Tuesday, June 2, 2020

Purani Haveli Ki Muhabbat Urdu Novel Download pdf read Online urdupoinadab

پرانی حویلی کی محبت

قسط 1
تحریر:  عمیر راجپوت

امی  مجھے یہ کھٹارہ سائیکل نہیں لے کر جانی آج ------
میں اس پھٹیچر سائکل کہ وجہ سے اتنا لیٹ ہو جاتا ہوں اور میرے کالج کے دوست میرا مزاق بناتے ہیں...
ہر روز یہ وہیں آکر پنکچر ہو جاتی ہے کبھی اسکا چین ٹوٹ جاتا ہے مجھے وہاں سے پیدل چلنا پڑھتا ہے------ میں آپنی بات پوری کیے بنا ہی رُک گیا اور آپنی ہی بات کو سوچنے لگ گیا....
سائیکل کا چین آج تک ایک ہی جگہ ٹوٹا تھا اور سائیکل پنکچر بھی وہیں ہوئ تھی ----- یہ------- یہ ماجرا کیا ہے..؟

اسی سوچ میں گُم تھا کے امی کی آواز نے اس سوچ سے نکال دیا ----- اب کہاں کھو گئے....؟
کچھ نہیں میں کیہ رہا تھا کے مجھے یہ سائیکل نہیں چلانی------ مجھے نئ سائکل لے کر دو....
میرا دیہان ابھی بھی اسی طرف تھا------ وہ گلاب کے  پھول اس سڑک پر کیسے آتے ہیں....
اس سڑک سے کوئ نی گزرتا تھا نا کبھی مجھے راستے میں کوئ ملا تھا یہ جنگل کا راستہ تھا پر مجھے کبھی اس سے ڈر نہیں لگا تھا ہمیشہ اس راستے سے روز آتا تھا پر آپنی پھٹیچر سائکل سے بہت تنگ تھا جو مجھے راستے میں بہت تنگ کرتی تھی....

کبھی سائکل کا چین ٹوٹ جاتا تو کبھی سائکل پنکچر ہو جاتی ہالانکہ آبو نے مجھے کالج جوئن پر یہ سائکل نئ لے کر دی تھی پر یہ سائکل اس جنگلی راستے پر چلنے سے پھٹیچر ہوگئ چند دن میں...

یہ اس وقت کی بات ہے جب موبائل فون نئے نئے آئے تھے ہر شخص کے پاس نہیں تھا اِکا دُکا لوگوں کے پاس تھا اور انکی بہت ویلیو تھی...
اس سادہ سے فون کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کے اس میں کوئ تار نہیں ہے کیونکہ گھر میں ایک پی.ٹی.سی.ایل لگا ہوا تھا مجھے بس اسی کا پتا تھا...
ہائ سکول پاس کرنے کے بعد میں نے شہر کے ایک کالج میں داخلہ لیا جسکو دو راستے پڑھتے تھے ایک کچہ جنگل کا راستہ تھا جو شارٹ کٹ تھا میں نے وہی راستہ چنا شائد وہی راستہ میری سب سے بڑی غلطی بن گیا...

پہلے دن جب اس راستے سے بہت خوف آیا پھر اللہ کو یاد کرتے ہوئے میں اس راستے سے گزرتا چلا گیا...
اس راستے میں سب سے خوف ناک ایک جگہ تھی------ دو نہروں کے درمیان ایک پرانی بلڈنگ تھی جو بہت دیر سے بند تھی اسکے سامنے والے دروازے بھی آدھے ٹوٹے پھوٹے تھے....
میں دور سے اس حویلی نما بلڈنگ کو رُک کر دیکھتا اور چل پڑھتا...
مجھے پُرانی بلڈنگ میں جانا وہاں بیٹھ کر محسوس کرنا اور ان میں گھومنے کا بہت شوق تھا پر خوف کی وجہ سے میں اسے دور سے دیکھتا اور چل پڑھتا...
مجھے اس راستے پر آتے جاتے تین مہینے ہو چکے تھے....
جون کا مہینہ تھا گرمی عروج پر تھی دوپہر کا وقت تھا میں کالج سے گھر جا رہا تھا------ گرمی سے بُرا حال رہا تھا سائکل تیز چلانے سے دل بھی گھبرا رہا تھا...
میں اس حویلی کو دیکھتے ہوئے گزر تھا کے میری نظر ٹوٹی پھوٹی سڑک کے درمیان میں ایک گلاب پر پڑی یہ پھول فریش تھا جیسے ابھی ہی اسے کسی نے توڑ کر پھینکا ہو....
گلاب کا پھول اور یہاں میں نے سائکل روکی اور جُک کر اٹھانے لگا تو مجھے محسوس ہوا جیسے میری کمر پر کسی نے ہاتھ رکھا میں ایک دم سیدھا ہو کر پیچھے دیکھا تو پیچھے کوئ بھی نی تھا....

مجھے محسوس ہوا جیسے میری کمر پر کسی نے ہاتھ رکھا میں ایک دم سیدھا ہو کر پیچھے دیکھا تو پیچھے کوئ بھی نی تھا....
یہ ہاتھ رکھنے کا احساس مجھے بہت اچھے سے محسوس ہوا تھا پر اس احساس کو اتنا ضروری نہیں سمجھا--------  سمجھتا بھی کیسے اس ویرانے میں میرے سوا کوئ بھی دور دور تک نظر نہیں آرہا تھا....

میں پھر سے پھول اٹھانے کے لیے جکا اس بار ہوا کا ایک جھونکا آیا اور پھول سڑک کے کنارے پر جا پہنچا عجیب بیچانی سی دل میں ہونے لگی تھی...
گرمی اتنی شدید تھی کے میں نے پھول کو اگنور کیا اور ایک درخت کے سائے میں سائکل روکا وہیں درخت کے نیچے بیٹھ گیا...
بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور پینے لگا گرمی تھی یا کچھ اور میرا دل گھبرا رہا تھا...
میں نے شرٹ کے بٹن کھولے اور درخت سے ٹیک لگا کر ٹانگے پھیلا کر خود کو ریلیکس کر رہا تھا کے مخالف سمت ہوا چلی تو گلاب کا پھول سیدھا اڑھتا ہوا میرے پاس آگیا....
میں نے جلدے سے پھول کی ٹہنی سے پکڑا پھول کو اور اسے غور سے دیکھنے لگا-------- پھر آپنے آس پاس کھیتوں میں دیکھنے لگا کے کہیں گلاب کا کوئ پودہ تو نہیں ہے جہاں سے ٹوٹ کر یہ یہاں آیا ہو.....
میرے بار بار نظر دوڑانے کے باوجود مجھے وہاں پر کوئ پودہ نظر نہیں آیا دور دور تک....

پانی کے دو چار گونٹ پیے اور میری نظر پُرانی حویلی پر پڑئ------ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا اس پرانی حویلی میں ضرور جایا جائے...
دو نہریں چھوٹی چھوٹی نہروں کے درمیان یہ پرانی حویلی اور ہرا بھرا گھاس بنانے والے نے بھی یہ حویلی کمال کی بنائ ہے کاش میرا گھر ہوتا ہے ------ میں دل میں خود سے ہی باتیں کررہا تھا....

اس درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بہت سکون آرہا تھا.
میں گلاب کو سونگتے ہوئے آپنی گال پر پھیر رہا تھا..

 آنکھوں میں نیند آنے لگی وجود بے جان سا ہو رہا تھا میں یونہی ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا کہ پتا ہی نا چلا کے کب میں نیند کی وادی میں کھو گیا...

یہ نیند نہیں ایک قسم کی بےہوشی تھی جیسے مجھے
بےہوش کیا گیا ہو....
کچھ گھڑی گزری ہوگی کے مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگا ایک عجیب سی سمیل محسوس ہو رہی جو کسی انسان کی نہیں تھی--------- مجھے لگ رہا تھا میرا سر کسی کی گود میں اور گال سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا.....

میں نیند سے ہلکا سا بیدار ہوا تو اٹھنے کی کوشش کرنے لگا مجھے محسوس ہوا جیسے میرا وجود جکڑا ہوا ہے میں ایک دم جھٹکا کھا کے اٹھا تو تو گلاب کا پھول جو میرے سینے پر تھا وہ زمین پر گِر گیا....
میرا منہ درخت کی طرف تھا میں آپنی شررٹ سے لگی ہوئ گھاس جھاڑ رہا تھا....

