Tuesday, May 12, 2020

Famous Romantic Urdu Novels for Online Reading & downlod

Famous Romantic Urdu Novels
Famous Romantic Urdu Novels for Online Reading & downlod
Add caption


#میں_شادی_نہیں_کرنی_نہین_کرنی_تے_نہی_کرنی


ز_زرناب_علی

"ابا میں بتا رہا ہوں آپکو کہ میں نے نہی کرنی کوئی منگنی شنگنی...اس عالیہ سے..."
اس نے چھ منٹوں میں
کوئی ساتویں دفعہ یہی بات دہرائی...مگر ابا ایک شان بے نیازی سے حقہ گڑگڑا رہے تھے...دیکھا تک نہیں...جیسے وہ ان سے نہیں کسی اور سے بات کر رہا ہو....
"غضب خدا کا میں مذاق ہوں سب کا؟....جو کام کوئی اور نہ کرے وہ میں کر لوں...."
وہ تڑپ تڑپ کر اپنی اس نے قدری پہ احتجاج کر رہا تھا...
مگر ابا مغل اعظم کی سی بے نیازی دکھا رہے تھے.
"اماں میں بتا رہا ہوں آپکو...میں گھر چھوڑ کے ٹر جانا...پر میں اے زیادتی نی برداشت کرنی..."

اب کی بات ابا کو چھوڑ کر اماں کو دھمکی دی...وہ بھی ایسے ان سنی کر کے اسکی چھوٹی بہن کے سر میں تیل ڈال رہی تھیں...جیسے اسکی ماں کو جانتی تک نہ ہوں....
اسکے پانچوں چھوٹے بہن بھائی...گھر میں آس پاس کھڑے اسے عدیل سے سلطان راہی بنا دیکھ رہے تھے...مگر حسب سابق و عادت ابا پہ کسی بات کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آرہا تھا...
"ٹھیک ہے فیر...اے گل اے تے اے ہی سئی....میں جا رہا ہوں یہ گھر چھوڑ کے..."
آخری حربے کے طور پہ اس نے جوتے پہنے...اور باہر کی طرف چل پڑا...

"جاو جاو...صاحبزادے...اگر کوئی رکھے تو شوق سے کچھ دن رہ کے آنا...کوئی جلدی نی"
پہلی دفعہ قفل ٹوٹا..اور مغل اعظم گویا ہوئے
ابا نے اسے دیکھنے کا تکلف کیے بغیر...اپنے محبوب حقے کو دیکھتے ہوئے جیسے تیزاب پھینکا...
اسےلگا اسکا جسم جل ہی گیا ہو
اور اس کے اٹھتے قدم جہاں تھے وہیں منجمد ہو گئے...جس قدر وہ نخریلہ تھا...خاندان میں کوئی بھی اسے ایک دن سے زیادہ نہ رکھتا...نہ ہی رکھ سکتا تھا...

یہی بات ابا نے برے وقت استعمال کی تھی

ساری غیرت کہیں غائب ہو گئی...باہر کے دروازے کے قریب لگے واش بیسن کی طرف مڑا...تونٹی کھولی...اور گرم پانی منہ پہ ڈالا...گرمیوں میں ٹینکی کا پانی بہت گرم ہوتا تھا...ڈال کے سخت پچھتایا...مگر فلحال یہی سب سے عمدہ مصروفیت ہو سکتی تھی...

"جا عدیل جا کے دہی لے آیا...روزہ کھلنے والا ہے..."
اماں نے اسکے قدم جمے دیکھ کر نیا حکم سنایا...

"میں کوئی نہ جانا شانا ..."
ہاتھ ہوا میں نچا کے کہا...
اور باہر نکل گیا.. .
بے عزتی تو ویسے بھی ہو گی تھی....
*****&&&&*****&&&&&*******&&&&*****
Famous Romantic Urdu Novels
ابا ذات کے چودھری تھے...اور اس بات پہ فخر کرتے بوڑھے ہو گئے تھے...فوج میں گئے...اور وہاں حوالدار تھے جب ریٹائر ہو کر گھر آگئے...بقول انکے...

"فوج کی نوکری بڑی اوکھی تھی...اور وہ ذات کے چودھری .. کیا تھا اگر فوج میں حوالدار تھے...مگر زیادہ دیر حکم برداشت نہیں کر سکے...اور لکھ کے دے آئے(استعفی)..."
یہ اور بات کہ خاندان والوں کے بقول وہ اماں سے دوری برداشت نہ کر سکے...اور ریٹائر ہو کر آ گئے...کیونکہ اماں اپنا کھلے صحن والا گھر چھوڑ کر  چھوٹے چھوٹے کوارٹروں میں نہیں رہ سکتی تھیں..
اور اماں ابا مین مثالی محبت ہوا کرتی تھی....جسکی مثال انھیں کبھی نظر نہ آئی....

خیر اس سانحے کی تاریخ کے متلق اتفاق نہیں پایا جاتا تھا...
پھر انھوں نے گھر آ کر فوج میں ہوئے ظلموں کا بدلہ اپنے چھ بچوں سے بھرپور لیا...اس معاملے میں بھی انھوں نے لوگوں کا کہا سچ کر دکھایا...

"کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کے اصل ذمہ دار مولوی اور فوجی ہیں"خیر...

انکی عادت تھی...گھر کا کوئی بھی فرد اگر کسی کام کو کرنے سے انکار کر دیتا...تو پھر ابا پہ فرض تھا کہ کام اسی سے کروانا  ہے...
مثال کے طور پہ ایک دفعہ اماں نے کہا کہ
"چودھری صاحب...جاو...تے جا کے بھندیاں ہی لے آو....اج بھنڑی گوشت پکاتے ہیں..."
اور عدیل سے چھوٹےعقیل کے منہ سے نکل گیا کہ اماں یہ کیا روز ہریالی پکا لیتی ہو...ہریالی تو جانور کھاتے ہیں"
اماں تو منع کر دیا...مگر ابا نے اسے ہریالی کھلا کے چھوڑی...  اورا سکے ساتھ باقئ سب کو بھی...اور ہاں خود بھی کھائی😜
....خیر یہ تو پرانے زخم ہیں....موجودہ قصہ کچھ یوں تھا کہ پھپھو کی عالیہ کا رشتہ ہو رہا تھا...بلکہ ہو ہی گیا تھا...کہ عید کے تیسرے دن منگنی تھی...مگر کل صبح کھڑاگ ہو گیا...اور اس کے سسرال والے کہہ رہے تھے ..کہ وہ پھپھو کے اکلوتے ...نئے نئے محکمہ انہار میں ملازم ہونے والے سپوت کے پلے جواب میں اپنی بیٹی بھی ڈالیں گے...مطلب وٹہ سٹہ کریں گے...مگر پھپھو نا صرف انکار کر دیا...بلکہ مرنا جینا ختم کر کے انھیں باہر کا راستہ بھی دکھایا...اس وقت تو رضیہ جٹی بن گئیں...مگر بعد میں غصہ کم ہوا تو آحساس ہوا کہ بیٹی کا معاملہ خراب کر بیٹھیں...

پھر لگیں بیٹھ کے رونے دھونے اور واویلا کرنے...سارا خاندان جمع ہوا...وہاں کہیں ابا سرسری سا کہہ آئے کہ
"چلو دفعہ کرو جو ہونا  وہ ہو گیا...اب گھر میں ہی کسی بچے کو دیکھ کر کر دیتے ہیں...."
ویسے تو وہ شاید اس کسی بچے....کے عدیل ہونے پہ لاکھ دفعہ آعتراض کرتین...کہ وہ صدا کا نکما اور نخریلہ تھا...مگر اب مجبوری تھی...اسی لیے نیم رضامندی دے دی....
یہی بات جب کل شام افطاری کے بعد ابا نے بھی خاصے سرسری سے انداز میں کی.. تو عدیل ایسے اچھلا جیسے سپرنگ پہ بیٹھا تھا....
اور تب سے وہ سلطان راہی بنا...احتجاج کر رہا تھا...ساتھ میں عالیہ کی سانولی رنگت کا اپنے گورے رنگ کے ساتھ مقابلیاتی تجزیہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ...اپنی برائیوں کو اچھائیوں...اور اسکی اچھائیوں کو برائیوں کے طور پہ پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری تھا...

مگر اسکا احتجاج ابا کے سرسری ارادے کو اینٹ سے پتھر کیے دے رہا تھا...
انھوں نے ایک نظر کرنا تو دور کی بات حکومتی پالیسی کی طرح ??who cares  کا علم بلند  ہوا تھا...
عدیل کا احتجاج سخت سے سخت تر اور ابا کا رویہ بے پرواہی سے لاپرواہی کی طرف جا رہا تھا

حالات کی سمجھ نہ آ رہی تھی...ابا کا بھی آج تک کوئی سائنسدان کوئی حل نہ پیش کر سکا تھا.. اب اسے ایک ہی صورت نظر آ رہی تھی...کہ ابا پہ تعویز کرا دے....


ابا کے اوپر تعویز کرانے کے بارے مین سوچتا وہ باہر نکلا...گھر سے نکل کر باہر گلی میں آیا....افطاری کے وقت کا رش تھا...اس محلے کے قابل اور پابند لوگوں کو ساری خریداری آخر وقت کرنے کی عادت تھی...آج تو سلطان راہی مطلب عدیل کو اس بات سے بھی کوفت ہوئی...

"اس وقت تو ایسے باہر نکلتے ہیں جیسے...بل گیٹس کے ساتھ سارہ دن مصروف رہتے ہیں..بھلا بندہ صبح صبح آ کر خریداری کر لے...."
سامنے سے آتے ریڑھے والے کے ریڑھے سے ٹکرا کر کپڑوں پہ لگے داغ کو صاف کرنے کی ناکام کوشش میں اس نے محلے والوں کو بازار میں رش کرنے پہ کوسا....

پھر سامنے والے شوکے کی دکان پہ پہنچ کے دور سے ہی اعلان کیا....
 Next
Urdu Novels
"میرے JAZZوالے نمبر پہ ایزی لوڈ تے کر...."
یہاں دکانیں چھوٹی چھوٹی تھیں...اور دوکانوں کے درمیان ایک کھلا سامیدان تھا...جو عام طور پہ گندگی کا گھر ہوتا...مگر آجکل احترام رمضان میں اسے صاف کرنے کی ایک حفیف سی کوشش کی گئی تھی....
دکان کے سامنے رکھی ایک پلاسٹک کی کرسی پہ پھیل کے بیٹھا....

"کیڑا...ایزی لوڈ....کوئی لوڈ شوڈ نہی.. پہلاں...پچھلا حساب مکاو...تے فیر اگوں..کھلاو...."
شوکہ بھی انھی کے ساتھ پلا تھا...جانتا تھا ادھار نہیں ملنا پھر بھی ہر دو ہفتے بعد جنتا کے سامنے بیست کر کے اپنے زنانہ جذبات کی تسکین کرتا تھا.. .

"دے دیا گا...او وی...اسی کرے جا تے نہی رئے.. ."(یم کہیں جا تو نہیں رہے)
انداز کو شیریں بنا کے دوستانہ انداز میں کہا....

"او چل چل....پتہ تیرا....پیدائشی کنگلا ہے تو...پیسے دینا تیرے دل میں نہی آتا..."

وہ بھی جانتا تھا عدیل کے پاس پیسے ہوتے بھی تو اس سے نکلوانا مشکل تھا....
"او چل کر دے...آج ضروری کال کرنی ہے میں...."
اب تو لہجے میں امراو جان کا سا پیار تھا ..

"اوے گل سن(بات سن)...'
شوکے نے اپنے کاوئنٹر پہ آگے ہو کے راز داری سے کہا....
"کی؟"
عدیل بھی آنکھیں پھاڑے آگے کو ہوا.. توجہ بھرپور تھی...
"اے تو پچھلے محلے مین کی کرنے جاتا ہے؟"
اسکی بات سن کے ساری توجہ اور جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا...اسکے پچھلے محلے جانے کی خبر یہاں بھی پہنچ گئی تھی....

"لوڈ کر دتا؟"
سوالیہ پوچھا...اسکے ہاں کے جواب مین انداز واپس....روکھا بنایا...اور احسان فراموشی کے ماونٹ ایورسٹ پہ پہنچ گیا...

"تنوں کیوں دساں(تمہیں کیوں بتاوں)؟؟"
شوکہ بھی اسکے گرگٹ کی طرح آنکھیں بدلنے پہ بدمزہ ہوا....کیا تھا جو وہ کوئی چٹ پٹی کہانی اسے بھی سنا دیتا....سارہ دن دکان پہ بیٹھ کی کہانیاں سننے کی عادت جو پڑ چکی تھی ..

"دیل .(عدیل)..جتنا سادہ تو لگدا ہیں نا....انا(اتنا) تو ہے نہی....'
اسے مڑتے دیکھ کر وہ مشکوک انداز میں بولا..
"تے کس کہا کہ میں سادہ ہوں؟'
وہ بھی شان نے نیازی سے مڑ رہا تھا...جب شوکا چیخا...

"کوئی نئ بھولے بادشاہو....اسی تیرے ابا کولوں پچھ لاں گے..."
اسےبدمزہ ہو کر مڑنا پڑا..
"کی خیال اے....؟؟"

شوکا اسکے مڑنے ہی آنکھیں مٹکا کے بولا....
"خیال تے کجھ نہی...پر میں ای سوچ رہا تھا...کہ آجکل تم میں نسوانی حصوصیات نہیں پیداہو گئیں...کی خیال اے؟"

آنکھوں کو پرسوچ انداز میں سکیڑ کے کہا....
 Urdu Novels Read Online
AP YA NIVEL PAR RHA HN HMRI WEBSIT
www.urdupointadab.ml
"او چل دفعہ....جا کے اپنا کم کر."
شوکا....جانتا تھا اس نے مذاق مذاق میں پورے محلے میں اسکا مذاق اڑوا دینا تھا....اس لیے اسے دفعہ کیا

ایزی لوڈ والا کام ہو گیا تھا ...اس نے وہاں بیٹھ کے کونسا...دوستیاں بنانی تھیں...ذرا باہر کی طرف نسبتا کم رش والی جگہ آکر اس نے ایک فون کال کی....دور سے یہی پتہ چلا کہ کوئی حسینہ تھی  جسے زور بازو کی تسلیاں دے کر مطمئن کیا جا رہا تھا...اب اندر کے حالات تو اللہ ہی جانتا تھا...."

واپسی پہ جب افطاری سے دس منٹ پہلے وہ گھر کی طرف ا رہا تھا....تب تک اس نے یہ بابوں کے ظلم اور فراڈ کے قصوں کی پیش نظر اس بکھیڑے میں پڑنے کا ارادہ ترک کر دیا....اور عین گھر کے دروازے سے واپس مڑ گیا....

تھا تو مشکل ....پر اب اگلے دو دن اس نے اوکھے سوکھے...اپنے ماموں کے گھر گزارنے تھے....یہی ایک معقول حل تھا ابا سے اپنی بات منوانے کا....اور اگلا پلان اس نے سوچ لیا تھا....


ماموں کے گھر آ کے اس نے اپنی رام کہانی سنائی ...تو مامی نے پہلے تو اسکے ساتھ ہونے والی اس متوقع زیادتی پہ تعزیت کی...پھر اپنی تمام دلی ہمدردیوں کے ساتھ اس کے لیے محو دعا ہونے کی یقین دہانی کرائی....

رات تک اسکی سنائی گئی چٹ پٹی کہانی کو کئی دفعہ دہرائی گئی. .اور ہر سنانے والے نے اپنی طرف سے کمی تو نہیں لیکن بیشی ضرور کی  ...

شام کو ماموں آئے تواس نے چہرے پہ زمانے بھر کی مسکینیت طاری کی...اور ماموں کی حسنہ...جو شام سے اسکے دکھ میں گھلی جا رہی تھی...اور اسکے ابا کے اس نامعقول ارادے کی مذمت کر رہی تھی....نے اپنی تمام طر حسن بیانی کو استعمال کر کے ماموں کو درد بھری داستان سنائی...ایک وقت میں تو عدیل کو بھی خود سے سچی ہمدردی ہونا شروع ہو گئی....اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا.....کہ اسکے ساتھ "اتنییئی بڑی" زیادتی ہو رہی ئے...

خیر اسکے دکھی تاثرات اور حسنہ کی کہانی میں موجود رقت کی وجہ سے ماموں نے اسے فراخدلی سے یہاں قیام کی اجازت دے دی...
"چلو اک مسئلہ تے حل ہویا...نہیں تو ماموں نے مجھے کل ہی چلتا کرنا تھا..."
اس نے دل میں اللہ کا شکر کیا......

اگلے پورے دن وہ فون ہاتھ میں پکڑے...زیادہ وقت اسے کم مصروف رکھنے کی کوشش مں جتا رہا...تاکہ اگر گھر سے کال آئے تو کہیں مس نا یو جائے....
 Urdu Novels

"مگر ہائے ری قسمت. ..کال تو دور کی بات کسی نے فون کر کٹ پوچھا تک نہیں کہ وہ تھا کہاں؟"

"یہ لوگ سوچتے ہوں گے...کہ میں گھر آ جاوں گا...اے تے فیر اے پہ سئی"
اگلا پورا دن بھی اسی انتظار میں گزر گیا....پھر تو اس نے باقاعدہ پچھتانا شروع کر دیا... ماموں کے جنگلی بچے آپس میں مولا جٹ اور نوری نتھ کی طرح لڑتے تھے 
بلکہ لڑتے کم اور بڑی بڑی بڑھکیں زیادہ مارتے تھے..

ایک دفعہ تو اس نے اٹھ کے نوری نتھ کا پارٹ کرنے والے کو ایک لگائی بھی....مگر وہ روتا ہوا مامی کے پاس چلا گیا....اور مامی جو اللہ جانے کیسے اسے دو دن سے برداشت کیے ہوئے تھیں...انھوں نے بغیر نام لیے...کسی غائب شدہ کو مفت خور...نکما...اور پتہ نہیں کیا کیا قرار دیا....مگر وہ جانتا تھا یہ ساری نوازشات اسی کے لیے کی جا رہی ہیں..  اور انکی شان نزول...نوری نتھ صاحب کو پڑنے والا تھپڑ تھا....

خیر یہ اور اسکے بعد ہونے والی کچھ خصوصی عزت افزائی کے بعد وہ جو خود ہی گھر جانے کے بارے مین سوچ رہا تھا....خوشی آئ کھل اٹھا....

اماں سب سے چھوٹے....سبیل کو لے کر آئی تھیں....
اس نے اماں کو دیکھتے ہی اعلان کیا...

"کوئی ضرورت نہیں مجھے کچھ بھی کہنے کی....میں نی جانا گھر شر...."
دور سے ہی دایاں ہاتھ ہوا میں نچایا....

"تے نا جا...تنوں لینے کون آیا ہے..."
اماں آرام سے کہتی...اندر آخر صوفے پہ بیٹھ گئیں....اور گرمی کی وجہ سے چادر اتارنے لگیں....

"مین تو بچیوں کو عیدی دینے آئی ہوں...اس دفعہ عید پہ مشکل ہی آنا ہو...."
وہ اطمینان سے صوفے پہ نیم دراز ہو گئیں...پیڈسٹل فین کا منہ اسکی طرف سے موڑ کر اپنی طرف کر لیا...اس نے بھی بد لحاظی سے دوبارہ اپنی طرف موڑا....

"ارے کس قدر بد لحاظ ہو تم...ماں کا خیال نہیں...کہ اتنی گرمی میں روزہ رکھ کے آئی ہے"
وہ بھی اسی کی ماں تھیں...دوبارہ اپنی طرف کر لیا...

"ہاں تو کیوں آئی ہیں...ہمیشہ تو عید کے دوسرے دن ہی آتی ہیں....ادھر"

اس نے بے زاری سے کہا....اور اٹھ کر پنکھے کے آگے کھڑا ہو گیا ...جتنی گرمی تھی وہ تو ایک مںٹ بھی پنکھے کے بغیر نہیں گزار سکتا تھا....

"ہاں ہر اس دفعہ تو عید کے دوسرے دن گھر میں بہت مصروفیت ہو گئی.."
وہ تھکے ہوئے انداز مین بولیں...

"کیوں اس دفعہ عید پہ چیف جسٹس کو گھر بلانے کا ارادہ ہے..."

وہ بھی عدیل تھا...بے زاری سے طنز کیا...
"ہائے کیا اچھا ہو...اگر او ساڈھے گھر آئیں...پڑ میری ایسی قسمت کہان...اس دفعہ عید کے دوسرے نکاح جو ہے تمہارا.. "
حسرت سے بولیں....آجکل وہ چیف جسٹس کی بڑی فین تھیں....
شکر ہے ٹھنڈی آہ ہی بھری....گھر نہ آنے پہ شارخ خان کے "فین" کی طرح چیف جسٹس کو بدنام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا...

خیر مگر وہ جانیں اور انکے فین....عدیل تو ایسا اچھلا کہ وہ فین(پنکھا) بھی بھول گیا...جسے صبح شے ایک منٹ دور ہونا وہ گوارہ نہیں کر رہا تھا

"کیا اماں....آپ پاگل تو نہیں ہوگئیں؟؟"
انڈین ڈراموں کی طرح جھٹکے دار  کیاااا ؟کی....بس بے ہوش ہو کے گرنے کی کمی رہ گئی تھی...

"ارے آہستہ بولو...میں بہری ہوں کیا..."
اماں کو ناگوار گزرا تھا...

"ابا میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے...مجھے یقین نہیں آ رہا..."

اس نے دونوں ہاتھ سر پہ رکھے

"چل کوئی نہیں...دو دن ہی رہ گئے ہیں...پھر آجائے گا یقین بھی...."
وہ اطمینان سے بولیں....

"ابا کو یہ کرنے کے لیے میری لاش پر سے گزرنا ہوگا...."

اماں کو اثر نہ ہوتے دیکھ کر اس نے سنگین دھمکی دی....مگر بے سود
"چل کوئی نہیں یہ بھی کر لیں گے..."
شان عارفانہ سے کہا....پھر شاید کہیں اے بچی کچی مامتا جاگی...

"نا میرے جھلے(پاگل)...تجھے نہیں پتہ اپنے باپ کا...الٹی مت ہے اسکی   جس کام سے منع کیا.. وہ اس نے فرض کر لینا ہے.. پر تو نہیں سمجھے گا"

اماں نے آخر میں اسکی نا سمجھی کو کوسا....تو اسکا دل چاہا کہ وہ اماں کی نا سمجھی کو کوسیں....

"ہو گا تو وہی....جو میں چاہوں گا..."
اس نے دل میں سوچا...
 Urdu Novels

"مین تو کہتی ہوں پتر...چل گھر...جو ہونا تھا او تے ہو ہی گیا....کی ضرورت اے...در بدر پھرنے دی"
اماں نے آخر می  رازداری سے مشورہ دیا...

"نی میں بھی دیکھنا....کی کیسے میرے بغیر نکاح پڑھاتے ہیں وہ...."
عزم شے بولتے ہوئے وہ ابھی کچھ دیر پہلے کا اپنا واپسی کا ارادہ بھول گیا....

"تے او کونسا بڑی گل (بات) ہے...انھوں نے خود ہی تمہاری طرف سے ولی وکیل بن کے غائبانہ نکاح پڑھا دینا...."

انھوں نے پتہ نہیں کس کی ہمدردی میں کہا تھا....یقینا....اماں نے ابن الاوقتی...بلکہ بنت الاوقتی کا مظاہرہ کر کے ابا کے ساتھ اندرون خانہ اتحاد کر لیا تھا...

"مین تو کہتی ہوں ایسے مشکوک نکاح سے بہتر ...تو چل کے خود ہی قبول ہے..قبول ہے...کہہ دے جا کر...."

اماں نے اسکی طرف آگے جھک کر خالص بھائی لوگوں کے انداز مین آنکھ دبا کر مشورہ دیا...

"توبہ کریں....اماں کیسے بھائی لوگوں کی طرح آنکھیں مار رہی ہیں....وہ بھی اس عمر میں..."
وہ کہے بغیر نہ رہ سکا....
"No worry....."
مگر اماں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے نو وری کا gestureدیا.....

معاملات تو توقع سے زیادہ تیزی سے گھمبیر ہوتے جا رہے تھے.....اس نے ذہن کا گھوڑا تیزی سے دوڑایا.....
آخر اس نے معاملہ اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا تھا....تو اس کے لیے سوچنا تو ضروری تھا.. 
اس نے کانی آنکھ سے اماں کی طرف دیکھا....اماں کی وفاداریوں پہ اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا.....وہ محالف پارٹی کے آگے....بک گئی تھیں.....شاید....اور اسکے لیے اب سے بڑی اپوزیشن ابا تھے.....تحریک انصاف سے بھی بڑی.....

#حصہ_04 #آخری_حصہ

اماں کی زبانی ابا کے حطرخاک ارادوں کا سن کر بھلائی تو اسی میں تھی کہ وہ اماں کے ساتھ چلا جاتا....ویسے بھی اگر نہ جاتا تو بھی دو دن بعد بھی خود ہی جانا تھا....لینے تو کسی نے نہیں آنا تھا....

"فیر کیا سوچا ہے تم نے؟"
اماں نے کافی دیر کے بعد اسے سوچ میں غرق دیکھ کر سرسری سے انداز میں پوچھا ....

"حالات کو دیکھ کر فیصلہ کیا ہے...گھر سے باہر رہنا عقل مندی کا تقاضہ نہیں ہے...بلکہ ابا کے سامنے جا کر مقابلہ کرنا چاھیے...کیا پتہ ابا ارادہ بدل ہی دیں....اس لیے وہاں ہونا ضروری ہے...'
وہ ایسے پرسوچ انداز مین بولا جیسے...پاکستان کی بگڑی ہوئی خارجہ پالیسی کا بوجھ اسکے ناتواں کندھوں پہ رکھ دیا گیا ہو....

"اس لیے ان عدیل سر پہ کفن باندھ کے...مغل اعظم کی سلطنت میں جائے گا....اور انشاءاللہ فتح حاصل کرے گا...."

سلطان راہی کی روح نے انگڑائی لی...اور اس نے دائیں ہاتھ سے سینہ بجا کر اعلان کیا...

سامان تو تھا کوئی نہیں....اماں نے مامی سے اجازت لی...اور  ظاہر ہے انھوں نے نہایت خوشی سے اجازت دی....کہ پچھلے دو دنوں سے اس نے انکے مولا جٹ اور نوری نتھ کا جینا حرام کر رکھا تھا....اب وہ بغیر لائٹس اور کیمرے کے ایکشن ریکارڈ کرانے میں آزاد تھے....

گھر آکر سب سے پہلے تع سب بہن بھائی دبا دبا ہنسے....جسکا سراسر مطلب اسکا مذاق اڑانا تھا....مگر کوئی بولا کچھ نہیں ...کہ اسکے راہی روپ سے سب ڈرتے تھے...

مگر برا ہو قسمت کا....ابا سامنے ہی مرکزی ہال کمرے میں بڑے سے پلنگ پہ حقہ سامنے رکھ کے اسکا حسرت سے دیدار کر رہے تھے....وہ ہر ہفتے میں ایک روزہ محض حقہ پینے کے لیے چھوڑ دیتے....اس دن وہ سارہ دن حقہ پیتے....اس بارے مین وہ ہر یقین تھے کہ اللہ انھیں اس بات کا برا منائے بغیر معاف کر دیں گے ... اور وہ دن کل گزر چکا تھا....خیر یہ انکا ذاتی معاملہ تھا....

اسے دیکھ کر رخ روشن اسکی طرف کیا....اور مسکرائے ایسے پہ کیا انجمن تیرے باجرے دی راکھی....والی ویڈیو میں مسکرائی ہو گی....

خیر اس نے کوشش کی کہ ان سے ٹکراو ہوے بغیر وہ کمرے میں چلا جائے....مگر وہ ابا تھے کیوں چھوڑتے سنہری موقع....

"جلدی پدھارے ہیں آپ...؟"
بیڑا غرق ہو ان انڈین ڈراموں کا ہماری بوڑھی جینریشن کو خراب کر دیا....ابا انڈین ڈراموں کے بھی شوقین تھے....

"امان نے منتین کی ہین میری....ماں کا خیال نہ ہوتا تو آپ مرتے دم تک میری شکل کو ترستے...."
"ماں کی عظمت کا سلام.....اللہ مجھے لمبی عمر دے....تمہاری شکل دیکھنے کے لیے "ترسنے" کا برا وقت نہ آئے....چلو اچھا کیا ....دو دن نکال آئے یہ بھی بڑیییی بات ہے"

اسکی بات پہ لعنت بھیج کر اپنے لیے دعا گو ہونے کے بعد ابا نے بڑییئئئ پہ زور دے کر اسے گیلا جوتا مارا....

"کر لو تیاری....ماں نے بتایا ہو گا تمہیں .  "
انھوں نے بیوی کی طرف دیکھا. . تو انھوں نے مثبت اشارہ کیا
عدیل کو تو پہلے ہی شک تھا اماں کی وفاداریوں پہ....

"ہاں اور میں نے بتا دیا ہے....آپ باپ ہیں....تو باپ بنیں....ظالم جاگیردار نہیں...اور نا ہی مجھ پہ صدا کا پالنے والا احسان جتانا....پالا ہے تو کوئی احسان نی کیا....جو پیدا کرتے وہ پالتے بھی ہیں...."
اس نے بدتمیزی سے کہا...مگر ابا tension not  کی عملی تفسیر بنے رہے....

"مین نے بتا دیا ہے اماں کو کہ میں اے نکاح نہیں کرنا...چاہے جو وی ہو جائے..."
گرج کر کہا....
ابا بولے کچھ نہیں مگر انداز ایسے تھا. .
"دیکھتے ہیں برخوردار..."
انکے انداز پہ اس نے دھمکی بڑھائی
"اور اگر زبردستی نکاح پڑھا بھی دیا تو میں نے بھاگ جانا ہے یہاں سے...پھر دیتے رہیئے گا بہن کو جواب...."
اس نے ایسے کہا گویا وہ اکیسویں صدی کی ہیر تھا...جسکا حالت بے ہوشی میں زبردستی نکاح ہو جاتا....
 Urdu Novels

ابا نے جواب دینا غیر ضروری خیال کرکے....اسے ہاتھ کے اشارے سے دفعہ دور کہا. ...

پھر اگلے دو دن اور حتی کہ عید والے دن بھی اسکے احتجاج کے بادل گرج  چمک کے ساتھ برستے رہے... مگر ابا اپنے نام اور مقام کے ایک ہی رہے....

پھر آخر کار وقت شہادت بھی ا گیا...مگر اس مرد مجاہد نے صبح تک واویلا جاری رکھا....مگر اماں کی حیرت کی انتہا ہی تھی....جب انھوں نے اسے خود سے ہی نیا نکور جوڑا پہن کر تیار ہوتے دیکھا....

"ہیں...می عدیل تو تے کہہ ریا سی کہ توں اے کپڑے نہی پانے....؟؟"
اماں نے کمر پہ ہاتھ ٹکا کر کہا....

"تے ہون پرانے کپڑے پا کے جاوں؟؟"
وہ غصے میں اسیے چھوٹ کے بولا.....

"اے نا میرا پتر....تو اے ہی کپڑے پا لے ...میں تے اس لیے کہہ رہی ہوں..  کہ صبح تک تو تو پھوڑی ڈال کے بیٹھا ہوا تھا کہ تجھ پہ ظلم کر رہا ہے تیرا باپ....اور ابھی تو تیار شیار ہو را ہے...ہین...."
وہ بھی کہاں بخشنے والی تھین....
کمرے سے جا کر واپس آئیں....
"اللہ خیر..."
عدیل نے دل مین کہا

"نا تم مجھے یہ دسو....پتر کہ تو پچھلے محلے میں کی لینے گیا تھا...؟"
او...لگتا ہے شوکت کمینے نے اماں کو بتا دیا تھا...

"اماں میں....؟میں؟....میں کیوں جانا پچھلے محلے ؟؟"

وہ ایسے حیران ہوا....جیسے مکمل لاعلم ہو....اس طرح تو خواجہ آصف اپنے اقامے کا سن کے حیران ہوتا تو نیب نے یقین کر کے انوسٹیگیشن روک دینی تھی....
"نا تو نہی گیا کیا؟؟'

اماں کو یقین نہی تھا....
"مین کیوں جانا سی اماں؟؟"
وہ اپنے موقف پہ قائم تھا..
"اچھا فیر او شوکا ..جھوٹ بول رہا سی"
وہ خود کلامی کرتی باہر چلی گئیں....
اس شوکے تو میں دیکھ لوں گا.....عدیل نے انتقامی جذبات کے تحت سوچا....
خیر اللہ اللہ کر کے وہ لوگ وہاں پہنچے....تو نکاح کی کاروائی ہوئی....عقیل اور سبیل حیران تھے....کہ وہ جو پچھلے پانچ دن سے احتجاج کے نام پہ بغیر لائٹس اور کیمرے کے ایکشن دکھا رہا تھا....ابھی خوشی خوشی نکاح پڑھ رہا تھا....

حیرت تو اس وقت پورے خاندان کو ہوئی جب کھانے کے بعد سجی سنوری عالیہ....بھی انکے ساتھ روانہ ہوئی....ان سب کے ساتھ ساتھ اماں کا بھی منہ کھلا رہ گیا....وہ بھی بے خبر رکھی گئی تھیں ...

"ارے بھائی صاحب نے کہا....گھر کے بچے ہءن جہیز وہیز کے چکروں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے....اور ویسے بھی عدیل کا دبئی کا ویزہ نکلنے والا ہے تو اس سے پہلے یہ بھگت جائیں"

ہیں کونسا ویزا....ابھی تو صرف اس نے پاسپورٹ بنوایا تھا...ویزا تو ابھی جمع بھی نہئ  کرایا تھا....
سب نے حیرت سے سوچا....

"چلو بھئی باقی باتیں.. گھر جا کے کر لیں گے...ابھی میرے بیٹے نے بھاگنے بھی ہے..."
ابا نے طنز کیا....باقی تو کسی کو کیا سمجھ آتی....مگر عدیل سمجھ گیا تھا کہ یہ اقدام اسے بھاگنے نہ دینے کے لیے کیا گیا تھا....

گھر آکر اماں تو ابا پہ سخت غصہ تھیں ..کہ انھوں نے اعتماد میں نہ لیا....مگر عدیل....سب کے روکنے اور مذاق کرنے کے باوجود فورا اپنے کمرے میں چلا گیا....

اسکے چھوٹے سے سنگل بیڈ پہ وہ سمٹی سمٹائی سی بیٹھی تھی....اسکے دروازہ کھولنے اور بند کرنے پہ مزید الرٹ ہو گئی....

سب سے پہلے اس نے کچھ دیر پہلے اماں کے منٹ طرلے کر کے لی ہوئی انگھوٹی....اسے پہنائی....اور پھر گھونگھٹ الٹ دیا...شرمیلی سی ہنسی اسکے لبوں سے نکلی تھی....عدیل سر شار ہو گیا.....

