Saturday, May 2, 2020

داغ complet urdu love story novel read online

_بِسْم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم_

#داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_1
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
خزاں کے موسم میں____
اکثر تنہائی میں بیٹھ کر____
میں اپنی ذات ڈھونڈتی ہوں____

جس پہ کیا مجھے سنگسار زمانے نے____
میں وہ گناہ ڈھونڈتی ہوں_____

نہ ہوں جہاں غم اور یہ ویرانیاں____
میں اس نگر جانے کی راہ ڈھونڈتی ہوں____

مٹانے سے بھی جو مٹ نہ سکا____
اپنی ذات پہ لگا وہ داغ ڈھونڈتی ہوں____

وہ کب سے وہاں سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔سردی کی وجہ سے اسکا جسم اکڑ رہا تھا ہونٹ نیلے ہو گئے تھے۔مگر اسے کب پرواہ تھی۔باہر سے زیادہ اسکے اندر کا موسم سرد اور اداس تھا۔درختوں کے زرد پتے اس کے آس بکھرے ہوۓ تھے وہ آنکھیں موندھے درخت کے ساتھ ٹیک لگاۓ اس شام کے اداس منظر کا حصہ لگ رہی تھی۔
قدموں کی آہٹ اور چھَڑی کی ٹک ٹک کی آواز سے اس نے آنکھیں کھولی۔نصرت بیگم اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھیں۔
کتنی آوازیں دی ہیں تمہیں سنائی دیتا ہے کہ نہیں۔
وہ گود میں سے اپنی ڈائری اور قلم اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔
نواز علی کا فون آیا تھا۔ وہ خالدہ اور اشعر کیساتھ آرہا ہے۔ تم گلزار بی کیساتھ کھانا بنوا دو۔
جی دادو۔ وہ ان کی ہمراہی میں چلتی ہوئی لان میں داخل ہوئی۔
نصرت بیگم اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مغرب کا وقت تھا اس نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر کے کچن میں آگئی جہاں گلزار بی پہلے سے ہی کام میں مصروف تھی۔
دو گھنٹے لگا کر گلزار بی کے ساتھ کھانا تیار کیا۔
وہ لاؤنج سے گزر کر اپنے کمرے میں جانے لگی تھی جب نصرت بیگم نے اسے پکارا۔
جی۔
کھانا تیار ہے؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
جب تک خالدہ ادھر ہے تم اس کے سامنے کم جانا بلکہ جانا ہی نہیں۔تم جانتی ہو وہ تمہیں پسند نہیں کرتی۔دادو نے ہر بار خالدہ کے آنے پر کہی جانے والی بات دوہرائی۔
وہ سر ہی ہلا سکی۔
اب جاؤ۔ وہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
وہ کمرے میں آگئی
دل تھا کہ غم سے پھٹنے لگا تھا مگر آنسو پلکوں پر رکے ہوۓ تھے۔اس نے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی۔کچھ سورتیں پڑھ کر خود پر دم کیا۔
وہ بستر پر لیٹ گئی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔لاؤنج سے آوازیں آرہی تھی نواز علی آگۓ تھے۔
بے اختیار اسکا دل چاہا وہ باہر جاۓ ملے ان سے مگر بے بس تھی۔۔۔
کھانا کھایا گیا باتیں ہوئی اور سب اپنے کمروں میں چلے گئے مگر وہ اسی طرح آنکھیں موندھے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی۔
تو کیا میرے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، میری کمی کسی کو نہیں محسوس ہوتی۔وہ ایسی چھوٹی باتوں پر روتی نہیں تھی۔
کبھی کبھی نصرت بیگم کو لگتا وہ ابنارمل ہے یا ڈھیٹ، کوئی اسے برا بھلا کہے ، ذلیل کرے ، گالی دے اسے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
مگر وہ ابنارمل نہیں تھی اسے سب محسوس ہوتا تھا اسے فرق پڑتا تھا وہ آنسو آنکھوں سے گرانے کے بجاۓ دل پر گراتی تھی۔وہ بھڑاس نہیں نکالتی تھی وہ بات دل میں رکھ کر خود کو اذیت دیتی تھی۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
صبح اسکی آنکھ حسبِ معمول فجر کے وقت کھلی۔جب تک ذہن بیدار ہوتا وہ بیڈ پر بیٹھی رہی پھر واشروم جا کر وضو کیا۔
سردی سے بچاؤ کے لیے اپنے گرد گرم شال لپیٹ کر نماز پڑھی اور واپس کمبل میں گھس گئی۔جسم کو چیر دینے والی سردی تھی۔
اب نیند آنا مشکل تھی رات کو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے سخت بھوک بھی محسوس ہو رہی تھی۔
اس نے بور ہونے کی بجاۓ سائڈ ٹیبل سے ڈائری اٹھالی۔
"دیا" ہمیشہ خود جل جل کر سب کو روشنی دیتا ہے۔تو کیا یہ نام کا اثر ہے جو میں بھی جل رہی ہوں مگر مجھ سے کس کو روشنی حاصل ہو گی؟
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں دھتکارے جانے کے لیے ہی دنیا میں آئی ہوں آخر کیوں ایک ہی طعنہ مجھے ملتا ہے کیا قصور تھا میری ماں کا جسکی سزا مجھے مل رہی ہے؟
وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتی تھی ایک بار اس نے یہ غلطی کی تھی جب خالدہ نے اسے ماں کا طعنہ دیا تھا۔
"اسکی ماں نے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آپ اسکی بیٹی کو سینے سے لگارہی ہیں یہ بھی ذلیل کرے گی آخر نسل تو اسی گندے خون کی ہے"
اس نے یہ بات جا کر نواز علی کو بتا دی تھی
اور انکے سامنے کھڑی انکا ضبط آزما رہی تھی۔
"بتائیں نا بابا میری ماں نے آخر ایسا کیا کیا تھا؟"
اسکا جواب اسے تھپڑ کی صورت میں ملا تھا۔اس کے بعد اسنے دوبارہ یہ غلطی نہیں کی تھی مگر تجسس بڑھتا جا رہا تھا اسے جاننا تھا آخر ایسا کیا کیا تھا اسکی ماں نے کہ مرنے کے بعد بھی اسے گالی دی جاتی تھی۔جسکا نام کا طعنہ اس کی اپنی ذات پر ایک ایسے داغ کی طرح چپک گیا تھا جو کبھی دھل نہیں سکتا تھا۔
سوچوں کی ڈور کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی تھی جو کبھی سلجھ نہیں سکتی تھی۔اس نے ڈائری بند کر کے سائڈ ٹیبل پر رکھی اور اچھی طرح شال لپیٹ کر باہر آگئی۔
گھر کے پچھلے حصے میں آکر وہ دیوار کیساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔خنک ہوا کے تپھیڑے اسکے جسم کو چھو کر گزرتے تو سردی  کی ایک لہر پورے جسم میں سرایت کر جاتی۔
گھر کا یہ حصہ اسکا پسندیدہ تھا وہ اپنا زیادہ تر وقت یہاں پہ گزارتی اس حصے میں انسان تو انسان کوئی پرندہ بھی نہیں آتا تھا۔
یہاں بس وہ اسکی سوچیں، اسکی ڈائری اور برگد کا بوڑھا درخت۔
دیا بی بی۔گلزار بی کی آواز پر اس نے سر اٹھایا
بیگم صاحبہ پوچھ رہی ہیں کہ کالج نہیں جانا کیا؟ میں نے ناشتہ تیار کر دیا ہے۔ابھی کافی وقت تھا سردیوں میں تو عموماً کلاسس لیٹ لگتی ہیں مگر وہ ہاتھ مسلتے اٹھ کھڑی ہوئی وہ جانتی تھی دادو کیوں اسے جلدی کالج بھیجنا چاہتی ہیں۔
پھپھو اٹھ گئی ہیں؟ اس نے گلزار بی سے پوچھا۔
نہیں ابھی صرف بیگم صاحبہ اٹھی ہیں۔
آپ ناشتہ لگائیں جب تک میں تیار ہو کر آتی ہوں۔وہ اپنے کمرے میں آکر کالج جانے کی تیاری کرنے لگی۔اگلے پندرہ منٹ بعد وہ ناشتہ کر کے گھر سے نکل آئی تھی۔دل تو بہت چاہ رہا تھا بابا سے مل کر کالج جاۓ مگر وہی مجبوری اور بے بسی رستے میں حائل تھی۔
بس کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔بس اسٹاپ پر اسکے علاوہ ابھی کوئی نہیں آیا تھا۔
وہ اسکی تلخ سوچیں اور ٹھنڈی ہوا۔۔
آدھے گھنٹے بعد بس آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئی۔اسکی نظریں اس سیٹ پر گئی جو ہفتے سے خالی تھی مگر آج وہاں ایک اسمارٹ سا لڑکا بیٹھا تھا۔آنکھوں پر نظر کا چشمہ پہنے ہوۓ ہلکے سانولے رنگ کا لڑکا جو کتاب پر جھکا ہوا تھا۔
بے اختیار اس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔وہ مطمئن سی ہو کر بس کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
ناشتے کی ٹیبل پر دیا کے علاوہ سبھی افراد موجود تھے۔
دیا نہیں اٹھی ابھی؟اشعر نے بریڈ کو جیم لگاتے ہوۓ کہا۔
کالج چلی گئی ہے۔ نصرت بیگم نے جواب دیا۔باقی افراد خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔
وہاٹ؟
ماموں جان آپ کی بیٹی اپنوں سے ملنا پسند نہیں کرتی۔رات کو ہمارے آنے سے پہلے کمرے میں گھس گئی اور صبح ہمارے اٹھنے سے پہلے کالج۔ وہ ناراضگی سے نواز علی کو بتا رہا تھا۔
یہ نہ کہو کہ وہ ملنا پسند نہیں کرتی۔اپنے اس سے ملنا پسند نہیں کرتے۔اب بار بار وہ ذلیل ہونے سے تو رہی۔نصرت بیگم کی زبان سے کڑوا سچ نکلا جو خالدہ کو سخت برا لگا۔
آپ جانتی ہیں اسکی ماں نے کس طرح میرا گھر اجاڑا۔۔۔۔۔۔
فار گاڈ سیک۔ اشعر نے خالدہ کی بات ٹوکی۔ دیا نے تو کچھ نہیں کیا وہ تو بے قصور ہے اسے کس چیز کی سزا مل رہی ہے۔
خون تو اسی کا ہے گندی نسل کا۔
نواز علی کی برداشت جواب دے چکی تھی۔
بس۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔
میرے سامنے اس ٹاپک پر بات مت کیا کرو۔گندی نسل گندا خون۔گلا گھونٹ دو اسکا مر جاۓ، اور یہ ڈرامہ بھی ختم ہو۔ وہ جھٹکے سے کرسی سے اٹھے اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے کمرے میں چلے گئے۔
شعور اور تعلیم ہونے کے بعد بھی جہالیت۔ماں کی سزا بیٹی کو ہنہہ۔ وہ بھی اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔
اس کی ہمدردی کا بخار چڑ گیا ہے۔دیکھ لوں گی میں۔خالدہ ہنکارا بھر کر چاۓ پینے لگی۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
بس آکر کالج کے سامنے رکی۔لڑکے لڑکیاں سب اترنے لگے وہ بھی بیگ اٹھا کر بس سے باہر نکلی۔اور سب کی ہمراہی میں کالج کے اندر چلی گئی۔
اپنے ڈیپارنمنٹ کی طرف جاتے ہوۓ اسے وہ نظر آیا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس گئی۔
سنئیے؟
(یہ میں کیا کر رہی ہوں۔مجھ پر تو ماں کے نام کا لگا دھبہ نہیں دھل رہا اور میں، نہیں نہیں میں اور ذلت برداشت نہیں کر سکتی مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے)
جی۔ وہ اسکے بلکل سامنے کھڑا تھا۔کتابیں سینے کے ساتھ لگاۓ۔
کچھ نہیں۔ وہ واپس پیچھے مڑ گئی۔
یہ کیا بے وقوفی کر رہی تھی دیا۔ایک دن ملاقات ہو گی پھر روز ملاقاتیں ہوں گی۔اور تم جانتی ہو تم اس سے کبھی مل نہیں سکتی پھر بھی۔دماغ اسے سمجھا رہا تھا مگر دل اسے برائی پر اکسا رہا تھا دیا تم اس سے محبت کرنے لگی ہو اور محبت سے دستبردار نہیں ہوتے ملنا نہ ملنا مقدر کا کھیل ہے۔
اس کے دل و دماغ کے درمیان جنگ جاری تھی۔وہ آنکھوں کی نمی پونچھتی اپنے ڈیپارنمنٹ کی طرف بڑھی۔

✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
وہ کالج سے لوٹی تو بارش کی ہلکی ہلکی پھوار ہو رہی تھی۔گھر پہنچنے تک وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔
اپنے کمرے میں آکر کپڑے تبدیل کیے۔
گھر میں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا وہ نصرت بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی۔
اسلام علیکم۔ اس نے سلام کیا۔
وعلیکم سلام آگئی تم۔ وہ شاید واشروم سے نکلی تھی اور ٹاول سے ہاتھ خشک کر رہی تھی۔
جی۔بابا واپس چلے گئے؟
نہیں اپنے کمرے میں ہوگا۔
اور پھپھو؟
گاؤں گئی ہے اشعر کو لے کر۔
میں بابا سے مل آؤں۔ وہ واپس باہر کیطرف بڑھی۔
نواز علی کے کمرے کے پاس پہنچ کر اس نے دروازے پر دستک دی۔
آجاؤ۔ وہ بستر پر آنکھوں پر بازو رکھے لیٹے تھے۔
اسلام علیکم بابا۔ دیا کی آواز سن کر بازو ہٹایا
وعلیکم سلام۔ انہوں نے واپس آنکھوں پر بازو رکھ لی وہ کچھ دیر وہاں کھڑی ان کے بولنے کا انتظار کرتی رہی مگر وہاں ہنوز خاموشی دیکھ کر وہ خود ہی بولی۔
میں رات کو آپ کے آنے سے پہلے ہی سو گئی تھی۔کیسے ہیں آپ؟
جواب ندارد۔
سو گئے بابا؟
اس نے نواز علی پر چادر ڈالی اور باہر نکل آئی۔
کاش بابا ایک بار تو سینے سے لگا لیں مجھے میرا کیا قصور ہے مجھے بتا دیجیے۔
اسکا دل چاہ رہا تھا وہ چیخ کر روۓ سب کو رلاۓ مگر وہ چپ تھی۔
نواز علی کا حال بھی اس سے کچھ کم نہ تھے۔انکا دل بھی چاہتا تھا وہ بیٹی کو سینے سے لگا کر ہر سرد گرم سے بچالیں مگر دیا کی شکل کو دیکھ کر انہیں ماضی کی یاد آتی تھی وہ وقت کی ستم ظریفی پر رو رہے تھے مگر وہ چپ تھی غموں کا بوجھ دل پر ڈال رہی تھی۔دل بھی تھکنے لگا تھا غموں کا بوجھ اٹھا کر۔
حساس لوگ چھوٹی بات کو بھی دل سے لگا لیتے ہیں وہ بھی حد سے زیادہ حساس تھی۔
____
عصر کے وقت اشعر اور خالدہ بھی آگئے.
وہ لاؤنج میں بیٹھی نصرت بیگم کی ٹانگیں دبا رہی تھی۔
خالدہ اس سے ناک بھوں چڑا کر ملی تھی۔البتہ اشعر اس سے باتیں بھگارنے لگا۔
دیا جاؤ۔اسٹڈی نہیں کرنی۔نصرت بیگم نے خالدہ کے بگڑتے تیور دیکھ کر دیا سے کہا۔
جی دادو۔ وہ اٹھنے لگی تھی جب اشعر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہوتی رہے گی اسٹڈی بھی۔بیٹھو
Next
اشعر بھائی میرا ٹیسٹ ہے اسکی تیاری کرنی ہے۔وہ روہانسی ہو گئی اگر اشعر اسکا ہاتھ نہ چھوڑتا تو شاید وہ رونے لگتی۔
اوکے۔
تم بھول گئے سب اسکی ماں نے تمہاری ماں کیساتھ کیا کیا تھا۔مگر تمہیں ہمدردی سوجھ رہی ہے۔خالدہ دیا کے جانے کے بعد بولی۔
کیا اسکی ماں میری ماں۔اسکی تو غلطی نہیں ہے کوئی بھی۔اشعر کو بھی غصہ آگیا۔
امی دیکھا آپ نے۔میں تو کہتی ہوں پڑھائی رکوائیں اور چلتا کریں اس گھر سے۔
وہ کہیں نہیں جاۓ گی اس گھر سے۔
تو کیا سارے زندگی ہم پر سانپ بن کر بیٹھی رہے گی۔خالدہ کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔
میں کروں گا اس سے شادی۔ اشعر نے خالدہ کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
وہ جو اپنے کمرے میں ٹیک لگاۓ انکی تلخ کلامی سن  رہی تھی دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
اشعر بھائی آپ مجھ سے ہمدردی نہیں کر رہے میری سزا میں اضافہ کر رہے ہیں۔وہ دل میں اشعر سے التجا کر رہی تھی۔
دماغ چل گیا ہے تیرا کمینے۔بھول گیا سب۔جسطرح اسکی ماں نے نواز علی کو چھوڑا تھا وہ بھی تجھے چھوڑ جاۓ گی اور میں کبھی تجھے نواز علی نہیں بننے دوں گی سمجھے۔وہ آپے سے باہر ہو گئی۔
ان کی چیخ و پکار سن کر نواز علی بھی باہر آۓ۔
اشعر انکو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
کیا ہوا کیوں شور مچا رکھا ہے؟ نواز علی نے پوچھا
فضول میں دماغ خراب کرتا ہے یہ لڑکا۔خالدہ نے بات بتانے میں ٹال مٹول کی۔وہ بھی واپس کمرے میں چلے گئے۔
دیکھا آپ نے کس طرح ماں کے ساتھ اونچی آواز میں چیخ رہا تھا۔پتہ نہیں کیا جادو کر دیا ہے اس میسنی نے۔
اب خالدہ نے نصرت بیگم کیطرف توپوں کا رخ موڑ لیا مگر وہ بھی تھک گئی تھی ایسی باتیں سن سن کر۔
خالدہ اکیلی آتی تب بھی یہ باتیں لازمی چھڑتی تھی۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
اگلے دن وہ بغیر ناشتہ کیے کالج آگئی۔کل دن کو کیفے ٹیریا سے سموسے لے کر کھاۓ تھے اسکے بعد کھانا دیکھا بھی نہیں تھا۔
وہ کیفے میں آکر ایک پرسکون گوشے میں بیٹھ گئی۔نہ کچھ کھانے کو جی رہا تھا اور نہ ذہن کلاسس اٹینڈ کرنے کے قابل تھا۔گھر میں رہتی تو کوئی نیا ڈرامہ شروع ہوجاتا۔وہ ان سوچوں سے رہائی چاہتی تھی اپنے آپ سے بھی دور بھاگنا چاہتی تھی۔دل و دماغ غم سے پھٹنے لگا تھا مگر آنکھوں سے نمکین پانی پھر بھی نہیں بہہ رہا تھا یا شاید آنسوؤں کو بھی وہ سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی۔
دیا؟ وہ ٹیبل پر جھکی ہوئی تھی جب اپنے نام پکارے جانے پر اس نے سر اٹھایا۔وہ زریاب چوھدری ہی تھا جو اسکا نام لے رہا تھا۔
جی۔
آپ یہاں اسطرح کیوں بیٹھی ہیں کلاسس اٹینڈ نہیں کرنی؟ وہ اس سے نرمی سے پوچھ رہا تھا۔
اس نے سر نفی میں ہلایا۔
وہ کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔
تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہو، کوئی بھی مسٔلہ ہو مجھ سے شئیر کرو اور کچھ نہیں تو شاید اچھا مشورہ ہی دے دوں۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو شئیر کروں۔وہ نظریں چرا کر بولی۔اسے حیرت تھی کہ زریاب کیوں اس سے ہمدردی جتا رہا ہے اس نے تو کچھ کہا بھی نہیں یا وہ بھی اس سے خاموش محبت کرتا تھا۔
میں صرف آپ کے نام سے واقف ہوں اور کچھ نہیں جانتا آپ کے بارے میں مگر آپ ہمیشہ اداس کھوئی کھوئی سی رہتی ہیں نہ کسی سے آپ بات کرتی ہیں آپ کی ذات بہت محدود ہے۔اگر آپ اپنا کسی کو دکھا نہیں سکتی تو کچھ پل رو لیا کریں دل ہلکا ہو جاۓ گا۔ وہ اسے مشورہ دے کر اٹھ کھڑا ہوا۔وہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔
جب تک زریاب اوجھل ہوتا اسکی نظریں اسی کو تکتی رہی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے زریاب کیوں اچھا لگتا ہے یا اسے ایسے ہمسفر کی تلاش تھی جو اسی کی طرح محدود ہو۔
اس نے بے بسی سے ٹیبل پر پڑی کتابوں پر سر رکھ لیا۔

تیرے ساتھ رہنے پہ میرا بس نہیں،
تجھے بھولنا بھی محال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کہاں گزاروں یہ زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سامنے یہ سوال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
کالج سے آکر وہ اپنے کمرے میں گھس گئی۔دن کا کھانا بھی نہیں کھایا اور نہ کسی نے کھانے کے لیے کہا کس کو فکر تھی اسکی، کون احساس کرتا۔
شام سے رات ہوئی مگر وہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی بھوک بھی زوروں کی لگ رہی تھی مگر باہر جانے سے کترا رہی تھی کہیں کوئی فساد نہ کھڑا ہو جاۓ۔
جب اسے یقین ہوگیا کہ سب اپنے کمروں میں چلے گئے ہیں وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی اور کچن کا رخ کیا۔
فریج کھول کر چیک کر رہی تھی کچھ کھانے کو ہے یا نہیں جب اشعر جگ لے کر کچن میں آیا۔
سوئی نہیں ابھی تک؟ اشعر نے اس سے پوچھا
نہیں مجھے بھوک محسوس ہو رہی تھی تو۔اس نے وہاں اپنی موجودگی کی وجہ بتائی۔
کیوں ڈرتی ہو سب سے جب تمہارا قصور نہیں ہے تو۔ ڈٹ کر رہو اگر ایسے ہی ان سے ڈرتی کتراتی رہی تو یہ لوگ تمہارا جینا حرام کر دیں گے۔یہاں پر تمہارا کوئی ہمدرد نہیں ہے ماموں بھی نہیں اپنی راہیں خود  ہی سہل کرنی ہیں تمہیں۔اشعر اسے سمجھا رہا تھا۔دیا نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
اشعر بھائی میں جیسی ہوں ٹھیک ہوں،آپ مجھ سے ہمدردی ہمدردی میں میری سزا میں اضافہ کر رہے ہیں پلیز مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجیے۔التجا کرتی ہوں آپ سے۔
اشعر نے اسکے ہاتھ تھام لیے۔
جیسا تم چاہو مگر میری باتوں پر غور کرنا میں تمہارے ساتھ ہوں۔
کیا ہو رہا ہے یہ؟ خالدہ جو کچن سے آتی آوازوں کیوجہ سے وہاں آئی تھی مگر ان دونوں کو اسطرح قریب کھڑے دیکھ کر اس کے تن بدن میں اگ لگ گئی۔دیا نے جلدی سے اپنے ہاتھ چھڑاۓ۔
خالدہ گالیاں بکتے دیا پر ٹوٹ پڑی۔
نیچ کمینی لڑکی تم ہی میرے بیٹے کو میرے خلاف کرتی ہو۔میں تمہیں زندہ دفنا دوں گی۔وہ اسکے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑتے ہوۓ پھنکاری۔
ماما چھوڑیں اسے، اسکی کوئی غلطی نہیں ہے۔اشعر اسے چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا۔
پیچھے ہٹو تم۔
ان کی چیخ و پکار سن کر نصرت بیگم اور نواز علی بھی کچن میں آگئے۔
کیا ہوا خالدہ؟ کیوں مار رہی ہو اسے؟ نصرت بیگم نے آگے بڑھ کر دیا کو چھڑوایا۔اشعر اسکی صفائی میں بول رہا تھا مگر خالدہ کی چنگاڑتی آواز میں اسکی آواز دب کر رہ گئی۔
ہم سب کے کمرے میں جانے کے بعد یہ اشعر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کیا کر رہی تھی۔اسکی ماں نے میرے شوہر کو چھین لیا اور اب یہ میرے بیٹے کو چھیننا چاہتی ہے۔
خالدہ سچ بتاؤ؟ نصرت بیگم کو یقین نہ آیا۔انہوں نے دیا میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں دیکھی تھی۔
امی میں جھوٹ بول رہی ہوں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے اشعر کیساتھ۔ خالدہ ٹسوے بہانے لگی۔
خدا کا خوف کریں امی وہ یہاں کچن میں کھانا کھانے آئی تھی۔اشعر نے پھر زبان کھولی جبکہ دیا ایک طرف سر جھکاۓ کھڑی تھی۔
اور تم اسے کھانا کھلانے آۓ تھے ہاں کیا کرنے آۓ تھے اسکے پاس؟
نواز علی دیا کے پاس آۓ۔
میری طرف دیکھو اور بتاؤ کیا خالدہ سچ کہہ رہی ہے۔
واہ نواز کبھی چور نے اپنی چوری مانی ہے۔
تم چپ رہو خالدہ۔نواز علی نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں منع کیا۔
بتاؤ دیا۔ نواز علی نے ایک بار پھر پوچھا
پھپھو نے جو دیکھا وہ سہی دیکھا مگر۔۔۔۔
دیکھ لیا نواز۔ خالدہ نے دیا کی بات بیچ میں سے کاٹی۔
اسکو بات تو پوری کرنے دیں ماما۔اشعر پھر تڑپ اٹھا۔نہیں زندہ چھوڑوں گا تمہیں مار دوں گا۔تمہاری ماں نے جس ذلت کے کنویں میں پھینکا اب تم بھی وہی کنواں کھود رہی ہو میرے لیے۔وہ اسکا گلا دبا رہے تھے۔
کیا کر رہے ہو نواز علی چھوڑو اسے۔نصرت بیگم اور اشعر دونوں آگے بڑے اور دیا کو نواز علی سے چھڑوایا۔
وہ دونوں نواز علی کو قابو کر کے کمرے میں لے گئے خالدہ بھی ان کے پیچھے اندر چلی گئی۔
اور وہ گلا پکڑ کر کھانستی ہوئی فرش پر بیٹھتی گئی۔
آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب نکل رہا تھا۔دل کی ایسی حالت تھی جیسے کسی آری سے چیر دیا گیا ہو۔
یا اللّٰہ ۔۔۔۔۔ اسکے زبان سے آہ کی صورت میں رب کا نام نکلا اس آگے کہتی بھی تو کیا کہتی بددعا دیتی بھی تو کس کو اپنے باپ کو جسے وہ جان سے بھی زیادہ چاہتی تھی۔
داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_3
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
فجر کی اذان کے وقت وہ فرش سے خود کو گھسیٹ کر اپنے کمرے تک لائی۔وضو کر کے جاۓ نماز پر کھڑی ہوئی۔آنسو پلکوں کی بھاڑ توڑ کر چہرہ بھگو رہے تھے۔نماز پڑھتے ہوۓ بھی ہچکیوں سے روتی رہی۔اسے نہیں معلوم تھا یہ زندگی اسے کہاں لے جاۓ گی۔
اسکی زندگی کی طرح اسکی بات بھی ادھوری رہ گئی تھی جسکا غلط مطلب لیا گیا تھا۔
نماز پڑھ کے وہ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔سردی کی وجہ سے جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔سر بھاری ہو رہا تھا۔مگر جب تھوڑا سردی لگنا کم ہوئی وہ اٹھ کر کالج جانے کی تیاری کرنے لگی۔وہی اسکی جاۓ فرار تھا۔
دروازے پر دستک دے کر گلزار بی اندر آئی۔
دیا بی بی، بیگم صاحبہ آپ کو اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں۔وہ نصرت بیگم کا بلاوا دے کر چلی گئی۔
وہ سوچوں میں گم نصرت بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی۔ہلکی سی دستک دے کر اندر گئی۔
نصرت بیگم بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی اور خالدہ صوفے پر بیٹھی تھی۔
دادو آپ نے بلایا؟ وہ ان کے سامنے کھڑی ہوئی۔
ہاں کالج جا رہی ہو ؟ اسے تیار دیکھ کر بولی۔
جی۔
شام کو تمہارے ماموں آرہے ہیں تمہیں لینے کے لیے۔ خالدہ نے کہا۔
آج کالج جانے کی بجاۓ اپنا سامان پیک کر دینا۔اب ہم مزید گندی نسل کو برداشت نہیں کر سکتے۔
وہ ہونٹوں پر چپ کا قفل لگاۓ کھڑی تھی یا اس نے قسم کھا رہی تھی کوئی کچھ بھی کہے وہ نہیں بولے گی۔
اس نے ایک نظر دادو کو دیکھا جو چہرے پر چٹانوں جیسی سختی لیے ہوۓ تھی۔ان کی بھی خالدہ نے برین واشنگ کر دی تھی۔
اب کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہی ہو امی کا ہی فیصلہ ہے یہ۔ اب جاؤ۔
وہ کمرے سے باہر نکلی پاؤں گھسیٹتی وہ بمشکل خود کو اپنے روم تک لائی۔
اشعر بھائی ٹھیک کہہ رہے تھے میرا یہاں کوئی ہمدرد نہیں ہے بابا بھی نہیں۔
وہ آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوئی۔ سوجا ہوا چہرہ اور گلابی آنکھیں رات کی کہانی بیان کر رہے تھے۔
میری ذات اب ان پر بوجھ بن گئی ہے۔کیا میری جگہ بیٹا ہوتا تو کیا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا؟ نہیں یہ سزائیں اور ذلت بیٹی کے لیے ہی ہوتی ہیں۔
اس نے بے دردی سے آنسو صاف کیے اور اپنا سامان پیک کرنے لگی۔
سامان پیک کر کے وہ ڈائری لے کر اپنے پسندیدہ گوشے میں آگئی شاید آخری بار۔
درخت کے آس پاس بکھرے پتے کو ہاتھ سے ہٹا کر وہ وہاں زمین پر بیٹھ گئی۔
سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئی زندگی اپنی۔۔۔۔
کسی نے سمیٹا بھی تو صرف جلانے کے لیے۔۔۔۔
میری زندگی ان پتوں کی طرح ہی بے مول ہے۔جس طرح درخت ان پتوں کو جھڑ دیتا ہے اور یہ ادھر ہی گل سڑ جاتے ہیں نام و نشان مٹ جاتا ہے انکا بلکل اسی طرح مجھے بھی اپنوں نے چھوڑ دیا ہے اور میں بھی بکھرتی جا رہی ہوں سلگتی جا رہی ہوں اور ایک دن میرا نام و نشان بھی مٹ جاۓ گا۔
بابا کا بھی کوئی قصور نہیں ہے میری ماں نے انکا اعتبار توڑا اور اب وہ کسی کو اعتبار کے قابل نہیں سمجھتے، میں تو اس بد نصیب عورت کی بد قسمت بیٹی ہوں۔
بہت سی باتیں تھی جو اس کے اندر دبی تھی۔

ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ
ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﻮﮞ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﯿﺘﮯ ﻟﻤﺤﮯ۔۔۔؟

ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﮮ ﮔﺰﺭﮮ ﭘﻞ۔۔۔؟

ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ۔۔۔!!

ﮈﺍﺋﺮﯼ ﮐﮯ ﮐﻮﺭﮮ ﮐﺎﻏﺬﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﮨﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔!!

ﺟﮩﺎﮞ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﮑﮫ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﺷﺘﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﭘﺎﺋﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﭘﺎﺋﮯ۔۔۔!!

ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺗﮭﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔!!

ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺠﻮﻡ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﮭﮯ۔۔۔!!

ﮐﮩﯿﮟ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﺗﮭﯿﮟ
ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺎﺭﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔!!

ﮐﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮨﯿﮟ ﻏﻢ ﻭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔!!

ﻧہ ﻟﮑﮫ ﭘﺎئی ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺧﺴﺎﺭﮮ تھے۔
ڈائری بند کر کے اس نے گود میں رکھی اور سر درخت کے تنے سے ٹکا کر آنکھیں موندھ لی۔
"کچھ پل رو لیا کریں دل ہلکا ہو جاۓ گا" زریاب کی کہی بات اسے یاد آئی۔
"نہیں زریاب، جیسے دیا بجھ جاۓ تو اسے جلایا جاتا ہے ایسے ہی میری زندگی ہے میں روؤں گی تو مجھے اور رلایا جاۓ گا"
وہ دل میں زریاب سے مخاطب تھی۔
تھوڑی دیر بعد درخت کے ساتھ سر ٹکاۓ گہری نیند سو رہی تھی یا شاید اس لیے کہ پھر کبھی اسے یہاں آنے کا موقع نہ ملے۔۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
اسکی آنکھ کھلی تو آسمان پر گہری دھند اور بادل چھاۓ ہوۓ تھے۔وہ ڈائری اٹھا کر گھر کے رہائشی حصے کیطرف بڑھی۔
ابھی تک تم تیار نہیں ہوئی ماموں آرہے ہیں تمہارے۔ ابھی اس نے لاؤنج میں قدم رکھا ہی تھا جب خالدہ نے کڑک آواز میں کہا۔
ہونے جا رہی ہوں۔وہ ان کے پاس سے گزر کر اپنے کمرے میں آگئی۔
منہ پر چھینٹے مار کر گرم سوٹ نکال کر پہنا۔سر پر کپڑوں کا ہم رنگ دوپٹہ حجاب کی طرح رکھا اور گرم شال لپیٹ لی۔
آدھے گھنٹے بعد رضا احمد آۓ تھے۔گھر کے اندر آنے کی بجاۓ انہوں نے باہر سے ہی دیا کو بلا بھیجا۔
نصرت بیگم کے علاوہ اس سے کوئی نہیں ملا تھا۔خالدہ اور نواز علی کمرے سے باہر نہیں نکلے تھے اور  رات کے بعد دیا کا اشعر سے سامنا نہیں ہوا تھا۔
ایک نظر وہ گھر کو دیکھ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
رضا احمد اس سے ستارہ احمد کی باتیں کرتے رہے مگر وہ ہنوز خاموش رہی۔
جب تک پیدا ہوئی ستارہ بہت خوش تھی اس نے خود تمہارا نام "دیا" رکھا مگر پھر۔۔
وہ خاموش ہو گئے تھے۔
پھر کیا ہوا ماموں جان؟ دیا نے انہیں چپ دیکھ کر کہا۔
پھر سب بہہ گیا اس کی خوشیاں خواہشیں سب۔ وہ اداس ہو گئے تھے۔
تو کیا میں ماں کے لیے غموں کا دیا بن کر دنیا میں آئی تھی۔اس نے دل میں سوچا۔
تمہاری ماں کی شادی امی جان کی مرضی سے ہوئی تھی۔شادی کے بعد نواز علی کے سنگ وہ بہت خوش تھی اور تمہاری پیدائش کے بعد وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتی مگر اس کے بعد جنید تمہارا پھوپھا امریکہ سے آیا۔ کسی نہ کسی بہانے روزانہ وہ حویلی آتا۔کب ستارہ کیساتھ اسکی دوستی شروع ہوئی کچھ نہیں پتہ مگر۔
مگر ستارہ کی زندگی خراب ہو گئی۔ یہ بات آگ کی طرح پورے گاؤں میں پھیل گئی اور ستارہ نے اپنے ساتھ ساتھ ہمارے ماتھے پر بھی بدنامی کا ٹیکا لگا دیا۔
وہ کچھ توقف کے لیے خاموش ہوۓ۔پہلی بار دیا کو کسی کا خاموش ہونا برا لگا تھا۔
پھر پھر کیا ہوا؟
روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر نواز علی نے ستارہ کو طلاق دے دی اور جنید اسے اپنے ساتھ لے گیامگر بد قسمتی سے انکا ایکسیڈنٹ ہوا گیا اور ان دونوں کے جنازوں کیساتھ ہم دونوں خاندانوں کی عزت کا بھی جنازہ نکل گیا۔بہت طعنے برداشت کیے لوگوں کے پھر بھی میرے دل میں اس کے لیے نفرت نہ پیدا ہو سکی
وہ آنسو پونچھ رہے تھے۔
تم نے ستارہ کی شکل و صورت چرائی ہے تمہیں دیکھ کر مجھے لگا جیسے ستارہ میرے سامنے آگئی ہے۔
وہ تھوڑی دیر بعد بولے۔
غلطی تو پھوپھا کی تھی پھر ماما کو کیوں ذلیل کیا جاتا ہے؟
بیٹا عورت سفید چادر کی طرح ہوتی ہے اس پر ذرا سا دھبہ لگ جاۓ تو سب کی نظروں میں آجاتا ہے۔
باقی کا رستہ خاموشی سے گزرا۔
ان کے گھر پہنچتے ہی تیز طوفانی بارش شروع ہو گئی۔
وہ گاڑی سے اتر کر جب تک برآمدے میں پہنچتے مکمل بھیگ چکے تھے۔عالیہ(رضا احمد کی بیوی) اس سے مسکرا کر ملی تھی جس سے اسکی کچھ ڈھارس بندھی۔
عالیہ نے اسے اسکا کمرہ دکھایا اور ان دونوں کے لیے چاۓ بنانے کچن کیطرف بڑھی۔
اس نے ایک نظر کمرے کو دیکھا۔
درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس میں براۓ نام ہی سامان تھا۔اس نے پہلے ڈریس چینج کیا اور پھر تفصیل سے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔
اسے کمرہ کا ایک حصہ جہاں بڑی سی کھڑی جو گھر کے پچھلے حصے کیطرف کھلتی تھی بہت پسند آیا۔اس نے پردہ ہٹا کر کھڑی کھولی۔ہوا کی وجہ سے بارش کی بوندیں اس کے چہرے پر پڑی اس نے جلدی سے کھڑی بند کی۔اور پردہ گرا دیا۔
"دیا" چاۓ پی لو۔ عالیہ نے اسے دروازے کے باہر سے ہی آواز دی۔
وہ شال اوڑھتی باہر آئی۔
لاؤنج میں رضااحمد کیساتھ ایک نوجوان بھی بیٹھا تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ کچھ جھجکی۔
آجاؤ چاۓ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ وہ رضا احمد کی دوسری طرف بیٹھ گئی۔
اسے نہیں پہچانا؟ رضا احمد نے نوجوان کیطرف دیکھ کر کہا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میرا بیٹا اور تمہارا کزن حسنین ہے۔حسنین رضا احمد۔ رضا احمد نے اسکا تعارف کروایا حسنین نے مسکراتے ہوۓ اسے ہاتھ ہلایا۔
اور اس سے بڑی ایک بیٹی ہے ماریہ رضا۔
وہ نظر نہیں آرہی؟ کہاں ہیں؟ اس نے پوچھا
وہ شادی شدہ ہے۔ماشاءاللہ ایک بچی بھی ہے اسکی۔ رضا احمد نے لہجے میں پیار سموتے ہوۓ کہا۔
اسے احساس کمتری نے آگھیرا۔بہت پیار محسوس کیا اس نے رضااحمد کے لہجے میں اپنی بیٹی کے لیے مگر ایک وہ تھی کہ اپنے باپ پر بوجھ بن گئی تھی۔نمکین پانی پھر آنکھوں میں جمع ہو رہا تھا۔
اس نے جلدی سے چاۓ ختم کی اور رضااحمد سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
رضا ماموں اور عالیہ ممانی اسے اچھے اور اپنے اپنے سے لگے تھے۔رضا احمد جب بھی اسکے ساتھ بیٹھتے اسکی ماں کی چھوٹی چھوٹی باتیں اسے بتاتے۔ ایک وہی تو تھے جو ستارہ احمد کا ذکر پیار اور نرمی سے کرتے تھے ورنہ اس نے ہمیشہ اپنی ماں کا ذکر حقارت اور نفرت  سے سنا تھا۔
وہ یہاں آنے سے پہلے عالیہ ممانی کے رویے کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتی رہی مگر ان سے مل کر وہ مطمئن ہو گئی تھی۔
اگلے دن گاڑی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وہ کالج نہیں گئی اور رضااحمد نے بھی اسے ایک دن آرام کرنے کا کہا تھا۔
دو دن چھٹی کرنے کے بعد تیسرے دن وہ کالج آئی تھی۔وہ اپنے ڈیپارنمنٹ کی طرف جا رہی تھی جب اسے زریاب کی آواز آئی۔
رکیے پلیز۔ وہ اس سے کچھ فاصلے پر تھا اور تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
آپ دو دن کیوں نہیں آئی۔اس نے پاس آکر کہا۔
اور گاڑی بھی اور لگوا لی کیوں؟
ایسے ہی۔وہ اب اسے کیا بتاتی کہ اسکا ایک ٹھکانہ تھوڑی ہے۔
ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں لوگ بار بار ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ زریاب نے ادھر اُدھر دیکھ کر کہا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ دونوں کیفے ٹیریا کی طرف بڑھے۔
#داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_4
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
وہ دونوں کیفے ٹیریا میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
آپ کے دو دن نہ آنے کیوجہ سے میں بہت پریشان رہا اور بہت کمی محسوس ہوئی آپ کی۔زریاب نے بات کا آغاز کیا۔
پتہ ہے جب میں ہفتے بعد کالج آیا تھا تو میں نے آپ کی آنکھوں میں وہ خوشی وہ چمک محسوس کر لی تھی جو مجھے دیکھنے سے در آئی تھی مگر جب آپ نے مجھے روکا تو یہ بات مجھے بری لگی مجھے بولڈ لڑکیاں ناپسند ہیں مگر پھر آپکا اداس ہو کر واپس مڑ جانا مجھے آپکی طرف متوجہ کر گیا۔
وہ ٹکٹکی باندھے اسے سن رہی تھی۔
میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان تین چار دنوں میں، میں آپ سے شدید محبت میں مبتلا ہوگیا ہوں مگر جو احساسات میرے دل میں آپ کے لیے ہیں وہ کبھی کسی کے لیے پیدا نہیں ہوۓ میں نے ان دنوں حد سے زیادہ آپکو سوچا ہے۔کیا آپ کے بھی میرے لیے یہی احساسات ہیں؟ وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔
ہاں۔شاید آپ سے بھی زیادہ۔
مگر مجھ میں پانے کی خواہش نہیں ہے۔ایک ہی خواہش تھی میری آپ کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کر سکوں جس طرح میں آپ کو یاد کرتی ہوں آپ کی کمی محسوس کرتی ہوں اسی طرح آپ بھی میرے لیے کریں۔ہاں مگر اپنی زندگی کو مکمل ہونے کی دعا ضرور مانگوں گی جو آپ کے ملنے سے ممکن ہے۔
وہ یہ سب کہہ کر وہاں ٹھہری نہیں۔
زریاب کو وہ بہت عجیب لگی تھی۔کبھی چھوٹی سی بات کہتے جھجکتی اور کبھی بڑی سے بڑی بات بھی کہہ دیتی تھی۔
وہ اسکی باتیں سوچ کر مسکرایا اور کیفے سے نکل کر اپنے ڈیپارنمنٹ کیطرف بڑھا۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
وقت گزرتا گیا وہ اب پہلے کی طرح اداس نہیں رہتی تھی محبت کے جذبے نے اس میں نئے رنگ بھر دیے تھے۔اسکے بعد زریاب سے اسکی ملاقات تو نہیں ہوئی ہاں اگر آمنا سامنا ہو جاۓ تو دونوں کے چہرے پر پیاری سی مسکان بکھر جاتی۔
گھر بدلنے سے اسکی زندگی میں سکون در آیا تھا۔
وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر کے منظر کو دیکھنے میں محو تھی۔آج اسے نصرت بیگم اور بابا کی یاد ستا رہی تھی۔
دو ہفتے ہونے کو آۓ تھے اسے رضا احمد کے گھر آۓ ہوۓ۔مگر ایک بار بھی کسی نے اسے کال نہیں کی تھی اور نہ اس کی ہمت ہوئی کہ وہ کال کرتی۔

کچھ ایسے زخم ہیں جن کو سبھی شاداب رکھتے ہیں____
کچھ ایسے داغ ہیں جن کو کبھی دھویا نہیں جاتا____

دیا کیا کر رہی ہو؟ عالیہ نے کمرے میں جھانکا
جی ممانی جان۔وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹی۔
مصروف تو نہیں ہو؟ ماریہ آرہی ہے تم کچن کے کاموں میں میری مدد کر دو گی؟
جی ضرور۔وہ خوشدلی سے بولی مگر اندر ہی اندر ایک سوچ اسے پریشان کیے ہوۓ تھے۔
پہلے بھی اتوار کو شام کے وقت نصرت بیگم نے اسے خالدہ کے آنے کی اطلاع دی تھی اور آج وہی باتیں عالیہ نے دوہرائی تھی۔نہ جانے کیوں اسکا دل ذرا سی بات پر سکڑنے لگتا تھا۔
وہ کچن میں غائب دماغی سے کام کرتی رہی۔
رات کے وقت آٹھ بجے ماریہ اور پانچ سالہ بیٹی حسنین کیساتھ گھر آئی تھی۔اسے ہنس مکھ سی ماریہ بہت اچھی لگی دل سے ڈر اور پریشانی غائب ہو گئے تھے۔
رضا احمد کے گھر آنے کے بعد رات کا کھانا کھایا گیا آدھی رات تک باتیں ہوتی رہی مگر وہ جلدی ہی اپنے کمرے میں آگئی وہ کم گو اور تنہائی پسند تھی یا اسے تنہا اور خیالوں میں رہنے کی عادت ہو گئی تھی۔
اگلے دن کالج سے آنے کے بعد کچھ دیر وہ ماریہ کساتھ بیٹھی رہی پھر کمرے میں آکر اسٹڈی کرنے لگی مگر باہر سے آتی عالیہ اور ماریہ کی آواز سے اسکا دھیان بٹ جاتا۔
اپنی ماما کا نام سن کر نہ چاہتے ہوۓ بھی اسکا دھیان انکی باتوں کیطرف چلا گیا۔
ستارہ پھپھو نے جو دھبہ ہم پر لگایا کیا آپ اور پاپا بھول گئے اب انکی بیٹی کو یہاں لے آۓ گھر میں جوان لڑکا ہے۔ماریہ اپنی ماں سے سرگوشی میں بات کر رہی تھی مگر آواز اتنی اونچی ضرور تھی جو دیا کو بآسانی سنائی دے رہی تھی۔
مجھے تو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔اپنی ذات میں مگن نہ کسی کی برائی نہ اچھائی۔
واہ امی۔یہ بات تو سوچیے اسکے نواز پھوپھا نے اسے کیوں گھر سے نکالا کوئی نہ کوئی تو بات ہوئی ہوگی میری مانیں تو شادی کر دیں اسکی۔پڑھائی شادی کے بعد ہوتی رہے گی۔
ماریہ نے رازداری سے عالیہ کو کہا۔
وہ سوچ رہی تھی اب اس طعنے نے اسکا پیچھا چھوڑ دیا ہے مگر وہ غلط تھی۔ایک بار جو داغ عورت کی ذات پر لگ جاۓ اسکی ذات ہی نہیں اسکی نسل بھی تباہ کر دیتا ہے بدنام وہ ہی نہیں اس سے جڑا ہر رشتہ بدنام ہوجاتا ہے۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔
ان کے دوست ہیں۔کافی امیر کبیر ہیں ان دنوں رشتے کی تلاش میں ہیں اگر آپ کہیں تو میں ان کے کان میں بات ڈال دوں۔
پہلے تمہارے بابا سے بات کر لوں پھر۔
ہاں ہاں بابا کو آپ پہلے راضی کریں۔ماریہ نے جلدی سے کہا
مگر یہ فیصلے جلد بازی میں نہیں ہوتے ماریہ۔مجھے ڈر لگتا ہے اس کیساتھ کچھ برا نہ ہوجاۓ۔آہ لگ جاۓ گی اسکی۔عالیہ نے کہا
ہم کونسا اس کے ساتھ برا کرنے جا رہے ہیں شادی کیا میری نہیں ہوئی۔اسی جتنی تھی میں۔ ماریہ نے انکے انکار کرنے کے تمام رستے مسدود کر دیے تھے۔
میں بات کروں گی رضا سے۔
ہاں پھر آگے بات بڑھاؤں گی۔حسنین ہے گھر میں کل کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو سارا الزام ہمارے سر آۓ گا اس سے پہلے ہی شادی کر دینگے۔
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم میرا اسطرف دھیان ہی نہیں گیا آج ہی رضا سے بات کروں گی۔
وہ انکو اپنی بات پر راضی کر کے خوش ہو گئی تھی اور خوشی سے عالیہ بیگم کو لڑکے کے بارے میں تفصیل بتانے لگی۔
اب اسے ادھر سے بھی نکالنے کا بھی پلان منایا جارہا تھا مگر فرق اتنا تھا پہلے تہمت لگا کر نکالا گیا تھا مگر اب شادی کروا کے۔
✴✴✴✴✴۞۝۞✴✴✴✴✴
اگلے دو دنوں میں عالیہ اور ماریہ نے رضااحمد کو بھی اپنی بات پر راضی کر لیا تھا۔ماریہ سب کے کانوں میں رشتے کی باتیں ڈال کر چلی گئی مگر ہفتہ گزرتے ہی وہ شوہر کیساتھ آدھمکی۔
گھر کی صفائی ستھرائی اور کچن سے اٹھتی کھانوں کی خوشبو سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خاص مہمان آنے والا ہے۔
وہ کالج سے آئی تو ماریہ کو دیکھ کر اسے خطرے کی بو محسوس ہوئی۔
شکر ہے تم وقت پر آگئی جلدی سے کپڑے بدلو اور ہلکا سا میک اپ کر لو۔تمہارے رشتے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں۔ ماریہ نے اسے لاؤنج میں روک کر کہا
جی۔وہ فرمانبرداری سے اسکی ہر بات پر سر ہلا رہی تھی۔
ہاں میں نے سوٹ رکھ دیا ہے تمہارے کمرے میں۔عالیہ اسکی فرمانبرداری پر صدقے واری جا رہی تھی۔
اس نے کمرے میں آکر بیگ ٹیبل پر رکھا۔
بیڈ کی پائنتی پر ڈریس رکھا ہوا تھا وہ ڈریس اٹھا کر واشروم میں گھس گئی۔
پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلی پنک ڈریس جس پر بلیک موتیوں کی کڑھائی کی ہوئی تھی میں گلاب کا پھول لگ رہی تھی۔
وہی پھول جسے کانٹے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں وہی پھول جسکو اپنی تسکین کے لیے بڑی بے دردی سے توڑ دیا جاتا ہے۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے ایک نظر خود کو دیکھا۔
سردی کی وجہ سے اسکا جسم کپکپا رہا تھا ہونٹ نیلے ہو گئے تھے اس نے ہیٹر آن کیا۔
اندر کا موسم بھی تو سرد تھا خزاں کیطرح ویران۔
دعائیں سب رائیگاں گئی تھی۔