حیرت میں گُم تھا کے میں درخت سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا پھر جب آنکھ کھلی تو میں زمین پر لیٹا ہوا تھا یہ سب ماجرہ کیا ہے.....؟ ------- ہلکا سا ڈر محسوس ہو رہا تھا پر میرے سوا وہاں کوئ بھی نہیں نظر آرہا تھا جسے میں یہ الزام دیتا----- اور گلاب سینے پر موجود تھا جس پر نظر پڑھتے ہی میں نے پھر سے اسے اٹھا لیا اور بیگ کی زِپ کھولتے ہوئے اندر ڈالا اور سائکل چلاتے ہوئے گھر کی جانب بڑھا....

میرا سر وزنی سا ہورہا تھا اور چکر سے بھی آرہے تھے آنکھیں فُل سرخ ہوئ ہوئ تھی سائکل بمشکل چلا رہا تھا...
گھر پہنچتے ہی سلام کیا اور سائکل کھڑی کرتے ہی آپنے بیڈروم میں داخل ہوگیا..

بیگ ایک طرف پھینکا اور لیٹ گیا اتنی خاموشی سے میں پہلے کبھی گھر میں داخل نہیں ہوا تھا اس لیے سب مجھ پر حیران تھا....
میں تکیے پر سر رکھ کر اسی لمحوں کو سوچ رہا تھا کہ امی گھر میں داخل ہوئ...

احمد بیٹا کیا ہو....؟
امی جی کچھ نہیں ----- میں نے آہستگی سے کہا تو وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئ اور ماتھے پے ہاتھ پھیرنے لگ گئ....
بیٹا خیر تو ہے تم چُپ ہو....؟
پھر امی ایک دم چونک کر بولی تمہیں تو بخار لگ رہا ہے...؟

ہیں بخار ..؟ میں حیرانی سے کہا تو انہوں نے آپنا ہاتھ الٹا کر کے میری گردن پے لگایا....

احمد بیٹا تمہیں بخار ہے ابھی آتے تمہارے آبو تو ڈاکٹر کو بلاتے ہیں....

انکے منہ سے بخار کا سنتے مجھے بھی آپنی طبیعت میں چینجنگ محسوس ہونے لگی پورہ جسم ٹوٹنے لگا میرا....

کچھ دیر گُزری میں تیز بخار میں مبتلا ہوگیا اور بےہوشی پھر سے مجھ پر طاری ہوگئ...

بخار کی حالت میں بھی وہ سب ہی یاد آرہا تھا درخت نیچے آخر وہ ہوا کیا تھا ...؟

کچھ روز میں بخار ٹھیک ہوا تو میں نے دوبارہ کالج جانے کا فیصلہ کیا ------- آج پانچ روز کے بعد اسی راستے سے میں کالج جا رہا تھا....
میں اسی جگہ سے گزرا تو محسوس ہوا جیسے کوئ چیز مجھے آپنی طرف کھینچ رہی ہو.....

میں نے گزرتے ہوئے اسی درخت کو دیکھا جہاں پر میں اس دن لیٹا ہوا تھا------جیسے ہی نظر پڑی ایک دم رُک گیا.....
درخت کے نیچے ایک نوٹ بُک پڑی تھی میں نے سائکل سٹینڈ پر لگائ اور جا کر دیکھا تو حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ ....

یہ------یہ ----- تو میری نوٹ بُک ہے یہاں کیسے اوپر میرا نام لکھا ہوا تھا....

میں جلدی سے نوٹ بُک کو بیگ میں ڈالا اور کالج کی طرف بڑھنے لگا میں بہت لیٹ ہو چکا تھا.....

سارے راستے انہیں سوچو میں گُم تھا پہلے یہ وہ نیند کا واقع اب نوٹ بُک یہ سب سچ ہورہا ہے یا میرا وہم ہے ....؟

خود سے سوال کرتا اور پھر میری سوچ ختم ہوجاتی...
کلاس میں بیٹھے وہی نوٹ بُک بیگ سے نکالی اور کھول کر سامنے رکھ دی --------- ہوا سے نوٹ بُک کے پیج اُلٹنے لگے خود ہی...

میری نظر ایک پیج پر پڑی جس پے کچھ لکھا تھا جو رائیٹنگ میری نہیں تھی ------ میں جلدی سے نوٹ بُک گود میں رکھ کر ورقے الٹنے لگا پھر وہ پیج نکالا جس پر لکھا ہوا تھا آپنی چیزوں کی حفاظت کیا کرو بہت لاپرواہ ہو......


جس پر لکھا ہوا تھا آپنی چیزوں کی حفاظت کیا کرو بہت لاپرواہ ہو......
یہ رائیٹنگ ایسی تھی کے میں حیران تھا یہ میری رائیٹنگ نہیں تھی------ میں نے جلدی سے آپنے سب دوستوں کی نوٹ بُک لی اور سب کے ساتھ رائیٹنگ میچ کرنے لگا پر کسی کے ساتھ میچ نی ہورہی تھی ....

میں نے پیج نکال کر سب کے سامنے رکھ دیا------ بتاؤ یہ کس نے لکھا ہے سب نے نا میں سر ہلا دیا اور حیران ہو کر مجھے دیکھنے لگے کے ہم کیوں لکھینگے.....

سب دوست بے خبر تھے کے آجکل میرے ساتھ بہت عجیب ہو رہا ہے یہ بنجر راستہ مجھے نئے امتحان میں ڈال رہا ہے پر مجبوراً مجھے اسی راستے سے آنا جانا تھا اس لمبے راستے سے میں نہیں جا سکتا تھا....

کالج سے چھٹی کے بعد میں روز کی طرح اسی راستے سے واپس گھر جا رہا تھا ایک نہر کا پُل کراس کیا تو حیرت سے ایک دم رُک گیا پوری سڑک پھول کی پتیوں سے بھری ہوئ تھی....
یہ پتیاں گلاب کے پھولوں کی تھی ------- یوں لگ رہا تھا جیسے کسی کے استقبال کے لیے پوری سڑک سجائ گئ ہو....
میں نے سائکل پیچھے ہی روک کر نیچے اترا اور سائکل سٹینڈ پر لگا کر حیرت سے ادھر اُدھر اور ان پتیوں کو دیکھ رہا تھا....
آگے بڑھنے کی ہمت ہی نی ہورہی تھی اور دھوپ ایسی تھی کے کھال جل رہی تھی------ زہن میں عجیب خیالات جنم لے رہے تھے ---- کہیں یہ پھول جال تو نہیں بچھا رکھا میرے لیے کسی نے....؟

دس منٹ تک یہی سوچتا رہا اور پھر ہمت کر کے قدم آگے بڑھایا -------- یہ پھول پُرانی حویلی کے راستے کی طرف بچھے ہوئے تھے....
پُرانی حویلی کو جو راستہ جاتا تھا وہ پھولوں کی پتیوں سے سُرخ ہوا تھا میں اس راستے پر تھوڑہ سا چلا اور رُک گیا-------- ہوا کی سر سراہٹ سے بھی خوف آرہا تھا.....

یہ پھو یہاں کیسے آ سکتے یہی سب سے بڑا مسلہ تھا جسے حل ہی نہیں کر پارہا تھا کے سوچ ختم ہو جاتی ہے...
میں واپس آپنی سائکل کی جانب بڑھا اور اوپر بیٹھ کر چلانے لگا تو سائکل کے پیچھے والے ٹائر میں ہوا ہی نہیں تھی....
سائکل پنکچر دیکھ کر شدید غصہ آیا گرمی سے جان نکلنے کو ہو رہی تھی گھر کافی دور تھا پیدل چلنا بھی مہال تھا وہ بھی اس گرمی میں....

سائکل لے کر چل رہا تھا کے ہوا کا تیز جھونکا آیا جس سے سائکل میرے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گِری ------ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سائکل کسی نے پکڑ کر دور پٹخ دی ہو اور کوئ مجھے جانے سے روک رہا ہو....