"لو بھئی پھر مانتی ہو نا....چودھری عدیل کو؟؟"
اسکا انگوٹھی والا ہاتھ پکڑ کر اس نے دبایا...
 "کہا تھا تم سے....شادی تو دور کی بات میں نے انگوٹھی بھی نہی پہنانے دینی اس چھچھوندر کو....."
وہ فخریہ اکڑ کر بولا.....تو وہ پھر ہنسی.....

"اتنی جلدی کیسے کر لیا آپ نے یہ سب؟؟"
شرمیلے انداز مین پوچھا... .
تو اس نے اول تا آخر ساری کہانی سنا دی....

"ڈر نہ لگا آپکو.....اتنے ڈرامے کرتے ہوئے؟؟'
وہ حیران تھی....عدیل نے بھرپور قہقہہ لگایا.....

"ارے جب عشق کیا تو ڈرنا کیا.....ویسے کل اماں نے مجھے ڈرا دیا تھا....جب انھوں نے مجھے کہا کہ تو پچھلے محلے کیا لینے جاتا تھا؟....میں تے سوچیا...پکے پھسے....پر بچت ہو گئی...."
وہ شکر کر رہا تھا.....ساتھ ہی شوکت زنانہ عادات والے سے بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا....

اور عالیہ جو اسے کسی کام کا نا ہونے کا طعنہ دیتی رہتی تھی....اب اسکے سامنے بیٹھی مسلسل شرمائے جا رہی تھی....

اور وہ سوچ رہا تھا کہ چاہے وہ جتنا بھی پاگل تھا....اتنا نہی تھا کہ اپنے ابا کا مزاج بھی نہ سمجھ پاتا.....
 Urdu Novels

"میں اے شادی نہی کرنی ،نہی کرنی تے نہی کرنی...."

عالیہ کے سامنے بیٹھے اسے ابا کے سامنے بولا گیا اپنا ڈائیلاگ یاد آیا تو اس کا قہقہہ نکل گیا....کیسے اس نے ابا کو مجبور کیا تھا....حالات ایسے بنائے کہ ابا کو لگا جو وہ کر رہے ہین وہ انکی اپنی مرضی ہے....اور ویسے تو پھپھو بھی لاکھ برائیاں نکالتیں اس میں....مگر اسکے انکار کٹ ڈرامے میں آکر.جو مل رہا ہے غنیمت جانو کے مطابق ہاں کر بیٹھیں.....ورنہ ابا کو تو شاید وہ اس سب کے بغیر بھی منا لیتا...مگر پھہھو اسے نکما...فارغ اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر ریجیکٹ کرتین....
شاباش عدیل تم بھی بڑے سکیمر ہو گئے ہو....
اس نے خود کو شاباش دی.
....آج وہ دونوں بہت خوش تھے.....انھوں نے اللہ کےکرم سےناممکن کو ممکن بنا لیا تھا....کیا تھا جو تھوڑا ڈرامہ کرنا پڑا تھا...پر اس میں کسی کا کوئی نقصان تو نہی ہوا تھا نا.

مزاحیہ ناول لکھنا بہت مشکل کام ہے...لیکن میں نے اپنی سی ایک کوشش کی ہے....امید ہے آپکو پسند آئے گا....اپنے کامنٹس ضرور دیجئے گا.
ختم شد
or agr ap is trha k novel facebook pa hasil krna chta hn to hmra page ko like krn
cleck hear

50 Best Urdu Novels Read

Monday, May 11, 2020

کانچ کی گڑیا romantic urdu novel by nimra ahmad











کانچ_کی_گڑیا


#از_حافظہ_ثوبیہ_عارف
#قسط_نمبر_01

کانچ کی گڑیا
ٹوٹ کر بھکرتی رہی
اپنی ہی ﺫات میں سمٹتی رہی
لفظوں کے بازار میں
جہاں درد کا کوئی خریدار نہیں تھا
بن کر خوشی کا آنسو
بے قیمت لفظوں کے داموں میں
وہ انمول سی گڑیا
آنکھوں میں مرضی سجائے
دل میں درد چھپائے
بکتی رہی،بکتی رہی
ٹوٹ کر بھکرتی رہی
اپنی ہی ﺫات میں سمٹتی رہی
پتھر پتھر وہ باری کھیلے
ہر پتھر کو وہ ہنس کے جھیلے
پتھر کو پتھر نہ جانے
ارماں اس کے ایسے دیوانے
پتھروں کا دکھ جھیلتے جھیلتے
اپنے دکھ وہ بھول گئی
پتھروں کی بارش میں
اک موم کے پتھر سے
خود بچانا وہ بھول گئی
صدیوں سے کھڑی تھی کانچ کی گڑیا
اک موم کے پتھر سے ٹوٹ گئی
نہ سمٹ سکی اور بکھر گئی کانچ کی گڑیا
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
"ممی...وہ کانچ کی گڑیا کیسے ٹوٹی تھی-"
"اس کو اس دنیا نے توڑ دیا تھا...یہ دنیا بہت بری ہے بیٹا-"
"ممی پھر اس گڑیا کا کیا ہوا تھا؟"
"اسکے پاس ایک مسیحا آیا تھا جس نے اس ٹوٹی گڑیا کو جوڑا تھا اور دنیا کے سامنے مضبوط بنا کر کھڑا کیا تھا-"
"واؤ زبردست میری پیاری ماما...آپکو کس نے سنائی یہ سٹوری؟" بچہ ماں کا منہ چومتے ہوئے بولا-
"مجھے میرے بابا نے سنائی تھی یہ کہانی- جب میں آپ جتنی ہوتی تھی-"
"مما..میں کانچ کی گڑیا نہیں خریدوں گا- ایسی گڑیا کا کیا فائدہ جو ٹوٹ جائے-"
بیٹا آپ اسے جوڑ بھی تو سکتے ہیں..اللہ نے آپکو لڑکا اسی لیے بنایا ہے کہ آپ بڑے ہو کر ٹوٹی گڑیا کو جوڑ سکو- اسکی ماں اسے پیار کرتے ہوئے سمجھا رہی تھیں-
مما..پھر بابا نے آپکو کیوں نہیں جوڑا...آپ بھی تو ٹوٹ گئیں تھیں گڑیا جیسی---وہ بچہ بہت ﺫہین تھا...اسکو ہر ایک ایک بات یاد تھی-
میرا بچہ سو جاؤ..صبح سکول بھی جانا ہے... اسکی ماں لیمپ آف کرچکی تھیں تاکہ ان کے بیٹے کو کانچ کی گڑیا کے آنسو نظر نہ آسکے--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
"یہ سردیوں کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی شام تھی۔ وہ مغرب کی نماز پڑ ھ کر مسجد سے نکلا توسرد ہواکے جھونکوں نے اسکا استقبال کیا۔
اس نے سر اٹھایا۔ آسمان پر ایک ایسا منظر تھا جس کے حسن نے اسے مسحور کر کے رکھ دیا۔سردیوں کی اس گلابی شام میں آسمان کے مغربی افق پر گویا شعلے بھڑ ک رہے تھے ۔ سورج تو ڈوب چکا تھا مگر اپنے پیچھے شفق کی وہ لالی چھوڑ گیا، جس نے نیلے آسمان کودلہن کے سرخ لباس کی طرح سجادیا تھا۔

سرد ہوا میں انگاروں کی طر ح دہکتے آسمان کا یہ منظر اتنا حسین تھا کہ پوری کائنات اس کے مشاہدے میں مصروف تھی۔پرندے اس آسمانی دلہن کی بارات کا دیدار کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔ فضا میں بکھرے بادلوں کو کوئی جلدی نہ تھی۔وہ اپنی جگہ ٹھہر کراس حسین منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔بلند قامت درخت بھی بادلوں کی دیکھا دیکھی، حسن فطرت کے اس نظارہ سے محظوظ ہونے لگے ۔حد تو یہ ہے کہ شب کی سیاہی بھی اس منظر کو دیکھنے نکل آئی ۔
وہ دیکھ رہا تھا کہ فطرت کی ہر شے اس بے حدحسین منظر کو دیکھ کر خالق کائنات کی حمدو تسبیح کرنے لگی ہے ۔ مگر جس ہستی کوزمین کا بادشاہ بنایا گیا تھا، وہ بالکل بے پروا اپنے دھندوں میں لگا تھا۔ شاپنگ سنٹر سے نکلتے ، گاڑ یوں میں بیٹھتے ، سڑ کوں پر چلتے یہ لوگ سب سے بڑ ھ کر اس کے اہل تھے کہ یہ منظر دیکھتے اور خدا کی حمد اور تعریف کے نغمے گاتے ۔مگر آہ یہ انسان، اس کے پاس ہر چیز کا وقت ہے ۔ خدا کی صناعی کو دیکھ اس کی ثنا اور تعریف کا وقت نہیں ہے-"

وہ گھر آکر اپنے روم میں جانے لگا تب ہی اسے کچن سے آوازیں آرہی تھیں..وہ اسی طرف چلا آیا- کچن میں دیکھا تو بوا جی جو کہ اس گھر کی پرانی ملازمہ تھیں کھانا پکانے میں مصروف تھیں-
بوا ایک کپ کافی مل سکتی ہے ؟؟
جی بیٹا! میں ابھی لاتی ہوں..وہ کہنے کے ساتھ ہی دودھ ابالنے رکھنے لگیں-
وہ باہر آکر لاؤنج میں بیٹھ گیا...اسے یہ اتنا بڑا گھر کاٹ کھانے کو دور رہا تھا...اسے اس لڑکی کمی محسوس ہورہی تھی جسکو اسنے توڑ دیا تھا-
اور اب وہ لڑکی اس سے دور تھی...-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مری کے پہاڑوں میں سرد ہوائیں چل رہیں تھیں- اگلے کئی دنوں تک برف باری کا امکان لگ رہا تھا- وہ کمبل میں گھس کر بیٹھی اپنی آج کی لکھی ہوئی ﮈائری پڑھ رہی تھی جب سمیرا کمرے میں داخل ہوئی--
سجل یہ سوٹ میں پہننے کیلئے لے جاؤں- سمیرا اس کا نیا سوٹ الماری سے نکال کر پوچھ رہی تھی-
ہاں لے جاؤ- سجل کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی...اور سمیرا اسکا سوٹ لے کر بھاگ گئی اس سے پہلے کہ وہ دیکھ لے- اگر وہ دیکھ بھی لیتی تو کونسا منع کردیتی...اسکو ان سب چیزوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا-
اماں..اماں دیکھو ماموں جو سوٹ شہر سے سجل کیلئے لائے تھے یہ وہی ہے- اسنے مجھے دے دیا-- سمیرا نائلہ بیگم کو آکر خوشی خوشی بتانے لگی- سامنے سے آتا مزمل اس سوٹ کو دیکھ کر حیران ہوگیا....
یہ تم نے کسکی اجازت سے لیا ہے....ادھر دو-- مزمل اس سے زبردستی سوٹ لیتے ہوئے بولا-
ہنہہ...مجھے خود سجل نے دیا ہے..تمہیں کیا مسلئہ ہے- سمیرا غصے سے آگ بگولہ ہو گئی-
اسکی چیزیں چھین کر تم لوگوں کو ملتا کیا ہے آخر؟؟ کیوں اسکے پیچھے سارا دن پڑی رہتی ہو- مزمل ہمیشہ سے اس گھر میں سجل کے ساتھ ناانصافیاں ہوتے دیکھتا آیا ہے-- جب سے وہ بڑا ہوا تھا اور اس سے دوستی ہوچکی تھی تب سے وہ اس کے حق میں بولتا تھا اور جب وہ سجل سے اس بارے میں کوئی بات کرتا تو وہ "دفع کرو" کہ کر بولتی بند کرادیتی تھی- اسکو دنیاوی چیزوں کا بلکل شوق نہیں تھا..اسکو ایک کتاب اور قلم چاہیے ہوتا تھا اور لکھتے وقت بہتا پانی جو کہ اسے یہاں مہیا تھا....روز شام کو وہ کتاب اور قلم لے کر وہاں جاتی- اور وہیں بیٹھ کر اپنی روز مرہ زندگی کا ہر ایک ایک لفظ اتارتی تھی اور سکون محسوس کرتی تھی....اسے کوئی کھانا بھی نہ کھلائے وہ رہ لے گی پر وہ اپنی کتاب اور قلم کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی- اس کی ساری کزنز اسے پاگل بولتی تھیں کہ اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود وہ انکی طرح اتراتی نہیں ہے...نہ گھر میں فضول سجاوٹی کپڑے پہن کر بیٹھتی ہے-
سجل یہ تم نے نیا سوٹ سمیرا کو کیوں دیا؟ مزمل اسکے کمرے میں آکر اسکا سوٹ بیڈ پر رکھ چکا تھا اور خود بھی وہیں بیٹھ گیا-
وہ مانگ رہی تھی تو میں نے دے دیا- سجل کندھے اچکاتے ہوئے بولی-
اچھا...وہ تم سے تمہارا شوہر مانگے گی تب بھی دے دو گی نا تم؟ وہ طنز کرتے ہوئے بولا-
نہیں...میں اپنا شہزاہ کیوں کسی کو دوں گی- سجل اسکی بات پہ مسکراتے ہوئے بولی جیسے اسنے کوئی مزاحیہ بات کی ہو-
میں سیریس ہوں اور تم ہر وقت ایسے ہی مذاق کیا کرو-
میرے دوست میں بھی سیریس ہوں- میرے لیے سوٹ، جیولری اور جوتے یہ سب کوئی معنی نہیں رکھتے - ہمیں اس دنیا سے صرف اپنے اعمال لے کر جانے ہیں پھر میں ان دنیاوی چیزوں کیلئے لڑ کر کیوں اپنا اعمال نامہ خراب کروں-
سجل بہت سمجھ دار لڑکی تھی...اسے اسکے ماں باپ نے نہیں پالا تھا بلکہ اسنے خود اپنے آپ کو پالا تھا- اگر اسکے ماں باپ بھی اسے پالتے تو شاید اسکی اتنی اچھی تربیت نہ کرپاتے جو اسنے خود اپنے آپکی کی تھی-
سجل...تم میں بڈھی روح حلول ہو گئی ہے...دادی کا یہ سب کیا دھرا ہے ورنہ آج تم بھی سمیرا اور بتول کی طرح ہوتیں- مزمل اسکی باتیں سن کر تپ گیا تھا...اسے کبھی کبھار اس لڑکی کی سمجھ ہی نہ آتی تھی-
کوئی نہیں...دادی میں کچھ سے زیادہ ہی بڈھی روح حلول تھی..تبھی ہمیں ہر وقت ﮈانٹتی رہتی تھیں- وہ ہنستے ہوئے بولی اور مزمل بھی اسکی بات پر ہنس دیا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سر...جس لڑکی کے بارے میں آپ نے معلومات کرنے کیلئے بولا تھا اسکا پتہ لگ گیا ہے- یہ رہی وہ فائل...اس میں اس کے بارے میں ہر ایک ایک انفارمیشن ہے- اسکے علاوہ آپ کو کچھ اور معلومات بھی چاہیے ہوں تو آپ ہمیں بتا دیجئے گا-
اوکے تھینک یو..آپ جا سکتے ہیں- انسپکٹر ہمدانی اب وہ فائل کھول چکا تھا...پہلے ہی صفحے پر ایک لڑکی کی تصویر تھی جو دریا کے پاس بیٹھے کچھ لکھنے میں مصروف تھی-
انٹرسٹنگ....وہ اگلا صفحہ بھی دیکھنے لگا--
ہمم....تو اب تمہارے رونے کے دن شروع ہوچکے ہیں-- ان 7 دنوں میں جتنا جینا ہے...جی لو..اسکے بعد تم جینے کے قابل دور کی بات.....بولنے کے قابل بھی نہیں رہوگے-- انسپکٹر ہمدانی کے لہجے میں نفرت تھی اور وہ خود سے بول رہا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اماں..دیکھ رہی ہیں آپ اس مزمل کو..کتنا بد تمیز ہوگیا ہے-
ہاں دیکھ رہی ہوں...اس منحوس ماری نے ہی کوئی جادو کرایا ہوگا- نائلہ بیگم منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئیں بولیں...انہیں سجل ایک آنکھ نہ بھاتی تھی...وہ سمجھتی تھیں کہ اسکی خوبصورتی انکی بیٹیوں کیلئے عذاب بن جائے گی..انکی بیٹیوں کو کوئی بھی دیکھنے آتا تو وہ سجل کو کمرے بند کردیتی تھیں...وہ سمجھتی نہیں تھیں کہ ہر لڑکی اپنی قسمت ساتھ لے کر آتی ہے...جو سمجھنا نہ چاہے ان کو سمجھانے کا فائدہ بھی نہیں ہوتا ہے-
اماں آپ ممانی کے کان میں بات تو ﮈال دیں بتول کیلئے...میرا تو اب رشتہ ہو بھی چکا ہے...وہی اب رہ گئی ہے پھر سجل کو کسی بڈھے کے ساتھ بھی بیاہ دیں گی تو بھی وہ کچھ نہیں کہی گی- سمیرا اپنی ماں کو پٹیاں پرانے لگی-
ہاں میں ابھی بھابھی اور بھائی سے بات کرتی ہوں... نائلہ بیگم کی آنکھیں چمک اٹھیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
بھابھی آپ لوگ تو جانتے ہی ہیں...میری ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ ایک بیٹی بھائی کے گھر جائے اور پھر اماں کی بھی یہی خواہش تھی-
نائلہ بیگم اوپر والے پورشن میں آگئیں تھیں-
ہاں نائلہ ہم بھی جانتے ہیں اماں بیگم کی خواہش کو...اور ہم مزمل کیلئے بھی یہی چاہتے ہیں پر سجل بیٹی...وہ مانے گی اس رشتے کیلئے ؟؟ نائلہ بیگم کو انکی بات سنتے ہی غصہ آگیا... جو وہ چاہتی تھیں ہمیشہ ان سب سے الٹ ہی ہوتا تھا-
بھائی میں سجل کی نہیں اپنی بتول کی بات کر رہی ہوں...سجل کا تو اسکا باپ ہی کچھ سوچے گا...اسے فرصت ہی کب ہے اپنے بزنس سے--- نائلہ بیگم اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولیں...انھیں اسی بات کا ﮈر تھا کہ کچھ الٹا نہ ہوجائے-
ٹھیک ہے بھابھی ہم مزمل سے بات کرتے ہیں-- آپ فکر نہ کریں- صفیہ بیگم ان کی بھابھی تھیں اور وہ بھی اپنے بیٹے کے لیے بتول کو پسند کرتی تھیں....پر انکا بیٹا کیا چاہتا ہے وہ تو کوئی سوچنے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ممی...کیسی ہیں؟ وہ آج جلدی گھر آگیا تھا تاکہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ سکے-
بیٹا..جیسے 20 سال پہلی تھی-  تم بتاؤ سارا دن گزر جاتا ہے...آتے ہی نہیں ہو-
امی...آج آپکے پاس ہی ہوں ساری رات...آپکو ایک بات بھی بتانی ہے- وہ انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا-
بتاؤ..میری جان- کیا بات ہے؟ آج خوش بھی بہت ہو-
ہاں امی کیونکہ میری ساری دعائیں قبول ہوچکی ہیں اور اب میں اپنا مشن شروع کرنے والا ہوں...آپ دعا کریں گی نا میرے لیے؟ اسکی کی آنکھوں میں کچھ حاصل کرلینے ، کچھ جیت جانے کی چمک تھی اور کلثوم بانو اسکی اس چمک سے خوفزدہ ہوگئیں-
ہاں بیٹے میں آپکے لیے ضرور دعا کروں گی...آپ بتاؤ کونسا مشن ہے؟
ہاہاہاہا...ایک کانچ کی گڑیا کو توڑ پھوڑ کر پھینک دینے کا مشن ہے- انسپکٹر ہمدانی کی اس بات نے کلثوم بانو کو دھچکا دیا...ان کو لگا تھا ساتوں آسمان ان پر آگرے ہیں--
نہیں..میرے بیٹے ایسا مت کرنا...تمہاری ماں التجا کر رہی ہے- میرا بیٹا ظالم نہیں ہوسکتا-
آپکا بیٹا ظالم اور سفاک دونوں ہے...میری ماں کے ساتھ جو چاہے کچھ بھی کرے اور میں انکو بخش دوں...نہیں ممی آپ جانتی تھیں کیوں میں اس شعبہ میں آیا ہوں-- صرف اسلیے کہ میں اپنا بنایا گیا ہر ایک منصوبہ پورا کرسکوں- آپ مجھے مت روکیں ممی پلیز--
 وہ انکے روم سے جاچکا تھا اور کلثوم بانو ہاتھ اوپر اٹھائے ایک ہی دعا مانگنے لگیں--
”یا اللہ کسی کانچ کی گڑیا کو ٹوٹنے مت دینا“
وہ دعا مانگ تو رہیں تھیں پر ضروری نہیں کہ ہر دعا سنی جائے...کچھ دعائیں دیر سے سنی جاتی ہیں...شاید اسی
بھتری ھوتی ہے میں اللہ کی کوی

جگری یار کیسا ہے؟ صفدر شاہ اپنے جگرے دوست سے پوچھ رہے تھے جو کتابوں میں گم تھا-
ٹھیک ہوں میں تو سنا... عثمان اور صفدر کی دوستی کالج پیریڈ سے چلی آرہی تھی اور اب وہ دونوں یونیورسٹی میں تھے-
تیرا دوست بھی ٹھیک ہے-- چل اٹھ کینٹین چل کر کچھ کھاتے ہیں- صفدر شاہ گاؤں کے رہنے والے تھے اور اب وہ ہاسٹل رہتے تھے- اور عثمان ہمدانی اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد اکیلے ہی تھے....کیونکہ انکا کوئی بہن بھائی اور رشتہ دار نہ تھا-
نہیں یار صفدر...کل ٹیسٹ ہے...تجھے پتہ ہے میری لائف ٹف ہے...ایسے میں مجھے کھانے پینے میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے- عثمان اپنی کتابیں واپس کھول کر بیٹھ گیا-
یار کیا تو بھی بورنگ ہے...یونیورسٹی پیریڈ  تو یادگار بنانا چاہیے-
ہاں میں یادگار ہی بنانا چاہتا ہوں پڑھ پڑھ کر تاکہ مجھے ہمیشہ یاد رہے کہ میں اس یونیورسٹی کا نام روشن کرچکا ہوں اور سب کو یاد بھی رہوں- عثمان ہمدانی جاب بھی کرتا تھا....ان کے حالات نے انھیں سمجھدار اور سیریس بنا دیا تھا ورنہ انکی عمر کے لڑکے آوارہ گردیوں میں مصروف نظر آتے ہیں-
تو بیٹھا رہ میں جارہا ہوں- کل ملاقت ہوگی- بائے..صفدر جا چکا تھا اور عثمان اپنی کتابوں میں واپس سر دیے بیٹھ گیا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
امی آپ پھپھو کو منع کردیں..مجھے بتول پسند نہیں ہے-
مزمل سے صفیہ بیگم اور ارمان شاہ دونوں پوچھ چکے تھے پر اسکا ایک ہی جواب تھا "نا" اور یہ "نا"  ہاں میں تب ھی تبدیل ہو سکتی تھی جب بتول کی جگہ سجل کا نام لیا جاتا-
بیٹا وہ بہت اچھی لڑکی ہے..پڑھی لکھی اور پھر اسکی تربیت آپکی پھوپھو نے کی ہے تو وہ کیسے بری ہوسکتی ہے- صفیہ بیگم کا ارادہ اسکو قائل کرنے کا تھا-
نہیں امی...بات یہ ہے کہ میں سجل کو پسند کرتا ہوں اور شادی بھی اسی سے کروں گا-
ہنہہ اور میں کبھی نہیں مانوں گی...جیسی ماں تھی ویسی ہی بیٹی نکلی-- اب تمہیں پھانس گئی ہے اور بعد میں دس نکل کر سامنے آئیں گے-- صفیہ بیگم کو سجل کی ماں شروع سے ہی ناپسند تھی کیونکہ اس نے یہاں آکر سبکو اپنی طرف راغب کرلیا تھا اور ایک دن سارا زیور لے کر گھر سے بھاگ گئیں تھیں اور اب سارے گھر والے اسکے طعنے سجل کو دیتے تھے-
بس کردیں امی....یہ سب بولتے ہوئے سوچ لیں کہ آپکی بھی بیٹی ہے- مزمل سجل کے خلاف کوئی بات اپنی ماں کے منہ سے بھی برداشت نہ کرتا-
ہنہہ...میں کسی کو بددعا نہیں دے رہی-- میرے بیٹے حقیقت بیان کر رہی ہوں میں-
امی...میں آپکا اکلوتا بیٹا ہوں...آپ میری بات نہیں مانیں گی...امی پلیز میری خوشی کی خاطر مان جائیں-
ٹھیک ہے....پر میری ایک شرط تمہیں ماننی پڑی گی- آخر کار صفیہ بیگم دل پہ پتھر رکھ کر مان گئیں-
جی بولیں...میں آپکی ہر شرط مانوں گا- مزمل انکا ہاتھ چومتے ہوئے بولا-
سجل اگر تمہیں چھوڑ کر چلی جائی گی تو تم صرف بتول سے شادی کرو گے..وعدہ کرو-
اوہ ممی پہلی بات وہ کہیں نہی جائی گی اور اگر چلی جائی گی تو میں اسکے بعد بتول سے شادی کروں گا...یہ میرا آپ سے وعدہ ہے- وہ ان سے وعدہ کرکے چلا گیا تھا اور وہ اپنا پلان بنا کر مسکرا دیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
عثمان وہ لڑکی دیکھ.... وہ ہمارے ﮈیپارٹمنٹ کی ہے-- صفدر ایک لڑکی کی طرف اشارہ کرکے بولا- جو ہاتھ سے نقاب کیے کلاس کی طرف جارہی تھی-
یار کیا ہو گیا ہے تجھے....شریف لڑکیوں کو تو چھوڑ دے-
ہنہ میرے یار آجکل کون شریف ہے....ہر کسی کے دو چہرے ہیں- صفدر سر جھٹکتے ہوئے کینٹین کی طرف بڑھ گیا تھا اور عثمان اس لڑکی میں کھو گیا-
ہیلو...آپ میری مدد کرسکتے ہیں؟ عثمان لائبریری میں بیٹھا پڑھائی کررہا تھا- نسوانی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکی کھڑی تھی جسکو ابھی وہ باہر دیکھ کر آرہا تھا-
جی کیا مدد چاہیے آپکو؟
مجھے وہ کتاب چاہیے..آپکا قد لمبا لگا تو آپکو بول دیا- وہ لڑکی بک ریک کے سب سے اوپر والے شیلف کی طرف اشارہ کرکے بولی-
جی میں نکال دیتا ہوں- عثمان ہمدانی نے اپنا قد اپنے باپ سے چڑایا تھا....
تھینکس...وہ لڑکی کتاب لے کر جا چکی تھی اور عثمان ہمدانی اسکی پشت کو دیکھتے رہ گئے پھر سر جھٹک واپس پڑھائی میں مشغول ھوگئے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صفدر یار تیرے ساتھ مسلئہ کیا ہے-- تو جانتا ہے پیپرز سر پہ ہیں- عثمان ہمدانی کو اسکی باتیں غصہ دلا گئیں تھیں-
اتنی سی تو بات ہے یار...رات کو پڑھ لینا...آجا تھوڑی دیر- صفدر اسے اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا تاکہ موج مستی کرسکے-
اچھا ٹھیک ہے آج آخری بار چل رہا ہوں- عثمان ہمدانی مان گئے-
وہ دونوں اب گھر آچکے تھے....صفدر ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا تھا-
تیرا فلیٹ تو شاندار ہے- عثمان ہمدانی ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے-
تو بھی آجا رہنے..مزا آئیگا-
نہیں...مجھے معاف رکھ...تو خود بھی نہیں پڑھے گا نہ مجھے پڑھنے دے گا-- صفدر کچن سے پیپسی اور سنیکس لے آیا تھا جو انھوں نے بازار سے لیے تھے-
اچھا چل آج تو انجوائے کرلے... صفدر مووی لگاتے ہوئے بولا-
یہ لے کھا اور مزے کر بس آج...کل سے پڑھ لینا-
کیا مطلب تو نہیں پڑھے گا؟ عثمان ہمدانی حیرانگی سے صفدر کی طرف دیکھ رہے تھے-
پڑھوں گا...پر پیپرز سے ایک دن پہلے- صفدر منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے بولا-
پاگل ہوگیا ہے تو...فیل ہونے کا ارادہ ہے تیرا؟
ہوجاؤں گا پاس...تو یہ بتا وہ لڑکی کیسی لگی؟ صفدر آنکھ مارتے ہوئے بولا
کونسی لڑکی؟ عثمان جانتا تھا کہ وہ کس لڑکی کی بات کر رہا ہے پر انجان بن گیا تھا-
چل بے انجان نہ بن...وہی لڑکی جو کل دکھائی تھی تجھے--
اوہ وہ..اچھی ہے پر تو کیوں پوچھ رہا ہے؟؟
کیونکہ مجھے وہ بہت پسند آئی ہے- تیرا دوست اس سے شادی کرنا چاہتا ہے- صفدر نے عثمان کے سر پہ بم پھوڑا تھا اور وہ ہکا بکا اسکی شکل دیکھے جارہے تھے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
نائلہ تم میری ساری بات سمجھ گئی ہو ؟ جی بھابھی سمجھ گئی ہوں- منحوس ماری نے آپکا بیٹا بھی نہیں چھوڑا-
تم فکر نہ کرو جو ہم چاہیں گے وہی ہوگا- یہ لڑکی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے- صفیہ بیگم منہ میں انگارے چبائے بیٹھیں تھیں-
آپ غصہ نہ ہوں میں ٹھنڈا لاتی ہوں-
ہاں لے آؤ...کانٹے اگ آئے ہیں گلے میں...مزمل کو سمجھا سمجھا کر-
بتول اپنی ممانی کیلئے شربت بناؤ اور آکر بیٹھو ان کے پاس- نائلہ بیگم اسکے کمرے میں آگئیں-
ہنہہ کیوں بناؤں...جاکر انکی بہو صاحبہ کو بولیں نا-- بتول سب جان گئی تھی تبھی بگڑے موﮈ کے ساتھ بولی-
میری جان تم ہی بنو گی انکی بہو...چلو اٹھو..باہر آؤ- وہ اسے پیار سے سمجھا کر جا چکیں تھیں اور وہ منہ بناتے ہوئے بال درست کرنے لگی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سر...وہ لڑکی روزانہ اس دریا کے پاس بیٹھتی ہے- ابھی اس کے آنے کا وقت نہیں ہوا ہے...وہ 5 بجے آتی ہیں- انسپکٹر ہمدانی برف باری ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ مری آیا تھا-
ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ اور جیسا میں نے بولا ہے ویسا  ہی کرنا ہے- انسپکٹر ہمدانی کے مشن کا یہ پہلا مرحلہ تھا اور وہ اس لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا جسے اس کو توڑنا تھا-
تصویر میں تو وہ اسکو دیکھ چکا تھا پر اب اپنے روبرو دیکھنا چاہتا تھا- اسکو یہاں آئے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا پر وہ اب تک نہیں آئی تھی...اور اب 5:30 ہورہے تھے....
یہ دریا بلکل سنسان جگہ پر تھا جہاں رات کو آنا ناممکن تھا اسی لیے وہ بھی ٹھنڈ کو بڑھتے اور رات ہوتے دیکھ کر وہاں سے نکل گیا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل آج میں بہت خوش ہوں...چلو تمہیں کچھ کھلانے لے جاتا ہوں- مزمل اسکے روم میں آیا تھا جب وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر جارہی تھی-
کیوں خوش ہو؟ اور میں نے کہیں نہیں جانا بلکہ تم اچھے سے جانتے ہو یہ میرا کہاں جانے کا وقت ہے- سجل غصے سے بولی-
اتنی سردی میں....اچھا ٹھیک ہے وہیں چلتے ہیں...وہاں جاکر تمہیں بتاؤں گا- مزمل پلان بنانے لگا-
نہیں میں وہاں کسی دوسرے کو برداشت نہیں کرتی ہوں مزمل...پلیز مائنڈ  مت کرنا- ویسے بھی مائنڈ  ہوگا تو کروگے نا- وہ اپنی کتاب اور قلم اٹھاتے ہوئے بولی-
ویٹ سجل...میری صرف ایک بات سن لو-
ہاں کہو...جلدی ....مجھے دیر ہورہی ہے-
ماما ہم دونوں کی شادی کیلئے راضی ہوگئی ہیں- مزمل اسکو خوشی خوشی بتانے لگا-
یہ کیا کہ رہے ہو ؟؟ سجل چیخی-
سچ کہ رہا ہوں سجل..سب مان گئے ہیں اور اب اگلے ویکنڈ ہمارا نکاح ہے...رخصتی بعد میں ہوگی-
مزمل مجھے یقین نہیں آرہا کہ میرا اللہ..میری اتنی جلدی سن لے گا-
ہاں یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا...سجل پلیز آج میرے ساتھ چلو... ﮈنر کرنے...دریا کل چلی جانا- وہ منت بھرے لہجے میں بولا
ٹھیک ہے تمہاری مان لیتی ہوں آج- وہ اسکے ساتھ چلی گئی اور بتول انکو ساتھ جاتا دیکھ کر جل بھن کر رہ گئی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سر یہ دیکھیں....یہی ہے وہ لڑکی-  انسپکٹر ہمدانی کی گاڑی اب سجل اور مزمل کی بائیک کے پیچھے تھی....وہ دونوں عثمانیہ ریسٹورنٹ آئے تھے...انسپکٹر  ہمدانی بھی اسی ریسٹورنٹ میں آکر بیٹھ گیا..اسے اپنے مشن کو پورا کرنے کیلئے یہ سب کرنا ضروری تھا...وہ سجل اور مزمل کی ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھا تاکہ ان دونوں کی ساری باتیں سنی جا سکیں-
سجل...سچ سچ بتاؤ کیا تم اس رشتے سے خوش ہو؟؟ مزمل اس سے پوچھ رہا تھا-
آف کورس مزمل....اگر میں نا خوش ہوتی تو اس وقت دریا کے پاس بیٹھی ہوتی نا کہ تمہارے ساتھ خوشی منانے آتی- وہ سوپ پیتے ہوئے بولی-
شکر ہے میں ﮈر رہا تھا کہ اگر تم نہ مانی تو کیا ہوگا-
مزمل مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی؟
کیا بات سمجھ نہیں آئی اتنی ﺫہین و فطین لڑکی کو-- مزمل شرارت سے بولا-
یہی کہ تائی اتنی جلدی ہمارا نکاح کیوں کرنا چاہتی ہیں....اور وہ بھی ایک ہفتہ بس....ایسے کیسے ہوسکتا--
اوہ ہو اب وہ مان گئیں ہیں تو ہمیں ان باتوں سے کیا لینا دینا-- ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہوگا- رخصتی تو ایک سال بعد ہوگی-- مزمل اسے سمجھاتے ہوئے بولا پر سجل کو اب بھی کچھ اور معاملہ لگ رہا تھا- پر وہ معاملہ کیا تھا یہ وہ نہیں جانتی تھی اور اگر جان جاتی تو اس سے شادی کیلئے کبھی راضی نہ ہوتی--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صفدر اسکا نام تجھے پتہ ہے؟ عثمان کلاس ختم ہونے کے بعد اسکے ساتھ کینٹین چلا آیا-
ہاں پتہ ہے...پر تجھے نہیں بتاؤں گا- بس سمجھ لے تیری ہونے والی بھابھی ہے-
اسکے گھر والے مان گئےہیں؟ عثمان پیپسی کا ٹن کھولتے ہوئے بولا-
نہیں یار تجھے کیا لگ رہا تھا میں سیریس ہوں؟؟ صفدر قہقہ لگا رہا تھا-
کیا مطلب ہے تیرا؟؟ عثمان کو اسکی کوئی بات سمجھ نہیں آئی-
مطلب اسکو استعمال کروں گا اور پھینک دوں گا- اسکی بات پہ عثمان کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوگئیں تھیں-
بند کر اپنی بکواس صفدر...اس خدا سے ﮈر جو سب کچھ دیکھ رہا ہے- یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے یہ کبھی مت بھولنا-- میں نہیں جانتا تھا تو اتنا گرا ہوا نکلے گا- عثمان پیپسی کا ٹن وہیں پھینک کر کینٹین سے باہر آگیا تھا اسے ہر حال میں اس لڑکی کو ﮈھونڈنا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آج سرد ہوائیں چل رہیں تھیں اور طوفانی بارش کا بھی امکان تھا-
اتنے برے موسم میں بھی وہ یہاں چلی آئی تھی- اسے ہر حال میں اپنی ﮈائری لکھنی تھی...وہ شال لے کر نکلی تھی تب بھی سردی سے برا حال تھا- وہ مری کے موسم کی عادی تھی پر سردیوں میں وہ پچھلے سال تک اسلام آباد چلی جایا کرتی تھی کیونکہ اسے کالج جانا ہوتا تھا- اور مری سے اسلام آباد تک کا سفر ہی تھکا دینے والا ہوتا تو وہ وہیں اپنے باپ کے پاس رہ جاتی تھی...اب وہ پرائویٹ پڑھ رہی تھی- اسی لیے وہ یہیں رہ گئی تھی-
وہ دریا تک آگئی تھی پر اب واپسی مشکل لگ رہی تھی..کیونکہ بادلوں کی وجہ سے جلد ہی اندھیرا ہونے والا تھا-
وہ وہیں دریا کے کنارے بیٹھی تھی اور جلدی جلدی ﮈائری لکھنے میں مصروف ہوگئی جبھی اسے کسی گاڑی کی آواز آئی- وہ حیران رہ گئی کہ اس وقت کوئی بھی یہاں نہیں آتا تھا پھر

