Friday, April 3, 2020

علامہ اقبال کو شاعر مشرق اور علامہ کیوں کحاجاتا ھے

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نہ ہی کسی مدرسے میں پڑھے نہ درس نظامی کی تو آپ کو علامہ کیوں کہا جاتا ہے
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی میں نے کوئی عالم فاضل کا کورس نہیں کیا لیکن بات اصل میں کچھ اور ہے
فرمانے لگے کہ دنیا کا مجھے اتنی عزت دینا اور میرے کلام میں یہ اثر اور میرے قلب و روح کی یہ تازگی یہ سب
رسول اللّهﷺ  سے والہانہ عشق و محبت کی بدولت ہے اور یہ سب تب ممکن ہوئی جب میں نے رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھنا شروع کیا۔
فرمایا کہ درود پاک کا یہ ورد بڑھتا گیا اور میں اس تعداد کو محفوظ کرتا گیا لاکھ دو لاکھ اور ایسے ہی جوں جوں آگے بڑھتا گیا اللہ میرے دماغ کو میرے دل کو میری روح کو روشن کرتا رہا۔ اور جب میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات گرامی پہ  ایک کروڑ درود پاک مکمل کیا تو اللہ رب العزت نے میرا انگ انگ روشن کر دیا لوگوں کے دلوں میں میری عزت بیٹھ گئی میرے کلام میں ایسا اثر ہوا کہ اللہ اللہ
جب کلام لکھنے بیٹھتا الفاظ بارش کی طرح اترتے۔۔ اس کے بعد علامہ صاحب درود پاک توتر سے پڑھتے۔۔
بس یہی راز تھا جو علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ہم پہ آشکار کر دیا۔۔
میرے ایک عزیز ہیں جو ایئر فورس میں ملازمت کررے تھے وہاں ان کی ملاقات ایک عاشق رسول اللّهﷺ سے ہوئی جن سے یہ راز ان کو معلوم ہوا اور انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میری زندگی پہلے کی بہت عجیب تھی لیکن جب میں نے مسمم اردہ کیا اور محبت سے درود پاک کا ورد شروع کیا اور جب زندگی میں پہلی دفعہ ایک لاکھ درود پاک گن کے پورا کیا تو ایک خواب دیکھتا ہوں ک میں کہیں محو سفر ہوں اور میرے سامنے ایک نہایت غلیظ نالہ ہے اور اس نالے کے اس پار بہت سہانی سرسبز اور جنت جیسی دنیا ہے خیر میں نے جیسے تیسے کر کے بہت مشکل سے وہ نالہ پار کیا اور اس پار پہنچ گیا جب میں نے پیچھے دیکھا تو وہی نالہ جس میں غلاظت تھی اور جسے دیکھ کے ہی الٹی آ جائے وہ نہایت صاف شفاف نہر میں تبدیل ہو چکا ہے حتی کہ اس بہتے پانی کے نیچے رنگ برنگ کے پتھر تک نظر آ رہے ہیں اور  جسے دیکھ کے روح خوش ہو جائے اور میرے کپڑے نہایت صاف ستھرے اجلے اور سفید ہو چکے ہیں اور میرا ظاہری حسن بھی بڑھ چکا ہے الحمدللہ
مجھے خواب ہی میں بتایا گیا کہ یہ نالہ میں بہتا پانی تمہارے اعمال ہیں جو پہلے غلیظ تھے اور اب درود پاک کی بدولت ان کی صفائی ہو چکی اب یہ سارے نیکیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں
یقین جانیں وہ دن اور آج کا دن وہ بندہ کب سے سروس سے ریٹائر ہو چکا ہے آج بھی ان کا درود پاک کا ورد جاری و ساری ہے اور بہت سے جوان لڑکوں کو درود پاک کے ورد کی لذت سے روشناس کرا چکے ہیں اور  آج اس بندہ کی روحانی کیفیت ماشااللہ کمال کی ہے اور اس بندہ کے دل و دماغ اور روح اس پاک ورد یعنی  رسول اللّهﷺ پہ درود پاک کی بدولت روشن ہیں
تو دوستوں اپنی زندگی میں یہ کام ضرور کریں آج ہی سے پختہ ارادہ کریں کہ ان شااللہ ان شااللہ میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات مقدس پہ گن کے ایک کروڑ مرتبہ محبت و شوق سے درود پاک ضرور پڑھنا ہے یقین مانیں جیسے جیسے آپ  رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھتے جائیں گے آپ پہ بہت سارے انکشافات ہوتے جائیں گے اور دل و دماغ و روح کے ایسے دریچے کھلیں گے کہ آپ ششدر رہ جائیں گے۔۔ روزانہ کی بنیاد پہ درود پاک کا ورد اپنا معمول بنا لیں پھر دیکھیں  سبحان اللہ
اللہ ہم سب کو آقا و مولا مدنی تاجدار رسول اللّه محمد ﷺ پہ درود پاک پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔۔۔ آمین

 *صَلّی اللّٰہُ عَلٰی حَبِیبِہ مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَسَلَّمَ*
 اپ کو یح تحریر کیسی لگی کمینٹ کر کے ضرور آگاہ کریں
شکریہ

