Saturday, April 25, 2020

چار راتیںcomplet urdu horror novel read online

چار راتیں


قسط نمبر : 1
بقلم : فیضان احمد

رات کے تقریبا تین بجے کا وقت ہوگا جب میری آنکھ اس احساس سے کھلی کے کوئ میری ایک ٹانگ پکڑ کر زور سےکھینچ رہا ہے میں اس کی گرفت اپنے ٹخنوں کے قریب محسوس کر رہا  تھا۔
اس سے پہلے کے  اچانک نیند سے اٹھ کر میں اس صورتحال کو مکمل سمجھ پاتا اس نے مجھے اتنا  زور سے گھسیٹنا شروع کیا کے میں بیڈ سے پھسلتا ہوا سیدھا زمین پر گرا اور پھر رگڑتا ہو آگے کھنچتا جا رہا تھا۔ میں زور زور سے چلا رہا تھا اور خود کو روکنے کے لئے ہر ممکن چیز کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن بے سدھ۔ یہ، سب اتنا اچانک ہوا کے میں خود کو سنبھال ہی نہیں پا رہا تھا  اور بیڈ کے کنارے کو پکڑنے کی کوشش میں اپنا ہاتھ بھی زخمی کر بیٹھا۔
مجھے پیر سے پکڑ کر مسلسل کھینچا جا رہا تھا اور میں زیرو بلب کی اس مدھم روشنی اور نیند کی گولیوں کے زیر اثر سمجھنے سے قاصر تھا کے مجھے کھینچنے والا یہ وجود دراصل کیا ہے اور کون ہے
 جونہی میں دروازے  کے قریب پہنچا وہ خود کھل گیا تھا اور باہر اندھیرا دیکھ کر مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دیوانہ وارہاتھ پیر چلانے کی کوشش کر رہا تھا اور ماربل فلور پر رگڑتے ہو ایک پیر کے بل کھچا چلا جا رہا تھا اس کوشش میں کے کوئی چیز ہاتھ آجائے اور میں خود کو روک سکوں، بیڈ سے دروازے کا فاصلہ کوئی دس فٹ ہوگا اور اس دس فٹ کے سفر میں میں نے ہر ممکن چیز جس کو چھو سکتا تھا پکڑنے کے کوشش کی اور خود کو روکنے کے جتن کرتا رہا۔وہ کیا چیز تھی اور کیسا وجود تھا نہیں دیکھ سکا تھا، البتہ اس کی گرفت اتنی مظبوط تھی کے پیر چھڑوانا مشکل ہی نہیں میرے لئے تقریباً نا ممکن تھا۔
"ساشہ ہ ہ ۔۔ ساشہ ہ ہ میں مسلسل چیخ رہا تھا لیکن وہ ان سب باتوں سے بے خبر مزے سے سو رہی تھی ۔میری آواز اتنی تیز تھی  اور خوفناک ہوتی جا رہی تھی کے شاید اگر آس پڑوس کے گھر اتنے بڑے اور لوگ پڑوسیوں سے بے خبر رہنے والے نہ ہوتے تو شاید  کئی لوگ سن کے آ جاتے۔
دروازے کے قریب پہنچ کر اپنی پوری جدوجہد سے میں نے خود کو سینے اور دونوں ہاتھوں کے سہارے روکنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اب میری پوزیشن ایسی تھی کے میرا آدھا جسم کمرے کے دروازے سے باہر ، ایک پیر اس انجان وجود کی گرفت میں ، دوسرا  میں نے ڈر کے فولڈ کیا ہوا تھا کے یہ بھی اس کے ہاتھ نا آجائے اور خود کو دروازے کی چوکھٹ سے کسی چھوٹے بچے کی مانند چمٹ کر زور سے پکڑا ہوا تھا۔ تب ہی مجھے اپنے پیر پر اس کی گرفت ڈھیلی ہوتی محسوس ہوئی ۔
اپنے پیر کو جھٹکے سے کھینچ کر میں نے جب محسوس کیا کے وہ آزاد ہو چکا ہے تو  میں فوراً اپنے پورے وجود کو گھسیٹتے ہوئے کمرے کے اندر گھس گیا اور دروازہ بند کیا۔میرے اتنی زور سے چلانے پر بھی ساشا اور حمنہ بے سدھ پڑے سو رہے تھے،میرا دل حد درجہ کی رفتار سے دھڑک رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میں اس خوف کے اثر میں دروازہ بند کرتے ہی اس کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنے کی کوشش میں دوبارہ زمین پر ڈھے گیا ۔
کمرے میں کھڑکی سے روشنی چھلک کر آرہی تھی اور ساتھ باہر لان میں چڑیوں کی چہچہا ہٹ ، میری آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر اپنی جگہ بدستور لیٹے ہوئے پایا۔ اپنی عام روٹین کے مطابق میں  باتھ روم جانے کی غرض سے بیڈ سے اٹھنا چاہ رہا تھا جب مجھے اپنی کمر پر جلن اور جسم میں کئی جگہ تکلیف کا احساس ہوا۔
میں ایک دم ٹھٹک کے رک گیا اور رات والا منظر میرے سامنے تھا۔ لیکن میں اپنے بیڈ پر واپس کیسےاور کب آیا؟
کمرے میں موجود چیزوں اور بیڈ شیٹ کا جائزہ لیا تو وہ سب بلکل صحیح تھی جس نے مجھے مزید حیرانی میں مبتلہ کر دیا۔
دوڑ کر واش روم گیا اور اپنی شرٹ اتار کر دیکھا تو کمر پر جگہ جگہ معمولی رگڑ کے مگر واضح نشان نظر آرہے تھے۔ میں نے  ٹراؤزر کا پائنچا اوپر کر کے پیر کی  طرف دیکھا جس پر لال نشان موجود تھے ، سیدھے ہاتھ پر بدستور تکلیف کا احساس ہو رہا تھا۔
ان سب نشانات کے ساتھ میری توجہ دوسری طرف کمرے کی وہی معمول کے مطابق حالت پر گئی جو  بدستور ویسی ہی تھی۔
تو کیا یہ ایک خواب تھا؟
اگر خواب تھا تو میرے جسم پر نشان کیسے ہیں؟
میرا دماغ مکمل طور پر ماؤف ہو چکا تھا اور میں یہ سب سمجھنے سے قاصر تھا۔ نجانے کتنی دیر تک میں خود کو شیشے میں دیکھتا رہا اور ان سب چیزوں کے بارے میں سوچتا رہا ۔
"آمشش۔۔ " ساشہ کی آواز پر میں چونکہ اور اپنے خیالوں سے باہر آیا ۔
"ہاں ساشہ، کیا ہوا؟" میں نے اندر سے ہی پوچھا
" کیا ہو گیا آپ کو اتنی دیر واش روم میں؟ پچھلے بیس منٹ سے ویٹ کر رہی ہوں، اور اس سے پہلے ہی آپ گئے ہوئے ہیں"  ساشہ کی آواز آئی جس پر میں چونک گیا  اور فٹافٹ اپنی شرٹ پہن کر باہر نکلا۔
ساشہ کو اب تک میں نے ان تمام باتوں سے لا علم رکھا ہوا تھا جو میرے  ساتھ پچھلے کچھ دنوں سے پیش آرہی تھیں۔
البتہ گھر میں کچھ غیر معمولی چیزیں سب ہی محسوس کر رہے تھے، جیسے کچن سے برتن کا غائب ہو جانا اور بعد میں واپس اپنی پرانی جگہ سے ملنا ، الماری اور میز پر رکھی چیزوں کا نیچے گر جانا  یہ جگہ تبدیل کر لینا۔
یہ سب چیزیں کسی کے نظروں کے سامنے نہیں ہوئی تھیں لیکن جو آج میرے ساتھ ہوا وہ نا قابل یقین اور بیان تھا ۔
------------------------------------------------------
یہ خوبصورت اور خوش و خرم گھرانا ہم تین لوگوں پر مشتمل تھا، میں (آمش )میری پیاری بیوی ساشا اور چھ سالہ بیٹی حمنہ۔ اپنی اس فیمیلی کو میں نے ایش یعنی اے ایس ایچ (آمش، ساشہ، حمنہ) کا نام دیا ہوا تھا اور ایش  کا لفظ اپنی ذاتی ذندگی میں اکثر استعمال میں لاتا تھا جیسے کے انٹرنیٹ اکاؤنٹس کے پاسورڈز میں،  اپنی گفتگو میں بیوی اور بچی کے بیچ ایش فیمیلی اور ایش ہاؤس۔ زندگی کی ہر ممکن آسائش میرے پاس موجود تھی اور یہ زندگی بدستور ایسے ہی خوشیوں سے بھرا ٹوکرا لئے میں اپنی چھوٹی سی فیمیلی کے ساتھ چل رہا تھا۔
میرا گھر شہر سے کچھ دور ایک پر سکون رہائشی علاقے میں تھا جہاں زیادہ تر حکومتی افسران اور گورنمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد مقیم تھے۔

رات ڈھائ بجے کا وقت تھا جب میں ایک دوست کے گھر شادی کی فنکشن سے واپس آرہا تھا کے ایک سنسان سی سڑک پر گاڑی کے سامنے اچانک ایک عورت بچی کا ہاتھ پکڑ کر روڈ کراس کرتی نظر آئ وہ اچانک سڑک کے کنارے موجود درختوں میں سے نکل کر سامنے آئ تھی اور نہایت اطمینان کے ساتھ روڈ کے اس پار جانے لگی لیکن ایسے اچانک اس کے سامنے آجانے سے میں بوکھلا سا گیا اور گاڑی کو فورااپنے الٹے ہاتھ پر گھمایاجس سے وہ بچ سکتے تھے لیکن اگلے ہی لمحے مجھے احساس ہوا کہ گاڑی جس سمت مڑ رہی ہے عنقریب درختوں میں جا ٹکرائے گی یہ کم از کم روڈ سے اتر کر بے قابو ہو سکتی ہے
میں نے اسٹیئرنگ واپس تیزی سے سیدھی طرف گھمایا یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ عورت ابھی ادھے روڈ پر ہی موجود ہے۔ میں اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ درختوں میں اور روڈ سے نیچے اترنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔
اگلے ہی لمحے وہ دونوں میری گاڑی کی زد میں تھے اور ٹکرا کر سیدھے ہاتھ پر موجود درختوں میں تقریبا اڑتے ہوئے جا گرے تھے۔ میں گاڑی کی سپیڈ اس تمام صورت حال میں گھٹانے کی جگہ بڑھاتا جا رہا تھا اور ایک لمحے پہلے جو ٹکراؤ میری گاڑی کے ساتھ ہوا وہ رک کر دیکھنے اور مدد کرنے کی ہمت بھی کھو چکا تھا۔ میں اتنا خودغرض کبھی نہ تھا لیکن ایسا کیوں کیا اس کا جواب میں کبھی خود کو نہیں دے پایا۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کے  اس لڑکی جو ایک جھلک دیکھنے سے مجھے کوئی  اٹھائیس انتیس سال کی معلوم ہوتی تھی اور بچی جس کی عمر  سات یا آٹھ سال سے زیادہ نہیں ہوگی کو میں بچانے کی کوئی تدبیر نہیں کر پایا، البتہ رک کر انہیں دیکھنا میرے ہاتھ میں تھا لیکن میرے ذہن میں پولیس کیس، اور قریبی بستی کے لوگوں کا ڈر اچانک امڈ آیا اور میں نے گاڑی کی رفتار مزید تیز کر دی۔
کیا ہوا آمش یہ اچانک کیسا جھٹکا لگا تھا؟ ساشا نے ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے پوچھا جو گاڑی کی ٹکر سے جاگ گئی تھی لیکن وہ منظر دیکھ نہیں پائی۔ حمنہ بدستور اس کی گود میں نیم دراز ہو کر لیٹی ہوئی سو رہی تھی۔

اس کے سوال پر میں نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا جیسے اس سے پوچھ رہا ہوں تم نے نہیں دیکھا کیا ہوا؟

وہ بدستور حیرت سے میری طرف دیکھ رہی تھی اور میری پریشانی بھانپ گئ تھی
آمش! کیا ہوا تھا اچانک کوئ جھٹکا لگا تھا گاڑی کو کچھ ٹکرایا ہے؟ اس کی متلاشی نظریں بیک مرر اور سائڈ مرر سے پیجھے روڈ کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن جو چیز روڈ پر آئی تھی اسے تو میں نے گاڑی کی ٹکر سے دور اڑا کر پھینک دیا تھا۔
اس کے سوال پر میں نے تسلی کر لی کے وہ بے خبر ہے اوربہانہ کر کے اسے ٹال دیا
"کچھ نہیں یار یہاں یہ بستی کے لوگ پتا نہیں کیا کیا ڈال دیتے ہیں روڈ پر اچانک ایک ڈرم ٹائپ کی کوئ چیز آگئ تھی سامنے ،اس سے ٹکرائ ہے گاڑی تھوڑی سی"
میں نے بمشکل الفاظ مجمع کر کے بات بنائ اور حمنہ کی طرف دیکھا جو اب بھی سو رہی تھی۔
سو جاؤ ساشا تم بھی۔ میں نے جھوٹی مسکراہٹ سجا کے خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کی اور ساشا کے بالوں میں انگلی دوڑا کے اسے سونے کا کہا
سڑک پر بدستور سناٹا  اور اندھیرا تھا ایسے میں صرف وہ جیزیں نظر آرہی تھیں جن پر میری گاڑی کی لائٹ پڑ رہی تھی۔
مجھے ہر لمحے محسوس ہو رہا تھا کہ اب کوئ اچانک سامنے آجائے گا ، دل بری طرح دھڑک رہا تھا جیسے ابھی نکل کے باہر آجائے گا اور گاڑی چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ میں ساشا کے سامنے خود کو پریشان ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے بات شروع کی۔
وہ اب تک مجھے ہی دیکھ رہی تھی جیسے میرے جواب سے مطمئن نہ ہوئ ہو۔
یار آج مزا بہت آیا لیکن بہت دیر ہوگئ نہ، میں نے اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے بات شروع کی
جی اور میں تو شکر کر رہی ہوں یہ تقریبات ختم ہوئیں آخر روزانہ دیر ہو جاتی ہے اور حمنہ صبح سکول کے لئے اٹھنے میں نخرے کرتی ہے
ساشا کے ساتھ باتوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور کچھ دیر میں گاڑی ایک کشادہ اور پر رونق علاقے سے گزر رہی تھی اب جہاں اکا دکا دکانیں اب بھی کھلی تھیں اور اس سنسان علاقے کے گزر جانے کا اطمینان بھی تھا۔ کچھ دیر میں ہم گھر پہنچ گئے تھے
وہ منظر میری آنکھوں میں بار بار آرہا تھا اور میں اسے ذہن سے جھٹکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ بستر پر لیٹ کر میں تقریباً پوری رات کروٹیں بدلتا رہا لیکن وہ چند لمحے میں بھلا نہیں پایا تھا۔
ساشہ اور حمنہ کب کی سو چکی تھیں اور نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
اس واقعہ کو گزرے ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور یہ بات میں نے کسی سے بھی شیئر نہیں کی تھی یہاں تک کہ ساشہ سے بھی نہیں۔میں نہیں چاہتا تھا وہ اس بات کو جان کر کسی پریشانی میں مبتلہ ہو یہ مجھے وہاں جا کر دیکھنے اور  ان لوگوں کی کوئی خبر لینے کا کہے۔
اپنے آنے جانے کے لئے میں نے متبادل راستہ اختیار کرنا شروع کر دیا تھا اور اس راستے کو دن یہ رات کسی وقت بھی اختیار نہیں کر رہا تھا، حالانکہ وہ میرا مستقل راستہ تھا اور دوسرے راستے کے مقابل کافی کم بھی تھا ۔ اس رات کے بعد وہاں سے گزرنے کی میری ہمت نہیں ہوئی ۔

ناشتے کی میز پر مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر ساشہ نے استفسار کیا
"کیا بات ہے آپ کن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہیں؟" وہ چائے کا گھونٹ پی رہی تھی جب اس کی بات پر متوجہ ہو کر میں نے اس کی جانب دیکھا اور اپنی چائے کا خیال آیا۔
کپ آٹھا کر ایک گھونٹ بھرتے ہوئے میں نے ساشہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا " رات کو پتا نہیں کہاں سے بہت شور کی آوازیں آرہی تھیں" میں ساشہ کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا
"اچھا؟ کس ٹائم؟ کیسے شور کی آوازیں؟" ساشہ نے مکمل لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
یہ میرے لئے ایک بہت ہی حیران کن بات تھی کے وہ دونوں کیسے میری اتنی زور دار چیخوں سے بے خبر سو سکتے ہیں۔
یہی کوئی شاید رات کے دو یا تین بجے ہونگے، کہیں سے بہت زور سے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔
"پھر آپ نے دیکھا نہیں کہا ں سے آرہی ہیں اور کس کی آوازیں ہیں" ساشہ نے تجسس سے دریافت کیا جس پر میں جھجک کر رہ گیا۔
کیا واقعی ان لوگوں نے وہ آوازیں نہیں سنی ہیں؟ میں نے خود سو پوچھا
"پتہ نہیں کہاں سے آرہی تھی شاید آس پڑوس سے آرہی ہوں" کہ کر میں چائے میں مصروف ہو گیا۔
موقع ملنے پر میں نے حمنہ سے الگ سے پوچھا لیکن وہ بھی اس بات سے بے خبر تھی ۔
مجھے پورا یقین ہو گیا کے انہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔ پھر یہ نشان کیسے آگئے اگر وہ میرا خواب تھا۔۔
دوپہر میں ایک بار پھر میں نے شرٹ اتار کر اپنی کمر پر وہ نشان چیک کئے، ساتھ ہی ہاتھ میں تکلیف جاری تھی جو بیڈ پکڑنے کی کوشش میں رگڑ لگنے سے ہو رہی تھی اور البتہ پیر پر موجود وہ نشان قدرے ہلکا ہو گیا تھا قریباً مٹ جانے کے جس پر مجھے حیرانگی تھی۔
میں تکلیف اور پریشانی میں دوسری کئی راتیں ٹھیک سے نہیں سو سکا اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر ڈر کے مارے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ بیوی بچی کے چہرے پر وہی اطمینان تھا اور وہ میری اندرونی پریشانی سے بے خبر مزے سے تھے۔ اس واقعے کے بعد میں نے کبھی ساشہ اور حمنہ سے کسی چیز کے گم ہونے یہ جگہ بدلنے کی شکایت نہیں سنی ۔۔
رات کے قریباً ساڑھے تین بجے کا وقت تھا جب میری آنکھ سامنے موجود کھڑکی پر پڑی۔ چاند کی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی اور پردے دونوں جانب کھلے ہوئے تھے ، عین کھڑکی کے اوپر والے حصے پر ایک ہاتھ جو دیکھنے میں کسی چھوٹی بچی کا لگتا تھا لٹک کر ایسے ہل رہا تھا جیسے چلتے ہوئے ہاتھوں میں خود ایک حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ آگے اور پیچھے ہوتا ہے۔
------------------------------

Do Like my page

Next read
یہ منظر دیکھ کر میرا دل اچھل کر حلق تک آگیا اور میں تقریباً چِیخ اٹھا تھا لیکن میری چیخ میرے حلق میں گھٹ کر رہ گئی ، جلد احساس ہو گیا کے میں کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں، یہ دوسری بار رات کے وقت میں ایسے حالات کا سامنہ کر رہا تھا۔
میرا پورا وجود تھر تھراہٹ کی زد میں آگیا، میں بولنا چاہ کر بھی کچھ نہیں بول پا رہا تھا۔
آنکھیں اچھی طرح مل کر دوبارہ کھولیں اور غور سے دیکھنے کی کوشش کی، شاید یہ میرا وہم ہو ، لیکن وہ میری آنکھوں کا دھوکا نہیں تھا۔
وہ ہاتھ کسی چھوٹی بچی کا معلوم ہو رہا تھا جو کلائیوں سے کچھ اوپر تک کا حصہ کھڑکی کے باہر لٹک رہا تھا ، گویا کھڑکی کے عین اوپر ہاتھ کا بقیہ حصہ موجود ہو اور کچھ حصہ نیچے لٹکایا ہوا  ہو۔
چند لمحوں میں ہی میں پوری طرح پسینے میں بھیگ چکا تھا اور وہ ہاتھ مسلسل اسی انداز میں ہل رہا تھا جیسے کوئی بچی چلتی ہوئی جا رہی ہو اور اس کا ہاتھ ہل رہا ہو، یہ پھر پنڈیولم کی مانند۔ ہاتھ کی پشت کھڑکی کی طرف اس طورپر ظاہر تھی  کے چلنے والی کا رخ میرے دائیں جانب سامنے کی طرف ہو۔
"ساشہ، اٹھو پلیز ساشہ۔۔۔۔سس س سا ساشہ۔۔ اٹھو یار ۔۔ "میں دبی ہوئی گھبرائی آواز میں اس ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بیوی کو جگا رہا تھا جو اس وقت گہری نیند میں تھی۔
"ساشا ا ا ۔۔۔۔ پلیز یار اٹھو جلدی سے" اسے کندھے سے ہلاتے ہوئے میں بمشکل بول پا رہا تھا۔
شاشہ پر نیند اتنی طاری تھی کے میرے جگانے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
"ساشہ اٹھووو جلدی" اس بار اونچی آواز نکال کر میں نے ساشہ کو جھنجھوڑا جو آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ  بیٹھی اور اس ٹائم جگانے پر بے یقینی کی حالت میں مجھے دیکھنے لگی، حمنہ کو اٹھا کر اپنی گود میں لیا اور جلدی سے سینے سے لگا لیا۔
"کیا ہوا آمش ، کیوں جگایا ہے؟" ساشہ اٹھ کر پوری طرح بیٹھ چکی تھی اور بلکل نارمل انداز میں مجھ سے پوچھ رہی تھی۔
آنکھوں کے اشارے سے اسے کھڑکی کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا  جہاں میں ایک چھوٹی بچی کے ہاتھ کا کچھ حصہ دائیں سے بائیں حرکت کرتے دیکھ رہا تھا
"کیا ہوا بھئی؟ کیا کہ رہے ہیں" وہ بے زاریت سے ایک نظر میری نظر کے تعاقب میں کھڑکی پر لے گئی اور واپس پوچھنے لگی۔
"وہ دیکھو ساشہ سامنے کھڑکی کے اوپر کی طرف" ڈرتے ڈرتے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا اور حمنہ کو زور سے گلے لگا لیا تھا۔
"ہاں بھئی دیکھ تو رہی ہوں ؟ کیا ہوا کھڑکی کو" اس نے اس درجہ مطمئن ہو کر پوچھا کے میں سمجھے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
"کیا اس ہاتھ کو صرف میں ہی دیکھ رہا ہوں" خود سے کہ کر میں ساشہ کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگا۔
میرا دل اتنا تیز دھڑک رہا تھا کے میں باہر تک دھڑکن محسوس کر سکتا تھا۔
"ساشہ وہ دیکھو کھڑکی سے باہر" میرے لہجے میں اب غصہ اور بے چارگی امڈ آئی
"کیا ہے کھڑکی سے باہر"ساشہ بیڈ سے اتر کر سیدھی  کھڑکی کی جانب بڑھی۔
یہ ایک لمحے کا وقفہ تھا جب میں نے کھڑکی سے نظر ہٹا کر ساشہ پر جمائی  تھی اور اس کے بیڈ سے اترنے کے بعد دوبارہ کھڑکی کی طرف۔
اب وہاں کچھ نہیں تھا!!!!
مجھے ایک بار پھر حیرت کا جھٹکا لگا ۔
"کیا ہو گیا ہے آمش ؟ کیا ہے ادھر آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں" ساشہ کھڑکی کے آگے میری طرف منہ کر کے کھڑی مجھ سے سوال کر رہی تھی اور میری نظر اس کے سر کے اوپر اس جگہ پر ٹکی ہوئی تھیں جہاں چند ثانئے پہلے ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ لٹکتا ہوا نظر آرہا تھا۔
عین اسی لمحے  میرے ذہن میں اس لڑکی اور بچی کی ایک جھلک نمودار ہوئی تھی جسے میں نے اپنی گاڑی سے اڑا دیا تھا، وہ  ایک جھلک جو میں نے ایکسیڈنٹ سے پہلے دیکھی تھی۔
 ایکسیڈینٹ کا وہ منظر میری آنکھوں میں ایک بار پھر گھوم گیا ۔ساشہ بدستور وہیں کھڑی مجھ سے سوال کر رہی تھی لیکن میرا ذہن کہیں اور ہی چلا گیا تھا۔
وہ واپس اپنی جگہ پر آ گئی، حمنہ کو مجھ سے واپس لیا اور بیڈ پر لٹا کر خود بھی دوسری طرف رخ کر کے لیٹ گئی۔۔
"سو جائیں آمش، آپ نے کوئی خواب دیکھا ہے۔۔
میں کتنی ہی دیر تک کھڑکی کو ایک ٹک دیکھتا رہا  ، اسے اپنا وہم  اور خواب سمجھ کر خود کو تسلی دیتا رہا۔ دھڑکن اب قدرے نارمل ہو چکی تھی اور سانسیں بحال۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور نظریں  کھڑکی سے ہٹنے کا نام نہ لیتی تھیں۔
ہر لمحے مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ ہاتھ دوبارہ آکر لٹک جائے گا۔
صبح کے پانچ بج گئے تھے اور ہلکی روشنی پھوٹنا شروع ہو گئی تھی ، میرا ذہن ان تمام واقعات کو لیکرخیالات کا ایک مجموعہ بن چکا تھا۔ سونے کی لاکھ کوشش کے باوجود میں خود کو ان خیالات سے چھڑانے میں ناکام تھا ۔
پیاس کے  احساس نے توجہ ہٹائی اور میں نے پاس رکھی پانی کی بوتل اٹھائی لیکن وہ خالی تھی۔ میں اٹھ کر  کمرے سے نکلنے لگا ہی تھا کے ایک بار پھر میرے ذہن میں رات کا وہ منظر گھوم گیا۔۔
اس خیال کو جھٹک کر کچن کی طرف بڑھا ، ہر لمحے مجھے ایک انجانہ سا ڈر اور خوف کا احساس گھیرے ہوئے تھا۔اپنے روم سے نکل کر ہر گزرنے والی جگہ کی لائٹ آن کرتا جا رہا تھا اور کچن میں پہنچ کر سب سے پہلے لائٹ آن کی۔

