Saturday, March 21, 2020

Pakistan vs israiel

*صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*

دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔یہ جنگ مسلمانوں ور یہودیوں کے درمیان ہوگی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں اس وقت دُو ممالک ہی خالص مذہب کی بنیاد پہ بنے ہیں ایک پاکستان اور ایک اسرائیل۔ پاکستان اسلام کے نظریہ پہ بنا اور اسرائیل کا قیام یہودیت کے نظریے پہ بنا۔
آپ خود غور کریں کہ دُونوں ممالک ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہیں۔ یہ بات الگ اور قابلِ غور ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کبھی آمنے سامنے نہیں لڑے اسرائیل صرف ایک بار پاکستان سے پِٹ چکا تب سے اب تک انکے دلوں میں پاکستان کا خوف موجود ہے یہ آخری جنگ لڑیں گےآرماگیڈن، میں نے ایک بار کہا تھا کہ آپ خود پاکستان کو اتنا نہیں جانتے جتنا ایک اسرائیلی یا یہودی جانتا ہوگا۔

ان پہ یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا حالانکہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم نہیں جانتے بلکہ اُلٹا پاکستان کو نقصان پہنچارہے ہیں۔تو دُنیا میں یہ دُو طاقتیں خاص طور پہ مذاہب کے نظریہ پہ وجود میں آئی ہیں تو کیا یہ ایسے ہی اتفاقاََہوگیا کہ آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوگی اور یہاں پاکستان اسلام کی طرف سے اسرائیل دجال کی طرف سےتو کون کہتا ہے کہ پاکستان کوعام ملک ہے کون اس کی عظمت سے انکار کرسکتا ہے۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہے پاکستان۔پاکستان جس کو بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کادن بھی چُنا ہوا،جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُوسال پہلے بتایا جا چکا۔

جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گوں کا خالص خون، جس کی جنگ میں فرشتہ لڑنے کو آئیں، جس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں، جس کے بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پائیں ، جس کے ایک حصہ ٹوٹنے پہ اللہ کے پیارے حبیبﷺ افسردہ ہوجائیں،اس کے بننے سے 1400 سال پہلے پیارے نبی ﷺ کو مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں، جس سےاللہ اپنے عظیم گھر کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ ایک بہترین ایٹمی طاقت دے ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کے کی بہترین افواج، دُنیا کا بہترین جنگی اور دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا اسے اللہ نے پہنچاکے دیے، سمندر اسے اللہ نے پہنچا کے دیے۔

پانی جیسی نعمت، سرسبز زمین، دُنیا کی ہر فصل اسے دی، چار کے چار موسم اسے دیے۔ ایسی طاقت دی کہ دُنیا میں پرائے تو پرائے اپنے تک بھی اس کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسکی طرف بُرا قدم بڑھانے کا سوچنے پہ بھی انکی رُوح کانپ جائے۔ یہاں سے ہزاروں میل دُور اللہ کے پاک گھر کی حفاظت کاکام جس سے اللہ لے۔ رُوس جیسی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کروائے، امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو افغانستان میں دُھول چٹوائے۔ایک ارب سے ذیادہ والے ہندوستان کی چیخیں ساری دُنیا کوسنوائے۔ جس کے مجاہدوں کواللہ کے بنیﷺ خوارج سے ٹکرانے کا حکم دیں۔جس کے شہید افضل ترین شہید،جو انڈیا کو ایک کبوتر سے ڈرائے انکے میڈیا سے لیکر آرمی تک کو ذہنی مریض بنائے، جس کاچپڑاسی سے صدر تک سب چُور ایسے میں یہ نہ سمجھ پانا کہ کون ہے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں ۔ایسی ایسی ٹیکنالوجی ایسے ایسے ذہین لوگ اور چُنے ہوئے انجنیرزاور سائنسدان جنکی مثال نہیں۔ اسرائیل سے لے کر دُنیا میں بیٹھا ہر یہودی جس کا نام سُن کے کانپے، جسکی افواج ، ٹیکنالوجی، خفیہ اداروں کی دُنیا مثالیں دے۔جو ہر چُوٹ کے بعد نئی طاقت سے اُبھرے، ڈرون سے لیکر ایٹم بم تک کی ٹیکنالوجی جسے اللہ اپنی مدد آپکے دی۔

جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے کریں، جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُوسال پہلے مل جائے، جولڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کا فاتح ٹھہرے، جس کا وجود مشرق کے وجود کی ضمانت، جس کا وجود مغرب کے لیے خوف کی علامت، کشمیر سے لیکر فلسطین کےدل کی آواز تمام مسلمانوں کی اُمیدوں کا محور ۔ ایسی طاقت ایسی نعمت سے دُھوکہ ایسی طاقت سے غداری ایسی نعمت کی ناشکری یہ ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ اتنا سب گنوانے کے بعد بھی کسی کو یہ شک ہو کہ پاکستان کیاہے؟ پاکستان کیوں بنا؟تو پھر وہ جائے اور یہودیوں سے پُوچھے کہ پاکستان کیا ہے وہ آپکو اور بھی بہتر بتائیں گے کہ کیا ہے پاکستان۔ مانتا ہوں یہاں ظلم ہے، یہاں ناانصافی ہے ، یہاں بےروزگاری ہے، یہاں ناانصافی ہے،یہاں فحاشی ہے، یہاں دھوکہ ہے،یہاں لوڈشیڈنگ ہے، یہاں ہر بُرائی ہے مگر یہ قصور میراآپکا ہے پاکستان کا نہیں،پاکستان کی پاک سرزمین کا نہیں۔ اسے اللہ نے وجود صرف اور صرف اسی لیے ہی دیا ہے کہ اسی پاکستان نے دجال اور اسے حواریوں کو شکستِ فاش دینی ہے۔ اسی پاکستان سے اسرائیل ،امریکہ، انڈیا اور ان کے حواریوں نے پٹنا ہے۔

Friday, March 20, 2020

How to read english 😂😂😂 must read so funy

ایک دوست واقعہ سنا رہا تھا کہ ہاسٹل لائف میں ہمارا ایک ہم
جماعت لڑکا انتہائی محنت سے پڑھتا تھا. لیکن کند ذہن ہونے کی وجہ سے جو سبق ہم 15 منٹ میں یاد کر لیتے تھے وہ بے چارہ پورا گھنٹہ صرف کرنے کے بعد بھی مشکل سے ہی یاد کر پاتا تھا. عشاء کے بعد گپ شپ کرنے کے بعد ہم سبق یاد کرتےتھے. ایک دن ہم دونوں  انگریزی کا سبق یاد کر رہے تھے. دوسرا دوست بڑی جانفشانی سے ہل ہل کر اور اونچی اواز سے رٹہ لگا رہا تھا.
اچانک میری توجہ اس کی آواز کی طرف گئی تو ایک غیر مانوس سا لفظ سننے کو ملا. "پھسائی چلو جی پھسائی چلو جی.........
موصوف اونچی آواز سے یہ ورد کر رہے تھے. میں نے سوچا کہ میں نے بھی سبق یاد کیا ہے لیکن ایسا تو کوئی لفظ آج کے سبق میں شامل نہیں ہے. کافی غور وغوض کیا کہ شاید میں نے کوئی صفحہ چھوڑ دیا ہے اور یاد کرنے سے رہ گیا ہے.

آخر کار میں اس کے نزدیک ہوا اور پوچھا " یار کیا یاد کر رہے ہو" اس نے کہا "پھسائی چلو جی" میں پھر حیران ہوا اور پوچھا دکھاؤ کہاں لکھا ہے" پھسائی چلو جی".
اس نے جب کتاب مجھے دکھائی تو مجھے ہنسی کے دورے پڑھنے لگے اور میں لوٹ پوٹ ہونے لگا، کیونکہ موصوف انگریزی میں لکھا سائیکالوجی psychology کو پھسائی چلو جی پڑھ رہے تھے۔۔😹😹

