے
آئی تھنک سر وہ مر چکا ہے
اچھا باڑی تو دینی پڑے گی ترک گورنمنٹ کو
شور بہت تھا اس کے کانوں کے پردے پھٹ رہے تھے سر چکرا رہا تھا اس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ دیے۔وہ کیا کہہ رہے تھے سننا نہیں چاہتی تھی اس کی نظریں افق پر تھی وہ چیخ چیخ کر اس کہنا چاہتی تھی وہ آنکھیں کھولے اس جھنجوڑنا چاہتی تھی اس کو گھسٹ کر ہیلی کاپٹر میں لانا چاہتی تھی اس کو اپنا شور زور دار سنا۔
وہ زندہ ہے خدا کے لیے اسے بچا لو وہ زندہ ہے اسے پکارو وہ آنکھیں کھولے گا۔۔منیجر بلال نے موڑ کر اسے دیکھا ہیڈ فون کی طرف اشارہ کیا پہن لو جو اسکی گود میں پڑا تھا اسے سنائی نہیں دے رہا تھا اس کی
136
آنکھوں کے اگے اندھیرا چھا گیا ۔گہرا سیاہ دھند
اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی پلکوں کی ادھ کھلی درازوں سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا وہ کسی چیز میں لیٹی ہوئی تھی اور کچھ لوگ اس چیز کو حرکت دے کر کہیں لے جا رہے تھے اس سے آنکھیں نہیں کھول رہی تھی وہ چیخ چلا رہی تھی تم نے اسے مار دیا اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
وہ پتہ نہیں کسی پر چلا رہی تھی سوئی کی نوک اسے چھبی پھر گہرا اندھیرا اور غنودگی تھی
کوئی اس کے بہت پاس محسوس ہوا دھمی خوبصورت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔کوئی اس کے بہت قریب تھا اس کے بالوں کو چھوا گرم سانسوں کی تپش اسے گردن پر محسوس ہوئی
اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دی
وہ کسی ہسپتال کا کمرہ تھا سفید بستر سفید چھت سفد ساڑھی میں نرسیں اس نے اٹھنے کی کوشش کی اس نے دائیں طرف دیکھا جو تھوڑی دیر پہلے اس کے پاس بیٹھا تھا اب وہ وہاں نہیں تھا وہ بستر پر اکیلی تھی ۔
Happy second birthday Dr parisha
دوسری زندگی مبارک ہو ڈاکٹر پریشے
اس نے دیکھا پاس ہی آرمی ینفارم میں کرنل مبارک دے دیے رہا تھا
تھنک یو سر اس کو اپنا گلہ بیٹھا محسوس ہوا اسے زکام بھی تھا ۔
کیسی ہیں لٹل بریو گرل
بالکل ٹھیک اس کے جسم میں اب کہیں درد نہیں تھا اس نے خود پر نظر ڈالی سفید کپڑے پہن رکھے تھے ۔
مجھے کیا ہوا تھا؟
237
کچھ نہیں نفسیاتی جھٹکا تھا جو ظاہر ہے کسی ساتھی کے مر جانے پر ہوتا ہے
اس کی کلائی سوجی ہوئی تھی چھوٹے موٹے زخم بھی تھے ۔
کسی ساتھی کے مر جانے کے الفاظ پر چونک گئ۔
ممم میں بے ہوش تھی کیا کتنی دیر؟
تین دن تک اج 25 اگست میم وہ مسکرائے وہ مسکرا بھی نہیں سکی
تین دن میں کیسے بے ہوش رہ سکتی ہوں ۔آپ کو بے ہوش رکھنا پڑا
مینیجر بلال نے بتایا کہ سم فرینڈ ان راگاپوشی ان ڑائیڈ
ڑائیڈ؟ وہ سانس نہیں لے پائی
آپ کے انکل انٹی اور ایک کزن اسلام آباد سے آئے ہوئے ہیں ۔

اسلام آباد سے؟؟  تو میں کدھر ہوں؟؟؟
آپ گلگت سی ایم ایچ میں آپ کو شاید یقین نہیں آپ زندہ بچ گئی آپ کا مونٹین کلامبنگ تاریخ کا۔۔۔۔۔۔
پلیز میرے کزن کو بلا دیں میں نے اس سے بات کرنی ہے اس نے ان کی بات کاٹی اور آرام کرنے کا کہہ کر باہر نکل گئے ۔
ڈائیڈ ۔۔وہ ۔۔۔وہ کسی کی بات کر رہے تھے ۔۔۔افق ۔۔۔افق نہیں نہیں ہر گز نہیں
اس کو آخری منظر یاد آ گیا افق کا چہرہ بند آنکھیں ڈھلکی گردن اس کا دل ڈوبنے لگا۔
ہلکی سی آہٹ ہوئی نشاء اندر داخل ہوئی
کیسی ہو پری وہ اس کے پاس آ کر بولی؟
نشاء افق کیسا ہے اس نے بے قراری سے پوچھا۔
وہ خاموشی سے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر ہلکی سی جنبش سے بولی تم ٹھیک ہو جاؤ گی پری شکر تمہارے ہاتھ پاوں فررسٹ بائٹ سے بچ گئے
138
نشاء میں نے تم سے کچھ پوچھا افق کیسا ہے؟
وہ زور سے بولی اس کا اپنے قدم برف پر  کھڑے لگ رہے تھے  ابھی  نشاء نے کچھ  کہے گی اور اس کے نیچے کچی برف پھٹ جائے گی
تم آرام کرو پری ہم پھر بات کریں گے تمہاری طبعیت ۔۔
نشاء خدا کے لیے بتاؤ افق کیسا ہے کوئی جیسے اس کے جسم سے جان نکال رہا تھا نشاء چپ کھڑی وہ بول کیوں نہیں رہی پریشے کا دل گھبرانے لگا
خدا کے لیے بتاؤ وہ اسے بچانے گے تھے کہ نہیں بتاؤ میرا دل پھٹ جائے گا۔
نشاء نے سر ہلایا وہ ٹھیک ہے
پریشے نے سر تکیے پر گرا کر شکر کیا وہ لوگ ارسہ کی بات کر رہے تھے
نشاء نے کہا کہ مگر وہ ۔۔۔
مگر کیا
وہ سانس روک کر اسے دیکھ رہی تھی
مگر وہ چلا گیا ۔
چلا گیا کہاں؟
واپس ترکی میں نے اسے روکنے کی کوشش کی نہیں رکا اس نے کہا میں نے پری سے وعدہ کیا تھا میں نے بولا بھی میں ماما پاپا انکل سے بات کروں گی مگر وہ چلا گیا
تم نے اچھا نہیں کیا پری اس کے ساتھ وعدہ کر کے
پھر کیا کرتی؟  اس کے اندر جیسے بہت زور سے کچھ ٹوٹا اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اچھا ہوا چلا گیا میں اس کے لئے پاپا کو دکھ نہیں دے سکتی تھی
کب گیا؟  اس نے روندی آواز سے پوچھا
کل جانے سے پہلے تمہیں دیکھنے آیا تھا اس کی ٹانگ کافی خراب تھی مگر ضائع ہونے سے بچ گئی ہاتھ پیر فررسٹ بائٹ تھے مگر ضائع نہیں ہوئے تھے
139
تم جاتے اس کی شکل دیکھتی تمھارا دل پھٹ جاتا تم نے اس ٹوڑ دیا ہے وہ کتنا شکست زدہ لگ رہا تھا ۔دیکھ کر لگ نہیں رہ تھا یہ وہی زندہ دل افق ہے جس کے ساتھ سات دن سوات میں گزارے تھے وہ کبھی ایسا نہیں تھا پری تم نے اس کے ساتھ برا کیا ۔
اس یاد آیا وہ بے ہوشی میں بھی افق کی  تپش سانسوں کو محسوس کیا تھا اسکی لمس اس کا چھونا مگر کیا کہہ رہا تھا وہ یاد نہیں آ رہا تھا ۔
مجھے اس بارے میں ڈاکٹر احمت فون پر بتایا تھا افق کو انہوں نے بیس کیمپ میں اتارا تھا وہ کل گلگت آیا مجھے ملا اور اسلام آباد کی فلائٹ سے گیا شام کو
سیف بھائی کو تماری پھوپھو نے اپنے طریقے سے بتایا پاپا کو بھی تم بے فکر رہو کوئی نہیں پوچھے گا سیف بھائی کو بھی نیوز پیپر سے پتہ چلا ان کی تنگ نظری کو تو جانتی ہی ہو پاپا نے سب ہینڈل کر لیا انہیں افق کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ارسہ کی ڈیتھ کے اثرات تم سے کچھ نہیں پوچھیں گے
ارسہ کے والدین؟
وہ آئے افق سے ملے افق نے انہیں اس کا ادھورا ناول لکھا دے دیا جس کا اختتام خوشگوار ہونے والا تھا مگر شاید اب نہیں ہو ۔
میں جانتی ہوں ارسہ ہماری کہانی لکھ رہی تھی وہ دھیرے سے بولی مجھے حیرت ہے افق اتنا زخمی سب سے ملتا پھر رہا اور میں بے ہوش
اس. لئے کے وہ ارسٹک نہیں تھا نشاء ہنسی
وہ ہنس بھی نہیں پائی۔




جمعہ 26اگست2005
ہیلی کاپٹر سبز گھاس پر اس کا انتظار کر رہا تھا اس نے ہاتھوں سے بال سنوارے اور برآمدے میں نکل آئی
اس کا کچر گھر میں تھا
اسے گلگت سے اسلام آباد ہیلی کاپٹر میں جانا تھا کرنل فاروق جا رہے تھے وہ بھی ان کے ساتھ چلی گئی ۔
ہیلی کاپٹر کے پاس مینیجر بلال کھڑا تھا
ہیپی سیکنڈ برتھ ڈے میم وہ خوش دلی سے مسکرایا۔
وہ بھی جواباً مسکرائی کے میں اس کو کتنا غلط سمجھ رہی تھی ۔وہ اس بھول گئے ہوں گے مگر انہوں نے بھلایا نہیں تھا وہ اسے وقت پر بچانے آ گئے تھے
241
میں نے اپنے ریسکیو کی ویڈیو دیکھی تھی آج-مجھے میجر خالد نے دیکھائی - بہت امیزینگ کام کیا آپ نے-اتنا مشکل ریسکیو کیسے کرلیا آپ نے؟میں اب تک آمیزڈ (ششدر )ہوں -"
"ارےمیم!جو کیا اللہ نے کیا-پاک فوج نے بس ہمت کی-ویسے امید ہے اب آپ مجھے شکریہ نہیں کہیں گی-"
وہ شرمندہ سی ہوگئی - "دراصل میں پریشان ہوگئی تھی - آپ بیس کیمپ سے اچانک کیوں گئےتھے؟ "
"میم!ہم فیول کے لئے گئےتھے اور ہنزہ باہر تین دن موسم ٹھیک ہونےکا انتظار کرتے رہے جیسے ہی آسمان صاف ہوا ہم آگئے-"
"مگر آپ نے افق ارسلان کو ہیلی کاپٹر میں کیوں نہیں بٹھایا؟ یہ اچھا خاصا بڑا ہیلی کاپٹر ہے-"اس نے سامنے کھڑے ہیلی کاپٹر کی جانب اشارہ کیا-
"یہ وہ نہیں ہے،جس نے آپ کو ریسکیو کیا تھا - آپکو ٹھیک سے یاد نہیں وہ "لاما"تھا ، اس میں ہم ارسلان کو کیسے بٹھاتے، وہ تو بلکل مچھر تھا - "
"کون ارسلان؟ "
"نہیں میڈم! ہمارا ہیلی!لاما مچھر ہوتا ہے-"وہ ہنسا،"وہ زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا-تین سے زیادہ بندے اس میں نہیں بیٹھ سکتے-کرنل زبیر اور میجر عاصم نے اپنی گلہری، آئی مین اپنے Square سے ارسلان کو ریسکیو کیا-اس دفعہ راکا پوشی پر ہم نے دو ہیلی کاپٹر بھیجے تھے، جیسے بلتورو پر ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے بھیجتے ہیں - "
پریشے نے غور سے سبز رنگ کے ہیلی کاپٹر کو دیکھا - "ہاں،یہ وہ مچھر تو نہیں لگ رہا "
"ارے میم!اسے کچھ مت کہیں ، یہ مائنڈ کرےگا - "
وہ ہنس دی،"میجر بلال،یہ ہیلی کاپٹر ہے-"جیسے وہ کہنا چاہ رہی تھی کہ "یہ انسان نہیں ہے-"
"جناب یہ شیر جوان ہے-"اس نے ہنستے ہوئے سبزرنگ کی دھات کو تھپکی دی-
"اینی ویز میجر بلال، میں میجر عاصم سے مل نہیں سکی-ان کو میری طرف سے شکریہ کہہ دیجیئے گا-"
"راجر میم!"پھر یک دم بولا،"ہاں،میجر عاصم آپ کا پوچھ رہےتھے - شاید کوئی چیز تھی، آپ کی ان کے پاس..
142
"نہیں کچھ بھی نہیں تھا - اچھا خدا حافظ ایک دفعہ پھر شکریہ -"وہ بات کاٹ کر ہیلی کاپٹر کے کھلے دروازے سے اندر چڑھنے لگی-
میجر بلال نے اب قدرے الجھ کے کچھ کہنا چاہا-شاید اسے کوئی الجھن تھی مگر پریشے کو علم تھا کے وہ کوئی قیمتی شےچھوڑے نہیں جاررہی - وہ جو کھو چکی تھی ، اس کے بعد آگر کچھ رہ بھی گیا تھا تو اسے پرواہ نہیں تھی - وہ اندر بیٹھ گی - میجر فاروق تیار ہی تھے، سودروازہ بند کردیا -
ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہونے لگا - اس نے ہیڈ فون کانوں پے چڑھا لئے-شور نسبتا"کم ہوگیا -
وہ کھڑکی میں چھوٹے ہوتے گلگت اور دور ہوتے پہاڑوں کو دیکھنے لگی،جن کے درمیان بڑی تمکنت اور غرور سے پربتوں کی دیوی کھڑی تھی-
"Thank you raka poshi!,"اس نے چمکتی دیوار کو کس بات کا شکریہ ادا کیا تھا، وہ خود بھی نہیں جانتی تھی -
دور دور تک پھیلے یہ وہ پہاڑ تھے، جن کی پیشانیوں جھک کے آسمان چوم رہا تھا - وہ واقعی عظیم پہاڑ تھے اور ان کے درمیان میں قراقرم کا تاج محل کھڑا تھا، جس کی سفید مرمریں دیواروں پر محبت کی ایک خاموش داستان لکھی تھی - وہ بلاشبہ آگرہ کے تاج محل سے زیادہ سفیداور خوبصورت تھا -
اس نے ایک آخری نظر قراقرم کے کوہساروں پر ڈالی-
"الوداع قراقرم - الوداع ہمالیہ - مجھے تم عظیم چوٹیوں کی قسم!میں زندگی میں پھر کبھی تم ظالم پہاڑوں میں نہیں آؤں گی -
اس نے سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں-کتنے دنوں بعد آج اس کی کمر کے پیچھے برف نہیں تھی -
"تو یہ تھا کہانی کا اختتام - آخر اس موڑ پر آکر قراقرم کی پری اور کوپیما کی کہانی بالآخر ختم ہوگئی -"وہ بند آنکھوں سے آفسردگی سے مسکرائی-
لیکن قراقرم کی پری اور کوپیما کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی -
...............