گلاس ڈھونڈ کر فرج کی طرف بڑھا اور اس کا بڑا دروازہ کھولنے کی غرض سے جیسے ہی کھینچا وہ لاک تھا۔
ہر معمولی چیز بھی مجھے اب ایک خطرہ محسوس ہو رہی تھی۔ فرج کا دروازہ ایسے غیر معمولی طور پر بند ہونا ایک بار پھر میرے لئے گھبراہٹ اور ڈر کا سبب بن گیا تھا۔
ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کے فرج کا دروازہ لاک ہو،اس پر کوئی لاک موجود ہی نہیں تھا۔ البتہ کبھی کبھار فرج ایک بار کھول کر بند کرنے اور فوراً واپس کھولنے میں ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے  کہ گیس کے دباؤ سے دروازہ جام ہو جاتا ہے، البتہ کچھ دیر ٹہر کر کھل جاتا ہے۔  جو ایک عام سی بات ہے لیکن اس وقت میں بہت زور لگا کر بھی فرج کھولنے سے قاصر تھا۔
حیرانگی کی بات یہ تھی کے فرج کو آخری دفعہ استعمال کئے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے اور میں جتنی قوت آزمائی کر رہا تھا فرج کو آسانی سے کھل جانا چا ہئے تھا۔
اب کی بار میں گلاس ایک طرف رکھ کر بہت زور سے فرج ڈور کھولنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک پاؤں اس کے پچھلے حصے پر ٹکا کر پیر کا زور بھی لگا لیا لیکن دروازہ نہیں کھلا، مجھے ڈر تھا کے مزید زور لگایا تو وہ اپنی جگہ سے ہل جائے گا یا گر جائے گا۔
پریشانی بڑھ چکی تھی اور میں اس نئی افتاد کے لئے تیار نہیں تھا۔ جسم ایک بار پھر پسینے میں ڈوبنا شروع ہو گیا تھا اور میرے اعصاب جواب دے چکے تھے۔
مجبوراً ٹھنڈے پانی کا ارادہ ترک کر کے میں نے جلدی سے گلاس اٹھایا اور سنک میں سے سادا پانی بھر کر پی لیا ۔ گلاس واپس رکھ کر میں کچن سے باہر نکلنے کو تھا کے ایک بار پھر فرج سامنے دیکھ کر اس کے دروازے کے ہینڈل کو پکڑا۔
دروازہ اس بار معمولی ہاتھ لگنے سے اتنی زور سے کھلا مکمل طور پر کھل گیا جیسے کسی نے اندر سے بہت زور دار دھکا دیا ہو ، مجھے دروازہ کھل کے اتنی زور سے لگا کے میں پیچھے دیوار کے پاس جا کر گرا۔
فرج میں موجود ہر چیز یہاں تک کے دروازے پر رکھی بوتلیں بھی بلکل صحیح اپنی  جگہ پر تھیں اور اتنی زور سے کھلنے کے باوجود و ہ ہلی بھی نہیں تھیں۔ عام حالت میں اتنی زور سے دروازہ کھلنے سے اندر کی چیزیں باہر نکل کر گرنا یقینی تھا۔
آؤ دیکھا نا تاؤ میں کچن سے باہر کی طرف بھاگا ، نہ لائٹ بند کر سکا نہ ہی فرج کا دروازہ اور سیدھا اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔
گھر کا اندرونی حصہ اندھیرے کی لپیٹ میں تھا۔
کمرے کے دروازے پر پہنچ کر جونہی میں نے دروازے کے لاک کی طرف ہاتھ بڑھایا، میں دو تین قدم پیچھے کھچ گیا۔
مجھے کسی نے نہیں پکڑا تھا نہ ہی کسی نے پیچھے دھکیلا تھا۔
اب کی بار میں اپنے پورے ہوش و ہواس میں یہ کھچاؤ محسوس کیا تھا اور مجھےپورا یقین ہو گیا تھا کے میرے ساتھ کوئی انجان طاقت موجود ہے جو صرف میری حد تک محدود ہے ۔
دوبارہ تیزی سے قدم بڑھا کر لاک کو تھاما اور جلدی سے گھما کر کمرے میں داخل ہو گیا۔ یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کے میں کچن سے دیوانہ وار بھاگا تھا اور بغیر کسی لائٹ بند کئے سیدھا کمرے میں گھس گیا۔
بیڈ پر میری بیوی اور بیٹی پر سکون انداز میں سوئے ہوئے تھے اور میں ایک قرب اور عذاب سے گزر رہا تھا۔
میں بیڈ پر لیٹ کر ایک بار پھر ان خیالات کی نظر ہو گیا تھا۔ ایکسیڈینٹ سے لے کر قدم پیجھے کھچ جانے تک اور گزشتہ دنوں کے غیر معمولی واقعات سب مجھے اسی ایکسیڈنٹ کی وجہ محسوس ہو رہے تھے، لیکن اب کیا ہو سکتا ہے۔ کیسے میں ان حالات پر قابو پاؤں۔ کیسے میں خود کو اور اپنے گھر کو ان چیزوں سے بچاؤں ۔ بہت دیر تک یہی سب سوچتے سوچتے میری نہ جانے کس وقت آنکھ لگ گئی تھی ۔
قریباً گیارہ  بجے کے وقت میرے موبائل پر مسلسل بجتی بیل سے میری آنکھ کھلی ۔
دوسری طرف میرا آفس کولیگ شایان تھا جو اب تک آفس نہ پہنچنے کی وجہ دریافت کر رہا تھا
"یار آج میں نہیں آسکوں گا، طبیعت ٹھیک نہیں ہے" کہ کر میں نے جان چھڑانی چاہی
"کیا ہوا تجھے بھائی آج کل تو کچھ عجیب بی ہیو کر رہا ہے، پہلے تو میں نے ہی یہ بات محسوس کی تھی لیکن ا ب تیرا ذکر آیا تو ایک دو اور لوگوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے" وہ میری پریشانی کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔
شایان میرا پرانا دوست اور آفس میں بھی ساتھ کام کرتا تھا اور میں اپنی ہر بات ہی اس سے شیئر کرتا تھا لیکن نہ جانے کیوں اب تک یہ بات میں اس سے شیئر نہیں کر سکا تھا۔
"یار تو آج آفس کے بعد میرے پاس چکر لگا، کچھ بات کرنی ہے ضروری۔" میری آواز نیند میں ڈوبی ہوئی تھی ، شایان نے بھی زیادہ سوال نہیں کئے اور آنے کا کہ کر فون بند کر دیا۔

دوپہر کا ٹائم تھا، میں روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر آفس کی ای میلز چیک کر رہا تھا، اچانک ایک زور دار آواز سے میں چونک کر رہ گیا۔آواز باہر کی طرف سے آئی تھی اور کسی لوہے کی چیز کے ٹکرانے کی معلوم ہوتی تھی۔میں  ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور اندازے کے مطابق کمرے کی بائیں طرف کھڑکی کی جانب بڑھا، آواز چونکہ بائیں طرف سے آئی تھی اور موجودہ کمرے سے بیرونی دروازہ بائیں طرف والی کھڑکی سے نظر آتا تھا۔ کمرے میں موجود کھڑکی سے باہر کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا لیکن باہر کھڑکی سے باہر پیڑ کی وجہ سے مکمل طور پر نہیں دیکھ پا رہا تھا۔
قریبی ٹیبل کو پاس کھینچ کر اس پر کھڑے ہو کر کھڑکی کے ایک کنارے سے دیکھنے کی کوشش کی ،میری نظر بیرونی گیٹ پر پڑی تھی اور اوسان خطا ہو گئے۔
میری  گاڑی جو گھر کے اندرونی حصے میں پارک ہوتی تھی، بیرونی دروازے کے ساتھ باہر سے ٹکرائی ہوئی تھی اور دروازہ ایک کسی حد تک اندر کی جانب جھک گیا تھا۔ وہ لوہے کا ایک وسیع اور مظبوط دروازہ تھا جو بنا کسی بڑی چیز کے ٹکرانے سے ایسے نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔ دروازہ اندر جھکا ہوا اور گاڑی باہر اس سے لگی ہوئی دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کے گاڑی باہر کی طرف سے دروازے سے ٹکرائی ہے۔
میں ٹیبل پر اچک کر دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، اور نیچے جا کر دیکھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کے اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی ، بے ساختہ پلٹ کر دیکھا لیکن پیچھے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

جلدی سے ٹیبل سے اترنے کی غرض سے نیچے نگاہ کری تو میرے لیئے دوسرا جھٹکا تھا، میں ہوا میں کھڑا تھا اور ٹیبل اپنی وہی پرانی جگہ پر موجود تھی۔ اس سے پہلے کے میرا بھک سے اڑا، چھلانگ لگا کر فوراً اس ٹیبل سے نیچے اترا جس کے اوپر میں تھا ہی نہیں۔
قدم زمین پر رکھتے ہی لڑکھڑا گئے اور میں سنبھل نہ سکا ، منہ کے بل زمین پر گرا  جس کی وجہ سے سر  زور سے زمین سے ٹکرایا تھا اور ناک سے خون نکلنے لگا۔
میرے لئے اب ان حالات کا مقابلہ کرنا نہ ممکن ہو گیا تھا، شایان نے شام کو آنا تھا اور میں گھر سے ابھی ہی بھاگ جانا چاہتا تھا۔
"ساشہ ا ا"
"ساشہ ادھر آؤ جلدی سے" زور سے آواز لگا کر ساشہ کو بلایا
ساشہ میری آواز سن کر جلدی سے کمرے میں آئی۔۔"ارے یہ کیا ہوا؟ آپ کی ناک سے خون کیوں بہ رہا ہے" ساشہ  نے مجھے زمین پر اس حالت میں دیکھتے ہی پوچھا۔
"گر گیا یار" میں نے بے بسی کے انداز میں کہا۔
"باہر دیکھو ذرا گھر کے گیٹ کو" کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ساشہ سے کہا جو اپنا دوپٹہ لئے اب میری  ناک سے خون صاف کر رہی تھی۔
"کیا ہوا باہر کے  گیٹ کو؟" ساشہ کھڑکی سے باہر جھانک کر بولی
"کیا مطلب تمہارا؟ گیٹ کو دیکھو باہر کے اور میری گاڑی کو" میں نے گاڑی اور گیٹ پر زور دیتے ہوئے کہا
وہ ایک بار پھر باہر جھانک کر میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

میں غصے میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ساشہ کے پاس آکر اسے کھڑکی سے باہر کی طرف اشارہ کیا، وہ دیکھو باہر کا دروازہ!!
ساشہ بے یقینی کی کیفیت میں اس طرف دیکھنے لگی ، میری نظرنے اس کی نظر کا تعاقب کیا اور دروازے کی طرف دیکھ کر مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔
"ارے کیا دکھا رہے ہیں آمش؟" ساشہ نے استفسار کیا
"کچھ نہیں یار، مجھے لگا دروازہ کھلا رہ گیا ہے" بہانہ بنا کر خود کو مطمئن ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
"افف، آمش آپ کی ناک سے خون بہ رہا ہے ا ب بھی، اسے واش کریں میں دوائی لگا دیتی ہوں" ساشہ نے قریب سے دیکھ کر پریشان کن لہجے میں کہا اور خود دوائی لینے کے لئے دوڑی۔
میں جلدی سے روم میں موجود واش روم کی طرف گیا اور دروازہ ادھ کھلا چھوڑ کر واش بیسن کے اوپر  آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگا۔
 میرے عقب میں واش روم کا دروازہ موجود تھا جو آئینے سے میری نظر کے حصار میں تھا۔
اپنی ناک میں پانی ڈال کر میں نے نگاہ آئینے پر اٹھائی اور عین اسی وقت دروازہ ایک جھٹکے سے بند ہوا تھا۔
 قریب تھا کے میں اس اچانک روداد سے بے ہوش ہو کر گر جاتا۔
میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔میں اپنی جگہ سے نہ ہلا ، دل ڈھے گیا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے واش بیسن پر اپنا سر جھکا لیا۔
کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح۔
میں خود میں اتنی سکت محسوس نہیں کر رہا تھا کے اب اس جنگ کا سامنہ کر سکوں۔
ایک گھری سانس چھوڑ کر میں نے سر اٹھایا اور شیشے میں اپنے پیچھے کسی کو دیکھ کر دہل کر رہ گیا۔
پہلی جھلک میں مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری بیوی نہیں کوئ اور عورت ہے۔ میرا گمان تھا کے شاید یہ وہ لڑکی ہے جسے میں نے کچل دیا تھا۔
میں فوراپیچھے پلٹا ،ابھرتی سانس ایک دم ساکن ہوئی تھی، ساشہ کو سامنے پایا۔
تم اندر کب آئ اور کیسے؟؟ میرے ہاتھ ابھی بھی لرز رہے تھے۔
مجھ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اور ساشہ نہایت پر سکون انداز میں ہاتھ میں دوائ اور روئ لئے لگانے کی تیاری کر رہی تھی۔
میں حیرت سے اسے دیکھتا رہا اور وہ میری ناک سے خون صاف کر کے دوائ لگانے لگی۔
وہ دھیرے دھیرے مجھے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ میرے ناک کو صاف کر رہی تھی
مجھے اپنے وجود کی ساری تکلیف، خوف اور ساری تکھاوٹ دور ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
میری بیوی کا شمار دنیا کی خوبصورت عورتوں میں ہوتا تھا۔
ستواں ناک ، چندن روپ، بھرے بھرے لب ۔ مڑی ہوئی پلکوں کے نیچے ڈھکی ہوئی لمبی آنکھیں۔
تھوڑی دیر کے لیے جیسے میں اپنے ڈر کو بھول کر اس کے دلکش چہرے میں اپنا سکون تلاش کرنے لگا تھا۔
اس کی کمر کے گرد نرمی سے بازو حائل کر کے میں نے اسے اپنے قریب کیا تھا۔ اس کے وجود کی نرماہٹ آج بھی میرے اندر ویسا ہی سکون اتار رہی تھی ، جیسا ہمیشہ سے تھا۔
میں نے اسے اپنے سینے میں سمیٹا تھا۔ اور بازوؤں کی گرفت مضبوط کر لی تھی، میں اس سے بہت محبت کرتا تھا۔

دھیرے سے اس کے ہاتھ تھام کر  چہرے سے ہٹایا اور سائڈ پر کیا۔ ہمارے بیچ  سے ہوا کا گزر روک دیا تھا ۔ جزب کے عالم میں اسے سینے سے لگائے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ دھیرے سے اس کی گردن کے دائیں طرف لب رکھے تھے اور میری ناک اس کی گردن کو چھو رہی تھی۔ میں سب کچھ بھولنے کی کوشش میں لگا تھا۔
میرے دل میں ہر لمحہ کچھ برا ہو جانے کے خیالات جنم لے رہے تھے۔
کتنے ہی لمحے میں ایک سہمے ہوۓ بچے کی طرح اس کے ساتھ چپکا رہا تھا
ساشہ مجھ سے علیحدہ ہوئ اور مسکرا دی ۔ دل کو کچھ ڈھارس بندھی تھی۔
وہ مسکرا کر ایک بار پھر میری ناک سے رستے خون کے قطرے صاف کرنے لگی۔
میں نے سر اوپر جانب کر کے آنکھیں موند لیں کے اچانک اس کے ہاتھ کا ناخن یہ غالباً کوئی بہت نوکیلی چیز میری ناک میں لگ گئی ۔ میں چلا اٹھا اور درد سے کراہنے لگا، وہ خون دیکھ کر دروازے کی طرف لپکی اور کچھ لینے کی غرض سے باہر کی جانب دوڑ لگائی۔
میں تکلیف سے کراہنے لگا، وہ نوکیلی چیز میری ناک کی ہڈی پر چبھی تھی اور خون تیزی سے رستے ہوئے میری شرٹ پر ٹپک رہا تھا۔ میں دوبارہ واش بیسن کی طرف جھک گیا اور ناک پر پانی مارنے لگا۔
خون رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، میں فوراً پلٹا اور تولیہ اٹھا کر ناک پر رکھ کے باہر کی طرف دوڑا، باتھ روم سے باہر نکلا ہی تھا کے ساشہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
خون تیزی سے بہے رہا تھا اور گلابی تولیہ لال ہو گیا تھا۔
ساشہ مجھے دیکھ کر پریشان ہو گئی، اس کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا۔
" یہ کیا لگ گیا، کیا کیا تھا تم نے؟ " میں نے اسے دیکھتے ہی بے ساختہ سوال اٹھایا
میری نظر اس کے ہاتھ پر پڑی اور اس کے ناخن ہمیشہ کی طرح چھوٹے تھے، میں بے یقینی کے انداز میں کبھی اس کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھتا تو کبھی اس کے ہاتھ کی طرف۔
"کیا مطلب؟ میں نے کیا کر دیا؟ اور یہ اتنا سارا خون کیسے بہنے لگا؟ وہ تیزی سے بہتا خون اور لال تولیہ دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی اور میری ناک کا جائزہ لینے کی غرض سے اسے چھونا چاہتی تھی۔
میں نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ ہٹایا، ساشہ کی بات سن کر مجھے چکر آنے لگے اور میرے ہوش جاتے رہے۔
آمش نے اپنے ساتھ ہونے والی ہر بات الف سے ی تک شایان کو کہ سنائی۔
شایان یہ سب باتیں سن کر کسی گھری سوچ میں ڈوب گیا ۔
وہ دونوں اس وقت آمش کے روم میں موجود تھے۔
آمش کی بے ہوشی کے کچھ دیر بعد ہی شایان وہاں پہنچا تھااور شایان نے ساشہ کی ہی مدد سے اسے اٹھا کر روم میں بیڈ پر لٹا دیا تھا۔

"یار تجھے پتا ہے جب میں تجھ سے ملنے تیرے گھر آیا توساشہ نے کیا کہا مجھ سے" شایان نے نظریں اٹھا کر استفسار کیا۔
"کیا کہا" آمش نے جواب طلب نظروں سے دریافت کیا
"ساشہ نے بتایا کے یہ کچھ دن سےعجیب باتیں کر رہے ہیں اور ان کا رویہ بھی کچھ نہ سمجھ آنے والا ہے،یہ مجھے ڈرے ڈرے سے لگتے ہیں اور ہم دونوں سے بھی زیادہ بات نہیں کر رہے، ایک دو بار مجھے کمر پر چوٹ کے نشان دکھائے لیکن کچھ بھی نہیں تھا، پھر ابھی آپ کے آنے سے پہلے بھی باہر کے گیٹ کی طرف کچھ دکھا رہے تھے لیکن وہاں بھی کچھ نہیں تھا، اور پھران کا ایسے ٹیبل سے گر جانا اور خون کا اتنا زیادہ بڑھ جانا کچھ سمجھ نہیں آرہا" شایان نے وہ تمام باتیں آمش کو بتا دیں جو ساشہ نے اس سے کہی تھیں۔
"لیکن ایک منٹ" شایان نے کچھ سوچ کرایک دم رکا تھا اور انگلی اپنی ٹھوڑی پر رکھتے ہوئے بولا۔
"کیا ہوا؟" آمش نے دریافت کیا
"تمہارے مطابق پہلی رات کو جب تمہیں کسی نے کمرے سے باہر کھینچنے کی کوشش کی تو تمہارے چیخنے چلانے پر ساشہ اور حمنہ نہیں اٹھی؟ رائٹ" شایان نے وضاحت طلب کی۔
"ہاں اگزیکٹلی! میں چیختا رہا اور وہ دونوں نہیں اٹھی، اور صبح اس نے بتایا کے میری کوئی آواز اس نے نہیں سنی" آمش نے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے بتایا۔
" اور پھر ایک بار اور جب رات میں تم کچن میں گئے تب بھی تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا ، فرج کا اچانک کھلنا اور تمہیں لگنا اور ان سب باتوں کا شور وغیرہ ، ساشہ نے کچھ  نہیں سنا؟" شایان  نے گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں یار اس روز بھی میرے ساتھ جو ہوا انہیں کچھ نہیں پتہ اور نہ میں نے بتایا، میں اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔" آمش نے روانگی میں بتایا
"لیکن " آمش کچھ سوچ کر ماتھے پر گھرے بل ڈالتے ہوئے بولا
"کیا ہوا" شایان نے دریافت کیا
" یار اس روز میں نے ساری لائٹ آن کی تھیں  اور واپس جاتے ہوئے بند نہیں کیں، تو کیا جب ساشہ نے صبح دیکھا ہوگا تو نوٹ نہیں کیا ہوگا کے کافی لائٹس آن ہیں جو وہ خود رات کو سونے سے پہلے بند کرتی ہے" آمش نے شایان کے سامنے خود سے سوال کیا
"اگر تو صبح ساشہ کے اٹھنے تک ساری لائٹس آن رہی ہیں تو وہ ضرور پوچھتی تم سے، کیا خیال ہے" شایان نے استفسار کیا
"میرا خیال ہے تو ایک کام کر " شایان نے اب کی بار کچھ سوچ کر مشورہ کن انداز میں الفاظ جوڑے تھے۔
"تیرے ساتھ دو بار رات میں یہ عجیب واقعہ پیش آیا ہے، اور دن میں تو کچھ ایسا خاص نہیں ہوتا نہ" شایان نے سوال کر کے جواب طلب نظروں سے آمش کی طرف دیکھا
"ہاں" آمش نے بجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا جیسے ان واقعات کو سوچ کر اس کی روح چھلنی ہو گئی ہو۔
"تو پھر تیرے گھر میں کامن روم میں یہ جس بھی جگہ سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا ہے تو رات کو اسی جگہ پر سو نا شروع کر دے،  اور خدا نہ کرے ایسا کچھ واقعہ پیش آتا ہے تو ہم چیک کر سکتے ہیں کے وہ کیا چیز ہے جو تجھے تنگ کر رہی ہے۔اتنا تو مجھے اندازہ ہو گیا ہے کے وہ جس لڑکی کو تو نے مارا تھا ان سب چیزوں کا اس سے ضرور کو تعلق ہے" شایان نے قریب ہوکے آمش کو سی سی ٹی وی کے علاوہ کچھ چیزوں کا مشورہ دیا۔