آج سرد ہوائیں چل رہیں تھیں اور طوفانی بارش کا بھی امکان تھا-
اتنے برے موسم میں بھی وہ یہاں چلی آئی تھی- اسے ہر حال میں اپنی ﮈائری لکھنی تھی...وہ شال لے کر نکلی تھی تب بھی سردی سے برا حال تھا- وہ مری کے موسم کی عادی تھی پر سردیوں میں وہ پچھلے سال تک اسلام آباد چلی جایا کرتی تھی کیونکہ اسے کالج جانا ہوتا تھا- اور مری سے اسلام آباد تک کا سفر ہی تھکا دینے والا ہوتا تو وہ وہیں اپنے باپ کے پاس رہ جاتی تھی...اب وہ پرائویٹ پڑھ رہی تھی- اسی لیے وہ یہیں رہ گئی تھی-
وہ دریا تک آگئی تھی پر اب واپسی مشکل لگ رہی تھی..کیونکہ بادلوں کی وجہ سے جلد ہی اندھیرا ہونے والا تھا-
وہ وہیں دریا کے کنارے بیٹھی تھی اور جلدی جلدی ﮈائری لکھنے میں مصروف ہوگئی جبھی اسے کسی گاڑی کی آواز آئی- وہ حیران رہ گئی کہ اس وقت کوئی بھی یہاں نہیں آتا تھا پھر آج کون آگیا-
کون ہے؟ وہ آوازیں لگا رہی تھی پر کوئی کچھ نہیں بولا....
وہ اب گاڑی کے قریب آچکی تھی...اسے اندر بیٹھا کوئی نظر آیا جو فون پر بات کرہا تھا-
سجل نے شیشہ کھٹکایا تو وہ کار سے اتر آیا-
جی مس..کہیے کوئی مسلئہ ہے آپکو؟؟ وہ سجل سے پوچھ رہا تھا اور سجل اس شاندار مرد کو دیکھتی رہ گئی- اس نے آج تک اتنا شاندار مرد کبھی نہیں دیکھا تھا- تبھی وہ اسے گھورنے لگی-
مس...میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں؟ وہ اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے بولا اور سجل اپنے حواسوں میں لوٹ آئی-
نن..نہیں کچھ بھی نہیں--
تو پھر آپ مجھے اتنا گھور کر کیوں دیکھ رہی ہیں؟؟
کیونکہ آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں...بلکل کسی شہزادے کی طرح-- آج تک میں نے آپ جیسا شاندار مرد نہیں دیکھا-
اچھا...پھر تو آپ مجھ سے شادی کیلئے بھی مان جائیں گی- مصطفی ہنستے ہوئے بولا-
نن...نہیں میری شادی ہونے والی ہے.... سجل اسکی بات پہ گڑ بڑا کر بولی تھی-
اور اگر شادی نہ ہوتی تب تو آپ راضی ہوجاتیں نا؟؟
ہاں جی...بالکل کیوں کہ آپ کو کوئی بھی لڑکی جانے بغیر بھی پسند کرسکتی ہے-
مصطفی کو یہ لڑکی آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی اور ہنستے ہوئے اسکے گالوں پہ جو ﮈمپل پڑا تھا اسے وہ بہت اچھا لگا... اسنے آج تک اتنی پاکیزہ صورت اور نور سے بھر پور چہرہ نہیں دیکھا تھا- جس طرح اس لڑکی کو وہ شہزادہ لگ رہا تھا بلکل اسی طرح اسے وہ بھی شہزادی لگی تھی-
کیا میں آپکی شادی میں آسکتا ہوں؟؟ وہ دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا-
جی بلکل 31 دسمبر کو میرا نکاح ہے....
وہ کہ کر چلی گئی تھی اور مصطفی اسکی بے وقوفی پہ ہنس دیا تھا- وہ یہی سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی اپنا پتہ نہیں بتا گئی تو وہ اسکے نکاح میں کیسے جاتا---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آپ سے میں نے ایک بات کرنی ہے...کیا آپ میرے ساتھ چل سکتی ہیں- عثمان ہمدانی اس لڑکی کو ﮈھونڈ چکا تھا اور اب اسے سب بتانا چاہتا تھا- تاکہ ایک لڑکی کی زندگی برباد نہ ہو-
جی پر کہاں جانا ہے؟ وہ لڑکی نقاب میں تھی- اسکی صرف آنکھیں نظر آرہیں تھیں-
آپ جہاں چلنا چاہیں..عثمان ہمدانی خود اپنی مرضی کی جگہ بتاتا تو وہ لڑکی کبھی اس پر اعتبار نہ کرتی-
سامنے کافی شاپ ہے...وہاں بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں- لڑکی کافی شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
جی ٹھیک ہے-
وہ دونوں اب کافی شاپ میں بیٹھے تھے-
میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں- آپ مجھ پہ بھروسہ کرسکتی ہیں- میں آپکو جانتا نہیں ہوں...ایک لڑکی کی زندگی برباد نہ ہو اسی لیے میں آپکو ایک بات بتانا چاہتا ہوں- عثمان ہمدانی بات کا آغاز کرچکے تھے-
جی آپ بولیں...میں سن رہی ہوں..اور رہی بھروسے کی بات تو مجھے آپ پر بھروسہ ہے تبھی میں آپکے ساتھ چل کر یہاں تک آئی ہوں-
میرا ایک دوست ہے- صفدر شاہ...وہ آپکو پسند کرنے لگا ہے پر.....عثمان ہمدانی سے آگے بولا نہیں گیا-
جی...میں جانتی ہوں اسکے بارے میں اور آپکو آگے بتانے کی نوبت بھی پیش نہیں آئی گی کیونکہ میں یہ سب جانتی ہوں- اسی لیے کل سے میں یونیورسٹی نہیں آؤں گی- آپکا بہت بہت شکریہ...کہ آپ نے ایک لڑکی کی زندگی کے بارے میں سوچا- اور اسی لیے آپ پر بھروسہ کرنے لگی ہوں--
آپ یہ سب کیسے جانتی ہیں؟؟ عثمان ہمدانی حیران تھے-
میں نے کینٹین میں آپ دونوں کی باتیں سن لی تھیں- آپ اس شخص سے دوستی مت توڑیے گا میرے لیے- وہ لڑکی کافی کا سپ لیتے ہوئے بولی-
میں ایسے شخص سے دوستی رکھنا کبھی پسند نہیں کروں گا جو عورتوں کو ٹشو پیپر سمجھتا ہو- اسکے ساتھ دوستی میرے کردار پر بھی اثر انداز ہوگی-
عثمان ہمدانی نے اب قسم کھا لی تھی کہ اس شخص کی شکل بھی نہیں دیکھیں گے-
ہنہہ جب اپنے گھر میں آپکو ٹشو پیپر سمجھ کر استعمال کیا جائے تو باہر والوں سے کیسا گلہ- لڑکی روتے ہوئے بولی-
کیا مطلب آپکا...؟؟
کچھ نہیں....میں اب چلوں گی- وہ لڑکی اب اٹھنے لگی تھی-
رکیں...کیا آپکو مجھ پر اب بھی بھروسہ نہیں ہے؟ آپ مجھ سے اپنی پرابلم شئیر کرسکتی ہیں..پلیز بتائیں- عثمان ہمدانی کو اس لڑکی پہ ترس آرہا تھا
مجھے آپ پر بھروسہ ہے..یہ میں آپکو بتا چکی ہوں- اور رہی بات پرابلم کی تو وہ پرابلم نہیں عذاب  ہے- جو مجھ پر روز نازل کیا جاتا ہے-
آپ کھل کر بات کریں....کیسا عذاب؟؟
آپ مجھ پہ نازل کیا جانے والا عذاب سن کر صرف ہمدردی ہی کرسکتے ہیں- وہ لڑکی سرگوشی کے انداز میں بولی تھی-
میں آپ سے ہمدردی کرنے کے بجائے آپکا ساتھ دینا چاہتا ہوں...آپکی مدد کرنا چاہتا ہوں- آپ صرف ایک بار بتا کر تو دیکھیں-
کیا بتاؤں...یہی کہ میرا باپ میری ماں کو قتل کرچکا ہے اور اب مجھے زندہ درگور کرنا چاہتا ہے- بتائیں کیسی ہیلپ کریں گے آپ میری؟ لڑکی اب رودی تھی اور عثمان ہمدانی اسے چپ کرانے لگ گئے تھے کیونکہ لوگ انکی طرف متوجہ ہورہے تھے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
بھابھی....یہ لیں جوڑا پہنا دیجیئے گا اس منحوس ماری کو... صفیہ بیگم نیچے سجل کا جوڑا لے کر آئیں تھیں جو مزمل نے اپنی پسند سے خریدا تھا-
واؤ ممانی یہ تو مجھ پر بہت اچھا لگے گا...میں رکھ لوں- بتول سجل کیلئے آیا جوڑا دیکھ رہی تھی- اسنے سوچ لیا تھا کسی طرح بھی سجل سے مانگ لے گی اور اب سجل کو اسی طرف آتا دیکھ کر بولی-
نہیں بیٹا...میں آپکو دوسرا دلا دوں گی یہ سجل کے نکاح کا ہے- نائلہ بیگم بھی اسے آتا دیکھ چکیں تھیں-
بتول یہ تم رکھ لو...میں کوئی اور پہن لوں گی- وہ بڑے پیار سے بولی- اسکی عادت تھی ہر اپنی چیز دوسروں کو دینے کی...اور دوسروں کو بس لینے کی عادت تھی ایک مزمل تھا جو اسے بہت کچھ دیتا تھا پر سجل وہ سب بھی بتول اور سمیرا کو دے دیتی تھی....یہی بات مزمل کو تپا دیتی تھی اور اب اوپر جاتا مزمل یہ منظر دیکھ چکا تھا تبھی اسی طرف چلا آیا تھا-
کوئی ضرورت نہیں ہے...یہ سوٹ میں نے اپنی پسند سے خریدا ہے سجل کیلئے...بتول اسکو واپس دو- مزمل غصے سے بولا-
افف اوہ مزمل....مجھے ویسے بھی یہ کالے رنگ والا سوٹ پسند آیا ہے اور میں اپنے نکاح میں یہی پہنوں گی- وہ بلیک سوٹ دیکھتے ہوئے بولی- جو کہ صفیہ بیگم نے سیل میں سے دو ہزار کا لیا تھا- جس پر کوئی بھاری کام نہ ہونے کے برابر تھا-
یہ سستا سا سوٹ تم اپنے نکاح میں پہنو گی؟؟ مزمل کا چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہوچکا تھا-
ہاں نا...تم جانتے ہو مجھے بھاری کپڑے نہیں پسند اور یہ کلر بھی میرا فیورٹ ہے-
کوئی ضرورت نہیں ہے...اٹھو ابھی میں تمہیں بازار سے دلا آتا ہوں...اور بتول تمہیں میں بعد میں پوچھتا ہوں- وہ غصے سے سجل کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جاچکا تھا اور صفیہ بیگم غصے میں سجل کو گالیاں دیتی رہیں....---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
عثمان ہمدانی کلثوم بانو سے نکا ح کر چکے تھے- اور اب وہ انکے گھر آچکیں تھیں- عثمان ہمدانی نے صفدر شاہ سے سارے رابطے ختم کردیے تھے اگر وہ کلثوم بانو سے شادی نہ کرتے تب بھی انکا صفدر جیسے شخص سے رابطہ رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا-
کلثوم آپ اپنے والد سے ملنا چاہتیں ہیں تو آپکو میری طرف سے اجازت ہے- عثمان انکے پاس بیٹھتے ہوئے بولے-
نہیں مجھے کسی سے نہیں ملنا عثمان...اب صرف آپ میرے ہیں اور میں آپکی ہوں- مجھے اسکے علاوہ کچھ نہیں چاہیے- کلثوم کی آنکھوں میں نمی تھی- انہیں اپنی ماں بہت یاد آتی تھی پر جانے والے رونے سے واپس نہیں آسکتے-
ٹھیک ہے بیگم صاحبہ ہم آپکے ہی ہیں اور رہیں گے...اب آرام کیجئے- عثمان شرارت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے لیمپ آف کرچکے تھے---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مزمل آپ زبردستی کیوں لے آئے...وہ بلیک سوٹ بہت پیارا تھا- سجل کا ہاتھ اب بھی اسکے ہاتھ میں ہی تھا-
میں اپنی ہونی والی بیوی کو نکاح میں دو ہزار کا جوڑا پہننے نہیں دے سکتا...تمہیں بلیک کلر پسند ہے تو اسی کلر کا کوئی لے لو-- پر لینا تم نے ہر حال میں ہے ورنہ مجھے زبردستی کرنے آتی ہے-
وہ دونوں شاپنگ مال آگئے تھے پر سجل کو ایک بھی جوڑا پسند نہیں آیا-
یہ دیکھو....کتنا پیارا ہے- مزمل ایک بلیک سوٹ نکال کر اسے دکھا رہا تھا-
ہاں....یہ تو بہت پیارا ہے...ٹھیک ہے بس یہی لے لیتے ہیں- میں بہت تھک چکی ہوں-
سر سوری یہ لاسٹ سوٹ تھا...وہ سر لے چکے ہیں- سیل مین دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا جہاں ایک آدمی فون پہ بات کر رہا تھا-
مزمل پھر میں نے کچھ نہیں لینا...گھر چلو- سجل کو تھکاوٹ ہورہی تھی-
سر آپ ان سے بات کرلیں..اگر وہ آپکی مان جائیں تو ہم آپ کو دے دیں گے- سیل مین اب اسے مشورے سے نواز رہا تھا-
سجل ایک دفعہ ان سے بات کرکے دیکھ لیتے ہیں- کیا پتہ وہ مان جائیں- مزمل اب اسے لیے اس آدمی کے پاس آگیا تھا-
ایکسکیوزمی...مزمل کے کہنے پہ وہ مڑا تھا اور سجل اسے گھورتی ہی رہ گئی تھی اور اس آدمی کی بھی پہلی نظر سجل پہ پڑی-
اوہ....آپ یہاں بھی مل گئیں- آپ کہیں میرا پیچھا تو نہیں کرتیں؟ وہ شرارت سے جھک کر سجل کے کان میں بولا تھا اور مزمل اسکی اس حرکت پر تپ گیا-
اے..مسٹر یہ کیا بد تمیزی ہے....اس فضول قسم کی گفتگو سے پرہیز کریں- یہ میری ہونی والی بیوی ہے- مزمل کی غصے سے رگیں تن گئیں-
اوہ..یہ آپکے ہونے والے شوہر ہیں- زبردست...پر مجھ سے زیادہ نہیں اچھے ہیں نا... اور آپ مسٹر شوہر صاحب آپکی بیوی نے ہی میرا پیچھا کیا ہے اور آپ ہمیں سنا رہے ہیں-
آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے..ہم نے آپکا پیچھا نہیں کیا- ہم سوٹ لینے آئے تھے اور مجھے وہ بلیک سوٹ پسند آیا ہے جو آپ لے چکے ہیں- سجل نے اسکی غلط فہمی دور کی تھی اور مزمل نے شکر ادا کیا تھا کہ جو وہ سوچ رہا تھا ویسا کچھ نہیں تھا-
اچھا...تو اب آپ وہ لینا چاہتی ہیں-- اوکے لے لیں پر میری ایک شرط ماننی پڑی گی-  مصطفی مسکرا رہا تھا- کیونکہ اس نے یہ سوٹ اپنی بہن کیلئے لیا تھا جسکی اب شادی ہوچکی تھی- اسے اپنی بہن اتنی پیاری نہیں تھی کہ وہ ایک سوٹ کیلئے ان سے لڑتا-
جی کہیے آپکی کیا شرط ہے- اب کی بار مزمل بولا-
مجھے تم اپنی ہونے والی بیوی دے دو...اسے یہ سوٹ بھی مل جائے گا- وہ ہنستے ہوئے بولا-
مزمل کو اسکی بات سن کر سکتہ ہوگیا تھا اور سجل آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس آدمی کو دیکھے جا رہی تھی-
دیکھ لو تمہاری ہونے والی بیوی اپنے ہونے والے شوہر کو دیکھنے کے بجائے مجھے گھور رہی ہے- وہ  کبھی بھی کسی سے ایسے بات نہیں کرتا تھا اور ہنستا وہ صرف اپنی ماں کے سامنے تھا-
بکواس بند کرو اپنی...نہیں دینا سوٹ تو صاف صاف بولو-
آپ تو غصہ کر گئے..سوری میں بس مذاق کر رہا تھا- میری شرط یہ ہے کہ اسکا بل میں دوں گا ورنہ سوٹ بھی آپکو نہیں ملے گا-
نہیں مجھے نہیں چاہیے..مزمل چلو- سجل اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے باہر کی طرف نکلنی لگی جب اسے مزمل نے روک لیا-
سجل لے لو...پلیز....میں اب اور نہیں گھوم سکتا- تم بھی تھک چکی ہو- مزمل اسرار کر رہا تھا تو اسے ماننا پڑا-
ٹھیک ہے- اسکے کہنے پر وہ لوگ کاؤنٹر کی طرف آگئے اور دس ہزار کے سوٹ کا بل مصطفی نے ہی دیا-
تھینک یو سر...مزمل اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا-
اٹس اوکے...خدا حافظ-
وہ چلا گیا تھا اور سجل سوٹ لیے گھر آگئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اسلام علیکم امی..کیسی ہیں؟ وہ اپنی ماں کے پاس آکر بیٹھ گیا-
ٹھیک ہوں...آج جلدی آگیا میرا بیٹا- خیریت ہے- وہ تسبیح سائیڈ پہ رکھتے ہوئیں بولیں-
ہاں کیونکہ اگلے کچھ دن میں گھر نہیں آسکوں گا- وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا -
کیوں ایسا کیا کام ہے- کلثوم پریشان ہوگئیں تھیں...انھیں عجیب وہم ستانے لگے-
بتایا تو تھا آپکو ایک کانچ کی گڑیا کو توڑنا ہے اور پھر اسکا تماشا دیکھنا ہے- انسپکٹر ہمدانی مسکراتے ہوئے بولا-
بیٹا میں نے تمہاری تربیت ایسی نہیں کی ہے- اگر تم نے کچھ بھی ایسا کیا تو میں تمہیں اپنی شکل بھی نہیں دکھاؤں گی کیونکہ میرا بیٹا اس شخص جیسا نہیں ہوسکتا- کلثوم بانو روتے ہوئیں بولیں-
امی...اب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ میں نے ساری زندگی اسی دن کیلئے گزاری ہے ورنہ میں اسی وقت مر چکا ہوتا- وہ انکی باتیں سن کر اٹھ گیا-
تو تم میری بات نہیں مانو گے...ٹھیک ہے کل میں تمہیں اس گھر میں نظر نہیں آؤں گی- وہ اٹھنے لگی تھیں-
امی..پلیز مت کریں ایسا- اس دنیا میں آپکے سوا کوئی نہی ہے میرا...مجھے سمجھنے کی کوشش کریں- میں اس لڑکی کے ساتھ کچھ نہیں کروں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے پر اس ظالم شخص کو میں ضرور سزا دوں گا-
اسکی باتیں سن کر کلثوم بانو سانس نہ لے پائیں تھیں- انہیں اپنے بیٹے سے ایسی امید نہ تھی....انکو اسکی باتیں سن کر دل کا دورہ پڑگیا اور وہ اپنے بیٹے کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھیں---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
یار عثمان تو کہاں مرگیا تھا..اتنے دن غائب رہا؟ صفدر اسے یونیورسٹی آتا دیکھ کر اسکے پاس بھاگا آیا تھا- پر عثمان نے اسکی کسی بات کا جواب نہ دیا-
تو مجھ سے اس لڑکی کیلئے ناراض ہورہا ہے-- یار وہ تو بھاگ گئی...اور اب میں بھی سدھر چکا ہوں..معاف کردے مجھے- صفدر شاہ اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا-
صفدر مجھ سے نہیں اللہ سے معافی مانگو...شاید وہی تمہیں معاف کردے- عثمان ہمدانی اسکو کہتے ہو وہاں سے جا چکے تھے اور صفدر شاہ اب یہ سوچ رہا تھا کہ اسکا اعتماد واپس کیسے جیتنا ہے--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
واؤ...یہ تو اس سے بھی زیادہ پیارا ہے- کتنے کا لیا مزمل بیٹا- صفیہ بیگم،نائلہ بیگم، بتول اور سمیرا  کے سوٹ دیکھ کر ہوش اڑ گئے تھے-
دس ہزار کا ہے امی- مزمل خوشی سے سب کو بتا رہا تھا اور سجل خاموش تھی اسے اس آدمی کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسنے وہ سب باتیں کیوں کہیں-
کہاں کھوگئی ہو سجل- مزمل اسکے آگے چٹکی بجاتے ہوئے بولا-
کہیں نہیں...میں سوچ رہی تھی یہ سوٹ ویلیمے میں پہن لوں گی...اتنا بھاری ہے-
کوئی ضرورت نہیں ہے...تم یہی پہنو گی اور اب میں ایک لفظ نہیں سنوں گا- مزمل غصے سے بولتا ہوا اوپر چلا گیا-
اویں تم نے اسے غصہ دلادیا...اتنے نخرے مت دکھاؤ-- پہن لو- بتول جلتی بھنتی اسے سنا کر چلی گئی-
اوور کیا ہر وقت کے نخرے...یہی حرکتیں کرکے تم مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہو اور مزمل ہمیں ظالم سمجھتا رہتا ہے...سمیرا کو بھی موقع میسر ہوگیا تھا...وہ بھی اپنی بھراس نکال چکی تھی...سجل کو پتہ تھا اب پھپھو کی باری ہے تبھی وہ چپ چاپ سوٹ اٹھا کر کمرے میں چلی گئی -
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
وہ اپنی ماں کو دفن کر آیا تھا...اسکی بہن تھوڑی دیر آکر افسوس کر کے جا چکی تھی اور اب وہ اس بھری دنیا میں تنہا تھا- نہ اسکے پاس ماں تھی اور نہ باپ تھا اور اس سب کا ﺫمہ دار وہ ایک شخص کو سمجھتا تھا- وہ شخص جس نے اسکے باپ کو مار ﮈالا تھا اور ماں کو ساری دنیا کے سامنے رسوا کرچکا تھا-
اسکی ایک ہی بہن تھی جسکی وہ جلد ہی شادی کرچکا تھا- تاکہ اپنا ہر ایک ایک بنایا گیا منصوبہ پورا کر سکے- وہ جب 7 سال کا بچہ تھا تب اسکا باپ اس دنیا سے چلا گیا تھا اور آج وہ 27 سال کا مرد تھا اب اسکی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی-
اسکا دل کر رہا تھا اس ظالم شخص کا گلا دبا ﮈالے پر وہ اسے آسانی سے موت نہیں دے سکتا تھا- اسکو اس ظالم شخص سے انتقام لینا تھا....اور اسکو تڑپا تڑپا کر مارنا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل وہ لڑکا تم سے ایسے کیوں بات کر رہا تھا جیسے تم اسے کافی عرصے سے جانتی ہو؟ مزمل کو ساری رات یہی باتیں تنگ کر رہی تھی...اسی لیے وہ اب صبح صبح اسکے پاس چلا آیا-
نہیں..ایک دن وہ دریا کے کنارے مجھے ملا تھا....تو اسے میں نے بتایا تھا میری شادی ہونے والی ہے اور اس نے مجھ سے آنے کا پوچھا بھی تھا تو میں نے کہ دیا کہ آجانا....پر مزمل تم فکر نہیں کرو وہ آہی نہیں سکتا کیونکہ گھر کا پتہ میں دینا ہی بھول گئی تھی- سجل نے اس کو ہر بات سے آگاہ کردیا تاکہ نئی زندگی میں اسکے لیئے کوئی مسائل نہ کھڑے ہوں....اور اب تو نکاح میں صرف دو دن باقی تھے- ایسے میں وہ مزمل کو کسی شک میں نہیں ﮈالنا چاہتی تھی-
بہت اچھا کیا...اب آج تو تم جاؤگی ہی نہیں...نہ ہی وہ پتہ پوچھ سکے گا-
کیا مطلب- کیوں نہ جاؤں...میں جاؤں گی آج بھی...بس کل نہیں جاؤں گی کیونکہ مجھے آج لکھنا ہر حال میں ہے- سجل اسکی بات پہ غصے سے بولی...اسے لکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا- وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتی تھی اور بہت سے ناول پڑھ چکی تھی- پر اب اسے زیادہ وقت نہیں ملتا تھا...اسی لیے وہ صرف اپنی ﮈائری لکھا کرتی تھی- جس میں اسکی زندگی کا ایک ایک حرف موجود تھا-
سجل کیا ہوگیا ہے...امی مار ﮈالیں گی تمہیں اگر تم آج گئی- اور میں اب کوئی بدمزگی نہیں چاہتا اسی لیے تم آج نہ جاؤ تو بہتر ہوگا-
مزمل ابھی ہماری شادی بھی نہیں ہوئی اور تم مجھ پر رعب جمانے لگے ہو- میں آج تو نہیں مانوں گی- تم بہت اچھے سے جانتے ہو مجھے جب میں کچھ کرنی کی ٹھان لیتی تو پیچھی نہیں ہٹتی ہوں--- وہ غصے سے بولتی ہوئی کمرے سے جاچکی تھی اور مزمل تپتا ہوا اپنے پورشن میں چلا گیا---