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی دل سوزلمحوں سے
243
کبھی بے کار رسموں سے
کبھی تقدیر والوں سے
کبھی مجبور قسموں سے
محبت ہار جاتی ہے
اسلام آباد واپسی پر اسے ہر اس بندے سے  لیکچر ملا
جیسے اس کو توقع تھی  پھوپھو ندا ماموں مامانی اور سب سے بڑ کر سیف سے
تمہیں اندازہ ہے تمہاری زندگی ہمارے لیے کتنی قیمتی ہے وہ اسے کتنی دیر کوہ پیما کی ہلاکت اور نقصانات بتاتا رہا جس پر وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھی تھی آخر اس نے جھنجوڑ کر بولا ۔پریشے نے  سر اٹھا کر  دیکھا ۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی
آپ کے لیے میری زندگی اہم ہے یا میں آپ کی زندگی ہوں.؟سیف کچھ بول نہ سکا۔
اگر آپ کا لیکچر ختم ہو گیا ہو تو  اب میں  جاؤں؟
پریشے تم ایندہ۔۔۔۔۔
244
پہاڑوں کا نام نہیں لو گی کلائمنگ جیسی فضول سپورٹ
 میں حصہ نہیں لو گی اور میری ہر ای میل کا جواب دو گی۔یی ناں؟
تو میں یہ باتیں سن چکی ہوں جواب دینا ضروری  نہیں سمجھتی وہ میز پر پڑے کاغذ فائل میں  جوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
سیف اتنا بےوقوف نہیں تھا کے اس کی سردمہری محسوس نہ کرتا۔مگر وہ اس کی سب باتوں کو اپ سٹ ہونا سمجھ رہا تھا ۔
مجھے دیر ہو رہی ہے وہ پرس اٹھے باہر چلی گئی
پاپا آج ہی پہنچے تھے یہ پریشے کو بعد میں پتہ چلا انہیں سن معلوم ہوا تھا مگر جانے کیوں ارسہ کی موت کے سبب وہ پریشے کی زہنی حالت محسوس کرتے کچھ نہیں پوچھا کوئی باز پرس نہیں کی کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اخبار میں انہوں نے خبر پڑھ لی تھی  مایا ناز گلائمنبر افق ارسلان کو انہوں نے نظر انداز کر دیا اہمت نہیں دی جیسے وہ خود پہلے پڑھ کر اہمت نہیں دیتی تھی ۔
پاپا اس معاملے میں  بہت احساس تھا  چوں کہ  وہ سلامت واپس آ گئی  تو انہوں نے کچھ نہیں کہا
مگر وہ بالکل ٹھیک نہیں تھی اندر سے بھی باہر سے بھی وہ زندگی بھر اتنی خاموش اور الگ تھلگ نہیں تھی پھوپھو نے دیکھا تو یقین نہیں آیا یہ وہی پریشے ہے  جو 5اگست کو ہنزہ گئ تھی
اس کی گوری رنگت ماند پڑ گئی تھی وزن 20 22 پونڈ کم ہو چکا تھا سب کیا سمجھ رہے تھے کوئی اصل بات نہیں جان پایا تھا اصل مرض نہیں پتہ تھا
پریشے جہاں زیب کو عشق ہو گیا تھا ۔
_________________________
منگل 6ستمبر 2005
اس روز ندا اپا آئیں تو اسے اپنے گھر لے گی۔کسی اور وجہ سے یا چھٹی کی وجہ سے سیف گھر پر ہی تھا اسے ندا آپا کے ساتھ آتا دیکھ کر اس کی آنکھوں  میں چمک آ گئی جس سے پریشے کو نفرت تھی
245
میں چمک آ گئی,جس سے پریشے کو نفرت تھی-
کیسی ہو پری?وہ اس کا سر سے پیر تک جائزہ لے کر مسکرایا-
پریشے نے سنجیدگی سے اسے دیکھا,سیف!آپ کو نہی لگتا کہ میں اب بڑی ہو گئی.....ہوں-آپ کو مجھے پورے نام سے پکارنا چاھیے-
اس کی بات پر سیف ہنس پڑا,مگر اس کی پیشانی پر پڑے بل دیکھ کر اسے خاموش ہونا پڑا-....آپا آپ بھی سن لیں,آئندہ پریشے کو پری نہیں کہنا-وہ خاموشی سے سیف کو دیکھتی رہی,جیسے اسے اس مزاق پر ہنسی نہیں آئی-
اوہ پری آئی ہے-پھپھو بھی کمرے سے باہر نکل آئیں,آج تو فریش لگ رہی ہو-
جی پھپھو!بس ﮈائیٹ تھوڑی ہیلدی رکھی ہوئی ہے-وہ بیٹھ گئی ندا آپا اندر سے بری کے سامان والے شاپر اور ﮈبے اٹھا لائیں-
"سیفی بتا رہا تھا تم نے پمز میں جاب شروع کر دی ہے?"
"جی پھپھو!"
"کب سے جا رہی ہو?"
چند دن ہوۓ ہیں-اسے اب اس تفتیش سے الجھن ہو رہی تھی-
خیر سے کتنی تنخواہ دیتے ہیں?
اس کو وہاں بیٹھنا مشکل لگ دہا تھا-اس نے کن انکھیوں سے سیف کو دیکھا,جو بہت دھیان سے اس سوال کے جواب کا منتظر تھا-
اس نے آہستگی سےاپنی تنخواہ بتائی-
ہاں یہ اچھی ہے-ویسے بھی بیٹا اچھی بیوی وہ ہوتی ہے,جو شوہر کے شانہ بہ شانہ کام کرے-وہ بھی تو اس کے لیے کماتا ہے-یہ اس بات کا اشارہ تھا کہوہ شادی کے بعد بھی ملازمت کرتی رہے-
اور نہیں تو کیا اچھا پری!یہ دیکھو,یہ جناح سپر سے فرینچ ویلوٹ کا لے کر آئی ہوں,پورے پانچ ہزار کا ہے-انہوں نے نیوی بلیو ویلوٹ پر فیروزی ستاروں والا ﮈوپٹہ سامنے پھیلایا-وہ قدر بے توجھی سے وہ سارا سامان دیکھتی رہی-
سیف بھی ساتھ بیٹھا کپڑوں کے بارے میں,دکان داروں کی بے ایمانی کے بارے میں
246
مسلسل تبصرہ کر رہا تھا جیسے عمومن عورتیں کرتی ہیں۔ ان کی کلاس بدلی تھی لیکن اس کلاس میں رہنے کا سلیقہ ابھی بھی نہیں آیا تھا۔
دفعتا" اس کے موبائل کی بیپ بجی اس نے موبائل نکال کر روشن اسکرین کو دیکھا۔ وہاں کوئی غیر شناسا نمبر سے میسج آیا ہوا تھا۔ اس نے میسج کھولا۔ "کیا میں آپ سے بات کر سکتا ہوں۔ آپ فارغ ہیں؟" میسج رومن اردو میں تھا تاکہ لکھنے والے کی جنس واضح ہو۔ اس نے کوفت سے اسے ڈیلیٹ کر دیا' جب سے موبائل کمپنیوں نے نرخ سستے کیے تھے ایسے میسیجز ۔۔۔ اور غیر شناسا نمبر سے کالز آتی رہتی تھیں۔ دنیا جہان کے فارغ اور لوفر لڑکے ایسے کام کرکے لڑکیوں سے دوستی کہ خواہش مند ہوتے تھے۔ اس نے " ہو آر یو؟" لکھ کر جواب بھی نہیں دیا اور موبائل رکھ دیا۔
"کس کا مسیج تھا۔؟"سیف نے فورا" پوچھا۔
"پاپا کا۔" اس نے یہ کہنے سے احتراض کیا کہ کسی کے ایس ایم ایس کے بارے میں پوچھنا غیر اخلاقی حرکت ہے۔
"اچھا یہ والا دیکھو' وہ بریزے کا ہے" انھوں نے بازو پر ایک اور ہلکا سا گرین کپڑا پھیلایا۔ وہ "ہوں اچھا ہے " کہہ کر خاموش ہوگئی۔
اسی اثنا میں روشنان اور سنی جانے کہاں سے وارد ہوگئے ۔
"ماما دیکھیں سیفی ماموں ہمارے لیئے منا پلی لائیں ہیں۔" روشنان مناپلی کا گتہ ' کارڈز اور گوٹ ماں کو دیکھانے لگی۔
"بھلا اتنے چھوٹے بچے یہ گیم کھیلیں گے؟" ندا آپا نے کہا' پریشے کو بے اختیار کچھ یاد آیا۔
رات کی تاریکی' جلتے آلاو سے اڑ کر گم ہوتی چنگاریاں ' لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز' ماہو ڈھنڈ کے خاموش پانیوں پر چڑھی چاندنی کی تہ دور دور تک پھیلا سبزہ زار۔۔۔
اس نے سر جھٹکا' اس کو مزید وہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا۔ وہ آٹھ کھڑی ہوئی۔
"میرا ڈیوٹی ٹائم ہے' ڈاکٹر وسطی بہت خفا ہوں گے' مجھے جانا ہوگا۔" بہانا اسے سوجھ گیا تھا۔
---------------------------
پیر' 12 ستمبر2005ء
جیولری شاپ کا شیشے کا دروازہ دھکیل کر وہ اندر داجل ہوئی۔ سیف اس کے عقب میں تھا۔
247
وہ اعتماد سے چلتی شوکیس کے سامنے سیٹوں کی لمبی قطار میں سے ایک کرسی کھینچ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔ سامنے بیٹھا سیلزمین پروفیشنل خوش اخلاقی سے اس کی جب متوجہ ہوا' " جی میڈم"۔
سیلرز میں کے پیچھے والی دیوار شیشے سے ڈھکی ہوئی تھی' چمکتے شیشے کی دیوار۔۔۔ اسے کچھ یاد آیا۔ اس نے سر جھٹکا اور آئینہ میں ایک نظر خود پر ڈالی۔ لمبے اور سیدھے بالوں کو آدھا باندھ کر اس نے کیچر لگایا ہوا تھا۔ قیمتی پھتروں سے مزین کیچر جس کا دور نگار پھتر ڈھیلا تھا۔ کیچر سے چند لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چھو رہی تھیں۔ چند دنوں سے کھانے پینے کی احتیاط سے اس کا چہرا خاصا تروتازہ اور گال بھرے بھرے لگ رہے تھے۔
سیف اس کے ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔اس کو دیکھ کر دوربیٹھا ادھیڑ عمر سنار لپک کر اس کی طرف آیا۔
" جی سیٹھ صاحب' کوئی یونیک چیز دکھائیں ہماری ہونے والی دلہن کو شادی کے دنپہننے کے لیے۔"
اس کو سیف کا متعارف کروانے کا انداز برالگا تھا مگر وہ خاموش رہی۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
سنار سیٹھ جھٹ سیاہ مخملیں ڈبوں میں سجے چمکتے دمکتے سونے کے سیٹ شوکیس پر رکھنے لگا۔ دوسرا لڑکا اس کی ھمدد کر رہا تھا۔
پریشے ایک ایک کر کے ہر سیٹ کو مسترد کرتی رہی۔ اسے اس سب میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ وہ تو پاپا اور پھپھو نے کہا تھا کہ وہ سیف کے ساتھ اپنی پسند کی شاپنگ کر آئی تو وہ چلی آئی تھی۔
سیف نے بہت سے ڈبے کھلوالیے ۔ وہ جیولر کو اچھی طرح سے جانتا تھا۔ یقینا" وہ پہلے یہاں آتا رہا تھا۔ ندا آپا کی شادی کو کافی عرصہ گزر چکا تھا' جب ان کی شادی ہوئی تھی تو سیف اتنی مہنگی جیولری افورڑ نہیں کر سکتا تھا۔ یقینا" وہ پچھلے چند برسوں میں یہاں آتا رہا تھا۔ جانے کتنی عورتوں کو زیورات دلوانے۔شاید اسی لیے اس نے دکاندار پر واضح کیا تھا کہ وہ لڑکی اس کی ہونے والی بیوی ہے۔ سووہ محتاط رہے۔
ایک لمحے کو بھی اس کا دل نہیں چاہا تھا کہ وہ جیولرز سے سیف کے چکروں کے متعلق پوچھے۔ اسے سیف اور اس کے افیئرز میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اگر پاپا جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنی آنکھیں اور دل کب کا بند کر چکی تھی۔
"یہ فیروزی پجتر والا تو بہت اچھا ہے۔یہ لے لو۔" اسے کچھ یاد آیا۔ اس نے بالوں پر لگایا ہوا کیچر۔۔۔
248
کیچر اتارا,سیاہ آبشار کمر اور چہرے پہ گرتی چلی گئی-
آپ کے پاس اس طرح کا کوئی دوسرا پتھر ہوگا یا آپ اس پتھر کو جوڑ دیں-یہ کسی بھی لمحے اکھڑ جاۓ گا-پریشے نے کیچر شوکیس پہ رکھتے ہوے دو رنگے پتھر کی جانب اشارہ کیا-
یہ بلکل گرنے والا ہے-اس کیچر کو پھینک دو میں تمہیں نیا لے دونگا-سیف نے لاپرواہی سے کیچر اٹھا کر ﮈسٹ بن میں پھینکنا چاہا-کسی چیتے کی تیزی سے پری نے چھپٹ کر اس کے ہاتھ سے کیچر چھینا-
ہاتھ مت لگائیں اسے-یہ بہت کیمتی ہے,سمجھے آپ?"kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

کسی متاع عزیز کی طرح اسے مٹھی میں بند کیے پریشے نے سیفطکو غصیلی نگاہوں سے دیکھا-وہ اس کے ردعمل پر شدررہ گیا-"پریشے تم,"اس نے آہستہ آواز میں کچھ کہنا چاہا-میں گاڑی میں بیٹھ رہی ہوں آپ کو آنا ہے تو آ جائیں,نہی تو میں ٹیکسی سے چلی جاوں گی-
بالوں کو پوری طرح کیچر میں جکڑ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کھٹ کھٹ چلتی گلاس ﮈور دھکیل کر باہر نکل گئی-سیف جیولر سے معزرت کرتا کچھ ہیران اور کچھ دبے دبے غصے کے ساتھ اس کے پیچھے باہر نکل گیا-
جیولر نے استہزایا انداز میں سر جھٹک کر ساتھ والے لڑکے کو بتایا-بیگم صاحبہ شادی پر خوش نہیں ہیں,چچ چچ.......