"ویسے تو نے بہت ہی غلط کیا یار، تو نے لوگوں کے ڈر سے اور پولیس کیس سے بچنے کے لئے اس عورت اور بچی کے بارے میں دوبارہ کچھ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔" شایان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
"چل ایک کام کرتے ہیں، دونو ں وہاں چلتے ہیں اور وہاں کا جائزہ لیتے ہیں اور اگر کو ئی اس علاقے میں نظر آیا تو ان سے پتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں" شایان نے معنی خیز نگاہیں آمش کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا
"نہیں نہیں ، وہاں نہیں جانا ، ایک تو کسی سے پوچھیں گے تو الٹا ہم پر شک کرے گا، دوسرا اس جگہ سے مجھے ویسے ہی ڈر لگنے لگا ہے" آمش نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔
"او ہ یار کچھ نہیں ہوتا ، تو چل تو صحیح میرے ساتھ، مجھے اصل جگہ معلوم ہوتی تو میں اکیلا ہی جا کر دیکھ آتا لیکن تیرا ساتھ آنا ضروری ہے، ابھی ویسے بھی شام کا وقت ہے ہم جا کر دیکھ آتے ہیں" شایان نے زور دیتے ہوئے کہا جس پر آمش کسی حد تک راضی ہو گیا۔
"چل تو پھر جلدی کر، مغرب سے پہلے وہاں دیکھ کر آتے ہیں" آمش نے فوری طور پر اپنا ڈر ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر میں دونوں گاڑی میں موجود تھے اور گاڑی اس سڑک کی طرف دوڑ رہی تھی۔
عین اس جگہ پر آمش نے اپنے اندازے اور آس پاس کے درخت دیکھ کر گاڑی رکوائی اور وہ دونوں اس جگہ کی طرف بڑھنے لگے جہاں آمش کے اندازے کے مطابق وہ عورت اور بچی اس کی گاڑی کی ٹکر سے جا کر گرے تھے۔
قسط نمبر : 4
بقلم : فیضان احمد
مغرب کا وقت قریب تھا اور روشنی مدھم ہوتی جا رہی تھی، آمش اپنے اندازے کے مطابق شایان کے ساتھ اس  جگہ پہنچ چکا تھا ۔
"یار میرا خیال ہے یہی جگہ ہو سکتی ہے، میری گاڑی نے جب انہیں ہٹ کیا تھا وہ لوگ اس طرف جا کر گرے تھے" آمش نے ہاتھ سے روڈ سے تھوڑا اندر کی طرف اشارہ کیا۔
آمش کی بتائی ہوئی جگہ کے قریب پہنچ کر وہ دونوں جگہ کا معائنہ کرنے لگے لیکن انہیں وہاں ایسی کوئی چیز یا سراغ نظر نہیں آرہا تھا۔ انہیں وہاں خون کے دھبے نظر آنے کی امید تھی جس کی کوشش میں  آس پاس کی جگہوں کو بہت قریب سے اور دھیان سے ٹٹول رہے تھے۔
گھنے درخت اور جھاڑیوں کی موجود گی میں اس جگہ پر ان کا چلنا کافی دشوار تھا۔ یہ روڈ کے کنارے ایسی جگہ تھی جہاں کچی   زمین اور جھاڑیاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔
"یار شایان ادھر تو کچھ بھی نہیں ہے، چل یار گھر چلتے ہیں"آمش نے تیز دھڑکتے دل کے ساتھ کہا اور شایان کی طرف بے چارگی سے دیکھنے لگا۔
"رک تو جا یار، صحیح سے دیکھ تو لینے دے شاید کوئی نشان، یہ خون کچھ تو نظر آئے گا، اس جگہ سے لوگوں کا گزر مشکل ہی ہوتا ہو، تو پھر وہ دونوں ایکسیڈنٹ کے بعد یہاں سے کیسے اور کہاں گئے؟" شایان نے پر اسرارانداز سوال کیا۔
"یار تو چھوڑ یہ انویسٹی گیشن پلیز۔ مجھے ویسے ہی ڈر لگ رہا ہے، چل یار واپس چلتے ہیں" آمش نے بدستور اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
وہ دونوں اس تلاش میں روڈ سے کافی اندر کی طرف آچکے تھے جہاں درختوں کے سائے کی وجہ سے روشنی مزید کم ہو گئی تھی۔
شایان کے لئے یہ سب ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھا کیوں کے وہ بہت نڈر قسم کا انسان تھا جبکہ آمش جس کے ساتھ یہ سب ہوتا آرہا تھا ، انتہائی خوف کے زیر اثر تھا۔
"یار دیکھ، تیرے مطابق گاڑی نے سامنے روڈ پر اُس جگہ انہیں ہٹ کیا تھا اور وہ دونوں ٹکرا کر۔۔" شایان آمش کو ہاتھ کے اشارے سے جگہ بتا کر صحیح جگہ کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آمش ایک دم جھٹکے سے چونکا ، اور پلٹ کر پیچھے ایک جانب دیکھنے لگا۔
آمش کی اس حرکت پر شایان اپنی بات کہتے کہتے ایک دم رک گیا تحیر سے آمش کی نظر کا تعاقب کرنے لگا۔
"یار تو نے آواز سنی؟" آمش نے لرزتی  آواز اور کپکپاتے  لبوں کے ساتھ پوچھا اور شایان کے بلکل قریب ہو کے اس سے جڑ کے کھڑا ہو گیا۔
"یار چل یار یہاں سے میرے دل ڈوب رہا ہے، پلیز شایان چل یار یہاں سے" آمش نے اسے کھینچنے کی کوشش کی۔
"ابے ہوا کیا اچانک؟ کونسی آواز آئی ہے" شایان نے اسے روکتے ہوئے اچھنبے سے پوچھا۔
"مجھے ایسا لگا جیسے روڈ کی طرف سے کوئی آواز آئی ہے اور پھر سامنے اس طرف کچھ آکر گرا ہو" آمش نے اس جگہ اشارہ کرتے ہوئے کہاں جہاں وہ  دیکھ رہا تھا
شایان اس کا ہاتھ پکڑ کر اس طرف بڑھنے لگا۔ آمش پیچھے پیچھے ڈرا ہوا کپکپاتے پیروں کے ساتھ آرہا تھا۔
اندھیرا بڑھ چکا تھا اس جانب درخت کم اور جنگلی جھاڑیاں بہت زیادہ تھیں۔
دونوں نے اپنے موبائل کی ٹارچ کھول لیں اور دھیرے دھیرے جھاڑیوں سے بچتے بچاتے اس جگہ سے قریب ہوتے جا رہے تھے۔
اس جگہ کے قریب پہنچ کر جو منظر انہوں نے دیکھا  اس منظر نے دونوں کے ہوش اڑا دیئے ، دونوں نے حواس باختہ ہو کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ آمش اور شایان کا چہرہ  لٹھے کی مانند سفید ہو گیا۔آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے پورے بدن سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا ہو۔
سامنے ہی وہ بچی اور عورت جو غالباً ماں اور بیٹی تھے بری حالت میں جھاڑیوں کے بیچ پڑی ہوئی تھیں، ان کے جسم سے خون ایسے بہہ رہا تھا کہ مانو ابھی ابھی ایکسیڈنٹ ہوا ہو، پیر گھٹنوں سے مڑے ہوئے تھے گویا کے ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہوں۔
دونوں کا چہرہ اِن کی مخالف سمت مڑا ہوا تھا ۔آمش کی حالت یہ دیکھ کر پتلی ہو گئی۔
شایان نے ہمت کر کے انہیں ہلا کر دیکھنا چاہا، جیسے ہی اس نے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ، اچانک ہی دونوں لاشوں نے چہرہ گھما کر ان کی سمت کر لیا اور آنکھیں کھولیں جو بلکل سفید تھیں گویا ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں تھی۔
اور وہ دونوں آمش کی طرف دیکھ کر کہنے لگیں "تم چاہتے تو بچا سکتے تھے"۔ یہ آواز اتنی دہشت ناک تھی کے سناٹے کو چیر تی ہوئی کانوں میں داخل ہوئی تھی ۔
یہ منظر دیکھ کر دونوں کا کلیجہ حلق کو آگیا تھا۔
وہ دونوں یک دم مڑ  کر واپس روڈ کی جانب سر پٹ دوڑے،آمش کو محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کا پیر پکڑ کر پیچھے کو کھینچ رہا ہو، وہ اپنی پوری قوت اور رفتا ر سے بھاگنے کی کوشش کے باوجود بھی شایان سے پیچھے ہوتا جا رہا تھا، راستے میں جھاڑیوں میں الجھتے پیر ، چبھتے کانٹے اور کپڑوں کو چھلنی کرتی ہوئ جھاڑیاں انہیں ایک پل کے لئے محسوس نہیں ہوئی ۔
بل آخر شایان کے چند لمحوں بعد آمش بھی گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، شایان  گاڑی سٹارٹ کئے ہوئے تھا۔
دونوں کے پیر کافی حد تک زخمی ہو چکے تھے۔
سارے راستے دونوں وقتاً فوقتاً بیک مرر میں پیچھے کی جانے دیکھتے رہے ۔
گھر سے اس جگہ کا فاصلہ کچھ دیر پہلے انہوں نے 20 منٹ میں طے کیا تھا لیکن شایان کی گاڑی اب کی بار 12 منٹ میں آمش کے گھر کے باہر موجود تھی ۔راستے بھر وہ دونوں نا ایک لفظ کہہ  سکے  اورنا ہی کوئی بات  کی۔
"یار میں تجھ سے فون پر بات کرتا ہوں" آمش کے گاڑی سے اترتے ہی شایان صرف اتنا کہ کر گاڑی  زن سے لے اڑا ۔
آمش کچن میں داخل ہوا جہاں ساشہ پہلے سے کچھ کام میں مصروف تھی، وہ بمشکل چل پا رہا تھا
"ساشہ" آمش نے گھبرائی ہوئی دھیمی سی آواز میں ساشہ کو آواز لگائی جو چولھے پر کچھ پکا رہی تھی اور پیٹھ آمش کی طرف تھی۔
آمش لڑکھڑاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا  اور نظریں بار بار اپنے زخمی پیروں کی طرف گر رہی تھیں۔
"ساشہ ، یار ادھر بات سنو"  وہ کہتا ہوا ساشہ کے قریب پہنچا ہی تھا  کے اسے ایک بار پھر وہی لہجہ اور آواز اپنی پشت سے سنائی دی
"تم  چاہتے تو بچا سکتے تھے"
وہ گھبرا کر ایک دم پیچھے پلٹا اور پیروں پر زخم کی وجہ سے اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکا اور ساشہ سے ٹکرا تا ہوا نیچے گر کر بیٹھ  گیا۔
ساشہ نے فوراً پلٹ کر اسے بمشکل سنبھالا اور اس کی ایسی حالت دیکھ کر سکتہ میں آگئی۔
"آمش یہ کیا ہوا آمش؟ یہ کیا ہے سب" اس کی پیروں  سے گھٹنوں تک جگہ جگہ چھلا ہوا تھا اور زخموں سے خون بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر ساشہ نے پریشانی میں پوچھا۔
"روم میں چلو" آمش نے اتنا کہ کر آنکھیں بند کر لیں۔
ساشہ نے بمشکل اسے سہارا دے کر کمرے تک پہنچایا اور بیڈ پر لٹا  دیا۔
"آپ یہاں لیٹیں ، میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر آتی ہوں" ساشہ نے آمش کو بیڈ پر ٹھیک سے لٹاکر جاتے ہوئے کہا۔
"نہیں ، ساشہ نہیں، رکو، میری بات سنو" آمش نے گھبرا کر تیز آواز میں  کہا جس پر ساشہ کے قدم حیرت سے وہیں رک گئے۔
"ارے کیا ہوا؟ میں کچھ لے کر آتی ہوں آپ کے زخم صاف کرنے، پھر آپ چینج کر لیں" ساشہ نے فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
"وہ سامنے تولیہ ہے نا، اسے گیلا کر لو یہیں واش روم سے اور اسی سے صاف کر دو" آمش نے حکم دیتے ہوئے کمرے میں موجود تولیئے کی طرف اشارہ کیا۔
ساشہ کچھ نا سمجھتے ہوئے تولیہ لے کر اسے گیلا کرنے چلی گئی، آمش کی نظر مسلسل اس پر ٹکی ہوئی تھی جو باتھ روم میں گھسی تھی، اور چند لمحوں میں گیلا تولیہ لے کر واپس آئی۔
آمش بغور ساشہ کو دیکھ رہا تھا اور اس کا ہر اندازنوٹ کر رہا تھا
اس کے ذہن میں وہی منظر جو وہ دیکھ کر آیا تھا اور وہی آواز جو ابھی کچن میں دوسری بار سنی تھی، گونج رہی تھی۔
ساشہ سے بھی اسے ڈر محسوس ہونے لگا تھا، لیکن یہ بات اس نے ساشہ کے سامنے عیاں نہیں ہونے دی۔
ساشہ پینٹ کے پائینچے اوپر کر کے تولیئے سے خون صاف کر رہی تھی،اس کا چہرہ نیچے کو جھکا ہوا تھا اور ماتھے پر لہراتے بال چہرے کو کسی حد تک ڈھانپے ہوئے تھے۔
آمش کو ایک انجانا سا خوف تھا کے کہیں ساشہ پھر سے کوئی گہرا زخم نہ مار دے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ساشہ بہت نرمی اور ارام  سے اچھی طرح دونوں پیروں سے خون صاف کر رہی تھی۔
"آمش یہ ہوا کیا ہے؟ آپ شایان کے ساتھ کہاں گئے تھے؟" ساشہ نے خاموشی کی دیوار گرائی
"ساشہ میں تمہیں سب کچھ بتاؤنگا لیکن مجھے اس سے پہلے کچھ چیزیں جاننی ہیں، جن کے انتظار میں ہوں، پلیز تم تب تک اس بارے میں بات نہیں کروگی" آمش نے ساشہ کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا
"لیکن ۔۔ آمش میں آپ میں کچھ دن سے عجیب تبدیلی دیکھ رہی ہوں، پلیز  مجھے بتائیں آخر کیا بات ہے، آپ کن مسئلوں میں پھنسے ہوئے ہیں، میں اپنی ہر ممکن کوشش کر کے آپ کو خوش رکھنا چاہتی ہوں اور اتنے دن سے آپ کے بدلے ہوئے رویے کو دیکھ رہی ہوں لیکن کچھ نہیں کہہ  رہی، لیکن اب روز بروز آپ کے کہیں نا کہیں زخم اور نڈھال نظر آتے ہیں، یہ سب کیا ہے، آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟" ساشہ کو جیسے دل کی بات کہنے کا موقع ملا تھا وہ پھٹ پڑی اور اپنی پریشانی ظاہر کر ڈالی۔