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں، گویا کاغذ کے پھول ہوتی ہیں❤
ہر کسی کے نام پر نہی  رکتی دھڑکنیں بااصول ہوتی ہیں❤
پتھروں کے خداؤں کے آگے التجائیں فضول ہوتی ہیں❤
کوئی میرے لبوں کو بھی دے دو جو دعائیں قبول ہوتی ہیں❤
#داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_5
     ۞۝۞   
کچھ ہی دیر بعد مہمان بھی آگئے۔ماریہ اسے لے کر باہر آئی اور چاۓ اور لوازمات کی ٹرالی دے کر اسے ڈرائنگ روم میں بھیجا جہاں مہمان بیٹھے تھے۔
اندر داخل ہو کر اس نے دھیمی لہجے میں سلام کیا اور سب کو چاۓ سرو کی۔ماریہ اسے بیٹھنے کے اشارے کرتی رہ گئی مگر وہ باہر نکل گئی۔
آواز کہیں دب گئی تھی اگر کچھ بولتی تو ضبط ٹوٹ جاتا اور وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔اپنے کمرے میں آکر بھی وہ باہر سے پرسکون تھی مگر دل لہولہان تھا دہاڑے مار مار کر رو رہا تھا مگر اسے گہری چپ لگ گئی تھی کبھی نہ ٹوٹنے والی۔ وہ تھک گئی تھی اپنوں کے طعنے سن سن کر ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت کر اور اس نے وقت کی آخری آزمائش سمجھ کر اس پر بھی صبر کر لیا۔
مہمانوں کے جانے کے بعد رضا احمد نے اسے اپنے کمرے میں بلوا کر ایک بار پھر اسکی رضامندی لی۔وہ اسے تسلیاں دیتے رہے اسکو نصیحتیں کرتے رہے اور وہ سب چپ چاپ سنتی رہی۔وہ کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی بولتی تو ایک ہی طعنہ ملتا گندے خون کی گندی نسل۔
آفتاب بہت اچھا لڑکا ہے۔عمر میں تم سے کچھ بڑا ہے مگر سلجھا ہوا ہے اپنا بزنس ہے اسکا، زیادہ فیملی بھی نہیں ہے آفتاب سے بڑی بہن جو شادی شدہ ہے انگلینڈ میں سیٹل ہے اور ایک چھوٹا بھائی جو پڑھ رہا ہے۔وہ اسے تفصیل بتا رہے تھے۔
مجھے امید ہے تم اسکے سنگ خوش رہو گی۔میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں خدا نصیب اچھے کرے۔وہ اسے محبت سے دعاؤں سے نواز رہے تھے۔
مگر وہ انکی دعاؤں پر آمین بھی نہ کہہ سکی۔گلے میں آنسوؤں کا گولہ پھنسا ہوا تھا آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
وہ دو ماہ میں شادی کرنا چاہتے ہیں پہلی بار اس نے سر اٹھا کر رضا احمد کیطرف دیکھا۔دراصل اسکی بہن انگلینڈ جانے سے پہلے اسکی شادی کرنا چاہتی ہے۔
میں چاہتا ہوں تمہارے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں مگر تمہاری رضامندی بھی تو ضروری ہے۔
ماموں جان جیسا آپ چاہیں۔آپ جانتے ہیں میں آپکی کسی بھی بات سے انکار نہیں کرتی۔اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
جیتی رہو۔وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولے
وہ وہاں سے اٹھی قدم من من بھر کے ہورہے تھے دھندلائی آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا وہ بمشکل خود کو اپنے کمرے تک لائی اور کمبل رکھ کر لیٹ گئی۔
سر میں ناقابلِ برداشت درد ہورہا تھا مگر دل میں اس سے بھی زیادہ۔
(کچھ پل رو لیا کریں، میں نے ان دنوں حد سے زیادہ آپکو سوچا ہے، جو احساسات میرے دل میں آپکے لیے ہیں وہ کسی کے لیے نہیں)
بار بار زریاب کی باتیں ذہن میں آرہی تھی اسکا مسکراتا چہرہ، پھر ذہن ہر سوچ سے مفلوج ہو گیا اور آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ اندھیرا چھا گیا۔
     ۞۝۞   
اگلے چند وہ تیز بخار میں مبتلا رہی جسکی وجہ سے کافی کمزور ہو گئی تھی رنگت پیلی پڑ گئی تھی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھی۔رضااحمد اور عالیہ اسکے لیے بہت فکر مند ہو گئے تھے۔بخار کچھ کم ہوا تو دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔عالیہ نے اسکا حد سے زیادہ خیال رکھا مگر وہ جسمانی طور پر کم ذہنی طور پر زیادہ بیمار تھی۔
دو ہفتے گزرنے کے بعد وہ کالج آئی سب کچھ ویسا ہی تھا بدل تو وہ خود گئی تھی۔کالج میں صرف زریاب اسکا منتظر تھا باقیوں سے اسکی دعا سلام نہ ہونے کے برابر تھی۔
کہاں تھی آپ؟ اس نے بےتابی سے پوچھا میں نے ہر دن شدت سے انتظار کیا آپکا؟ بیمار لگ رہی ہیں؟ وہ اسکے لاغر وجود کو دیکھ کر بولا۔
جی بخار ہو گیا تھا سردی کی وجہ سے۔ اس نے دھیمے لہجے میں بتایا۔
اب کیسی طبیعت ہے؟
ٹھیک ہوں۔
میں بہت پریشان ہوگیا تھا طرح طرح کہ دل میں وسوسے آرہے تھے۔
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے یہاں میں نہیں کر سکتی آپ کہیں باہر مل سکتے ہیں مجھے۔اس نے ادھر ادھر لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہوۓ کہا زریاب کو پریشانی ہوئی کہ ایسی کونسی بات ہے جو کالج میں نہیں ہوسکتی۔
اگلے دن گھر سے وہ کالج کا کہہ کر نکلی تھی مگر زریاب کیساتھ وہ اسکے گھر آگئی۔وہ اسے بیڈ روم میں لے کر آیا زریاب پر اسکو پورا بھروسہ تھا پھر بھی اسنے اپنی حفاظت کے لیے آیت الکرسی پڑھ لی۔
زریاب کو عجیب بے چینی نے گھیر رکھا تھا۔
کیا بات ہے دیا؟ زریاب نے اسے پریشان دیکھ کر کہا۔
میری شادی طے ہو گئی ہے۔اس نے اٹک اٹک کر بات مکمل کی۔
وہ آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
خدا کے لیے دیا مجھے آزماؤ مت سچ بتاؤ میرا دل تھم جاۓ گا۔وہ جذباتی ہو کر بولا
میں سچ کہہ رہی ہوں۔اس نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا
غم سے اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا وہ شاکڈ تھا ابھی تو محبت کی شروعات ہوئی تھی، ابھی تو محبوب کو جی بھر کر کے دیکھا بھی نہیں تھا ابھی محبت کو مکمل طور پر محسوس بھی نہیں کیا تھا محبت کی ابتدا کیساتھ ہی انجام بھی ہو گیا۔
میں زبان کے ہوتے ہوۓ بھی بے زبان ہوں زریاب۔میں انکار نہیں کر سکی میری زندگی دوسروں کے رحم و کرم پر ہے میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاؤں گی۔اچانک اسکی نظر ایک فریم پر ٹھہر گئی جو زریاب کے روم میں سامنے کی دیوار پر لگا تھا۔جس میں دو شخص کھڑے مسکرا رہے تھے۔ایک کو تو وہ پہچان گئی تھی وہ زریاب تھا مگر دوسرا شخص؟
کچھ پل خاموشی میں گزر گئے۔
تم مجھے یہ بتانے آئی ہو؟ وہ آپ سے تم پر اتر آیا تھا۔کیوں آئی تھی میری زندگی میں جب میرا ہونا نہیں تھا کیوں میرے دل میں محبت کا احساس جگایا اور جب میرا پور پور تمہاری محبت میں ڈوب گیا تو تم مجھے چھوڑ رہی ہو۔میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا دیا۔وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔
میری مجبوری سمجھیں۔میرے دل میں آپکے لیے جگہ ہے احساسات ہیں یہی آپکی محبت کی جیت ہے۔جسم کا پانا تو محبت نہیں ہوتی۔وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی مگر وہ کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھے۔
میں تمہیں کسی اور کے ساتھ کیسے برداشت کروں گا بے وفائی مت کرو کچھ رحم کرو۔میری زندگی میں روشن دیا جلا کر اسے مت بجھاؤ۔وہ ہاتھ جوڑ کر اس سے التجا کر رہا تھا۔اسکی آواز میں آنسو کی آمیزش بھی شامل تھی۔
میری زندگی بہت کٹھن ہے زریاب اسے اور مشکل مت بنائیں ورنہ دیا بجھ جاۓ گی ہمیشہ کے لیے۔ وہ آنسو بہاتی یہ کہہ کر باہر نکل گئی۔تیزی سے بھاگتے ہوۓ وہ اسکے گھر سے نکلی اور رکشہ کر کے اپنے گھر آگئی۔
عالیہ نے اس سے جلدی آنے کی وجہ پوچھی اسنے طبیعت خرابی کا بہانہ بنایا، عالیہ نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمریچر چیک کیا تو وہ واقعی بخار میں پھنک رہی تھی۔
عالیہ نے اسے دوا پلا کر آرام کرنے کا کہا وہ خود بھی اسکی بیماری کیوجہ سے پریشان تھی ان کے ذہن میں یہی تھا ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے بخار ہے۔
اگلے چند دن میں بخار تو ٹوٹ گیا تھا مگر چہرے پر ہڈیاں ابھر آئی تھی۔ایک ماہ بعد اسکی شادی تھی مگر وہ بستر سے ہی لگ کے رہ گئی تھی کمزوری اسقدر تھی کہ دو قدم چلتی تو چکر آنے لگتے۔
نصرت بیگم اور نواز علی کی بھی شدت سے یاد آرہی تھی اسکا دل ان سے ملنے کو تڑپ رہا تھا۔سب محبتوں نے مل کر اسکو غم کے گہرے کنویں میں دھکیل دیا تھا۔
     ۞۝۞   
ایک ماہ پلک جھپکتے گزر آگیا۔
مہندی کی رات اسنے روایتی دلہنوں کی طرح سبز اور پیلے رنگ کا سوٹ پہنا۔وہ گھونگھٹ ڈالے بت بنی بیٹھی تھی اسکے پاس قالین پر بیٹھی لڑکیاں ڈھولکی کیساتھ گیت گا رہی تھی جس میں ماریہ برابر سبکا ساتھ دے رہی تھی۔
کالا__شا__کالا
میرا_کالا_اے_دلدار
تے_گوریَاں_نُوں_پَراں_کرو
ماریہ آفتاب کی سانولی رنگت کی وجہ سے یہ گیت گا کر اسے چھیڑ رہی تھی مگر اسے کچھ اچھا برا نہیں لگ رہا تھا۔
دولہے کی طرف مہندی لائی گئی تھی سب لڑکیاں باہر کیطرف بھاگی وہ اکیلی اسٹیج پر بیٹھی تھی مگر اندر آتے شخص کو گھونگھٹ کی اوٹ سے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھی اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ماریہ کے پاس آتے ہی اس نے سرگوشی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا مگر ماریہ کا جواب سن کر اسے ایسے لگا جیسے وہ زمین اور آسمان کے درمیان معلق ہے۔

#داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_6
#سیکنڈلاسٹ
     ۞۝۞   
"یہ آفتاب آفندی کا چھوٹا بھائی زریاب آفندی ہے"
وہ نہیں جانتی کسطرح اس نے خود کو سنبھالا وہ اس کے پاس آیا تھا مگر گھونگھٹ کیوجہ سے وہ اسے دیکھ نہ سکا۔غم کی وجہ سے اسکی گھگھی بند ہو گئی۔
آدھی رات کو اپنے کمرے میں آکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی یہ قسمت کیسا کھیل کھیل رہی تھی اسکے ساتھ یہ کیسا مذاق تھا۔
اس نے سیل پر نواز علی کا نمبر ڈائل کیا۔مگر نمبر آف جا رہا تھا۔ وہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی وہ ان سے التجا کرنا چاہتی تھی کہ وہ اسے آکر لے جائیں وہ کبھی وہ اپنی ماں کی کہانی نہیں دہراۓ گی۔
اس نے ایک ڈیڑھ گھنٹے کا وائس میسیج نواز علی کو سینڈ کر دیا۔رو رو کر اسکی آنکھیں سوچ گئی تھی گلا دکھنے لگا تھا۔اس نے مہندی کا ڈریس چینج کیا اور وضو کر کے اللہﷻ کے حضور کھڑی ہو گئی۔عشاء کی نماز پڑھ کر اس نے دعا مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھاۓ مگر الفاظ ہی کہیں کھو گئے آنسو نے اسکا مدعا بیان کیا آج وہ ہر ضبط توڑ کر رو رہی تھی آج وہ تھک کر روئی تھی اس نے آخری آزمائش سمجھ کر شادی کے لیے ہامی بھری تھی مگر اس شادی سے جڑی ایک بڑی آزمائش اسکی منتظر تھی۔ وہ درد کی آخری حد پر تھی۔وہ بکل ٹوٹ چکی تھی بکھر چکی تھی اور نہ یہ بات خدا کے سوا کسی سے شئیر کرنے کے قابل تھی۔
اس رات اس نے نواز علی کا نمبر بار بار ملایا مگر نمبر مسلسل آف جا رہا تھا۔وہ پل پل مر رہی تھی مگر کسی کو اسکی پرواہ نہیں تھی۔اپنی ماں کی غلطیوں کی سزا بھگت بھگت کر وہ ختم ہو چکی تھی مٹ چکی تھی۔اسکا جسم چلتی پھرتی لاش تھی اسکا اندر تو جل کر بھسم ہو چکا تھا۔
فجر کی اذان ہوئی وہ جاگ رہی تھی اس نے نماز پڑھی اور دل سے دعائیں مانگنے لگی۔
اگلے دن بیوٹیشن کو گھر پر ہی بلوایا گیا تھا۔ریڈ اور سلور کلر کے لہنگا جس پر موتیوں کا کام کیا گیا تھا اور اس ہر خوبصورتی سے کیے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی روپ بھی ٹوٹ کر آیا تھا یا شاید جن کے دل ٹوٹے ہوں ان پر روپ بھی خوب آتا ہے۔
ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ جو آج اسکے لبوں سے چپک گئی تھی اسے صبر آگیا تھا۔
نکاح ابھی نہیں ہوا تھا اس لیے اسے ابھی اسٹیج پر نہیں لایا گیا۔ماریہ اسکے پاس نکاح نامہ لے کر آئی تھی تاکہ دستخط کروا سکوں۔اس نے قلم ہاتھ میں پکڑا ہاتھ بری طرح کانپ رہا تھا نہ جانے کیوں بابا کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
نکاح نامے پر وہ دستخط کرنے لگی تھی جب یکدم اسے سینے میں جلن سی ہونے لگی اس نے ابھی اپنے نام کا پہلا حرف ہی لکھا تھا کہ اسے خون کی قے ہوئی۔
ماریہ ڈر کے مارے باہر بھاگی آن ہی آن میں کمرہ بھر گیا۔
رضااحمد کی گود میں اسکا سر تھا اس نے ہاتھ جوڑے تھے اور "میری ماں م ع اف" لب ہل رہے رھے مگر آواز نہیں آرہی تھی۔
ماریہ بار بار اسکا منہ صاف کر رہی تھی۔
دیا دیا ۔رضااحمد نے اسے جھنجوڑا ، اسے ہوسپٹل لے کر جانا پڑے گا گاڑی نکالو۔
اسے ایک ہچکی لگی تھی موت کی ہچکی وہ اس جہاں سے کنارہ کر چکی تھی بہت دکھ دیے تھے اسے اس دنیا والوں نے۔
"انا اللہ انا الیہ راجعون"
رضا احمد نے دعا پڑھتے ہوۓ آہستہ سے ہاتھ پھیر کر اسکی آنکھیں بند کی۔عالیہ چیخیں مار مار کر رونے لگی ماریہ بھی رو رہی تھی شادی کا فنکشن موت کی ویرانی میں بدل گیا تھا اب قہقہوں کی بجاۓ رونے کی آوازیں تھی بین تھے۔

دو قدم نہ ساتھ چلنے والے
آج قافلے بنا کر چلے جا رہے تھے
آج پتہ چلا موت اتنی حسین ہے
ہم تو یونہی جیتے جا رہے تھے

     ۞۝۞   
دیا کی موت کی خبر نواز علی اور نصرت بیگم تک بھی پہنچائی گئی تھی وہ اب اتنے پتھر دل بھی نہیں تھے کہ بیٹی کی موت کا سن کر نہ آتے۔
خالدہ بھی اشعر کیساتھ ٹسوے بہاتی آگئی وہ بار بار کفن ہٹا کر اسکا چہرہ دیکھتی جو نورانی تھا جہاں آج صرف سکون ہی سکون تھا کسی کا خوف ڈر نہیں تھا۔
ہاۓ دیا میری بچی۔وہ بین کرنے لگی مگر اب کیا فائدہ جسے ساری زندگی گلے نہیں لگایا جو ترستی رہی محبت کے لیے مگر آج محبت مل بھی رہی تھی جب اسے ضرورت نہیں رہی تھی۔جب اسکا دنیا سے رابطہ کٹ چکا تھا۔
زریاب "دیا" کا نام سن کر پریشان تھا مگر اتنی ہمت نہیں تھی کفن ہٹا کر دیکھے۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھا۔
میت کی چارپائی کے پاس بیٹھتے ہوۓ اس نے کفن ہٹا کر چہرہ دیکھنا چاہا مگر ہاتھ کانپ رہے تھے دل سکڑنے لگا تھا۔ماریہ نے کفن ہٹا کر چہرہ دکھایا اسے اسکے بھائی کی ہونے والی بیوی کا مگر وہ دیکھ کر ساکت رہ گیا۔
دیا دیا آنکھیں کھولو میری زندگی دیکھو زریاب آیا ہے کچھ بولو
کچھ کہو
وہ ہوش وحواس میں نہیں تھا آفتاب اور حسنین اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ زور زور سے چیخ رہا تھا بار بار دیا کیطرف لپک رہا تھا۔
چھوڑو مجھے دیا سے باتیں کرنے دو۔
میری دیا ہے یہ۔ یہ مری نہیں ہے یہ مذاق کر رہی ہے۔
سبھی حیران تھے آخر زریاب کا دیا سے کیا تعلق۔وہ جو محبت کو دل میں سوچتے ہوۓ ڈرتی تھی آج وہ راز فاش ہونے لگا تھا مگر پھت بھی اسکے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی اب اسے کسی کا ڈر نہیں تھا۔
_____
قل کی دعا کے بعد رضا احمد کے گھر وہ آۓ تھے وہ عالیہ سے پوچھ کر دیا کے کمرے میں آۓ تھے۔کمرہ صاف ستھرا تھا وہ چاروں طرف کمرے میں گھوم کر ایک جگہ رک گئے جہاں اسکی کتابیں رکھی تھی ایک کتاب ہاتھ میں اٹھائی ہی تھی کہ ڈائری پر نظر پڑی انہوں نے بے اختیار ڈائری اٹھا لی۔
وہ ڈائری لے کر باہر آۓ اور رضااحمد سے اجازت لے کر گھر آگئے۔
پہلے اپنا نمبر آن کیا جو انہوں نے کتنے دنوں سے آف کر رکھا تھا۔موبائل پر باقی کالز کے علاوہ دیا کے نمبر سے آٹھ کالز آئی ہوئی تھی۔
وہ حیران ہوۓ کیا دیا نے مجھ سے رابطہ کیا تھا انہیں اپنے سیل آف کرنے پر پچھتاوا ہوا۔
وائس میسیج اوپن کیا
دیا کی ہچکیوں سے روتے ہوۓ آواز ابھری
بابا کال اٹھائیں آج آخری بار اپنی بیٹی کی فریاد سن لیں۔یہی سوچیں وہ ستارہ کی بیٹی نہیں آپکی بیٹی ہے۔مجھے لے جائیں یہاں سے میری شادی روک دیں بابا۔
آپکی دیا بجھنے لگی ہے۔
بکھر رہی ہے وہ اندر ہی اندر جل کر بھسم ہو رہی ہے۔
وہ خود بھی ہچکیوں سے رو رہے تھے۔
میرا کوئی گناہ نہیں ہے میں اس دن اشعر بھائی سے التجا کر رہی تھی کہ میرے معاملات سے دور رہیں جسکا پھپھو نے غلط مطلب لیا ہے۔
آپکی بیٹی بے قصور ہے۔
یہ شادی ہو گئی تو ایک اور ستارہ کی کہانی دوہرائی جاۓ گی ایک اور دیا جلنے کے لیے پیدا ہو گی۔
اب وہ رو نہیں رہی تھی اسکا لہجہ چٹان جیسا سخت ہوگیا تھا۔
مگر آپ کیوں لینے آئیں گے مجھے آپ نے کبھی مجھے بیٹی نہیں مانا۔میں تو گندے خون کی نسل ہوں۔
بے وفائی کرنے والے کا خون گندی نسل کا ہے مگر جھوٹی تہمت لگا کر کسی کی ذات کو بکھیر دینے والوں کا خون کس نسل کا ہے؟
ایک بار تو سوچتے میں آپکا بھی تو خون ہوں ہمیشہ مجھے دھتکارا میں ترستی رہی آپ کے سینے لگنے کے لیے۔آپ سے باتیں کرنے کے لیے۔
آج کی رات ہے آپ کے پاس، مجھے لے جائیں ورنہ اسکے بعد دیا پتھر کی ہو جاۓ گی وہ کسی کی نہیں سنے گی۔دیا خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے تھک گئی ہے دیا فرشتہ بھی بن جاۓ تو یہی طعنہ ملے گا اسی گندے خون کی نسل ہے۔
ایک اور بات اگر دیا بجھ گئی نا تو پھر کبھی اس خاندان میں بیٹی جنم نہیں لے گی یہ ایک بیٹی کی بددعا ہے۔آخری الفاظ کہتے ہوۓ اسکی گھگھی بند ہوگئی۔
تھوڑی دیر بعد اسکی ہچکیوں کی آواز آتی رہی اور پھر گہری خاموشی
یہ اسکے آخری الفاظ تھے۔ باہر دروازے کی اوٹ میں کھڑی نصرت بیگم زارو قطار رو رہی تھی اور نواز علی پچھتاوے کی آگ میں جل رہے تھے وہ ساری زندگی ایک معصوم کو اسکی ماں کی سزا دیتے رہے ایک بار تو سوچتے اس پر کیا بیتی ہو گی۔
مگر وہ تو اپنا قصور نہ ہوتے ہوۓ بھی سب خاموشی سے بھگت گئی تھی اب سزائیں انہوں نے سہنی تھی پچھتاوے ان کے لیے تھے۔
اپنی جگہ سب شرمندہ تھے۔اسکی زندگی کا گلا سب نے مل۔کر گھونٹا تھا سب برابر کے شریک تھے۔
     ۞۝۞ 
#داغ
#از_بنتِ_نذیر
#قسط_نمبر_7
#لاسٹ
۞۝۞
وہ بوڑھے برگد کے درخت سے ٹیک لگاۓ بیٹھے ڈائری پڑھنے میں مصروف تھے۔بار بار آنکھوں میں آنسو امڈ رہے تھے مگر وہ انہیں چھلکنے نہیں دیتے تھے۔کیوں کہ اگر وہ رو پڑتے تو سبھی کو رلاتے۔
ڈائری پڑھ کر وہ اٹھے اور اپنے کمرے میں آگئے۔اسے ایسے سنبھال کر رکھا جیسے بہت قیمتی چیز ہو ہاں ان کے لیے قیمتی ہی تو تھی۔اس ڈائری سے انکی بیٹی کی یادیں جڑی تھی۔
وہ دن میں کہیں بار اسکا وائس میسیج سن کر خود کو اذیت دیتے تھے اسکی قبر پر جا کر ہاتھ جوڑ کر روتے۔وہ بیڈ پر بیٹھے زریاب کے بارے میں سوچ رہے تھے جسکا ذکر دیا کی ڈائری میں تھا وہ اس سے ملنے کا سوچ رہے تھے جب
خالدہ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئی
وہ بیڈ پر سر جھکاۓ بیٹھے رہے وہ جانتے تھے کون ہے۔
نواز۔خالدہ ان کے پاس آکر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
ناراض ہو مجھ سے؟ وہ پھر بولی مگر وہ خاموش ہی رہے۔
میں جانتی ہوں نواز اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ہم نے اس کے ساتھ بہت ب۔۔۔۔
پلیز خاموش ہو جاؤ اب کیا فائدہ ان باتوں کا۔
میں شرمندہ ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی میں معافی مانگتی ہوں۔وہ روتے ہوۓ گویا ہوئیں۔
اب آپ کے شرمندہ ہونے سے اسے کیا ملے گا۔جب تک وہ زندہ رہی آپ مجھے اور امی کو اسکے خلاف بھڑکاتی رہی اس پر تہمت لگا کر اسے در بدر کر دیا اب شرمندہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اب اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا میں اسکو یاد کرتا ہوں یا اس سے محبت کرتا ہوں اسکے لیے ترستا ہوں اب اسکا رابطہ ختم ہے ہم سے۔اب کوئی لینا دینا نہیں اسکا وہ ہمارے رویے سے ختم ہوتی رہی بکھرتی رہی روتی رہی مگر ہم پتھر کے بنے رہے اب ہم اسکی یاد میں روئیں گے بکھریں گے مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ پھٹ ہی پڑے تھے۔
مگر مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ایک بار صرف ایک بار اپنی بیٹی کو سینے سے لگا لیتا۔ وہ رونے لگے تھے ایک مرد کا ضبط ٹوٹ گیا تھا جو شخص چٹان سے بھی زیادہ سخت تھا آج وہ بھی ٹوٹ کر رو رہا تھا وہ ایسی غلطی کر چکے تھا جسکا ازالہ ناممکن تھا۔
خالدہ کو انکی باتوں نے چپ کر دیا تھا۔
اب کبھی اس خاندان میں کوئی بیٹی جنم نہیں لے گی کبھی بھی یہ ایک بیٹی کی بددعا ہے۔انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا
وہ آہستہ آہستہ چلتی باہر نکل گئی انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
۞۝۞
وہ قبر کے پاس بیٹھا ہاتھ اٹھاۓ فاتحہ پڑھ رہا تھا۔کچھ ہی دور گاڑی کیساتھ ٹیک لگاۓ آفتاب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا وہ بھی حقیقت جان گیا تھا اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو بے اختیار اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔اسے اپنے رب پر پیار آیا تھا وہ اپنی ہونے والی بیوی کی موت پر بہت دکھی تھا مگر جب اسے زریاب کی حقیقت کا علم ہوا اسے اس میں بھی خدا کی مصلحت لگی۔
ابھی چند منٹ گزرے تھے جب نواز علی کی گاڑی بھی وہاں آکر رکی آفتاب سے مل کر وہ زریاب سے جاکر ملے اور قبر پر فاتحہ خوانی کی۔
وہ اٹھ کر جانے لگا تھا جب نوازعلی نے اسے روکا
رک جاؤ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے؟
وہ بغیر کچھ کہے چلتا رہا اور تھوڑی دور جا کر پتھر پر بیٹھ گیا اسکی ذات پتوں کی طرح بکھر گئی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد وہ بھی اسی کے پاس دوسرے پتھر پر بیٹھے تھے۔کچھ پل خاموشی میں کٹ گئے۔بولنے کے لیے نہ انہیں الفاظ مل رہے تھے نہ اسے۔
دیا تم سے پیار کرتی تھی نا؟
ان کے سوال پر اس نے سر اٹھایا اسکی آنکھیں لبالب پانی سے بھر گئی
جی۔
اور تم؟
میں بھی۔وہ۔نہیں جانتا تھا کہ اس سے ایسے سوال کیوں جا رہے ہیں اب ان سوالوں کا کوئی مطلب نہیں تھا۔
وہ ہم سے بھی بہت محبت کرتی تھی مگر ہم نے ناقدری کی اسکی۔وہ ہم سے محبت کے لیے ترستی رہی مگر ہم پتھر کے بنے رہے اور اب دیکھو وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے دور چلی گئی۔
نہیں وہ آنکھوں سے اوجھل ہے مگر دل کے بہت قریب ہے وہ جتنی دور چلی جاۓ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہیں آس پاس ہے وہ نظر نہیں آتی مگر دور نہیں بہت قریب ہے۔وہ ہمیشہ پاس رہے گی کبھی دور نہیں جاۓ گی میں اسے دور نہیں جانے دوں گا وہ بےربط الفاظ کہتا وہاں سے اٹھ کر گاڑی کیطرف بڑھا وہ چاہ کر بھی اسے روک نہ سکے جو اذیت انکے دل میں تھی وہ اسکے چہرے سے بھی عیاں ہو رہی تھی۔
آفتاب نے اسکے لیے فرنٹ ڈور کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا وہ دیا کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گا
گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں موندھ لی۔آفتاب نے اسکی طرف مڑکر دیکھا جسکی پلکوں پر آنسو کے ننھے سے موتی چمک رہے تھے۔اسکے اندر بھی اداسی سی پھیل گئی۔
نوازعلی گہری سانس خارج کرتے پتھر سے اٹھے اور گاڑی کیطرف بڑھے اب پچھتاوے ہی انکے مقدر میں تھے اب سزائیں بھگتنے کی باری ان سب کی تھی جو خود کو خدا سمجھ کر دوسروں کو سزائیں دیتے رہے اتنا بھی نہیں سوچا کہ سزا و جزا دینے کا حق صرف اللہﷻ کا ہے۔
__ختم شد__


اور اس طرح کے مزید ناول کیلے مرے پیج کو فالو کریں
Facebook link

Wednesday, April 29, 2020

Urdu love story novel رسم وفا read online


رسمِ وفا
قسط نمبر1
از
خانزادی

میجر اذنان۔۔۔۔۔میجر اظہر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔
میجر اذنان اٹھ  کھڑے ہوئے۔

جلدی سے مجھ سے ملو۔۔۔میرے کمرے میں۔۔۔میجر  اظہر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔۔۔

اور میجر اذنان ان کے پچھے ان کے کمرے میں چلے گئے۔۔۔

مجھے ایک ضروری مشن پر بھیجنا ہے آپکو میجر اذنان کیا آپ تیار ہیں۔۔میجر اظہر نے میجر اذنان کو بیٹھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا۔۔

 جیسے آپکا حکم میرا تو یہی کام ہے۔۔میجر اذنان نے سر خم کرتے ہوئے کہا۔۔

ویل ڈن مجھے آپ سے یہی امید تھی۔۔لیکن اس مشن میں آپ اکیلے نہی ہو گے۔۔آپ کےساتھ مس زویا بھی ہو گی۔۔۔میجر اظہر بولے۔۔

سر مجھے نہی لگتا کہ مجھے اپنے کسی مشن کو پورا کرنا کے لیے کسی عورت کا سہارا لینا پڑے گا۔۔میں اکیلا ہی یہ کام سر انجام دے سکتا ہوں۔۔۔

ہممم مجھے لگتا تھا کہ یہ فیصلہ آپ کو قبول نہی ہو گا۔۔۔لیکن اس مشن میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔۔اس کے بغیر یہ مشن کامیاب نہی ہو سکتا۔۔۔

لیکن سر آپکو تو پتہ ہے نہ۔۔۔؟

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے۔۔آپ بہت ہی اکڑو کڑواہٹ سے بھرے اور لڑکیوں سے بہت نفرت کرنے والے مرد ہیں۔۔۔ میجر اظہر میجر اذنان کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔۔

آپ کو الرجی ہے عورت کے نام سے ہی۔۔سب جانتا ہوں۔۔لیکن ایسا کیوں ہے۔۔آخر کیا بات ہے جو عورت ذات سے اتنی نفرت ہے آپکو۔۔۔

سر کیونکہ عورت ذات اس قابل ہی نہی کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکے۔۔۔میجر اذنان نےدرد بھرے لہجے میں جواب دیا۔۔۔

آپ کا ساتھ جو بھی میں نہی جانا چاہتا۔۔۔بہر حال جو بھی ہو۔۔۔آپ ایک مسلمان اور پاکستانی ہیں۔۔ہر عورت کی عزت کرنا آپ کا فرض ہے۔۔میجر اظہر آہستہ آواز میں بولے۔۔۔

جی سر میں اپنے فرض سے کبھی غفلت نہی کرتا۔۔۔لیکن بہتر یہی ہو گا کہ آپ مس زویا کو اس مشن سے اور مجھ سے دور ہی رکھیں۔۔۔

لڑکیوں کے بس کی بات نہی ہوتی اتنے خطرناک مشن کو حل کرنا۔۔میجر اذنان بولے۔۔

میجر اذنان کی اس بات پر میجر اظہر مسکرا دیے۔

۔لگتا ہے آپ ابھی مس زویا کے بارے میں جانتے نہی تب ہی ایسا بول رہے ہیں۔۔۔۔ایک بار ان سے مل لیں۔۔

آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا ان کی بہادری کا۔۔

ابھی وہ دونوں بات ہی کر رہے تھے کہ ایک نسوانی آواز میجر اذنان کے کانوں میں پڑی۔۔

مےآئی کم ان سر۔۔۔۔۔

تبھی میجر اذنان نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔

ییس میجر اظہر بولے۔۔ویلکم مس زویا ان سے ملیے۔۔یہ ہیں میجر اذنان۔۔۔

اسلام و علیکم۔۔۔۔زویا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔مائی سیلف زویا خان۔۔۔

میجر اذنان کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ تھامنا پڑا۔۔وعلیکم اسلام۔۔اینڈ مائی سیلف میجر اذنان۔۔۔روب دار آواز میں بول کر اپنا ہاتھ جلدی سے کھینچ لیا۔۔

تو مسز زویا یہی ہیں وہ جن کے ساتھ آپ کومشن پر جانا ہے۔۔۔میجر اظہر بولے۔۔آپ ریڈی ہیں۔۔۔آج ہی نکلنا ہے۔۔آپ لوگوں کو اپنے مشن کے لیے دبئی۔۔۔

ٹارگٹ آپ کو ائیرپورٹ پر ہی مل جائے گا۔۔

جی سر ہم تیار ہیں۔۔۔زویا نے جوش کے ساتھ جواب دیا۔۔

اور آپ۔۔۔؟؟ میجر اظہر کا رخ میجر اذنان کی طرف تھا۔۔

ییس سر کہتے ہوئے میجر اذنان اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔

اوکے۔۔ویل ڈن۔۔اللہ پاک آپ دونوں کو اس مشن میں کامیاب کرے۔۔۔آمین۔۔اپنا اپنا ضروری سامان لیں۔۔۔اور روانہ ہو آپ دونوں۔۔میجر اظہر بولے۔۔

جی سر۔۔۔ایک ساتھ کہتے ہوئے۔۔دونوں باہر نکل کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔

چند منٹس بعد دونوں اپنا اپنا بیگ اٹھائے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔اور ایک ساتھ بولے ووئی آر ریڈی سر۔۔۔

ہمم اوکے خدا حافظ۔۔میجر اظہر نے کہا تو دونوں جی سر کہتے ہوئے ائیرپورٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔۔

ائیرپورٹ میں داخل ہوتے ہی زویا نے اذنان کے بازو میں ہاتھ ڈال دیا۔۔اذنان حیران ہو گیا۔۔اس کی اس حرکت پر۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔دور ہٹیے ہم سے اذنان غصے سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کی۔۔لیکن زویا کی گرفت مظبوط تھی۔۔

ہمیں بھی کوئی شوق نہی آپ کے قریب آنے کی۔۔۔ہم تو بس اپنا کام کر رہے ہیں۔۔۔زویا نہ چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔

اور اذنان کو آنکھوں کی اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا۔۔۔

کیا۔۔۔اذنان کو اس کا اشارہ سمجھ نہی آیا۔۔۔جب اس نے سامنے دیکھا تو اس کی سمجھ میں آ گیا کہ زویا نے کیوں کیا ایسا۔۔۔

تو اذنان چلتے ہوئے ویٹنگ ایریاں میں بیٹھ گیا۔۔زویا نے ابھی بھی زوار کا بازو تھام رکھا تھا۔۔۔

اب چھوڑ دیں ہمارا بازو۔۔اذنان نے بیٹھتے ہوئے کہا تو زویا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔

فلائیٹ کا اعلان ہوا تو دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور جہاز میں جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔۔۔

زویا کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔۔وہ ڈر رہی تھی لیکن اذنان کے سامنے خود کو بہادر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔پلین نے اڑان بھری تو زویا نے اذنان کے بازو کو زور سے پکڑ لیا۔۔اور سر اس کے بازو میں چھپا گئی۔۔۔

اذنان حیران تھا۔۔اس لڑکی کی حرکتوں پر کیا چیز ہےیہ۔۔تھوڑی دیر گزری تو زویا نے خود کو کمپوز کیا۔۔۔آئی ایم سوری ایکچولی ہماری یہ پہلی فلائٹ ہے۔۔۔تو ہم تھوڑا ڈر گئی تھیں۔۔

اٹس اوکے اذنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔لڑکیوں کے بس کی بات نہی ہے آرمی۔۔میں نے کہا تھا سر سے کہ مجھے کسی لڑکی کے سہارے کی ضرورت نہی ہے۔۔آپ خود کو تو سنبھال نہی سکتی مشن میں کیا لڑیں گی۔۔زویا کی طرف جھکتے ہوئے آہستہ سے بولا۔۔

کیا کہا آپ نے ہم لڑکیوں کے بس کی بات نہی آرمی زویا آنکھیں سکیڑتے ہوئے بولی۔۔۔ابھی آپ ہمیں جانتے نہی ہیں۔۔میجر اذنان تبھی ایسا بولنے کی ہمت کی ہے آپ نے۔۔

آپ جانتے ہی کیا ہیں ہمارے بارے میں۔۔۔

میں جاننا چاہتا بھی نہی زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہی آپ کو مجھ سے اپنے کام سے کام رکھیں۔۔۔سمجھی آپ۔۔۔اذنان سیریس ہوتے ہوئے بول کر اپنی سیٹ پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔۔۔

اور زویا غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔۔اس بات کا جواب بہت جلد مل جائے گا آپ کو میجر اذنان۔۔۔دل میں کہتے ہوئے وہ بھی آنکھیں موند گئی۔۔صبح کے چار بجے تھے۔اور ان دونوں کو اٹھا دیا گیا تھا ارجنٹ مشن کے لیے۔۔۔

اسی لیے دونوں سو گئے۔۔۔کچھ دیر بعد زویا کی آنکھ کھلی تو پلین لینڈنگ کےلیے اناونسمٹ ہو رہی تھی۔۔۔

اذنان ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔کتنی معصومیت ہے اس کے چہرے پر ایسے سوئے ہوئے۔۔۔کڑوا کریلا۔۔

کچھ کہا کیا۔۔۔اذنان آنکھیں کھولتے ہوئے بولا۔۔

زویا اس کے آنکھیں کھولنے پر ایک دم سٹپٹا گئی۔۔۔نہہی کچھ نہی بولا ہم نے وہ پلین لینڈ ہونے والا ہے اٹھ جائیں۔۔۔

یہ کیا اپنے آپ کو ہم ہم کہ رہی ہیں۔۔۔۔اذنان چڑتے ہوئے بولا۔۔

ہماری مرضی۔۔۔آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔۔ہمارے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں۔۔زویا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔

اور اذنان حیران رہ گیا اس کے جواب پر۔۔اوکے جیسے آپکی مرضی۔۔کندھے اچکا کر کہتے ہوئے پھر سے آنکھیں موند گیا۔۔۔

پلین لینڈ ہوا تو دونوں ائیرپورٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔

وہ اپنے ٹارگٹ کے ساتھ ساتھ ہی چل رہے تھے۔۔اذنان نے اپنا فون نکال کر کسی کا نمبر ڈائیل کیا۔۔۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہماری بکنگ تھی پہلے سے آپ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔اب اتنے بڑے شہر میں میں کہاں جاو اپنی وائیف کو لے کر۔۔میں کچھ نہی جانتا آپ ایک دو گھنٹوں میں ہمارے لیے فلیٹ کا انتظام کریں۔۔

کیا دو تین دن لگ جائیں گے۔۔تب تک ہم کہاں جائیں۔۔اس اجنبی شہر میں۔۔غصے سے اذنان نے فون بند کر دیا۔۔۔

ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان ان کے پاس آیا۔۔ایکسکیوزمی سر۔۔۔

جی۔۔اذنان نے پلٹتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

آپ کو رہنے کے لیے جگہ چاہیے۔۔۔ڈونٹ وری آپ میرے ساتھ چلیں۔۔میرا فلیٹ بہت بڑا ہے۔۔میں اکیلا رہتا ہوں۔۔جب تک آپ کے رہنے کا انتظام نہی ہو جاتا آپ میرے ساتھ رہ لیں۔۔۔

اوہ نہی نہی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔۔ہم مینج کر لیں گے۔۔۔اذنان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔

ارے سر یہ پاکستان نہی ہے دبئی ہے۔۔یہاں مینج نہی کر سکیں گے۔۔۔میں بھی پاکستانی ہوں۔۔۔ابھی ابھی پاکستان سے ہی آیا ہوں اسی فلائٹ میں جس میں آپ آئے ہیں۔۔مجھے اپنا بھائی ہی سمجھیں۔۔۔

کیوں بھابی جی میں نے ٹھیک کہا نہ۔۔۔اب وہ زویا کی طرف مڑا۔۔زویا نے مسکرا کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔یہ ٹھیک ہی تو کہ رہے ہیں۔۔۔ایک دو دن تک رک جاتیں ہیں ان کے ساتھ زویا نے کہا تو اذنان نے ایک گھوری سے اسے نوازا۔۔

اور زویا کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔اسے اس لڑکے کا زویا کو دیکھنا نہ جانے کیوں اچھا نہی لگا۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔چلیں۔۔۔کہتے ہوئے زویا کی طرف مڑا۔۔
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

زویا حیران ہوئی کہ کچھ دیر پہلے تو ہمیں خود سے دور کر رہے تھے۔۔اور اب خود ہی ہمارے پاس آ رہے ہیں۔۔۔۔

فلیٹ میں پہنچ کر اس لڑکے نے ان کو ایک روم میں چھوڑ دیا۔۔سر یہ آپ کا روم۔۔کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجئیے گا۔۔

اوہ میں آپ کو اپنا نام تو بتانا بھول ہی گیا۔۔۔مائی سیلف ذیشان۔۔۔وہ بات تو اذنان سے کر رہا تھا لیکن دیکھ زویا کی طرف رہا تھا۔۔

اذنان اس کی نظروں کا زاویہ دیکھ چکا تھا۔۔مٹھیاں بھینچ کر رہ۔گیا لیکن بولا کچھ نہی۔۔۔

آپ چلیں میں آتا ہوں۔۔۔اذنان نے زویا کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ کمرے کے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔

مائی سیلف احمد۔۔۔اذنان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
ہممم نائس نیم زیشان اذنان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔اوکے آپ آرام کریں۔۔کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجئے گا۔۔

اوکے کہتے ہوئے اذنان کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔سامنے صوفے پر بیٹھی زویا کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔۔۔بازو سے کھینچ کر زویا کو اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔

زویا تیار نہی تھی اس آفت کے لیے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔

یہ مردانہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں آپ نے دیکھا نہی وہ کیسے گھور رہا تھا آپ کو۔۔۔اذنان غصے سے بولا۔۔

کبھی آپ کو مجھ سے پرابلم ہوتی ہے۔۔۔کبھی میرے کپڑوں سے آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔۔۔اگر اسی طرح چلتا رہا نہ تو میں آپ کے ساتھ کام نہی کر سکوں گی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔میں سر سے بات کرتی ہوں ابھی۔۔

کہتے ہوئے زویا آگے کو بڑھی۔۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اذنان کے سینے سے ٹکرا گئی۔۔جب میں بات کر رہا ہوں۔۔تو دوبارہ ایسے میری بات درمیان میں چھوڑ کر جانے کی ہمت نہی کرنا۔۔۔سرخ آنکھوں کے ساتھ وہ زویا کو گھورتے ہوئے بولا۔۔

ابھی کے ابھی میرے ساتھ چلیں آپ کو کچھ کپڑے لے کر دیتا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے اس نے زویا کو چھوڑ دیا۔۔

کیوں پہنوں میں آپکی مرضی کے کپڑے آپ ہوتے کون ہیں۔۔مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔زویا بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔۔

اذنان واپس مڑا۔۔۔میں آپ کا کچھ نہی لگتا۔۔۔لیکن آپ جب تک میرے ساتھ ہو۔میری زمہ داری ہو آپ۔۔اس لیے چپ چاپ جیسا میں کہوں ویسا کریں۔۔میں آپ کا سینیئر ہوں۔۔میری بات ماننا آپ کا فرض ہے۔۔۔

اب چلیں میرے ساتھ۔۔۔زویا کو بازو سے پکڑتے ہوئے کیب کروا کر شاپنگ مال میں لے گیا۔۔۔

زویا اس دوران کچھ نہی بولی اس کا ایسے مرد سے پہلی بار سامنہ ہوا جس نے اس کے کپڑوں کے بارے میں تنقید کی تھی۔۔ورنہ آج سے پہلے تو کسی نے ایسا نہی کہا تھا اسے۔۔۔

اذنان نے اس کے لیے۔۔۔کچھ ڈھیلے ڈھالے ٹاپس اور جینز خریدیں۔۔اور دو تین سکارف بھی۔۔

اذنان نے اسے ایک ڈریس تھمایا اور چینج کرنے کو کہا۔۔زویا چپ چاپ چینج کرنے چلی گئی۔۔

باہر آئی تو پہلی بار خود کو لیڈیز کپڑوں میں دیکھ کر مسکرادی۔۔اور سکارف گلے میں ڈالے باہر آ گئی۔وہ تو لیڈیز کپڑے پہننا پسند ہی نہی کرتی تھی۔۔ہمیشہ پینٹ شرٹس ہی پہنتی تھی۔۔اور اسے کوئی روکنا والا بھی تو نہی تھا۔۔جو اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا۔۔

میٹرک میں تھی جب باپ کا انتقال ہو گیا۔۔۔ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔باپ کی دیتھ کے بعد اس کے تایا ان دونوں کو اپنے گھر لے گئے۔۔۔اور زویا کا نکاح اپنے بیٹے سے کروا دیا۔۔۔

لیکن اس کی تائی کو یہ فیصلہ منظور نہی تھا۔۔کچھ ہی مہینوں بعد تایا جی بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ایک بار پھر سے زویا یتیم ہو گئی۔۔۔

زویا کے جس کزن سے اس کا نکاح ہوا تھا۔۔اس سے کبھی ملی نہی تھی وہ اور نہ۔ہی وہ کبھی زویا سے ملا تھا۔۔وہ لوگ الگ الگ پورشن میں رہتے تھے۔۔ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے۔۔

تایا جی کا انتقال ہوا تو تائی نے طلاق نامہ زویا کے ہاتھ میں پکڑایا اور دھکے دے کر ان دونوں کو گھر سے باہر نکال دیا۔۔

وہ دونوں دوبارہ اپنے گھر واپس آ گئی۔۔۔زویا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔۔لیکن حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ اس کے لیے اب میٹرک کرنا بھی مشکل ہو گیا۔۔

واپس گھر آ کر ایک گورنمنٹ سکول میں ایڈمشن کروالیا۔۔اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۔زویا کہ ٹیچر بہت اچھے تھے۔۔۔انہوں نے زویا کو آگے پڑھنے کو کہا لیکن زویا نے منع کر دیا۔

کچھ مہینوں بعد ماما بھی اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔۔اور زویا اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ساری رات رو کر گزرتی۔۔۔
آخر کار خود کو مصروف کرنے کے لیے ایک سکول میں ٹیچنگ سٹارٹ کر دی۔۔۔

تبھی ایک دن سکول میں آرمی سروے ہوا۔۔۔اور ایک بچہ سیڑھیوں میں سے گرنے ہی والا تھا کہ زویا پھرتی سے اگے بڑھتے ہوئے اس بچے کو تھام لیا۔۔اور گرنے سے بچا لیا۔۔۔