لڑکا دانت نکوسنے لگا,جیولر پھر سے اپنی سیٹ سنبھال کر رجسٹر پر جھک گی جب کے لڑکا شوکیس رکھے زیورات کے مخملیں ﮈبیں بند کرنے لگا-
*...............*...............*
منگل,13 ستمبر2005ء
وہ ہسپتال جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی-اوورآل بازو پر لپیٹا,سٹیتھو سکوپ پاکٹ میں گھسایا,جلدی جلدی جوتوں کی سٹریپس بند کیں,بالوں کو اسی طرح اسی کیچر میں جکڑا اور پرس کندھے پر ﮈال کر باہر نکل آئی-
گاڑی کی جانب بڑھتے ہوۓ اس نے نشاء کو گیٹ سے اندر آتے دیکھا-
تم ہسپتال جا دہی ہو?وہ اس کی تیاری اور اجلت بھرے انداز کو دور سے ہی پہچان گئی تھی-
ہاں,کہو کوئی کام ہے?وہ گاڑی کا لاک کھولتے ہوۓ کھڑی ہونے لگی-
249
میم آپ کے جہیز کی شاپنگ کرنی ہے آپ کو  ممی بلا رہی ہیں ۔
اوہو نشاء مامی کی چوائس بہت اچھی ہے وہ خود کر لیں گی تم ہیلپ کروا دینا تمہیں ان کی پسند نا پسند کا علم تو نہیں ہے ۔
مگر اب ہم جوتے لینے جا رہے ہیں تمہیں ہی جانا ہو گا
یار ادھر پنڈی اسلام آباد سے کہاں جوتے اچھے ملتے ہیں اور میرے پاس بہت جوتے ہیں اچھا تم رہنے دو میں لیٹ ہو رہی اس نے فکر مندی سے گھڑی دیکھی۔
بے وقوف لینے تو پڑے گے آخر شادی تمہاری ہے ۔
اس کے چہرے پر سایہ سا گزرا اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی دروازے پر
پری ۔۔وہ اس کے پاس آ گئی  اگر فیصلہ کر لیا ہے تو کمپرومائز کرنا سیکھو۔سیف جیسا بھی ہے اسے قبول کرو اور دل سے کرو۔
دل ایک پھکی سی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی دل تو کئ دور قراقرم کے پہاڑوں میں رہ گیا اب تو یاد بھی نہیں کس جگہ کھویا تھا اسے ۔
کوئی فون کوئی خط کوئی رابطہ نہیں کیا اس نے؟
وہ جانتی تھی نشاء کس کی بات کر رہی ہے۔
میں نے اسے فون نمبر دیا کب تھا
ای میل؟
احمت کی وائف کی آئی تھی میں نے جواب نہیں دیا۔مجھے ترکی کے واسیوں سے رابطہ نہیں رکھنا ۔وہ سر جھٹک کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر دروازہ بند کر لیا۔کھلے شیشے پر جھکی پریشے نے سوالیہ نگاہوں  سے اسے دیکھا
خوش رہ کرو پری ورنہ لوگ جان جائیں گے ۔
جاننے دو اس نے اگنیشن میں چابی گھومائی۔نشاء پیچھے ہو گئی تو اس نے گاڑی باہر نکال لی۔
ہاتھوں کی لکیروں میں کیا تلاش کرتے ہو
ان فضول باتوں میں کس لئے الجھتے ہو ۔
150
جس کو ملنا ہوتا ہے
بن لکیر دیکھے ہی
زندگی کے رستوں پر
ساتھ ساتھ چلتا ہے
پھر کہاں بچھڑتا ہے
_______________________________
یہ اسی دن کی بات ہے جب اسے بےہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا ۔جہاں زیب صاحب کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی وہ آفس سے جلدی گھر آ گئے تھے  جیسے ہی گاڑی سے نکلے ان کی حالت بگڑ گئی تھی
وہ اپنے سب کام چھوڑ کر بھاگم بھاگ وہاں پہنچی ۔جب گھر پہنچی ممانی نشا  پہلے سے موجود تھے اور پاپا۔۔۔۔۔۔وہ اس کے آنے سے پہلے جا چکے تھے اس کے ملنے کا انتظار بھی نہیں کیا
اسے نہیں معلوم وہ کتنے دن کھائے پیئے روتی رہی اس کے بہت غم تھے کس کس کا ماتم کرتی۔
اس نے اپنی پہلی اور آخری محبت کو جس کے لیے چھوڑا وہ دنیا میں اسے تنہا کر کے چھوڑ گیا ۔
وقت چھے سال پھر پیچھے چلا گیا جب کسی نے سر پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا تھا کھوکھلے دلاسے جھوٹی تسلیاں آج بھی دے رہے تھے ۔
اس نے بہت لوگوں کو پاپا کے  سرہانے بین کرتے دیکھا ان میں ندا آپا بھی تھی اور پھوپھو بھی وہ سب کو بھیگی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور جانچ رہی تھی ان کے آنسوں کی حقیقت کو سمجھتی تھی وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس بھر دنیا میں پاپا کا
151
دکھ تھا وہ خود تھی ۔اس کی زندگی میں دو لوگ توتھے دو ہی مرد ایک پاپا ایک ارسلان ایک پہلے چھوڑ گیا اور دوسرے اب وہ اب پھر سے  اکیلی رہ گئی تھی
____________________
وقت کا کام ہے گزرنا وہ گزرتا گیا
رو کر یا ہنس کر
بھلا وقت کہاں ایک سا رہتا ہے ۔
سو پریشے جہاں زیب کی زندگی کا بھی وقت گزر رہا تھا چن دن اس نے  بہت ماتم کی جیسے اب زندگی ختم ہو گئی ہے مگر گزرتے دنوں کے ساتھ اس نے خود کو سنبھال لیا۔
وہ پھر کمزور ہو گئی تھی  بولنا ہسنا ترک کر دیا تھا  زندگی کو بہتی ناو میں  چھوڑ دیا تھا ۔
اب اتنے بڑے بنگلے میں رہ کر کیا کرتی۔شادی تو جہان زیب صاحب کی وفات سے  فلحال ملتوی ہو گئی تھی اس نے ماموں کے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
ویسے ماموں اسے اکیلے کہاں رہنے دے رہے تھے اس کے سوچنے سے پہلے لے آئے تھے
چند دن اس نے  بند کمرے میں  گزار لیے۔پھر ایک روز نشاء اس کے پاس آئی سمجھانے لگی۔
زندگی میں غم آتے رہتے ہیں میں صبر کا تو نہیں کہہ سکتی مگر خود کو سنبھالو۔
میں کوشش کر رہی ہوں
میری مانوں تو ہسپتال پھر سے جوائن کر لو۔
ہاں یہی سوچ رہی تھی کہ مصروف رہو گئی تو صبر آ جائے گا۔وہزبردستی مسکرائی ۔
پری اب تم زندگی کو نیے سرے سے شروع کرو
نشاء بہت آرام سے بول رہی تھی ۔
جو جیسے ہو رہا ہونے دو۔نشا مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں  ۔پاپا نے
152
میرے لیے اچھا ہی سوچا ہو گا۔اس لیے مجھے مزید کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔مجھے سیف قبول ہے کے کہنے سے  قبل اس کا مطلب سمجھ کر پریشے نے کہا۔نشاء احتجاجاً کچھ کہنے لگی مگر پھر اس قصے کو کچھ وقت کے کے چھوڑ دیا۔
پریشے بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اس نے ہسپتال جانا شروع کر دیا حالات معمول پر آنے لگے تھے اس کو انتطار تھا نشاء پھر کوئی اس بارے میں بات کرے گی مگر اس نے نہیں کی ۔
ماموں ممانی نشاء کی محبتوں کے قرض اٹھائے وہ زندگی گزار رہی تھی اسے شاید صبر آ گیا تھا یا پھر سمجھوتہ کر لیا تھا ۔
_______________________
جمعہ 30ستمبر 2005
وہ ہسپتال اپنے کمرے میں بیھٹی تھی ۔سامنے والی نشت پر ایک عورت اور ایک نو عمر لڑکی اس کی طرف دیکھ رہے تھے وہ تیز تیز پنسل چلا رہی تھی  جیسے وہ سیدھی ہوئی۔کاغذ اس عورت کو دیا بچی کی خوراک کا خیال رکھیں ۔یہ ویسے بھی کم عمر ہے گھر جا کر کام نہیں کرواتے رہنا۔عورت نے شکریہ ادا کیا اور سہمی ہوئی بچی سب سن رہی تھی  سستا سا زیوار پہنے۔
اس دوران اس کے موبائل کی گھنٹی بجی
153
اس نے فائل کو کے صفہے پلٹتے ہوئے مصروف انداز میں  ہیلو کہا۔
ڈاکٹر پریشے جہاں زیب بات کر رہی ہیں جی؟
مردانه اور غیر شناساتھی۔اس نے کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا پنڈی سرکاری ہسپتال نمبر تھا
جی بات کر رہی ہوں آپ کون؟
ڈاکٹر صاحبہ میں رائزنگ پاکستان سے بول رہا ہوں ہم آپ کو اپنے شو میں  انوائٹ کرنا چاہتے ہیں کوئی پروڈیوسر بات کر رہا تھا
اچھا مگر کس سلسلے میں
آپ کو ابھی چند ہفتے پہلے  راگاپوشی سے  ریسکیو ۔۔۔۔
سوری مجھے کوئی انٹرویو نہیں دینا۔وہ کہہ کر فون بند کر کے دوبارہ فائل دیکھنے لگی۔
چند لمحوں بعد دوبارہ گھنٹی بجی
اس نے نمبر دیکھا وہی نو سے شروع ہونے والا تھا
جی؟؟
ڈاکٹر صاحبہ ہم آپ کو انٹرويو کے لئے بہت اچھا ۔۔۔۔۔
رونگ نمبر میں وہ پریشے جہاں زیب نہیں ہوں بائے اس نے کال کٹ کر دی۔اسی لمے پھر گھنٹی بجی اس نے نمبر دیکھا بھی نہیں اور فوراً کان سے  لگا کر غصے سے  بولی جی فرمائیے
اسلام عیلکم ڈاکٹر پریشے اس بار آواز مردانہ روبدار تھی
اپ کو کیا پرابلم ہے
آپ کو یاد ہو گا آپ کو راگاپوشی سے پاک آرمی نے۔۔۔
گناہ کر دیا تھا پاک آرمی نے  معافی چاہتی ہوں میں  بچ کر  زمین پر  آ گئی خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں میں اگلی بار بچ کر آنے کی غلطی نہیں کروں گی ۔
154
اب مجھے کال مت کیجئے گا۔کھری کھر سنا کر کال منقطع کر دی اور موبائل رکھ دیا۔
اتنے دن ہو گئے پھر بھی لوگ بھولے نہیں ابھی ۔۔۔بڑ بڑاتے ہوئے اس کی نگاہ کلینڈر پر پڑی جو اسے  سعد بک بینک سے مفت ملا تھا
اس نے گھڑی دیکھی رات کے 8بج رہے تھے وہ اٹھی جانے کے لئے کلینڈر کے صفہے پلٹے وقت نے اسے اکتوبر میں لا کھڑا کیا
وہ جو چیز بھول جانا چاہتی تھی نا جانے کیوں کالی بلی کی طرح  اس کا رستہ روک لیتی تھی ۔
اس نے کلینڈر اٹھا کر دراز میں ڈالا اور  کھڑی ہو گئی
اس کا موبائل ابھی تک آف تھا…#قراقرم_کا_تاج_محل
#نمرہ_احمد
#تیرھویں_چوٹی_سکینڈ_لاسٹ

#Typing_Udas_Dil

ہفتہ آٹھ اکتوبر 2005
سفید دودھ سے ی برف پر دراڑیں پڑ رہی تھی دراڑ کے نیچے برف سلیب ہو کر بشیب میں گرنے لگی۔ہر سو برفیلی سفید دھول میں افق کئ گم تھا وہ چلا کر افق کو پکار رہی تھی
وہ کئ نہیں تھا اردگرد کے پہاڑوں سے  قہقہے تھے
وہ ایک جھٹکے سے  اٹھ بیٹھی
اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔اس نے بے یقینی کے عالم میں چہرے کو چھوا۔وہ بستر پر تھی راگاپوشی میں نہیں تھی اپنی آرام گاہ میں تھی
256
اس نے چہرے کو دوپٹے سے صاف کیا چند منٹ لگے خود کو نارمل کرنے میں وہ خوف زدہ کرنے والے خواب اس کا پیچھا نہیں  چھوڑ رہے تھے ۔
اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی پونے نو ہونے والے تھے
او خدا مجھے تو آٹھ بجے تک ہسپتال پہنچنا تھا وہ تیزی سے واش روم کی طرف بھاگی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے بالوں میں کیچر لگائے الٹے سیدھے جوتے پہنے پانچ منٹ میں باہر آ گئی ممانی اور نشاء سامنے نظر آ رہی تھی ماموں شاید آفس جا چکے تھے
اس نے دیکھا ٹیبل پر ناشتہ نہیں اس نے جلدی سے فریج سے  دودھ کا ڈبہ نکال کر منہ سے لگایا ہی تھا کہ اسے یاد آیا آج تو  روزہ ہے
اسے خود پر ہنسی بھی آئی اور شرمندگی بھی اس نے واپس فریج رکھ ہی رہی تھی  زمین زور سے ہلی۔
اس کے ہاتھ سے جوس دودھ کا ڈبہ گر گیا اس نے لڑکھڑاتے ہوئے قریبی میز کو مضبوطی  سے تھام لیا زمین نے زور دار جھٹکے دیے اور سکونت چھا گئی
مجھے خواب اور چکر بہت آنے لگے ہیں خود کو کوسنے لگی پیکٹ اٹھا کر فریج میں رکھا۔پرس اٹھا کر نکل گئی ۔
اس کا جواب دیر سے آنے پر ڈاکٹر واسطی کے سوال کے جواب سوچ رہا تھا ۔
ہسپتال میں معمول معمول کا تھا وہ تیزی سے سامنے آنے والے ڈاکٹر واسطی کی طرف بڑھی
وہ سر میں آنے ہی والی تھی کہ میری کار۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ جلدی سے ایمرجنسی میں جائیں وہ جلدی میں بول کر اگے بڑھ گئے وہ حیران سر نے ڈانٹا نہیں
وہ مٹری تو سامنے ٹی وی سکرین پر نظر پڑی
257
کی نیوز فلیش تھی جس سے اسے علم ہوا کہ چند منٹ قبل اس کا سر نہی چکرایا تھا-
*..........*..........*
ایک حشر برپا تھا-اسے نہی معلوم تھا کہ وہ کتنے گھنٹوں سے مریضوں میں گھری تھی-ایک ٹانگ ایمرجنسی میں تھی تو دوسری جنرل وارﮈ میں-زخمیوں کو لانے کاسلسلہ کئی گھنٹوں تک تھا بلکہ اب توکشمیر سے بھی زخمی لاۓ جا رہے تھے-راولپنﮈی,اسلام آباد کے تمام ہسپتال بھرے ہوۓ تھے-ہر چند منٹ بعد سٹریچر پر زخمی لاۓ جا رہے تھے-کوئی خون میں لت پت,کوئی جسمانی اعضاء سے مہروم تو کسی کا چہرہ مسنح ہو کر سیاہ ہو چکا تھا,عجب منظر تھا-
یہ صرف مارگلہ ٹاورز تک محدود نہی رہا تھا ,بلکہ کشمیر کے چناروں تک یہ قیامت خیز حلاکت ہو گئی تھی-مانسہرہ,ایپٹ آباد,باغ,وادی نیلم,وادی جہلم,گڑھی ﮈوپٹہ,گڑھی ہدیکل,بانا,کا ﮈھاکا,اور ایسے نام والے بہت سے شہر اور گاؤں جو آدھے پاکستان نے زندگی بھر تھے-سیاستدان اور وزیر تو مارگلہ ٹاورز کے ملبے پر کھڑے ہو کر تقریر کر کے اور فوٹو بنوا رہے تھے-مگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافز تھی-جانے کتنی دیر بعد وہ زرا جو ک.ر سیدھی کرنے کو کمرے میں ایک طرف رکھے صوفے پر جا کر بیٹھی تو قریب بیٹھے کسی ﮈاکٹر کا فقرہ کانوں میں ٹکراۓ-
یہ سب ہمارے گناہوں کی سزا ہے-
اس کا یکدم پارہ ہائی ہو گیا-گناہوں کی سزا ہے تو اللہ سے معافی مانگیں-اور اپنی اصلاح بجاۓ ادھر بیٹھ کر دوسروں کو نصیحت کر نے کے -تبدیلی ہمیشہ میں سے شروع ہوتی ہے,تم سے نہیں-غصے سے کہہ کر وہ اٹھی اور تیز تیز قدموں سے چلتی راہداری کا موڑ مڑتے ہوۓ کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی-
سوری میں............اسی بگڑے موﮈ میں سوری کرتے کرتے وہ رک کر اس نو عمر لڑکے کو دیکھنے لگی جس سے وہ ٹکرانے والی تھی-بہت جانی پہچانی شکل تھی-
ﮈاکٹر پریشے,کیسی ہیں آپ?اس نے آستینیں کہنی تک چڑھا رہی تھیں اور غالبا مریض کو مارگلہ ٹاورز سے لانے میں رضا کا رانہ طور پر مدد کر رہا تھا-
ٹھیک ہوں تم وہی ہو نہ جس کے ابا
258
جی جس کے ابا کے بارے میں آپ نے پیش گوئی کی تھی کہ انہیں ترقی ملے گی,جب کہ وہ پچھلے ہفتے ریٹائر ہو گۓ ہیں-وہ مسکرا کر بولا-
تو مجھے تو حسیب نے کہا تھا-وہی بڑا امپریس تھا جنرل صاحب سے,میں تو نہی تھی-ظاہر ہے,ان جیسا ہینﮈسم کو کمانﮈر پنﮈی کو کبھی نہی ملا-
اچھا ہٹو راستے سے -وہ رکھائی سے کہ کر اس کے ایک طرف سے نکل کر آگے بڑھ گئی-وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا,اس وقت تک جب تک وہ راہداری کے اخری سرے سے آگے غائب نہ ہو گئی اور پھر سر جھٹک کر خود بھی مخالف سمت کو ہولیا-
*..........*..........*
بدھ,12اکتوبر2005ء
کچھ پتا چلا تمہارے کزن کا,فرح?ہسپتال جانے کے لیے تیار ہوتے ہوۓ اس نے فون کان سے لگاۓ پوچھا-فرح اس کی کولیگ ﮈاکڑر تھی اور 18 اکتوبر کے زلزلے کے بعد اکٹھے کام کرنے کے باعث دونوں میں اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی تھی-
نہیں یار,ان کا اپارٹمنٹ دوسرے فلور پر تھا اور مارگلہ ٹاورز کے دوسرے فلور پر تو آٹھ فلور ز گر پڑے ہیں-اچھا,میں نے تمہیں فون اس لیے کیا تھا کہ مظفرآباد میں پیرا میﮈیکل اسٹاف کی ضرورت ہے-میں نے دو لینٹیر کر دیا ہے-تم چلو گی?
نہیں میں ادھر ھی ٹھیک ہوں-ویسے تم جاؤ گی کیسے?
آرمی ہیلیکاپڑر پر اور کیسے?روﮈز تو ابھی تک بلاک ہیں-لینﮈ سلائﮈنگ بھی خاصی ہوئی ہے-چلو پھر بات ہوگی-
پریشے نے الودائی کلمات کہہ کر فون رکھ دیا اور جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکل گئی-رات تین بجے وہ آکر سوئی تھی,سو آج دیر سے آنکھ کھلی تھی-
اسلام علیکم پھپھو!ماموں!آپ ابھی تک آفس نہی گئے?پھپھو بھی ماموں کے ہمراہ لاونچ میں ہی بیٹھی تھیں-وہ بہ یک وقت دونوں کو مخاطب کر کے بولی-
بس نکلنے لگا ہوں-تم نے سحری نہی کی?