دل میں یہ بھی خیال آرہا تھا کے یہ پھول جو بچھا رکھیں ہیں یہ سب احتمام میرے لیے ہے اور ہنس کر یہ بات خوشفہمی میں ٹال دی....
گرمی سے بس ہو رہی تھی دل تیز تیز دھڑک رہا تھا اور سائبان صرف ایک تھا یہاں وہی درخت جس کے نیچے میں سویا تھا ------ پر اب اسکے نیچے جانے والی غلطی میں دوبارہ نہیں کر سکتا تھا....
مشکل سے سائکل اٹھائ اور ٹائر کی پرواہ نا کرتے ہوئے میں اوپر بیٹھ کر چلاتے ہوئے گاؤں میں سائکل پنکچر والے کی دوکان پر کھڑی کی اور خود پسینے سے فُل بھیگا ہوا گھر پہنچا.....

احمد کی لیے پانی لاؤ-------- امی نے میرے پاس آتے ہوئے کہا....
امی مُجھ سے کچھ باتیں کر رہی تھی جو میں سُن نہیں پایا تھا میں آپنی ہی سوچ میں گُم تھا.....
میں ان پھولوں کا ہونا جو بھی ہادثے ہو رہے تھے بس انہی کو سوچتا رہتا تھا----- اور چینجنگ امی بہت اچھے سے محسوس کر رہی تھی مجھ میں.....

تین سے چار بار سائکل کا ٹائر پنکچر ہو چکا تھا وہیں پے پر اس بات زکر میں کسی سے نہیں کیا اور خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا کے آخر آگے کیا ہوتا ہے....؟

ایک روز کالج سے چھٹی ہوئ تو میں سائکل کو تیز چلاتے ہوئے گھر جا رہا تھا کیونکہ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہوا بھی رُکی ہوئ تھی جو تیز طوفان کے آنے کی نشانی تھی....
کالج سے تھوڑی ہی دور پہنچا تو کڑک کی آواز آئ اور سائکل کا چین ٹوٹ گیا....
اسی کو بھی ابھی ٹوٹنا تھا ------ یہ بھی کھٹارہ ہو گئ ہے....
ایسے موسم میں چین کا ٹوٹ  جانا بہت غصہ آرہا تھا----- میں سائکل ہاتھ میں پکڑ چل رہا تھا وہی ہوا جسکا ڈر تھا.......تیز ہوا اور بارش شروع ہوگئ جس سے چلنا بھی مشکل ہو رہا تھا---------- یہ سب میرے صبر کا امتحان لیا جارہا تھا....
میں نے سائکل پھینکی اور سڑک کے کنارے پر بیٹھ کر گٹنو میں سر دے کر رونے لگا------ آنسو بارش کے پانی میں بہہ رہے تھے پر رونے کی آواز بھی بادلوں کی گن گرج سے خود کو بھی نہیں سنائ دے رہی تھی.....

احمد------------

میرے کانو میں ایک آواز پڑئ جیسے کوئ مجھے پکار رہا ہو میں نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا کوئ بھی نا تھا بارش بھی تیز تھی نظر کچھ ٹھیک سے نظر نہیں آرہا تھا....

میں نے سائکل اٹھائ اور چل دیا اب یہاں مجھے مزید ڈر  لگ رہا تھا پر بے بسی بھی ختم ہو چکی تھی رونے سے پیدل چلتے چلتے کافی آگے نکل آیا تھا-------- پھر ایک دم نظر پڑی تو حیرت کی انتہا نا رہی سائکل کا چین بلکل ٹھیک تھا.....

امی مجھے نہیں یہ کھٹارہ سائکل لے کر جانی روز کبھی یہ پنکچر ہوجاتی ہے کبھی اسکا چین ٹوٹ جاتا ہے------ میں امی سے جگڑ رہا تھا کے اتنے میں آبو بھی آگئے------- اور آبو سائکل کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کے اب تو چین ٹھیک ہے-------

پر یہ راستے میں ٹوٹ گیا تھا....

اچھا پھر جُڑا کیسے....؟ آبو نے ہلکی سی چہرے پر مسکراہٹ  لاتے ہوئے پوچھا تو میں چُپ ہو گیا....

آپ میرا یقین کرو یہ ٹوٹاتھا --------- عجیب بات تھی جس پر مجھے خود نہیں یقین آرہا تھا اسکا یقین میں کسی اور کو کیسے دلا سکتا تھا.....

میں اسی پُرانی حویلی کے مین دروازے کے سامنے کھڑا تھا سامنے ایک تخت بچھا ہوا تھا جس پر ایک خاتون چلتے ہوئے آکر بیٹھ گئ......

اسکا چہرہ انتہائ خوفناک تھا لمبے کھلے بال تھے----- اتنی بڑی بڑی آنکھیں-------- آنکھوں اور منہ سے خون ٹپک رہا تھا -------- کالے لباس میں ملبوس خاتون چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے مجھے دیکھ رہی تھی.....

احمد میرے پاس آؤ اسکی گرجدار آواز سے میری جان ہی نکل گئ------ اور آنکھ کُھل گئ......
میرا جسم فُل پسینے سے بھیگا ہوا تھا----خود کو بستر پر پا کر اللہ کا شکر ادا کررہا تھا پر وہ خوف ابھی تک مجھ پر طاری تھا.....

میرا جسم فُل پسینے سے بھیگا ہوا تھا----خود کو بستر پر پا کر اللہ کا شکر ادا کررہا تھا پر وہ خوف ابھی تک مجھ پر طاری تھا.....
میری آنکھ کھُل چکی تھی پر مجھے یہ سب خواب نہیں لگ رہا تھا------- اسکا خوف ابھی تک مجھ پر طاری تھا...
پُرانی حویلی کا خوف مزید مجھ پر بڑھ چکا تھا اب اگر میں اس راستے پر جاؤنگا تو میں پاگل کہلاؤں گا میں اس راستے پر اب نہیں چلنا تھا.....

میں نے فیصلا کیا میں شارعام کا راستہ آپناتا ہوں چاہے وہ کتنا ہی لمبا ہو پر میں اس راستے پر سے نہیں جاؤنگا اب کبھی بھی ان ہادثوں سے مجھے سیکھنا چاہیے...

احمد بیٹا اٹھو کالج کا وقت ہوگیا ہے جانا نہیں تم.....؟ بابا کی آواز جیسے ہی کانو میں پڑئ میں آنکھیں ملتے ہی اٹھ کر بیٹھ گیا-----------جی بابا میں اٹھ گیا ہوں...

انہوں نے مجھے ایک نظر دیکھا اور مسکرا رہے تھے------- تمہاری نئ سائکل منگوانی ہے میں نے تمہارے رزاق انکل کو بولا تھا رات میری فون پر بات ہوئ تھی.....

سائکل...؟ میں نے بابا کو دیکھتے ہوئے کہا...

ہاں کل خود ہی تو تم نے اتنا شور مچا رکھا تھا نا-------- بابا مزید مسکرا دیے....

مجھے سائکل نہیں رزاق انکل کو بولو مجھے ایک کیمرہ لے دو------ ایک دم کیمرے کا خیال میرے زہن میں کیسے آیا مجھے خود نہیں پتا تھا میں سب ہادثوں کو آپنے کیمرے میں ریکارڈ کر کے دیکھنا چاہتا تھا کہیں یہ میری نظر کا دھوکھہ ہے یا سب سچ میں ہورہا ہے تھا....

اچھا تو اب میرا بیٹا فوٹو گرافر بنے گا----؟
فوٹو گرافر نہیں بابا مجھے کیمرہ چاہیے میں نے ضد کر کے کہا تو وہ فوراً سے مان گئے------- ہاں ہاں  کیہ دونگا رزاق انکل کو کیمرہ بھی آجائیگا....

اور امی کے کمنٹ بھی آگئے------ یہ پڑھے گا نہیں بس تصویریں بنائے گا..... ویسے بھی آجکل پتا نہیں کیا ہوگیا کہیں کھویا کھویا رہتا آنکھوں میں ہر وقت خوف محسوس ہوتا ہے------- امی کی یہ باتیں سُن کر میں چُپ ہوگیا کسی کو بھی خبر نہیں تھی میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے.....

میں گھر سے سائکل پر نکلا تو دو گھنٹے میں کالج پہنچا یہ راستہ بہت لمبا تھا جہاں میں تیس منٹ میں پہنچ جایا کرتا تھا مجھے دو گھنٹے لگ گئے چھٹی کے وقت مجھے پُرانی حویلی کے راستے جانے کا خیال آیا....

پر خوف اتنا طاری تھا مجھ پر کے میں اس راستے پر نہیں جانا چاہتا تھا....