بچے کو بچانے پر سب نے زویا کا شکریہ ادا کیا۔۔۔لیکن دور کھڑے میجر اظہر کی نظر پر ہی ٹک گئی۔۔جب سب لوگ ادھر اُدھر مصروف ہو گئے تو وہ زویا کہ پاس آئے آپ تو بہت بہادر ہیں بیٹا۔۔

میں آپ کے پیرنٹس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔اس وقت زویا کی ایج سترہ سال تھی۔۔

ان کے سوال پر زویا سر جھکا گئی۔۔۔۔۔

کیا ہوا بیٹا۔۔۔میجر اظہر پریشان ہو گئے۔۔۔زویا سر جھکائے رو رہی تھی۔

سر میرے پیرنٹس نہی ہیں۔۔۔ان کی دیتھ ہو چکی ہے۔۔۔

 اوہ آئی ایم سوری بیٹا۔۔مجھے بہت دکھ ہوا سن کر۔۔مجھے نہی پتہ تھا۔۔سوری میری وجہ سے آپ دکھی ہوئی۔۔۔۔

نو سر اٹس اوکے۔۔۔زویا آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔
تو بیٹا آپ کس کے ساتھ رہتی ہیں۔۔۔کوئی اور رشتہ دار تو ہو گے آپ کے۔۔۔؟؟

نہی سر میرے کوئی رشتہ دار نہی ہیں۔۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔اور میں اکیلی رہتی ہوں اپنے گھر میں میرا پاپا کی پینشن آتی ہے۔۔۔وہ آرمی میں تھے۔۔شہید ہو گئے تھے۔۔

اچھا کیا نام تھا آپ کے پاپا کا۔۔۔میجر اظہر نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔؟؟

میجر سفیان خان۔۔۔زویا نے جواب دیا تو وہ حیرت میں ڈوبتے چلے گئے۔۔۔آپ میرے دوست سفیان خان کی بیٹی ہو۔۔۔زویا۔۔ان کی آنکھیں نم ہو گئی۔۔

جی سر آپ میرے پاپا کو جانتے ہیں۔۔۔زویا بے تابی سے بولی۔۔

جی بیٹا آپ کے پاپا اور میں بچپن کے دوست تھے۔۔کاش اس دن میں اپنے دوست کے ساتھ ہوتا تو شاید آج میرا دوست زندہ ہوتا۔۔۔وہ اپنے پرانے خیالات میں کھو چکے تھے۔

خیر چھوڑو بیٹا آپ پرہشان نہ ہو آج سے آپ مجھے اپنے پاپا کی طرح سمجھ سکتی ہو۔۔

آرمی جوائن کرنا چاہو گی آپ۔۔۔؟؟؟

لیکن سر میں نے تو سنا ہے۔۔آرمی لڑکیوں کےبس کی بات نہی بہت ٹف ٹریننگ ہوتی ہے۔۔زویا نہ سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔

زویا کی اس بات پر میجر اظہر مسکرا دیے۔۔بیٹا کچھ بھی مشکل نہی ہوتا اگر ارادے مظبوط ہو تو۔۔کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔۔۔

میری خواہش تھی کہ اگر میرا بیٹا یا بیٹی ہوتی تو اسے آرمی جوائن کرواتا۔۔لیکن اللہ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔آج تک میری گود خالی تھی۔۔لیکن آج اللہ نے میری گود بھر دی ہے۔۔۔مجھے آپ سے ملا کر۔۔

آج سے آپ میری بیٹی بھی ہو اور بیٹا بھی بس اب آپ اپنا سامان پیک کرو آپ میرے ساتھ میرے گھر چل رہی ہو۔۔۔آپ کے اپنے گھر۔۔۔

میرے دوست کے جگر کا ٹکرا ہو آپ۔۔۔اور میرا دوست میرے جگر کا ٹکرا تھا۔۔۔اسی لیے آج سے آپ میری بیٹی ہو۔۔۔

زویا ان کا اپنے لیے اور اپنے بابا کے لیے پیار دیکھ کر رو پڑی۔۔لیکن انکل۔۔۔میرے بابا کا گھر کو کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہوں میں۔۔۔

نہی انکل نہی ڈیڈی بولنا اب سے میں آپ کا پاپا ہوں۔۔وہ گھر آپ کے بابا کا ہے اور آپکا ہی رہے گا ۔آپ کس میرے ساتھ چلنا ہی ہو گا۔میں آپ کو اکیلا نہہ چھوڑ سکتا۔۔۔

۔اب چلیں۔۔۔انہوں نے کہا تو زویا نے سر ہلا دیا۔۔اور وہ زویا کو ساتھ لیے اس کے گھر آ گئے۔۔

کچھ ضروری سامان لیا اور گھر کو تالا لگا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔۔

میجر اظہر کی بیوی زویا سے مل کر بہت خوش ہوئی ان کی خالی گود آج بھر گئی تھی۔۔انہوں نے زویا کو اپنا لیا تھا۔۔

وہ لوگ زویا کو بلکل ایک شہزادی کی طرح پیار کرتے تھے۔۔اسی وجہ سے زویا اپنے آپ کو ہم کہ کر بات کرتی تھی۔۔۔

انہوں نے کبھی زویا کو کسی بات سے روک ٹوک نہی کی تھی۔۔میجر اظہر نے زویا کو آرمی جوائن کروا دی۔۔اور اس طرح زویا آرمی کا حصہ بن گئی۔۔زویا خود کو لڑکا ہی سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔میجر اظہر اسے ہمیشہ بیٹا کہ کر بلاتے تھے۔۔۔وہ کہتے تھے کہ آپ میرے بہادر بیٹے ہو۔۔۔زویا بچپن سے ہی ایسی ڈریسنگ کرتی تھی۔۔آج تک کسی نے روکا ہی نہی تھا اس کو۔۔

اسی طرح چار سال بیت چکے تھے۔۔۔

زویا اپنی ٹریننگ مکمل کر چکی تھی۔۔۔اور بہت سے مشن مکمل کر چکی تھی۔اور ہر مشن میں کامیابی حاصل کرتی تھی۔ لیکن ملک سے باہر جانے کا یہ اس کا پہلا ایکسپیرینس تھا۔۔

زویا کو باہر آتے دیکھ کر میجر اذنان آگے بڑھے۔۔۔یہ سکارف گلے میں ڈالنے کے لیے نہی ہے۔۔۔

تو۔۔۔۔زویا نا سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔
اذنان نے آگے بڑھ کر سکارف زویا کے سر پر لپیٹ دیا۔۔ایسے استعمال کرتے ہیں اس کو۔۔آئندہ آپ کے سر کے بال نظر نہ آئیں مجھے۔۔۔

ہم آپ کی بیوی نہی ہیں میجر اذنان مائینڈ اٹ۔۔۔جو آپ کی ہر بات مانیں گی۔۔ہمیں عادت نہی ہے۔۔ایسے سر پر کپڑا باندھنے کی۔۔۔زویا نے سکارف کھول کر گلے میں ڈال لیا۔۔اور رہی بات ہماری زمہ داری کی تو ہم اپنی حفاظت خود کرنا جانتے ہیں۔۔۔

اذنان زویا کی اس بات پر تھوڑا شرمندہ سا ہوا۔۔آئی ایم سوری۔۔میں جانتا ہوں آپ اپنی حفاظت کر سکتی ہیں۔۔میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی۔۔

پوزیسو ہو گیا تھا۔۔۔اوکے جیسے آپ کو اچھا لگے سکارف پہنیں۔۔لیکن جب تک آپ میرے ساتھ ہیں۔۔ڈریسنگ یہی کریں گی۔۔اس کے بعد آپ اپنے راستے اور میں اپنے راستے۔۔

اب کچھ کھالیں آپ پھر واپس چلتے ہیں۔۔اور اپنے مشن پر دھیان دیتے ہیں۔۔۔اذنان نے سیریس ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
اذنان نے کہا تو زویا سر جھٹکتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی۔۔کھانا کھا کر وہ دونوں فلیٹ کی طرف چل پڑے۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 2
از 
خانزادی

اب تک سب کچھ پلان کے مطابق ہی ہو رہا تھا۔۔جیسا انہوں نے سوچا ویسا ہی ہوا تھا۔۔۔اذنان نے زیشان کے سامنے جان بوجھ کر ایکٹنگ کی تا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ چلنے کی آفر کرے۔۔

اور اس مشن میں وہ دونوں کامیاب ہو چکے تھے۔۔۔

میجر اذنان اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔زویا کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کر کے بولی۔۔۔

ہمم میجر زویا آپ خود کیوں نہی سوچ لیتی کہ آگے کیا کرنا ہے۔۔۔اذنان شرارت سے بولا۔۔

مجھے تو پتہ ہے میں تو آپ کو سمجھا رہی ہوں کیونکہ آپ کو سمجھ نہی آنی کے آگلا سٹیپ کیا ہے۔زویا آنکھیں سکیڑتے ہوئے بولی۔۔

اذنان زویا کی بات پر مسکرا دیا۔۔اوہ رئیلی۔۔؟؟

جی میجر اذنان صاحب عرف کڑوا کریلا۔۔کڑوا کریلا زویا نے آہستہ آواز سے کہا تو اذنان کو سمجھ نہی آئی۔۔اور ہنس دی۔۔

اذنان کو کچھ بڑبڑانے کی آواز آئی لیکن سمجھ نہی آئی۔۔
اذنان نے گھورا تو زویا کی ہنسی کو بریک لگی۔۔اوکے سر یہ رہی میری لوکیشن ٹریکر ڈیوائس اس لاکٹ میں۔۔زویا نے اپنا لاکٹ اذنان کےسامنے کرتے ہوئے گلے میں ڈال لیا۔۔۔اور سر آپکا نمبر۔۔۔اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

وہ کس لیے مس زویا۔۔۔؟؟ اوہ اچھا اچھا۔۔۔یاد آنے پر اذنان جلدی سے بولا۔۔اپنا فون دیں۔۔اس نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔

زویا نے اپنا فون اذنان کو تھما دیا۔۔۔اذنان نے زویا کے فون سے اپنا نمبر ڈائیل کر کے فون زویا کی طرف بڑھا دیا۔۔یہ لیں سیو کر لیں میرا نمبر۔۔

زویا نے اپنا فون لیا اور اذنان کا نمبر سیو کرنے لگ پڑی۔۔میجر اذنان۔۔ننہہہی۔۔۔کڑوا کریلا۔۔۔لکھ کر سیو کر کے مسکرا دی۔۔

کیا ہوا یہ بار بار آپ کھی کھی کیوں کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔اذنان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔

وہ کیا ہے نہ سر اس کو کھی کھی نہی ہنسنا مسکرانا کہتے ہیں۔۔جو کہ آپ کی ڈکشنری میں لکھا ہی نہی ہے۔۔پتہ۔نہی زندگی میں آپ کبھی ہنسے بھی ہیں یا نہی۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔

میری ڈکشنری کو جاننے کی ضرورت نہی آپ کو۔۔میری ڈکشنری سے دور ہی رہیں آپ تو زیادہ بہتر ہے۔۔میں اپنا کام بہت سیریس ہو کرکرتا ہوں۔۔ہنسی مذاق مجھے پسند نہی۔۔۔اذنان کہتے ہوئے اپنے بیگ کی طرف بڑھ گیا۔۔

اپنا بلیو ٹوتھ آن رکھیں۔۔جیسے ہی وہ یہاں آئیں مجھ سے کنیکٹ ہو جانا ہے آپ نے۔۔۔اور زرا سا بھی شک ہو تو دبوچ لینا اسے دوسرا موقع نہی دینا۔۔کہتے ہوئے اذنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

اور زویا کندھے اچکاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی کتاب لے کر۔۔اذنان کو گئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔۔ابھی تک واپس نہی آیا تھا۔۔زویا اکیلی بور ہو رہی تھی۔۔

تبھی دروازہ ناک ہوا۔۔۔زویا سمجھی اذنان ہے۔۔اس نے جلدی سے دروازہ کھولا لیکن باہر زیشان کھڑا تھا۔۔۔۔۔

ہائے۔۔۔میں نے سوچا آپ سے پوچھ لوں کچھ چاہہے تو نہی آپ کو۔۔ویسے آپ کے ہسبینڈ نظرنہی آ رہے۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔

آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔۔مس۔۔۔نام کیا ہے آپ کا۔۔۔؟؟
الوینہ۔۔۔مائی نیم از الوینہ۔۔۔زویا نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔۔اسے اچھا نہی لگا ذیشان کا اس طرح کمرے میں گھسنا۔۔۔

ہممم نائس نیم۔۔بیوٹی فل۔۔بلکل آپ کی طرح آپ کا نام بھی بہت پیارا ہے۔۔۔زیشان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔
تھینکس۔۔زویا مسکراتے ہوئے اپنے فون کی طرف بڑھی۔۔اور باتوں باتوں میں اذنان کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔

ویسے آپ یہاں کس سلسلے میں آئے ہیں۔۔۔میرا مطلب آپ کے ہسبینڈ کی جاب ہے یہاں یا پھر ویسے ہی انجوائے کرنے آئیں ہیں آپ لوگ۔۔۔زیشان زویا کیطرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

ہم بس کچھ دنوں کے لیے آئے ہیں۔۔گھومنے پھرنے کے لیے کچھ دن بعد واپس چلے جائیں گے۔۔۔زویا نے نا چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔

ویسے مجھے لگتا ہے آپ کی شادی آپ کی مرضی کے خلاف ہوئی ہے۔۔۔مسکراتے ہوئے بولا۔۔

زویا اس کے سوال پر گھبرا گئی۔۔۔کیا مطلب ہے آپکا جلدی سے بولا۔۔۔

میرا مطلب آپ دونوں میں مجھے کچھ خاص انڈرسٹینڈنگ نہی نظر آ رہی۔۔۔ایسے لگتا ہے کہ آپ خوش نہی ہیں۔۔۔

نہی آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ہم بہت خوش ہیں۔۔۔ہمارے ہسبینڈ بہت محبت کرتےہیں ہم سے بس ظاہر نہی کرواتے۔۔

زویا۔۔۔۔تبھی زویا کو اذنان کی آواز آئی بلیو ٹوتھ میں۔۔زویا آپ مجھے سن رہی ہیں۔۔

ہممم زویا نے آہستہ سے جواب دیا۔۔یہ اس کا اشارہ تھا اذنان کو۔۔کہ میں آپ کو سن رہی ہوں۔۔۔

ہمم اوکے زویا اس کو ایسا شو کرو جیسے آپ خوش نہی ہو میرے ساتھ۔۔میرا مطلب اس شادی سے۔۔۔

اب کیا بتاو آپ کو سب کو یہی کہتی ہوں۔۔لیکن اندر سے میں کتنی دکھی ہوں آپ کو بتا نہی سکتی۔۔بہت ظلم کرتے ہیں۔۔مجھ پر یہ ۔۔۔مجھ پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں۔۔۔زویا اب روتے ہوئے بتا رہی تھی۔۔۔

اذنان کو اس کی ایکٹنگ پر حیرانگی ہورہی تھی۔۔وہ ایسے بتا رہی تھی جیسے وہ دونوں سچ مچ کے میاں بیوی ہو۔۔اور میں اس پر ظلم کرتا ہوں۔۔

ہم تو پچھتا رہے ہیں۔۔اس وقت کو جب ہم ان سے ملے تھے۔۔۔نہ ہم ان سے ملتے نہ ہماری دوستی ہوتی اور نہ ہی بات شادی تک پہنچتی۔۔زویا روتے ہوئے بتا رہی تھی۔۔

ارے ارے آپ روئے نہی۔۔مجھے تو پہلے ہی شک ہو گیا تھا۔۔ائیرپورٹ پر دیکھا تھا میں نے آپ لوگوں کو۔۔۔آپ کے ہسبینڈ اچھا بے ہیو نہی کر رہے تھے آپ کے ساتھ۔۔۔

آپ پریشان نہ ہو مانہ کہ آپ سے غلطی ہوئی لیکن اس غلطی کو سدھارا بھی جا سکتا ہے۔۔۔وہ زویا صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
مطلب۔۔۔؟؟؟زویا نا سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔

مطلب آپ ڈائیوورس لے لیں ان سے۔۔۔اور کوئی اچھا سا جیون ساتھی چن لیں اپنے لیے۔۔

ایک طلاق یافتہ لڑکی سے کوئی شادی نہی کرتا کہی اچھے کی خواہش میں اپنی زندگی برباد نہ کر لو۔۔۔اگر ہم ایسا کر بھی لوں۔۔تو کون کرے گا ہم سے شادی۔۔۔زویا روتے ہوئے بولی۔۔

آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں۔۔۔میں ہوں نہ میں کرو گا آپ سے شادی۔۔۔اس کی بات پر اذنان کا خون کھول اٹھا۔۔۔آپ سوچنا ضرور اس بارے میں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔

لیکن میں تو آپ کے بارے میں جانتی تک نہی۔۔آپ کون ہیں۔۔کیا کام کرتے ہیں۔۔۔اور آپ کا بیک گراونڈ کیا ہے۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔

ڈونٹ وری سب بتا دوں گا پہلے آپ میرے بارے میں سوچیں تو سہی۔۔۔دروازہ کھولنے کی آواز آئی تو زیشان جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

اذنان کمرے میں آیا۔۔ویل ڈن مس زویا۔۔۔کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔

اور کسی کا نمبر ملایا۔۔اور باتیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔وہ پریشان تھا۔۔۔اسے ذیشان کے بارے میں کوئی سراغ ہاتھ نہی لگ رہا تھا۔۔

بچوں کہاں ہو سکتے ہیں۔۔۔آخر بچوں کو کہاں چھپایا ہو گا اس نے۔۔۔اذنان کچھ سوچتے ہوا فون بند کر کے اٹھا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگ پڑا۔۔لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہی آیا۔۔

یہاں کچھ نہی ہے۔۔میں سب کچھ چیک کر چکی ہوں۔۔اس کمرے میں کوئی خفیہ راستہ نہی ہے سر۔۔اذنان کو کمرے کا جائزہ لیتے دیکھ زویا بول پڑی۔۔

ہمم اب یہ گھر سے کہی باہر جائے تو ہم گھر کی تلاشی لے سکیں گے۔۔اذنان کا اشارہ ذیشان کی طرف تھا۔۔

بچوں کے اغوا کا سلسلہ جو چل رہا تھا آج کل تو خفیہ ذرائع سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ ذیشان اس معاملے میں انوالو ہے۔۔لیکن ثبوت نہ ملنے پر کوئی ایکشن نہی لیا جا سکا اس کے خلاف۔۔

اسی لیے یہ مشن میجر اذنان اور میجر زویا کو سونپ دیا گیا۔۔۔

سر میں نے ان کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا کہ رہے تھے۔۔کہ ایک گھنٹے تک ملتے ہیں۔۔پھر بتاتے ہیں۔۔کیا کرنا ہے۔۔مجھے تو لگتا ہے۔۔وہ بچوں ہی کی بات کر رہے تھے۔۔کیوں نہ ہم ان کا پیچھا کریں۔۔۔

ہمم ویل ڈن مس زویا۔۔آپ واقعی ہی بہت ٹیلنٹڈ ہیں۔۔۔مجھے نہی پتہ تھا۔اذنان بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

سر یہ ہماری تعریف تھی۔۔یا انسلٹ زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔

آپ خود سمجھ دار ہیں۔۔سمجھ جائیں۔۔اذنان لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے بولا۔۔۔

زویا دانت پیستے ہوئے بیٹھ گئی۔۔سر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ آپ خود میری تعریف کریں گے۔۔زویا نے دل میں سوچا۔

ایسا کبھی نہی ہو گا۔۔اذنان نے جواب دیا۔۔۔

کیسا۔۔۔؟؟ زویا جلدی سے بولی۔۔

وہی جو آپ سوچ رہی ہیں۔۔کہ میں آپ کی تعریف کرو گا۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پے جمائے بولا۔۔

زویا حیران ہو گئی۔۔۔کہ اس نے تو کچھ بولا ہی نہی پھر سر کو کیسے پتہ چلا۔۔لیکن سر میں نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہی۔۔

تو میں نے کب کہا کہ آپ نے ایسا کہا۔۔۔آپ نے کہا نہی لیکن سوچا تو ہے نہ۔اذنان نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔
اس سے پہلے کہ زویا کچھ کہتی دروازہ بند ہونے کی آواز پر دونوں چونک گئے۔۔

لگتا ہے وہ چلے گئے سر۔۔۔آپ کو ان کے پیچھے جانا چاہیے۔۔۔
ہمم اذنان لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔۔لیکن پھر واپس آیا۔۔زویا اپنا خیال رکھنا آپ نہ جانے مجھے کتنا ٹائم لگ جائے آپ کمرے سے باہر مت نکنا۔۔

ڈونٹ وری سر۔۔۔زویا نے کہا تو اذنان باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔

اور اذنان کے باہر نکلتے ہی زویا پورے گھر کی تلاشی لینے میں مصروف ہو گئی۔۔۔

اذنان نے ہڈ میں اپنا چہرہ چھپا لیا اور آنکھوں میں سن گلاسز لگائے ذیشان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔لیکن وہ اس سے کافی فاصلے پر تھا۔۔

کچھ دور جا کر ذیشان رکا اور اپنا فون نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔بات کر کے فون بند کر دیا۔۔

چند سیکنڈ بعد ایک لڑکی ذیشان کے پاس آئی اور اس سے ہاتھ ملایا اور مسکراتی ہوئی اسے اندر لے گئی ریسٹورنٹ میں۔۔

اذنان بھی ان کے پیچھے اندر چلا گیا۔۔۔اندر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔۔اذنان ان کے قریبی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔اور ان کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگ گیا۔۔۔

آپ تو جانتے ہیں۔۔یہ کام اتنا آسان نہی ہوتا بہت مشکلوں سے اس کام کو سر انجام دیتا ہوں۔۔اور اتنی محنت کا پھل بھی نہ ملے تو کیا فائدہ پھر۔۔ذیشان بول رہا تھا۔۔

اب تم زیادہ ہی نکھرے کر کر رہے ہو۔۔۔پانچ لاکھ سے زیادہ میں نہی دے سکتا۔۔اگر منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔ورنہ جیسے تمہاری مرضی۔۔۔سامنے والا شخص کہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

وہ اٹھا تو لڑکی جلدی سے اٹھ کھڑی ارے سر آپ بیٹھیں تو سہی میں بات کرتی ہوں ان سے بی ریلیکس۔۔۔اس لڑکی نے کہا تو وہ آدمی پھر سے بیٹھ گیا۔۔

اس کام میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔اگر کسی کو زرا سا بھی شک ہو گیا نہ تو ساری زندگی سلاخوں کے پیچھے گزر جائے گی میری۔۔میں تو بس اتنا کہ رہا تھا کہ کچھ تو کومپرومائیز کریں میرے ساتھ۔۔۔اس طرح ناراض ہونے والی کیا بات ہے۔۔ذیشان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

اوکے چھ لاکھ۔۔۔اس سے زیادہ ایک روپیہ نہی دوں گا میں۔۔وہ آدمی جلدی سے بولا۔۔یہ لو چیک جا کر کیش کروا لینا۔۔۔اور میرا مال جلدی پہنچا دینا۔۔

تھینکس۔۔ذیشان نے چیک اٹھا کر پرس میں رکھتے ہوئے کہا۔۔آپ بے فکر ہو جائیں آپ کا مال آپ کو کل مل جائے گا۔
اوکے۔۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے وہ آدمی وہاں سے چلا گیا۔۔اور وہ لڑکی ذیشان کی طرف دیکھ کر آنکھ دبا کر مسکرا دی۔۔۔

کیسے کیسے لوگ لاتی ہو یار۔۔۔کڑوڑوں کا بزنس کرتے ہیں۔۔۔اور پیسے نکالنے کو دل نہی کرتا ان کا۔۔ذیشان بولا۔۔۔

اپنا دماغ ٹھنڈا رکھا کرو کام بند کرواو گے کسی دن اگر ایسا چلتا رہا تو۔۔کتنی بار کہا ہے عقل سے کام لیا کرو لیکن تمہیں تو سمجھ ہی نہی آتی کسی بات کی۔۔وہ لڑکی غصے سے ذیشان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

بی کول بے بی۔۔۔تم اپنا موڈ مت خراب کرو پلیز۔۔تم تو یہاں بیٹھی رہتی ہو۔۔کسٹمر بنانےہوتے ہیں تم نے تو بس لیکن مجھے بہت مشکلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔۔اپنی جان ہتھیلی پے رکھ کر کرنا پڑتا ہے یہ کام۔مجھے۔۔۔

اور ملتا کیا ہے۔۔۔جو پیسے دیتے ہیں وہ بھی پاکستانی کرنسی کے مطابق۔۔۔اس معاملے میں بہت تیز ہیں یہاں کے لوگ اپنے ملک کی کرنسی کے دیں تو مزہ آئے نہ۔۔۔پیسے دیتے وقت جان نکل جاتی ہے۔۔اور مال ان کو اچھا چاہیے۔۔۔ذیشان غصے سے بولا۔۔۔

اور اوپر سے تم بھی شروع ہو جاتی ہو تم مجھے ہی غلط ثابت کرتی ہو۔۔کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے تم میری نہی ان کی سائیڈ کی ہو۔۔۔ذیشان منہ بناتے ہوئے بولا۔۔۔

میں یہ سب تمہارے لیے ہی کرتی ہوں۔۔۔مجھے کوئی شوق نہی ہے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا یہ میرا رویہ ہی ہے جو وہ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔۔ورنہ جیسے تم بات کرتے ہو ایک بھی کسٹمر نہ آئے تمہارے پاس۔۔وہ لڑکی بولی۔۔

خیر چھوڑو سب کچھ اب یہ بتاو مال کب تک پہچانا ہے۔۔۔ابھی فون پے فون کرے گا یہ بڈھا مجھے۔۔وہ جان چھڑاتے ہوئے بولی۔۔۔

ابھی ایک دو دن لگ جائیں گے گھر میں کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں۔۔ذیشان بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔

کون لوگ آئے ہوئے ہیں گھر پے۔۔۔اور تم نے مجھے بتایا بھی نہی۔۔۔وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔

کوئی خاص نہی بس ایک پاکستانی فیملی ہے۔۔ائیرپورٹ پر ملے تھے۔۔۔ان کے فلیٹ کا مسلہ۔تھا تو ان کو اپنے ساتھ لے آیا میں۔۔۔۔

واٹ وہ چلائی۔۔۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔اور اب ان کو فلیٹ میں اکیلا چھوڑ کر آ گئے ہو۔۔۔اگر کچھ پتہ چل گیا تو کیا ہو گا۔۔اندازہ ہے تمہیں۔۔۔انتہائی بے وقوف ہو تم۔۔۔۔

ڈونٹ وری میں بے وقوف نہی ہوں۔۔۔میں کبھی گھاٹے کا سودا نہی کرتا۔۔وہ لڑکی بہت دکھی ہے۔۔۔اس کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا ہوں میں اگر ہاتھ لگ گئی تو بڑے کام کی چیز ثابت ہو سکتی ہے۔۔آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔

مطلب۔۔۔وہ لڑکی بولی۔۔۔

مطلب یہ کہ اپنے شوہر سے طلاق لے لے وہ اور مجھ سے شادی کر لے۔۔۔ہاہاہاہا ہنستے ہوئے بولا۔۔۔پھر بہت خوبصورت ہے وہ بہت پیسہ ملے گا اس کا۔۔۔کہتے ہوئے بے باقی سے ہنس دیا۔۔

اور وہ لڑکی بھی ہنس دی۔۔اور ساتھ ہی دونوں وہاں سے اٹھ کر چل پڑے دونوں۔۔

اذنان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی غصے سے اس کا دل کر رہا تھا ابھی اس ذلیل انسان کو ختم کر دے۔۔لیکن ابھی وہ ایسا نہی کر سکتا تھا۔۔بہت مشکل سے اس نے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔اور واپس فلیٹ کی طرف چل پڑا۔۔

زویا سارے فلیٹ کی تلاشی لے چکی تھی بس ایک کمرے کو چھوڑ کر۔۔جو ذیشان کا کمرہ تھا۔۔۔زویا نے جلدی سے ہئیر پن نکالی اور دروازے کا لاک کھول کر اندر داخل ہو گئی۔۔۔کمرے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہی ملا۔۔فریج کھولا تو زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی پورا فریج نشہ آور میڈیسنز اور انجیکشنز سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ہممم یہاں واقعی ہی کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔۔زویا نے جلدی سے فریج میں پڑی میڈیسنز کی پکچر لی۔۔۔

ابھی پیچھے مڑی ہی تھی۔۔کہ اس کے ہاتھ سے اچانک اس کا فون نیچے گر گیا۔۔۔لیکن یہ کیا فرش پر فون گرنے کی آواز کچھ اور ہی تھی۔۔جیسے کوئی لکڑی کی چیز پر گرا ہو فون۔۔۔زویا تیزی سے پیچھے ہٹی اور فرش پر ہاتھ مارا تو وہاں سے فرش واقعی ہی لکڑی کا تھا۔۔۔

زویا نے تیزی سے وہاں سے کارپٹ اٹھایا تو کارپٹ کے نیچے لکڑی کا ایک ڈھکن سا تھا۔۔زویا نے اس ڈھکن کو اوپر اٹھانے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔اور اسے کمرے سے باہر دھکا دیا جلدی سے۔۔۔

اور کمرے سے تیزی سے باہر نکلا دروازہ بند کرتے ہوئے۔۔۔اس کے کمرے کی طرف لے کر بھاگا اس کو تیزی سے۔۔۔یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ زویا کو سنبھلنے کا موقع ہی نہی ملا۔۔۔اور زویا اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکی آنکھوں پر گلاسز کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔

زویا ایک دم تیزی سے مڑی اپنی گن ہاتھ میں پکڑے۔۔کون ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں ہاتھ لگانے کی۔۔تبھی وہ شخص مڑا۔۔اور آنکھوں سے گلاسز اتارے تو زویا نے گن واپس موڑ لی کیونکہ۔سامنے اذنان کھڑا تھا۔۔

اور تبھی دروازہ کھولنے کی آواز آئی اور ذیشان اس لڑکی کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف جاتے دکھائی دیا کھڑکی میں سے۔۔

اوہ تو یہ بات تھی۔۔زویا جلدی سے بولی۔۔اذنان غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔

میں نے منع کیا تھا کہ کمرے سے نہی نکلنا آپ وہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔اگر آپ کو وہ وہاں دیکھ لیتا تو۔۔اذنان غصے سے بولا۔۔

تو ہم اسے وہی دفن کر دیتے میجر اذنان۔۔۔ہم کوئی عام لڑکی نہی ہیں۔۔۔جو ڈر جائیں گی۔۔۔دشمن کو سنبھالنا آتا ہے ہمیں۔۔۔۔آپ بے فکر ہو جائیں۔۔۔۔یہ دیکھیں ہم یہ کر رہے تھے وہاں۔۔۔زویا نے اپنا فون اذنان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔

اور سارا معاملہ اذنان کی سمجھ میں آ گیا۔۔ویل ڈن مس زویا لیکن ہمیں جلد بازی سے کام لینا چاہہے۔۔۔اگر میں ٹائم پر نہی پہنچتا تو معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا۔۔۔
آپ وہاں نیچے کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہاں ایک دروازہ تھا۔۔۔جو کہ شاید طے خانہ ہے۔۔مجھے لگتا ہے اس نے بچوں کو وہی قید کر رکھا اور یہ میڈیسنز اور انجیکشنز ان بچوں کے لیے ہی ہیں۔۔تا کہ وہ ہوش میں نہ آ سکیں۔۔۔

اوکے اس کو گھر سے باہر نکلنے دی۔۔۔پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔اذنان بولتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔یہ کھانا کھا لیں آپ میں آپ کے لیے لےکر آیا ہوں۔۔۔آپ کمرے میں نظر نہی آئی تو میں آپ کو دیکھنے وہاں چلا آیا کیونکہ کمرے کا دروازہ بند تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔آپ نہی کھائیں گے کھانا۔۔زویا نے پوچھا۔۔
نہی مجھے بھوک نہی ہے۔۔۔اذنان نے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے کہا۔۔

ہمیں اکیلے کھانا کھانے کی عادت نہی ہے۔۔۔آپ کو ہمارے ساتھ کھانا پڑے گا۔۔زویا نے واش روم کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔۔آپ ہینڈ واش کر لیں۔۔

زویا باہر آئی تو اذنان ابھی بھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔میجر اذنان پہلے کھانا کھا لیں۔۔زویا نے کہا تو اذنان اسے گھورتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کر کے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔

 واپس آیا تو زویا کھانا ٹیبل پر رکھے اذنان کا انتظار کر رہی تھی۔۔اذنان حیران تھا اس لڑکی کی اپنائیت پر۔۔۔جو غیر ہوتے ہوئے بھی اس کے لیے پریشان ہو رہی تھی۔۔جانتی تھی کہ صبح سے کچھ کھایا نہی میں نے انکار کرنے پر خود بھی کھانا کھانے سے انکار کر رہی تھی۔۔اذنان نے اب پہلی دفعہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔اذنان کے آتے ہی اس نے کھانا شروع کر دیا۔۔۔وہ کھانا کھانے میں مصروف تھی۔۔

لیکن اذنان کی نظریں اس کے چہرے پرٹکی تھیں۔دیکھنے میں بہت معصوم تھی۔۔اج تک بہت لڑکیاں دیکھی تھی اس نے لیکن زویا ان سب سے الگ تھی۔معصوم سا چہرہ گہری جھیل سی آنکھیں سنہری بال۔۔اذنان تو جیسے اس کے چہرے میں کھو سا گیا تھا۔۔۔

اذنان کی نظریں خود پر محسوس ہوئی تو زویا نے اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔تو زویا کے دیکھنے پر وہ نظریں پھیر گیا۔۔
آپ کھانا کیوں نہی کھا رہے۔۔زویا کھانا کھاتے ہوئےبولی۔۔
کھانے لگا ہوں۔۔۔کہ کر اذنان کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔
کھانے سے فارغ ہوئے تو اذنان بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔اور زویا سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔تبھی زویا کو فون آیا۔۔۔

اور وہ فون پر مصروف ہو گئی۔۔ڈونٹ وری موم آئی ایم فائن۔۔آپ پریشان نہ ہوا کریں۔۔اب ہم بچی تو نہی ہیں۔۔۔جو آپ ڈرتی رہتی ہیں۔۔۔ہمارے وطن پر ہماری جان بھی قربان۔۔۔جس راہ پر آپکی بیٹی نکل پڑی ہے۔۔۔اب آپ کو ڈرنے کی بجائے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیا پتہ کب شہید ہو جاوں۔۔۔کہتے ہوئے مسکرا دی۔۔

اس کی بات پر اذنان نے زویا کی طرف دیکھا۔۔وہ ہنستے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی۔۔اذنان کو حیرانگی ہوئی اس معصوم سی لڑکی کے جذبات جان کر۔۔

میں واقعی غلط تھا۔۔۔اس لڑکی کے بارے میں یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے۔۔دل میں سوچا اور مسکرا دیا۔۔۔زویا باتیں کرتے کرتے سو گئی۔۔۔اذنان لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔

اب انہیں کل تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ذیشان کے گھر سے باہر نکلنے کا تب ہی کچھ کر سکیں گے وہ۔۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 3
از
خانزادی

اگلے دن وہ لوگ دوپہر تک ذیشان کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔لیکن وہ ابھی تک اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔۔

میجر اذنان آپ سے ایک بات پوچھنی تھی مجھے۔۔زویا بولی۔۔

جی۔۔۔اذنان لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔

وہ جو لڑکی آئی تھی رات کو ان کے ساتھ وہ کون تھی۔۔زویا نے پوچھا۔۔

اذنان لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر زویا کو دیکھنے لگ پڑا۔۔۔

کیا۔۔۔۔ہم نے کچھ غلط پوچھ لیا کیا۔۔۔زویا اذنان کو اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو بول پڑی۔۔

نہی آپ نے کچھ غلط نہی پوچھا۔۔آپ کو اب یاد آئی وہ لڑکی یہ سوال رات کو بھی تو پوچھ سکتی تھی آپ۔۔

ہممم ویل یہ لڑکی اس کی ساتھی ہے۔۔مطلب بزنس پارٹنر۔۔اس کے ساتھ کام کرتی ہے یہ۔۔۔یہ لوگ بچوں کو پاکستان سے اغوا کر کے یہاں لا کر بیچتے ہیں۔۔۔

لوگ ان کو غلام بنانے کے لیے خریدتے ہیں۔۔۔اپنے چھوٹے موٹے کام کروانے کے لیے۔۔۔اس کے علاوہ بہت ظلم ہوتے ہیں ان بچوں پر۔۔

اوہ یہ تو بہت ظالم لوگ ہیں۔۔۔شرم آنی چاہیے۔۔

پاکستانی ہوتے ہوئے یہ اپنے ہی ملک کے بچوں کو ان کے ماں باپ سے چھین کر یہاں کسی اور کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔

ایک بار بچے مل جائیں۔۔۔پھر اس کا بہت برا حشر کریں گے ہم۔۔۔زویا آنکھوں میں غصہ بھرتے ہوئے بولی۔۔

ایسے اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔۔صرف یہ اکیلا ہی نہی کرتا یہ کام۔۔میں پہلے بھی ایک دو بار ایسے مسلے حل کر چکا ہوں۔۔۔لیکن یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں ہے۔۔جس جس پر ہمیں شک ہوتا ہے اس کے خلاف ثبوت ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

البتہ بہت سے گینگ ایسے ہی جن کو خبر پہنچ جاتی ہے۔ان تک پہنچنے سے پہلے ہی تو وہ ہاتھ سے نکل جاتے ہیں ہمارے لیکن اس بار ایسا نہی ہو گا۔۔

مجھے لگتا ہے نیچے تہ خانے میں بچے ہی ہیں۔۔اور اس کا خفیہ راستہ ذیشان کے کمرے میں ہے۔۔اس کے جاتے ہی ہم اس کے کمرے میں جائیں گے اور کھول کر دیکھیں گے۔۔

ہممم اوکے زویا نے آہستہ سے جواب دیا۔۔زویا اداس ہو چکی تھی۔اپنے ہی اپنوں کے دشمن بن گئے ہیں۔۔۔کیا بنے گا انسانوں کا۔۔۔

کچھ دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو دونوں جلدی سے کمرے سے باہر نکلے۔۔اچھی طرح دیکھا گھر میں نہی تھا ذیشان۔۔تو وہ لوگ جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھے۔۔

دروازہ لوکڈ تھا۔زویا نے جلدی سے پِن اتاری اور لاک کھول دیا۔۔اذنان حیران ہو کر زویا کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔زویا نے کندھے اچکا دیے۔۔

اور پن واپس بالوں میں لگا لی۔۔۔اور دونوں کمرے میں داخل ہو گئے۔۔زویا نے حلدی سے کارپٹ پیچھےکیا۔۔۔

اذنان نے جب لکڑی کا ڈھکن کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہی رہی مطلب ہمارا شک سہی تھا۔۔اذنان بولا۔۔

یہ سیڑھیاں تہ خانے میں جا رہی ہیں۔۔۔چلیں زویا۔اذنان نے کہا تو زویا بھی اذنان کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔

نیچے اترے تو اندھیرا ہی اندھیرا تھا ہر طرف۔۔۔اذنان نے اپنے فون کی ٹارچ جلائی اور لائٹ آن کرنے کے لیے بٹن دبایا۔۔

جیسے ہی اذنان نے بٹن آن کیا۔۔۔سامنے تین بچے جن کی عمر تقریباً چھ سے دس سال کے قریب تھی۔۔فرش پر بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔۔

وہ دونوں جلدی سے بچوں کی طرف بڑھے۔۔ان کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ بے ہوش تھے۔۔ان کو نشہ آور دوائی دی گئی تھی۔۔

اب کیا کرنا میجر اذنان ہم ان بچوں کو اوپر کمرے میں لے چلیں۔۔زویا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔

نہی ابھی ان کو اوپر نہی لے کر جا سکتے ہمیں یہی اس کے آنے کا انتظار کرنا ہو گا۔۔

لیکن ہم کب تک یہاں بیٹھے رہیں گے۔۔وہ پتہ نہی کب واپس آئے۔۔زویا نے جواب دیا۔۔

جو بھی ہو ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔۔اذنان جلدی سے بولا۔۔منزل کے اتنے قریب آ کر کوئی غلطی نہی کر سکتے ہم۔۔

آپ ادھر ہی میرا انتظار کرنا میں اوپر جا رہا ہوں۔۔۔جیسے ہی وہ آئے گا میں نیچے آ جاوں گا۔۔

 ہماری زرا سی بھی غلطی ان کو بھاگنے کا موقع دے سکتی ہے۔بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا۔

ابھی ہم بچوں کو یہاں سے لے کر بھی جا سکتے ہیں۔۔لیکن اگر ہم بچوں کو یہاں سے باہر لے کر نکلیں تو ہو سکتا ہے۔۔ان کو بھاگنے کا موقع مل جائے۔۔

اور پھر سے وہ واپس جا کر یہی کام کرے۔۔۔اسی لیے ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑے گا۔۔

آپ ادھر ہی رکنا جیسے ہی سیڑھیوں میں سے کسی کے نیچے اترنے کی آواز آئے لائٹ بند کر دینا اور سنبھل کر رہنا۔۔

اوکے آپ بے فکر ہو جائیں میجر اذنان۔۔زویا نے کہا تو اذنان سر ہلاتے ہوئے سیڑھوں کی طرف بڑھ گیا۔۔

اور اوپر جا کر ڈھکن بند کر کے دوبارہ کارپٹ بچھا دیا۔۔بلکل ویسے ہی جیسے پہلے تھا۔۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

اب اذنان ذیشان کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔تقریباً ایک گھنٹے بعد دروازہ کھولنے کی آواز آئی تو اذنان جلدی سے کھڑکی کی طرف بڑھا۔۔

وہ اکیلا نہی تھا۔۔اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک آدمی بھی تھا۔۔اذنان نے زویا کو میسیج کیا۔۔

زویا آر یو ریڈی۔۔۔؟؟

زویا کا ریپلائی آیا۔۔ییس آئی ایم ریڈی۔۔

اوکے بی کیر فل وہ اکیلا نہی ہے۔۔اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک آدمی بھی ہے۔۔میسیج سینڈ کر کے اس نے فون وہی چھوڑا اور ذیشان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔۔

لیکن کمرے میں اسے کوئی نظر نہی آیا۔۔اور سیڑھیوں کا راستہ کھلا تھا۔۔اذنان کو سمجھ آ گئی کہ وہ لوگ نیچے گئے ہیں۔۔اس نے اپنی گن لوڈ کی اور نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔

زیشان نے ابھی لائٹ آن کی ہی تھی۔۔۔کہ کسی نے اس پر حملہ کر دیا۔۔۔زویا نے گن اس کے سر میں ماری۔۔اور ہینڈز اپ کہا تو وہ تینوں ایک دم چوکنا ہو گئے۔۔۔اور ہاتھ اوپر اٹھا دیے۔۔

زیشان زویا کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔بے بی یہ گن کہاں سے ملی تمہے۔۔۔تم تو بہت بہادر ہو۔۔چھوڑ دو اسے یہ کھیلنے کی چیز نہی ہے۔زویا کو سامنے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ چکے تھے۔۔

یہ سب کیا چل رہا ہے یہاں اور کون ہو تم۔۔۔وہ غصے سے پھنکارتا ہوا زویا کی طرف بڑھا۔۔تبھی زویا نے گن اس کی طرف کر دی خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو جان سے مار دیں گے ہم تمہیں۔۔

میجر زویا خان ہیں اس وقت آپ کے سامنے۔۔اب تمہارا کھیل ختم ہو چکا ہے۔۔تبھی اذنان بھی وہاں آ پہنچا۔۔

اس نے بھی گن تانی ہوئی تھی۔۔اور ان سے ملیے یہ ہیں۔۔میجر اذنان۔۔

مطلب تم دونوں میاں بیوی نہی آرمی والے ہو۔۔۔۔یہ دشمنی بہت مہنگی پڑے گی تم دونوں کو دیکھ لینا۔۔

ابھی بھی ٹائم ہے۔۔۔پیسے آدھے آدھے بانٹ لیتے ہیں۔۔۔مل جل کر معاملہ سیٹ کر لیتے ہیں۔۔

ایگزیکٹلی۔۔۔وہ لڑکی بھی جلدی سے بولی۔۔

ان کو بات سن کر اذنان غصے سے آگے بڑھا۔۔اور دو تین تھپڑ ذیشان کے منہ پر جڑ دیے۔۔۔

شرم آنی چاہیے تمہے۔۔ایک مسلمان اور پاکستانی ہوتے ہوئے تم اپنے ہی ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہو۔۔

کیا بگاڑا ہے ان بچوں نے تمہارا ان معصوم بچوں سے کیا دشمنی ہے تمہاری۔۔۔ایسی جگہ بند کرو گا کہ ساری زندگی باہر نہی نکل پاو گے۔۔

سر مجھے جانے دیں۔۔۔میں تو یہاں بچے کو لینے آیا تھا۔

۔مجھے نہی پتہ تھا کہ یہ اغوا کر کے لائے ہیں ان بچوں کو مجھے تو یہی بتایا گیا تھا کہ یہ بچے کو گود لیا گیا ہے۔۔۔اور مجھے پہچانا تھا بس بچے کو مطلوبہ ایڈرس پے۔۔سر میں غریب آدمی ہوں۔۔

معمولی سا ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔۔مہربانی کر کے مجھے جانے دیں۔۔۔

اوکے تم جاو۔۔۔اذنان نے کہا تو وہ جلدی سے دعائیں دیتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

پولیس کو انفارم کر دیا ہے پولیس بس آنے والی ہی ہو گی۔۔۔تم دونوں کو انجام بہت برا ہونے والا ہے۔۔۔

غریب ماں باپ کے بچوں کو اٹھوا کر یہاں لا کر بیچ دیتے ہو کبھی سوچا ہے کیا بیتتی ہو گی ان ماں باپ پر جن کے بچوں کو تم ان سے دور کر دیتے ہو۔۔۔

اور ان بچوں پر کیا بیتتی ہے۔۔جن سے تم ان کا بچپن چھین لیتے ہو۔۔ماں باپ بھائی بہنوں کا پیار سب سے دور کر دیتے ہو۔۔

وہ لڑکی آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتی گئی۔۔اور ایک دم سیڑھیوں کی طرف بھاگی لیکن زویا نے اسے دبوچ لیا۔۔ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔۔

اب تم بھاگ نہی سکتی۔۔۔زویا  گن تانے اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔

اس نے زویا کے پاوں پکڑ لیے پلیز مجھے جانے دو۔۔میں وعدہ کرتی ہوں دوبارہ ایسا کام نہی کروں گی۔۔

زویا اپنا پاوں چھڑواتے ہوئی اٹھی۔۔۔لیکن اسے اپنی ٹانگ پر کچھ چبنے کا احساس ہوا اور وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانی ہو کر گر پڑی۔۔

اب اس کا رخ اذنان کی طرف تھا۔۔اس سے پہلے کہ وہ انجیکشن اذنان کی طرف پھینکتی اذنان نے ایک گولی اس کی ٹانگ پر ماری انجیکشن اس کے ہاتھ سے دور جا گرا۔

وہ درد سے چلا اٹھی۔۔ذیشان اس کی طرف جلدی سے بڑھا یہ کیا کیا تم نے۔۔۔گولی کیوں ماری۔۔

تبھی پولیس آ پہنچی وہاں ان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اور ذیشان کو گرفتار کر لیا۔۔اور لڑکی کو لیڈیز پولیس کے ساتھ ہوسپٹل بھیجا تا کہ اس کی ٹانگ سے گولی نکالی جا سکے۔۔

ان بچوں کو بھی پولیس نے اپنی کسٹڈی میں لے لیا۔

۔تھینکس یو مین۔۔پولیس آفیسر نے اذنان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔۔

ڈونٹ سے تھینک اٹس مائی ڈیوٹی۔۔۔کہتے ہوئے اذنان زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اس کی سانس چل رہی تھی۔۔وہ بلکل ٹھیک تھی۔۔بس نشے کی وجہ سے بے حوش ہو چکی تھی۔۔

پولیس آفیسر زویا کی طرف بڑھا۔۔لیکن اذنان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔۔

ڈونٹ وری سر شی از فائن۔۔۔آئی ول مینیج۔۔۔اذنان نے کہا تو پولیس آفیسر اوکے کہتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔

اذنان نے زویا کی گن اٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھی اور اسے اٹھاتے ہوئے اوپر کمرے میں لے آیا اور لا کر بیڈ پر لیٹا دیا۔۔

پانچ چھ گھنٹوں سے پہلے یہ نہی اٹھنے والی۔۔اذنان مسکراتے ہوئے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔۔اگر زویا ہوش میں ہوتی تو اذنان کو مسکراتے دیکھ کر دوبارہ بے ہوش ہو جاتی۔۔😜

اذنان نے میجر اظہر کو کال کی۔۔مشن سکسیسفل میجر۔۔۔
ہممم ویل ڈن مجھے تم دونوں سے یہی امید تھی۔۔دو دن میں ہی مشن کمپلیٹ کر لیا۔۔

لیکن ایک چھوٹی سی پرابلم ہے۔ہم آج واپس نہی آ سکےگے۔۔کیونکہ مس زویا بے ہوش ہیں۔۔۔اذنان نے جواب دیا۔۔وہ اچانک ان پر حملہ ہوا تو نشے سے بھرا انجیکشن لگ گیا ویسے وہ بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔ہم کل صبح نکلیں گے یہاں سے۔۔