بس اٹھ نہی سکی مگر نیت کر لی تھی-وہ اپنی ازلی لاپرواہی سے بولی-ماموں واقعی جانے ہی والے تھے سو اٹھ کر چلے گئے-وہ مروتا کچھ دیر کے لیے پھپھو کے پاس جا کہ بیٹھ گئی-
259
تو ظاہر ہے اب بھائی کی وجہ سے لیٹ ہی کریں گے مگر تیاری تو بہرحال کرنی ہے۔
"میں پٹیالہ والوں سے دونوں سیٹ اٹھانے جا رہی ہوں' تم بھی ساتھ چلو۔ پھر آگے مہندی کا پسند کرنا ہے ' وہ تم خود ہی پسند کرنا ۔اب مجھے کیا پتا آج کل کی لڑکیوں کی پسند کا۔" وہ حیرت سے منہ کھولے انھیں دیکھنے لگی۔
"میں تمھیں لینے ہی آئی تھی۔" انھونے وضاحت کی۔
"کس کے لیے پھپھو! ملک پر آفت ٹوٹی ہوئی ہے لوگ مر رہے ہیں اور آپ لوگوں کو مہندی کے جوڑے کی پڑی ہوئی ہے۔؟" اسے سخت صدمہ پہنچا تھا۔
"وہ تو ٹھیک ہے مگر زلزلہ ہم تو نہیں لائے۔ یہ دکھ سکھ رو چکتے ہی رہتے ہیں۔ اب ان کے لیے اپنی خوشیاں بھی حرام کرلیں۔" پھہھو کو اس کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
"دکھ سکھ چلتے نہیں رہتے دکھ تو آتے ہیں اور ٹہرجاتے ہیں۔ جانے کتنے بوڑھ اور بچے اس زلزلے میں جان ہار گئے۔ فرض کریں ' ہم تب بھی خوشیاں مناتے اگر ان مرنے والوں میں ' میں یا سیف ہوتے؟"
"خدا نہ کرے سیف کیوں ہوتا؟" وہ دہل کر بولیں۔
پریشے انھیں دیکھ کر رہ گئی۔ انھوں نے صرف سیف کا نام لیا تھا۔ انھیں صرف سیف پیارا تھا۔یہ نہیں "خدا نہ کرے تم اور سیف کیون ہوتے؟" وہ کسی گنتی میں بھی نہ تھی۔
"کم از کم پاپا کا کفن تو میلا ہونے دیا ہوتا پھپھو!" وہ پیزی سے کہہ کر باہر۔ نکل آئی اور پھر کتنی دیر کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
وہ شاید اس دنیا میں کسی کے لئے اہم نہیں تھی' سوائے اس شخص کے جو اسے قراقرم کی پریکہتا تھا جس نے محبت بھی کی تھی اور اظہار بھی کیا تھا۔
ہسپتال کے سارے راستے وہ روتی آئی تھی اور پھر ہسپتال پہنچ کر اس نے فورا ڈاکٹر فرح کو ڑھونڈا۔
"تم مظفرآباد جا رہی ہو ناں؟ تو پھر مجھے بھی ساتھ لے چلو۔" اس نے فرح کو ملتے ہی اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ جو وہ سارے راستے کرتی آئی تھی۔
"ٹھیک ہے پھر ابھی چلو" فرح نے مصروف سے انداز میں کہا اور آگے کو بڑھ گئی۔
وہ۔۔۔ وی آج پھر ۔۔۔ ایک دفعہ ان پہاڑوں میں واپس جارہی تھی جن کی شکل نہ۔۔۔
260
دیکھنے کی قسم اس نے کھائی تھی ۔تین ماہ قبل بھی وہ پھپھو اور ندا آپا کے لگائے زخموں سے نجات کے لئے پہاڑ آ گئی تھی ۔
آج پھر اس نے فرار حاصل کرنے کا وہی طریقہ سوچا تھا ۔
______________________
جمعہ 14اکتوبر 2005مظفر آباد
وہی بارشوں کا موسم
وہی سردیوں کی شامیں
وہ دلربا گھاٹیں
وہ سانس لیتی خوشبو
وہی موڑ مڑاتی سڑکیں
وہی پر سکون جگہ ہے
ہے فرق بس زرا سا
وہ گزشتہ موسم میں میر ہمنوا تھا
جانے وہ اب کہاں ہے ۔
جانے وہ کہاں ہے
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
وہ ایک سکول کی عمارت کے نیچے کھڑی تھی ۔اس کے  پشت پر سبزہ زار جس کے آخری کنارے پر کھڑے ہیلی کاپٹر
کے پروں کی گڑگڑاہٹ اس حاطے میں موجود بیسویں لوگوں کو کان پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر رہی تھی
چھت کے ٹوٹے ٹکروں کے نیچے جانے کتنے بچے زندہ تھے ۔ریسکیو رضا کار اور فوجی مسلسل  سکول کا ملبہ ہٹا کر بچے نکال رہے تھے
وہ دور کھڑی خوموشی سے  دیکھ رہی تھی کیچر میں  لگے بال ہوا میں  اڑ رہے تھے ۔کسی ب
بچے کو سٹریچر پر ڈال کر دو فوجی جوان کیمپ لے جا رہے تھے ۔
261
موڑ کر اسٹریچر پر موجود معصوم بچے کو دیکھتی رہی۔
ہلی کاپٹر کی جانب سے کیموفلاج یونیفارم میں ملبوس ایک آرمی آفیسر تیزی سے دو جوانوں کو آواز دے رہا تھا۔
میں نے کہا تھا کہ دس سے بیس کلو والے پیکٹ بنانے ہیں' ایزی ڈراپ کے لیے مگر انھوں نے۔۔ بولتے بولتے وی یک لخت رک کر پریشے کو دیکھنے لگا۔ پریشے نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور واپس منہ عمارت کی جانب موڑ لیا۔ اسے کیپٹن کا انتظار تھا جس کے ساتھ اس کو میڈیکل کیمپ جانا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ سمارٹ سا آفیسر ابھی بھی اسے ہی ریکھ رہا ہے۔اس نے مڑ کر دیکھا۔وہ اب پری کی جانب اشارہ کر کے کیپٹن سے کچھ پوچھ رہا تھا۔ کیپٹن چند لمحوں بعد وہ وہاں سے چلاگیا۔ وہ آفیسر پھر سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ پریشے کے لیے قطعا" انجان تھا۔ وہ اگر کسی آرمی والے کو جانتی بھی تھی تو وہ وہی تھے' جنھوں نے اسے راکاپوشی سے ریسکیو کیا تھا۔ وہ ان آفیسران میں سے نہیں تھا۔
جب کیپٹن بشیر آیا تو وی اس کے ہمراہ وہاں سے جانے لگی۔
کیپٹن بشیر سے اس کا تعارف وہیں مظفرآباد میں ہوا تھا۔ وہ بہت سادہ' موودب اور انچا لمبا تھا۔ اس کا باپ فوج میں صوبےدار رہا تھا۔ وہ اپنے گاوں کا تیسرا لڑکا تھا جو فوج میں گیا تھا اور اس بات پر بے حد فخر تھا۔
پریشے وہاں آرمی کے فیلڈ ہسپتال میں ہی رہ رہی تھی۔ بشیر اس دوران اس کی پر ممکن مدد کرتا تھا۔ اتفاق سے اسے ایک دن پریشے نے اپنا "لیزان آفیسر" کہا تو ڈاکٹر فرح نہت حیرت سے بولی۔
"کیا مطلب؟"
"کچھ نہیں' یہ ماونٹین کلائیمبرز اور پاکستان آرمی کا آپس کا مزاق ہے۔" وپ ہنس کر بوکی تھی اور پھر کام میں مگن ہوگئی۔ اس سے زیادہ وہ کسی سے فری نہیں ہوتی تھی۔
"سنو کیپٹن بشیر! یہ آدمی میرے بارے میں کیا کہہ رہا تھا؟" اس کے ہمراہ چلتے ہوئے پریشے نے پوچھا ۔
"آپ کا نام وغیرہ پوچھ رہے تھے۔ میں نے بتا دیا۔"
"اچھا۔"( جانے کون تھا) اس نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔
262
"ویسے میڈم میں نہیں جانتایہ کون تھے ۔ایوی ایشن کے تھے شاید اور۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے۔اٹس اوکے۔"لمبی وضاحت سے بچنے کےلئے وہ بولی تو کیپٹن بشیرفورا"خاموش ہوگیا۔
یہ سویلین ڈاکڑر بہت موڈی تھی،وہ اندازہ کرچکاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ،21اکتوبر،2005
"کتنا خراب ہو رہاہےزخم، او گاڈ!"وہ بڑبڑاتے ہوئے بچی کی پٹی کھولنے لگی۔اس کا گھر مسمار ہوگیا تھا-وہ 8اکتوبر کو ہی نکالی گئ تھی،مگر ابتادئی طبی امداد کے طور پر اس کا زخم چائے کی پتی سے بند کیا گیا،جو اب اسے خراب کر رہی تھی۔
ادھر باغ میں بھی سب کوگوں کے زخم اسی طرح بند کیے گئے تھے۔جو بےحد نقصان دے تھے،خیر اور کرتےبھی کیا۔وہ اب زخم صاف کرتے ہوئے افسوس کررہی تھی۔
وہ کل ہی باغ سے واپس آئی تھی۔وہاں روز تقریبا"ڈیڑھ سو مریض دیکھتی تھی،جو چھے چھے کلومیٹرسفر کرکے کیمپ تک پہنچتے تھے۔جانے کتنے دنوں سےاسکی نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔
وہ اس وقت مظفرآباد کے نیلم سٹیڈیم میں نصب فیلڈ ہسپتال کے ایک خیمے میں تھی۔اس کے سامنے اور اس کےدائیں طرف چند اور مریض بھی بیٹھے تھے
دفعتا"کیپٹن بشیرخیمے کا کپڑاہٹاکر اندر آیا۔
"میڈم! ویکسین آگئی ہے۔"اسنے پیکٹ اس کی میز پر رکھا-پریشے نے سر اٹھا کر اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔
"اتنی جلدی؟ابھی تو کہا تھا-"
"یہ دراصل یونسف کے جو ڈاکٹرزتھے،وہ لائے ہیں-ساتھ میں ہائی انرجی بسکٹ بھی ہیں۔"
"اچھااوراس اسکول کا پورا ملبہ ہٹا-"
"تقریبا"برٹش ٹیم آئی ہوئی ہے-"
"ہوں-"وہ سر جھٹک کر کام میں مصروف ہوگئی-برٹشر،یونیسف،جانے کتنے غیر ملکی آئے ہوئے تھے-
ایک دم اس نے چونک کر سر اٹھایا-"کیپٹن بشیر!"وہ جانے لگا تھا اسکی آواز پر جاتے جاتے پلٹا-
263
"یس میڈم؟"
آپ نے کہہ بہت سے غیر ملکی آئے ہوئے ہیں-ترکی سےکوئی نہیں آیا؟"اس کے بظاہر سرسری سا پوچھا -
"جی آیا تھا - "
وہ حیرت سے ایک پل کو ساکن ہوگئی -
"کون؟"وہ سانس روکے اس کے جواب کی منتظر تھی -
"میڈم طیب اردگان آیا تھا،شوکت عزیز کے ساتھ کل پورے علاقے کا دورہ کیا-"
اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے - "اچھا -"وہ پھر سے بچی کے زخم پر جھک گئی-
کیپٹن بشیر نے باہر جانےکے لیے خیمے کا پردہ اٹھایا - تب پریشے نے پھر اسے پکارا،"سنو کیپٹن"
وہ خیمے کا کپڑا ہاتھ میں لیے،رک کراس کی بات سننے لگا -
"اگر ترکی سے کوئی آئےتو مجھے بتانا - "جانے کس امید پر اس نے کہہ ڈالا-
"کسی نے آناہے کیا؟"
"نہیں، آنا تو نہیں ہے-آنا تو کسی نے نہیں ہے-"وہ اداسی سے سر جھٹک کر بچی کی پٹی کرنے لگی-
کیپٹن بشیر کچھ نہ سمجھتے ہوئے باہر نکل گیا-خیمے کا کپڑا اس کے پیچھے ہلتا رہ گیا"
...............
پیر 22اکتوبر 2005ء
فیلڈ ہسپتال سے کچھ دور وہ ایک پتھر پر خاموشی سے بیٹھی خنک ہوا کی سرسراہٹ سن رہی تھی -
اس نے سفید اوور آل پہن رکھا تھا، بال کیچر میں مقید تھے، پاوں میں سفیداور ہلکے گلابی جوگرز تھے -
جن کے رنگ اب پھیکے پڑگئے تھے - اس کی زندگی کی طرح -
آج بارش سے کچھ دیر پہلے کا موسم تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح اداس ہوگئی تھی - آج
سارا دن وقفے وقفے سےآفٹرشاکس(درمیانے درجے کے زلزلے ) آتے رہے تھے - سامنے
کھڑا پہاڑتو ایک جھٹکے کے دوران حقیقتا"دو ٹکڑوں میں ٹوٹنے کو تھا -آج اس کی چوٹی برف بھی پڑی تھی - وہ اس ڈھلتی شام میں وہاں تنہا بیٹھی گنگنارہی تھی -
264
" ہم لیلی ہیں ہم مجنوں ہیں۔ "
یہ گیت افق بیس کیمپ میں ہنزوکثرپورٹرز کو سناتا تھا۔ اور اوپرجب وہ برفانی غار میں تھا تب بھی وہ تھک کر یہی گنگناتا تھا۔
وہ اسے بھولا ہی کب تھا۔ وہ تو ہر پل' ہر لمحہ اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ وہ کہیں برف دیکھتی تو برفانی غار میں چت لیٹا افق اسے یاد آجاتا۔ وہ بارش دیکھتی تو وائٹ پیلس کی سیڑھیوں پر بیٹھا موروں کو یہی لیلی مجنوں والا ترک گیت سناتا افق یاد آجاتا۔ وہ خواب میں آکر ازے کہتا۔
"پری کیوں پریشان ہو؟ مجھے درد نہیں ہورہا۔" اور وہ جانتی تھی اسے درد ہورہا ہے۔ کبھی وہ کہتا۔" میرے ساتھ چلو میں تمہیں ترکی لے جاوں گا۔" اور وہ نیند میں رونے لگتی۔
اس نے اپنے ہاتھ پر اس جگہ دیکھا' جہاں تین ماہ قبل ماہوڈھنڈ کے کنارے افق نے سانتیا بانت لگایا تھا۔ اب وہ معمولی خراش وہاں نہیں تھی۔ مگر درد اندر ہی اندر" درد" بہت ہوتا تھا۔ ج یہ درد شدت اختیار کر لیتا تو وہ رو دیا کرتی تھی۔ " افق۔۔۔ واپس لوٹ آو۔۔۔ میرا زخم۔۔۔ مجھے سانیتابانت لگادو۔۔۔ اسی بہانے ہی لوٹ آو۔
وہ اب بھیاس کے ساتھ تھا' اس کے بہت اندر کہیں موجود تھا۔ اس کے ساتھ سانس لیتا تھا۔ اس کے ساتھ ہنستا تھا' اس کے ساتھ روتا تھا۔
اس کے خیالات میں مخل ہونے والی آواز بھاری بوٹوں کی دھمک تھی۔ جو اسے اپنی پشت پر سنائی دی تھی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ یہ وہی اس روز والا آرمی آفیسر تھا جو اسے گھور رہا تھا۔ کھلتی رنگت' گیرے نقوش' کافی ہینڈسم سا میجر کے رینک کا آفیسر تھا۔
آ"پ ڈاکٹر پریشے جہاںزیب ہیں ۔؟" وہ آٹھ کھڑی ہوئی۔
"یہ بات آپ اس روز کیپٹن بشیر سے معلوم کر چکے ہیں۔" وہ رکھائی سے بولی۔
"معلوم نہیں' کنفرم کیا تھا۔ آپ نے مجھے پہنچانا میں میجر عاصم روف ہوں۔ میں نے ہی ارسلان کو راکاپوشی سے ریسکیو کیا تھا۔
"اوہ۔"اس کے ماتھے سے بل غائب ہوگئے۔ "اچھا۔" پھر وہی یادیں۔" خدایا یہ دومانی میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا۔" اصل میں میجر صاحب ! میں نے آپ کو سرسری سا ایک دو دفعہ ہی ریکھا تھا۔kira karm ka taj mahil by Nimra Ahmad Urdu Novel Downlod PDF

اسی لیے پہچان نہیں پائی۔"وہ مروتا" کہنے لگی۔
"اٹس اوکے میم۔! مجھے آپ سے ملنا تھا۔ آپ سی ایم ایچ میں بے ہوش تھیں اور جس دن ہوش آیا مجھے اسی صبح سی او نے فاروڈ ایریاز میں بھیچ ریا۔میں ان فیکٹ تین دن وہاں موسم خراب ہونے کی وجہ سے اپنے ہیلی کاپٹر کے ساتھ پہنس کر رہ گیا' جب واپس آیا تو آپ جا چکی تھیں۔"