کالج سے چھُٹی ہوئ میں سائکل نکالی اور پُرانے راستے کی طرف ہی چل دیا اور مسلسل دعائیں پڑھ رہا تھا اور دُعا کر رہا تھا اللہ کرے کچھ نا ہو....

ابھی تھوڑہ سا ہی آگے بڑھا تھا مجھے ایک دور سے ایک لڑکی دکھائ دی جسکا بلیک کلر کا عبایا ہلکی چلنے والی ہوا سے اڑھ رہا تھا وہ کبھ رُک رہی تھی اور کبھی چل رہی تھی.....

میرے زہن میں ایک دم خیال آیا یہ چڑیل ہوگی کوئ------- کیونکہ اس راستے پر آج تک میں نے کوئ لڑکی نہیں دیکھی تھی....

میں آہستہ آہستہ سائکل چلا رہا تھا اور جیسے ہی وہ لڑکی رُکتی میں بھی ایک دم رُک جاتا------- میں اس سے پیچھے کافی فاصلے پر چل رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے دل تیز تیز دھڑک رہا تھا....

دل تیز تیز دھڑکنے سے میں اور دعائیں پڑھ رہا تھا اور اسی کے پیچھے چل رہا تھا وہ بھی کبھی رُکتی اور کبھی چل پڑھتی.....
چلتے چلتے وہ لڑکی ایک دم مُڑ گئ ------- وہ اسی راستے کو مُڑی تھی جو راستہ پُرانی حویلی کی طرف جاتا تھا میں سائکل روک کر اسی کو دیکھنے لگا....

وہ لڑکی چلتے چلتے پُرانی حویلی میں داخل ہوئ اور نظروں سے اُجل ہو گئ -------- میں نے سائکل تیزی سے چلائ اور پُرانی حویلی کے پاس سے گُزر گیا.....

تیزی سے سائکل چلانے سے کافی آگے نکل آیا تھا دل کی دھڑکن اور سانسیں تیز تیز چل رہی تھی آج کوئ ہادثہ نا ہوا تھا-------- سائکل ایک سائیڈ پر روکی اور پر پانی پی کر اتمنان کا سانس لیا....

اور دماغ میں صرف وہ لڑکی گھوم رہی تھی روز کی طرح گھر پہنچتے ہی آپنے کمرے میں گیا اور اس لڑکی کے بار میں سوچنے لگا....

میں نے صرف اسے دور سے دیکھا تھا تو میں یقین سے کیہ نہیں سکتا تھا وہ کیسی تھی اور کیا چیز تھی...؟
اور وہ حویلی میں کیوں گئ وہ حویلی تو دور سے اتنی خوفناک لگتی ہے....

میں آپنے بستر پر سو رہا تھا میرے سر کے نیچے سے بار بار میرا تکیہ کھسک رہا تھا ہلکا ہلکا جو مجھے محسوس ہو رہا تھا------- میں نیند میں ہی تکیے کو کو کھینچ کر سر کے نیچے کرتا وہ پھر کھسک جاتا یہ میرے ساتھ مسلسل ہو رہا تھا......پھر ایک دم مجھے گلے سے پکڑ کر زور سے جنجوڑہ کسی نے------- احمد اٹھو مجھ سے بات کرو...... کانو میں آواز پڑتے ہی میری آنکھیں جٹ سے کُھل گئ سامنے کا منظر دیکھتے ہی میری زور سے چیخ نِکل گئ.....

جیسے ہی آنکھیں کھولی سامنے ایک کچھ چمکتی ہوئ آنکھیں میرے سر پر منڈلا رہی تھی جسکا وجود تو نظر نہیں آیا آنکھیں دیکھتے ہی چیخ مار کر اچھلا تو ایک دم بیڈ سے نیچے گِر گیا.....

میری چیخ اس قدر زور سے تھی گھر کے سارے افراد اٹھ کر میرے کمرے میں آگئے------- میں بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا تھا.....

احمد---------احمد ------ کیا ہوا .....؟

ہر شخص سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا کمرے کہ لائٹ جلنے سے میں بھی ادھر اُدھر وہی آنکھیں تلاش کررہا تھا جو مجھ پر منڈلا رہی تھی....

آخر وہ کیا تھا جس نے مجھے اتنی زور  سے جنجوڑہ تھا میں نے روشنی میں گِرے بان دیکھا تو فُل سرخ ہوا تھا اور اوپر والا شرٹ کا بٹن بھی ٹوٹا ہوا تھا.....

بابا نے پانی کا گِلاس میرے سامنے کیا میں نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا اور پھر پانی کا گلاس پکڑتے ہی ایک سانس میں ہی پی لیا.....

احمد کیا ہوا تھا کچھ تو بولو ......؟؟ ------ امی نے ریکویسٹ کرتے ہوئے پوچھا....

کچھ نہیں میزن بس زرہ سا ڈر گیا تھا میں نے آہستہ سے کہا تو سب کی آنکھوں میں غصہ بھر آیا یہ زرہ سا نہیں تھا تم نے اتنی زور سے چیخ ماری کے سب کی جان نکال کے رکھ دی.....

میں چُپ چاپ سب کی باتیں سُن رہا تھا پھر بابا نے پیار سے مجھے لیٹنے کا کہا اور چادر میرے اوپر کردی....

سب آپنے آپنے کمرے میں واپس جا رہے تھے....

امی بھی میرے پاس سے اٹھتے ہوئے کمرے میں جانے لگی انکا ہاتھ الیکٹرک بورڈ کی طرف بڑھا ہی تھا میں ایک دم بولا کے لائٹ نا بند کرنا....

میرے کہنے پر انہوں نے لائٹ نا بند کرتے ہوئے وہ آپنے کمرے میں چلی گئ.....

میری آنکھوں میں نیند تو کوسوں دور تھی میں یونہی آنکھ بند کرتا تو مجھے ڈر لگتا تھا اور آنکھوں آگے وہی سب آنے لگ جاتا تھا....

میں نے تکیہ اٹھایا اور آنکھوں کے آگے زور سے دبا کر لیٹ گیا.....
کچھ ہی دیر گُزری ہوگی مجھے پھر سے آواز محسوس ہوئ

............... احمد................

میں نے ایک دم آنکھیں کھولی تو ڈریسنگ کے شیشے میں ایک مدہم سا عکس کسی چیز کا دکھائ دیا....

حرکت کرتا عکس ایک دم غائب ہوگیا..... میں جلدی سے بیڈ سے اٹھتے ہی کمرے سے دوڑ لگا دی باہر کی طرف.....

میں جلدی سے بیڈ سے اٹھتے ہی کمرے سے دوڑ لگا دی باہر کی طرف.....
اب مجھے آپنے کمرے سے بھی خوف آنے لگا تھا------ روز روز ایک نیا ہادثہ مزید خوف کو بڑھا رہا تھا...

اب مجھے یقین آنے لگا تھا یہ سب میرا وہم نہیں بلکہ سب سچ ہورہا تھا ----- میں سیدھا امی کے کمرے میں گیا اور جا کر سو گیا....

صبح اٹھتے ہی کالج میں اس راستے جانا تھا مجھے اب اور برداشت نہیں کرنا تھا اب میں اس سب کا مقابلہ کرنا چاہ رہا تھا....

میں پرانی حویلی کے اس راستے پر آکر رُک گیا اور اسکی طرف دیکھنے لگا آخر اس میں کیا راز ہیں.....؟  جو بھی چیز مجھے تنگ کررہی تھی اسکا اس حویلی سے کوئ تو تعلق ضرور تھا....

پہلی بار جب میں خواب میں دیکھا تھا یہی حویلی تھی جسکے سامنے میں کھڑا تھا اور وہ خوفناک اسی حویلی کے اندر تخت پر موجود تھی....

پتا نہیں کیوں دل چاہ رہا تھا حویلی کے اندر جایا جائے اور دیکھا جائے دلچسپی بھی تھی پر خوف بھی آرہا تھا..

یہ سب ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ حویلی اندر سے ایک نقاب پوش لڑکی نمودار ہوئ جو تیزے سے میری طرف بڑھ رہی تھی ---- میں ایک دم ہکہ بکہ رہ گیا اور سائکل تیز تیز چلانے لگا....