اوکے میجر اظہر نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔۔۔اور اذنان وہی صوفے پر لیٹ گیا۔۔۔اور سو گیا۔۔

تین گھنٹوں بعد اس کی آنکھ کھلی تو زویا ابھی تک بے ہوش تھی۔۔اذنان ایک نظر اس کو دیکھتے ہوئے۔۔اپنا فون اور ہڈ اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

ایک گھنٹے بعد واپس آیا۔۔۔ٹکٹس کی بکنگ کروائی اور کھانا لے کر واپس آیا۔۔۔زویا ابھی تک بے ہوش پڑی تھی۔۔اذنان اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔اور زویا کو آواز دی۔۔۔لیکن زویا اپنی جگہ سے نہی ہلی۔۔

اذنان نے نرمی سے اس کے ماتھے کو چھوا تو زویا تھوڑا سا ہلی۔۔اور اذنان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔لیکن ایک دم وہ سنجیدہ ہو گیا اور لیپ ٹاپ اٹھائے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔۔

ماضی کی تلخیوں  نے اسے ایسا بنا دیا۔۔اب وہ پھر سے برباد نہی کرنا چاہتا تھا خود کو۔۔۔ایک بار جب اعتبار اٹھ جائے انسانوں سے تو دوبارہ اعتبار کرنا آسان نہی ہوتا۔۔

ایسا ہی کچھ اذنان کے ساتھ ہوا تھا۔۔وہ دنیا کو بھول بیٹھا تھا اس کی زندگی سے خوشیاں روٹھ چکی تھی۔۔۔اس نے سمجھوتہ کر لیا تھا اپنی قسمت سے۔۔

اب کسی پر اعتبار نہی کرنا چاہتا تھا وہ۔۔۔ایک بار محبت کے نام پر دھوکہ کھا چکا تھا۔۔دوبارہ اس آگ میں جلنا نہی چاہتا تھا۔۔اس کی زندگی کا مقصد بس اب اپنے وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا تھا۔۔اسے اپنی جان کی پرواہ نہی تھی۔۔اپنے دیس کے نام پر قربان ہونا ہی اس کا مشن تھا۔

کچھ دیر بعد زویا کو ہوش آیا تو اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہی پائی اس کا سر چکرا رہا تھا۔۔اذنان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے پانی کا گلاس پکڑایا۔۔زویا نے جلدی سے سارا پانی پی لیا۔۔

آپ ٹھیک ہیں۔۔مس زویا۔۔۔اذنان نے کہا تو زویا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔

اور اذنان واپس صوفے پر آ کر بیٹھ گیا۔۔آپ ہمیں خالی زویا کہ سکتے ہیں۔۔۔اذنان کے کانوں میں زویا کی آواز گونجی۔۔

۔اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر زویا کی طرف دیکھا۔۔

وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔اذنان اس کی مسکراہٹ میں کھو سا گیا تھا۔۔پھر اچانک اس نے اپنے آپ کو سنبھالہ۔۔یہ کھانا ہے۔

۔آپ کھا لینا میں نے کھا لیا ہے۔۔کل صبح کی ہماری فلائٹ ہے۔کھانا کھا کر آپ آرام کریں۔۔زویا کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے جلدی سے بولا۔۔

اور نظریں لیپ ٹاپ پر گاڑ دی۔۔۔

زویا حیران ہو گئی اذنان کے اس رویے پر۔۔اور کندھے اچکاتے ہوئے پھر سے لیٹ گئی اس کا سر چکرا رہا تھا۔۔

اٹھ کر اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

نہا کر باہر نکلی تو اذنان ابھی بھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔آپ بھی کھانا کھائیں ہمارے ساتھ ہمیں اکیلے کھانا کھانے کی عادت نہی ہے۔۔پہلے بھی بتایا تھا آپ کو ہم نے۔۔

اذنان لیپ ٹاپ بند کرتے ہوا زویا کی طرف بڑھا۔۔ایک بار کہ دیا نہ۔۔۔۔باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔۔زویا نکھری نکھری بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔

اس کے چہرے کی معصومیت نے اذنان کا دل پگھلا دیا۔اور اس کا غصہ ایک دم اڑن چھو ہو گیا۔زویا کی گہری آنکھوں میں وہ کھو سا گیا۔وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے ہوئے اذنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

زویا نے چٹکی بجائی تو اذنان ہوش میں آیا۔۔کیا ہوا زویا نے پوچھا تو اذنان بنا کوئی جواب دیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔اور زویا کندھے اچکاتے ہوئے کھانے کی میز پر اذنان کا انتظار کرنے بیٹھ گئی۔۔

اذنان آیا تو دونوں نے کھانا کھایا۔۔۔اور سونے کے لیے لیٹ گئے۔۔۔اذنان صوفے پر ہی لیٹنے لگا تو زویا نے اسے کہ دیا کہ آپ بیڈ پر سو جائیں مجھے صوفے پر سونے کی عادت ہے۔۔

تو اذنان بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔کل ان کی پاکستان کی فلائٹ تھی صبح پانچ بجے کی۔۔۔

صبح اٹھ کر دونوں نے اپنا اپنا بیگ اٹھایا اور ائیرپورٹ کے لیے نکل پڑے۔۔۔

پاکستان پہنچ کر دونوں میجر اظہر کے پاس جا پہنچے۔۔کل رات کے بعد دونوں کی آپس میں کوئی بات نہی ہوئی۔۔

زویا جاتے ہی میجر اظہر سے چپک گئی۔۔آئی مس یو سو مچ ڈیڈ۔۔۔انہوں نے زویا کو پیار کیا اور گھر جانے کو کہا۔۔

اذنان حیران رہ گیا یہ سب دیکھ کر میجر اظہر سمجھ گئے کہ میجر اذنان کیوں حیران ہیں۔۔۔

زویا ہماری بیٹی ہے۔۔۔میجر اذنان۔۔

ہممم سوری مجھے پتہ نہی تھا۔۔اذنان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
تو کیسا رہا آپ کا مشن زویا کے ساتھ کیا کہنا ہے اب آپکا ان کے بارے میں۔۔۔میجر اظہر مسکراتے ہوئے بولے۔۔

شی از بریو۔۔۔اذنان نے بس ایک ہی جملے میں بات مکمل کی۔۔

اوکے اب آپ آرام کر لیں تھک گئے ہو گے۔۔۔میجر اظہر نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

اوکے۔۔۔کہ کر اذنان اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔رسمِ وفا
قسط نمبر 4
از
خانزادی

ایک مہینے بعد۔۔۔۔
ایمن جلدی چلو کلاس کے لیے دیر ہو گئی تو سر بہت ڈانٹیں گے۔۔سر ارحم بہت غصے والے ہیں۔۔اگر ہم لیٹ گئے تو پوری کلاس کے سامنے ڈانٹیں گے۔۔تم تو ایک ہفتہ بعد آئی ہو۔

تمہے پتہ نہی ہے سر کا دو دن پہلے نئے سر آئیں۔۔اور تمہاری اسائمنٹ تو تیار ہے نہ سر کام کے معاملے میں کوئی کومپرومائز نہی کرتے۔۔رانیہ جلدی جلدی چلتے ہوئے بول رہی تھی۔۔

ڈونٹ وری اسائمنٹ ریڈی ہے۔۔تھینکس تم۔نے میل کر دی تھی۔۔ایمن نے جواب دیا۔۔اور دونوں کلاس روم میں داخل ہو گئی۔۔

کچھ دیر بعد سر آ گئے کلاس میں۔۔سب بچے کھڑے ہو گئے۔۔۔

ایمن کی نظر جب سر پر پڑی تو وہ گرتے گرتے بچی۔۔یہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔سوچتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔

جو سٹوڈنس کل نہی آئے تھے وہ کھڑے ہو جائیں۔۔ایمن جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور ہاتھ کھڑا کیا۔۔کلاس میں اور کوئی سٹوڈنٹ نہی کھڑا ہوا سوائے ایمن کے۔۔

سر کی نظر جب ایمن پر پڑی تو ایسے ظاہر کیا جیسے ان کو پہچاننے میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔۔

اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے بولے۔۔۔کیا نام ہے آپکا۔؟

ایمن صفدر۔۔ایمن نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

آپ مسکرا کیوں رہی ہیں۔۔سر ارحم نے غصے سے کہا تو ایمن کی ہنسی کو بریک لگی۔۔اور سارے سٹوڈنس ایمن کی طرف دیکھنے لگ پڑے۔

ایم سوری سر۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔ایمن نے سب کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔

نیکسٹ ٹائم آپ مجھے کلاس میں غیر حاضر نظر نہ آئیں۔۔اگر دوبارہ ایسا ہوا تو آپ کلاس میں نہی بیٹھ سکیں گی۔۔۔

اوکے سر۔۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔

ناو سٹ ڈاون۔۔۔سر نے کہا تو ایمن جلدی سے بیٹھ گئی۔۔سر نے لیکچر سٹارٹ کر دیا۔۔

لیکچر ختم ہوا تو سر نے سب سٹوڈنس سے اپنی اسائمنٹس جمع کروانے کو کہا۔۔

تو سب سٹوڈنس نے باری باری اپنی اسائمنٹس جمع کروا دیں۔۔

ایک سٹوڈنس ساری اسائمنٹس اٹھا کر سر کے روم میں چھوڑ آیا۔۔اور سر کلاس سے باہر نکل گئے۔۔ایک نظر ایمن پر ڈالتے ہوئے۔۔

سر کے کلاس سے باہر نکلتے ہی کلاس میں ہلچل سی مچ گئی۔۔سب سٹوڈنس باتوں میں لگ گئے۔۔تب ہی ایمن کا کلاس میٹ علی ایمن کے پاس آیا۔۔

ایمن کہاں تھی پچھلے ایک ہفتے سے۔۔۔؟؟

تم سے مطلب۔۔۔جواب رانیہ کی طرف سے آیا۔۔؟

علی تپ گیا۔۔میں نے تم سے پوچھا بھی نہی۔۔۔

سمجھی۔۔

بس کرو تم دونوں جب دیکھو لڑنے کو تیار رہتے ہو۔کبھی تو آرام سے بات کر لیا کرو۔۔ایمن بولی تو دونوں چپ ہو گئے۔۔

ایمن کیا ہوا تمہیں پریشان کیوں ہو۔۔اور سر تمہاری طرف کیوں دیکھ رہے تھے ایسے لگ رہا تھا کہ تم دونوں جانتے ہو ایک دوسرے کو۔۔رانیہ ہنستے ہوئے بولی۔۔

ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے علی نے کہا تو دونوں ہنس پڑے۔۔۔بچ گئی تم ویسے ایمن سر بہت ہیوی فائن کرتے ہیں چھٹی والے کو۔۔تمہیں کیوں نہی کیا فائن۔۔علی مسکراتے ہوئے بولا۔۔

ایمن نے دونوں کو گھورا۔۔۔ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔میں سر سے آج فرسٹ ٹائم ملی ہوں۔۔اور رہی بات فائن کی تو ہو سکتا ہے۔۔آج میرا فرسٹ ٹائم تھا۔۔نیکسٹ ٹائم معاف نہی کریں گے۔۔۔

ایگزیکٹلی۔۔۔تبھی پیچھے سے روحان کی آواز آئی تو تینوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایمن کے ماتھے پر بل پڑ گئے اسے دیکھ کر۔۔وہ ایمن کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔

ایمن نے اسے گھورا اور وہاں سے اٹھ کر باہر کی طرف چل دی۔۔رانیہ اور علی بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔۔۔

اور ریحان لب بھینچ کر رہ گئی۔۔۔یونی کی ساری لڑکیاں اس پے فدا تھیں۔۔۔اس سے بات کرنے کو ترستی تھی۔۔۔اور ایک یہ تھی۔۔ایمن صفدر جو اسے لفٹ نہی کرواتی تھی۔۔۔

کب تک بھاگوں گی مجھ سے۔۔ایک دن تمہیں اپنا بنا لوں گا۔۔تم مجھ سے بچ جاو گی یہ تمہاری بھول ہے۔۔تم نے مجھے۔۔روحان ملک کو اگنور کیا۔۔انجام اچھا نہی ہو گا۔۔دل ہی دل میں سوچتا اپنے غصے کو کنٹرول کرتا وہاں سے اٹھ گیا۔۔

کیا ہو گا اگر تم اس بیچارے سے تھوڑی بات کر لو تو۔۔بیچارہ تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا رہتا ہے اور تم اسے لفٹ نہی کرواتی ہو۔۔۔رانیہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔

ایمن نے اسے غصے سے گھورا میں یہاں پڑھنے آتی ہو۔۔مجھے کوئی ضرورت نہی ہے اس سے بات کرنے کی۔۔اور وہ تو پاگل ہے اپنا ٹائم ویسٹ کر رہا ہے یہاں۔۔مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ نہی ہے۔۔

پوری یونی کی لڑکیاں مرتی ہیں اس پر اور ایک تم ہو جس پر وہ مرتا ہے۔۔رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔

تم پاگل ہو۔۔ہم یہاں پڑھنے کے لیے آتے ہیں کسی پر مرنے کے لیے نہی۔۔ایمن نے رانیہ کا کان پکڑ کر کہا اور تم سدھر جاو ادھر ادھر دھیان دینا بند کرو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔کہ کر اس کا کان چھوڑ دیا۔۔
تبھی علی اپنے لیے اور ان دونوں کے لیے جوس لے کر آیا۔۔۔یہ لو بھئی انجوائے کرو گرلز۔۔۔

تھینکس کہتے ہوئے دونوں نے اپنا اپنا گلاس پکڑ لیا۔

۔یہ کس خوشی میں۔۔۔رانیہ نے جوس پکڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ہممم یہ ٹریٹ ہے۔۔۔علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
کس بات کی ٹریٹ ایمن نے پوچھا۔۔

دوستوں کے پیسوں سے کچھ کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔۔کہتے ہوا اس نے رانیہ کے سامنے اس کا والٹ لہرایا۔۔تو رانیہ کے ہوش اڑ گئے۔۔

علی کے بچے آج تمہیں چھوڑوں گی نہی میں کہتے ہوئے علی کے پیچھے بھاگی۔۔اور علی بچاو بچاو کہتے ہوئے آگے کو بھاگا۔اور ایمن کا قہقہ بلند ہوا۔۔

تبھی ایمن کی نظر سامنے پڑی تو سامنے کوئی کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔ایمن نے دیکھا تو اس نے نظریں پھیر لی۔۔اور جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔۔

جب علی اور رانیہ بھاگ بھاگ کر تھک گئے تو ایمن کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔۔۔یہ لو رانیہ اپنے پیسے ناراض مت ہونا۔۔میں تو بس مزاق کر رہا تھا۔۔

رانیہ نے چھیننے کے انداز میں علی کے ہاتھ سے پیسے پکڑے اور اپنے بیگ میں رکھ دیے اور منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔۔

رانیہ اب کیا ہوا پیسے دے تو دیے علی نے یار اب معاف کر بھی دو۔۔اس بیچارے کو۔۔ایمن نے کہا تو رانیہ مسکرا دی۔۔۔

ایک شرط پر معاف کروں گی۔۔اگر یہ ہمیں لنچ ٹائم بریانی کھلائے گا تو۔۔رانیہ علی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔

علی نے اسے گھورا وہ کس خوشی میں۔۔۔یہ جوس بھی میرے پیسوں کا ہے میری کونسی کمیٹی نکلی ہے۔۔جو تم لوگوں کو بریانیاں کھلاتا پھروں۔۔

تو ٹھیک ہے نکلو یہاں سے۔۔۔دوبارہ یہاں نظر مت ڈالنا ہم تم سے سارے رشتے ختم کرتے ہیں۔۔رانیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔

ایمن اور علی کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔ارے بس بس بہت ہو گیا اب سمیٹو تم دونوں یہ سب لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔

نہی نہی پہلے آج فیصلہ ہو گا۔۔۔بریانی یا پھر دوست کیا چاہیے علی کو اسے بتانا ہی ہو گا۔۔رانیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔

جو حکم ملکہ عالیہ آپ کو بریانی مل جائے گی۔۔۔ابھی چلیں کلاس میں لیکچر سٹارٹ ہو گیا نہ تو سر نے ہمارا قورمہ بنا دینا ہے وہ بھی بینگن والا۔۔

اور مجھے بھینگن کا قورمہ نہی کھانا۔۔۔علی نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا تو تینوں کا قہقہ بلند ہوا۔۔۔

بینگن کا قورمہ نہی ہوتا بھرتا ہوتا ہے۔۔۔رانیہ نے کہا تو تینوں ہنستے ہوئے کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔

لنچ ٹائم پر علی دونوں کو کینٹین لے گیا۔۔اور بریانی منگوائی۔۔اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔تب ہی روحان وہاں آ گیا اور ایمن کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔

واو پارٹی چل رہی ہے یہاں تو۔۔۔ہممم بہت اچھے ٹائم پر اینٹری ماری ہے میں نے۔۔۔اس نے کہا تو علی نے اسے گھورا۔۔۔تمہارا یہاں کوئی کام نہی جاو یہاں سے۔۔علی اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔

ریلیکس بڈی۔۔۔میں کوئی دشمن تو نہی ہوں تم لوگوں کا اگر تھوڑی دیر مجھے ساتھ بٹھا لو گے تو کیا ہو جائے گا۔۔روحان گاڑی کی چابی انگلی پر گھماتے ہوئے بولا۔۔

مجھے تو یہ سمجھ نہی آتی تم لوگوں کو مسلہ کیا ہے مجھ سے۔۔۔جب دیکھو تب کاٹ کھانے کو پڑتے ہو۔۔۔۔۔روحان کا انداز غصے بھرا تھا۔۔

علی ابھی بولنے ہی والا تھا۔۔۔کہ ایمن نے سر ہلا کر کچھ بھی نہ بولنے کا اشارہ کیا۔۔۔ایمن اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور ساتھ ہی علی اور رانیہ بھی۔۔اٹھ گئے اور دوسرے ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے چل پڑے۔۔

روحان ایک دم ایمن کے سامنے آ گیا اور اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔۔ایمن گرتے گرتے بچے۔۔۔ایمن رک جاو پلیز آخر کب تک ایسا چلے گا۔۔میں دوستی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔۔۔

ایمن کا ہاتھ اٹھا۔۔۔اور روحان کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگا۔۔۔سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گیے۔۔روحان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔اپنی اس بے عزتی پر۔۔۔

لیکن بولا کچھ نہی ایمن وہاں سے چل پڑی تو رانیہ اور علی بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑے۔۔

اور روحان وہی اپنے گال پر ہاتھ رکھے کچھ دیر کھڑا رہا اسے یقین نہی ہو رہا تھا کہ کسی لڑکی نے اسے تھپڑ مارا ہے۔۔۔کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد وہ وہاں سے چل پڑا۔۔

وہ تینوں گاڑدن میں جا کر بیٹھ گئے۔۔۔کیا یار سارا موڈ خراب کر دیا اس روحان نے۔۔علی غصے سے بولا۔۔

خیر جو بھی ہوا۔۔۔ایمن کا تھپڑ بہت کمال کا تھا۔۔۔رانیہ بولی تو۔۔۔علی اور رانیہ ہائی فائی کرتے ہوئے ہنس دیے۔۔۔ہاہا یہ تھپڑ اسے نہی بھولے گا۔۔

آج کے بعد کسی بھی لڑکی کو ہاتھ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔۔رانیہ بولی۔۔۔

اچھا چھوڑو یہ سب چلو بریانی کھاتے ہیں۔۔آ جاو ایمن۔۔رانیہ نے کہا تو ایمن نے کھانے سے انکار کر دیا۔۔

اب چھوڑو یار اس کی عادت ہے۔۔۔امید ہے آج کے بعد ہمارے راستے میں نہی آئے گا وہ۔۔آج اچھا سبق سکھایا تم نے اسے۔۔۔چلو اب شروع کرو ٹھنڈی ہو گئی تو دل نہی کرے گا کھانے کو۔۔

اچھا لاو۔۔ایمن نے کہا تو تینوں مسکرا دیے۔۔۔اور بریانی کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔۔
یونی سے واپسی پر تینوں واپس ہوسٹل چلے گئے۔۔

روحان نے گھر جاتے ہی کمرے کی ساری چیزیں توڑ پھوڑ دی۔۔۔شور کی آواز سن کر ارمان۔۔روحان کا جڑوا بھائی وہاں آ گیا۔۔۔

یہ سب کیا کر رہے ہو ریحان کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔بس کر دو یہ حرکتیں موم گھر میں نہی ہیں۔۔اگر وہ یہ سب دیکھ لیتی تو بہت دکھ ہوتا ان کو۔۔

اب بچے نہی رہے تم بند کرو یہ سب کچھ۔۔ارمان اسے جھنجوڑتے ہوئے بولا۔۔

تم دور رہو مجھ سے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔۔زیادہ اچھا بننے کی ضرورت نہی ہے۔۔سب جانتا ہوں میں تمہارے بارے میں۔۔۔روحان غصے سے ارمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

اس لڑکی کو تو میں چھوڑوں گا نہی سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو۔۔۔اس نے مجھے روحان ملک کو تھپڑ مارا۔۔۔اس نے سامنے پڑا گلدان شیشے میں دے مارا۔۔سارا شیشہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔۔۔

اس کی ہمت کیسے ہوئی۔۔۔لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر۔۔ترستی ہیں کہ میں ان سے بات کروں اور ایک یہ ہے۔۔ایمن صفدر جس سے میں خود بات کرنا چاہتا ہوں۔۔اور یہ مجھے اگنور کرتی ہے۔۔

کیونکہ وہ باقی لڑکیوں جیسی نہی ہے۔۔۔پاگل ہے وہ لڑکیاں جو تمہارے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں۔۔۔اپنا ٹائم ضائع کرتی ہیں۔۔جنہیں نہ اپنی عزت کا خیال ہے نہ ماں باپ کی عزت کا۔۔

وہ ان لڑکیوں جیسی نہی ہے۔۔۔وہ اچھے گھر کی لڑکی ہے۔۔اس کو اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال ہے۔۔۔اپنا اچھا برا سمجھتی ہے وہ۔۔ارمان اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔

اور تم یہ بتاو مجھے وہاں پڑھنے جاتے ہو یا لڑکیوں سے دوستی کرنے جاتے ہو۔۔جس دن پاپا کو تمہاری حرکتوں کا پتہ چل گیا نہ اچھا نہی ہو گا۔۔دن رات ایک کر کے وہ ہمارے لیے محنت کر کے پیسے کماتے ہیں۔۔۔

ہمیں پڑھا رہے ہیں۔۔تا کہ ہمارا مستقبل بہتر بن سکے۔۔لیکن تمہیں تو کسی کی پرواہ نہی ہے۔۔تمہیں بس اپنی اناہ پیاری ہے۔۔ بس لڑکیوں کو ساتھ لیے پھرتے ہو۔۔۔اب بس بہت ہو گیا مجھے ڈیڈ کو بتانا پڑے گا تمہاری حرکتوں کے بارے میں۔۔۔ارمان کہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

جو مرضی کرو جسے چاہے بتا دو۔۔۔مجھے کسی کی پرواہ نہی مجھے بس ایمن صفدر سے بدلہ لینا ہے۔۔چھوڑوں گا نہی میں اسے کہتے ہوئے بیڈ پر گر گیا۔۔۔

اگلے دن وہ تینوں کلاس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔کہ ارمان ان کے پاس آیا۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔اس نے کہا تو تینوں نے مڑ کر دیکھا۔۔

جی ایمن نے جواب دیا۔۔۔وہ کل جو کچھ ہوا۔۔روحان نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی اس کے لیے میں اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔۔ارمان نظریں جھکائے بولا۔۔۔

آپ کو سوری کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔اس میں آپ کی کوئی غلطی نہی آپ بس ان کو سمجھا دیں کہ دوبارہ میرے راستے میں نہ آیے۔۔ایمن بولی

ایگزیکٹلی بڈی ہماری تم سے کوئی دشمنی نہی تو تو اپنا دوست ہے یار۔۔علی جلدی سےبولا۔۔کب تک اس کی غلطیوں کی معافی مانگتے پھرو گے۔۔۔اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔۔

آو بیٹھو ہمارے ساتھ۔۔۔علی نے کہا تو ارمان علی کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔اور باتوں میں مصروف ہو گئے۔۔تب ہی روحان کلاس میں داخل ہوا۔۔۔ارمان کو ان کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر سیخ پا ہو گیا۔۔لیکن بولا کچھ نہی۔۔۔ایک نظر ان پر ڈالتے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔

سر ارحم کلاس میں آئے اور لیکچر سٹارٹ ہو گیا۔۔سب لیکچر سننے میں مصروف ہو گئے۔۔۔لیکچر ختم ہونے کے بعد سب کو ان کی اسائمنٹس واپس کر دی سر نے سوائے ایمن اور رانیہ کے۔۔۔

ایمن صفدر۔سر ارحم نے اس کا نام لیا تو ایمن جلدی سے کھڑی ہو گئی۔۔۔جی سر۔۔۔
آپ پانچ منٹ میں میں میرے آفس میں پہنچیں۔۔۔سر ارحم بول کر کلاس روم سے باہر نکل گئے۔۔۔اور ایمن نے کندھے اچکا دیے۔۔۔پوری کلاس ایمن کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔۔۔
ایمن اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے سر ارحم کے آفس کی طرف چل پڑی۔۔۔ہو گئے شروع۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 5
از
خانزادی

مے آئی کم ان سر۔۔۔ایمن سر ارحم کے آفس کے باہر دروازہ ناک کرتے ہوئے بولی۔۔۔

ییس۔۔۔سر ارحم نے نظریں ایمن کی اسائمنٹس پر جمائے ہوئے بنا اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

جی سر آپ نے مجھے یاد کیا ایمن اندر آتے ہوئے بولی۔۔
سر ارحم نے گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے اور ایمن کو گھورا۔۔

۔یہ آپ کی اسائمنٹ ہے۔۔۔فائل ایمن کی طرف بڑھا دی۔۔

ایمن نے فائل اٹھائے بغیر کہا سر میرا نام مینشن ہے۔۔۔اوپر۔۔۔

ہمم یہ بھی آپکی اسائمنٹ ہے۔۔۔انہوں نے دوسری فائل بھی ایمن کے سامنے رکھ دی۔۔۔جو رانیہ کی تھی۔۔

نہی سر یہ تو کسی اور کی ہے۔۔اوپر نام مینشن ہے۔۔۔رانیہ عباس۔۔

نام تو دونوں اسائمنٹس پر الگ الگ ہیں۔۔۔لیکن ڈیٹا سیم کیوں ہے۔۔۔۔کیا میں جان سکتا ہوں ایسا کیوں ہیں۔۔۔؟؟ ایمن کو گھورتے ہوئے بولے۔۔

اگر میں کہو کہ نہی تو۔۔؟؟؟ ایمن نے لٹھ مار انداز میں جواب دیا اور کرسی کھینچتے ہوئے اپنا بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔

اور سر ارحم نے اسے گھوری سے نوازا۔۔۔

اور ایمن نے کندھے اچکا دیے۔۔۔کیا۔۔۔؟؟ سر ارحم کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو بول پڑی۔۔۔

یہ کونسا طریقہ ہے۔۔۔ٹیچر کے سامنے بیٹھنے کا۔۔سرارحم اسے گھورتے ہوا بولے۔۔

کون سر؟؟ سر ہوں گے آپ کلاس میں میجر اذنان۔۔۔یہاں میرے سامنے زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہی ہے۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔

ہممم انٹیلیجنٹ۔۔۔آئی ایم امپریسڈ۔۔۔کاش میں ایسا کہ سکتا لیکن ابھی میرا موڈ نہی ہے۔۔کہتے ہوئے اذنان چیئر پر بیٹھ گیا۔۔

ہمم ہماری تعریف تو آپ کر ہی نہی سکتے نہ۔۔۔ہم جانتے تھے کچھ الٹا ہی بولیں گے آپ۔۔زویا چڑتے ہوئے بولی۔۔

اب تک آپ نے ایسا کوئی کام کیا ہی نہی کہ میں آپ کی تعریف کر سکوں۔۔مس زویا۔۔۔اذنان لب بھینچتے ہوئے آہستہ آواز میں بولا۔۔

کچھ کہا آپ نے ہمارے بارے میں۔۔۔زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔۔

نہی نہی میں نے کچھ نہی بولا آپ کے بارے میں اذنان ہینڈز اپ کرتے ہوئے بولا۔۔

زویا اذنان کے اس انداز پرمسکرا دی۔۔خیر

یہ سب چھوڑیں آپ یہ بتائیں آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔میجر اذنان۔۔؟؟

وہی جو آپ کرنے آئی ہیں یہاں میجر زویا۔۔۔۔

اذنان نے کہا تو زویا ہنس دی۔۔۔ہم نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا۔آپ ہمیں زویا بلا سکتے ہیں۔۔

ہم تو یہاں کسی خاص مشن کے لیے آئے ہیں۔۔۔زویا نے جواب دیا۔

اور میں بھی اس خاص مشن کو پایا تکمیل تک پہچانے میں آپ کا ساتھ دینے یہاں آیا ہوں ۔۔۔

اوہ رئیلی۔۔زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔
جی۔۔اذنان بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔

ہمم خوشی ہوئی ہمیں آپ سے دوبارہ مل کر۔۔۔زویا کہ کر مسکرا دی۔۔

ویل کیوں بلایا آپ نے ہمیں یہاں میجر اذنان ہم پوچھ سکتے ہیں۔۔۔۔زویا بولی۔۔؟؟

آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں نے کیوں بلایا ہے آپ کو یہاں۔۔کل سے آپ ان کپڑوں میں نظر نہی آئیں مجھے۔۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔

میجر اذنان ان کپڑوں میں کیا برائی ہے۔۔آپ تو ہمارے کپڑوں کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔۔۔۔زویا منہ بناتے ہوئی بولی۔۔۔

مس زویا یہ یونیورسٹی ہے۔۔۔یہاں صرف آپ اکیلی نہی آتی  یہاں اور بھی بہت سے لوگ ہیں یہاں اسی لیے۔۔۔کل سے آپ ان کپڑوں میں نظر نہی آئیں مجھے ۔۔

آپ اتنا حق کیوں جماتے ہیں ہم پر میجر اذنان۔۔۔کیا ہم پوچھ سکتے ہیں۔۔۔

زویا کی بات سن کر اذنان نے نظریں لیپ ٹاپ سے ہٹاتے ہوئے زویا کی طرف دیکھا۔۔زویا کی بات نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔کہ تو وہ ٹھیک ہی رہی تھی۔۔

ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔مس زویا میں آپ پر حق نہی جتاتا۔۔بس جب تک آپ کے ساتھ ہوں۔۔آپ کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔میں نہی چاہتا کہ کسی کی غلط نظر آپ پر پڑے۔۔

کل کینٹین میں جو کچھ ہوا۔۔اس سب سے واقف ہوں میں۔۔۔آپ اس طرح کے کپڑے پہن کر یونیورسٹی آئیں گی۔۔تو یہ سب تو ہو گا ہی۔۔۔اپنے مشن سے دھیان نہی ہٹنا چاہیے ہمارا۔۔۔

روحان سے تو آپ واقف ہی ہے۔۔وہ جس ٹائپ کا لڑکا ہے۔۔ہمیں سنبھل کر رہنا پڑے گا۔۔کہی ہمارا راز اس کے سامنے کھل گیا تو بنا بنایا پلان بگڑ جائے گا۔۔۔اس کو موقع ہی نہی ملنا چاہیے۔۔آپ کے خلاف آواز اٹھانے کا۔۔۔

امید ہے میری بات آپ سمجھ گئی ہو گی۔۔۔۔۔اذنان زویا کا ری ایکشن دیکھتے ہوئے چپ ہو گیا۔۔۔

مطلب کیا ہے آپ کا میجر اذنان۔۔۔۔؟؟؟میرے کپڑوں کی وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔مطلب کیا خرابی ہے اس جینز اور شرٹ میں۔۔۔۔

آپ کو ایک عام سے گھر کی مڈل کلاس سی لڑکی ظاہر کرنا ہے۔۔خود کو اگر اسی طرح کے کپڑے پہن کر آتی رہی تو کچھ نہی ہو گا آپ سے۔۔۔تو کل سے نارمل لڑکی کے کپڑوں میں دیکھوں میں آپ کو۔۔

مطلب کیا ہے آپکا ہم آپ کو نارمل لڑکی نہی لگتی کیا۔۔؟؟ زویا صدمے سے بولی۔۔

لگتا تو یہی ہے۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ زویا کچھ بولتی دروازہ ناک ہوا۔۔۔مے آئی کم ان سر۔۔؟؟ 

دونوں نے پیچھےمڑ کر دیکھا پیچھے ارمان کھڑا تھا۔۔۔زویا جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی کہی ارمان کو شک نہ ہو جائے۔۔۔

ارمان کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے آگے بڑھا۔۔ڈونٹ وری میجر زویا آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی۔۔۔ان سے ملیئے یہ ہیں۔۔۔میجر ارمان۔۔۔

زویا کے سر پر بم پھوٹا۔۔۔۔واٹ۔۔۔۔؟؟وہ چلائی۔۔۔ملک ارمان نہی میجر ارمان ہیں یہ۔۔۔؟؟

نہی مس زویا یہ ملک ارمان بھی ہیں اور میجر ارمان بھی ہیں۔۔۔۔اذنان زویا کے انداز میں بولا۔۔

کیا کچھ اور بھی ہے یہاں جس کے بارے میں ہمیں نہی پتہ۔۔زویا شاکڈ تھی۔۔

جی ایسا بہت کچھ ہے جو آپ نہی جانتی لیکن وہ آپ کا جاننا ضروری بھی نہی آپ بس اپنے مشن پر دھیان دیں۔۔۔

کیا انفارمیشن ہے آپ کے پاس میجر ارمان۔۔؟؟ اذنان نے ارمان کی طرف دیکھتے ہوا کہا۔۔۔

ابھی تک کچھ پتہ نہی چلا سر نیلم اور منزہ کے بارے میں۔۔۔ان کے پیرنٹس نے اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔۔۔مسٹر بٹ نے پیسے کے دم پر ان کو چپ کروا دیا ہے۔۔۔

جب کہ نیلم کی فرینڈ نے لاسٹ ٹایم اس کو احد کے ساتھ جاتے دیکھا تھا اس کے بعد سے نیلم سے کوئی رابطہ نہی ہو سکا۔۔جب وہ گھر نہی پہنچی تو ان کے پیرنٹس نے ان کی فرینڈز سے رابطہ کیا۔۔

پہلے تو نیلم کی فرینڈ انعم نے سوچا کے نہ بتائے نیلم کے پیرنٹس کو لیکن جب بات اگلے دن تک پہنچ گئی تو مجبورن انعم کو بتانا پڑا کہ اس نے احد کے ساتھ جاتے دیکھا تھا۔۔لاسٹ ٹائم یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے۔

انعم کی انفارمیشن کے مطابق ہی نیلم کے پیرنٹس نے ایف آئی آر۔۔کٹوائی تھی۔۔۔احد بٹ کے نام۔۔۔لیکن کچھ حاصل نہی ہو سکا ان کو الٹا ان کی زلت ہی ہوئی معاشرے میں۔۔

۔اور زبردستی غنڈوں کے زریعے ان سے صلح نامے پر سائن کروا لیے گئے۔۔۔اور نتیجہ ان کو کیس واپس لینا پڑا۔۔

یہی سیم سیچوایشن منزہ کے کیس کے ساتھ بھی ہے۔۔ان دونوں کا تعلق مڈل کلاس فیملیز سے ہے۔۔اسی لیے احد کی باتوں میں آ گئی۔پتہ نہی کیا ہوا ان کے ساتھ۔۔

زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔۔۔دونوں کے پیچھے احد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔اور اس کا باپ مسٹر شاہد بٹ کا ہاتھ ہے۔۔

پچھلے ایک مہینے سے یونیورسٹی نہی آ رہا احد وہ یونیورسٹی آئے تو ہم آگے کی کاروائی شروع کریں۔۔۔

جانے کو تو ہم اس کے گھر بھی جا سکتے ہیں۔۔۔لیکن ہمیں ڈر ہے کہ کہی وہ لڑکیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔

ہممم اوکے آپ جا سکتے ہیں۔۔۔میجر ارمان۔۔۔
اوکے ارمان ایک نظر زویا پر ڈال کر مسکراتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔

آپ بھی جا سکتی ہیں۔۔۔مس زویا۔۔اذنان نے کہا تو زویا اپنا بیگ اٹھائے چل پڑی۔۔

ویٹ۔۔۔اذنان نے کہا تو زویا رک گئی۔۔اذنان اپنی چئیر سے اٹھ کر زویا کے پاس آیا۔۔

میری باتیں بری لگی ہو تو سوری زویا لیکن اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔۔

اٹس اوکے کہتے ہوئے زویا باہر کی طرف چل پڑی۔۔۔

اور ایک بات۔۔زویا۔۔

اذنان نے کہا تو زویا پلٹی۔۔۔

میرا آپ سے ایسا کوئی رشتہ نہی جو میں آپ پر حق جتاو۔۔مائنڈ اٹ۔۔۔۔ناو یو مے گو۔۔

اذنان کی بات پر زویا حیران رہ گئی۔۔۔اور اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔کیا ہے یہ شخص دھوپ چھاوں جیسا۔۔۔

کبھی اپنا بن کر چھاوں میں لاتا ہے۔۔تو اگلے ہی پل دھوپ میں لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔زویا کندھے اچکاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

زویا باہر آئی تو علی اور رانیہ کمرے کے باہر ہی کھڑے تھے۔۔اس کو باہر آتے دیکھ کر دونوں جلدی سے آگے بڑھے۔۔

ایمن کیا ہوا۔۔۔تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے۔۔۔رانیہ جلدی سے بولی۔۔

کچھ نہی ہوا کلاس لگی ہے میری اور کیا ہونا تھا۔۔ایمن منہ لٹکائےبولی۔۔

کیوں لگی ہے تمہاری کلاس۔۔۔علی مسکراتے ہوئے بولا۔۔

اسائمنٹس کی وجہ سے میری اور رانیہ کی اسائمنٹ سیم جو تھی۔۔سر کوئی بچے تو نہی ہیں جو ان کو سمجھ نہی آنی تھی۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔

اچھا اب چلو کلاس میں۔۔ورنہ لیٹ ہو گئے تو پھر سے کلاس لگ جانی ہے میری۔۔۔ایمن نے کہا تو تینوں کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

واپسی پر ایمن نے علی سے کہا کہ مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔۔ہمیں لے کر چلو۔۔۔

واٹ۔۔۔؟؟ میں نے ٹھیکہ نہی اٹھا رکھا تم دونوں کا خود چلی جاو۔۔۔علی نے جواب دیا۔۔

ایمن اور رانیہ نے اسے گھورا۔۔۔اب دوست کے ہوتے ہوئے ہم اکیلی جائیں۔۔۔تو ایسے دوست کو بیچ کر بندہ آئی فون سکس لے لے۔۔۔ایمن بولی۔۔۔

ارے چھوڑ یار اس کو خریدے گا کون۔۔۔اس کا تو کسی نے نوکیا تیتیس دس نہی دینا آئی فون سکس تو دور کی بات ہے۔۔۔رانیہ بولی اور دونوں ہائی فائی کرتے ہوئے ہنس دیں۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے اب تم دونوں اکیلی ہی جانا۔۔۔مجھ سے بات مت کرنا میں تو بےکار ہوں نہ علی منہ بناتے ہوئے چل پڑا۔۔

ارے رکو رکو ہم تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔تم تو لاکھوں میں ایک ہو۔۔۔۔چلو اب مان بھی جاو دونوں اس کے آگے آ کر رک گئی۔۔

اچھا ٹھیک ہے چلو اب جلدی سے مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔علی نے کہا تو دونوں مسکراتے ہوئی اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔

اگلے دن ایمن بلیک شلوار قمیض پہنے کلاس میں داخل ہوئی تو سب کی نظریں اس پر جم گئی۔۔ واوو ایمن لکنگ بیوٹی فل۔۔۔ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ایمن کی تعریف کی۔

۔تھینکس ایمن مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔

علی اور رانیہ بھی بہت خوش تھے۔۔ایمن کے اس بدلاو پر۔۔۔سب کے منہ پر ایمن کا ہی نام تھا۔۔

روحان کلاس میں آیا تو ایمن کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔اوہ اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے اس کا۔۔ایمن کی طرف دیکھ کر بولا۔۔تو ایمن نے اس کی طرف دیکھا تو سر جھٹکتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔

ارمان بھی اس کے پیچھے ہی کلاس میں داخل ہوا۔۔اور علی کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ایمن کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

کیا؟؟؟؟ایمن نے اسے اپنی طرف مسکراتے دیکھا تو بول پڑی۔۔۔؟؟ 

کککچھ نہی۔۔۔ارمان ایمن کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو بوکھلاتے ہوئے بولا۔۔اچھی لگ رہی ہیں آپ۔۔میں تو بس یہ کہ رہا تھا۔۔

تھینکس۔۔۔ایمن مسکراتے ہوئے۔۔اپنی سیٹ کی طرف سیدھی ہو کر بِٹھ گئی۔۔۔

سر ارحم کلاس میں داخل ہوئے تو سب سٹوڈنٹس کھڑے ہو گئے۔۔سٹ ڈاون کہتے ہوئے سر ارحم کی نظر ایمن پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔۔وہ نظر نہ لگ جائے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔

اس کا گلابی رنگ بلیک سوٹ میں چمک رہا تھا۔۔۔بنا میک اپ کے بھی قاتل حسینہ لگ رہی تھی۔۔

زویا نے اذنان کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو نظریں جھکا گئی۔۔۔

ایمن نے نظریں جھکائی تو اذنان جلدی سے نظریں پھیر گیا اور وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔اور لیکچر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔اس کی نظریں بار بار ایمن کے چہرے پر اٹک رہی تھیں۔۔۔

لیکچر ختم ہوا تو اذنان جلدی سے کلاس روم سے باہر نکل گیا۔۔۔زویا کی نظریں اسے پزل کر رہی تھیں۔۔۔

زویا حیران تھی اذنان کے اس طرح دیکھنے پر۔۔۔سمجھ سے باہر ہے۔۔میجر اذنان ہماری۔۔خود ہی تو کہا تھا ایسے کپڑے پہننے کو اب خود ہی گھور رہے تھے۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 6
از
خانزادی

لیکچر کے بعد ایمن سر ارحم کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔دروازہ ناک کیا۔۔

ییس کم ان۔۔۔۔اذنان نے بغیر دیکھے جواب دیا۔وہ کل اسائمنٹ ساتھ لیجانا تو بھول ہی گئے تھے ہم۔۔

زویا کی آواز پر اذنان نے نظریں اوپر اٹھا کر اسے دیکھا جیسے کچھ سمجھ نہی پایا ہو۔۔

اسائمنٹ واپس لینے آئے ہیں ہم۔۔۔۔زویا نےجب اذنان کی طرف سے کوئی جواب نہ پایا تو بول پڑی۔

یہ رہی اسائمنٹس۔۔اذنان نےاسائمنٹس کی طرف اشارہ کیا۔۔۔

ؐزویا اسائمنٹس اٹھا کر روم سے باہر نکل گئی۔۔پتہ نہی کیا مسلہ ہے۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے تھے مجھے۔۔۔یہ میجر اذنان ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔یہ کبھی خوش نہی ہو سکتے ہم سے۔۔۔

کبھی کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں یہ پتہ نہی کیوں ان کو یہاں بھیج دیا گیا ہے۔۔ہم خود ہی ہینڈل کر لیتے یہ کیس۔۔

ڈیڈ سے بات کرنی پڑے گی ان کو واپس بلائیں۔۔یہاں ان کا کوئی کام نہی پریشان کر رکھا ہے۔۔میجر اذنان نے ہمیں۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے جا رہی تھی۔۔کہ سامنے سے آتے روحان سے ٹکرا گئی۔۔۔

اور گرتے گرتے بچی البتہ اس کی اسائمنٹس اور بکس بکھر چکی تھیں۔۔۔سامنے روحان کو دیکھ کر سیخ پا ہو گئی۔۔۔آپ دیکھ کر نہی چل سکتے کیا۔۔۔؟؟

روحان تو ڈر ہی گیا تھا ایمن کے اس رویے سے جو کبھی کلاس میں کبھی اونچی آواز میں نہی بولی تھی آج اتنی زور سے چلائی۔۔۔روحان کو اپنے کانوں پر یقین نہی آیا۔۔کیونکہ ابھی وہ جانتا نہی تھا کہ اس کے سامنے ایمن صفدر نہی۔۔۔میجر زویا کھڑی ہے۔۔

روحان نے اسائمنٹس اور بکس اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ رک گیا۔۔۔مجھے تو نظر آتا ہے بہت اچھی طرح۔۔لیکن شاید تمہاری نظر کمزور ہو گئی ہے۔۔دیکھ کر خود نہی چل رہی تھی اور مجھ پر الزام لگا رہی ہیں۔۔۔

بجائے کہ تم مجھے سوری بولو۔۔۔اوپر سے اوور ایکٹنگ کر رہے ہو۔۔۔بہت بدتمیز انسان ہو۔۔۔اب یہ ساری چیزیں سمیٹ کر پکڑاو مجھے۔۔۔زویا حکم دینے والے انداز میں بولی۔۔۔وہ بھی بھول چکی تھی کہ سامنے ملک روحان ہے۔۔۔جس نے کبھی کسی کی نہی سنی۔۔۔

اس کی بات پر روحان مسکرا دیا۔۔۔میں تمہاری بات مانوں گا یہ تمہاری بھول ہے۔۔۔تبھی ارمان وہاں آیا اور جلدی سے اسائمنٹس اور بکس اٹھا کر زویا کو تھما دیں۔۔۔

اور روحان لب بھینچ کر رہ گیا۔۔ایک تو یہ ولن پتہ نہی کہاں سے اینٹری مار دیتا ہے۔۔جب بھی میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں ایمن سے۔۔۔۔دل میں سوچتے ہوئے اس نے ارمان کو گھورا۔۔۔اور وہاں سے چل پڑا۔۔۔

اور زویا اور ارمان بھی وہاں سے چل پڑے۔۔۔
روحان کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔

ارمان کی بات پر زویا رک گئی۔۔۔وہ حیران تھی۔۔۔کہ ارمان اور روحان دونوں بھائی ہیں۔۔۔لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ایک ہر وقت لڑنے کو تیار غلطیوں کی دکان۔۔۔اور دوسرا بلکل الٹ نرم دل ہر دل عزیز۔۔

یہ بچپن سے ایسا نہی ہے۔۔بس کچھ برے دوستوں کی صحبت نے اس کو ایسا بنا دیا ہے۔۔۔دل کا برا نہی ہے میرا بھائی۔۔میں جانتا ہوں اس کو۔۔ابھی نا سمجھ ہے۔۔آہستہ آہستہ اچھے برے کو پہچان جائے گا وہ۔۔مجھے یقین ہے۔۔۔اللہ پر۔۔

اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔۔۔زویا مسکرا کر بولی تو دونوں کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

روحان گارڈن میں بیٹھا تھا تبھی۔۔نیہا وہاں آئی اور اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔۔۔ہائے سویٹ ہارٹ۔۔۔اس نے روحان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔

روحان نے اسے نظر انداز کیا۔۔۔جاو یہاں سے میرا موڈ نہی ہے تم سے بات کرنے کا دو ہفتوں بعد شکل دکھا رہی ہو۔۔۔

او ہو یار ناراض مت ہو آپی گھر گئی تھی۔۔ان کے دیور کی شادی تھی۔۔۔پھر دل ہی نہی کر رہا تھا۔۔بہت مزہ آ رہا تھا۔۔شادی پر سب ریلیٹیو آئے ہوئے تھے۔۔

اچھا تو پھر نہی آنا تھا واپس وہی رہ جانا تھا۔۔واپس کیوں آئی ہو۔۔روحان غصے سے بولا۔۔

اچھا بابا سوری تمہیں تو کہا تھا میں نے ساتھ چلو۔۔۔لیکن تم مانے ہی نہی۔۔اب جو ہونا تھا ہو گیا۔۔موڈ خراب مت کرو۔۔

نیہا نے کہا تو روحان پھیکا سا مسکرا دیا۔۔۔اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔نیہا بھی اس کے پیچھےپیچھے چل پڑی۔۔۔

روحان کے ساتھ نیہا کو کلاس میں داخل ہوتے دیکھ علی نے منہ بنایا۔۔لو دیکھو آ گئی۔۔۔روحان کی جی ایف۔۔۔اس کی بات پر تینوں ہنس دیے جب کہ ارمان نے بے بسی سے سر ہلا دیا۔۔روحان اورنیہا مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئے۔۔۔

لیکچر کے بعد سب کینٹین میں چلے گئے۔۔۔لنچ کیا اور کلاس میں چلے گئے۔۔۔چھٹی سے کچھ دیر پہلے زویا کو کڑوا کریلا کے نام سے میسیج موصول ہوا۔۔میٹ می ان مائی آفس۔۔۔

زویا سر حھٹکتی ہوئی آفس کی طرف چل پڑی۔۔دروازہ ناک کیے بغیر اندر چلی گئی۔۔۔اور چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔اذنان زویا کی اس حرکت پر دل ہی دل میں مسکرا دیا۔۔

کیا۔۔؟ اذنان کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو زویا کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔۔۔سر ہو گے آپ باہر۔۔یہاں میجر اذنان ہیں آپ۔۔۔کہ کر زویا مسکرا دی۔۔کیوں بلایا ہمیں آپ نے۔۔