Thursday, April 2, 2020

یہ_لڑکی_ہائے_اللہ اردو ناول love story novels read online

#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش

وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین پر نظریں جماۓ کچھ پڑھنے میں پوری طرح سے  مگن تھی. ساتھ ہی آرام آرام سے سیڑھیاں اتر رہی تھی.جب نیچے سے اوپر آتے شیرافگن سے اسکی زور دار ٹکر ہوئی.شیرافگن نےایک بازو پر بلیک کوٹ ڈالا تھا.ہاتھ میں کار کی چابی تھی.سفید شرٹ کےاوپرکےدو بٹن کھلے تھے. وہ ابھی آفس سےلوٹاتھا اورتھکاہوا لگ رہا تھا. اس ٹکراؤکی وجہ سےاسکی پیشانی پربل پڑے.حیات ٹھیک سے سنبھل بھی نہ پائی کہ وہ شروع ہوچکا تھا.
اندھی ہو تم؟ اب کیا تمہارے لئے کرائے پر آنکھیں لانی پڑیں گیں؟ کبھی اس پر سے نظریں ہٹا بھی لیاکرو تاکہ تمہیں پتہ چلےکہ آگے پیچھے کیا ہورہا ہے"شیرافگن نے اسے غصے سے گھور کر موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اسنے جلدی سے موبائل پیٹھ   کے پیچھے کیا "اوہ سوری افگن بھائی بس ناول اتنے دلچسپ موڑ پر تھاکہ نظر نہیں ہٹا سکی" حیات منہ بنا کر بولی پھر سیڑھیاں اترنے لگی کہ کہیں پھروہ کچھ سنانے نہ لگ جائے."ہونہہ ناول.....دماغ خراب ہے اس لڑکی کا"اسنے کہہ کر قدم آگے بڑھا دیئے.اسکی بات پر حیات نے سرگھما کر اسےدیکھا
"آپ تو ناول نہیں پڑھتے ناں پھر آپکا دماغ کیوں خراب ہے"وہ دھیمی آواز میں بڑ بڑائی
"کیا کہا تم نے؟"ایک دم سےپلٹ کر پوچھا گیا
"کچھ بھی تو نہیں"اسنےجلدی سے نفی میں سر ہلایا.شیرافگن نے کچھ بڑبڑا کر باقی سیڑھیاں طے کیں."اف کتنے تیز کان ہے انکے اللّہ معاف کرئے"وہ سیڑھیاں اتر کر ہال کی طرف آئی.جہاں دادو ، تائی امی اور ایمان آپی بیٹھی تھیں.وہ ایمان آپی کے ساتھ بیٹھ گئی. پھر موبائل ہاتھ میں پکڑ کربڑی توجہ سے ناول پڑھنے لگی.دادو نے اسے گھور کر دیکھا انھیں اور شیرافگن کو اسکا موبائل زہر لگتا تھا. "موبائل رکھ دو دادو کی نظر تم پر ہی ہے" آپی نے اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات نے جلدی سے موبائل رکھا اوردادو کو دیکھ کر مسکرانے لگی بائیں گال میں پڑتا ڈمپل اسے بے حد خوبصورت بنا رہا تھا.دادو کو اسکا یوں معصومیت سےمسکرانا ایک آنکھ نہ بھایا انھوں  نے اسے گھور کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا "اس لڑکی کا  کیا بنے گا اللّه جانے" دادو نے تائی امی کو دیکھا تو وہ مسکرا دیں "بچی ہے ابھی امی جان وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ دار ہو جائےگی"
"مجھے تو اسکے ٹھیک ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی بہو ورنہ باقی دونوں لڑکیاں کتنی خاموش طبیعت ہیں.پر اس حیات کو کہیں چین نہیں"دادو نے چاۓ کا کپ اٹھایا.حیات معصوم سی شکل بنائےبیٹھی رہی "ایک دادو اور دوسرا انکا پوتا میری جان نہیں چھوڑتے اف میرے اللّه .... میں تو پھنس گئی ہوں" حیات نے ایمان کے کان میں دھیمے سے کہا تو وہ ہنسنے لگی کہہ تو وہ بالکل ٹھیک رہی تھی یا تو دادو اسکے پیچھے لگیں رہتیں یا پھر شیرافگن اسے کچھ نا کچھ کہتا رہتا پر حیات نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ جتنا بھی وہ پیچھے لگے رہے اسنے کرنی تو اپنی ہی ہے.
                                           •••••••••••••••••
یہ عباسی ہاؤس کی کہانی تھی .جسکی سر براہ بانو بیگم تھیں یعنی سب بچوں کی دادو انکے دو بیٹے تھے بڑے شمس عباسی اور انکی بیگم سارا عباسی تھیں.انکی دو اولادیں تھیں بیٹا شیر افگن جو باپ اور چچا کے ساتھ بزنس سنبھال رہا تھا اور بیٹی ایمان جو پڑھائی مکمل کر کے اب ماں اور چچی کے ساتھ کچن سنبھالے ہوئے تھی.چھوٹے بیٹے احمد عباسی اور انکی بیگم الماس عباسی تھیں. انکی دو بیٹیاں تھیں. بڑی حیات جو بہت شرارتی تھی.اسے ناولز پڑھنا بہت پسند تھا.وہ کم کم پڑھتی تھی پر جب پڑھتی تو پوری طرح سے کہانی میں گم ہو جاتی پھر کوئی کچھ بھی کہتا اسنے کہا سننا تھا.اس وجہ سے اسے دادو اور شیرافگن سے ڈانٹ پڑتی تھی.حیات سے چھوٹی امل تھی.وہ حیات سے چار سال چھوٹی تھی اورفرسٹ ایئر میں تھی.اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا. ہر وقت کتابیں پکڑے بیٹھی رہتی.
دادو نے سب کو ایک ساتھ باندھ کررکھا تھا. بہوؤں کو وہ بیٹیوں کی طرح سمجھتی تھیں. اسلئے سب میں بہت اتفاق تھا .شیرافگن سب سے زیادہ دادو کا لاڈلہ تھا.اکیلا لڑکا ہونے کی وجہ سے وہ سب کو آنکھوں کا تارہ ، چاند اور پتہ نہیں کیا کیا لگتا.پر حیات کو وہ بالکل اچھا نہیں لگتا تھا.حیات اپنے نام کی طرح زندہ دل لڑکی تھی.شیرافگن ہر وقت اس پر روک ٹوک کرتا حیات اسے شیر مار کہتی تھی.یہ شیرافگن کے نام کا مطلب تھا.وہ آپی سے کہتی کہ افگن بھائی نے اپنے نام کوکچھ  زیادہ ہی سیریس لے لیا ہے.ہر کوئی انھیں شیر ہی نظر آتا ہے.جسے وہ شکار کرنا چاھتے ہیں. خاص طور پر حیات جیسے وہ اسکی دشمن ہو.وہ شیرافگن کو بہت کچھ کہتی تھی. پر اسکی پیٹھ پیچھے اسکے سامنے تو حیات کی جان جاتی تھی. جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ کوئی الٹی حرکت کر جاتی پھر شیرافگن اسے خوب سناتا.حیات کی ایمان سے بہت دوستی تھی.وہ ہمیشہ ایمان کا سر کھاتی اپنی ہر بات اس سےشیئر کرتی اور ایمان مسکرا کراسکی باتیں سنتی رہتی جبکہ امل کو وہ ہمیشہ کتابی کیڑا کہہ کر تنگ کرتی یااسکا چشمہ چھپا دیتی کہ وہ پڑھ نہ سکے پھر جب امل ،دادو یا افگن بھیاکو بتاتی تو حیات کی خیر نہیں ہوتی تھی.جبکہ بڑے ابو، اسکے بابا اور تائی امی اسکی شرارتوں کو انجوائے کرتےتھے کہ ابھی وہ نا سمجھ ہے.اسکی اماں ایک ماں کی طرح روک ٹوک کرتیں کہ کل کو تمہیں پراۓ گھر بھی جانا ہے. کچھ سیکھ لو پر وہ بات کو ہنسی میں اڑا کر کہتی اماں جب ہمارا اپنا گھر ہے تو میں پراۓ گھر کیوں جاؤں گی.اسکی باتوں پر  الماس بیگم اپنا سر پیٹ کر رہ جاتیں.گھر کے دو فلور تھے. نیچے تین کمروں میں سب بڑے رهتے تھے جبکہ اپر کے تین کمروں میں سے ایک شیرافگن کا تھا.اسکے بالکل ساتھ والا کمرہ حیات کا اور تیسرا کمرہ ایمان اور امل کا تھا.امل پہلے حیات کے ساتھ روم شیئرکرتی تھی.پر حیات رات کو لیٹ سونے کی عادی تھی اور امل کو صبح جلد کالج جانا ہوتا .اسلئے وہ ایمان کے کمرے میں شفٹ ہو گئی .
                                            •••••••••••••••
خوبصورت سےہال میں صوفےگول دائرے میں رکھے تھے. جنکےدرمیان خوبصورت سی کانچ کی میز تھی.وہی شیرافگن ایک صوفے پر بیٹھا سامنے لیپ ٹاپ رکھے کام کرنے میں مصروف تھا.ایمان اور الماس بیگم کچن میں ڈنر کی تیاری کر رہیں تھیں.حیات لہراتی ہوئی سیڑھیوں سے اتری اسنے ایک نظر سامنے بیٹھے شیرافگن کو دیکھا پھر اسکے قریب سے گزر کر کچن کی طرف بڑھ گئی. شیرافگن نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا.
"اماں کچھ کھانے کے لئے ہے؟"اسنے کچن میں داخل ہو کر پوچھا.الماس بیگم نے اسے گھورا وہ اتنی بڑی ہوگئ تھیں. پھر بھی جب بھی بھوک لگتی تو وہ اماں سے ہی کھانے کے لئے مانگتی تھی"کبهی خود بھی کام کر لیا کرو حیات اتنی بڑی ہوگئ ہو پھر بھی ماں ہی تمہیں کھانےکو دے"وہ سلاد بناتے ہوئے بولیں
"میری پیاری اماں آپکے ہاتھ سے کچھ لے کرکھاتی ہوں توسچی بڑا ذائقہ ہوتا ہے اس چیز کا"اسنےانکے گلے میں بانہیں ڈالیں تو الماس بیگم کے ساتھ ایمان بھی ہنس پڑی.
"وہاں سیب رکھے ہیں وہ کھالو حیات کچھ دیر میں ڈنر بھی بننے والا ہے"ایمان نے پھلوں کی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا.
"تھینک یو پیاری آپی"وہ خوشی سے کہتی سیب لے کر کھانے لگی.جب الماس بیگم نے جوس کا گلاس اسے پکڑایا.
"اف اماں آپکو میرا کتنا خیال ہے"اسنے خوشی سے گلاس تھاما.الماس بیگم نے اسے دیکھا
"یہ جاکر شیر افگن کو دے آؤ کب سے بچہ   کام میں لگا ہےتھک گیا ہوگا"
"اماں !!!" وہ صدمے سےبولی
"جلدی سے لے کر جاؤ حیات" اماں کے سختی سے کہنے پر اسنے منہ بناتے ہوئے سیب واپس رکھا اور جوس کا گلاس لئے ہال کی طرف آئی اسکے جاتے ہی وہ دونوں ہنس پڑیں"یہ لڑکی بھی ناں"الماس بیگم بیٹی کی حرکتوں پر ہنسیں.ایمان نے باہر جھانک کر دیکھا جہاں سےحیات گئ تھی. اسے ڈر تھا کہ وہ کوئی گڑبڑ نہ کر دے.
"ہونہہ پتہ نہیں کیوں سب نے شیرمار کو سر پر چڑھا رکھا ہے.مجھ معصوم پر ظلم کرتے ہیں.ہر کسی کو وہی نظر آتا ہے. میری اماں تک کو اسی کی فکر رہتی ہے حد ہو گئ" وہ  بڑبڑاتی ہوئی چل رہی تھی.جب اسے ایک دم سے ٹھوکر لگی اور اگلے ہی لمحے جوس کا گلاس شیرافگن کے سر پر الٹ گیا.حیات نے جلدی  سے گلاس سیدھا کیا پر تب تک جوس شیرافگن کونہلاچکا تھا.حیات ایک ہاتھ منہ پر رکھے دو قدم پیچھے ہٹی سوچوں میں گم اسے پتہ ہی نہ چلاکہ سامنے صوفہ تھا جس پر شیرمار بیٹھا تھا.جسے وہ خود ہی چھیڑ چکی تھی.شیرافگن اپنے اپر ہوئی جوس کی برسات پر غصے سے اٹھ کھڑا ہوا.پھرحیات کی طرف گھوما حیات آنکھیں پھاڑے کبھی ہاتھ میں پکڑے خالی گلاس کو تو کبھی شیرافگن کے سر سے ٹپکتے جوس کو دیکھ رہی تھی. شیر افگن غصے سے لال کچھ کہنے ہی والا تھاکہ وہ بوکھلا کر بول پڑی"ہاۓ ربا... افگن بھائی یہ میرا قصور نہیں ہے یہ...یہ سارا قصور اس .....اس صوفے کا ہے"صوفے کی طرف اشارہ کر کے سارا الزام صوفے  پر ڈالاگیا.تو شیرافگن نے بھنویں اٹھاکر حیرت سے پہلے صوفے کو پھر اسکے پیچھے کھڑی اس چالاک لڑکی کو دیکھا.جبکہ حیات پھر سے شروع ہو چکی تھی"دیکھیں ناں یہ صوفہ درمیان میں رکھا ہے اسکو یہاں یا وہاں رکھنا چاہئے تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا نہ سکےاور گلاس بھی ناں"اسنے دائیں اور بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے سارا الزام پہلے بےجان صوفے پھر گلاس پر ڈالا اور گلاس کو افسوس سے دیکھ کرسائیڈ ٹیبل پر زورسےرکھا.جیسے ساری غلطی اسی کی ہو.اسکے ڈرامے پر شیرافگن ماتھے پربل ڈالے مسلسل اسےگھورے جارہا تھا.حیات نے اسے دیکھا جوس اسکے بھورے بالوں سے ٹپک کر اسکی سیاہ آنکھوں میں جانے لگا.شیرافگن نےجلدی سے ہاتھ بڑھا کراسےصاف کیا.حیات اس منظر کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی.اسے ہنسی آنے لگی توجلدی سے سر جھکا لیا.شیرافگن نے اسے دیکھا تو اسکا غصہ آسمان کو چھونےلگا.اسنےدانت پیسے.وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا.جب ایمان جلدی سےکچن سے باہر نکلی سامنے کا نظارہ دیکھ کر اسکی ہنسی نکل گئی.اسےمعلوم تھاکہ جب بھی حیات اورشیر افگن آمنے سامنے ہوتے ہیں.کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے. ایمان ہنسی دباکر حیات کی طرف آئی وہ سمجھ گئی تھی کہ حیات میڈم نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے.ایک نظر اپنے بھائی کو دیکھا جسکے بال جوس گرنے کی وجہ سےماتھے پر چپکے ہوئے تھے.حیات ،ایمان کو دیکھ کر  ہلکے سے مسکرئی اور شیرافگن نے اسکی مسکراہٹ دیکھ لی توغصےسے دانت پیسے"تم ایک نمبر کی بدتمیز لڑکی ہو....تم آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھی ہو...جاہل لڑکی"وہ ابھی اور بھی بہت کچھ کہناچاہتا تھاکہ ایمان بول پڑی "پلیز بھائی آپ جاکر چینج کر لیں غلطی ہوگئی بیچاری سے"ایمان کے کہنے پر حیات نے اسے دیکھ کرمعصومیت سےسنہری آنکھیں گھمائیں."ہنہ بیچاری ....پوری آفت ہےیہ... ڈرامے باز نا ہو تو"حیات کے آنکھیں گھمانے پر اسے اور غصے آیا.وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا غصہ میں ابلتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا.حیات اسے جاتا دیکھ کر ایک دم ہنسی.پھر ایمان کے قریب ہو کر بولی "پورے بھیگے بلے لگ رہے تھےآپکے بھائی"اسکی بات پر ایمان نے اسے گھورا "خبر دار لڑکی جو میرے بھائی کو کچھ کہاتو"ایمان نے مصنوعی غصے سے ٹوکا.وہ جانتی تھی. حیات ، شیر افگن کے روک ٹوک کرنے کی وجہ سے اس نے چڑ تی تھی .پر کوئی بھی حرکت جان بوجھ کر نہ کرتی بس اس سے غلطی ہو جاتی تھی.ایمان کی بات پر حیات نے اپنے کان پکڑے.
"اچھاسوری آپی نہیں کہتی کچھ شیر مارکو" اسکے شیرمار کہنے پر ایمان نے اسکے کندھے پرچپت لگائی تو وہ ہنسنے لگی .
"پوری چیزہو تم سدھرو گی نہیں.چلو آؤ کھانا لگاتے ہیں"ایمان نےہنس کر اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کچن میں لے آئی.وہ منہ بناتی اسکے ساتھ چلنے لگی.کچھ دیر میں بڑی سی ڈئننگ ٹیبل پر کھانا لگ چکا تھا.درمیان والی کرسی پر دادو بیٹھی تھیں.دائیں، بائیں طرف بیٹے ،  بہوؤیں اور ساتھ ہی چاروں بچے بیٹھے تھے. حیات اور شیرافگن آمنے سامنے تھے.حیات نے پلیٹ میں بریانی ڈالی اور مزے سے کھانے لگی "واہ ایمان آپی بہت مزے کی ہے" وہ ساتھ بیٹھی ایمان کو دیکھ کر بولی تو وہ مسکرائی. اسے ایمان کے ہاتھ کی بنی بریانی بہت پسند تھی."بالکل بیٹا بہت کمال کی ہے" احمد صاحب نے بھی تعریف کی
"شکریہ چچا جان"ایمان نے مسکرا کر کہا
 الماس بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو پوری طرح بریانی کھانے میں مگن تھی.
"اپنی بیٹی کو بھی کہہ لیں کہ کچھ بنانا سیکھ لے"انکی بات پر حیات نے منہ بنا کر بڑےابو کو دیکھا"کچھ مت کہا کرو میری گڑیا کو ابھی بچی ہے سیکھ لے گی"وہ پیار سے بولے
"شکریہ بڑے ابو آپ بیسٹ ہیں"حیات نے محبت سے کہا
"اچھابیٹاجی" بڑے ابو ہنسے تھے.وہ حیات سےبہت محبت کرتےتھے."جی آپ ہی مجھے سمجھتے ہیں بڑے ابو"حیات نے مسکراکر انھیں دیکھا."ہاں بیٹا ہم تمہیں کیسے سمجھ سکتے ہیں.تمہارےکام اتنے سیدھے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں"دادو اسےدیکھ کرطنزیہ لہجے میں بولیں
"اللّه دادو میں نے کیا .. کیاہے؟"وہ معصومیت کی انتہا پر جاکر بولی تو سب مسکرا دیے سواۓ دادواور شیر افگن کے.
"کیسی ڈرامہ کوئین ہیں نہ حیات آپی"امل جو شیرافگن کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی.اسکے نزدیک ہو کر بولی جبکہ دادو،حیات کی بات پر اسے کھری کھری سنا رہی تھیں .
"بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوگڑیا"شیرافگن نے حیات کو دیکھاجو اب دادو کو صفائیاں پیش کر رہی تھی.امل کی شیرافگن سے بہت بنتی تھی.وہ دونوں ہی حیات کے ستاۓ ہوئے تھے. کھانےکے بعد سب  اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے. 
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
حیات نے اپنا موبائل لیا اور ایمان کے کمرے میں آگئی.جہاں امل بیٹھی پڑھ رہی تھی.وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر بالوں میں برش کرنے لگی.بلیک کپڑوں میں ملبوس وہ بہت پیاری لگ رہی تھی. پر اسے اس بات کی خبر نہ تھی.وہ بس اپنے ہی کاموں میں لگی رہتی اگر کوئی اسکی تعریف کرتا تو لاپرواہی سے مسکرادیتی.اسکی سنہری کانچ آنکھیں اور ان پر گھنیں پلکیں بے حد پیاری تھیں.بائیں گال پر پڑتے ڈمپل نے اسکے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے.برش کرکے وہ بیڈ تک آئی دوپٹہ سائیڈ پر رکھااور لیٹ گئ"کیا ہروقت پڑھتی رہتی ہوں چشمش کبھی آرام بھی کیاکرو"امل جو بیڈ پر بیٹھی تھی.حیات اسکاچشمہ ناک سے نیچےکرکے بولی"آپی کل ٹیسٹ ہے میرا پڑھنے دیں مجھے"اسنے اپناچشمہ ٹھیک کیا
"افف ہر وقت پڑھائی بور لڑکی...یہ بتاؤ آپی کہاں ہیں؟"
"آپی چاۓ بنا رہی ہیں"امل نے جواب دے کر اپنی کتابیں اٹھائیں اور باہر جانے لگی.
"ارے کہا جارہی ہو بیٹھو.. آپی کے آنے تک تو بات کرو مجھ سے پڑھاکو"حیات نے اسے روکا پر امل نہ میں سر ہلاتی باہر چلی گئی.حیات نے موبائل اٹھایا اوراونچی آوازمیں گانا سننے لگی. آنکھیں بند کئے وہ ساتھ ساتھ گنگنارہی تھی."ایمان..."شیرافگن ، ایمان کوپکارتا ہوا کمرے میں داخل ہوا.پر سامنے حیات کو لیٹے دیکھ کر رک گیا.حیات بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اپنا دوپٹہ اٹھا کراوڑھا
"ایمان کہا ہے؟"شیرافگن نے سوال کیا
"آپی کچن میں ہیں"جلدی سے جواب دیا گیا.
اسی نازک دل دے لوگ ہاں
ساڈہ دل نہ یار دکھایا کر
نہ جھوٹے وعدے کیتا کر
نہ جھوٹیاں قسماں کھایا کر
گانے کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی. شیرافگن کچھ کہتے ہوئے رکاگھور کر حیات کو دیکھا جبکہ حیات اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی. اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اس سے اتنا بھی نہ ہوا کہ گانا بند کر دیتی آخر شیرافگن کو کہنا پڑا.
"اسے چپ کروا دو اب"اشارہ موبائل کی طرف تھا.حیات نے جلدی سے موبائل اٹھا کر بند کرنا چاہا پر ہربڑاہٹ میں وہ بیڈ پرگرگیا.شیرافگن کے سامنے ہمیشہ اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا.
"مجھے دو یہاں" شیرافگن آگے بڑھا اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر بند کیا.پھر حیات کا ہاتھ پکڑ کر اسکے ہاتھ پر رکھا "اگر گانے سننے کا اتنا ہی شوق ہے.تو ہینڈ فری لگایا کرو" اپنی بات کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹا دروازہ کے پاس پہنچ کر پلٹ کے اسے دیکھا                                      "ایمان سے کہو میرے لئے چاۓ لے آۓ"
"جی"حیات کے جواب پر وہ کمرے سے نکل گیا.حیات نے لمبی سانس بھری اور بیڈسےاٹھ کھڑی ہوئی"حد ہوگئی یارمیں بھی ناں شیر مار کے سامنے ہمیشہ گڑبڑ کرتی ہوں.اف چاۓ!!"اپنی پیشانی پر ہاتھ مارکروہ باہرکی طرف بھاگی اور کچن میں آکر دم لیا
"آپی وہ افگن بھائی چاۓ مانگ رہے ہیں"وہ  ہانپتے ہوئے بولی
کیا ہو گیا؟بھاگ بھاگ کے کیوں آ رہی ہو"  ایمان نے ہنس کر پوچھا تو حیات نے ساری کہانی سنا دی "چلوکوئی بات نہیں لو یہ چاۓ دے آؤ بھائی کو جلدی سے"
"آپی میں ..."اسنے اپنی طرف انگلی کرکےکہا
"جی آپ..... چلو جلدی کرو اور آرام سے جانا اوکے"ایمان نے اسے کپ تھمایا.حیات کچن سے باہر نکلی.جوس گرنے کی بات ابھی تازہ تھی.اسلئے وہ کوئی اورگڑبڑ نہیں کرنا چاہتی تھی.جب وہ شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفےپر بیٹھافائل کھولے کام کرنے میں مصروف تھا.وہ سوچنےلگی "ہروقت کام ہی کرتے ہیں رات کےوقت بھی آرام نہیں"اسنے سرجھٹک جلدی سے کپ ٹیبل پر رکھا اور جانے کے لئے پلٹی کہ ٹیبل پر رکھی فائلز کے ساتھ ہاتھ لگنے کی وجہ سے نیچے گریں.
"یا اللّه" اسنے جلدی سے جھک کر فائلز اٹھائیں ایک نظر شیرافگن کو دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا.اسکے دیکھنے پر حیات کے ہاتھ سے پھرایک فائل نیچےگری جسے اسنے جلدی سےاٹھا کر میز پر رکھا.
"ہوگیا کام پورا یا اور کچھ گرانا باقی ہے؟" اسکی بات پر حیات نے ہاں میں سر ہلایا
"کیامطلب ابھی اور کچھ بھی گرانا ہے؟" شیر افگن نے آنکھیں نکالیں
"نہیں ...وہ...سوری"کہہ کر وہ دروازہ کی طرف بڑھی پہلے ہی وہ جلدی بھاگ جانا چاہتی تھی تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو پر .....جیسے ہی وہ دروازےسے نکلنے لگی اسکا سر دروازے سے ٹکرایا"افف"اسنے اپنی پیشانی مسلی پلٹ کر شیرافگن کو دیکھا پھر بند دروازے کوجسے وہ کھولے بغیر باہر جانا چاہتی تھی. اپنی بےوقوفی پر اسے غصہ آیا.
"آرام سےحیات"شیرافگن کی بات بیچ میں چھوڑ کر وہ دروازہ کھول کرباہر بھاگی. شیرافگن ایک دم ہنس پڑا"یہ لڑکی بھی ناں توبہ"کبھی اسے حیات کی فضول حرکتوں پر غصہ آتا تو کبهی ہنسی.وہ شیرافگن کے سامنے ہمیشہ ایسے ہی کچھ نہ کچھ الٹا کر جاتی تھی. حیات اپنے کمرے میں آئی اور اپنا سر دبانےلگی"اللّه جی شیرمار کے سامنے ہمیشہ کام خراب ہوتا ہے" افسوس سےکہتی وہ کمرے سے باہر نکلی ابھی اسے آپی کو ساری کہانی جو سنانی تھی.
                                          ••••••••••••••••
وہ لائٹ پنک اور وائٹ سوٹ میں ملبوس بالوں کی پونی ٹیل بناۓ ہاتھ میں بیگ اور فائل تھامے جلدی جلدی سیڑھیاں اتر کر ڈئننگ روم  کی طرف آئی جہاں شیرافگن کے علاوہ سب ٹیبل پر موجود تھے.
"اماں جلدی سے ناشتہ دیں لیٹ ہو رہی ہوں" بیگ اور فائل سائیڈ پر رکھ کر بولی.الماس بیگم نے ناشتہ اسکے سامنے رکھا.وہ جلدی سے کھانے لگی"جلدی اٹھ جایا کرو تاکہ آرام سے کچھ کھا سکو"دادواسے تیز رفتار سے کھاتے دیکھ کر بولیں"جلدی بھی اٹھ جاؤں دادو پھر بھی لیٹ ہو جاتی ہوں"ایمان نے چاۓ کاکپ حیات کی طرف بڑھایا."شکریہ آپی"حیات نے کپ لیتے ہوئےکہا ایمان اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
"آج آپکابھائی نظر نہیں آرہا...کہاں ہیں جناب؟" وہ ایمان کی طرف جھک کر بولی
"آفس میں ضروری کام تھا. اسلئے جلدی چلے گئے ویسے تمہیں کیوں یاد آرہی ہے بھائی کی؟"ایمان نے ہنس کر سوال کیا.حیات نے منہ بنایا "ویسے ہی پوچھ لیا آج سکون جو ہے ورنہ تو شیر مار....."ایمان نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ آنکھیں گھما کر چپ ہوگئی.امل کی بس آگئی تھی.وہ سب کو اللّه حافظ کہتی باہر کی جانب بڑھ گئی. تایا ابو اور بابا بھی آفس کے لئے نکلے.حیات کچھ کہنے کے لئے پھر ایمان کے قریب ہوئی تو دادو نے اسے ڈانٹا"اے بی بی اب تمہیں دیر نہیں ہو رہی جو باتوں میں لگی ہو"دادو نےاسے گھورا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
"چلتی ہوں دادو"اسنے دادو کے گال پر پیار کیا تو باقی سب کے ساتھ دادو بھی مسکرا دیں.وہ حیات سے بہت محبت کرتی تھیں.پراسکے لااوبالی پن کی وجہ سے اس پر سختی کرتی تھیں.یہ بات حیات کو بھی اچھی طرح معلوم تھی.اپنی چیزیں اٹھاکر سب کو "اللّه حافظ" کہتی وہ  باہر کی طرف بڑھ گئی. پورچ میں کریم بابا کار کے پاس کھڑے تھے "بابا چلیں" اسنے کار میں بیٹھتے ہوئےکہا تو بابا نے کاراسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی .
                                            ••••••••••••••••
حیات یونیورسٹی پہنچی تووہ چاروں اسکے انتظار میں گراؤنڈ میں کھڑی تھیں.وہ ہمیشہ ان سب سے لیٹ آتی تھی.جلدی سے ان تک پہنچی "میں آگئی"پھولی سانسوں کے بیچ کہاگیا."اچھا سچ میں؟" مینا نےاسے ایسے دیکھا جیسے وہ وہاں موجود نہ ہو.
"مجھے تونظر نہیں آرہی"حریم نے بھی ڈرامئی انداز اپنایا"یار یہ سامنے کھڑی ہے ہماری لیٹ لطیف" تابی نے مسکراہٹ دبائی.حیات خاموشی سے انھیں گھورنے لگی"بس کرو یار کیوں تنگ کر رہی ہو بیچاری کو"سبین اپنا چشمہ ٹھیک کرتی حیات کے ساتھ کھڑی ہوئی تاکہ اسے اور تنگ نہ کیاجائے.
"یہ ہیں ہی چڑیلیں...تم ہی میری اپنی ہو سبین"حیات نے اسکے کندھے پر سر رکھا "ہاں میری ڈرامہ کوئین ہم چڑیلیں ہیں توتم بھی ہماری دوست ہو...پھر یہ کیا ہوگی حریم بتانا ذرا؟"مینانےآنکھ مارکرحریم کو دیکھ کرسوالیہ اندازمیں پوچھا.حیات نے ہنس اسکے کندھے پرفائل ماری تو سب کھلکھلا اٹھیں"اچھا اچھا چلو کلاس کا وقت ہوگیا ہے" سبین نے ہنسی روک کر جلدی سے کہا تو حیات نےاسکاچشمہ نیچےکیا."چلتے ہیں بہن جی....ویسے اسکو گروپ میں کسنے شامل کیا؟"وہ تینوں کوآنکھ مارکر بولی کیونکہ سبین کو ہمیشہ پڑھائی کی فکر لگی رہتی باقی سب بھی پڑھائی میں اچھی تھیں. پر سبین کی طرح سرپرسوار نہیں کرتی تھیں.
"اللّه کی طرف سے ملی ہے یہ پڑھاکو ہمیں اب اسکے ساتھ ہی گزارا کرو"تابی نے ہنس کر جواب دیا. وہ چاروں ہنس دیں.یہ ان پانچوں کا گروپ تھا.ساری کلاس میں مشہور حیات ، مینا ، حریم اور تابی چاروں ایک سی تھیں. شوخ ، ہنسی مذاق کرنے والیں جبکہ سبین پڑھاکو سی تھی.پر سب کا ساتھ برابر دیتی ان پانچوں کی دوستی مثالی تھی.وہ بس ایک دوسرے کے ساتھ رہتیں باقی کلاس سے بھی بس ہیلو ، ہاۓ ہی تھی.باقی وقت وہ ہوتیں تھیں اور انکی دنیا جہاں کی باتیں.
کلاس لےکر وہ لوگ گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئیں موسم خوشگوار ہورہا تھا.ہلکی ہوا چل رہی تھی. وہ سب گھاس پر مزےسےبیٹھی تھیں. "ایک ضروری بات ہے لڑکیوں ذرا توجہ
 فرمائیں"مینا نے سب کو اپنی طرف متوجہ
 کیا.سب اسے دیکھنے لگیں.سواۓ حریم کے جو شرما رہی تھی"تم کونسی خوشی میں لال ہوئی جارہی ہو؟"حیات نے چپس کھاتے ہوئے مشکوک نظروں سے حریم کو دیکھا.جو مسکراہٹ چھپانے کے لئے سر جھکا گئی.           "یہ ان دونوں کزنز کی سازش لگ رہی ہے مجھے"تابی نے حریم اور مینا کو غور سے دیکھا.وہ دونوں چچا زاد بہنیں تھیں .
"خاموش کڑیوں..... سازش نہیں خوش خبری ہے"مینا نے آنکھیں گھما کرکہا.حیات کا چپس کھاتا ہاتھ رک گیا تابی اور آگے ہو کر بیٹھی سبین نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا.تینوں کی نظریں مینا پر جمی تھیں.مینا نے انھیں دیکھاجیسے اس نے کوئی بری خبر سنانے کا کہا ہو.
"ہماری حریم کی منگنی ہونے والی ہے"مینا نے ہنس کر بتایا حریم نے شرما کر چہرہ جھکا لیا
"ماشاء اللّه اتنا کچھ ہو گیا اب بھی نہ بتاتی ہمیں کیاضرورت تھی"حیات نےدونوں کو گھورا."بالکل شادی پر خبر دے دیتی ہم مبارکباد دینے آجاتے"تابی کیوں پیچھے رہتی وہ بھی بول پڑی جبکہ سبین بیچاری خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی"تم بھی کچھ بول دو تاکہ ایک بار ہی جواب دیا جائے"مینا نے سبین کودیکھ کر کہا.جبکہ حریم میڈم شرمانےمیں مصروف تھیں.                      "کیا....؟" سبین اسے دیکھنے لگی.
"ارے اس بھولی کو چھوڑو اور ہمیں جواب دو"تابی نے کہا تو حیات نے ہاں میں سر ہلاکر  چپس منہ میں ڈالا"دیکھو ذرا اس شرم کی پوٹلی کو کیسے دوہری ہو رہی ہے"حیات نے حریم کی طرف اشارہ کیا جو منہ چھپاۓ مسکرا رہی تھی.
"اچھاسنو لڑکا تایا ابوکے دوست کا بیٹا ہے. اسنے ہماری حریم صاحبہ کو جانے کہاں دیکھا کہ یہ نکمی ان محترم کو پسند آ گئیں بس پھر کیا تھا.انھیں نے اپنے اماں ،ابا کو رشتہ لینے بھیج دیا.دونوں طرف سے دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کے لئے بغیر کسی دیر کے منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی .بڑوں میں کھچڑی  پہلے سے پک رہی تھی.پر بچوں کے سامنے یہ بات کل کھلی. اچانک ہی رشتہ پکا کر کے منگنی کی ڈیٹ فکس کردی گئی.سب خاموشی سے ہوا تھا.ورنہ ہماری یہ مجال جو ہم تم سب سے کچھ چپائیں"مینا نے جلدی سےساری بات بتائی.حریم نے بھی سر اثبات میں ہلایا کہ ایسا ہی ہے. پھرانہوں نے حریم کو گلے لگا کر مبارک دی.مسکراکر اسے تنگ کرتی رہیں."ویسےلڑکا پسند ہے ناں تمہیں؟"حیات نے اسکے قریب ہو کر پوچھا تووہ شرما گئی.
"ایساویسا...اسکے چہرے پربکھرے رنگوں کو تودیکھو"مینا نےحریم کےبالوں کی لٹ کھینچی تو وہ مسکرائی.
"اوۓ ہوۓ"تابی نے حریم کو دیکھ کر کہا.اسنے اپناچہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تو سب ہنسنے لگیں."اچھا منگنی کی تاریخ کب کی ہے؟" سبین نے سوال کیا
"شکر ہےتم کچھ بولی تو"مینانےاسےدیکھا تو سبین نےمسکراکر اپناچشمہ ٹھیک کیا"منگنی اگلےہفتے ہے"حریم نےجواب دیا
"ایک ہفتہ ہےپھر ہماری حریم صاحبہ منگنی شدہ ہو جایئں گیں"حیات نے کھڑے ہوکر اعلان کیا.تو حریم کے علاوہ سب تالیاں بجانے لگیں "تم بھی کروا لومنگنی"تابی نے ہنس کرکہا.حیات نے کانوں کو ہاتھ لگایا" مجھے تو معاف ہی رکھو"اسنے ڈرنے کی ایکٹنگ کی توسب ہنسنے لگیں"ایک نہ ایک دن تو ایسا ہوگا حیات صاحبہ"حریم نے اسے کھینچ کر بٹھایا"تب کی تب دیکھیں گے"حیات نے بات اڑا دی.
     Read next                                        ••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
شیرافگن تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلا ساتھ والے کمرے سے حیات بھی ہاتھ میں موبائل لئے باہر آئی ہمیشہ کی طرح اسکی نظریں موبائل پر جمیں تھیں.دونوں سیڑھیوں سے کچھ فاصلے پر تھے.جب حیات ، شیرافگن سے ٹکرائی وہ گرنے کو تھی کہ شیرافگن نےاسے تھام لیا ورنہ وہ سیڑھیوں سے سیدھا نیچے کی طرف لینڈ کرتی.حیات نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں جبکہ ہاتھ میں موبائل مظبوطی سےتھام رکھا تھا.شیرافگن نے اسے گھورکر دیکھا."خود چاہے گر جاؤ پر اسے نہ گرنے دینا"قریب سے آتی شیرافگن کی آواز پر اس  نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں.خود کو شیرافگن کے بازوؤں کے گھیرے میں پایا تو جلدی سے سنبھل کر پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی
"سوری افگن بھائی وہ ...میں"
"اگرتم دیکھ کر چلنا سیکھ لو تو تمہیں ہمیشہ سوری نہ کہنا پڑے یا تم سوری کا بورڈ لے کر گھوما کرو تاکہ ٹکرانے پر سامنے والے کو دیکھا سکو ورنہ تم سوری بول بول کر تھک جاؤ گی کیونکہ ٹکرانے کا کام تو تم نے ساری زندگی جاری رکھنا ہے"اسکی بات کاٹ کر شیرافگن نے اسے ڈانٹا.حیات نے اسے دیکھا جوبلیک سوٹ میں لشکارے مار رہا تھا.
"آئندہ خیال رکھوں گی"مسکین سی شکل بنا کر سنہری آنکھیں گھمائیں.شیرافگن نےایک نظراسے دیکھا پھر سیڑھیاں اترنے لگا.حیات نے لمبی سانس بھری اور اسکے پیچھےاترنے لگی.اچانک شیرافگن پلٹا اورحیات کاسراسکے سینے سےٹکرایا.آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے."تم نے قسم کھالی ہے کہ سارے سال کا ٹکراؤ آج ہی کرنا ہے؟"اسکے بازو کو سختی سے تھام کر پوچھاگیا.حیات نےحیرت سے اسے دیکھا اب کی بار غلطی شیرافگن کی تھی.پر ڈانٹ اسے ہی پڑھ رہی تھی حیات کوغصہ آیا.
"اب کی بار غلطی آپکی ہےتو مجھے کیوں ڈانٹ رہے ہیں.مجھے کیا پتہ تھاکہ آپ پیچھے پلٹیں گے"حیات نے اپنا بازو چھڑوایا. شیرافگن نے اسے گھورکر دیکھا
"تم ایک بدتمیز لڑکی ہواور اب کیا میں ہر کام تم سے پوچھ کر کروں پاگل لڑکی"چبا کر کہتا وہ باقی سیڑھیاں اترکر چلالگا.حیات اسکی پشت کو گھورتی رہی "ہونہہ ایک توغلطی جناب کی اپنی تھی.اپرسے مجھے سنا دیا حد ہوتی ہے جلاد کہیں کے.. شیرمار"وہ یونہی بڑبڑاتی نیچے اتری.ہال میں دادو صوفےپر بیٹھی تھیں.ایمان انکے ساتھ  بیٹھی چاۓ کپ میں ڈال رہی تھی حیات ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی."شیرافگن کہا ہے؟"دادو نےایمان سے پوچھا.حیات نے منہ بنایا اسے کچھ دیر پہلے کاٹکراؤ یاد آیا.شیرافگن ویسےاس وقت دادو کے پاس بیٹھتا تھا.پر آج نظر نہیں آیا تو دادو نے پوچھا."بھائی ابھی بابا کے ساتھ لائبریری میں ہیں پھر دوستوں کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے انھیں" اسنےچاۓ کا کپ انہیں دیا.حیات صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی.                            "اوہ تبھی اتنا چمک رہے تھے"اسنے سوچا          "آپی مجھے بھی چائے دیں" اسکی بات پر دادو نے اسے دیکھاسامنے چائے رکھی تھی .پر اسنے ایمان کو کہا جس نے مسکرا کر کپ اسکی طرف بڑھایا.وہ مزے سے چاۓ پینے لگی.             "اس لڑکی کا کچھ نہیں بن سکتا" دادو بڑبڑا کر چاۓ پینے لگیں.کچھ دیر بعد شیرافگن کوٹ کندھے پر ڈالے دادو کی طرف آیا "چلتا ہو دادو" جھک کر دادو سے پیار لیا "جاؤ میرا بچہ اوراپنا خیال رکھنا" دادو نے اسکی پیشانی چومی"دادو تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے ملک سے باہر جارہے ہو" حیات کی سرگوشی پر شیرافگن نے اسے ایک نظر دیکھا پر وہ موبائل کے ساتھ لگی تھی. وہ اللّه حافظ کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا.
                 •••••••••••••••••                                                              شیرافگن کا دوست مجتبیٰ ملک کل ہی امریکہ سے آیا تھا.دونوں یونیورسٹی میں ساتھ تھے پھر مجتبیٰ امریکہ چلا گیا.دونوں کی دوستی بہت گہری تھی.اتنے سالوں میں بھی وہ ایک دوسرے سے کونٹیکٹ رکھے ہوئے تھے .آج کچھ دوستوں کے ساتھ شیرافگن اور مجتبیٰ نے ڈنر کرنا تھا.ورنہ شیرافگن اسےگھر پہ انوائٹ کرنا چاہتا تھا.پر دوسرے دوستوں کی وجہ سے ہوٹل میں ہی بلا لیا.خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا.کافی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے پھر جانے کے لئے اٹھ   کھڑے ہوئے.شیرافگن ،مجتبیٰ کو اپنی        گاڑی کی طرف لے آیا.
"یار یہاں کہاں لے جا رہے ہو؟"مجتبیٰ نے اسے روکا"چلو بیٹھو اتنے سالوں بعد ہاتھ لگے ہوگھر جاکر گپ شپ لگاۓ گے"وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا.تو مجتبیٰ کو بھی بیٹھنا پڑا اسکے بیٹھتے ہی شیرافگن نےگاڑی آگےبڑھادی.
"بتاؤ کیسا چل رہا ہے سب اورشادی کیوں نہیں کی ابھی تک تم نے؟"
"واہ میری شادی کی فکر کیوں ہو رہی  ہے محترم کو میں کیا بوڑھا ہو رہا ہوں"شیرافگن نےبھنویں اٹھاکرپوچھا تو مجتبیٰ ہنسنےلگا. "مجھے چچا بننا ہے لالےاسلئے پوچھ رہا ہوں"
"ہاں جیسے مجھےتوشوق ہی نہیں تمہارے بچوں کو اپنی گود میں کھلانے کا تم کر لو ناں شادی" شیرافگن نے بات پلٹی
"ارادہ تو ہے.ماما لڑکی ڈھونڈھ رہی ہیں"  مجتبیٰ نے کہا تو شیرافگن نےاسکا کندھا تھپتھپایا."تو ایسے کہو ناں ویسے ہی میرے پیچھے پڑے ہو چالاک انسان"اسکی بات پر مجتبیٰ نے ہنس کر اسے دیکھا.
"تم اپنی حیات صاحبہ کا بتاؤ کیا اب بھی ویسے ہی ہو تم دونوں"مجتبیٰ نے پوچھا. اسکے"اپنی"کہنے پر شیرافگن نے گردن موڑ کر اسے دیکھا "اب بھی ویسی ہی پاگل ہےاور اسے اپنی نہ کہو سمجھے"اسنے منہ بنایا
"پہلی بات پاگل وہ نہیں تم دونوں ہو اور دوسری بات کیا پتہ تم دونوں ....اہم اہم" مجتبیٰ شرارتی انداز میں کھانسہ
"خبردار جو آگے کچھ کہا تو"شیرافگن نے جلدی سے اسکی بات کاٹی وہ قہقہہ لگاکر ہنس پڑا"اتنا ڈرتے ہو حیات صاحبہ سے؟"
"ڈرنا پڑتا ہے یار آفت ہے پوری"اسنے معصوم سی شکل بنائی.مجتبیٰ کو ہنسی روکنی مشکل ہو گئی."پھر ملنا پڑے گا اس آفت سے"مجتبیٰ نےکہاپھربولا"اچھا ولید کیسا ہے آج آیا نہیں ڈنر پر"ولید سے ان دونوں کی دوستی کو پانچ سال ہو چکے تھے.وہ پولیس آفیسر تھا اور ضروری کام کی وجہ سے ڈنر پر انھیں جوائن نہ کرسکا."ہاں تھوڑا بیزی ہے کہہ رہا تھا کچھ دنوں میں تم سے ملےگا"شیرافگن نےجواب دیا اسی طرح باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ عباسی ہاؤس پہنچے تو رات کےدس بج رہےتھے. مجتبیٰ جھجھک رہا تھاکہ کافی دیر ہو چکی ہے.پر شیرافگن اسکا ہاتھ پکڑ کے اندر لے آیا.سب اپنے کمروں میں تھے ڈرائنگ روم میں بیٹھے دونوں باتیں کرتے رہے.باقی سب بھی مجتبیٰ سے ملے سواۓ لڑکیوں کے جواپنے کمروں میں تھیں.
کافی دیر تک محفل جمی رہی شمس اور احمد صاحب بھی بیٹھے تھے.مجتبیٰ یہاں اپنا بزنس اسٹارٹ کرنا چاہتا تھا.اسی معاملےپروہ لوگ ڈسکشن کرتے رہے.
                                         ••••••••••••••••
وہ پانچوں گراؤنڈ میں درخت کے نیچے بیٹھی تھیں. باتوں کا سلسلہ جاری تھا.وہ لوگ انکی کلاس فیلو شازمہ کے بارے میں بات کر رہیں تھیں.جو آج کل دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے احمر جمالی کے ساتھ نظر آرہی تھی.وہ امیر خاندان کا بگڑا ہوا لڑکا تھا.شازمہ خود بھی ماڈرن سوچ رکھنے والی تھی.اسلئے اسے احمر جمالی میں کوئی خرابی نظر نہ آئی.وہ پہلے بھی کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا تھا. پرشازمہ ان باتوں کو نظر اندازکر رہی تھی.
"اچھا یار رہنے دو یہ اسکا پرسنل میٹر ہے. اسکی مرضی کوئی اور بات کرو"حیات انھیں کب سے اسی ٹوپک پر بات کرتا دیکھ رہی تھی آخر کار ٹوک ہی دیا سب نے اسے دیکھا
"ہمیں اسے سمجھانا چاہیے یار" حریم نے کہا
"اورتمہیں لگتا ہے وہ ہمارے سمجھانے سے سمجھ جاۓ گی؟"حیات نے سوالیہ انداز میں پوچھا.حریم نے کندھے اچکائے.
"یار حمزہ نے اسے بتایا پر اسنے کچھ سنا ہی نہیں اسے تو جمالی صاحب پاک صاف لگتے ہیں "مینا نے منہ بنا کر کہا
"ابھی آنکھوں پر محبت کی پٹی بندھی ہے ابھی کہاں سمجھے گی.کچھ لوگ ٹھوکر کھاکر ہی سمجھتے ہیں"حیات نےسامنے دیکھ کر افسوس سے گردن ہلائی.جہاں شازمہ اور  احمر جمالی ہنس ہنس کرباتیں کر رہے تھے .
"بیچارہ حمزہ کتنا پسند کرتا ہے شازمہ کو پر اس کو یہ فلرٹی ہی نظرآتا ہے"سبین نے سر جھٹکا.حمزہ انکا کلاس فیلو تھا.کافی ڈیسنٹ لڑکاتھا.شازمہ کو معلوم تھاکہ حمزہ اسے پسند کرتا ہے.پر وہ احمر جمالی کی دیوانی بنی گھوم رہی تھی."اللّه ہدایت دے اور ہم کیا کر سکتے ہیں.آجکل تو لڑکیاں خود اپنی عزت کی دشمن بنی ہوئیں ہیں.امید ہے شازمہ جلد احمر جمالی کی اصلیت پہچان لے"حیات کے کہنے پر سب نے آمین کہا پھر اٹھ کر کلاس کی طرف گئیں.
                                       ••••••••••••••••#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
عباسی ہاؤس کے سبھی لوگ ڈنر کر کے بڑے سے ڈرائنگ روم میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہو رہے تھے. سردی بڑھ رہی تھی. آتش دان جل رہا تھا.حیات شال لپٹے بیٹھی تھی اسنے سب پر ایک نظر ڈالی بڑے ابو، بابااور شیرافگن بزنس کی باتوں میں مگن تھے.ایک کرسی پر امل پڑھاکو بک پکڑے بیٹھی تھی. ایک صوفے پردادو دونوں بہوؤں کے ساتھ بیٹھی تھیں.انکی دائیں طرف ایمان اور حیات بیٹھی تھیں.انکےگھر ہر ہفتے کی رات کو ایسے ہی سب مل بیٹھتے تھے.اگلے دن اتوار ہونے کی وجہ سے آفس، کالج کی فکر نہیں ہوتی تھی.اسلئے سب دیررات تک باتوں میں لگے رہتے."گاؤں میں زوھرا کے پوتے کی شادی ہے تو بہو تم تیار رہنا پرسوں ہم نکلیں گے"دادو نے تائی امی سے کہا.زوھرا اماں، دادو کی بچپن کی سہیلی تھیں.دادو جو کہیں نہیں جاتی تھیں اب دو دنوں کے لئے گاؤں جارہی تھیں."دادو آپ بھی افگن بھیا کی شادی کروائیں پھر آپ بھی اپنی بیسٹ فرینڈز کو انوائٹ کریے گا" امل نے کتاب سے سر اٹھا کر کہا تو دادو مسکرا دیں.
"ہاں بیٹا اب جلد تمہارے بھیا کے سر پر سہرا سجائیں گے"دادو نے خوشی سے جواب دیا انھیں شیر افگن کی شادی کرنے کی بڑی جلدی تھی.پر وہ مان ہی نہیں رہا تھا.
وہ لوگ اب زوھرااماں کے پوتے اور شیرافگن کی شادی جسکا نام ونشان ہی نہ تھا.اسے ڈسکس کرنے لگیں.حیات انکی باتوں کو فضول سمجھتے ہوئے موبائل پرناول پڑھ رہی تھی پر انکی باتیں برابر اسکےکانوں تک پہنچ رہی تھیں.انکی باتوں کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں پارہی تھی.اسنے موبائل سائیڈ پر رکھا.ایک بار پھر سب پرنظر ڈالی عورتوں کی پارٹی سر جوڑے شادی کی باتوں میں لگی تھی.مرد حضرات بھی اپنی باتوں میں مگن تھے."میں ہی ایک فضول بیٹھی ہوں"حیات کو اپنا آپ مسکین سا لگا.اچانک اسکی نظر ایک پل کے لئے شیرافگن پر ٹہر سی گئی .وہ کسی بات پر مسکرایا تھا.ہلکی داڑھی میں وہ بے حد ہینڈ سم لگ رہا تھا.اپر سے کالی شلوار ، قمیض نے تو حد کردی تھی.حیات منہ بناکر نظریں ہٹانے ہی لگی تھی کہ شیرافگن نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا.اسنے جلدی سے نظریں نیچے کی پھرخود کو ڈانٹنے لگی"اف لڑکی کیاسوچیں گے افگن بھائی کہ کیوں تم انھیں گھورے جارہی تھی"اسے شرمندگی نے گھیر لیا "ہونہہ وہ جانتے توہےخود کو..شیرمار کہیں کے میں کیوں گھورنے لگی انھیں ..سوچتے رہے میری بلا سے"اسنے سرجھٹک کر سوال جواب کا سلسلہ ختم کر کے خود کو تسلی دی اور ایمان کی بات سننے لگی جو اس سے کل ہونے والی دعوت کی بات کر رہی تھی.جبکہ شیرافگن گفتگو کے دوران کتنی باراسے دیکھ چکا تھا. جانے کیوں؟
                                         •••••••••••••••••
"آپی مجتبیٰ بھائی کی فیملی نےکب آنا ہے؟"
امل نے ایمان سے پوچھا جووارڈروب کھولے کھڑی تھی .
"گڑیاڈنر پہ آئیں گے ابھی کافی وقت ہے."ایمان کپڑے سلیکٹ کررہی تھی.
"آپی آپ نے دیکھا ہوا ہے مجتبیٰ بھائی کو؟"  امل نےپھر سوال کیا
"بہت پہلے دیکھاتھا.اب یاد نہیں"وہ کپڑے لے کربیڈکی طرف آئی."اورحیات آپی آپ نے؟"اب وہ حیات کی طرف گھومی جو موبائل پہ ناول پڑھ رہی تھی.
"مجھےبھی یاد نہیں اور تم کیا آج فری ہو.جو اتنا بول رہی ہو.ویسے تو کتابوں سے سر نہیں اٹھتا تمہارا"حیات نےموبائل سے نظر اٹھاکر اسے ڈانٹا "آپی مجھے جاننا ہےکہ کون ہیں افگن بھیا کے دوست جنہیں وہ گھر پہ انوائٹ کررہے ہیں"امل نے بہن کو دیکھ کر کہا
"اچھاآینگے وہ تودیکھ لیناکہ کون ہیں ،کیسے ہیں.اب چپ بیٹھوپڑھنےدومجھے"حیات کی بات پر امل،ایمان کے پاس کھڑی ہوئی.جو اب کپڑے پریس کر رہی تھی.
"ایمان آپی کیا انکے اور بہن ، بھائی بھی ہیں؟"
امل کا تجسس ختم ہی نہیں ہورہا تھا.
"ہاں ایک بہن ہے شاید تمہارے جتنی ہوگی" ایمان نے مصروف انداز میں جواب دیا
"اف امل آج تو تم نے حد کردی سوال پر سوال کئے جارہی ہو لڑکی"حیات بھی آخرکار اٹھ کر انکی طرف آئی.امل آج اسے حیران کر رہی تھی اتنی باتیں کر کے
"آج فری ہوں آپی کوئی ٹیسٹ جو نہیں ہے اورافگن بھیاکے دوست ہے تو مجھے جاننا ہے بس"اسنے ہنس کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا
"ہاں افگن بھیا کی چمچی"شیرافگن کا نام ابھی اسکے لبوں سے نکلا ہی تھاکہ وہ کمرے میں داخل ہوا."شیطان کا نام لیا اورشیطان حاضر"وہ منہ بنا کر بڑبڑائی
"ایمان یہ شرٹ پریس کردو آج یہی پہننی ہےمیں نے" وہ ایمان کو شرٹ پکڑا کرحیات کی طرف پلٹا.                                            "حیات اسے رکھو.کوئی کام کرلو اور ہاں خبردارجومہمانوں کے سامنے اسےہاتھ بھی لگایاتو"اسنے موبائل کی طرف اشارہ کیا.
"جی ..."حیات کی شامت آئی تھی.جو اسنے موبائل پر ٹائم دیکھا اور افگن صاحب نے اسے   "وہ پاگل تھوڑی ہے.جو مہمانوں کے سامنے موبائل یوز کرتی"حیات نے سوچوں سے سر جھٹک کر انکی طرف متوجہ ہوئی.
"امل گڑیا آپ بھی تیار ہو جانا اوکے"وہ امل کے سر پر ہاتھ رکھ کے مسکراکربولا.حیات نے گھورکر اسے دیکھا"مجھ سے بات کرتے ہوئے جیسے کریلے کھائے ہوئے ہو.باقی سب سے کتنےاچھے سے بات کرتے ہیں شیر مار"اسنے افسوس سے گردن ہلائی. شیرافگن ایک نظر اس پرڈال کرکمرے سےچلا گیا.
"حیات آؤ تم شرٹ پریس کرو میں ذرا کچن کا چکر لگا لوں"ایمان دروازے کی طرف بڑھی
"آپی پریس ہوئی شرٹس ہونگی وہ پہن لیں" "یہ بھائی کی فیورٹ شرٹ ہے.اسلئے وہ پہننا چاہ رہے ہیں.چلو پریس کرو گڑیا اور دھیان سے اوکے میں بس ابھی آئی"ایمان اس سے کہتی کمرے سے نکل گئی.حیات نہ چاھتے ہوئے بھی شیرافگن کی چاکلیٹی شرٹ پریس کرنے لگی.حیات نے امل کو دیکھاجوکوئی شاعری کی بک پڑھ رہی تھی.تبہی حیات کا موبائل بجنے لگا."اللّه کون ہے اب"اسنے جھنجھلا کر موبائل کی اسکرین پرنظرڈالی جہاں تابی کانام چمک رہا تھا.اسنےکال پک کی"جلدی بولوکیابات ہے مجھے بہت کام ہے"وہ شرٹ پر استری پھرتے ہوئے بولی
"جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے.کل تک تو تم نے حکومت نہیں سنبھالی تھی.جو تم اتنی مصروف ہوکہ مجھ سے بات کرنے کا وقت بھی نہیں ہے تمہارےپاس"دوسری طرف سے تابی شروع ہو چکی تھی.حیات نے موبائل کان سے ہٹاکراسے گھوراجیسے تابی کوگھور رہی ہو.
"بہت کام ہیں میرے زمے تمہاری طرح نکمی نہیں ہوں سمجھی"اسنے منہ بناکر کہا
"ہاں ہاں سمجھ گئی. جیسے مجھے پتہ ہی نہیں تمہارا مصروف لڑکی"تابی ہنسی تھی."اچھا یارحریم کی منگنی کی تیاری کہا تک پہنچی ویسے ہم نے سوچا ہے...."تابی کی بات پر کافی دیر تک دونوں خوشی سےاس ٹوپک پر بات کرتی رہیں.جب امل چیخ کر اسکی طرف آئی.حیات نےحیرت سے اسے دیکھا کہ اب اسے کیا ہوگیا؟"
"افگن بھائی کی شرٹ جلا دی آپ نے"امل کی بات پر اسکا منہ کھل گیا.نظریں گھما کر دیکھا تو شرٹ ، استری سے چِپکی ہوئی تھی.موبائل اسکے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا.اسنےموبائل  مضبوطی سےپکڑا بھلا وہ موبائل کو کیسے نقصان پہنچاسکتی تھی .
"ہاۓ اللّه یہ کیا ہوگیا.مجھے پتہ ہی نہ چلا امل اب کیا ہوگا؟ افگن بھائی تو مجھے کچا چبا ڈالیں گے اور میرا موبائل....ہائے میں تو گئی اب...مجھے بچالےکوئی شیرمار سے"اسنے امل کا ہاتھ پکڑکر مسکین سی صورت بناکر دہائی دی.اسکا موبائل اسکی جان تھا.پر دادو اور شیرافگن کے لئے شیطانی کی جڑ تھا.اگر افگن بھائی کو پتہ چلا کہ موبائل کی وجہ سے انکی شرٹ جلی ہے.تو وہ اسکی جان ہی لے لیں گے.
"اچھا ہےاسکا کام تمام ہو جائے"امل نے موبائل     کی طرف اشارہ کرکےلاپرواہی سےکندھے اچکائے."کیا ہوگیا؟"ایمان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا.امل نے شرٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں بڑا سا سوراخ بنا تھا.
"اب کیا ہوگا آپی؟"حیات رو دینے کو تھی.
"ایمان...."شیرافگن باہر سے ایمان کو پکارتا ہوا آرہا تھا.حیات کا دل تیزی سے دھڑکا
"آپی اپنے بھائی سے بچا لیں مجھے پلیز"وہ بھاگ کر بیڈ پر بیٹھی شاعری کی بک اٹھا کر چہرے کے سامنے کرلی.شیرافگن کمرے میں داخل ہوا."ایمان شرٹ پریس ہوگئی ؟"
"وہ...بھائی"ایمان نےشرٹ کی طرف اشارہ کیا  "یہ مجھ سے جل گئی"شیرافگن نے ایمان کو دیکھا.وہ ایمان کو نیچے سے اپرآتے دیکھ چکا تھا.مطلب شرٹ جلانے والی کوئی اور تھی. اسکی نظر بیڈ کی طرف گئی.
"آج حیات صاحبہ شاعری پڑھ رہی ہیں خیر تو ہے؟"شیرافگن ساری بات سمجھ چکا تھا.اسنے ایمان اور امل کو آنکھ ماری جبکہ حیات ابھی تک بک کے پیچھے چہرہ چھپاۓ بیٹھی تھی.
"بھیا آپی اب شاعری میں کافی انٹرسٹ لینے لگیں ہیں"امل نے ہنسی دبائی.حیات بےخبر تھی کہ اسکی چوری پکڑی جاچکی ہے.
"وہ تو نظر آرہا ہے.اتنا انٹرسٹ ہے کہ محترمہ الٹی شاعری بھی پڑھ لیتی ہیں"اسکی بات پر حیات نے جلدی سے بک کو دیکھا جوالٹی تھی.
"ہا..ہاں میں پڑھ لیتی ہوں الٹی شاعری بھی... مشکل کیا ہے بھلا میں آسانی سے پڑھ لیتی ہوں"اسنے ہڑبڑا کر سر ہلایااسے پتہ نہ چلاکہ وہ گھبراہٹ میں کیا بول گئی.ان تینوں کی ہنسی نے اسے احساس دلایا.
"امیزنگ مجھے نہیں پتہ تھا کہ حیات اتنی              ٹیلنٹڈ ہے.تم نےتو آج مجھے حیران کر دیا" شیرافگن نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہنسی دبائی جو شرمندگی کی وجہ سے سر جھکا گئی ."بس بھائی اب میری گڑیا کو تنگ نہ کریں"ایمان ، حیات کے پاس آ کر بیٹھی
"اوریہ جو ہمیں تنگ کرتیں ہیں اسکا کیا؟"امل نے کہا تو شیرافگن چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوا.وہ سر چکاۓ بیٹھی رہی.
"میری پسندیدہ شرٹ جلا دی کیا کچھ بھی نہ کہوں ان میڈم کو"شیرافگن اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا.
"بولو حیات کیا سزا دی جائے تمہیں؟"اس نے پوچھا.حیات ہاتھوں کومسل رہی تھی.امل اور ایمان نے اپنی ہنسی روکی .
"آپ آپی کا موبائل لے لیں بھیا"امل کے کہنے پر
حیات نے جلدی سے سراٹھاکر اسے گھورا.
"جی نہیں"وہ بھلا اپنے موبائل کو کیوں قربان کرتی .اسنے نظر پھیرکر شیرافگن کودیکھا     "پھر کیا؟"اسنے آبرو اٹھا کر پوچھا
"میں نئی شرٹ لادونگی آپکو بس یا اور کچھ"اسکی سنہری آنکھوں میں نمی اتر آئی جسکی وجہ سے انکی چمک مذید بڑھ گئی تھی.آج تک اسے اتنا نہیں ستایا گیا تھا.
شیرافگن نے اسکی سنہری کانچ آنکھوں میں نمی دیکھی تو ایک دم سے سنجیدہ ہوگیا.دل میں جیسےکہیں کچھ ہوا تھا.
"کوئی ضرورت نہیں بس کام کرتے ہوئے موبائل کی جان چھوڑ دیا کرو اوکے"ایک پل میں اسکا موڈ بدلہ تھا.اپنی بات کہہ کر وہ    پلٹا اور لمبے ڈگ بھرتاکمرے سے نکل گیا.   حیات حیران رہ گئی کہ اتنی آسانی سے اسے کیسے چھوڑ دیا شیرمار نے وہ بھی بغیر ڈانٹے وہ زیادہ دیرحیران نہ رہی.اپنے بچ جانے پر شکرادا کیا"اف بچ گئی"وہ خوشی سے ہنس کر ایمان کے گلے لگی.جبکہ ایمان اسے گلے    سے لگائے مسکرا کر کچھ سوچنے لگی.کچھ بہت انوکھی بات جو ابھی ابھی اپنے بھائی کودیکھ کر اسکے ذہن میں آئی تھی.
                                           •••••••••••••••••
مجتبیٰ اوراسکی فیملی آچکی تھی.امل بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی.
"آپی وہ لوگ آگئے"وہ ہانپ رہی تھی.
"اچھا آتے ہیں ہم"ایمان کا جواب سن کر امل باہر چلی گئی.ایمان نےسیاہ لباس پہنا تھا. اسنےدوپٹہ سر پر لیا اورحیات کی طرف پلٹی جو لیمن کپڑوں میں ملبوس بالوں کی پونی ٹیل بنا رہی تھی."حیات چلو جلدی کرو"
"بس آپی تیارہوگئی ہوں"اسنے بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا پھردونوں نیچے آگیں. بڑے سے ہال میں محفل جمی تھی.وہ دونوں سعدیہ بیگم اور زمان ملک سےملیں.مجتبیٰ کی بہن مریم،امل کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی.دونوں ہنس ہنس کے باتیں کر رہیں تھیں.جیسےپہلے سے ایک دوسرے کو جانتی ہوں.امل نے دونوں کا تعارف کروایا مریم دونوں سے گلے ملی."آپی آپ دونوں بہت پیاری ہیں"اسکے کہنے پر دونوں مسکرائیں.
"آپ بھی بہت پیاری ہیں گڑیا"ایمان نے اسکا گال تھپتھپایا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی.
"بہت شکریہ آپی"اسےایمان بہت اچھی لگی. دونوں نےمجتبیٰ کو سلام کیاجسنے انہیں جواب دے کر شیرافگن کو دیکھا
"یہ حیات ہےاور یہ میری بہن ایمان"شیرافگن نے انھیں دیکھ کر تعارف کرایا.
"آپ دونوں سے مل کر اچھا لگا"مجتبیٰ کی نظریں ایمان کے چہرے پر ٹکی تھیں.جنہیں ایمان کے ساتھ ساتھ حیات نے بھی محسوس کیا"مجھے اور ایمان آپی کو بھی آپ سے مل کر اچھا لگا مجتبیٰ بھائی"وہ مسکراکر بولی جبکہ ایمان چہرہ جھکاۓ کھڑی تھی.وہ اپنے چہرے پرنظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی.جلد ہی ایمان ،حیات کا ہاتھ پکڑ کےکچن میں آگئی اور گلاس میں پانی ڈال کر پیا
"اہم آپی ...آپ نے دیکھا کیسے وہ.."حیات نے مسکراہٹ دبائی ایمان نے اسے گھورا
"شش چپ کرو کچھ نہیں دیکھا میں نے"ایمان جلدی سے کھانا چیک کرنے لگی کہ کوئی کمی نہ ہو.پھرکھانا لگانے اور کھانے تک حیات اسے تنگ کرتی رہی تھی.کھانا کھا کر سب پھرمحفل جما کر بیٹھے پھر ایمان کافی بنالائی.
"کھانا بہت اچھا بنا تھا بیٹا"سعدیہ ملک نے کپ لیتے ہوئے مسکراکر اسکی تعریف کی
"شکریہ آنٹی" ایمان نے دھیمے سے کہا
"ماشاءاللّه آپکی تینوں بچیاں بہت پیاری ہیں" انھیں نے دادو سے کہا تو وہ فخریہ انداز میں مسکرائیں.بڑے سب اپنی باتوں میں لگے تھے.چاروں لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھی تھیں.
"حیات آپی آپکی آنکھیں بہت پیاری ہیں"مریم نے اسکی سنہری آنکھوں کی تعریف کی تو وہ شکریہ کہہ کرلاپرواہی سے مسکرائی.امل اور مریم اب پڑھائی کی باتیں کرنے لگیں.
"لیں جی امل میڈم کو انکی طرح پڑھاکو دوست مل گئی.ہم دونوں تو ویسے ہی بور ہو رہی ہیں"حیات نے ابھی بات پوری کی ہی تھی. جب ایمان کو سعدیہ ملک نے اپنے پاس بلا لیا. حیات بیچاری اکیلی رہ گئی.مگر مریم نے اسے اپنے ساتھ باتوں میں لگا لیا تھا.شیرافگن اور مجتبیٰ کافی فاصلے پررکھے صوفے پر       بیٹھے تھے."اوۓ لالے بڑی باڈی شاڈی بنائی ہوئی ہے کیا بات ہے"مجتبیٰ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا شیرافگن نے بلیو جینز ، بلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی.جس میں اسکے مسلز صاف نظرآ رہےتھے.
"ہاں تو تم بھی بنا لو ناں نکمے انسان"
"ہماری تو بنی بنائی ہے یار"اسنے ہنس کر کہا وہ شیرافگن کے مقابلے میں تھوڑا دبلا تھا.پر اچھا خاصا تھا."ہاں وہ تو نظر آرہا ہے مسٹر" شیرافگن نے اسکا کندھا تھپکا.
"تم مجھ سے کلاسز لے سکتے ہو پھر باڈی   بنانے کے لئے جم میں اتنی محنت نہیں         کرنی پڑےگی"مجتبیٰ نے شرارت سے کہا
"بہت شکریہ مجتبیٰ ملک پر میں ایسے ہی ٹھیک ہوں" شیرافگن نے منہ بناکر جواب دیا. کچھ دیر بعد وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے.شیرافگن اور مجتبیٰ پورچ کی طرف بڑھ گئے.مسٹر اور مسز ملک نے دادو کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی.پھروہ لوگ روانہ ہوگئے. بڑےسب آرام کرنے جاچکےتھے.امل اداس  بیٹھی تھی کہ اسکی نئی نئی دوست چلی گئی.حیات اور  ایمان نے اسے اپنے ساتھ کام سمیٹنے میں لگا دیاکہ پھرامل صاحبہ کو اپنی نئی دوست کی یاد کم ستاۓ گی.
                                        •••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ

کلاس لے کے وہ لوگ باتیں کرتی ہوئی گراؤنڈ میں نکلیں .اپنی فیورٹ جگہ درخت کے نیچے آکربیٹھیں.سردی کی وجہ سے سب نے شالیں لپیٹ رکھیں تھیں.
"ہاں اب جلدی بتاؤ کیا ہوا تھا"مینا نے بےتابی سے پوچھا حیات نے اسے گھورا
"سب اس تابی کی بچی کی وجہ سے ہوا تھا"  اسنے تابی کے کندھے پر چپت لگائی
"واہ سارا الزام مجھ پہ کیوں ڈال رہی ہو"
"کوئی ہمیں بھی بتاۓ کہ ہوا کیا ہے؟" حریم نے دونوں کو گھورا.جو لڑنے میں مصروف تھیں. حیات نے انھیں سب بتایا کہ کیسے شیرافگن کی شرٹ جلی اور کیا کیا ہوا.اسکی بات
ختم ہوتے ہی وہ چاروں کھلکھلا کر ہنسنے لگیں.تو حیات نے آنکھیں پھاڑ کے انھیں دیکھا."بند کرو یہ چڑیلوں والی ہنسی"
"اف یار کتنےمزے کا سین ہوگا.ضرورکچھ گڑبڑ ہے"مینا نےآنکھیں گھمائیں باقی تینوں بھی ایک دوسرے کو اشارے کر رہی تھیں .
"کیا مطلب ہے تمہاری  اس بات کا؟"
"مطلب تو صاف ہے.دیکھو ناں اتنے غصے والے شیرمار نے اپنی فیورٹ شرٹ جل جانے پر کچھ نہ کہا بلکہ مذاق کرتا رہا واہ پھر جب تم رونے والی ہوگئی تو اسنے تمہیں ڈانٹا بھی نہیں کچھ تو راز اسکے پیچھے"مینا نے جیسے بہت گہرائی سے سوچتے ہوئے کہا.
"مجھے تو لگتا ہے وہ تم سے محبت کرنے لگے ہیں"حریم نے خواب کی سی کیفیت میں کہا
"تم تو چپ ہی رہو جب سے تمہیں منگنی کا پتہ چلا ہے ،تم تو پیار، محبت کا ہی سوچتی ہواور کوئی کام نہیں ہے تمہارا"حیات نے اسے ڈانٹا"ویسے حریم کی بات ٹھیک ہی ہے" سبین نے سر ہلا کر کہا.حیات نے اسکا چشمہ اتارا
"تم بھی ان سب کے ساتھ مل گئی "
"ہاں تو سچ ہی کہہ رہے ہیں ہم نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ شیرافگن صاحب کو اپنی حیات صاحبہ سے محبت ہوگئی ہے"تابی جو مار کھا کرکب سے چپ بیٹھی تھی بول پڑی.اسکے کندھے پرحیات نے ایک اور تھپڑ مارا تو وہ حیات سے دور ہو کر بیٹھی.
"خبر دار جو تم لوگوں نے میرا دماغ خراب کیا ورنہ اچھا نہیں ہوگا ہونہہ"اسنے انگلی اٹھا کر سب کو وارن کیا."میرا کندھا توڑ دیا ہے تم نے موٹی"تابی اپنا کندھا دبانے لگی.
"اورکچھ کہوذرا سربھی توڑ دونگی سمجھی"
"اہم...ہوگیا ہےشیرمار کوتو پیار کڑیوں لاکھ کر لے یہ حیات انکار کڑیوں"مینا نےشرارت سے گنگناکر گانے کی ٹانگیں توڑیں.وہ گانا گانے کی شوقین تھی.آواز بھی بہت اچھی تھی.اسلئے وہ کچھ نہ کچھ گنگنا کر سب کوسناتی رہتی تھی.اسکےگانے پر حیات نے اسےگھورا اور  باقی سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگیں.حیات نے سر ہاتھوں پرگرا لیا.یہ سب تو خود سے کہانیاں بنا رہیں تھیں.
"اچھا ...اچھا سب چپ....میری بات تو سنو پیاری دوستو"حیات نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روکا پھر مسکراکر سب کودیکھا.وہ لوگ اسکے اچانک موڈ بدل لینے پر حیران رہ گئیں.
"ہاں تو بتاؤ ذرا میں کون ہوں اور کس چیز کی دیوانی ہوں؟"
"ظاہرسی بات ہے تم حیات ہو اور دیوانی   ہوں ...دیوانی تو تم شیرافگن صاحب کی ہوگی" حریم نے سوچتے ہوئے آنکھ ماری
"توبہ ہے... تم لوگوں کو پتہ ہے ناں میں ناولز کی دیوانی ہوں.تو پیاری چڑیلوں میں نے ایسے بہت سے ناولز پڑھے ہیں.جہاں تم جیسی بیوقوف سہیلیاں"اسنے سب کی طرف شہادت کی انگلی گھمائی اور خود پر روکی"مجھ جیسی ہیروئن کو ایسے ہی کہتی ہیں کہ تمہارا وہ کھڑوس، بدتمیزکزن تمہیں پسند کرتا ہے.پھر جب ہیروئن بیچاری انکی باتوں میں آکر ہیرو صاحب سے اظہارِ عشق کرتی ہے.تو ہیرو صاحب سے تھپڑ کے ساتھ بہت کچھ سننے کو بھی ملتا ہے."اسنے سر جھٹک کر منہ بنایا"اور تم سب کو لگتا ہے کہ میں ایسی بیوقوفی کروں گی.نہ جی نہ..." اسنے زور زورسےنفی میں سر ہلایا            "جیسے میں شیر مار کو جانتی نہیں ایسی بات کرکےمرناہےکیا میں نے توبہ.اسلئےاب ان پھٹی ہوئی آنکھوں کو نارمل کرو اور اپنے دماغوں سے اس محبت کے فتور کو نکال باہرکرو"وہ اب سب پر ہنس رہی تھی.ان سب کی شکلیں لٹک گئیں.
"کتنابولتی ہو تم بڑی آئی ہیروئن کہیں کی"  تابی نے اسے گھورا جو اب مسکرا رہی تھی. مسکرانےکی وجہ سے گال میں پڑھتا ڈمپل واضح ہو رہا تھا.
"اوریہ جو تم نے کہانی سنائی ہے ہمیں ، ہم نے کب کہاکہ جاکر شیر مار کو آئی لو یو کہو توبہ میرا سر دکھا دیا تمہاری باتوں نے"مینا نے اپنا سر دبایا جبکہ حریم ، سبین اور حیات مسکرا رہیں تھیں.حیات نے ان دونوں چالاک لڑکیوں کے سر میں درد کروا دیا تھا .
"کیسے دانت نکال رہی ہیں تینوں"مینا نے کہا وہ اور تابی ایک گروپ میں ہو گیں اور وہ تینوں دوسرے.سب اب بحث کرنے لگی ایک طرف حیات کی باتوں پرسبین ، حریم ہنس رہی تھیں.جبکہ دوسری طرف وہ دونوں بے زار سی بیٹھیں شکلیں بناتی برابر مقابلہ کر رہی تھیں.آخر میں حیات نے ہاتھ کھڑےکرکےانھیں چپ کروایاپھر اٹھ کھڑی ہوئی."آجاؤ میری پیاری چڑیلوں ہمارا ایک ہی گروپ ہے پھر مقابلہ کیسا"وہ ایک دوسرے سے گلے ملیں تو مینا گنگنانے لگی.
          یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے. 
 توڑیں گے دم اگر تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے.
"بالکل بالکل"سب کھلکھلا کے ہنسی.ایک دوسرے سے لڑنا صرف مذاق تھا.ورنہ تو سبکی ایک دوسرے میں جان تھی.ایسی پیاری دوستیں ملنا خوش نصیبی تھی. وہ ایک دوسرے کو خوش نصیب کہتی تھیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے پاس تھیں.
                                          ••••••••••••••••
حیات ، دادو کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی. شیرافگن بیڈ سے کچھ فاصلے پررکھے صوفے پر بیٹھا تھا.ایمان ،دادو کی ضروری چیزیں پیک کر رہی تھی.کل انھیں گاؤں شادی میں جانا تھا."دادو میں آپکو بہت مس کروں گی"حیات اداس سی دادو کے کندھے سے لگی.
"بیٹادو دنوں کے لئے جا رہی ہوں.تم کیا میری ڈانٹ یادکرو گی"دادو نے ہنس کر اسکے گال پہ ہاتھ پھیرا."بالکل دادو آپکی ڈانٹ سنے بغیر میرا دل نہیں لگتا"اسنے انکاہاتھ تھام کرکہا.
"چلو جاؤ یہاں سے شریر لڑکی ورنہ ابھی ڈانٹ دینا ہے میں نے"انھیں نے اسے گھورا.تو اسنے ہنس کر انکے گال پرپیار کیا.ایمان ،دادو سے اسکے لاڈ دیکھ کر مسکرا رہی تھی.جبکہ شیرافگن خاموش بیٹھا اس پل پل رنگ بدلتی لڑکی کو دیکھ رہا تھا."دادو ایک بات سنیں" حیات نے سرگوشی کی."ہاں بولو"دادو نے اسے دیکھا.ایمان کو بڑی ہنسی آرہی تھی کہ آج دادی،پوتی کی بہت بن رہی ہے.
"افگن بھائی کو دیکھیں کتنے خاموش ہیں.آپ ایساکریں انکی شادی کروا دیں" وہ خوشی سے بولی اسکی سرگوشی اتنی اونچی تھی کہ سب کو سنائی دے.
"بہت اچھی بات کی ہے آج حیات نے پر پہلے اس لڑکےکو کوئی مناۓ تو سہی"دادو نے اسکی سرگوشی(جو صرف حیات کو لگا کہ سر گوشی ہے)کے جواب میں اونچی آواز میں جواب دیا.اسنےگھبرا کر ایک ہاتھ منہ پر  رکھ کر شیرافگن کو دیکھا جسکے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے."مروا دیا دادو"وہ بڑبڑائی
"بولو شیرافگن جواب دو حیات کی بات کا شادی کروا دیں تمہاری"دادو نے ہنس کرپوچھا شیرافگن اٹھ کھڑا ہوا.حیات ڈر سی گئی.
"وہ دادو رہنے دیں میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا"وہ جلدی سے بولی اسکی بات پر ایمان ہنسی.شیرافگن بیڈ کی دوسری طرف آکر بیٹھا "دادو کرلوں گا شادی صحیح وقت آنے پر "اسنے ایک نظر ساتھ بیٹھی حیات پر ڈالی جو اسکی بات سن رہی تھی.پھراسنے دادو کو دیکھا "ابھی تو ڈیئر دادو آپ اپنی دوست کے پوتےکی شادی انجواۓ کریں"اسنے دادو کے ہاتھ چومے "ہاں بیٹا اب میں دوسروں کے پوتوں کی شادیاں ہی مناؤں گی"دادو نے خفگی سے منہ پھیرا.
"آپ اداس کیوں ہو رہی ہیں دادو جلد افگن بھائی کی شادی ہوگی ناں"حیات پھر جذباتی ہوکر بولی پھریادآنے پرایک دم سے زبان دانتوں میں دبائی.شیرافگن نے لب بھینچے پھراٹھ کھڑا ہوا.
"اچھا دادو چلتا ہوں مجتبیٰ سے ملنے جانا ہے"
"اچھا جاؤ بچے"دادو نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ کمرے سے نکل گیا .
"بیٹا بس ضروری سامان ہی رکھنا"
"جی دادو بس ہوگیا"ایمان بیگ بند کر کے
 انکے ساتھ بیٹھ گئی .
"بہو نے تیاری کرلی؟کل صبح جلدی نکلیں گے"
"جی ہوگی تیاری ماما کی اور دادو ہم آپکو مس کرینگے"ایمان نے محبت سےدادوکےہاتھ تھامے.دادو ان سے کھبی دور نہیں گئیں تھیں. اسلئے وہ اداس ہو رہیں تھیں.                            "میری بچیوں دو دنوں کی بات ہے .اب مس کرنے کی بات کو چھوڑ دو"دادو نے ہلکے سے مسکراکراسکاگال تھپکا.ابھی دادوکی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ امل کمرے میں داخل ہوئی. "دادو آپ صبح جائیں گیں"وہ اداسی سے دادو کے قریب بیٹھی"جی بیٹا"دادونے پیار سے اسے دیکھاجبکہ حیات اورایمان نے ہنسی دبائی.وہ جانتی تھیں کہ اب امل کیا کہنے والی تھی.             "دادومیں آپکو بہت مس کروں گی"وہ اداسی سےبولی جبکہ دادوکی برداشت ختم ہوگئی. "اے لڑکیوں یہ کیا تم لوگوں نے کب سے مس مس لگایا ہوا ہے. ہمیشہ کے لئے نہیں جارہی دو دن بعد یہیں لوٹ کر آؤنگی چلو اٹھو اورجاؤ یہاں سے آرام کرنے دو مجھے" انھیں ڈانٹ کر دادو تکیے سے ٹیک لگاکربیٹھیں.ایمان اور حیات ایک دوسرےکو دیکھ کرہنسنے لگیں.امل بےچاری حیران تھی کہ ایساکیاکہہ دیا اسنے جودادو نےایسےڈانٹ دیا.وہ دونوں امل کا ہاتھ پکڑ کرہنستی ہوئیں وہاں سے نکلیں تھیں.
                                           ••••••••••••••
صبح دادو اور تائی امی گاؤں کے لئے روانہ ہوئیں. امل کالج،بڑے ابو اور بابا آفس جاچکے تھے.حیات بیگ کندھے سےلٹکاۓ تیزی سے سیڑھیاں اتررہی تھی.آج اسنےناشتہ بھی نہیں کیاتھا.شیرافگن کار میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا.دو دنوں کے لئےحیات اسکی زمے داری تھی کیونکہ کریم بابا ، دادو اور تائی امی کو لے کر گاؤں گئے تھے.وہ جلدی سے کار کادروازہ کھول کر بیٹھی.وہ انگوری  کپڑوں میں ملبوس تھی.آج جلدی میں اسنے بال کھلے چھوڑ دیئے تھے.دوپٹہ گلے میں ڈالےکندھوں کے گرد شال لپٹی تھی.
"تمہیں ذرا فکر نہیں کہ تم یونی کے لئےلیٹ ہو رہی ہو "شیرافگن نے اسےگھور کر دیکھا.وہ   کب سےکارمیں بیٹھا اسکا انتظار کررہا تھا.
"وہ دادو لوگ جا رہیں تھیں ناں اسلئے"اسنے شیرافگن کو دیکھاجو بلیک سوٹ پہنے ہوئے تھا."اچھا بہانہ ہے.پر کل اگرلیٹ ہوئی تومیں انتظار نہیں کروں گا"حیات کودیکھ کرکہا گیا پھراسنے کار سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی.راستے میں دونوں خاموش ہی رہے.گاڑی یونی کے پارکنگ لاٹ میں رکی تو وہ اسے اللّه حافظ کہتی جلدی سے اتری.آج وہ بہت لیٹ ہو چکی تھی .شیرافگن نے کار زن سے آگے بڑھا دی. حیات پارکنگ لاٹ سے گزر رہی تھی.دو گاڑیوں کے پیچھے احمر جمالی اور اسکےتین دوست کھڑے تھے.حیات کی طرف انکی پیٹھ تھی.وہ پیچھے سے گزرنے لگی جب شازمہ کا نام سن کر رک گئی.
"شازمہ کیاحسین بلاہے" احمرجمالی سینے پہ ہاتھ پھیر کربولا تو اسکےدوست ہنسے لگے.        "یارکب اس چڑیا کا شکار کرنا ہے؟"اسکے دوست وقاص نےکمینگی سےپوچھا جواباً احمرجمالی قہقہہ لگا کر ہنسا"بہت جلد سمجھو کہ چڑیا کےپرکٹنے والے ہیں"
"بہت بیوقوف ہے یہ شازمہ"دوسرا دوست ندیم ہنستے ہوئے بولا
"اپنی صورت اور دولت کا کمال ہےیارجو یہ شازمہ اور اس سے پہلے آنے والی ہمارا نشانہ بنتیں ہیں"اسنےکمینگی سے چہرےپرہاتھ پھیرا
"اور آگے بھی بنتی رہیں گیں"ندیم نے آنکھ ماری تو سب نے قہقہہ لگایا.
"اور ہمارا حصہ؟"سلمان جو خاموش کھڑا تھا. اسنے احمرجمالی کو دیکھ کر پوچھا
"تم لوگ تو ہمیشہ ساتھ ہو یار چڑیا کو ہاتھ لگنے دو پھر تو ...." اسنے ہونٹوں پر زبان پھیر کراسکاکندھا تھپتھپایا پھر باتیں کرتے ہوئے وہ وہاں سے چلے گئے.وہ سب بگڑے ہوئے امیر زادے تھے. احمرجمالی برائی میں بہت آگے نکلا ہوا تھا. وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نجانے کتنی لڑکیوں کی عزت سے کھیلا تھا.اب شازمہ انکا نشانہ تھی.وہ انسان کی صورت میں بھیڑیوں سے کم نہ تھے.جو انسانی گوشت کونوچ نوچ کرکھاتےتھے.غلطی شازمہ جیسی لڑکیوں کی بھی تھی.جواحمر جمالی جیسے لڑکوں کو خود اس بات کا موقع دیتی تھیں کہ وہ انکی عزت کونوچ کر رکھ دیں.
حیات تو بالکل بت بنی کھڑی تھی.وہ جانتی تھی کہ احمر جمالی برا تھا. پر اس حد تک گرا ہوا ہوگا.اسنے سوچا نہ تھا.ایسےکیسے وہ لوگ لڑکیوں کی عزت پامال کر سکتے ہیں؟ اسکے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا.وہ شازمہ کو روکنا چاہتی تھی کہ وہ اس بربادی کے راستے پر نہ چلے جس کی منزل اندھیرے کے علاوہ کچھ نہیں.اسنےقدم آگے بڑھاۓ.اسے بہت دکھ ہوا تھا کہ اتنے برے لوگ بھی ہوتے ہیں ؟ اسکی دنیا محدود تھی.اسکا کبھی ایسے لوگوں سے سامنا نہیں ہوا تھا.یہ سب سن کر اسکادل کانپ سا گیا.وہ یونی میں انٹر ہوئی تو  چاروں اسکے انتظار میں کھڑیں تھیں.اسکےآتے ہی اسے بات کرنے کا موقع دیے بغیر کلاس روم میں لے گیئں کہ لیٹ آنے پرسر نےڈانٹا ہے. وہ کلاس کے دوران بھی خاموش اور پریشان رہی.کلاسز ختم ہوئی تو وہ لوگ باہر نکلیں. انکا رخ کینٹین کی طرف تھا.وہ سب ٹیبل کے گرد بیٹھیں.حیات اب  بھی خاموش تھی.
"کیا بات ہے یار تم اتنی خاموش کیوں ہو؟ سبین نے اسے دیکھ کرپوچھا                                       "شیرافگن صاحب نے ڈانٹا ہے؟"حریم نے ہلکی سی مسکراہٹ کےساتھ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
"اف یار حریم ایسی کوئی بات نہیں"وہ جھنجھلائی"بہت سیریس بات ہے"وہ پھربولی
"اچھا بتاؤ کیا بات ہے جس نےہماری پیاری سی دوست کو پریشان کررکھاہے؟" تابی نے محبت سے پوچھا.سب اسے ہی دیکھ رہیں تھیں. اسنےآہستہ سے احمر جمالی کی ساری باتیں بتادیں. وہ سب شاک کی کیفیت میں تھیں.
"یااللّه اتنا گرا ہوا ہے وہ شخص"مینا نے غصے سے سرہاتھوں میں تھام لیا
"ہمیں شازمہ کو بتا دینا چاہے"سبین نے اسے دیکھ کہاسب ایک دم سے پریشان ہوئیں تھیں.
"ہاں عزت تو سب لڑکیوں کی ایک سی ہوتی ہے.ہمیں بات کرنی چاہےشازمہ سے"حریم نے سبکو دیکھا تو انہوں نے سر ہلایا.
"تم میں سے ایک میرے ساتھ آجاۓ بات کرتے ہیں اس سے"حیات اٹھ کھڑی ہوئی اسکے دل پر جیسے بوجھ سا پڑھ گیا تھا.
"میں چلتی ہوں"حریم اٹھ کھڑی ہوئی
"امید ہے شازمہ سمجھ جائے اور اپنی عزت کو داؤ پر نہ لگاۓ"تابی نے ان دونوں کو جاتے دیکھ کر کہا.انہیں شازمہ گراؤنڈ میں اپنی دوست کے ساتھ نظر آئی.انہوں نے اسے سائیڈ پر بلایا.بالوں کو جھٹکتی وہ انکے سامنے کھڑی ہوئی."ہاں جلدی بولو"وہ ادا سے بولی.
"شازمہ سیریس بات ہے سمجھنے کی کوشش کرنا"حیات کی بات پر اسنے منہ بنایا
"اچھا اب بول بھی چکو"حیات نےاسےساری بات بتائی .بات ختم ہوتے ہی وہ ہنسنے لگی. "اس بات کی ہی امید تھی مجھے تم سے کہ احمر کے خلاف ہی بولوگی"وہ لاپرواہی سے بولی جیسے کوئی بات ہی نہ ہو.
"ایسی کوئی بات نہیں شازمہ تم سمجھ کیوں نہیں رہی .یہ بہت سیریس بات ہے.ہم تمہارا بھلاچاہتے ہیں."حریم نے نرمیسے کہا
"تم لوگ جلتی ہو مجھ سے" وہ گردن اکڑ کر بولی"اور احمر کو جانتی کب ہو تم لوگ جو فضول باتیں کر رہی ہو اسکے خلاف...میں اچھے سے جانتی ہو اسے سمجھی وہ ایسانہیں ہے"احمرکے چرچوں سے کون واقف نہیں تھا. حیات تو اپنے کانوں سے سن چکی تھی پر شازمہ اندھی بن کے اسکی حرکتوں کو نظر انداز کر رہی تھی.
"شازمہ دیکھو ہمیں کوئی فائدہ نہیں اس سب سے تم اندھےپن کی پٹی اتار کر بات کو سمجھو.کیا تمہیں اپنی عزت کا ذرا خیال    نہیں ؟"حیات کی بات پر شازمہ لاپرواہی سے بال جھٹکتی رہی جیسے  وہ کوئی فضول بات کر رہی ہو.حیات نےاپنا غصہ ضبط کیا.ان دونوں نے شازمہ کوسمجھانے کی بہت کوشش کی پر شازمہ کا جواب وہی تھاکہ"احمر اچھا ہے تم لوگ مجھ سے جلتی ہو "اسکی ایک ہی رٹ پر حیات کو غصہ آیا.
"چلو حریم"اسنے حریم کا ہاتھ پکڑا اور جانے لگیمگر پھر شازمہ کی طرف پلٹی"شازمہ صاحبہ اپنے اس سو کالڈ اچھے احمر جمالی کو اپنے پاس رکھو جلتی ہے میری جوتی اگر تم خود اپنی عزت کی دشمن بنی ہوئی ہوتو ہم کیا کر سکتے ہیں.سمجھانا ہمارا فرض تھا. سووہ ہم نے کیا باقی تمہاری مرضی کیونکہ اتنی بچی نہیں ہوتم کہ تمہیں یہ نہ پتہ ہو کہ کیا اچھا اورکیا براہے.پراپنی دو دن کی محبت میں اس بات کاخیال رکھنا کہ تمہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے"وہ اپنی بات مکمل کرتی پلٹ کر چلی گئی جبکہ شازمہ ہونہہ کرتی واپس اپنی دوست کی طرف گئی.
 دونوں واپس آئیں تو غصے میں تھیں.ساری بات ان تینوں کو بتائی تو انھیں افسوس ہوا.
"چلو موڈ ٹھیک کرو ہم نے اپنی طرف سے کوشش کی اب اسکی مرضی سمجھتی ہے یا نہیں"مینا نے انھیں دیکھا
"بالکل لو یہ گرما گرم چاۓ پیوؤ اور فریش ہو جاؤ" سبین نے کپ انکی طرف بڑھاۓ
"شکریہ یارآج سردی بہت ہے ویسے"حیات نے لمبی سانس کھنچ کر کپ لبوں سے لگایا.ان دونوں کا موڈ ٹھیک کرنے کےلئے مینا،تابی، سبین نے انھیں باتوں میں لگادیا تھا.
                                          •••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش

شام کے وقت مجتبیٰ ،شیرافگن سے ملنے آیا دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے.شیرافگن کی ضروری کال آئی تو وہ لان میں نکل آیا. ایمان چاۓلے آئی حیات اسکے ساتھ تھی.وہ صوفےپر بیٹھ کر مجتبیٰ سے باتیں کرنے لگی. ایمان نے ٹرے ٹیبل پر رکھی پھرکپوں میں چاۓ ڈالنے لگی.مجتبیٰ بات حیات سے کر رہا تھا پر اسکی نظریں ایمان کے چہرے پر تھیں. ایمان نے کپ اسے پکڑایااسنے کپ تھام کر ایک گہری نظر اس پر ڈالی.ایمان کا چہرہ جیسے جلنے لگا.حیات خاموش بیٹھی چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ بکھراۓسب دیکھ رہی تھی.ایمان چہرہ جھکاۓ جلدی سے وہاں سے نکلی جبکہ حیات ایک دم سے کھانسی تھی. مجتبیٰ شرمندہ سا ہوگیا.حیات کی  موجودگی کو بالکل فراموش کر چکا تھا .
"اہم دال میں کچھ کالا کالا سا لگتا ہے مجتبیٰ بھائی"اسکی بات پر مجتبیٰ دھیمے سےہنسا.
"ہو سکتا ہےلیٹل سسٹر"اسنے چاۓ کا سپ لیا
"اوہ...میں تو پہلے ہی سمجھ گئی تھی"  شرارتی ہنسی کے ساتھ اسنے سرہلایا.
"آپکی سمجھداری پر ہمیں کوئی شک نہیں" مجتبیٰ نے اسے دیکھاپھر تھوڑا قریب ہوکر بولا "پر کوئی ہے جو آپکو سمجھدار نہیں سمجھتا"
"ہاں ہاں  مجھے پتہ ہے وہ کوئی آپکے دوست محترم ہیں"حیات نے سر ہلا کر منہ بنایا. مجتبیٰ قہقہہ لگا کر ہنسا .
"ویسے آپکی آپی چاۓکمال کی بناتی ہیں" اسنے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے تعریف کی
"بالکل میری آپی بیسٹ ہیں"حیات نے فخریہ
انداز میں سر اٹھا کرکہا تو مجتبیٰ ایک دم   سے مسکرایا.شیرافگن جب کال سن کر اندر آیا تو حیات کو مجتبیٰ سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا دیکھ کے اسے عجیب سی جلن محسوس ہوئی .وہ انکی طرف آیا اورمجتبیٰ کے ساتھ بیٹھ گیا."کیاباتیں ہو رہی ہیں؟"شیرافگن نےحیات کو گہری نظروں سےدیکھ کرمجتبیٰ سےسوال کیا.
"حیات صاحبہ بہت اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں کہ مجھے تمہاری کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی" مجتبیٰ نے ہنس کر اسے دیکھا
"اچھامجھ سے تو کبھی نہیں کی ان مادام نے اچھی باتیں"اسکا اندازطنزیہ تھا.وہ پتہ نہیں کیوں بے چین ہو رہا تھا.
"ہونہہ آپ سے مذاق کر کے میں نے خودکشی تھوڑی کرنی ہے"وہ بڑبڑائی پھر اٹھ کھڑی ہوئی
"لگتا ہے مجھے ایمان آپی بلا رہی ہیں"وہ جلدی سے بہانہ بنا کر وہاں سے نکلی .مجتبیٰ اسکی حرکت پر ہنسا جبکہ اسے جاتا دیکھ کر شیرافگن کےماتھے پر بل پڑھ گئے.
"اتنی عظیم ہستی ہے حیات اورتم اسے پاگل کہہ رہے تھے یار"مجتبیٰ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا."کوئی اور بات کرو"اسنے بے زاری سے کہا پھر اپنے لہجے پر غور کیا تو بولا
"اچھا بتاؤ بزنس کا کیا پلان ہے"شیرافگن نے بات پلٹ کر سوال کیا تو مجتبیٰ اسے بتانے لگاپر شیرافگن کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا.
                                           ••••••••••••••••
اگلے دن حیات جلد ہی تیار ہوکر شیرافگن کے ساتھ یونی کے لئے نکلی تھی.وہ ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی.موسم بہت پیارا ہو رہا تھا. بارش ہونے کاامکان تھا.شیرافگن ڈرائیو کر رہا تھا.ساتھ ہی موبائل کان سے لگا ہوا تھا.کوئی بزنس کی بات چل رہی تھی.کار یونی کے پارکنگ لاٹ میں رکی.حیات بیگ کندھے پر ڈال کرکار سے باہر نکلی.جب ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا تو اسنے شال کواچھے سے اپنے گرد لپٹا.وہ آگے بڑھ رہی تھی.جب اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنی ساتھ ہی اسے پکارا گیا."حیات" پکارنے والا شیرافگن تھا.اسنےپلٹ کر دیکھا.نیوی بلیو سوٹ میں آنکھوں پر گلاسز لگاۓ وہ اسکے سامنے کھڑا تھا."جی کیا ہوا؟" اسے سمجھ نہیں آئی کہ اسے کیوں روکا گیا.اسے محسوس ہوا شیر افگن نے گلاسز کے پیچھے سے اسے گھورا تھا.
"یہ آپکی ہی ہےناں محترمہ"اسنے فائل حیات کے سامنے لہرائی.حیات نے دو قدم آگے بڑھا کر فائل تھامی" شکریہ افگن بھائی "اسنے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.
"خیال رکھا کرو اپنی چیزوں کا اوکے" اتنا کہتا وہ کار کی طرف بڑھ گیا.حیات بھی چلتی   ہوئی یونی میں داخل ہوئی.وہ سب گراؤنڈ میں اپنی جگہ پر بیٹھی تھیں.حیات انکی طرف بڑھی."واہ واہ دیکھو دیکھو کون آیا" تابی نے اسے دیکھ کر نعرا لگایا.
"شیر" مینا نے جلدی سے کہا
"دھرفٹے منہ"حریم نے منہ بنا کر مینا کو ایک لگائی.تب تک حیات انکے ساتھ بیٹھ چکی تھی." ارے اپنی حیات ہے"سبین نے مسکرا کر کہا.حیات نے مسکرا کر سب کو سلام کیا جسکا سب نے ایک ساتھ جواب دیا.
"کیابات ہے آج جلدی کیسے آگئی"تابی نے اسکے قریب ہوکر پوچھا"کیوں میں جلدی نہیں آسکتی"اسنے تابی کو گھورا
"یار پتہ تو ہے تم لوگوں کو یہ آجکل شیرافگن صاحب کے ساتھ آرہی ہیں"حریم نے ہنسی    دبا کرکہا "ہاں تو میں ڈرتی تھوڑی ہوں افگن بھائی سے بس آج جلدی اٹھ گئی تھی"حیات نے شال ٹھیک کرتے ہوئے صفائی پیش کی
"اچھا!!!!"مینا نے اچھا کو لمبا کھینچ کر تابی کو اشارہ کیا."پر ہم نے ڈرنے کی بات تو کی ہی نہیں" تابی کی بات پر وہ لوگ ہنس پڑیں.
"مطلب ہماری بہادر حیات کسی سے تو ڈرتی ہے" سبین نے ہنسی دبا کر کہا
"اللّه تمہیں بھی کوئی ڈرانے والا دے پھر" حیات نے ہاتھ اٹھا کر جیسے دعا کی تھی.
"آمین!!"سبین کے علاوہ تینوں نے اونچی آواز میں کہا.
"جلد مل جائے گا ہماری بھولی کو کوئی بھولا" حریم نے ہنس کر سبین کا کندھا تھپکا
"مجھے کوئی جلدی نہیں"سبین نے چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا
"مطلب دیر سے آۓ پھر چلے گا؟"تابی نے  حیات کے ہاتھ پر ہاتھ مارکر کہا
"توبہ ہےتم لوگ بھی ناں"سبین کا چہرہ گلابی ہوا."اف یہ گلابی چہرہ دیکھو ذرا"حیات نے سب کومتوجہ کیا.سب زور زور سے ہنسنے لگیں ."اللّه معاف کرے" سبین جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی"چلو اٹھو کلاس کاوقت ہوگیا ہے"اسنے بیگ کندھے پر ڈالا
"ہاں اٹھو سبین کی کھینچائی پھر کریں گے" حیات انھیں دیکھ کر مسکرائی پھر سب کلاس کی طرف بڑھیں.راستےمیں بھی سبین کو تنگ کرتی رہی تھیں.آج سبین انکے ہاتھ لگی تھی. ہمیشہ وہ لوگ ایک دوسرے کو کسی نہ کسی بات پر تنگ کرتی تھیں.
واپسی پر تیز بارش شروع ہو چکی تھی. حیات سر پر فائل رکھے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہی تھی.سب لوگ بارش سے بچنے کے لئے جلدی سے اپنی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے.حیات نے قدم تیزی سے آگے بڑھاۓ ابھی وہ کار سے کافی فاصلے پر تھی.جب کسی نے چھتری اسکےاپر کی وہ ایک دم سے  ڈر سی گئی اسنے آہستہ سےسر اٹھا کر دیکھا.اسکے بالکل ساتھ شیرافگن کھڑا تھا.
"اف آپ نے مجھے ڈرا دیا میں سمجھی پتہ   نہیں کون ہے"وہ لمبی سانس کھینچ کر ہنسی
"اچھاباتیں چھوڑو اور جلدی چلو پہلے ہی بھیگ چکی ہو بیمار ہو جاؤگی"اسنے فکرمندی سے حیات کو دیکھا جو کافی بھیگ چکی تھی.
"کچھ نہیں ہوتا افگن بھائی میرا تو ابھی بھی بارش میں نہانے کادل کررہا ہے"وہ چھتری سے نکلنے لگی توشیرافگن نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچا."دماغ خراب ہے تمہارا پہلےہی آفت ہو تم بیمار ہوکر اور ہو جاتی ہو چلو آرام سے" اسے ڈانٹ کر قدم آگے بڑھا دیے.حیات بھی منہ پھلا کراسکے ساتھ گھسیٹتی چلی گئی.حیات ایک بار سردی لگ جانے کی وجہ سے بیمار ہو گئی تھی.پورےگھر کو پریشان کر کے رکھاتھا. اسلئے شیرافگن نے اسے ڈانٹ دیا.
جب وہ لوگ کار میں بیٹھے تو حیات سردی کی وجہ سے کانپ رہی تھی.
"ابھی تو محترمہ کو بارش میں نہانا تھا " شیرافگن نے اسے گھور کرہیٹر آن کیا.پھرگاڑی آگے بڑھادی.حیات نےاسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا.ہیٹر نے کار کو گرم کر دیا تھا. حیات کھڑکی پر برستی بارش کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی. اسے یہ منظر بہت دلکش لگتا تھا.کھڑکی پر جمے ایک ایک قطرے پر وہ شہادت کی انگلی رکھتی پھرجب قطرہ نیچے آتا تو وہ اسکے ساتھ ساتھ اپنی انگلی کو چلاتی جاتی پھرجیسے ہی وہ قطرہ نیچے جا کر فنا ہوتا.حیات دوسرے قطرے کے ساتھ ایسے ہی کھیلتی ایسا کرتے ہوئے اسکے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ بکھر جاتی اور گال میں پڑتا ڈمپل واضح ہوتا.وہ کب سے اسی کھیل میں مگن تھی.شیرافگن کتنی بار اسے دیکھ چکا تھا.پروہ اپنی دنیا میں مگن تھی.اسکے کھیل کو دیکھ کر شیرافگن کے لبوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ بکھر گئی.
"پوری پاگل ہے یہ لڑکی"بڑبڑا کر اسنے سر جھٹک کر مسکراہٹ روکی.
                                        •••••••••••••••••
"دادو اور تائی امی کے بغیر ذرا مزہ نہیں آتا" حیات نے ایمان کو دیکھ کر کہا.وہ لوگ ہال میں بیٹھی تھیں.
"بس کل تک انتظار کرو بیٹا" ایمان کی جگہ الماس بیگم نے جواب دیا.
"ہاں پھر دادو کے آتے ہی دونوں دادی ، پوتی کا پیار دیکھیں گے"ایمان نے حیات کو دیکھا
"جی جی انشاءاللّه"حیات شرارت سے ہنسی
 "پڑھاکو آج تمہیں پڑھنا نہیں ہے.جاؤتمہاری بکس تمہیں مس کر رہی ہونگی"حیات نے اب امل کوچھیڑاجو الماس بیگم کے کندھے پرسر رکھے نیم دراز تھی."ماما دیکھ لیں آپی کو"امل نے ماں سے شکایت لگائی.
"حیات مت تنگ کرو میری بیٹی کو" انہوں نے امل کا ماتھا چوما
"اماں...میں بھی آپکی بیٹی ہوں.دیکھیں آپی اماں مجھے بھول گئیں."اسنے مصنوعی خفگی سے کہا تو ایمان نے ہنس کر اسکا گال تھپکا
"اچھا بس تم تینوں میری پیاری بیٹیاں ہو" الماس بیگم نے مسکرا کر تینوں کو دیکھا
"دیکھا تم نے...ماں کا پیار بے حساب ہوتا ہے" ایمان نے اسے پیار سے دیکھ کر کہا
"آئی نو آپی پر یہ پڑھاکو کیسے اماں کے قریب بیٹھی ہے.مجھے جلن ہو رہی ہے"وہ بچوں کی طرح بولی تو امل نے ہنس کر اسے اور چڑایا بس پھر کیا تھا.دونوں کی تکرار شروع ہو گئی.جس نے الماس بیگم اور ایمان کوہنسنے پر مجبور کردیا.
اگلے دن یونیورسٹی میں وہ سب ہمیشہ کی طرح باتوں میں مگن تھیں.جب شازمہ انکی طرف آئی.سب نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ شاید شازمہ انکی بات سمجھ گئی ہو.وہ حیات کے سامنے کھڑی ہوئی.
"کل تو تم بڑی پاک صاف بنی مجھے سمجھا رہی تھی.خودجو تم کرتی ہواسکا کیا"وہ تیکھے لہجے میں بولی.ان سب نے الجھی نظروں پہلے اسےپھرایک دوسرےکو سے دیکھا.
"کیا کہنا چاہ رہی ہو تم ؟میں سمجھی نہیں"
"بہت خوب خود پر بات آئی تو سمجھ نہیں آرہی کل جو بارش میں اس لڑکے کے ساتھ رومینس کر رہی تھی.اس ہیرو کے ساتھ آتی جاتی ہو تب تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں آیا"اسنے آنکھیں گھما کر طنزیہ انداز میں کہا. وہ سب حیران رہ گئیں.حیات کو جیسے ہی سمجھ آئی اسنے گھور کر شاز مہ کو دیکھا
"کیا بکواس کر رہی ہو تم"وہ غصے سے     کانپنے لگی تھی.
"کیوں غلط کہا میں نے؟" شازمہ ہنس کر بولی
"ہاں غلط کہا وہ میرے کزن ہیں سمجھی جو بکواس تم کر رہی ہو یہ تمہارے اپنے ذہن کی گندگی ہے"حیات نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
"اپنے کزن کا سن کر بڑا غصہ آرہا ہے تمہیں تو احمر کےبارے میں تم نےبکواس کیوں کی تھی"
"بکواس نہیں سچ ہے.احمرجمالی جیسے گندے انسان اور افگن بھائی میں زمین آسمان کا فرق ہے.تم اپنے چھوٹے سے ذہن پر زور مت ڈالو اور اپنی گھٹیا سوچ خود تک محدود رکھو"حیات انگلی اٹھا کر بولی تو شازمہ طنزیہ ہنسی وہ کچھ کہنے لگی تھی جب تابی نے اسے ٹوکا
"بس بہت بول چکی تم" تابی نے اسے گھورا
"آؤ حیات چلیں"سبین نےحیات کابازو تھاما
"ہاں ہاں جاؤ منہ چھپاکر"شازمہ نے سرجھٹکا
"شٹ اپ شازمہ" مینااورحریم بھی آگے بڑھیں
"واہ یہ تم لوگوں کی دوستی" شازمہ نے سبکو دیکھا "اپنی دوست کو سمجھاؤ میرے معاملے میں آئندہ نہ بولےورنہ اچھا نہیں ہوگا "انگلی اٹھا کر کہتی وہ بال جھٹکتی وہاں سے چلی گئی.حیات نے اپنی پیشانی مسلی اسکے سر میں درد شروع ہو گیا تھا.
"میری جان پریشان نہ ہو اسنے کل کی باتوں کا بدلہ لیا ہے"حریم نے اسے گلے لگایا.وہ تینوں بھی انکے قریب ہو کر کھڑی ہوئیں.
"بالکل ایسے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے" تابی نے اسکی کمر سہلائی
"مجھے اسکی باتوں کا برا لگا ہے کیونکہ اسنے غلط کہا .پر میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اسلئے میں مطمئن ہوں" وہ حریم سے الگ ہوئی اسکی سنہری آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی. پر چہرے پر مسکان تھی."یہ ہےمسکراتی ہوئی ہماری حیات" سبین نے اسکا کندھا تھپکا.
"چلومٹی پاؤ شازمہ تے"مینا نے ہنس کر محبت سےاسکے گلے میں بانہیں ڈالیں تو سب ہنسی تھیں."آؤ کچھ کھاتی ہیں اور ڈھیر ساری گپیں لگاتے ہیں"تابی نے چٹکی بجا کر کہا تو سب کینٹین کی طرف گئیں.
                                      •••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ


واپسی پر حیات خاموش سی تھی. اسکی خاموشی شیرافگن نےبھی نوٹ کی. ڈرائیو کرتے ہوئے اسنے ایک نظر حیات کودیکھا.
"کیابات ہے حیات آج اتنی خاموش کیوں ہو؟"اسکی بات پر حیات جیسے گہری سوچ سے چونکی تھی."ہوں... کوئی بات نہیں افگن بھائی"وہ ہلکےسےمسکرائی پھر باہر دیکھنے لگی.شیرافگن بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا.حیات پھر سوچوں میں گم ہوئی .وہ شازمہ کی کہی باتوں کو سوچ رہی تھی.اسکی بکواس پر حیات کو بڑا غصہ آیا تھا.شیرافگن سے وہ کتنا بھی چڑتی پر وہ اچھے سے جانتی تھی کہ شیرافگن کے کردار میں کوئی جھول نہ تھا.اور نہ حیات خود غلط تھی تو وہ شازمہ کی باتوں پر کیوں اداس ہوتی.اسنے لمبی سانس کھینچ کر شیرافگن کو دیکھا پھرایک دم مسکرائی اسنے جلدی سے چہرہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی کہ اگر شیرافگن دیکھ لیتا تو اسے پاگل ہی کہتا.وہ لوگ گھر پہنچے تو دادو ، تائی امی واپس آچکی تھیں.حیات ، امل اور ایمان انہیں گھیر کر بیٹھیں تھیں.شادی کے بارے میں سوال پر سوال کر رہی تھیں.دادو اورتائی امی مسکرا کر جواب دیتی رہیں.ایک دم سے گھر میں جیسے ہلچل مچ گئی تھی. کچھ دیر بعد مجتبیٰ ، مریم کو لے آیا.وہ بھی ان تینوں کے ساتھ مل بیٹھی دادو سے سوال کرتیں رہیں.انھیں گاؤں کی شادی کے بارے میں جاننے کا تجسس تھا.مجتبیٰ انھیں پارٹی میں انوائٹ کرنے آیا تھا.جو نیا بزنس سٹارٹ کرنے کی خوشی میں رکھی گئی تھی.اگلے کتنے دن مصروفیت میں گزرے.حریم کی منگنی ہو گئی تھی. جسے ان سب دوستوں نے مل کر خوب انجوۓ کیا.وہ حریم کو چھیڑتیں رہیں.وہ سیلور رنگ کے کپڑوں میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی. حریم اور ہارون کی جوڑی بہت کمال تھی.حیات نے توکاجل سے اسکے کان کے پیچھےکالا ٹیکہ لگایا اور بڑی اماں کی طرح اسے دعائیں دیں تو سب زور زور سے ہنسی تھیں.حریم کی ان چڑیلوں نے خوب ہنگامہ کیا تھا کہ منگنی کی تقریب کو چار چاند لگ گئے تھے.
                                     ••••••••••••••••
 ایمان سیڑھیاں طےکرتی حیات کے کمرے کی طرف آئی .کافی وقت گزر چکا تھا.حیات نیچے نہیں آئی .ایمان کو اسکی فکر ہونے لگی کہ آج محترمہ اتنی خاموشی سے کمرے میں کیوں بیٹھی ہے.ایمان کمرے میں داخل ہوئی تو حیات بیڈ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی نظریں موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں.ایمان تیز قدموں سے چلتی بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھی. اسےلگاشاید کچھ برا ہو گیا ہے.
"حیات گڑیا کیا بات ہے رو کیوں رہی ہو؟" ایمان نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا تو اسنے  بھیگی آنکھوں سے ایمان کو دیکھا.
"آپی ملیحہ مر گئی.وہ بھی اپنی شادی        والے دن"بات کرتے ہوئے پھر اسکے آنسو بہنے لگے.ایمان کو افسوس ہوا.پر حیات کی دوستوں میں سے کسی کا نام ملیحہ نہیں تھا.پھرکون تھی ؟جسکے لئے حیات ایسے رو رہی تھی."ملیحہ کیا تمہاری کلاس فیلو ہے؟"
"نہیں آپی"حیات نے نفی میں سر ہلایا
"توکیا یونی فیلو ہے؟"ایمان نے پھر سوال کیا
"نہیں آپی"حیات دکھ میں کچھ زیادہ ہی ڈوبی ہوئی تھی.
"تو آخر وہ ہے کون جسکے لئے تم ندیاں بہا رہی ہو" ایمان نے حیرت سے پوچھا
"وہ عشق آتش ناول کی ہیروئن ہے آپی"حیات نے دکھ سے بتایا. ایمان کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے."اف حیات تمہاراکوئی حال نہیں" ایمان کو غصے کے ساتھ ہنسی بھی آئی.
"آپ میرے جذبات نہیں سمجھیں گی آپی کتنا پیار ہوجاتا ہے کریکٹرز کے ساتھ کہ ہم انکے ساتھ ساتھ ہنستے اور روتے ہیں"
"اچھامیری گڑیا میں سمجھ گئی.پر انھیں اتنا سر پر سوار نہ کرو کہ بیٹھی آنسو بہاتی رہو" ایمان نے اسکے آنسو صاف کئے.
"چلو آؤ نیچے سب اپنی لاڈلی کو مس کر رہے ہیں اٹھو شاباش"
"آپی ابھی مجھےناول ختم کرنا ہے"وہ جانا نہیں چاہتی تھی.
"بعد میں پڑھ لینا ابھی اٹھو جلدی جلدی" ایمان نے اسے بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ نیچے لے آئی.سب ہال میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہو رہے تھے.حیات صوفے پر بیٹھی ایمان نے اسے کپ پکڑیا.اسکی آنکھیں رونے کی وجہ سے گلابی ہو رہی تھیں.شیرافگن بھی ابھی آکر بیٹھا تھا.ایمان نے اسےبھی چاۓ کا کپ پکڑایا."ان محترمہ کو کیا ہوا ہے؟"اسنے حیات کی طرف دیکھ کر ایمان سے پوچھا.
"جو ہر دکھی ناول پڑھنے کے بعد ہوتا ہے" ایمان نے مسکرا کر جواب دیا.
"پتہ نہیں آپی کو ناولز کیوں پسند ہیں. مجھےتو بالکل اچھے نہیں لگتے" امل جو شیرافگن کے ساتھ بیٹھی تھی منہ بنا کر بولی
"شش گڑیا آپکی بہن جی نے سن لیا تو اچھا نہیں ہوگا"شیر افگن نے حیات کو دیکھ کر سرگوشی کی تو ایمان اور امل ہنسنے لگیں. حیات نے ایک نظرانھیں دیکھاپھر چاۓ پیتے ہوئے بڑوں کی باتوں کی طرف متوجہ ہوئی.پر اسکے ذہن میں ناول ہی گوم رہا تھا.
                                      •••••••••••••••••
حیات کی دکھی داستان وہ سن چکی تھیں کہ کیسے ملیحہ کی موت ہوئی اور وجدان کا  اسکے لئے عشق کہانی سن کر سبین اور حریم کی آنکھیں بھی نم ہوئیں .جبکہ تابی اور مینا نے بس اظہارِ افسوس کیا .حیات نے تو ان دونوں کو پتھر دل قرار دیا کہ کیسے انکے آنسو نہ بہے اتنی دکھی کہانی پر لیکن انکاکہنا تھا. وہ افسوس کے علاوہ کربھی کیاسکتیں ہیں.انھوں نے کسی طرح حیات کو باتوں میں لگا کر اسکا دھیان ناول سے ہٹایا.انھیں پتہ تھا انکی یہ پاگل دوست بہت حساس ہے.ناولز کے معاملے میں تو کچھ زیادہ ہی تھی.
کلاسز لے کر وہ سب کینٹین کی طرف آئیں ٹیبل کے گرد بیٹھیں ساتھ چاۓ سموسے مزے سے کھانے لگیں.
"واہ کیا مزے کی پک ہے یار" تابی کے ہاتھ میں حریم کا موبائل تھا.جس پر وہ سب حریم کی منگنی کی تصویریں دیکھ رہیں تھیں.
"دکھاؤ ذرا" حریم کپ رکھ کے جلدی سے آگے ہوئی تو تابی نے موبائل پیچھے کیا.
"کیوں گھر میں سو بار تو دیکھیں ہونگی تم نے"اسکی بات پر حریم نے منہ بسورا تو سب اسکی شکل دیکھ کر ہنسنے لگیں.
"یاردکھادو ہوسکتا ہے اسکو جیجو یاد آرہے ہو" حیات نے شوخی سے کہا تابی نے موبائل حریم کے چہرے کےسامنے کیا "لوآنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاؤ"تابی نےآنکھ دبائی
"چپ کرو بدتمیز"حریم تصویردیکھ کر دھیمے سے ہنسی.وہ پک واقعی بہت پیاری تھی.حریم سر جھکاۓ بیٹھی تھی اور ہارون اسے دیکھتے ہوئے مدھم سا مسکرا رہا تھا.
"ہیلو میڈم واپس آجاؤ"مینا نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا.وہ ایک دم چونکی
"یہ تو گئی کام سے"حیات نے افسوس سے گردن ہلائی.حریم مسکرا نے لگی.
"سوچنے دو ناں اسے جیجو کے بارے میں" سبین نے شوخ لہجے میں کہا
"ہاں ہاں ضرور سوچے پر اکیلے میں رات کو کھڑکی میں کھڑی ہوکر چاند کو تکتےہوئے اس میں ہارون بھائی کامکھڑا تلاش کرے ساتھ کوئی رومینٹک سا گانا بھی لگا لے سوچو ذرا ہماری ہیروئن کیسی لگے گی"حیات نے مزے سے منظرکشی کی حریم کےساتھ باقی تینوں کے لبوں پر رکی مسکراہٹ ہنسی میں تبدیل ہوئی "سچی مجھے تو یہ چڑیل ہی نظر آرہی ہے" مینا  منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی
"کیونکہ تم خود چڑیل ہو اسلئے تم اپنے مطابق ہی سوچو گی"حریم نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا مینا کچھ کہنے لگی تھی.
"بس بس اب شروع مت ہو جانا"سبین نے جلدی سے اسے ٹوکا.
"چلو اٹھو گراؤنڈ میں چلتے ہیں"حیات نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا تو سب گراؤنڈ کی طرف آئی.
 ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی.حیات نے کانپ کر شال ٹھیک کی پھر ان سب کے ساتھ بیٹھ گئی.
"سنا تم نے سبین میڈم گاؤں جارہی ہے"حریم نے اسے دیکھا "ارے کیوں ..یوں اچانک" حیات نے سبین سے پوچھا
"بے جی بیمار ہیں.تایا ابو نے کال کی تھی بابا کو کہ بے جی مجھے یاد کررہی ہیں بس اسلئےجارہی ہوں. کچھ دنوں تک واپس آجاؤں گی"سبین نے تفصیل بتائی. "اچھا ..اللّه پاک انھیں صحت عطا کریں"حیات کی بات پر سب نے امین کہا. بے جی گاؤں میں تایا کے ساتھ رہتی تھیں. سبین فیملی میں ایک ہی لڑکی تھی.تایاکے دو بیٹے اورسبین کے بھی دو   بھائی تھے.اسلئے بےجی کوسبین سے بہت           محبت تھی.وہ بیمار تھیں اسلئے سبین کو اپنے قریب دیکھنا چاہتی تھیں.
                                    •••••••••••••••••
ملک ہاؤس میں پارٹی عروج پر تھی.روشنیوں سے چکا چوند بڑا سا ہال اچھے سے ڈیکوریٹ ہوا تھا.سلو آواز میں میوزک بج رہا تھا.لوگ جگہ جگہ کھڑے باتوں میں مگن تھے.ایک طرف مجتبیٰ کے ساتھ شیرافگن اور ولید کھڑے ہاتھ میں مشروب کے گلاس پکڑے باتیں کر رہے تھے.وہاں سے دور حیات، ایمان، امل  اور مریم کھڑیں تھیں.حیات سفید ، ایمان گرین، امل اور مریم دونوں بےبی پنک کپڑوں میں ملبوس تھیں. اس اتفاق پر وہ خوش ہو رہی تھیں.عباسی ہاؤس سے صرف وہ چاروں آۓ تھے.مریم ،امل کو اپنی باقی دوستوں سے ملانے لے گئی تو وہ دونوں اکیلی رہ گئیں.
"آپی میں یوں کھڑی رہ رہ کر تھک گئی ہوں" حیات نے ایمان کے قریب ہو کر سر گوشی کی ایمان نے اسکے چہرے کو دیکھا آج حیات نے سیدھی مانگ نکال کر بال کھلے چھوڑے تھے. جبکہ ایمان نے میسی جوڑا بنایا تھا.        "توکیا کریں گڑیا کہاں جائیں" ایمان بھی بور ہورہی تھی.وہ تو پارٹی میں بھی نہیں آنا چاہتی تھی. پر حیات اسے زبردستی لے آئی . مجتبیٰ کی نظریں ایمان کو پریشان کرتی تھیں.اب بھی ایسا ہی ہورہا تھا.
"آئیں وہاں بیٹھتے ہیں"حیات نے ایک سائیڈ پر رکھیں کرسیوں کی طرف اشارہ کیا.جہاں زیادہ لوگ نہ تھے.دونوں وہاں بیٹھ گئیں.
"آپی اپنامنہ تو ٹھیک کریں صاف لگ رہا ہے.  آپکو زبردستی لایا گیا ہے"حیات نے مسکرا کر کہا.ایمان کے چہرے سے بے زاری ٹپک رہی تھی "یہی بات سچ ہے"وہ اردگرد دیکھ کر بولی ہر کوئی اپنے آپ میں مگن تھا.سواۓ مجتبیٰ کے جو ایمان کو دیکھنا نہ بھولتا ایمان جھنجھلا رہی تھی.اسےغصہ آرہا تھا.
"آج تو آپ غصے میں ہیں آپی"وہ ایمان کے غصے کی وجہ جان کر آنکھوں میں شرارتی چمک لئےایک دم زور سے ہنسی. شیرافگن جو کچھ فاصلے پر موبائل کان سے لگاۓ کھڑا تھا.اسنے پلٹ کر اسے دیکھا حیات کی نظریں اس سے ملیں.شیرافگن نے اسے گھورا جیسے کہہ رہا ہو"بی  ہیو"حیات نے جلدی سے ہنسی روک کر سر جھکا لیا.
"نو بج چکے ہیں.جانا کب ہے"ایمان نے گھڑی دیکھی اسے گھر جانے کی جلدی تھی.
"ابھی تو پارٹی عروج پر ہے.جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے.اب افگن بھائی ہی بتائیں گے کب جانا ہے"حیات نے ارد گرد نظر گھما کر جواب دیا.کچھ دیر بعد سعدیہ ملک انکے پاس آئیں اور ایمان کو اپنے ساتھ لے گئیں کہ وہ بور نہ ہو. حیات کو بھی ساتھ چلنے کا کہا پر اسنے انکار کر دیا وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھنا چاہتی تھی.
"سسٹر یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں"مجتبیٰ اسکے سامنے بیٹھا
"بس تھک گئی تھی" وہ دھیمے سے مسکرائی
"آپکی آپی صاحبہ کہاں ہیں؟"اسنے اِدھراُدھر نظر گھما کر پوچھا
"آپ کیوں پوچھ رہے ہیں"اسنے سنہری آنکھیں اٹھاکر کہا تو مجتبیٰ نے اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا
"پتہ تو ہے آپکو سسٹر" وہ مسکرایا
"مجھےکچھ نہیں پتہ آپ بتائیں؟" حیات نے انجان بن کر ہنسی دبائی
"شیر افگن ٹھیک کہتا ہے کہ آپ پاگل ہیں" مجتبیٰ جھنجھلا گیا.حیات ایک دم سے ہنسی پھر شیرافگن کی گھورتی نظریں یاد کر کے ایک دم منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکنی چاہی."آپ افگن بھائی کی بات نہ کریں وہ               تو خود ..."بات ادھوری چھوڑ کر وہ پھر ہنسی اور اس پاگل لڑکی کی بات سمجھ کرمجتبیٰ بھی ہنسنے پر مجبور ہو گیا.جبکہ کچھ فاصلے پر ولید کے ساتھ کھڑے شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے.دل ایک دم سے بے چین ہوا.پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ وہاں سے نکلے.سعدیہ ملک نے روکا تو اسنے "رات بہت ہوگئی ہے.گھر میں سب پریشان ہونگے" کہہ کر ان کو لیئےوہاں سے نکلا.کار میں امل،شیرافگن کے ساتھ آگے بیٹھی جبکہ حیات اور ایمان پیچھے تھیں. حیات اسکے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی کہ کیسے مجتبیٰ اسے ڈھونڈھتا رہا .
"حیات چپ کر جاؤ" ایمان نے تنگ آ کر اسے ڈانٹا "کیوں آپی آپ شرما رہی ہیں؟" حیات پر ذرا اثر نہ ہوا.
"ہاں شرما رہی ہوں"ایمان نے جھنجھلا کر کہا
توحیات زور سے ہنسی شیرافگن نے بیک میرر میں اسے گھور کر دیکھا."آج زیادہ ہی ہنسی آرہی ہے کیا بات ہے؟"خشک لہجے میں پوچھا گیا تو حیات کی ہنسی کو بریک لگی.
"نن..نہیں کوئی بات نہیں"وہ جلدی سے بولی  شیرافگن خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا. "انکومیں ہنستی اچھی نہیں لگتی"اسنے ایمان کی طرف جھک کر دھیمے سے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا کر مسکرائی"شکر اب تم خاموش رہوگی"ایمان نے شرارت سے کہا.حیات منہ پھلا کر بیٹھ گئی.پھر گھر پہنچنے تک حیات کی بولتی بند ہی رہی .
                                        ••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_

حیات ،دادو کے کمرے میں تھی.جب سعدیہ ملک کا فون آیا دادو انسے بات کر رہی تھیں. انکی باتوں سے اسےاندازہ ہو گیا کہ کیا بات ہو رہی ہے."ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ آئیں پھر تفصیل سے بات کریں گےاللّه حافظ" دادو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا پھر فون رکھ دیا.
"دادو کیا کہا انہوں نے ؟"حیات نے دادو کے قریب ہو کر پوچھا تو دادو نے اسے گھورا.
"اے لڑکی تم کیوں بڑی بن رہی ہو.جاؤ اپنا کام کرو" دادو نے چشمہ سائیڈ پررکھتے ہوئے کہا
"پلیز دادو بتا دیں ناں"اسنےدادو کے ہاتھ تھام کر معصومیت سے آنکھیں جھپکیں تو دادو نے مسکرا کر اسکے سر پر چپت لگائی.
"وہ لوگ ایمان کے رشتے کے لئے آنا چاہ رہے ہیں"دادو نے دھیمےسے بتایا
"واہ سچ میں دادو.... اف کتنی اچھی لگے گی آپی اور مجتبیٰ بھائی کی جوڑی"اسنے خوشی سے ہنس کربیڈ سے نیچے چھلانگ لگائی.
"سنبھل کر لڑکی اور ابھی بات پکی نہیں ہوئی اسلئے چپ رہو اور جاؤ یہاں سے  مجھے تنگ نہ کرو" دادو کی بات پر وہ انکے قریب آئی اور انکے گال پر پیار کیا.
"اوکے جاتی ہوں پیاری دادو"وہ ہنس کر وہاں سے بھاگی اسکےجاتے ہی دادو ہنسی تھیں.
وہ تیزی سے سیڑھیاں طےکر رہی تھی.اسے ایمان کو بتانے کی جلدی تھی.جب وہ اپر پہنچی تو شیرافگن اپنے کمرے سے نکل رہا تھا."حیات" شیرافگن کی پکار پر اسنے بریک لگائی "جی"وہ ہانپ رہی تھی.
"کافی بنا کر لاؤ میں دادو کے کمرے میں ہوں" وہ حکم دے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا. حیات نےغصے سے اسکی پشت کو گھورا
"اف مجھے آپی سے بات کرنی ہے" وہ کچن کی طرف آئی کہ پہلے جلدی سے کافی بنالے ورنہ افگن صاحب سے اسے کون بچاۓ گا.
کافی لے کر وہ دادو کے کمرے میں آئی.دادو اٹھ کر واش روم چلی گئیں.شیرافگن بھی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا.
"یہ کافی"حیات نے کپ اسکی طرف بڑھایا.
"اب میرا دل نہیں کر رہا لے جاؤ" وہ جھنجھلا کر کہتا باہر نکل گیا.حیات کو بڑا غصہ آیا
"جیسےمیں نوکر ہوں انکی ہونہہ" وہ کافی لئے جلدی سے ایمان کے کمرے کی طرف بڑھی.
اسےایمان کو بریکنگ نیوز دینی تھی.جبکہ شیرافگن کار لئے گھر سے نکلا.دادو کی باتیں اسکے ذہن میں گھوم رہی تھیں."سعدیہ ملک رشتے کے لئے آنا چاہتی ہیں.مجتبیٰ بہت اچھا لڑکا ہے.بچوں سے بات کر کے رشتے کے لئے ہاں کہہ دینگے"دادو ادھوری بات کر کے واش روم میں چلی گئیں.شیرافگن کے دل کو کچھ ہونے لگا.ایک دم آنکھوں کے سامنے جیسے اسکرین پر پارٹی کی رات حیات اور مجتبیٰ کے مسکراتے چہرے لہراۓ."حیات اور مجتبیٰ" اسکا دل جلنے لگاتھا.اسنےکار کو ایک دم بریک لگائی."ڈیم اٹ" اسٹیرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارا پھر سیٹ کی بیک سے ٹیک لگاکر آنکھیں بند کر لیں."آئی ڈونٹ کیئر ...ویسے بھی مجتبیٰ اچھا لڑکا ہے.حیات اسکے خوش رہے گی..یس آئی ڈونٹ کیئر" وہ بڑبڑاتا رہا خود کو یقین دلانا چاہ رہا تھا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا پر اسے فرق پڑ رہا تھا.اسکے پورے وجود میں عجیب قسم کی بے چینی چھائی تھی.جسے وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتا تھا.دوسری طرف حیات،ایمان کے کان کھا رہی تھی.ایمان بیچاری خاموش بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھی."دیکھاآپی میں نے کہا تھا ناں"وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی
"اچھابس ابھی بات نہیں ہوئی تم پہلے شروع ہو گئی" اسنے حیات کو ٹوکا
"سچی آپی مجتبیٰ بھائی بہت اچھے ہیں اور آپ انسے زیادہ اچھی ہیں.اف آپ دونوں ایک ساتھ کتنے اچھے لگے گیں" وہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالے بولتی چلی جارہی تھی. ایمان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روک رکھی تھی.
                                     ••••••••••••••••
وہ لوگ کلاس لے کر نکلیں.انکا رخ کینٹین کی طرف تھا.جب انکی نظر دور کھڑے احمر جمالی ، شازمہ اور انکےساتھ کھڑی لڑکی پر پڑی.وہ لڑکی جینز ، شرٹ پہنے بال اونچی پونی میں باندھے ببل چباتی احمر جمالی کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی مسکرا کر اس سے کوئی بات کررہی تھی.
"اب یہ نئی نمونی کون ہے؟"حریم نے پوچھا
"حرکتوں سے تو کوئی قریبی رشتہ لگتا ہے" حیات نے انھیں دیکھا اب وہ لڑکی احمر جمالی  کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی.
"محترمہ کزن ہوتی ہیں ان صاحب کی" تابی نے انھیں بتایا.
"اچھا...چلو یار بھوک لگی ہے"مینا نے کہا.وہ لوگ آگے بڑھ گئیں.کینٹین میں اپنی جگہ سنبھالی.سبین کی جگہ خالی تھی."بات ہوئی تھی سبین سے؟" حیات نے پوچھا
"ہاں پہنچ گئی اور کہہ رہی ہے تائی اماں نے بڑے پیار سے استقبال کیا محترمہ کا" تابی نے ہنس کر بتایا اسے ہر بات کی خبر ہوتی تھی.
"واہ تائی اماں قربان جارہی ہیں.یہ نہ ہو انکا بیٹا جی بھی قربان ہو جائے"حریم نے ہنس کر کہا.حیات اور تابی مسکرانے لگیں جبکہ مینا برگر ٹھوسنے میں مصروف تھی.
"ہو جائیں تو برا کیا ہے یار اسکی بے جی خوش ہوجائیں گی کہ اب پوتی صاحبہ انکی نظروں کے سامنے رہےگی"حیات نے شرارت سے کہا "بالکل ٹھیک کہا"حریم نے اسکا شانہ تھپکا"اس بھوکی کو دیکھو ایسے ٹھوس رہی ہے جیسے آخری بار کھا رہی ہو"تابی نے مینا کو گھورا.مینا نے بھی جواباً اسے گھورا
"چپ کرو کھانے دو بیچاری کو"حیات نے ہنس کر تابی کو ٹوکا.مینانے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا بولی پھر بھی نہیں
"آج تو اسکی بولتی بند ہو گئی"حریم کو صدمہ لگا.مینانے برگر کھا کر پانی پیا
"ہاں بولو کیا سننا ہے مجھ سے جو ٹھیک سے کھانے بھی نہیں دیا" مینا نے گھور کر تابی اور حریم کو دیکھا.
"ٹھیک سے نہیں کھایا ابھی تم نے؟" تابی نے آنکھیں پھاڑکر پوچھا
"جی نہیں"وہ منہ بسور کر کہتی اٹھ کر جانے لگی."ارےکہا جارہی ہو؟" حیات نے اسے دیکھا
"خودکشی کرنے" اسنے جھنجھلا کر جواب دیا
"نہیں نہیں میں تمہیں مرنےنہیں دونگی"حریم نے جلدی سے اٹھ کر اسکا بازو پکڑا
"اوۓ چھوڑو مجھے" اسنے خود کوچھڑایا
"ایسامت کرو مینا ڈارلنگ" تابی نے ڈرامئی انداز میں تڑپ کر کہا
"برگرلینے جارہی ہوں چڑیلوں"اسنے دانت پیسے پھر وہاں سے چلی گئی.پیچھے تینوں نے قہقہہ لگا کر ہنسنا شروع ہوئیں.                   "آج مینا کو واقعی زیادہ ہی بھوک لگی ہے" حیات نے ہنسی روک کر کہا
"ہاں یار کیسے کھا جانے والا انداز تھا محترمہ
کا شش...آ رہی ہے" تابی نے مینا کو سامنے سے آتے دیکھ کر کہا وہ ایک اور برگر لے آئی اور بیٹھ کرکھانے لگی.انھوں نے اب اسے نہ چھیڑا بلکہ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگیں.
                                       •••••••••••••••
شیرافگن تھکا سا آنکھیں بند کئےصوفے پر نیم دراز تھا.آج اسکا کام میں بالکل دل نہیں لگ رہا تھا.اسلئے آفس سے جلدی آگیا.اسنے ہاتھ سے پیشانی مسلی.حیات گنگناتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی.ابھی کچھ دیر پہلے مجتبیٰ کی کال آئی تھی.وہ ایمان سے بات کرنا چاہتا تھا.اسنے بہت سنجیدہ انداز میں اس سے پوچھا تھا. انکے رشتے کی بات ہورہی ہے. کیا ایمان اس رشتے سے خوش ہے؟ جواباً ایمان نے بھی اچھی بیٹیوں کی طرح کہہ دیا جو اسکے بڑوں کا فیصلہ ہوگا وہ اسے منظور ہوگا.حیات موبائل سے کان لگاۓ بیٹھی رہی فون بند ہوا تو اسنے مسکرا کر ایمان کو دیکھا "اہمم بڑوں کا جواب تو ہاں ہی ہوگا انشاءاللّہ" اسنے شرارت سے ایمان کو دیکھا
"توپھر میرا جواب بھی ہاں" ایمان نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسکے کان میں سرگوشی کی تو وہ کھلکھلا کر ہنسی.
"اسی خوشی میں کافی بناکر لاتی ہوں"وہ کمرے سے نکل کر نیچے آئی.وہ اپنے خیالوں میں مسکرا رہی تھی.
شیرافگن نے گنگنانے کی آواز پر آنکھیں کھول کر دیکھا.حیات لبوں پر مسکراہٹ لئے اپنے خیال میں کچن کی طرف بڑھ رہی تھی.اسے دیکھ کر شیرافگن سیدھا ہو بیٹھا. "حیات"اسنے پکارا.وہ ایک دم رکی پھر پلٹ  کر اسے دیکھا "افگن بھائی آپ آج جلدی آگئے"اپنے دھیان میں وہ اسے دیکھ نہیں پائی تھی.اسکی بات پر شیرافگن نے سر ہلایا.کچھ بولا نہیں تو حیات جانے لگی."تم اس رشتے سے خوش ہو؟"اچانک خشک انداز میں پوچھا گیا. "جی بالکل...کیوں آپ خوش نہیں ہیں؟" اسنے مسکرا کر سوال کیا.
"ہاں خوش ہوں اوکے جاؤ تم" اسنے روکھے لہجے میں کہا.حیات نے حیرت سے اسے دیکھا پھر سوچا شاید ایمان آپی کے جدا ہو جانے کا سوچ کر پریشان ہیں.پھر کندھے اچکا کر کچن کی طرف بڑھ گئی.
شیرافگن نے سر ہاتھوں میں تھاما.حیات خوش ہے.ہاں وہ بہت خوش ہے.تو پھر اسے کیوں فرق پڑ رہا تھا؟شیرافگن کا سر درد سے پھٹنے لگا.وہ ایک دم صوفے سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
حیات کافی بنا کر کمرے میں لے آئی.
"یہ لیں آپی" اسنے ایمان کی طرف کپ بڑھایا
"شکریہ" وہ مسکرائی. حیات اسکے ساتھ بیٹھی پھر دونوں باتوں میں لگ گئیں.
                                         ••••••••••••••
مسٹراور مسسز ملک عباسی ہاؤس میں ایمان کا ہاتھ مانگنے آۓ .دادو کے کمرے میں کب سے سب بڑوں کی میٹنگ چل رہی تھی.حیات کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے کہ اندر کیا فیصلہ کیا گیا ہوگا.ایمان اور امل بیڈ پر بیٹھیں تھیں.حیات اِدھر سے اُدھر مارچ کر رہی تھی.
"بس کرو حیات بیٹھ جاؤ اب" ایمان نے اسے دیکھ کر کہا "نہیں آپی اب میں ذرا نیچے جا کر خبر لوں" وہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی.پھر اچانک انکی طرف پلٹی اور چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی.
"آپ دونوں بھی میرے ساتھ چلیں ناں ورنہ افگن بھائی نے مجھے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا" اسنے معصوم سی صورت بنائی
"بھائی بھی دادو کے کمرے میں ہیں.تم آرام سے جاسوسی کرو" ایمان نے مسکرا کر کہا
"پلیز آپی"اسنےمنت کی
"میں توبالکل نہیں جاؤں گی"وہ صاف مکرگئی "امل تم تو ضرور چلو گی میرے ساتھ اٹھو" اسنے امل کا بازو کھینچا
"نہیں ناں آپی"امل نہ نہ کرتی رہی پر حیات اسے کھینچ کر نیچے لے آئی.ابھی وہ لوگ دادو کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ کمرے کا دروازہ کھلا.الماس بیگم مسکراتی ہوئیں باہر نکلیں.حیات جلدی سے انکی طرف بڑھی
"مبارک ہو" انہوں نے حیات کے ہاتھ تھام کر کہا "اوہ اماں مطلب آپی کا رشتہ پکا ہوگیا" وہ خوشی سے اچھلی ، امل کا بھی یہی حال تھا.
"نہ صرف رشتہ پکا ہوا بلکہ شادی کی تاریخ بھی جلد رکھی جانے والی ہے"انہوں نے مسکرا کر بتایا."کیا...." وہ حیران تھی اور بہت خوش بھی امل تو بات سنتے ہی اپر کی طرف بھاگی اسے آپی کو یہ خبر سنانے تھی جبکہ حیات اماں کے گلے لگی."اچھاجاؤ جلدی سے میٹھائی لے کرآؤ" وہ اسے خود سے جدا کرتیں اندر بڑھ گئیں.حیات جلدی سے کچن کی طرف بھاگی. اسے جلدی تھی میٹھائی دے کر آپی کے پاس جانا تھا.وہ بہت خوش تھی.پر آپی سے جدا ہو جانے کا سوچ کر اداس بھی ہو رہی تھی.جب وہ میٹھائی لے کر دادو کے کمرے میں داخل ہوئی.شیرافگن اٹھ کر باہر جارہا تھا.حیات کو ایسا لگا اسکے لبوں پر مدھم سی مسکان تھی.پھر سرجھٹک کر سب کی طرف متوجہ ہوئی.وہاں مبارکباد کا سلسلہ چل رہا تھا. شیرافگن وہاں سے اپنے کمرے میں آیا.لبوں پر ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ چمکی.سر پر ہاتھ پھیر کر وہ صوفے پر بیٹھا.ایک ہاتھ کی
مٹھی بنا کر لبوں پر رکھی اور جو کچھ دادو کے کمرے میں ہوا اسے سوچنے لگا.سعدیہ ملک نے جب رشتے کی بات شرو ع کی تو اسکا دل چاہا وہ وہاں سے کہیں دور بھاگ جائے.وہاں سب میں باتیں ہوتی رہیں پر وہ اپنے خیالوں میں مگن تھا.جب سعدیہ ملک نے جلد شادی کرنے کا کہا تو اس بات سے سبکو انکار تھا.بھلا اتنی جلدی بھی کیا ہے.ان میں سے کوئی نہیں مان رہا تھا پر آخر میں دادو نے کہہ دیا کہ شادی ہونی تو ہے بھلے آج ہو یا کل تو دادو کی بات پرسب مان گئے.سعدیہ ملک نے دادو کو گلے لگایا"میں ایمان کو بالکل بیٹی بنا کر رکھوں گی ماں جی"سب گلے مل کر خوشی سے اس نئے رشتے کی ابتدا کر رہے تھے. شیرافگن بالکل حیران بیٹھا تھا.ایمان؟ کیا اسنے صحیح سنا تھا؟ وہ سمجھ نہ پایا کیا مجتبیٰ کے ساتھ ایمان کا رشتہ ہو رہا تھا؟پھر حیات؟ اف کیا وہ غلط سمجھا تھا؟اسنے جلدی سے منہ پر ہاتھ پھیرا"مبارک ہو بیٹا"زمان ملک نے اسے گلے لگایا."آپکو بھی" وہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہا تھا.کچھ دیر بعد حیات میٹھائی لے کر آئی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا.حیات کے پاس سے گزرتے ہوئےخوبخوداسکے لبوں پرمسکان بکھر گئی .جسے چھپاتاوہ جلدی سے اسکے قریب سے گزرا.ایک دم سے جیسے چاروں طرف رنگ بکھر گئے.وہ خود کو ہلکا پھکا محسوس کر رہا تھا.لمبی سانس کھینچ کر صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھا      "مجتبیٰ ٹھیک کہتا ہے.حیات نہیں میں بھی پاگل ہوں"وہ بھورے بالوں پہ ہاتھ پھیر کر ہنسا سیاہ آنکھیں چمک اٹھیں.اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور امل ہاتھ میں میٹھائی کی پلیٹ لئے اسکی طرف آئی.
ابھی وہ مریم سے بات کر کے آرہی تھی.مریم نے اسے کال کی تھی کہ کیا فیصلہ ہوا تو امل نے اسے خوش خبری سنائی مریم چیخ اٹھی اسے ایمان بہت اچھی لگتی تھی.وہ فون رکھ کر بھائی کو بتانے کے لئے بھاگی.جو اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا.ساتھ ہی ماما کو کال ملا رہا تھا پر وہاں سے کوئی جواب نہ ملا.مریم نے اسے خبر دی تو وہ خوشی سے کِھل اٹھا.جبکہ مریم پھر سے امل سے گپیں لگانے لگی.فون بند ہوا تو وہ میٹھائی لے کر شیرافگن کے کمرے کی طرف آئی.
"بھیا آپ یہاں کیوں چُپ کر بیٹھے ہیں؟ نیچے سب نے محفل جمائی ہوئی ہے .حیات آپی نے بتایا کہ آپ نے منہ میٹھا بھی نہیں کیا یہ لیں آپکے لئے لائی ہوں" وہ اسےدیکھ کر بولتی چلی گئی پھر پلیٹ اسکی بڑھائی
"اچھا لاؤ یہاں" اسنے ایک گلاب جامن اٹھایا.
"ویسے تمہاری بہن صاحبہ کہا ہے؟"
"آپی تو ایمان آپی کو تنگ کرنے میں مصروف ہیں.کبھی بہت خوش ہوتی ہیں کہ گھر میں پہلی شادی ہوگی تو کبھی اداس کہ انکی پیاری آپی انسے جدا ہوجائیں گیں" وہ مسکرا کر بتانے لگی.شیرافگن ہنسنے لگا.اسکی ساری بے زاری ہوا ہو گئی تھی."گڑیا تمہاری آپی تو بالکل پاگل ہے" اسنے ہنسی دبا کر کہا
"آپ ایسا نہیں کہہ سکتے وہ میری بہن ہیں." امل نے اپنی ناک کھینچ کر کہا تو شیرافگن قہقہہ لگا کر ہنسا.
"ارے واہ گڑیا آج لگتا ہے آپی نے تنگ نہیں کیا"
شیرافگن صوفے سے اٹھتے ہوئےبولا
"وہ مجھے کچھ بھی کہیں  پر آئی لو ہر" اسنے ہنس کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا.شیرافگن نے اسکا سر تھپکا"می ٹو"اسنے دل میں کہا پھر مسکرا کر اسے دیکھا "چلو گڑیا ہم بھی محفل میں شامل ہو جائیں" دونوں کمرے سے نکلے.
دوسری طرف ایمان کی خیر نہیں تھی.حیات کب سے اسے تنگ کررہی تھی.کبھی الٹے سوال کرتی تو کبھی کوئی گانا گنگنانے لگتی.
"میری آپی کی آۓ گی بارات
رنگیلی ہوگی رات
مگن میں ناچوں گی
وہ دوپٹہ لہرا لہرا کر گانے کو اپنے مطابق گا رہی تھی.ایمان سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی.اچانک حیات کا موبائل بجنے لگا.
حیات نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا.
"لیں جی میری چڑیل کا فون ہے"اسنے ایمان کو دیکھ کر کہا جو ڈر سی گئی.اب تو یہ لوگ اسے چھوڑنے والی نہ تھیں.حیات نے موبائل اسپیکر پر ڈالا "جلدی بولو کیا بنا... آپی کا رشتہ پکا ہوگیا؟" دوسری طرف سے مینا بے تابی سے بولی حریم بھی اسکے ساتھ بیٹھی تھی."ہوگیا "حیات نے خوشی سے بتایا
"افف ... آپی سے بات کراؤ جلدی" وہ دونوں خوشی سے چیخیں
"بات کرو یار آپی سن رہی ہے.زیادہ تنگ مت کرنا میری آپی کو" حیات نے ہنس کر ایمان کے گلابی چہرے کو دیکھا.پھر حیات نے اپنی بات بھلا کر ان دونوں کے ساتھ مل کر ایمان کااتنا سر کھایا کہ وہ رشتہ طے ہونے پرپچھتانے لگی.
                                     ••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ

ایمان کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں.شادی میں ایک ہفتہ رہتا تھا.سارے گھر میں گہما گہمی لگی تھی.عباسی ہاؤس میں سالوں بعد پہلی شادی تھی.سب پر جوش تھے. ایک سے بڑھ کر ایک تیاری ہو رہی تھی. حیات بھی کتنے دنوں سے یونی چھوڑے گھر بیٹھی شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہی تھی.ابھی بھی وہ اماں اور تائی امی کے ساتھ شاپنگ کر کے لوٹی تھی.شاپنگ بیگز ٹیبل پر رکھ کر وہ صوفے پر پیر اپر کر کے بیٹھی"بہت تھک گئی ہوں اور اپر سے یہ سردی" اسنے شال اچھے سے لپیٹی"ہم سے زیادہ تو یہ تھکی ہے بھابی دیکھیں ذرا" الماس بیگم نے ہنس کر ساتھ بیٹھی سارا بیگم کو دیکھ کر کہا
"نازک سی بچی ہے ہماری  اتنی سردی کیسے برداشت کرے"انہوں نے محبت سے کہا
"جی بالکل تائی امی"حیات شرارت سے ہنس کر بولی تو وہ دونوں مسکرانے لگیں.پھر شادی کی تیاریوں کی باتوں میں لگ گئیں.
"گرماگرم چاۓ حاضر ہے"ایمان نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا "ہاۓ آپی آپ کیسے میرے دل کی بات جان لیتی ہیں" حیات نے جلدی سے اٹھ کر ٹرے سے کپ اٹھایا
"تم میری پیاری سی بہن جو ہو" ایمان نے پیار سے کہا پھر ماں اور چچی کو کپ تھمایا پھر حیات کے ساتھ بیٹھ گئی."آپکے بغیر میں کیا کروں گی آپی"حیات نے اداسی سے اسے دیکھا
"چلو لڑکی ابھی توتمہارے پاس ہی ہوں ناں" ایمان نے مسکرا کر اسکا گال تھپکا تو حیات نے اسکے کندھے پر سر رکھا.کچھ دیر بعد وہ لوگ ایمان کے کمرے میں تھیں."آپی آپ خوش تو ہیں؟"حیات نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا
"بڑوں کا فیصلہ مجھے دل سے قبول ہے" ایمان نے گلابی چہرے کے ساتھ کہا.حیات نے ہنس کر اسکا گال چوم لیا"افف آپی کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ اگر مجتبیٰ بھائی آپکو..."
"چپ کرو گندی بچی" ایمان نے اسکی بات کاٹ کر اسکے کندھے پر چپت لگائی .وہ کھلکھلا کر ہنسی.تبہی حیات کا موبائل بجا اسکرین پر تابی کا نام چمک رہا تھا. "میری چڑیلوں کو میری یاد آگئی" اسنے ہنس کر ایمان سے کہا.وہ تینوں یونی میں تھیں.سبین گاؤں اور حیات صاحبہ گھر میں بیٹھی تھی. جسکی وجہ سے وہ لوگ جی بھر کر بور ہو رہیں تھیں.حیات نے فون اسپیکر پر ڈالا تو دوسری طرف  سے مینا گانا گانے لگی.     
سانو ایک پل چین نہ آوے
سانو ایک پل چین نہ آوے                       سجناتیرے بنا، سجنا تیرے بنا
"اچھا تو اتنی بے چین ہو میرے بنا"حیات بھی شرارت سے گنگنانے لگی تو ایمان ہنسی تھی جبکہ دوسری طرف وہ لوگ تپ گئیں.
"اور نہیں تو کیا"حریم کی خفا آواز آئی
"تم نے تو ہمیں یاد بھی نہیں کیا ناں اتنے دنوں سے گھر میں بیٹھی ہو بے وفا کہیں کی" تابی نے مصنوعی خفگی سے کہا
"ارےیار تم لوگوں کے بغیر میرا دل کہا لگتا ہے پر میری پیاری آپی کی شادی ہے.مجھے بہت تیاریاں کرنی ہیں"حیات نے پیار سے کہا
"اوے ہوۓ سچ میں دل نہیں لگتا"مینا نے شرارت سے پوچھا
"تمہاری قسم" حیات نے ڈرامئی انداز اپنایا
"چلو آپی سے بات کراؤ ہماری"حریم نےکہا
"آپی ابھی شرما رہی ہیں"حیات نے ہنسی دبا کر کہا "ایسی کوئی بات نہیں یہ حیات بس ویسے ہی کہتی ہے" ایمان نے حیات کی طرف آنکھیں نکال کر صفائی پیش کی. دوسری طرف وہ تینوں زور سے ہنسیں
"اہم..چلیں آپی جانے دیں ہمیں پتہ ہے" تابی نے شرارت سے کہا تو حیات کے ساتھ ایمان بھی مسکرانے لگی.
"آپی پلیز اس لڑکی کو یونی بھیجیں ایک یہ نہیں آرہی دوسری ہماری بھولی گاؤں میں بیٹھی ہے" حریم نے اداسی سے کہا
"میں کیا کہوں تم لوگ اپنی دوست سے پوچھ لو لڑکیوں میں تو گئی" ایمان جلدی سے بھاگی تھی.کچھ دن پہلے جو انہوں نے اسے تنگ کیا تھا وہ بھولی نہ تھی.
"لومیری آپی تم چڑیلوں سے ڈر کے بھاگ گئیں اور ہاں میں نے ابھی نہیں آنا ویسے تم لوگوں کو بھی یہاں آنا چاہیے شادی سے پہلے کچھ ہنگامہ کریں گے" حیات باتوں سے انھیں رام کرنے لگی."ویسے سبین گاؤں میں اتنے دن کیوں رک گئی کچھ گڑ بڑ لگتی ہے" حیات نے مشکوک انداز اپنایا"ہاں مجھے بھی کوئی چکر لگتا ہے کہیں ہماری بھولی کے زمے اسکی بے جی نےکوئی بھولا نہ لگا دیا ہو" مینا نے ہنس کر کہا.انکی باتوں کا سلسلہ چل نکلا تھا.
                                     ••••••••••••••••
ایمان کی شادی میں دو دن رہ گئے تھے.حیات اور امل نے کپڑے لینے تھے.ڈرائیور سارا اور الماس بیگم کو کسی کام سے کہیں نا کہیں لے جانے میں مصروف تھا.حیات اپنا مسئلہ دادو کی عدالت میں لے کر حاضر ہوئی.دادو نے یہ کام شیرافگن کے زمے لگا لیا کہ وہ حیات اور امل کو شاپنگ کر واۓ گا.
اگلے دن حیات نے جلدی تیار ہوکر سب کو حیران کر دیا.وہ شیرافگن کو بلانے کے لئے اسکے کمرے کی طرف بھاگی جلدی میں وہ دروازہ نوک کئے بغیر اندر دخل ہوئی.سامنے دیکھا تو اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی.شیرافگن بنا شرٹ کے شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا.دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ پلٹا تو حیات ہوش میں آئی
"سوری افگن بھائی وہ میں جلدی میں تھی تو.."وہ شرمندگی سے سر جھکاکر بات ادھوری چھوڑتی جلدی سے باہر نکلی"یہ لڑکی بھی ناں"شیرافگن نے بلیک شرٹ پہنی بٹن بند کئے پھر حیات کو پکارا."آجاؤ حیات"وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر دخل ہوئی.اسنے مشکوک نظروں سے شیرافگن کو دیکھا کہ آج ڈانٹا نہیں جناب نے وہ اسے ایسے ہی دیکھ رہی تھی.جب وہ کوٹ پہن کر اسکی طرف پلٹا
"ایسے کیوں گھور رہی ہو" اسنے سخت لہجہ اپنایا.اسکا دل نرم ہو چکا تھا پر وہ یہ بات اس لڑکی پر ہرگز ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا.
"نہیں تو"اسنے نگاہیں جلدی سے پھیریں  "کیسے آنا ہوا محترمہ"شیرافگن بیڈ پر بیٹھ کر شوز پہننے لگا.حیات نے اسے گھورا رات کو امل اسے شاپنگ پر جانے کابتا چکی تھی.
"آپ بھول گئے"اسنے منہ بسورا.شیرافگن نے سر اٹھا کر اسے دیکھا کالے کپڑوں میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.بال اونچی پونی میں باندھے.شانوں کے گرد شال لپٹی تھی.
"ایسی کیا بات تھی جسے میں یاد رکھتا بتانا   ذرا؟"اسنے حیات کو چڑانے کے لئے پوچھا حیات سنہری آنکھوں میں ڈھیر ساری خفگی لئے اسے گھورنے لگی.جبکہ وہ مسکراہٹ دباتا اٹھ کر پرفیوم اسپرے کرنے لگا.
"کچھ بھی نہیں"وہ غصے سے کہتی پلٹ کر چلی گئی.شیرافگن ایک دم ہنسا پھر موبائل اور کار کی چابی اٹھاتا کمرے سے نکلا .اسنے ایمان کے کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھولا ہی تھا کہ اندر سے حیات کی آواز آئی"آپکا بھائی پورا جلاد ہے.کیسے کہہ دیا ایسی کیا بات تھی جسے میں یاد رکھتا ہونہہ"وہ کمرے میں چکر کاٹتی اسکی نقل اتار رہی تھی.ایمان بیڈ پر بیٹھی کتاب کھولے اسکی باتوں پر مسکرا رہی تھی.امل بھی شیشے کے سامنے کھڑی بال بنانے میں مصروف تھی.
"بس کر دیں آپی بھیا نے مذاق کیا ہوگا" امل نے اسے ٹوکا جبکہ شیرافگن آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آیا سینے پر ہاتھ باندھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاکرکھڑا ہوگیا اورخاموشی سے اسکی باتیں سننے لگا.حیات کی اسکی طرف پیٹھ تھی ورنہ وہ اپنی زبان کوقابومیں رکھتی
"ہاں ہاں شیر مار ہر مذاق تو میرے ساتھ ہی کرتے ہیں.میں ہی ملی ہوتی ہوں انھیں ہونہہ پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو"وہ اب امل کو گھور کر کہہ رہی تھی.
"اف اپنا غصہ کم کرو لڑکی"ایمان نے کتاب سے سر اٹھایا اسکی نظر حیات کے پیچھے کھڑے شیرافگن پر پڑی جس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا.امل بھی اسےدیکھ چکی تھی.  "بالکل نہیں... دیکھ لیں آپی میں کتنی جلدی تیار ہوگئی آپکے بھائی کو ذرا پرواہ نہیں ہے" وہ منہ بگاڑ کر بولی
"پرواہ تو ویسے بہت ہے بھائی کو"ایمان نے شرارت سے کہا وہ بھائی کےدل کی بات جان چکی تھی."جیسے میں جانتی نہیں ناں"وہ لاپرواہی سے کہتی پلٹنے لگی.
"پیچھے پلٹنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے" امل نے ہنسی دباکر اسے خطرے سے آگاہ کیا
"تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میرے پیچھے جن..." وہ پلٹی اور ایک دم اسکی زبان کو بریک لگی.شیرافگن اسکے چہرے پر نظریں جماۓ اسے گھور رہا تھا.اسنے سر جھکا لیا ایمان اور امل کی دبی دبی ہنسی گونج رہی تھی جبکہ حیات کی جان جا رہی تھی.
"آج تو پکا مرگئی" وہ بڑبڑائی
"ہاں بولو اور کیا کہنا ہے.میں جلاد ، شیر مار ، جن اور کیا کیا ہوں وہ بھی بتاؤ ؟"شیرافگن سینے پر ہاتھ باندھے دو قدم آگے بڑھا .
"پر میں نے جن آپکو تو نہیں کہا تھا"وہ جلدی سے سر اٹھا کر بولی
"اچھا اچھا مطلب باقی سب کہا صرف جن نہیں کہا" شیرافگن نے جیسے سوچتے ہوئے  سر ہلایا.حیات نے معصومیت سے سر ہلا کر سنہری آنکھیں گھمائیں"سوری افگن بھائی" وہ پکڑی جاچکی تھی تو سوری کہنا ہی بہتر تھا. حیات اتنی معصومیت سے بولی کہ ایمان اور امل کے ساتھ وہ بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا. پوری ڈرامہ کوئین تھی یہ لڑکی.وہ حیات کو دیکھ کر ہنسی روک کر سنجیدہ ہوا.
"آئندہ یہ جلاد ، جن والے الفاظ نہ سنوں میں"
"جن نہیں افگن بھائی شیرمار"وہ جلدی سے بولی پھر زبان دانتوں میں دبائی
"سوری" سنہری آنکھوں کو اٹھایا گیا. شرافگن کی نظریں اسکے چہرے پر جم سی گئیں.پر وہ جلدی سے سنبھل گیا.
"آجاؤجلدی میں کار میں انتظار کر رہا ہوں"وہ پلٹ کر کمرے سے نکل گیا.حیات نے لمبی سانس کھینچی.ایمان اور امل اب بھی مسکرا رہی تھی. ان دونوں کو گھور کر وہ امل کو آنے کا کہتی وہاں سے نکلی آج اسے اچھی اچھی شاپنگ کرنی تھی.
                                   •••••••••••••••••
عباسی ہاؤس روشنیوں سے جگمگا رہا تھا.ہر طرف خوشی اور مسکراتے چہرے تھے.بڑا سا ہال پھولوں سے سجا تھا.ہوا میں پھولوں کی خوشبوپھیلی تھی.ہلکے میوزک کی آواز ماحول کو خواب ناک بنا رہی تھی.خوبصورت سے اسٹیج پر ایمان مہندی کے لباس میں   پھولوں کے زیور پہنے  شہزادی لگ رہی تھی. دادو تو اسکی نظر اتارتے نہیں تھک  رہیں تھیں.سب مہمان خوش گپیوں میں مصروف تھے.امل ڈارک گرین لباس پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی.خوشی کے مارے وہ ایمان کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی.
"حیات کو کہو اپر سے پھول لے آۓ لڑکے والے آنے والے ہوں گے" دادو نے الماس بیگم سےکہا
حیات کو آتے دیکھ کر الماس بیگم نے اسے پھولوں کی ٹوکری لانے بھیجا.وہ انگوری لباس میں ملبوس تھی.جس پر سفید موتیوں کا کام ہوا تھا.بال کھلے ، گلے میں دوپٹہ اور نازک سی جیولاری میں ہمیشہ سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی.آج پہلی بار وہ اتنی تیار ہوئی تھی.سنہری آنکھوں کی چمک خوشی سے مذید بڑھ چکی تھی.وہ پھولوں کی ٹوکری لے کر نیچے آئی آس پاس لڑکیوں سے مسکرا بات کرتی آگے بڑھ رہی تھی.شیرافگن کسی کام سے اندر آیا. حیات کو دیکھ کر اسکے قدم تھم گئے.وہ بلیک شلوار ، قمیض میں مضبوط شانوں کے گرد چادر لپٹے کھڑا تھا.وہ لاپرواہ پاگل لڑکی اچانک سے اسکے دل کے بہت قریب ہو گئی تھی. مجتبیٰ کے رشتے والی غلط فہمی نے اسے اس بات کا احساس دلایا تھا.پر یہ بات وہ اس لڑکی سے نہیں کہہ سکتا تھا.وہ اچانک خود کو بدل دینے کے حق میں نہیں تھا."شیرافگن کیا ہوا"سارا بیگم نے بیٹے کا شانہ ہلایا "کچھ نہیں ماما" وہ چونکا پھر ماں سے کوئی بات کرنے لگا.جب ہی حیات مسکراتی ہوئی ہوا کے جھونکے کی طرح اسکے پاس سے گزری اسکی چڑیلیں آچکی تھیں.اسلئے وہ بغیر بریک لگاۓ باہر کی طرف بڑھی. حریم ، تابی ، مینا اسکی طرف بڑھیں.
"اللّه کتنی پیاری لگ رہی ہے ہماری حیات" حریم اس سے گلے ملتے ہوئے بولی
"قیامت تو تم تینوں بھی لگ رہی ہو" وہ مینا اور تابی سے ملی.حیات انھیں لے کر اندر بڑھی  شیرافگن ہال سے باہر نکل رہا تھا.تینوں نے اسے سلام جھاڑا تو وہ سنجیدگی سے جواب دیتا آگے بڑھ گیا."اف پرنس چارمنگ" تابی نے حیات کو دیکھ کر آنکھ دبائی
"کہو تو بات آگے بڑھاؤں"حیات نے شرارت نے کہا تو تابی نے اسے چپت لگائی.
"بدتمیز میری بات نہیں تمہاری...تمہارے حسن کی بجلی کسی کے دل پہ گری لگ رہی ہے " تابی نے سمجھ داری سے کہا
"لگ تو رہا ہے کہ شیر ڈھیر ہوگیا ہے"میناہنسی توحیات نے اسے گھورا
"چپ کرو اور اندر چلو آپی کے پاس"پھر وہ سب اندر بڑھ گئیں.سبین گاؤں میں ہی تھی اسلئے شادی میں نہیں آسکی .لڑکے والے مہندی لے کر آۓ وہ سب پھولوں کی پلیٹیں لئے کھڑیں تھیں.جب وہ لوگ آۓ تو سب نے ان پر جیسے پھولوں کی بارش کردی پھر انہوں نے ایمان کو مہندی لگائی.دونوں طرف سے ڈانس پرفارمنس بھی دی گئیں.امل اور مریم نے مل کر ڈانس کیا.حیات اور اسکے گروپ نے لڑکے والوں کو خوب تنگ کیا پر انکی طرف سے بھی مجتبیٰ کے ایک کزن علی نے خوب مقابلہ کیا.وہ حیات میں دلچسپی لے رہا تھا. جبکہ حیات اسے اگنور کرتی رہی.دیر رات تک مہندی کا فنکشن چلتا رہا.ہر طرف گہما گہمی تھی.خوشیوں کے رنگ بکھرۓ تھے.
                                  •••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش

وہ ہوٹل کا خوبصورت سا کمرہ تھا.ٹیبل پر کینڈلز اور خوبصورت سا کیک رکھا تھا.ٹیبل کی ایک طرف احمر جمالی اور دوسری طرف شازمہ بیٹھی تھی.وہ پنک لباس میں ملبوس جسکی آستینیں سرے سے غائب تھیں.دوپٹہ گلے کے ساتھ چپکا تھا.ڈارک میک اپ میں وہ جیسے بجلی گرا رہی تھی.یہاں وہ احمر جمالی کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے آۓ تھے.مایا نے بھی آنا تھا.پر وہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی.
"آؤ ڈارلنگ کیک کاٹ لیں"احمر جمالی اٹھ کر اسکی طرف آیا.
"پر مایا نے ابھی آنا ہےناں"اسنے ادا سے کہا   "وہ نہیں آۓ گی کوئی ضروری کام ہے اسے" وہ شاز مہ کے قریب کرسی رکھ کر بیٹھا
"اوکے چلو کیک کاٹو" وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرائی.احمر نے کیک کاٹا تو شازمہ نےتالیاں بجا کر اسے وش کیا.دونوں نے ایک دوسرے کو کیک کھلایا پھر احمر جمالی شازمہ کی طرف جھک کر اسکے گال پر کِس کی شازمہ کچھ جھجھک کر پیچھے ہوئی تو احمر جمالی نے اسے مذید اپنے قریب کیا.
"احمر" شازمہ نے اسے ہاتھوں سے پیچھے کیا
"کم آن بےبی"وہ جیسے بہک رہا تھا.اچانک اسکا فون بجا تو وہ جھنجھلا کر پیچھے ہوا اور موبائل اٹھا کر وہاں سے کچھ دور کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر بات کرنے لگا.
"ہوگیا کام"اسکے دوست نے کمینگی سے پوچھا
"خاک ہوا کچھ....فضول نخرے دیکھا رہی ہے" وہ غصے سے بولا شازمہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی حیرت سے  سب سن رہی تھی.
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا اور احمر جمالی قہقہہ لگا کر ہنسا. وہ جیسے شازمہ کی موجودگی بھول چکا تھا یا جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا."سن لینے دے یار اب بچ کر کہاں جائے گی"اسکی بات پر شازمہ کانپی تھی. جبکہ وہ کہہ رہا تھا."مجھے تو ہاتھ صاف کرنے دو پھر تمہاری باری آئے گی"وہ کمینگی سے ہنسا شازمہ دو قدم پیچھے ہٹی تو کرسی سے ٹکرائی وہ وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی.آواز پر احمر جمالی نے پلٹ کر اسےدیکھا پھر ہنس کر اسکے قریب آیا.
"کیاہوا ڈارلنگ رنگ کیوں اڑا ہوا ہے تمہارا" وہ ایسے کہہ رہا تھا.جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو.
"تم..تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ہاں" وہ غصے سے کانپ رہی تھی.احمرجمالی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسےاپنی طرف کھینچا دوسرے ہاتھ سے اسکا دوپٹہ اتار پھینکا پھر اسکے کان میں سرگوشی کی"وہی جو تم ہو" اسکی بات پر شازمہ نے اسے دھکا دیا تو وہ دو قدم پیچھے ہوا."بکواس مت کرو میں تمہارا منہ نوچ لونگی"وہ چیخی
"اوہ رئیلی؟ ذرا نوچ کر دکھاؤ" اسنے طنزیہ انداز میں چہرہ اسکے قریب کیا پھر ہاتھ بڑھا کراسے چھونا چاہا توشازمہ نے سنبھل کر ایک کرارا تھپڑ اس کے منہ پر مارا "دور رہو مجھ سے" وہ چیخ کر بولی."تیری اتنی ہمت بد کردار عورت تو نے احمر جمالی پر ہاتھ اٹھایا" وہ غرا کر اسکی طرف بڑھا بالوں سے پکڑ کر کھینچ کے تھپڑ مارا وہ منہ کے بل زمین پرگری احمر جمالی نے جھک کر اسکے بال مٹھی میں بھرکر کھینچے "چھوڑو مجھے میں بدکردار نہیں ہوں کمینے انسان" وہ درد سے تڑپ رہی تھی."ایسی کی تیسی تمہاری بڑی پاکیزہ عورت بن رہی ہو وہ حال کرو گا کہ پچھتاؤگی کہ تم نے احمر جمالی پر ہاتھ اٹھایا تھا"وہ اسے گھسیٹ کردھاڑا شازمہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں.احمر جمالی نے اٹھاکر اسے بیڈ پر پھینک کر دبوچ لیا.شازمہ کے کپڑے اس ہاتھا پائی میں پھٹ چکے تھے.ہونٹ پھٹ کر خون نکل رہا تھا.چہرے پر تھپڑ کا نشان تھا.اسکے ذہن میں حیات کی باتیں گونج رہی تھیں.کاش وہ اسکی بات مان لیتی تو آج یہ سب نہ ہوتا وہ رو کر خود کو چھوڑا رہی تھی."احمر خدا کے لئے جانے دو مجھے"اسنے منت کی "اچھا جانے دوں؟" اسکے چہرے کو دیکھ کرطنزیہ کہا شازمہ خودکو چھوڑانےکی کوشش کر رہی تھی.اسکی ناکام کوشش پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا "ابھی کہاں بےبی یہ کوشش کرنا چھوڑ دو شاباش ابھی تو دوسروں کی باری بھی آنی ہے.کب تک لڑ سکوگی" وہ درندگی کی انتہا پر تھا.شازمہ کے بازو تھام کر وہ اس پر جھکا
"ذلیل انسان چھوڑو مجھے جانے دو پلیز میں ایسی نہیں" وہ چیخ چیخ کر پاگل ہورہی تھی.اس درندے سے فریاد کر رہی تھی.
"واہ کیابات ہے ایسی نہیں تم تو کیا مولانی ہو؟ کیا کر رہی ہوپھریہاں رات کے اس وقت ایک نہ محرم کے ساتھ بولو"اسنے غصے سے غرا کر اسے تھپڑ رسید کیا.اسکا چہرہ گھوم گیا.وہ ٹھیک کہہ رہا تھا.وہ کیوں آئی تھی ایک نہ محرم کے ساتھ ساری غلطی اسکی اپنی تھی.وہ شدت سے رونے لگی.اسکی غلطی کی کیا اتنی بڑی سزا ملے گی اسے"یااللّه مجھے بچا   لیں ،مجھے معاف کر دیں مجھ سے غلطی ہوگئی"وہ رو رو کراللّه سے معافی مانگ رہی تھی.وہ اس طرح بدنام نہیں ہونا چاہتی تھی.
"بکواس بند کر" احمر جمالی نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا.اسکے بازو احمر جمالی کی گرفت میں تھے.شازمہ نے پوری طاقت لگا کر دانت اسکی کلائی پر گاڑ دیئے.وہ درد سے بلبلا اٹھا شازمہ اسے دھکا دےکر بیڈ سے نیچے اتری اسے جلد سےجلد یہاں سے نکلنا تھا.وہ بیگ اور دوپٹہ اٹھا کر جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی کہ احمر جمالی نے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اسکے بال مٹھی میں پکڑ کراسے پیچھے کی طرف کھینچا. شازمہ اس جھٹکے پر درد سے تڑپ اٹھی."تمہیں لگتا ہے میں اتنی آسانی سے   تمہیں جانے دونگا ہاں ؟"اسنےدھاڑ کرشازمہ کامنہ سختی سے پکڑا اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.اسنے احمر جمالی کو دیکھاجو بھیڑیا بنا اسے گھور رہا تھا.غصے سے اسنے ہاتھ آگے بڑھا کر ناخن احمر کے منہ پر مارے
"حیات ٹھیک کہہ رہی تھی تم ذلیل، گندے، گھٹیا انسان ہو پر تب میں نے اسکی بات نہ مانی پر تمہیں میں جیتنے نہیں دونگی" وہ روتے ہوئے اس سے اپنا آپ چھڑا کر جلدی سے جانے کے لئے پلٹی پر احمر جمالی نے اسے ذور سے دھکا دیاوہ پیچھے رکھی ٹیبل کے ساتھ ٹکرائی .
"حیات.....انہوں...کون ہے وہ؟" احمر جمالی نےاسکی طرف بڑھتے ہوئے گندی سی گالی دے کر دانت پیس کے پوچھا پھر چہرے پر ہاتھ پھیرا پر درد کی وجہ سے نیچے کر لیا ناخن لگنے سے اسکے چہرے سے خون رسنے لگا تھا.اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر شازمہ نے ٹیبل پر رکھا گلدان اٹھایا جیسے ہی وہ اسکے قریب آیا اسنے پوری طاقت لگا کر ذور سے گلدان احمر جمالی کے سر پر دے مارا وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا پھر ایک چیخ کے ساتھ منہ کے بل زمین پر گرتا چلا گیا. لمحوں میں اسکے سر سے تیزی سے خون بہنے لگا.شازمہ نے بیگ اٹھایا،دوپٹہ سر پر لے کر آنسو صاف کرتی وہاں سے نکلی. آنکھوں کے سامنے چھائی دھند کے پار اسے جاتےدیکھ کر احمر جمالی بلبلا اٹھا.شکار اسکی ہاتھ سے نکل چکا تھا.ایسا پہلی بار ہوا تھا.اسکا لہو ابلنے لگا دماغ میں ایک ہی نام گونج رہا تھا."حیات.."وہ آنکھوں میں شیطانی چمک لئے دانت پیس کر اسی نام کو بڑبڑاتا رہا.سر سے خون نکل کر کنپٹی سے نیچے بہنے لگا.آنکھوں کے سامنے دھند مکمل طور پر چھا چکی تھی.احمر جمالی بیہوش ہو چکا تھا.                        ••••••••••••••             
صبح سے افرا تفری مچی تھی.ہر کوئی کام میں لگا تھا.آج ایمان کی بارات تھی.وہ سب کوئی کمی نہیں رہنے دینا چاھتے تھے.حیات اور امل کو ایمان کے ساتھ پالر جانا تھا. شیرافگن بھی صبح سے باہر کے چکر لگا رہا تھا.گھر کی عورتوں کو کبھی ایک کام یاد آتا تو کبھی دوسرا ابھی بھی وہ ان تینوں کو پالر لے جا رہا تھا.کار پالر کے سامنے روک کر اسنے گردن موڑ کر انہیں دیکھا وہ کارسے اتر رہیں تھیں."حیات" ایمان کے پیچھے اترتی حیات کو اسنے پکارا."جی " اسنے پلٹ کر دیکھا
"جب فارغ ہو جاؤ توکال کر لینا میں آجاؤں گا اوکے" شیر افگن اسے دیکھ کر بولا
"ٹھیک ہے" حیات نے اثبات میں سر ہلایا پھر ایمان اور امل کے پیچھے چلی گئی.شیرافگن نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی.
دو گھنٹے بعد وہ تیار ہو چکی تھی.ایمان کو چادر اوڑھا دی تھی.امل بھی تیار ہو چکی تھی شاکنگ پنک کپڑوں میں وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی جبکہ حیات انکے کہنے پر بھی تیار نہ ہوئی کہ وہ گھر جاکر آرام سے تیار ہوگی.اسنے شیرافگن کو کال کی کہ آ کر انھیں لے جائے. گھر میں مہمان آ چکے تھے.شیرافگن کام میں پھنسا ہوا تھا.پر وہ انھیں لینے پہنچ گیا.ایمان کو بیک ڈور سے گھر میں لے جایا گیا.لان اور ہال مہمانوں سے بھرا تھا.میوزک کی آواز چار سو پھیلی تھی.وہ ایمان کو لے کر اسکے کمرے میں آئی امل تو نیچے چلی گئی. حیات، ایمان کے ساتھ تھی.شیرافگن انکا بیگ لے کر آیا وہ ابھی تک ویسے ہی گھوم رہا تھا.ایمان نے بھائی کو دیکھا پھر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی حیات کو اسکے لبوں پر مسکان پھیل گئی. تبہی حیات نے اسے پکارا."آپی دیکھیں اپنے بھائی کو ابھی تک تیار نہیں ہوئے لوگ کیا کہیں گے دلہن کے بھائی نے کیا خراب حالت بنائی ہوئی ہے" اسنے مسکراہٹ دبا کر ایمان سے کہا. شیرافگن نے پہلے اسے گھورا پھربائیں طرف گردن موڑ کر خود کو آئینے میں دیکھا کیاواقعی اسکی حالت خراب تھی؟بھورے بال کچھ بکھرے تھے اور سفید لباس پر شکنیں پڑی تھیں.پر اتنی خراب حالت بھی نہ تھی جتناحیات صاحبہ کہہ رہی تھیں.اسنے پلٹ کر حیات پھر ایمان کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی.
"کیا لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ دلہن کی بہن فقیرنی بنی ہوئی ہے"اسنے سنجیدگی سے کہا پر چہرےپر شوخ سی چمک تھی.اسکی بات پر ایمان نے قہقہہ مشکل سے روکا.حیات آنکھیں پھاڑے شیر افگن کو دیکھ رہی تھی.
"اب میں اتنی بھی بری نہیں لگ رہی "وہ منہ بسور کر بولی شیرافگن نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی وہ بھی سفید کپڑے پہنے ہوئی تھی. بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا تھا جس میں سے بال نکل کر چہرے پر آرہے تھے.وہ اتنی بری ہرگز نہیں لگ رہی تھی.پر شیرافگن کیا کرتا اسے اپنا بدلہ بھی تو لینا تھا ناں.
"اتنی سے زیادہ بری لگ رہی ہو" وہ شرارت سے کہتا پلٹ کر کمرے سے چلا گیا.
"افف انہوں نے کبھی بھی میری جان نہیں چھوڑنی" وہ چڑ کر کہتی بیڈ پر بیٹھی
"ہاں ناں ....کبھی نہیں" ایمان نے ہنس کر شوخی سے کہا.ایمان اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ اس پیاری لڑکی کو دیکھنا چاہتی تھی.
"اچھا چلیں آپ تھوڑا ریلیکس ہو کر بیٹھیں پھر بارات آگئی تو آپکو اٹنشن پوزیشن میں رہنا ہوگاویسے قیامت لگ رہی ہے آپی"اسنے ہنس کر پیار سے اسے دیکھا.ایمان لال اور گولڈن لہنگا شرٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی. "اچھا جی"ایمان نے دھیمے سےکہا
"بالکل مجتبیٰ بھائی تو گئے کام سے"                           "چپ کرو شریر لڑکی"وہ شرمائی تھی.       "اچھا ہوگئی چپ"حیات نے منہ پر انگی رکھی پھر بولی"اب میں ذرا ہیروئن بن کر آؤں ورنہ آپکے بھائی نے مجھے فقیرنی ہی کہناہے"وہ بیڈ سے اٹھتی شوخی سے بولی.
"ہیرو میرا بھائی ہی ہوگا"ایمان نے بیڈ سے ٹیک لگاکر شرارت سے کہا.حیات آنکھیں پھاڑے کچھ کہنے ہی والی تھی.جب دھڑام سے دروازہ کھلا اور مینا ،حریم ،تابی اور سب سے آخر میں سبین تھی.سب بہت پیاری لگ رہی تھیں.حیات تو سبین کو اچانک دیکھ کر چیخ مارتی اسکے گلے لگی."اف یہ کب واپس آئی" اسنے تینوں سے پوچھا "میں آپی کےلئے آئی ہوں"سبین آگے بڑھ کر ایمان سے ملی            "کل رات آئی ہے محترمہ ویسے کیسا لگا سرپرائز" تابی نے مسکرا کر پوچھا
"بہت اچھا" اسکی بات پر سبین مسکرائی.  پھر وہ لوگ ایمان کی طرف بڑھیں. سب اسے گھیر کر بیٹھ گئیں."ہاۓ آپی بالکل حور لگ رہی ہیں" مینا اسے دیکھ کر پیار سے بولی
"یہ حور مجتبیٰ بھائی کے لئے اتری ہیں"حیات نے شرارت سے کہا وہ سب ہنسی لگیں. ایمان نے شرما کر سر جھکا گئی.
"تم نے یہی حالت بناۓ رکھنی ہے لڑکی بارات آنے والی ہے"حریم نے ساتھ بیٹھی حیات کو کہنی ماری .وہ اچھل کر کھڑی ہوئی
"افف تم میں سے ایک میرے ساتھ چلو میری مدد کرنے" اسنے کہا تو تابی اٹھ کھڑی ہوئی وہ دونوں کمرے سے باہر نکلیں.نیچے ہنگامہ مچا تھا.میوزک ، ہنسی ، شور سب آوازیں مکس آرہی تھیں.وہ حیات کے کمرے میں گئیں. وہ جلدی سے تابی کی مدد سے تیار ہوئی
اسنے نیوی بلیو ویلوٹ کی فراک پہنی تھی. جس پر سیلور کام ہوا تھا.بال کھلے تھے.سنہری آنکھوں پر اسنے صرف مسکارا لگایا تھا.لبوں پر پنک لپ اسٹک اور لائٹ جیولاری میں وہ گڑیا لگ رہی تھی.تابی تو اس پر واری جانے لگی.
"ظالم لڑکی کسے مارنے کا ارادہ ہے آج" تابی نے اسکا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا
"میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں پھر بھی کوئی مر گیا تو میں کیا کر سکتی ہوں" اسنے ہنس کر لاپرواہی سے شانے اچکائے
"اف یہ معصوم ادائیں " تابی نے پیار سے کہا "چلو مکھن نا لگاؤ" حیات نے مسکرا کر اسکے کندھے پر چپت لگائی.
دروازہ کھول کر امل اندر آئی."آپی جلدی آئیں بارات آچکی ہے"وہ بات مکمل کر کے باہر بھاگی اسکے پیچھے وہ دونوں بھی جلدی سے نکلیں.بارات پر پھول برسا کر انکا ویلکم کیا گیا.مجتبیٰ بلیک سوٹ میں بہت ڈیسنٹ لگ رہا تھا.لبوں پر ہلکی مسکان تھی.مجتبیٰ کے ایک طرف  ولید اور دوسری طرف علی تھا. شیرافگن نے انھیں گلے لگایا.وہ سفید شلوار ، قمیض میں ملبوس تھا.سنجیدہ سا وہ بہت با روب لگ رہا تھا.ان لوگوں کو اسٹیج پر بٹھایا گیا.علی نے جب حیات کو دیکھا تو خوشی سے اسکی بتیسی نکل آئی.جو شیرافگن کی تیز نظروں سے پو شدہ نہ رہی اسنے گھور کر علی کو دیکھا پر وہ حیات کو دیکھنے میں مصروف تھا.جبکہ حیات وہاں کسی کے ساتھ باتوں میں مگن تھی.وہ ایک دم سے اٹھا ولید کو ابھی واپس آیاکہہ کر وہ حیات کی طرف بڑھا."حیات" اسکی پکار پر اسنے پلٹ کر دیکھا "کیابات ہے افگن بھائی" وہ اسکے قریب آئی"تمہیں اپر ایمان نے بلایا ہے" اسنے سنجیدگی سے جھوٹ بولا وہ حیات کو علی کی نظروں سے دور کرنا چاہتا تھا.جو شیرافگن کو اسکے ساتھ کھڑا دیکھ کر نظریں پھیر گیا.وہ دونوں ساتھ کھڑے بہت سی نگاہوں کا مرکز بنے تھے.
"اچھامیں دیکھتی ہوں"
"ہاں جلدی جاؤ" اسنے نے جلدی سے کہا.حیات اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی وہاں سے سیڑھیوں کی طرف چلی گئی.شیرافگن نے بھی سکھ کی سانس لی اور واپس اسٹیج تک آیا لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی.علی نے حیات کو جاتے دیکھا تو چہرے پر مایوسی چھا گئی. شیرافگن اب سکون سے بیٹھا ولید اور مجتبیٰ سے باتیں کر رہا تھا.
ایمان کے کمرے میں سب موجود تھیں.نکاح ہونے والا تھا.حیات نے ایمان کوگولڈن نیٹ کا دوپٹہ اوڑھا کر اسکے چہرے کو ڈھانپ لیا.  مولوی صاحب اور گھر کے بڑے کمرے میں داخل ہوئے.نکاح کی رسم ادا کی گئی.ہر طرف مبارک سلامت کا شور تھا.کچھ دیر میں ایمان کو بھی مجتبیٰ کے ساتھ بٹھایا گیا.دونوں کا فوٹو شوٹ ہوا پھر جب رخصتی کا وقت آیا تو سب جیسے مرجھا سے گئے.حیات تو ایمان سے چپک کر روتی رہی.اسکی پیاری آپی اسکی دوست اس سے جدا ہو رہی تھی.ایمان بھی سب سے مل کر خوب روئی.شمس عباسی نے بیٹی کے سر کے اپر قرآن پکڑا تھا.قرآن کے ساۓ تلے دولہا ،دلہن کو کار میں  بٹھا کر شیرافگن، شمس اوراحمد صاحب نے کار کو دھکا لگا کر بیٹی کو بہت سی دعاؤں کے سائے تلے رخصت کیا.بارات چلی گئی تو سب اندر کی طرف بڑھے مہمان جا چکے تھے.شیرافگن نے حیات کو دیکھا جو دادو کے ساتھ چپکی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی.شیرافگن کی اپنی آنکھیں لال ہو رہی تھیں.وہ وہاں سے اپر کی طرف چلا گیا جبکہ پیچھے دادو حیات کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے سمجھا رہی تھیں. "بیٹیوں کو رخصت کرنا آسان نہیں ہوتا بیٹا اگر ایسی کوئی رسم نہ ہوتی تو کون ماں باپ اپنا جگر کا ٹکڑا کسی اور کے حوالےنہ کرتے پر یہی دنیا کی ریت ہے بیٹی کو پراۓ گھر جانا ہوتا ہے اور وہ ماں ،باپ خوش قسمت ہوتے ہیں جنکی بیٹی انکی دعاؤں کے ساۓ میں عزت سے رخصت ہوتی ہے."دادو اسے بتاتی جارہی تھیں انکی باتوں پر حیات کے آنسو تھم گئے پر تائی امی اور اسکی اماں نے آنسو بہانے شروع کر دیئے تھے.
                                    •••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش


اگلے دن انکا ولیمہ تھا.عباسی ہاؤس کے سب لوگ ہال جانے کے لئے نکل چکے تھے سواۓ حیات صاحبہ اور شیرافگن کے ، ہمیشہ کی طرح حیات آج بھی لیٹ تھی.دادو نےشیرافگن کو اسے ساتھ لانے کا کہا پھر باقی سب چلے گئے.حیات اس بات سے بے خبر تیار ہونے میں لگی تھی.شیرافگن ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا کہ کب مہارانی تیار ہو کر آۓ اور کب وہ لوگ گھر سے نکلیں. وہ بلیک سوٹ پہنے ہوئے تھا.بلیک میں وہ ہمیشہ حد سے بڑھ کر گڈ لوکنگ لگتا تھا.اسنے ایک بار پھر گھڑی دیکھی اور غصہ قابو کرتے اٹھ کھڑا ہوا.یہ لڑکی ہمیشہ اسکی ناک میں دم کرتی تھی.وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا پر حیات کو نیچے آتا دیکھ کر رک گیا.
"اماں کب جانا ہے ویسے" وہ اپنے خیال میں دوپٹہ ٹھیک کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی. شیرافگن نے اسے دیکھا وہ بھی بلیک کپڑوں میں ملبوس تھی.جواب نہ پاکر اسنے سنہری آنکھیں اٹھائیں گھر بالکل سنسان تھا.وہ جلدی سے باقی سیڑھیا ں طے کرتی اسکے سامنے کھڑی ہوئی."ہاۓ افگن بھائی مجھے سب چھوڑ کر چلے گئے" وہ پریشانی سے بولی.شیرافگن جو سحر میں کھویا تھا ایک دم چونک کر ہوش میں آیا "کیامیں تمہیں نظر نہیں آ رہا؟" اسنے تیکھے لہجے میں پوچھا.وہ کب سے اس محترمہ کا انتظار کر رہا تھا اور اب اسے کیا سننے کو مل رہا تھا.
"اف میں اب آپکےساتھ جاؤں گی کیا؟" اسنے افسوس سے گردن ہلائی شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے کیا مطلب تھا اس لڑکی کی بات کا اسے تو غصہ ہی آگیا.
"اچھاٹھیک ہے تمہیں میرے ساتھ نہیں جانا تو بیٹھی رہو گھر میں میرا وقت فضول میں    برباد کیا تم نے گڈ بائے!!!"وہ اسے گھور کرکہتا وہاں سے نکلا .حیات ہوش میں آکر اسکے پیچھے بھاگی "افگن بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا سچی"وہ تیزی سے اسکے پیچھے چل رہی تھی پر وہ پورچ  کی طرف بڑھتا رکنے کا نام ہی  نہیں لے رہا تھا.
"افگن بھائی سنیں تو" اسنے تیزی سے بڑھ کر اسکے بائیں بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھاما. شیرافگن ایک دم رکا گردن موڑ کر اسے دیکھا
"مجھےبھی ساتھ لے کر جائیں..اب میں نے ایسا تو نہیں کہا تھا کہ مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا" اسنے  منہ بسورا سنہری آنکھیں گھما کر اسکو دیکھا.یہ منظر شیرافگن کے دل میں اتر گیا.
"جلدی چلیں" وہ اسکا بازو چھوڑتی کار کی طرف بڑھی جبکہ وہ جیسے کھو سا گیا تھا. حیات کے دوبارہ پکار نے پر ہوش میں آیا پھر سر جھٹک کر کار کی طرف بڑھا.
ہال میں وہ دونوں ساتھ داخل ہوئے گہما گہمی عروج پر تھی. اسٹیج پر ایمان اور مجتبیٰ بیٹھے تھے.سب انھیں وش کر رہے تھے.وہ دونوں بھی انکی طرف بڑھ کر انسے ملے "آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں" حیات نے پیار سے کہا. ایمان مسکرا کر سر جھکا گئی.وہ سیلور خوبصورت سی ڈریس  پہنے ہوئے تھی.مجتبیٰ کی نظریں اسکے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں.کچھ دیر بعد مجتبیٰ اور شیرافگن اسٹیج سے اٹھ کر نیچےچلے گئے.حیات ،ایمان کے ساتھ  بیٹھی باتیں کرتی رہی پھر حیات کی چڑیلیں بھی آگئیں. وہ سب بھی وہی بیٹھ کر گپیں لگانے لگیں."بڑی میچنگ میچنگ چل رہی ہے تم دونوں کی اہم..دال میں کچھ بلیک بلیک سا ہے"تابی نے اسکے کان میں سر گوشی کی. حیات نے اسکی بات سمجھ کر پہلےدور کھڑے شیرافگن کو دیکھا پھر نظر گھما کر اسے
"کچھ بلیک نہیں دال میں یہ صرف ایک اتفاق ہے سمجھی"اسنے گھور کر سر جھٹکا.    "حسین اتفاق" حریم نے لقمہ دیا سب کھلکھلا کر ہنسی.حیات نے برا سا منہ بنایا. سبین نے ایمان کی طرف اشارہ کر کے انھیں اسکی طرف متوجہ کیا.جو چپکے سے مجتبیٰ کو دیکھ رہی تھی.مجتبیٰ کی نظریں بھی اس پر تھی.وہ سب شرارت بھری ہنسی روکے سب دیکھتی رہیں.مجتبیٰ کو کسی نے آواز لگائی   تو وہ اس طرف متوجہ ہوا.ایمان نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کر کے کھولیں  وہ ان شیطانوں کی نگاہوں سے انجان تھی.
"ڈھانپ لیا پلکوں میں تجھ کو"
             "بندکر لئے نین"
"تومجھ کو میں تجھ کو دیکھوں"
          "غیروں کا کیا کام"
میناکی سنگر والی رگ بھڑکی تو اسنے نے گانا ،گانا شروع کیا سب نے تالیاں بجاکر اسکا ساتھ دیا.ایمان نے چونک کر انھیں دیکھا سب کے چہروں پر شریر سی مسکراہٹ چمک رہی تھی. وہ ان کے بیچ پھنس چکی تھی.
"واہ واہ مینا"انہوں نے داد دی.مینا نے سر کو خم دے کر وصول کی
"ہاں تو آپی آپ مجتبیٰ بھائی کو آنکھوں میں چھپا رہی تھیں"حیات نے آنکھیں جھپک کر کہا ایمان گلابی چہرہ جھکا گئی.
"آپی کا حق ہے مجتبیٰ بھائی پر" حریم نے ایمان کاساتھ دیا."بالکل بالکل"ایک ساتھ کہا گیا. "پر آپی چُپ کر نہیں پورے حق سے دیکھیں ناں" تابی نے کہا تو ایمان نے اسے گھورا پر ان پر اثر کہاں ہونا تھا.کافی دیر وہ ایمان کا سر کھاتیں رہیں پھر دادو نے انہیں ڈانٹ کر وہاں سے ہٹایا تو انھیں صبر ہوا.ان سب نے مل کر  کھانا کھایا.حیات امل کو ڈھونڈھ رہی تھی. جو مریم کے ساتھ گھومتی نجانے کہا تھی. حیات ارد گرد  دیکھتی گزر رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی پھر ایک دم سنبھل کر پیچھے ہوئی سامنے دیکھا تو علی کھڑا تھا.اس کے چہرے پر نظریں جماۓ مسکرا رہا تھا."کیسی ہیں آپ" اسنے لگاؤ سے پوچھا
"میں ٹھیک"اسنے دھیمے سے مسکراکر مختصر جواب دیا.اسے جانے کی جلدی تھی.امل کو دادو نے بلایا تھا.اگر دیر ہوتی تو دادو نے اسے سنانی تھیں اور وہ علی سےگپیں لگا بھی نہیں سکتی تھی. اسے علی سے چڑ سی تھی.
" بہت پیاری لگ رہی ہیں"علی نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا. حیات نے لاپرواہی سے شکریہ کہا جبکہ دور کھڑاشیرافگن ماتھے پر  شکنیں ڈالے انھیں گھور رہا تھا.وہ جلدی سے علی سے جان چھڑا کر بھاگی.شیرافگن بھی اسکے پیچھے گیا.حیات امل کو پورے ہال میں ڈھونڈھ چکی تھی پر وہ کہیں نہ ملی .وہ ہال سے باہر آئی کہ شاید باہر ہو وہ آگے بڑھ رہی تھی.جب اسکا بازو ذور سے کھینچا گیا.
"کیا مسئلہ ہے!!"اس نے غصے سے پلٹ کر کہا  وہ کب سے امل کو تلاش کر کے جھنجھلا اٹھی تھی.اور اب یہ کون ہے.جب اسنےسامنے دیکھا تو شیرافگن صاحب اسے گھور رہے تھے.
"اب کیا کر دیا میں نے"وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بڑبڑائی اسکابازو شیرافگن کی گرفت میں تھا.
"کتنی بار کہا ہے دیکھ کر چلا کرو...میری بات سمجھ نہیں آتی تمہیں...کبھی ان  آنکھوں کا استمعال بھی کر لیا کرو...ویسے ٹکرانا تمہیں بہت اچھا لگتا ہے.ہاں بولو؟" اسکےبازو کوجھٹکا دے کر اسنے دانت پیس کر پوچھا "پر میں آپ سے کب ٹکرائی"وہ حیران تھی. "آنکھیں کھول کر چلا کرو سمجھی مجھے ذرا پسند نہیں تمہاری یہ بچوں والی حرکتیں" اسنے چبا کر کہا حیات کا دماغ گرم ہوا.یہ کیا ہے جب مرضی اسے ڈانٹ دیا جائے جبکہ اس نے کچھ کیا بھی نہ تھا.اسنے اپنا بازو جھٹکے سے اسکی گرفت سےچھڑایا.پھر بغیر کچھ کہے پلٹ کرچلی گئی.شیرافگن نے اسکی پشت کو گھورا حیات کے ساتھ علی کو دیکھ کر اسے آگ ہی تو لگ گئی تھی.
"دیکھ کر نہیں چل سکتی یہ لڑکی اب کیا ہر کسی سے ٹکراتی پھرے گی پاگل لڑکی"وہ غصے سے بڑبڑاتا اندر کی طرف بڑھ گیا.
حیات نے امل اور مریم کو سامنے سے آتے دیکھا تو تیز قدموں سے انکی طرف بڑھی
"امل یہاں کیا کر رہی ہو کب سے تمہیں ڈھونڈھ رہی ہوں پرتم نے تو نہ ملنے کی قسم کھائی تھی حد ہوگئی"حیات نے اپنا غصہ امل پر اتارا.وہ دونوں حیران تھی کہ حیات کو کیا ہوگیا." آپی مریم کا موبائل کار میں تھا بس وہی لینے آۓ تھے.آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہیں"اسنےمنہ بنا کر کہا.حیات نے آج سے پہلے اسے نہیں ڈانٹا تھا.
"آئی ایم سوری گڑیا چلو آؤ دادو بلا رہی ہیں" اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.وہ شیر مار کا غصہ اس پر اتار رہی تھی.اسنے امل کا ہاتھ    پکڑ کر پیار سے کہا دوسرے ہاتھ میں مریم کا     ہاتھ لیا پھر مسکرا کر ان سے باتیں کرتی اندر    بڑھ گئی.
                                      •••••••••••••••••
احمر جمالی زخمی شیر کی مانند ہو گیا تھا. اپنے اپارٹمنٹ میں وہ تینوں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا.آج دوسرا دن تھا.اسکے سر کا زخم اب بھی دکھ رہا تھا.پر اس سے زیادہ اسے یوں شکار کے ہاتھ سے جانے کا دکھ پاگل کر رہا تھا. اپر سے دوست اسکے غصے کو اور ہوا دے رہے تھے.اس دن کے بعد وہ آج انسے ملا تھا.
"چھی یار بہت برا کیا شازمہ نے تو نے سبق سکھانا تھا ناں اسے"ندیم نے اسے بھڑکایا
"بچ نکلی..." اسنے گالی دے کر منہ پر ہاتھ پھیرا ناخن لگنے کے نشان چہرے پر اب بھی تھے.اسے وہ درد یاد آنے لگا جب خون اسکے سر سے نکل کر فرش کو لال کر رہا تھا.
"کیا حال کیا ہے تیرا "سلمان نے چنگاری کو ہوا دی. احمر جمالی نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا کانچ کا گلاس دور پھینکا جو ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا"شازمہ کی ایسی کی تیسی اور اس لڑکی کو نہیں چھوڑوں گا.اسکی ہمت کیسے ہوئی وہ میرے خلاف بکواس کرتی رہی.اب اسےبتاؤں گا کہ احمر جمالی کوئی چھوٹی چیز نہیں وہ حال کروں گاکہ یاد رکھے گی"لاوا پھٹا تھا.اسکے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی.آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں." ویسے وہ لڑکی کون ہے؟"وقاص نے آگے ہو کر تجسس سے پوچھا
"ہے کوئی حیات...جو کافی حد تک مجھے جانتی ہے  تبھی شازمہ کو سبق دیتی رہی اب میں بھی اسے اچھے سے جان لونگا.اسنے شازمہ کو توبچا لیا پراسے میرے ہاتھوں سے کون بچاۓ گا "وہ ہاتھ میں پکڑے سیگریٹ پر نظریں جماۓ چباکر بولا "واہ یار اب آۓ گا کھیل کا اصل مزہ" سلمان نے کمینگی سے ہنس کر اسکا شانہ تھپکا.احمر جمالی آنکھوں میں شیطانی چمک لئے خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا. شازمہ کوچھوڑکروہ حیات کےپیچھےپڑگیا تھا.
"سنو میری بات" اسنے تینوں کو متوجہ کیا
"کل پتہ لگاؤ یہ حیات کون ہے"اسنے انگلی اٹھا کر کہا" اوکے باس "سلمان نے سر ہلایا
"ایسا سبق سکھاؤں گا اسے کہ وہ دوسروں کو سمجھانا بھول جائے گی" اسکا شیطانی دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا.
"اہم کل ہی پتہ لگاتے ہیں کون ہے وہ بد نصیب جسنے تجھ سے پنگا لیا ہے"ندیم نے ہنس کرکہا "آگے آگے دیکھو ہوتا ہےکیا"اسنے سیگریٹ کا کش لے کر منہ سے دھوا اڑایا.تینوں اسے مذید بھرکانے کا کام اچھے سےکر رہے تھے. احمرجمالی انکی باتیں سن کر اور خطرناک ہوتاجارہا تھا.
                                      ••••••••••••••••
وہ لوگ گراؤنڈ میں ایک سائیڈ پر کھڑیں باتوں میں مگن تھیں.جب شازمہ انکے سامنے آ کر کھڑی ہوئی.سر سے پیر تک بدلی ہوئی لگ رہی تھی.انھیں لگا شاید لڑائی کا پروگرام ہوگا محترمہ کا پر وہ خاموش کھڑی بولنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہی تھی.سر اٹھا کر انھیں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں.
"حیات آئیم سوری"اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں وہ سب حیران تھیں.حیات نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما" کیا ہوا شاز مہ تم ایسے...یہ سب"اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شازمہ کے یوں اچانک اتنا بدل جانا پر کیا کہے.
"میں اپنی کہی تلخ باتوں کی معافی مانگنے آئی ہوں تم سب سے اسپیشلی تم سے حیات" اسنے سب کو دیکھا "ایٹس اوکے"حیات نے کہا
"مجھے افسوس ہے خود پر کہ میں نے تم لوگوں کی بات نہ مانی اور احمر جمالی کو صحیح سمجھتی رہی پر اب میری آنکھوں سے پٹی اتر چکی ہے.تم سب کا شکریہ کہ تم لوگوں نے میرے برے رویے کےباوجود میرا بھلا چاہ کر مجھے سمجھایا" اسنے نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے کہا. پھر سب بتاتی چلی گئی. وہ حیران تھی.احمر جمالی کی گری ہوئی حرکت پر شاک تھیں پر انھیں خوشی تھی کہ اللّه نے شازمہ کو ہدایت دی.اسکی عزت اس شیطان  سے محفوظ رہی.
"چلو یار جانے دو گزری باتوں کو"حریم نے ماحول پر چھائی اداسی کو مٹانے کے لئے مسکرا کرکہا پھر شازمہ کوگلے لگایا.دیر تک وہ سب باتیں کرتیں رہیں."تم سب بہت اچھی ہو"شازمہ نے انھیں پیار سے دیکھا.
"وہ تو ہیں یار" حیات نے شوخی سے کہا
"بالکل بالکل" مینا نے تعریف وصول کی تو شازمہ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگی.وہ سب واقعی بے مثال تھیں.کاش اسکے پاس بھی اچھی دوستیں ہوتیں جو ہر قدم پر اسکا ساتھ دیتیں."کاش میری بھی تم سب جیسی پیاری  فرینڈز ہوتیں"اسکے دل کی بات زبان پر آئی
"ارے ہم بھی تمہاری فرینڈز ہی ہیں" حیات نے اسکے بازو کو تھام کر کہا
"بالکل یار" باقی سب نے بھی ہاں میں سرہلایا. وہ ہلکی پھلکی ہو کر مسکرائی.اس دن احمر جمالی کے ہاتھ سے بچ جانے کے بعد وہ بہت مشکل سے گھر پہنچی تھی.اسکا دل ٹوٹ گیا تھا.احمر جمالی سے اسنے محبت کی تھی پر اسنے کیا کیا ؟ اسے بد کردار قرار دیا؟ بھلے ہی اسکی لڑکوں سے دوستی تھی پر وہ بد کردار نہ تھی.اس رات اس پر واضح ہوا کہ کیوں اللّه نے عورت کے لئے کچھ حدود رکھیں ہیں.تا کہ وہ احمر جمالی جیسے برے لوگوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں.شازمہ بھی اپنی حدود بھول چکی تھی.پر اللّه نے اسے ٹھوکر لگا کر گرایا نہیں تھا بلکہ پھر سے کھڑا کر دیا تھا کہ وہ سنبھل جائے اور وہ سنبھل گئی تھی.وہ اس پاک ذات کی شکر گزار تھی جسنے اسے سنبھلنے کا موقع دیا تھا."شازمہ" سبین کے پکارنے پر وہ چونک کر خیالوں سے نکلی.
"کہاں کھوئی ہو" تابی نے ہاتھ لہرایا
"کہیں نہیں... میں کل سے یونیورسٹی چھوڑ کر جارہی ہوں بس آخری بار تم سب سے ملنے آئی تھی" اسکی بات پر سب نے اسے دیکھا
"ارے پر کیوں جارہی ہو"حیات نے پوچھا
"امریکہ جا رہی ہوں ماما ، بابا کے پاس" اسنے ہلکی مسکان کے ساتھ بتایا.وہ یہاں اپنی خالہ کے ساتھ رہتی تھی.ماما،بابا کے بلانے کے  باوجود وہ احمر کی محبت میں امریکہ واپس نہیں گئی.پر اب وہ ہمیشہ کےلئے جارہی تھی.
"اوه اچھا...چلو جہاں بھی رہو خوش رہو" حیات نے دوستانہ لہجے میں کہہ کر اسے گلے لگایا.سب سے مل کر وہ چلی گئی. اگر اسنے ایک شخص کوکھویا تھا تو بدلے میں وہ دوستی جیسا خوبصورت بندھن اپنے ساتھ لے کر جارہی تھی.وہ سب شازمہ کے لئے بہت خوش تھیں.پر وہ نہیں جانتی تھیں کہ دور کھڑا کوئی  حیات کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا.اسکے خطرناک ارادوں سے وہ انجان تھیں.وہ آنکھوں میں وحشی چمک لئے اسے دیکھے جا رہا تھا.
                                   •••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
#قسط_نمبر_بارہ

یونی سے واپس آ کر وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی تھوڑا ناول پڑھا ، حریم سے بات کی پر اسکا دل ہی نہیں لگ رہا تھا.اسے ایمان یاد آرہی تھی.ابھی تو ایمان کو رخصت ہوئے تیسرا دن تھا.حیات اسے شدت سے یاد کر رہی تھی. اسنے کل ایمان سے بات کی تھی.ابھی اسکا دل تھا کہ وہ کال کرے پر ایمان اور مجتبیٰ بھائی کی دعوتیں ہو رہی تھیں.اسلئے وہ انھیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی.وہ تھک کر بیڈ سے اٹھ کردروازےکی طرف آئی.جب وہ کمرے سے باہر نکلی. شیرافگن بھی اپنے کمرے سے نکل رہا تھا.اسنے سرسری سا اسے دیکھا پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھی.ولیمہ میں جب اسنے حیات کو ڈانٹا تھا.تب سے وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی.شیرافگن بھی آفس کے کاموں میں مصروف تھا نوٹ نہ کر سکا.پر اب اسنے حیرت سے حیات کی پشت کو دیکھا کہ اسے کیا ہوا؟
"حیات بات سنو" اُسنے پلٹ کر دیکھا.وہ قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا."ایسے خاموشی سے کیوں جا رہی ہو؟"اسے حیات کا اگنور کرنا ایک آنکھ نہ بھایا. اسے برا لگاکہ حیات نے اس سے بات کیوں نہ کی
"کیا مطلب!!" حیات نے آبرو اٹھا کر کہا
"کچھ نہیں"اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا آگے بڑھنے لگا.حیات کو تیش آیا "آپکو مجھ سےسوری کرناچاہیے"اسنے تیکھےلہجےمیں کہا
"کونسی خوشی میں" وہ جان کے انجان بنا
"آپ کو پتہ تو ہے"وہ ذیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتی تھی.شیرافگن یہ بات اچھے سے جانتا تھا."مجھے کچھ نہیں پتہ" وہ لبوں پرمسکراہٹ دبائے سینے پہ ہاتھ باندھ کربولا
"آپ نے مجھے بری طرح سے ڈانٹا تھا.یہ بات تویاد ہوگی ناں آپکو؟"اسنے ناک چڑھا کر کہا
"کب.."اسنے نفی میں سر ہلایا.وہ تو حیات کا بلڈ پریشر ہائی کر رہا تھا.حیات دانت پیس کر غصے میں وہاں سےجانے لگی.شیرافگن نے جلدی سے اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لےکر اسے روکاپھراسکی سنہری آنکھوں میں دیکھنے لگا."سوری میڈم حیات " مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا گیا.حیات نے پلکیں جھپک کر اسے دیکھا اسکی آنکھیں چمکیں چہرے پر مسکان بکھری ڈمپل واضح ہوا.شیرافگن تو جیسے دیوانہ ہونے لگا."یہ ہوئی نا بات"وہ کھلکھلا کر ہنسی یہی تو وہ کب سے  سننا چاہ رہی تھی.
"چلےآئیں اسی خوشی میں آپکو کافی پلاتی ہوں"وہ خوشی سے کہتی جانے لگی. شیرافگن نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لی. حیات کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکلا.حیات وہاں سے چلی گئی پر وہ وہی بت بنا کھڑا تھا.جیسے اس پرجادو ہوگیا ہو.کچھ دیر بعد ہوش میں آیا تو لمبی سانس کھینچ کر سیڑھیاں اترنے لگا.جب وہ نیچے آیا سب محفل جماۓ بیٹھے تھے.حیات کچھ دیر بعد سب کے لئے کافی لے آئی."کل مجتبیٰ لوگوں کی دعوت کا سوچ رہی ہوں تم دونوں کا کیا کہنا ہے؟" دادو نے دونوں بہوؤں کو دیکھ کر پوچھا
"بہت اچھا خیال ہے امی جان"تائی امی نے کہا
"بالکل کل ڈنر کا انتظام کرتے ہیں.ایمان بھی کچھ دن یہاں رہ لے گی" الماس بیگم نے ساس کو دیکھا.ایمان کے رکنےکی بات پر حیات انکے قریب ہوئی."پھر تو پکا کل ہی دعوت ہوگی دادو" وہ خوشی سے بولی
"اچھا تو میرا بیٹا کیا بناۓ گا پھر؟"بڑے ابو نے شرارت سے پوچھا وہ جانتے تھے.کھانا بنانے کے معاملے میں وہ اناڑی تھی.
"بڑے ابو آپی تو صرف کافی ہی بنا سکتی ہیں" امل نے لقمہ دیا تو سب ہنسے
"تویہ بھی بڑی بات ہے.ہے نا بڑے ابو"حیات نے انسے تصدیق چاہی "بالکل میری بیٹی کمال کی کافی بناتی ہے" انہوں نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا.شیرافگن نے بھی ہاں میں سرہلا کر حامی بھری.حیات تو بیہوش ہوتے ہوتے بچی کہ شیرمار اور اسکی تعریف کرے ناممکن سی بات لگتی ہے.
"بہو نوری کو ساتھ لگا لینا اس لڑکی نے تو کچھ نہیں کرنا" دادو نے اسے دیکھ کر افسوس میں گردن ہلا کر نوری کو بلانے کا کہا جو گھر کے پیچھے بنےسرونٹ کواٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھی.یہاں صفائی وغیرہ کرتی تھی.دادو کے افسوس سے کہنے پر حیات انکے پاس بیٹھی پھر بازو انکے گلے میں ڈالے
"پیاری دادو اگر آپ کہتی ہیں تو میں کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ لونگی پکا"اسنے پیار سے کہا
"یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا" دادو نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا.شیرافگن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا جو اب دادو سے باتیں کرنے میں مصروف تھی.ہر کسی کو وہ اپنی باتوں سے رام کر لیتی تھی.محترمہ کو بولنا تو خوب آتا تھا.وہ اسے دیکھتے ہوئے کافی پی رہا تھا.اسنے سبکو باتوں میں لگایا ہوا تھا سواۓ شیرافگن کے جو اسے دیکھنے میں مصروف تھا.
اگلے دن یونی سے آ کر اسنے تھوڑا آرام کیا عصر کے وقت اٹھ کر وہ جلدی سے تیار ہوئی بلیو خوبصورت سا لباس پہنا ، بالوں کی چوٹی بنائی پھر موبائل لے کر بیٹھی ایمان کو کال کر کے جلدی آنے کا کہا.ایمان نے بھی اوکے کہا اسے بھی سب سے ملنے کی جلدی تھی. موبائل رکھ کر وہ نیچے آئی سب تیاریوں میں لگے تھے.وہ دادو کے پاس صوفے پر بیٹھی
"اتنی جلدی تیار ہو گئیں آپی"امل نےحیرت کہا "ہاں ناں" اسنے مختصر جواب دیا پھر اٹھ کر کچن کی طرف گئی.وہاں تائی امی ، نوری اور اسکی اماں کام میں مصروف تھیں.
"تائی امی مجھےبھی کوئی کام بتائیں"حیات نے انکےقریب آتے ہوئے کہا.اسکی اماں نے پلٹ کر اسےدیکھا "میری بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی بھابی" انہوں نے مسکرا کر سارا بیگم کو دیکھا.حیات نے انھیں دیکھ کر منہ بسورا."ارے الماس تمہیں ہی شکایت تھی ناں کہ حیات کام نہیں کرتی اب کر رہی ہے تو تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو" انہوں نے مسکرا کر الماس بیگم کو اشارہ کیا کہ حیات نے انکی ایسی باتوں پر ابھی باہر بھاگ جانا ہے.                            "ٹھیک کہا بھابی آؤ میری گڑیا سلاد بنا دو تم" انہوں نے محبت سے حیات کو بلایا
"اوکے اماں" وہ شیلف کی طرف آ کر کام کرنے لگی جبکہ دونوں خواتین نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا.انکی لاڈلی شکر ہے کچن کی طرف آئی تھی .مغرب تک ملک فیملی آچکی تھی. ایمان سب سے مل کر بہت خوش ہوئی ایسے جیسے سالوں بعد ملی ہو.
حیات تو اسے لے کر بیٹھ گئی. ان دنوں میں جو بھی ہوا وہ ایمان کو بتانے لگی.شیرافگن اور مجتبیٰ باتوں میں مصروف تھے.امل بھی مریم کے ساتھ گپیں لگا رہی تھی.بڑوں کا الگ گروپ بنا تھا.سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے.پھر سب نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا.کھانے کے بعد بھی محفل جمی رہی.کافی دیر بعد وہ جانے کے لئے اٹھے.باقی سب رخصت ہوئے اور ایمان یہی رہ گئی تھی.جب سب اپنے کمروں میں چلے گئے تو حیات ، ایمان کو لئے اپنے کمرے میں آئی.
"آپی" حیات نے اسے پکارا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی چُھمکے اتار رہی تھی.
"ہوں.."اسنے مصروف انداز میں کہا
"مجتبیٰ بھائی کیسے لگے آپکو"
"تمہیں کیوں بتاؤں" ایمان نے ہنسی دبائی
"آپی..." اسنے ذور دے کر کہا
"جی آپی کی جان"وہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھی
"بتائیں ناں"اسنے منت سے کہا
"بتا دوں ؟"ایمان نے اسے تنگ کیا
"اچھا چھوڑدیں نہ بتائیں"وہ منہ پھلاکر بیٹھی
"بہت اچھے ہیں مجتبیٰ لوونگ ، کیرنگ سے"  ایمان نے دھیمے سے اسکے کان میں کہا
"اہم میں صدقے" حیات نے ہنس کر اسکا گلابی چہرہ دیکھا."میں نے تمہیں بتادیا پرخبردار جو مجھےتنگ کیاتم نے"اسنے انگلی اٹھا کر کہا
"میں نے تو اب مجتبیٰ بھائی کو بتانی ہے یہ بات"وہ دور ہو کر شرارت سے بولی
"حیات!!"ایمان نے آنکھیں نکالیں تو اسنے کان پکڑ لئے.ایمان بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.
"کہاں" حیات نے اسے دیکھا
"بھائی سے گپیں لگانے جارہی ہوں"
"کیوں آپی" وہ ایمان کو جانے نہیں دینا چاہتی تھی."ارے لڑکی بھائی کی یاد آتی رہی مجھے اب اس سے مل لوں ناں"ایمان اسے کہتی کمرے سے جانے لگی.حیات منہ بنا کر بیٹھ گئی.ابھی اسنے آپی سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی تھی اور آپی چلی گئیں شیرمار سے گپیں لگانے.
                                     •••••••••••••••••
ایمان نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفے پر بیٹھا تھا.ہاتھ میں فائل پکڑی تھی.سر اٹھا کر ایمان کو دیکھا تو ہلکے سے مسکرایا"آجاؤ ایمان بیٹھو"اسکے کہنے پر وہ صوفے پر اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
"کیسی ہو تم ؟ خوش تو ہونا؟اسنے فائل بند کر کے ٹیبل پر رکھی اوراسے دیکھ کر پوچھا ابھی دونوں بھائی، بہن کو فرصت سے بات کرنے کا موقع ملا تھا.
"ٹھیک ہوں بھائی اور خوش بھی" اسنے مسکرا کر جواب دیا "بہت اچھے.. ورنہ مجتبیٰ میرے ہاتھوں سے نہیں بچتا "اسنےمذاق سے کہا ایمان ایک دم سے ہنسی تھی.
"بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے"وہ سنجیدہ ہوئی."ہاں بولو ناں"شیرافگن نےاسے دیکھا "مجتبیٰ کے کزن علی ہیں ناں  وہ..."وہ رکی اور  شیرافگن کو دیکھاکہ آگے بات جاری رکھے یا نہیں کہیں وہ غصہ نہ ہوجائے.
"ہاں"شیرافگن کے ماتھے پر شکنیں پڑیں اسنے ایمان کو بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا.
"علی نے اپنی ماماکو مجھ سے بات کرنے بھیجا تھا حیات کے لئے"
"تم نے کیا جواب دیا؟"شیرافگن کاپارہ ہائی ہونےلگا."کچھ نہیں پر بھائی وہ جلد گھر آنا چاہتی ہیں.بات آگے بڑھانے کے لئےاسلئے آپ سے کہنے آئی ہوں کہ آپ دادو اور ماما،بابا سے بات کریں ورنہ کہیں دیر نہ ہو جائے"اسنے بھائی کو دیکھا جسنے کوئی جواب نہ دیا بس سوچوں میں گم تھا.
"ذیادہ سوچیں مت اور جلد بات کر لیں" اسنے محبت سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
"انہوں" وہ سوچوں کے جال سے باہر نکلا
"آپ حیات سے محبت کرتے ہیں ناں؟"ایمان کے  ایک دم سے پوچھ لیا.اسکی بات پر شیرافگن نے حیرت سے بہن کو دیکھا
"سچ کہتے ہیں بہنوں سے بھائیوں کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی پوری جاسوس ہوتی ہو تم بہنیں" اسنے مسکرا کر ہلکے سے اسکے سر پر چپت لگائی تو وہ کھلکھلائی"تو بھائی آپکو کیا لگا تھا آپ خاموشی سے دیوداس بنے رہے گے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلے گا ایسا تو ہونے سے رہا ناں"
"اللّه...میری بہن تو بہت چالاک ہے توبہ" اسنے کانوں کو ہاتھ لگایا.
"آخربہن کس کی ہوں"ایمان نے اسکی طرف اشارہ کیا.شیرافگن ایک دم سے ہنسنا.
"ویسے اب اگر تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری جھلی صاحبہ کو اس شان دار بندے نے پسند کیا ہے تو علی کو اس سےدور رہنے کا سگنل دے دو " شیرافگن کو شادی میں علی کا حیات کو دیکھنا یاد آیا.اسےعلی پر خوب تیش آیا تھا.
"ایٹس ناٹ فئیر بھائی وہ جھلی نہیں بلکہ بہت سمجھدار ، پیاری سی لڑکی ہے.جانتے تو آپ بھی ہیں ناں"اسنے بھائی کو دیکھا جو بے ساختہ مسکراہٹ لبوں پر دبا گیا.
"اور بھائی علی کی ماما کو منع کر بھی دیا تو کل کو کوئی اور رشتہ بھی تو آ سکتا ہے اور اگر دادو نے کسی کو ہاں کر دی تو؟ کیونکہ گھر میں کسی کو نہیں معلوم کہ یہ شاندار شخص ہماری جھلی کو پسند کرتا ہے" سنجیدگی سے کہتے آخر میں اسنے شرارت سے کہا.شیرافگن واقعی سوچنے لگا ایسا ہو بھی سکتا ہے.اسے بات کرنی چاہیے. اس پیاری سی لڑکی کو اپنے نام کر دینا چاہیے تا کہ پھر کوئی اور اسے ان نظروں سے نہ دیکھ سکے. اسنے ایمان کو دیکھا جو اسکے جواب کی منتظر تھی."پھر ٹھیک ہے کل بات کرتا ہوں دادو سے تم بھی ساتھ چلنا پر یہ بات اس محترمہ تک نہ پہنچے"ایمان کو بڑی ہنسی آئی اسکی بات پر اسے آخر حیات کی نظروں میں اپنی ہٹلر والی امیج بھی تو برقرار رکھنی تھی.
"اوکےبھائی ڈن" وہ انگوٹھے اٹھا کر ہنس کر ڈن کہتی اٹھ کھڑی ہوئی. پھر بھائی کو شب بخیر کہتی وہاں سے چلی گئی.
پیچھے شیرافگن سوچ رہا تھا.سب سےکیسے بات کرے گا. یہ مشکل کام تھا.ہمیشہ تو وہ حیات کو ڈانٹتا رہتا تھا.اور اب یوں اچانک.... پر وہ کونسی کم تھی.اسنے خود کو تسلی دی کہ وہ اتنا بھی جلاد نہیں.اسکی بات پر حیات کا کیا ریاکشن ہوگا ؟وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا.وہ تو ویسے ہی اس سے بھاگتی پھرتی تھی رشتے کی بات پر تو اسنے غائب ہی ہو جانا تھا.اسنے لمبی سانس کھینچ کر بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر اٹھ کر بیڈ کی طرف آیا.
"اب بھاگتی ہے یا کچھ بھی یہ بات تو طے ہے وہ صرف میری ہی ہو گی.اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھنا میرے بس کی بات نہیں، بس دیکھ لیں گے کیاکرتیں ہیں محترمہ...پیچھے تو میں نے بھی نہیں ہٹنا اپنابنا کر ہی چھوڑوں گا انشاءاللّه" مدھم لہجے میں مسکرا کر کہا گیا. پھر وہ جلد ہی سونے کے لئے لیٹ گیا.کل اسے میٹنگ جو کرنی تھی بڑوں کے ساتھ اور اسکے لئے اسکا فریش ہونا بہت ضروری تھا. ہے ناں؟ کل وہ سب سے اپنے لئے بہت قیمتی چیز مانگے گا اور اسے پکا یقین تھا.وہ اسے ضرور ملے گی.وہ حیات سے محبت کرنے لگا تھا.اسے تو پا کر ہی رہے گا.وہ اس ضدی دل کی خواہش تھی.شیرافگن اس معاملے میں بہت سیلفِش تھا.اسے جو چاہیےہوتاوہ پاکر ہی رہتا.
                                       ••••••••••••••••
وہ جیسے ہی یونی پہنچی اسے بریکنگ نیوز سنائی گئی.وہ نیوز پر ریایکٹ بھی نہ کر سکی کہ وہ اسے کھینچ کر کلاس کی طرف بڑھ گئیں. کیونکہ وہ کلاس کے لئے لیٹ ہو رہی تھیں.جب وہ کلاس لے کر باہر نکلیں تو اپنی فیورٹ جگہ پر بیٹھیں."مجھے یقین نہیں آ رہا ہمارا کہا سچ ہونے والا ہے"حیات نے خوشی سے انہیں دیکھ کر کہا
"اس بات کو سچ تو اس بھولی نے کیا ہے. پوچھو ذرا کیا جادو کیا ہے اسنے اپنی تائی اور انکے بیٹے پر جو اسکے واپس آتے ہی اسکے پیچھے دوڑے چلے آۓ" تابی اسے تنگ کرنے کے لئے بولنا شروع ہو چکی تھی.باقی سب مسکرا رہیں تھیں .سبین مسکین سی صورت بناۓ بیٹھی تھی.اسے خود خبر نہ تھی کہ اسنے کیا جادو کیا بھلا پر جادو تو ہو چکا تھا.
"اچھا اس کو بولنے تو دو"حریم نے کہا
"چلو بولو سبین"مینا سننے کے لئے آگے ہو کر بیٹھی.سبین نے انھیں دیکھ کر چشمہ ٹھیک کیا "ارے ٹھیک ہے تمہارا لاڈلہ چشمہ اب جلدی سے بات شروع کرو" حیات نے اسے ٹوک کر کہا
"مجھے ذیادہ نہیں پتہ بس بات کی ہے تایا اور تائی نے بابا سے ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا" اسنے سر جھکا کر مدھم لہجے میں بتایا
"اف اللّه یہ مدھم لہجہ قربان جاؤں" مینا نے اسے گلے لگایا اسکا سویا ہواپیار جاگ اٹھا تھا.
"رشتہ بھی جلد پکا ہو جائے گا بچہ"حیات نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح کہا
"بھولے بھائی کا نام کیا ہے؟"تابی نے پوچھا
"بدتمیز ادب سے نام لو ہمارے فیوچر جیجو ہوتے ہیں"مینا نے اسکے کندھے پر چپت لگائی.
"تم لوگ میرے کندھے کو ایک بار میں ہی توڑ دو بار بار کیوں زحمت کرتی ہو"اسنے منہ بنا کر غصےسےکہا کیونکہ اسے ہمیشہ کندھے پر ہی پڑتیں تھیں."آؤ میری پیاری دوست میں توڑتی ہوں تمہارا کندھا "حیات ہاتھ اٹھا کر اسکے قریب ہوئی .وہ ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹی.اسکے ڈرنے پر سب نے قہقہہ لگایا.
"اب چپ!! نام تو بتانے دو سبین کو"حریم نے سبکو خاموش کرایا."بولوچشمش"حیات نےکہا " عبدالله نام ہے"وہ کہتے ہوئے شرما سی گئی"بہت پیارا نام ہے" حریم نے مسکرا کر کہا
"شرمانا تو دیکھو" مینا نے شرارت سے سبکو کو متوجہ کیا.پھر معصوم سبین تھی اور اسے تنگ کرنے والی اسکی شیطان دوستیں.
واپسی کے وقت حیات بیگ ٹھیک کرتی پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی تھی.سامنے والا جیسے خود اسکے سامنے آیا تھا.نظر اٹھا کر دیکھا تو اسکے پیشانی پہ بل پڑے.سامنے والا اسے گھورنے میں لگا تھا.ساتھ ایک دوست بھی تھا جو دانت نکال رہا تھا.وہ سائیڈ سے ہو کر جانے لگی کہ اسنے آگے ہو کر اسکا راستہ روکا.
"حیات!!!"چبا کر کہا گیا
"کیا مسئلہ ہے آپکو مسٹر"وہ غصے سے بولی
"احمر...احمر جمالی کہتے ہیں مجھے"اسکے چہرے پر نظریں جما کر بولا
"راستے سے ہٹیں"حیات کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا.
"ابھی کے لئے ہٹ جاتے ہے پر..."وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسکا جائزہ لینے لگا.جب وہ سائیڈ پر ہوا تو حیات جلدی سے آگے بڑھی.
"شی از بیوٹیفل" اسے جاتے دیکھ کر احمر جمالی بڑبڑایا.اسکے ساتھ کھڑا سلمان ذور سے ہنسا."کہا تھا ناں پوری بلا ہے.اب کیا کرنا ہے اسکا"اسکی بات پر احمر جمالی کمینگی سے ہنسا."آہ..اب تو یہ دل بے چین ہوگیا ہے.لڑکی قیامت ہے تیرے بھائی کا دل لے گئی.شازمہ کے بدلے اس پرنسیس کا سودا برا نہیں ہے"وہ دور ہوتی حیات کو دیکھ کرسینے پہ ہاتھ پھیر کر بولا.سلمان نے ایک لڑکی سے حیات کا پتہ لگایا تھا.احمر جمالی کل سے اسے دیکھ رہا تھا پر آج دونوں کا ٹکراؤ ہو گیا تھا.اسے قریب سے دیکھنے پر اسکے اندر کا شیطان باہر آنے کے لئے بے تاب ہونے لگا.
حیات چلتی  ہوئی غصے سے بڑبڑا رہی تھی. "اسٹوپڈ ، بدتمیز میرا نام کیسے پتہ چلا اس کمینے انسان کو" اسکے منہ سے اپنا نام اسے ذرا اچھا نہ لگا.شازمہ کی باتوں کے بعد تو اسے احمرجمالی سے گھن ہونے لگی تھی.
"ٹھیک کہتے ہیں افگن بھائی میں اندھی ہوں. میں دیکھ کر چلتی تو اس بدتمیز سے نہ ٹکراتی"اسے خود پر غصہ آنے لگا اور شیرافگن کی بات اب اسکی سمجھ میں آئی تھی.جلدی سے وہ کار میں بیٹھی تو بابا نے کار آگے بڑھا دی اور وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی.
                                    ••••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
#قسط_نمبر_تیرہ