" میں ٹھیک ہو ں ساشہ بس تھوڑا ایک مسئلہ چل رہا ہے، جو میں تم سے ضرور شیئر کرونگا  لیکن ابھی نہیں، پلیز۔۔۔۔"  آمش کی سمجھانے پر ساشہ مان گئی اور دھیمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر امڈ آئی ۔
"چلیں آپ چینج کر لیں یہ کپڑےمیں کھانا تیار کر لوں، چولھا بند کر کے آئی تھی" ساشہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
پچھلے کئی دنوں سے آمش نوٹ کر رہا تھا کے ساشہ چپ چپ ہے اور اس کی ٹیبل سے گرنے کے باعث ناک پر  چوٹ پر بھی کوئی خاص حیرت ظاہر نہیں کی، نہ اس کی پچھلے کچھ دنوں کی باتوں پر حیرت کا اظہار کیا، اور پھر باتھ روم میں ہونے والا واقعہ۔۔۔۔ کیا یہ واقعی ساشہ ہی ہے۔
اب اسے یقین ہو گیا تھا کے یہ اس کی بیوی ساشہ ہی ہے جو اس کا خیال رکھنے کی غرض سے اور اسے ذہنی الجھن سے دور رکھنے کے لئے یہ سب باتیں اگنور کر رہی تھی۔
"مگر باتھ روم میں جس نے میری ناک سے خون صاف کیا وہ۔۔۔۔۔" آمش یہ سوچ کر دہل کر رہ گیا، اس کے جسم میں ایک ڈر کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اٹھ کر کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔
"چلیں آج چھت پر چائے پیتے ہیں اور واک کرتے ہیں،"ساشہ نے کھانے کی میز پر آمش کو خاموش دیکھ کر  سلسلہ کلام جوڑا۔
"نہیں یار میرا موڈ نہیں ہےآج، پھر کسی دن" آمش نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دوبارہ اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا۔
"چلیں نہ کافی دن ہو گئے، ہم نے چھت پر چائے نہیں پی، اور آپ کا ڈپریشن بھی دور ہوگا" ساشہ نے اب اسرار کیا جس پر آمش منع نہیں کر سکا اور گردن ہلا کر ہامی بھر لی۔
آمش کھانے سے فارغ ہو کر چھت پر جا چکا تھا اور ساشہ کچن میں  چائے بنانے میں مصروف تھی۔ آمش کی عادت تھی کے وہ کھانے کے فوراً بعد چلا جاتا تھا اور جب تک ساشہ نہ آجائے وہ واک کرتا  اور موبائل استعمال کرتا تھا، پھر ساشہ کے آنے پر دونوں ساتھ چائے پیتے اور واک کرتے ہوئے باتیں کرتے۔
آمش کو آج نہ جانے کیسے کیسے خیالات آرہے تھے اور اپنے ہی گھر کی چھت پر خوف محسوس ہو رہا تھا۔ گھر کی چھت بہت کشادہ تھی  جس میں ایک طرف کئی قسم کے گملے  رکھے ہوئے تھے اور خوشبودار پھول بھی۔
چار سو ں اندھیرے کا راج  تھا جبکہ اکا دکا گھروں کی لائٹس آن نظر آرہی تھیں۔  آمش بجائے موبائل استعمال کرنے کے آج بے چینی سے ساشہ کا انتظار کر رہا تھا  اور اس کی نظریں ایک انجان خوف کو سموئے ہوئے آس پاس  ہر جگہ بھٹک رہی تھیں۔
کچھ دیر میں ساشہ ہاتھ میں ٹرے لئے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر آتی نظر آئی جس پر آمش نے سکون کا سانس لیا  اور کرسی لے کر بیٹھ گیا۔
وہ دونوں چائے پینے میں مصروف ہو گئے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی۔
چلیں واک کرتے ہیں، ساشہ نے کچھ دیر میں واک کا ارادہ ظاہر کیا جس پر دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر واک کرنے لگے، وہ دونوں کرسیوں پر ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہوئے تھے جب کہ بیچ میں ایک چھوٹی ٹیبل موجود تھی  اور اس پر پانی کا جگ اور گلاس۔
"ساشہ ایک بات بتاؤ مجھے" آمش نے ایک نقطے پر نگاہ جمائے ہوئے چائے کا گھونٹ بھر کر کہا
"جی پوچھیں" وہ جو آمش کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چھت پر ایک جانب سے دوسری جانب  واک کر رہی تھی سوالیہ نظریں اٹھاتے ہوئے پوچھا
"اس روز جب  میری ناک سے خون بہہ رہا تھا اور تم میرے لئے دوا لینے گئی تھیں ، تو تمہیں  اتنی دیر کیوں لگ گئی تھی آتے ہوئے" آمش کے قدم اپنے سوال کے ساتھ رک گئے تھے اور وہ ساشہ کی طرف منہ کر کے متوجہ ہو گیا تھا
"ارے ہاں، میں جب نیچے  فرسٹ ایڈ باکس لینے گئی تو وہ اپنی جگہ پر تھا ہی نہیں مجھے ڈھونڈنے میں بہت ٹائم لگ گیا تھا، پھر وہ مجھے کافی دیر بعد ڈائننگ ٹیبل پر سامنے ہی رکھا ہوا نظر آیا" ساشہ نے تسلی جواب دیا جس پر آمش  "ہمم " کہ کر رہ گیا۔
آمش اپنی بیوی کی طرف سے تسلی اور دوسری طرف سے خوف  دونوں کے سائے میں تھا جس سے وہ عجیب کشمکش کا شکار تھا، کبھی تو وہ بہت ڈرا ہوا اور کبھی بلکل پر سکون ہو جاتا تھا۔ اسے یقین تھا کے اس کی بیوی اس کے ساتھ موجود ہے اور باتھ روم میں جسے اس نے گلے لگایا تھا وہ اس کی بیوی نہیں تھی۔
"کیا ہوا آمش ؟ کیا سوچ رہے ہیں" ساشہ کے سوال پر وہ ایک دم سوچوں سے باہر آیا اور ذہن جھٹک کر ساشہ کی جانب دیکھا۔ نہ جانے کیوں اسے چاند کی مدھم سی چمک  اپنی بیوی کے چہرے پر پڑتے ہوئے کچھ خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
"کچھ نہیں یار۔۔ بس۔۔۔" وہ اتنا کہہ کر چپ ہو گیا۔
ساشہ بھی اس کی خاموشی پر کچھ نہ کہہ سکی   اور آمش کے ہمراہ ایک بار پھر قدم اٹھانے لگی۔
آمش ، ساشہ کے ہمراہ چھت کے ایک کونے پر تھا ، جب وہ پلٹ کر دوسری جانب کو چلنے لگا اسے محسوس ہوا ، اس کی کرسی اب اس جگہ نہیں ہے جہاں وہ پچھلے 15 منٹ سے واک کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
پہلے پہل اسے اپنا وہم محسوس ہوا کیونکہ اس نے واک کرتے ہوئے کرسیوں کی  پوزیشن پر کچھ خاص غور نہیں کیا تھا لیکن اب اس نے غور کرنا شروع کیا تو اسے یقین ہو گیا ۔
"اٹھتے وقت میں ساشہ کے سامنے بیٹھا تھا اور میری کرسی بلکل سامنے تھی اب ٹیبل کی دوسری سائڈ پر۔۔۔۔۔" آمش نے خود سے سوال کیا ، اس کا ذہن الجھ کر رہ گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر چھت کے بیچ میں موجود ان کرسی ٹیبل کے پاس سے گزر کر دوسری جانب گیا تھا، کے اب کی بار اسے کرسی سرکنے کی آواز آئی، پلٹ کر دیکھا تھا وہ کرسی پہلے والی جگہ پر تھی جہاں اس کے اندازے کے مطابق ہونی چاہئے تھی۔
"ساشہ، چلو نیچے" وہ ساشہ کا ہاتھ پکڑکر تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھا  اور سیڑھیاں اترنے لگا
"کیا ہوا آمش؟" ساشہ اس کے اچانک بدلتے ہوئے رویے پر حیران و پریشان رہ گئی۔ آمش بغیر کسی جواب کے اسکا ہاتھ تھامے تیزی سے نیچے کی طرف  اتر رہا تھا۔
ابھی مشکل سے چار پانچ سیڑھیاں ہی اترے تھے کے ایک زور دار آواز آئی  جس کے بعد کرسیوں کے گرنے اور کانچ کے جگ کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔
آمش نے اپنی رفتار تیز کر دی اور وہ دونوں قریباً بھاگ کر نیچے فلور پر پہنچے، آمش اسے لیکر سیدھا کمرے میں گھس گیا۔
"آمش ، آمش ہوا کیا ہے آخر، آپ کیوں بھاگے ہیں چھت سے"ساشہ کی حیرت  تمام بلندیوں کو چھو رہی تھی ۔
آمش نے کمرے میں موجود انٹر کام اٹھایا اور گھر کے چوکیدار کو اوپر آنے کا حکم دیا۔
آمش کی سانس اکھڑی ہوئی تھی اور وہ ساشہ کی کسی بات کا جواب دیئے بغیر بے چینی سے کمرے میں چکر لگا نے لگا۔
کمرے کا دروازہ بجا تھا جب اس کے قدم ایک دم رکے۔ "کون"  اندر سے ہی پوچھا۔
"صلاح الدین ہوں صاحب آپ نے بلایا تھا" باہر سے آواز آئی۔
آمش نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر تسلی کی کے باہر اس کا چوکیدار ہی ہے۔
"بابا اوپر سے ابھی کچھ گرنے اور ٹوٹنے کی آواز آئی ہے، ذرا چھت پر جا کر دیکھو  کیا گرا ہے۔"
آمش نے اسے حکم دے کر دروازہ  واپس بند کر دیا ۔
"آمش کیا ہوا؟ کچھ تو بتائیں، کیسی آواز آئی ہے آپ کو ؟ پلیز اب بہت ہو گیا ، اب مجھے بتائیں آخر چل کیا رہا ہے یہ سب" ساشہ نے پریشانی میں  غصہ اپناتے ہوئے پوچھا۔
"رک جاؤ" آمش نے رعب دار آواز میں جواب دیا اور انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
موبائل کی گھنٹی بجی اور آمش نے رک  کر چارجنگ پر لگا موبائل نکال کر کان سے لگایا۔
دوسری طرف شایان لائن پر تھا۔
"آمش تجھے یاد ہے نہ کیا کہا تھا میں نے؟ کیا کرنے ہے آج تو نے" شایان کی آواز آئی
"ہاں یار یاد تو ہے لیکن میں ساشہ کو ان سب چیزوں کی کیا وجہ بتاؤں گا، اسے میں نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا" آمش نے ٹہلتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر دھیمی آواز میں جواب دیا۔
"یار تو بول دے کچھ بھی اسے سنبھال لے کسی طرح بھی لیکن آج یہ کر کے ضرور دیکھ ، میں نے جب سے اس لڑکی اور بچی کو دیکھا ہے، یقین کر میری حالت ابتر ہو گئی ہے، اس کی وہ آواز میرے کانوں میں  رہ رہ کر گونج رہی ہے " شایان نے اپنے خوف کا اظہار کیا جس پر آمش   بھی پسینے چھوٹنے لگے۔
"بول رہا تھا تجھے میں، مت چل اس طرف تو نہیں مانا، اور سوچ میں کیسے یہ سب جھیل رہا ہوں۔۔ میری کیا حالت ہوگی، ابھی ابھی پھر ایک مسئلہ ہوا ہے" آمش نے موقع پاتے ہی اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور سارا الزام شایان کی طرف تھونپ دیا۔
"کیا مطلب؟ اب کیا ہوا؟" شایان نے چونکتے ہوئے سوال کیا
"کچھ نہیں بعد میں بتاؤنگا" آمش بے چینی سے کمرے کے باہر ٹہلتے ہوئے بابا کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا ، اس کی نظریں بار بار اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف تھیں۔
""اچھا یار بات سن، یہ بتا ہم نے جو لڑکی اور بچی جھاڑیوں میں دیکھی تھیں یہ وہی تھی نا؟ شایان نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا
"بھائی 100 فیصد وہی دونوں تھیں ، اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں، ہم نے جنہیں دیکھا ہے وہ  ۔۔۔۔" آمش اتنا کہ کر چپ ہو گیا
"ہاں یار تو صحیح کہ رہا ہے، اس نے پوری گردن گھما کر کہا تھا "تم  چاہتے تو بچا سکتے تھے" اور یہ کسی انسان کے لئے ممکن نہیں، نہ وہ دہشتناک  آواز کسی انسان کی تھی، دوسری بات وہ بلکل ایسے لگ رہی تھیں جیسے ابھی ابھی ایکسیڈنٹ ہوا ہو۔۔ یار کیسے  ہو سکتا ہے یہ۔۔۔ اتنے دن پہلے ایکسیڈنٹ اور وہ دونوں اب تک وہیں  اسی حالت میں۔۔۔" شایان نے اپنا شک ظاہر کیا اور دونوں طرف ایک لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی۔
"چل یار میں فون رکھ رہا ہوں، تو آج ضرور کیمرے کی موجودگی میں سونا اور جیسا میں نے بتایا ہے وہ سب ضرور کرنا۔"
"چل ٹھیک ہے یار، دعا کر کچھ الٹا سیدھا نہ ہو" آمش نے التجائیہ لہجے میں کہ کر فون بند کر دیا
اس کی نظریں سیڑھیوں کی جانب لگی ہوئی تھیں جہاں سے اچانک ایک چیخ سنائی دی، اس آواز کو سن کر آمش کو ایسا لگا جیسے اس کا دل پسلیاں توڑ کر با ۔
آمش  ڈرتے ڈرتے سیڑھیوں کی طرف بڑھا لیکن اوپر چڑھنے کی ہمت نہ کر سکا
"بابا۔۔۔ با بااا ا ۔۔ " وہ ڈرتے ڈرتے بابا کو آواز لگانے لگا لیکن اوپر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے بمشکل ہمت باندھ کر اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف قدم رکھا  لیکن دو چار قدم سے زیادہ اوپر نہیں چڑھ سکا، اس کی ہمت ہی نہ ہو سکی ۔
"بابا۔۔۔ صلاح الدین بابا ا ا ا۔۔۔ آواز سن رہے ہو میری؟" ایک بار پھر آوازیں لگانے لگا لیکن اوپر سے مکمل خاموشی کے سوا کچھ نصیب نہ ہوا۔ البتہ اس کی اپنی آواز اسے جیسے گونجتی واپس آتی سنائی دی جو ایک عجیب سی بات تھی۔
ایک بار پھر ہمت کر کے وہ ذرا سا اور اوپر چڑھا، جبکہ ایک پوری سیڑھی ابھی باقی تھی جو چھت سے ملتی تھی۔
یکایک اسے ایک بار پھر خوف نے آ گھیرا اوروہ واپس پلٹ گیا اور نیچے اترنے لگا ۔ بمشکل دو قدم اترا ہوگا کے کوئی چیز لڑھکتی ہوئی اس کے پیروں سے آکر ٹکرائی جس سے وہ  اپنا توازن بر قرار نہ رکھ سکا اور کمر کے بل سیڑھیوں پر ہی گرا۔
وہ  صلاح الدین بابا تھا جو سیڑھیوں پر نا جانے اچانک کہاں سے  لڑھکتا ہوا  آکر آمش کے پیروں سے ٹکرا یا تھا۔
صلاح الدین بابا بے ہوشی کی حالت میں سیڑھیوں  پر لیٹے ہوئے لڑھکتا نیچے آیا تھا، لیکن آمش کو ٹکرانے سے پہلے اس کی کوئی آواز یہاں تک  کے لڑکھنے کی آواز بھی نہیں آئی۔
"بابا، بابا ۔۔ کیا ہوا بابا اٹھو" وہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا تھا چونکہ آمش بابا کے اوپر ہی گرا تھا، کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔
بابا کو اس حالت میں دیکھ کر آمش کے طوطے اڑ گئے، ایک نظر اوپر چھت کی جانب ماری جہاں  سیڑھیوں پر اندھیرا اور سناٹا خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔
آمش فوراً بابا کو  لے کر کمرے کی طرف بھاگا اور اس پر پانی ڈال کر ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا لیکن نا کامیاب۔
ابھی وہ بابا کو ہوش میں لانے کی کوشش میں تھا کہ اسے نچلے فلور سے ایک زور دار آواز سنائی دی، اس بار آواز پر ساشہ بھی چونک گئی تھی ، اس آواز نے ماحول کو مکمل طور پر خوف کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
"تم نے سنی یہ آواز؟" آمش نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
ساشہ نے اثبات میں سر ہلا یا اور  سہمی ہوئی آمش  کی جانب دیکھنے لگی۔
"ساشہ تم بابا کو  دیکھو، پانی وغیرہ مارو اور ہوش میں لانے کی کوشش کرو، میں چیک کرتا ہوں" آمش نے ہمت کر کے کھڑے ہو تے ہوئے کہا
"نہیں آمش مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، آپ یہیں رکیں پلیز" ساشہ نے گھبراہٹ کے مارے التجاء کی۔
"بس دو منٹ، میں چیک کر کے آیا" کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
کمرے سے  نکل کر پھونکتے ہوئے قدم رکھتا وہ نیچے کی جانب اترنے لگا۔
یہ  سیڑھیاں ان کے ہال نما کمرے میں جا کر اترتی تھیں ، جو انکا ٹی وی لاؤنج بھی تھا اور ڈائننگ روم بھی۔
ہال کے وسط میں لگا تزین و آرائش کی غرض سے لگا ہوا جھلملاتا ہوا فانوس  تیزی سے ہل رہا تھا، مانو ابھی گر جائے گا۔
فانوس بلا شبہ بہت خوبصورت اور بڑا سا تھا۔ ساتھ ہی اتنا وزن دار تھا کے ہلکی پھلکی ہوا اسے ہلا بھی نہ سکتی تھی۔ وہ اتنی تیزی سے  جھول رہا تھا کے گویا کسی نے اسے باقاعدہ ہلایا ہو۔
فانوس کی جلتی بجھتی  روشنی اور اس کے شیشوں کی کھڑ کھڑاہٹ  اس پر اسرار ماحول کو اور بھی خطرناک بنا رہی تھی۔
"یا اللہ ۔۔ یہ کیا ماجرا ہے" اس نے خود سے کہہ کر سیڑھیوں سے نیچے قدم بڑھانا شروع کیا ہی تھا کے وہاں موجود تمام لائٹس خود بخود آف ہو گئیں۔ لائٹس کا بند ہونا آمش کے لئے انتہائی غیر متوقع تھا ۔
آمش نے واپس بھاگ کر کمرے کا رخ کیا  ، اور کمرے کے باہر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو تمام سوئچز آف تھے، اس نے جلدی سے آن کر کے کمرے میں گھسنے میں  ہی غنیمت سمجھا۔

بابا کو اب کچھ ہوش آنے لگا تھا ، ساشہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی اسے آوازیں دے کر جگانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
آمش نے بابا کو کمر سے سہارا دے کر بٹھایا اور وہ بدحواسی کے عالم میں ادھر اُدھر کا جائزہ لینے لگا۔
کیا ہوا بابا، جونہی اس کے اوسان بحال ہوئے وہ ساشہ کی طرف دیکھ کرا یک دم کھڑا ہوا  اور دروازے کی طرف لپکا۔
"با با کیا ہوا؟ کہاں جا رہے ہو؟" ہم دونوں نے ہی حیرانگی سے پوچھا
"ہم جا رہا ہے یہاں کام نہیں کرے گا" وہ  جھڑکنے کے انداز میں کہہ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
آمش جونہی اس کے پیچھے جانے کی غرض سے کمرے سے باہر نکلا تمام لائٹس آن دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا، سوئچ بورڈ پر موجود تمام سوئچز بھی آن ہی تھے۔
 آمش بنا رکے صلاح الدین بابا  کے پیچھے پیچھے بھاگا اور گیٹ کے قریب اس کے کمرے میں اسے روک لیا۔
"بابا کیا ہوا، کیوں بھاگ رہے ہو ایسے، اوپر چھت پر کیا ہوا ہے؟" آمش نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے پوچھا
"چھوڑو ہمیں صاحب، ہم یہاں کام نہیں کرے گا ہم جا رہا ہے" وہ اپنا ضروری سامان جمع کر رہا تھا
"ارے بابا لیکن ہوا کیا ہے؟ کہاں جا رہے ہو ، مجھے بتاؤ اوپر چھت پر کیا ہوا ہے" آمش نے اسے روک کر کمرے میں موجود چارپائی پر بٹھایا
"صاحب ، آپ نے ہمیں اوپر بھیجا کے جاؤ دیکھ کر آؤ کچھ گرا ہے آواز آئی ہے، ہم اوپر گیا تو  بیگم صاحبہ اور حمنہ بے بی اوپر کھڑا ہوا تھا" وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بتا رہا تھا، آمش کا منہ یہ سن کر کھلا کا کھلا رہ گیا۔
"پھر؟؟؟؟؟؟" آمش نے فوراً پوچھا۔
"صاحب ہم نے بیگم صاحبہ کے پاس جا کر پوچھا کے کیا ہوا ہے تو وہ ہمیں جواب نہیں دے رہا تھا بلکے  ہمیں دیکھ کر صرف مسکرا  رہا تھا " وہ بوکھلایا ہوا بتانے لگا
"صاحب، ہم نے بیگم صاحبہ سے پوچھا کیا ہوا ہے تو وہ پہلے ہمیں دیکھ کر  ہنستا رہا پھر بولتا ہے وہاں کونے میں کوئی بیٹھا ہوا ہے،  جا کر دیکھو، ہم نے وہاں دیکھا تو ادھر کچھ بھی نہیں تھا صرف گملا رکھا ہوا تھا،  ہم گملے کو دیکھنے وہاں گیا تو بیگم صاحبہ نے ہمیں دھکا دے دیا، ہم چھت سے نیچے گر جاتا لیکن لوہے کا گرل پکڑ کے ہم بچ گیا ،  ہم گرا نہیں، پھر ہم خود کو سنبھال کے واپس کھڑا ہوا تو بیگم صاحبہ کا چہرہ روشنی میں صحیح سے نظر آیا، وہ تو کوئی اور تھا  اور ہم نے پھر دیکھا حمنہ بے بی چھت سے نیچے کودنے کا کوشش کر رہا ہے ، وہ دیوار پر چڑھ رہا تھا، ہم بھاگا اس کو بچانے کے لئے ، اور اس نےہمارا پہنچنے سے پہلے چھلانگ لگا دیا، ہم فوراً نیچے جھانکا تو ادھر کوئی بھی نہیں تھا اور ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے پھر سے دھکا دیا ہو ہم  نے خود دوبارہ گرتے گرتے بچا یا اور واپس دیکھا تو چھت پر کوئی بھی نہیں تھاپھر تو ہم نیچے آنے کے لئے بھاگا تو ٹیبل خود با خود ہمیں پاؤں پر ٹکرایا، صاحب ہم ٹیبل سے دور تھا پھر بھی پتا نہیں کیسے وہ ہمیں ٹکرا گیا اور ہم زمین پر گرا، پھر پتا نہیں کیا ہوا، ہمیں کچھ پتا نہیں ہے۔
 صاحب ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے ، ہمیں ڈر  نہیں لگتا کسی سے لیکن یہ ہمیں مار دیگا، بیگم صاحبہ پہلے ہم سے بات کر کے ہمیں وہاں بھیجا پھر ان کا چہرہ بدل گیا۔ہمیں مارنا چاہتا تھا" بابا  نے گھبراتے ہوئے اکھڑی سانسوں کے ساتھ سارا قصہ سنایا  اور واپس اپنا سامان جمع کرنے لگا
"اچھا با با تم رکو، صبح چلے جانا  بے شک" آمش نے بابا سے رکنے کی التجا کی
"ہم جا رہا ہے ابھی یہاں سے ،  تم بھی جاؤ  ادھر سے تمھارا گھر میں کچھ ہے" وہ سامان اٹھا کر باہر نکل گیا۔
آمش کو یک دم ساشہ کا خیال آیا اور وہ دوڑ کر گھر کے اندر کی طرف بھاگا اور اندر پہنچ کر ادھر ادھر دیکھے بنا فوراً اوپر کا رخ کیا۔
کمرے میں ساشہ کو پا کر اس نے سکون کا سانس لیا اور اس کے برابر میں جا کر بیٹھ گیا، اسے محسوس ہوا ساشہ ایک طرف کچھ گھور گھور کے دیکھ رہی ہے۔
بجائے بابا کے بارے میں پوچھنے کے، یہ کیا دیکھ رہی ہے؟ آمش کے ذہن میں خیال آیا اور اس نے ساشہ کو کاندھے سے پکڑ کرحرکت دی
"ساشہ؟ کیا ہوا ؟ کیا دیکھ رہی ہو" آمش نے قریب ہوتے ہوئے پوچھا
"تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" ایک وحشت بھری آواز آمش کی کانوں سے ٹکرائی جو اس کی بیوی کے منہ سے نکلی تھی، آنکھیں خون کی مانند سرخ اور چہرا کئی دنوں کا تھکا ہوا لگ رہا تھا، اس نے آمش کی طرف گردن موڑ کر کہا
آواز میں قدرے بھاری پن تھا۔یہ آواز ، اس آواز سے مختلف نہ تھی جو اس نے جھاڑیوں میں سنی تھی۔
آمش کو یوں لگا جیسے اس آواز نے اسے دور دھکیل دیا ہو۔
آؤ دیکھا نا تاؤ فوراً دروازے کی طرف لپکا اور اسے جونہی کمرے کا لاک گھمایا وہ بند تھا، آمش نے زور آزمائی شروع کر دی ۔
اسی تک و دود میں اسکی ایک نظر ساشہ پر پڑی جو بہت پریشان اور گھبرائی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ نظریں ملتے ہی بابا کے بارے میں پوچھنے لگی۔
" کیا ہوا تھا بابا کو آمش" آمش کو اس  کی اصل آواز اور چہرے کے تاثرات سے احساس ہوا کے یہ ایک لمحے پہلے والی ساشہ نہیں ہے۔
"چلو یہاں سے" آمش  نے ساشہ کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ دروازہ کھولا جو فوراً کھل گیا ۔
کچھ دیر میں وہ لوگ ساشہ کی ماما کے گھر کے باہر موجود تھے جہاں حمنہ پہلے سے رکی ہوئی تھی۔
راستے بھر ساشہ پوچھنے کی کوشش کرتی رہی لیکن آمش  تیزی سے گاڑی دوڑاتا رہا اور کچھ بھی بولنے سے اعتراض کیا۔
"ساشہ ، میری بات غور سے سنو" آمش نے ہدایت کرتے ہوئے بات شروع کی۔
"میں تمہیں امی کے گھر چھوڑ رہا ہوں، ہو سکتا ہے ایک دو دن تمہیں یہیں رکنا پڑے، میرے ساتھ گھر میں کچھ عجیب واقعات ہو رہے ہیں اور اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہے جو میں نے تم سے بعد میں شیئر کروںگا۔ تمہیں اپنا اور حمنہ کا خیال رکھنا ہےاور میں ان چیزوں سے نمٹ کے تمہیں واپس لے لونگا۔" آمش نے ایک ہی سانس میں مختصر قصہ کہہ ڈالا  اور ساشہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔
" تم اندر جاؤ اب میں تم سے فون پر رابطے میں رہونگا۔" آمش نے اسے گاڑی سے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور سخت لہجے میں ہدایت کی۔
"آمش پلیز آپ بھی یہیں رک جائیں، مت جائیں وہاں میرا دل ڈوب رہا ہے، مجھے بہت خوف آرہا ہے۔۔ پلیز آمش" ساشہ نے فکر مندی سے گزارش کی
" نہیں میں شایان کو لے کر گھر جاؤنگا، تم فکر نہ کرو، جاؤ اب اندر" آمش نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سمیٹ کر کہا
ساشہ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر کی طرف چل دی۔
آمش گاڑی واپس موڑ کر گھر کی طرف رواں دواں تھا۔
یہ وہی راستہ تھا جسے آمش نے اس واقعے کے آنے جانے کے لئے منتخب کر لیا تھا اور دوسرا راستہ ترک کر دیا تھا۔
گاڑی دوڑاتے ہوئے اچانک ایک موقع پر آمش کو یہ احساس ہوا کے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کوئی موجود ہے، اس نے بیک مرر میں دیکھ کر تسلی کی، وہاں کوئی نہیں تھا، البتہ اس کا خوف جو ختم ہوا ہی نہیں تھا اب مزید بڑھ گیا ۔
گاڑی کی اسپیڈ بے اختیار تیز ہو گئی  اور آمش دل ہی دل میں اپنی خیریت سے گھر پہنچنے کی دعائیں مانگنے لگا، ساتھ ساتھ وہ بیک مرر میں پچھلی سیٹ کی طرف دیکھتا جاتا اور گاڑی کی اندرونی  لائٹ بھی آن کر دی۔
ایک لمحے کے لئے اس کی نظر اپنے موبائل فون پر پڑی اور اس کے ذہن میں شایان کا خیال آیا، دوسرے چند لمحوں میں وہ شایان کے ساتھ لائن پر تھا۔
"شایان، میں تجھے لینے آرہا ہوں، جلدی سے تیار ہو، آج میرے گھر پر رکنا ہے تجھے میرے ساتھ" شایان نے جلدی جلدی اپنی بات مکمل کی ۔
"ابے کیا ہو گیا؟ اس وقت؟" شایان نے چونک کر پوچھا لیکن اگلے ہی لمحے کال منقطع ہو چکی تھی
شایان کے گھر پھنچنے سے 2 منٹ پہلے اس نے کال کی اور گیٹ پر تیار رہنے کی ہدایت جاری کیں۔
"کیا ہو گیا بھائی ؟  اب کیا مسئلہ ہو گیا یار" شایان نے آمش کے پہنچتے ہی سوال داغ دیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
" کیا ہو گیا؟ ابے یہ پوچھ کیا نہیں ہوا!! " بھائی پوچھ مت کیا کیا ہو رہا ہے، چوکیدار بابا بھاگ گیا، لائٹس خود آن ہو جاتی ہیں کبھی آف، فانوس ہل رہا ہے، کبھی ساشہ اپنا روپ بدل رہی ہے تو کبھی لگ رہا ہے گاڑی میں پیچھے کوئی بیٹھا ہوا ہے، بس بہت ہو گیا یار اب  کچھ کرنا ہی پڑے گا مجھے" آمش نے طلملا کر ساری بات سنائی اور غصے میں گاڑی تیز بھگا تا رہا۔
"او بھائی! زیادہ جذباتی مت بن، عقل سے کام لے عقل سے، وہ کوئی پہلوان نہیں جس سے تو اس طرح لڑنے جا رہا ہے!!" شایان نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور ساتھ ہی پیچھے مڑ کر سیٹ کو چیک کرنے لگا۔
" ابے یار تو میں کیا کروں یہ میرے پیچھے پڑ گئی ہے ، تم چاہتے تو بچا سکتے تھے، تم چاہتے تو بچا سکتے تھے، ابے کہاں سے بچاتا میں، اپنی بیوی اور بچی کو لے کر ان درختوں میں گھسا دیتا گاڑی؟ ایکسیڈینٹ کر دیتا گاڑی کا؟ تو خود بتا یار تو میری جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟ یار میں نے کیا غلط کیا ہے" آمش نے تقریباً روہانسی ہوتے ہوئے غصے بھری آواز میں کہا
" بھائی میں سمجھ سکتا ہوں تیری غلطی نہیں ہے، مگر اسے تو سمجھا سکتا ہے یہ بات؟" شایان نے یہ کہہ کر آمش کے ہونٹوں کو سی دیا ۔۔۔  اور سوالیہ نظروں سے آمش کی جانب دیکھنے لگا
آمش تیز ی سے گاڑی بھگا رہا تھا ، افسردہ چہرہ بنا کر گاڑی کی سپیڈ کچھ کم کر دی
" نہیں یار۔۔۔ لیکن اب کیا حل ہے اس مسئلے کا شایان، کیا کرنا چاہئے ہمیں؟ ان کیمروں کی مدد سے ہم کیا کریں گے، صرف ریکارڈنگ نہ؟ لیکن   ہم کچھ نہیں کر پائے تو کل کو لوگ کیمرے کی ریکارڈنگ میں یہ دیکھیں کے مجھے آ کر کسی نے مار دیا۔ پھر ؟ کیا فائدہ۔۔" آمش  کے سوال نے شایان کو  بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔
ان کی گفتگو کے دوران گاڑی کی سپیڈکچھ سلو ہو گئی تھی، آمش کی نظر  سامنے روڈ پر اور شایان بیک مرر میں پچھلی سیٹ پر غور کر رہا تھا۔ یکایک آمش کو ایسا لگا جیسے سامنے اندھیرا چھا  گیا ہو، ونڈ اسکرین پر  کالے کپڑے نما کسی چیز نے  سامنے کا منظر اوجھل کر دیا تھا۔
یکایک گاڑی کا ہینڈل بائیں جانب خود  مڑا اور  اسی دوران   انہوں نے محسوس کیا کے وہ کسی  اندھیرے  والی  جگہ میں داخل ہو رہے ہیں۔
"شایان، گاڑی خود چل رہی ہے میں کچھ نہیں کر پا رہا" وہ چلا چلا کر بول رہا تھا، اور بریک پر زور زور سے پاؤں مار رہا تھا
"گاڑی روک  آمش ، گاڑی روووووککککک۔۔  آمش گاڑی رووووکک۔۔۔" شایان چلا رہا تھا۔
"شایان ن ن ن کچھ کر یار گاڑی خود چل رہی ہےےےے۔۔۔ شایا ا ا انن ن ن" آمش کی چیخیں گونج رہی تھیں
دونوں بری طرح چلا رہے تھے اور ساتھ ہی مل کر ہینڈل کو موڑنے کی کوشش تو کبھی دروازہ کھولنے کی جدوجہد کر نے لگے، لیکن بے سدھ