اذنان کچھ نہی بولا۔۔۔وہ بس زویا کو دیکھ رہا تھا۔۔اچھی لگ رہی ہیں آپ۔۔کچھ دیر بعد بولا۔۔۔

زویا مسکرا دی۔۔تو یہ کہنے کے لیے بلایا تھا آپ نے تو مجھے صبح ہی کہ دیتے۔۔۔

میرا مطلب۔۔۔آپ اچھی لگ رہی ہیں۔۔۔یہ صحیح نہی ہے۔۔۔اذنان ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔

کیوں۔۔۔؟؟ میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔

مطلب آپ سمپل کپڑے پہن کر آیا کریں۔۔۔اذنان نے بولا۔۔

اس کی بات پر زویا نے آنکھیں سکوڑی۔۔۔یہ سمپل ہی ہیں۔

۔میجر اذنان۔۔۔آپ اپنی آنکھوں کا ٹیسٹ کروائیں۔۔

سمپل کپڑوں میں کوئی اتنا خوبصورت کیسے لگ سکتا ہے۔۔۔اذنان جلدی سے بولا۔۔

یہ کپڑے سمپل ہی ہیں۔۔۔میجر اذنان دھیان سے دیکھیں۔۔۔

۔اب میں ہوں ہی خوبصورت تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔میجر اذنان۔۔

ہم یہاں کسی خاص مشن کے لیے آئے ہیں۔۔۔میجر زویا نہ کہ آپ کے کپڑوں کے بارے میں ڈسکشن کرنے بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مشن پر دھیان دیں۔۔۔اذنان کو کوئی اور جواب نہ ملا تو جلدی سے سیریس ہوتے ہوئےبولا۔۔

کیا ہم۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈسکشن کر رہے ہیں کپڑوں کے بارے میں۔۔

۔زویا کو تو جیسے صدمہ لگ گیا اذنان کی بات پر۔۔۔

اذنان نظریں چرا گیا۔۔۔کیا انفارمیشن ہے آپ کے پاس مس زویا۔۔۔جلدی سے اذنان نے بات پلٹ دی۔۔۔

نہی آپ بات پلٹ نہی سکتے میجر اذنان آپ پہلے ہمارے سوال کا جواب دیں۔۔۔زویا اپنی بات پر ڈٹ گئی۔۔۔

اذنان غصے سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔زویا چیئر سےاٹھ کھڑی ہوئی۔۔اذنان آگے بڑھا زویا کو واپس چیئر پر بٹھایا۔۔دونوں ہاتھ چیئر پر رکھ دیے۔۔زویا کے فرار کے سارے راستے بند کر دیے۔۔

اذنان دونوں ہاتھ چئیر پر رکھ کر زویا کی طرف جھکا۔۔۔ہاں میں مانتا ہوں۔۔آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔۔آپ کی آنکھیں مجھے پاگل کرتی ہیں۔۔جب بھی آپ کی طرف دیکھتا ہوں خود کو ہپنوٹائز فیل کرتا ہوں۔۔۔آپ مجھے ہپنو ٹائز کرتی ہو۔۔۔

لیکن ان سب کے باوجود بھی۔۔میں آپ سے محبت نہی کرتا۔۔۔نفرت کرتا ہوں۔۔۔میرے سامنے مت آیا کریں۔۔۔بس یہی کہنا تھا مجھے۔۔اذنان زویا کی آنکھوں میں دیکھتےہوئے بولا۔۔۔

اور زویا تو ایسے بیٹھی تھی جیسے بدن میں جان ہی نہ باقی ہو۔۔۔وہ حیران تھی۔۔۔اذنان کے اس انکشاف پر۔۔۔

اذنان اپنی بات ختم کر کے واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا۔۔۔آپ جا سکتی ہیں یہاں سے۔۔۔نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔

اتنی نفرت کی وجہ جان سکتی ہیں ہم۔۔۔کیوں نفرت ہے آپ کو ہم سے جب کہ ہم تو آپ سےایک مہینہ پہلے ہی ملے ہیں۔۔ہمارے درمیان ایسا تو کچھ نہی ہوا تھا جو نفرت کی وجہ بن سکے۔۔زویا اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔

اذنان کے ہاتھ رکے زویا کی بات پر۔۔۔یہ بتانا میں ضروری نہی سمجھتا۔۔۔آپ جا سکتی ہیں یہاں سے کوشش کیجئے گا کہ دوبارہ میرے سامنے نہی آئیں آپ۔۔۔۔

زویا کی آنکھوں سے آنسو نکل چکے تھے۔۔۔بنا کچھ کہے وہ وہاں سے چل پڑی۔۔۔

سامنے روحان کھڑا تھا۔۔۔زویا کو روتے ہوئے دیکھ چکا تھا وہ ایک نظر اس پر ڈالتے وہ آگےکی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اُف اب یہ رو کیوں رہی تھی۔۔یہ لڑکی مجھے پاگل کرے گی۔۔۔پتہ نہی کیا چاہتی ہے یہ۔۔۔میں تنگ آ گیا ہوں اس سے۔۔۔اس کے آنسو۔۔۔مجھے کیوں تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔۔

زویا لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اس وقت لائبریری میں کوئی نہی تھا۔۔۔لائٹ آف تھی۔۔ایسے ہی وہ اندر جا کر بیٹھ گئی اور سر ٹیبل پر رکھ کر دل کھول کر رو دی۔۔

پتہ نہی کیوں لوگ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔۔نکاح ہوا تو خود کو محفوظ سمجھنے لگے ہم۔۔لیکن نکاح بھی۔۔کچھ مہینوں بعد ختم ہو گیا۔۔۔کوئی ہمیں پسند نہی کرتا۔۔اگر تائی اماں ہمیں پسند کرتی ہوتی تو شاید ہم اس طرح دربدر نہی ہو رہےہوتے۔۔

کچھ مہنوں بعد ماں بھی ساتھ چھوڑ گئی۔۔۔ڈیڈی اور ممی بہت خیال رکھتے ہیں ہمارا۔۔۔لیکن جب میجر اذنان ہماری زندگی میں آئے تو ایک خوشگوار سا احساس زندگی میں آ گیا۔۔

ان کا خیال رکھنا ہمارا اور بات بات پر ٹوکنا اچھا لگنے لگا۔۔لیکن پھر وہ بھی چلے گئے۔۔۔ایک مہینے بعد دوبارہ ان کو دیکھا تو پھر سے امید کی ایک کرن جاگی۔۔کہ ہو سکتا ہے اللہ ہمیں ملانا چاہتے ہیں۔۔اسی لیے دوبارہ ملا دیا ان سے۔۔۔

آپ جھوٹ بولتے ہیں۔۔میجر اذنان۔۔آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ چکے ہیں ہم۔۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں۔۔ہمیں پتہ نہی چلا۔۔۔ہمیں سب پتہ ہے۔۔آپ بھی ہم سے محبت کرنے لگ گئے ہیں۔۔لیکن کہنے سے ڈرتے ہیں۔۔۔

تو ٹھیک ہے۔۔ہم اب آپ کے سامنے نہی آئیں گے۔۔دیکھتے ہیں۔۔کب تک آپ ہمیں اگنور کرتے ہیں۔۔۔۔آنسو صاف کرتے ہوئے زویا باہر جانے کے لیے اٹھی ہی تھی۔۔کہ کسی نے اسے بازو سے کھینچ کر دیوار سے لگا دیا۔۔۔

آئی ایم سوری۔۔۔زویا کے کان میں ایک آواز پڑی۔۔اس کے بعد اس نے زویا کا بازو چھوڑ دیا۔۔۔زویا نے جلدی سے آگےبڑھ کر لائٹ آن کی تو لائبریری میں کوئی نہی تھا۔۔وہ جلدی سے وہاں سے باہر نکل گئی۔۔

باہر گئی تو علی اور رانیہ اسے ہی ڈھونڈتے ہوئے آ رہے تھے۔۔۔زویا جلدی سے ان کی طرف بڑھی۔۔۔تم لوگوں نے ابھی یہاں سے کسی کو گزرتے ہوئے دیکھا۔۔؟؟ زویا جلدی سے بولی۔۔

نہی ہم نے تو کسی کو نہی دیکھا۔۔۔علی نے جواب دیا۔۔۔رانیہ بولی جلدی چلو ایمن جا کر اسائمنٹ بھی بنانی ہے۔۔۔رانیہ نے کہا تو تینوں ہاسٹل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ویسے ہوا کیا ہے۔۔تم لائبریری میں اکیلی کیا کر رہی تھی۔۔رانیہ بولی

کچھ نہی وہ مجھے ایک کتاب چاہیے تھی اسی لیے۔۔گئی تھی لائبریری۔۔۔

اچھا۔۔۔رانیہ نے جواب دیا۔۔

اگلے دن روحان کالج نہی آیا تھا۔۔۔تو موقع ملتے ہی ایمن نہیا کے پاس بیٹھ گئی۔۔کیسی ہو نیہا۔۔۔آج تم اکیلی آئی ہو۔۔۔تمہارے دونوں دوست کہاں ہیں۔۔۔

ہمم میں ٹھیک ہوں۔۔۔روحان کی تو طبیعت خراب ہے۔۔اسی لیے نہی آیا اور احد سے میری بات ہوئی تھی وہ کل سے آئے گا۔۔۔

ہممم آج تم اکیلی ہو تو آو ہمارے ساتھ بیٹھ جاو۔۔اکیلی کیا کرو گی ہمارے ساتھ بیٹھو۔۔ایمن نے نیہا سے کہا تو۔۔۔نیہا اٹھ کر ایمن کے ساتھ اس کی سیٹ پر بیٹھنے اس کے ساتھ چل پڑی۔۔

زویا کو نیہا میں کوئی انٹرسٹ نہی تھا وہ تو نیہا کے تھرو۔۔احد تک پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔اسی لیے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔

رانیہ نے ایمن کو گھورا کہ اسے یہاں کیوں لائی ہو۔۔ایمن نے اسے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔۔

اذنان کلاس میں آیا تو زویا اسے نظر نہی آئی۔۔۔اسے افسوس ہوا اپنی کل کی باتوں پر۔۔سر جھٹکتے ہوئے لیکچر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔۔

زویا گارڈن میں آ کر بیٹھ چکی تھی۔۔طبیعت خراب کا بہانہ بناتے ہوئے۔۔۔وہ اب اذنان کے سامنے نہی آنا چاہتی تھی۔۔

اذنان کے کلاس سے باہر نکلنے کے کچھ دیر بعد ہی زویا کلاس میں واپس آ گئی۔۔۔اس کی نیہا سے دوستی ہو چکی تھی۔۔۔اب تو بس اسے کل کا انتظار تھا۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 7
از
خانزادی

اگلے دن زویا یونیورسٹی پہنچی تو نیہا اسے دیکھ کرجلدی سے آگے بڑھی۔۔۔ہائے ایمن کہتے ہوئے زویا کے آگے آ کھڑی ہوئی۔۔رانیہ نے اسے دیکھ کر منہ بنایا۔

ہمم کیسی ہو نیہا آج بھی ہمارے ساتھ بیٹھو گی نہ۔۔؟؟زویا نےمسکراتے ہوئے پوچھا۔۔

نہی نہی میرے فرینڈز واپس آ گئے ہیں۔۔۔آو تمہیں ملواوں اپنے فرینڈز سے کہتے ہوئے نیہا آگے بڑھ گئی۔۔

یہ رابیعہ ہے۔۔اس نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کیا تو اس نے زویا سے ہیلو کہتے ہوئے ہاتھ ملایا۔۔

اور یہ احد ہے۔۔پاس کھڑے لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔احد نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا تو زویا نے اس سے ہاتھ ملا لیا۔۔

اور یہ ہیں۔۔روحان ملک ان سے تو آپ واقف ہی ہیں۔۔نیہا کہتے ہوئے مسکرا دی۔۔اور سب کلاس کی طرف بڑھ گئے۔۔

کلاس میں جاتے ہی۔۔روحان نیہا پر چڑ دھوڑا۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔؟؟ تمہاری ایمن سے دوستی کب ہوئی؟؟

۔۔کس سے پوچھ کردوستی کی ہے تم نے اس سے۔۔۔ایک ساتھ اس نے کئی سوال کر ڈالے۔۔۔

کول ڈاون روحان کل تم سب چھٹی پر تھے تو تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔اس میں اتنا ہائپر ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔تم بھی حد کرتے ہو۔۔

تم جانتی ہو اس کے ساتھ میری دشمنی چل رہی ہے۔۔اور تم میری دوست ہوتے ہوئے اس کے ساتھ دوستی کر رہی ہو۔۔۔

ارے چھوڑو یار بس رسمی سی دوستی ہے۔۔میری کونسی وہ بیسٹ فرینڈ ہے تم کہو تو بات بھی نہ کرو گی دوبارہ اس سے۔۔۔کہتے ہوئے نیہا مسکرا دی۔۔اور باقی تینوں بھی مسکرا دیے۔۔۔

ویسے ہے کون یہ لڑکی پہلے کبھی نہی دیکھی۔۔۔احد بولا۔۔
تم تو دو مہینوں سے غائب تھے پچھلے مہینے ہی آئی ہے یہ لڑکی۔۔۔ایمن صفدر نام ہے اس کا۔۔۔نیہا نے جواب دیا۔۔

ہممم بیوٹی فل۔۔۔۔نام بھی پیارا ہے۔۔۔بلکل اسی کی طرح۔۔۔احد مسکراتے ہوئے بولا۔۔

تم تو دور ہی رہنا اس سے تمہارے ٹائپ کی نہی ہے۔۔تم سے بات نہی کرے گی وہ دوستی کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔روحان منہ بناتے ہوئے بولا۔۔

ڈونٹ وری ایسی کوئی لڑکی آج تک پیدا نہی ہوئی جو احد کو انکار کر سکے۔۔۔دیکھنا کیسے اشاروں پر نچاتا ہوں اس کو آنکھ دبا کر کہتے ہوئے بے باقی سے ہنس دیا۔۔اور باقی سب بھی ہنس دیے سوائے روحان کے۔۔

وہ جانتا تھا ایمن اس سے دوستی نہی کرے گی۔۔اتنی دیر میں سر ارحم کلاس میں داخل ہوئے تو لیکچر سٹارٹ ہو گیا۔۔۔وہ لوگ لیکچر نوٹ کرنے میں مصروف ہو گئے۔۔

زویا آج بھی کلاس سے جا چکی تھی۔۔۔اذنان کے آنے سے پہلے۔۔۔اذنان کو اس کی کمی محسوس ہوئی۔۔۔۔

جانتا تھا زویا کو اس نے ہرٹ کیا ہے۔۔۔اب اتنی آسانی سے ماننے والی نہی تھی وہ۔۔۔

اذنان لیکچر ختم کر کے ایک نظر احد پر ڈالتے ہوئے کلاس سے نکل گیا۔۔۔

ابھی آفس میں گیا ہی تھا کہ ارمان آفس میں داخل ہوا۔۔میجر اذنان۔۔احد بٹ واپس آ چکا ہے۔۔۔اب نیکسٹ کیا کرنا ہے۔۔۔

ہممم ییس میں نے دیکھ لیا تھا کلاس میں اسے۔۔

اذنان نے کہا۔۔۔یہ لوگ کوئی عام عادمی نہی ہے۔۔

پچھلے کچھ دنوں سے مسٹر بٹ کے بارے میں انفارمیشن کلیکٹ کرنے میں لگا ہوں۔۔۔لیکن کوئی سرا ہاتھ نہی لگ رہا۔۔

یہاں تک کہ کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے میں۔۔۔

اس کا اسسٹنٹ شہباز کو بھی میں نے بہت کوشش کی کہ اس کے خلاف ساتھ دے میرا۔۔۔لیکن وہ بھی ساتھ نہی دے رہا۔۔

اب تو میجر زویا ہی کچھ کر سکتی ہیں۔۔۔۔ارمان بولا۔۔۔میجر زویا کی دوستی ہو چکی ہے نیہا سے اب آہستہ آہستہ نیہا کے ذریعے احد سے بھی دوستی ہو جائے گی۔۔

ایک بار میجر زویا اعتماد میں لے لیں۔۔۔احد کو پھر کام آسان ہو جائے گا۔۔۔

ویسے زویا ہے کہاں۔۔۔اذنان نے ارمان سے پوچھا۔۔؟

وہ تو کلاس میں نہی تھی۔۔ان کی طبیعت ٹھیک نہی تھی شاید اسی لیے کلاس سے باہر چلی گئی۔۔۔

ہمم ٹھیک ہے۔۔۔اذنان نے جواب دیا۔۔۔

نیکسٹ لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے میں چلتا ہوں۔۔۔میجر اذنان۔۔۔کہتے ہوئے ارمان باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔

اور اذنان سوچوں میں گم ہوتا چلا گیا۔۔اسے سمجھ نہی آ رہا تھا کہ اب زویا کو کس طرح منایا جائے۔زویا اتنا زیادہ ناراض ہو جائے گی یہ تو میں نے سوچا ہی نہی تھا۔۔

اس نے ہمت کرتے ہوئے فون اٹھا کر زویا کا نمبر ملایا۔۔کافی دیر تک فون کرتا رہا لیکن زویا نے کال پک نہی کی۔۔

اذنان نے میسیج کیا۔۔۔میٹ می ان مائی آفس زویا۔۔۔

کافی دیر انتظار کرنے پر زویا کا کوئی ریپلائی نہی آیا۔۔۔تو اذنان اپنا فون اٹھائے باہر نکل گیا۔۔۔

زویا کلاس میں بھی نہی تھی۔۔اذنان زویا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کینٹین کی طرف بڑھ گیا۔۔۔وہاں دور ایک ٹیبل پر اسے زویا رانیہ اور علی کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔۔

وہ چلتا ہوئے ٹیبل تک گیا تو۔۔وہ تینوں اذنان کو وہاں دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔۔۔علی اور رانیہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔سر آپ یہاں آئیں بیٹھیے نہ۔۔

علی جلدی سے آگے بڑھا۔۔جب کہ زویا وہی ڈھیٹ بنے بیٹھی رہی۔۔

وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی۔۔جیسے اس نے اذنان کو دیکھا ہی نہی۔۔۔

نو تھینکس۔۔۔اف یو ڈونٹ مائینڈ مجھے آپ کی فرینڈ سے کچھ بات کرنی ہے اکیلے میں۔۔۔اذنان علی اور رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔

شور سر ہمیں کوئی پرابلم نہی سر۔۔۔۔رانیہ نے جواب دیا۔۔اور علی کو ساتھ لیے وہاں سے چل پڑی۔۔

ان کے جاتے ہی اذنان زویا کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔زویا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ابھی مجھ سے ملیں آفس میں۔۔

ؐزویا نے کوئی جواب نہی دیا۔۔۔وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی .  جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔۔

اذنان بہت مشکلوں سے ظبط کیے بیٹھا  تھا۔۔زویا میں نے آپ سے کچھ کہا ہے۔۔اگر دو منٹ میں آپ میرے آفس نہی آئی تو۔۔۔اچھا نہی ہو گا۔۔

کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔۔اور اپنے آفس میں زویا کا انتظار کرنے لگ پڑا۔۔۔

پانچ منٹ بعد زویا کمرے میں داخل ہوئی اپنا بیگ ٹیبل پر رکھا اور چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔کیا کام ہے جلدی بولیں۔۔اور بھی کام ہیں ہمیں۔۔۔کہ کر منہ موڑ گئی۔۔۔

میں نے بس یہ بتانے کے لیے بلایا تھا۔۔آپ کو کہ میں یہ مشن چھوڑ کر جا رہا ہوں ابھی۔۔۔آپ اور ارمان مل کر اس کیس کو سولو کر لینا۔۔کہتے ہوئے اذنان کمرے سے نکل گیا۔۔۔

باقی اگلی قسط میں۔۔۔۔کیا خیال ہے ممبرز اذنان نے ٹھیک کیا یہ مشن چھوڑ کر۔۔۔یا غلط کیا۔۔اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیجیئے گا۔۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 8
از
خانزادی

اذنان کے جانے کے بعد زویا نا سمجھی کے عالم میں وہی بیٹھی رہی اس میں ہمت ہی نہی رہی کچھ بولنے کی۔۔اذنان کو روکنے کی۔۔۔وہ بت بنی کرسی پر بیٹھی رہی۔۔

یہ کیا ہو گیا۔۔۔اس کو ابھی تک اپنے کانوں پر یقین نہی آ رہا تھا۔۔میجر اذنان اس مشن کو چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔کچھ دیر وہی بیٹھی رہی پھر ہمت کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔اپنا بیگ اٹھایا۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔

بیگ اٹھا کر باہر جانے کے دروازہ کھولا ہی تھا۔۔کہ سامنے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں ہاتھ باندھے۔۔۔اذنان کھڑا تھا۔۔اسے دیکھتے ہی زویا کے آنسو اور تیزی سے نکلنا شروع ہو گئے۔۔

زویا نے سائیڈ سے ہو کر وہاں سے نکلنا چاہا تو اذنان اس کے سامنے ہو گیا۔۔اس نے دوسری سائیڈ سے نکلنا چاہا تو اذنان پھر سے سامنے آ گیا۔۔۔زویا واپس کمرے میں چلی گئی روتے ہوئے۔۔

اور جا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔۔سر ٹیبل پے رکھ کر بے بسی سے رو پڑی۔۔تب ہی اذنان کمرے میں آیا۔۔اس کے ساتھ والی کرسی بیٹھ گیا۔۔۔زویا میری طرف دیکھو۔۔اس کے پاس ہو کر بولا۔۔

زویا نے سر اوپر اٹھایا۔۔۔۔تو اذنان مسکرا دیا۔۔۔اور گھٹنوں کے بل زویا کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔پرنسس۔۔۔کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا تو زویا ہنس پڑی اذنان کو ایسے کانوں کو ہاتھ لگائے دیکھ کر۔۔۔

اس کے ہنسنے پر اذنان بھی ہنس دیا۔۔۔ہممم سوری ایکسیپٹڈ۔۔۔۔؟؟؟ اس نے زویا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوا کہا۔۔تو زویا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔

اور اذنان مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔زویا ابھی بھی ہنس رہی تھی۔۔۔اذنان اس کو ہنستے دیکھ کر اس کی ہنسی میں کھو سا گیا۔۔۔زویا مسلسل ہنس رہی تھی۔۔۔اور اذنان اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔

اذنان کو اپنی طرف اس طرح دیکھتے دیکھا تو زویا کی ہنسی کو بریک لگی۔۔میں چلتی ہوں۔۔میری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔کہتے ہوئے زویا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس کرسی پر بٹھا دیا۔۔

اب ناراض تو نہی ہیں۔۔نہ مجھ سے اذنان زویا کی طرف بہت پیار سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔زویا اس کی آنکھوں سے جھلکتی محبت دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔اور سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔

ہممم تو فرینڈز۔۔۔اذنان نے ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔۔زویا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔اور بولی فرینڈز۔۔۔تو دونوں مسکرا دیے۔۔۔

چلیں کم ازکم اسی بہانے ہمیں آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تو دیکھنے کو ملی۔۔۔ورنہ ہم تو سوچ سوچ کر ہی پاگل ہو جاتے کہ پتہ نہی آپ مسکراتے ہوئے کیسے لگتے ہو گے۔۔زویا اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔

اذنان اس کی بات پر بس مسکرا دیا۔۔زویا نے دل ہی دل میں اذنان کے لیے دعا مانگی۔۔۔اللہ کرے آپکی یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے آمین۔۔ہم چلتے ہیں۔۔رانیہ اور علی ہمارا انتظار کر رہے ہو گے۔۔۔پریشان نہ ہو جائیں کہیں۔۔

ٹھیک ہے جائیں۔۔۔اور اپنا خیال رکھا کریں۔۔احد سے زرا بچ کے رہنا آپ۔۔۔کوئی بھی مسلہ ہو مجھے میسیج کر دینا ہے۔۔میں فوراً پہنچ جاو گا۔۔۔اذنان نے سیریس ہوتے ہوئے کہا تو زویا ٹھیک ہے کہ کر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔۔

اور اذنان مطمئن سا ہو کر کرسی پر سر ٹکا گیا۔۔۔زویا کی ناراضگی اس سے برداشت نہی ہو رہی تھی۔۔پتہ نہی کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا۔۔جیسے یہ لڑکی مجھے پھر سے زندگی کی طرف واپس لا رہی ہے۔۔مسکرانے پر مجبور کر دیا اس نے مجھے۔۔۔سوچتے ہوئے اذنان پھر سے مسکرا دیا۔۔۔

زویا باہر آئی تو رانیہ اور علی باہر کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ایمن مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی۔۔کیا ہوا۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ ایمن۔۔سر نےتمہیں آفس کیوں بلایا۔۔

کچھ نہی وہ اسائمنٹس کا مسلہ تھا۔سر نے مجھے وارن کرنے کے لیے بلایا تھا کہ اگر نیکسٹ ٹائم ایسا ہوا تو دونوں کو کلاس سے آوٹ کر دیں گے۔۔اور یہی نہی پرنسپل سے بھی شکایات لگے گی ہماری۔۔

اب تو مجھے اپنی اسائمنٹس خود ہی بنانی پڑیں گی یار۔۔ایمن مسکراتے ہوئے بولی۔۔

شکر ہے اللہ کا میں تو سمجھا کوئی سیریس بات ہے۔۔ہم تو ڈر ہی گئے تھے۔۔۔علی جلدی سے بولا۔۔اچھا اب چلو کینٹین میں کچھ کھاتے ہیں۔۔بہت بھوک لگی ہے یار۔۔علی بولا تو تینوں کینٹین کی طرف چل پڑے۔۔

بڑی بلش کر رہی ہو کیا بات ہے۔۔رانیہ نے ایمن کو کہنی مارتے ہوئے بولی۔۔؟؟ کیا مطلب۔۔۔؟؟ زویا ڈرتے ہوئے بولی جیسے اس کی کوئی غلطی پکڑی گئی ہو۔۔ مطلب یہ کہ جس کو ڈانٹ پڑی ہو اس کو تو اداس ہونا چاہیے۔۔۔

لیکن تم تو مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔اور ویسے بھی اسائمنٹ ہم دونوں کی سیم تھیں۔۔؟؟تو تمہے نہی لگتا سر کو ہم دونوں کو بلا کر وارن کرنا چاہیے تھا۔۔

لیکن سر نے مجھے تو ایک بار بھی نہی بلایا۔۔۔رانیہ بھنویں اچکاتے ہوئے بولی۔۔۔تو زویا کے چھکے چھوٹ گئے۔۔اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ رانیہ کو کیا جواب دے۔۔۔

زویا خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔۔اسائمنٹ والی بات تو پرانی تھی۔۔۔یار میں دو دن سے لیکچر اٹینڈ نہی کر رہی تھی نہ تو آج سر نے مجھے کینٹین میں دیکھ لیا اسی لیے مجھے بلا لیا آفس میں۔۔

تم یہ کیسی کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔میری دوست ہو یا دشمن۔۔وہ مجھے کیوں بلائیں گے آفس۔۔میرے کونسے جاننے والے ہیں وہ۔۔زویا ناراض ہوتے ہوئے بولی۔۔

تو رانیہ مسکرا دی۔۔۔اچھا یار سوری۔۔مجھے کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی شاید۔۔۔اپنا موڈ خراب مت کرو۔۔ رانیہ بولی تو ایمن مسکرا دی۔۔تب ہی علی تینوں کے لیے کھانا لے کر آ گیا۔۔اور وہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔

کھانا کھا کر جانے ہی لگے تھے کہ سامنے سے احد آتا دکھائی دیا۔۔ہائے گائز۔۔۔اس نے سب کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔رانیہ اور علی نے اس کی طرف دیکھ کر شکل بنائی۔۔۔

ایمن نے ان دونوں سے کہا تم لوگ چلو کلاس میں آتی ہوں۔۔ایمن نے کہا تو رانیہ اور علی کندھے اچکاتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئے۔۔

آئیں بیٹھیں۔۔۔احد زویا کے لیے چیئر باہر نکالتے ہوئے بولا۔۔تو زویا نہ چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔احد بھی سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔

زویا نے بیگ میں سے اپنا فون نکال کر اذنان کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔کینٹین میں بہت کم سٹوڈنس رہ گئے تھے۔۔زویا کو تھوڑا خوف محسوس ہوا۔اور پھر سامنے کوئی عام انسان بھی تو نہی تھا۔۔۔احد بٹ۔۔

اذنان نے کال پک کر لی۔۔۔لیکن زویا بولی نہی۔۔۔اگر ہم کینٹین کی بجائے کلاس روم میں چل کر بات کریں۔۔تو زیادہ اچھا رہے گا۔۔۔احد۔۔

زویا کے الفاظ پر اذنان کو سمجھ آ گئی کہ وہ کینٹین میں ہے۔۔احد کے ساتھ۔۔

نہی میں آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ایمن اسی لیے یہی روک لیا آپ کو۔۔۔احد نے جواب دیا۔۔

جی بولیں کیا کہنا تھا آپ کو۔۔؟؟ زویا خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔۔وہ اس کے سامنے اپنا ڈر ظاہر نہی کرنا چاہتی تھی۔۔۔جلدی یہاں سے جانا چاہتی تھی۔۔جلدی یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔۔

اب جو ایک دو سٹوڈنس تھے وہ بھی جا چکے تھے۔۔کینٹین کے جس حصے میں وہ لوگ بیٹھے تھے۔۔کینٹین سٹاف بھی نہی تھا وہاں۔۔اب تو زویا سچ میں پریشان ہو چکی تھی۔۔

چاہے بہادر تھی۔۔لیکن تھی تو ایک لڑکی ہی نہ۔۔۔کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں۔۔کہ بہادر لڑکی بھی گھبرا جاتی ہے۔۔

میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔۔مجھ سے دوستی کرو گی۔۔۔احد نے اپنا ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔۔

زویا اس کی بات پر سوچ میں پڑ گئی۔۔لیکن میں تو ایک مڈل کلاس سی لڑکی ہوں۔۔آپ مجھ سے کیسے دوستی کر سکتے ہیں۔میں آپ کے لیول کی نہی ہوں۔۔زویا جلدی سے بولی۔۔۔

تو احد نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا مسکراتے ہوئے۔۔ہمممم آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔میں ایسا انسان نہی ہوں۔۔میرے لیے یہ سٹینڈرز کچھ معنی نہی رکھتے جس سے دوستی کرتا ہوں۔

اسے سچے دل سے قبول کرتا ہوں۔۔۔اس طرح کی باتیں میں نہی سوچتا۔۔اس لیے تم بھی میری طرف سے اپنا دل صاف رکھو۔۔اور میری دوستی کو قبول کرو۔۔

اس نے پھر سے اپنا ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔زویا نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔۔اور اس کا ہاتھ تھامنے ہی والی تھی۔۔کہ اذنان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔

آپ دونوں یہاں اکیلے کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ تو زویا کی جان میں جان آئی۔۔

اذنان کو دیکھتے ہی احد نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔کککچھ نہی سر ہم تو بس یونہی باتیں کر رہے تھے۔۔میں تو بس جانے والا تھا۔۔یہ اپنے فرینڈز کا ویٹ کر رہی تھیں تو ان کو کمپنی دینے کے لیے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔احد نے اذنان کو دیکھتے ہی وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔

اور زویا اور اذنان مسکرا دیئے۔۔۔چلیں آپ کو چھوڑ دوں کلاس تک۔۔۔اذنان نے کہا تو زویا اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔

زویا کے کلاس میں جاتے ہی اذنان وہاں سے چل پڑا۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 9
از
خانزادی

ایمن کلاس میں آئی تو۔۔رانیہ اسے دیکھ کر منہ موڑ کر بیٹھ گئی۔۔کیا ہوا ایمن رانیہ کو اپنی طرف کرتے ہوئے بولی۔۔؟؟
کچھ نہی ہوا۔۔مجھ سے بات مت کرو تم۔۔رانیہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔۔!!

ارے بتاو تو سہی ہوا کیا ہے۔۔ایمن پھر سے بولی۔۔
ایک بار کہ دیا کہ کچھ نہی ہوا تو بار بار کیوں پوچھ رہی ہو۔۔جاو یہاں سے احد کے پاس ہی جا کر بیٹھ جاو۔۔۔ہم سے بات نہی کرنا اب۔۔۔رانیہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔

اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔ایمن مسکراتے ہوئے بولی۔۔یار کیا ہو گیا اگر اس سے تھوڑی سی بات کر لی تو۔۔؟؟

ابھی تم اس کے بارے میں جانتی نہی نہ اسی لیے ایسا کہ رہی ہو۔۔جب پتہ چلے گا تو دیکھنا بھی پسند نہی کرو گی۔۔جواب علی نے دیا۔۔

کیوں ایسا کیا ہے۔۔۔جو تم لوگ اسے پسند نہی کرتے اچھے گھر کا لڑکا ہے۔۔اس کی سوچ بہت اچھی ہے۔۔۔بہت تمیز والا ہے۔۔بہت عزت کرتا ہے میری۔۔کم ازکم روحان کی طرح تو نہی ہے۔۔

اوہ آئی ایم سوری۔۔۔ارمان کو دیکھتے ہوئے ایمن جلدی سے بولی۔۔۔میرا مطلب تھا۔۔کہ احد اچھا لڑکا ہے۔۔مجھے تو کوئی برائی نظر نہی آئی اس میں۔۔۔پتہ نہی کیوں تم لوگ اس کے پیچھے ہی پڑ گئے ہو۔۔

وہ دراصل روحان ہمیشہ سے ایسا نہی تھا۔۔جب سے اس کی دوستی احد سے ہوئی ہے۔۔تب سے ایسا ہو گیا ہے وہ۔۔۔ارمان نظریں جھکاتے ہوئے بولا۔۔۔

اور تمہے کیا لگتا ہے ایمن ہم تینوں جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔تم جانتی ہی کیا ہو اس کے بارے میں ابھی کچھ گھنٹے ہی تو ہوئے ہیں اس سے ملے تمہیں۔۔۔رانیہ جلدی سے بولی۔۔

ہو سکتا ہے تم لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو اس کے بارے میں کسی نے تم لوگوں کو غلط آگاہ کیا ہو ایمن ہار نہ ماننے والے انداز میں بولی۔۔

جس کو تم بہت اچھا سمجھ رہی ہو۔۔کچھ دن پہلے اس یونیورسٹی کی دو لڑکیاں غائب کروا چکا ہے وہ۔۔ابھی تک ان لڑکیوں کا کچھ پتہ نہی چلا۔۔۔اور بہت سے لوگوں نے دیکھا تھا ان دونوں لڑکیوں کو غائب ہونے سے پہلے احد کے ساتھ یونیورسٹی سے جاتے ہوئے۔۔علی راز دانہ انداز میں آہستہ آواز میں بولتے ہوئے ایمن کو سمجھا رہا تھا۔۔

اور تو اور ان دونوں لڑکیوں کے پیرنٹس نے اس پر کیس بھی کروایا۔۔۔لیکن کچھ فائدہ نہی ہوا۔۔غریب ماں باپ کیا کر سکتے تھے۔۔۔گن پوائنٹ پر اور کرائے کے غنڈے بھجوا کر ان کا منہ بند کروا دیا گیا۔۔رانیہ بھی جلدی سے بولی۔۔

اور تم چلی ہو اس سے دوستی کرنے۔۔۔دوست ہونے کے ناطے ہمارا فرض تھا۔۔کہ تمہیں سمجھائیں ہم لیکن باقی جیسے تمہاری مرضی جیسے تمہے مناسب لگے۔۔ہم فورس نہی کریں گے تمہیں۔۔

کبھی کبھی ہم کہانی کو بس ایک پہلو سے دیکھتے ہیں۔۔اور دوسرے پہلو سے دیکھنا بھول جاتے ہیں۔۔۔میں تو بس اتنا کہوں گی کہ ہو سکتا ہے۔۔تم لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔۔ایسے ہی کسی پر بہتان نہی لگانا چاہیے۔۔

کیا تم میں سے کسی نے بھی ان دونوں لڑکیوں کو دیکھا۔۔۔احد کے ساتھ جاتے ہوئے۔۔۔زویا ان تینوں کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔؟؟

نہی۔۔۔تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے سر ناں میں ہلا دیے۔۔

ہمم تو پھر کیسے کہ سکتے ہو تم لوگ کہ ان کے غائب ہونے کے پیچھے احد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔؟؟ سوچ سمجھ کر الزام لگانا چاہیے کسی پر۔۔۔زویا مطمئن ہوتے ہوئے بولی۔۔

رانیہ کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے۔۔۔ایمن ان کی ایک بھی بات ماننے کو تیار نہی تھی۔۔

اچھا ٹھیک ہے تمہے لگتا ہے ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔۔اور وہ احد جس سے تم آج ہی ملی ہو وہ ٹھیک لگ رہا ہے تمہے۔۔؟؟رانیہ تپ چکی تھی۔۔

اس کی آواز بلند ہوئی تو پوری کلاس ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔تو کرو اپنی مرضی دوبارہ ہم سے بات مت کرنا۔۔۔تمہاری ہماری دوستی ابھی سے ختم۔۔۔اگر تم اس سے دوستی کرنا چاہتی ہو تو۔۔ہم سے تعلق ختم۔۔۔رانیہ کہتے ہوئے اپنا بیگ اٹھائے ہوئے باہر نکل گئی اور علی اور ارمان بھی اس کے پیچھے باہر نکل گئے۔۔

احد ابھی روحان کے بتا ہی رہا تھا کہ بس میری دوستی ہونے ہی والی تھی۔۔ایمن سے لیکن اچانک سر ارحم وہاں آ گئے تو مجھے نکلنا پڑا وہاں سے۔۔۔تو اچانک ان کو رانیہ کے چلانے کی آواز آئی تو اس طرف متوجہ ہو گئے وہ لوگ۔۔۔

وہ تینوں کلاس سے باہر گئے تو احد ایمن کو اکیلی دیکھ کر جلدی سے اس کی طرف بڑھا۔۔ڈونٹ وری پریشان مت ہو۔۔آو ہمارے ساتھ بیٹھو۔۔۔ایسے بے مروت دوستوں کو نکال دو زندگی سے۔۔۔اور ہماری دوستی قبول کرو۔۔۔

احد کے پیچھے پیچھے نیہا بھی وہاں آ گئ۔۔۔ہاں یار اٹھو چلو ہمارے ساتھ۔۔؟؟ نیہا نے کہا تو ایمن مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ چلی گئی۔۔اور ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔ایمن کے وہاں آتے ہی روحان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔

ویلکم ٹو آور ٹیم۔۔۔آج سے تم بھی ہماری ٹیم کا پارٹ ہو۔۔۔سب نے ایمن کو ویلکم کیا۔۔سوائے روحان کے۔۔وہ حیران تھا کہ ایمن جیسی لڑکی جو میرے ہاتھ لگانے پر بھڑک اٹھی تھی۔۔۔آج کیسے احد کے ساتھ دوستی کر لی اس نے۔۔۔

وہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔اب اسے کیا ہوا۔۔۔؟؟ روحان کے وہاں سے اٹھتے ہی احد بول پڑا۔۔۔؟؟

ڈونٹ وری میں اسے سمبھال لوں گی۔۔نیہا جلدی سے بولی۔۔اور روحان کے پیچھے چل پڑی۔۔۔

روحان کینٹین میں جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔نیہا بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتی کینٹین میں پہنچ گئی۔۔اور جا کر اس کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔۔کیا ہوا روحان۔۔۔۔اس نے روحان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

روحان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔۔پلیز جاو یہاں سے مجھے کسی سے کوئی بات نہی کرنی۔۔۔روحان نظریں نیہا پر جماتے ہوئے بولا۔۔

لیکن ہوا کیا ہے تمہیں روحان۔۔تم کیوں ناراض ہو رہے ہو ہم سے ایمن اچھی لڑکی ہے۔۔۔آو تم دونوں کی دوستی کروا دیتے ہیں ہم چلو میرے ساتھ۔۔نیہا روحان کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھاتے ہوئے بولی۔۔

ایک بار کی کہی بات تمہیں سمجھ نہی آتی نیہا۔۔۔دفعہ ہو جاو یہاں سے۔۔۔اپنا ہاتھ نیہا کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے بولا۔۔روحان بھڑک اٹھا۔۔۔میں اتنا گرا ہوا نہی ہو۔۔۔جو ایک بار ٹھکرائے جانے پر۔۔دوبارہ اس کی منتیں کروں۔۔۔کہ پلیز ایمن مجھ سے دوستی کر لو۔۔۔

تم لوگوں کو اس سے دوستی کرنی ہے تو کرو۔۔۔لیکن مجھے اس معاملے سے دور رکھو۔۔۔اور تم لوگ بھی مجھ سے دور رہو۔۔۔کہ دو جا کر احد سے اب میرا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہی۔۔۔

نیہا۔۔اپنی اتنی عزت افزائی پر روحان کا منہ دیکھتی رہ گئی۔۔روحان نے پہلے کبھی اس سے ایسے بات نہی کی تھی۔۔۔آنکھوں میں آنسو لیے وہ وہاں سے چل پڑی۔۔

اور روحان سر جھٹک کر وہی بیٹھ گیا۔۔۔کچھ دیر بعد اپنا بیگ اٹھائے وہاں سے نکل پڑا۔۔۔گھر جا کر بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔یہ تم اچھا نہی کر رہی۔۔۔بہت پچھتاو گی تم ایک دن۔۔۔کہتے ہوئے آنکھیں بند کر کے نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔۔

اس نے جب پہلی بار ایمن کو دیکھا تھا۔۔تو اس کا دل کیا کہ وہ اس سے دوستی کرے۔۔ویسے تو لڑکیاں اس سے دوستی کے لیے ترستی تھی۔۔۔لیکن ایمن واحد لڑکی تھی۔۔جس نے اسے دیکھ کر راستہ بدل لیا۔۔۔

جب بھی وہ اس کی طرف دیکھتا یا دونوں کا سامنہ ہوتا تو ایمن رخ موڑ لیتی تھی۔۔یہی بات اس کے دل کو بہت کھٹکتی تھی۔۔۔آج تک بہت لڑکیاں دیکھی تھی اس نے لیکن ایمن ان سب سے الگ لگی اسے۔۔۔

اسی لیے اس نے فیصلہ کیا اس سے دوستی کرنے کا۔۔وہ ایمن سے صرف دوستی نہی کرنا چاہتا تھا۔۔اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔۔۔لیکن ایمن نے اس کے سارے خواب توڑ دیئے۔۔۔وہ تو اسے دیکھنا بھی پسند نہی کرتی تھی۔

اور پھر اس دن جب سب کے سامنے ایمن نے اسے تھپڑ مارا۔۔۔۔اس دن روحان ٹوٹ سا گیا تھا۔۔۔اس کے دل میں ایمن کے لیے محبت نے اب نفرت کی جگہ لے لی تھی۔۔بھول چکا تھا کہ یہ بس میری یک طرفہ محبت تھی۔۔ایمن نے تو کبھی اعترافِ محبت کیا ہی نہی اس سے۔۔روحان اب اپنی نفرت کی آگ میں خود کو جلا رہا تھا۔۔۔۔۔

اگلے دن یونیورسٹی گیا تو۔۔۔ایمن احد کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔ان دونوں کو ساتھ بیٹھے دیکھ نفرت کی نگاہ ایمن پر ڈالتے دوسری سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

رانیہ۔۔علی۔۔اور ارمان ایک ساتھ بیٹھے تھے۔۔کل کے بعد ان کی ایمن سے کوئی بات نہی ہوئی تھی۔۔ایمن کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔انہوں نے اب ایمن ہوسٹل سے یونیورسٹی اکیلی آتی جاتی تھی۔۔۔دوستوں کی بے رخی اس سے برداشت نہی ہو رہی تھی۔۔۔۔

لیکن اور کچھ کر بھی تو نہی سکتی تھی۔۔۔ان کو سچ بھی نہی بتا سکتی تھی۔۔۔اور ان سے چھپانا بھی مشکل تھا۔۔۔

اذنان کلاس میں داخل ہوا۔۔۔تو پہلے تو احد کے ساتھ زویا کو بیٹھے دیکھ اس کا رنگ اڑ گیا۔۔۔لیکن پھر یاد آنے پر مطمئن سا ہو کر لیکچر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔۔

لیکچر کے بعد زویا لائبریری میں گئی۔۔اسے اسائمنٹ بنانے کے لیے کچھ بکس چاہیے تھیں۔۔۔کیونکہ پہلے تو رانیہ سے کاپی کر لیتی تھی۔۔۔لیکن اب اسے خود ہی بنانی پڑنی تھی۔۔۔

زویا ابھی لائبریری میں گئی ہی تھی۔۔کہ لائٹ آف ہو گئی۔۔۔زویا ابھی اپنے فون کی لائٹ آن کرنے ہی والی تھی اس سے پہلے کہ زویا کوئی ری ایکشن دیتی۔۔کسی نے زویا کہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔۔۔

آواز مت نکالنا۔۔۔ایک مردانہ آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔احد سے دور رہو۔۔جیسا تم اسے سمجھ رہی ہو وہ ویسا نہی ہے۔۔۔اپنی عزت اور جان پیاری ہے۔۔۔تو دور رہو اس سے۔۔۔بس اتنا کہ کر اس نے زویا کے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔اور اس کا فون اس کے ہاتھ میں پکڑایا۔۔۔

زویا کو کچھ سمجھ نہی آئی یہ سب کیا ہوا۔۔یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ وہ سنبھل ہی نہی پائی۔۔۔کون تھا وہ شخص۔۔زویا اس کی خوشبو میں کھو سی گئی تھی۔۔۔ایسا دوسری بار ہو چکا تھا۔۔آواز تو کچھ جانی پہچانی تھی۔۔۔لیکن زویا کو یاد نہی آ رہا تھی یہ آواز کس کی ہے۔۔۔

چند منٹس بعد لائٹ آن ہو گئی۔۔زویا نے پوری لائبریری میں دیکھ لیا۔۔۔لیکن اسے کوئی نظر نہی آیا۔۔اس نے جلدی سے بکس اٹھائی۔۔۔۔رجسٹر میں اینٹری کی اور وہاں سے چل پڑی۔۔۔

لائبریری سے نکل کر زویا اذنان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔اذنان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے۔۔۔چئیر پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔

آپ بور نہی ہوتے پورا دن یونہی آفس میں بیٹھے بیٹھے۔۔زویا اذنان کی طرف دیکھتے ہوئی بولی۔۔

آسان نہی ہوتی ایک فوجی کی زندگی۔۔
جان لٹانی پڑتی ہے دشمن کو مٹانے میں۔۔

واہ واہ واہ۔۔۔اذنان نے یہ لائنز بولی تو زویا مسکراتے ہوئے واہ واہ کرنے لگ پڑی۔۔اور اذنان نے اسے گھورا۔۔تو زویا لب بھینچتے ہوئے بولی۔۔کڑوا کریلا۔۔۔۔
کیا کہا۔۔۔اذنان زویا کو بڑبڑاتے دیکھ کر بولا۔۔۔کونسا کریلا۔۔۔

اس کی بات پر زویا کی ہنسی رکی۔۔اسے لگے اذنان نے سن لیا۔۔۔وہ۔۔ہم کہ رہے تھے کل رات کریلے کی سبزی کھانی پڑی۔۔۔کریلا بہت کڑوا تھا۔۔زویا اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی۔۔۔

پتہ نہی اور کب تک یہ سب برداشت کرنا پڑے گا۔۔کب ختم ہو گا یہ مشن۔۔۔ہم تھک گئے باہر کے کھانے کھا کھا کر۔۔۔زویا منہ بناتے ہوئے بولی۔۔

آپ شکر کریں کہ کھانے کو کچھ مل رہا ہے۔۔۔ورنہ۔ہمارے بہت سے بھائی ایسے ہیں۔۔جو نہ گرمی کی پرواہ کرتے ہیں۔۔نہ سردی کی کھانے پینے کی پرواہ کیے بغیر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر بارڈرز پر ہماری حفاظت کے لیے دن رات پہرا دیتے ہیں۔۔۔

اور ہمارا یہ مشن بہت آسان ہے ان کی نسبت۔۔۔یہ کڑوے کریلے کریلے کھا کر تنگ آ گئی ہو آپ کبھی ان کا سوچا ہے۔۔۔؟؟ ان کو تو یہ بھی نہی نصیب ہوتے۔۔

ہممم یہ تو ہے۔۔۔کڑوے کریلے۔۔۔زویا اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی۔۔۔اذنان کو اس کی بات کی سمجھ نہی آئی۔۔۔تبھی رومان کمرے میں داخل ہوا۔۔دروازہ ناک کرتے ہوئے۔۔

اور زویا کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔زویا اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔ارمان بھی مسکرا دیا۔۔ویل کیا انفارمیشن ہے۔۔۔میجر ارمان۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔لیکن اذنان کو زویا کا مسکرانا بلکل بھی اچھا نہی لگا۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 10
از
خانزادی

میرے فرینڈز مجھ سے ناراض ہیں میجر اذنان ان کا کیا کیا جائے۔۔۔بہت دکھ ہوتا ہے ان کی حالت دیکھ کر۔۔زویا اذنان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔

آپ فکر مت کریں۔۔زویا وقت آنے پر ان کو سچ بتا دیں گے۔۔لیکن ابھی نہی آپ کو مکمل طور پر خود کو ان سے لا تعلق ظاہر کرنا ہو گا۔۔مجھے لگ رہا ہے آپ کمزور پڑھ رہی ہیں۔۔۔اذنان نے زویا کو جواب دیا۔۔