"میں چلتی ہوں' مجھے کچھ مریض دیکھنے ہیں۔ ٹھینکس اینی ویز۔" اسے اس کی تفصیلات سےکوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سو رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی پلٹ کر جانے لگی۔
میم میرے پاس آپ کی ایک امانت تھی۔ افق ارسلان نے یہ آپ کے لیے دیا تھا کہ آپ کو ہوش آئے تو دے دوں۔"
وہ بے حد تیزی سے میجر عاصم کی جانب گھومی تھی۔
"کیا۔۔۔ کیا دیا تھا افق نے؟"اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
"اس روز آپ کو دیکھا تو یہ میرے پاس نہیں تھا' ورنہ دی دیتا۔ کل اسلام آباد گیا تھا تو لے آیا ۔" اس نے والٹ سے ایک چہوٹا سا خط کا لفافہ نکال کر پریشے کی جانب بڑھایا جسے اس نے تیزی سے پکڑا۔
لفافے کے کونے میں سبز رنگ کا آرمی کا کوئی نشان بنا تھا اور اوپر گلگت کنٹونمنٹ کا ایڈریس لکھا تھا جسے وہ جی ایچ کیو سے آیا ہو۔
"یہ لفافہ اس نے مجھ سے لیا تھا۔" اس کے لفافہ الٹ پلٹکر دیکھنے پر میجر عاصم نے وضاحت کی۔
پریشے نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ چھوٹی سی وہ ٹیپ اتاری۔میجر عاعم اتنا مہزب تھا کہ پریشے کو یقین تھا ' افق کے ٹیپ لگانے کے بعد وہی پہلی دفعہ اسے کھول رہی ہے۔
لفافے کے اندر ٹشو میں لپٹی تصویر تھی۔
دور تک پھیلا سبزہ' دائیں طرف جھیل' بائیں طرف گھوڑا' گھوڑے کے ساتھ پریشے اور پریشے کے اس طرف افق ۔ وہ ہنستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔سیاہ گھڑی کے ڈائل کا اہرام چمک رہا تھا۔تصویر کے نیچے لکھا تھا۔" گھوڑا' پریشے کے دائیں طرف ہے۔"
اس نے تصویر کو پلٹا پیچھے سفید کاغز چپکا کر ہاتھ سے دبز روشنائی سے انگریزی میں لکھا تھا' زندگی کے سفر میں بچھڑنے سے پہلے۔۔۔
266
ملن کے آخری شام کے ڈھلنے سے پہلے
اور ایک دوسرے کی سانسوں اور
دھڑکنوں کی آخری آواز سے پہلے
جس کے بعد تم میری دنیا سے دور چلے جاؤ گے
تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا
کہ اس رات کے انے والی ہر صبع
ٹھنڈی ہوا اور بارش کے بعد گلی مٹی
پہاڑوں پر دودھ سی برف دیکھ کر
تم مجھے یاد کرنا
کہ میرا تم پر تمارا مجھ پر قرض ہے
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے
اسے یاد تھا برف کی دیوار کے  ساتھ ٹیک لگائے افق بیٹھا تھا ۔
تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہے پھر اس نے گہرے کرب سے آنکھیں موند لی کچھ نے بولا بھی تھا اس میں  بولنے کی  وعدہ لینے کی  سکت بھی  نہیں  ہے
آر یو اوکے ڈاکٹر پریشے؟؟
اس کی پروایس دینے ڈاکٹر عاصم انر آیا اس نے  روتے دیکھ کر تشویش سے پوچھا
267
کب دی یہ اس نے آپ کو.؟ ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کر کے  وہ زبردستی مسکرائی ۔
جب آپ سے  ملنے ہسپتال آیا تھا ۔آپ بے ہوش تھیں وہ کمرے سے باہر آیا مجھ سے  لفافہ پن پنسل اور  کاغذ مانگا
پھر اس نے  پاکٹ سے تصویر نکالی اس کی پشت پر  کچھ لکھا ٹیشو میں لپیٹا لفافے میں  ڈال کر  مجھے دیا اور آپ کو  خود دینے کی  تاکید کی تھی ورنہ میں  کام سے  اسکردو گیا ڈاکٹر خالد یا کسی کو  دے کر  آپ تک پہنچا سکتا تھا میں  نے پارسل بھی نہیں  کیا حالانکہ میرے پاس آپ کا اڑریس موجود تھا آپ کو کال بھی  کی میسج بھی  کیا مگر کسی غلطی فہمی کی  بنا پر آپ نے  بات نہیں سنی پھر پنڈی سے  انا ہی نہیں  ہوا اور  ملاقات نہیں ہوئی آج اتفاق س آپ مل گئی بہت معزرت دیر لگ گئی ۔
مجھے آپ کی کال کا بالکل یاد نہیں  تھینک یو سو میچ ڈاکٹر عاصم
وہ خوش دلی سے  مسکرایا  مائی پلیزر میم
اس نے  دوبارہ ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ  کیوں رو رہی تھی  وہی ڈیسنٹ آرمی مین
آپ کی وائف بچے ٹھیک ہیں پریشے نے اخلاقاً پوچھا
جی مہوش بالکل ٹھیک ہے  بچے بھی  پنڈی ہوتے ہیں وہ پھر مسکرا کر  چلا گیا ۔
وہ وہی کھڑی سوچنے لگی کیا افق کو وعدیاد کرنے کی ضرورت تھی  کیا وہ اسے بھول سکتی تھیl

اور 23 اکتوبر 2005

زلزلے کے متاثر افراد کو انجکشن لگا رہی تھی
فرح ابھی اسلام آباد واپس جا رہی تھی تم چلو گی یا ادھر مزید رہو گی۔؟
تم جا رہی ہو تو میں  بھی چلتی ہو تم بائے ائیر جا رہی ہو؟
ہاں ابھی بشیر آ کر  بتائے گا کے  ہیلی کاپٹر فارغ ہے  کے نہیں اسی اثنا میں  کیپٹن اندر آیا
میم ابھی ہیلی کاپٹر آنے ہی والا ہے  کرنل طارق کچھ  لوگوں  کو اس میں  لا رہے ہیں ۔
269& 270
بس آتے ہی ہوں گے۔"
وہ جھک کر بچے کو ٹیکا لگا رہی تھی۔ پھر بے حرمد فکر مندی سے ساتھ بیٹھیاس کی ماں سے اس کے بارے میں سوالات کرنے لگی' کیوں کہ اسے تیز بخار تھا۔
کیپٹن بشیر نے ایک لمحے کو سمسوچا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو بتائے کہ جو لوگ کرنل فاروق کے ہیلی کاپٹر پر مظفرآباد آرہے تھے' وہ ترکی سے آئے تھے' کیوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اسے ترکی دے آنے والے لوگوں کے متعلق پوچھا تھا' مگر ایک تو وہ اتنی مصروف تھی اور دوسرے اس نے خود ہی کہہ دیا تھا کہ ترکی سے آنا تو کسی نے نہیں ہے اور پھر ڈاکٹر صاحب کو اگر ترکی سے آنے والوں میں کوئی دلچسپی ہوگی تو وہ یقینا" ترک ڈاکٹرز سے ہوگیع۔کیپٹن بشیر بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا گیا' کیوں کہ آنے والے ڈاکٹرز نہیں بلکہ انجینئرز تھے۔
آدھے گھنٹے بعد یہ بشیر ہی تھا جس نے دونوں کو کرنل فاروق کے پہنچنے کی اطلاع دی۔
"آپ سامان وغیرہ پیک کر کے جلدی آجائیں ' کیوں کہ کرنل صاحب نے فورا" واپس جانا ہے۔پلیز میڈم دیر مت کیجیئے گا' کیوں کہ کرنل صاحب کو غصہ پورے یونٹ میں مشہور ہے۔"
"ہاں میں فورا" اپنا سامان اس خیمے سے کے آوں' جہاں رات ہم سوئے تھے۔" وہ اس خیمے سے نکل آئی۔ اس کا رخ چند گز کے فاصلے پر موجود اس میدان کے سب سے آخری سبز خیمے کی طرف تھا جس میں وہ اور فرح اتنے دن سے تہ رہی تھیں۔
وہاں کھلا سا میدان تھا' ایک طرف خیمہ بستی تھی اور دوسری جانب خالی قطعہء اراضی پر ہیلی کاپٹر نیچے اتر رہا تھا۔ اس کے پنجے ابھی گھاس سے چند فٹ دور تھے۔
وہ اس آخری خیمے میں چلی آئی۔ جلدی جلدی سامان سمیٹا' بالوں کو ایک دفعہ پھر اوپر کر کے کیچر میں باندھا۔ کسی چیز کے چٹخنے کی آواز بھی سنائی دی مگر وہ دھیان دیے بغیر شال لپیٹے بیگ کندھے پر ڈالے باہر آگئی۔
فرح اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔
"چلو۔"
وی دونوں ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹر کی جانب برھنے لگیں۔ جن میں اکثریت فوجی جوانوں کی تھی' جو ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔
چند گوجی جوان ان مریضوں کو ہیلی کاپٹر میں چڑھا رہے تھےجس کو انہیں سرجری امداد کے لیے اسلام آباد لے کر جانا تھا۔ بشیر نے قریب سے گزرتے جوان کو روک کر ہدایت دی۔ "toki کی ٹیم کو اس آخری خیمے میں لے جاو ابھی وہی خولی ہے۔"
وہ دونوں سر نیچے کیے تیز ہوا سے بچتی آگے پچھے ادر داخل ہوئیں۔ مریض پہنچ چکے تھے' دروازہ بند ہوگیآ۔اس کے کیچر کے ایک طرف لگا دور نگا پتھر غائب تھا۔
"اب کہاں ڈھونڈو اسے؟" کبھی سستی میں ایلفی سے بھی نہیں جوڑا۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی۔ اندر روشنی خاصی کم تھی۔ اسے پتھر کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
"فرح اس کا پتھر گر گیا ہے۔ وہ کونے والے خیمے میں گرا ہوگا' میں لے آوں؟"
ب"ے وقوف ہیلی اڑنے لگا ہے۔ کرنل فاروق کے غصے کے قصے نہیں سنے؟ خواہ مخواہ ان کو غصہ مت دلاو۔"
" مگر فرح وہ قیمتی پتھر تھا اور۔۔۔"
"لوگوں کو گھر بار لٹ گیا اور تمھیں پتھر کی پڑی ہے؟ ایک پتھر کے لیے کرنک صاحب سے دوبارہ ہیلی کاپٹر اترواو گی؟"فرح بلکل نشاء کی طرح گھرکتی تھی۔وہ خاموشی سے پیچھے ہوکر بیٹھ گئی' مگر جانے کیوں اس لمحے اس کا دل چاہا کہ وہ کرنل فاروق سے ہیلی اتارنے کی درخواست کرے صرف ایک منٹ کے لیے' بس وہ اپنا پتھر لے آئے۔
صرف پتھر نہیں اس لمحے اسے مظفرآباد کے شہر خموشہ کی اداس اور سوگوار فضہ میں "کچھ خاص" محسوس ہواتھا۔ کچھ ایسا جو ان پچھلے بہت سارے دنوں میں جو اس نےوہاں گزارے تھے نہیں تھا۔وہ اس وقت ہیلی کاپٹر سے نیچے اترنا چاہتی تھی۔ وہ مطفر آباد چھوڑنا نہیں چاھتی تھی۔مگر محض مروت میں وہ خاموش بیٹھی رہی۔
پریشے اور فرح کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر کیپٹن بشیر تیز قدموں سے واپس آیا۔ جس جوان کو اس نے ٹو کی ٹیم کو خیمے میں بیٹھانے کو کہا تھا' وہ ان تین افراد کے ہمراہ اس آخری خیمے کے قریب ہی کھڑا تھا۔ تینوں افراد کی بشیر کی جانب پیٹھ تھی۔
"وہ ان کے قریب آیا۔"
"اسلام علیکم سر!۔"
تینوں ایک ساتھ پلٹے۔
271
پہلا ترک انجینر اچھی قدوقامت کا مالک تھا ۔بال سیاہ گوری رنگت یورپی نقوش بشیر نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔آئی ایم کیپٹن بشیر ۔اسکی انگریزی پورے گاؤں میں بہترین تھی ۔
کیپٹن جینک--ترک انجینئر نے گرم جوشی سے ہاتھ تھاما کیپٹن بشیر دوسرے کی جانب بڑھا۔وہ قد میں  باقی سب سے چار پانچ انچ چھوٹا تھا ۔بال کھنگریلے اور سنہری مائل تھے سر پر  پی کیپ الٹی پہنی ہوئی تھی جس پر  سفید مارکر سے کچھ لکھا تھا ۔جینیک اس نے  خوشی سے  بشیر سے  ہاتھ ملایا
اب تیسرے کی جانب بڑھا جو اندھیرے میں  تھا اس نے  جب سیدھا ہوکر دیکھا اس کے  چہرے پر  بلا کی سنجیدگی تھی
افق حسین ارسلان اس نے  اپنا تعارف کروایا اس میں  ایسی بات ضرور تھی جس سے کیپٹن بشیر متاثر ہوا۔
شاید بہت ہینڈ سم تھا شاید اسکی شخصیت میں  مقناطیسات تھی
آپ کو انجینرنگ کور والوں سے بس تھوڑی دیر میں ملواتا ہوں تب تک آپ تھوڑی دیر آرام کریں وہ جلدی میں  کہہ کر واپس پلٹ گیا ۔وہ تینوں پھر خیمے میں  گھسے اور  زمین پر  بیٹھے افق بیٹھتے بیٹھتے رک گیا اور اس کی نگا ایک چھوٹے سے پتھر پر پڑیجھک کر اٹھا اور  بغور دیکھنے لگا
اس پتھر کا سائز اس کے  انگوٹھے سے دگنا تھا۔اس میں لکیر پڑی تھی اس نے  کچھ دیر سوچا اور وہ جیب میں  رکھ کر  باہر نکل آیا
272
ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے جیسے وہ کسی کو تلاش کر رہا تھا ۔
کچھ چاہئے تھا مسٹر ارسلان؟ کیپٹن بشیر کسی سے بات کر رہا تھا ۔اسے باہر آتا دیکھ کر  قریب آیا
نہیں  پھر آخری خیمے کی  طرف اشارہ کیا یہ فوج کا  ہے  یہاں کوئی آیا تھا؟
میراخیال ہے سر یہ امداد میں  آیا تھا
اچھا زیادہ مسلہ تو نہیں  مگر پھر بھی مجھے لگ رہا ہے  اس کی  شیٹ سردی کو روکنے کے لئے ناکافی ہے
نہیں سر سارے کافی گرم ہیں  اور  ان میں  پیرا شوٹ لائنزز ہیں ۔
مجھے نازک مت سمجھنا کیپٹن مگر پہلے رہنے والوں کو شکایت تو نہیں ہوئی وہ سر سری ساتھا ۔
نہیں جنہیں ٹھرایا انہوں نے زکر بھی نہیں کیا۔
وہ شاید کسی ایسی جگہ کے ہوں انہیں محسوس نہ ہوا ہو
نہیں  سر وہ دونوں اسلام آباد کی ڈاکٹر تھی کیپٹن نے زہین میں زور دے کر نفی میں سر ہلایا
پمپز ہسپتال ۔وہ بڑبڑایا اور پھر وہ پتھر نکال کر  دیکھا
یہ کس کا ہے مجھے خیمے کے  فرش سے  ملا۔
یہ تو ڈاکٹر صاحبہ کے  کلپ میں  تھا  میں  غور نہیں  کرتا مگر ڈھیلا تھا میں نے  ان سے  کہا بھی  تھا  کہ گرنے والا ہے  قیمتی ہے  خیال رکھیں مگر گر گیا۔
وہ ڈاکٹر اب کہاں ہیں  اس نے  عام سا پوچھا؟
وہ تو بالکل ابھی ہی اسلام آباد چلی گئیں ۔
ترک کے چہرے پر پھلتی مایوسی بشیر کو حیرت ہوئی
273
سر یہ آپ مجھے دے دیں میں  اسلام آباد گیا تو انہیں دے دونگا
تم کب جاؤ گے
آج 23ہے میں  دو دن بعد  26کو جاؤں گا
مجھے بھی ساتھ لے چلنا میں  ان کو خود لوٹا دوں گا یہ قیمتی پتھر میرے پاس امانت رہے گا۔اس نے  پتھر جیب میں  ڈالا چیرے پر  سنجیدگی تھی ۔