آمش اور شایان نے اب کی بار خود کو ایک انجان راستے پر پایا ، جہاں نہ جانے گاڑی روڈ پر چل رہی تھی یا زمین سے اوپر تھی، البتہ دونوں جانب خطرناک حد تک اندھیراچھایا ہوا تھا، روشنی  کسی جگنو ئوں کے جھرمٹ کے مانند مختلف جگہوں سے ابھرتی اور ڈوبتی نظر آرہی تھی جس میں وہ  بمشکل ایک دوسرے کو دیکھ پا رہے تھے۔  اس کے علاوہ وہ  اس جگہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے،  گاڑی کی رفتار  ایک ہی جگہ رک گئی تھی اور گاڑی خود بخود چل رہی تھی۔
" تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" گاڑی کے عقب سے آواز ابھری  اور اتنی زور سے کہ خوف کے مارے ان دونوں کی آواز بند ہو گئی، اس آواز کی گونج  سنائی دیتی رہی ، گاڑی ایک ہی رفتار سے چلتی چلی جا رہی تھی ۔ یہ وہی خوفناک آواز تھی جو شایان آج دوسری بار سن رہا تھا۔ ایک لمحے کے لئے بھی دونوں نے ہمت نہ ہاری اور گاڑی کو موڑنے اور روکنے کی کوششوں میں لگے رہے جو کہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھی۔
دونوں نے زور زور سے جو بھی آیات ِ قرانی  یاد تھی پڑھنا شروع کر دیں اورانہیں اپنی موت کا پورا یقین  ہو چکا تھا ۔
یہ ایسی انجان جگہ تھی جو ان کے حساب سے کوئی عام راستہ یا روڈ نہیں تھا، کچھ ایسی جگہ جو  نا قابل بیان تھی۔
اور ایک لمحہ ایسا آیا جب ان دونوں کو ہی گاڑی کے سامنے ایک عورت اور بچی دکھائی دئیے، وہ سامنے روڈ کراس کر رہے تھے اور گاڑی انہی کی جانب بڑھ رہی تھی، آمش نے اپنی پوری قوت سے گاڑی کا ہینڈل گھمایا لیکن گاڑی پھر بھی ان سے ٹکراتی ہوئی آگے جا نکلی ۔ یہ منظر شایان بھی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس کے لب سل گئے تھے۔
اس کے فوراً بعد ہی ایک بار پھر مکمل اندھیرا  ہونے لگا۔
آمش نے گھر کے دروازے کے عین سامنے گاڑی کا بریک مارا تھا۔
حقیقتا آمش کا پیر بریک سے ہٹا ہی نہیں تھا اور اس  اندھیرے  کی زد سے نکلتے ہی بریک نے کام کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ وہ  راستے میں ہونے کی بجائے اب آمش کے گھر کے سامنے موجود تھے۔
شایان اب تک آوازیں اور وہ جگہ اپنے ارد گرد محسوس کر رہا تھا اچانک بریک لگنے سے ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔
وہ دونوں پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی جانب اور کبھی سامنے گھر کے  دروازے کو  بے یقینی کے عالم میں دیکھنے لگے، گویا  وہ کسی خواب سے جاگے ہوں۔
دونوں بہت دیر تک بنا کوئی بات کئے گاڑی میں ہی بیٹھے  اپنی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے ۔
"یہ کیا ہوا آمش" شایان  کی لرزتی آواز نے خاموشی کی دیوار گرائی۔
"لگتا ہے  کوئی ہمارا گھر میں انتظار کر رہا ہے" آمش ایک گھری سانس لے کر کہا۔
معلوم ہوتا تھا وہ کسی بہت بڑے خطرے کو محسوس کر رہا ہو اور خود کو اس کے لئے تیار کر رہا ہو۔
گاڑی سے اتر کر  اس کے دروازے کے ساتھ  کھڑا ہو گیا ، گہری سانسوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اپنے گھر پر نظریں جمائے کسی گھری سوچ میں ڈوبا ہوا لگ رہا تھا۔
وہ ایک خوبصورت بنگلے نما گھر تھا، دروازے سے اندر گھستے ہی کار پارکنگ کی جگہ ، الٹے ہاتھ پر چھوٹا سا گارڈن  ۔ باہر سے نظر آنے والی اوپری منزل  جہاں اس کا کمرہ تھا  اور ساتھ بالکنی ، اس سے اوپر چھت جس کی دیوار اسے باہر سے نظر آرہی تھی۔ 
دیواروں پر انگور کی بیل چڑھی ہوئی تھی اور اس میں ہرے اور پیلے گوشے لٹک رہے تھے۔آج اپنے گھر کو وہ کچھ عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی جنگ لڑنے اس گھر میں داخل ہونے والا ہو، حقیقت بھی کچھ الگ نہ تھی، جو حالات اور وقت اس کا گزر رہا تھا اس کے لئے کسی جنگ سے کم نہیں تھا۔
" کیا سوچ رہا ہے آمش" شایان گاڑی سے نکل کر اس کے پاس آچکا تھا۔
"یار آج میں اپنے ہی گھر میں گھسنے سے ڈر رہا ہوں" آمش کی آواز مدھم اور روہانسی تھی۔
"جو کچھ ابھی ہمارے ساتھ ہوا ہے، کیا وہ حقیقت تھی؟ یہ ہمارا کوئی وہم یا خواب" شایان نے آمش کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے گھر کی جانب نظر دوڑا کر پوچھا۔
"میں نہیں جانتا وہ  خواب تھا یہ ہمارے دماغ پر کسی کا قبضہ، میں نے یہ جانا کہ اس جگہ داخل ہونے سے پہلے ہم راستے میں کسی اور جگہ تھے اور اس سے نکل کر میرے گھر کے باہر۔۔۔ " آمش نے گہری سوچ کے ساتھ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا اور اس کی نظریں اب تک سامنے گھر پر ٹکی ہوئی تھیں۔
"آمش۔۔۔" شایان نے سوچتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
"ہممم" آمش نے سوالیہ انداذ میں بنا اس کی جانب دیکھے کہا
"چل یار واپس چلتے ہیں، میرے گھر رک جاتے ہیں" شایان نے ڈرتے ڈرتے اپنے  اندر کا خوف باہر نکالا۔
" کچھ نہیں ہوگا، آ جاؤ" آمش یہ کہتا ہوا چلنے لگا
گھر میں داخل ہو کر  اس نے تمام لائٹس آن کیں اور شایان کے ساتھ مل کر کمروں میں موجود سی سی ٹی وی کیمرے اور ان کی سمت  اور  کوریج  جگہ کا اچھی طرح  معائنہ کیا۔
سی سی ٹی وی کیمرے گھر کے باہری حصے سمیت  دو تین خاص  آمدورفت کی جگہوں کو کور کئے ہوئے تھے۔
رکنے اور رات سونے کے لئے گراؤنڈ فلور پر موجود ہال نما کمرے کا تعین کیا جہاں کیمرہ ایک کھلے حصے سمیت کچن اور  دیگر حصے بھی کور کر رہا تھا۔
"میرا خیال ہے یہ ٹی وی لاؤنج کی جگہ ٹھیک رہے گی جہاں صوفے ہیں، ہم ادھر ہی رات سوتے ہیں جس سے کیمرے کی زد میں رہیں گے" شایان نے اچھی طرح سب جگہیں دیکھ کر اپنا مشورہ پیش کیا۔
"ہاں جگہ تو صحیح ہے لیکن ادھر ایک صوفہ ہے ، ہمیں چھوٹے صوفے ہٹا کر ادھر بھی سونے کی جگہ بنانی ہوگی" آمش نے جگہ کا معائنہ کرتے ہوئے کہا۔
"یار تیرے گھر میں کوئی فوم کا گدا ،یہ بستر وغیرہ ہو تو وہ لے آ، میں زمین پر اسے بچھا کر سو جاؤنگا" شایان نے یہ کہ کر مشکل آسان کر دی۔
آمش  بستر لا نے کی غرض سے اپنے روم کی طرف اوپر چلا گیا جب کہ شایان ادھر ہی ٹی وی آن کر کے صوفے پر پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا۔
اوپر فلور پر آمش لائٹس آن کرتا ہوا سٹور نما کمرے میں بستر لینے کی غرض سے چلا گیا جبکہ شایان نیچے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
اسٹور کی طرف ان کا جانا بلکل نا جانے کے برابر تھا، ادھر کبھی انکا کام ہی نہیں پڑتا تھا۔ جونہی آمش اسٹور روم کی طرف بڑھ رہا تھا اس کے ڈر میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ  ان حالات کے اتنا زیر اثر تھا کے اسے ہر لمحے اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔
نہ جانے کیوں اس کے قدم اسٹور روم جاتے جاتے رک گئے ۔
"شایان ن بات سن" اس نے اوپر سے ہی شایان کو آواز دے کر بلایا
کچھ دیر میں شایان اس کے ساتھ اوپر موجود تھا
"یار یہ اسٹور روم میں کچھ سونے کے گدے اور بستر چادریں وغیرہ ہیں، چل آ اندر سے نکالتے ہیں" آمش نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے  اسے اپنے ساتھ لیا
شایان بھی اس کو بلانے کا مقصد سمجھ چکا تھا بنا کچھ بولے لیکن ڈرتے ڈرتے اسٹور روم کی طرف بڑھ گیا۔
دونوں نے ڈرتے ڈرتے اسٹور روم کا دروازہ کھولا چونکہ وہ کئی مہینوں سے  کسی نے کھولا تک نہیں تھا۔
کھولتے ہی  ڈر کی ایک لہر ان کے جسم میں دوڑی ، اندر مکمل اندھیرا  تھا ، فوراً لائٹ کا سوئچ دبایا لیکن وہ نہیں جلی۔
"یار یہ لائٹ خراب ہے یہ ابھی ہی نہیں جل رہی" شایان نے دروازے سے کچھ فاصلہ اپناتے ہوئے پوچھا۔
"خراب ہو گئی ہے یار، موبائل کی ٹارچ جلا" آمش نے ڈر پر قابو پاتے ہوئے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کی اور شایان کو بھی آن کرنے کا کہا۔
کچھ جدو جہد کے  کے بعد اسے شایان کے مطابق بستر مل گیا جسے کاندھے پر لئے آمش اسٹور روم سے نکلنے لگا، جوں باہر کی جانب ایک قدم اٹھایا اسے پیر میں کچھ بہت زور کا چبھا جس سے اس کی چیخ نکل گئی۔
" کیا ہوا آمش کیا ہوا" شایان نے ایک دم گھبرا کر لائٹ اس کے پیروں کی طرف کی جس میں سے خون نکل رہا تھا۔
"کچھ چبھ گیا ہے یار" آمش نے کراہتے ہوئے  بتایا اور لنگڑاتے ہوئے چلنے کی کوشش کی  کے اچانک اس کی نظر قریب پڑے شیشوں پر پڑی۔
ان پر روشنی ڈال کر غور کیا تو اس کے  ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
یہ وہی کانچ کا  جگ تھا جو چھت پر  چائے کے بعد وہ دونوں چھوڑ کر آئے تھے اور اس کے ٹوٹنے کی آواز پر بابا صلاح الدین کو اوپر بھیجا تھا۔
آمش نے فوراً وہ خیال اپنے ذہن سے جھٹکا اور اور جلدی سے لنگڑاتے ہوئے وہاں سے فوراً باہر نکل گیا۔
زخم پر پٹی وغیرہ لگا کر وہ دونوں  کچھ ٹائم بعد نیچے موجود تھے۔ رات ساڑے گیارہ  بجے کا وقت تھا اور انکا سونے کا معمول ایک بجے سے پہلے کا نہیں تھا۔
 ٹی وی لاؤنج کی جگہ پر چھوٹے صوفے ہٹا کر  ایک بستر ڈال دیا تھا اور شایان کا صوفے پر سونے کا ارادہ تھا۔
اپنے اطمینان کے لئے دونوں نے سی سی ٹی وی کی کی فوٹیج بھی دیکھ کر اطمینان کر لیا کے جس جگہ دونو ں سو نے جا رہے  ہیں وہ کیمرے میں اچھی طرح آرہی ہے۔
" پرفیکٹ ہے یار، کیمرے میں تو  کچھ بھی ہوگا وہ نظر آجائے گا، لیکن اتنا کافی نہیں ہے، ہمیں کچھ اور بھی انتظام کرنا چاہئے تاکہ کسی طرح  کسی مسئلے سے بچ سکیں۔" شایان نے  کیمرہ چیک کرنے کے بعد ایک بار پھر اس جگہ آ کر دیکھا اور کچھ سوچ کر کہا
"کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو، لیکن ہم  کیسے بچاؤ کریں اور کیا ایسا کریں؟" آمش نے اس کی بات پر متفق ہوتے ہوئے کہا اور دونوں ایک بار پھر جگہ  پر غور کرنے لگے۔
"یار ایسا کرتے ہیں، ہم جہاں سو رہے ہیں اس کے آس پاس کی چیزوں کو ہٹا دیتے ہیں اور اپنے ارد گرد کچھ ایسا رکھیں کہ اس جگہ کوئی قدم رکھے تو پتہ چل جائے۔ کیمرہ اگرچہ ریکارڈ کرے گا لیکن بچاؤ کا بھی تو کچھ ہونا چائیے" شایان نے ایک گہری سوچ کے بعد مشورہ پیش کیا۔
کچھ دیر میں وہ صوفے کا رخ  کیمرے کے عین سامنے اور بستر بھی اس کے برابر میں ڈال کے  دوبارہ کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
" ایک کام اور کرتے ہیں۔ ہمارے بستر کے آس پاس جو جگہ ہے ادھر کوئی چیز زمین پر ڈال دیتے  جسے چھونے سے آواز پیدا ہو اور ہماری آنکھ کھل سکے۔"  آمش نے کمر پر ہاتھ رکھ کر  پاس کھڑے شایان سے کہا۔
قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی محنت کے بعد انہوں نے اپنی تسلی کے لئے بہت سے  انتظامات کر لئے تھے۔
سوفے اور بستر کے فوراً بعد ہی زمین پر چاروں طرف پاؤڈر چھڑک دیا تھا جس سے کسی کے چلنے پر اس کے نشان واضح ہونا ضروری تھا۔
پاؤڈر کے احاطے کے بعد زمین پر پلاسٹک کے شاپنگ بیگز   ایک دوسرے سے  باندھ کر زمین پر پھیلا دیئے تھے جس پر پیر رکھے بغیر کوئی  عام قدم لئے بستر یا صوفے تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
سب سے آخر میں پتلی رسیوں کےسہارے باندھ کر سٹیل کے برتن اس طور رکھ دیئے کے کوئی ان رسیوں کو چھوئے تو برتن گر جائیں۔
اپنے ان اقدامات پر وہ دونوں ساتھ ہی ہنس بھی رہے تھے لیکن خوف اپنی جگہ برقرار تھا۔
کچھ دیر ٹی وی دیکھنے اور باتیں کرنے کے بعد انہوں نے سونے کا فیصلہ کیا۔  اتنے دنوں کی تھکن اورحواس پر طاری  ان دنوں کے واقعات نے آمش کو کئی دنوں سے ٹھیک سے سونے نہیں دیا تھا۔ شایان  کی موجودگی کے باعث اس کے خوف میں قدرے کمی آگئی تھی ۔
"چل یار میں تو سوئونگا اب،بہت تھکن محسوس ہو رہی ہے اور کئی دنوں سے نیند بھی ٹھیک سے نہیں ہو پائی۔" آمش نے تھکن سے چور لہجے میں کہا
" اچھا تجھے  نیند آجائے گی؟" شایان نے بات کو ہلکے پھلکے انداز میں کہا
lets Try
" آمش نے مسکرا کر کہا" وہ دونوں جانتے تھے کے نیند آنا بہت مشکل ہے۔
کمرے میں لائٹس مکمل آن تھیں۔
دونوں  نیند سے بوجھل آنکھیں لئے بیٹھے ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے تھے ۔
تھک کر بلا اۤخر آمش صوفے پر  لیٹ گیا اور چادر منہ تک اوڑھ لی۔ اسے دیکھ کر شایان نے بھی سونے کا فیصلہ کیا اور روشنی کے باعث چادر اپنے منہ تک اوڑھ لی۔
ابھی ان دونوں کی آنکھ لگے کچھ وقت ہی گزرا تھا کے اچانک آمش کو اپنے احساس ہوا جیسے کسی نے اسے بری طرح جکڑا ہوا ہو، اسے لگا جیسے وہ کسی تنگ جگہ میں پھنسا ہوا ہو اور وہاں اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ سینے پر بھاری پن محسوس ہو رہا تھا اور وہ چاہ کر بھی خود کو ہلا نہیں پا رہا تھا۔۔ دل کی دھڑکن تیز اور سانسیں قریب  موجود شایان تک جا رہی تھیں۔ یکایک اس نے اپنے پیر کو جھٹکا دیا جو صوفے سے بہت زور سے ٹکرایا تھا۔ اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اسے خواب جان کر سکون کا سانس لیا۔
چادر چہرے سے ہٹ چکی تھی جو اس نے ایک بار پھر لینے کی غرض سے پکڑی ہی تھی کہ سامنےلگی ٹی وی سکرین پر نظر پڑی ۔
ٹی وی چل رہا تھا اور بلیک خالی سکرین موجود تھی، یہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل امڈ آئے، سر اٹھا کر شایان کی جانب دیکھا تو وہ سو رہا تھا ۔ آمش اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور ادھر اُدھر ٹی وی ریموٹ دیکھ رہا تھا، شایان سے کچھ دور بستر پر ہی اسے ٹی وی ریموٹ نظر آگیا جسے دیکھ کر اس نے ایک گہری سانس لی  اور یہ سوچ کر کے شایان کے پاس پڑا ہوا ریموٹ کا کائی بٹن اس سے نیند میں دب گیا ہوگا، وہ ریموٹ اٹھا کر آف کرنے لگا۔
ایک لمحے کے لئے اسے محسوس ہوا کے سکرین پر کوئی سنسان سڑک نظر آئی ہو، ساتھ ہی ٹی وی سے کوئی آواز بھی۔ آمش کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اسے اپنا وہم سمجھ کر وہ ریموٹ رکھ چکا تھا۔ سکرین اب بند تھی۔
آمش نے آس پاس کا مکمل جائزہ لیا اور زمین پر موجود پاؤڈر کو بدستور ویسے ہی  پایا۔
ایک بار پھر وہ منہ تک چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔
اب کی بار اسے شایان کے خراٹے کی آواز آرہی تھی جو  اسے  کچھ پریشان کرنے لگی  ۔ اس نے کروٹ بدل کر اپنا رخ صوفے کی پشت کی جانب  کر لیا۔
ابھی وہ ہلکی نیند میں گیا ہی تھا کے اسے اپنے پیر کی جانب  سے چادر اٹھتی محسوس ہوئی ، اس کا احساس اسے ٹھنڈی ہوا لگنے سے ہوا جو اس ہال میں موجود اے سی  کی تھی اور اس سے پہلے چادر کی وجہ سے اپنے پیر پر محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
آمش نے جونہی سر اٹھا کر دیکھا، چادر نیچے ہو گئی اور یہ ایک غیر یقینی چیز تھی، کیونکہ نہ ہی کمرے میں ہوا کا کوئی گزر تھا نہ ہی اے سی کی ہوا سے چادر اٹھ سکتی تھی۔
نیند  اب اس کی آنکھوں سے جاتی رہی  ۔
ایک بار پھر اسے خوف محسوس ہونے لگا۔
کچھ دیر سونے کی کوشش کر کے وہ ایک بار پھر اٹھا اور زمین پر موجود پاؤڈر کا کھڑے ہو کر معائنہ کرنے لگا۔ لیکن وہ ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے زمین پر ڈالا تھا، جس سے اسے تسلی ہوئی اور وہ ایک بار پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
قریباً آدھا گھنٹا گزرا ہوگا اور وہ پوری طرح نیند میں گیا بھی نہیں تھا کے اسے گھر کے باہر سے گاڑی کے اچانک زوردار بریک لگنے اور ٹائرز  سکریچنگ کی آواز آئی، یہ آواز اسے اپنے گھر کے باہر سے ہی آئی تھی اور اتنی تیز تھی کے وہ چونک کر اٹھ گیا۔
"شایان، اٹھ یار۔۔۔ شایان۔ جلدی اٹھ پلیز، مجھے کوئی آواز آئی ہے" وہ شایان کو جگانے لگا جو بے سدھ سو رہا تھا، اچانک ہڑبڑا کر اٹھا۔
" ابے کیا ہوا آمش " وہ گڑبڑا کر اپنا سر کھجاتے ہوئے پوچھنے لگا
" یار کوئی آواز آئی ہے باہر سے گاڑی کی چل یار دیکھتے ہیں، مجھے لگ رہا ہے ہمارے گھر کے باہر سے آئی ہے " آمش نے پریشانی کے عالم میں کہا
"سو جا یار  کچھ نہیں ہوا" شایان جو گہری نیند سے جاگا تھا کہہ کر دوبارہ لیٹ گیا
" چل یار پلیز شایان کچھ تو ہوا ہے۔۔ دیکھتے ہیں چل کر گاڑی کو۔۔ اٹھ پلیز" آمش اس کی منت کر رہا تھا لیکن اس بار شایان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
آمش خود کوجھوٹی تسلی دیتے ہوئے دوبارہ لیٹ گیا، باہر اکیلے جانے کی ہمت نہ تھی۔
اسے ڈر محسوس ہونے لگا جس کی وجہ سے اس نے منہ تک چادر ایک بار پھر اوڑھ لی تھی۔
اس نے محسوس کیا کے باہر کتوں کی بھونکے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے پہلے تک یہ آواز اکا دکا کبھی آرہی تھی لیکن اب وہ آوازیں تیز اور مسلسل آرہی تھیں۔
ایک انجانا خوف اسے کھائے جا رہا تھا۔
آمش ایک بار پھر صوفے پر اٹھ کے بیٹھ گیا اور کمرے میں نگاہ دوڑانے لگا۔
خوف اسے کھائے جا رہا تھا  لیکن اس کے پاس کوئی چارہ نا تھا سوائے واپس سونے کے۔
وہ ایک بار پھر لیٹ گیا۔
قریباً 10 منٹ گزرے ہونگے کے اسے  اپنے پیر پر کسی کے چھونے کا احساس ہوا، اس نے چونک کر اپنا پیر کھینچ لیا اور اس جانب دیکھنے کو تھا کہ کسی نے اس کا پیر زور سے پکڑ کر اسے شایان کی جانب کھینچا، وہ صوفے سے  لڑھک کر سیدھا شایان کے اوپر گرا  اور بدحواسی  دیکھنے لگا۔
یکایک اسے دوسرا جھٹکا لگا اور اسے پیر سے اتنی زور سے کھینچا گیا کہ وہ شایان کے اوپر سے ہوتا ہوا زمین پر رگڑتا ہوا  جانے لگا۔
"شایان بچا مجھے شایانن ن ن ن، روک مجھے شایان، بچا لے ۔۔ شایان۔۔ " وہ زور زور سے چلا کر شایان کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس سے پہلے کے شایان اس معاملے کو سمجھ پاتا  آمش کھنچتا ہوا اس کی پہنچ سے دور نکل چکا تھا۔
شایان  اس کے گرنے سے گڑبڑا کر اٹھ گیا تھا لیکن سنبھل نہیں پایا تھا ۔
آمش کو وہ طاقت بری طرح کھینچتے ہوئے لے جا رہی تھی، وہ زمین پر موجود پاؤڈر سے گزرتا ہوا  شاپنگ بیگز پر  اور اس کے بعد سیدھا دروازے کی طرف کھچتا چلا جا رہا تھا۔
حیرت انگیز طور پر اس سے  زمین پر موجود پاؤڈر اور شاپنگ بیگ بکھر گئے تھے جبکے آخر میں موجود رسی جو زمین سے اوپر تھی ہلی بھی نہیں، نہ ہی گھسیٹنے میں آمش کا ہاتھ بڑھ کر اس تک پہنچا تھا۔
 کمرے کا دروازہ خود بہ خود کھل گیا تھا اور آمش دروازے سے باہر کی طرف بے دردی سے کھنچے جا رہا تھا۔
وہ مسلسل چلا رہا تھا اور اسی دورا ن شایان اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگا
"شایان بچا لے مجھے پلیز شایان۔۔ شایان۔" وہ بری طرح چلا رہا تھا اور شایان اس کا نام لیتا ہوا اس کی طرف بھاگ رہا تھا۔
آمش اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود خود کو نہیں روک پا رہا تھا ۔
گھر سے نکل کر داخلی راستے سے ہوتا ہوا وہ باہر کی طرف کھنچ رہا تھا ۔ اس  دل لرزا دینے والی چیخیں دور دور تک سنائی دے رہی ہونگی۔
شایان  نے کمرے سے نکل کر تیزی سے بھاگ کر آمش کا ہاتھ بلاآخر تھام لیا اور بیرونی دروازے سے کچھ فاصلے پر اسے روکنے میں کامیاب ہو گیا۔
آمش کے پیر سے گرفت اب ڈھیلی ہو چکی تھی اور وہ خود اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، ساتھ ہی شایان نے اسے سینے اور کمر سے پکڑ کر  اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔
رات کے ساڑھے چار کا وقت ہو رہا تھا اور سناٹے نے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔
اس سب کے دوران کتوں کی بھونکنے کی آوازیں  ایک بار پھر بہت بڑھ گئی تھیں۔
شایان پلٹ پلٹ کر پیچھے دیکھتا اور اسے سہارا دیتا ہوا  گھر میں جلدی سے داخل ہوا اور اسے صوفے پر لا کر بٹھا دیا۔ ساتھ ہی دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔
اس سب کے دوران شایان کے ٹکرانے سے وہ برتن اپنی جگہ سے نیچے گرے ہوئے تھے ۔
آمش  کا جسم اور چہرہ زخمی ہو چکا تھا اور جگہ جگہ سے رگڑ کے باعث خون بہہ رہا تھا۔
"چل شایان ۔۔۔ چل ۔۔ یہاں سے چل یار۔۔" آمش نے بمشکل بولنے کی کوشش کی لیکن اس کی حالت اسے اجازت نہیں دے رہی تھی۔
کچھ دیر سانس بحال کر کے دونوں نے اوپر کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا، آمش شایان کی مدد سے بمشکل چلتا ہوا اوپر تھا آیا اور شایان نے اسے بیڈ پر لٹا دیا۔
آمش کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ اس تمام واقعے میں شایان نے پوری ہمت سے کام لیا اور شایان کا بھرپور ساتھ دیا ۔
دونوں صبح کا انتظار کر رہے تھے تاکہ کسی ہسپتال جا سکیں ، شایان نے ہلکی پھلکی  فرسٹ ایڈ دے دی تھی جس سے آمش اب قدرے بہتر محسوس کر رہا تھا۔
صبح سات بجے تک وہ دونوں  وہیں بیٹھے رہے  اور جب مناسب روشنی ہونے کے بعد ہاسپٹل جانے کا فیصلہ کیا۔
شایان کپڑے چینج کر کے تیار ہو چکا تھا جبکے آمش ابھی تک بیڈ پر ہی لیٹا ہوا تھا۔
" چل یار آمش ہمت کر تھوڑی، چینج کر پھر چلتے ہیں" شایان نے کھڑکی سے باہر جھانک کر کہا جہاں سے اب روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔
آمش کہنیوں، گھٹنوں پر تکلیف  کے باعث جو اسے کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیوں پر رگڑنے اور ٹکرانے سے ہو رہی تھی ، بمشکل چل پا رہا تھا۔
واش روم کا دروازہ لاک کئے بنا ء ہی وہ بند کر کے اندر گیا تھا۔
حاجت سے فارغ ہو کر کپڑے بدل کر وہ اب باتھ روم میں موجود آئینہ دیکھ رہا تھا ۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ زندہ تھا جس پر وہ دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا۔
چہرہ کئی جگہ سے چھل گیا تھا  اور زخم کے نشان واضح تھے۔ وہ خود کو بغور دیکھ رہا تھا۔
چہرہ آئینے کے قریب کر کے اس میں کبھی اپنے ماتھے اور آنکھوں کے گرد زخم دیکھتا تو  کبھی  اپنی کہنیوں پر لگے زخم اور کبھی شرٹ اوپر کر کے کمر پر دیکھنے کی کوشش کرتا۔
اسی اثناء میں اسے ایسا محسوس ہوا جیسے باتھ روم میں کوئی اور بھی موجود ہو۔
وہ ایک لمحے کے لئے سوچنے لگا، لیکن پھر پلٹ کر دروازہ چیک کیا جو کھلا تھا۔
وہ ایک بار پھر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا جو چوٹوں کے علاوہ تھکن اور نیند کے پورے نہ ہونے سے پر مزدہ معلوم ہو رہا تھا۔
اس نے اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور ایک زخم اسے کچھ گہرا معلوم ہونے لگا۔ پانی اور ہاتھ لگانے پر اس سے ہلکا سا خون نکلنے لگا ۔
آمش نے ہاتھ لگا کر چیک کیا اور جونہی اپنے ہاتھ پر نظر پڑی وہ حیران رہ گیا۔
اس کا ہاتھ خون سے بھرا  ہوا تھا۔
آمش کے ہوش یہ دیکھ کر اڑ گئے۔
آئینے میں دیکھا تو وہاں معمولی سا خون محض اسی جگہ تک محدود تھا۔
آمش نے اپنا ہاتھ ایک بار پھر دیکھا اور اس کا دہل کر رہ گیا ، اس کا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔
ایک بار پھر آئینے میں نظر دوڑائی  اور اسے اپنا چہرہ کچھ غیر معمولی لگنے لگا۔
آمش نے قریب ہو کر  دوبارہ  خود کو دیکھا۔۔
آئینے میں موجود اس کا عکس اب ایک جگہ رک گیا تھا۔
وہ نا سمجھی کی کیفیت میں دوبارہ پیچھے ہٹا ، اور دوبارہ چہرہ قریب کیا مگر اس کا عکس ایک جگہ تھم کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آمش نے مزید غور کرنا شروع کیا اور اپنا چہرہ سامنے دیکھتے ہوئے ادھر ادھر ہلایا لیکن آئینے میں موجود وہ عکس اس کا کچھ دیر پہلے کا تھا جب وہ ایک مناسب دوری سے خود کو دیکھ رہا تھا۔ بے ساختہ اس کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی  اور اس پر خون اب موجود نہ تھا۔
ایک بار پھر اس نے نظر اٹھا کر آئینہ دیکھا۔
اس کا عکس  اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
==============================چار راتیں
قسط نمبر 7
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
بقلم : فیضان احمد
آمش چند لمحوں تک بے یقینی کے عالم میں اسے ہی دیکھتا رہا، مختلف زاویے بدل کر اور جسم کو حرکت دے کر سامنے دیکھتا رہا لیکن اس کا عکس ایک ہی انداز میں منجمد اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ خوف سے بھرپور تھی۔
"تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" دیکھتے ہی دیکھتے آئینے میں موجود آمش نے زبان کھولی  اور آواز وہی والی تھی۔
آمش ایک چیخ کے ساتھ تیزی سے باہر کی طرف دوڑا اور سیدھا کمرے میں موجود شایان کے پاس پہنچا، وہ آمش کی چیخ سے جاگ چکا تھا۔
"کیا ہوا آمش؟ " اس نے گھبرا کر تجسس سے پوچھا۔
" یار پھر کوئی ہے وہاں باتھ روم میں" آمش نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔
ماحول ایک بار پھر پر اسرار اور خوف کی لپیٹ میں تھا۔
شایان نے دبے قدموں باتھ روم کی طرف رخ کیا۔
دھکا دے کر دروازہ کھولا اور سامنے منظر دیکھ کر دونوں کے ہوش گم ہو گئے۔
واش بیسن کے اوپر موجود آئینہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر" تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" کے الفاظ خون سے تحریر تھے۔
یہ منظر آمش نے بھی دور سے دیکھا اور دونوں سر پٹ باہر کی طرف دوڑے۔
گاڑی ہسپتال کے باہر رکی تھی اور وہ دونوں ننگے پیر گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہو گئے۔
ہسپتال میں موجود لوگ حیرت سے انہیں اور وہ دونوں خوف سے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔
ہسپتال میں ڈاکٹر کو ایکسیڈنٹ کا بہانہ کر کے ٹریٹمنٹ  لی اور کچھ گھنٹوں میں دونوں شایان کے گھر میں اسی کے کمرے میں موجود تھے۔
"تو ایسا کر کچھ دن میرے ہی گھر ٹہر جا، اور ہم  کسی عامل سے رابطہ کر تے ہیں تاکہ اس مشکل کا کوئی حل نکل سکے۔" شایان نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہا
آمش سوچ میں ڈوبا بیڈ پر بیٹھا تھا محض سر ہلا کر رہ گیا۔
شام کے قریب دونوں ایک عامل سمیت  گھر کے باہر موجود تھے۔
گھر میں داخل ہوتے ہی ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نیچے لاؤنج میں ہر چیز اپنی پرانی ترتیب پر موجود تھی۔
آمش اور شایان کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا ۔
ادھر تمام چیزیں بلکل پہلے جیسی تھیں۔ نہ تو کوئی پاؤڈر ، نہ تھیلی، نہ رسی، صوفے اپنی پہلے والی جگہ پر  موجود تھے۔
شایان اور آمش حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
اسی دوران آمش کو اوپر کچن کی طرف سے کسی آواز نے متوجہ کیا
"تو نے سنا، کچھ آواز آرہی ہے اوپر سے" آمش نے شایان کے قریب ہو کر کان میں سرگوشی کی۔
"ہاں لگ تو مجھے بھی ایسا ہی رہا ہے لیکن۔۔۔۔" شایان اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔
ایک لمحے کے لئے وہ دونوں رک کر اوپر سے آنے والی آواز پر غور کرہی رہے تھے کے ساشہ کی آواز سنائی دی۔ وہ حمنہ کو پکار رہی تھی۔
دوسری آواز حمنہ کی تھی جسے سن کر آمش نے اوپر کی طرف دوڑ لگائی اور سیدھا کچن کی طرف بھاگا جہاں لائٹ جل رہی تھی۔
ساشہ ادھر پہلے سے موجود کچھ کام کر رہی تھی ، آمش کو دیکھ کر پلٹی۔
" تم یہاں کیسے؟ اور کب آئی ہو" آمش نے ساشہ کو دیکھتے ہی سوال داغ دیئے۔
"میں کب آئی ہوں؟ ہیں، کیا ہو گیا آمش!!" ساشہ نے جواب حیرانگی  سے دیا۔
"ہاں تم! تم ادھر کب اور کس کے ساتھ آئی ہو ساشہ" آمش کے ذہن کو خیالات کے ایک نئے طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
"کیا ہو گیا ہے آمش، آپ ہی نے  بلوایا ہے دوپہر کو، حماد کے ساتھ آئی ہوں، اور اب آپ یہ کیسے سوال کر رہے ہیں"  ساشہ نے  ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بتایا
"میں نے بلوایا ہے؟ " آمش نے بغور ساشہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
"جی بھئی، آپ ہی نے تو فون کیا تھا کے گھر آجاؤ  " ساشہ نے ہاتھوں کو ہوا میں اٹھا کربات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
"میں نے بلوایا؟؟؟؟؟؟؟؟" آمش نے سوال پر زور ڈالا۔
"آپ نے دوپہر کو فون کر کے بلایا نا" ساشہ  اب کی بار آمش کے اس طرح پوچھنے پر کچھ پریشان نظر آئی تھی۔
ادھر آؤ، آمش اس کا بازو پکڑ کر کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ گیا۔
کمرے میں حمنہ پہلے سے موجود اپنے ٹیبلٹ سے کھیل رہی تھی۔ یہ دیکھ کر آمش پر حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹا تھا۔
آمش ساشہ کو کمرے میں ایک طرف حمنہ سے دور لے کر گیا  اور اس سے پوچھ گچھ کرنے لگا۔
"ساشہ ! مجھے پوری بات بتاؤ، کب بلایا، کیا ہوا، کس کے ساتھ آئی ہو تم، ایک ایک بات" آمش نے حیرت کو دھکیل کر انتہائی پریشان کن انداز میں پوچھا تھا۔
"دوپہر کو آپ نے بلایا تھا اور میں آگئی  حماد کے ساتھ ادھر" ساشہ نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔
" نہیں ساشہ، مجھے ایک ایک بات بتاؤ ورڈ ٹو ورڈ، فون آنے سے اب تک " آمش نے کہا
"آپ نے دوپہر کو فون کیا تھا نا، پھر کیوں پوچھ رہے ہیں؟" ساشہ نے نہ سمجھتے ہوئے کہا
"ساشہ میں نے کوئی فون نہیں کیا تمہیں، تمہارے پاس کیا فون آیا ، کیا بات ہوئی مجھے یہ بتاؤ" آمش نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا
ساشہ کے چہرے پر ڈر منڈلانے لگا تھا۔
"مطلب وہ فون آپ نے نہیں کیا تھا" ساشہ نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔
" تم  اس کو چھوڑو، کتنے بجے فون آیا، کیا بات ہوئی، پھر یہاں آ کر کیا ہوا مجھے یہ سب بتاؤ ساشہ پلیز فور گاڈ سیک" آمش نے جھنجلاتے ہوئے پوچھا تھا
"آپ کی ساڑھے بارہ بجے کال آئی تھی، اور آپ نے کہا ساشہ تم کسی کے ساتھ آسکتی ہو، میں نے آپ سے پوچھا کیوں، تو آپ نے کہا میری طبیعت کچھ خراب ہو رہی ہے تم جلدی سے آجاؤ، میں نے آپ سے پوچھا طبیعت کا لیکن آپ نے کہا بس تم گھر واپس آجاؤ اور میں پھر حمنہ کو لے کر واپس آگئی" ساشہ روانی سے بتا کر  رکی۔
"پھر ، پھر؟ یہاں کیا ہوا؟" آمش نے جھٹ سے سوال کیا
" پھر ، آپ ہی نے بتایا کے طبیعت ٹھیک نہیں ہے سر میں درد اور گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے" ساشہ نے بتایا
"پھرر ر ر" آمش نے فوراً پوچھا۔
ساشہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
"یہ آپ کو کیا ہو گیا ہے۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں آمش، کیسے بی ہیو کر رہے ہیں" ساشہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
"ساشہ دیکھو، میں نے تمہیں چھوڑتے ہوئے بتایا تھا  کچھ مسئلے ہو رہے ہیں۔ اور ابھی بھی ہم مسئلے کی زد میں ہیں، مجھے تم آگے بتاؤ، ایک ایک بات جو تمہاری مجھ سے ہوئی ہے دوپہر سے اب تک " آمش ماتھے پر پسینہ لئے ہوئے پوچھ گچھ کر رہا تھا۔
ایک دم کسی خیال کے آتے ہی باتھ روم کی طرف گیا اور اندر آئینے کو جھانکا، اور واپس آگیا۔
آئینہ بلکل صحیح تھا۔
"کیا ہوا" ساشہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
"پھر کیا ہوا، ہماری کیا بات ہوئی تھی؟" آمش نے اپنا سوال دہرایا۔
"آمش ۔۔ دیکھیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ پلیز مجھے  بتائیں کیا ہوا ہے، آپ ایسے کیوں بی ہیو کر رہے ہیں، ابھی آدھے گھنٹے پہلے تک تو ٹھیک تھے نہ آپ۔" ساشہ نے ڈرتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہٹ کر کہا۔
"آدھے گھنٹے پہلے!!" آمش نے حیرانگی سے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
"جی آدھے گھنٹے پہلے تو آپ ٹھیک تھے اور ضروری کام کا کہہ کر گئے تھے" ساشہ نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔
آمش نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا۔آنکھوں پر ہاتھ رکھے سر نیچے جھکاکر وہ کچھ دیر تک ایسے ہی بیٹھا رہا۔
"ساشہ تمہارے گھر آنے سے اب تک، تمہاری مجھ سے جو جو بات ہوئی ہے اور جو جو ہوا ہے وہ بتاؤ مجھے" آمش ایک بار پھر گھبرائی ہوئی ساشہ کے پاس واپس آیا اور اسے دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کر کے سرگوشی کے انداز میں سوال کیا۔
"میں گھر پر واپس آئی ، تو آپ بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے، پھر آپ نے کہا سر میں درد ہو رہا ہے اور گھبراہٹ ہو رہی ہے تومیں نے آپ کو ٹیبلٹ دی اور سونے کا کہا" ساشہ ڈری ، سہمی آمش کو بتانے لگی۔
" پھر پھر ، پھر" آمش نے تجسس اور حیرانگی سے جلد پوچھا
"پھر آپ سو گئے  اور ایک دو گھنٹے بعد اٹھے" ساشہ نے بتایا
"پھر ، پھر؟ ساری بات بتاؤ ایک ایک لفظ بہ لفظ " آمش نے  زور دیتے ہوئے کہا
"جب آپ اٹھے تھے تو میں نے کھانے کا پوچھا اور آپ نے منع کر دیا، پھر میں نے آپکی طبیعت پوچھی آپ نے کہا بہتر لگ رہا ہے۔پھر آپ سے کھانے کا پوچھا ، آپ نے کہا بھوک نہیں ہے، پھر میں نے آپ سے پوچھا کے آپ کو کیا ہو گیا ہے، کیا ہو رہا ہے آپ کے ساتھ۔۔۔" ساشہ روانی میں بتاتے ہوئے ایک دم رکی۔
" آمش۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ پلیز پہلے بتائیں، آ پ کیوں یہ سب پوچھ رہے ہیں۔۔ کس نے مجھے فون کیا تھا؟ اور آپ کو کیا ہوا ہے، آپ ہمارے بیچ ہوئی باتیں ہی واپس کیوں پوچھ رہے ہیں" ساشہ نے  پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔
"ساشہ، میری بات غور سے سنو، میں تم سے یہ سب اس لئے پوچھ رہا ہوں، کے وہ میں نہیں تھا جس نے تمہیں بلایا ہے اور جو یہاں تھا،  میں شایان کے ساتھ اس کے گھر پر تھا اور ابھی ہم ایک عامل کو لے کر آئے ہیں " آمش نے تسلی سے ساشہ کو بیڈ پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بتایا
"ک کک کیا مطلب، وہ آپ نہیں تھے تو کون تھا۔۔" ساشہ نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
" وہ سب تمہیں بتا دونگا، تم آگے بتاؤ جو جو بات ہوئی" آمش نے اسے تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا
" پھر میں نے پوچھا کیا ہو رہا ہے آپ کے ساتھ تو آپ نے کہا مجھے کوئی سائکلوجیکل مسئلہ ہو گیا ہے، میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوں اور مجھے علاج کروانا پڑے گا۔ پھر   وہ  آپ واش روم چلے گئے  اور میں کچن میں، پھر  میں کھانا وغیرہ بنایا اور آپ کو دوبارہ بلانے آئی تو آپ پھر سے سو رہے تھے۔ پھر ابھی آدھا گھنٹا پہلے  اٹھے اور کسی کام کا کہہ کر باہر چلے گئے، اور اب آپ واپس آ کر ایسی باتیں پوچھ رہے ہیں" ساشہ نے تقریباً رونے کے انداز میں یہ سب بتایا۔
" اچھا ٹھیک ہے، میرے ساتھ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوا ، البتہ  کچھ ان دیکھی چیزیں مجھے تنگ کر رہی ہیں، اور یہ سب ایک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے"  آمش نے اسے تسلی دی اور  ایکسیڈنٹ سے اب تک کی تمام بات کہہ سنائی۔
ساشہ بت بنی اس کی طرف دیکھتی رہی اور اس کی بات سنتی رہی ۔
چلو تم اب کمرے میں بیٹھو، میں نیچے جاتا ہوں  اور بتاتا ہوں کیا کرنا ہے۔
آمش ساشہ سے ملتے ہی نیچے کی طرف دوڑا اور اپنا فون ڈھونڈنے لگا جو اسے نیچے ٹیبل پر نظر آیا
کیا ہوا آمش؟ کون تھا  اوپر
"ساشہ ہے" اتنا کہہ کر وہ اپنے فون میں کچھ دیکھتا ہوا باہر نکل گیا
" ہیلو ، امی " آمش بات کر رہا ہوں
"جی بیٹا کیا ہوا کیسی طبیعت ہے آپکی؟ سب خیریت ہے نہ" دوسری طرف اس کی ساس موجود تھیں
"جی آنٹی طبیعت ٹھیک ہے اب، ساشہ سے بات ہو جائے گی؟" آمش نے پوچھا
"ساشہ سے؟ بیٹا اسے تو آپ نے بلایہ تھا وہ چلی گئی تھی حماد کے ساتھ دوسری طرف سے ساس کی آواز پریشان سی سنائی دی
"جی جی امی، وہ آگئی ہے گھر میں بس۔۔ چلیں بعد میں بات کرتا ہوں" آمش نے ان سے کنفرم کیا کہ جو گھر پر موجود ہے اس کی بیوی ہی ہے۔۔
"بیٹا ، کیا ہوا آپ نے خود بلایا تھا اور وہ تو کب کی چلی گئی پھر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ نہیں امی بس وہ  ۔۔ میں بس ایسے ہی۔۔ یہی پوچھ رہا تھا، میں گھر پر نہیں تھا ابھی تو واپس آکر دیکھا وہ نہیں تھی گھر، تو سوچا آپ سے پوچھ لوں اگر وہاں آئی ہو تو۔۔۔" آمش نے  ہچکچاتے ہوئے بات بنائی اور اپنی ساس کو تسلی دے کر فون بند کر دیا۔
شایان اور عامل ابھی تک اندر بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے۔
" کیا ہوا بھائی؟؟؟؟ سب خیر تو ہے نہ؟ ساشہ کس کے ساتھ آئی ہے" شایان نے واپس اندر آتے ہی اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
آمش نے ان کے ساتھ بیٹھ کر  ساشہ والی ساری بات تفصیلی انہیں بتائی ۔
عامل نے تمام باتیں  بغور سن کر  آمش سے گھر کا معائنہ کرنے کی اجازت چاہی۔
کچھ دیر میں وہ لوگ چھت اور اسٹور روم سمیت  تمام کمروں ، باتھ روم  وغیرہ کا معائنہ کر کے واپس اسی جگہ موجود تھے۔
"میں وہ ویڈیو فوٹیج بھی دیکھنا چاہونگا جو آپ نے کل رات ریکارڈ کی ہے" عامل نے  واپس اسی جگہ کہ ایک بار پھر بغور جائزہ لیا اور کہا۔
" اوہ ہاں، شایان وہ تو ہم چیک کرنا ہی بھول گئے" آمش نے چونکتے ہوئے کہا
وہ لوگ  نیچے موجود اس کمرے میں موجود تھے جہاں تمام کیمروں کا کنٹرول  سسٹم اور کمپیوٹر  وغیرہ موجود تھا۔
یہ ایک درمیانے سائز کا کمرہ نیچے فلور پر تھا جہاں کمپیوٹر ٹیبل کے ساتھ ایک کرسی اور   ایک طرف کتابوں کے لئے ایک مخصوص چھوٹا شیلف تھا۔
کمرے میں کمپیوٹر ٹیبل کے علاوہ بیٹھنے کی اور کوئی چیز موجود نا تھی۔
آمش نے پچھلی رات کی ویڈیو ریکارڈنگ وہاں سے سٹارٹ کی جب وہ  نیچے ہال میں بیٹھے کھانا کھا نا کھا رہے تھے۔
تمام ریکارڈنگ بلکل معمول کے مطابق تھی ۔
وہ لوگ ایک ہی سکرین پر 6 مختلف کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھ رہے تھے جو چھوٹے سائز میں نظر آرہی تھی۔
" یار اس کو فاسٹ فارورڈ میں چلا دے ، کہیں کچھ نظر آئے گا تو روک لیں گے" شایان نے مشورہ دیا
شایان اور وہ عامل آمش کی کرسی کے دائیں بائیں پشت پر ہاتھ ٹکا کر کھڑے ویڈیو دیکھ رہے تھے۔
"یار رک رک رک، ایک منٹ یہ کیمرا 3 کو بڑا کر" شایان نے ایک دم سکرین پر اشارہ کیا
"آمش نے کیمرا 3 کو فل سائز سکرین کر کے اب پھر کچھ پیچھے کی ریکارڈنگ سے سٹارٹ کیا تھا۔
رات 10:12  کا وقت کیمرے میں نظر آرہا تھا جب اچانک ریکارڈنگ میں کرسیاں ہلتی جلتی نظر آئیں۔
یہ ڈائننگ ٹیبل کے گرد موجود کرسیاں تھیں۔
آمش اور شایان  اس منظر کو دیکھ کر  خوفزدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے ، جبکہ عامل کے چہرے پر کوئی تبدیلی کے آثار نہیں تھے۔
کچھ دیر تک ویڈیو میں کرسیاں وقتاً فوقتاً یونہی حرکت کرتی نظر آئیں لیکن اچانک تمام کرسیاں ایک طرف  پھسل کر ٹیبل سے ایک ساتھ ٹکرائیں اور ساتھ ہی فانوس زور زور سے ہلنے لگا۔ اس منظر نے  دونوں کی دھڑکن بڑھا دی تھی، ابھی وہ اس منظر کو غور سے دیکھ ہی رہے تھے کے پیچھے سے آنے والی ایک آواز پر بری طرح چونک گئے۔
کتابوں کے شیلف سے کچھ کتابیں نیچے گری تھیں ۔
تینوں نے چونک کر وہاں دیکھا لیکن کوئی موجود نہ تھا۔
ویڈیو بدستور چل رہی تھی اور اس میں کرسیوں کی حرکت نظر آرہی تھی جو چند ہی لمحوں میں واپس  اپنی جگہ پر آگئی تھیں۔ ان تینوں کا دھیان اب ویڈیو سے ہٹ کر پیچھے لگ گیا تھا۔
آمش نے ویڈیو کو روک کر  اس طرف جانے کی ہمت کی ہی تھی کے عامل نے اسے ہاتھ سے روک دیا۔
وہ زیرِ لب کچھ پڑھتا ہوا نظر آرہا تھا۔
کمرے میں خوف اور سناٹا چھا گیا تھا۔ وہ تینوں بک شیلف کی طرف متوجہ تھے اور عامل کچھ پڑھنے میں مصروف۔
شایان اور آمش کو اندازہ ہو چکا تھا کے کمرے میں ان تینوں کے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہے۔
عامل نے  ان دونوں کو زمین پر وہیں اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارے سے کہا اور خود بھی بیٹھنے لگا، ابھی تینوں ٹھیک سے بیٹھ بھی نہ پائے تھے کے کمرے کا دروازہ بہت زور سے پوری طرح کھل کر دیوار سے ٹکرایا اور سامنے کتابوں کے شیلف میں ہل جل محسوص ہوئی، آمش بیٹھتے ہوئے کرسی کا سہارا لے رہا تھا کے اسے لگا کرسی اپنی  جگہ سے کھسک کے دور ہوئی ہے۔
شایان کی نظر جونہی کمپیوٹر اسکرین پر پڑی وہ آف تھی، اس نے آمش کو اشارے سے اس طرف  متوجہ کیا۔
ابھی وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کے زمین پر ان کے نیچے موجود قالین بہت زور سے دوسری جانب سے کھنچ گیا جس سے وہ تینوں بری طرح کمر کے بل گر  گئے۔
عامل جلد ہی اٹھ کر انہیں اپنے ساتھ بیٹھنے کا کہنے لگا، شایان تو فوراً سنبھلتا ہوا  پاس آ کر بیٹھ گیا، آمش اٹھنے ہی پایا تھا کے کمپیوٹر کی چیئر جو آفس چئیر کی مانند گھومنے  اور ٹائر والی تھی، یکایک گول گھومی اور تیزی سے آ کر عامل سے ٹکرائی، وہ اس کے لئے تیار نا تھا، کرسی لگنے سے ایک بار پھر دائیں جانب گر گیا۔
اپنا ہاتھ اور کندھا سہلاتا ہوا وہ دوبارہ اٹھا اور تیزی سے کچھ ورد کرتے ہوئے تینوں کے گرد انگلی سے حصار بنانے لگا۔
اس کی پڑھنے کی رفتار تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی۔
کمرے میں اس دوران ایک ہلچل سی تھی اور ہر چیز گاہے بگاہے حرکت میں آتی اور تھمتی رہی ۔
کچھ دیر بعد دھیرے دھیرے ہر چیز مکمل طور پر تھم گئی تھی اور شایان ، آمش نے عامل کو  سر جھکا کر کچھ پڑھتے ہوئے پایا۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے چپک کر ڈرے بیٹھے تھے۔
کبھی وہ کمرے میں چاروں طرف دیکھتے کبھی عامل کو، جو روانی سے کوئی چیز پڑھ رہا تھا۔