عثمان تو پارٹی نہیں دے گا اس دفعہ اپنے یار کو- صفدر اور عثمان کا رزلٹ آچکا تھا- عثمان ہمدانی اور صفدر کی دوستی ہو چکی تھی پر اب عثمان کو اس شخص پر بھروسہ نہیں رہا تھا- اس نے اب تک اپنی شادی کا ﺫکر صفدر سے نہیں کیا تھا جبکہ اسکی شادی کو ایک سال ہوچکا تھا اور ایک ننھا بھی وجود میں آگیا تھا-
نہیں میں بزی ہوتا ہوں اب-- لائف بہت ٹف ہوچکی ہے صفدر- عثمان ہمدانی اسے یہی کہتے تھے-
یار تیرے یار کی شادی بھی ہونے والی ہے اب تو...تو بھی کرلے شادی- صفدر شاہ اس سے اپنی شادی کا ﺫکر کر رہے تھے اور عثمان ہمدانی کو لگا تھا کہ وہ واقعی سدھر گیا ہے- تبھی شادی بھی کر رہا ہے--
ہاں ہاں کرلوں گا....تیری شادی کب ہورہی ہے؟؟ عثمان اپنی بات ٹالتے ہوئے اسکی شادی کا پوچھنے لگا-
اگلے ویکنڈ ہی یار...میری اماں کو بہت جلدی پڑی ہے- اور اب تو بڑے بھائی کے بھی دو بچے ہوچکے ہیں-
مبارک ہو تجھے....میں تیرا گفٹ کل لے آؤں گا- عثمان نے اسکے گلے لگتے ہوئے مبارکباد دی-
تو آجا شادی میں یہی میرے لیے تحفہ ہے-
نہیں صفدر میں کیسے آسکتا ہوں...میری ایک دن کی غیر حاضری سے مجھے اگلے پورے مہینے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے- اور پھر تیری شادی تیرے گاؤں میں ہورہی ہے- عثمان ہمدانی بہانہ بنا رہے تھے جبکہ ان کو اب بہت اچھی جاب مل چکی تھی اور انکی تنخواہ بھی بہت اچھی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل کہاں جا رہی ہو؟ صفیہ بیگم اسے باہر جاتے دیکھ چکی تھیں تبھی بولیں-
سب جانتے ہیں کہ اس ٹائم میں کہاں جاتی ہوں تو آپ کیوں یہ سوال کر رہیں ہیں- سجل کو صبح سے مزمل کی باتوں پہ غصہ آیا ہوا تھا-
بیٹا...پرسوں تمہارا نکاح ہے...گھر میں رہو تو زیادہ اچھا ہے...اتنی سردی میں جنگلوں میں نہ جاؤ- صفیہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئیں بولیں تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں انکے بیٹے تک سب آوازیں جارہیں ہیں ورنہ انکی بلا سے سجل جہنم میں جائے یا جنگلوں میں انہیں کیا فرق پڑتا تھا-
تائی میں صبح ہی مزمل کو بتا چکی ہوں کہ میں ہر حال میں دریا جاؤں گی...آپکی بات مان لیتی ہوں- کل اور پرسوں نہیں جاؤں گی- سجل کو انکی اچھے سے کہی گئی بات کی سمجھ نہیں آئی تھی کیونکہ اس گھر میں اس سے اچھے سے کوئی پیش نہ آتا تھا سوائے مزمل کے....اور آج مزمل بھی انہیں کی زبان بولنے لگا تھا-
سجل جب تمہیں ماما منع کر رہی ہیں تو تمہیں ایک دفعہ کی کہی بات سمجھ نہیں آتی ؟؟ مزمل اسکی ساری باتیں سن چکا تھا- سجل کو اب سمجھ آئی کہ تائی اتنے اچھے سے کیوں پیش آئیں تھیں-
میں تمہیں صبح بتا چکی ہوں کہ میں جاؤں گی...میرا بہت وقت برباد ہوچکا ہے...خدا حافظ- وہ نکل چکی تھی کہ اس سے پہلے آکر کوئی اور اسے روکے اور تماشہ بنے-
دیکھ لیا تم نے....کیسی زبان چلتی ہے اسکی-- بڑوں سے بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے- صفیہ بیگم غصے سے مزمل کو بتا کر جا چکیں تھیں اور مزمل سوچتا رہ گیا کہ سجل ایسی کیوں ہوگئی ہے------
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سر...صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے اب تک اپنے منصوبے کیلئے کچھ کیا نہیں-- انسپکٹر ہمدانی کبھی بلاوجہ اپنے کام سے غیر حاضر نہیں ہوتا تھا- وہ یہی سوچ کر اپنے کام میں واپس لگ گیا تھا کہ جانے والے رونے سے واپس آیا نہیں کرتے اور اسے اپنے باپ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا تھا-
مجھے اب آپ میں سے کسی ضرورت نہیں ہے- میرا مشن میں خود سر انجام دوں گا- وہ سوچ چکا تھا کہ اس ظالم شخص کو کیسے برباد کرناہے-
پر سر...آپ نے کہا تھا کہ...
میں نے جو بھی کہا تھا اسے بھول جاؤ کیونکہ یہ مشن میرا ہے اور میں خود ہی کسی کی مدد کے بغیر پورا کروں گا-- آپ لوگ اپنے کام پر توجہ دیں- وہ انکی بات کاٹ کر بولا تھا اور وہاں سے چلا گیا- اسے اپنے گھر جاکر منصوبے کے ہر ایک ایک چیز پر سوچنا تھا کہ اسے کونسا کام کس وقت کرنا ہے اور کہاں کرنا ہے--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ہوگئی تیری شادی؟ صفدر دو ہفتے بعد اس سے مل رہا تھا پر عثمان کو اسکے چہرے پہ کوئی خوشی نظر نہیں آئی تھی-
ہاں ہوگئی ہے...تو گھر چل میرے ساتھ...ملواتا ہوں تجھے تیری بھابھی سے- صفدر ایسے بولا تھا جیسے وہ اپنے کسی دشمن سے ملوانا چاہ رہا ہو-
ہاں آؤں گا کسی دن تیری بھابھی کے ساتھ- عثمان ہمدانی نے اسکے سر پہ بم پھوڑا تھا-
یہ کیا کہ رہا ہے تو...تو نے شادی کرلی اور مجھے بتایا بھی نہیں- صفدر شاہ کو جھٹکا لگا تھا-
ہاں کرچکا ہوں- بس جلدی میں ہوئی تھی اسی لیے نہیں بتایا اور اب تیری بھی ہوگئی ہے تو اسی لیے بتایا-
اچھا کس سے کی ہے؟ کون ہے؟ صفدر شاہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اس نے اس سے شادی کرنی ہو-
ایک کام کرتے کل ہم مل لیتے ہیں کسی ہوٹل میں...تو اپنی بیوی کو ساتھ لانا اور میں اپنی والی کو ساتھ لاؤں گا- عثمان پروگرام ترتیب دینے لگا-
ہنہہ میری بیوی دکھانے کے لائق نہیں ہے- مجھے تو اب تک وہ لڑکی نہیں بھولی- صفدر شاہ کی بات پر عثمان حیران رہ گیا تھا- کہ یہ لڑکا اب تک نہیں سدھرا ہے-
کونسی لڑکی؟ عثمان انجان بنتے ہوئے بولا-
یار وہی جسے میں استعمال کرنا چاہتا تھا- پر وہ بھاگ گئی تھی-
اوہ...تو اسکی بات کر رہا ہے...چھوڑ یار- اپنی بیوی کے ساتھ لائف گزار- عثمان دوستانہ انداز میں مشورے سے نواز رہا تھا-
یار وہ مجھے نہیں پسند ہے...اماں نے زبردستی تھوپی ہے-- پیاری بہت ہے پر ہر وقت لڑتی رہتی ہے- میں تنگ آگیا ہوں-
آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گا سب کچھ...چل کافی پلاتا ہوں-
وہ دونوں اب کافی شاپ پر آگئے تھے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل میرا نام لکھوانا مہندی پر....وہ دونوں چھت پر بیٹھے تھے- کل مہندی کی چھوٹی سی تقریب رکھی گئی تھی- اور مزمل اسے اپنا نام لکھوانے کو کہ رہا تھا-
نہیں میں ایم اور ایس لکھواؤں گی...پورا نام برا لگتا ہے- سجل اپنی شال سہی کرتے ہوئے بولی-
نیچے چلیں..ٹھنڈ لگ رہی ہے بہت..میں بیمار ہوجاؤں گی- اور پھر تم کسی اور سے نکاح کرلینا- سجل شرارت سے بولی-
ہنہہ کسی اور سے تب کروں گا جب تم مر جاؤ گی- مزمل کو سجل ایسی ہی اچھی لگتی تھی ہنستی مسکراتی ہوئی اور ہنستے ہوئے اسکا جو ﮈمپل پڑتا تھا اسے وہ بہت پسند تھا-
دفع ہوجاؤ..بدتمیز میں نہیں بات کرتی تم سے- سجل منہ بسورتے ہوئے بولی-
مزمل کا جاندار قہقہ فضا میں بلند ہوا-
ہنس لو- ہنس لو....میں نہیں شادی کرتی تم سے- وہ رونے کی ایکٹنگ کرنے لگی-
آئے گندی لڑکی....روتے ہوئے ناک بھی بہہ رہی ہے- مزمل اسے چھیڑ رہا تھا-
ہاں ہاں تم لڑکے بس اچھے....لڑکیاں گندی ہیں نا- سجل جل کر بولی اور مزمل سے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا تھا- اسے ہنستا دیکھ کر سجل بھی دھیرے سے ہنس دی تھی-
ان دونوں کے ساتھ ساتھ آسمان پر چاند بھی ہنس رہا تھا ، مسکرا رہا تھا اور انکی خوشیوں پر خوش ہو رہا تھا پر کون جانتا تھا کہ اللہ کو کچھ اور ہی منظور ہے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ان سے ملو یہ ہیں میری پیاری بیوی کلثوم بانو اور کلثوم یہ صفدر ہے- عثمان اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ ہوٹل آچکا تھا اور صفدر بھی اپنی بیوی کو زبردستی لے آیا تھا-
کلثوم بانو- صفدر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں- اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی کلثوم بانو ہے-
کیسا لگا میرا سرپرائز صفدر شاہ- عثمان ہمدانی مسکراتے ہوئے بولا-
تیرا بچہ بھی ہوگیا عثمان اور تو نے بتایا تک نہیں- صفدر اپنے حواسوں پر قابو پا چکا تھا...اسے اب سمجھ آئی تھی کہ عثمان کو جس دن اسنے یہ سب باتیں بتائیں تھیں اسی کے اگلے دن کلثوم کیسے غائب ہوگئی تھی- صفدر شاہ کا دل کر رہا تھا عثمان کو مار ﮈالے پر وہ اسکا اعتماد جیتنا چاہتا تھا- تاکہ وہ عثمان کو مار کر کلثوم بانو سے شادی کرلے....اب وہ منصوبے بنا رہا تھا---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
واؤ...بہت پیاری مہندی لگ رہی ہے- مزمل اسکی مہندی دیکھ کر خوش ہوگیا تھا- اسکے دونوں ہاتھوں پہ آدھا آدھا دل بنا کر اسکے بیچ ( M♥S ) لکھا ہوا تھا-
مزمل چلو باہر نکلو...کل دیکھنا اسے دل بھر بھر کر....سمیرا اور بتول اسکے روم میں آگئی تھیں-
ہاں کل تو صرف اسے دیکھنا کا میرا ہی حق ہوگا- مزمل جاتے ہوئے بولا تھا اور اسے اشارہ کرکے گیا تھا کہ کال پر بات کرتا ہوں اور سجل مسکرادی -
اتنا مسکراؤ نہیں سجل بی بی...کیا پتہ تمہاری یہی مسکراہٹ چھین لی جائے- بتول جل کر بولی- اسنے بھی مہندی لگوائی تھی کیونکہ اسے اپنی ماں اور ممانی کا بنایا گیا پلان پتہ چل گیا تھا-
سمیرا کل بابا آئینگے نا-- سجل اپنی مہندی پہ پھونک مار کے بولی-
ہاں امی کہ رہیں تھیں کہ فون آیا تھا- کل شام تک پہنچ جائیں گے- سمیرا اور بتول اٹھ کر جا چکیں تھیں اور سجل اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
عثمان یار تو اپنے گھر بلاتا ہی نہیں ہے- دو سال گزر چکے تیرے بیٹے کو دیکھے ہوئے- صفدر شاہ نے آج کافی عرصے بعد کال کی تھی-
ہاں یار بزی ہوں...عثمان چاہتے نہیں تھے کہ وہ گھر آئے...انھیں اب بھی صفدر پر بھروسہ نہیں تھا-
پھر کب بلا رہا ہے تو اپنے گھر-- صفدر بار بار گھر بلانے کی ہی بات کر رہا تھا- عثمان کو آخر ماننا پڑگیا تھا اور اب وہ انکے گھر بیٹھا تھا-
بھابھی کھانا بہت مزے کا بنایا ہے آپ نے- کلثوم کو صفدر کے آنے کا عثمان نے پہلے سے بتادیا تھا تبھی وہ کھانا پکا چکی تھیں-
تھینک یو صفدر بھائی...کسی دن بھابھی کو بھی لائیے گا- کلثوم کو اگر اس شخص کی چالبازیوں کا اندازہ ہوتا تو وہ اس شخص کو اپنے گھر میں قدم بھی نہ رکھنے دیتیں- پر جو جسکی قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہی ہوا کرتا ہے---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اسلام علیکم بابا جانی.... سجل اپنے باپ کو سلام کرکے ان کے پاس ہی بیٹھ گئی-
میری بیٹی کیسی ہے؟ وہ سجل سے بہت پیار کرتے تھے- پر انھوں نے اپنے سے دور اسلیے رکھا تھا تاکہ اسکی دادی اچھی پرورش کرسکیں...اسکی ماں تو اسے کب کی چھوڑ کر جاچکی تھی-
ٹھیک ہوں بابا- آپ بتائیں میرے لیے کیا لائے ہیں؟ وہ ہمیشہ ان سے ایک ہی بات کہتی تھی...کہ ایسی چیز لائیے گا جو مجھے ہمیشہ کام آئے کیونکہ اسکو نہ میک اپ پسند تھا نہ کوئی اس قسم کی فالتو چیزیں..وہ ہمیشہ سادہ سی رہتی تھی اور آج بھی وہ سادہ سی ہی تھی- صفیہ بیگم تو اسکو کالے جوڑے میں دیکھ کر عش عش کر اٹھیں تھیں...سمیرا اور بتول اسکی سادگی پر بھی جل کر کوئلہ بن چکیں تھیں- مزمل اسکو دیکھنے کیلئے بے تاب تھا- اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا جب وہ اسکی بیوی بن جائی گی- پر اسے کیا معلوم تھا اسکا یہ انتظار ساری زندگی کا انتظار رہ جانا ہے---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
یار سمیرا باہر چل کر بیٹھتے ہیں- بتول کو باہر جانی کی جلدی تھی کیونکہ اسکی ماں اور ممانی کا بنایا گیا پلان پورا کرنا تھا-
کیوں...یہی بیٹھو- ابھی مولوی صاحب باہر نکاح پڑھانے لگے ہیں-
افف یہ لائٹ بھی اسی ٹائم جانی تھی- چلو باہر- بتول اسکا ہاتھ گھسیٹتے ہوئے اسے لے جاچکی تھی- اور سجل اب اکیلے اندھیرے میں بیٹھی تھی- ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے کہ اسے واپس دروازہ کھلنے کی آواز آئی-
سمیرا...بتول لائٹ کیوں چلی گئی اچانک؟ سمیرا اور بتول ہوتیں تب ہی جواب دیتی نا-
بولو بھی گونگیاں ہوگئی ہو-؟ جو کوئی بھی تھا اب وہ کمرے کو لاک لگا کر اسی کی طرف آرہا تھا-
جان اتنا چیخنا صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا- ابھی تو تمہیں یہ چیخیں بہت بار چیخنی ہیں- وہ اب اسکے پاس آکر بیٹھ چکا تھا اور سجل کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو فوراً اٹھ کھڑی ہوئی- پر بھاگ نہ پائی تھی کیونکہ سجل کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا-
تم ہی نے تو مجھے دعوت دی تھی اور اب بھاگ رہی ہو- مہمان کی میزبانی بھی نہیں کروگی--
میں تمہیں نہیں جانتی کون ہو تم؟؟ میرا ہاتھ چھوڑو- سجل اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے میں لگی تھی اور تب ہی لائٹ آگئی تھی- سجل نے اب تک اسے نہیں دیکھا تھا-
کون ہوں میں اور کیوں آیا ہوں- یہ سب بات میں بتاؤں گا- ابھی میرے پاس بلکل بھی وقت نہیں ہے- تم میری باتیں چپ چاپ غور سے سنو اور سمجھ لو- وہ اسے بیڈ پر زبردستی دھکا دے کر بٹھا چکا تھا اور سجل اسے دیکھتے ہی سکتے
میں چلا گیا
یار سمیرا باہر چل کر بیٹھتے ہیں- بتول کو باہر جانی کی جلدی تھی کیونکہ اسکی ماں اور ممانی کا بنایا گیا پلان پورا کرنا تھا-
کیوں...یہی بیٹھو- ابھی مولوی صاحب باہر نکاح پڑھانے لگے ہیں-
افف یہ لائٹ بھی اسی ٹائم جانی تھی- چلو باہر- بتول اسکا ہاتھ گھسیٹتے ہوئے اسے لے جاچکی تھی- اور سجل اب اکیلے اندھیرے میں بیٹھی تھی- ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے کہ اسے واپس دروازہ کھلنے کی آواز آئی-
سمیرا...بتول لائٹ کیوں چلی گئی اچانک؟ سمیرا اور بتول ہوتیں تب ہی جواب دیتی نا-
بولو بھی گونگیاں ہوگئی ہو-؟ جو کوئی بھی تھا اب وہ کمرے کو لاک لگا کر اسی کی طرف آرہا تھا-
جانِ مصطفی اتنا چیخنا صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا- ابھی تو تمہیں یہ چیخیں بہت بار چیخنی ہیں- وہ اب اسکے پاس آکر بیٹھ چکا تھا اور سجل کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو فوراً اٹھ کھڑی ہوئی- پر بھاگ نہ پائی تھی کیونکہ اسکا ہاتھ مصطفی کے ہاتھ میں تھا-
تم ہی نے تو مجھے دعوت دی تھی اور اب بھاگ رہی ہو- مہمان کی میزبانی بھی نہیں کروگی--
میں تمہیں نہیں جانتی کون ہو تم؟؟ میرا ہاتھ چھوڑو- سجل اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے میں لگی تھی اور تب ہی لائٹ آگئی تھی- سجل نے اب تک اسے نہیں دیکھا تھا-
کون ہوں میں اور کیوں آیا ہوں- یہ سب بات میں بتاؤں گا- ابھی میرے پاس بلکل بھی وقت نہیں ہے- تم میری باتیں چپ چاپ غور سے سنو اور سمجھ لو- وہ اسے بیڈ پر زبردستی دھکا دے کر بٹھا چکا تھا اور سجل اسے دیکھتے ہی سکتے میں چلی گئی تھی-
یہ دیکھو ویڈیو اور یہ نکاح نامہ....خیر یہ نکاح نامہ جھوٹا ہے اور تم نے باہر جاکر سب کو صرف اتنا بولنا ہے کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو اور مجھ سے نکاح کرچکی ہو- اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر میں تمہیں ساری دنیا کے سامنے زبردستی اٹھا کر لے جاؤں گا- مجھے روکنے والا یہاں کوئی بھی نہیں ہے- پر تمہاری عزت کی دھجیاں اڑانے والے بہت بیٹھے ہیں- مصطفی اسے ہر ایک بات سے آگاہ کرچکا تھا اور اب سب کچھ کرنے کی باری سجل کی تھی- وہ اپنی عزت کبھی بھی داغدار نہیں ہونے دے سکتی تھی- اسی لیے اسکی ہر ایک بات مان چکی تھی-
میں ایسا ہی کروں گی- پر تمہارے ساتھ کہیں بھی نہیں جاؤں گی- وہ اپنے ہاتھوں سے آنکھوں میں آئے آنسو رگڑ کر صاف کرتے ہوئے بولی-
ہاہاہاہا....سجل صفدر شاہ....تمہیں کیا لگتا ہے اس سب کے بعد تمہیں اس گھر میں کوئی رہنے دےگا- ٹھیک ہے اگر رہنے دیگا تو یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے...میں تمہیں اپنے گھر کی نوکرانی کے علاوہ کسی اور حیثیت سے کبھی قبول نہیں کروں گا- مصطفی سفاکی سے بولا-
اٹھو اور اپنا حلیہ درست کرو...مسز مصطفی بن کر باہر نکلنا ہے تمہیں اور میں ایسی بیوی کا تعارف نہیں کرواسکتا- وہ اسکے آنسو سے بھرے چہرے کی طرف اشاہ کر رہا تھا اور سجل روتے ہوئے واش روم میں جا گھسی----
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ارے واہ تم نے تو نے تو میرے نام کی مہندی لگائی ہے- تمہیں کیسے پتہ تھا کہ تم میری بیوی بن کر اس گھر جاؤ گی....وہ واش روم سے نکلی تو مصطفی کی نظر اسکے ہاتھوں پر پڑی-
ہنہہ تمہارے نام کی نہیں..مزمل کے نام کی پر شاید وہ میری قسمت میں نہیں ہے- سجل اب آئینہ کے سامنے کھڑی اپنے بال درست کرکے ﮈوپٹہ اڑنے لگی-
بہت پیاری ہو تم.... میری ہی پسند کے سوٹ میں اور سادہ سے روپ میں بھی قیامت ﮈھارہی ہو-- سجل اسکی باتوں پر صرف اسے دیکھتی رہ گئی- یہ وہی شخص تھا جسے وہ شہزادہ سمجھی تھی پر وہ اسکے لیے شہزادہ نہیں نکلا تھا- اسے یہ کوئی ﮈراؤنا خواب لگ رہا تھا-
میں اپنی ﮈائری ساتھ لوں گی- کیونکہ میں کھانا تو چھوڑ سکتی ہوں پر اپنی ﮈائری چھوڑنا میرے لیے ناممکن ہے- وہ اب اپنی ﮈائری لاکر سے نکال کر اسکے پاس آگئی-
پھر تو بہت اچھی بات ہے- تمہیں کھانا بھی پکانا نہیں پڑے گا-- مصطفی ہنستے ہوئے بولا اور سجل کا دل کیا تھا اسکی ہنسی نوچ لے-
سجل...سجل بیٹا دراوازہ کھولو- باہر اسکے بابا دروازہ بجا رہا تھے- مصطفی نے اسکا ہاتھ تھاما اور دروازے کی طرف قدم بڑھادیے-
سجل بیٹا....جیسے ہی دروازہ کھلا تھا صفدر شاہ اسے کسی آدمی کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئے-
سسر صاحب آپکی بیٹی یہی ہے...کہیں نہیں گئی- چلیں باہر چل کر بات کرتے ہیں...مصطفی ہمدانی سجل کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا باہر لا چکا تھا اور صفدر علی شاہ بمشکل وہ راستہ طے کرکے اپنی بیٹی کے پاس آئے تھے-
کون ہو تم....نائلہ بیگم کے ہوش اڑ گئے تھے کہ یہ کون آگیا تھا- انکا سارا پلان انھیں خراب ہوتا دکھا-
انسپکٹر مصطفی ہمدانی-- سجل شاہ کا شوہر ہوں- اس سے زیادہ اچھا تعارف نہیں کراسکتا- اسکے ہاتھ میں اب بھی سجل کا ہاتھ تھا-
سجل یہ شخص جھوٹ کہ رہا ہے نا...بولو سجل- مزمل اسکے پاس آکر اسے جھنجوڑتے ہوئے پوچھنے لگا-
نہیں.. یہ سچ کہ رہا ہے...میں اسکی بیوی ہوں- اور مزمل یہ وہی شخص ہے جس نے مجھے یہ سوٹ دلایا تھا- میں اسے پسند کرتی تھی اور کرتی ہوں- اب ہمارا نکاح ہوچکا ہے اور یہ سب ہمارے بنائے گئے پلان کے مطابق ہوا ہے-
سجل سب کچھ ایک ساتھ بولتی گئی تھی- وہ خود نہیں جانتی تھی کہ اسکے اندر اتنی ہمت کہاں سے آگئی-
سن لیا مزمل...نکلی نا بیٹی بھی ماں جیسی-- آوارہ اور بد چلن...بہت شوق تھا نا تمہیں اسکے ساتھ شادی کرنے کا- بھگتو اب--
صفیہ بیگم کو موقع میسر تھا تو وہ کیوں نہ بولتیں- سجل خاموشی سے سب سنتی رہی تھی کیونکہ اب اسکے پاس بولنے کیلئے کچھ باقی نہیں بچا تھا-
صفدر شاہ اسی وقت بے ہوش ہوکر گڑ پڑے...سجل انکے پاس جانی لگی تھی پر اسکا ہاتھ مصطفی ہمدانی نے تھام رکھا تھا اور وہ اسے سب مہمانوں کے سامنے گھسیٹھتا ہوا لے جاچکا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صفدر شاہ کا ہر آئے دن گھر آنا جانا عثمان اور کلثوم کو اچھا نہیں لگ رہا تھا پر عثمان کچھ نہیں کہ سکتا تھا کیونکہ اب وہ اسکا محتاج ہوچکا تھا- اسے پرانی جاب سے نکال دیا گیا تھا اور گھر میں کھانے تک کیلئے کچھ نہ بچا تھا- اسے صفدر شاہ سے ہی مدد لینی پڑی تھی- صفدر شاہ جہاں جاب کرتا تھا عثمان کو بھی اسنے وہیں جاب دلوا دی تھی- اب اگر عثمان ہمدانی کچھ کہتے تو وہ اسے جاب سے نکلوا بھی سکتا تھا-
اور اب اس بات کو تین سال گزر چکے تھے- صفدر شاہ کی بھی ایک بیٹی ہوچکی تھی جو ابھی ایک سال کی تھی-
عثمان یار آج کلثوم بھابھی کے ہاتھ کا کھانے کا دل کر رہا ہے- تو جانتا ہے عاصمہ کو باہر آنے جانے سے ہی فرصت نہیں ملتی تو کھانا کیا بنائے گی- صفدر ایسے بول رہا تھا جیسے ساری زندگی بھوکا رہتا آیا ہو-
یار آج تو کلثوم کی طبیعت نہیں ٹھیک ہے...پھر ابھی بچی بھی پیدا ہوئی- کھانا میں ہی بناتا ہوں گھر جاکر- کسی دن میں انوائیٹ کردوں گا تجھے- عثمان ہمدانی آج تو بہانہ بنا چکے تھے پر وہ اپنے کیبن میں آکر یہی سوچ رہے تھے کہ وہ ایسے بہانے کب تک بناتے رہیں گے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
کلثوم صفدر ہمارے گھر آنا چاہ رہا ہے کھانے کیلئے- پہلے بھی وہ بولتا رہا ہے اب کیا کروں- عثمان ہمدانی کھانا نکالتے ہوئے بولے-
ابھی مصطفی کی سالگرہ آرہی ہے...تب آپ انوائیٹ کردیں انکی فیملی کو- کلثوم بانو کو اپنے بیٹے سے بہت پیار تھا وہ لوگ اسکی ہر سالگرہ مناتے تھے-
ہاں صیح کہ رہی ہو....میں انوائیٹ کردیتا ہوں- پھر اسکی بھی بیٹی کی سالگرہ ہے نا- مصطفی کی اور صفدر شاہ کی بیٹی کی سالگرہ میں ایک دو دن کا فرق تھا-
پتہ نہیں شاید 5 جنوری کو ہی آتی ہے ان کی بیٹی کی سالگرہ...آپ پوچھ لیجیئے گا ان سے-
ہمم...ٹھیک ہے- عثمان ہمدانی اب کھانے کی طرف متوجہ ہوچکے تھے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مصطفی کی سالگرہ تھی...صفدر شاہ اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ خوشی خوشی آئے تھے- عثمان ہمدانی کے کہنے پر سجل اور مصطفی ہمدانی نے ساتھ کیک کاٹا تھا کیونکہ جس دن مصطفی کی سالگرہ تھی اسی کے اگلے دن سجل شاہ کی تھی-
مصطفی کو وہ چھوٹی سی گڑیا بہت پیاری لگی تھی-
پاپا اسکو ہم رکھ لیں- بہت پیاری ہے یہ گڑیا...میں اسے چاکلیٹ بھی دوں گا-
نہیں بیٹا آپکی بہن ہے نا وہی آپکی گڑیا ہے- یہ ہماری گڑیا ہے- صفدر شاہ اپنی بیٹی کو گود میں لیتے ہوئے بولے اور مصطفی ان کی بات پہ چڑ گیا- اسے وہ انکل بلکل بھی پسند نہیں تھے پر وہ اپنے باپ کی وجہ سے چپ رہتا تھا-
ہاں میری بہن ہی میری گڑیا ہے- یہ بھی گندی بچی ہے بلکل آپکی طرح...مصطفی چیخ کر بولا تو عثمان ہمدانی کا ہاتھ اس پر اٹھ گیا اور وہ روتے ہوئے کمرے میں چلا گیا-
صفدر سوری یار...پتہ نہیں اسکو کیا ہوگیا ہے...وہ پہلے کبھی ایسا نہیں بولتا تھا-
اٹس اوکے عثمان...کوئی بات نہیں- بچے کبھی کبھار جذباتی ہوجاتے ہیں-
صفدر امی کی کال آرہی ہے- میں سجل کو لے کر جارہی ہوں- صفدر کی بیوی اپنی بیٹی کو لے جاچکی تھی...عثمان اور کلثوم روکتے رہ گئے پر وہ نہیں رکیں- عثمان کو بھی ایک کال آگئی تو وہ سننے چلے گئے-
بھابھی مصطفی کہاں ہے؟ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں- صفدر شاہ اپنے منصوبے کو آج پورا کرنا چاہتے تھے- کیونکہ آج انکو بہت اچھا موقع مل گیا تھا-
جی وہ اوپر ہے اسکا روم...آپ جائیں میں عثمان کو بلا کر آتی ہوں- کلثوم اٹھنے لگیں تھیں-
بھابھی...مجھے نہیں پتہ کونسا روم...عثمان ویسے ہی فون پر لمبی بات کرے گا- کیونکہ کال باس کی تھی- وہ اپنے باس کا ﺫکر کرتے ہوئے بولے تو کلثوم کو ماننا پڑا-وہ انکے ساتھ مصطفی اور نور العین کے کمرے میں آگئیں تھیں- مصطفی اور نور العین دونوں سو چکے تھے-
تو آج آخر کار تم میرے ہاتھ لگ گئی کلثوم بانو-- تم نے کیا سمجھا تھا...میرے دوست سے شادی کرکے مجھ سے بچ جاؤگی-- نہ نہ آج تمہیں بچانے والا کوئی بھی نہیں ہے-
کلثوم اپنے بچوں کے پاس بیڈ پہ بیٹھیں تھیں اور صفدر شاہ روم کو لاک لگا کر اب انکی طرف بڑھ رہے تھے-
صفدر بھائی آپ پاگل ہوگئے ہیں- باہر جائیں ورنہ میں چیخ چیخ کر عثمان کو بلا لوں گی-- کلثوم بانو کو لگ رہا تھا کہ وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں-
ہاہاہاہا کلثوم بانو آج تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا- عثمان بھی نہیں....کیا سمجھتا تھا وہ خود کو- بہت ہی پاکباز ہے....اب اسکی عزت سر عام نیلام ہوگی- صفدر شاہ کے ہر انداز سے درندگی چھلک رہی تھی- وہ نہیں جانتے تھے عثمان ہمدانی کا بیٹا بہت سمجھ دار اور اس وقت وہ انکی ہر ایک ایک بات سن رہا ہے-
بکواس بند کرو... صفدر شاہ-- تم شیطان....تمہاری بیٹی بھی ہے یہ مت بھولو اور اگر تم نے میرا ساتھ کچھ بھی کرنے کی کوشش کو تو مت بھولنا یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے...تمہیں اسکا انجام بھگتنا پڑے گا--- کلثوم بانو روتے ہوئے چیخ پڑیں تھیں- اور نیچی تک یہ چیخ عثمان ہمدانی نے بھی سنی تھی-
اے چل بے....میں صفدر شاہ ہوں...کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا نہ میری بیٹی کا--- وہ اپنی مٹھی میں کلثوم بانو کے بال جکڑتے ہوئے بولے تھے-- اسی وقت دروازہ بجا تھا...
عثم...کلثوم کی آواز نکلنے سے پہلے ہی صفدر شاہ انکے منہ پہ ہاتھ رکھ چکے تھے-
مصطفی جو دوسری سائیڈ  پہ لیٹا تھا چھپ کر دروازے تک پہنچ کر دروازہ کھول چکا تھا-
صفدر...عثمان شاہ اس تک پہچنے لگے تھے کہ صفدر شاہ نے اپنی جیب سے بندوق نکال کر کلثوم بانو کی کنپٹی پہ رکھ دی تھی-
اگر اس سے آگے بڑھے تم عثمان ہمدانی تو یہ تمہیں زندہ نہیں ملے گی- صفدر شاہ درندگی سے بولے تھے- عثمان ہمدانی تو گویا گونگے ہوچکے تھے- وہ سب جانتے تھے کہ وہ اپنی آستین میں سانپ پالے بیٹھے ہیں...پر انکو اس سانپ کی اتنی جلدی باہر نکلنے کی امید نہ تھی-
نہ نہ...عثمان ہمدانی میں تجھے ماروں گا اور تیری بیوی کے ساتھ ساری زندگی.....اس سے آگے وہ کچھ نہ بولا بلکہ قہقے لگارہا تھا--- مصطفی 7 سال کا بچہ ہر ایک بات سن رہا تھا اور دیکھ بھی رہا تھا---
تم میرے باپ کو مارو گے تو میں تمہیں ماڑ ﮈالوں گا- مصطفی چلاتے ہوئے بولا تھا- صفدر شاہ اسکی بات پر سر جھٹک گیا تھا- اگر وہ جانتا ہوتا کہ یہ بچہ سچ میں ایسا کرے گا تو وہ کبھی اسکے باپ کو نہ مارتا- صفدر شاہ عثمان ہمدانی کے دل میں تین گولیاں اتار چکا تھا اور کلثوم بانو کو ہوش آیا تو وہ پیچھے سے ان کے ہاتھ سے بندوق اچک چکی تھیں-
صفدر شاہ اگر تم اس گھر سے نہیں گئے تو اسی سے میں تم کو مار ﮈالوں گی....اس سے پہلے کہ تم یہاں سے دفع ہوجاؤ- کلثوم بانو اپنے بچوں کیلئے ہمت کرگئیں تھیں-- وہ جانتی تھیں انکا شوہر اب نہیں بچ سکتا اسی لیے انھوں نے اپنے بچوں کیلئے ہمت دکھائی تھی- وہ نہیں چاہتیں تھیں انکی طرح دوسری کانچ کی گڑیا ٹوٹ کر بکھرے...اسی لیے انھوں نے صفدر شاہ کو بخش کر جانے دیا تھا ورنہ وہ چاہتیں تو اسی وقت اس درندے کو موت کا مزہ چھکا چکی ہوتیں- پر انھیں اپنی طرح دوسری کانچ کی گڑیا کو نہیں توڑنا تھا....صفدر شاہ اس گھر سے فوراً بھاگ گیا تھا اور اپنی بیوی  بچی کے ساتھ گاؤں چلا گیاتھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
”ایک کانچ کی تھی گڑیا
وہ جو روئی تھی کبھی نہ
اس نے جو خواب دیکھے
وہ بھی تو کانچ کے تھے
ٹوٹ کر بکھر گئے“
   یہ رہا تمہارا قید خانہ سجل صفدر شاہ--- مصطفی اسے وہاں سے سب کے سامنے زبردستی لے آیا تھا- 2 گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لوگ اسلام آباد آچکے تھے اور اب وہ اسے اپنے گھر پہ لے آیا تھا-
تم مجھے زبردستی لائے ہو...پر کیوں؟؟ یہ سب کیوں کیا تم نے؟ میں نے آخر تمہارا کیا بگاڑا تھا....جواب دو...بولو- سجل چیخ چیخ کر سوال کررہی تھی-
بند کرو چلانا....مجھے چلاتی ہوئی عورتیں بلکل بھی نہیں پسند....آئندہ میرے سامنے چلائی تو میرا ہاتھ بھی اٹھ سکتا ہے....اور یہ جو سارے سوالات تم مجھ سے کر رہی ہو...یہی سب ایک مہینے بعد اپنے گھر جاکر اپنے باپ سے کرنا....ایک ایک سوال کا جواب دیگا وہ گھٹیا شخص--- مصطفی نفرت  بھرے لہجے میں بولا تھا-
میرے باپ کے بارے میں کچھ بھی مت بولو سمجھے تم....میں وہ لڑکی نہیں جو تم سے اور تمہاری باتوں سے ﮈر کر چپ کرکے ایک کونے میں بیٹھ جاؤں گی- سجل اسکی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولی تھی....جیسے اسے خبردار کر رہی ہو--
ہاہاہاہا....تم باپ بیٹی بلکل ایک جیسے ہو....یہ مت بھولو سجل شاہ کہ اس وقت تم انسپکٹر مصطفی ہمدانی کے قبضے میں ہو....میں تمہاری عزت کی دھجیاں بھی اڑا سکتا ہوں--- اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بھی بد تمیزی کی تو...وہ اسے وارن کرتا گاڑی سے اتر چکا تھا اور سجل کے دماغ میں جکڑ چلنے لگے تھے...کہ اسنے آج کے دن کیلئے کیا کچھ سوچا تھا اور کیا ہوگیا تھا--
جو اللہ نے جس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے....ہم اپنا نصیب، اپنی قسمت نہیں بدل سکتے--- پر اپنی قسمت اور نصیب بدلنا ناممکن نہیں ہوتا.....اللہ کے آگے جھک کر..رو رو کر..دعائیں مانگنے سے بھی ہماری قسمت بدل سکتی ہے.....پر ہر کوئی یہ تگ و دو بھی نہیں کرتا اور جب اسکی قسمت بری نکلتی ہے تو اللہ سے شکوہ کرتا ہے--- کیوں اور کیسے شکوے...؟یہ سب تو ہم اللہ کے سامنے جھک کر بھی بدل سکتے تھے....پر ہم پر جب آزمائش آجاتی ہے تب ہی اللہ سے گلے شکوے یاد آجاتے ہیں---
اور سجل اللہ سے گلے شکوے نہیں کررہی تھی کیونکہ وہ اس وقت جان چکی تھی کہ یہی اسکی قسمت اور نصیب میں لکھا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صفدر شاہ اپنے باپ کا لاﮈلا بیٹا تھا جسکی وجہ سے اسکے باپ نے اسے اسلام آباد کی یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت دی تھی- صفدر کا ایک بڑا بھائی ارمان شاہ اور ایک بہن نائلہ بھی تھیں- نائلہ کی طلاق ہوچکی تھی جسکی وجہ سے وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ باپ کے گھر ہی رہتی تھیں- ارمان شاہ کے بھے دو بچے تھے- اور اب صفدر شاہ کی شادی ہوچکی تھی- اسکی ایک ہی بیٹی سجل تھی...جس سے وہ بہت پیار کرنے لگے تھے--- کیونکہ انکے کانوں میں کلثوم بانو کی آوازیں گونجتی تھیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے....اسی لیے انھوں نے اپنی بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑ دیا تھا-- انکی اپنی بیوی تو انھیں دھوکا دے کر کب کی جاچکی تھی- صفدر اپنی بیٹی کیلئے بہت حساس ہوگئے تھے- سجل نے وہیں مری میں رہ کر تعلیم حاصل کی تھی- میٹرک میں اسکی تیسری پوزیشن آئی تھی....وہ بچی بچپن سے ہی بہت ﺫہین تھی...اسنے کبھی کوئی دوست بھی نہیں بنائے تھے-- کیونکہ اسکے دوست اسکے پاس موجود تھے..جن سے وہ اپنی ہر بات شئیر کرسکتی تھی اور وہ دونوں خاموشی سے اسے سنتے تھے--- ایک دوست اسکا اللہ تھا اور دوسری ﮈائری...جس پر وہ بچپن سے ہر ایک ایک لفظ لکھتی تھی اور اللہ کو سب بتاتی تھی--- اسی لیے اس لڑکی کو کبھی دوستوں کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی-
کالج میں آنے کے بعد مزمل سے وہ بہت گھل مل گئی تھی کیونکہ وہ دونوں اسلام آباد جاکر ساتھ ہی پڑھتے تھے--- اور ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر بتول اور سمیرا ہر وقت جلتی رہتی تھیں...ان دونوں کو پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی- صفدر شاہ اپنا بزنس اسلام آباد میں ہی شروع کر چکے تھے---سجل ان سے ہر اتوار ملنے جاتی تھی اور کبھی کبھار وہ گاؤں آجایا کرتے تھے--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
نیا سال مبارک ہو سجل شاہ--- اور قید خانہ میں خوش آمدید---- مصطفی ہنستے ہوئے کہ رہا تھا جیسے اسکا تاج محل میں ویلکم کر رہا ہو-
یار سوری کانچ کی گڑیا کیلئے کانٹے نہیں سجا سکا....ویسے تو ساری زندگی تمہاری کانٹوں سے ہی بھر چکی ہوگی....ہے نا-- مصطفی اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو کہ بلکل سپاٹ تھا...مصطفی کو لگا تھا وہ جب اسے وہاں سے لائے گا وہ روئی گی...چلائی گی پر اسکی سب سوچوں کے برعکس وہ لڑکی چپ چاپ ہر احساس سے عاری تھی-
ہاں مصطفی ہمدانی کمی رہ گئی ہے....وہ بھی سجا دیتے----پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا..کیونکہ میں اچھے سے جانتی یہی ہے میری قسمت اور یہی میرا نصیب ہے- مجھے رونے دھونے سے کچھ نہیں ملنے والا....بس تمہیں میرے رونے سے خوشی مل سکتی ہے...اور اس خوشی کیلئے تم ساری زندگی ترسو گے کیونکہ میں تمہارے سامنے اب کبھی نہیں رؤں گی---
سجل بولتی ہی چلی گئی...اور مصطفی حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھے جارہاتھا- اسے اپنی ماں کی سنائی گئی کہانی آج بھی یاد تھی کہ مرد ہی ایک کانچ کی گڑیا کو توڑ سکتا ہے اور مرد ہی ایک کانچ کی گڑیا کو جوڑ سکتا ہے--- پر مصطفی کو کہیں سے نہ لگا تھا کہ یہ کانچ کی گڑیا ٹوٹ چکی ہے---
تمہارا روم بلکہ قید خانہ نیچے بیسمنٹ میں ہے....خود چلی جاؤ- مصطفی اسے بتا کر اوپر اپنے کمرے میں جاچکا تھا---
وہ پورے گھر کا جائزہ لینے لگی...اسے ہر طرف بند کمرے نظر آئے اور ایک کچن....اسنے سارے روم دیکھے تو سب لاک تھے- اب وہ لاؤنج سے ہوتی کچن کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے کچھ توڑ پھوڑ کی آوازیں اوپر سے آئیں تھیں--- اور اسکے قدم خود بخود اوپر مصطفی ہمدانی کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے تھے--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ کیوں آئی ہو یہاں- سجل اسکے روم میں آچکی تھی....اور مصطفی کا غصہ اسے دیکھ کر بڑھنے لگا-
مجھے روم نہیں ملا..نہ ہی بیسمنٹ کی طرف جاتا راستہ--- سجل تھوڑی دیر کیلئے گھبرا گئی تھی پر پھر اسکا وہی اعتماد واپس لوٹ آیا-
چلو آؤ..میں دکھاتا ہوں تمہارے قید خانہ کا راستہ....مصطفی اسکا ہاتھ دبوچ کر اسے گھسیٹتے ہوئے نیچے لے آیا تھا--
یہ رہا تمہارے قید خانہ جانے کا راستہ....وہ کچن سے ہوتے ہوئے باہر لان میں نکل آیا تھا- جہاں ایک  روم تھا اور نیچے کی طرف جاتی سیڑھیاں...
نہیں میں نہیں رہوں گی یہاں-- وہ چیخی تھی پر سامنے مصطفی ہمدانی تھا جو سفاکی کی حدیں پار چکا تھا-
میری ماں بھی ساری زندگی ایسے ہی گزار چکی ہے....اب تمہاری باری ہے سجل صفدر شاہ....اپنے باپ کے کیے کی سزا اب تم کاٹوگی-- مجھ سے کسی بھی اچھے سلوک کی امید مت رکھنا-- وہ کہتا ہوا اوپر جا چکا تھا اور سجل اپنی اس نئی زندگی پہ رودی تھی....کیا کیا نہ سوچا تھا اس نے کہ مزمل کے ساتھ نئے سال کا جشن منائے گی...پر اسکے سارے خواب شیشے کی طرح ٹوٹ کر بکھر چکے تھے-
 رونے سے فرصت ملی تو اس نے روم کا جائزہ لیا  وہاں صرف ایک بلب تھا جسکی روشنی بھی کسی وقت بجھنے والی تھی اور ایک پنکھا تھا....اسنے اپنی ﮈائری تلاشنی چاہی پر ﮈائری وہاں ہوتی تو ملتی نا-- اسے یاد آیا جب وہ مصطفی کے کمرے میں گئی تھی تب اسکے ہاتھ میں ﮈائری تھی---اس نے خوشی سے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا-- اور اب نقاحت کے مارے اس سے اٹھا بھی نہیں جارہا تھا-
بابا کیسے ہوں گے...مزمل کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں کہ میں بھی اپنی ماں جیسی نکلی-- اس نے تو شاید بتول سے شادی کرلی ہوگی-
وہ وہیں بیٹھی سوچے جارہی تھی اور کب وہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی اسے پتہ ہی نہ چلا تھا---
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صبح اسکی آنکھ گاڑی کی آواز پہ کھلی اور گاڑی اس گھر میں صرف ایک ہی تھی جو کہ مصطفی ہمدانی کی تھی--
کیا یہ مجھے بند کرکے ہمیشہ کیلئے اس گھر سے جارہا ہے-- وہ خود سے بولی تھی--
نن..نہیں اللہ میرے ساتھ ایسا نہ کرنا....میں مرجاؤں گی-- اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے-- وہ سارا دن روتی رہی- اور کئی دفعہ دروازہ دیکھ چکی تھی پر وہ باہر سے لاک تھا-
اسکی ساری نمازیں بھی قضا ہوچکیں تھیں...مغرب کی اﺫانوں کے وقت اسے گاڑی کی دوبارہ آواز آئی تو وہ اوپر کی طرف بھاگی پر ابھی آدھی سیڑھیاں چڑھی تھی اور چکڑا کر سیڑھیوں