ایک بھترین بیٹا۔ایک سبق آموز تحرپڑھئے گا ضرور۔

ایک سبق آموز تحرپڑھئے گا ضرور۔

بدذات 😔

    راحیل میری دوسری بیوی کے پہلے شوہر سے تھا۔۔۔❗جڑواں بیٹوں کی پیدائش کے وقت کچھ ایسی پیچیدگی پیدا ہوگئی کہ میری پہلی بیوی بچ نہ سکی۔۔۔❗ بچوں کی دیکھ بھال کہ لئے امّاں فوری طور پر خیر النساء کو بیاہ کر میری دلہن بنا کر لے آ ئیں ۔۔۔❗اور یوں راحیل بھی ہماری زندگی میں چلا آیا۔۔۔❗پہلے دن امّاں نے اس کا تعارف کرواتے وقت کہا بیٹا❗ خیر النساء بہت اچھی عورت ہے۔۔۔❗ اور دُکھی بھی ہے تیرے گھر اور بچوں کو بہت پیار سے سنبھال لے گی۔۔۔❗بس اپنے بچوں کی خاطر تجھے اس کے لڑکے کو بھی گھر میں برداشت کرنا ہو گا۔۔۔❗ اب وہ اُس بدذات کو بھلا کہاں چھوڑے۔۔۔❓امّاں کی اس بات نے میرے دِل میں ایک گِرہ لگا دی۔۔۔❗دِل کے ایک کونے میں کینہ  پلنے لگا۔۔۔❗ راحیل بہت تمیز دار بچہ تھا۔۔۔❗ایک چیز جو میں نے شدت سے نوٹ کی کہ میرے سرد رویئے کے باوجود وہ مُجھ سے بہت محبت کرتا۔۔۔,❗اور میرے رویے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا❗
صبح جب میں ناشتے کے لیئے کھانے کی میز پر آتا۔۔۔❗تو  راحیل بھی  انتہائی تمیز کے ساتھ اسلام علیکم ابّا جان کہتا اور بھاگ کر میرے آگے اخبار رکھتا۔۔۔❗میرے دِل میں لگی گِرہ ڈھیلی ہوتی کہ ساتھ ہی آواز آتی ارے بد ذات چل اپنی ماں سے کہہ جلدی ناشتہ لاۓ میرے بچے کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔❗ وعلیکم السلام کے ساتھ راحیل کے سر پر پیار دینے  کے   لئےاٹھتا ہاتھ وہیں میری اپاہج سوچ کے ساتھ لڑکھڑاتا اور شکست کھا کر ڈھیر ہوجاتا۔۔۔❗ خیرالنساء نے میرے گھر اور بچوں کو اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا وہ بہت صابر عورت تھی۔۔۔❗ کبھی شکوہ زبان پر نہ لاتی ۔۔۔❗مُجھے یاد ہے ایک دن راحیل اُس سے پوچھ رہا تھا امّی جان یہ بدذات کیا ہوتا ہے۔۔۔❓ میرا پورا جسم کان بن گیا میری سماعتیں شدت سے خیرالنساء کے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔،❗مسکرا کر کہنے لگی جب کوئی بہت پیارا لگے اور نظر لگنے کے ڈر سے آپ بتانا نہ چاہیں تو اُسے بدذات کہتے ہیں۔۔۔❗اُس دن میں نے دیکھا راحیل بہانے بہانے سے سارا دن امّاں کے اِرد گرد پھرتا رہا❗
کبھی جاءِ نماز بچھا کر دے رہا ہے تو کبھی زرا سے کھانسنے پر پانی کا گلاس اُن کے آگے رکھ رہا ہے۔۔۔❗امّاں کی آواز آئی ارے بدذات کیوں میری جان کھا رہا ہے ڈرامے باز۔۔۔❗ جا دفعہ ہو جا کر کچھ پڑھ لے۔۔۔❗کیا جاہل رہ کر میرے بیٹے کے مال پر عیش کرتا رہے گا۔۔۔❓ راحیل نے کھٹ سے امّاں کے گلے میں باہیں ڈالیں چٹاچٹ اُن کی گال پر پیار کیا اچھا پیاری دادی جان کہا اور بھاگ گیا۔۔۔❗ میں وہیں امّاں کے تخت کے پاس بیٹھا دیکھ رہا تھا امّاں کی آنکھوں میں ہلکی سی نُور کی چمک نظر آئی اور پھر معدوم ہوگئی۔۔۔❗ کیسے بدقسمت تھے ہم ماں بیٹا اور کیسے خوش بخت تھے وہ ماں بیٹا۔۔۔❗خیرالنساء نے بچے کے دِل میں نفرت کی گرہ نہیں لگنے دی تھی۔۔۔❗ اور میری ماں مُجھ اونچے لمبے مرد ، پیشہ کے اعتبار سے وکیل کے دِل میں کس آسانی کے ساتھ گِرہ لگانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔۔۔❗