ایک جھٹکے سے وہ کچھ پڑھ کر رکا تھا اور پسینے سے بھیگ چکا تھا، آمش نے پانی لا کر پلایا
" آپ سے جس لڑکی اور بچی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے، وہ حقیقت میں تم سے نہیں ہوا، بلکہ کسی اور سے ہوا تھا" عامل نے اٹھ کر باہر جاتے ہوئے بتایا اور دونوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا
وہ باہر ہال میں آ کر بیٹھ گیا تھا ، اور سامنے آمش اور شایان بھی
" کیا مطلب حقیقت میں ہوا تھا؟؟" شایان نے بے صبری سے حیرت کا مظاہرہ کیا
" مطلب یہ کے، وہ لڑکی اور بچی اسی جگہ کسی سے ایکسیڈینٹ میں مارے گئے تھے، جس سے انکا ایکسیڈینٹ ہوا، وہ بھی آپکی طرح ان کی مدد کو نہیں رکا اور بھاگ نکلا، وہ کئی گھنٹوں وہاں تڑپتی رہی اور اپنی بچی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔تب سے وہ وہاں بھٹکتی رہتی ہے، اور جس نےانہیں مارا تھااسے قتل کر چکی ہے ، لیکن وہ دونوں اب اکثر لوگوں کو وہاں نظر آتے ہیں ،  اور  گزرنے والے کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں ، اگر اس نے اپنی گاڑی کو  خطرے میں ڈال کر انہیں بچا لیا پھر تو ٹھیک ہے ورنہ وہ ان کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔" عامل نے  کچھ توقف کر کے بتایا
"اور پھر؟؟؟؟" آمش نے جھٹ سے سوال کیا
" پھر وہ ان لوگوں کو مار کر ہی دم لیتی ہے" عامل نے صوفے پر پیچھے ٹیک لگاتے ہوئے بتایا
شایان اور آمش نے ایک گہری سانس چھوڑی تھی جس کے ساتھ ان کے خوف میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
ماحول پر یکایک سناٹا چھا گیا، آمش کبھی شایان کی طرف دیکھتا تو کبھی عامل کی طرف۔
"آپ کو اس کے لئے کچھ عملیات کرنے ہونگے" عامل نے گھری سانس لے کر کہا۔ اور یہ ویڈیو مت چلائیے گا۔
"عملیات مطلب؟ کہیں مجھے قبرستان میں چلہ کاٹنے، یہ کسی  جنگل میں جا کر کوئی عمل کرنے کا تو نہیں کہنے والے؟؟؟" آمش نے چونک کر سوال داغا
" نہیں نہیں، ایسا کوئی عمل نہیں ہے، آپ کو محض قرآنی آیات اور کلام اللہ پڑھنا ہے اپنے اور گھر کی حفاظت کے لئے، اور گھر میں ہی پڑھنا ہوگا۔" عامل نے انتہائی اطمینان سے مسکرا کر جواب دیا۔