صاحب جی...وہ صبح جب آپکی گاڑی نکلی تھی تب اس روم سے دروازہ بجانے کی آوازیں آئیں تھیں- گارﮈ سجل کے قید خانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا-
ٹھیک ہے...تم جاؤ آرام کرو-- اسکی ہدایت پر گارﮈ اپنے روم میں جا چکا تھا-
مصطفی ہمدانی نے اپنے اس بڑے گھر میں صرف ایک گارﮈ اور ایک بواجی رکھیں تھیں- بواجی کام کرکے شام کو چلی جایا کرتیں تھیں اور گارﮈ اپنے روم میں چلا جاتا تھا-
وہ سجل کے بارے میں سوچتا ہوا دروازہ کھولا اور اسے وہ سیڑھیوں سے جاتے نیچے فرش پر گری ہوئی ملی تھی...اسکے سر سے خون بہہ رہا تھا--
سجل..ہوش میں آؤ... وہ اسکا چہرہ تھتپاتے ہوئے بولا پر وہ ہوش میں نہ آئی-
وہ اسے بمشکل وہاں سے اٹھا کر اپنے روم میں لایا- اور میڈیکل باکس لے کر اسکے سر سے بہتا خون صاف کرنے لگا تھا-- اسے اس وقت بہت برا لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں کی بات کیوں نہ مانا...جب اسکی ماں اس درندے کو معاف کرچکی تھی تو وہ کیوں نہ کرسکا-- پر سب کچھ واپس ﺫہن میں آتے ہی اسے سجل سے نفرت ہونے لگی-
وہ اب اسکے ماتھے کی پٹی کرنے لگا...اور پھر خود اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا--
پانی... وہ ابھی واش روم سے نکلا بال سنوار رہا تھا سجل کے منمنانے پر اسکے پاس آگیا--
پپا..نی وہ مشکل سے بول رہی تھی- مصطفی فوراً نیچے گیا اور کچن سے اسکے لیے پانی لایا تھا-
سجل...اٹھو پانی پی لو- وہ اسکی سنتی تب ہی اٹھ پاتی...دو دن کی بھوکی لڑکی کیسے اسکی سن سکتی تھی- مصطفی نے خود ہی  اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور پانی پلایا تھا...وہ ایک ہی گھونٹ میں سارا پانی ختم کرچکی تھی--
اور پیوگی...مصطفی کو اس نازک سی لڑکی سے ہمدردی ہورہی تھی-
ہاں...سجل نے اب بھی آنکھیں نہیں کھولیں تھیں-
آنکھیں کھولو سجل...مصطفی دوسری بار پانی پلا کر اسے لٹا چکا تھا- پر سجل نے پھر بھی آنکھیں نہیں کھولیں تھیں-
سجل آنکھیں کھولو....مصطفی غصے سے بولا تھا-- اسے لگا تھا وہ جان بوجھ کر ایسا کرہی ہے-
میں مر جاؤں گی...مجھے کھانا دے دو- وہ آنکھیں کھول کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی--
اچھا....تمہارا کہنا تھا کہ تم کھانے کے بغیر تو رہ سکتی ہو پر اپنی ﮈائری کے بغیر نہیں..کہاں گئی وہ ساری باتیں؟ مصطفی طنز کرنے سے باز نہ آیا-
بھوک انسان کو کیا کچھ کرنے پر مجبور کردیتی ہے...سجل کو آج سمجھ آئی تھی- اس پر پہلے ایسا کوئی وقت نہیں آیا تھا ورنہ سجل وہ بات کبھی بھی مصطفی کے سامنے نہ کہتی-
تو مار ﮈالو مجھے- سجل اتنا ہی بول پائی تھی کہ اسے واپس چکڑ آنے لگے- مصطفی اسے واپس بے ہوش ہوتا دیکھ کر فوراً نیچے بھاگا تھا اور کھانا گرم کرکے دونوں کیلئے ﮈش میں سجا لایا تھا پر سجل تو کب کی بے ہوش ہوچکی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
صفدر شاہ اس گھر سے جاچکا تھا-- کلثوم بانو نے ساتھ گھر والوں کو بلوا کر بتایا تھا کہ میرا شوہر خودکشی کرچکا ہے اور یہ بات جس طرح انھوں نے سب کو بتائی تھی...وہ اور انکا خدا ہی جانتا تھا کہ ان پر کیا گزر رہی ہے-- سارے محلے والے سرگوشیاں کر رہے تھے کہ باپ کو اپنی اولاد کا بھی احساس نہ ہوا اور خود کو مار ﮈالا....انکی تدفین ہونے کے بعد وہ ہمیشہ کیلئے یہ شہر چھوڑ کر جا چکیں تھیں-
ممی ہم اب یہیں رہیں گے؟ وہ لاہور اپنی دوست کے گھر آچکیں تھیں...انکی دوست انہی کے ساتھ پڑھی تھی پر اسکے ماں باپ نے اسکی جلدی شادی کردی تھی- اب وہ اپنے شوہر کے گھر لاہور میں ہوتی تھی اور انکا شوہر خود لندن میں کام کرتا تھا- اسی لیے انھوں نے کلثوم بانو کو انیکسی دے دی تھی...جس میں دو کمرے اور کچن تھا-- کلثوم بانو کیلئے یہ بھی غنیمت تھا-
ہاں بیٹے ہم یہیں رہیں گے-- وہ نور العین کا ماتھا چومتے ہوئے بولی تھیں-
ممی میں میں بڑا ہوکر اس سے بھی بڑا گھر بنواؤں گا اور ان انکل کو بھی مار ﮈالوں گا-
مصطفی جو کہ 7 سال کا بچہ تھا..اس نے ہر ایک لفظ اس شخص کا سنا اور دیکھا تھا- وہ اتنا چھوٹا بچہ نہیں تھا کہ سب کچھ بھول جاتا...یہی عمر بچوں کے سمجھنے اور سیکھنے کی ہوتی ہے اور وہ بچہ اس عمر میں سوچ رہا تھا کہ میں اس شخص کو کیسے ماروں جس نے میرے باپ کو مار ﮈالا--
کلثوم بانو نے اسکا داخلہ بہت اچھے سکول میں کروا دیا تھا پر وہ یہ سب بھول پاتا تو ہی پڑھتا...وہ ہر جگہ صفدر شاہ کے کہے الفاظ لکھتا تھا- ایک دفعہ یہی سب اسکی ٹیچر نے اسکی کتاب پر دیکھ لیا تھا- اور کلثوم بانو کو بلوایا تھا- جب کلثوم بانو کو اس سب کا پتہ لگا تو انھوں نے مصطفی کو بہت مارا تھا اور اسے روم میں بند کردیا تھا...
ممی میں آئندہ پڑھوں گا... دروازہ کھولیں...مجھے ﮈر لگ رہا ہے-- وہ رو رو کر دروازہ بجا رہا تھا- کلثوم بانو کو آخر کار اس پہ ترس آگیا اور انھوں نے دروازہ کھول دیا--
مصطفی آپ اپنی ماما سے وعدہ کریں کہ آپ پہلی پوزیشن لائیں گے اور توجہ سے پڑھیں گے- کلثوم بانو اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں-
ہاں میں پہلی پوزیشن لاؤں گا اور بہت پڑھوں گا پھر انسپکٹر مصطفی ہمدانی بنوں گا-- اسے ہمیشہ سے پولیس آفیسر پسند تھے- وہ اپنے باپ سے بھی بولتا تھا کہ میں انسپکٹر مصطفی ہمدانی  بنوں گا اور وہ ہنس دیتے تھے-
ہاں پر اگر آپ پڑھائی اچھی کروگے تو بنو گے انسپکٹر مصطفی اور اگر نہ پڑھے تو کبھی آپ انسپکٹر نہیں بن سکو گے-- وہ اسکا ماتھا چومتے ہوئے اسے سمجھا رہیں تھیں اور وہ سمجھ گیا تھا---
 اسنے ہر کلاس میں پوزیشن لی تھی اور اسے سکالرشپ کی وجہ سے داخلہ بھی با آسانی مل جاتے تھے...وہ روز گھر آکر نور العین کو پڑھاتا تھا اور رات سونے سے پہلے صرف ایک دعا مانگتا تھا کہ میرے اللہ مجھے انسپکٹر مصطفی ہمدانی بنا دے تاکہ میں اپنے باپ کا اور ایک کانچ کی گڑیا کو توڑنے کا بدلہ لے سکوں--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اٹھ بھی جاؤ...میں تمہارے نخرے اٹھانے نہیں لایا تمہیں یہاں-- سجل رات دو بجے ہوش میں آئی تھی اور مصطفی سارا وقت اسکے پاس بیٹھ کر اسے تکے جارہا تھا-
مجھے کھانا دے دو....وہ روتے ہوئے بولی-
ٹھیک ہے لاتا ہوں پر پلیز بے ہوش مت ہونا واپس ورنہ صبح ہی ہوش میں آؤ گی- وہ اسے کہتا نیچے جا چکا تھا اور سجل کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے- کیا لکھ دیا گیا تھا اسکے نصیب میں اور کیاکیا اسے اب برداشت کرنا تھا- ابھی صرف ایک دن گزرا تھا اور وہ نڈھال ہوچکی تھی... ابھی تو ساری زندی گزارنی تھی- وہ 21 سال کی لڑکی آج اپنے باپ کا کیا بھگت رہی تھی اور جانتی بھی نہ تھی کہ یہ سب اسکے باپ کا کیا دھرا ہے...اگر جان جاتی تو مصطفی ہمدانی کے سامنے نظریں اٹھانے کے قابل بھی نہ رہتی-
یہ لو...شکر تم بے ہوش نہیں ہوئی- وہ کھانا ٹرے میں سجا لایا تھا...اسے کبھی بھی بھنڈی نہیں پسند تھی...جب جب اسکی پھپھو بھنڈی بناتی تھیں وہ اپنے لیے کچھ بھی بنا لیتی تھی پر کسی بھی حال میں بھنڈی نہیں کھاتی تھی اور اب اس میں بلکل بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر کچھ بناتی--
میں بھنڈی نہیں کھاتی...چینی لادیں گے-
روٹی سے چینی کھاؤ گی؟ مصطفی حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا--
ہاں مجبوری ہے...پلیز لادیں--- وہ اسکے کہنے پر واپس نیچے چلا آیا تھا-
یہ لو..چینی اور یہ گوشت کا سالن...یہ بواجی نے میرے لیے بنایا تھا کیونکہ میں بھی بھنڈی نہیں کھاتا-- اسکی باتوں پر سجل نے کوئی جواب نہ دیا...وہ بس کھانے کو دیکھ کر اس پہ ٹوٹ پڑی تھی اور مصطفی اسے ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھ کے ہنس رہا تھا.... اور سوچ رہا تھا کہ
بھوک انسان کو کیا کیا کرنے پر مجبور کردیتی ہے-- بھوک کیلئے ایک انسان چور، ﮈاکو اور لٹیرا بن جاتا ہے اور ہم اس انسان کو برا بھلا کہتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے ہوتے کہ وہ پیٹ بھرنے کیلئے یہ سب کر رہا ہے...اور جب ہم نہ دیں کسی کو کھانے کیلئے تو بھوکا انسان چھین کر کھالیتا ہے-- ہم کبھی سمجھ نہیں پاتے کہ ایک غریب بھوکا رہ کر کیا اور کیسا محسوس کرتا ہے- ائیر کنڈشنر گاڑیوں میں بیٹھے انکو ایسے دھتکارتے ہیں جیسے وہ ہم سے ہماری زندگی مانگ رہے ہوں.....ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے اس میں بھوکوں ، غریبوں اور مسکینوں کا بھی حق ہے اور نا انصافی کرنے والوں سے قیامت میں پوچھ ہوگی-- سجل جو کہ مصطفی کے سامنے نہ رونے اور گڑگرانے کا وعدہ خود سے کرچکی تھی....اسکی بھوک نے وہی سب اس سے آج کروا دیا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
امی...دیکھ لیں آپکا بیٹا انسپکٹر مصطفی ہمدانی بن گیا- وہ اپنا پولیس یونفارم پہن کر جا رہا تھا--
ہاں میرے بیٹے....میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ...کبھی بے ایمانی نا کرنا...چاہے کوئی تمہاری جان ہی کیوں نہ لے لے--- اللہ میرے بیٹے کو ترقی دی اور لمبی زندگی دے-- کلثوم بانو آج بہت خوش تھیں..انکی دعائیں رنگ لائیں تھیں اور ان سے زیادہ خوش مصطفی ہمدانی تھا کیونکہ اسکا خواب پورا ہونے والا تھا-
آمین...آج شام تیار رہیے گا ہم تہذیب کا پزا کھانے چلیں گے...وہ لوگ اسلام آباد واپس آچکے تھے-- گنورنمنٹ کی طرف سے مصطفی کو شاندار بنگلہ اور گاڑی ملی تھی-
ٹھیک ہے بیٹا....آپ ابھی جاؤ...پہلا دن ہی لیٹ ہوجاؤ گے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے-
وہ ماں بہن کو اللہ حافظ بول کر جاچکا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
تمہارے باپ کو فالج کا اٹیک ہوا ہے اور اس وقت وہ ہسپتال میں ہے-- اگلے دن وہ سو کر اٹھی تو  مصطفی نے اسکے سر پہ بم پھوڑا-
اور اس سب کے ﺫمہ دار صرف اور صرف آپ ہیں...آپ نے ہی ہم سب کی زندگیاں برباد کردی ہیں- وہ واپس چیخی تھی اور مصطفی کو اس کے چیخنے پہ غصہ آیا تو اس پر ہاتھ اٹھا گیا--
میری ایک دفعہ کی کہی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی ہے؟ منع کیا تھا نا میں نے کہ مجھے چلاتی عورتیں سخت ناپسند ہے....اور مجھے قصوروار ٹہرانے سے پہلے یہ سب اپنے باپ سے پوچھنا...وہ اسکا ہاتھ دبوچ کر اسکے سامنے کھڑا غراتے ہوئے بول رہا تھا....سجل کو لگ رہا تھا کہ وہ اب کبھی اس درندے سے چھٹکارا نہیں پاسکی گی--
اٹھو اور دفع ہوجاؤ میرے روم سے....تم جیسے کو میں ہمدردی کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھانا چاہتا-- وہ اسے بیڈ سے اٹھا کر کمرے کے دروازے تک لے آیا-
ہنہہ اور تم جیسے درندے سے کوئی مدد بھی نہیں مانگنا چاہے گا-- میں اسی وقت اپنے گھر جارہی ہوں-- وہ کہتے ہوئے فوراً نیچے کی طرف بھاگی تھی...پر سیڑھیوں سے اترتے وقت اسکا ﮈوپٹہ پاؤں میں آگیا اور وہ اونچی سیڑھیوں سے لڑھک کر نیچی جاگری تھی--
سجل .....مصطفی جو اپنے کمرے کے دروازے پہ ہی کھڑا چیخا تھا.... نیچے آکر اسکو اٹھایا...اور فوراً گاڑی میں ﮈال کر ہسپتال لے گیا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★

ہنہہ...نکلی نا بیٹی بھی ماں جیسی...گھٹیا اور بدچلن-- نائلہ بیگم سے اپنے بھائی کا حال دیکھا نہیں جارہا تھا- صفدر شاہ کو فالج کا اٹیک ہوا تھا-- سب ہسپتال میں تھے- مزمل نے وعدے کے مطابق اسی دن بتول سے نکاح کرنے بجائے شادی کرلی تھی-
صفیہ بیگم اور نائلہ بیگم کا کام تو مصطفی ہمدانی بہت آسان کر گیا تھا اور وہ دونوں خوش ہوگئیں تھیں پر مزمل جینا بھول گیا تھا...وہ ایک روبوٹ کی مانند ہوچکا تھا-- اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ سجل اسے دھوکہ دے کر جاچکی ہے-
بھابھی کیوں اپنا بی- پی ہائی کر رہیں...دیور جی ٹھیک ہوجائیں گے....اس منحوس ماری نے منہ دکھانے کے لائق ہی نہ چھوڑا ہمیں...تو دیور جی کو صدمہ تو لگنا ہی تھا-
صفیہ بیگم منہ کے زاویے بگاڑ کر بولیں-
امی میں گھر جارہا ہوں...آپ لوگ آجائیے گا-- مزمل کو انکی باتیں بری لگی تھیں اسی لیے بتول کو بھی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور بتول اسے روکتے رہ گئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سر...سوری... انکا خون بہت ضائع ہوچکا ہے...آپکو بلڈ ارینج کرنا پڑے گا ورنہ انکی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے- ﮈاکٹر اسکو بتا کر جاچکے تھے- اور وہ کافی دیر تک سوچتا رہا کہ کیا کرے- اسکو اچانک یاد آگیا کہ اسکا بھی بلڈ گروپ یہی ہے جو ڈاکٹر نے انتظام کرنے کا کہا۔۔
سر آپ نے بلڈ ارینج کیا؟ نرس اس سے آکر پوچھ رہی تھی اور وہ اثبات میں سر ہلاتا اسکے ساتھ چل پڑا-- جو شخص اس لڑکی اور اسکے باپ سے نفرت کرتا تھا...وہی شخص آج اس لڑکی کی جان بچا رہا تھا...وہ چاہتا تو اسے مرتا چھوڑ کر کب کا جاچکا ہوتا- پر وہ ایک انسان بھی تھا اور اس میں ابھی انسانیت باقی تھی--
سجل کو ہوش آچکا تھا- پر ہسپتال کو دیکھ کر اسے کچھ سمجھ نہ آئی-
سر آپ اپنی وائف سے مل سکتے ہیں...انکو ہوش آگیا ہے- نرس اسے بول کر جاچکی تھی اور وہ وائف لفظ میں ہی کھویا رہ گیا پھر سر جھٹک کر اٹھ کھڑا ہوا اور سجل کے پاس آگیا-
سجل...وہ اسے پکارا تھا تو اس نے آنکھیں میچ لیں تھیں...وہ اس شخص کو دوبارہ اپنی زندگی میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی پر قسمت کو یہی منظور تھا--
سجل آنکھیں کھولو...وہ اب اس پر جھک کر اسکا گال تھتپا رہا تھا اور سجل کو اپنا سارا خون نچڑتا ہوا محسوس ہوا-
ہٹ جاؤ مجھ سے دور...اسکے ہاتھ میں ﮈرپ لگی تھی پر جب اسنے مصطفی کو دھکا دیا تو ﮈرپ نکل چکی تھی-
میم....یہ کیا کیا آپ نے؟ نرس اسکی چیخ سن کر فوراً اسکے روم میں آئی-
آپ جانتی ہیں آپکے شوہر نے ہی آپکو بلڈ دیا ہے اور آپ انکے ساتھ ایسے بے ہیو کررہی ہیں-
سجل نرس کی باتیں سن کر مصطفی کی طرف دیکھی تھی...دونوں کی نظروں کا آپس میں تصادم ہوا تھا اور پھر سجل نفرت سے دوسری طرف منہ موڑ گئی تھی پر تب بھی اسے مصطفی کی نگاہیں اپنے اوپر محسوس ہورہیں تھیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
وہ دو دن ہسپتال رہ کر گھر بلکہ اپنے قید خانہ میں واپس آچکی تھی- مصطفی اسے واپس بیسمنٹ والے روم میں چھوڑ کر دروازے پہ تالا ﮈال کر جاچکا تھا- اور اب شام ہونے کو آئی تھی اور وہ لوٹ کر واپس نہیں آیا تھا-
وہ واپس اوپر کی طرف آئی تھی تاکہ دروازہ بجاکر اسے بلا سکے...اسنے دروازے پہ ہاتھ رکھا ہی تھا کہ لاک کھلنے کی آواز آئی-
اوہ..تو تم میرے انتظار میں بیٹھی تھی سجل شاہ- چلو ایک بات بتاؤ...اگر میں تمہیں یہاں بند کرکے ہمیشہ کیلئے چلا جاؤں تو کیا کروگی تم-- اپنی ﮈائری کے ساتھ رہ لوگی- وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کچن سے ہوتا لاؤنج میں آچکا تھا-
میری ﮈائری؟ وہ جو اپنی ﮈائری کو چھوڑتی نہ تھی اب 4 دن گزرنے کے بعد اسے پتہ لگا تھا کہ اسکی ﮈائری گم ہوچکی ہے-
بتاؤ...کیا ہوا؟ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا جس میں سے دو موتی گرے تھے....اسکے آنسو کو موتی سی ہی تشبیہہ دی جاسکتی تھی کیونکہ وہ کم روتی تھی اور جب روتی تھی تو موٹے موٹے آنسو بہاتی تھی-
میری ﮈائری کھو چکی ہے....اور میں آپکو کیا زندہ نظر آرہی ہوں جو آپ یہ سوال کر رہے ہیں- وہ اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے بولی-
اوہ..بہت افسوس ہوا آپکی ﮈائری گم ہوگئی....ویسے بھی اب ﮈائری کا تو فائدہ نہیں ہے...اتنی بری زندگی کے بارے میں تو آپ لکھنے سے رہیں-- وہ مزاحیہ انداز میں بولا  اور سجل شاہ کی پوری زندگی میں ایک یہی شخص تھا جس سے اسے نفرت ہونے لگی تھی-
اگر وہ گم نہ ہوتی تو میں تب بھی لکھتی اور مصطفی ہمدانی اس ﮈائری کو سارے اخبارات میں چھپواتی پھر دیکھتی کہ تم کیسے جی پاتے-- وہ نفرت سے پھنکاری--
ہاہاہاہا....ہنساؤ نا سجل شاہ-- بھول رہی ہو میں ایک پولیس آفیسر ہوں.... یہ سب کرنے سے پہلے میں تمہیں مار بھی سکتا تھا اور تمہاری یہ سب باتیں صرف کہنے کی ہیں-- تمہارا تماشہ لگتے تو میں دیکھوں گا جب تم پہ ساری دنیا تھوکی گی اور میں خوشیاں مناؤں گا-- وہ اس کا ہاتھ زبردستی تھام کر ﮈائننگ ٹیبل پر لے آیا جہاں ٹیبل لوازمات سے بھری پڑی تھی-
آج میری سالگرہ ہے....اور 4 جنوری کا دن میں اپنی ساری زندگی نہیں بھولا ہوں- تمہیں یاد نہیں ہوگا کیونکہ تم اس وقت دو سال کی تھی پر مجھے آج تک ایک ایک بات یاد ہے سجل شاہ.... آؤ کیک کاٹتے ہیں....کل تمہارا بھی کاٹیں گے- سجل اسکی باتوں پہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی- اسکو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا باتیں کر رہا ہے اور کیسے اسکی سالگرہ کا اسے پتہ ہے-
جو تم سوچ رہی اس سب کا جواب تمہارا باپ ہی دے گا...ابھی انجوائے کرو-
مصطفی اب اسکا ہاتھ تھام کر اسکے ساتھ کیک کاٹ رہا تھا- اور کیک کا پیس اٹھا کر اسے کھلایا تھا-
چلو..اب تمہاری باری ہے..مجھے کھلانے کی-- سجل نے اسکے کہنے پر زبردستی اسکے منہ میں کیک کا ٹکڑا ٹھونسا تھا-
ایک پکچر تو بنتی ہے اس خوشی کے موقعے پر- مصطفی جیب سے اپنا موبائل نکال چکا تھا-
سجل کو اسکی یہ حرکتیں بلکل بھی سمجھ نہ آرہیں تھیں پر اسنے زبردستی سمائل کرکے ایک تصویر بنوالی تھی-
یہ لو... تصویر گئی تمہارے باپ کو-- اب تو شاید وہ اسے دیکھ کر مر ہی جائے...چچ چچ بچارا-- مصطفی اسکے باپ کو اور مزمل کو پکچرز سینڈ کرچکا تھا اور جب سجل کو اسکی بات سمجھ آئی تو وہ روتے ہوئے کچن کی طرف بھاگ گئی--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مزمل یہ تمہارے موبائل پر پکچر آئی ہے-
بتول خوشی خوشی اسے دکھانے لائی تھی کیونکہ وہ سجل شاہ کی تصویر مصطفی کے ساتھ دیکھ چکی تھی-
کونسی پکچر بیٹا...ارمان شاہ اور مزمل صفدر شاہ کے پاس ہی بیٹھے تھے اور بتول باہر بیٹھی تھی-
ماموں جان....سجل اور اس انسپکٹر کی تصویر...دیکھیں خود خوش ہے اور ہمارا جینا حرام کردیا ہے- بتول کی ساری باتیں صفدر شاہ بھی سن رہے تھے-
ہنہہ میرے بھائی کو اس حال میں پہنچاکر خود عاشق کے ساتھ مزے کر رہی ہے-- ارمان شاہ کی باتوں پر صفدر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے- وہ جانتے تھے انسپکٹر مصطفی کون ہے اور اسکی بیٹی کس کے کیے کی سزا بھگت رہی ہے....آج کلثوم بانو کی باتیں سچ ہوگئیں تھیں کہ یہ زندگی  مکافات عمل ہے....کسی کو دکھ دے کر ہم خود بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتے-- ایک نہ ایک دن ہمیں اس سب کیے کی سزا بھگتنی پڑتی ہے- اور آج سجل شاہ اپنے باپ کے کیے کی سزا بھگت رہی تھی- اور مصطفی ہمدانی اپنے باپ کا انتقام لے رہا تھا----
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
5جنوری کی صبح کا سورج طلوع ہوگیا تھا اور وہ جائے نماز پر بیٹھی اللہ کے سامنے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی- مصطفی ہمدانی جو نماز کے بعد جاگنگ  کیلئے جارہا تھا..اسے اللہ کے سامنے سجدے میں روتا دیکھ کر وہیں صوفے پر بیٹھ گیا اور اسکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا--
اے اللہ تو نے مجھے کس گناہ کی سزا دی ہے....میں تو ہمیشہ تیرے سے اپنی گناہوں کی معافی مانگا کرتی تھی پھر وہ شخص کیوں مجھے سزا دے رہا ہے...وہ کیوں کہتا کہ سب کچھ میں اپنے باپ سے پوچھو...اللہ تو تو جانتا ہے نا سب کچھ تو... تو مجھے بتا کہ میرے باپ نے ایسا کونسا گناہ کیا تھا جس کی سزا وہ شخص ایک کانچ کی گڑیا کو دے چکا ہے- کیا وہ نہیں جانتا اللہ کہ جب کانچ کی گڑیا ٹوٹ جاتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے...میرے پیارے اللہ اگر میرے باپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو....تو اسے معاف کردے- تو سب کچھ کرسکتا ہے..بے شک تو بڑا رحیم و کریم ہے- سجل رو رو کر دعائیں مانگ رہی تھی....مصطفی اس سے آگے کچھ نہ سن سکا تھا اور اٹھ کر باہر چلا گیا-
جاگنگ کرتے وقت وہ مسلسل سجل کے بارے میں سوچے جا رہا تھا کہ اسکا کیا قصور تھا اس سب میں...وہ کیوں اپنے باپ کا کیا بگھت رہی تھی-- پر جب جب اسے اپنے باپ کی موت یاد آتی وہ پھر سے ان دونوں باپ بیٹی سے نفرت کرنے لگتا- اسے وہ رات بھولتی نہ تھی- اسے لگتا تھا اس شخص نے میری ماں کو بھی تو توڑا تھا تو میں اسکی بیٹی کو کیوں نہیں توڑ سکتا...جب وہ اتنا بڑا گناہ کر کے نہیں پچھتایا تو میں کیوں پچھتاؤں گا....میں بھی اسی کی طرح سب بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤں گا....وہ اپنے آگے کی سوچ رہا تھا...وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ آگے اس کانچ کی گڑیا کا کیا ہوگا....وہ کہاں جائی گی...کیسے ساری زندگی گزارے گی کیونکہ اسکی ماں کے پاس تو اسکا بیٹا تھا پر اس لڑکی کے پاس کوئی نہ تھا....تب بھی وہ لڑکی صرف اللہ کے سامنے گڑگڑا رہی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
”میں اک کانچ کی گڑیا۔۔
ہواۓ دہر کی زد میں کبھی ٹوٹی۔۔
کبھی بکھری۔۔
میں وقت کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا۔۔
بے رنگ سا آنسو۔۔
کہ جس کی منزلیں زمین کی پہنائیاں ٹھہری۔۔
میں آنگن کے درو دیوار پر ٹھہرا۔۔
اک خزاں زدہ موسم۔۔
جسے کوئی دیکھنا چاہے نہ خواہش ہو چھونے کی۔۔
میں اک کانچ کی گڑیا۔۔
میں بے رنگ سا آنسو۔۔
میں خزاں زدہ موسم۔۔
!مگر، رکو ، سنو ، دیکھو۔۔
میں انسان بھی تو ہوں۔۔
میرے احساس کے زخمی بدن کو نرم لفظوں کا مرہم دو۔۔
میرے بے رنگ ہاتھوں کو کبھی تو کوئی رنگ دے دو۔۔
محبت نہ سہی۔۔
مگر اتنا ہی کردو تم۔۔
فقط اعتبار کا اک لازوال پل مجھے دے دو۔۔“
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
موسم بدلتے ہی سردی میں اضافہ ہوگیا تھا- اندھیرے کو چیڑتی سورج کی پہلی کرن نے مرگلہ کے پہاڑوں پہ اپنا قدم رکھ دیا تھا- پہاڑوں کو پاٹتی سورج کی نرم گرم روشنی اسلام آباد کے مکینوں کیلئے صبح کا پیغام لائی تھی- وہ جو فجر کی اﺫان سنتے ہی اٹھ جاتی تھی آج نہ اٹھ پائی اور اب موبائل کی رنگ ٹون بجنے کی آواز پر اٹھی تھی--
ہیلو....کون؟ اسنے نمبر دیکھے بغیر ہی کال اٹینڈ کرلی تھی--
باجی...وہ میں نوری بات کر رہی ہوں- آپ کے پاس کل میں آئی تھی نہ اپنے ایک سلسلے میں- تو آج بھی میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں پر آپ اب تک پہنچی نہیں ہیں-
اوہ ہاں نوری معاف کرنا...میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں...تم وہیں رہنا اوکے...خدا حافظ-- وہ رابطہ منقطع کرکے بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی- پھر تیار ہو کر کمرے سے باہر نکل کر نیچی آئی اور کچن میں ناشتہ بنانے لگی...وہ اس بڑے گھر میں جو اسلام آباد کی مرگلہ کی پہاڑیوں پہ تھا اس میں اکیلی رہتی تھی- اور سارا دن گھر سے باہر اپنے ورکرز یا جن لوگوں کی مدد کیلئے اس نے اپنا ادارہ کھول رکھا تھا وہاں پائی جاتی-- اتوار کا دن وہ صرف گھر میں گزارتی تھی کیونکہ اس دن اسے سارے گھر کی صفائی کرنی ہوتی تھی-
اسی دوران اسکی دوبارہ کال آنے لگی- وہ سلائس پر جیم لگاتے ہوئے کال اٹھا چکی تھی-
ہیلو...مسز اقبال- کیسی ہیں آپ؟ اسکی بات پر دوسری طرف سے جواب دیا گیا-
جی مسز اقبال سوری آپکو انتظار کرنا پڑا...مجھے صرف 15 منٹ دیں- میں آپکے پاس ہونگی...خدا حافظ-- اسکی روٹین تھی یہ کھاتے ہوئے بھی کال پر بات کرنا کیونکہ اسے اپنے کام سے بہت پیار تھا اور ہر کسی کو جواب دینا وہ اپنا فرض سمجھتی تھی....آج تک کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جو اسکے پاس آیا ہوگا اور اسنے اسے جواب نہ دیا ہو....اسے ہر کسی کی مدد کرکے سکون ملتا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
میں آج تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے جارہا ہوں... مصطفی ہمدانی نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اسکو چھوڑ آئے گا-
اچھا...بہت جلدی خیال نہیں آگیا مصطفی ہمدانی- کہاں گئیں وہ باتیں کہ تم مجھے توڑو گے اور مہینہ بھر یہاں رکھو گے... سجل جو اسکے گھر کے لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی اسکے کہنے پر استہزایہ انداز میں بولی-
ہاں...بہت جلدی خیال آگیا ہے...خیال بدل جائے...اس سے پہلے اچھا ہے کہ تم چلو میرے ساتھ--
نہیں جاؤں گی میں-- ساری زندگی تمہارے سر پہ ہی پڑی رہوں گی سن لو تم....وہ شہادت کی انگلی اٹھا کر وارننگ دینے والے انداز میں بولی اور اوپر مصطفی کے کمرے میں بھاگ کر لاک لگا چکی تھی...مصطفی اسکی اس حرکت پر کھول اٹھا تھا-- وہ کچن میں سے چابیاں نکال کر اوپر اپنے روم کی طرف بڑھنے لگا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل بیٹی...یہ آخری موقع ہے..جلدی جلدی ﮈھونڈ ورنہ وہ کسی بھی وقت آجائے گا- وہ خود سے بات کرتے ہوئے اسکے لاکر میں گھسی تھی- اسکو اس گھر سے جانا ہی تھا پر یہ دیکھ کر کہ مصطفی ہمدانی نے کیوں اسکے ساتھ یہ سب کیا اور اسے لگا تھا کہ کوئی فائل وغیرہ مصطفی نے چھپا کر رکھی ہوگی یا اپنی کوئی ﮈائری وغیرہ جس میں سب کچھ لکھا ہوگا-- وہ اسکے لاکر کا لاک کھولنے کی کوشش کررہی تھی...اسکی سالگرہ کی تاریخ بھی لگا کر دیکھ چکی تھی پر وہ کھل نہیں رہا تھا-
4455 لگاؤ...کھل جائے گا- سجل اسکی آواز پر اچھل گئی تھی...اسے لگا تھا اسکی موت کا فرشتہ قریب آچکا ہے--
کیا ہوا سجل بی بی لگاؤ نا....جو کچھ تم ﮈھونڈنا چاہ رہی ہو وہ اسی میں تو ہے...وہ اب اسکے پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا اور سجل کو بھاگنے کا موقع دیے بغیر اسکا ہاتھ پکڑ چکا تھا-
اوہو...کہاں گئی لمبی زبان جو نیچے چل رہی تھی-- خیر تم نہ لگاؤ..میں لگا دیتا ہوں پھر جو کچھ تمہیں دیکھنا ہو دیکھ لینا-
وہ اب اپنا لاکر کھول چکا تھا-
یہ لو دیکھ لو....کتنے پیسے لے جانا چاہتی ہو؟ لے جاؤ سب کیونکہ اگلے دنوں تمہیں انکی ضرورت پڑ سکتی ہے- اسکے لاکر میں پیسوں کے علاوہ کچھ نہ تھا-
نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی....صرف اتنا بتا دو کیوں میری زندگی برباد کی....کیا ملا تمہیں یہ سب کرکے....کوئی خوشی؟ اگر تمہاری بہن کے ساتھ کوئی یہی سب کرتا تو پھر میں تم سے پوچھتی مصطفی ہمدانی...کیسا لگتا ہے اپنی بہن کو رسوا ہوتا دیکھنا---- وہ چیخ چیخ کر بولتی چلی گئی تھی-
اسٹاپ اٹ...بکواس بند کرو سجل شاہ.... مصطفی ہمدانی کا بس چلتا تو اس بات پر اسکا گلا دبا چکا ہوتا-- شاید یہ میری نرمی کا نتیجہ ہے جو تم مصطفی ہمدانی کے کمرے میں گھس کر میری چیزوں پر ہاتھ ﮈال رہی ہو-- اور رہی بات تمہیں رسوا کرنے کی تو یہی کام تمہارا باپ کب کا کرچکا ہے-- اور شاید اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ کس کے ساتھ کیا کرچکا ہے- وہ اس سے بھی زیادہ زور سے چیخا تھا...سجل کی رنگت لال ہوچکی تھی- مصطفی نے اگر اسکا ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو وہ اس کمرے سے بھاگ چکی ہوتی-
چلو....تمہارا وقت آچکا ہے کانٹوں بھری زندگی گزارنے کا- اور آج کے دن کے بعد کوئی دن ایسا نہ ہوگا جسکو تم بھول پاؤ گی-- وہ اسکا زبردستی ہاتھ پکڑے اسے نیچے لے آیا اور اپنی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر خود ﮈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اپنے گھر سے نکال لے گیا- سجل اس گھر کو آگ لگنے کی بددعائیں دیتی ہوئی جاچکی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
باجی...باجی...وہ مجھے کل رات بھی دھمکیاں دے رہا تھا- نوری اسکے آفس میں بیٹھی رو رہی تھی-
نوری رو مت..بہادر بنو اگر تم رو گی تو مرد خوش ہوگا کہ تم اس سے ﮈر کر رورہی ہو اور اسکے رعب میں ہو- وہ اسے سمجھانے لگی-
باجی وہ کہتا ہے میں کماؤں اور وہ خود گھر بیٹھا رہ...مجھے راتوں کو کتوں کے حوالے کرنا چاہتا ہے...بتائیں کیا میں برداشت کرسکتی باجی- کتنی ساری گاؤں کی عورتیں ایسا ہی کر رہی ہیں تاکہ انکا شوہر انہیں نہ مارے پر میں یہ نہیں کرسکتی باجی-- نوری کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے-
نوری میں تمہارے ساتھ ہوں..یہ مرد ہم عورتوں کو ایک شے سمجھتے ہیں- تم آج گھر جاؤ اور اس سے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کرو کہ وہ سمجھ جائے تمہاری بات کو اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم یاد رکھنا اللہ نے جب تمہیں مجھ تک پہنچوایا ہے تو وہی تمہاری آگے مدد بھی کرے گا- اللہ سے کسی بھی وقت گلے شکوے نہ کرنا کیونکہ جب اس دنیا میں ہم تنہا ہوتے ہیں تب ایک اللہ ہی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے...شام ہونے والی ہے- تم اپنے گھر جاؤ اور شوہر کیلئے کھانا پکاؤ...اسکا موﮈ سہی کرو پھر بات کرنا--- وہ اسے دھیرے دھیرے سمجھانے لگی...نوری اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اللہ پر یقین رکھ کر اٹھ گئی- اور اسکے ساتھ باہر آگئی...جہاں مسز اقبال بیٹھیں اسکا انتظار کر رہی تھیں--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مجھے یہی اتار دیں....میں خود بھی اپنے گھر جا سکتی ہوں- کسی کی محتاج نہیں ہوں- وہ لوگ ابھی مین روﮈ پر آئے تھے جب سجل نے اسے گاڑی روکنے کا بولا-
نہیں..سجل شاہ میں تمہارا تماشہ دیکھنا چاہتا ہوں...پھر تمہاری چلتی زبان دیکھوں گا- وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا جیسے سجل نے کوئی مذاق کیا ہو-
ہنہہ یہ تمہاری حسرت بن جائی گی مصطفی ہمدانی .....اتنے اونچے خواب نہ دیکھو- وہ نفرت سے بول کر منہ پھیر گئی-
اچھا...یہ بھی دیکھ لیتے ہیں- مصطفی کہتے ہوئے سپیڈ بڑھا چکا تھا-- اور پھر سارا راستہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم رہے-
یہ لو آگیا تمہارا میکے- جہاں تم ساری زندگی سڑتی رہو گی- مصطفی خوشی سے بولا-
خدا حافظ مصطفی ہمدانی...امید کرتی ہوں تم ساری زندگی چاہ کر بھی مجھے بھلا نہیں پاؤ گے- وہ گاڑی سے اتر کر اپنے گھر میں داخل ہوچکی تھی جہاں اسکے لیئے کوئی بھی انتظار میں نہ بیٹھا تھا اور جو بیٹھا تھا وہ اسکے آنے سے ایک دن پہلے مر چکا تھا-
سجل....مزمل جو لان میں بیٹھا تھا اسے دیکھ چکا تھا- اسکے کہنے پر  باقی سب پر باہر آچکے تھے-
کیا کرنے آئی ہے اب تو یہاں..کیسے جرأت ہوئی اس گھر میں داخل ہونے کی....نائلہ بیگم اسے دیکھ کر اپنے حوش و حواس میں نہ رہی تھیں- اور اسکے پاس آکر اسے مارنے لگیں تھیں پر انکا ہاتھ اٹھنے سے پہلے ہی سجل انکا ہاتھ روک چکی تھی-
ہنہہ میں اپنے باپ کیلئے یہاں آئیں ہوں...اگر وہ اس گھر میں نہ ہوتا تو میں کبھی قدم بھی نہ رکھتی-
تو پھر تم اب بھی چلی جاؤ سجل...کیونکہ تمہارا باپ مر چکا ہے- بتول اپنی ماں سے کم نہ تھی..وہ بھی بول پڑی کیونکہ اسے ﮈر تھا کہ سجل کے آنے سے مزمل اسے چھوڑ بھی سکتا ہے-
تم جھوٹ کہ رہی ہو نا بتول...تایا جان،مزمل آپ لوگ کچھ تو بولیں....بتائیں یہ جھوٹ کہہ رہی ہے- سجل ارمان شاہ اور مزمل کے پاس آکر بولی-
نہیں کہ رہی وہ جھوٹ....اسلیے بہتر یہی ہوگا سجل کہ تم اس گھر سے ہمیشہ کیلئے چلی جاؤ کیونکہ یہاں تمہیں اب کوئی بھی رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا- یہ سب کہنے والا اسکا اکلوتا دوست...اس سے محبت کے دعوے کرنے والا مزمل تھا- سجل کو اسکی باتوں پر یقین نہ آیا کہ یہ وہی مزمل ہے جو اسے چاہتا تھا- چاہنے کی باتیں صرف باتیں ہی رہ جاتی ہیں اور محبت کے دعوے بھی کھوکلے ثابت ہوتے ہیں-
ٹھیک ہے...میں جارہی ہوں اس گھر سے ہمیشہ کیلئے-- خدا حافظ...سجل اپنے اللہ پر بھروسہ کر کے اس گھر سے نکلنے لگی-
سجل رکو....مزمل اسکے پیچھے گیٹ تک آیا تھا- یہ چاچو کے اسلام آباد والے گھر کی چابی اور یہ انکے بزنس کے کچھ کاغذات وغیرہ ہیں....انکی گاڑی بھی یہیں ہے...جو تم لے جاسکتی ہو کیونکہ تمہیں اسکی ضرورت پڑسکتی ہے- وہ امانتیں لوٹا رہا تھا اور نائلہ بیگم اسکی اس حرکت پہ کھول اٹھیں تھیں-
نہیں گاڑی مجھے نہیں چلانے آتی..میں بس یہی لے جاؤں گی خداحافظ...وہ مزمل کے ہاتھ سے کاغذات اور گھر کی چابی لے کر ہمیشہ کیلئے مری کی وادیوں کو چھوڑ کر جاچکی تھی--