میں بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھ رہا تھا وہ نقاب پوش لڑکی اب اسی راستے پر میرے پیچھے پیچھے آرہی تھی...
میں نے سائکل اور تیزی سے چلائ اور آبادی میں داخل ہوگیا پھر پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی نظروں سے اُجل تھی....
میں نے سائکل ایک شاپ پر روکی اور ایک کولڈرنک آرڈر کی سانسیں اور دھڑکن بہت تیز تھی اس قدر خوف طاری تھا مجھ پر...
وہ جیسے ہی حویلی سی نمودار ہوئ تھی جان ہی نِکل گئ تھی...
میں شاپ پے کھڑا بار بار اسی راستے کو دیکھ رہا تھا آدھے گھنٹے سے زیادہ مجھے ہو گیا تھا پر میں آج کالج جانے کے بلکل موڈ میں نہیں تھا....

میں نے پھر اسی راستے پر دیکھنے کے لیے تھوڑہ آگے بڑھا تو وہی نقاب پوش لڑکی تیز قدموں سے چلتی ہوئ میری طرف بڑھتی نظر آئ.....

میں حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا وہ پلکیں جھپکتی ہوئ میرے پاس سے گُزر گئ اور میں منہ ہی دیکھتا رہ گیا....
سائکل وہیں کھڑی تھی میں اس لڑکی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا میں اس سے کافی پیچھے چل رہا تھا وہ بنا پیچھے دیکھے تیز قدموں کے ساتھ بڑھ رہی تھی...

حیرانی کے ساتھ میں رُک گیا وہ لڑکی میرے ہی کالج کی گرلز برانچ میں داخل ہوگئ میں کھڑا بس اسے دیکھ رہا تھا...

پرانی حویلی سے نکل کر کالج میں داخل سب کچھ مزید کنفیوز پر کنفیوز کر رہا تھا...
میں واپس شاپ پر پہنچا بیگ اٹھایا اور ایک چھوٹے سے کلب میں چلا گیا جہاں پر میں نے وقت گزاری کے لیے سنوکر کھیلنے کا فیصلہ کیا....
دو تین گیم ہارنے کے بعد میں واپس وہی شاپ پر پہنچا جہاں پر میں سائکل کھڑی کی تھی------ شاپ والے سے ایک کولڈرنک لی اور کالج سے چھٹی ہونے کا انتظار کررہا تھا...

کچھ دیر گزری ہی تھی وہی نقاب پوش لڑکی مجھے آتی دکھائ دی میں جلدی سے بھاگ کر سڑک کر دوسری طرف جا کر کھڑا ہوگیا میں اس لڑکی کو بہت قریب سے دیکھنا چاہتا تھا....

جیسے جیسے وہ پاس آرہی تھی دھڑکن بڑھ رہی تھی سانسیں بھی تیز ہو رہی تھی اسکی آنکھو کی چمک بھئ محسوس ہو رہی....

افففف-----اللہ ..... جس کو میں ایک چڑیل سمجھ رہا تھا وہ اتنی حسین لڑکی تھی اسکی آنکھیں آپنی طرف کھینچ رہی تھی....

اس نے ہلکا سا مجھے دیکھا اور پھر آنکھیں جکا لیں...

میں اسی کو سوچنے مصروف ہو گیا جب ہوش آیا تو وہ لڑکی کافی دور نِکل چکی تھی...
میں سائکل لے کر اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا آہستہ آہستہ جیسے وہ چل رہی تھی میں بھی یونہی چلتا جا رہا تھا.....
اور پھر وہ لڑکی اسی پُرانی حویلی کے راستے پر مُڑی چلتے چلتے جیسے ہی اندر داخل ہوئ تو نظروں سے اُجھل ہوگئ...

سب سے بڑی حیران کر دینے والی بات یہ تھی یہ اتنی خوفناک حویلی میں کیسے چلی جاتی ہے اور کیا یہ یہیں رہتی ہے سب سوال میرے ادھورے رہ جاتے....

روز ہی میں اس لڑکی کو دیکھتا اور وہ میرے پاس سے گُزر جاتی مجھے پھر بھی یقین نا آتا کے وہ ایک انسان ہے یا کیا ہے....؟
اتنی ہمت بھی نا ہو پاتی کے میں اس سے بات ہی کر لوں ....

آج چھٹا دن تھا چھ دن مکمل ہوچکے تھے میں اس لڑکی کو روز دیکھتا وہ بھی ایک نظر مجھے دیکھتی اور چلی جاتی------ اسی دوران میرے ساتھ کوئ بھی ہادثہ نا پیش آیا تھا جس سے مکمل یقین ہوتا جارہا کہ یہی وہ لڑکی تھی مجھے بار بار تنگ کررہی تھی... اگر یہ سٹوڈنٹ ہے کالج کی تو اسکا بیگ کہاں ہے .....؟ ہر بات شک میں بدل جاتی تھی.....

کالج سے چھٹی ہوئ تو میں اسی راستے سے واپس گھر جا رہا تھا ابھی تھوڑہ آگے نکلا ہونگا میں نے دیکھا سڑک کے کنارے وہی لڑکی بیٹھی ہوئ تھی میں اسے دیکھتے ہی سائک دیمھیں دیمھیں چلانے لگا...

جیسے جیسے اسکے پاس جا رہا تھا وہ میری دُ تیز تیز دھڑک رہا تھا ------ تھوڑہ دور ہی تھا کے میں نے دیکھا وہ لڑکی وومٹنگ کر رہی تھی--------- مجھے دیکھتے ہی ہاتھ سے اشارہ کیا رکنے کیا....

میں تھوڑہ پیچھے ہی رُک گیا وہ آپنا نقاب ٹھیک کر کے میرے پاس آئ کہنے لگی مجھے وہاں تک چھوڑ دوگے پلیز ....
میں نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی تو اسکی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا میں نے جلدی سے پانی کی بوتل بیگ سے نکالی اور اسکی طرف بڑھا دی------ شکریہ کہتے ہی اس نے پانی کی بوتل پکڑی اور ایک گھونٹ پانی پینے کے بعد بوتل مجھے واپس پکڑا دی اور خود میرا بیگ پکڑ کر سائکل کے پیچھے بیٹھ گئ....

میں اسے پیچھے بیٹھا کر سائکل چلا تو رہا تھا پر شدید ڈر رہا تھا اور تیزی سے سائکل چلا رہا تھا-------اتنے میں وہی پُرانی حویلی کے پاس سے گُزرنے لگا تو کہنے لگی یہیں روک دو میں نے جیسے ہی سائکل روکی وہ اتر کر تیز قدموں سے حویلی کی جانب بڑھ گئ اور میں دیکھتا ہی رہ گیا وہ نظروں سے اُجھل ہوگئ....
اسکی آنکھیں اس قدر حسین تھی میں بھول ہی نا پایا تھا ان آنکھوں کو رات بھر اسی کے بارے میں سوچتا رہا وہ اتنی پاس تھی میں پھر بھی نا بات کر سکا....

اگلے روز میں پھر اسی راستے پر تھا اور اس نقاب پوش کا انتظار کر رہا تھا پر وہ ناآئ....
میرا سارا دن انتظار میں گُزرا اسکے نا آنے سے میں پتا نہیں کیوں اتنا بےچین ہو گیا تھا------ میں نے فیصلہ کیا میں حویلی کے اندر جاؤں------- میں حویلی کے راستے پر چلا اور جیسے جیسے حویلی کے قریب پہنچا تو وہی خواب یاد آنے لگا اور میں واپس مُڑ گیا.....

اگلے روز کالج جا رہا تھا تو حویلی کے راستے کے سامنے آکر رُک گیا اور کافی دیر میں وہیں کھڑا رہا پر وہ نقاب پوش آج بھی نا آئ....

زندگی باہر تو بہت اچھی چل رہی تھی نارمل پر اندر سے بےچین بہت تھا..... میں نے آج کلاس لینے کا فیصلہ کیا پر دل نہیں چاہ رہا تھا پڑھنے بس چُپ چاپ بیٹھا رہا...

جیسے ہی چھُٹی ہوئ گھر کے لیے نکلا تو وہی لڑکی واپس جا رہی تھی میں نے اسے دیکھتے ہی سائکل تیز قدموں سے چلانے لگا اور اسکے پاس آکر آہستہ کردی...

تھوڑہ آگے گزرتے ہی میں نے سائکل روک دی ------ یہ اشارہ تھا کے آگر وہ میرے ساتھ بیٹھنا چاہتی ہے تو وہ بیٹھ سکتی ہے....
وہ قریب آئ پیچھے سے بیگ اٹھا کر بیٹھ گئ------- سمجھ سے باہر تھا یہ سب میں کیوں کررہا ہوں...