عجیب بندہ ہے ابھی اسلام آباد سے  آیا اور ابھی جانے کی بات کر رہا ہے  اس نے  دل میں  سوچا
سنا تھا  ترکی سے  سب سے خاص انجینئر آیا مگر یہ  تو ۔۔۔۔پر سانوں کی
سب اپنا کام ختم کر کے  سوئے بھی تھے مگر افق بنا سوئے کام میں  لگا رہا بشیر کو تو  بہت عجیب سا لگا
مرد ہونے کے  باوجود کیپٹن بشیر نے  اس جیسی خوبصورت آنکھیں نہیں دیکھی تھی ۔
274
کورک کی ہر لڑکی اسے دیکھنے کی خواہش کرتی مگر وہ آدمی جانے کس مٹی کا بنا تھا  عورت سے بات کرنا دور سر اٹھا کر  نہیں  دیکھتا تھا یہ خاموش سا وہ دو اتنا بولنے والے ان کی دوستی کیسے ہو گئی ۔
اس نے  دو دن میں  بشیر سے  دو بار بات کی جب وہ دینے آیا تھا  دوسری بار خیمے کے متعلق
ترکی میں  ہر لڑکی کو پیدا ہوتے ہی قیمتی سونے کی چیز دی جاتی جو اس کی  قیمتی متاع ہوتی ہے ۔
ترک لڑکی مر سکتی ہے  مگر اپنا وہ زیور کسی کو نہیں دیتی کتنی غیریب ہو اسے فروخت نہیں  کرتی وہ چند منٹ کے  وقفے سے  کہنے لگا 28 اکتوبر کو  پاکستان زلزلے میں  بچوں کے سکول فنڈ جمع ہوئے ایک  چھوٹی بچی کا باپ غیریب تھا اس نے  اپنی وہ چوڑیاں فنڈ میں  دی جو اسے بچپن میں  ملی تھی ہم نے  وہ متعلقہ افراد تک پہنچا دی۔
ہم پاکستانی ہونے کے  ناتے ترک پر  فخر ہے ۔

منگل 25اکتوبر 2005
وہ ماموں کے  ایک دوست سے ملنے سی ایم ایچ آئی ہوئی تھی صبع کا وقت تھا آسمان صاف تھا بادل ابھی اسلام آباد سے  دور تھے
275
وہ تیزی سے  جا رہی تھی  سڑک کے  دونوں طرف دیکھا ایک درخت کے  پاس مینیجر نعمان کو دیکھا
انہوں نے کئ دن کمیپ میں ساتھ گزارے تھے اب سی ایم ایچ میں  ملنا اتفاق نہیں  تھا وہ سی ایم ایچ آیا پریشے کا اس سے  ٹکراؤ لازم تھا ۔
کیسے مزاج ہیں ڈاکٹر صاحبہ خریت سی ایم ایچ وہ چند قدموں کی دوری پر تھا اس کے  قریب آ گیا ۔
خریت سے  ہسپتال کون آتا ہے  منیجر صاحب برگیڈیئر باجوہ کی مسسز کی حیادت کو آئی ہوں آپ کب آئے مظفرآباد سے؟
آج ہی صبع صبع پہنچا اور  آپ کے  سامنے ہوں
کیسی گزر رہی ہے  مظفرآباد میں؟
بس میم کام ہو رہا ہے  کوشش تو سب کرتے الله سے بہتر کرے گا۔آپ ٹھیک ہیں؟
آئی ایم فین اور  کیپٹن بشیر وغیرہ سب ٹھیک ہیں؟
276
الحمدلله سب ٹھیک ہیں۔کچھ فارنزز بھی  آئے ہوئے ہیں جو پہلے بھی تھے مگر میں  جن سے  مل کر  آ رہا  ہوں ان کے  جزبے نے  حیران کر دیا۔ وہ بولنے کا شوقین تھا  شاید۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
مسسز باجوہ کو دوسرے ڈائپانمنٹ تک لے گئے آپ کو  انتطار کرنا پڑے گا میں پتہ کرتا ہوں روم آ جائیں تو  آپ کو بتا دوں گا۔
ارے منجر نعمان میں  خود دیکھ لوں گی آپ خوامخواہ تکلیف نہ کریں ۔صرف اس لیے کے  وہ اس کے  ساتھ کیمپ میں تھی خیال کر رہا تھا  وہ شرمندہ ہو رہی تھی ۔
کوئی بات نہیں  آپ بیٹھیں میں  دیکھ کر آتا ہوں ۔
نہیں  میں  ادھر ہوں ۔آج موسم بہت اچھا ہے  اس نے  سر اٹھا کر  دیکھا عین اس کے  اوپر بادل کا ٹکڑا روئی کی  طرح تیر رہا تھا  وہ اداسی میں مسکرائی اور میں  ویسے بھی  اچھے موسم کی دیوانی ہوں ۔
اچھا پھر میں  آتا ہوں  دیکھ  کر
وہ وہی ٹیک لگائے درخت سے  بیتے لمے یاد کرنے لگی
277
جب وہ دونوں ساتھ ساتھ وادیوں اور چشموں میں پھرتے تھے ایسے ہی ایک درخت سے  ٹیک لگا کر  بیٹھے تھے اور  ایسی ہی گھاس تھی۔ہم گھٹیا جھاڑتے تھے افق کی پینٹ پر  سرخ کیڑا گرا تھا ۔
اس نے  آنکھیں موند لی اس کے  لب دھیرے دھیرے گنگنانے لگے۔وہ گیت جو کبھی بارش میں  بھگتے ہوئے چوڑی سڑک پر افق سنایا کرتا تھا
نہ کچھ کہو ہمیں
اس راہ کے  ہم مسافر ہیں
ہم عشق میں  پاگل ہیں
نہ کہو کچھ ہمیں
ہم لیلیٰ ہیں ہم مجنوں ہیں
شاید لیلیٰ نے  قیس سے  اتنی محبت نہیں کی جتنی پری نے  اپنے کوہ پیما سے مگر آج بھی  تہی داماں تھی
وہ جانے کتنی دیر ترک گیت گاتی رہی کے  کسی ہٹ سے  آنکھ کھولی۔
منجر سڑک پر  کھڑا مسکرا رہا تھا
آپ نے  غلط پروفیشن چوز کیا ڈاکٹر صاحبہ آپ تو  بہت اچھا گا لیتی ہیں  پھر میڈکل میں  کیوں آئی؟
نہیں  یہ تو  بس ایسے ہی۔وہ جھٹ سے  اٹھ گئی  زرد پتوں کا ڈھیر اس کی  گود سے  نیچے گرا۔
برگیڈیئر کی  وائف روم آ چکی ہیں آپ ان سے  مل لیں
278
وہ پھر ایک لخطے کے توقف سے سوچتے ہوئے پوچھنے لگا۔ویسے ڈاکٹر صاحبہ یہ گیت خاضا مشک ہے  کیا؟
نہیں تو۔۔اس نے  ہنس کر  سر جھٹکاچند پتے ٹوٹ کر اور گرے۔آپ یہ پاکستان میں  کسی کے منہ سے  نہیں  سنے گئے ۔
ارے نہیں  میڈم یہی گیت کل میں  نے  افق ارسلان کو گاتے سنا تھا ۔۔وہ ساکت کھڑی منیجر نعمان کو دیکھ رہی تھی
کس کو؟؟؟  اس نے  بے یقینی سے  پوچھا شاید اس کی  سماعت کو دھوکہ ہوا ہے ۔
افق ارسلان کو آپ نہیں  جانتی وہ ترک انجینئر ہے  ناں اس کی  بات کر  رہا ہوں ۔
آپ مسسز باجوہ سے  مل لیں وہ تو  اس دنیا کو بھول گئی
ککو کون سا ترک انجینئر؟؟ اس نے  شاید غلط سنا اسے غلط فہمی ہوئی
افق ارسلان نام ہے  اس کا
وہ آپ کو  کہاں ملا وہ پلک چھپکانا بھول گئی
وہی مظفرآباد میں  وہ ریلیف کے  لیے ترکی سے  آیا ہے وہ کل یہی گا رہا  تھا  شاید ترک گیت ہے  وہ جس طرح اس کا  دیکھ  رہی تھی وہ الجھ گیا
مگر مگر  میں  نے  تو  مظفرآباد میں  کوئی ترک انجینئر نہیں دیکھا اس کی  آواز پھنسی ہوئی نکل رہی تھی
وہ اسی روز آیا تھا اسی ہیلی کاپٹر میں  کرنل طارق کے  ہمراہ اسی لیے اب منیجر نعمان کو واضح بے چینی ہو رہی تھی ۔
اسی ہیلی کاپٹر میں  وہ دور کھو گئی  کے  آنے والے لوگوں کو وہ دیکھ نہیں  پائی تھی
آر یو اوکے ڈاکٹر جہاں زیب؟
وہ چونکی نہیں وہ اس کا پورا نام کیا ہے؟
279
مینیجر نعمان نے  گہری سانس بھری ۔۔افق حسین ارسلان۔اب وہ کچھ سمجھ رہا تھا ۔وہ اسے جانتی تھی  اب کنفرم کرنا چاہ رہی تھی ۔
یہ حسن حسین ارسلان کی  خون پسینے کی  کمائی ہے  جیسے ہم یوں کوہ ہمالیہ میں  جھونک رہے ہیں ۔
اس کے  زہین میں بہت پہلے کا افق کا فقرہ کونجا
افق ارسلان اس نے  زیر لب دوہرایا
عجیب بے چینی تھی
منیجر نعمان وہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟ وہ کھوئے لہجے میں  پوچھنے لگی۔
آ۔۔۔ وہ سوچ کر  بتانے لگا۔خاصا لمبا مجھ سے  بھی  دو انچ لمبا بال براؤن ہیں  اور  آنکھیں
اور  آنکھیں وہ سانس روک کر  جواب کا انتظار کرنے لگی۔
کوئی لائٹ کلر تھا
ہنی کلڑ؟
شاید ایسا ہی تھا سوری غور نہیں  کیا یہ لڑکیوں کا شعبہ ہے وہ ہنس دیا وہ سوچ میں  گم تھی ۔
وہ انجینئر ہے  ناں تو  سر پر  کیپ تو  لیتا ہو گا
مینیجر نے  اثبات میں  سر ہلایا
اس کی  کیپ پر  کچھ لکھا ہو گا وہ تصدیق کرنا چاہا رہی تھی اس کا دل چیخ چیخ کر  گواہی دے رہا  تھا  وہ اس کا  کوہ پیما ہی ہے
نہیں  کچھ نہیں  لکھا تھا
اچھا اسے  مایوسی ہوئی  وہ افق کی  کیپ پر تو  لکھا تھا مگر وہ افق کی  کیپ تو  نہیں  تھی وہ تو ۔۔۔۔
اس کے  ساتھ  کوئی اور بھی  ہو  گا دو انجینئر ؟ وہ بے تابی سے  بولی ہاں دو انجینئرز اس میں  ایک کے  سر پر
280
کیپ تھی اس پر  وائٹ کلر سے  طیب اردگان کے حق میں  نعرہ درج تھا ۔جینیک یقین آ گیا اس کو۔
اب کسی شک کی گنجائش نہیں  رہی تھی ۔
تیسرا کون ہے  ڈاکٹر ہے
وہ بھی  انجینئر ہے  کین
ان کے  ساتھ کوئی ترک ڈاکٹر نہیں  ہے؟
میں  نے  نہیں  دیکھا شاید ہو۔آپ جانتی ہیں انہیں  اینی پرابلم؟
بہت تحمل سے  جواب کے  بعد  رہ نہیں  سکا
میرا کچھ کھو گیا تھا  ان پہاڑوں میں  وہی ڈھونڈ رہی وہ خود سے  بولی
کیا گرا تھا  وہ جیم اسٹون جو خیمے میں  گرا تھا ؟
پریشے نے  چونک کر  اسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا
ہاں وہی
وہ کیپٹن بشیر کے  پاس ہے  بلکہ انفکٹ ان انجینئر کے  ہاس ہے  شاید وہ ان کے  ساتھ  کل آئیں
پتھر کو؟
نہیں اس انجینئر  افق ارسلان کو جس نے  اپ کا قیمتی پتھر اپنے  ہاس رکھ لیا ہے میں  بتانا بھول گیا  وہ آپ کو  مل جائے گا  ڈونٹ وری آپ اب مسسز باجوہ سے  مل لیں وہ کیا کہہ رہا تھا  وہ کچھ  سن نہیں  پا رہی تھی
وہ جب وہاں سے  آ رہی تھی  اس محسوس ہو رہا تھا  کوئی آیا ہے  جو  اس کی  زندگی تھا وہ بھی  اسی جگہ تھا جہاں وہ اس وقت مظفرآباد کھڑی تھی او خدا وہ کیوں چلی آئی تھی وہاں سے
نعمان کیا کہہ رہا تھا  وہ کل بشیر کے  ساتھ  آ رہا مگر کل کو  ابھی  بہت  گھنٹے
281
پڑے ہیں وہ کل کا انتظار نہیں  کر سکتی اسے عجیب بے چینی ہونے لگی اسے اسے افق کے  پاس جانا ہے  ابھی اسی وقت
اس نے  سر اٹھا کر  دیکھا  نعمان کب کا جا چکا تھا وہ تقریبا بھاگتے ہوئے ہسپتال میں  داخل ہوئی
ریسپشن میں  دو لڑکا لڑکی بیٹھے تھے  وہ  ان کی  جانب لپکی۔
ڈاکٹر نعمان کدھر ہیں؟
رائٹ سائیڈ جائیں لیفٹ میں وہ اور کچھ بھی  کہہ رہی تھی  مگر پریشے پورا سنے بغیر بھاگی
وہ اگے جا کر  دیکھا  وہ کسی سے  بات کر  رہے تھے  بھاگ کر  ان کے  پاس پہنچی
منیجر نعمان وہ پھولی ہوئی سانس سے  کہنے لگی منیجر نعمان نے  دوسرے کو ہاتھ سے  روکا اور  بھیج دیا اس کی  طرف موڑا
ریلیکس ڈاکٹر صاحبہ مسسز باجوہ نہیں  ملی کیا
بھاڑ میں  جائیں مسسز باجوہ وہ کہتے کہتے رکی اپنی تنفس بحال کرتے بولی
آج کوئی ہیلی کاپٹر مظفرآباد جا رہا  ہے؟
وہ تو  روز آتے جاتے ہیں  ملبہ ابھی نہیں  ہٹایا آپ کو  کیا مظفرآباد جانا ہے؟
282
جی پلیز مجھے ابھی جانا ہے
ابھی تو ۔۔وہ سوچ میں  پڑ گیا شاید ہمارے کرنل مانسہرہ جا رہے ہیں تو مجھے رستے میں  مظفرآباد چھوڑ دیں وہ بے تابی سے  بولی
مظفرآباد مانسہرہ کے  راستے میں  نہیں  پڑتا۔آپ کو  کوئی ایمرجنسی ہے  کیا؟
ہاں وہ میرا پتھر
تو کل وہ لوگ آئیں گے  ناں
مگر کل میں دیر ہے میرا پتھر قیمتی تھا چاہئے مجھے
مجھے ابھی ان سے  بات کرنی ہے
بات کرنی ہے  تو  میں  ابھی کروا دیتا ہوں
وہ کیسے پریشے کو حیرت ہوئی
غالباً کئ برس پہلے بیل نامی نے ایک چیز ایجاد کی تھی جیسے فون کہتے ہیں ۔
ہاں پتہ ہے  مگر وہاں سگنل نہیں  تھے ناں اب کچھ آنے لگے نہیں بھی  ہو تو آرمی رابطہ تو ہے  ناں آپ کی بات کروا دیتا ہوں
وہ چلا گیا پریشے وہی اضطرابی حالت میں  انگلیاں مروڑنے لگی
اس کے  پر ہوتے اڑ کر  مظفرآباد اس وقت پہنچنا چاہتی تھی مجھے اس حال میں  اس سے  ملنا تھا  دیکھنا تھا  میں  کیوں چلی آئی
پتہ نہیں بیس منٹ کب ہوں گے  وہ افق کی  آواز سنے گی  اس کی روح پیاسی تھی
جانے اب وہ کیسا ہو گا ویسے ہی ہنستا ہو گا اس کا دل بے قراری میں  ایسے تھا ابھی باہر آ جائے گا ۔بیس منٹ ہوئے کہ نے  وہ اور انتظار نہیں  کر سکتی تھی  وہ  منیجر نعمان کے  روم کی طرف آئی جہاں وہ گیا تھا
283
اتنی بے قراری تھی  وہ قوائد کو بھلا کر  بغیر دستک داخل ہو گئی ۔
منیجر نعمان میز پر رکھے فون کا ریسورکان سے  لگائے بات کر رہا تھا ۔
ہاں میں  انہیں بلاتا ہوں بلکہ وہ آ ہی گئ۔اس نے  ہاتھ سے  پریشے کا اشارہ کیا وہ خواب کی کیفیت اس تک چلی آئی۔
آپ نے کس انجینئر سے  بات کرنی ہے؟ اس نے  ماوتھ پسٹ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
اووفق ارسلان اس کی آواز کپکپائی
ہاں افق ارسلان سے  بات کراؤ منیجر نعمان نے ریسیور اس کی جانب بڑھایا اور  کمرے سے  باہر نکل آیا اور دروازہ بند کر دیا
کتنی دیر وہ سوچ میں  تھی  اسے کیا افق سے  کہنا ہے جانے وہ افق ہے  بھی کے نہیں ۔
وہ بولنا چاہا رہی تھی  مگر  الفاظ لب پر  ٹوٹ رہے تھے
دوسری طرف گہری سانس لے رہا تھا  پھر اس کو آواز آئی
پا ری شے؟؟
اس لمے پوری کائنات رک گئی تھی
وہ آواز لاکھوں میں  شناخت کر سکتی تھی ۔وہ اس کا افق ہی تھا ۔اس کے  قدم لڑ کھڑا گے اس نے  میز کو مضبوطی سے  تھام لیا۔
پری بولو نا میں  سن رہا ہوں
وہ بے اختیار رو پڑی
افق۔۔