جی..مسز اقبال میں آپکی باتوں کو سمجھ رہی ہوں پر اس پر عمل نہیں کرسکتی کیونکہ یہ ادارہ میں نے غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے کھولا ہے جنھیں کوئی اس دور میں پوچھتا تک نہیں ہے- آجکل ہر کوئی پیسوں کی لالچ میں پڑا ہے...بہت سے لوگوں کو مجھ سے امیدیں ہیں...میں آپکی بات نہیں مان سکتی-- سوری... وہ ان کو بتا کر اپنے آفس روم چلی گئی تھی اور مسز اقبال اسکی باتوں پر غصہ سے کھولتیں ہوئیں اپنے شوہر کے آفس آپہنچیں-
کیا ہوا بیگم...اتنا غصہ کیوں آرہا ہے آپکو؟ اقبال ملک جو فائل دیکھ رہے تھے...اپنی بیگم سے مخاطب ہوئے-
وہ لڑکی تو بہت شاطر نکلی اقبال...ہم جو چاہ رہے ہیں اسکے لیے وہ لڑکی نہیں مان رہی- ہنہہ بے سہارا عورتوں کی مدد کرنا چاہتی ہے- اب میں اس کے منہ نہیں لگنے والی- جو بات کرنی ہے آپ کریں- مسز اقبال کا دماغ ساتویں آسمان پہ پہنچا ہوا تھا-
کیوں نہیں مان رہی...کڑوڑوں روپے کوئی معمولی رقم نہیں ہے- آجکل تو لوگ اپنے آپ کو بیچ دیتے ہیں پیسوں کیلئے پھر تو وہ عمارت ہے- اقبال کو انکی باتیں سن کر اس لڑکی پر غصہ آگیا-
ہاں ایک دو دن کا شوق ہے اسکا مدد کرنے کا....پھر جب پھنسے گی تو سر پکڑ کر بیٹھی ہوگی-
ٹھیک ہے آپ گھر جائیں...ہم کل خود اس لڑکی سے بات کریں گے ورنہ ہمیں بھی اپنے طریقے استعمال کرنے آتے ہیں...وہ عمارت بہت ہی زبردست اور شاندار جگہ پر بنی ہے- ہمیں اسکو ہر حال میں حاصل کرنا ہے- اقبال ملک اپنے شاطر دماغ سے سوچے جا رہے تھے...وہ تو ابھی بھی نہ جان پائے تھے کہ وہ لڑکی ان سے بھی زیادہ شاطر ہے- جب اس لڑکی نے ایک دفعہ ہی منع کردیا تو وہ دوبارہ کیسے انکی مان جاتی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آج موسم بے حد سرد تھا- وہ شال اوڑھے بالکونی میں کھڑی کافی پی رہی تھی- جبھی اسکا موبائل بج اٹھا- وہ کال اٹھا کر اب موبائل کان سے لگا چکی تھی-
نوری کیا ہوا ہے..کیوں رو رہی ہو؟ نوری بولو...وہ نوری کے رونے سے گھبرا گئی...اسکی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا اعلان کررہی تھی-
باجی...مجھے لے جاؤ...میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے- باجی میری مدد کرو- نوری مسلسل روتے ہوئے بول رہی تھی-
نوری...میں آتی ہوں..رو نہیں...میں آدھے گھنٹے تک آرہی ہوں-  وہ رابطہ منقطع کرکے سوئیٹر پہن کر شال لیے جانے کیلئے تیار تھی پر اسے سمجھ نہیں آئی کہ اسکے گاؤں کیسے جائے...وہ دور تو نہ تھا پر رات کے 1 بجے کوئی سورای ملنا دشوار تھا- وہ باہر آگئی...سٹریٹ لائٹ بھی ایک آدھ جل رہی تھی- وہ چلتی چلتی گلی سے نکل کر اب مین سڑک پر آچکی تھی پر اس ٹھٹرتی سردی میں کوئی سواری ملنا مشکل لگ رہا تھا- اسے آگے ایک پولیس گاڑی کھڑی نظر آئی- وہ بھاگتے ہوئے اس تک پہنچنے ہی والی تھی پر وہ گاڑی چلی گئی....اسے لگ رہا تھا آج وہ نوری کی مدد نہیں کر پائی گی-
اللہ میری مدد کردے تاکہ میں نوری کے پاس پہنچ جاؤں- وہ آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کررہی تھی تب ہی سامنے سے ایک کار آتی نظر آئی- وہ کار کو ہاتھ ہلا کر رکنے کا بول رہی اور  کار اسکے قریب آکر رک چکی تھی-
ہیلو...آپ میری مدد کرسکتی ہیں پلیز- لڑکی کو ﮈرائیونگ کرتا دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا تھا-
جی...کیسی مدد چاہیے آپکو؟ وہ لڑکی اعتماد سے بولی-
مجھے آگے ہی ایک گاؤں ہے وہاں تک جانا ہے....ایک لڑکی مشکل میں ہے اور میں این جی او سے ہو- وہ اسے اپنا تعارف بھی کروانا ضروری سمجھی ورنہ رات کے 1 بجے اس پر کون بھروسہ کرتا-
جی ٹھیک ہے...میں آپکو لے چلتی ہوں- وہ لڑکی این- جی- او کا سن کر فوراً راضی ہوگئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
بھائی میں آپکو بعد میں کال کرتی ہوں ابھی ﮈرائیونگ کررہی ہوں- نورالعین اپنے بھائی سے کال پر بات کررہی تھی-
بھائی آجاؤں گی گھر..آپ فکر مت کریں- سامنے والے کے کہنے پر اسنے جواب دیا تھا-
جی ٹھیک ہے خدا حافظ- وہ رابطہ منقطع کرکے اسکی طرف متوجہ ہوچکی تھی جو اسکے ساتھ بیٹھی تھی-
سوری میں نے اپنا تعارف نہیں کرایا...میرا نام نورالعین ہے اور میں شادی شدہ ہوں...میری ایک پیاری سی بیٹی ہے- اور ایک بھائی ہے بس...شوہر میرے باہر ہوتے ہیں....میں رہتی اپنے سسرال ہی ہوں پر آج بھائی کے پاس رکنے آگئی تھی اسی لیے وہ پریشان ہورہے ہیں اور ابھی میں شاپنگ مال گئی تھی- تب ہی آپ مل گئیں- وہ مہارت سے ﮈرائیونگ کرتے ہوئے بولی جارہی تھی- اور ساتھ لڑکی خاموشی سے اس کو سنی جا رہی تھی-
آپ واپس میرے ساتھ چلیں گی یا وہیں ٹہرنا ہے؟
وہاں پہنچ کر پتہ لگے گا...جس لڑکی کی مدد کرنی ہے اسکا شوہر اسے مارتا تھا اور اب وہ بتا رہی تھی کہ اسے طلاق دے کر گھر سے نکال چکا ہے..میرا جہاں ادارہ ہے وہیں عورتوں کے رہنے کیلئے جگہ بھی بنائی ہوئی ہے ساتھ... تو اگر اسکو لے جانا ہوا تو اسے وہیں رکھوں گی-
تو آپ کے پاس پیسے کہاں سے آتے...مطلب یہ سارا کام کرنا- عورتوں کو کھانا کھلانا انکی ضروریاتِ زندگی وغیرہ کیسے یہ سب ہوتا ہے- نورالعین کو  اسکی باتیں سن کر دلچسپی بڑھ گئی اسی لیے پوچھنے لگی اور وہ خاموش رہ بھی نہیں سکتی تھی- اسکا ہر وقت دل کرتا تھا کہ سب سے باتیں کرے...اسی لیے اسکی دوستیں بھی بہت تھیں-
میرے بابا کا بزنس بھی چل رہا ہے...وہاں کے مینیجر میرے بابا کے دوست تھے...تو اب وہاں سے سارے پیسے مجھے ملتے ہیں اور میں اسی سب پر خرچ کرتی ہوں-
آپ کو اپنے لیے بھی کچھ بچانا چاہیے....برا وقت بتا کر تو نہیں آتا- نورالعین سنجیدگی سے بولی-
ہنہہ شاید اب میرا برا وقت کوئی نہ آئے...جو آنا تھا آچکا....بس یہیں سے ٹرن موڑ لیں- گاڑی گلی میں نہیں جاسکے گی- وہ کہنے کے ساتھ ساتھ راستہ بھی بتانے لگی-
میں آپکے ساتھ چلوں...نورالعین اس کے ساتھ جانا چاہتی تھی-
جی آپکی مرضی...چلنا ہے تو چلیں- وہ دونوں ساتھ ہولیں تھیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ملک صاحب کیسے آنا ہوا آپکا یہاں؟ وہ دونوں ہاتھ ملاتے ہوئے اب آمنے سامنے بیٹھ چکے تھے-
مصطفی بیٹے...آپ تو مجھے اچھے سے جانتے ہیں...بس ایک سلسلے میں آپکی مدد کی ضرورت ہے- اقبال ملک کو جب بھی کوئی کام ہوتا اسی کے پاس دوڑے آتے-
جی اقبال صاحب بتائیے...میں آپکی مدد کو ہر وقت تیار ہوں- مصطفی ٹیلی فون پر کافی مانگوانے کا آرﮈر دے کر ان کی طرف مڑا-
بیٹا وہ در اصل شاہ انڈسٹری میں خریدنا چاہتا ہوں...اس پوری عمارت کا ایک فلور کڑوڑں میں لینا چاہتا ہوں- پر جس لڑکی کی وہ کمپنی ہے وہ لڑکی مان نہیں رہی- تمہاری آنٹی کل اسکے پاس جاچکیں ہیں...اس لڑکی نے اپنے باپ کے بزنس کا بیڑہ غرق کردیا ہے....نیچے پورشن پر بزنس چلارہی ہے اور اوپر کے دو پورشن کو اس نے بے سہارا عورتوں اور اپنے ادراے کیلئے مختص کردیا ہے..- اب بیٹا اسکے باپ کا بزنس تو چل نہیں رہا ہے...ایسے میں وہ بے سہارا عورتوں کی مدد کیسے کرے گی- آپ خود بتاؤ...اس دور میں پیسوں کے بغیر کچھ کبھی ہوا ہے-؟ اقبال صاحب اپنی تقریر جھاڑ کر اب کافی کی طرف متوجہ ہوچکے تھے-
جی ملک صاحب آپ صیح کہ رہے ہیں...پر میں نے کل اخبارا میں دیکھا ہے کہ پاکستان میں شاہ انڈسٹری ٹاپ پر جا رہی ہے اور اب اسلام آباد کے بعد کراچی میں بھی اسکی ایک برانچ اوپن کی جاچکی ہے...تو یہ آپ سے کس نے کہاہے کہ اس لڑکی کے باپ کا بزنس نہیں چل رہا ہے؟ مصطفی ہمدانی روز اخبار پڑھتا تھا....اور یہی بات اقبال ملک نہیں جانتے تھے-
بیٹا مجھے تو تمہاری آنٹی کہ رہیں تھیں اور یہی بات اس لڑکی نے خود کہی- اقبال صاحب گڑبڑاتے ہوئے بولے- انہیں یہاں بھی اپنا کام بنتا نظر نہیں آیا-
پھر وہ لڑکی پاگل ہوگی...جسے یہی نہیں پتہ کہ اسکی اپنی انڈسٹری ٹاپ پر جارہی ہے- مصطفی مسکراتے ہوئے بولا تھا کیونکہ وہ جان چکا تھا اقبال ملک کی یہ اپنی گھڑی ہوئی کہانی ہے-
میں چلتا ہوں بیٹا....خدا حافظ- اقبال ملک فوراً اٹھ کھڑے ہوئے- ان کے جانے بعد مصطفی دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگیا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
باجی باجی...نوری اسے آتا دیکھ کر اسکی طرف لپکی تھی-
باجی اسنے مجھے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور میری بیٹی کو بھی مجھ سے چھین لیا...باجی میں کیسے رہوں گی اسکے بنا-- وہ روتے ہوئے بولی جارہی تھی-
نوری رو مت...کچھ نہیں ملتا ہے رونے سے....مضبوط بنو نوری- وہ اسے سمجھانے لگی-
باجی اگر میری بیٹی نا ہوتی اسکے پاس تو میں خوش ہی ہوتی کہ ایسے شخص سے جان چھوٹ گئی-
چلو آؤ ہم اس سے بات کرتے ہیں اور تمہاری بیٹی لیتے ہیں- وہ اسے ساتھ چلنے کا بولی تھی پر نوری نہ مانی-
نہ باجی ایسا نہ کرنا وہ تو تجھے مار ﮈالنا چاہتا ہے...وہ کہتا جس نے مجھے یہ سب باتیں سکھائیں ہیں وہ اسے مار ﮈالے گا-- نوری اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روک چکی تھی-
نوری تمہاری بیٹی ہے اس شخص کے پاس....پاگل ہو تم- اسے چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہو تم-- اس کو نوری کی باتوں پر غصہ آگیا-
باجی میری بیٹی اپنے باپ سے ہی پیار کرتی ہے...پر اگر اسکے باپ نے آپکو مارﮈالا تو ہم سب کا کیا ہوگا- نوری روتے ہوئے بولی تھی-
ٹھیک ہے پر میں تمہیں تمہاری بیٹی دلوا کر رہوں گی چاہے مجھے عدالت ہی کیوں نہ جانا پڑے- وہ اسے اپنے ساتھ گلے لگاتے ہوئے بولی- وہ لڑکی بہت ہمدرد تھی...کبھی اس نے ان غریبوں اور اپنے آپ میں فرق نہیں کیا تھا- وہ اپنے ادارے میں جو کچھ انکو کھلاتی تھی...وہی سب کچھ خود بھی کھاتی تھی- اسے یہ سب کرکے بہت سکون ملتا تھا- اس لڑکی کا ان بے سہارا عورتوں کے علاوہ کوئی بھی اس دنیا میں نہ تھا- جو تھے وہ سب اس کو بھول کر اپنی زندگی میں مگن ہوچکے تھے اور وہ بھی اپنی ساری زندگی ان بے سہارا عورتوں کیلئے وقف کرچکی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
نورالعین اسے اور نوری کو اسکے گھر تک چھوڑنے آئی تھی- اس نے نورالعین کو رکنے کا بولا پر وہ جا چکی تھی اور اب نوری اور وہ کچن میں رات کے 2 بجے کھانا بنا رہیں تھیں-
باجی یہ لڑکی اچھی لگیں....آپ پر بھروسہ کرکے لے آئیں ورنہ صبح تک میں سردی سے مر چکی ہوتی-
ہاں نوری اللہ نے میری مدد کی- اور اس لڑکی کو بھیجا ورنہ مجھے بھی یہی لگا تھا کہ میں تمہاری مدد نہیں کرپاؤں گی- وہ انڈہ فریج سے نکال کر پھینٹ رہی تھی اور نوری بریڈ گرم کررہی تھی-
باجی میری بیٹی سے وہ بہت پیار کرتا ہے اور میری بیٹی بھی...پر میں بھی اپنی بیٹی کے بغیر نہیں رہ سکتی- نوری کے بیٹی کی ﺫکر پہ آنسو بہہ نکلے-
نوری تم ہمت مت ہارو...اللہ تمہاری مدد کرے گا اس سے مدد مانگو اور پھر میں ہوں نا تمہارے ساتھ- کل ہم پولیس اسٹیشن چلیں گے اور تمہارے شوہر کے خلاف ایف-آئی-آر درج کروائیں گے- پھر تمہاری بیٹی تمہیں مل جائی گی.... فکر نہ کرو بس اللہ سے گلے شکوے نہ کرنا بلکہ اسکی مدد مانگو- وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی اور پھر دونوں کھانا کھاکر خوابوں کی دنیا میں جاچکیں تھیں--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
نورالعین آپ صبح صبح یہاں...خیریت ہے- نورالعین 10 بجے میں ان دونوں کے پاس اسکے گھر پہنچ گئی-
جی وہ میں نے آپ سے ایک بات کرنی تھی..آپ مانیں گی؟
جی بات ماننے والی ہوئی تو ضرور مانوں گی نورالعین...آپ بتائیں کیا بات ہے-
میں آپکے ساتھ مل کر نوری کی مدد کرنا چاہتی ہوں...میرا بھائی پولیس آفیسر ہے- میں ان سے بات کرکے آپکے پاس آئی ہوں- انہوں نے کہا ہے وہ نوری کی مدد کریں گے اور اسکی بیٹی کو اسکے پاس لائیں گے- نورالعین اپنا مؤقف بیان کرچکی تھی-
یہ تو بہت اچھی بات ہے...ہم آج پولیس اسٹیشن جانے والے تھے- پر اب جانا نہیں پڑے گا- نوری دیکھو اللہ نے تمہاری مدد کردی ہے- وہ اب نوری کو بلا رہی تھی جو اپنے کپڑے استری کررہی تھی-
نورالعین باجی آپ...نوری اسے دیکھ کر خوش ہوگئی تھی کیونکہ اسے وہ باتونی لڑکی بہت اچھی لگی تھی جو ہر کسی کے دل میں جگہ بنانا جانتی تھی-
ہاں میں ہوں اور اب ہم سب تمہاری مدد کریں گے- نوری اس معاشرے میں جینے کیلئے مضبوط بننا پڑتا ہے- میری ماں بھی اس دور سے گزر چکی ہے....میں تو اس وقت بہت چھوٹی تھی پر مجھے میری ماما نے سب بتایا تھا...تب بھی وہ اتنے سال ہم بچوں کیلئے جیتی رہیں تھیں- تمہیں بھی اپنی بیٹی کیلئے جینا پڑے گا ورنہ اسکا مستقبل تاریک ہوجائے گا- نورالعین کی باتوں پر نوری کی آنکھیں چمک اٹھیں تھیں- اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس دنیا میں اب بھی اچھے لوگ باقی تھے...اور اگر یہی اچھے لوگ ختم ہوجاتے تو یہ دنیا بھی ختم ہوجاتی-
نورالعین ہم تمہارے بھائی سے کب مل سکتے ہیں اس سلسلے میں....کیونکہ نوری جلد از جلد اپنی بچی لینا چاہتی ہے-
آج ہی مل لیں...ابھی بول دوں بھائی کو یا شام کو ملیں گی- نورالعین کو بھی جلدی پڑی تھی کیونکہ اس نے کل اپنے سسرال واپس چلے جانا تھا-
نوری تم بتاؤ...وہ اب نوری سے پوچھ رہی تھی-
ابھی مل لیتے ہیں باجی- شام کو پھر آپکو جانا بھی ہے-
ٹھیک ہے اپنے بھائی سے آپ پوچھ لیں کہاں مل سکتے ہیں- اسنے کچھ سوچتے ہوئے نورالعین کو ہاں بول دیا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
نورالعین اپنے بھائی کو اسکے گھر بلا چکی تھی اور اب وہ تینوں لاؤنج میں بیٹھیں باتیں کر رہیں تھیں- انکو بیٹھے کافی وقت گزر چکا تھا پر نورالعین کا بھائی نہیں آیا تھا-
نورالعین آپ نے صیح ایڈریس بتایا تھا گھر کا؟
جی ہمارا گھر بھی مین روﮈ سے آگے ہی ہے- وہ سمجھ گئے تھے-
میں جب تک چائے بنالاتی ہوں تم دونوں باتیں کرو اور اگر دروازہ بجے تو کھول دینا- وہ ان دونوں کو ہدایت دے کر کچن میں جا چکی-
باجی آپکے ایک ہی بھائی ہیں-
ہاں بس ایک ہی بھائی ہے جو ابھی آرہا ہوگا- نورالعین ہنستے ہوئے بولی-
شاید آگئے...گاڑی کی آواز تو آئی ہے- چلو باہر چل کر دیکھتے ہیں- وہ دونوں لاؤنج سے اب باہر گیٹ کی طرف آچکیں تھیں- نورالعین نے گیٹ کھولا-
بھائی شکر آپ آگئے...ہم تھک گئے تھے آپکا انتظار کرتے کرتے--
اچھا...سوری میری بہنا--وہ اپنی بہن کے سر پہ چپت مارتے ہوئے بولا-
نوری یہ ہیں میرے بھائی اور بھائی یہ نوری ہیں جنکی بیٹی آپ نے واپس لانی ہے- نورالعین دونوں کا تعارف کروا رہی تھی-
جی ضرور میں آپکی بیٹی کو واپس لاؤں گا...بس آپ نے اللہ سے ہر وقت اپنی مدد کی دعا مانگنی ہے- وہ اب ان دونوں کے ساتھ چلتا لاؤنج میں آچکا تھا-
جی ضرور...آپ بیٹھیں میں باجی کو بلا کر لاتی ہوں- نوری کچن کی طرف بھاگ گئی تھی-
کیا ہوا نوری؟ اتنا بوکھلائی ہوی کیوں ہو- وہ چائے کپوں میں ﮈال رہی تھی-
وہ باجی نورالعین باجی کے بھائی آگئے ہیں اور ان کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ شہزادے ہیں- نوری بولتی ہی چلی گئی تھی-
اچھا زیادہ باتیں نہ بناؤ...یہ ٹرے اٹھاؤ اور لے جاؤ- میں چائے لے کر آتی ہوں- نوری اسکے کہنے پر کھانے کی ٹرے اٹھا کر جا چکی تھی اور وہ بھی اپنا ﮈوپٹہ سر پر پھیلاتے ہوئے کچن سے باہر آگئی تھی-
باجی آگئیں...نوری کے بولنے پر وہ پیچھے مڑا تھا اور نظریں جھپکانا بھول گیا تھا- کچن سے آتی وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی-- اسے دیکھتے ہی چائے کی ٹرے اسکے ہاتھ سے گر زمین بوس ہوچکی تھی- اور گرم چائے اسکے پاؤں کو جھلسا گئی تھی پر اسے ﺫرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا-
انسپکٹر مصطفی ہمدانی......اس کے منہ سے نفرت بھرے انداز میں یہ نام ہی ادا ہو پایا تھا- مصطفی اسکے پیروں پہ چائے گرتے دیکھ فوراً آگے بڑھا پر وہ اسکے آنے سے پہلے ہی منہ پر ہاتھ رکھے روتے ہوئے اپنے کمرے میں جاچکی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل مری کی وادیوں کو ہمیشہ چھوڑ کر جاچکی تھی- اسے اب پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی گنوارا نہ تھا کیوں کہ پیچھے کچھ بھی باقی نہ بچا تھا...سب جل کر راکھ ہوگیا تھا اور راکھ کرنے والا مصطفی ہمدانی تھا جو اسکی زندگی کا پہلا اور آخری مرد تھا جس سے وہ بے انتہا نفرت کرتی تھی- وہ مری سے اسلام آباد کا سفر بس سے طے کرکے آئی تھی- اسے اسلام آباد اپنے باپ کے گھر جانا تھا جو اسکے لیے واحد سر چھپانے کی جگہ بچا تھا-
وہ اس گھر آچکی تھی- اور اپنی آنے والی زندگی کا سوچ رہی تھی- اسکے باپ کی ایک انڈسٹری تھی جو بلکل ختم ہوچکی تھی- اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے...کیسے اپنا پیٹ بھرے- اسکے پاس صرف اتنے پیسے تھے کہ وہ پورا مہینہ  روٹی لیکر کھا سکتی تھی- اور اسنے پورا مہینہ اسی پہ گزارا کیا تھا- وہ روز صبح اپنے باپ کی انڈسٹری جاتی تھی اور اپنے باپ کے ایک واحد دوست سے ملتی تھی جو اسکی مدد کرنے کو تیار تھے کیونکہ وہ اسکے باپ کے احسان مند تھے-
سجل نے چھ مہینے لگا کر اس پوری عمارت کو تبدیل کروا دیا تھا- نیچے کا سارا پورشن شاہ انڈسٹری کیلئے تھا اور اوپر کے دو پورشن میں وہ بے سہارا عورتوں کیلئے ادارہ کھول چکی تھی- اسکے باپ کے دوست کو اس نے انڈسٹری کا ہیڈ بنادیا تھا- وہ انڈسٹری کو صبح10 سے 11 اور رات کو 8 سے 9 کے وقت دیکھتی تھی- اسے بزنس میں کبھی انٹرسٹ نہیں تھا...بس وہ ساری ﮈیٹیلز چیک کرتی اور اپنا ادارہ چلاتی تھی جسکی وجہ سے اسکی انڈسٹری کو بھی کافی منافع ہوا تھا...اور ایک سال بعد اسکی محنت رنگ لائی تھی- شاہ انڈسٹری کا نام پاکستانی انڈسٹریس میں ٹاپ پر تھا..اور اسکی ایک برانچ کراچی میں بھی کھولی جا چکی تھی- اسنے یہ سب اپنے اللہ پر یقین رکھتے اور اس سے مدد مانگتے ہوئے شروع کیا تھا- اور آج وہ اس ایک اللہ کی شکر گزار بندی تھی- اس پورے سال میں اسنے کئی بار مصطفی سے نفرت کی تھی اور کئی بار اسے لگا تھا کہ اسے مصطفی ہمدانی سے محبت ہوچکی ہے- وہ جب اس سے پہلی بار کے ملنے کا سوچتی تھی تو خوش ہوجاتی تھی...پر جب اسے اسکی زہر میں ﮈوبی باتیں یاد آتیں تھی تو اسے نفرت ہونے لگتی تھی- وہ اب ﮈائری لکھنا بھی چھوڑ چکی تھی کیونکہ اسکی پرانی ﮈائری اب تک نہیں ملی تھی-
وہ نہیں جانتی تھی کہ نورالعین اسکی بہن تھی...اور اب وہ بیٹھی اس وقت کو کوس رہی تھی کہ اس نے اسکے بھائی کا نام کیوں نہ پوچھا اور ایک انجان شخص کو گھر پر بلانے کیلئے راضی کیسے ہوگئی- وہ اسکو دیکھ کر اپنا جلتا پیر بھی بھول چکی تھی...جس شخص سے وہ نفرت کرتی تھی...جس شخص کو زندگی بھر دیکھنا نہ چاہتی تھی- آج تقدیر نے اسے اسی شخص سے واپس ملا دیاتھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مسٹر اینڈ مسز اقبال ملک میں آپ لوگوں کو ایک دفعہ صاف الفاظوں میں بتا چکی ہوں کہ میں یہ پوری عمارت دور کی بات صرف شاہ انڈسٹری  بھی آپکو بیچنا نہیں چاہتی ہوں- چاہے آپ میری جان ہی کیوں نہ لے لیں- یہ پوری عمارت میرے مرنے کے بعد غریبوں اور بے سہارا لوگوں کیلئے ہی چلے گی-- اب آپ لوگ جاسکتے ہیں- وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی اور اتنی عزت افزائی پر اقبال ملک طیش میں آگئے-
ہنہہ جانتی نہیں ہو تم مجھے لڑکی...اقبال ملک کو نا کرکے تم نے اچھا نہیں کیا...انکی مسز ان کا ہاتھ کھینچ کر باہر لے گئیں- اور وہ سر تھام کر وہیں کرسی پر بیٹھ گئی- پہلے وہ مصطفی ہمدانی کے چکر سے نہیں نکل پارہی تھی اور اب ایک دوسری آفت اسکے سر پہ کھڑی تھی-
باجی...میری بیٹی مجھے واپس مل گئی ہے- نوری خوشی خوشی اسکو بتانے آئی تھی ساتھ نورالعین بھی تھی-
بہت مبارک ہو نوری...میں گھر جارہی ہوں- تم چلو گی؟ سجل نورالعین کو نظر انداز کرتے ہوئے باہر جانے لگی-
نہیں باجی...اب میں یہیں رہوں گی...آپ جائیں آرام کریں خدا حافظ- نوری کے کہنے کے ساتھ ہی وہ باہر نکل گئی- نورالعین جانتی تھی کہ وہ کیوں اس سے بات نہیں کررہی-
وہ باہر مین روﮈ پر کھڑی ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی جب پیچھے سے نورالعین آئی تھی-
سجل آپ کو ہم چھوڑ دیتے ہیں- مجھے آپ سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے- نورالعین گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی جہاں مصطفی ہمدانی اسکے انتظار میں کھڑا اسکی باتیں سن چکا تھا-
مجھے آپکی کوئی بات نہیں سننی..نہ ہی آپکی مدد کی ضرورت ہے- ہاں آپکے بھائی نے نوری کی مدد کی اسکے لیے شکریہ کے علاوہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتی خدا حافظ- وہ کہ کر مصطفی ہمدانی کے سائیڈ سے گزر کر جاچکی تھی-
بھائی وہ آپکو.... نورالعین کی بات ادھوری رہ گئی-
سن لیا ہے...چلیں گھر..تم نے جانا بھی ہے- وہ اسکی بات کاٹ کر بولا-
جی..وہ دونوں بھی اپنی گاڑی میں