  مُجھے جوتے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اچھے جوتے میری کمزوری تھے۔۔۔❗میری وارڈ روب میں ایک سے بڑھ کر ایک جوتا موجود تھا۔۔۔❗راحیل بہت شوق سے میرے جوتے پالش کیا کرتا۔۔۔❗کئی بار میں نے اسے بڑی دلجمعی سے جوتے چمکاتے دیکھا۔۔۔❗ اور سچ بات تو یہ ہے کہ میرا دِل خوش ہو جاتا جوتے دیکھ کر۔۔۔❗ مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے خوش ہو کر صرف اتنا کہا واہ راحیل کمال کر دیا تم نے اور اسے پانچ سو کا نوٹ انعام دیا۔۔۔❗ بھاگا بھاگا امّاں کے کمرے میں گیا دادی دادی دیکھیں ابّا نے مُجھے انعام دیا ہے۔۔۔❗ گھر کے ملازمین سے لے کر گھر میں آنے والے ایک ایک مہمان کو بتاتا کہ ابّا نے مُجھے انعام دیاہے۔۔۔❗ امّاں نے ہنہ بدذات دفعہ ہو جا کہہ کر منہ پھیر لیا۔۔۔،❗کاش امّاں اُسے خیرالنساء کی خاطر ہی ایک بار گلے سے لگا لیتیں۔۔۔❗جس نے اُن کے پوتوں کو اپنے جِگر کے ٹکڑے سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔۔۔❗امّاں کی لگائی ہوئی نفرت کی دھیمی آنچ پر میری انا کا بُت پکتا رہا۔۔۔،❗خیرالنساء کی میرے بچوں اور گھر کے ساتھ بے پناہ محبت اور احسان بھی انا کے اس بُت کو  توڑ نہ پایا۔۔۔❗ راحیل کی تمام خوبیوں کے باوجود میں نے کبھی اسے سینے سے نہیں لگایا تھا۔۔۔❗ہاں مگر میں نے اس پر خرچ کرنے یا اس کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کی۔۔۔❗خیرالنساء اتنے ہی میں مطمئن تھی۔۔۔❗ وقت گزرتا رہا بچے بڑے ہو گئے۔۔۔❗ عمر اور علی میرے جُڑواں بیٹے۔۔۔❗ اعلیٰ تعلیم کے لئے ملک سے باہر چلے گئے۔۔۔❗راحیل نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔۔۔❗میرے بہت چاہنے کے باوجود وہ پڑھ نہیں سکا۔۔۔❗سارے محلے کا لاڈلا تھا صبح کا گھر سے نکلا شام کو گھر آتا۔۔۔❗اکثر ہاتھ پر پٹی بندھی ہوتی جانے کہاں سے چوٹ لگوا کر آتا تھا۔۔۔❓ خیرالنساء نے میرے دریافت کرنے پر کہا فکر نہ کریں مُجھے بتا کر جاتا ہے میری اس پر نظر ہے۔۔۔،،❗
 وقت نے امّاں کو ہم سے چھین لیا۔۔۔❗آخری وقت میں راحیل نے امّاں کی بہت خدمت کی۔۔۔❗کئی بار اپنی گود میں اُٹھا کر ہسپتال لے جانے کے لئے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔❗اُن کا کمزور وجود باہوں میں بھر کر کئی راتیں اس نے ہسپتال کے بیڈ پر جاگ کر گزار دیں۔۔۔❗جانے کس مِٹّی سے بنا تھا یہ راحیل حالانکہ اب اس کو بدذات کا مطلب بھی سمجھ میں آنے لگا تھا۔۔۔❗ مرتے وقت  امّاں کے ہاتھ راحیل کے آگے جُڑے ہوۓ تھے۔۔۔❗جنہیں چُوم کر اُس نے اپنے ہاتھوں سے امّاں کی آنکھیں بند کیں اور میرے ساتھ انہیں لحد میں اُتارا۔۔۔❗ میرے دونوں بیٹے چاہنے کے باوجود دادی کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے ۔۔۔❗اُس دن امّاں کی لگائی گِرہ  ڈھیلی ہوگئی بالکل ڈھیلی۔۔۔❗بس ایک بار راحیل کو گلے سے لگانے کی دیر تھی کہ کُھل جاتی مگر انا کو شکست دینا کہاں میرے بس میں تھا۔۔۔❓عمر اور علی نے پڑھائی مکمل ہونے کے بعد  شادیاں کر لیں اور اُدھر کے ہی ہو کر رہ گئے۔۔۔❗ سال میں ایک بار بس  ملنے کے لئے آجاتے۔۔۔❗
 گھڑی پر سوئیوں کا رقص جاری تھا اب کے   وقت کا پاؤں میری قسمت پر تھا۔۔۔❗ مُجھے اپنی کارکردگی پر ایک بہت بڑا ایوارڈ ملنے والا تھا