پری۔۔۔وہ اداسی میں  مسکرایا تھا
تم تم ۔۔کہاں ہو افق اس نے  مشکل سے  میز تھام کر  پوچھا آنسو گر رہے تھے
میں  ہمالیہ کے آسماں کے نیچے ہوں۔
284
ایک دفعہ پھر ہمالیہ کا آسماں دونوں کے  بیچ آ چکا تھا وہ پھر ان پہاڑوں میں  آ چکا تھا  جہاں سے  وہ اسے کھنچ کر لائی تھی ۔
تم رو رہی ہو پری وہ بے چین سا ہو گیا
اس نے  جواب نہیں دیا بے آواز روتی رہی۔
پری رو مت آنکھیں صاف کرو وہ بہت دور تھا مگر محسوس کر رہا تھا ۔اس نے  پشت سے چہرہ صاف کیا
اب بتاو کیسی ہو جانے کیسے سمجھ چکا تھا  اس نے  آنکھیں صاف کر لی۔
بہت تہی داماں ہوں میں  افق بہت  ویران جانے اتنی ویرانی میرا مقدر کیوں بن گئی میں بالکل خالی ہاتھ ہوں میں نے  وہ سب بھی کیا جو کسی لیلیٰ ہیر نے  نہیں کیا ہو گا سوہنی کا تو گھڑا ٹوٹا تھا میرا سب کچھ دمانی کی دھند میں  بکھر گیا پھر بھی  منزل نہیں  ملی میں  نے ۔۔۔۔میں نے  تو  عشق میں  صحرا کا سمندر پار کیا تھا وہ پھر  رونے لگی تم ۔۔تم مجھے کیوں چھوڑ کر  چلے گئے  تھے افق
تم ہی نے کہا تھا  بہت آہستہ بولا
میں نے  کہا تھا؟
تم نے  عہد لیا تھا گلیشیر پر  دمانی گواہ ہے  تمہیں یاد نہیں؟
میں نے  عہد لیا تھا  میں  نے  کہا تھا  میں  نے  تو اور  بھی بہت کچھ کہا تھا میں نے  تمہیں کیمپ سے  چلے جانے کوکہا تھا بات مانی تھی میری صرف یہی بات کیوں ماننا یاد رہا ۔؟
مجھے کیوں چھوڑ گئے  میں  ہسپتال جاگی تو میں  اکیلی تھی آج بھی میں اکیلی ہوں تم نے  میرے ہوش آنے کا بھی انتطار نہیں کیا اور چلے گئے
وہ تھکے لہجے میں بولا میں نے  اپنی خوشی سے  وہ وعدہ نہیں نبھایا تھا
تم نے  تو  کہا تھا تم رہ لو گی۔
ہاں کہا تھا
پھر میں  نہیں  رہ سکی آنسو اسکی گردن پر  پھیل چکے تھے ۔
پھر خاموشی چھا گئی  چند لمحے سرکے ادق نے  کہا پری۔
وہ لب سی اسی طرح روتی رہی
پری میں  رکنا چاہتا تھا  میں  صرف اور  صرف تمھارے لیے  گیا  تم نے  پاپا کے  لیے  کہا تھا  نا
تمہیں پاپا سے  زیادہ تو نہیں تھا  نا میں  نہیں  چاہتا تھا  میں ہوش میں  آ کر  دیکھو اور کچی ڑور ٹوٹ جائے ۔
ہاں تم کیوں رکتے میرا انتظار کرتے میں  تمہارے لیے  میں  تمہارے لیے ہمالیہ کے  پہاڑوں سے  لڑی تھی ۔تم کیوں لڑتے میرے لئے  افق تم نے  محبت کی ہوتی تو  وہ بچوں کی طرح رو کر دو مہنوں کا غبار نکال رہی تھی
وہ زخمی دل کے  ساتھ مسکرایا ہاں واقعی میں  نے  محبت نہیں  کی تھی میں نہیں  کر سکا کوشش بہت کی صرف محبت کر سکوں مگر میں  نے  تم سے  محبت نہیں  کی تھی پری میں نے  تم سے  عشق کیا تھا ۔محبت کی  ہوتی تو  تمہیں باپ کے  بارے میں  بغاوت پر مجبور کرتا. محبت کی ہوتی واپس نہیں  آتا میں  نے  محبت ہی تو نہیں کی
وہ خاموشی سے  سن رہی تھی اسے کہ اس نے  محبت نہیں  عشق کیا تھا ۔
افق ۔۔وہ کچھ اور نہیں کہہ سکی کہ آنسو پھر امنڈ پڑے
پری تمہارے پاپا
وہ نہیں  رہے ۔۔وہ بھی  مجھے چھوڑ گئے
میں  جانتا ہوں
وہ چونکی تم  کیسے جانتے ہو؟
وہ بہت مشہور آدمی تھے تم نے  ایک دفعہ ان کا پورا نام بتایا تھا ان کے  انتقال کی خبر میں  نے  پڑھی تھی وہ دو ماہ میں  نے  بند کمرے میں  اخبار پڑھنے کا کام ہی تو کیا۔میں تم سے ان کا افسوس بھی نہیں کر سکا۔
میرے پاس تمارا کوئی نمبر نہیں تھا نہ کوئی تعلق رہ تھا ۔
تعلق تعلق تو تھا افق۔۔
وہ تعلق تو دنیا کے  آنے سے  پہلے  کا تھا
اب اس کے  دل کا کچھ بوجھ ہلکا ہوا تھا ۔
پری کچھ  دیر میں  افق نے  پکارا میں  آ جاؤں؟
کیا تمہیں اب بھی یہ پوچھنے کی  ضرورت ہے
میں  کل آ رہا  ہوں مجھے ویسے بھی  تمہارا پتھر دینا ہے

مجھے پتہ ہے  منیجر نعمان نے  بتایا کہ پتھر بلکہ جیم سٹون تمہارے پاس ہے وہ اب سھنبل چکی تھی  میز کو بھی  چھوڑ دیا تھا
جیم سٹون؟؟ وہ دھیرے سے  ہنسا
اتنے اچھے  فوجی دھوکہ کھا گئے تو تم انہیں مت بتانا کے  یہ کیچر پر لگا معمولی سا پتھر تھا
نہیں میں کیوں بتاؤں گا میرے لیے یہ قیمتی ہے جیسے وہ تصویر تھی ۔
منیجر عاصم نے  دے دی تھی وہ؟؟
ہاں مل گئی تھی  مجھے وی گیت بہت اچھا لگتا تھا جو تم نے  بالکونی میں  سنایا تھا وہ سر جھکائے میز کاکونا کھورج رہی تھی ۔
میں کل آ رہا ہوں اب رونا نہیں
287
اچھا نہیں  روتی۔
افق تم نے  آخری دفعہ ہسپتال میں  میرے کان میں  کیا کہا تھا؟
وہی جو اس تصویر پر لکھا تھا ۔
وہ ہنس دی اچھا پھر کسی خیال میں  پوچھنے لگی۔سنو
ہوا بولو
تم کدھر آؤ گے؟
پمر اسلام آباد
نہیں وہاں مت آنا وہ سوچ کر بول رہی تھی ۔
کیوں وہ حیران ہوا
افق تمہیں یاد ہے  پہاڑوں کے  بیچ مجھے ایک  شہزادہ ملا تھا
جب بیچ سڑک شہزادے کو پری ملی تھی  وہ مسکرایا
تمہیں یاد ہے  مارگلہ کی پہاڑوں پر  میں  برف میں  بیٹھی تھی تم گھوڑا دوڑاتے آئے تھے
ہاں بولا ہی کب ہوں
تو میں  چاہتی ہوں ہم وہی ملیں میں پتھر پر تمارا انتظار کروں تم اسی طرح  گھوڑا دوڑا کر آؤ میں  کہوں کہ  تصویر اتار سکتی ہوں پھر میں  تمارے کیمرے سے  تمہاری تصویر لوں گی ۔ہم اسی جگہ ملیں گے  ہم تصور کریں گے  تین ماہ ہماری زندگی میں  جیسے آئے ہی نہیں۔
تم کبھی نہیں  بدلو گی پریشے جہاں زیب ۔تم ہمیشہ عام چیزوں میں بھی خوبصورتی تلاشتی رہو گی۔وہ اس کے خوبصورت تخیل پر ہنس دیا۔
تم بھی تو یہی کرتے ہو میں دعا کروں گی گل بھی  مارگلہ پر ایسے بادل اتارے۔جیسے تین ماہ تین دن پہلے اترے تھے ۔
میں دعا کروں گا میری پری مجھے اسی طرح سفید اور گلامی رنگ میں  ملے تم کل وہی کپڑے پہننا جو اس روز پہنے تھے ۔
پریشے نے  اپنے  جوگرز کو دیکھا کیا وہ یہی پہن کر افق سے ملنے جائے گی ۔نہیں وہ نئے خریدے گی افق کو کون سا ان کا ڈائزائن یاد ہو گا مردوں کو ایسی باتیں یاد کہاں رہتی ہیں بھلا۔
ٹھیک ہے تم بھی وہی جیکٹ پہننا پھر چند لمحے دونوں خاموش رہے دونوں نے  کچھ سوچا اور  ایک ساتھ بولے
اور تم وہی والا ۔۔مگر کچھ یاد آنے پر دونوں خاموش اکٹھے بولے تھے ایک دوسرے کی بات نہیں سن پائے تھے ۔
کل تمہارے ماموں کے پاس چلیں گے  وہ ابھی پچھلی بات میں  ہی تھی بے دھیانی میں  بولی وہ کیوں؟؟
تمہیں ٹام کروز نے  پر پوز کیا تھا نا بس وہی لے کر جائیں گے  پھر دونوں ہنس دیے اچھا آدمی ہ کر لوں گی  میں اسی سے  شادی۔
ہاں مگر مجھے قتل کر کے  کرنا اس سے وہ جل کر بولا پھر خود ہی ہنس دیا۔
اچھا اب میں  فوج کا مزید خرچہ نہیں کرواتی فون بند کرو ک تین بجے ملتے ہیں
میں ریلیف کے  لیے  آیا ہوں مگر کل کے لئے ٹائم نکال لوں گا۔
میرے لیے سب سے  اہم کام تم ہو مجھے یاد ہے رگاپوشی میں تمہارے آنسو گرے تھے وہ آنسو تمہیں لوٹانے ضرور آؤں گا
اس نے الله حافظ کہہ کر فون بند کر دیا
آج کتنے عرصے بعد وہ پر سکون تھی
289
اس نے آنکھیں میچ کر ایک طمانیت بھری سانس لی اور پھر آنکھیں کھول دیں.
وہ کمرہ کتنی خوب صورتی سے آراستہ تھا کھڑکی سے باہر نظر آتا پودا کرنا سرسبز تھا اور فضا کتنی پر سکون تھی وہ باہر نکل آئی.
میجر نعمان اسے تھوڑی دیر بعد مل گیا تھا. ہوگئ بات ؟اب خوش ہیں؟
پریشے نے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا دیا.
چلیں یہ تو اچھی بات ہے وہ سمجھ چکا تھا کہ معاملہ محض پتھر کا نہیں تھا.
وہ اس کا شکریہ ادا کرکے وہاں سے چلی آئی.
آج اسے بہت سارے کام کرنے تھے.
وہ پورا گھنٹہ مظفر آباد کی مسمار کانوں کے قریب متلاشی نگاہوں سے کچھ کھوجتا رہا تھا مگر اس کی وہ شے اسے مل کے ہی نہیں سے رہی تھی.
جانے کب وہ مایوس سا چلتا ہائی کور لانز آگیا.
ہائی کور میں بھی خیمہ بستی نصب تھی. وہاں ایک جگہ گھاس پر بے تحاشا گرم کپڑوں ٹوپیوں اور موزوں کا ڈھیر لگا تھا. اردگرد چند لوگ پھر رہے تھے مگر امداد کے اس ڈھیر سے کوئ کچھ نہیں اٹھا رہا تھا پھر بھی اس نے متلاشی نگاہوں سے اس ڈھیر کو دیکھا اس کی مطلوبہ چیز وہاں بھی نہیں تھی.
وہ مایوسی سے پلٹنے لگا تھا جب اسے دور ایک درخت کے تنے کے ساتھ ایک کم عمر لڑکی بیٹھی دکھائی دی جس کے سر پر ہاتھ سے بنا ہیٹ تھا .
اس کئ مراد بر آئی تھی.
وہ اسی طرح جینز کئ جیبوں میں ہاتھ ڈالے تیز قدموں سے چلتا ہوا اس تک آیا.
بات سنو!. اس کے بالکل سامنے جا کر افق نے اسے مخاطب کیا.
لڑکی نے گردن اوپر اٹھائی. اس کے بال بھورے اور رخسار سیبوں کئ طرح سرخ تھے . اس کا حلیہ دیکھا کر افق کو قدرے تذبذب ہوا.
190
انگریزی سمجھتی ہو؟
ہاں میں  یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہوں ۔دھوپ سے  سرخ چہرے پر سوگواریت بکھر گئی ۔اب کہاں کی یونیورسٹی اور کہاں کی انگریزی سب کچھ راکھ ہو گیا خیر تم بتاؤ تمہیں کچھ چاہے؟؟
ہاں مجھے تمارا ہیٹ چاہئے ۔وہ اسی طرح اس کے سامنے گردن جھکائے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔اور لڑکی ویسے ہی درخت سے  ٹیک لگائے اسے دیکھ رہی تھی ۔
میرا ہیٹ؟؟ اس نے اپنی سبز آنکھیں حیرت سے  سکیڑی۔اس بد رنگ پرانے ہیٹ کا کیا کرو گے ۔
مجھے کسی کو گفٹ کرنے کے لیے ہیٹ چاہئے ۔مگر مظفرآباد میں مجھے تمہارے ہیٹ کے  سوا کسی کا دیکھائی نہیں  دیا۔
یہ تو بہت پرانا ہے  تین سال شاید پہلے بنایا تھا لڑکی سر سے  ہیٹ اتار کر  اسے غور سے  دیکھنے لگی۔
اوہ مطلب تم ہیٹ بنا سکتی ہو بلاشبہ یہ بہت مشکل کام ہے
ہے تو  مگر میری پھوپھی نے مجھے سکھایا تھا  خیر تمہیں ہیٹ چاہئے؟ میرے گھر میں  شاید کوئی رکھا ہو ہو
اس نے  اسے دوبارہ سر پر پہن لیا ۔
ہاں سادہ سا ہو ایک اوپر کھلا گلاب ضرور ہو جس کی پتیاں سیاہ ہو کر مرجا گئی ہوں
وہ حیرت سے  باسی گلاب کا کیا فائدہ؟
میں تمہیں یہ بات نہیں سمجھا سکتا جسے دوں گا اسے باسی گلاب اچھا لگے گا ۔
وہ فون پر اسے یہی ہیٹ پہن کر آنے کو کہنا چاہتا تھا مگر اسے یاد آیا کہ  وہ ہیٹ تو  بہت پہلے اشومیں  گر چکا تھا ان دونوں نے  عشق میں  بہت کچھ کھویا تھا اب اسے پریشے کے  حصے کی چیز اسے لوٹانی تھی ۔
تم نے اسے وہ ہیٹ کب دینا ہے؟
لڑکی نے دلچسپی سے اسے دیکھا جینز کی جیب میں  ہاتھ ڈالے اونچا لمبا غیر ملکی وجیہہ مرد اسے خاصی دلچسپ لگ رہا تھا
291
کل سہ پیر.
تو پھر صبح تازہ گلاب ہی لگادوں گئ سہ پیر تک تو وہ مرجھائے گا. میں صبح روشنی ہونے کے بعد گراں توڑوں گئ ایسے وہ جلدی مرجھاتے ہیں منہ اندھیرے توڑو تو وہ زیادہ دیر فریش رہتے ہیں.
واہ تم تو بہت عقل مند لڑکی ہو. شہد رنگ آنکھوں میں ستائش اترا
آئی. ۔خیر مجھے کل صبح ہوتے وہ ہیٹ نیلم سٹیڈیم میں کا دینا وہاں جو آرمی کا آخری کونے والا سبز خیمہ ہے ناں وہ ہے وہاں آجانا ویسے کتنے پیسے لو گی ہیٹ کے؟؟
لڑکی بہت دکھ سے مسکرائی :"تم کہاں سے آئے ہو"؟
"ترکی سے "
"کیا ڈاکٹر ہو؟"
"نہیں انجنیئر ہوں. "
پھرتم پہاڑوں میں بسنے والے لوگوں کی مدد کرو وہ میری طرف سے ترکی سے آنے والے انجنیئر کے لیے تحفہ ہوگا. تمہیں شام میں ہی لادوں گئ. "
نہیں ابھی تو ہم کچھ لوگ دور ریموٹ ایریاز امداد لے کر جا رہے ہیں شام تک تو شاہد ہئ آئیں . تم صبح آجانا اور تحفہ کا شکریہ. وہ کہہ کر پلٹنے لگا.
سنو تم نے وہ ہیٹ دینا کسے ہے؟ لڑکی کئ آواز میں تجس تھا .
افق نے ایک لمحہ کو مڑ لر دیکھا پھر مسکراتے ہوئے شان جھٹکے تہمیں کیوں بتاوں ؟
کتنے مہنیوں بعد وہ آج کھل کر مسکرایا تھا. پھر مزید کچھ کہے بغیر وہ وہاں سے چلا آیا.
اس کے دوست اس کا انتظار کر رہے ہوں گے ان سب نے ابھی آگے پہاڑوں میں جانا کا سوچتے ہوئے اس نے اپنے قدم تیز کر دیئے.
آپ کے باس اندر ہیں ؟ وہ سی ایم ایچ سے سیدھی ماموں کے آفس گئی تھی اور اب اور اب ان کے آفس کے باہر ایک لمحہ کو رک کر ان کی سیکرٹری سے استفسار کر رہی تھی.
جی مگر ابھی وہ دبئ کے لیے نکنے ہئ والے ہیں آپ کچھ دن.....
"وہ ان سنی کرتی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوگئ.