ان تمام باتوں کو گزرے ڈیڑھ سال ہو چکا تھا، آمش ایک بار پھر اپنی پرانی بے  خوف اور پر سکون زندگی میں واپس آچکا تھا۔ عامل کے بتائے ہوئے وظیفے پڑھنا اس کا معمول بن گیا تھا ۔
چند  ماہ پہلے گھر تبدیل کر کے شہر کے ایک پوش علاقے میں منتقل ہو چکا تھا۔
اس تمام عرصے میں آمش کے ساتھ ایسا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نا آیا ، البتہ اس روڈ سے وہ بہت ضرورت کے وقت گزرتا تو اس کے ذہن میں  ایک فلم کی مانند وہ منظر گھوم جاتا،  اس راستے کو وہ بہت کم استعمال کرتا تھا۔"تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" یہ الفاظ آمش جب یاد کرتا دہل کر رہ جاتا۔
وقت  کے ساتھ وہ تمام باتیں اس کے لئے ایک قصہ بن گئی تھیں جو وہ دوسروں کو سناتا  اور سننے والوں کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ جاتے، جبکہ کچھ لوگ اسے کہانی اور ذہنی بیماری کا نام دیتے ۔
************************
آمش کے گھر کسی بھی وقت نئے مہمان کی آمد متوقع تھی، اسی سلسلے میں آمش کی ساس اس کے گھر رکی ہوئی تھیں۔
اس روز شام  7 بجے کا وقت تھا جب آمش  ساشہ کے پاس بیٹھا ہوا  باتیں کر رہا تھا اور اس کی ساس بھی قریبی  موجود تھیں۔بیل بجنے پر آمش دروازے کی جانب بڑھا  ۔
سامنے اپنے پرانے دوستوں کے گروپ کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا، اس کے یونی ورسٹی کے دوستوں نے آج اچانک ہلہ بول دیا تھا اور اس کے گھر پر ملنے چلے آئے تھے۔
یہ آمش کے ان دوستوں کا گروپ تھا جن کے ساتھ وہ صبح شام ، دن رات گھوما پھرا کرتا تھا، اتنے سالوں بعد اچانک اپنے سامنے انہیں دیکھ کر آمش کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
"کمینے ، اندر نہیں بلائے گا کیا؟؟" زوہیب نے سوال کیا
" ہاں ہاں ، کیوں نہیں" آمش دروازے سے ایک طرف ہوتے ہوئے کہا اور ایک ایک کر کے سب سے گلے ملنے لگا۔
وہ تمام دوستوں سمیت ڈرائنگ روم میں بیٹھا گپ شپ کرتا  رہا اور  چائے  کا دور چلا جبکہ کھانے کے لئے آمش نے گھر پر معذرت اور باہر کی آفر کی چونکہ اس کی بیوی کی حالت اس قابل نہ تھی۔
باتوں ہی باتوں میں پرانے گھر کا ذکر اور ایکسیڈینٹ والی بات بھی کھل ہی گئی۔
آمش نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ان دوستوں سے وہ نا چھپا سکا اور تمام بات انہیں بتانی پڑی۔
محفل پر سناٹے  چھا گیا ۔ " یار یہ سب انسان کا ذہنی دباؤ کا اثر ہوتا ہے، ان سب باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں" سلطان نے اپنے خیال کا اظہار کیا۔
"اوہ یار یہ صحیح کہہ رہا ہے، میرا موبائل فون کچھ عرصہ پہلے استعمال کرتے ہوئے خود بہ خود چلنے لگ جاتا تھا، میں ایک بار سکرین پر ہاتھ لگاتا اور وہ لگاتار خود ہی جیسے ٹچ ہوتا رہتا تھا،کبھی کوئی ایپ کھل جاتی، کبھی عجیب ٹائپنگ ہو جاتی، میں تو ڈر جاتا اور موبائل ہی بند کر دیتا تھا۔۔پھر ایک بندے کو دکھایا اور اس نے بتایا کے یہ ٹچ سکرین کا مسئلہ ہے، اسکرین میں لوزنگ کی وجہ سے خود کچھ حصے اندر ٹچ ہوتے اور الگ ہوتے رہتے ہیں، اور ہمیں لگتا ہے موبائل خود چل رہا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ " زوہیب نے اپنا تجربہ بتایا اور تمام دوست قہقہ مار کر ہنسنے لگے۔
وہ سب باتیں مزاق میں اڑانے لگے جبکہ آمش کے لئے وہ ایک حقیقت تھی جس کا وہ انکار نہیں کر سکتا تھا۔
"ابے لیکن اس کے کیمرے میں بھی  ریکارڈ ہوا ہے سب کچھ اس کا کیا مطلب ہے؟" فہیم نے بات نے سب کو خاموش کر دیا۔
"اچھا چل ویڈیو دکھا ہمیں" زوہیب نے چٹخارہ لیتے ہوئے آمش سے کہا
"نہیں یار چھوڑ، دفع کر " اس بار آمش نے بات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جو اس کے دوستوں کے سامنے کارگر ثابت نہ ہوئی اور سب ہی اس کے پیچھے پڑ گئے۔
کچھ دیر میں آمش اپنے ان دوستوں سمیت لیپ ٹاپ لئے بیٹھا تھا۔
ویڈیو چونکہ پرانی تھی اس لئے ریکارڈنگ ڈھونڈنہ مشکل تھا، سی سی ٹی وی میں بمشکل ایک ماہ کی ویڈیو کا ریکارڈ رہتا تھا۔
کاشف  نے اس موقع پر اپنے آئی ٹی  کے تجربہ کی بنیاد پر کسی نا کسی طرح وہ ریکارڈنگ ڈھونڈ نکالی جو آمش نے ایک کلپ کی صورت میں محفوظ کر رکھی تھی۔
کمرے کے وسط میں آمش صوفے پر لیپ ٹاپ اپنی گود میں لئے بیٹھا تھا جبکہ تمام دوست اس کے ارد گرد اور کچھ صوفے کے پیچھے کھڑے ہو ئے لیپ ٹاپ میں جھکے ہوئے تھے۔
وہ سب ویڈیو دیکھنے میں مصروف ہو گئے اور ماحول ایک بار سناٹا چھا گیا تھا۔
آمش  ویڈیو کے شروع سے ہی ایک انجانے خوف کی نظر ہونے لگا تھا۔
اس کے دوستوں میں کچھ حیران اور خوفزدہ تو کچھ وقتاً فوقتاً مزاق کر رہے تھے اور آنے والے منظر کے بارے میں پیش گوئیاں کر تے ہوئے آمش کا مزاق اڑا رہے تھے۔
 ویڈیو میں اب رات کا وقت شروع ہو چکا تھا  اور سب غور سے ریکارڈنگ دیکھنے میں مصروف تھے۔
اچانک ہی لیپ ٹاپ کا پلگ سوئچ بورڈ سے نکل کے گر گیا۔
"یہ کیا ہوا؟ " جواد نے  لیپ ٹاپ کی سکرین مدھم ہونے اور پلگ گرنے کی آواز پر کہا اور سب نے ایک ساتھ غور کیا کے لیپ ٹاپ کا پلگ نیچے گرا ہوا ہے۔
محض اتفاق سمجھ کر اسے واپس لگایا اور کچھ دیر میں وہ تمام دوست ایک بار پھر ویڈیو دیکھنے میں مصروف تھے۔
آمش کے ذہن میں پلگ نکلنے سے ایک کھٹکا ہوا تھا لیکن ویڈیو کا یہ حصہ اس نے بھی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا جسکی وجہ  سے اس کی دلچسپی  ظاہری تھی۔
آمش  نے ویڈیو میں محسوس کیا کے اس رات جو واقعات پیش آئے تھے اس میں کئی چیزیں جو اس نے محسوس تک نہ کی تھیں وہ ریکارڈنگ میں شامل تھیں۔
رات کے اس پہر جب آمش کی چادر پیر سے سرکی تھی، اس سے چند لمحوں پہلے زمین پر موجود شایان کا ایک پیر  کچھ دیر کے لئے ہوا میں اٹھا تھا جو یقیناً کچھ عجیب تھا ۔
اس  کے بعد ویڈیو میں ٹی وی سکرین خود روشن ہوتی نظر آئی۔
کچھ لمحے بعد فانوس میں حرکت ہوتی نظر آئی۔
سب بغور ویڈیو کو دیکھنے میں مصروف تھے اور وہ وقت آگیا جب آمش صوفے سے نیچے گرا تھا، یہ منظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
اسے باقاعدہ پیر سے پکڑ کر کھنچتا ہوا دیکھ کر سب دوستوں کے ہوش اڑنے لگے تھے۔
اس سے پہلے کے وہ مزید آگے تک کچھ دیکھ پاتے، کمرے میں موجود پنکھا اچانک چلتے ہوئے نیچے آیا تھا۔
پنکھے کا یوں اچانک جھٹکے لے کر چلتے چلتے  رکنا  اور اچانک نیچے گرنا سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آمش اور دائیں بائیں موجود دو دوست جو صوفے پر پیر لمبے کر کے بیٹھے تھے فوراً اپنے پیر کھینچ کر بمشکل  بچا سکے تھے۔
بچنے کی اس کوشش میں لیپ ٹاپ نیچے گر کر بند ہو گیا تھا اور ساتھ ہی اس کا تار جو سوئچ بورڈ میں لگا ہوا تھا کھنچ کر باہر آگیا تھا۔
"کیا ہوا آمش یہ کس چیز کی آواز تھی" آمش کی ساس کی آواز دوسرے کمرے سے برامد ہوئی
"کچھ نہیں امی ، سب ٹھیک ہے آپ پریشان نا ہوں" آمش نے آواز مار کر انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔
ابھی بمشکل پانچ سیکنڈ ہی گزرے ہونگے کے کمرے کی لائٹ بند ہوئی اور فوراً ہی واپس آن بھی۔
تمام دوست ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے اور انہیں اپنے اوپر خطرہ منڈلاتا نظر آنے لگا تھا۔لیکن کوئی اس وقت انے ذہنوں میں امڈتے خیالوں کو  الفاظ دینے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا ۔
"یار یہ پنکھا تو بلکل صحیح تھا، یہ کیا ہوا کیسے گر گیا اچانک" ایک دوست نے خاموشی کو دور کرتے ہوئے مصنوعی حیرت سے کہا۔
"چل یار ایسا کرتے ہیں، کھانا کھانے چلتے ہیں کہیں" فواد نے اس موقع پر آمش کے گھر سےجانے میں ہی خیر سمجھتے ہوئے مشورہ پیش کیا۔
"ہاں یار بھوک بھی لگی ہے اور بھابھی کی حالت ایسی نہیں کے ان سے کچھ کھانے کی فرمائش کی جائے، باہر چل کر کھانا کھاتے ہیں" ایک اور دوست نے فواد کی ہاں میں ہاں ملائی اور سب فوراً ہی اس پر راضی ہو گئے۔
" اور پنکھے کا کیا کریں؟" آمش نے پوچھا
"کھانا کھا کر دیکھتے ہیں، واپس آ کر اسے مل کر لگا لیں گے" زوہیب نے  چلنے کے لئے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
"ویسے بھی آمش کے گھر بہت جلد خوش خبری ہے تو اس کی طرف سے ایڈوانس ٹریٹ آج ہی لے لیتے ہیں"  ایک دوست نے فواد کے کورٹ میں بال ڈالی اور تمام دوست چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔
آمش دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ راضی ہو گیا۔
در حقیقت تمام دوستوں کے دلوں میں ایک کھٹکا ہو گیا تھا اور وہ آمش کے گھر سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔
کچھ دیر میں وہ لوگ اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے اور اسی دوران سیڑھیوں کی لائٹ آف ہو گئی، سب نے فوراً اپنے اپنے موبائل فون نکال کر لائٹ آن کی اور جلدی جلدی نیچے اترنے لگے۔
"یار یہاں لائٹ جاتی تو نہیں، پتا نہیں کیوں ۔۔۔۔ شاید لائٹ خراب ہو گئی ہے۔" آمش نے ماحول کی سنجیدگی اور پر اسراریت پر قابو پانے کی کوشش کی۔
" ہاں پوری سیڑھیوں کی لائٹ ایک ساتھ خراب ہوئی ہیں، گھروں کی تو جل رہی ہیں" فواد نے جلدی جلدی سیڑھیاں اترتے طنزیہ کہا اور اس کا مطلب سمجھتے ہوئے سب جلدی جلدی اترنے لگے۔
آمش کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہو رہا تھا اور خوف سے اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
وہ سب تیزی سے اترتے ہوئے نیچے پہنچے تھے۔
کچھ دیر بعد وہ  جگہ کا فیصلہ کر کے دو الگ الگ گاڑیوں میں کھانے کے لئے روانہ ہو ئے۔
شہر سے ہٹ کے ہائی وے  کی جانب وہ ایک معروف ریسٹوران کی جانب رواں دواں تھے، چونکہ وہ ہفتے کی رات تھی اس  لئے انہوں نے دور اور دیر تک بیٹھنے کا پلان بنا لیا تھا۔
"یار آج پروگرام کینسل کرتے ہیں، پھر کسی دن کھا لینگے، گھر چلتے ہیں واپس " گاڑی ہائی وے پر اپنے پوری رفتار سے رواں دواں تھی کے اچانک فواد نے واپس لینے کی خواہش ظاہر کی۔
"ہیں؟ ابے بھائی کیا ہو گیا تجھے؟ ابھی تو توُ خود پلان بنا رہا تھا اب واپس چلنے کی بات کر رہا ہے" عمار نے  فواد کو جھاڑتے ہوئے کہا ۔
" ابے نہیں یار، بس پتا نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا" فواد نے بے چارگی سے کہا
" دل میں تو میرے بھی بہت کچھ آرہا ہے، لیکن کوئی نہیں یار ، کچھ نہیں ہوتا، اللہ مالک ہے" زوہیب نے تسلی دیتے ہوئے ماحول کی سنجیدگی کو کم کیا۔
" یار بس پتا نہیں کیوں عجیب  خوف محسوس کر رہا ہوں" فواد نے  دل کی بات کہہ ڈالی۔
" ارے یار تو وہ پنکھے اور لائٹ کے بند ہونے سے ڈر گیا ہے اور کوئی بات نہیں، ٹینشن مت لے وہ والٹیج کی وجہ سے بھی ہو جاتا ہے " عمار جو اب تک چپ بیٹھا تھا وضاحت دیتے ہوئے بولا۔
" او ہ بھائی۔۔ والٹیج کی وجہ سے لائٹ آف ہونا سمجھ میں آتا ہے، پنکھا کیسے گر گیا۔۔۔۔۔" زوہیب نے  اس بے تکی وضاحت پر اس کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔
اس گاڑی میں موجود سب ہی لوگ ایک جیسا سوچ رہے تھے لیکن، خود کو اور دوسروں کو برابر تسلیاں دیتے جا رہے تھے۔
کبھی کبھار انسان کچھ چیزوں کی حقیقت جانتے بوجھتے ہوئے بھی اسے نظر انداز کرتا یا زیرِ بحث لانے سے کتراتا ہے، ان دونوں گاڑیوں میں آمش سمیت اس کے تمام دوستوں کا یہی عالم تھا۔