کہ مُجھے فالج ہو گیا۔۔۔❗چمکتے بوٹ پہننے والے پاؤں مفلوج ہو گئے۔۔۔❗کیا عثمان شاہ ننگے اور ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ وہیل چیئر پر ایوارڈ وصول کرے گا۔۔۔❗جس انا کے بُت کو میں نہ توڑ پایا اللّٰہ نے اُسے توڑ ڈالا تھا۔۔۔❗ نوکروں کی فوج کے باوجود راحیل میرے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتا۔۔۔❗تقریب والے دن اُس نے مُجھے اپنے ہاتھوں سے بہترین لباس پہنا کر تیار کیا جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو اسکول کے پہلے دن کے لئے تیار کرتا ہو۔۔۔❗ اور پھر ایک انتہائی خُوبصورت کالے چمڑے کے بوٹ میرے پاؤں میں پہنانے لگا۔۔۔❗جو کہ اسپیشل میرے پاؤں کے لیئے بنے تھے۔۔۔❗ مُجھے جوتوں کی بہت پہچان تھی جوتے کسی بہت مہنگی کمپنی پر آرڈر دے کر بنواۓ گئے تھے۔۔۔❗ایوارڈ کے لیئے میری وہیل چیئر چلانے کے لیئے اسپیشل انتظام تھا۔۔۔❗مگر راحیل خود میری وہیل چیئر چلا کر سٹیج پر لایا۔۔۔❗ ایوارڈ ملنے کے بعد میرے گال پربوسہ دیا اور کہنے لگا
 I am proud of you my baba...❗
 میں کہنا چاہتا تھا۔۔۔❗میں بہت بار راحیل سے کہنا چاہتا تھا
 I am proud of you my son...❗
مگر کبھی نہ کہہ سکا۔۔۔❗وہ ایک بار پھر جیت گیا۔۔۔❗ کیونکہ میرے کان میں امّاں کی آواز آ ج بھی  گونجتی بدذات۔۔۔❗ آج شاید میری انا کا امتحان تھا۔۔۔❗ ایوارڈ کی تقریب کے بعد راحیل مُجھے جوتوں کی ایک فیکٹری میں لے گیا۔۔۔❗اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا ہر کوئی راحیل کو “سلام صاحب سلام صاحب” کہہ رہا ہے اور پھر راحیل مُجھے ایک دفتر میں لے گیا جہاں ایک بہت خُوبصورت بزرگ بیٹھے تھے۔۔۔،❗ راحیل کو دیکھتے ہی اُٹھ کر آئے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور  کہنے لگے مبارک ہو عثمان شاہ صاحب۔۔۔❗ اللّٰہ کو کوئی تو آپ کی بات پسند آئی ہو گی جو اُس نے آپ کو راحیل جیسا بیٹا دیا۔۔۔❗ یہ آپ کے بیٹے کی فیکٹری ہے۔۔۔❗ آپ کا بیٹا دنیا کا سب سے مشہور  و معروف شو  میکر ہے۔۔۔،❗
 مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میری پسند کے بہت مہنگے جوتے خراب ہو گئے تھے۔۔۔❗جوتے اٹلی کے تھے اور واپس کمپنی میں بھیجنے میں بہت وقت لگتا۔۔۔❗راحیل نے بڑے ماہر موچی “بابا جی“ کو ڈُھونڈ کر اُن سے میرے جوتے مرمت کرواۓ۔۔۔❗یہ وہی جوتے تھے جن پر خوش ہو کر میں نے اُسے پانچ سو کا نوٹ انعام  میں دیا تھا۔۔۔❗باباجی کی مہارت دیکھتے ہوۓ میرے شوق کی خاطر راحیل نے اُن سے جوتے بنانے کا فن سیکھا۔۔۔❗اور اب راحیل کے بناۓ جوتے پوری دنیا میں مشہور تھے۔۔۔❗یورپ سے امراء راحیل  کو اپنے جوتے بنوانے کے لئے بلاتے مگر وہ  مُجھے اور اپنی ماں کو چھوڑ کر کبھی نہیں گیا۔۔۔❗ بابا جی نے ساری کہانی سنائی۔۔۔❗ اُس وقت راحیل کے پٹی بندھے ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے آتے رہے۔۔۔❗اُس کے ہاتھوں میں چُبھنے والی سوئیاں کیلیں  میرے سارے جسم میں چھید کر گئیں۔۔۔❗میرے جسم میں سوئیاں ہی سوئیاں چُبھی تھیں۔۔۔❗ کون نکالے گا اُنہیں❓ کیا میری توبہ میرے زخم بھر پاۓ گی۔۔۔❓گرہ کُھل گئی تھی انا کا بُت ٹوٹ چکا تھا۔۔۔❗میں نے راحیل کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔❗ اُس راحیل کے سامنے جسے اماں بدذات کہتی تھیں۔۔۔❗ راحیل نے میرے آنسو صاف کیئے۔۔۔،❗میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا میرے سب دوستوں کے پاس ابو تھے۔۔۔،❗ نانی  مُجھے اللّٰہ سے دُعا مانگنے کا کہتیں اور میں نے بہت بار اللّٰہ  سے دعا مانگی۔۔۔❗آپ میری دُعاؤں کا ثمر تھے ابا جان۔۔۔❗ میرے اللّٰہ کا انعام تھے۔۔❗میں آپ سے محبت بھلا کیسے نہ کرتا۔۔۔❓ آپ مُجھے بہت  پیارے ہیں ابّا جان۔۔۔❗
آپ کی  نظرِ کرم پانچ سو کا وہ ایک نوٹ وہ میری زندگی کی کتاب کا سب سے بہترین Note بن گیا۔۔۔❗ جس نے میری زندگی بدل ڈالی۔۔۔❗ میں اپنے ابا کا پسندیدہ بیٹا بننا چاہتا تھا ۔۔۔❗   