نہی ہم کمزور نہی پڑ رہے۔۔بس یہی سوچ رہے تھے۔۔کہ وہ ہمارے لیے دل میں بد گمانیاں پیدا کیے ہوئے ہیں۔۔۔ہم نہی چاہتے کہ وہ لوگ ہمارے بارے میں کچھ بھی غلط سمجھیں۔۔زویا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔

ان کے اڈے کا پتہ چل گیا ہے میجر اذنان۔۔۔جہاں وہ لڑکیوں کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔۔۔؟؟؟ ارمان کچھ سوچتے ہوئے زویا کی بات کاٹتے ہوا بولا۔۔۔

نہی لیکن بہت جلد پتہ چل جائے گا۔۔۔آج پھر میری کوشش ہے۔۔مسٹر بٹ کے پی۔اے۔۔سے ملاقات ہو سکے۔۔وہاں بہت مشکل ہوتی ہے۔۔۔

اس سے ملنا اتنا آسان نہی ہے۔۔جگہ جگہ چمچے پھیلے ہوئے ہی مسٹر بھٹ کے۔۔اذنان نے ارمان کو جواب دیا۔۔اگر زرا سا بھی شک ہو گیا ان کو۔۔تو بنا بنایا کام بگڑ سکتا ہے۔۔اسی لیے ہمیں بہت احتیاط سے کام کرنا پڑے گا۔۔

ان دونوں لڑکیوں کے پیرنٹس سے بھی ملاقات کی ہے میں نے۔۔۔وہ لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔۔۔مجھ سے ان کا دکھ دیکھا نہی گیا۔۔اسی لیے زیادہ ٹائم نہی رک سکا ان کے ساتھ۔۔۔

اسی لیے جلدی ہی وہاں سے نکل آیا۔۔۔ان کو وعدہ کر کے کہ بہت جلد آپ کی بیٹیوں کو ڈھونڈ لیں گے ہم۔۔۔ان کی آنکھوں میں ایک امید کی کرن سی نظر آئی مجھے۔۔۔اللہ ہمیں جلدی سے جلدی اس مشن میں کامیاب کرے۔۔

آمین۔۔۔۔تینوں ہم آواز ہو کر بولے۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔میں چلتا ہوں۔۔نیکسٹ لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔کہتے ہوئے ارمان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

ہم بھی چلتے ہیں۔۔۔زویا بھی اٹھ کھڑی ہوئی جانے کے لیے۔۔۔پھر ملیں گے۔۔کہتے ہوئے زویا کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

زویا کے جاتے ہی اذنان سوچ میں پڑ گیا۔۔۔اور فون اٹھا کر کسی کا نمبر ملایا۔۔۔۔اور مسٹر بٹ کے متعلق پوچھا۔۔لیکن ان کو بھی کوئی انفارمیشن حاصل نہی ہوئی۔۔۔۔

دو دن بعد۔۔۔۔

زویا ہاسٹل جانے کے لیے یونیورسٹی سے نکلی ہی تھی۔۔کہ اس کے سامنے ایک گاڑی رکی۔۔احد نے ایمن کو اکیلی جاتے دیکھا تو۔۔۔اسے لفٹ دینے کے لیے گاڑی اس کے سامنے روک دی۔۔۔

زویا نے احد کو دیکھا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔اس کا فون بھی چارج نہی تھا۔۔۔ورنہ وہ اذنان کو فون کر دیتی جلدی سے۔۔۔

احد گاڑی میں سے نکل کر زویا کے سامنے آ رکا۔۔۔ہاسٹل جا رہی ہو۔۔آ جاو میں ڈراپ کر دوں۔۔۔گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔۔۔زویا کے لیے۔۔۔

ننہہی میں خود چلی جاو گی۔۔۔پاس ہی تو ہے پانچ منٹ کا راستہ ہے۔۔۔ڈونٹ ورری۔۔کہتے ہوئے زویا آگے کی طرف بڑھی۔۔لیکن احد اس کے سامنے آ گیا۔۔۔

کیا یار دوست ہے ہم کم ازکم اتنا تو یقین ہونا چاہیے تمہے مجھ پر۔۔۔میرے ہوتے ہوئے میری دوست پیدل چلے ایسا نہی ہو سکتا۔۔۔احد بٹ کی دوست ہو تم اچھا تو نہی لگتا نہ۔۔۔بیٹھو جلدی سے۔۔۔

زویا کو نا چاہتے ہوئے بھی گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔۔زویا کے بیٹھتے ہی احد نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔اور فون پر کسی سے بات کر رہا تھا وہ کسی سے۔۔۔

زویا کی اس کی باتوں کی سمجھ نہی آئی۔۔اس نے کچھ کوڈ بولا تھا۔۔اور فون بند کر دیا۔۔۔اتنا تو زویا سمجھ چکی تھی کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔۔لیکن اس نے اپنی گھبراہٹ احد پر ظاہر نہی ہونے دی۔۔

کچھ دیر بعد احد نے گاڑی روک دی۔۔یہ ہاسٹل کا راستہ تو نہی تھا۔۔گھبراہٹ میں زویا کا دھیان ہی نہی رہا۔۔۔یہ کونسا راستہ ہے۔۔زویا نے جلدی سے بولتے ہی احد کی طرف دیکھا۔۔

کچھ نہی یہ ایک شارٹ کٹ تھا۔۔لیکن لگتا ہے گاڑی خراب ہو گئ ہے۔۔ابھی دیکھتا ہوں۔۔کہتے ہوئے۔۔احد گاڑی سے باہر نکل گیا۔۔۔زویا نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ لوکڈ تھا۔۔۔۔یہ بات زویا کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھی۔۔

اتنی دیر میں ایک وین وہاں آ کر رکے کچھ نقاب پوش گاڑی میں سےباہر نکلے۔۔۔۔اور احد سے گاڑی کی چابی لی۔۔اور گاڑی کا دروازہ کھول کر زویا کی طرف بڑھے۔۔۔زویا بدک کر پیچھے ہٹی۔۔۔

اور ایک زور دار ٹانک ماری جس سے وہ تینوں لڑکھڑاتے ہوئے باہر جا گرے۔۔۔زویا جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی اور۔۔۔ایک آدمی نے اس پر حملہ کیا۔۔زویا نے اس کے وار سےبہت آسانی سے بچ گئی۔۔اور ایک ٹانگ اس کے پیٹ پر دے ماری۔۔

احد دور کھڑا۔۔یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔زویا کو ان آدمیوں سے لڑتے دیکھ اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔وہ تو زویا کو ایک عام سی لڑکی سمجھ رہا تھا۔۔۔وہ سمجھ چکا تھا۔۔کہ یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے۔۔۔

اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا۔۔۔اس نے تیزی سے ایک کپڑا زویا کے منہ پر رکھ کر دبا دیا۔۔۔زویا وہی زمین پر ڈھے گئی۔۔۔اور احد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

زویا کو اٹھا کر وین میں ڈال کر احد کی بتائی گئی جگہ پر بھیج دیا گیا۔۔اور احد اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اذنان بہت دیر سے زویا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔لیکن زویا کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔۔زویا نے اسے بتایا تھا کہ اس کا فون چارج نہی ہے۔۔۔لیکن اب تو زویا کو یونیورسٹی سے نکلے ہوئے دو گھنٹے ہو چکے تھے۔۔۔

اذنان کی پریشانی بڑھ گئی۔۔۔وہ جلدی سے ہاسٹل پہنچا۔۔۔زویا کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن کمرے پر تالا لگا تھا۔۔۔جس کا مطلب تھا کہ زویا یہاں نہی ہے۔۔۔

اذنان ابھی وہی کھڑا تھا۔۔۔کہ رانیہ اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔اور سامنے اذنان کو دیکھ کر اس کے چہرے کے رنگ اڑ گئے۔۔۔ارحم سر آپ یہاں۔۔۔سب خیریت ہے نہ۔۔۔۔

اذنان جلدی سے رانیہ کی طرف بڑھا۔۔۔۔رانیہ زویا۔۔۔میرا مطلب ہے ایمن کہاں ہے۔۔۔

رانیہ کچھ سمجھ نہی پائی۔۔۔کیا مطلب سر وہ اپنے کمرے میں ہی ہو گی۔۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔اس کے بارے میں۔۔۔؟؟

نہی وہ اپنے کمرے میں نہی ہے۔۔۔روم لوکڈ ہے۔۔میں پچھلے دو گھنٹوں سے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔لیکن اس کا فون بند ہے۔۔۔

رانیہ حیران تھی۔۔۔اذنان کے اس انکشاف پر۔۔۔بھاگتے ہوئے ایمن کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔دروازہ بند تھا۔۔۔اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔ایمن کو منع کیا تھا میں نے کہ دور رہے۔۔۔اس احد سے لیکن اس نے میری ایک نہی سنی۔۔۔

رانیہ نے رونا سٹارٹ کر دیا تھا۔۔۔کہا تھا اس سے کہ وہ اچھا لڑکا نہی ہے۔۔۔اس سے پہلے بھی دو لڑکیوں کو اغوا کروا چکا ہے۔۔۔رانیہ روتے ہوئے بولی۔۔

دیکھو رانیہ مجھے ضروری بات کرنی ہے۔۔ابھی تم سے لیکن یہاں نہی۔۔۔اپنے کمرے میں چلو۔۔۔رانیہ اذنان کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

سر لیکن آپ کے پاس ایمن کا نمبر کیسے اور آپ کو اس کے روم کا کیسے پتہ ہے۔۔۔ایسا کچھ تو ہے جو مجھے پتہ نہی۔۔۔۔رانیہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔

رانیہ میری بات دھیان سے سننا۔۔۔۔وہ ایمن نہی ہے۔۔میجر زویا ہیں۔۔۔اور میں میجر اذنان۔۔۔۔

اذنان کی بات پر رانیہ کا منہ کھل گیا۔۔۔مطلب وہ ایمن۔۔۔نہی میجر زویا ہے۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔وہ تو میری دوست ایمن تھی۔۔۔

نہی رانیہ وہ ایمن نہی ہے۔۔۔۔میجر زویا ہیں۔۔۔اور میں میجر اذنان اور میجر ارمان ہم تینوں احد کے لیے یہاں آئے ہیں۔۔۔ایک خاص مشن سے۔۔۔وہ جو دو لڑکیاں اغوا ہوئی ہم جانتے ہیں۔۔اس کے پیچھے احد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔

اب تم مجھے یہ بتاو۔۔۔آج لاسٹ ٹائم زویا کو کب دیکھا تھا تم نے۔۔۔اذنان جلدی سے بولا۔۔

وہ نیہا کے ساتھ تھی چھٹی کے ٹائم۔۔۔اس کو میں نے نیہا سے بات کرتے سنا تھا۔۔۔وہ بتا رہی تھی کہ وہ اکیلی جاتی ہے۔۔۔آج کل ہوسٹل۔۔۔رانیہ کو یاد آیا تو جلدی سے بولی۔۔

اچھا۔۔۔تو کیا اس وقت احد وہاں ہی تھا۔۔۔آس پاس۔۔جب زویا نیہا سے بات کر رہی تھی۔۔اچھی طرح یاد کر کے بتاو۔۔۔تمہاری چھوٹی سے چھوٹی انفارمیشن بھی ہمارے کام آ سکتی ہے۔۔زویا کو ڈھونڈنے میں۔۔۔

جی اس وقت احد وہی پر تھا۔۔لیکن وہ فون پر مصروف تھا۔۔اور بات کرتے کرتے باہر نکل گیا۔۔۔کلاس سے۔۔۔

اس کے بعد میں ہاسٹل آ گئی۔۔۔مجھے تو یہی تھا کہ کچھ دیر بعد ایمن واپس آ جائے گی۔۔۔رانیہ پھر سے رونے لگ پڑی۔۔۔

رانیہ پلیز چپ ہو جاو۔۔۔اور دعا کرو کہ زویا ٹھیک ہو بہت جلد وہ تمہارے پاس ہو گی۔۔کہتے ہوئے۔۔اذنان کمرے سے نکل گیا۔۔اور فون لگا کر ارمان کو فون لگا کر جلدی آنے کا کہا۔۔۔
رسمِ وفا
قسط نمبر 11
از
خانزادی

زویا کو ایک اندھیرے کمرے میں لا کر بند کر دیا گیا۔۔۔جب زویا کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے ہاتھ پیر بندھے ہوئے محسوس کیے۔۔بولنے کی کوشش کی تبھی اسے محسوس ہوا کہ وہ بول بھی نہی سکے گی۔۔۔

اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی۔۔۔زویا نے بڑی مہارت سے اپنے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو دبایا تو ایک چھوٹا سا بلیڈ باہر نکلا۔۔زویا نے آہستہ آہستہ رسی کاٹنی شروع کر دی۔۔۔لیکن رسی بہت مظبوط تھی۔۔

اتنی آسانی سے نہی کٹنے والی تھی۔۔زویا پھر بھی کوشش کرتی رہی۔۔اسی وقت دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔اور کمرے میں روشنی پھیل گئی۔۔۔زویا نے اپنے ہاتھ روک دئیے۔۔۔

سامنے احد کھڑا تھا۔۔اسے دیکھ کر زویا کی آنکھیں غصے سے بھر گئی۔۔اسے دیکھتے ہی زویا نے منہ دوسری طرف کر لیا۔۔۔۔

احد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔اور زویا کے منہ سے ٹیپ اتار دی۔۔ہائے سویٹ ہارٹ کیسی ہو۔۔۔کیسا لگ رہا ہے یہاں کوئی تکلیف تو نہی پہنچی یہاں تک پہنچنے میں۔۔زویا کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔۔۔

زویا نے پھر سے رخ موڑ لیا۔۔اب احد کو غصہ آ گیا اس نے زویا کو جبڑے کو دباتے ہوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔۔زویا بہت مشکل سے ضبط کرتے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔درد سے اس کی آنکھوں سےآنسو نکل رہے تھے۔۔

احد کی انگلیاں زویا کو اپنے چہرے پر پیوست ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔

کون ہو تم۔۔۔؟؟ احد غصیلی نظروں سے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔اس کا ہاتھ ابھی بھی زویا کے منہ پر تھا۔

زویا کچھ نہی بولی۔۔۔

میں نے پوچھا کون ہو تم۔۔۔۔جواب دو مجھے۔۔۔۔احد پھر سے غصے میں چلایا۔۔

ایمن صفدر۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔۔احد کا ہاتھ اٹھا اور زویا کے چہرے پر سرخ نشان چھوڑ گیا۔۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔زویا نے دل میں اذنان کو یاد کیا۔۔اذنان پلیز جلدی آ جائیں۔۔۔بچا لیں ہمیں اس بھیڑیئے سے۔۔۔یا اللہ اذنان کو ہم تک پہچنے کا راستہ دکھا۔۔دعا مانگ کر ضبط سے آنکھیں بند کر گئی۔۔

احد پھر سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اسے بالوں سےپکڑتے ہوئے بولا۔۔۔میں نے نام نہی پوچھا۔۔پرفیشن پوچھا ہے۔۔جلدی بتاو کون ہو تم اور کیا مقصد ہے تمہارا یونیورسٹی میں آنے کا۔۔۔

اتنا تو مجھے پتہ ہے۔۔کہ تم کوئی عام لڑکی نہی ہو۔۔۔کوئی بھی عام لڑکی مردوں کے ساتھ اتنی بہادری اور مہارت سے مقابلہ نہی کر سکتی۔۔سب جان چکا ہوں میں۔۔۔اب جلدی سے منہ کھولو اپنا۔۔۔اور نام بتاو اپنے ادارے کا۔۔۔

زویا اس کی بات پر مسکرا دی۔۔۔اس کے بال ابھی بھی احد نے جھکڑے ہوئے تھے۔۔زویا کو مسکراتے دیکھ اس نے اس کے بال چھوڑ دیئے۔۔۔اور پیچھے ہٹا۔۔وہ حیران تھا۔۔کہ درد میں بھی مسکرا رہی تھی یہ۔۔۔

اگر ہم نہ بتائیں تو کیا کر لیں گے آپ۔۔۔ماریں گے ہمیں۔۔تو ماریں۔۔۔ہم موت سے نہی ڈرتے۔۔چھی چھی۔۔احد بٹ ایک لڑکی سے ڈر گیا۔۔۔زویا سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔ہمت ہے تو ہاتھ کھول کر سامنہ کریں ہمارا۔۔۔یا پھر ہمت نہی ہے آپ میں بس اتنی ہی مردانگی ہے۔۔۔

زویا کی بات پر احد طیش میں آ گیا۔۔۔اور لوہے کی سلاخ ہاتھ میں اٹھائے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔زور سے زویا کے سر میں سلاخ مارنے کےلیے ہاتھ اوپر اٹھائے۔۔زویا اللہ کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی۔۔

ابھی احد نے زویا کو مارنے کے لیے ہاتھ اوپر اٹھائے ہی تھے۔۔کہ کسی نے بھاری بھرکم چیز سے اس کے سر پر وار کیا۔۔۔اور وہ وہی سر تھامتے ہی گر گیا۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔اور وہ ہوش کی دنیا سے بے خبر ہو گیا۔۔

زویا نے دیکھا تو سامنے ایک نقاب پوش کھڑا تھا۔۔زویا نے تیزی سے اپنے ہاتھوں کی رسی کاٹی اور اپنے پاوں کی رسیاں کھولتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

چلیں یہاں سے۔۔۔نقاب پوش نے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

آپ کون ہیں۔۔۔زویا جانچتی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔وہ نقاب پوش نظریں چرا گیا۔۔۔ابھی ان سب باتوں کا ٹائم نہی ہے۔۔جلدی چلیں یہاں سے۔۔۔وہ زویا کو بازو سے کھینچتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اور دیوار پر چڑھ گیا۔۔۔اس نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔لیکن اس سے پہلے ہی زویا۔۔بنا اس کے ہاتھ کی طرف دیکھے جلدی سے دیوار پر چڑ کر کود گئی۔۔۔

اور وہ نقاب پوش بھی مسکراتے ہوئے دیوار سے کود گیا۔۔اور دونوں بھاگنے لگ پڑے۔۔لیکن یہاں تو ہر طرف اندھیرا تھا۔۔اور بڑے بڑے درخت ہی درخت نظر آ رہے تھے۔۔۔زویا نے جلدی سے پاکٹ میں سے اپنا فون لگایا اور ایک درخت کی اوٹ میں چھپ کر اذنان کو فون لگایا۔۔

اذنان اور ارمان جو کہ زویا کو ٹریس کرنے میں لگے ہوئے تھے۔۔اذنان کو فون کی بیل بجی تو۔۔۔ان کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی۔۔۔اور ساتھ ہی مسکراتے ہوئے۔۔۔کال پِک کی۔۔۔۔

ہیلو میجر اذنان۔۔۔آپ کہاں ہیں۔۔۔جلدی اس لوکیشن پر پہنچے۔۔۔پولیس کے ساتھ۔۔۔

زویا کی آواز سنتے ہی اذنان کے رگ و جاں میں سکون سا پھیل گیا۔۔۔زویا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟

جی میجر اذنان ہم بلکل ٹھیک ہے۔۔۔آپ ہماری فکر نہی کریں۔۔۔۔جلدی سے ہمارا فون لوکیٹ کریں۔۔اور لوکیشن پر پہنچیں۔۔۔

اوکے ہم جلدی پہنچتے ہیں۔۔ڈونٹ وری میجر زویا۔۔کہتے ہوئے اذنان نے جلدی سے فون بند کیا اور لوکیشن آن کر کے زویا کے فون کی لوکیشن چیک کرتے ہوئے۔۔۔فون ارمان کی طرف بڑھایا۔۔ارمان اس لوکیشن پر پہنچے آپ پولیس کو لے کر۔۔۔جلدی۔۔

ارمان لوکیشن کی پکچر لے کر فون اذنان کی طرف بڑھاتے ہوئے۔۔جلدی سے وہاں سے کیب کروا کر نکل پڑا۔۔اوراذنان ارمان کی گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے۔۔لوکیشن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

زویا نے فون بند کیا۔۔۔تو نقاب پوش کو اپنی طرف دیکھتے پایا۔۔۔کیا۔۔۔؟؟
اس کی طرف دیکھتے ہوئے کندھے اچکا دیئے۔۔

کچھ نہی۔۔۔نقاب پوش سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔اور یہ میجر کون ہیں۔۔۔جن سے آپ بات کر رہی تھیں۔۔۔

ہمم وہ آپ کو بہت جلد پتہ چل جائے گا۔۔آپ یہ بتائیں۔۔۔آپ نے ہمیں کیوں بچایا۔۔۔کون ہیں آپ زرا یہ نقاب تو ہٹایئں۔۔زویا جانچتی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

کیا آپ واقعی ہی جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں۔۔۔۔؟؟

جی۔۔؟؟ زویا نے جواب دیا۔۔۔

نہی آپ مجھے دیکھ کر ڈر جائیں گی۔۔۔نقاب پوش مسکراتے ہوئے بولا۔۔

کیوں اتنے ڈراونے ہیں کیا آپ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔

نہی چہرہ تو بہت پیارا ہے میرا۔۔۔لیکن آپ کو اچھا نہی لگے گا میرا چہرہ۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔۔

ایسا نہی ہو گا۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔

نقاب پوش نے چہرے سے نقاب ہٹایا۔۔تو زویا گرتے گرتے بچی۔۔۔

کیونکہ سامنے کوئی اور نہی روحان کھڑا تھا۔۔۔زویا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔روحان۔۔۔آپ یہاں۔۔۔
میرا مطلب کیسے۔۔۔

روحان زویا کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔جانتا تھا نہی پسند آئے گا۔۔میرا چہرہ آپ کو۔۔

نہی وہ بات نہی ہے۔۔روحان۔۔ہم نے آج تک آپ کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا۔۔۔پھر بھی آپ نے ہماری جان بچائی۔۔۔

نہی آپ کی جان میں نے نہی۔۔اللہ نے بچائی ہے۔۔۔اللہ نے مجھے وسیلہ بنا کر بھیجا ہے آپ کے لیے۔۔۔

میں تو آپ کو وارن کر چکا تھا۔۔لائبریری میں سمجھانے کی کوشش کی تھی میں نے کہ دور رہیں۔۔اس احد سے یہ اچھا لڑکا نہی ہے۔۔۔لیکن پھر بھی آپ نے میری ایک نہی سنی۔۔۔

اوہ۔۔۔تو لائبریری میں آپ تھے۔۔۔؟؟ زویا حیرانگی سے بولی۔۔۔
جی اگر سامنے آ کر آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا تو آپ نے میری بات سننی ہی نہی تھی۔۔۔اسی لیے وہ سب کرنا پڑا۔۔مجھے۔۔۔

اور اس دن سوری۔۔وہ بھی آپ ہی تھے لائبریری میں۔۔۔؟؟

جی۔۔۔اس دن سب کے سامنے آپ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔میری وجہ سے آپ کی انسلٹ ہوئی۔۔۔کچھ دیر بعد آپ کو روتے ہوئے لائبریری کی طرف جاتے دیکھا تو۔۔مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔اسی لیے معافی مانگنے کے لیے آ گیا۔۔آپ کے پیچھے پیچھے لائبریری میں۔۔۔

زویا حیران تھی۔۔۔روحان کے انکشافات پر۔۔۔اوہ آئی ایم ایکسٹریملی سوری۔۔۔جو کچھ ہوا ہم وہ سب کرنا نہی چاہتی تھی۔۔ہمیں غصہ آ گیا تھا۔۔اسی لیے تھپڑ مار دیا۔۔جانتی ہوں دل کے برے نہی ہو آپ۔۔۔

لیکن احد کے دوست تھے آپ یہی وجہ تھی آپ سے دوستی نہ کرنے کی۔۔۔زویا شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

نو نو اٹس اوکے۔۔۔ویسے احد میرا دوست تھا۔۔لیکن جب سے یونیورسٹی میں دو لڑکیاں غائب ہوئی تب سے یہ میرا دشمن ہے۔۔۔میں بہت دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تاکہ ان لڑکیوں کا کچھ پتہ چل سکے۔۔

لیکن کچھ پتہ نہی چل سکا پھر جب میں نے نوٹ کیا کہ احد آپ میں انٹرسٹڈ ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہ پھر سے کوئی کاروائی کرنے والا ہے۔۔اسی لیے آج جب اس کے ساتھ گاڑی میں جاتے دیکھا تو میں سمجھ گیا۔۔کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔

جب آپ ان نقاب پوشوں کے ساتھ فائٹ کر رہی تھیں۔۔تب ہی میں وہاں وین کے پیچھے سے آیا۔۔اور وین کے ڈرائیور کو بے حوش کر کے وین سے باہر نکال کر درخت کے پیچھے چھپا دیا۔۔

اور اس کا نقاب اتار کر اپنے چہرے پر پہن کر جلدی سے وین میں بیٹھ گیا۔۔۔اور آپ کو بے ہوش کر کے۔۔وین میں ڈال کر مجھے وین سٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا گیا۔۔۔اور ایک آدمی میرے ساتھ بیٹھ کر راستہ سمجھاتا رہا مجھے۔۔۔

اسی طرح میں یہاں تک پہنچا۔۔۔احد کو آپ کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔تو چھپتے چھپاتے اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔باقی سب تو آپ جانتی ہیں۔۔

زویا حیران تھی۔۔۔روحان کی بہادری پر۔ویل ڈن۔۔۔روحان۔۔۔آپ نے بہت ہیلپ کی ہماری۔۔تھینکس۔۔میجر زویا از ہیئر۔۔۔۔زویا نے ہاتھ روحان کی طرف بڑھایا۔۔۔

ہمم فرینڈز۔۔۔؟؟ روحان زویا کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔۔

فرینڈز۔۔زویا مسکراتے ہوئے بول۔۔۔اور اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔روحان بہت خوش تھا۔۔۔فائنلی اس کی دوستی ہو ہی گئی۔۔ایمن سے۔۔نننہہی۔۔۔میجر زویا سے۔۔

جب تک میجر اذنان اور میجر ارمان یہاں نہی پہنچ جاتے ہمیں نظر رکھنی ہو گی۔۔اس گھر پر کہی بھاگ نہ جائے احد۔۔۔

ارمان۔۔۔؟؟ روحان زویا کی بات پر حیران ہوا۔۔۔؟؟؟

جی آپ کے بھائی ارمان ہی ہیں۔۔میجر ارمان۔۔اور سر ارحم میجر اذنان۔۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔

روحان بھی مسکرا دیا۔۔۔اسے فخر ہوا آج اپنے بھائی پر۔۔اور اپنے رویوں پر شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 12
از
خانزادی

زویا اور روحان ابھی تک وہی بیٹھے تھے۔۔اذنان یا ارمان دونوں میں سے کوئی نہی آیا تھا۔۔ابھی تک۔۔۔۔ان کو قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔۔وہ لوگ سمجھ گئے۔۔کہ احد کو ہوش آ چکا ہے۔۔اسی لیے وہ اپنے آدمیوں کو ڈھونڈنے کے لیے بھیج رہا ہے۔۔

زویا نے روحان کو اوپر درخت پر چڑھنے کا اشارہ کیا۔۔دونوں جلدی سے درخت پر چڑھ گئے۔۔۔احد کے آدمی وہاں سے ان کو ڈھونڈتے ہوئے۔۔۔آگے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

تب ہی زویا کو اذنان آہستہ سے چلتے ہوئے۔۔ہاتھ میں گن اٹھائے نظر آیا۔۔۔زویا نے روحان کو اذنان کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ہم چلتے ہیں۔۔۔میجر اذنان آ چکے ہیں۔۔آپ ادھر ہی رہنا۔۔۔

نہی میں بھی آپ کے ساتھ چلو گا۔۔روحان نے بھی زویا کے ساتھ ہی چھلانگ لگائی۔۔۔اذنان ان دونوں کو دیکھ چکا تھا۔۔۔جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔اور ایک گن زویا کو تھما دی۔۔اگلے ہی پل اذنان کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔

روحان کو زویا کے ساتھ دیکھ کر۔۔۔یہ تو روحان ہے نہ ارمان کے بھائی۔۔۔اذنان جانچتی نظروں سے روحان کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔

جی سر۔۔۔میں بھی اس لڑائی میں آپ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔روحان ایک جزبے سے بولا۔۔

لیکن آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔آپ یہ گاڑی کی چابی لیں۔۔۔اور جا کر ارمان کی گاڑی میں بیٹھیں۔۔

ڈونٹ وری میجر اذنان ان کو ہمارے ساتھ آنے دیں۔۔یہ بہت بہادر ہے۔۔انہوں نے ہماری جان بچائی تھی۔۔یہ بھی کسی سے کم نہی ہیں۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔اذنان نے گن روحان کی طرف بڑھا دی۔۔جسے روحان نے پکڑ لیا۔۔اور تینوں گھر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔دیوار کود کر تینوں اندر داخل ہو گئے۔۔اور سب الگ الگ کمروں میں بڑھ گئے۔۔۔

سارے کمرے خالی تھے۔۔۔اب ان کا رخ چھت کی طرف تھا۔۔۔چھت پر پہنچے تو۔۔۔احد گن تانے کھڑا تھا۔۔

ان تینوں کو دیکھتے ہی مسکرا دیا۔۔۔ویل ڈن۔۔۔کیا ٹیم ہے۔۔۔اور تم روحان میرے دوست ہو۔۔یا دشمن۔۔؟؟چلو آ جاو میری سائیڈ مالا مال کر دوں گا۔۔۔

میرے پاس سب کچھ ہے۔۔الحمدللہ۔۔۔مجھے تمہاری کوئی آفر نہی چاہیے۔۔۔گھٹیا انسان۔۔۔بند کرو یہ سب کچھ اور بتاو لڑکیاں کہاں ہیں۔۔۔روحان چند قدم  آگے بڑھا۔۔۔

خبردار جو زرا بھی قدم آگے بڑھایا تو۔۔اس لڑکی کو ابھی یہی ختم کر دوں گا۔۔احد نے گن زویا کی طرف کر دی۔۔چلو سب اپنی اپنی گن نیچے رکھو اور ہینڈز اپ کرو۔۔ورنہ ابھی سر اڑا دوں گا اس لڑکی کا۔۔

اذنان نے روحان اور زویا کو گن نیچے رکھنے کا اشارہ دیا۔۔اور خود بھی۔۔گن نیچے رکھ کر ہینڈز اپ کر دئیے۔۔۔احد جلدی سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اور اس کے سر پر گن رکھ کر۔۔۔اسے نیچے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔زویا چپ چاپ نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اذنان نے نیچے اترتے سیڑھیوں کا دروازہ بند کر دیا۔۔اذنان اور روحان اوپر ہی رہ گئے۔۔۔اذنان نے جلدی سے گن اٹھائی اور چھت سے نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔روحان نے بھی۔۔اذنان کو کودتے دیکھ نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔

اذنان کا رخ اندر کی طرف تھا۔۔اس نے جلدی سے سیڑھیوں کی طرف رخ کیا۔۔جہاں احد زویا کے سر پر گن تانے نیچےکی طرف بڑھ رہا تھا۔۔زویا اذنان کو دیکھ چکی تھی۔۔۔

اذنان نے ایک گولی دیوار کی اوٹ سے نکل کر احد کی ٹانگ پر ماری جس سے وہ لڑکھڑاتے ہوئے۔۔۔سیڑھیوں سے نیچے فرش پر آ گرا۔۔۔اس گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔۔۔

زویا جلدی سے آگے بڑھی۔۔اور احد کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔۔اور وہ گر سا گیا۔۔درد سے اس کی آنکھیں بہ رہی تھی۔۔مگر وہ خود کو مظبوط ظاہر کر رہا تھا۔۔۔

زویا نے ایک تھپڑ اس کے چہرے پر لگایا۔۔۔جس پر وہ ہاتھ پاوں مارنے لگ پڑا۔۔۔اور اسے شدت سے اپنے کمزور پڑنے کا احساس ہوا۔۔۔بہت لڑکیوں کی زندگیاں برباد کر لی تم نے احد صاحب نہی اب اور نہی اذنان جلدی سے آگے بڑھا۔۔ 

خون بہنے کی وجہ سے احد کی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔اسی وقت ارمان وہاں پہنچا پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ۔۔۔اور پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔۔۔تو گھر کے ایک خفیہ کمرے سے سات لڑکیاں برآمد ہوئی۔۔

جن میں سے دو تو۔۔یونیورسٹی کی تھی۔۔۔باقی کی پتہ نہی کہاں کی تھی۔۔۔سب لڑکیاں بے حوش تھیں۔۔اور بہت کمزور بھی لگ رہی تھیں۔۔۔جیسے ان کو کچھ کھانے کو نہ ملا ہو۔۔بہت دنوں سے۔۔۔

ان لڑکیوں کو اور احد کو پولیس کے ساتھ ہوسپٹل بھجوا دیا گیا۔۔۔اور روحان احد کے دونوں ساتھیوں کو گھیرے وہاں لے کر آیا تو ان کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔

روحان کو وہاں دیکھ کر ارمان جلدی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔روحان تم ٹھیک ہو۔۔۔یہاں کیا کر رہے ہو۔۔ارمان نے روحان کو جلدی سے گلے لگا لیا۔۔۔تمہیں کہی چوٹ تو نہی آئی۔۔۔

نہی یار میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔پریشان مت ہو۔۔روحان بھی ارمان کے گرد باہیں پھیلاتے ہوئے بولا۔۔۔آئی ایم سوری میں تمہیں غلط سمجھتا رہا تھا۔۔تم تو ہیرو نکلے یار۔۔۔روحان ارمان سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔۔۔اور اسے سیلوٹ کیا۔۔۔

جس پر سب مسکرا دئیے۔۔۔اور گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ارمان اور روحان گھر چلے گئے۔۔جبکہ زویا کو اذنان نے ہوسٹل چھوڑ دیا۔۔اور زویا کو روم تک چھوڑنے ساتھ گیا۔۔۔۔جب زویا اپنے کمرے میں چلی گئی تو اذنان مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر واپس چلا گیا۔۔۔

مسٹر بٹ کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپہ ڈال کر ان کو گرفتار کر لیا۔۔اور ان دونوں باپ بیٹے پر لڑکیوں کے اغوا۔۔کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔۔۔

اگلے دن ان دونوں لڑکیوں کے ماں باپ کو بلا کر پوری یونیورسٹی کے سامنے ان کے پیرنٹس سے ملوایا۔۔۔تو ماں باپ تو خوشی سے جیسے پاگل ہی ہو گئے۔۔۔سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔

سارے سٹوڈنٹس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ارمان روحان اذنان اور زویا۔۔چاروں کو پرنسپل نے سٹیج پر بلایا۔۔۔

اور ان کے لیے۔۔۔ساری یونیورسٹی نے ان چاروں کو سیلوٹ مارتے ہوئے۔۔۔داد دی۔۔۔اذنان نے مائیک سنبھالا۔۔اسلام و علیکم سٹوڈنٹس سپیشلی میرا یہ پیغام لڑکیوں کے لیے ہے۔۔۔

میری سب سے درخواست ہے کہ اپنی اور اپنے پیرنٹس کی ریسپیکٹ کا خیال رکھیں۔۔۔کسی کی باتوں میں نہ آئیں۔۔کیونکہ دنیا جیسی دکھتی ہے۔۔ویسی ہے نہی۔۔۔

سچا پیار تو صرف ماں باپ ہی کر سکتے ہیں۔۔۔کوشش کیجئے کہ ان کی محبت میں سچا پیار تلاش کریں۔۔۔آپ کو زندگی بہت خوبصورت لگے گی۔۔۔

تو وعدہ کریں آج کے بعد بس اپنے ماں باپ کو ہی پیار کریں گے آپ لوگ۔۔۔جھوٹی محبتوں سے بچیں۔۔اور ماں باپ کی سچی محبتوں کو پہچانیں ان کا احترام کریں۔۔۔

تو کون کون وعدہ کرے گا۔۔۔اذنان بولا تو سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔۔اور سب نے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔۔پاکستان۔۔۔زندہ باد۔۔۔پاک آرمی زندہ باد۔۔

سب نے قومی ترانہ پڑھا۔۔اور سٹوڈنٹس اپنے اپنے کلاس رومز کی طرف بڑھ گئے۔۔۔جبکہ۔۔رانیہ اور علی۔۔زویا کی طرف بڑھے۔۔۔زویا نے رانیہ کو گلے لگا لیا۔۔۔

آئی ایم سوری ہم نے تمہے غلط سمجھا۔۔علی سر جھکائے بولا۔۔۔
نو نو اٹس اوکے اس میں آپ لوگوں کی کوئی غلطی نہی تھی۔۔۔ہماری مجبوری تھی۔۔

اب ہمارے جانے کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔چلتے ہیں۔۔جب بھی ملنے کو دل کرے آ جانا۔۔تبھی روحان وہاں چلا آیا۔۔۔زویا مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔

جی کہیے۔۔۔
نہی یہاں نہی وہاں چلیں۔۔۔روحان نے کینٹین کی طرف اشارہ کیا۔۔۔تو زویا اس کے ساتھ چل پڑی۔۔

جی بولیں کیا کہنا ہے آپ کو۔۔؟؟

وہ میں یہ کہنا چاہتا تھا۔۔کہ پھر پتہ نہی موقع ملے یا نہ ملے۔۔۔اسی لیے سوچا آج ہی بات کر لوں۔۔جو بھی آپکا فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہو گا۔۔

جی بولیں۔۔۔

میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وِل یو میری می۔۔زویا۔۔۔؟؟

پہلے تو زویا حیران رہ گئی۔۔پھر مسکراتے ہوئے۔۔روحان کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔ییس۔۔اور ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔روحان نے اپنی پاکٹ میں سے ایک رِنگ نکال کر زویا کی انگلی میں پہنا دی۔۔

روحان پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔۔زویا اپنے ہاتھ کی انگلی میں رنگ دیکھ کر مسکرا دی۔۔

ان سے تھوڑی دور کھڑے کسی وجود کا دل چھن سے ٹوٹا تھا۔۔وہ ان دونوں کی طرف بڑھے بغیر۔۔۔وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

تھینکس زویا میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرنے کے لیے۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

مائی پلیثر۔۔۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔اور دونوں وہاں سے چل پڑے۔۔۔

زویا کی نظریں۔۔اذنان کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔لیکن اسے اذنان کہی نظر نہی آیا۔۔۔سر جھٹکتے ہوئے وہ وہاں سے گھر کے لیے نکل پڑی۔۔روحان اسے گھر تک ڈراپ کرنے آیا تھا۔۔

زویا کا دل اداس ہو چکا تھا۔۔نہ جانے کیوں اذنان اس سے ملے بغیر وہاں سے کیوں چلے گئے۔۔۔یہ بات اس کو کھٹک رہی تھی۔۔گھر جاتے ہی ماما سے ملنے کے بعد اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اذنان بھی اپنے تین کمروں کے اکلوتے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔جہاں صرف وہ تھا۔۔اور اس کی تنہائیاں تھیں۔۔۔۔وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔روحان کو زویا کو رِنگ پہناتے ہوئے۔۔۔

اس سے برداشت نہی ہو سکا۔۔ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر۔۔۔زویا کو مسکراتے دیکھ وہاں سے چپ چاپ نکل گیا۔۔۔زویا سے ملے بغیر۔۔۔

آج اس نے سوچ لیا تھا کہ زویا کو اپنے دل کی بات بتا دے گا۔۔کہ وہ اس کے لیے کیا بن چکی۔۔۔ایک مشن تو وہ جیت چکا تھا۔۔۔لیکن اپنی زندگی کا مشن وہ ہار چکا تھا۔۔۔

شاید میں نے دیر کر دی۔۔۔زویا میری قسمت میں نہی تھی۔۔۔وہ خوش تھی روحان کے ساتھ۔۔اس کی مسکراہٹ سے پتہ چل رہا رہا تھا۔۔

اذنان بستر پر گر سا گیا تھا۔۔۔وہ تھک سا گیا تھا۔۔اپنی زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے۔۔۔اس کی قسمت میں شاید تنہائی لکھ دی گئی۔۔تھی۔۔

وہ انکھیں موندے وہی سو گیا۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا۔۔کب نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔۔۔

ارمان گھر آیا تو روحان کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔لیکن روحان اس کو اپنے کمرے میں نظر آ گیا۔۔ارمان اندر آیا تو روحان جلدی سے اس کے گلے لگ گیا۔۔۔

ارے بھئی کیا ہوا۔۔ارمان اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔

میری دعائیں قبول ہو گئی۔۔۔بھائی۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔ 
کیا ہوا کونسی دعائیں قبول ہو گئی۔۔میرے شہزادے کی۔۔۔

بھائی میں نے زویا کو پرپوز کر دیا۔۔۔

کیا۔۔۔ارمان کو جیسے شاک لگا۔۔۔کیا کہا پھر زویا نے۔۔

شی سیڈ ییس۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔

ہمممم واووو بہت بہت مبارک ہو تم کو۔۔۔ارمان نے دل سے بھائی کی خوشیوں کے لیے دعا کی۔۔۔

بہت جلد موم ڈیڈ کے ساتھ جائیں گے۔۔تمہارا رشتہ لے کر زویا کے گھر۔۔۔ارمان روحان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔

اور دونوں مسکرا دیئے۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 13
از
خانزادی

اذنان سو کر اٹھا تو رات کے نو بج چکے تھے۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا وہ اتنی دیر تک سوتا رہا۔۔اٹھا تو۔۔اپنے لیے کچھ بنانے کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔لیکن کچن میں کھانے کو کچھ بھی تھا۔۔۔

پریشانی میں وہ کھانے کو کچھ لانا بھول گیا تھا۔۔اور اب گھر میں بھی کچھ نہی تھا ایسا جو بنا کر کھا سکے سر جھٹکتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔

بالکونی میں آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ماضی کی یادوں میں کھو سا گیا۔۔۔کتنے ارمان تھے اس کے دل میں رِدا کو لے کر لیکن رِدا اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر گئی۔۔اسے اکیلا چھوڑ گئی۔۔

دس سال کا تھا جب ماں باپ چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔اذنان کے والدین کی موت ایک کار حادثے میں ہوئی تھی۔۔۔اذنان ان کی اکلوتی اولاد تھا۔۔ان کے جانے کے بعد اذنان بہت اکیلا رہ گیا تھا۔۔

ماں باپ کی جدائی نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔تایا تائی کو جب اس کے ماں باپ کی موت کی خبر ہوئی تو۔۔اسے لینے اس کے گھر آ پہنچے۔۔۔اذنان اپنے گھر کو چھوڑنے پر تیار نہی تھا۔۔۔

لیکن تایا تائی کے زبردستی کرنے پر ان کے ساتھ چل پڑا۔۔۔تائی نے اس کی پرورش بلکل اپنے بچوں کی طرح کی۔۔تائی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ردا۔۔جس کو اذنان سے منسوب کر دیا گیا۔۔۔

اذنان اٹھارا سال کا ہوا تو اس کی ردا سے منگنی کر دی گئی۔۔۔منگنی میں پورے خاندان کو مدعو کیا گیا۔۔۔سب کے سامنے اذنان نے ردا کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی۔۔

اذنان کے دل میں ردا کی جگہ ایک کزن سے زیادہ کچھ نہی تھی۔۔وہ ردا سے بہت کم بات کرتا تھا۔۔زیادہ ٹائم اپنے کمرے میں گزارتا تھا۔۔۔کالج سے آتا تو سیدھا اپنے کمرے میں چلا جاتا۔۔اپنی پڑھائی میں مصروف رہتا۔۔۔

ایک دن یونہی بالکونی میں کھڑا تھا۔۔تو اس کی نظر ساتھ دو کمرے چھوڑ کر اگے والے کمرے کی بالکونی میں پڑی۔۔جہاں ردا بال بکھیرے گھٹنوں پر سر رکھے رو رہی تھی۔۔۔

اذنان ردا کو ایسے روتا دیکھ جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔اذنان کو سامنے دیکھ ردا نے سر اٹھا کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔اور یہی وہ پل تھا جب اذنان اس کی بھیگی پلکوں کی نمی اور جھیل سی آنکھوں میں کھو سا گیا۔۔

وہ ٹکٹکی باندھے ردا کو دیکھ رہا تھا۔نہ جانے کیوں اسے ردا کے آنسووں سے تکلیف ہوتی محسوس ہوئی۔۔اذنان کےایسے دیکھنے پر ردا پھر سے سر گھٹنوں میں دیئے رو دی۔۔

اذنان گھٹوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔ردا۔۔۔اس نے آواز دی تو ردا نے پھر سے سر اوپر اٹھایا۔۔کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟

ردا اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور زمین پر پڑے کچھ بالوں کی طرف اشارہ کیا۔۔اذنان کچھ سمجھ نہی پایا۔۔۔

کیا ہوا یہ بال کس کے ہیں۔۔اور رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟ اذنان نے پھر سے پوچھا۔۔۔

یہ میرے بال بال ہیں۔۔ردا آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔غلطی سے مجھ سے دانی کی بک پر انک گر گئی تھی۔۔تو اس نے پورے ایک انچ میرے بال کاٹ دیئے غصے میں۔۔۔

اذنان کو اس کے رونے کی وجہ جان کر ہنسی آ گئی۔۔ارے یہ بھی کوئی رونے والی بات ہے۔۔میں تو سمجھا پتہ نہی کوئی سیریس بات ہو گی۔۔جو آپ ایسے رو رہی ہیں۔۔اذنان اپنی ہنسی کنٹرول نہی کر پا رہا تھا۔۔۔

ردا اذنان کو ایسے ہنستے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اذنان جلدی سے اس کے سامنے آ گیا۔۔آئی ایم سوری۔۔میں دانی کو سمجھاوں گا آج کے بعد وہ دوبارہ کبھی ایسا نہی کرے گا۔۔۔آپ سے معافی بھی مانگے گا۔۔۔

وہ ایسا کچھ نہی کرنے والا۔۔اسے تو میں چھوڑوں گی نہی ردا اپنے بال باندھتے ہوئے بولی۔۔۔

نہی آپ ادھر ہی رکیں میں ابھی آیا۔۔۔اذنان دانی کے کمرے میں آیا۔۔اور اسے ساتھ لیے ردا کے کمرے میں آیا۔۔۔اسے دیکھ کر ردا نے منہ پھیر لیا۔۔۔

آئی ایم سوری۔۔۔دانی منہ پھلائے بولا۔۔۔اذنان نے آگے بڑھ کر اس کے کان میں کچھ بول کر پیچھے ہٹا۔۔۔

ایسے کہتے ہیں سوری۔۔۔ردا بھنوئیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔

دانی نے اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔ہاں ہاں ایسے بولتے ہیں سوری کانوں کو ہاتھ لگا کر بولو سوری۔۔ اذنان جلدی سے بولا تو۔۔دانی نے اسے گھورا۔۔۔

دانی نہ چاہتے ہوئے بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے سوری بولا۔۔دانی کے ایسے سوری کہنے پر ردا پہلے تو کچھ نہی بولی۔۔۔پھر کچھ دیر بعد بولی۔۔۔جاو میں نے تمہے معاف کیا۔۔۔اور ہنس دی۔۔

دیکھ کو گا میں تمہے۔۔دانی ردا کو اشارہ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔اور ردا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔اسے ہنستے دیکھ کر اذنان بھی مسکرا دیا۔۔۔تبھی تائی جی کمرے میں داخل ہوئی دونوں کو مسکراتے دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔

اذنان جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔یہ یہاں کیا کر رہا تھا۔۔۔ردا کی ماں اس کی طرف بڑھی جلدی سے۔۔۔

کچھ نہی ماما بس ایسے ہی۔۔۔آیا تھا۔۔ردا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپ کو ماما اگر اذنان میرے کمرے میں آ گیا تو۔۔۔اس میں غلط ہی کیا ہے۔۔۔وہ کزن ہے میرا۔۔۔اور شادی ہونے والی ہے ہماری۔۔۔

بیٹی کا رویہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔۔۔نہی نہی میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔ردا کیا ہو گیا ناراض کیوں ہو رہی ہو۔۔چلو کھانا کھاو آ کر۔۔۔کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ردا بھی ماں کے پیچھے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔۔

ایک سال بعد ردا اور اذنان کا نکاح کر دیا گیا۔۔لیکن رخصتی ردا کی پڑھائی مکمل ہونے پر طے پائی گئی۔۔

ردا کی پڑھائی مکمل ہوئی تو۔۔گھر میں ردا کی رخصتی کی بات چل پڑی۔۔۔ردا کو کوئی انٹرسٹ نہی تھا۔۔وہ تو اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔۔۔

لیکن اذنان کے دل میں ردا کے بہت جزبات تھے۔۔وہ بہت خوش تھا اس شادی سے۔۔۔وہ ردا سے محبت کرنے لگ پڑا تھا۔۔۔لیکن نہی جانتا تھا۔۔ردا اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے۔۔

ایک دن اذنان نے ردا کو ایک لڑکے کے ساتھ ریسٹورنٹ سے نکلتے دیکھا۔۔۔لیکن وہ کچھ نہی بولا ردا سے۔۔اس کے بعد اکثر اس نے ردا کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھا۔۔اور آخر کار اس کی ہمت جواب دے گئی۔۔مرد تھا۔۔آخر کب تک برداشت کرتا ردا اس کی بیوی تھی۔۔

آج اس نے ردا سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ردا کے کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا۔۔کہ اندر سے آتی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔۔۔تم فکر نہی کرو بہت جلدی اس سے جان چھڑوا لوں گی میں۔۔۔

اذنان میں مزید سننے کی ہمت نہی رہی۔۔کمرے میں داخل ہو گیا ردا کے ہاتھ سے فون پکڑ کر دیوار میں دے مارا۔۔ردا اس آفت کے لیے تیار نہی تھی۔۔تیزی سے اذنان کی طرف مڑی۔۔

یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔وہ اذنان کی طرف بڑھی۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے فون کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔وہ بھڑک اٹھی۔۔۔

کس سے بات کر رہی تھی۔۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا۔۔۔آج میں جان کر رہو گا۔۔بہت دن ہو گئے یہ سب برداشت کرتے ہوئے۔۔۔آج مجھے میرے سارے سوالوں کے جواب چاہیے۔۔۔

اوہ تو تمہیں سب پتہ چل ہی گیا۔۔۔چلو اچھا ہوا۔۔مجھے کچھ بتانا نہی پڑا۔۔ویسے بھی آج تم سے بات کرنے ہی والی تھی میں۔۔۔۔

کوئی رشتہ نہی رکھنا چاہتی میں تم سے۔۔۔جس سے میں بات کر رہی تھی۔وہ میرا بوائے فرینڈ تھا۔۔بہت جلد اس سے شادی کروں گی میں تم سے طلاق لے کر۔۔۔

اذنان کا ہاتھ اٹھا اور ردا کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔۔طلاق چاہیے تمہے۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔اذنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آیا۔۔سب اذنان کو ردا کے ساتھ ایسے نیچے لاتے دیکھ کر۔۔سب وہی اکٹھے ہو گئے۔۔۔۔

کیا ہوا بیٹا۔۔۔اذنان کے تایا جی جلدی سے آگے بڑھے۔۔لیکن اذنان ان کو نظر انداز کرتے ہوئے۔۔آگے بڑھ گیا۔۔۔ان سب گواہوں کے مد نظر رکھتے ہوئے۔۔اور اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے۔۔میں اذنان اظہر۔۔۔ردا طاہر۔۔۔تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔

طلاق دیتا ہوں۔۔۔طلاق دیتا ہوں۔۔۔
اذنان کے یہ الفاظ سن کر تو۔۔۔تایا جی سینے پر ہاتھ رکھے وہی ڈھے سے گئے۔۔۔ان کو نیچے گرتے دیکھ سب ان کی طرف بڑھ گئے۔۔

جلدی سے ان کو ہوسپٹل لے جایا گیا۔۔۔لیکن وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔

ان کی دیتھ کے ایک ہفتے بعد ردا اذنان کے کمرے میں ایک فائل پکڑے داخل ہوئی۔۔۔ردا کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ اذنان اٹھ کھڑا ہوا۔۔کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔؟؟؟؟

ردا نے مسکراتے ہوئے فائل اذنان کی طرف بڑھا دی۔۔ڈائیوورس پیپرز۔۔سائن کرو۔۔۔

اذنان نے ردا کے ہاتھ سے فائل پکڑی۔۔۔اور سائن کر دئیے۔۔۔اور یہ کیا۔۔۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔اس کی ساری جائیداد ردا کے نام ہو چکی تھی۔۔

اگر اذنان ردا کو طلاق دیتا ہے تو اس کی ساری جائیداد ردا کے نام ہو جائے گی۔۔۔ساری بات اذنان کی سمجھ میں آ گئی۔۔۔۔۔اوہ تو یہ سب کچھ جائیداد کے لیے تھا۔۔۔وہ ردا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

جی۔۔۔ردا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔شاید نکاح نامہ سائن کرتے ہوئے پڑھا نہی تھا تم نے ردا۔۔اذنان کے ہاتھ سے فائل کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔

اب نکلو یہاں سے تمہارا اب ہم سے کوئی تعلق نہی۔۔تائی جی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔اذنان ان کی آواز پر پلٹا۔۔۔وہ حیران تھا۔۔رشتوں کے اس بدلتےچہروں کو دیکھ کر۔۔۔

بنا کسی سے کوئی بات کیے۔۔۔اپنا سامان بیگ میں پیک کیے ہوئے۔۔وہاں سے چل پڑا۔۔۔سامان بھی کیا تھا۔۔۔اس کے ماں باپ کی کچھ یادگار تصویریں۔۔۔اور اس کے بچپن کی کچھ یادیں۔۔۔اپنا بیگ اٹھائے۔۔ایک آخری نظر اس گھر پر ڈالتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔

اور دوبارہ کبھی اس گھر کا رخ نہی کیا۔۔اور اپنے ایک دوست کی مدد سے آرمی جوائن کر لی۔۔اس نے طے کر لیا تھا کہ اب بس وطن کی خاطر جیئے گا۔۔۔

زویا سے اس کی ملاقات ہوئی تو محبت نے پھر سے اس کے دل میں ڈیرے ڈال دیئے۔۔وہ جتنی بھی کوشش کرتا زویا سے دور بھاگنے کی وہ اتنی ہی اس کے دل کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔۔

آج اس نے زویا سے اپنے دل کی بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔لیکن زویا کا ہاتھ روحان کے ہاتھ میں دیکھ کر۔۔وہاں سے نکل آیا۔۔۔وہ اپنا ٹرانسفر کروانے کا سوچ رہا تھا یہاں سے تا کہ دوبارہ زویا سے سامنہ نہ ہو سکے۔۔۔

فون کی بیل پر وہ یادوں کے سمندر سے باہر نکلا۔۔۔زویا کی کال آ رہی تھی۔۔۔کال کاٹ کر فون بیڈ پر پھینکتے ہوئے باہر کی 
رسمِ وفا
قسط نمبر 14
از
خانزادی

زویا بہت دیر تک اذنان کو فون ملاتی رہی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔۔آخر کار وہ فون سائیڈ پر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔اس کے دل میں عجیب سے وسوسے آ رہے تھے۔۔

سمجھ نہی پا رہی تھی۔۔اذنان کو ہوا کیا ہے۔۔کیوں وہ اس کی کال اٹینڈ نہی کر رہا۔۔پہلے سوچا مصروف ہو گا۔۔پھر خود ہی اس بات پر سر ہلا دیا۔۔اتنے مصروف تو نہی ہو سکتے کہ میری کال اٹینڈ نہ کر سکیں۔۔

کچھ دیر بعد اذنان گھر واپس آیا تو فون کی طرف دھیان گیا۔۔سکرین آن کی تو زویا کی پچاس سے زیادہ مس کالز تھیں اس کے فون پر۔۔۔ساڑھے بارہ کا ٹائم تھا۔۔اذنان نے زویا کو کال کی یہ سوچتے ہووئے کہ کہی کوئی ایمر جنسی نہ ہو۔۔

پہلی بیل پر ہی زویا نے کال اٹینڈ کر لی۔۔۔اذنان حیران رہ گیا۔۔زویا اب تک جاگ رہی ہے۔۔اسلام و علیکم زویا کی چہکتی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔

وعلیکم اسلام۔۔۔خیرئت تھی آپ کی اتنی زیادہ کالز آئی ہوئی تھیں۔۔میں زرا ضروری کام سے باہر گیا ہوا تھا۔۔ابھی گھر لوٹا تو فون چیک کیا۔۔

جی سب خیریت ہے۔۔میجر اذنان بس ایسے ہی آپ ہم سے ملے بغیر ہی یونیورسٹی سے واپس آ گئے۔۔تو ہمیں فکر ہو رہی تھی آپ کی۔۔ہم نے سوچا آپ خود رابطہ کریں گے۔۔لیکن آپ نے کوئی رابطہ نہی کیا۔۔اسی لیے ہم نے خود فون کر دیا۔۔

لیکن آپ کال اٹینڈ نہی کر رہے تھے۔۔تو ہم پریشان ہو گئے۔۔اسی لیے کافی دیر سے فون کر رہے تھے آپکو۔۔ہم معزرت کرتے ہیں اگر آپ کو پریشان کیا ہم نے تو۔۔

نہی ایسی کوئی بات نہی۔۔۔اس میں معزرت کرنے والی کونسی بات ہے۔۔مجھے ارجینٹلی کہی جانا تھا اسی لیے یونیورسٹی سے آپ سے ملے بغیر ہی وہاں سے نکل آیا۔۔

ہممم۔۔ہمیں آپ کو ایک ضروری بات بتانی تھی۔۔اسی لیے فون کیا۔۔زویا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔

جی کہئے۔۔کیا بات کرنی تھی۔۔۔اذنان تھکا تھکا سا بولا۔۔۔

وہ آج یونیورسٹی میں روحان نے ہمیں پرپوز کیا۔۔وہ ہم سے شادی کرنا چاہتا ہیں۔۔۔زویا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔

زویا کے منہ سے روحان کا نام سنتے ہی اذنان کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔۔۔۔ہمم یہ تو اچھی بات ہے۔۔بہت خوشی ہوئی یہ سن کر مجھے۔۔روحان بہت  خوش رکھے گا آپکو۔۔

باقی جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔یہ آپ کی زندگی ہے کیسے گزارنی ہے آپ زیادہ بہتر جانتی ہیں۔۔اذنان بول کر چپ ہو گیا۔۔۔

دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔۔آپ خوش ہیں میرے اس فیصلے سے ایک دوست ہونے کے ناطے پوچھ رہی ہیں ہم۔۔۔کچھ دیر بعد زویا ہمت کر کے بولی۔۔

جی میں خوش ہوں آپ دونوں کے لیے۔۔کہ کر اذنان نے جلدی سے فون بند کر دیا۔۔وہ زویا کے سامنے کمزور نہی پڑنا چاہتا تھا۔۔۔

فون بند ہوا تو زویا آنکھیں موندے لیٹ گئی۔۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔نہ جانے کیوں وہ اداس ہو چکی تھی۔۔اذنان کی باتوں سے اسے اندازہ ہو چکا تھا۔۔کہ اذنان خوش ہے اس رشتے سے۔۔

اگلے دن اذنان نے اپنی تڑانسفر ایپلیکیشن جمع کروا دی اور گھر واپس آ گیا۔۔وہ کچھ دن آرام کرنا چاہتا تھا۔۔۔زویا سے اس کی دوبارہ ملاقات نہی ہوئی تھی۔۔اور نہ دونوں نے ایک دوسرے کو کال کی تھی۔

زویا کسی مشن کے لیے جا چکی تھی۔۔۔جبکہ ایک ہفتے بعد اذنان کا ٹرانسفر لیٹر آ چکا تھا۔۔اس نے اپنی ٹرانسفر اسلام آباد کروا لی تھی۔۔زویا بھلانے کی وہ دن رات کوشش کرتا تھا۔۔

دن تو جیسے تیسے گزر جاتا تھا۔۔۔لیکن رات ہوتے ہی زویا کی یادیں اسے گھیر لیتی تھیں۔۔۔آج اسے اسلام آباد آئے ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔۔لیکن اس کے لیے تو جیسے ایک سال گزرنے کے برابر تھا۔۔

زویا مشن سے واپس آئی تو سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔اذنان کو بہت بار کال کی اس نے لیکن اس کا نمبر آف تھا۔۔پھر ارمان سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ تو یہاں ہے ہی نہی۔۔۔

زویا گھر میں داخل ہوئی تو اسے ڈرائنگ روم سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔۔لیکن زویا نظر انداز کرتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ابھی کمرے میں پہنچی ہی تھی۔۔کہ اس کی ماما کمرے میں داخل ہوئی۔۔

زویا بہت اچھے ٹائم پر آئی ہیں آپ۔۔جلدی نیچے چلیں آپ کے ڈیڈ آپ کو بلا رہے ہیں۔۔
ڈیڈ گھر پر ہیں۔۔؟؟ امیزنگ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔چلیں۔۔۔زویا ان کو ساتھ لیے نیچے آ گئی۔۔

سامنے روحان ارمان اور ان کے پیرنٹس کو دیکھ کر زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔وہ ان کو سلام کرتے ہوئے مام کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔

یہ ہیں ہماری بیٹی زویا۔۔۔ماما نے اس کا تعارف کروایا۔۔۔

جی ماشااللہ بہت پیاری بچی ہے۔۔ہمیں فخر ہے روحان کی پسند پر۔۔۔روحان کی ماما روحان کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی۔۔

ان کی بات پر زویا نے نظریں اٹھا کر روحان کی طرف دیکھا ساری بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔۔۔

تو پھر ہمیں اجازت دیں بہن جی۔۔باقی آپ لوگ آپس میں مشورہ کر لیں جو دن آپ کو مناسب لگے نکاح کے لیے۔۔

جی بلکل ہم انتظار کریں گے۔۔اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے میجر صاحب کب کی ڈیٹ رکھنی ہے ہمیں بتا دینا آپ ہم آ جائیں گے دولہے کو لے کر۔۔روحان کے پاپا بولے۔۔

نکاح کی بات سن کر زویا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔اسے وحشت ہو رہی تھی اس ماحول سے۔۔نکاح۔۔۔۔؟؟اتنی جلدی اس بارے میں تو ہم نے سوچا ہی نہی تھا۔۔۔روحان سے بات کرنی پڑے گی۔۔

شام کو مام ڈیڈ اس کے کمرے میں آئے۔۔زویا بیٹا آپ کو کوئی اعتراض تو نہی ہے نہ اس رشتے سے۔۔ہم آپ کے سگے ماں باپ تو نہی۔۔۔ہم نہی چاہتے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہو۔۔۔جو بھی ہو گا آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہو گا۔۔۔

مام کی بات پر زویا جلدی سے آگےبڑھی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ لوگ۔۔آپ ہی میرے مام ڈیڈ ہیں۔۔دوبارہ ایسا کبھی نہی کہنا آپ لوگ۔۔۔آپ دونوں کو پورا پورا حق ہے میری زندگی کے متعلق فیصلہ کرنے کا۔۔

زویا مام کے گلے لگ کر رو دی۔۔۔کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔۔۔اچھا بھئی میں تو چلتا ہوں۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔جلدی ملاقات ہو گی۔۔۔زویا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔۔

زویا چاہ کر بھی ان کو انکار نہ کر سکی۔۔۔اب بات ماں باپ کی عزت پر آچکی تھی۔۔اسی لیے اب زویا کے لیے انکار کی کوئی گنجائش نہی تھی۔۔۔اور اذنان بھی تو پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔تو زویا انکار بھی کس کے سہارے کرتی۔۔
 رسمِ وفا
قسط نمبر 15
از
خانزادی

پانچ دن بعد جمعہ کے دن زویا اور روحان کے نکاح کی ڈیٹ رکھی گئی۔۔روحان بہت خوش تھا۔۔اسے اس کی محبت جو ملنے والی تھی۔۔اگلے دن روحان یونیورسٹی گیا۔۔۔تو نیہا سے ملاقات ہوئی۔۔

اس نے نیہا کو اپنے اور زویا کے نکاح کے بارے میں بتایا۔۔۔تو یہ خبر سنتے ہی نیہا کے تو جیسے پاوں تلے زمین سرک گئی ہو۔۔یہ کیا کہ رہے ہو روحان۔۔۔؟؟

نیہا چلائی۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔

تم میرے دوست ہو۔۔۔اور شادی زویا سے کر رہے ہو۔۔ایسا نہی کر سکتے تم۔۔۔

روحان اس کی بات سن کر تو جیسے صدمے میں آ گیا۔۔۔مطلب کیا ہے تمہارا نیہا۔۔۔میں زویا سے شادی کیوں نہی کر سکتا۔۔روحان کو اس کی کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی تھی۔۔۔

واہ۔۔۔تو کیا اب مطلب بھی مجھے سمجھانا پڑے گا۔۔تم بچے تو نہی ہو روحان۔۔۔تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا بات کر رہی ہوں۔۔تم تو مجھ سے محبت کرتے ہو نہ۔۔؟؟

تو پھر شادی کیسے زویا سے کر سکتے ہو۔۔۔؟؟ ابھی کے ابھی ختم کرو یہ سب کچھ میں دوبارہ تمہارے منہ سے زویا کا نام نہ سنو۔۔۔مائنڈ اٹ۔۔۔نیہا غصے سے آرڈر دینے والے انداز میں بولی۔۔

اس کی باتوں پر روحان مسکرا دیا۔۔۔تم پاگل ہو گئی ہو۔۔تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں۔۔۔روحان ملک تم سے شادی کروں گا۔۔۔ہم بس اچھے دوست ہیں۔۔اس سے زیادہ کچھ نہی۔۔

روحان نیہا سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔نیہا اس کے سامنے آ رکی۔۔۔نہی روحان تم ایسے نہی جا سکتے۔۔میں آج تک تمہاری مرضی سے زندگی گزارتی ہوں۔۔جس سے تم نے دوستی کرنے کو کہا اسی سے دوستی رکھی۔۔

جس سے تم نے دوستی توڑنے کو کہا اس سے دوستی توڑ دی۔۔یہاں تک کہ تمہاری خاطر ہی میں نے زویا سے دوستی کی تھی۔۔۔بچپن کے دوست ہیں ہم ایسے تو نہی کر سکتے تم میرے ساتھ۔۔۔

میں تمہارے نام کے ساتھ کسی اور کا نام برداشت نہی کر سکتی۔۔۔پلیز ایسا مت کرو تم۔۔جیسے کہوں گے ویسے ہی زندگی گزاروں گی میں۔۔۔میرا وعدہ ہے ہے۔۔پلیز مجھے خود سے دور مت کرو۔۔

راستے سے ہٹو نیہا۔۔۔سین کری ایٹ مت کرو یہاں۔۔سب دیکھ رہے ہی۔۔۔اور اس میں سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہے۔۔۔جو کچھ ہمارے درمیان تھا۔۔دوستی سے بڑھ کر کچھ نہی تھا۔۔

اب تم اسے پیار سمجھ بیٹھی ہو تو یہ تمہارا مسلہ ہے میرا نہی۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔۔میری زندگی میں خوشیاں آنے والی ہیں۔۔تم تو میری سب سے اچھی دوست ہو۔۔۔تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔۔

اور تم ہو کہ پتہ نہی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔۔چھوڑو یہ سب اب چلو کلاس میں لیکچر کا ٹائم ہورہا ہے۔۔لیٹ ہو گئے تو کلاس سے باہر رکنا پڑے گا۔۔کہتے ہوئے روحان کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔

نیہا پھر سے اس کے سامنے آ گئی۔۔یہ سب مزاق لگ رہا ہے تمہیں روحان میری محبت کو ٹھکرا رہے ہو تم۔۔یہ اچھا نہی کر رہے تم۔۔۔میری خوشیاں برباد کر کے تم اپنا گھر بسانا چاہتے ہو۔۔

جاو یہاں سے اور دوبارہ کبھی میرے سامنے مت آنا۔۔میری ہی غلطی تھی جو میں تمہاری وقت گزاری کو محبت سمجھ بیٹھی تھی۔۔غلطی میری تھی۔۔تو بھگتنا تو مجھے ہی پڑے گا نہ۔۔

جاو تم کلاس میں۔۔میری دعا ہے تمہیں وہ ساری خوشیاں نصیب ہو۔۔جن کی تم امید رکھتے ہو۔۔۔آمین۔۔نیہا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔وہ وہاں رکی نہی۔۔پلٹ کر یونیورسٹی سے باہر نکل گئی۔۔۔

روحان کی سمجھ سے باہر تھا۔۔نیہا ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہے۔۔آج سے پہلے تو نیہا نے ایسا کبھی نہی کیا اس نے۔۔۔اور نہ ہی اس نے کبھی سوچا تھا۔۔اپنے اور نیہا کے بارے میں ایسا۔۔۔سر جھٹکتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

دن گزرتے گئے۔۔کل روحان اور زویا کا نکاح تھا۔۔لیکن زویا کا ابھی تک اذنان سے کوئی رابطہ نہی ہو سکا تھا۔۔۔زویا ابھی ابھی نکاح کا جوڑا لے کر آئی تھی۔۔وہ بے دلی سے یہ سب کچھ کر رہی تھی۔۔

رات کے اندھیرے میں زویا چھت پر بیٹھی بے آواز رو رہی تھی۔۔ایسا کیوں کیا آپ نے اذنان۔۔کیوں آئے میری زندگی میں آپ۔۔۔اگر آئے ہی تھے ساتھ تو نبھاتے۔۔یوں راستے میں چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔۔۔

ہمیں نہی کرنا یہ نکاح۔۔۔پلیز واپس آ جائیں آپ۔۔۔آپ کہیں گے تو ہم خود کو ہم کہنا بھی چھوڑ دیں گے۔۔جیسے آپ کی مرضی ہو گی ویسے ہی زندگی گزاریں گے۔۔۔جیسے کپڑے آپ کو پسند ہیں ویسے ہی پہنیں گے ہم۔۔۔

پلیز واپس آ جایئں آپ۔۔۔آپ کی زویا کسی اور کی ہونے جا رہی ہے کل۔۔

سن یار وے۔۔۔
آجا تو اک وار وے۔۔
نہی جینا بن تیرے۔۔
یہ زندگی ہے دشوار وے۔۔
آ جا توڑ ساری رسمیں۔۔
لگا جا گلے اک وار وے۔۔
نئی ہونا مینوں کس ہور دا۔۔
کیوں سمجھدا نہی توں دلدار وے۔۔
بن تیرے جی نہ سکیں گے۔۔۔
آ کے دیکھ لے اک وار وے۔۔
سن یار وے۔۔۔

اذنان ابھی کسی مشن سے تھکا ہارا گھر لوٹا تھا۔۔فون آن کیا۔۔۔اور چارچنگ کے لیے لگا دیا۔۔۔فون وہ گھر پر ہی بھول چکا تھا۔۔۔سوچا شاید زویا کی کال آ جائے۔۔اس دن زویا سے بات کرنے کے بعد اگلے دن اذنان ایمرجنسی میں گھر سے نکل گیا۔۔

اور فون گھر پر ہی بھول گیا تھا۔۔۔واپس آنا ممکن نہی تھا۔۔۔اسی لیے جیسے ہی مشن ختم ہوا ویسے ہی گھر واپس آ کر فون چارچنگ پر لگا کر فریش ہونے کے لیے چلا گیا۔۔

کافی دیر رونے کے بعد زویا نے اپنا فون اٹھایا اور ایک آخری بار اذنان کا نمبر ملایا۔۔بیل جا رہی تھی۔۔اذنان کا نمبر آن تھا۔۔یہ سوچ کر ہی زویا کے رگ و جاں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔

اذنان ابھی فریش ہو کر کمرے میں آیا ہی تھا کہ رِنگ ٹون بجتی سنائی دی۔۔آگے بڑھ کر دیکھا تو زویا کی کال تھی۔۔اذنان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

اسلام و علیکم۔۔زویا کے کانوں میں اذنان کی آواز پڑی۔۔زویا آنکھیں بند کر کے اذنان کی آواز کو محسوس کرنے لگ پڑی۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔۔۔وہ کچھ نہی بولی۔۔

کچھ دیر تک جب زویا نے کوئی جواب نہ دیا تو اذنان بول پڑا۔۔۔زویا۔۔۔۔لیکن زویا نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔اذنان زویا کی سسکیاں سن رہا تھا۔۔۔اس کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔

زویا کیوں رو رہی ہو۔۔۔؟؟؟ اذنان بے چینی سے بولا۔۔۔
کل میرا نکاح ہے۔۔۔روحان سے۔۔زویا نے جیسے اذنان کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔وہ یہ تو جان گیا تھا۔۔کہ زویا نے پرپوز کیا ہے تو ان کی شادی ہو گی۔۔۔لیکن اتنی جلدی۔۔یہ نہی سوچا تھا۔۔

کچھ دیر بعد اذنان خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔۔۔یہ تو خوشی کی بات ہے نہ زویا رو کیوں رہی ہو۔۔۔اور ہمارا سے میرا پر کب سے آ گئی آپ۔۔۔؟؟زویا لگتا ہے روحان کا رنگ چڑھنے لگا ہے۔۔روحان بہت ظبط سے مسکرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔۔

زویا کو بہت ترس آیا خود پر۔۔۔وہ تو سمجھی تھی۔۔شاید اذنان اس کو تسلی دے گا کہ میں ایسا نہی ہونے دوں گا۔۔محبت کا اظہار کرے گا۔۔لیکن ایسا کچھ نہی ہوا۔۔اذنان نے تو اس کی سوچ کے برعکس جواب دیا۔۔۔

زویا کے ہاتھ پاوں سن ہو چکے تھے۔۔۔خود کو ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے زندہ ہی نہ ہو۔۔۔یہ محبت تھی جسے اس نے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔لیکن یکطرفہ محبت تھی نہ اسی لیے یہ دکھ زویا کے حصے میں تھا۔۔۔

خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔جی یہ تو خوشی کے آنسو تھے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ کل میرے نکاح میں شامل ہو گے۔۔۔ایک دوست ہونے کے ناطے میری خوشی میں شامل ہونا پڑے گا۔۔

میں کوشش کروں گا لیکن وعدہ نہی کروں گا۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے۔۔۔اذنان نے فون بند کر دیا۔۔۔اب مزید ہمت نہی تھی اس میں ضبط کرنے کی۔۔فون بند کرتے ہی بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔

باہر بارش برس رہی تھی۔۔۔اور اندر اذنان کا دل رو رہا تھا۔۔وہ بے آواز رو رہا تھا۔۔کون کہتا ہے مرد روتے نہی مرد کا کیا دل نہی ہوتا۔۔۔جب دل ٹوٹتا ہے تو یہ سوچ کے نہی ٹوٹتا کہ لڑکے کا ہے یا لڑکی کا ہے۔۔

یہ دل جب ٹوٹتا ہے درد دونوں کو ہوتا ہے۔۔خواہ وہ عورت ہو یا مرد۔۔۔اذنان آج خود کو دنیا کا سب سے ہارا ہوا شخص سمجھ رہا تھا۔۔۔اب کچھ باقی نہ رہا تھا جینے کو۔۔۔

اور زویا وہی چھت پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی پوری رات۔۔۔بارش شروع ہو چکی تھی۔۔لیکن کسے پرواہ تھی۔۔زویا کے ساتھ ساتھ یہ بادل بھی رو رہے تھے آج۔۔۔

یہ درد جو تو نے دیا۔۔
سہنا تو تجھے ہی ہو گا۔۔
جسے چاہا ہم نے اپنا۔۔۔
بے درد وہی نکلا ہے۔۔۔
اب کس بات پر منائیں غمِ یار۔۔۔
یہ درد خود ہی تو چنا ہے۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 16
از
خانزادی

صبح ہو چکی تھی۔۔بارش بھی تھم چکی تھی۔۔اذان کی آواز پر زویا اٹھ کر نیچے چلی گئی۔۔فریش ہو کر نماز پڑھنے چلی گئی۔۔۔نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔۔۔

یااللہ جو آپکا فیصلہ ہے مجھے منظور ہے۔۔اگر روحان کا ساتھ میری قسمت میں لکھا ہے تو ہمیں آپ کا یہ فیصلہ قبول ہے۔۔یااللہ ہمیں ہمت دے تا کہ ہم اپنے ماں باپ کا مان رکھ سکیں۔۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھی۔۔آمین کہ کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر جائے نماز سمیٹ کر کچن میں چلی آئی۔۔

ماما کو سلام کیا۔۔۔اور کافی کے انتظار کرنے لگ پڑی۔۔۔زویا کو دیکھ کر مسز اظہر مسکرا دی۔۔۔زویا کو کافی کا مگ تھما کر ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی۔۔۔موم ڈیڈ نہی آئے ابھی تک۔۔؟؟

کافی کا مگ تھامتے ہوئے زویا نے پوچھا۔۔۔
نہی ابھی فون آیا تھا ان کا کہ رہے تھے جلدی آ جائیں گے۔۔آپ اپنا ڈریس وغیرہ سیٹ کر کے رکھ لیں۔۔۔

روحان سے بات ہوئی آپ کی۔۔موم نے پلٹ کر پوچھا۔۔؟؟
نو مام۔۔۔ہمیں اچھا نہی لگتا ابھی بات کرنا۔۔۔جب رشتہ بن جائے گا تب بات کر لیں گے۔۔۔زویا نے بے زار سے لہجے میں جواب دیا۔۔۔

ہممم ٹھیک ہے ویسے بھی آج رشتہ بن جائے گا آپ کا روحان سے۔۔بہت اچھا لڑکا ہے ہم جان گئے ہیں۔۔بہت محبت کرتا ہے آپ سے۔۔بہت خوش رکھے گا آپ کو۔۔۔انشااللہ۔۔۔۔۔

زویا ان کی بات پر پھیکا سا مسکرا دی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اس کا فون بارش میں بھیگنے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔۔فون آن کیا لیکن نہی ہوا۔۔زویا نے فون بیڈ پر پھینک دیا۔۔

کچھ دیر بعد میجر اظہر گھر آ چکے تھے۔۔اور نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔مہمان بھی آنا شروع ہو چکے تھے۔۔۔زویا ابھی تک اپنے کمرے میں ہی بیٹھی تھی۔۔۔
خآ
رانیہ اور علی بھی آ چکے تھے۔۔دونوں زویا سے مل کر بہت خوش ہوئے۔۔۔بہت چھپی رستم نکلی تم تو میجر زویا علی نے کہا تو زویا پھیکا سا مسکرا دی۔۔اور دیکھو ہمارے سامنے کبھی بات تک نہی کرتی تھی روحان سے۔۔

اور اب دیکھو۔۔۔نکاح کر رہی ہیں میڈم صاحبہ۔۔رانیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔۔۔زویا حیران تھی ان دونوں کو یہاں دیکھ کر اس نے تو بلایا ہی نہی تھا ان کو نکاح پر۔۔۔۔

ویسے تم لوگوں کو کیسے پتہ چلا نکاح کا۔۔۔؟؟ زویا دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

ارے واہ واہ تم نے کیا سوچا نہی بلاو گی تم تو ہمیں پتہ نہی چلے گا۔۔۔۔رانیہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔علی اور زویا اس کی حرکت پر ہنس دیے۔۔۔

بس کرو اب یہ نوٹنکی۔۔۔علی رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو رانیہ نے اسے گھورا۔۔۔۔ہمیں روحان نے انوائٹ کیا ہے تمہیں تو زحمت نہی کی بلانے کی۔۔۔

نہی ایسی بات نہی ہے۔۔۔۔میں بلانے ہی والی تھی میرا فون پانی میں گر گیا تھا۔۔۔آن نہی ہو رہا تھا۔۔اسی وجہ سے بات نہی ہو سکی۔

چلو چھوڑو یہ سب آو جلدی تیار کروں تمہیں مہمان آنے والے ہیں۔۔۔علی تم جاو اب یہاں سے۔۔۔رانیہ نے کہا تو علی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور رانیہ نے زویا کو ڈریس تھما کر چینج کرنے کو کہا۔۔۔

زویا ڈریس اٹھائے چینج کرنے چلی گئی۔۔وآووو بہت اچھی لگ رہی ہو زویا۔۔۔تم تو سمپل بھی اس پنک ڈریس میں بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔رانیہ نے سچے دل سے زویا کی تعریف کی۔۔۔

کچھ دیر میں رانیہ نے زویا کو تیار کر دیا۔۔۔زویا بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔رانیہ نے زویا کی نظر اتاری اور سچے دل سے اپنی دوست کی خوشیوں کی دعا مانگی۔۔

مسز اظہر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔زویا کو دیکھ ماشااللہ کہتے ہوئے زویا کو پیار کیا۔۔۔زویا بیٹا روحان اور اس کے گھر والے آ چکے ہیں۔۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو نکاح شروع کریں۔۔۔۔

زویا کو اس وقت ایسے لگا جیسے اس کے لیے موت کا پیغام آیا ہو۔۔۔رانیہ نے ہلایا تو ہوش میں آئی اور سر ہاں میں ہلا دیا۔۔مسز اظہر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اور نکاح خواں اور میجر اظہر کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔

رانیہ نے زویا کو گھونگٹ اوڑا دیا۔۔۔نکاح شروع ہو گیا۔۔۔زویا نہ تو کچھ سمجھ پا رہی تھی نہ ہی سن پا رہی تھی۔۔۔زویا نا سمجھی کے عالم میں نکاح قبول کر کے نکاح نامے پر سائن کر چکی تھی۔۔۔۔

نکاح ہو چکا تھا۔۔۔۔زویا سفیان خان سے زویا روحان ملک بن چکی تھی۔۔۔زویا کو روحان کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا۔۔۔لیکن زویا کو ہوش ہی کہاں تھی۔۔وہ ساری دنیا سے بے خبر سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔

اسے پتہ ہی نہی چلا کب نکاح شروع ہوا۔۔کب ختم۔۔۔کب اسے روحان کے ساتھ لا کر بٹھایا گیا۔۔اور کب واپس کمرے میں لا کر بٹھا دیا گیا۔۔رانیہ اسے کمرے میں چھوڑ کر مبارک باد دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

کچھ دیر یونہی صوفے پر بیٹھے رہنے کے بعد زویا چینج کرنے کے لیے الماری کی طرف بڑھی ہی تھی۔۔کہ نظر سامنے بالکونی میں پڑی۔۔۔سامنے اذنان بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا گلدستہ اٹھائے مسکرا رہا تھا۔۔

پہلے تو زویا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہی آیا۔۔۔پھر بے یقینی کے عالم میں اذنان کی طرف بڑھی۔۔وہ واقعی ہی اس کے سامنے تھا۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔

اذنان نے پھول اس کی طرف بڑھائے۔۔۔آئی ایم سوری۔۔زویا۔۔۔بہت بہت مبارک ہو۔۔۔اذنان مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔۔

زویا تو جیسے ہوش میں ہی نہی تھی۔۔۔اذنان کے ہاتھ سے گلدستے کھینچتے ہوئے فرش پر پھینک دیا۔۔چلے جائیں یہاں سے۔۔۔دوبارہ کبھی میرے سامنے مت آنا۔۔۔میجر اذنان

زویا نے اذنان کو دھکا دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔اذنان حیران تھا زویا کے اس رویے پر۔۔یہ سب اتنا اچانک ہوئےکہ وہ سنبھل نہ سکا۔۔۔اور کمرے سے باہر جا کھڑا ہوا لڑکھڑاتے ہوئے۔۔

وہ نہی جانتا تھا کہ زویا ایسے بی ہیو کرے گی۔۔۔جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔آئی ایم سوری زویا۔۔پلیز اوپن دی ڈور۔۔۔اذنان نے ہلکے سے دروازہ ناک کیا۔۔۔لیکن زویا نے دروازہ نہی کھولا۔۔

کچھ دیر وہی کھڑا دروازہ ناک کرتا رہا لیکن زویا نے دروازہ نہی کھولا تو آخر کار ہار مانتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔۔۔جانتا تھا زویا بہت ضدی ہے دروازہ نہی کھولے گی۔۔

اذنان کے کمرے سے جاتے ہی زویا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔میں آپ کو معاف نہی کروں گی۔۔۔آپ سے نفرت کرتی ہوں میں۔۔۔میجر 
رسمِ وفا
قسط نمبر 17
از
خانزادی

زویا جب رو رو کر تھک گئی۔۔تو اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گئی کپڑے چینج کرنے۔۔۔چینج کر کے آ کر کھانا کھائے بغیر ہی سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔بس اب اور نہی اب ہم اور نہی روئیں گے۔۔۔

رونا وہ بھی اس کے لیے جسے ہماری قدر ہی نہی۔۔۔ویسے بھی اب ہمارا اذنان کو اب یاد کرنا بھی گناہ ہے۔۔ہم کسی کی منکوحہ ہیں اب۔۔۔روحان کے ساتھ نا انصافی نہی ہونے دے سکتے ہم۔۔

اب روحان ہمارے شوہر ہیں۔۔۔ہم ان کی امانت ہیں۔۔اور امانت میں خیانت ہم ہونے نہی دیں گے۔۔۔آج سے ماضی ختم۔۔۔ہمیں ہمارے آنے والے کل کے بارے میں سوچنا ہو گا اب۔۔۔

چھوڑ دیں دیں گے اب تجھے یاد کرنا۔۔
کر لیا جتنا تھا تم نے ہمیں برباد کرنا۔۔
اب کے بار نہ ہم روئیں گے۔۔۔
کاٹ ڈالیں گے وہ سارے بیج۔۔
جو تیری محبت میں ہم نے بوئے تھے۔۔
تھک چکے ہم تڑپ تڑپ کے۔۔۔
اب نہ ہم تیرے لیے تڑپیں گے۔۔۔
اب کے بار باری یہ تمہاری ہے۔۔
بس ہم نے نہی یہ بازی تم نے بھی تو ہاری ہے۔۔
ہم تو ہو چکے برباد صنم۔۔۔
یہ رسمِ وفا نبھاتے نبھاتے۔۔
اب نہ اور محبت ہم کو کرنی ہے۔۔
نہ یہ رسمِ وفا نبھانی ہے۔۔
جان لو تم یہ صنم کہ اب یہ باری تمہاری ہے۔۔
تم نے بھی بازی ہاری ہے۔۔

اپنے کمرے میں بیٹھا وہ اپنی بے بسی کا ماتم کر رہا تھا۔۔۔آج پھر وہ ہار گیا تھا۔۔۔جس کو چاہا تھا بس وہی نہی ملتا باقی سب ملتا ہے اس دنیا میں۔۔۔آج وہ نشے میں تھا۔۔۔اپنا غم بھلانے کو پی رہا تھا۔۔

آخر کیوں میرے ساتھ ہی ایسا کیوں۔۔۔؟؟؟؟میری محبت میں کیا کمی تھی۔۔جو تم میری نہی ہو سکی۔۔کیوں زویا کیوں۔۔۔۔؟؟؟ 

وہ چلا رہا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی رہ پڑتا تھا۔۔۔نہی نہی میں نہی رو سکتا میں مرد ہوں۔۔پھر گلاس اٹھا کر زور سے دیوار میں دے مارا۔۔۔کمرے میں کانچ بکھر گیا۔۔

جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ مرد کو درد نہی ہوتا۔۔۔ہاہاہاہاہاہا اور ساتھ ہی اس کا قہقہ بلند ہوا۔۔وہ کبھی روتا تھا تو کبھی ہنستا تھا۔۔یہ سب تو غم بھلانے کے راستے ڈھونڈ رہا تھا وہ۔۔۔

لیکن اتنی جلدی غم مٹنے والا نہی تھا۔۔۔ابھی تو ابتدا ہوئی ہے عشق کی اتنی جلدی جان چھوٹنے والی نہی اس سے۔۔۔یہ قبر میں تو پہنچا سکتا ہے۔۔لیکن محبوب تک نہی۔۔۔

کیونکہ یہ عشق ہے۔۔
اس کا تو کام ہی درد دینا ہے۔
یہ تنہائی۔۔۔
یہ بے چینی۔۔
یہ درد۔۔
یہ آنسو۔۔
یہ شکوے۔۔
یہ سب تو عشق کی ادائیں ہیں۔۔
جب کر ہی لیا ہے عشق۔۔
تو اب رونا کیا۔۔
یہ عشق نہ کسی کا ہوا۔۔
نہ اس نے ہونا ہے۔۔
اب کیوں بیٹھے ہو تنہا۔۔
کہاں تھا نہ دور رہو اس سے۔۔
یہ دل تو اس کے لیے کھلونا تھا۔۔
اب نہ ملے گی تم کو راہِ فرار۔۔
اب تم کو اسی میں فنا ہونا ہے۔۔
یہی تو ہے رسمِ وفا۔۔۔
کسی کو پانا ہے۔۔تو کسی کو کھونا ہے۔۔
وہ یار ہی کیا جو یار کی خوشی میں خوش نہ ہو۔۔
یار کی خوشی کی خاطر یہ زہر تو تم کو پینا ہے۔۔
کیونکہ یہ عشق ہے۔۔۔
اس کا تو کا ہی درد دینا ہے۔۔

نشے میں چور وہ بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔اب کیا کرنا ہے جی کہ۔۔کاش یہ دھڑکن تھم جائے۔۔۔بس یہ آخری تمنہ ہے میری۔۔موت آئے تو سامنے بس میرے یار کا چہرہ ہو۔۔کہ کر وہ آنکھیں مینچ گیا۔۔۔

اگلے دن میجر اظہر زویا کو ساتھ لیے چلے گئے۔۔۔زویا آپ خوش ہو نہ بیٹا۔۔۔انہوں نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔؟؟؟

جی ڈیڈ ہم خوش ہیں۔۔۔آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم خوش نہی ہیں۔۔۔

کیونکہ آپ کے چہرے سے تو مجھے کوئی خوشی ظاہر نہی ہو رہی آپ کو دیکھ کر لگتا نہی ہے کہ کل آپکا نکاح ہوا ہے۔۔آپ کہ چہرے پر کوئی خوشی واضح نہی ہو رہی۔۔۔

ڈونٹ وری ڈیڈ۔۔ہم بہت خوش ہیں۔۔۔وہ ان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے خفیف سا مسکرا دی۔۔بس کل رات سے ہماری طبیعت تھوڑی خراب ہے۔۔اسی لیے موڈ آف ہے ورنہ اور کوئی بات نہی۔۔۔ہم اس نکاح سے بہت خوش ہیں۔۔۔

ہممم ٹھیک ہے۔۔۔سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ میں پہلے تو گھبرا گیا تھا۔۔پھر سوچا اس میں میری بیٹی کی خوشی ہے۔۔تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔۔ہم نے جو کچھ کیا آپ کی خوشی کے لیے ہی کیا۔۔۔

مگر پھر بھی مجھے پتہ نہی کیوں لگا کہ آپ خوش نہی ہو۔۔کہی ہم نے غلط فیصلہ تو نہی کر دیا۔۔پر شکر ہے میری بیٹی نے میری غلط فہمی دور کر دی۔۔میجر اظہر مطمئن ہوتے بولے۔۔

ہمیں بس یہ ڈر ہے کہ کہیں شادی کے بعد وہ ہمیں آرمی چھوڑنے کے لیے نہ کہ دیں۔۔۔آپ تو جانتے ہیں نہ آرمی ہمارا جنون بن چکی ہے۔۔ہم یہ مشن چھوڑنا نہی چاہتے مرتے دم تک اپنے ملک کی اور اس سے جڑے لوگوں کی خدمت کرتے رہنا چاہتے ہیں۔۔

اور ہم نہی چاہتے کہ اس کام میں کوئی رکاوٹ ڈالے۔۔ہم برداشت نہی کریں گے۔۔۔آپ کہ دیں ان سے۔۔زویا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔

ڈونٹ وری وہ آپ کو کبھی منع نہی کرے گا میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔جب تک آپ خود نہ چھوڑنا چاہو آرمی۔۔۔وہ آپ کو بہت خوش رکھے گا۔۔ہمیں بہت امید ہے اس سے۔۔۔میجر اظہر مسکراتے ہوئے بولے۔۔

اب مشن کے لیے تیار ہوجائیں۔۔۔انہوں نے گاڑی ایک ہاسپٹل کے سامنے روک دی۔۔۔یہ رہی اس لڑکی کی تصویر۔۔اور باقی انفارمیشن اس تصویر کے پیچھے ہیں۔۔۔اب آپ اندر جائیں۔۔۔۔

زویا نے وہ تصویر تھام لی۔۔۔اور اوکے کہتے ہوئے ڈاکٹر کے لباس میں ہاسپٹل کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اندر جا کر ایک روم کی طرف بڑھ گئی۔۔جہاں ایک لڑکی منہ پر آکسیجن ماسک لگے مشینوں میں جکڑی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔

دیکھنے میں تو کسی اچھے گھر کی لگ رہی تھی۔۔اور خوبصورت بھی تھی۔۔۔پتہ نہی کیا دشمنی ہو سکتی ہے کسی کی اس سے سوچتے ہوئے زویا اس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔

تب ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نبیل اندر داخل ہوئے۔۔۔ویلکم میجر زویا۔۔۔یہاں پر سب آپ کو ڈاکٹر حرا کے نام سے جانیں گے۔۔

تھینکس ڈاکٹر نبیل۔۔خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔۔زویا ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔۔کیا ہوا ہے اس لڑکی کو۔۔۔اور اس کے گھر والے کہاں ہیں۔۔۔زویا حیران ہوتے ہوئے بولی۔۔۔

یہ لڑکی پچھلے ایک ماہ سے یہاں ہیں۔۔۔اس کو بہت بار مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے یہ تین سو کڑوڑ کی اکیلی مالک ہے۔۔اس کا شوہر آوٹ آف کنٹری ہے۔۔

اور اس کے پیرنٹس یہی اسی شہر میں ہیں۔۔۔وہ لوگ بھی اب یہاں آنا کم ہو گئے ہیں۔۔۔البتہ علاج کے پیسے ہمیں ملتے رہتے ہیں۔۔تو ہمیں کوئی پرابلم نہی ہے۔۔۔

اور ان کی یہ حالت ایک مہینے سے ہے لیکن ان کے شوہر ابھی تک واپس نہی آئے۔۔۔سوچنے والی بات ہے نہ ڈاکٹر نبیل۔۔۔؟؟؟؟ زویا سوالیہ انداز میں بولی۔۔

جی ان کو اطلاع دی جا چکی ہے۔۔۔البتہ ان کا کچھ ویزے کا مسلہ ہے۔۔۔وہ حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔جیسے ہی ان کا مسلہ حل ہو جائے گا۔۔۔وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔۔

آل رائٹ ڈاکٹر نبیل۔۔۔اور ان کے بچے۔۔۔۔؟؟؟ زویا نے پھرسے سوال کیا۔۔۔

ان کا کوئی بچہ نہی ہے۔۔۔ڈاکٹر نبیل نے جواب دیا۔۔یہ جو کوئی بھی ہے جو ان کو مارنا چاہتا ہے۔۔۔وہ ان کی جائیداد ہڑپنا چاہتا ہے۔۔آئی تھنک۔۔۔اتنی زیادہ پراپڑتی ہے۔۔۔اسی لیے ہمیں پولیس کو انفارم کرنا پڑا۔۔

تھینکس فار یور انفارمیشن ڈاکٹر نبیل۔۔۔ویل آئی ول ٹرائی مائی بیسٹ....زویا پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔اور ساتھ ہی ڈاکٹر نبیل بھی۔۔۔

آئیے میں آپ کو باقی سٹاف سے ملوا دیتا ہوں۔۔۔ڈاکٹر نبیل نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے سارے سٹاف سے زویا کا تعارف کروایا۔۔۔ڈاکٹر حرا کے نام سے۔۔۔اور پھر سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔۔

اور زویا بھی اس لڑکی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔بیسی کلی زویا کا کام تھا اس لڑکی کو سیکیور کرنا۔۔۔اس ہوسپٹل کے نرس یا پھر ڈاکٹرز سٹاف میں سے کوئی تو تھا ایسا جو اسے مارنا چاہتا تھا۔۔۔

یہی تو پتہ لگانا تھا زویا کو۔۔۔خیر زویا وہی کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔تبھی ڈاکٹر نازیہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ڈاکٹر حرا آپ کو ڈاکٹر ندا کے ساتھ ڈیوٹی کرنی ہو گی۔۔۔ایمر جنسی وارڈ میں۔۔

آپ وہاں چلی جائیں یہاں کی بلکل فکر نہ کریں آپ یہاں میں ہوں۔۔۔ڈاکٹر نازیہ مسکراتے ہوئے بولی اور فائلز چیک کرنے لگ پڑی۔۔۔

جی میری ابھی ڈاکٹر نبیل سے بات ہوئی ہے۔۔۔انہوں نے مجھے اس پیشنٹ کے پاس رکنے کو کہا ہے۔۔۔تو میرے خیال سے آپ کسی اور ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگا دیں وہاں۔۔۔۔زویا اسی کے انداز میں بولی۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ کا زویا کی بات پر چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔ایسے جیسے ان کو زویا کا جواب پسند نہ آیا ہو ان کے ماتھے پر پڑے بل زویا کو واضح دکھائی دیے۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ فائل اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اب اس کا رخ ڈاکٹر نبیل کے کیبن کی طرف تھا۔۔۔۔

ایکسکیوزمی ڈاکٹر نبیل۔۔آپ جانتے ہیں۔۔۔کہ پچھلے دس دن سے اس پیشنٹ کو میں ہی چیک کر رہی ہوں۔۔۔اور کافی امپروومنٹ آئی ہے اس میں۔۔۔

ڈاکٹر نبیل نا سمجھی میں ڈاکٹر نازیہ کی طرف دیکھنے لگ پڑے۔۔۔کس پیشنٹ کی بات کر رہی ہیں آپ ڈاکٹر زویا۔۔۔

میں روم نمبر چار کی بات کر رہی ہوں۔۔جس پر ایکسیڈنٹ والی پیشنٹ ہیں۔۔جو پچھلے ایک ماہ سے کوما میں ہیں۔۔۔پچھلے دس دن سے ان کو میں ہی دیکھ رہی ہوں۔۔

اور اب آپ نے یہ زمہ داری ڈاکٹر حرا کو سونپ دی ہے۔۔جنہوں نے آج ہی جوائننگ دی ہے۔۔۔وہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر تھوڑا جھکتے ہوئے بولی۔۔۔

ہمم کون کہاں ڈیوٹی کرے گا یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا۔۔ ڈاکٹر نازیہ۔۔۔اور رہی بات ڈاکٹر حرا کی تو ان کو یہ ڈیوٹی میں نے ہی سونپی ہے۔۔فار یور کائینڈ انفارمیشن آپ کو بتا دوں۔۔۔

کہ ڈاکٹر حرا کو میں نے اسی پیشنٹ کے لیے ہائر کیا ہے۔۔کیونکہ ان کے گھر والے ہمیں بھاری رقم پے کر رہے ہیں۔۔۔اسی لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم پیشنٹ کی اچھی دیکھ بھال کریں۔۔۔

اسی لیے میں نے ڈاکٹر حرا کو ہائر کیا۔۔۔وہ ایسے بہت سے پیشنٹس ریکور کر چکی ہیں۔۔۔بہت قابل ڈاکٹر ہیں وہ۔۔۔