حیات یونی سے واپس آ کر سو گئی تھی. پھر اٹھ کر بکس کھول کر بیٹھی کچھ دیر پڑھائی کی پھر مغرب کی نماز پڑھ کر کمرے سے باہر نکلی.ایمان کی کمرے کی طرف آئی جو اب امل کا تھا.دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ہمیشہ کی طرح امل بیٹھی پڑھ رہی تھی.
"امل آپی کہاں ہیں؟"اسنے وہیں کھڑے ہو کر پوچھا.امل نے کتابوں سے سر اٹھا کر بہن کو دیکھا." پتہ نہیں نیچے ہی ہونگی "جواب دے کر وہ سر جھکاکر پڑھنے لگی.حیات وہاں سے نیچے آئی.چاروں طرف خاموشی چھائی تھی. وہ کچن کی طرف آئی.جہاں نوری ڈنر کی تیاری کر رہی تھی.
"نوری ایمان آپی کہاں ہیں؟"اسنے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے پوچھا
"وہ اور شیرافگن صاحب  بڑی بیگم کے کمرے میں ہیں"نوری نے جواب دیا
"اچھا" حیات پانی پی کر باہر نکلی.وہ ہال میں صوفے پر بیٹھی پھر سامنے دیکھا جہاں کانچ کی کھڑکیوں سے پردے پیچھےہٹے تھے.وہ باہر دیکھنے لگی.جہاں سے لان نظر آرہا تھا.باہر ہوا چل رہی تھی.جسکی وجہ سے لان میں لگے رنگ برنگے پھول جیسے رقص کر رہے تھے. حیات اس منظر کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی.ناجانے کتنا وقت گزرا وہ وہاں بیٹھی رہی.پھر اچانک ایمان اسکے ساتھ آ کر بیٹھی
"کیا دیکھ رہی ہو؟"ایمان نےاسےدیکھ کر پوچھا
"قدرتی خوبصورتی"اسنےمسکراکر جواب دیا پھر بولی"ویسے دادو کے کمرے میں کیامیٹنگ چل رہی تھی؟"اسنے مشکوک انداز میں سوال کیا."اف کیا اب میں دادو کے پاس بیٹھ بھی نہیں سکتی"ایمان نےمسکراہٹ چھپاکرآنکھیں نکال کر کہا."پر آپ کے بھائی صاحب بھی دادو کے روم میں تھے ناں اوردیکھیں ذرا آپ کب سےمسکرا بھی رہی ہیں"حیات نےمشکوک نظروں سے اسے دیکھا.جسکے چہرے سے مسکان جدا ہی نہیں ہورہی تھی."اف میری جاسوس گڑیا تم آئی ایس آئی کیوں نہیں جوائن کر لیتی"ایمان نے اسکی ناک دبا کر کہا. حیات ایک دم سے ہنسی."آپ مانتیں ہیں کہ ایسی کوئی بات ضرور ہے. جسکی جاسوسی کی جائے؟" اسنے آبرو اٹھا کر کہا ایمان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے. "ایسی کوئی بات نہیں بس کل مجتبیٰ مجھے لینے آینگے اس لئے خوش ہوں" ایمان نے بات پلٹی ورنہ وہ جانتی تھی اگر حیات کو خبر ہو گئی کہ دادو کے کمرے میں کیا میٹنگ چل رہی تھی.تو اچھا نہیں ہوگا."اوہ تبھی میں سوچوں آپ خوش کیوں ہیں ویسے آپ مجتبیٰ بھائی کو مس کر رہی ہیں؟" حیات نے شرارت سے پوچھا.ایمان نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ شیرافگن نے اسے پکارا "ایمان یہاں آنا ذرا دادو نے بلایا ہے" ایک نظر حیات کو دیکھ کر اسنے ایمان سے کہا.وہ اٹھ کر چلی گئی.حیات نے مشکوک نظروں سے شیرافگن کو دیکھاجو جانے کے لئے پلٹ رہا تھا. شیرافگن نے ایک دم رک کر اسے دیکھا"کیوں گھور رہی ہو؟"اسکے پوچھنے پر حیات نے گھورتی نظروں کو نارمل کیا
"میں نے کب گھورا آپکو"وہ انجان بنی
"اچھا جاؤ کچھ کام کرو یہاں کیوں بیٹھی ہو" شیرافگن چاہتا تھا وہ ابھی یہاں سے چلی جائے کیونکہ دادو نے سب بڑوں کو اپنے کمرے میں بات کرنے کے لئے بلایا تھا.اسکے کہنے پر حیات اٹھ کھڑی ہوئی ."اب کیا میں اپنی مرضی سےکہیں بیٹھ بھی نہیں سکتی "وہ بڑبڑا کر وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی. ویسے تووہ کبھی نہ اٹھتی پر وہ اکیلی بیٹھ کر بور ہوچکی تھی.اسلئے سوچا جاکے کچھ پڑھ لے.شیرافگن اسکی بڑبڑاہٹ اگنور کرتا دادو کے کمرے کی طرف بڑھا.ایمان نے دادو سے بات کی تھی. دادو نے شیرافگن سے تصدیق چاہی اسنے ہاں میں جواب دیا.دادو بے حد خوش ہوئیں.یہ تو انکی دلی مراد پوری ہو رہی تھی. دادو اتنی خوش تھی کہ انہوں نے ایمان سے کہا کہ سب بڑوں کو ابھی انکے کمرے میں میٹنگ کے لئے بلا یا جائے.وہ اور دیر نہیں کرنا چاہتیں تھیں.اتنی مشکل سے تو شیرافگن شادی کے لئے مانا تھا.دادو اور سارا بیگم اور شمس صاحب عمرہ پر جانے کا سوچ رہے تھے. اسلئے دادو چاہتی تھی کہ جانے سے پہلے وہ اس کام کو انجام دیں.سب دادو کے کمرے میں جمع ہوئے.دادو نے سب سے بات کی.کسی کو کیا اعتراض ہوتا یہ معاملہ انکے گھر کا تھا. دادو نے بھی فیصلہ کر لیا تھا. دونوں کا نام ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا.شادی کا فلحال انکا کوئی پلان نہیں تھا. سب بہت خوش تھے. ایمان مسکرا کر بھائی قریب ہوئی "مبارک ہو بھائی" اسنے دھیمے سے کہا تو شیرافگن کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی.
                                         ••••••••••••••••
ان سب کی کلاس چل رہی تھی.پروفیسر حسن لیکچر دے رہے تھے.انکا لیکچر اتنا بور ہوتا کہ آدھی کلاس سوئی ہوتی. پرچونکہ سر سخت مزاج تھے.اسلئے انھیں سنتے رہنا سب کی مجبوری تھی.حیات بڑی توجہ سے انھیں سن رہی تھی. اسکے ساتھ بیٹھی مینا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر ریجسٹر پر کچھ لکھ کر اسکی طرف کھسکایا.حیات نے ریجسٹر پر نظریں دوڑائیں"واہ بہت مزے سے سن رہی ہو.کیا بور نہیں ہو رہی؟"حیات نے پنسل اٹھا کر کچھ لکھا پھر ریجسٹر اسکی طرف کیا
"اب سننا تو ہے اور کیاکروں...تم بھی دھیان لیکچر پر لگاؤ نکمی ورنہ سر نے ابھی ڈانٹ دینا ہے"مینا نےکچھ لکھ کرحیات کواشارہ کیا
"نہیں لگتا دھیان یار...تمہیں پتہ آج حریم کے سسرال والوں نے گھر میں سبکو ڈنر پر انوائٹ کیا ہے."حیات نے پڑھ کر اسےدیکھا پھرکچھ لکھنےلگی.
"واہ کہیں شادی کا پلان تو نہیں انکا؟"
"یہ تو نہیں پتہ ...حریم اور سبین کو دیکھو ذرا"حیات نے پڑھ کر انھیں دیکھا وہ دونوں بھی ریجسٹر چِیٹ کر رہیں تھیں.حیات کو ہنسی آئی.تابی جو مینا کے ساتھ بیٹھی تھی. اسنے مینا کو کہنی ماری.پھر اسکے ہاتھ سے پنسل لے کر لکھنے لگی"بدتمیزوں خود سب باتیں کر رہی ہو اور مجھے ایک طرف چھوڑا ہوا ہے.میں کیا تم چڑیلوں کی سوتیلی دوست ہوں؟ "تابی نے ساتھ رونے والا فیس بنایا. حیات نے پنسل اٹھائی"سوتیلی دوست ہاہاہا" اسکے بعد مینا جلدی سے لکھنے لگی.
"اف میری پیاری تابی...ہاں تم سوتیلی ہی ہو" اسنے آخر میں ہنسی والا فیس بنایا.حیات نے پڑھا تواسکی ہنسی نکل گئی.حریم اور سبین نے بھی انھیں دیکھا جبکہ تابی نےان سبکو گھورا."بیسٹیز آپ سبکا دھیان کہاں ہے؟"سر حسن کی آواز کلاس روم میں گونجی.انھوں نےانکے گروپ کا یہی نام رکھاہوا تھا.وہ سب  سیدھی ہو بیٹھیں.پوری کلاس انکی طرف متوجہ تھی.حیات نے حریم کو کہنی ماری کہ جواب دو."دھیان یہیں ہے سر"حریم ہربڑا کر بولی.سرانھیں گھورتے"ہوں"کہتےدوبارہ لیکچر دینے لگے.ان سبکی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں.
چھٹی کےوقت کافی دیر ہوچکی تھی.کریم بابا حیات کو لینے نہیں پہنچے تھے.وہ یونی سے باہر کھڑی انکا انتظار کر رہی تھی.اسنے بیگ کھولا تاکہ گھر فون کر لے.اسنے موبائل ہاتھ میں پکڑا ہی تھا.جب ایک کار اسکے سامنے رکی.حیات نے گھور کرکار سے نکلتے احمر جمالی کو دیکھا
" ہیلو ڈارلنگ یہاں کیوں کھڑی ہو؟"اسنے فرینک انداز میں پوچھا.جیسے دونوں کی بڑی جان پہچان ہو.حیات نے کوئی جواب نہ دیا اور پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی.وہ مذید اسکے قریب ہوا."آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں" اسنے مسکرا کر آنکھوں سے گلاسز اتارے.
"دیکھیں مسٹر اپنے کام سے کام رکھیں"اسنے انگلی اٹھاکر غصہ سے کہا.وہ قہقہہ لگاکر ہنسا "اب تو تمہارا کام ہی میرا کام ہے بے بی"اسنے آنکھ دبائی.حیات نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں.وہ اس گندے انسان کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی."کم آن ڈارلنگ" اسنے حیات کو چھونا چاہا."ہاتھ مت لگانا مجھے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے"حیات پھٹ پڑی.بھلا وہ اسے کیا اپنے جیسا تھرڈ کلاس سمجھ رہا تھا.اسے غصے میں دیکھ کراحمر جمالی کو کمینی سی خوشی ملی تھی."حیات" تابی اسےپکارتی ہوئی اسکی طرف بڑھ رہی تھی.اسے آتے دیکھ کر احمر جمالی نے گلاسز آنکھوں پر لگاۓ"پھر ملیں گے سوئیٹ ہارٹ"مسکرا کر کہتا وہ کار کی طرف بڑھ گیا."کیاہوا.. یہ کیا کہہ رہا تھا تمہیں؟"  تابی نے فکر مندی سے پوچھا.وہ بھائی کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی.بھائی کی کال آگئی تو وہ باہر نکل کر بات کرنے لگے. تابی ارد گرد دیکھ رہی تھی جب اچانک اسکی نظر سائیڈ پر کھڑی حیات اور احمر جمالی پر پڑی.تابی کو گڑ بڑ محسوس ہوئی. وہ جلدی سے نکل کر حیات کی طرف آئی.
"پتہ نہیں یار کیوں پیچھے پڑ گیا ہے منحوس انسان اب آۓ سامنے وہ حال کرونگی کہ یاد رکھے گا"حیات نے غصے سے لال ہو کر کہا
"بس اپنا خیال رکھنا اور دفعہ کرو اس گندے انسان کو" تابی نے اسکا ہاتھ تھاما.تابی کو اسکے بھائی نے بلایاتووہ چلی گئی.تبھی حیات کی کار بھی آگئی.اسنے اللّه کا شکر ادا کیا پھر کار میں بیٹھ گئی.سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا کر اسنے سوچا کہ اب اگر احمرجمالی اسکے سامنے آیا تو وہ اسے اچھا سبق سیکھاۓ گی.
                                        •••••••••••••••••• 
 اگلے دن حیات یونی نہیں گئی .ایمان رات کو جانے والی تھی.اسلئے وہ ایمان کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی تھی.ناشتہ دونوں نے لیٹ کیا پھر ہال میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں."آپی آپ تھوڑے دن اور رہ لیتی ناں"حیات اسکے جانے کا سن اداس تھی.
"ابھی شام تک تو تمہارے ساتھ ہوں نا گڑیا" ایمان نے اسے دیکھ کر محبت سے کہا
"ایمان، شیرافگن نے ناشتہ کیا؟"الماس بیگم اندر داخل ہوتے ہوئے بولیں
"نہیں چھوٹی امی جب میں گئی تھی. بھائی سو رہے تھے"ایمان نے انھیں دیکھ کرجواب دیا
"اٹھ کر کچھ کھا لیتا بچہ پھراسے ٹیبلٹ دینی تھی میں ذرا کچھ لے جاؤں اسکےلئے"وہ فکر مندی سے بولیں پھر وہاں سے کچن کی طرف چلی گئیں.شیرافگن کی طبیعت نہ ساز تھی. جسکی وجہ سے وہ آفس بھی نہیں گیا تھا.
"کیا ہوا افگن بھائی کو؟"حیات نے ایمان سے  پوچھا. اسے کسی بات کی خبر ہی نہ تھی.
"بھائی کو بخار اور سر درد ہے.رات کو بھی انکے سر میں شدید درد تھا."ایمان نے پریشانی سے بتایا.حیات کو خود پر حیرت ہوئی کہ وہ شیرافگن سے اتنی انجان رہی.ایمان کا فون بجا مجتبیٰ کی کال تھی.وہ حیات کو بتا کر اپر چلی گئی.حیات بھی اٹھ کر کچن کی طرف آئی.الماس بیگم ٹرے میں ناشتہ رکھ رہیں تھیں ساتھ نوری انکی مدد کر رہی تھی.
"اماں یہ افگن بھائی کے لئے ہے؟"اسنے ٹرے کی طرف اشارہ کیا
"ہاں بیٹا"انہوں نے چاۓ کا کپ ٹرے میں رکھا
"میں لے جاؤں؟"اسنے اماں سے پوچھا.اسے شیرافگن کا حال پوچھنا تھا.شیرافگن جتنا بھی اسے ڈانٹتا پر جب بھی حیات بیمار ہوتی وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا.اسی طرح جب شیرافگن بیمار ہوتا.حیات کو بھی اسکی بہت فکر ہوتی تھی.
"ہاں بیٹا لے جاؤ" انہوں نے اسے ٹرے پکڑائی
"اور یہ ٹیبلٹ ضرور دینا ناشتے کے بعد اوکے" انہوں نے ٹیبلٹ ٹرے میں رکھی.حیات سر ہلا کر شیرافگن کےکمرے کی طرف آئی.دروازہ ہلکا سا کھلا تھا.ہاتھ میں ٹرے تھی وہ نوک نہ کر سکی تو بول پڑی"افگن بھائی میں اندر آجاؤں"وہ پہلے والی غلطی دوبارہ نہیں کرنا چاہتی تھی.اسلئے اجازت ملنے کا انتظار کرنے لگی."آجاؤ حیات"شیرافگن کی بھاری آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی.وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی.شیرافگن بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا."آپ کے لئے ناشتہ لائی ہوں" اسنے ٹرے ٹیبل پر رکھی پھر اسے دیکھا
"طبیعت کیسی ہے آپکی؟"
"ٹھیک ہوں"بھاری آواز میں کہتا وہ بیڈ سے اٹھا کرصوفے تک آیا. وہ صوفےپربیٹھا توحیات نےٹرے سے چیزیں نکال کے اسکے سامنے رکھیں اورخود جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی.
"تم بھی آؤ"شیرافگن نے ناشتہ شروع کرنے سے پہلے اسے کہا."میں کر چکی ہوں افگن بھائی ، بس آپ ناشتہ کریں پھر ٹیبلٹ دینی ہے آپکو" اسکی بات سن کر وہ ناشتہ کرنے لگا.جبکہ حیات اسکے کمرے کا جائزہ لیتی رہی.جو کہ بہت خوبصورت اورصاف ستھرا تھا.شیرافگن کی ہر چیز اپنی جگہ پر آرینج رکھی تھی.
"لاؤ دو ٹیبلٹ"شیرافگن کی آواز پر وہ چونکی پھر جلدی سے اٹھ کر اسے ٹیبلٹ اور پانی دیا.
وہ ٹیبلٹ لے چکا تو حیات نے چیزیں ٹرے میں رکھیں پھر اسے ریسٹ کرنے کا کہتی کمرے سے نکل گئی.
ایمان شام کو ہی تیار ہوکربیٹھ گئی کہ مجتبیٰ نے اسے لینے آنا ہے.پھر رات کو مجتبیٰ عباسی ہاؤس آیا.علی بھی اسکے ساتھ تھا.یہاں آتے ہوئے راستے میں اسے علی مل گیا.اسکی کار خراب تھی. اسلئے وہ مجتبیٰ کے ساتھ ہی چلا آیا.علی اسلئے بھی آیا تھا کہ وہ حیات کو دیکھ لے گا.وہ لوگ ہال میں بیٹھے تھے.شیرافگن کی طبیعت اب کچھ بہتر تھی.وہ بھی انکے ساتھ بیٹھا تھا.حیات اور ایمان بھی وہیں تھیں.دادو مجتبیٰ سے اسکےگھر میں سبکا پوچھ رہیں تھیں.دوسری طرف علی کی نظریں حیات پر تھیں اور شیرافگن کی گھورتی نظریں علی پر.
ایمان کے ساتھ مل کے حیات نے سبکو کافی دی.کچھ دیر بعد مجتبیٰ اٹھ کھڑا ہوا پر دادو نے انھیں ڈنر کئے بغیرجانے نہ دیا.وہ لوگ پورچ میں کھڑے تھے.جب علی، حیات کے قریب آیا."آج آپ سے بات ہی نہ ہو سکی ویسے کبھی آپ بھی ہمارے گھر آئیں"اسنے محبت سے کہا."شکرکہ بات نہیں ہوئی" وہ بڑبڑائی."جی کیا کہا آپ نے" علی اسکے مذید قریب ہوا.وہ حیات کی بات نہ سن پایا تھا.
"میں نے کہا... ضرور آئیں گے کسی دن"وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ چبا کر کہتی دو قدم پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی."تم کیا میرے مامے کے بیٹے لگتے ہو جومیں تمہارے گھر جاؤں" اسنےمنہ بناکردل میں سوچا. مجتبیٰ سے بات کرتے شیرافگن سے مذید برداشت نہ ہوا.اسنے ایک قہر برساتی نگاہ علی پر ڈالی پھر ایمان کو اشارہ کیا.وہ حیات کی طرف بڑھی.
"علی بھائی آپکو مجتبیٰ بلا رہے ہیں"اسنے جلدی سے علی کو وہاں سے ہٹایا.
"بہت چِپکو ہے آپکایہ سسرالی"حیات نے منہ بنا کر کہا."اچھا جانے دو.."ایمان نے کہا. "آجاؤ ایمان"مجتبیٰ نے اسے پکارا
"بھائی کا خیال رکھنا اوکے.پھر ملیں گے"وہ حیات کے گلے لگی."اوکے آپی"حیات نے کہا پھر ایمان ،بھائی سے مل کر کار میں بیٹھ گئی.وہ لوگ چلے گئے.حیات اور شیرافگن بھی اندر کی طرف بڑھے.سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے. حیات نے سائیڈ ٹیبل پر رکھااپنا موبائل اٹھایا. اسے اب جاکر ناول پڑھنا تھا.وہ جانے کے لئے پلٹی جب شیرافگن ایک دم سے اسکے سامنے آیا."علی سےدور ہی رہا کرو اوکے"اسنے حیات کے چہرے پر نظریں جماکر کہا اس سے پہلے کہ حیات کچھ کہتی وہ پلٹ کر وہاں سے چلا گیا.حیات حیران تھی کہ شیرافگن کو کیا ہوا؟ خیر علی کا یوں فرینک ہونا اسے بھی ذرا پسند نہ تھا.اسنے سوچا شیرافگن نے ٹھیک ہی کہا ہے.ان سوچوں سے سر جھٹک کر وہ سیڑھیاں طے کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ بڑھ گئی.
                                          ••••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش


گھر کے بڑوں کی میٹنگ چل رہی تھی.اور جب بھی ایسی میٹنگ ہوتی اسکے بعد کوئی بڑا فیصلہ ضرور سامنے آتا.حیات کو تو چین نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ کسی طرح اس بات کا پتہ لگا لے کہ میٹنگ کیوں ہو رہی ہے.اسکے اندر کا جاسوس باہر آنے کے لئے بے تاب تھا.پر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ پھر اسے شیرافگن سے کون بچاتا.ایمان بھی تو اب یہاں نہیں تھی. وہ اداس سی بیڈ پر بیٹھی تھی.اسنے ساتھ بیٹھی امل کو دیکھا.وہ ہمیشہ کی طرح کتاب میں سر دیے بیٹھی تھی."تم کیا چڑیل ہو؟جو ہر وقت کتابوں میں گھسی رہتی ہو." امل کوکب سے کتاب میں سر دیے بیٹھے دیکھ کر وہ جھنجھلا رہی تھی.
"ڈائن کی بہن چڑیل ہی ہوگی ناں"امل نے سر ہلا کر بڑی سنجیدگی سے کہا.
"ہائےکیا میں ڈائن ہوں؟"حیات نے حیرت اور غصے سے اسے گھورا تو وہ معصومیت سے مسکرائی.حیات منہ پھلا کر بیٹھ گئی.
"اچھاسوری..آپ تو میری پیاری آپی ہیں"امل نے اپنے کان پکڑ کراسے محبت سے دیکھ کرکہا
"بہت بولنا آگیا ہے تمہیں"حیات نے شرارت سے اسکے سر پر ہلکی سی  چپت لگائی.امل کھلکھلا کر ہنسی.پھر اٹھ کھڑی ہوئی.
"اب کہاں؟"حیات نےآبرو اٹھاکر اسے دیکھا
"سوری آپی پر میرا ٹیسٹ ہے.مجھے پڑھنا ہے"
"خداکی پناہ...سارا سال کیا ٹیسٹ ہی ہوتے ہیں تمہارے"اسنے منہ بنا کرکہا
"ایف ایس سی کرنا آسان نہیں ہے ناں آپی" امل نے چشمہ اتار کر صاف کرتے ہوئے کہا
"اچھا یار جاؤ جی لو اپنی زندگی"حیات نے ڈائیلاگ بولا .امل سر ہلا کر ہنستی ہوئی کمرے سے نکل گئی.حیات موبائل ہاتھ میں لے کر ناول پڑھنے لگی.اسکا موبائل لائبریری سے کم نہ تھا.جس میں ڈھیروں ناولز تھے.نہ جانے کتناوقت گزرا وہ ناول پڑھنے میں مگن رہی. پھر کمرے سے باہر نکلی کہ نیچے جا کر دیکھے ذرا کیا ہو رہا ہے.وہ کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ اسکا موبائل بجا اسنے کال پک کی دوسری طرف حریم تھی.وہ حریم سے باتیں کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی.سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی وہ دائیں طرف مڑی اسکی شیر افگن سے ذور دار ٹکرہوئی اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر ٹھا سے گرا.حیات جو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی.اسے مِنی سا ہارٹ اٹیک ہوا.اسنے سر اٹھا کر شیرافگن کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح اسے گھور رہا تھا.یہ تو شیرافگن کا فیورٹ کام تھا گھور کر اگلے کی جان نکانا.اسنے شیرافگن سے نظریں ہٹاکر امید بھری نظروں سے اپنے پیارے موبائل کو دیکھا جو فرش پر الٹا پڑا تھا.جب اسنے موبائل اٹھایا تو اسکی ساری امیدیں ٹوٹ گئی.ساتھ ہی اسکا دل بھی موبائل کی اسکرین چکنا چور ہوچکی تھی.
"میرا موبائل"اسنے صدمے سے موبائل کو دیکھتے ہوئےکہا.اسکا پیاراموبائل ٹوٹ چکاتھا.
"ویری گڈ... موبائل کا کام تو تمام ہوا.اب تم ٹکرانے سے باز رہو گی اور اس موبائل کی وجہ سے جو تم الٹی حرکتیں کرتی رہی ہو انسے بھی محفوظ رہوگی اور....."وہ سخت لہجے میں اور بھی بولناچاہ رہا تھا کہ حیات نے سنہری آنسوؤں بھری آنکھیں اٹھا کراسے دیکھا. ٹپ سے بائیں آنکھ سے ایک آنسونکل کرگال پر بہنے لگا.شیرافگن تھم سا گیا.اسکا دل رک سا گیا.اس لڑکی کو روتادیکھ کر اسکادل بے چین  ہوا.یہ تو طے تھاشیرافگن اسےروتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا.وہ حیات کو دیکھےگیا.
"آپ بہت خوش ہیں ناں؟ پر مجھے اپنا موبائل بہت پیارا تھا اورجب آپکی پیاری چیزکو کچھ ہوجائے تو بہت دکھ ہوتا ہے.آپ مجھے پاگل سمجھیں گے پر بہت سی چیزوں کے ساتھ انسان کےایموشنزجڑے ہوتے ہیں.پر آپ اس بات کو کبھی نہیں سمجھیں گے."وہ روتی ہوئی واپس اپر چلی گئی.شیرافگن وہیں کھڑا رہ گیا.وہ پاگل لڑکی موبائل کے لئے رو رہی تھی.سننے والا اسے پاگل ہی کہے گا پر بات اسنے بالکل ٹھیک کی تھی.دکھ تو شیرافگن کو  بھی ہورہا تھا کیونکہ کچھ دیر پہلے اسکی پیاری کو بھی تو دکھ پہنچا تھا.اسنے لمبی سانس بھرکے بالوں میں ہاتھ پھیرا.اسنے غلط وقت پرحیات کو ڈانٹ دیاتھا جبکہ اسے معلوم بھی تھاکہ حیات اپنے موبائل کےمعاملے میں بہت حساس تھی.پر وہ کیا کرتا جب اسے غصہ آتا تو وہ کنٹرول نہیں کر پاتا تھا.کچھ سوچتا ہوا وہ سیڑھیاں طے کرنے لگا.
                                     •••••••••••••••••
 وہ یونی پہنچی تو بہت اداس سی تھی.وہ سب گراؤنڈ میں بیٹھیں تھیں.حیات دھیرے سے سلام کرتی انکے ساتھ بیٹھ گئی.ان سب نے اسے دیکھا کہ اس آج اس محترمہ کی بیٹری کیوں لو ہے؟
"کیا ہوا ہماری پیاری کو؟"تابی نے اسکے قریب ہو کر پوچھا پر حیات نے کوئی جواب نہ دیا.
"کل بات کرتے ہوئے فون کیوں بند کر دیا تھا کال کر کر کے پر موبائل بند جا رہا تھا" حریم نے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
"ٹوٹ گیا میرا موبائل "اسنے نم آواز میں کہا
"ہاۓ کیسے ٹوٹ گیا ؟"مینانےحیرت سےپوچھا
"افگن بھائی سے ٹکر ہوئی، موبائل گر کر ٹوٹ گیا" اسنے سرجھکا کر دکھ سے بتایا. ان سبکو افسوس ہوا.حیات کو وہ موبائل اسکے بابا نے اسکی برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا اور حیات کو وہ موبائل بہت پسند تھا.
"اس میں اتنے سارے ناولز بھی تھے"اسے اب ناولز کا دکھ ستانے لگا.اسکی بات پر انھیں ہنسی آئی پر وہ اپنی دوست کے دکھ پر بھلا   ہنس سکتی تھیں؟ بالکل نہیں.
"کوئی بات نہیں..تم  ناولز دوبارہ ڈاؤنلوڈ کر لینا حیات"تابی نے حریم کو دیکھ کر ہنسی دبا کر بڑی سنجیدگی سے کہا.انکی یہ پیاری دوست ایسی ہی تھی.کسی بات کو سر پر سوار کر لیتی تو اسے بہلانا مشکل ہو جاتا.
"اب یہی کروں گی"اسنے ٹھنڈی آہ بھری
"اللّه میری پیاری دوست بس بھول جاؤ اور دکھی نہ ہو"مینا نے اسے گلے لگایا.
"چلو یار ٹوٹنا تھا ٹوٹ گیا اب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو روتی ہوئی حیات ذرا اچھی نہیں لگتی" سبین نے اسکی ناک ہلکے سے دبا کر کہا. وہ دھیمے سے مسکرائی. باقی سب نے بھی اسے بہلایا. تب کہیں جا کر اسکا موڈ ٹھیک ہوا اور اسنے اپنے موبائل کا خود سے بچھڑ جانا قبول کیا.چھٹی ہوئی تو وہ سب یونی سے باہر نکلیں.احمر جمالی اوراسکا گروپ سائیڈ پر کھڑے تھے.احمر جمالی کی نظریں حیات پر تھیں.آج اسے حیات سے ملنے کا موقع نہیں ملا تھا.اسلئے وہ گھور کر اسکا جائزہ لےرہا تھا.
حیات اپنے دھیان میں سب سے باتیں کرتی جارہی تھی.احمرجمالی اسکی طرف بڑھنےلگا. پر حیات کو گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر بڑبڑا کر رک گیااور دور ہوتی کار کو دیکھنے لگا.
وہ گھر پہنچی دادو کو سلام کیا جو ہال میں بیٹھیں تھیں.شیرافگن بھی انکے ساتھ تھا. حیات نے دھیرے سے اسے بھی سلام کیا پھر خاموشی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی. کمرے میں داخل ہوکر اسنے بیگ اور فائل اسٹڈی ٹیبل پر رکھیں پھر دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھااور واش روم کی طرف بڑھی.واش روم سے فریش ہوکر نکلی تو بیڈ کی طرف آئی. جب اسکی نظر بیڈ پر رکھے پیپر اور اسکے اپر رکھے خوبصورت سے میڈئم سائز باکس پر پڑی.اسنے بیڈ پر بیٹھ کر باکس کو ہاتھ میں لے کر گود میں رکھا.اسنے باکس کھولا اسکے اندر نیو خوبصورت سا موبائل اور ایک کوور تھا. اسنے جلدی سے پیپر اٹھاکر اس پر نظریں دوڑائیں."یہ موبائل تمہارے لئے، یہ تمہیں  پہلے موبائل جتنا پیارا تو نہیں ہوگا پر تم اسے رکھ لو."بس اتنا لکھا تھا.اسے امید تھی کہ سوری تو ضرور لکھا ہوگا.پر نہ جی سوری کہتے ہوئے جیسے اسکی شان میں کمی ہو جائے گی.حیات نے منہ بنا کر پیپر سائیڈ پر رکھا پھر موبائل دیکھا.پھر کوور دیکھنے لگی. بےبی پنک پیارا سا کوور جسکے پیچھے کراؤن پہنے چھوٹی کیوٹ سی پرنسیس گلیٹرز سے بنی تھی."پسند تو کافی اچھی ہے شیرمار کی" وہ کوور کو دیکھ کر بڑبڑائی.پر وہ یہ موبائل لینے والی نہ تھی.اسنے موبائل اور کوور ڈبے میں ڈالے ،دوپٹہ اوڑھا اور باکس اٹھا کر کمرے سے نکلی. نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ کھڑکی کے پاس کھڑا آسمان کو دیکھ رہا تھا.جہاں کالےبادل چھائے چکے تھے. دروازے کی آواز پراسنےپلٹ کر دیکھا. حیات ہاتھ میں باکس  پکڑے کھڑی تھی.وہ خاموشی سےچلتا ہوا حیات کے سامنے کھڑا ہوا.حیات نے نظراٹھا کراسے دیکھا سفید شلوار قمیض میں مظبوط شانوں پر چادر ڈالی تھی.اسنے پھولے منہ کے ساتھ شیرافگن پر سےنظریں ہٹا کر باکس بیڈ پر رکھا.شیرافگن نے آبرو اٹھاکراسے دیکھا. "مجھے یہ نہیں چاہیے"حیات نے اسے دیکھ کر کہا وہ دو قدم مذید اسکے قریب ہوا "کیوں نہیں چاہیے؟" اسکی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا گیا.ایک پل کے لئے دونوں کی نظریں ملیں.حیات نے عجیب احساس کے ساتھ جلدی سے آنکھیں جھپک کر ایک دم سے نظریں پھیر لیں."بہت شکریہ آپکا پر مجھے نہیں چاہیے"وہ منہ بنا کرجانے لگی.شیرافگن نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑا.
"شکریہ کو اپنے پاس رکھو اور اس باکس کو اٹھا کر لے جاؤ"اسکا ہاتھ ہنوز شیرافگن کی گرفت میں تھا."نہیں"وہ منہ پھیر کر ضدی لہجے میں بولی.شیرافگن جانتا تھاکہ وہ محترمہ کیا سننا چاہتی ہے.اسنے حیات کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ہلکے جھٹکے سے اسےاپنے قریب کیا.حیات نے چونک کر اسے دیکھا. اسکے سامنے کھڑا یہ شخص کچھ بدل سا گیا تھا.پر اس بدلاؤ کے پیچھے کیا وجہ تھی.وہ اس سے انجان تھی."سوری محترمہ" اسنے حیات کے خوبصورت چہرے پر نظریں جما کرمدھم لہجے میں کہا."جی!!!" حیات کو لگا اسنے غلط سنا ہے.
"سوری"اسنے تھوڑا قریب ہو کر کہا.حیات نے  جھجھک کر اپنا ہاتھ چھوڑیا پھر تھوڑی پیچھے ہوکر کھڑی ہوئی.شیرافگن نے اسکی جھجھک محسوس کی تو خود بھی فاصلے پرہوکر کھڑا ہوا."باکس لے جاؤ حیات" اسنے نرمی سے کہا پھر وہاں سے چلتا ہوا واپس کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوا.حیات نے باکس اٹھا کر الجھی نظروں سے اسکی پشت کو دیکھا.وہ شخص واقعی بدل رہا تھا.حیات کو کچھ نا معلوم سا احساس کھٹک رہا تھا.جو اس کمرے کی فضا میں پھیلا تھا.اسکادل تیزی سےدھڑکنے لگا.وہ باکس اٹھاکر جلدی سے باہر نکلی .شیرافگن نے پلٹ کر دیکھا وہ جا چکی تھی.اسکے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی.
                                            ••••••••••••••••
وہ سب کلاس لے کر نکلیں اور کینٹین کی طرف آئیں.ٹیبل کے گرد بیٹھ کر سب نے کھانے کے لئےچیزیں مانگوائیں.سب پیٹ پوجا کرنے لگیں.حیات نے بیگ سے موبائل نکال کر ٹیبل پر سب کے سامنے رکھا.
"کیسا ہے؟" اسنےآبرواٹھاکر سب سے پوچھا. سب کی نظریں موبائل کی طرف اٹھیں.
"واؤ بہت کول ہے اسپیشلی یہ کوور"مینا نے موبائل ہاتھ میں لے کر تعریف کی.
"کیوٹ پرنسیس"حریم نے کوور کے پیچھے بنی پرنسیس کو ٹچ کر کے کہا
"کون لے کر آیاہے؟"سبین نے سوال کیا
"شیرافگن صاحب کے علاوہ اور کون  لاۓ گا" مینا نے شوخی سے کہا.
"ہاۓ سچ میں؟؟"حریم نے خوشی سے پوچھا
"ہوں...افگن بھائی ہی لاۓ ہیں"حیات مزے سے برگر کھاتی ہوئی لاپرواہی سے بولی
"ہاؤ کیوٹ"تابی نے آنکھیں جھپک کر کہا
"پہلے تو افگن صاحب حیات کے ہاتھ میں موبائل دیکھناپسند نہیں کرتے تھے اور اب خود ہی لے دیا واہ جی واہ"مینا شوخی سے بولی سب نے ایک دوسرے کو اشارے کئے پر حیات نے دھیان نہ دیا."میرا موبائل انکی وجہ سے ٹوٹاتھا اسلئے لاۓہیں سمجھی"حیات نے منہ بنا کرکہا."پھر بھی یارلاۓ تو ہیں.ورنہ انھیں کیا ضرورت تھی." تابی نے کہاپر حیات برگرکھانے میں مصروف رہی."سچ میں حیات کے شیرافگن صاحب تو بدل رہے ہیں" سبین نے شوخی سے کہا اسکی بات پر حیات کے گلے میں برگر پھنسااسے کھانسی ہونے لگی."ارے لو پانی پیوؤ"حریم نے جلدی سے بوتل اسے دی. حیات نے پانی پیا.اسکی آنکھوں میں پانی آنے لگا.رات سے وہ خود شیرافگن کے بدلے رویہ کے بارے میں سوچ سوچ کر تھک گئی تھی کہ اچانک محترم اتنے اچھے کیوں ہو گئےیا صرف اسے ہی محسوس ہورہا تھا پر یہاں تو سب نوٹ کر رہیں تھیں.
"ٹھیک ہو اب؟"مینا نے فکر مندی سے پوچھا
"ہاں بالکل ٹھیک"اسنے مسکرا کر جواب دیا
کچھ دیر بعد وہ لوگ اٹھ کھڑیں ہوئیں.
"یہ لو یار اس موبائل کواچھے سے سنبھال کر رکھو"حریم نے مسکرا کر اسے موبائل پکڑایا تو اسنے بیگ میں ڈالا. وہ لوگ باتیں کرتیں ہوئیں کینٹین سے نکل کرگراؤنڈ میں آئیں. اچانک انہیں احمرجمالی اور اسکے دوست نظر آئے جو انکی طرف ہی آرہے تھے.
"یہ منحوس ہماری طرف کیوں آرہے ہیں"مینا نے سرگوشی کی."اگنور کرو...گزر جائیں گے" حریم نے کہا.حیات خاموشی سے سر جھکاۓ چل رہی تھی.جب اچانک احمرجمالی اس کے سامنے کھڑا ہوا."ہیلو ڈارلنگ" احمرجمالی نے حیات کو دیکھ کرلگاؤ سے کہا.پیچھے کھڑے اسکے دوستوں دانت نکالے لگے.جبکہ حیات اور تابی کے علاوہ وہ تینوں حیران تھیں.
"حیات آؤ چلیں یہاں سے"تابی نے آگے بڑھ کر سرگوشی کی، حیات سرجھٹک کر جانے کے لئے  پلٹی.احمر جمالی دم دو قدم آگے آیا.
"بات کرو مجھ سے جا کہا رہی ہو"اسنے بد تمیزی سے اونچی آواز میں کہا.حیات نے اسے گھورا."دفع کرو اسےاور چلو" تابی نے پھر کہا
"ایک منٹ تابی ذرا پوچھ لینے دو کہ آخر اسے تکلیف کیا ہے"حیات نے لب بھینچے.پیچھے کھڑیں وہ تینوں ہنوز حیران تھیں.حیات احمر جمالی کی طرف بڑھی.اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ کمینگی سے ہنسا.
"بتاؤ کیا تکلیف ہے تمہیں کیوں پیچھا کر رہے ہو میرا؟"اسنے ٹھنڈے لہجے میں اسے دیکھ کر پوچھا."دل آگیا ہے تم پر اب جہاں تم وہاں میں" اسنے دل پر ہاتھ رکھ کر لوفرانہ انداز میں کہا.اسکے دوستوں نے قہقہہ لگایا.
"بکواس بند کرو احمر جمالی" وہ دانت پیس کر بولی تو وہ قہقہہ لگا کر ہنسا.
"اف یہ ادا ،یہ غصہ، یہ سنہری آنکھوں کی مستیاں، یہ گلابی لبوں سے میرا نام آہ دل کرتا ہے..." وہ گندی نظروں سے اسے دیکھ کر بول رہا تھا.پیچھے کھڑے اسکے دوست حیات کو دیکھ کر سرگوشیاں کر کے ہنس رہے تھے.
"گھٹیا، کمینے انسان ، تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے؟ان لڑکیوں جیسی نہیں ہوں میں جنکے ساتھ تم گھومتے پھرتے ہو.میں اتنی مضبوط ضرور ہوں کہ تمہاری ان حرکتوں پر تمہارا منہ توڑ کر رکھ دوں سمجھے."حیات نے انگلی اٹھا کر کہا. اس تماشے پر آس پاس بہت سے اسٹوڈنٹس جمع ہو چکے تھے.احمر جمالی نے آنکھوں میں شیطانی چمک لئے اسے دیکھا.
حیات جو پلٹ کر جا رہی تھی.اسکی طرف بڑھا اور اگلے ہی پل حیات کا دوپٹہ کھینچ کر ہوا میں اچھالا. آس پاس سب سرگوشیاں کرنے لگے.حیات بت سی بن گئی.وہ اتنے لوگوں کے بیچ بنا دوپٹے کے سن سی کھڑی رہ گئی.حریم ، تابی ، مینا، سبین آنکھیں پھاڑے سب دیکھ رہی تھیں. کسے کوسمجھ نہ آئی کہ یہ کیا ہوا؟ لمحوں میں سب ہوا تھا.حریم ایک دم چونک کر ہوش میں آئی اور حیات کی طرف بڑھی جلدی سےدوپٹہ اٹھا کر اسکے گرد لپٹا.حیات کی آنکھ سے ایک آنسو موتی کی صورت ٹوٹ کر گال پر بہنے لگا.حریم کی آنکھیں بھی نم ہوئیں. اسنے خاموشی سے حیات کو گلے سےلگایا.کچھ لڑکے احمر جمالی کی طرف بڑھے."یہ تم نے اچھا نہیں کیا"ایک لڑکے نے غصے سے کہا."بکواس بند کر مجھ سے پنگا مت لے سمجھے"احمر جمالی دھاڑا.کچھ لڑکے ڈر کر پیچھے ہٹ گئے."تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم ایک شریف گھر کی لڑکی کے ساتھ ایسا کرو" دوسرے لڑکے نے انگلی اٹھا کر کہا."کیوں بے تیری بہن لگتی ہے وہ"احمر جمالی نے اسے دھکا دیا."اس لڑکی اور میرے معاملے میں مت بولو ورنہ اچھے سے جانتے ہو مجھے ایک ایک کو دیکھ لونگا"ان نے آس پاس کھڑے سبکووارن کیا."واہ یار کیا بہادری والا کام کیا ہے"سلمان نےمسکرا کراسکا شانہ تھپکا.
"میرے بارے  میں بکواس کر رہی تھی سالی اب پتہ چلے گا.احمر جمالی سے پنگا لینے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے.یہ تو بس شروعات ہے.آگے آگے دیکھو میں اسکے ساتھ کیاکرتاہوں"اسنے آنکھ دبا کر اونچی آواز میں کہاتاکہ آس پاس سب کو سنائی دے.حیات کو وہ سب گھیرکر کھڑیں تھیں.احمرجمالی کی بات پر وہ غم و غصے سے اسکی طرف پلٹنے لگی.حریم نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا."چھوڑو حریم اس کمینے کو بھی پتہ چلے کسی لڑکی کی عزت اس جیسے اوباش کے ہاتھوں کا کھلونا نہیں اور نہ ہی ہم لڑکیاں کمزور ہیں.مجھے اسکی گندی حرکت کا جواب دینے دو تاکہ آئندہ وہ پھر کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے سو بار سوچے"اسنے جلتی آنکھیں چھپک کر کہا.اسکی آنکھیں نم اور گلابی ہو رہی تھیں.حریم نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا.حیات پلٹ کر احمرجمالی کی طرف بڑھنےلگی.سب نے حیرت سے اسے دیکھا.وہ احمرجمالی کے سامنے کھڑی ہوئی.آس پاس سب لوگ  انکی طرف متوجہ تھے.
"کیا ہوا ڈارلنگ...مزہ آیا؟" اسنے مسکرا کر طنزیہ لہجے میں پوچھا.حیات نے آگ برساتیں نگاہوں سے اسے دیکھا.پھر نیچے جھکی.سب کے ساتھ احمر جمالی نے بھی حیرت سے اسے دیکھا.حیات نے پاؤں سے جوتی اتا کر ہاتھ میں پکڑی پھر سیدھی کھڑی ہوئی اور پھر اگلے ہی لمحے اسنے جوتی والا ہاتھ ہوا میں بلند کیااور پوری طاقت لگا کر احمر جمالی کے گال پر کھینچ کے ماری کہ اسکا چہرہ ایک طرف گھوم کر رہ گیا.کتنے لمحوں تک کسی کو سمجھ ہی نہ آئی کہ ہوا کیا.پھر ایک دم سے وہاں بھنبھناہٹ شروع ہوگئی.احمر جمالی حیرت سے نکلا، اسکے گال پر جیسے چونٹیاں رینگ رہیں تھیں.غصے کے مارے اسکا چہرہ لال ہو چکا تھا.اسنے خون برساتیں نظروں سے حیات کو دیکھا."اب تم بتاؤ مزہ آیا؟"اسنے جوتی اسکے سامنے لہرا کر طنزیہ ہنسی کے ساتھ پوچھا.اسکی بات پر وہاں کھڑے اسٹوڈنٹس ہنسنے لگے.احمرجمالی کے تن من میں آگ لگ گئی.حیات نے جوتی پہنی پھر اسے دیکھا "لڑکیوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی بھی نہ کرنا.مجھے تو بالکل نہیں ،منہ توڑ جواب دینا آتا ہے مجھے، آئندہ اگر تم میرے سامنے بھی آۓ ناں تو تمہارا منہ توڑ کر ہاتھ پر رکھ دونگی.تم گھٹیا انسان آئندہ اپنی اوقات میں رہنا.ورنہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوگا اس بات کو ذہن نشین کر لو" انگلی اٹھا کر کہتی وہ پلٹ کر چلی گئی. سب اس لڑکی کی ہمت کو داد دے رہے تھے اور احمر جمالی پر ہنس رہے تھے.اسے اچھا سبق ملا تھا.وہ دور ہوتی حیات کو لال آنکھوں سے گھورے جا رہا تھا.اسکے دوست اسکے قریب ہوئے."چھی بہت برا ہوا"وقاص نے افسوس سے کہا."ہاں یار سب کیسے ہنس رہے ہیں"ندیم نے ارد گرد دیکھا."افسوس چھوٹی سی لڑکی تجھے جوتی سے مار کر چلی گئی"سلمان نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا." بکواس بندکرو تم لوگ"وہ سلمان کا ہاتھ جھٹک کر غرایا.پھر وہاں سے نکلتاچلا گیا.
حیات ان سب کے پاس آئی.سب نے اسے گلے لگایا.حیات اسے اچھے سےسنا آئی تھی پر اب اسے رونا آرہا تھا.اسکی انکھیں نم ہوئیں. "شش یار تم تو بہادر لڑکی ہو"سبین نے اسکی پیٹھ سہلائی."میری جان اب بالکل نہیں رونا" مینا نےپیار سےاسکے آنسو صاف کئے."میں نے غلط تو نہیں کیا ناں؟"اسنے نم آواز میں پوچھا."بالکل ٹھیک کیا اگر آج اسے سبق نہ ملتا تو وہ آگے بھی یہی کرتا"تابی نے غصے سے کہا."چلو تم اب رونا مت...دیکھنا اب وہ اپنی بد نما صورت نہیں دیکھاۓ گا"حریم نے کہہ کر اسکا ہاتھ پکڑا"ایک بات کہوں؟"
"ہاں کہو ناں"اسنے آنسو صاف کئے.
"تم افگن بھائی کو احمر جمالی کا بتادو.اللّه نہ کرے اگر اسنےدوبارہ ایسی حرکت کی تو؟"
"میں نہیں پتہ سکتی حریم،میں نے بتانے کا سوچا تھا.پر افگن بھائی کے غصے سے واقف ہو ناں.وہ اس کمینے کو جان سے مار دینگے اور انکے ہاتھ سے کچھ غلط ہو ایسا میں بالکل نہیں چاہتی" اسنے دھیمے سے کہا
"یہ بات بھی ٹھیک ہے"حریم نے سمجھ کر سر ہلایا.
                                           ••••••••••••••
#یہ_لڑکی_ہائے_اللہ
#پری_وش
#قسط_نمبر_پندرہ

اگلے دن وہ سخت سر درد کی وجہ سے یونی نہ جا سکی.وہ احمرجمالی کی حرکت کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی.پر یہ بات اسکے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی.چھوٹی بات تھی بھی نہیں کہ وہ بھول جاتی.وہ سارا دن اپنے کمرے میں ہی رہی.رات کوشیرافگن نوک کر کےاسکے کمرے میں آیا.وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی."چھوٹی امی نے بتایا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں؟"اسنےفکر مندی سےپوچھا  "آپ بیٹھیں ناں"اسکے کہنے پرشیرافگن صوفے پر بیٹھا پھر حیات کو دیکھا جو کہہ رہی تھی. "اب میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا سر درد تھا" اسنے دھیمے سے کہا.شیرافگن نے اسے غور سے دیکھا اسکی سنہری آنکھیں گلابی ہو رہیں تھیں.اس گلابی پن نے اسکی آنکھوں کو مذید حسن بخشہ تھا.پر شیرافگن کو اسکی فکر تھی کہ کیا وہ روتی رہی تھی؟جسکی وجہ سے اسکی آنکھیں گلابی ہو رہیں تھیں.وہ حیات کو دیکھتاہوا اٹھ کھڑا ہوا.
"کیاتم روئی ہو؟"اسنے سنجیدگی سے پوچھا حیات نے ہربڑا کر اسے دیکھا
"نہیں تو" اسنے جلدی سے آنکھیں جھکا لیں
"میری طرف دیکھ کر بات کرو حیات"اسنے سنجیدگی سے کہا.حیات کے کچھ کہنے سے پہلے ہی امل نے حیات کو پکارا کہ اسے ماما نے بلایا ہے.حیات نے اللّه کا شکر ادا کیا.
"آپ بیٹھیں میں بس ابھی آئی آپ کے لئے چاۓ بھی لاتی ہوں"وہ جلدی سے وہاں سے بھاگی .
شیرافگن بیٹھ گیا.اچانک حیات کا موبائل بجنے لگا.ایک ، دو ، تین بار بار کالز آرہیں تھیں.
شیرافگن مذید اگنور نہ کر سکا اسنے موبائل اٹھایا.اسکرین پر تابی کا نام چمک رہا تھا.اسنے دروازے میں آکر حیات کو پکارا کہ اسکی کال ہے."افگن بھائی آپ چیک کر لیں میں ابھی آئی"حیات نے آواز لگائی.شیرافگن نے سر جھٹکا.اسکا کال پک کرنے کا ارادہ نہیں تھا. بھلا وہ حیات کی دوست سے کیا کہے گا اور یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ حیات کی جگہ وہ کال پک کرتا.وہ موبائل ٹیبل پر رکھنے لگا جب میسج ٹیون بجی.اسنے نا چاھتے ہوئے بھی میسج اوپن کیا کہ ہوسکتا ہے کوئی ضروری بات ہو. وہ پڑھنے لگا."یونی کیوں نہیں آئی اور صبح سے موبائل کیوں بند تھا.کیا تم اُس بات سے پریشان ہو؟ اس منحوس احمر جمالی نے یونی چھوڑ دی ہے.تم کل والے واقعے کو بھول جاؤ میری جان"لمبا سا میسج تھا.پر اسکے آگے شیرافگن نہ پڑھ سکا.احمر جمالی... یہ کون تھا؟ حیات کیوں پریشان تھی اور کل کیا ہوا تھا؟ اسکا دماغ پھٹنے لگا.وہ اِدھر سے اُدھر چکر لگانے لگا.سوچ سوچ کے وہ پاگل ہونے کو تھا.اس احمر جمالی نے کیا کہا تھا حیات کو کہ وہ رونے پر مجبور ہوگئی.وہ تو شوخ سی لڑکی تھی. اسےتو بس ہنسی ، مذاق کرنا آتا تھا.پھریوں رونا؟ ضرور کوئی بڑی بات ہوگی.ورنہ حیات اتنی کمروز لڑکی نہ تھی.وہ سوچوں میں گم تھا.جب حیات ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی.شیرافگن کو چکر لگاتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی.ٹرے ٹیبل پر رکھ کے وہ سیدھی ہوئی.شیرافگن اسکے سامنے کھڑا ہوا."احمرجمالی کون ہے؟ کل کیا ہوا تھا ؟ اسنے تمہیں کچھ کہاہے؟بولو حیات" اسنے بے چینی سے سوال کئے.چہرے پر سنجیدہ تاثر تھا.حیات ایک دم ڈر سی گئی.شیرافگن کو کیسے پتہ چلا؟
"ایساکچھ نہیں افگن بھائی آپ سے کسنے کہا" وہ با مشکل بول پائی.
"تمہاری دوست کا میسج پڑھا ہے میں نے... حیات اب مجھے جلدی بتاؤ، مذید میرا صبر مت آزماؤ" اسنےسختی سے حیات کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.حیات کی آنکھیں نم ہوئیں. پھرکل جو کچھ ہوا اسنے شیرافگن کو سب بتا دیا.وہ وقت یاد کر کے حیات کا دل کانپنے لگا. اسے نہیں معلوم تھا تب اللّه نے اسے کیا طاقت دی تھی کہ اسنےاس شیطان کو منہ توڑ جواب دیاتھا.پر اب سوچ کر ہی اسے ڈر لگ رہا تھا. اسکی بات سن کے شیرافگن کا دماغ ابلنے لگا. اسنے حیات کو دیکھا وہ رو رہی تھی.اسنے آگے بڑھ کر آہستہ سے حیات کا سر اپنے شانے سے لگایا.وہ بھی خاموشی سے آنسو بہاکر دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی."شش حیات... بس چپ" اسنے ہلکے سے حیات کا سر تھپکا.شیرافگن کا شانہ اسکے آنسوؤں سے بھیگنے لگا.شیرافگن کا دل جلنے لگا.جب اسکی وجہ سے اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آتے تھے. تو وہ خود کو بھی معاف نہیں کر پاتا تھا.پھر وہ یہ کیسے برداشت کرلیتا کہ کسی کی کمینی حرکت کی وجہ سے وہ پھولوں جیسی لڑکی رو رہی تھی. حیات اس سے الگ ہوئی.شیرافگن نے نرمی سے اسکے آنسو صاف کئے."اب رونابالکل نہیں ہے حیات اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو.اس احمر جمالی کا وہ حال کرونگا کہ یاد رکھے گا" شیرافگن کے اندر شدید غصہ نے سر اٹھایا. اسنے دانت پیس کر کہا.جیسے دانتوں کے نیچے احمرجمالی کو چبایا ہو."پلیز آپ ایسا کچھ مت کریے گا. گھر میں سبکو پتہ چل جاۓ گا اور اگر آپکو کوئی نقصان پہنچ گیا تو"حیات نے ڈر کر کہا
"گھر میں کسی کو پتہ نہیں چلے گا.یہ معاملہ میں ہینڈل کر لونگا اوکے"
"آپکاغصہ بہت تیز ہے.آپ نے اسے مار دیا تو؟ پھر آپکا کیا ہوگا؟"اسے اب شیرافگن کی فکر ستانے لگی.اسکی بات پر شیرافگن کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی."وہ تو جب سامنے آیگا تب دیکھیں گے اور رہی بات غصے کی تو اب تم پر کم کرنے کی کوشش کروں گا"اسنے مسکرا کرکہا.حیات کا اسکی فکر کرنا اسے اچھا لگا تھا."مطلب کبھی نہیں ڈانٹیں گے؟" اسنے معصومیت سے پوچھا.شیرافگن سے بات شئیر کر کے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی."کبھی کبھی پر ذیادہ نہیں"شیرافگن نےمسکراہٹ دباکر کہا."چلیں اوکے"حیات مان گئی.اسکے لئے اتنا ہی بہت تھا.
"اب تم آرام کرو اور رونا نہیں"اسنے نرمی سے کہا.حیات نے مسکرا کر اسے دیکھا.اسنے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شیرافگن اسکے ساتھ کبھی ایسے بھی بات کرے گا.اتنے پیار ،اتنی نرمی سے.وہ نہیں جانتی تھی کہ محبت انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے. شیرافگن بھی بدل رہا تھا.شیرافگن اسے آرام کرنے کا کہتا کمرے سے نکلا چہرے سے نرم تاثر پل میں غائب ہوا اور سنجیدگی چھا گئی. اسنے جیب سے موبائل نکالا پھر کوئی نمبر ملا کر بات کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا.
                                        ••••••••••••••••••
شیرافگن نے ولید کو کال کر کے احمر جمالی کے بارے میں بتایا.احمرجمالی کسی پہنچے ہوئےوڈیرے کا بیٹا تھا.اسے گرفتار کرنا اتنا آسان نہ تھا.پر شیرافگن کی ایک ہی بات تھی یا ولید اسے کسی طرح جیل میں ڈالے گا یا وہ اس معاملے کو اپنے مطابق ہینڈل کرے گا.ولید نے اسے یقین دلایاکہ وہ جلد احمرجمالی کو گرفتار کریگا.شیر افگن خود کچھ نہ کرے. شیرافگن کو تو ایک پل چین نہیں مل رہا تھا. وہ حیات کے ساتھ کچھ برا ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا اور احمر جمالی نے جو اسکے ساتھ کیاتھا.شیرافگن اسے معاف کرنے والا نہ تھا. اسنے اگلے دن دادو سے اپنے اور حیات کے نکاح کی بات کی وہ بھی جلد سے جلد....دادو نے اسے کہا کہ اتنی جلدی ممکن نہیں.انہوں نے عمرے پر جانا تھااور وہاں سے واپسی پر انکی شادی کا سوچیں گیں.پر وہ ضدی بچہ بنا تھا. اسنے نے دادو سے کہہ دیا."ابھی یا پھر کبھی نہیں" اسنے شادی کا نہیں کہا تھا.فلحال بس نکاح تا کہ حیات ہمیشہ کےلئے اسکی بن جائے.
اسکی باتوں پر آخر کار دادو مان گئیں.وہ مطمئن ہو کر کمرے سے نکلا.دادو نے الماس بیگم سے کہا کہ وہ حیات سے بات کریں. جسکانکاح ہونے والا تھا.وہ اس بات سے انجان تھی.حیات اپنے کمرے میں تھی.آج بھی وہ یونی نہ جا سکی تھی.الماس بیگم اسکے کمرے میں آئیں."آئیں اماں"وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.اماں کا ہاتھ پکڑ کر انھیں بیڈ پر بٹھایا. پھر خود بھی بیٹھ گئی."بیٹا ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے"انہوں نے تمہید باندھی.
"جی اماں بولیں ناں"حیات نے مسکرا کر ماں کو دیکھا.الماس بیگم نے بات شروع کی
"ہم سب نے تمہارے لئے فیصلہ لیا ہے.تمہیں پتہ ہے اس گھر کے سب فیصلے تمہاری دادو لیتی ہیں.یہ فیصلہ بھی انکا ہے اور ہم سبکی رضا مندی اس میں شامل ہے." انہوں نے ایک نظر بیٹی کو دیکھا وہ غور سے انکی بات سن رہی تھی."پرکون سا فیصلہ اماں؟"اسنے الجھ کر پوچھا."تمہارےاور شیرافگن کےنکاح کا" انہوں نے دھماکہ کیا.حیات کی آنکھیں پھٹ گئیں.یہ اماں نے کیا کہا تھا.کیا اسنے غلط سنا تھا؟نہیں اسنے صحیح سنا تھا.اسنے ماں کو دیکھا جو کہہ رہی تھیں."تمہاری دادو عمرہ پر جانے سے پہلے تم دونوں کا نکاح کروا دینا چاہتیں ہیں.تم سوچ لو پر انکار کی گنجائش ہے ہی نہیں کیونکہ بڑوں نے فیصلہ کر لیا ہے اوکے"الماس بیگم نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا.پھر کمرے سے نکل گئیں.حیات بت بنی بیٹھی تھی.ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟اسکا اور شیرافگن کا نکاح؟نہیں ایسا نہ ممکن ہے.شیر افگن مان کیسے گیا؟ وہ ایک دم بیڈ سے اٹھی
کھڑی ہوئی."مجھے افگن بھائی سے بات کرنی چاہیے ضرور دادو نے انکے ساتھ بھی زبردستی کی ہوگی"وہ بڑبڑا کر کمرے سے نکلی.نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اسٹڈی ٹیبل کے پاس کھڑا کوئی فائل چیک کر رہا تھا.
"کیسے آنا ہوا حیات؟"اسنے پلٹ کر حیات کودیکھا."دادو نے آپ سے کوئی بات کی؟"وہ جاننا چاہ رہی تھی کہ شیرافگن کو معلوم ہے کہ نہیں جبکہ شیرافگن سمجھ چکا تھا.
"تم بولو کیا بات ہے" اسنے فائل رکھ کر کہا
"دادو چاہتی ہیں کہ ہمارا نکاح ہو جائے"
"اچھا ہمارا؟مطلب تمہارا اور میرا؟" شیرافگن نے انگلی سے اسکی اور اپنی طرف اشارہ کر کے جان بوجھ کر پوچھا."جی.."حیات نے اثبات میں سر ہلایا."ہاں مجھے معلوم ہے."شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.
"اچھا پھر آپ جلدی سے دادو کے پاس جاکر انکارکردیں.میں پہلے ہی سمجھ گئی تھی.آپ کے ساتھ بھی زبردستی ہوئی ہے."حیات نے سمجھداری سےسر ہلاکرکہا
"ماشاء اللّه بہت سمجھدار ہو تم پر تمہیں کس نے کہا کہ مجھے رشتے سے انکار ہے؟یا میرے ساتھ زبردستی ہوئی؟"اسنے چمکتیں آنکھوں کے ساتھ سنجیدگی سےپوچھا
"کسی نے نہیں پر...."وہ ہونق بنی کھڑی تھی.
" سن لو پھر...مجھے انکار نہیں" شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
"پر میں جانتی ہو آپ کو دادو نے فورس کیا ہے."وہ جھنجھلا رہی تھی.
"اچھا اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو ایسا ہی سہی" وہ تنگ آکر بولا پھر حیات کو دیکھا "کیا تمہیں انکار ہے؟"اسنے دو ٹوک لہجے میں پوچھا
"میرے انکار کوکوئی اہمیت دی جائےگی؟" حیات نے غصے سے پوچھا."بالکل نہیں"شیر افگن نے سنجیدگی سےجواب دیا.حیات اقرار کرتی یا انکار وہ اسی کی تھی .یہ بات طے تھی."آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ مجھے پسند نہیں کرتے مجھے پتہ ہے.پھر کیوں؟" حیات نے اسے گھور کر غصے سے پوچھا.
"وہ ابھی نہیں بعد میں بتاؤنگا پرنسیس" اسنے شوخی سے حیات کو تنگ کرنے کے لئے کہا.وہ کیا بتاتا کہ اسکے ضدی دل کو اب صرف وہی چاہیے تھی.اسکی بات پر حیات کو ہارٹ اٹیک ہونے لگا.
"پر..پرنسیس؟" اسکے حلق میں الفاظ پھنسے تھے.کیا یہ کوئی خواب ہے؟ یہ کھڑوس اور اس انداز میں بات کرے.
"یس پرنسیس" اسنے مسکراہٹ دبا کر کہا.وہ حیات کی حالت سمجھ رہا تھا.پر اسے تنگ کرنا شیر افگن کو اچھا لگ رہا تھا.
"مجھےپتہ ہے آپ مجھ سے بدلہ لینا چاھتے ہیں جتنا میں نے آپکو تنگ کیا اس سبکا.پر کم میں بھی نہیں یہ بات یاد رکھیے گا"اسنے انگلی اٹھا کر تیش سے کہا.شیرافگن ایک دم ذورسےہنسا
"ویل میں اچھے سے جانتا ہوں یہ بات" اسنے حیات کی انگلی نیچے کی.کل ہی دونوں کی دوستی ہوئی تھی.پر آج پھر بحث ہورہی تھی. انکی دوستی ہونی اتنی آسان نہ تھی.حیات نے تپ کر اسے دیکھا."آپ یہ اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ"وہ نم آواز میں بولی.شیرافگن نے اسے دیکھا اس سے پہلےکہ وہ کچھ کہتا.وہ کمرے سے نکل گئی."آئیم سوری پرنسیس پر اب کچھ وقت کے لئے تمہارے آنسو برداشت کرنے ہونگے.کیا کروں اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں.جو تمہیں اپنا بناناچاہتا ہے."اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا.پھر موبائل نکال کر ولید کو کال ملائی."ہیلوولی..کیا بنا..کچھ ملا اسکے خلاف" شیرافگن نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
"ہاں معلومات ملی ہے.بہت سےریپ کیسز میں احمر جمالی کا نام سامنے آیا ہے.پر ہمیشہ وہ باپ کی وجہ سے بچ نکلتا ہے."ولید نے تفصیل بتائی."اب کی بار نہیں بچےگا.تم ثبوت حاصل کر کے جلد سے جلد اسے پکڑو" شیرافگن نے دو ٹوک لہجے میں کہا.وہ ولید سے ساری بات پہلے ہی کرچکا تھا."اوکے یار..پر تم خود کو ٹھنڈا کرو میں سب  ہینڈل کر رہا ہوں"
"ٹھیک ہے" شیرافگن نے تھوڑی دیر اور اس سے بات کی پھر فون بند کر دیا.جس وقت تک وہ احمر جمالی کے آمنے سامنے نہیں آ جاتا تب تک اسے چین کہاں ملنا تھا.
                                             ••••••••••••••••
وہ یونی آئی سب اسکے انتظار میں تھیں. حیات انکے قریب آئی."اسلام و علیکم"اسنے سبکو سلام کیا."وعلیکم السلام"ان سب نے ایک آواز میں جواب دیا."دو دن سے کیوں نہیں آرہی تھی  تم؟"مینا نے پوچھا."طبیعت نا ساز تھی یار"حیات نے جواب دیا.
"اب ٹھیک ہو؟" سبین نے پوچھا
"بالکل ٹھیک"وہ دھیمے سے ہنسی.وہ سب چلتی ہوئیں اپنی فیورٹ جگہ پر بیٹھ گئیں.
"اس بات کو اپنے اپر حاوی نہ کرو حیات بھول جاؤ"حریم نے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا.
"کوشش کر رہی ہوں یار"حیات نے سر ہلایا.  "احمر جمالی بھی اس دن کے بعد دیکھنے میں نہیں آیا.سنا ہے یونیورسٹی چھوڑ دی اسنے" تابی نے اسے خبر دی.اسکا منہ کڑوا ہوااس ذکر پر"اچھا ہے اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہوگیا."حیات نے تلخ لہجے میں کہا
"بالکل یار اب تم ذیادہ مت سوچنا" سبین نے محبت سے اسے دیکھا.پھر سب ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں.جب ایک دم تابی بول پڑی.
"ویسے اس دن تم نے کال پک کیوں نہیں کی اور میسج کا جواب بھی نہیں دیا"تابی نے منہ پھولا کر کہا.اسکی بات پر حیات نے اسے گھورا اسے یاد آیا تابی میڈم کی وجہ سے ہی شیر افگن کو سب پتہ چلا تھا.اس دن سے شیر افگن فون پر فون کررہا تھا.حیات کو معلوم تھا بظاہر وہ خاموش تھا.پر احمر جمالی کو چھوڑنے والا نہ تھا.اسے شیرافگن کے غصے سے ڈر لگتاتھاکہ کہیں وہ کچھ غلط نہ کر لے.
"ہمیشہ تم آفت بن کر نازل ہوتی ہو مجھ پر" حیات نے تابی کو گھورکر کہا.وہ پہلے جیسے موڈ میں آچکی تھی.
"ہاۓ اب میں نے کیا کر دیا" تابی نے حیرت سے پوچھا.باقی سب بھی حیران تھیں کہ کیا ہو گیا."اب کیا ہوا ؟"مینا نے دونوں کو دیکھا
"اس دن اس نے مجھے کال کی تھی.افگن بھائی میری طبیعت کا پوچھنے میرے کمرے میں آۓ تھے.انھیں سب پتہ چل گیا.پرسوں سے وہ مشکوک حرکتیں کر رہے ہیں.کالز پر کالز ہو رہی ہیں.ضرور احمر جمالی کی اب خیر نہیں"اسنے پریشانی سے انھیں بتایا.
"واؤ...یہ تو اچھا ہے ناں اب احمر جمالی سیدھا ہوگا"حریم نے مزے سے کہا
"کال پک تو ہوئی ہی نہیں تھی.پھر کیسے پتہ چلا تمہارے افگن صاحب کو؟" تابی نے آبرو اٹھا کر پوچھا."وہ میں روم میں نہیں تھی ناں تو میں نے افگن بھائی کو کال پک کرنے کا کہا"حیات جلدی سے بولی تو تابی نے  آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا وہ ایک دم چپ ہو کر پھر جلدی سے بولی"پر جیسے کہ تم نے کہا کال پک نہیں ہوئی تھی.بس افگن بھائی نے تمہارا میسج پڑھ لیا تھا."اسنے تابی کو دیکھا
"واہ واہ مطلب حد ہوگئی.اب یہ میری غلطی ہے یا تمہاری؟ میں نے کہا تھا اپنے شیر مار کو اپنا موبائل پکڑا کرجاؤ...افگن بھائی کو کال پک کرنے کا کہا تھا." تابی نے اسکی نقل اتاری پھر بولی "پاگل کہیں کی دوستوں کی کالز کزنز سے پک نہیں کرواتے میل کزنز سے تو بالکل نہیں"اسنے حیات کو ڈانٹا.سب نے ہنسی دبائی جبکہ حیات نے معصوم سی صورت بنائی.یہ غلطی اسکی اپنی تھی.پر تب شیر افگن اسکی لال آنکھوں کی وجہ پوچھ رہا تھا.اسلئے جب وہ باہرنکلی تو خودکو سنبھالنے میں لگ کہ کہیں اسکےسامنے رو ہی نہ پڑے.
"اچھا سوری" اسنے معصوم سی صورت بنائی
"چلومعاف کیا بچہ کیا یاد کرو گی"تابی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح کہا سب ہنس پڑیں."اب ذیادہ پھیلو مت تابی کی بچی"حیات نے انگلی اٹھا کر کہا
"یہ ہر وقت تم میرے فیوچر بچوں کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہو؟" اسنے منہ بنایا
"ہاہا توبہ کتنی فکر ہے اِسے اپنے بچوں کی" حیات نے ذور سے ہنس کر انھیں اشارہ کیا
"ماں کو بچوں کی فکر ہوتی ہے یار"مینا نے شوخی سے کہا.سب نے قہقہہ لگایا.تابی منہ پھلا کر بیٹھ گئی."آج مجھے سچ پتہ چل گیاہے"تابی نے بڑی سنجیدگی سے کہا.
"اچھاکیا؟"سب نے ایک ساتھ کہا
"تم لوگ چڑیلیں تھیں ، ہو اور ہمیشہ رہو گی منحوس ماریوں"وہ تپ کر چاروں کو سنا رہی تھی. وہ سب ہنسی دبا نے کی کوشش کر رہیں تھیں."ہاۓ میری تابی بس کر جاؤ تم تو ہماری جان ہو"حیات نے کہا سب اسکے قریب ہوئیں
"سچی میں؟"تابی نے آنکھیں گھما کر تصدیق چاہی."بالکل ہماری چڑیل"مینا نے اپنا بدلہ چکایا.وہ ایک دم ہنسی."مجھے تم سب چڑیلوں کےساتھ چڑیل بننا ہی منظور ہے." اسنے خوشی سے کہہ کرسب کو گلے لگایا.
                                         •••••••••••••••
اپ کو یح تحریر کیسی لگی کمینٹ کر کے ضرور آگاہ کریں
شکریہ