ہیلو انسپکٹر مصطفی ہمدانی...کیسے ہیں آپ؟ وہ بیکری میں سوئیٹس لینے آیا تھا...اور ماریہ اقبال اسے دیکھ چکی تھی- اسی لیے اسکی طرف چلی آئی-
ٹھیک ہوں آپ سنائیں اور آپکے والد صاحب کیسے ہیں؟ مصطفی زبردستی کی مسکراہٹ سجائے بول رہا تھا-
ٹھیک ہیں...بس کچھ پریشان ہیں- آپکو بتایا بھی تھا انھوں نے-
کیا بتایا تھا؟ وہ انجان بنتے ہوئے بولا-
یہی کہ وہ شاہ انڈسٹری لینا چاہ رہے ہیں پر وہ لڑکی بیچنے کیلئے نہیں مان رہی تو اب....ماریہ نے بات ادھوری چھوڑی-
تو کیا؟؟ مصطفی ہمدانی کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا جبھی فوراً بولا-
نہیں کچھ نہیں..میں چلتی ہوں- پھر ملاقت ہوگی- بائے....وہ اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر فوراً جا چکی- اور سجل ان دونوں کو ساتھ دیکھ چکی تھی- وہ ماریہ کو نہیں جانتی تھی اور نہ ہی اسنے انکی باتیں سنی تھیں- اسے بس مصطفی ہمدانی کو دیکھ کر نفرت ہوئی تھی اور وہ اب سمجھی کہ مصطفی ہمدانی ہر لڑکی کے ساتھ پہلے ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے اور پھر اسکی ساری زندگی کانٹوں سے بھردیتا ہے-
وہ سوچتے ہوئے باہر نکلی تھی جب مصطفی اسے دیکھ چکا تھا- وہ فوراً گاڑی سے اتر کر اسکے پاس چلا آیا-
سجل مجھے تم سے بات کرنی ہے- مصطفی ہمدانی اسکے راستے میں آگیا- اور آج پورے ایک سال بعد اس سے مخاطب ہوا تھا-
اچھا...انسپکٹر مصطفی ہمدانی اب بھی کوئی بات رہ گئی ہے تمہاری- وہ طنزیہ انداز میں بولی-
ہاں سجل میں بہت....
بس بہت ہوگیا مصطفی ہمدانی...اب میں تمہاری کسی باتوں میں نہیں آنے والی کیونکہ تم ایک گھٹیا انسان ہو- لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کر ان سے باہر ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہو اور پھر انکو ساری دنیا کے سامنے بدنام کردیتے ہو- دیکھ لو میں پہلی لڑکی ہوں جو بدنام ہونے کے بجائے آج شہرت کی بلندیوں پر پہنچی ہوئی ہوں- وہ اسے طیش دلا کر خود بول کر چلی گئی- اور مصطفی ہمدانی اپنی مٹھیاں بھینچتا گاڑی میں آبیٹھا تھا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
بھائی آپ اس سے بات کیوں نہیں کرتے ہیں- وہ تو اب تک کچھ جانتی ہی نہیں ہے-- نورالعین آج پھر اپنے بھائی کے پاس چلی آئی...
وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہتی سننا دور کی بات ہے نور...اور کون لڑکی ایسے شخص سے بات کرنا پسند کرے گی جس نے اسکی زندگی برباد کردی ہو- مصطفی ہمدانی نورالعین کو سب کچھ بتا چکاتھا- اسی لیے بے جھجک اپنی بہن سے بات کر رہا تھا-
آپ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے بھائی- وہ آج بھی پاکیزہ لڑکی ہے...آپ نے صرف بابا کا انتقام لیا ہے-
ہاں وہ پاکیزہ لڑکی ہے نور لیکن صرف ہم دونوں کی نظر میں...باقی ساری دنیا کے سامنے وہ میری بیوی بن کر یہاں آئی تھی- اور بابا کے انتقام میں اب میں خود جل رہا ہوں...اس نے مجھے کہا تھا کہ میں اس کو ساری زندگی نہیں بھول پاؤں گا اور ایسا ہی ہوگیا ہے-
بھائی آپ ٹینشن نہ لیں...سب ٹھیک ہوجائے گا- اللہ بہتر کرے گا- نورالعین اسے دلاسہ دے رہی تھی-
میری راتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے...ساری رات اسی کو سوچتے گزادیتا ہوں پر وہ اب تک مجھ سے نفرت کرتی ہے- مصطفی اپنا سر دباتے ہوئے بولا-
تبھی تو کہہ رہی ہوں اس سے بات کریں...ایسا کریں آپ اسکے گھر چلیں جائیں- شاید وہ آپکی بات سن لے- نورالعین مشورے دے رہی تھی اور مصطفی ہمدانی نے کچھ سوچ کر سر اثبات میں ہلا دیا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل باجی وہ آدمی آج بھی آیا تھا...انور صاحب نے اسے بھگا دیا- نوری اسکے باپ کے دوست اور انڈسٹری کے ہیڈ کا نام لیتے ہوئے بولی-
کون...کون آیا تھا ؟ سجل کو لگا تھا کہ مصطفی آیا تھا- اسکی راتوں کی نیند اور دن کا چین اڑ چکا تھا- اسے ہر وقت یہی لگتا تھا کہ مصطفی اسکا آفس اور گھر دیکھ چکا ہے تو واپس آکر اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جائے گا-
باجی وہ کل صاحب جو آپکے پاس آئے تھے...نام مجھے نہیں یاد ہے- نوری کی بات پہ وہ سر تھام کر بیٹھ گئی....اقبال ملک اسکی جان نہیں چھوڑ رہا تھا اور دوسری طرف وہ مصطفی ہمدانی کی وجہ سے ٹینشن میں تھی...اسی سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے- ہر طرف اسکے لیے مسائل کھڑے تھے-
باجی آپ نورالعین باجی کے بھائی سے بات کریں...وہ آپکی مدد کریں گے اور اس بڈھے کو عقل دلائیں گے جیسے میرے شوہر کو پیٹ پیٹ کر اسکا بوتھا ہی ٹھکانے لگا دیا- وہ اسے مشوروں سے نواز رہی تھی...اگر وہ جانتی ہوتی کہ سجل شاہ کا سب سے بڑا دشمن ہی مصطفی ہمدانی ہے تو کبھی یہ بات اسکے سامنے نہ کرتی-
مجھے کسی کی مدد نہیں چاہیے نوری..جاؤ تم اپنی بیٹی کو لے کر آؤ سکول سے-- وہ اسے جانے کا کہ کر خود نیچے انڈسٹری میں آگئی-
انور انکل میں اس شخص اقبال ملک کا کیا کروں...جان نہیں چھوڑ رہا ہے- وہ اپنے باپ کے دوست کے پاس آگئی تھی جو فائل دیکھنے میں مصروف تھے-
ہاں بیٹا..وہ دھمکیاں دے کر گیا ہے- انور صاحب بھی پریشان تھے-
کیسی دھمکیاں انکل؟؟
یہی کہ وہ کچھ بھی کرے گا اس کمپنی کو حاصل کرنے کیلئے اور بتارہا تھا کہ وہ انسپکٹر مصطفی ہمدانی سے بھی مدد لے گا...وہ ہمیشہ سے انکی مدد کرتا آیا ہے اور بیٹا آپ تو جانتی ہیں کہ انسپکٹر مصطفی ہمدانی کوئی عام شخصیت نہیں ہے- وہ تو بڑے سے بڑے آدمی اور دشمنوں کو عدالتوں میں گھسیٹتا آیا ہے اور ہم عام لوگ کبھی بھی اسکا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں- سجل کو انکی بات سن کر دھچکا لگا تھا-
تو مطلب اب یہ شخص مجھے ایسے برباد کرے گا- وہ سوچتے ہوئے واپس اوپر چلی آئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اقبال صاحب کیا بات ہے؟ کھانا بھی نہیں کھایا آپ نے....مسز اقبال انکے پاس آکر دودھ کا گلاس دیتی ہوئیں بولیں-
میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سا پریشان ہوں....اس لڑکی نے تو قسم کھا لی ہے اپنی انڈسٹری نہ دینے کی اور یہ مصطفی بھی اب کہیں نہیں ملتا ہے- اقبال صاحب غصے سے بولے-
چھوڑیں نا آپ اس انڈسٹری کو اور بھی بہت جگہیں ہیں جہاں آپ اپنی کمپنی کھول سکتے ہیں- مسز اقبال انکو سمجھارہی تھیں-
آپ کچھ نہیں جانتی ہیں ورنہ یہ بات کبھی نہ کہتیں- شاہ انڈسٹری کی عمارت جس جگہ کھڑی ہے وہ بہت شاندار جگہ ہے اور وہ عمارت بہت اچھی بنائی ہے اس لڑکی نے 6 مہینے میں...جو کام ہمارے ورکرز دو ، تین سالوں میں کرسکتے ہیں وہی کام اس لڑکی نے دن رات کرکے 6 مہینے میں کروایا ہے-
اوہ اب مجھے سمجھ آیا کہ کیوں آپ پیچھے پڑے ہیں اس جگہ کے- تبھی آپ ایک فلور بھی لینے کیلئے تیار ہیں-
جی بلکل پر وہ لڑکی مان نہیں رہی ہے- ٹھیک ہے نا مانے...ہمارا نام بھی اقبال ملک ہے...گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے- اقبال ملک مسکراتے ہوئے بولے تھے اور مسز اقبال انکو نا سمجھی سے دیکھنے لگیں-
کیا مطلب آپکا؟ آپ اس لڑکی کے ساتھ زبردستی کریں گے--
ہاں یہی سمجھ لو بیگم....اقبال صاحب کھڑے ہو کر کمرے سے جاچکے تھے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آج موسم بے حد سرد تھا..وہ کمبل میں دبکے آفس فائلیں دیکھ رہی تھی جب ہی ﮈور بیل بجی-
اس وقت کون ہوسکتا ہے؟ وہ گھڑی کی طرف دیکھ کر خود سے بولی- رات کے 12 بجے کون آسکتا ہے- وہ سوچتی ہوئی اٹھی اور شال اچھی طرح سے لپیٹ کر باہر آگئی-
کون ہے...اس نے دروازہ کھولنے سے پہلے احتیاطاً پوچھ لیا پر باہر سے کوئی آواز نہ آئی-
کون ہے؟؟ اس نے دوبارہ پوچھا پر کسی نے کوئی جواب نہ دیا-
وہ اب دروزے کے درمیانی سراخ میں سے دیکھنے لگی پر اسے کوئی نہ نظر آیا- اسے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا کہ گارﮈ کو کیوں اس نے بھاگا دیا تھا-
وہ واپس مڑنے لگی تبھی دوبارہ ﮈور بیل بجی...اس نے غصے میں آکر دروازہ کھول دیا پر سامنے کھڑی ہستی اسکے ہوش اڑانے کیلئے کافی تھی-
میں ہوں انسپکٹر مصطفی ہمدانی-- یاد ہوں نا سجل شاہ- وہ اندر آچکا تھا اور سجل کے اتنی سردی کے باوجود پسینے چھوٹ گئے-
اتنے پسینے تو تمہیں اپنے گھر سے میرے ساتھ جاتے ہوئے بھی نہیں آئے تھے پر اب کیوں آرہے ہیں-- مصطفی ہمدانی دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور سجل کا دل سچ میں جل کر راکھ ہوگیا-
کیوں آئے ہو تم یہاں....کس حیثیت سے...کرنا تھا نا بدنام مجھے-- اب کردیا ہے تو دفعہ کیوں نہیں ہوجاتے تم میری زندگی سے مصطفی ہمدانی-- وہ گلہ پھاڑ کر چیخی-
آہستہ بولو سجل..ورنہ میرا ہاتھ اٹھ سکتا ہے- مصطفی کو اسکے چیخنے پر غصہ آگیا- وہ اسکا ہاتھ دبوچ کر اسے لاؤنج میں لے آیا-
میرے گھر میں اب تم میرے ساتھ ہی زبردستی کروگے مصطفی ہمدانی- سجل کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا-
سجل میں صرف بات کرنے آیا ہوں تم سے...تم کیا آدھا گھنٹہ بیٹھ کر تحمل سے میری بات نہیں سن سکتی ہو- مصطفی اب اپنے غصے پر قابو رکھتے ہوئے بولا-
بلکل بھی نہیں مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی اور تم کہ رہے ہو کہ آدھا گھنٹہ بیٹھ کر تحمل سے تمہاری باتیں سن لوں- وہ طنزاً بولی-
 سجل پلیز..... وہ التجائیہ انداز میں بولا-
مصطفی ہمدانی اگر تم میرے گھر سے نہ گئے تو میں پولیس کو کال کردوں گی...پھر تمہارا ہی کردار مشکوک ہوجائےگا...جس سے مجھے بلکل بھی فرق نہیں پڑے گا- وہ موبائل ہاتھ میں لے کر اب نمبر ﮈائل کرنے لگی تھی-
ٹھیک ہے ....میں جا رہا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں اس گھر سے ہمیشہ کیلئے رخصت کرکے لے جاؤں گا....خدا حافظ- وہ کہ کر جا چکا تھا اور سجل اسکے الفاظوں پر غور کرتی سر تھام کر بیٹھ گئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
جی کہیے اقبال صاحب کس سلسلے میں آپ نے مجھے یہاں بلوایا ہے؟ مصطفی ہمدانی انکے بلوانے پر کافی شاپ میں اب انکے ساتھ بیٹھا تھا-
مصطفی بیٹا آپ میری مدد کریں گے؟ اقبال ملک اصل موضوع کی طرف آچکے تھے-
جی ضرور کہیے کیسی مدد چاہیے آپکو؟ مصطفی نا سمجھی سے انکی طرف دیکھتے ہوئے بولا-
بیٹا میں آپ سے شاہ انڈسٹری کے بارے میں پہلے بھی بات کرچکا ہوں- وہ انڈسٹری جس لڑکی کی ہے وہ خود اس کو نہیں چلا رہی ہے بلکہ اسکے باپ کا دوست چلا رہا ہے اور اس نے مجھ سے ایک ہفتے پہلے ایڈوانس پیسے لے لیے تھے پر اب وہ مکر رہا ہے- میرے کہنے پر پیسے بھی واپس نہیں دے رہا اور نہ ہی انڈسٹری میرے حوالے کررہا ہے- اقبال ملک اپنی چال چل چکے تھے اور اب آگے کا کام انھوں نے مصطفی ہمدانی پر تھوپ دیا-
اقبال صاحب کوئی ایسے کیسے کرسکتا ہے- آپ نے اس لڑکی سے بات کی کہ وہ آدمی آپکے پیسے لے چکا ہے اور آپکو دے نہیں رہا ہے- مصطفی ہمدانی جانتا تھا کہ وہ انڈسٹری کس کی ہے...پر اقبال ملک کے سامنے انجان بن گیا-
اس لڑکی کا کہنا ہے کہ میں جھوٹا ہوں- اس نے مجھے اپنے سارے ورکرز کے سامنے بے عزت کرکے نکلوایا تھا....اسکے بعد دوبارہ جانے کی ہمت نہ ہوئی- اسی لیے میں نے تم سے مدد مانگی ہے-
جی میں ضرور کروں گا آپکی مدد...چلیں ابھی میرے ساتھ- اسی وقت ان سے بات کرتے ہیں- انسپکٹر مصطفی ہمدانی کھڑا ہوچکا تھا...اقبال ملک کو اپنا منصوبہ کامیاب ہوتا دکھائی دینے لگا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آپ دوبارہ کس لیے آئے ہیں...آپکو ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ مجھے یہ انڈسٹری نہیں بیچنی ہے- سجل انور صاحب کے بلانے پر نیچی آئی تھی جبھی اقبال ملک دوبارہ آگئے....لیکن اکیلے نہیں ان کے ساتھ انسپکٹر مصطفی ہمدانی بھی تھا پر وہ پہلے باہر کھڑا انکی باتیں سننا چاہتا تھا-
بیٹی آپ غصہ کیوں ہورہی ہیں..میں اپنے پیسے لینے آیا ہوں- اقبال صاحب جانتے تھے مصطفی ہمدانی باہر کھڑا ہے تبھی اپنے لہجے کو پیار میں سموتے ہوئے بولے-
کونسے پیسے اقبال صاحب...آپکا دماغ تو نہیں چل گیا ہے- سجل کو انکی باتوں پر غصہ آگیا-
وہی پیسے جو انور صاحب مجھ سے لے چکے ہیں- اور یہ بات آپ بھی اچھے سے جانتی ہیں...انجان مت بنیں- اقبال ملک انور صاحب کی طرف اشارہ کرکے بولے جو چپ چاپ بیٹھے تھے-
بکواس بند کریں...آپ جھوٹ بول کر کیا سمجھتے ہیں کہ ہم سے ہماری انڈسٹری چھین لیں گے تو یہ ناممکن ہے...میں اگر اسے بیچنا چاہوں بھی تو آپ جیسے شخص کو کبھی نہیں بیچوں گی اور نہ ہی اتنی گڑی ہوی ہوں کہ آپ کے پیسے لوٹ کر کھا جاؤں- سجل غصے سے بولتی چلی گئی- تب ہی مصطفی اندر چلا آیا اور سجل اسکو دیکھ کر اپنے حوش و حواس کھونے لگی تھی پر اسے اپنے آپ پر قابو رکھنا پڑا...آج وہ اگر اس شخص کے سامنے کمزور پڑ جاتی تو کبھی اٹھ نہ پاتی-
انور صاحب جائیے کافی اور سنیکس کا انتظام کیجئے...آج انسپکٹر مصطفی ہمدانی خود چل کر آئے ہیں- سجل ہیڈ کی کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے بولی اور مصطفی جو سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر چیخے گی..چلائے گی- پر وہ تو بلکل نارمل تھی جیسے پچھلے کئی سالوں میں ان کے درمیان کچھ بھی نہ ہوا ہو-
تشریف رکھیے انسپکٹر مصطفی ہمدانی...آپکا کیسے آنا ہوا- اسکے اعتماد کے آگے مصطفی کو اپنا اعتماد کمزور پڑتا محسوس ہوا-
میں انکے ساتھ آیا ہوں- اقبال صاحب کا کہنا ہے کہ آپ انکے پیسے لے کر ان سے وعدے کرچکی ہیں کہ یہ انڈسٹری انکو دے دیں گی اور اب نہ انکو پیسے واپس دے رہی ہیں اور نہ ہی یہ انڈسٹری انکے نام کر رہی ہیں-
اوہ...چلیں میں مانتی ہوں کہ میں نے ایسا کیا ہے تو آپ بتائیں کیا ثبوت ہیں آپکے پاس کہ میں نے ان سے ایسا معاہدہ کیا ہے اور اب میں اپنے معاہدے سے مکر رہی ہوں- سجل بہت ﺫہین تھی اور یہ بات مصطفی ہمدانی کو آج پتہ لگی تھی...یہی ﺫہانت اور اسکا کانفیڈنٹ اسے یہاں تک لے آیا تھا ورنہ کوئی لڑکی اپنے ساتھ اتنا برا ہونے کے بعد بھی اتنی بہادر نہ ہوسکتی تھی جتنی سجل تھی- آج مصطفی ہمدانی کو اپنی محبت پر رشک آرہا تھا- اس نے اپنی 28 سالہ زندگی میں ایسی لڑکی نہ دیکھی تھی-
اقبال صاحب آپ معاہدہ نامہ دکھائیں جو آپ نے اس لڑکی کے ساتھ کیا تھا- مصطفی اب اقبال ملک کی طرف مڑا تھا جن کے چہرے پہ ہوائیاں اڑی ہوی تھیں-
مصطفی بیٹا جس نے پیسے کھانے ہو وہ معاہدہ نامہ نہیں بناتے ہیں- اقبال ملک بمشکل بولے پر انکی بات سجل سن چکی تھی-
اچھا...اقبال ملک صاحب آپ جب اس انڈسٹری کے کڑوڑوں پیسے دے رہے تھے اس وقت آپکی عقل نہیں چلی تھی کہ آپ معاہدہ نامہ بنوا لیتے- یا یوں کہیے کہ جھوٹے لوگ صرف جھوٹ بول سکتے ہیں ہر چیزکو نہیں سوچ سکتے- وہ استہزایہ انداز میں ہنستے ہوئے بولی-
انسپکٹر مصطفی ہمدانی آپکی ﺫہانت کے تو چڑچے ہیں...انکی بات سنتے وقت آپکی ﺫہانت گھاس چڑھنے گئی تھی- سجل اب اسکی طرف مڑی-
ہاں شاید چڑھنے گئی تھی تبھی میں ان سے پوچھنا بھول گیا...خیر آپکا وقت ضائع کیا اس کیلئے معذرت- اب مجھے اجازت دیجئیے- مصطفی ہمدانی اٹھ کھڑا ہوا تھا-
اوہ ہو میرا وقت کے ساتھ ساتھ آپ پیسے بھی ضائع کرکے جارہے ہیں- میں محنت سے کماتی ہوں اسلیے آپ دونوں کھا کر جائیں پلیز...وہ خود اٹھ چکی تھی اور انور صاحب اسکی کرسی پر آکر بیٹھ گئے-
کھا کر جائیں پلیز اقبال صاحب اور آپ بھی انسپکٹر مصطفی ہمدانی کیونکہ آپ پہلی دفعہ میرے آفس آئے ہیں...اور مجھے اچھا نہیں لگے گا آپکو ایسا جاتا دیکھ کر- وہ مصطفی ہمدانی کے روبرو آکر کھڑے ہوکر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی- اور مڑ کر آفس سے نکلتی چلی گئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اقبال صاحب آپکو جھوٹ بولتے ہوئے ﺫرہ برابر بھی شرم نہ آئی....اب میں آئندہ آپکی کوئی مدد نہیں کروں گا اور اگر آپ نے اب اس لڑکی کو تنگ کیا تو میں اسکی مدد کرنے کیلئے کھڑا ہوں گا- ویسے تو اس جیسی لڑکی کو میری مدد کی بھی ضرورت نہیں ہے...آج سے آپکی میں کبھی بھی مدد نہیں کروں گا خدا حافظ- وہ انکو سنا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جاچکا تھا اور اقبال ملک کو اپنے پلان کی ناکامی پر غصہ آرہا تھا- اب انکے پاس انسپکٹر مصطفی ہمدانی بھی نہیں رہا جو انکی مدد کرسکتا- انھوں نے خود اپنے پیروں پر کھلاڑی ماری تھی- اب انہیں ہر ایک ایک چیز کو ﺫہن میں رکھ کر منصوبہ بنانا تھا ورنہ وہ کبھی بھی یہ انڈسٹری حاصل نہ کرپاتے- وہ رشک بھری نظروں سے اس عمارت کو دیکھ کر جا چکے تھے کیونکہ انھوں نے اپنا منصوبہ جلد ہی پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اسلام علیکم... کیسی ہیں آپ؟ سجل نے آج کافی دنوں بعد نورالعین کو کال کی تھی- اسے مصطفی ہمدانی کی وجہ سے اسکے ساتھ برا بی-ہیو کرکے بہت افسوس ہورہا تھا اسی لیے اسنے معافی مانگنے کیلئے کال کی-
وعلیکم اسلام..میں ٹھیک ہوں سجل- آپ کیسی ہیں- دوسری طرف نورالعین حیران تھی کہ سجل نے اسکو کال کی ہے-
میں بھی ٹھیک ہوں نورالعین.... میں نے آپ سے بہت برا بی- ہیو کیا پلیز مجھے معاف کردیجئے گا- وہ اس سے معافی مانگ رہی تھی-
نہیں اٹس اوکے سجل- آپکا یہ سلوک بنتا تھا کیونکہ میں آپکے گناہ گار کی بہن ہوں- اب بھی آپکا ظرف بڑا ہے کہ آپ نے مجھ سے کال کرکے معافی مانگی ورنہ آپکی جگہ کوئی اور ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا- نورالعین مسکراتے ہوئے بولی-
معافی مانگنی اور معاف کرنے سے کسی کی عزت میں کوئی فرق نہیں آجاتا ہے- اسیلیے میں نے آپ سے معافی مانگ لی اور دیکھ لیں میری عزت میں کوئی فرق نہیں آیا-
ٹھیک ہے پھر اسی خوشی میں آپ اور نوری میری بیٹی کی سالگرہ پر آرہی ہیں- نورالعین اسے دعوت دے رہی تھی-
نہیں نورالعین... نوری آجائی گی پر میں نہیں آسکوں گی- سجل مصطفی ہمدانی کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی تھی اسیلیے جانا بھی نہیں چاہتی تھی-
پلیز سجل میری خاطر...میں آپکے کہنے پر کسی ہوٹل میں پارٹی رکھ لوں گی پر پلیز آپکو آنا پڑے گا- نورالعین منت بھرے لہجے میں بولی تو وہ مان گئی تھی-
ٹھیک ہے...کب ہے سالگرہ-
پرسوں ہے...میں آپکو ہوٹل کا نام اور ٹائمنگ میسج کردوں گی- پلیز ضرور آئیے گا-
جی ضرور..خدا حافظ- نورالعین نے بھی رابطہ منقطع کردیا- اب وہ مصطفی ہمدانی کو کال کرنے لگی-
کیا ہے...کیوں کال کی ہے اتنی رات کو؟ مصطفی ہمدانی جو سٹڈی میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا- نورالعین کی کال آتے دیکھ کر فوراً اٹھا کر بولا-
ہنہہ بنیں مت...سچ سچ بتائیں کیا بات ہوئی تھی سجل سے...جو اس نے آج مجھے کال کی- نورالعین سمجھی تھی مصطفی ہمدانی اور اسکے بیچ سب کچھ اب ٹھیک ہوچکا ہے-
کیا مطلب؟ کونسی بات ہوئی ہے ہم دونوں کے بیچ- مصطفی ناسمجھی سے بولا-
وہی جو آپ اس سے کرنے والے تھے- تبھی تو آج سجل نے مجھ سے معافی مانگی ہے- نورالعین حیرانگی سے بولی-
کوئی بات نہیں ہوئی ہے نور...کیوں آدھی رات کو سر پکارہی ہو- مصطفی غصے سے بولا-
تو پھر انھوں نے مجھ سے معافی کیوں مانگی اور منی کی سالگرہ پر بھی آنے کا وعدہ کیا ہے-
میں نہیں جانتا اور نہ ہی اسکے پاس ہوتا ہوں کہ اسکے دماغ میں پکتی کھچڑی کا پتہ ہوگا مجھے- اب چپ کرکے سوجاؤ- مصطفی موبائل پٹخ چکا تھا- اسے غصہ آرہا تھا کہ سجل اسکی شکل دیکھنے تک تو راضی نہیں تھی اور اسکی بہن سے دوستیاں بڑھارہی تھی- وہ ساری رات اسی کو سوچتا رہا اور دوسری طرف سجل بھی اسی کو سوچے جا رہی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اقبال صاحب یہ کیا کہ رہے ہیں آپ؟ اقبال ملک کی بات پر انکی بیوی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں-
ایسا بھی کوئی انھوکا کام نہیں کررہا ہوں- ہزاروں لوگ آجکل ایسا کرتے ہیں اور اس عمارت کو حاصل کرنے کیلئے میں اس لڑکی کو مار بھی سکتا ہوں پر نہیں میں اتنا سفاک نہیں ہوں- اقبال ملک اپنا پلان ترتیب دے چکے تھے اور اب اپنی بیوی کو آگاہ کررہے تھے-
کسی لڑکی کو اغوا کرکے اس سے زبردستی اسکی پراپرٹی چھین لینا یہ سفاکی نہیں ہے تو اور کیا ہے اقبال صاحب؟ مسز اقبال اب غصے میں آگئیں-
بیگم میں بحث نہیں کرنا چاہتا ہوں- آپ کل کی تیاری کریں بس...ہمیں کل مصطفی ہمدانی کی بھانجی کی سالگرہ میں جانا ہے اور رات کو اپنا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تاکہ مصطفی اسکی کوئی مدد نہ کرسکے- وہ کہ کر جاچکے تھے اور مسز اقبال اپنا فون لے کر دوسرے روم میں جاکر مصطفی ہمدانی کو کال ملانے لگیں پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا تبھی مصطفی ہمدانی کا موبائل آف جارہا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
آج اتوار کا دن تھا- نوری صبح سے اسکے پاس آئی ہوئی تھی اور اب وہ نہاکر نکلی تو نوری کو اپنی الماری میں گھسا دیکھا-
 باجی..یہ کالا سوٹ آپ پر بہت جچے گا یہی پہن لیں- نوری اسکے کپڑے استری کرنے کیلئے الماری سے نکال رہی تھی-
نہیں نوری اور کوئی دیکھ لو- سجل کو اب کالے کپڑوں سے نفرت ہوچکی تھی- اور نوری اسے وہی جوڑا پہننے کو بولی جو مصطفی ہمدانی نے اسے دلایا تھا-
باجی...اتنا پیارا ہے- اسکے علاوہ کوئی اچھا جوڑا نہیں ہے- نوری منہ بناتے ہوئے بولی-
کوئی بھی نکال دو....بس یہ نہیں پہنوں گی میں- سجل کہ کر روم سے جاچکی تھی- پر نوری کو کوئی جوڑا سمجھ نہ آیا تو وہی استری کرنے چلی گئی-
نوری لے بھی آؤ کپڑے....اتنی دیر ہوچکی ہے- سجل بال بناتے ہوئے اسکو آواز لگا رہی تھی-
یہ لیں باجی...اور بتائیں میں کیسی لگ رہی ہوں- نوری اسکے ہاتھ میں کپڑے پکڑاتے ہوئے بولی-
بہت پیاری...پر تم نے میرے لیے یہ کیوں استری کیا ہے- منع کیا تھا نہ میں نے - سجل غصے سے سوٹ بیڈ پر پھینکتے ہوئے بولی-
باجی یہ ایک ہی سوٹ پیارا لگا تھا مجھے- باجی پہن لیں نا...نوری کے آنسو بہہ نکلے اور سجل ان آنسوؤں کو دیکھ کر پگھل گئی-
اچھا ٹھیک ہے...پر ساتھ میری شال بھی نکال دو ورنہ میں نہیں پہنوں گی- وہ سوٹ لے کر واش روم میں جاگھسی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ سجل...ماشاءاللہ- نورالعین ان دونوں کو آتا دیکھ کر انکے پاس چلی آئی- مصطفی ہمدانی بھی سجل کو دیکھ چکا تھا-
تھینک یو نورالعین... آپکی بیٹی کہاں ہے؟ سجل اردگرد دیکھ رہی تھی جبھی اسکی نظر مصطفی ہمدانی پہ پڑی...وہ سفید شلوار کرتا اور کالا کوٹ پہنے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا...سجل کو اسے دیکھ کر دل کررہا تھا کہ اسکے ساتھ جاکر ایک تصویر بنوا آئے پر ہر خواہش کبھی پوری نہیں ہوا کرتی-
چلیں وہ اپنی دوستوں میں ہے...آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی- نورالعین اب اسے اپنی بیٹی کے پاس لے آئی تھی-
واؤ آپ تو بہت پیاری ہیں آپی- نورالعین کی بیٹی اس سے سلام کرتے ہی فوراً بول پڑی-
تھینک یو...آپ بھی بہت پیاری ہے- سجل اسکے موٹے موٹے گالوں پہ پیار کررہی تھی جبھی مصطفی ہمدانی اس طرف چلا آیا-
ماموں دیکھیں یہ آپی اتنی پیاری ہیں بلکل شہزادی کی طرح....آپ انکے شہزادے بن جائیں نا- وہ چھوٹی بچی اتنی بڑی بات کہہ دے گی نہ سجل کو پتہ تھا نہ ہی مصطفی ہمدانی کو...سجل شرم کے مارے سرخ پڑ گئی تھی-
ہاں پیاری منی....لے آؤں گا شہزادی کو بھی...ابھی آپ کیک کاٹ لو- مصطفی ہمدانی سجل کی طرف دیکھ کر کہا پر بات منی سے کر رہاتھا-
سجل باجی چلیں نا- نورالعین اور مصطفی جا چکے تھے پر سجل سے اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں گیا-
ہوں چلو.....وہ دونوں انکے پاس آگئیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اقبال صاحب یہ لڑکی یہاں کیا کررہی ہے- مسز اقبال سجل کو دیکھ چکیں تھیں-
ہمارا شکار خود چل کر آیا ہے تو ہمیں اس بات سے کیا لینا دینا کہ کیوں آیا ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اقبال صاحب ہنسے تھے- انھیں اپنا منصوبہ پورا ہوتا ہوا نظر آرہا تھا-
پر یہ بھی سوچیں نہ بابا اسکا اور مصطفی ہمدانی کا ایسا کیا رشتہ ہے جو وہ یہاں آئی ہے-
ماریہ جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھی تھی بولی- اسے سجل بلکل بھی نہیں پسند آئی کیونکہ مصطفی ہمدانی کی نظریں اس پر سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں- ماریہ اٹھ کر مصطفی کے پاس آگئی-
ہیلو انسپکٹر مصطفی- کیسے ہیں آپ...؟ ماریہ نے اس بار ہاتھ آگے نہیں بڑھایا تھا...اسے وہ بات اب تک نہ بھولی تھی-
ٹھیک ہوں...آپ سنائیں؟ مصطفی بات کر اس سے رہا تھا پر دماغ اور آنکھیں اسکی کہیں اور بھٹک رہی تھیں-
میں بھی ٹھیک ہوں- ماریہ جبراً مسکرائی-
بھائی وہ آپکو نوری بلا رہی ہے- نورالعین چلی آئی  اور ماریہ پیر پٹخ کر واپس اپنی کرسی پر آبیٹھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل کہاں ہو تم؟ وہ نوری کو ہاسٹل چھوڑ کر  باہر نکلی تو مزمل کی کال دیکھ کر حیران ہوگئی-
مزمل تم..؟ وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی-
ہاں سجل میں مزمل ہوں جلدی سے گھر آؤ...میں باہر کھڑا انتظار کر رہا ہوں-
ٹھیک ہے....آتی ہوں- وہ رابطہ منقطع کرکے جیسے ہی آگے بڑھی اسکے سامنے ایک کار آکر رک گئی-
کیا ہے؟ اندھوں کی طرح چلاتے ہو- سجل کو غصہ آگیا- کار میں سے دو نقاب پوش نکلے اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر بٹھانے کی کوشش کرنے لگے-
چھوڑو مجھے...کون ہو تم لوگ....وہ چیخی تھی پر سنسان سڑک پہ کوئی بھی اسکی چیخ و پکار سننے والا نہ تھا-
بچاؤ مجھے...بچاؤ-- وہ مسلسل چیخی جارہی تھی- نقاب پوش آدمی نے جیب سے کلروفرم بھرا رومال نکال کر اسکے منہ پہ رکھا تو وہ کوئی مزاحمت نہ کرپائی اور کچھ ہی لمحوں میں بے ہوش ہوگئی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مسز اقبال سارا فنکشن اقبال صاحب کے ساتھ بیٹھی رہیں تھیں پر جیسے ہی وہ باہر نکلے تو مسز اقبال فوراً مصطفی ہمدانی کے پاس آگئیں جو فون پہ کسی سے بات کرہا تھا-
اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں...وہ کال منقطع کرکر انکی جانب متوجہ ہوا-
ٹھیک ہو بیٹے...آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے-
جی آنٹی کہیے...میں سن رہا ہوں- مصطفی کو انکے سرد تاثرات دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا-
بیٹا وہ...تمہارے انکل مطلب اقبال صاحب اس لڑکی کے ساتھ کچھ کرنے والے ہیں- وہ اس لڑکی کو اغوا کرا چکے ہیں اور اب جہاں اسے رکھا ہے وہیں گئے ہیں- بیٹا میں کسی لڑکی کی زندگی اپنے شوہر کے ہاتھوں برباد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی...پلیز اس لڑکی کو بچالو بیٹا- بےشک تم پھر اقبال صاحب کو ساری زندگی سزا دے دو...میں کچھ نہیں کہوں گی پر اس لڑکی کو بچالو- وہ روتے ہوئے بولیں...ان کی باتیں سن کر مصطفی ہمدانی کی آنکھیں سرخ انگارہ ہوگئی تھیں-
آنٹی آپ فکر نہ کریں...میں جاتا ہوں- وہ کہنے کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا اور غصے سے کار لے کر چلا گیا--
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اسکی آنکھیں کھلیں تو اسے لگا تھا کہ وہ دوبارہ بے ہوش ہوجائی گی...اسے سمجھ آگئی تھی کہ میں اغوا ہوچکی ہوں پر یہ سوچنے کا وقت نہ ملا تھا کہ اسکو اغوا کرنے والا کون ہوسکتا ہے-
مصطفی ہمدانی یا اقبال ملک یا شاید دونوں کا ہی یہ منصوبہ ہوگا- کیونکہ اسکے خیال میں وہی دو اسکے دشمن تھے- وہ سوچے جارہی تھی پر چلا نہیں رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے-
کیسی ہیں سجل ؟ آخر کار اغوا کرنے والا آہی گیا-
اتنے گرسکتے ہیں آپ پیسوں کیلئے...یہ میں نہیں جانتی تھی- سجل کو اقبال ملک کے چہرے کو دیکھ کر اسکا منہ نوچنے کا دل کیا تھا پر اسکے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے وہ اپنا جسم بھی ہلا نہ پارہی تھی-
ہاں گرسکتا ہوں- اب جلد از جلد ان کاغذات پر سائن کردو ورنہ میں اس سے بھی زیادہ گر جاؤں گا- وہ اب سجل کے قریب آکر بولے...سجل کو وہ شخص مصطفی ہمدانی سے بھی زیادہ درندہ لگ رہا تھا-
اقبال ملک....تم اتنے گڑے ہوئے انسان نکلو گے یہ تو میں بھی نہ جانتا تھا ورنہ تمہاری بات کبھی نہ مانتا اور نہ ہی تمہاری مدد کرتا- مصطفی ہمدانی  اقبال ملک کے موبائل کی لوکیشن ٹریس کرکے وہاں تک پہنچ آیا تھا- اور سجل اسکو دیکھ کر یہی سمجھی تھی کہ وہ اسکے ساتھ ملا ہوا ہے-
آہاہ...انسپکٹر صاحب ﮈر گیا ہوں میں...تمہاری باتوں سے- اقبال ملک اپنے جیب سے بندوق برآمد کرتے ہوئے ﮈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگے-
تم جیسا کمینہ شخص ﮈر نہیں سکتا ہے اقبال ملک- چلاؤ گولی...جتنی چلا سکتی ہو- کیونکہ مصطفی ہمدانی بہت بہادر ہے- اپنی موت کو قریب دیکھ کر بھی کچھ نہیں بولے گا- سجل مصطفی ہمدانی کا یہ روپ دیکھ کر حیران رہ گئی- اور یہی سوچ رہی تھی کہ یہ شخص مجھے بچانے آیا ہے-
ہاں وہ تو چلا ہی لوں گا- اقبال ملک ٹریگر دبا رہے تھے پر اس بندوق میں گولیاں ہوتیں تو ہی بندوق چلتی...انکی بیوی ہی انکی بندوق سے ساری گولیاں نکال چکیں تھیں اور وہ یہ نہیں جانتے تھے-
کیا ہوا...نہیں چلی بندوق...مصطفی استہزایہ انداز میں بولا- اور اسکے کہنے کے ساتھ ہی اقبال ملک باہر کی طرف بھاگا تھا پر باہر پولیس فوج کھڑی تھی جو اسے اور اسکے ساتھیوں کو گرفتار کر چکی تھی-
مصطفی سجل کی طرف مڑا اور اسکی ہاتھ پیر کھولنے لگا-
انسپکٹر مصطفی ہمدانی....سجل بمشکل الفاظ ادا کر پائی تھی- کلروفرم سے بھرا رومال جو اسکی منہ پر رکھا گیا تھا اسکا اثر اب بھی باقی تھا-اسیلیے وہ بے ہوش ہوچکی تھی-
مصطفی ہمدانی خاموشی سے اسکو رسیوں سے آزاد کرنے لگا- اب دور پڑی شال اس کو اوڑھانے لگا اور اٹھا کر گاڑی تک لایا- وہ اسے بٹھا کر گاڑی کا رخ اپنے گھر کی جانب موڑ چکا تھا-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
کیسا فیل کررہی ہو؟ آج وہ دوبارہ وہیں تھیں جہاں ایک سال پہلے تھی- پر اب بہت کچھ بہت بدل گیا تھا...اسکے دل میں اب اس گھر کے مالک کیلئے نفرت نہیں محبت تھی اور اس گھر کا مالک خود بھی اسے مالکن بنانا چاہتا تھا پر یی سب کہنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی...
ٹھیک ہوں...پر سر درد ہورہا ہے- سجل سر پکڑ کر اٹھ بیٹھی تھی-
ٹیبلٹ لو گی؟ مصطفی خوش ہوگیا تھا کہ کم از کم وہ اس سے صیح بات تو کررہی ہے-
ہاں پلیز...اور ایک کپ چائے ورنہ میں ایک قدم بھی چل نہیں پاؤں گی- سجل کے کہنے پر وہ نیچے کچن میں چلا آیا تھا اور دو کپ چائے بنانے لگا-
یہ لو دو کپ بنا لایا ہوں...ایک نہ پیو تو میں پی لوں گا- وہ اسکو کپ پکڑاتے ہوئے بولا-
نہیں بس ایک کافی ہے....آپ پی لیں- اسکے کہنے پر وہ بیٹھ کر چائے کے مزے لینے لگا تھا- دونوں چائے ختم کرچکے تھے پر تب بھی چپ بیٹھے رپے-
وہ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں- سجل جسکی زبان چلتی رہتی تھی آج دل کی بات کہنے کیلئے اسکی زبان بند تھی-
ہاں کہو.....مصطفی سوچ رہا تھا کتنی بہادر ہے یہ لڑکی..--
آپکا بہت بہت شکریہ آپ نے آج میری مدد کی- سجل اس سے آگے کچھ بھی کہہ نہ پائی تھی-
بس یا اور کچھ بھی کہنا ہے؟ مصطفی اداس ہوگیا تھا...وہ کیا سوچ رہا تھا اور یہ کیا کہ رہی تھی-
جی بس....اور بھی کچھ بولنا ہے کیا؟ وہ مزاحیہ انداز میں بولی-
نہیں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں- سجل میری بات تحمل سے سننا اور تم میری باتیں سننے کا بعد جو بھی فیصلہ کروگی مجھے قبول ہوگا- وہ اسکے قریب آکر بیٹھ گیا-
سجل میں نے جو کچھ بھی کیا صرف بدلے کی آگ میں کیا تھا- مجھے اس سب کیلئے معاف کردو...یہ تمہارے لیے بہت مشکل ہے میں جانتا ہوں- پر میری ماں بھی تمہاری باپ کو معاف کرچکی تھی اور معاف کرنے والا تو اللہ کو بھی پسند ہے....پر شاید اللہ کو میں نہیں پسند کیونکہ میں نے تمہارے باپ کو معاف نہیں کیا تھا- تم پوچھتی تھی نا...کہ کیوں میں نے تمہاری زندگی برباد کی- تو اس سب میں تمہارا صرف ایک ہی قصور تھا کہ تم صفدر شاہ کی بیٹی تھی...صفدر شاہ وہ شخص تھا جس نے میرے باپ کو مار ﮈالا تھا..میری ماں کی عزت چھین لینی چاہی تھی اس شخص نے جبکہ اسکو میری ماں نے کہا بھی تھا کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے پر تب بھی تمہارے بابا نے انکی نہ سنی تھی- تمہارے بابا اور میرے بابا دوست تھے- تم جب دو سال کی ہوئی تھی تب تک ہمارے ساتھ ملتی رہی تھی پر میری اور تمہاری سالگرہ کے دن ہی تمہارے بابا نے یہ سب کیا تھا- میں آج تک وہ دن بھول سکا ہوں سجل....کیا تم میری مدد کروگی کہ میں اس دن کو بھول جاؤں- اور اس دن کو صرف اپنی پیدائش کے دن کے طور پر یاد رکھوں- کیا تم ساری زندگی میرا ساتھ دو گی سجل؟
مصطفی ہمدانی اسے سب کچھ بتا چکا تھا اور سجل کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے- وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★