کچھ راستے بہت خاموشی رہی------پھر اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا آپکا نام احمد ہے.........؟

مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا----- جی..... پر آپکو کیسے پتا...؟

میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا وہ مسکرا رہی تھی ...

میں نے آپکی نوٹ بُک سے آپکا نام پڑھا تھا...... آپکی نوٹ بُک پر کچھ لکھا بھی تھا شائید آپ نے پڑھا نا ہو...؟
میں سائکل روک کر اس س بیگ لیا اورجلدی سے نوٹ بُک نکال کر وہی لائن دکھائ تو وہ ہاں میں سر ہلاتی ہوئ مسکرا دی....
وہ میری حیرانی پر مزید مسکرا رہی تھی اور میں جو کیا سے کیا سوچ کر بیٹھا تھا سب ایک دم بدل چکا تھا ....
پُرانی حویلی کے سامنے سائکل روکی تو وہ اُتر کر چلنے لگی حویلی کی جانب ------ پھر ایک دم واپس مُڑی اور مجھ سے مخاتب ہوئ....

میرا نام سونم ہے------ ڈراپ کرنے کے لیے تھینکس اور مسکرا کر پُرانی حویلی کی جانب چل پڑی.... 


میرا نام سونم ہے------ ڈراپ کرنے کے لیے تھینکس اور مسکرا کر پُرانی حویلی کی جانب چل پڑی.... 
میں مسلسل اسے ہی دیکھتا رہا وہ چلتے ہوئے جا رہی جیسے ہی حویلی کے قریب پہنچی پیچھے مُڑ کر دیکھنے لگی------- مجھے دیکھتے ہی ہاتھ ہلانے لگی اور اشارہ کر رہی کر رہی تھی کے جاؤ بھی.....

میں نے ہلکا سا ہاتھ ہلایا اور آہستہ آہستہ گھر کی جانب بڑھنے لگا...
سونم کو اتنا قریب سے دیکھنا اور اس سے بات بھی کرنا سب بہت اچھا لگا تھا پر وہ مجھے اور بے چین کر گئ تھی میں سارے راستے آہستہ اسی کو سوچتے ہوئے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا....

لو احمد بھی آگیا----- گھر میں داخل ہوتے ہی امی نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا.....
میں سلام کرتے ہی انکے پاس بیٹھ گیا امی فریج سے ایک پلیٹ لے کر آئ جسکے اوپر کیچپ کے ساتھ میرا نام لکھا ہوا تھا....
امی یہ کیا ہے ....؟  یہ فروٹ چاٹ ہے تمہارے لیے بنایا ہے....

واہ امی کیا بات ہے ----- میں نے مسکراتے ہوئے پلیٹ پکڑی اور کھانے میں مصروف ہوگیا....

احمد تمہارے لیے ابھی ایک اور سرپرائزہے------- امی نے نا بتانے والے انداز میں کہا میں نے کہا تو میں نے پلیٹ سائیڈ پر رکھی اور کہا بتائیں پہلے کیا ہے....

کچھ دیر بعد وہ کمرے سے میرا خواب یعنی میرا کیمرہ لے کر آئ کیمرہ دیکھتے ہی خوشی کے مارے پھولا نا سما رہا تھا بار بار کیمرے کو دیکھ رہا تھا....

رات کے گیارہ بج رہے تھے نیند میرے آس پاس بھی نہیں تھی میں مسلسل سونم کے بارے میں سوچ رہا تھا مجھے اس سے محبت ہوگئ تھی....... وہ تھی ہی اتنی حسین کے کوئ بھی دیکھتا اور پاگل ہوجاتا اور مجھے اسکی آنکھوں نے دیوانہ کر دیا تھا------سونم کو سوچتے سوچتے ہی میں سوگیا......

رات کا آخری پہر تھا ہر طرف سناٹا تھا زرہ سی آہٹ سے بھی بہت آواز ہوتی تھی ... ایک دم میرے کمرے کے دونو دروازے کُھل گئے----دروازے کُھلتے ہی سامنے ایک لمبا قد آور انسان کھڑا تھا جسکا فُل جسم آگ میں جُھلس گیا تھا اسکے ہونٹ جل کر سفید دانت باہر کو نکلے ہوئے تھے----- اسکا ناک فُل پچکا ہوا اور آنکھوں کی جگا بلیک ہول بنے ہوئے تھے ---- اسکے جسم کی خون کی نالیاں جمی ہوئ تھے اسکے جسم پر کوئ کپڑا نا تھا------ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میرے قریب آرہا تھا----- اسکے سانس لینے سے گلے کے اندر خراہٹ کی آواز آرہی تھی.... وہ میرا نام عجیب خوفناک آواز سے لے رہا تھا اور چلتے ہوئے پاس آرہا تھا....
میرے بیڈ کی بائیں جانب وہ آکر رُک گیا------احمد میری بات سنو ------ اسکے اوپر نیچے والے جبڑے ہلنے لگے------ آؤ پُرانی حویلی میں جانا ہے....
پھر اسکا ہاتھ میرے ماتھے کی جانب بڑھنے لگا------ جیسے ہی اس نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا میری چیخ نکل گئ اور میں اٹھ بیٹھا------- آپنے آس پاس نظر دوڑائ تو وہاں پر کوئ بھی نہیں تھا....
ابھی خوف طاری تھا مجھ پر کے مسجد کے سپیکروں سے فجر کی آذان سنائ دی...

میں بستر سے اٹھا وضو کر کے مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا ------- مسجد سے واپس آتے ہی ناشتہ کیا اور کالج روانہ ہوگیا....
آج میں کالج پہلے کی نسبت جلدی جا رہا تھا------ چلتے چلتے میں پُرانی حویلی کے راستے پر آکر رُک گیا.... کچھ دیر رُکا ہونگا سامنے سے مجھے سونم آتے دکھائ دی میں نے آپنا دیہان سامنے کی طرف کر لیا...
وہ جیسے ہی قریب آئ مسکراتے ہوئے بنا کچھ بولے سائکل پر بیٹھی گئ.....
احمد آج بہت جلدی نی آگئے تم....؟
اسکے اس سوال پر میں کچھ دیر خاموش رہا...

ہاں-------وہ میں------ ویسے ہی اسی وقت آتا ہوں...

میرے پاس کوئ بھی جواب نہیں تھا آبادی کے قریب پہنچتے ہی وہ جیسے ہی اتری میں نے اسے آواز دی...
سونم............ وہ پیچھے مُڑی تو میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے واپسی پر بھی اکٹھے ہی چلینگے...
ےحححجہججہج
سونم نے اوکے میں سر ہلایا اور چل دی....

واپسی پر وہ مجھ سے پہلے ہی راستے میں کھڑی تھی میں سائکل اسکے آگے روکی تو وہ بیٹھ گئ...

سونم میں نے جب آپکو پہلی بار دیکھا تھا تو میں بہت ڈر گیا تھا------ سونم کو میں نے آپنے دل کی بات تھی جس بات کا خوف تھا..

کیوں احمد مجھ سے ڈر کیسا...؟

سونم آپ وہ پُرانی حویلی میں جب گئ تو مجھے اس حویلی سے ڈر لگتا ہے.... اور اس حویلی کو لے کر میرے زہن میں خیال اچھے نہیں ہیں.... میں نے یہ بات مکمل کرتے ہی سونم سے ایک سوال پوچھ لیا....
کیا آپ اس حویلی میں رہتی ہو...؟ 
نہیں احمد پاگل ہو میں وہاں کیوں رہونگی... وہ چونک کر بولی ...
سونم میں نے آپکو وہاں جاتے دیکھا میں اس لیے پوچھ لیا...
نہیں میں اس سے گُزر کر آگے جاتی ہوں... آگے گاؤں ہیں ہمارا.....
میں حیران ہو کر سونم دیکھنے لگا اور اسکی مسکراہٹ قہقوں میں بدل گئ...
سونم آپ جھوٹ بول رہی ہو.....؟
ہاہاہاہا میں جھوٹ کیوں بولونگی احمد تم اتنے ڈرپوک ہو مجھے پتا نہیں تھا....
میں شرمندہ تھا اسکی اس بات سے------ سائکل پُرانی حویلی کے اس راستے پر روکی تو وہ اتر کر میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئ...
احمد تمہیں اس حویلی سے ڈر لگتا ہے...؟ سونم نے سیریس ہو کر پوچھا تو میں سر جکا کر ہاں کہا...