292
دروازے کی سیدھ میں کافی دور آبنوسی میز. کے پیچھے ماموں اپنی چیئر پر بیٹھے میز کی سطح پر رکھی فائل پہ جھکے کچھ لکھ رہے تھے. آپس پر سر اٹھا کر دیکھا پھر مشفقانہ انداز میں مسکرائے.
آؤ بیٹا! "انہوں نے فائل ایک طرف رکھ دی . آج آفس میں ؟خیریت ؟"
جی بس ایک بات کرنی تھی. وہ طویل کرسی کھنچ کر بیٹھ گئی.
ہوں لہو ویسے اچھے ٹائم پہ آئی ہو میں ابھی فلائٹ کے لیے نکل ہئ رہا تھا. خیر بتاؤکیا پیوگی چائے یا کافی؟؟
نہیں رہنے دیں. مجھے بس بات کرنی تھی.
چلؤ بتاؤ کون سی ایسی ضروری بات تھی. وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر بہت دھیان سے اس کی طرف متوجہ تھے.
پریشے نے بمشکل تھوک نگلا. ہمت کرکے تو آگئی مگر اب بات کیسے کرے؟شاہد اسے مامی سے پہلے بات کرنی چاہیے تھی یوں براہ راست ماموں سے بات کرنا مناسب نہ تھا لیکن. نہیں ماموں نےآج چلے جانا تھا اور پھر ہفتے بعد ان کی واپسی تھی. وہ اب اور انتظار نہیں کر سکتی تھی.
وہ..... ماموں..... میں دراصل . وہ رکی ہچکچائی اور پھر انگلی سے انگوٹھی نکال کر سامنے میز کئ چمکتی سطح پر رکھ دی.
آپ یہ پھپھو کو واپس کردیں.
نظریں گود میں دھرے ہاتھوں پر جمائے وہ آہستہ سے بولی. اس میں اس وقت نگاہ اٹھانے کی ہمت نہیں تھی. وہ اور افق بعض معاملات میں بہادر اور بعض میں بہت بزدل تھے.
کچھ دیر تک ماموں کچھ نہ بولے تو اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا.
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے.
آپ کو مجھ پر غصہ نہیں آیا کہ میں پاپا کئ خواہش کیوں پوری نہیں کی؟"
"خواہشات زندگی تک ہوتی ہیں. جو چلے جاتے ہیں ان کی خواہشات کے پورا ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا عموماً ہم لوگ دوسروں کی زندگیوں میں ان کو دکھ دیتے ہیں اور ان کی موت کے بعد ان کے لیے تسبحیات پڑھتے ہیں. تم نے پری اپنے پاپا کی زندگی میں کبھی نافرمانی نہیں کی . ان کی ہر بات پر سر جھکایا ہر حکم کئ تعمیل کئ. تمہارے پاپا تم سے راضی ہو کر گئے ہیں. تمہاری شادی حس سے بھی ہو اب انہیں فرق نہیں پڑے گا. انہیں صرف اس بات
293 & 294
فرق پڑے گا کہ تم خوش ہو یا نہیں؟"
"آپ لوگ بھی اس رشتے سے ناخوش تھے ناں۔؟" ماموں کی باتوں سے اس کا اعتماد بہال ہونے لگا۔
"ہم قطعا" خوش نہیں تھے مگر اس میں جہانزیب کا قصور بھی نہیں تھا۔ بھانجے بھتیجے سب ہی کو پیارے ہوتے ہیں۔نشاء کے منگنی بھی تو میں نےتمھارے مامی کے بھتیجے سے کی ہوئی ہے۔ اپنے رشتوں کے باعث انسان جانتے بوجھتےہوئے بہت کچھ نظر انداز کر دیتا ہے۔"
"پھر بجی آپ نے پاپا کے انتقال کے بعد یہ رشتہ ختمکرنے کا نہیں سوچا؟"
"میں کئی دنوں سے تمھارے منہ سے یہ سب سننے کا منتظر تھا۔آج میرا انتظار ختم ہوگیا۔" ماموں شفقت سے مسکرائے۔
"آپ یہ پھپھو کو۔۔۔ میرامطلب ہےکس بنیاد پر۔۔۔ " اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
"وہ میرا مسلئہ ہے۔"
"لیکن پھر بھی وہ بہت شور مچائیں گی۔" وہ وقتعا پریشان تھی۔
"بیٹا! میری بھی تو کوئی بات ہے ناں؟ اگر اتنا حوصلہ کر کے مجھ پر اعتماد کر کے یہ سب کہا ہے تو میں کہہ رہا ہوں کہ میں سنبھال لوں گا تو تمھیں اس باتے میں سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔"
اس نے تفکر سے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔
"ٹھینک یو ماموں ! میں چلتی ہوں۔" پھر وہ گھڑی دیکھتی آٹھ کھڑی ہوئی پھر جاتے جاتے مڑی۔ "آپ پھپھو سے کب بات کریں گے۔؟"
"دبئی سے واپسی پر۔"
"اچھا۔" وہ جانے کے لیے مڑی۔
"پری بیٹا۔"
وہ دروازے کے قریب تھی جب انھوں نے اسے پکارا۔ وہ دروازے کی ناب پر ہاتھ دھرے مڑی۔
"جی ماموں!"
"بیٹا اپنے پاپا کے بارے میں کبھی بد گمان نہ ہونا۔ اپنے بھانجوں سے ہر بیٹی کے باپ کو بہت امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر تمھیں لگتا ہے کہ راکاپوشی جانے کی اجازت نہ ملنے پر تمھاری نا خوشی محسوس کرکے تمھارے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کر دینے والا باپ زندگی کے سب سے اہم معاملے پر سنگ دل ہوگیا تھا تو تم غلط ہو۔ اسے اندازہ تھا کہ تم نا خوش ہو مگر اسے بھانجا اتنا پیارا تھا کہ اس کے خیال میں سیف سے شادی کراکر وہ تمھیں زندگی کی تمام خوشیاں دے رہا تھا۔ تمھارے پاپا کی سوچ ہر مشرقی باپ کی طرح یہی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کا برا بھلا زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ وہ ایک بہترین باپ تھا۔ اس نے ہر حال میں تمھارے لیے بہترین ہی ساچا تھا۔"وہ اداسی سے مسکرادی۔
(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
"آئی نو ماموں! میں پاپا سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی۔ شاید میں سیف سے شادی کر بھی لیتی مگر۔۔۔ بس دل نہیں مانتا۔" وہ اس سے آگے کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھی' مگر رک گئی۔ یہ بات اسے ماموں کی واپسی پر کرنی تھی۔
"خداحافظ ماموں!"
وہ وہاں سے چلی آئی۔ اب اس کا رخ مارکیٹ کی طرف تھا۔
جناح سپر میں ایک ایسی شاپ تھی جہاں سے اکثر وہ غیر ملکی نواردات خریدتی رہتی تھی۔
"مجھے ترکی کا جھنڈا چاہیے۔"
اس شاپ میں آکر اس نے سیلز مین سے کہا۔
افق کو فون پر وہ وہی مفلر پہن کر آنے کی تاکید کرنے لگی تھی مگر تب اسے یاد آیا تھا کہ وہ مفلر تو بہت اوپر راکاپوشی کی برف میں آنے والی کئی صدیوں کے لیے دفن ہوچکا تھا۔
اب اسے ویسا ہی ایک مفلر افق ارسلان کو گفٹ کرنا تھا۔
"ترکی کا جھنڈا تو نہیں ہے۔" سیلز مین نے چند منٹ بعد بتایا۔
"اچھا۔" اسے مایوسی ہوئی۔ "لیکن آپ منگوا کر تو دے سکتے ہیں ناں! مجھے کل صبح تک چاہیے۔"
"کل تک۔"سیلز مین سوچ میں پڑ گیا۔
"میں دس گنا اوپر قیمت دے دوں گی' مگر مجھے ہر حال میں ترکی کا جھنڈا کل تک چاہیے"اس کو انداز دو ٹوک تھا۔
"جی جی۔۔۔ شیور کل صبح آپ اٹھا لیجیے گا
ر295ہ نمبر295
وہاں سے وہ جوتوں کی دکان تک آئی-اپنے پرانے جوگرز سے ملتے جلتے سفید اور گلابی رنگوں والے جوگرز خریدے-اب اسے ہسپتال جا کر اسے استفعی دینا تھا-کل سے وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی تھی-نئی زندگی,جس سے اسے گزرے ہوۓ تین ماہ اور پہاڑوں کو منہا کرنا تھا-
سامان گاڑی میں رکھ کر اس نے اوپر آسمان کو دیکھا-اب نیلی چادر میں جگہ جگہ سفیدی رنگ رہی تھی-سیاہ بادلوں کا جھنﮈا بھی اسلام آباد سے کافی دورتھا-کاش وہ بادل کل اسی جگہ اور اسی وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر اتریں,جب وہ افق سے ملنے جاۓ-
ٹھنﮈی ہوا اس کے مخالف سمت سے چلی اس کے بال بار بار چہرے پر بکھر رہی تھی-اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ,چند لمحوں کے لیے آنکھیں موند کر ہوا کی خشبو سونگھی اور درختوں پر پھدکتی ہواؤں کی سرگوشیاں اور قدموں تلے بولتے پتھروں کی باتیں سنیں اور پھر آنے والے دن کی خوشیوں کا تصور کرتے ہوۓ وہ آنکھین کھول کر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی کہ دور کہیں سے اڑ کر آتے دو کوؤں نے اس کے سر کے پچھلے حصے پر اپنی چونچیں ماریں-اس کے لبوں سے کراہ نکلی-اسی پل وہ آسمان پر اڑتے چلے گئے-
وہ سر کا پچھلہ حصہ سہلاتے ہوۓ خوفزدہ نگاہوں سے افق پر غائب ہوتے ان کوؤں کا کرتی رہی-
کیا پھر کوئی بری خبر اس کی منتظر تھی یا وہ ضرورت سے زیادہ توہم پرست ہو چکی تھی?
وہ سر جھٹک کر کار میں بیٹھ تو گئی مگر اب ان دونوں کوؤں کو ﺫہن سے جھٹکنا اس کے لیے بہت مشکل تھا-
*……….*……….*
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ سب اتنی اچانک کیسے ہو گیا?خیمے میں رکھی چوتھی کرسی کھینچتے ہوۓ جینیک نے بے حد حیرت سے پوچھا-
باقی تین کرسیوں پر افق,کنین اور احمت بیٹھے تھے-
میں نے اسے کنیکٹ کیا اور کل میں اس سے ملنے جا رہا ہوں ,ﮈیٹس اٹ-وہ بظاہر لا پرواہی سے مگر لبوں پر بکھری آسودہ مسکراہٹ چھپا نہیں سکا-
تم خوش قسمت ہو-ایک مجھے دیکھو منگنی سے دو دن پہلے کال آ گئی کہ کشمیر جانا ہے-جینیک مصنوعی تاسف سے سر جھٹکا-اس کی منگنی ملتوی ہو چکی تھی اور اس نے خود ہی کی تھی-یہ وہی تھا جو
 296
ان سب کو وہاں لایا تھا-
پھر تم ہمارے ساتھ ان ریموٹ ایریاز میں نہ ہی جاو تو بہتر ہے-احمت نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سنجیدگی سے کہا-دیکھو,ہمیں وہاں ملبے تلے دبے لوگ نکالنے ہیں-تمام عمارتیں آدھی کھڑی ہوں گی اور اگر ریسکیو ورق کہ دوران کسی آفٹر شاک سے پوری کی پوری عمارت تمہارے اوپر گر گئی تو ہم ﮈاکٹر پریشے کو کیا جواب دیں گے?
احمت,بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات تو اچھی کر لینی چاہیے-افق نے خفگی سے اسے دیکھا-
میری شکل بہت اچھی ہے-آنے کہتیں ہیں مجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ اس نے ترکی میں نہیں دیکھا تھا
ہر ماں یہی کہتی ہے-میری ماں بھی یہی کہتی تھی,اصل اوکات تو یونیورسٹی کی لڑکیوں نے بتائی تھی-کینن ہنس کر بولا-
چلو ہم جا رہے ہیں تم نے چلنا ہے?جینیک سامان بیک پیک میں بند کر رہا تھا-
آف کورس-تمہیں کیا بھول گیا ہے کہ میں اور تم ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے جاتے ہیں-وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا-
ہاں,لیکن تمہیں کل اسلام آباد جانا ہے-وہ علاقہ دور ہے,شاید تمہاری کل صبح تک واپسی نہ ہو سکے-
کوئی فرق نہیں پڑتا-اگر دیر ہو گئی تو .........تو میں کل کے بجاۓ پرسوں چلا جاوں گا لیکن ہمیں ساتھ ہی جانا ہے-یاد ہے ہمارا موٹو تھا کہ افق اور جینیک جنت میں بھی اکٹھے ہی جائیں گے-وہ ہنس کر کہتے ہوۓ اپنا سامان سمیٹنے لگا-
بات صرف جینیک کے ساتھ جانے کی نہیں تھی,اس کا دل اندر ہی اندر ان لوگوں کا سوچ کر تڑپ رہا تھا جو اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ملبے تلے دبے تھے-آج انہوں نے مظفر آباد سے چند لوگوں کو زندہ نکال لیا تھا,سو اسے امید تھی کہ وہاں کچھ جانیں تو ہونگی جنہیں وہ ظالم پتھروں سے نکال سکیں گۓ-
ان کے گروپ میں کراچی یونیورسٹی کہ کچھ اسٹوﮈنٹس,چند جوان اور وہ چاروں ترک تھے-ہیلی کاپڑر نے انہیں دو پہاڑ دور ایک جگہ اتارا تھا,جہاں سے چھے گھنٹے پیدل سفر کر کے وہ اس بستی
وہاں سے وہ جوتوں کی دکان تک آئی-اپنے پرانے جوگرز سے ملتے جلتے سفید اور گلابی رنگوں والے جوگرز خریدے-اب اسے ہسپتال جا کر اسے استفعی دینا تھا-کل سے وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی تھی-نئی زندگی,جس سے اسے گزرے ہوۓ تین ماہ اور پہاڑوں کو منہا کرنا تھا-
سامان گاڑی میں رکھ کر اس نے اوپر آسمان کو دیکھا-اب نیلی چادر میں جگہ جگہ سفیدی رنگ رہی تھی-سیاہ بادلوں کا جھنﮈا بھی اسلام آباد سے کافی دورتھا-کاش وہ بادل کل اسی جگہ اور اسی وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر اتریں,جب وہ افق سے ملنے جاۓ-
ٹھنﮈی ہوا اس کے مخالف سمت سے چلی اس کے بال بار بار چہرے پر بکھر رہی تھی-اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ,چند لمحوں کے لیے آنکھیں موند کر ہوا کی خشبو سونگھی اور درختوں پر پھدکتی ہواؤں کی سرگوشیاں اور قدموں تلے بولتے پتھروں کی باتیں سنیں اور پھر آنے والے دن کی خوشیوں کا تصور کرتے ہوۓ وہ آنکھین کھول کر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی کہ دور کہیں سے اڑ کر آتے دو کوؤں نے اس کے سر کے پچھلے حصے پر اپنی چونچیں ماریں-اس کے لبوں سے کراہ نکلی-اسی پل وہ آسمان پر اڑتے چلے گئے-
وہ سر کا پچھلہ حصہ سہلاتے ہوۓ خوفزدہ نگاہوں سے افق پر غائب ہوتے ان کوؤں کا کرتی رہی-
کیا پھر کوئی بری خبر اس کی منتظر تھی یا وہ ضرورت سے زیادہ توہم پرست ہو چکی تھی?
وہ سر جھٹک کر کار میں بیٹھ تو گئی مگر اب ان دونوں کوؤں کو ﺫہن سے جھٹکنا اس کے لیے بہت مشکل تھا-
*……….*……….*
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ سب اتنی اچانک کیسے ہو گیا?خیمے میں رکھی چوتھی کرسی کھینچتے ہوۓ جینیک نے بے حد حیرت سے پوچھا-
باقی تین کرسیوں پر افق,کنین اور احمت بیٹھے تھے-
میں نے اسے کنیکٹ کیا اور کل میں اس سے ملنے جا رہا ہوں ,ﮈیٹس اٹ-وہ بظاہر لا پرواہی سے مگر لبوں پر بکھری آسودہ مسکراہٹ چھپا نہیں سکا-
تم خوش قسمت ہو-ایک مجھے دیکھو منگنی سے دو دن پہلے کال آ گئی کہ کشمیر جانا ہے-جینیک مصنوعی تاسف سے سر جھٹکا-اس کی منگنی ملتوی ہو چکی تھی اور اس نے خود ہی کی تھی-
297
ان سب کو وہاں لایا تھا-
پھر تم ہمارے ساتھ ان ریموٹ ایریاز میں نہ ہی جاو تو بہتر ہے-احمت نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سنجیدگی سے کہا-دیکھو,ہمیں وہاں ملبے تلے دبے لوگ نکالنے ہیں-تمام عمارتیں آدھی کھڑی ہوں گی اور اگر ریسکیو ورق کہ دوران کسی آفٹر شاک سے پوری کی