"چلو یار چھوڑو تم لوگ  یہ سب، گانے سنتے ہیں" عمار نے یہ کہہ کر گانوں کی آواز تیز کر دی۔
آمش جو اس تمام گفتگو کے بیچ خاموش تھا، در حقیقت دل ہی دل میں کچھ پڑھ رہا تھا، گانوں کی آواز تیز ہونے پر اسی میں مگن ہو گیا۔
کچھ دیر بعد دونوں گاڑیاں ریسٹوران کے سامنے موجود تھیں اور وہ اپنے لئے ایک مناسب جگہ منتخب کر کے وہاں بیٹھ چکے تھے۔
یہ ہائی وے پر موجود ایک بڑا ریسٹوران تھا جہاں چارپائیوں پر لوگ بیٹھے کھانا کھانے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
کھانے کا آرڈر دے کر وہ لوگ باتوں میں مشغول ہو گئے اور ارد گرد کے ماحول سے بے خبر اپنی  یونی ورسٹی لائف اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں شیئر کررہے تھے۔
البتہ آمش اس دوران خاموش بیٹھا پایا گیا ۔
"بھائی تو کیوں اتنا چپ چپ بیٹھا ہے" ایک دوست نے آمش سے پوچھا
"کچھ نہیں یار بس ایسے ہی۔۔۔" آمش نے ٹکا سا جواب دیا
"ابھی تجھے ٹانگ سے پکڑ کر کھینچتے ہیں، تجھے پتا چل جائے گا کیوں خاموش بیٹھا ہے یہ" ایک دوسرے دوست نے مزاق میں بات بنائی اور سب اس کی بات پر ہنسنے لگے۔
کھانے سے فارغ ہو کر چائے کا دور چلا اور باتوں باتوں میں تین گھنٹے گزر گئے۔
آمش اپنی جگہ سے اٹھ کر جوتے پہننے لگا۔
"کیا ہوا کہاں جا رہا ہے؟" ایک دوست نے پوچھا
"آرہا ہوں واش روم سے" کہہ کر آمش واش روم کی طرف چل دیا
واش روم سے فارغ ہو کر وہ ہاتھ دھو رہا تھا کے واش بیسن کے ساتھ لگے بڑی شیشے میں اسے دوسرے واش روم کا دروازہ کھلتا نظر آیا، آمش کی نظر غیر ارادی طور پر اس پر پڑی لیکن پھر ہٹ نہ سکی۔۔

یہ ایک کامن واش روم کا ایریا تھا جہاں مین گیٹ سے داخل ہو کر دائیں طرف چار باتھ روم اور بائیں طرف چارواش بیسن اور انکے اوپر پوری دیوار پر  آئینہ آویزاں تھا۔
واش روم کے دروازے سے نکلنے والا کوئی اور نہیں وہی  چھوٹی بچی تھی جس کا آمش کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔
وہ باتھ روم کے دروازے پر ہی کھڑی آئینے میں آمش کے عکس کی جانب نگاہیں ٹکائے ہوئے تھی۔
واش روم میں اس وقت کوئی اور موجود نہیں تھا۔
آمش کو اپنی سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔
بچی کے سائڈوں پر ایسے لٹکے ہوئے تھے جیسے کندھے کی ہڈی ٹوٹ کے الگ ہو گئی ہو۔
بچی کی آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں، جنہیں دیکھ  کر آمش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔
خوف سے اس کا دل بند ہونے کو تھا۔
وہ ایک معصوم بچی جس کی عمر چار سے پانچ سال کے درمیان ہوگی ، اس کے چہرے پر خطرناک حد تک تاریکی اور سنجیدگی تھی  ۔ آمش کو مسلسل دیکھے جا رہی تھی۔ آمش اس سے پہلے کے کوئی فیصلہ کرتا یا بھاگتا، دوسرا دروازہ کھلا
اس میں سے برامد ہونے والی کوئی اور نہیں وہی عورت  تھی  جو بچی کے ساتھ ایکسیڈینٹ کے وقت موجود تھی۔
آمش نے اس کو دیکھتے ہی دروازے کی جانب دوڑ لگائی اور انہی کی جانب دیکھتے ہوئے باتھ روم کا مین دروازہ کھولنا چاہا جو اب لاک تھا۔
آمش کے پیر لڑکھڑا رہے تھے۔
آمش نے دوسری ہی کوشش میں اتنی زور سے وہ ہینڈل گھمایا تھا کے لاک ٹوٹ کے اس کے ہاتھ میں آگیا۔
بچی اب اس لڑکی کے پاس آ کر اس کی قمیض کا دامن تھامے کھڑی تھی اور وہ دونوں آمش کو یک ٹک دیکھ رہی تھیں۔
آمش کو ان دونوں کی نظریں اپنے اندر  پگھلاتی ہوئی داخل ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔
" مجھے معاف کر دو پلیز۔۔۔ خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو۔۔ میں نے جان بوجھ کے نہیں مارا تھا تمہیں۔۔" آمش دروازے  کی طرف پیٹھ کر کے پیچھے ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ دروازے سے لگ چکا تھا۔
وہ دونوں بنا کچھ کہے اسے ہی دیکھے جا رہی تھی اور دونوں کے چہروں  موجود وحشت بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔
بظاہر دیکھنے میں وہ عام انسان جیسی لگ رہی تھیں لیکن ان کی حقیقت آمش کے سامنے پہلے ہی افشاں ہو چکی تھی جس کی وجہ سے وہ ان کے چہروں پر ویرانی کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
دونوں کے چہرے بلکل سفید معلوم ہوتے تھے اور ان پر کسی قسم کے کوئی آثار  نہیں تھے۔
آمش گڑگڑا کر ان سے معافیاں مانگتا اور کبھی دروازہ کھولنے کی کوششیں کرتا ہوا اب زمین پر بیٹھ  گیا تھا۔
پسینے سے شرابور اور کپکپاتے جسم کے ساتھ اس کی ٹوٹتی بکھرتی آواز صرف اور صرف "مجھے معاف کر دو  ، پلیز مجھے چھوڑ دو آرہی تھی"
آمش چلانا چاہتا تھا لیکن اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی وہ زمین پر دروازے سے کمر لگائے بیٹھ چلا تھا اور ان سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافیاں مانگ رہا تھا، جبکہ سامنے موجود دو وجود اسے محض ایک نظر سے دیکھ رہے تھے۔
"آمش اٹھ یار، کیا ہوا تجھے"
"اس کو ہاسپٹل لے چلو"
"اس پر پانی کے چھینٹے مارو"
"آمش اٹھ یار ۔۔ اٹھ پلیز بھائی کیا ہو اتجھے"
آمش کو ہلکا ہلکا ہوش آیا جب اسے یہ آوازیں اپنے کان میں پڑتی سنائی دیں، اس  نے معمولی سی  آنکھیں کھولیں اور اپنے گرد اپنے تمام دوستوں سمیت اور کئی  دوسرےلوگوں کو پایا۔
"چلو جلدی اسے لے کر آؤ گاڑی میں" دور سے فواد کی آواز آئی تھی جو گاڑی پارکنگ میں قریب لے آیا تھا
"ہوش آگیا ہے اسے شاید" کچھ لوگوں نے کہا جو آواز آمش کو سنائی دی
وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا، سر میں شدید درد اور بھاری پن محسوس ہو رہا تھا۔
اسے سہارا د ے کر تھوڑا سر اوپر کر کے لٹایا ہوا تھا۔
وہ لوگ اسے لے جانے کے لئے اٹھانا چاہ رہے تھے جب آمش نے  انہیں منع کیا۔
اس کا چہرا  پانی سے بھیگا ہوا تھا۔
سہارا لے کر اسنے  اٹھنا چاہا  لیکن اسے  لیٹے رہنے کا کہا گیا۔
"کہاں ہوں میں " آمش نے غنودگی کی کیفیت میں دریافت کیا۔
" بھائی تو ہمارے ساتھ ہے، کھانا کھانے آئے  ہوئے ہیں ہم" آمش کے دوست نے اسے بتایا
آمش کو ہوش میں آتا دیکھ کر اس کے دوستوں کی پریشانی کچھ کم ہو چکی تھی لیکن  اس کے ساتھ کیا ہوا اور وہ کیوں باتھ روم میں بے ہوش پڑا تھا وہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
" آمش کیا ہوا یار تو ٹھیک تو ہے نا؟ چل تجھے ہاسپٹل لے کر جا رہے ہیں۔۔" آمش کے دوستوں نے اسے ہو ش میں آتا دیکھ کر پوچھا۔
" نہیں، میں ٹھیک ہوں۔۔ " وہ جملہ کہہ کر اٹھنے لگا
آمش کے دوستوں نے اسے سہارا دے کر  اٹھایا اور وہ  بیٹھ کر ادھر ادھر کا جائزہ لینے لگا جیسے اسے کسی انجان جگہ لایا گیا ہو۔
آس پاس دوستوں اور لوگوں کو دیکھ کر اسے گزرا ہوا منظر یاد آگیا۔
" کیا ہوا  تھا آمش تو باتھ روم میں  دروازے کے ساتھ بے ہوش پڑا ہوا تھا   اور اندر سے لاک بھی ٹوٹا ہوا تھا" ایک دوست نے اسے بہتر ہوتا دیکھ کر لوگوں کو جانے کا کہا اور پھر آمش سے سرگوشی میں سوال کیا۔
" گھر چلو" آمش نے اس کی بات کو یکساں نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
" ہاں جا رہے ہیں گھر۔۔ تو ٹھیک تو ہے نہ؟ ہاسپٹل جانا ہے؟" جواد نے پوچھا
" ٹھیک ہوں میں۔۔۔ چلو گھر" آمش نے مدھم سی آواز میں کہا۔
ابھی وہ جانے کے لئے گاڑیوں کی طرف بڑھنے ہی لگے تھے کہ آمش کے موبائل پر گھر سے فون آنے لگا۔
دوسری طرف آمش کی ساس تھیں۔
"بیٹا جلدی سے گھر آؤ ساشہ کو ایمر جنسی میں ہسپتا ل لے کر جانا پڑے گا"
آمش یہ سن کر پریشان ہو گیا ۔
" میں آتا ہوں بس آدھے پون گھنٹے میں، آنٹی سب خیریت ہے نا" آمش اپنا تمام درد اور ڈر نظر انداذ کرتے ہوئے  یک دم فعال ہوا تھا۔
اپنے دوست کو ڈرائیونگ سیٹ پر دیکھ کر اس نے ہٹنے کا کہا " ہٹ  کاشف میں چلاؤنگا"  اور تقریباً بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف کھینچا تھا۔
آمش کے اس اچانک برتاؤ سے وہ حیران پریشان گاڑی سے اترا تھا۔
دوسرے دوستوں نے جب یہ دیکھا تو اسے ڈرائیونگ کرنے سے منع کیا ، لیکن وہ بضد تھا، وہ خود جلد سے جلد ڈرائیو کر کے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔
تمام دوست دونوں گاڑیوں میں سوار ہو چکے تھے اور آمش انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی ریورس کرتا ہوا چند لمحوں بعد مین روڈ پر موجود تھا، گاڑی کی رفتار انتہائی تیز اور اس کی نظر روڈ پر جمی ہوئی تھی، البتہ رات کے ڈھائی بج رہے تھے جس کی وجہ سے روڈ پر زیادہ رش نہ تھا لیکن بڑی  گاڑیاں اور  کنٹینر روڈ پر  زیادہ نظر آرہے تھے۔
آمش  دوسری گاڑی میں موجود تھا جو آتے وقت کے مقابلے میں بڑی اور رفتار میں تیز تھی، گاڑی میں موجود باقی دوست ڈرے سہمے بیٹھے تھے اور بار بار اسے احتیاط سے چلانے اور ڈرائیونگ سیٹ چھوڑنے کا کہہ رہے تھے۔
آمش ساشہ کی حالت کا سوچ کر اپنے اس پلان پر افسوس کر رہا تھا اور جلد بازی میں بڑی گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتا آگے نکلتا جا رہا تھا۔
یکایک گاڑی کو ایک زور دار بریک لگا اور گاڑی بہت تیزی سے ڈس بیلینس  ہوتی ہوئی روڈ سے اتر کر کچے میدان میں اتر گئی اور ایک پتھر سے ٹکرا کر رکی تھی۔
آمش نے تیز رفتاری میں  بیک ویو مرر میں پیچھے دیکھنے کی غرض سے دیکھا تھا جب اسے اس کے ساتھ لٹکے لکڑی  سے مزین شو پیس کی جگہ ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ  ہلتا نظر آیا تھا۔
گاڑی کی سپیڈ بریک  سے تقریباً ٹوٹ گئی تھی لیکن باوجود اس کے، اتنی رفتار تھی کے گاڑی سنبھل نہ سکی اور بے قابو ہو کر روڈ سے نیچے اتر ی تھی۔
وہ ایک درمیانے سائز کا پتھر تھا  جو اس کچے میدان میں موجود گاڑی کے رکنے کا سبب بنا تھا۔
معجزاتی طور پر گاڑی میں موجود تمام لوگ محفوظ رہے اور اگلی سیٹ پر موجود آمش اور فواد ایئر بیگ کی بدولت بچ گئے تھے۔
آمش  کے دوست اس اچانک بریک  لگنے پر حیران تھے اور  آمش سے وجہ دریافت کر رہے تھے ۔ آمش انہیں بتانے سے قاصر تھا جبکہ  اس حادثے کے باعث  کچھ لوگ وہاں ان کی مدد کو آن پہنچے تھے۔
جیسے تیسے گاڑی کو وہاں سے نکال سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی۔
گاڑی کا اگلہ حصہ کافی حد تک نقصان کا شکار  ہوچکا تھا۔
آمش کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے کوئی بھی اسے کچھ کہنے سے گریز کر رہا تھا۔
جلد ہی ایک دوست کو دوسری گاڑی کا خیال آیا اور اس نے آمش کو  ان کے ساتھ روانہ ہونے کا مشورہ دیا۔ آمش چونکہ اس وقت جلدی اور پریشانی میں تھا اس حادثہ  کا کوئی خاص اثر لئے بغیر فوراً دوسرے دوستوں کو فون کرنے لگا، وہ چونکہ ان سے کافی پیچھے تھے اور بدقسمتی سے گاڑی میں تیز آواز میں گانوں کے باعث آمش کی کال  کوئی نہ سن سکا۔
آمش کو یکایک شایان کا خیال آیا اور اسے فون ملا کر فوراً  گھر پہنچنے اور ساشہ کو ہسپتال لے جانے کا کہا۔
شایان رات کے اس پہر آمش کی کال سے گڑبڑا کر اٹھا لیکن اس کی پریشانی سن کر اگلے ہی لمحے جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
آمش  اور اس کے دوست دوسری گاڑی میں موجود دوستوں کو کال کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے تھے اور اس دوران گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی بھی۔  بہت کوشش کے بعد کافی دیر بعد ان کی کال ریسیو ہوئی اور  معلوم کرنے پر پتا چلا کے وہ لوگ اس جگہ کو کراس کر کے آگے نکل چکے ہیں۔ آمش نے انہیں واپس آنے کو کہا ۔
بہت دیر انتظار کے بعد دوسری گاڑی واپس آئی چونکہ وہ لوگ ہائی وے پر تھے اور کوئی ٹرن  موجود نہ تھا، انہیں ایک لمبا رستہ گزار کر واپس آنا  پڑا۔
آمش کی پریشانی عروج پر تھی اور اس کی پریشانی دیکھتے ہوئے اس کے ساتھی  گاڑی کی پریشانی کو پس پشت رکھتے ہوئے آمش کو حوصلہ دے رہے تھے۔
آمش نے گاڑی  کے آتے ہی انہیں ساری تفصیل بتائی اور جلد سے جلد وہاں سے ہاسپٹل چلنے کا کہا جو اس وقت ایک لمبی مسافت پر تھا۔
آمش نے گاڑی میں بیٹھتے ہی شایان سے رابطہ کیا اور وہ آمش کے گھر پہنچ چکا تھا اور اپنی بھابھی  کو لے کر ہاسپٹل جانے کی تیاری کر رہا تھا۔
آمش دل ہی دل میں خیر و عافیت کی دعائیں کر رہا تھا اور  ابھی وہ ہاسپٹل سے چند منٹ کے فاصلے پر ہی تھا کے اسے  کے پاس کال آئی اور دوسری جانب سے اسے بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔
آمش یہ سن کر حیران بھی تھا اور خوش بھی ، واقعتا یہ اس کے لئے ایک حیران کن بات تھی،  لیکن ساتھ ہی اس موقع پر اپنی بیوی کے پاس نہ ہونے کا افسوس بھی۔ اگرچہ اسکے گھر پیدائش  دو دن بعد متوقع تھی۔ دوسری جانب سے اسے کمرہ نمبر بتایا گیا اور کال منقطع ہو گئی۔
آمش خوشی،  اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت لئے دوڑتا ہوا ہسپتال میں بتائے ہوئے کمرے  کی طرف بھا گا۔
وہاں موجود اپنی بیوی اور ساتھ میں بچی کو دیکھ کر وہ خوشی سے دل ہی دل میں دیوانہ ہو رہا تھا۔
یکایک فون کی گھنٹی بجی ۔
اپنی بیٹی کو ہاتھ میں لئے  وہ پر مسرت انداز میں  اس نے فون کان پر لگایا۔
"السلام و علیکم، آپ آمش احسن بات کر رہے ہیں" دوسری جانب سے آواز آئی۔
" جی ، آمش بات کر رہا ہوں"
آنے والی کال کسی انجان نمبر سے تھی۔
" میں امجد بات کر رہا ہوں، سٹی ہاسپٹل سے، ابھی ابھی ہمارے پاس ایک ایسیڈینٹ کا کیس آیا ہے اور خاتون کے موبائل سے آپکا نمبر ملا ہے" دوسری جانب سے آواز آئی
" سوری؟ کیا کہہ رہے ہیں میں سمجھا نہیں؟ آمش نے  فون کان پر دباتے ہوئے  پوچھا
" جناب میں، سٹی ہاسپٹل سے بات کر رہا ہوں، ہمارے پاس ابھی ابھی ایک ایکسیڈینٹ کا کیس آیا ہے،  اس میں سے ایک خاتون کے ساتھ کچھ  ہاسپٹل کی فائلز تھیں جس میں آپکا نمبر درج تھا، خاتون کا نام ساشہ ہے اور وہ پریگنینٹ تھیں" روانی میں بتائے گئے یہ الفاظ آمش کے لئے کسی پہاڑ  کے ٹوٹنے سے کم نہ تھے
"لیکن۔۔۔ " آمش  اتنا کہہ سکا
" سر ہم معذرت خواہ  ہیں کے  ہم انہیں نہیں بچا سکے" آمش کے کانوں میں یہ آواز فون سے آئی تھی اسے فون کان سے سرکتا ہوامحسوس ہوا اور اپنے گلے پر کسی ہاتھ کی گرفت۔۔
 اس نے گردن جھکا کر نیچے دیکھا
" تم چاہتے تو بچا سکتے تھے" آمش کو ہاتھوں میں وزن بڑھتا محسوس ہوا۔ ایک گہری مسکراہٹ لئے  وہ  بچی اس کے ہاتھ میں موجود تھی جس کی یہ آواز اس کے لئے اجنبی نہ تھی، اس نے نگاہ بیڈ پر ڈالی اور وہاں لیٹی عورت  اس کی جانب دیکھ کرپراسرارانداز میں مسکرا رہی تھی۔
آمش کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا محسوس ہوا  اور گلے پر گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی۔
=========================
"یار کافی دیر ہو گئی آمش کو کال کر ، وہ ہمیں خوشخبری نہیں سنائے گا کیا؟" ایک دوست نے کہا
جواد نے کال ملا کر فون کان سے لگا لیا۔۔ کافی دیر تک بیل جاتی رہیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
کچھ دیر انتظار کے بعد ایک بار پھر کال ملائی لیکن آمش کال ریسیو نہیں کر رہا تھا۔
" ایکسکیوز می، اس روم میں آمش ہونگے انہیں پلیز باہر بھیج سکتی ہیں" زوہیب نے قریب گزرتی نرس سے التجا کی۔
" سر یہاں پیشینٹ کے ساتھ ایک سے زیادہ لوگ الاؤ نہیں ہیں، پلیز آپ لوگ باہر ویٹ کریں" نرس نے  انکاری لہجے میں ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا
" ہم بس جا رہے ہیں آپ صرف انہیں دو منٹ باہر بلا دیں " اس کے دوستوں نے  سامنے پرائیوٹ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
" سر یہ روم خالی ہے، یہاں کوئی پیشنٹ نہیں ہے" نرس کہتی ہوئی اپنے کام سے آگے بڑھ  گئی۔
وہ لوگ حیرانگی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہ گئے۔۔۔
" پاگل ہے یار یہ۔۔۔  میں بلاتا ہوں" جواد کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھ گیا
 دروازے پر دستک دے کر وہ ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔۔
اندر سے کوئی جواب نہیں آیا
ایک بار پھر دستک دے کر اس نے  لاک گھمایا اور  ادھ کھلے دروازے سے اندر  جھانکا۔
بیڈ اور اس کے ارد گرد کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے دوسرے دوست کو بلایا اور دونوں ہی ساتھ اندر داخل ہو گئے۔۔۔
دروازے سے اندر ایک طرف نظر پڑنے پر انکی چیخ نکل گئی
باقی دوست  بھی آواز سن کر بھاگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔
اندر کا منظر دیکھ کر  سب کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔
زمین پر اوندھے منہ پڑا ہوا شخص، اس کے پیر مڑے ہوئے اور ٹانگیں ٹوٹی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔
ماتھے سے خون بہہ رہا تھا  اور چہرہ ایک جانب  گھوما ہوا تھا۔ گویا وہ کسی بہت برے حادثے کا شکار ہوا ہو۔
اس کے دوستوں کے منہ سے فقط  اس کا نام نکلا تھا۔
آمش شش ش۔۔ش۔۔

ختم شد۔
 ------------------------------------------------------------------------
مزید آنے والے ناولز کے متعلق اپڈیٹ رہنے کے لئے پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں سے شیئر کریں۔ پیج پر موجود Reviews کے آپشن پر جا کر  اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کری

 Facebook page 👉Click her