چلو میرے ساتھ آؤ اس حویلی میں چلتے ہیں...

س....س....س سونم مجھے تم بھی انسان نہیں لگتی ہو....
ہاہاہاہا وہ پھر سے ہنسی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی چلو میرے ساتھ-------ہاتھ پکڑتے ہی کہنے لگی اب تو یقین ہے کے میں انسان ہوں...
میں بھی مسکرا دیا اور سائکل وہیں کھڑی کر کے اسکے ساتھ چلنے لگا چلتے چلتے بہت کرتی جا رہی تھی اور میرا مزاق بنا رہی تھی...
سونم بس کردو..... میں نے کہا تو وہ اور مسکرانے لگی اور میں حویلی کے دروازے کے سامنے رُک گیا....

احمد آؤ اندر کچھ نی ہوتا میں روز یہیں سے گزرتی ہوں----- مجھے پُرانی حویلی کے سب قصے یاد آنے لگے...
سونم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اللہ کا نام لے کر حویلی کے اندر داخل ہو گیا....

میرے اندر داخل ہونے سے ایک دم حویلی میں طوفان سا آگیا ہو ہر چیز حرکت میں آگئ میرا سر چکرانے لگا تھا...

حویلی میں موجود درختوں کے پتے زمین پر گِرنے لگے تھے پرندے درختوں سے اڑھنے لگے تھے------- سر چکرانے کی وجہ سے میں زمین پر بیٹھ گیا....

احمد------احمد ----- کیا ہوا ... سونم میرے قریب آئ.

کچھ نہیں مجھے چکر آگیا تھا اب ٹھیک ہوں..

احمد تم ڈر رہے ہو.....؟ 
نہیں میں نہیں ڈر رہا میں نے ہمت لاتے ہوئے کہا....
پھر'" میں اور سونم ایک درخت کے نیچے ٹوٹے پھوٹے ٹیبل پر بیٹھ گئے........ بہت باتیں کی سونم سے...

سونم مجھے اب چلنا چاہیے کافی وقت ہو گیا ہے میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا--------- ہاں احمد مجھے بھی چلنا چاہیے کافی وقت ہوگیا ہے......

ہم دونو ہی چلتے چلتے حویلی سے باہر نکل آئے----- سونم تم پھر ساتھ واپس جا رہی ہو...؟ 
میں تمہیں وہاں تک چھوڑنے جا رہیں تاکہ ڈر نا جاؤ اور پھر وہ ہنس دی....
اسکی ہنسی دیکھ کر میں بھی مسکرا دیا.....
تھوڑہ آگے آنے کے بعد میں نے اسے واپس جانے کا کہا-----.سونم ہاتھ ملایا اور چل دی.....

اب روز گھنٹوں بات ہوتی تھی میں گھر سے کالج آتا اور سارا وقت سونم کے ساتھ گزار دیتا...
گھر والے بھی میرے چہرے پر ظاہر ہوتی خوشی سے حیران تھے پر کسی کو بھی یہ بات نہیں پتا تھی میں جو گھر سے کالج جاتا ہوں------- پر کہیں اور عشق فرماتا ہوں.....

یہ سلسلہ چلتے چلتے دو مہینے گُزر چکے تھے روز گھر سے کالج آنا اور سونم کے ساتھ وقت گزارنا اور گھر واپس چلے جانا پڑھائ میں تو دل ہی نہیں لگتا تھا....

ایک دن سونم کے ساتھ اتنا مگھن ہوا کے وقت کا پتا ہی نا چلا اس سے اس قدر محبت بھری باتیں ہوئ کے مجھے سونم کا نشا ہونے لگا------- میں نے دل تھامتے ہوئے اسے اظہارے محبت کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کے کتنی محبت ہے سونم ہزاروں مثالیں سنا دی سونم کو....

سونم نے بھی مسکراتے ہوئے محبت قبول کی------ اور پھر قریب آنے لگی------ بہت قریب آئ ------ اتنی قریب کے سانسو تک آ گئ....
میں اور وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے...
احمد تم اس رشتے کو کیا نام دوگے...؟ سونم نے آہستہ سے پوچھا....
میں اس رشتے کو ایک ہی نام دونگا------ کہنے لگی کیا...؟
میں سونم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا...

"""""""پُرانی حویلی کی محبت"""""""

پھر وہ پیچھے ہٹنے لگی اور ایک پتھر لے کے دیوار پر لکھنے لگی """"""پُرانی حویلی کی محبت"""""""
اسکے لکھتے ہی ایک دم تیز ہوا چلنے لگی...
شام کی سیاہی آسمان پر پھیلنے لگی------- آج بہت دیر ہو چکی تھی مجھے یہاں گھر والے بہت پریشان تھے میں اتنا لیٹ کبھی گھر نہیں گیا تھا....

سونم بہت وقت ہو گیا ہے اب مجھے جانا چاہیے----- سونم نے زبان سے نا کچھ بولتے ہوئے سر ہلایا اور میں وہاں سے چل دیا.....

گھر میں پہنچتے ہی سب کی نظر مجھ پر تھی......

احمد کہاں تھے تم ....؟ امی نے میرے پاس آتے ہی کہا-------میرے لیٹ آنے سے سب ہی پریشان تھے..

میں بس دوستوں سے کھیلنے لگ گیا تھا اس لیے لیٹ ہو گیا------ بابا نے بات ہی نہیں کی مجھ سے میں خاموشی سے کمرے میں چلا گیا------ امی نے وہیں پر کھانا دیا میں کھانا کھاتے ہی سونم کے خیالوں میں مزے سے سو گیا.....
رات کے ایک بجے کا وقت تھا میری آنکھ کُھلی تو دل میں گھبراہٹ سی ہو رہی تھی----- میں بستر سے اٹھتے ہی سیدھا کچن میں پانی پینے چلا گیا فریج سے پانی کی بوتل نکال رہا تھا مجھے محسوس ہوا جیسے میرے کندے پر کسی نے ہاتھ رکھا میں چونک کر پیچھے دیکھا تو پیچھے قد آور شخص تھا....
اسکی آنکھوں کی جگہ سوراخ بنے ہوئے تھے اسکے ہونٹ جلے ہوئے تھے سفید دانت بہت خوفزادہ کررہے تھے...

اسکا جسم فُل سیاہ تھا میں نے دیکھتے ہی چیخ ماری اور پیچھے جا گِرا....


اسکا جسم فُل سیاہ تھا میں نے دیکھتے ہی چیخ ماری اور پیچھے جا گِرا....
احمد میری بات سنو------ اسکے جبڑے ہلنے لگے اور گلے سے خر خراتی ہوئ آواز نکلی....
احمد تم آگر اب سونم سے ملے تو انجام اچھا نہیں ہوگا اتنا کہتے ہی وہ شخص ایک دم غائب ہوگیا....
میں پھٹی نگاہوں سے ابھی بھی اسی جگہ دیکھ رہا تھا----- میری کمر پر چوٹ لگی تھی جو بہت درد کر رہی تھی میں آہستہ آہستہ کمرے میں پہنچا----- سب لوگ سو رہے تھے یوں لگ رہا تھا کسی کو میری چیخ سنائ نہیں دی تھی...

میں بستر پر لیٹتے ہی سونم کے بارے میں سوچنے لگا------ سونم سے مجھے بہت محبت ہوگئ تھی....

پر--------پر سونم کا اس سب سے تعلق کیا ہے...؟ 
اور یہ کون ہے جو میرے پیچھے پڑا ہوا ہے کوئ راز ابھی تک کھُل کر میرے سامنے نہیں آیا تھا میں حیران تھا اس سب سے------ اس شخص کی شکل میری آنکھوں کے سامنے بار بار آرہی تھی میں سو ہی نہیں پا رہا تھا....

میں نے فیصلہ کیا کے میں اب سونم کو ساری بات بتا دونگا جو جو ہادثہ پیش آیا سب سونم کے سامنے کُھل کر بیان کردونگا....
اگلے روز میں کالج کی طرف روانہ ہوا اور اور پُرانی حویلی کے راستے پر رُک کر سونم کا انتظار کرنے لگا....