 اور وہ میں  بن گیا بابا جان ۔۔۔❗
 وہ واقعی  میرا سب سے پیارا بیٹا بن گیا تھا۔۔۔❗خیرالنساء پاس بیٹھی رو رہی تھی مگر اُس کی پیشانی چمک رہی تھی۔۔۔❗ وہ راحیل  کی ماں تھی اُس نے راحیل  کو محبت کرنا سکھایا تھا۔۔۔❗کاش میری ماں نے بھی کبھی میرے سامنے اسے بد ذات نہ بولا ہوتا مجھے بھی اس سے محبت کر نا سکھایا  کرنا ہوتا۔۔۔❗
 اُس رات جب راحیل  نے اپنے ہاتھوں سے بناۓ ہوۓ میرے بوٹ اتار کر مجھے  بیڈ پر لٹایا۔۔۔❗ تو زندگی میں پہلی بار میں نے اُس کا منہ چوم کر کہا
 I am proud of you my son...❗
I love you more than everything

__________________________

❤❤

🌬_ مودبانہ گزارش

ہمارا ہدف آپکو بہترین اسلامی معاشرتی تاریخی معلوماتی، اصلاحی  تحریریں پیش کرنا ہے.

جس میں آپ کا ایک شیئر بہت بڑا کردار بطور صدقه جاریہ ادا کرسکتا ہے. آئیں ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی اس کار خیر کا حصّه بننیں

شکریه

Qyamt kb ya gi

قیامت کی 6 نشانیاں۔۔حضور ؐ کی وہ کون کون سی پیشین گوئیاں ہیں جو اب تک پوری ہو چکی ہیں؟جانیں

یامت مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک انتہائی اہم عقیدہ ہے اور اس پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے مخفی رکھا ہے اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ قیامت کب آئے گی تاہم اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بخشش کا موقع دیتے ہوئے کچھ نشانیاں بتائیں ہیں جن کے باری میں حدیث شریف میں ارشاد کیا ہے کہ جب یہ واقعات رونما ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت نزدیک آچکی ہے ۔ قیامت کی چھ نشانیاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی سب سے پہلی نشانی میرا انتقال ہے۔قیامت کی دوسری نشانی آپ ﷺ نے فلسطین ( موجودہ اسرائیل کے قبضے میں) میں واقع بیت المقدس کی فتح ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مسلمان اس علاقے کو فتح کرچکے ہیں۔تیسری نشانی یہ ہے کہ انسان جانوروں جیسی موت مرنے لگیں گے اور گردن توڑ بخار جیسی بیماریاں عام ہوجائیں گی۔آثارِ قیامت میں سے چوتھا یہ ہے کہ مال کا پھیلاؤ بے پناہ بڑھ جائے گا‘ یہاں تک کہ کسی شخص کو سو دینار بھی د یے جائیں گے تب بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔پانچویں نشانی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے ایک فتنہ کھڑا ہوگا جو عربوں گھر گھرمیں داخل ہوجائے گا اور کوئی بھی گھر اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔چھٹی اور آخری نشانی یہ ہے کہ ’تمہارے(مسلمانوں) اور بنو اصفر (اہل روم) کے درمیان صلح ہوگی پھر وہ بے وفائی کریں گے اور 80 جھنڈے لے کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گے ۔قیامت کی ان نشانیوں کے ذہن میں رکھیےا وریہ بھی یادرکھیے کہ آثارِ قیامت میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی ثابت ہے اور جس دن یہ نشانی پوری ہوگی اس دن اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند کردے گا‘ پھر کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔اس لیے ہر وقت اللہ سے استغفار طلب کرتے رہیے اور لازمی دعا کا حصہ بنائیے کہ وہ ہمارا اور آپ کا خاتمہ بالخیر کرے۔

Secrets Flage of sirilanka

كيا آپ كو پتہ ہے  کہ  # 🇱🇰 سری_لنکا کے #جھنڈے میں  #شیر کے ہاتھ میں #تلوار  کیوں دی گئ ہے، ؟  كہا جاتا ھے  كہ  پرانے زمانے ميں ایک سلطان نے شادى كا اراده كيا  تو  اسنے تمام شهزاديوں كو جمع كر كے  ان كو كچھ #بيج ديئے  اور كہا  کہ  تم ميں سے جو بهى #چھ_ماه بعد  گلاب كا پهول لے كر آئے گی  وھی ميرى سلطنت كى ملكہ ھوگی  چھ ماه گذرنے كے بعد تمام شهزادياں ھاتهوں ميں پهول اٹهائے محل ميں حاضر هو گئيں

 كچھ كے ھاتھ ميں سرخ   كچھ كے ھاتھ ميں پيلے  غرض ھر ايک كے ھاتھ ميں الگ ھی  رنگ كے پهول تهے  سوائے ان ميں سے ايک كے  كہ  جس كے ھاتھ ميں كوئى بهى پهول نہيں تها،  بادشاه نے اس سے دريافت كيا  كہ  تمهارے پهول كہاں ھیں  تو  اس نے جواب ديا  كہ   سلطان آپ نے ھميں جو بيج ديئے تهے  وه پھولوں كے بیج نہيں تهے، سلطان كو شهزادى كا جواب  اور  اسكى صداقت پسند آئى  اور  اس سے شادى كركے اسے ملكہ سلطنت كے  خطاب سے نواز ديا، اور  جہاں تک سری لنکا کے جھنڈے کا سوال ہے  تو یقین کریں ,اسكے بارے ميں مجھے بھی نہیں پتا. 😁😁😁😄😄😄😅😂🤣

Thursday, March 19, 2020

اپ کا حسن سلوک





وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام


المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔ میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔ان شاء اللہ ، آپکا ایمان تازہ ہوجاۓگا۔“