یعنی آپ کا مطلب ہے۔۔۔کہ باقی سٹاف کسی قابل نہی ہے۔۔جو آپ نے نیو ڈاکٹر ہائر کی ہے۔۔۔ڈاکٹر نازیہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔

میں نے ایسا تو نہی کہا ڈاکٹر نازیہ باقی ڈاکٹرز بھی بہت قابل ہیں۔۔۔لیکن ڈاکٹر حرا کوما پیشنٹس کی سپیشلیسٹ ہیں۔۔۔بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔۔کہ کیسے پیشنٹ کو زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔۔

اور پچھلے ماہ سے اب تک تو کوئی امپروومنٹ ہوئی نہی اس میں۔۔۔اسی لیے ہائر کیا ہے میں نے ڈاکٹر حرا کو۔۔۔امید ہے میری بات آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔۔۔

آپ باقی پیشنٹس کو دیکھ لیں۔۔اور بھی بہت سے پیشنٹس ہیں ہوسپٹل میں اور بھی پیشنٹس ہیں۔۔ڈاکٹر نبیل فائل پر نظریں جھکاتے ہوئے بولے۔۔

آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں ڈاکٹر نبیل۔۔۔۔ڈاکٹر نازیہ غصے سے تپ چکی تھی۔۔۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کی انسلٹ ہے تو آپ ریزائن کر سکتی ھیں۔۔ہمیں ڈاکٹرز کی کمی نہی ہے۔۔۔یہ تو آپ جانتی ہی ہیں۔۔کون کہاں ڈیوٹی کرے گا یہ ڈیسائیڈ کرنا میرا کام ہے۔۔

اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ورنہ جیسے آپ کی مرضی ڈاکٹر نازیہ۔۔۔ڈاکٹر نبیل ایک ایک لفظ چبا کر بولے۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ اپنی اتنی عزت افزائی پر سیخ پا ہوتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔اس بے عزتی کا بدلہ تو میں لے کر چھوڑوں گی۔۔۔میں پچھلے دو سال سے یہاں جاب کر رہی ہوں۔۔

اور یہ ڈاکٹر حرا۔۔۔جو آج ہی آئی ہے اور آتے ہی میری جگہ پر قبضہ کر لیا ہے اس نے۔۔۔اسے تو میں چھوڑوں گی نہی۔۔۔ایسا سبق سکھاوں گی کہ خود مجبور ہو جائے گی ہوسپٹل چھوڑنے پر۔۔۔کہتے ہوئے سٹاف روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 18
از
خانزادی

زویا کو یہاں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔لیکن ابھی تک اس کے سامنے کسی نے بھی کوئی ایسی حرکت نہی کی جس سے زویا کو اندازہ ہو چکے کہ آخر کون ہے جو اس لڑکی کو مارنا چاہتا ہے۔۔۔

نرس روم میں آتی اور اس لڑکی کی ساری ڈیٹیلز فائل میں لکھتی انجیکشن لگاتی اور کمرے سے نکل جاتی۔۔۔ابھی تک اس لڑکی کی باڈی میں کوئی امپروومنٹ نہی ہوئی تھی۔۔۔

زویا یونہی اس کے پاس گھنٹوں بیٹھی رہتی اور اس کی طرف دیکھتی رہتی۔۔۔شاید سمجھ سکے کہ کس تکلیف سے گزر رہی ہے وہ۔۔۔اس دوران زویا اپنی زندگی کو بھول چکی تھی۔۔

وہ تو بس اس لڑکی کو زندگی کی طرف واپس آتے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔زویا کھڑکی میں سے پردہ ہٹا کر باہر دیکھتی ہے تو اچانک اس کی نظر دور کھڑی نرس اور ڈاکٹر اسد پر پڑتی ہے۔۔

جو ڈرتے ڈرتے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے۔۔۔ایک انجیکشن نرس سے لے کر اسے دوسرا انجیکشن اپنی جیب میں سے نکال کر تھما دیتے ہیں۔۔۔اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

لیکن نرس کمرے میں آ جاتی ہے۔۔۔زویا اس کو مشقوق نظروں سے دیکھتی ہے۔۔لیکن کوئی ردِعمل ظاہر نہی کرتی۔۔۔ریلیکس بیٹھی رہتی ہے۔۔۔نرس انجیکشن لگاتی ہے اور کمرے سے باہر نکلنے ہی لگتے ہے۔۔

کہ زویا اس سے ٹکرا جاتی ہے۔۔۔اور انجکشن کی خالی بوتل نیچے گر کر ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔نرس گھبرا جاتی ہے۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔ہکلاتے ہوئے بولتی ہے۔۔زویا سمجھ جاتی ہے۔۔کہ کچھ تو غلط ہو رہا ہے۔۔

اٹس اوکے۔۔۔کیا نام ہے آپ کا۔۔زویا سائیڈ پر ہٹتے ہوئے فائل کی طرف بڑھ جاتی ہے۔۔ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے اسے کوئی انٹرسٹ ہی نہ ہو۔۔۔

ہما۔۔۔۔نرس ہکلاتے ہوئے بولتی ہے۔۔۔میں یہ کانچ ابھی صاف کر دیتی ہوں۔۔۔نرس جلدی سے کانچ اٹھانے کے لیے جھکی۔۔۔اس کے چہرے پر ڈر زویا واضح دیکھ چکی تھی۔۔

نہی نہی تم چھوڑ دو۔۔۔سوئپر کو بھیج دو وہ صاف کر دے گا۔۔۔کہی تمہارا ہاتھ نہ زخمی ہو جائے۔۔۔زویا آگے بڑھتی ہوئی بولی تو نرس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔وہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔

اور جلدی سے سویئپر کو ساتھ لے کر آئی اور کانچ صاف کروا کر باہر چلی گئی۔۔۔زویا لا پرواہی سے صوفے پر بیٹھی رہی جیسے اسے کوئی انٹرسٹ ہی نہ ہو۔۔ان کے جاتے ہی زویا نے ہاتھ میں پکڑا بوتل کا ٹکرا دیکھا۔۔

جس پر انجیکشن کا نام واضح پڑھا جا سکتا تھا۔۔۔اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔زویا جلدی سے ڈاکٹر نبیل کے کمرے کی طرف بڑھی لیکن وہ کمرے میں تھے ہی نہی۔۔۔تو زویا واپس آ گئی۔۔۔

اوہ۔۔میرا فون۔۔۔اگر میرا فون میرے پاس ہوتا تو ابھی ڈاکٹر نبیل کو فون کر دیتی۔۔۔فون یاد آنے پر زویا کو پھر سے یاد آ گیا کہ کیسے اس کا فون خراب ہوا تھا۔۔۔سوچتے ہی زویا کا سر چکرانے لگ پڑا۔۔

زویا نے جلدی سے بیگ سے ٹیبلیٹ نکال کر کھا لی۔۔اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔زویا کمزور نہی پڑنا چاہتی تھی۔۔اسی لیے جلدی سے پین کلر لے کر آنکھیں موندے صوفے پر سر رکھ دیا۔۔

کچھ دیر بعد پھر سے زویا ڈاکٹر نبیل کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔ڈاکٹر نبیل زویا کو کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئے۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ جلدی سے زویا کی طرف بڑھے۔۔۔

زویا نے وہ انجیکشن کا ٹوٹا ہوا کانچ۔۔۔ڈاکٹر نبیل کے سامنے رکھ دیا۔۔۔یہ دیکھیں زرا ڈاکٹر نبیل۔۔۔

یہ کیا ہے۔۔ڈاکٹر نبیل کانچ کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔یہ تو نیند کا انجیکشن ہے۔۔۔یہ کہاں سے ملا آپ کو۔۔ڈاکٹر نبیل حیرانگی سے بولے۔۔۔۔

یہی وجہ ہے جو اس لڑکی کو ہوش میں نہی آنے دے رہا۔۔۔آہستہ آہستہ اسے ختم کر رہا ہے۔۔۔۔مجرم نے سوچا دھیرے دھیرے ختم کیا جائے تا کہ کسی کو شک نہ ہو۔۔

اور جانتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ کون ہے اس سب کے پیچھے۔۔۔؟؟ ڈاکٹر اسد۔۔۔آپ کے چھوٹے بھائی۔۔۔۔زویا ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔۔۔

نہی ایسا نہی ہو سکتا۔۔۔وہ ایسا کیوں کرے گا۔۔۔اس کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے اس لڑکی سے۔۔۔شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔۔وہ ایسا کیوں کرے گا۔۔

نہی ڈاکٹر نبیل ہمیں کوئی غلط فہمی نہی ہوئی۔۔۔ہم نے خود دیکھا ان کو نرس سے انجیکشن لے کر ایکسچینج کرتے ہوئے۔۔۔ہم اب رنگے ہاتھ پکڑیں گے ان کو۔۔۔بس شام تک کا انتظار کریں اب آپ۔۔۔

زویا کہتے ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اور ڈاکٹر نبیل وہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو نبیل۔۔۔ایسا کیسے کر سکتے ہو تم۔۔۔اب جو بھی ہو میں اس معاملے میں بولنے والا نہی ہوں۔۔۔

اب زویا شام ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔زویا ابھی کمرے میں آئی ہی تھی کہ ایک تقریباً دس سالہ بچہ کمرے میں داخل ہوا ہاتھ میں۔۔پھولوں کی ٹوکری پکڑے ہوئے۔۔

زویا سے ہاتھ ملاتے ہوئے ٹوکری زویا کو تھما دی۔۔۔زویا مسکرا دی۔۔۔یہ کیوں دے رہے ہیں آپ ہمیں زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔

یہ مجھے ایک انکل نے دیئے ہیں کہ آپ کو دے دوں۔۔بچہ باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔

نہی بیٹا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔یہ کسی اور کے لیے ہو گا۔۔آپ یہ واپس لے جائیں۔۔زویا ٹوکری واپس بچے کو تھمانے کی کوشش کی لیکن بچہ جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔

نہی یہ آپ کے لیے ہی ہے۔۔۔آپ کا نام زویا ہے نہ۔۔بچہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

جی ہمارا نام زویا ہے۔۔لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔۔زویا حیران ہوئی بچے کے منہ سے اپنا نام سن کر۔۔

یہ آپ کے لیے ہی ہے۔۔۔کہتے ہوئے بچہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور ہاں وہ انکل کہ رہے تھے مجھے ڈھونڈنا ہے تو اپنا دل میں ڈھونڈ لینا۔۔دوبارہ کمرے میں آتے ہوئے بولا۔۔۔اور دھوڑ لگا دی۔۔۔

زویا جلدی سے باہر کی طرف لپکی۔۔۔لیکن باہر کوئی نہی تھا۔۔۔زویا واپس اندر آ گئی۔۔پھولوں کو دیکھنے لگ پڑی۔۔۔تب ہی اس کی نظر پھولوں کے درمیان پڑے فون پر پڑی۔۔۔

زویا نے جلدی سے فون اٹھایا تو یہ بلکل اس کے فون کے جیسا تھا۔۔لیکن میرا فون تو خراب ہو گیا تھا۔۔۔زویا کو یاد آیا تو اس نے جلدی سے سارے کانٹیکٹس دیکھے تو یہ سارے کانٹکٹس اسی کے تھے۔۔

زویا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے غور کیا کہ یہ نیو فون ہے۔۔۔بکل اس کے فون جیسا۔۔۔زویا نہ سمجھی کے عالم میں فون کو تک رہی تھی۔۔ایسا کون کر سکتا ہے۔۔۔

اوہ ہمم یہ کام ڈیڈ کا ہی ہو سکتا ہے۔۔وہ جانتے ہیں۔۔۔ہمیں ہمارا فون بہت اچھا لگتا تھا اسی لیے یہی لے کر گفٹ بھیج دیا۔۔تھینکس ڈیڈ۔۔یو آر بیسٹ۔۔مسکراتے ہوئے زویا نے میجر اظہر کا نمبر ملایا۔۔

کچھ دیر بعد انہوں نے زویا کی کال اٹینڈ کر لی۔۔۔اسلام و علیکم۔۔۔زویا کی چہکتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔۔

وعلیکم اسلام وہ بھی مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔کیسے یاد آ گئی ڈیڈ کی آج۔۔۔مسکراتے ہوئے بولی۔۔

تھینکس ڈیڈ۔۔۔زویا چہکتے ہوئے بولی۔۔۔

تھینکس فار واٹ۔۔۔؟؟؟؟ میجر اظہر حیرانگی سے بولے۔۔۔

تھینکس فون کے لیے۔۔۔ڈیڈ۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔

کونسا فون۔۔۔؟؟؟ میجر اظہر حیرانگی سے بولے۔۔۔؟؟؟

ابھی جو آپ نے بھیجا ہے۔۔۔ہمارا فون پانی میں گر گیا تھا تو آپ نے سیم ویسا ہی فون ہمیں گفٹ کر دیا۔۔

نہی میں نے تو کوئی فون نہی بھیجا آپ کو۔۔۔میجر اظہر نے جواب دیا۔۔

تو پھر کس نے بھیجا ہے زویا حیرانگی سے بولی۔۔۔

ہممم اب آپ کی زندگی میں کوئی اور بھی شامل ہو چکا ہے۔۔۔بیٹا جن کو ہماری طرح ہی آپ کی ضرورتوں کا خیال ہے۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔۔۔میں ابھی مصروف ہوں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔

زویا حیرانگی کے عالم میں فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھی تھی۔۔روحان نے بھیجا ہے یہ فون۔۔۔زویا کو اس بات پر کوئی خوشی محسوس نہی ہوئی تھی۔۔اس نے پھولوں والی ٹوکری اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی۔۔

شام ہوئی تو نرس کمرے میں داخل ہوئی۔۔ابھی وہ انجیکشن لگانے ہی لگی تھی کہ زویا نے اس کے ہاتھ سے انجیکشن پکڑ لیا۔۔اور خالی بوتل بھی۔۔۔زویا کے اس ردِعمل پر نرس گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔

لائیں یہ انجیکشن میں لگا دوں گی۔۔۔آپ زرا ڈاکٹر نبیل کو بلوا دیں۔۔۔زویا نرم لہجے میں بولی۔۔تو نرس کمرے سے نکل گئی۔۔۔

ڈاکٹر نبیل کو ساتھ لیے کمرے میں آئی تو۔۔۔زویا نے ڈاکٹر نبیل کی طرف اشارہ کیا انجیکشن دیکھنے کا۔۔۔

ڈاکٹر نبیل نے انجیکشن دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔۔وہ غصے سے نرس کی طرف بڑھے۔۔لیکن زویا نے ان کو روک دیا۔۔۔

یہ انجیکشن کس نے دینے کو کہا آپ کو اس پیشنٹ کو دینے کے لیے۔۔۔؟؟ زویا نے نرم لہجے میں پوچھا تو نرس رو پڑی۔۔۔

دیکھو آپ کو کچھ نہی ہو گا۔۔۔بس سچ بتا دیں۔۔زویا نے کہا تو نرس بول پڑی۔۔

یہ انجیکشن مجھے ڈاکٹر اسد نے دیا تھا۔۔۔وہ مجھے روز زبردستی یہ انجیکشن ایکسچینج کرنے کو کہتے ہیں۔۔۔اگر میں نے ان کا کام نہی کیا تو وہ مجھے جاب سے نکال دیں گے۔۔

اسی لیے مجھے ان کا کام کرنا پڑتا تھا۔۔اور میں ایک غریب اور بیوہ عورت ہوں۔۔مجبوراً مجھے یہ کام کرنا پڑتا تھا۔۔اگر یہ جاب چلی جاتی تو میں اپنے بچوں کے سکول کی فیس نہی دے پاتی۔۔۔

وہ روتے ہوئے سب بتا رہی تھی۔۔۔تبھی زویا کو ایسے لگا جیسے دروازے کے باہر کوئی ہے۔۔۔زویا آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔تو باہر ڈاکٹر اسد ان کی باتیں سن رہے تھے۔۔

زویا نے دروازہ سارا کھول دیا۔۔۔تو ڈاکٹر اسد نے تیزی سے وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔۔زویا نے بھی ان کے پیچھے دوڑ لگا دی۔۔۔وہ پارکنگ کی طرف بڑھ گئے۔۔۔زویا پارکنگ ایریا میں پہنچی تو اسے ڈاکٹر اسد کہی دکھائی نہی دیے۔۔

زویا وہی گاڑی سے ٹیک لگائے سانس بحال کرنے لگ پڑی۔۔تبھی زویا نے گاڑی کے شیشے میں دیکھا تو ڈاکٹر ہاکی پکڑے زویا کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔وہ زویا پر حملہ کرنے ہی والے تھے کہ کسی نے ہاکی زویا کی طرف بڑھنے سے روک لی۔۔۔

زویا وہاں سے ہٹ چکی تھی۔۔۔سامنے اذنان کھڑا تھا۔۔ڈاکٹر کے لباس میں۔۔۔زویا کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔۔اذنان کو سامنے دیکھ کر۔۔۔

اذنان نے ایک کک ڈاکٹر اسد کے پیٹ میں ماری تو وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین بوس ہو گیے۔۔زویا اپنی گن تان چکی تھی۔۔

اذنان نے مسکراتے ہوئے۔۔۔۔ہاتھ ہلاتے ہوئے۔۔۔زویا کی طرف اشارہ کیا۔۔زویا رخ موڑ گئی۔۔۔۔۔

اذنان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اتنی بے رخی اچھی نہی ہوتی۔۔اذنان زویا کے سامنے آتے ہوئے بولا۔۔۔

تبھی ڈاکٹر نبیل وہاں پہنچے تو اذنان جلدی سے پیچھے 
رسمِ وفا
قسط نمبر 19(سیکنڈ لاسٹ)
از
خانزادی

ڈاکٹر نبیل نے آتے ہی ڈاکٹر اسد کو بازو سے کھینچتے ہوئے کھڑا کیا۔۔اور ایک تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا۔۔شرم نہی آئی تمہیں یہ سب کرتے ہوئے۔۔میرا نام نام مٹی میں ملا دیا۔۔

ڈاکٹر اسد سر جھکائے کھڑے تھے۔۔تبھی نرس بھاگتے ہوئے آئی۔۔سر وہ پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے۔۔نرس نے کہا تو ڈاکٹر نبیل ڈاکٹر اسد کو ساتھ بازو سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے۔۔اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔

زویا اور اذنان بھی پیچھے پیچھے چل پڑے۔۔۔کمرے میں داخل ہوئے تو اذنان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ لڑکی کوئی اور نہی رِدا تھی۔۔

ردا اذنان کو دیکھ چکی تھی۔۔۔اذنان رج موڑ چکا تھا۔۔وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ جانتا ہی نہ ہو۔۔

ردا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔ایک نظر ڈاکٹر اسد پر ڈالی۔۔اور رخ موڑ گئی۔۔اذنان تم یہاں کیسے۔۔۔میں نے تمہیں کہاں کہاں نہی ڈھونڈا۔۔شکر ہے تم مل گئے مجھے۔۔۔

اس لڑکی کے منہ سے اذنان کا نام سن کر زویا نے ایک دم اذنان کی طرف دیکھا۔۔اسی وقت اذنان زویا کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔زویا کو اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو نظریں پھیر گیا۔۔

ہن۔۔۔ہمیں کیا لگے یہ اذنان کی زندگی کا معاملہ ہے۔۔زویا باہر کی طرف جانے لگی تبھی اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔

زویا رک گئی۔۔۔نہ جانے کیوں۔۔اسے اس وقت رکنا ہی پڑا۔۔زویا حیران تھی۔۔اذنان نے مجھے کیوں روک لیا۔۔

ردا رونوں ہاتھ جوڑ کر اذنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔اذنان مجھے معاف کر دو۔۔میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔۔تمہیں گھر سے بے گھر کیا۔۔تمہاری ساری جائیداد اپنے نام کروا لی۔۔۔

اور دیکھو یہ کیا ہوا میرے ساتھ۔۔۔وہی دولت میری دشمن بن گئی۔۔جیسے میں نے تمہارے ساتھ کیا۔۔۔تمہاری بیوی ہو کر کسی اور سے معاشقہ نبھایا۔۔ویسے ہی آج میرے ساتھ ہوا ہے۔۔

میرے شوہر نے کسی اور کے لیے مجھے مارنے اور دولت ہتھیانے کے لیے یہ سب کھیل کھیلا۔۔

اذنان بلکل چپ کھڑا تھا۔۔اس نے ردا کی کسی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔۔۔زویا بھی اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔یہ لڑکی اذنان کی بیوی۔۔۔زویا کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا۔۔۔

اور جانتے ہو۔۔میرے شوہر کون ہیں۔۔۔یہ ڈاکٹر اسد۔۔ردا ڈاکٹر اسد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔یہی ہیں وہ جن کی خاطر میں نے تمہیں چھوڑا۔۔اور آج یہی میری جان کے دشمن نکلے۔۔

تینوں نے حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر اسد کی طرف دیکھا۔۔

تم سے طلاق لینے کے بعد میں نے اسد سے شادی کر لی۔۔شادی کے دو ماہ تو بہت اچھے گزرے اس کے بعد مجھے اس کی سچائی آہستہ آہستہ نظر آنے لگی۔۔

ایک سال بعد مجھے پتہ لگا کہ یہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور دو بچوں کا باپ ہے۔۔میں ناراض ہو کر واپس گھر آ گئی۔۔۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اس سے طلاق لے لوں گی۔۔

ایک بٹے ہوئے شخص کے ساتھ میں زندگی نہی گزار سکتی تھی۔۔میرا لیا ممکن نہی تھا اب اس کے ساتھ زندگی گزارنا۔۔لیکن اس نے میرا پیچھا نہی چھوڑا۔۔روز گھر آ جاتا تھا مجھے منانے۔۔

ماما بھی اب اسے معاف کر چکی تھی۔۔وہ نہی چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی پر پھر سے طلاق کا داغ لگے۔۔اسی لیے وہ چاہتی تھیں کہ ردا جلد سے جلد اپنے گھر واپس چلی جائے۔۔۔

ماما نے بھی مجھے ہی غلط کہا اور کہا کہ اپنے گھر واپس چلی جاو۔۔آخر کب تک تم یہاں بیٹھی رہو گی۔۔۔اگر تم نے طلاق لے لی تو تم برباد ہو جاو گی۔۔کوئی شادی نہی کرے گا تم سے۔۔

اور کل کو تمہارے بھائیوں کی بھی شادی ہو جائے گی تو ان کی بیویاں تمہیں برداشت نہی کریں گی۔۔اور میرا کیا ہے آج ہوں کل نہی۔۔تو کس کے سہارے زندگی گزارو گی۔۔۔

آخر کار امی کے بار بار سمجھانے پر مجھے ہار ماننی پڑی۔۔اور میں واپس آ گئی اس کے ساتھ۔۔۔لیکن اس کے بعد میری زندگی آسان نہی تھی۔۔بات بات پر اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔۔

میری زندگی بہت مشکل ہو چکی تھی۔۔مجھے گھر میں قید کر رکھا تھا اس نے مجھے۔۔۔میں سمجھ گئی تھی۔۔یہ مکافاتِ عمل ہے۔۔۔شاید یہ سب میرے کیے کا ہی پھل ہے۔۔

میں نے تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔۔لیکن تمہارا نمبر بند تھا۔۔۔اور میں نے اپنی کچھ فرینڈز سے بات کی تمہارے بارے میں پتہ لگانے کی لیکن تمہارے بارے میں کچھ نہی پتہ چل سکا۔۔۔

ایک دن اسد نے مجھے اپنی دوست سے مجھے تمہارے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھ لیا۔۔۔میں فون پر اپنی دوست سے بات کر رہی تھی۔۔کہ اچانک اسد گھر واپس آ گیا۔۔

اس نے مجھ سے اس دن فون بھی چھین لیا۔۔اور بات پر مجھے تمہارے نام پر غصہ نکالتا رہتا مجھ پر۔۔۔میں نے آخر کار ایک دن میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔۔

ماما میری حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔۔۔اب وہ بھی میرے حق میں تھیں۔۔۔ہم نے وکیل سے رابطہ کیا خلا کے لیے۔۔لیکن اسد مجھے طلاق دینے کو تیار ہی نہی تھا۔۔

پھر میں دانی کی شادی کی شاپنگ کر کے واپس گھر جا رہی تھی۔۔ابھی گاڑی سے نکلی ہی تھی کہ سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آئی مجھ سے ٹکرائی۔۔اور اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہی تھا۔۔

میرے مرنے کے بعد میری ساری دولت اس کے نام ہونے والی تھی۔۔اسی لیے تو وہ یہ سب کچھ کر رہا تھا۔۔لیکن اللہ نے میری سانسیں بڑھا دی تھیں۔۔اسی لیے اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی۔۔میں بچ گئی۔۔

ڈاکٹر نبیل جلدی سے ڈاکٹر اسد کی طرف بڑھے۔۔۔کیا یہ سب سچ ہے اسد۔۔؟؟ غصے سے بولے۔۔

جی۔۔۔ڈاکٹر اسد نے بس ایک لفظ میں جواب دیا۔۔اور سر جھکا گیا۔۔۔
شرم آ رہی ہے مجھے تمہے اپنا بھائی کہتے ہوئے۔۔جو کچھ تم نے اس لڑکی کے ساتھ کیا ہے۔۔اس کی سزا تو تمہیں مل کر رہے گی۔۔کہتے ہی ڈاکٹر نبیل نے اپنا فون نکال کر پولیس کو فون کیا۔۔

آئی ایم سوری ردا۔۔۔پلیز مجھے اس بار معاف کر دو تمہیں طلاق چاہیے نہ۔۔میں دے دوں گا لیکن پلیز مجھے پولیس کے حوالے مت کرو۔۔معاف کر دو مجھے۔۔۔میرے بچوں کا سوچوں۔۔

کاش تم نے اپنے بچوں کا سوچا ہوتا۔۔جو اپنی بیوی بچوں کا نہ ہو سکا۔۔وہ میرا کیا بنے گا۔۔یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ اب میں تمہیں معاف کروں گی۔۔سوچوں کیا ہو گا جب تمہاری بیوی اور بچوں کے سامنے تمہاری حقیقت آئی گی۔۔

جب تم برباد ہو گے تو تمہے پتہ چلے گا کیسے تم نے مجھے برباد کیا تھا۔۔میری ہنستی بستی زندگی میں اذنان کے بارے میں نفرت کا بیج بو کر۔۔اور دولت کی حوس پیدا کر کے تم نے مجھے برباد کر دیا۔۔۔

پولیس آئی اور ڈاکٹر اسد کو گرفتار کر کے لے گئی۔۔ڈاکٹر نبیل کمرے سے نکل گئے۔۔

ردا نے پھر سے اذنان کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اذنان۔۔میں تمہاری ساری جائیداد تمہے واپس کرنا چاہتی ہوں۔۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔۔شاید تمہاری بددعا لگ گئی مجھے۔۔ردا رو رہی تھی۔۔

نہی ردا میں نے تمہیں کبھی بددعا نہی دی تھی۔۔اذنان آخر کار بول پڑا۔۔۔میں نے تو ہمیشہ تمہارے  حق میں دعا ہی مانگتا رہا ہوں۔۔یہ سب تو تمہیں تمہاری غلطیوں کی سزا ملی ہے۔۔

اب گزرے وقت پر پچھتانے کے سوا کچھ نہی تمہارے پاس۔۔کاش تمہے یہ احساس پہلے ہی ہو جاتا۔۔لیکن تمہاری آنکھوں پر بس پیسے اور محبت کی پٹی بندھی تھی۔۔

محبت بھی بہت قسمت والوں کو ملتی ہے۔۔اذنان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔زویا نظریں پھیر گئی۔۔اور باہر کی طرف بڑھنے لگی ہی تھی تبھی اذنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔

ان سے ملو ردا۔۔یہ ہیں میجر زویا اذنان۔۔کچھ دن پہلے ہی نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔بہت جلد شادی ہونے والی ہے ہماری۔۔۔

اذنان کی بات پر زویا نے نظریں اٹھا کر چونک کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔وہ کچھ بول نہ سکی بس اذنان کی طرف دیکھتی رہ گئی۔۔

ردا رشک بھری نظروں سے زویا کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہی تھی جو اذنان کے ہاتھ میں تھا۔۔یہ ہاتھ میرا بھی ہو سکتا تھا۔۔لیکن میں نے خود ہی اپنے ہاتھ سے سب کچھ گنوا دیا۔۔مسکراتے ہوئے آنکھیں موند گئی سر بیڈ کی ٹیک سے لگائے۔۔

اذنان مسکراتے ہوئے زویا کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن زویا تو جیسے ہوش میں ہی نہی تھی۔۔اس کا دماغ تو بس ایک ہی بات پر اٹک کر رہ گیا تھا۔۔میجر زویا اذنان۔۔

ردا کی ماما اور بھائی آ چکے تھے۔۔ان کو دیکھتے ہی اذنان کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ دانی اس سے لپک گیا۔۔۔۔اذنان بھائی آپ یہاں کیسے۔۔؟؟

بہت لمبی کہانی ہے ابھی تمہاری بھابی کو گھر لے کر جانا ہے پھر ملاقات ہو گی۔۔کہتے ہوئے اذنان پھولوں والی ٹوکری اور زویا کا بیگ اٹھائے زویا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

اذنان نے زویا کو گاڑی میں بٹھا دیا۔۔زویا گاڑی میں بیٹھتے ہی اذنان پر تپ گئی۔۔۔یہ سب کیا تھا میجر اذنان۔۔۔ابھی آپ نے اندر کیا کہا تھا۔۔میرے نام کے ساتھ اپنا نام کیوں لگایا آپ نے۔۔مجھے ایسا مزاق بلکل پسند نہی ہے۔۔۔زویا غصے سے اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔

رسمِ وفا
قسط نمبر 20 (آخری قسط)
از
خانزادی

اذنان نا سمجھی سے زویا کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔کیا مطلب۔۔۔میں ایسا مزاق کیوں کروں گا۔۔ہمارا نکاح ہوا ہے۔۔ابھی کچھ دن پہلے میں ایسا مزاق میں نہی کہ رہا۔۔۔اذنان حیران تھا زویا کے اس بچگانہ سوال پر۔۔۔

آپ سے کس نے کہ دیا ہمارا نکاح ہوا ہے۔۔۔ہمارا نکاح تو روحان سے ہوا ہے۔۔۔زویا غصے سے بولی۔۔اس کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔زویا گاڑی سے باہر نکلنے ہی لگے تھی کہ

اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔اذنان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر زویا ڈر گئی۔۔۔زویا یہاں بیٹھو میں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔زویا چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔

اس کے بعد اذنان نے زویا سے کوئی بات نہی کی۔۔اور نہ ہی زویا نے کوئی بات کی۔۔۔اذنان نے گاڑی زویا کے گھر کے سامنے روک دی۔۔زویا گاڑی سے باہر نکل گئی۔۔اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے۔۔۔

زویا۔۔۔اذنان نے آواز دی تو زویا پلٹی۔۔۔یہ بھی آپکا ہے۔۔اذنان پھولوں والی ٹوکری زویا کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔تو زویا نے وہ ٹوکری پکڑ لی اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اذنان نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ دی۔۔گھر پہنچتے ہی اذنان بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔یہ کیا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔زویا کو ابھی تک پتہ ہی نہی کہ ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔۔وہ یہی سمجھ رہی ہے کہ اس کا نکاح روحان سے ہوا ہے۔۔

ابھی بات کرنی پڑے گی مجھے زویا سے۔۔اذنان گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔اس نے پھر سے گاڑی زویا کے گھر کی طرف موڑ دی۔۔

گھر پہنچ کر زویا کی ماما کو سلام کرتے ہوئے اذنان زویا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔بنا ناک کیے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔زویا لیپ ٹاپ پر جھکی بیٹھی تھی۔۔تبھی اذنان کمرے میں داخل ہوا تو جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔

میجر اذنان یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔آپ ایسے کیسے میرے کمرے میں آ سکتے ہیں۔۔بنا ناک کیے۔۔۔زویا جلدی سے اپنا سکارف ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔۔

اذنان زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اپنی بیوی کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔اذنان نے زویا کو بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔۔زویا کیا واقعی تمہے نہی پتہ کہ تمہارا نکاح کس سے ہوا ہے۔۔۔

اذنان زویا کی طرف غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔زویا ڈرتے ہوئے بولی روحا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ زویا کچھ اور بولتی۔۔اذنان چلایا۔۔۔انف از انف زویا۔۔ہائے یو کین سو کیئر لیس۔۔۔

آئندہ روحان کا نام نہ آئے تمہاری زبان پر۔۔۔تمہارا نکاح مجھ سے ہوا ہے۔۔۔میجر زویا اذنان۔۔۔مائینڈ اٹ۔۔۔!!! اذنان غصے سے کہتا زویا کا بازو چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

زویا ابھی بھی کچھ سمجھ نہی پائی تھی۔۔سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھانے لگی تو غلطی سے ہاتھ پھولوں والی ٹوکری پر لگ گیا۔۔۔زویا نے ٹوکری اٹھائی تو نیچے ایک کارڈ گرا ہوا تھا۔۔جو ٹوکری میں سے گرا تھا۔۔۔

زویا نے کارڈ اٹھایا تو اس پر سوری لکھا تھا۔۔۔اذنان کو کیسے پتہ چلا کہ یہ پھولوں والی ٹوکری میری ہے۔۔زویا کے دماغ میں دھماکہ ہوا۔۔کیا واقعی میرا نکاح اذنان سے ہوا ہے۔۔۔

زویا کی نظر سامنے پڑے البم پر پڑی۔۔۔اس نے البم کھول کر دیکھا تو اس کے نکاح کی تصویریں تھیں۔۔زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔کیونکہ اس کے ساتھ روحان نہی اذنان تھا۔۔

پھر اس کی نظر ساتھ پڑے انویلپ پر پڑی۔۔اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں نکاح نامہ تھا۔۔جس پر زویا اور اذنان کا نام لکھا تھا۔۔جیسے جیسے پڑھتی گئی۔۔زویا حیرت کے سمندر میں ڈوبتی گئی۔۔۔

تو کیا یہ سب سچ ہے۔۔اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کچھ وہ ایسے سمجھ رہی تھی جیسے کوئی خواب ہو۔۔۔اس سمجھ نہی آ رہی تھی کہ وہ اس بات پر خوش ہو یا پھر دکھی۔۔

اوہ گاڈ اتنی بڑی غلطی کیسے ہو سکتی ہے ہم سے ہمارا دماغ کہاں گم تھا نکاح کے وقت۔۔۔زویا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔اور کسی نے بتانا بھی ضروری نہی سمجھا ہمیں۔۔۔

اوہ۔۔۔ڈیڈ کچھ کہ رہے تھے اس دن نکاح سے اگلے دن کہ سب کچھ اتنی جلدی جلدی میں ہوا۔۔۔تب بھی ہمیں کچھ سمجھ نہی آئی۔۔کہ جلدی جلدی تو کچھ بھی نہی ہوا۔۔۔سب کچھ تو بہت آرام سے تہ ہوا تھا۔۔

اوہ۔۔۔تو ڈیڈ اذنان کے بارے میں پوچھ رہے تھے ہم سے کہ ہم اس رشتے سے خوش ہیں یا نہی۔۔اوہ۔۔۔بہت بڑی غلطی ہو گئی۔۔۔اب کیسے ٹھیک ہو گا سب۔۔اذنان تو بہت ناراض ہو گے۔۔۔

زویا نے جلدی سے روحان کو فون لگایا۔۔۔۔دوسری بیل پر ہی روحان نے فون اٹھا لیا۔۔اسلام و علیکم۔۔روحان فون اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔کیسے یاد کر لیا مجھ غریب کو۔۔روحان ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔

روحان کی آواز میں درد سا محسوس ہوا زویا کو روحان جیسے خود کو خوش ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔۔

روحان تم نے کیوں کیا ایسا جب کہ تم تو مجھ سے سچی محبت کرتے تھے۔۔۔تو پھر اتنی بڑی قربانی۔۔؟؟؟؟ کیسے کیا تم نے یہ سب مجھے آج ہی پتہ چلا کہ ہمارا نکاح اذنان سے ہوا ہے۔۔۔کیسے ہو گیا یہ سب۔۔۔زویا ایک ساتھ ہی کئی سوال پوچھ گئی۔۔سلام کا جواب دیے بغیر۔۔

کیونکہ میں نے عشق کیا تھا محبت نہی۔۔۔اور عشق کبھی مکمل نہی ہوتا۔۔۔محبت کی ہوتی تو شاید ایسا نہ کر پاتا۔۔۔یہ سب میں نے محبوب کی خوشی کے لیے کیا۔۔۔

وہ کہتے ہیں نہ۔۔۔محبت حاصل کرنے سے اچھا ہوتا ہے کہ محبوب کی محبت سے محبت کی جائے۔۔۔تمہاری محبت اذنان تھا۔۔۔یہ بات مجھے نکاح سے ایک دن پہلے پتہ چلی۔۔۔

اس رات جب تم چھت پر اذنان سے فون پر بات کر رہی تھی اس کے بعد کی ساری باتیں سنی میں نے۔۔۔میں دو محبت کرنے والوں کے درمیان آ گیا تھا۔۔اذنان کی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھ چکا تھا میں۔۔۔

اسی رات میں اذنان کے گھر گیا۔۔وہ اسلام آباد میں نہی تھا۔۔۔یہی تھا۔۔۔مجھے اس طرح اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اذنان حیران ہو چکا تھا۔۔۔میں نے اذنان سے کہا کہ میں انوائٹ کرنے آیا ہوں۔۔نکاح کے لیے۔۔۔

جیسے کہ میں نے سوچا تھا۔۔۔اذنان نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔۔۔یہ کہ کر مجھے ابھی ضروری مشن پر جانا ہے۔۔اسی لیے کل نہی آ سکوں گا۔۔۔میری طرف سے مبارک ہو تمہیں اور زویا کو بھی مبارکباد دے دینا بہت ضبط سے اذنان کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

آپ نہی آئیں گے تو نکاح کیسے ہو گا۔۔۔بھلا دولہے کے بغیر نکاح کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔میں بھی اذنان کے پیچھے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔میری بات پر اذنان نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟؟؟

مطلب یہ کہ کل آپ کا نکاح ہے زویا سے۔۔۔میں نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

میری بات پر اذنان مسکرا دیا۔۔۔اچھا مزاق کر لیتے ہو لیکن میرا ابھی مزاق کا کوئی موڈ نہی ہے اور ایسا مزاق مجھے پسند بھی نہی ہے۔۔۔اذنان میری بات کو سمجھے بغیر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔

نہی یہ مزاق نہی ہے میجر اذنان میں ایسا مزاق نہی کرتا اگر یہ سب سچ مجھے آج پتہ نہ چلتا تو۔۔۔۔میری بات پر اذنان حیران ہوتے ہوئے میری طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔۔کیسا سچ۔۔۔؟؟

یہی کہ آپ زویا سے محبت کرتے ہیں۔۔۔اور زویا بھی آپ سے محبت کرتی ہے۔۔آپ دونوں زیادتی کر رہے ہیں اپنے ساتھ۔۔۔کہتے ہیں نہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا۔۔۔میں ابھی زویا سے ملنے گیا تھا۔۔۔

تو زویا کو آپ سے بات کرتے ہوئے سنا۔۔۔مجھے یہ تو نہی پتہ کہ آپ دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی۔۔لیکن اس کے بعد میں نے زویا کو آپ کا نام لیتے ہوئے روتے ہوئے سنا۔۔۔مجھ میں ہمت ہی نہی تھی کہ زویا کی طرف بڑھوں۔۔۔

اسی لیے چپ چاپ وہاں سے واپس آپ کے پاس آ گیا۔۔زویا بہت محبت کرتی ہے آپ سے۔۔۔وہ تو اس انتظار میں تھی کہ آپ اظہارِ محبت کریں گے۔۔لیکن آپ نے ایسا نہی کیا۔۔۔

اسی لیے کچھ انا کہ لیں یہ ضد کہ لیں۔۔۔کچھ ایسا ہی تھا جو زویا نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا۔۔۔زویا کے دل میں اپنے لیے کوئی جزبات نہی محسوس کیے میں نے۔۔۔اسی لیے آج اپنی غلطی کا احساس ہوا مجھے۔۔۔

وہ میں ہی ہوں جو آپ دونوں کے درمیان آ گیا۔۔ورنہ شاید آپ زویا سے اظہارِ محبت کر چکے ہوتے۔۔۔ابھی بھی دیر نہی ہوئی ابھی کچھ نہی بگڑا۔۔۔اس سے پہلے کے دیر ہو جائے اور تین زندگیاں برباد ہو جائیں۔۔میں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔۔۔

آپ نکاح کی تیاری کریں۔۔۔کل آپ کا نکاح ہے زویا سے۔۔۔میں نے اذنان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

یہ سب کچھ اتنا آسان نہی ہے جتنا تمہیں لگ رہا ہے روحان۔۔۔اذنان پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔

نہی سب کچھ بہت آسان تھا میرے لیے۔۔۔زویا کے گھر والوں سے میری بات ہو گئی ہے انہیں کوئی اعتراض نہی بلکہ وہ لوگ تو خوش ہیں۔۔وہ چاہتے ہیں ہمیں بس زویا کی خوشی چاہیے۔۔۔

اور اپنے گھر والوں کو میں خود سمجھا لوں گا۔۔آپ بس نکاح کی تیاری کریں۔۔۔میری ساری فیملی اس نکاح میں شامل ہو گی۔۔اب چلیں جلدی شاپنگ کرنے چلیں۔۔۔

لیکن زویا کا کیا۔۔۔پہلے مجھے زویا سے بات کرنی پڑے گی۔۔اذنان پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔

نہی ابھی نہی زویا کو سرپرائز ملے گا کل میں نے کہا تو اذنان مسکرا دیا۔۔۔اور پھر ہم لوگ شاپنگ کے لیے چلے گئے۔۔۔نکاح کے بعد اذنان کو بھیجا تھا میں نے بالکونی سے لیکن تم نے اس کی کوئی بات سنی ہی نہی۔۔۔

اس کی بات سنے بغیر اسے کمرے سے باہر نکال دیا تم نے۔۔۔وہ یہی بات بتانے ہی تو آیا تھا۔۔۔جانتا تھا تم ناراض ہو گی اس سے۔۔۔اسی لیے تمہیں سوری کہنے کے لیے آیا تھا اذنان لیکن تم نے اس کی بات سنی ہی نہی۔۔۔۔

اور اب یہ کیا تمہیں آج پتہ چلا ہے کہ تمہارا نکاح مجھ سے نہی اذنان سے ہوا ہے۔۔۔نکاح کے وقت کہاں گم تھی۔۔۔؟؟ خیر اب جو بھی ہونا تھا ہو گیا۔۔۔اب جتنی جلدی ہو سکے منا لو اذنان کو کہی دیر نہ ہو جائے۔۔۔

ہممم تم ایسا کرو مجھے اذنان کے گھر کا ایڈریس سینڈ کر دو جلدی ابھی۔۔۔مجھے اس سے ملنے جانا ہے۔۔۔اپنی غلطی کی معافی مانگنی ہے۔۔۔تب سے چپ زویا اب بولی تھی۔۔۔

اوکے میں سینڈ کرتا ہوں۔۔۔بیسٹ آف لک۔۔۔۔کہتے ہوئے روحان نے فون بند کر دیا۔۔

جیسے ہی روحان کا میسیج آیا۔۔۔زویا فوراً گاڑی نکال کر نکل پڑی۔۔۔موم آوازیں دیتی رہ گئی۔۔۔زویا رکو تو سہی کھانا تو کھاتی جاو۔۔۔ابھی تو گھر آئی ہو۔۔۔پھر جا رہی ہو۔۔۔لیکن زویا ان کی بات سنے بغیر گاڑی بھگا کر لے گئی۔۔۔۔

اذنان کے گھر کے باہر پہنچ کر ڈور بیل بجائی۔۔۔کچھ ہی دیر میں اذنان نے دروازہ کھول دیا۔۔سامنے زویا کو دیکھ کر اذنان حیران رہ گیا۔۔۔بنا کچھ بولے اذنان سائیڈ پر ہٹ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

زویا نے اندر آ کر دروازہ بند کر دیا۔۔اذنان زویا کو مکمل طور پر انداز کرتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔زویا اذنان کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔۔اذنان وہاں سے دوسری طرف چلا گیا۔۔۔زویا پھر سے اس کے سامنے آ گئی۔۔۔اذنان کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔

زویا اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئی اور اذنان کے سامنے آ گئی پھر سے اس سے پہلے کے اذنان وہاں سے آگے بڑھتا زویا اذنان کے گلے لگ گئی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔ہم جانتے ہیں ہماری غلطی بہت بڑی ہے۔۔لیکن معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے۔۔۔

پلیز ہمیں معاف کر دیں۔۔۔زویا رو رہی تھی۔۔۔اذنان کا دل پگھل چکا تھا اس نے دونوں بازو زویا کے گرد پھیلا دئے۔۔۔میں نے معاف کیا میجر زویا اذنان۔۔۔اذنان زویا کو خود سے الگ کرتے ہوئے زویا کی ناک کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔

آوچ۔۔۔۔زویا درد سے چلا اٹھی۔۔۔میجر اذنان ناک چھوڑیں میرا۔۔۔نہی۔۔۔میجر اذنان نہی کڑوا کریلا بولو۔۔۔اذنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔اور زویا کی ناک چھوڑ دی۔۔۔آپ ہیں ہی کڑوے کریلے۔۔کہتے ہوئے زویا نے کچن کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔

اچھا میں کڑوا کریلا ہوں۔۔تو تم کیا ہو۔۔کڑوی کریلی ہاہاہاہا کہتے ہوئے اذنان کا قہقہ بلند ہوا۔۔اور زویا پہلی بار اذنان کو اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔کیا ہوا۔۔؟؟ زویا کو مسلسل اپنی طرف دیکھتے پایا تو اذنان بول پڑا۔۔

نہی کچھ نہی ہم تو بس یہ دیکھ رہے تھے کہ آپ ہنستے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔اذنان زویا کی طرف بڑھا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بولا۔۔۔۔میری یہ ہنسی اور خوشیاں سب آپ کی وجہ سے ہیں۔۔ورنہ میں تو زندگی سے بہت دور جا چکا تھا۔۔۔

میری زندگی میں خوشیاں واپس لانی والی تم ہی ہو۔۔بس یونہی میری زندگی کو خوشیوں سے مہکاتی رہنا۔۔۔زویا اذنان۔۔۔آج میں سچے دل سے اقرارِ محبت کرتا ہوں مجھے محبت ہے زویا اذنان سے جو میری شریک حیات ہے۔۔کہتے ہوئے اذنان نے زویا کو گلے سے لگا لیا۔۔

زویا نے پر سکون ہو کر اذنان کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی۔۔۔ہمیں بھی محبت ہے میجر اذنان یعنی کڑوے کریلے سے۔۔کہتے ہوئے زویا ہنس دی اذنان بھی مسکرا دیا۔۔چلو اب گھر چلتے ہیں ہم ابھی صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہی ہوئی۔۔کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا۔۔

ہممم زویا کی بات پر اذنان مسکرا دیا۔۔۔ٹھیک ہے دھیان سے جانا میجر زویا اذنان گھر پہنچ کر میسیج لازمی کر دینا۔۔۔

اوکے کڑوے کریلے۔۔۔۔کہتے ہوئے زویا نے باہر کی طرف دھوڑ لگا دی۔۔۔اور اذنان مسکراتے ہوئے دروازہ بند کر کے اندر آ گیا۔۔

دو ماہ بعد اذنان اور زویا کی شادی ہوئی دھوم دھام سے دونوں اپنی نئی زندگی میں بہت خوش تھے۔۔۔شادی سے دو سال بعد اللہ نے ان کو دو جڑواں بچوں ایک بیٹی اور بیٹے سے نوازا۔۔۔دونوں کی زندگی مکمل ہو چکی تھی۔۔۔

دونوں کا مشن آج بھی وطن کی خاطر قربان ہونے کا تھا۔۔وطن کے لیے محبت میں کوئی کمی نہی آنے دی انہوں نے۔۔دونوں اب بھی ساتھ ساتھ مشنز پر نکلتے ہیں۔۔اور کامیاب ہو کر واپس آتے ہیں۔۔۔

ردا نے اذنان کی ساری جائیداد واپس کر دی تھی۔۔اسد سے اس نے طلاق لے لی تھی۔۔۔اب اس کی زندگی میں کوئی خوشی باقی نہی رہی تھی۔۔سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کھونے کا غم اسے جینے نہی دیتا تھا۔۔۔

اذنان نے اپنی ساری جائیداد زویا کے نام کروا دی۔۔زویا اور اذنان کی جوڑی کو لوگ رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں آج بھی۔۔۔اذنان کے لیے زویا کی محبت آج بھی ویسی ہی ہے۔۔۔ان کے پیار میں کوئی کمی نہی آئی۔۔

روحان نے نیہا کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔اور نیہا اسے اور کیا چاہہے تھا۔۔اس نے جھٹ سے ہاں کر دی اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔۔۔

اب کی بار جانم باری یہ ہماری ہے۔۔
دونوں کو ہی ایک ساتھ رسمِ وفا یہ نبھانی ہے۔۔

ختم شدہ۔۔۔

بہت بہت شکریہ پیارے پیارے ریڈرز آپ نے میری لکھی کہانی کو پسند کیا۔۔ایسے ہی ساتھ دیتے رہنا  
Agr ap is trha k mzed novel hasil karna chta hn to mra facebook page ko zror like krn
Thanx