بھائی...اب باہر آ بھی جائیں ورنہ میں سجل کو فون کرنے لگی ہوں کہ بارات نہیں آئی گی- آج مصطفی اور سجل کی شادی تھی...انکا نکاح صبح ہوچکا تھا-
ظالما....ایسا مت کرنا- مصطفی کہنے کے ساتھ ہی باہر نکلا اور نورالعین اپنے بھائی کو شیروانی میں دیکھتی رہ گئی-
بھائی سجل کیسے سنبھالے گی اتنی لڑکیوں کو...آپ نے سبکو بے ہوش کر کے ہی دم لینا ہے- نورالعین اب اسکے ساتھ باہر آگئی...
وہ خود کو سنبھال لے بہت ہے...باقیوں کو میں سنبھال لوں گا..وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا-
زیادہ نہ بنیں کوئی خاص نہیں لگ رہے ہیں- وہ تو میں بس مذاق کر رہی تھی-
ہاں پتہ تھا...چلو اب جلدی- اتنا انتظار نہیں ہورہا- وہ اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بولا تھا اور دو گاڑیاں رخصتی کیلئے روانہ ہوچکیں تھیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل باجی...اللہ آپکو نظر نہ لگائے- آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپکے خاندان والے بھی موجود ہیں-
سجل اس رات جب دو بجے مصطفی کے ہمراہ گھر پہنچی تب اسے باہر مزمل بینچ پہ سویا ملا تھا- اس نے مزمل کو اٹھایا تو وہ معافیاں مانگنے لگا تھا- سجل کے جانے بعد ایک دن بھی بتول اور وہ خوش نہیں رہ پائے تھے- صفیہ بیگم کو بھی بتول ایک آنکھ نہ بھاتی تھی- تبھی انہوں نے اپنے شوہر سے بات کرلی کہ اس گھر کے اب دو حصے کردیے جائیں اور اس گھر کے حصے کرنے میں ہی مزمل اور بتول کا گھر ٹوٹ چکا تھا- صفیہ بیگم اور نائلہ بیگم ایک دوسرے کو طعنے دینے اور گالیاں دینے سے باز نہ آتی تھیں- سردیوں کے ہی دن تھے جب صفیہ بیگم ، مزمل اور ارمان شاہ کسی شادی میں گئے ہوئے تھے- بتول اور نائلہ بیگم گھر میں تھیں- اس دن گیس پائپ لائن لیک ہونے کی وجہ سے گھر میں آگ لگ چکی تھی- نہ وہ گھر نائلہ بیگم کا رہا اور نہ ہی صفیہ بیگم کا....وہ گھر جل کر راکھ ہوچکا تھا- اور مزمل اپنے ماں باپ کو لیے اب سجل کے پاس آچکا تھا- صفیہ بیگم اس سے معافیاں مانگتی رہتی تھیں- مزمل بھی اسکی شادی پہ خوش تھا اور دوستوں کی طرح اسکی شادی کے ہر انتظامات کو دیکھ رہا تھا-
سجل بیٹا بارات آچکی ہے...صفیہ بیگم اسکے پاس چلی آئیں-
سجل میری کوئی بیٹی نہیں ہے...کیا میں تمہیں اپنی بیٹی مان کر رخصت کرسکتی ہوں-
تائی جان آپ میری ماں ہی ہیں...اور آپ مجھے ماں بن کر ضرور رخصت کریں..میں بھی اپنے ماں باپ کی کمی محسوس نہیں کروں گی- وہ انکے ہاتھ چومتے ہوئے بولی-
باجی باجی باہر سب بلا رہے ہیں- نوری دوبارہ اندر چلی آئی تھی-
ہوں...ﮈوپٹہ اڑا دو نوری- پھر چلتے ہیں- سجل آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے بولی-
وہ نوری اور صفیہ بیگم کے ہمراہ سٹیج تک آگئی- اسے مصطفی ہمدانی کے پہلو بٹھادیا گیا تھا- ہر کوئی انکی جوڑی کو رشک بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا- ماریہ بھی مسز اقبال کے ساتھ آئی تھی اور حسد سے دونوں کو دیکھے جارہی تھی- اقبال ملک جیل میں تھے اور انکا فیصلہ اب عدالت نے کرنا تھا--
صفیہ بیگم نے اسکو اپنی بیٹیوں کی طرح الوداع کیا اور ارمان شاہ نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے اسے دعاؤں میں رخصت کیا تاکہ سجل کو اپنی ماں باپ کی کمی کبھی محسوس نہ ہو-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل رخصت ہوکر مصطفی ہمدانی کے گھر مالکن بن کر آچکی تھی- اور اب استحقاق سے اسکے بیڈ پر چڑھ کے بیٹھی اسکے آنے کا انتظار کر رہی تھی-
آہم آہم..اندر آسکتا ہوں؟ مصطفی دروازہ پہ کھڑا اس سے ایسے پوچھ رہا تھا جیسے وہی اکیلے اس کمرے کی مالک ہو-
جی آپکا ہی کمرہ ہے- اسکے آہستگی سے کہنے پر مصطفی کمرے کا دروازہ لاک لگا کر اسکے پاس آبیٹھا-
کیسا لگا آپکو اپنا روم شہزادی صاحبہ- مصطفی نے کان میں سرگوشی کی تو وہ جو چہرہ جھکائے بیٹھی تھی شرم کے مارے سرخ ٹماٹر ہوگئی-
بہت اچھا...لیکن آپ--- وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئی-
لیکن کیا؟
لیکن آپ سے زیادہ اچھا نہیں لگ رہا- وہ چہرہ ہاتھ میں چھپائے شرمانے لگی-
اچھا....شہزادی کا شہزادہ ہی لگ رہا ہوں گا نا؟ مصطفی اسکی حرکت پر ہنس دیا-
ہاں...شہزادی کو شہزادہ ہی ملتا ہے- اب شہزادہ منہ دکھائی کب دیگا...- سجل اب چہرے سے ہاتھ ہٹا چکی تھی-
منہ بھی تو اچھا ہونا شہزادی کا...ایسے سڑے منہ کی منہ دکھائی نہیں دے سکتا- مصطفی بمشکل ہنسی کنٹرول کیے سنجیدگی سے بولا اور سجل غصے سے لال پیلی اسکو گھورنے لگی-
میں سڑی نظر آرہی ہوں- بس ٹھیک ہے آئندہ تیار ہی نہیں ہوں گی- سجل منہ بسورتے ہوئے بولی-
نہیں نہیں میری جان مذاق کررہا ہوں- مصطفی اسکے گلے میں ہاتھ ﮈالتے ہوئے بولا-
کوئی نہ دور ہٹیں..اب میں نے نہیں ہونا تیار بس-- سجل اس کے قریب آنے سے گھبرا گئی-
یہ دیکھو...تمہاری منہ دکھائی...وہ جیب سے مخملی ﮈبیا نکال کر اب اسکی طرف بڑھا رہا تھا-
واؤ....اتنا پیارا ہے یہ تو....اب مجھے خود پہنا دیں- وہ بریسلیٹ کو دیکھتے ہوئے ساتھ فرمائش بھی کرنے لگی-
بڑی تیز ہو...بریسلیٹ دیکھ کے سیدھی ہوگئی- مصطفی اسکے ہاتھ میں پہناتے ہوئے بولا-
ہاں تو اب اتنی اچھی چیز کو دیکھ کر بھی ناراض رہتی-
نہ نہ...پھر منانے کے اور بھی بہت سے طریقے آتے تھے مجھے...اچھا کیا جو ایسے مان گئی ورنہ پچھتاتی-وہ معنی خیز انداز میں بولا-
اچھا یہ دیکھیں میری مہندی.....اسنے اب ہاتھ آگے کردیے تھے- مہندی کے ﮈیزائن میں بیچ میں (Sajal ❤ Mustafa) لکھا ہوا تھا-
کس نے لکھا؟ مصطفی دیکھ کر اسکے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کے بولا-
نوری نے مہندی لگائی تھی پر یہ میں نے خود لکھا ہے...سجل اسکے سینے پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اپنا سر رکھ چکی تھی- اور مصطفی ہمدانی سوچ رہا تھا کہ میری ماں نے صیح کہا تھا کہ ایک مرد ہی کانچ کی گڑیا کو توڑ سکتا ہے اور دوبارہ اسی کانچ کی گڑیا کو مرد ہی مسیحا بن کر جوڑ سکتا ہے- آج اس نے ہر قدم پہ ماں باپ کو یاد کیا تھا- پر سجل کے آنے کے بعد اسے لگا تھا کہ اسکی زندگی اور اسکی دنیا پوری ہوچکی ہے- 4 جنوری کی یہ رات سجل نے اسکے لیئے ساری زندگی کیلئے یادگار بنادی تھی- اور وہ اپنی سالگرہ کی رات کو بھلا کر اپنی شادی کی رات یاد گار بنارہا تھا-کیونکہ انکا یہ ملن بڑے صبر، بڑی برداشت اور بڑے ضبط کے بعد ہوا تھا- بڑی اﺫیتیں اور عذاب جھیلے تھے انھوں نے- اسلیے اس وصال کی رات پہ اب ان دونوں کا پورا پورا حق تھا-  اور اس حق کو پورا کرنے میں دونوں گم تھے- اس طرح کے باقی کائنات کا ہر احساس پس پشت ﮈال دیا تھا- سوائے ایک دوسرے کے--- کیونکہ اس وقت سجل کیلئے اسکا شہزادہ اور مصطفی ہمدانی کیلئے اسکی شہزادی ہی کل کائنات تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
ایک سال بعد.....
پتھر ہوجاتے ہیں
لوگ کہانی ہوجاتے ہیں
ایسا وقت بھی آجاتاہے
کہ دشمن جانی ہوجاتے ہیں
ﮈائری کے خوبصورت صفحات پہ وہ اپنے پسندیدہ اشعار لکھتے لکھتے آخری جملے پہ ٹہر سی گئی اور مسکرا کر سائیڈ میں لیٹے مصطفی ہمدانی کو دیکھنے لگی جو فجر کی نماز پڑھ کر دوبارہ سو چکا تھا- سجل عادت کے مطابق قرآن پڑھ کر اب فارغ ہوئی تھی- تو اپنی ﮈائری نکال کر ماضی کی ساری باتیں پڑھنے لگی- یہ وہی ﮈائری تھی جو مصطفی ہمدانی کے گھر میں گم ہو چکی تھی اور مصطفی نے ہی اسے یہ ﮈائری واپس دی تھی....وہ اب بھی ﮈائری نہیں لکھتی تھی پر اسے اپنا پسندیدہ اشعار لکھنا تھا-
مصطفی میری جان اٹھ جائیں- آپ نے جانا ہے- سجل کی محبت بھری سرگوشی پہ مصطفی نے اپنی آنکھیں کھول دی-
میری جان تمہیں پتہ ہے نا...تمہاری ایسی باتوں پہ میرا کیا حال ہوجاتا ہے اور تم صبح صبح میری نیت خراب کرنے کے در پر ہو....وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا اور سجل اسکے سینے سے جالگی-
افف...مصطفی چھوڑیں۔ سجل اسکے چوڑے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی پر مصطفی اسکی کوشش کو ناکام بنارہا تھا-
بوا جی...مجھے کام ہے فوراً آئیں- سجل کے آواز لگانے پر مصطفی اسے چھوڑ چکا تھا اور وہ فوراً بیڈ سے اتر آئی-
آئندہ میں جگانے کی کوشش بھی نہیں کروں گی...خود الارم لگا کر سوئیں- وہ غصے سے تلملائی-
میں بھی یہی چاہتا ہوں کیونکہ اتنے رومینٹک انداز میں جگانے سے کس کافر کو جاگنے کا جی چاہے گا-- مصطفی بیڈ سے اتر کر اسکے پاس چلا آیا-
اچھا...میں نیچے جارہی ہوں- تیار ہوکر آجائیے گا- وہ باہر جانے کو لپکی تھی پر مصطفی اسکا ہاتھ تھام چکا تھا-
سجل اپنا خیال رکھا کرو....کیونکہ مجھے اس بچے سے زیادہ تم پیاری ہو- سجل اور اسکی شادی کو ایک سال ہوگیا تھا اور اب اس دنیا میں ایک ننھا وجود میں آنے والا تھا -
رکھتی تو ہوں...اب نیچے جانیں دیں کیونکہ ناشتہ خود اوپر چل کر نہیں آسکتا ہے- وہ ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی-
سجل نہ جاؤ....مصطفی اسے روک رہا تھا-
کیا ہوگیا ہے آپکو...میں مرنے تھوڑی جارہی ہوں- نیچے کھانا بنانے جارہی ہوں-
فضول باتیں نہ کرو...مصطفی غصے سے بولا اور وہ ہنستے ہوئے سیڑھیوں کی طرف آئی پر وہ ایک سٹیپ نیچی قدم رکھتے ہی سیڑھیوں سے جاگری...کیونکہ اسکا پاؤں ﮈوپٹہ کی زد میں آگیا تھا-
مصطفی-- وہ زور سے چیخیی تھی...اسکی چیخیں مصطفی ہمدانی کے گھر کی درو دیوار ہلا گئیں-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
مبارک ہو مصطفی سر....آپکے دو جڑواں بچے ہوئے ہیں- مصطفی ﮈاکٹر کی بات پر خوش بھی نہ ہوسکا اسے صرف سجل کی فکر تھی-
سجل کیسی ہے ﮈاکٹر؟ مصطفی نے ﮈرتے ہوئے پوچھا-
انکی حالت اب بھی خطرے سے خالی نہیں ہے....انکا سر پہ سٹچز آئیے ہیں اور انکا پیر بھی زخمی ہوا ہے....انکا دماغی توازن صیح ہوگا یا نہیں یہ ہم نہیں جانتے آپ بس دعا کریں کہ انکو ہوش آجائے--
ﮈاکٹر کہ کر جاچکا تھا..اور مصطفی ہمدانی بھول گیا تھا کہ اسکے دو جڑواں بچے ہوئے ہیں- وہ ہسپتال سے نکل کر مسجد چلا آیا...اسے آج ہر حال میں اللہ سے سجل کی زندگی مانگنی تھی ورنہ وہ بھی  اسکے بغیر مرجاتا--
اللہ سجل کو نئی زندگی دے...اللہ تو کُن کہہ کر سب کچھ کرسکتا ہے...میرے مالک اسے واپس مجھے دے...ان چھوٹے بچوں کیلئے اسکو نئی زندگی دے میرے خدا...وہ 28 سالہ مرد رو رو کر اللہ کے سامنے گڑ گڑا تھا- وہ جب اس سے دور تھی تب بھی اس نے اسکے لیے اتنی دعائیں نہ کی تھی- اردگرد کے آدمی سب اسے دیکھ رہے تھے اور تعجب کا شکار تھے کہ ایک مرد بھی رو سکتا ہے-- کیا ایک مرد رو نہیں سکتا....کیا وہ ایک انسان نہیں ہوتا....کیا اسکے سینے میں دل نہیں ہوتا؟؟ تو پھر یہ دنیا کیوں کہتی کہ مرد رویا نہیں کرتے- مرد مضبوط ہوتے ہیں- ہاں مرد مضبوط ہوتے ہیں پر انکے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے...وہ بھی ایک انسان ہی ہوتے ہیں- اور انکو بھی رونے کا حق ہوتا ہے...جہاں وہ کچھ نہ کرسکیں وہاں اللہ کے سامنے رو رو کر مانگ سکتے ہیں کیونکہ انکے بھی سینے میں دل ہوتا ہے-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
سجل آنکھیں کھولو....دیکھو میں اور تمہارے بچے انتظار کررہے ہیں- مصطفی دونوں بچوں کو ہاتھ میں لیے اسکے قریب کھڑا تھا اور سجل نے آنکھیں کھول دیں- وہ ہوش میں آگئی تھی- نرس اسے ہوش میں آتا دیکھ کر فوراً باہر ﮈاکٹر کو بلانے دوڑی- اور مصطفی ہمدانی کی آنکھیں چمک اٹھیں تھیں-
سجل کیسی ہو؟ وہ بچوں کو کاٹ میں سلا کر اسکے پاس آبیٹھا اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا-
ٹھیک ہوں...میرا بچہ...کہاں ..ہے- وہ بمشکل بولی-
یہی ہیں...پانی دوں- مصطفی نے اس سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا-
اٹھو نہیں..میں پلا دیتا ہوں- وہ اسے کندھے سے تھام کر سر اونچا کرکے پانی پلانے لگا...اسی دوران ﮈاکٹر آگئے-
آپ کیسا فیل کر رہی ہیں سجل ہمدانی...ﮈاکٹر بھی اسکو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے انکو امید نہ تھی کہ یہ لڑکی اتنی جلدی ہوش میں آجائی گی-
بہتر...وہ مختصر سا کہ کر خاموش ہوگئی- ﮈاکٹر اسے سکون آوار انجیکشن لگا کر جاچکے تھے اور وہ دنیا سے بے خبر نیند کی وادیوں میں جاچکی تھی-
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
5 جنوری کی صبح کا سورج اور ہلکی نرم گرم ہواؤیں انکی زندگی میں خوشیاں لائیں تھیں- سجل گھر واپس آچکی تھی پر اکیلی نہیں اپنے دو جڑواں بچوں کے ساتھ اور اب اسکے پاس صفیہ بیگم، نورالعین ، نوری، مزمل، ارمان شاہ اور مصطفی ہمدانی بیٹھے تھے- وہ آج کے دن بہت خوش تھی کیونکہ اسکی سالگرہ بھی تھی اور آج ان دونوں نے اپنے بچوں کے نام بھی رکھنے اسیلیے سب ساتھ بیٹھے تھے تاکہ سب کی موجودگی میں نام منتخب کیے جائیں-
بھائی آپ اور سجل ہی نام رکھیں دونوں بچوں کے- نورالعین کے بولنے پر سجل نے مصطفی کو دیکھا جو اسکے ساتھ ہی بیٹھا اپنی گود میں بچے کو کھلا رہا تھا-
بیٹے کا نام ثقلین رکھ لیں؟ وہ مصطفی سے پوچھی تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا-
اور میری بیٹی کا نام فجر....وہ بھی فوراً بولا- اور اسکی بات پر سجل منہ پھلا گئی-
میری بھی ہے بیٹی...وہ منہ بناتے ہوئے بولی-
نہیں تمہارا بیٹا ہے اور میری بیٹی ہے- مصطفی اسکی پھلی ہوئی ناک کو دباتے ہوئے بولا-
ہاں پھر جب یہ ﮈائپر گندا کرے گی تو مجھے نہیں بلائیے گا-
گندا کرے گی کیا...گندا کرچکی ہے- مزمل ہنستے ہوئے بولا- اور مصطفی نے اسکی بات پر بچی کو فوراً سجل کی گود میں ﮈال دیا-- اسکی اس حرکت پہ سب کھلکلا کر ہنس دیے---
ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی مسیحا ہوتا ہے جو ہماری ٹوٹی کرچیوں کو سمیٹنے میں ہماری مدد کرتا ہے اور آج انسپکٹر مصطفی ہمدانی بھی ایک ٹوٹی گڑیا کو سمیٹ چکا تھا....اور اسکی مسیحائی کر کے اسکا ساتھ مرتے دم تک نبھانے کا خواہشمند تھا....کانچ کی گڑیا کو بھی اسکا مسیحا مل گیا تھا اسیلیے وہ آج بہت خوش تھی----
آئینے اور لڑکیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا....
لڑکیاں بھی تو کانچ کے جیسی ہی ہوتی ہیں❤❤
★★★★★★★★★★★★★★★★★
                ♡♡♡The End♡♡♡
(اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرنا نہ بھولیے گا۔)