مجھے یہاں انتظار کرتے دو گھنٹے گُزر چکے تھے پر سونم نہیں آئ تھی میں دن بھر انتظار کر کے واپس لوٹ گیا ہمت اتنی نا ہوئ کے میں پُرانی حویلی میں چلا جاؤں میں باہر اسی راستے پر کھڑا انتظار کرتا رہا....

مایوس ہو کر واپس لوٹ رہا تھا مجھے مجھے آواز آئ احمد میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو کوئ نا تھا یہ آواز سونم کی تھی....
مجھے نا نظر آنے پر میں زور زور سے چلانے لگا....

سونم----------سونم

پر میری پکار پر مجھے کوئ جواب نا مِلا وقت کافی ہو رہا تھا میں گھر لوٹنے لگا.....
میری راتوں کی نیند اور دن کا چین برباد ہو چکا تھا دس دن ہو چکے تھے میں سونم سے مِلا تک نہیں تھا....

اسکا یوں اچانک غائب ہو جانا میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا....
میں ہر روز اسکا انتظار کرتا پر وہ نا آتی ہر روز مایوس ہو کر لوٹ جاتا میں....
آج پندرہ دن ہو گئے تھے میں اسی کے انتظار میں بیٹھا تھا اچانک پُرانی حویلی میں سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئ نکلی جو میری طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی اس نے سفید کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا.....

جب وہ تھوڑی قریب آئ تھی سونم میں اسے دیکھتے ہی اسکی طرف بھاگنے لگا------ بھاگ کر میں نے بیتابی سے اسے گلے لگا لیا....

سونم کہاں چلی گئ تھی یار تم......؟

میں گلے لگا کر رونے لگا....

سوری احمد میرے آبو بیمار تھے-----اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا.....
بتا کر بھی تو جا سکتی تھی پتا بھی ہے کتنی ٹنشن میں تھا.....
میں سونم کو ڈانٹ رہا تھا تو وہ ہلکی سی مسکرا کر مجھے چُپ کروانے لگی....
مجھے سونم کی آنکھوں میں کشش نہیں نظر آرہی تھی مجھے پتا نہیں کیوں وہ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی....

احمد آؤ حویلی میں چلتے ہیں----سونم نے میرا ہاتھ پکڑ کر حویلی کی طرف اشارہ کیا....

ہاں چلو میں نے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے...

احمد کیا بات کرنی ہے..... ؟ سونم نے حیرانگی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا.....

پہلے ریلیکس ہو کر بیٹھتے ہیں پھر بات کرتے ہیں .....

وہ مجھے مسلسل بدلی بدلی لگ رہی تھی یا وہ آپنے آبو کی ٹنشن سے نا رہی تھی پُرکشش یا میری آنکھوں میں کچھ تھا------- اسکا لہجہ بھی بہت بدلا بدلا سا تھا...

سونم آبو اب ٹھیک ہیں تمہارے...؟

ہاں ٹھیک ہے.... مجھے گھورتے ہوئے اس نے کہا.....

ہم حویلی کے اندر داخل ہوئے اور اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے...
حویلی کے کمرے کا دروازہ بھی آج کھُلا تھا جو پہلے کبھی نہیں کُھلا تھا.....

حویلی کے اندر سے مسلسل کچھ آوازیں آرہی تھی----- عجیب بیچانی میں تھا دل کو سکون سا نہیں آرہا تھا سونم سے بھی وہ سکون نہیں مل رہا تھا جو مجھے پہلے ملتا تھا....
سونم مجھے پتا نہیں کیوں لگ رہا تم بہت بدل گئ ہو------ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کے وہ ایک دم کھڑی ہوگئ----- اسکے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا....

کیا مطلب احمد.......؟

کچھ نہیں یار مزاق کررہا تھا----- میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ تھوڑی نارمل ہوگئ....

اندر سے آنے والی ہلکی ہلکی آوازیں مجھے عجیب بیچین کررہی تھی....
میں ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا اور سونم سے باتیں کرتے ہوئے اندر کی طرف جانے لگا...
سونم کی کمر میری طرف تھی تو میں باتیں کرتے کرتے جیسے ہی اندر داخل ہوا تو میرا جسم کانپ کر رہ گیا...

اندر زنجیروں سے میں جکڑی ہوئ سونم کی لاش جو چھت سے لٹکی ہوئ ہوا میں جھول رہی تھی-----پورے کمرے میں انسانی جسموں کے ڈھانچے بکھرے پڑے تھے...
سونم کی آنکھیں فُل باہر کو نِکلی ہوئ تھی اور زبان بھی منہ سے باہر لٹک رہی تھی---- اسکا پورہ جسم ایسے تھا جیسے بہت نوچا گیا ہو لٹکتی ہوئ لاش سے خون نیچے زمین پر ٹپک تھا ہوا سے لاش جھومتی تو زنجیروں کی آواز آرہی تھی.....

میری چیخ نکلنے کو تھی میں نے جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا پیچھے مُڑا تو ایک سونم باہر سفید لہنگے میں موجود تھی.....

میری چیخ نکلنے کو تھی میں نے جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا پیچھے مُڑا تو ایک سونم باہر سفید لہنگے میں موجود تھی.....
میرا سر چکرا سا گیا تھا ----- وہ مسلسل بولے جا رہی تھی میں آہستہ آہستہ دور ہٹ رہا تھا اس سے...

میری کافی دیر کی خاموشی سے وہ ایک دم پیچھے مُڑی تو میں پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا....

احمد-----احمد---- وہ میرا نام لیتے ہوئے میرے قریب آرہی تھی....

یہیں رُک جاؤ میرے پاس مت آنا....  میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تو وہ وہیں رُک گئ....

کون ہو تم....؟ میں نے کانپتی آواز سے اس سے پوچھا...

احمد میں تمہاری سونم ہوں------ کیا ہوگیا ہے تمہیں...؟

تم سونم نہیں ہو سونم کی لاش اندر لٹک رہی ہے.... یہ بولتے ہوئے ہی میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے----- تم نے سونم کو مار ڈالا کون ہو تم میں------ میں بہت زور سے چیخا تھا اس بار------ میری آواز سے پوری حویلی گونج اٹھی.....

احمد میری بات سنو-------وہ میرے اور قریب آنے کو تھی میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک دیا....

ہاں مار دیا سونم کو میں نے------ اسکے چہرے پر غصہ دکھائ دے رہا تھا.....

اسکے ان الفاظوں نے میری جان ہی نکال دی میں نے زمین پر گٹنے ٹیک دیے اور آپنا سر جکا کر زور سے رونے لگا....
کیوں مارا تم نے سونم کو اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا...؟ میں نے روتے ہوئے اس سے پوچھا....

احمد جب تمہیں پہلی بار میں نے اس راستے پر دیکھا مجھے تم سے محبت ہوگئ.....
میں یونہی ٹہل رہی تھی دوپہر کو اور میں نے تمہیں جاتا دیکھا تو مجھے تم بہت پسند آئے------- وہ بہت سنجیدگی سے بول رہی تھی اور میرے آنسو آنکھوں سے بہے جا رہے تھے.....
پھر ایک روز میں نے تمہارے راستے میں گلاب کا پھول رکھا تم جب اسے اٹھانے لگے تو میں خود کو روک نا پائ اور تمہارے کندے پر ہاتھ رکھا پر تب تم ڈر گئے تھے....

پھر تم تھکے ہوئے بھی تھے اور اس درخت کے نیچے بیٹھ گئے تب مجھے اور محبت ہونے لگی تم سے------ جب تم سو چکے تھے میں نا تمہارا سر آپنی گود میں لیا اور پیار کرنے لگی....

میں نے تمہاری راہوں میں اتنے پھول بچھائے احمد اتنی محبت دی تمہیں----- اور تم سے محبت اتنی ہوگئ کے میری محبت کے چرچے ہر جگہ ہونے لگے...
یہ بات جب بہت پھیل گئ تو مجھے جنات کے دنیا سے نکال دیا گیا.....
میں اس رات تم سے ملنے تمہارے گھر آئ تو تم سو رہے تھے میں نے نا چاہتے ہوئے بھی تمہیں اٹھایا تو تم ڈر گئے تھے.....
پھر وہ بولتے بولتے خاموش ہو گئ میں پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا....

تم نے سونم کو کیوں مارا ....؟ میں نے چیخ کر کہا...

وہ میری محبت کے درمیان آگئ تھی جو میں بلکل برداشت نہیں کرسکتی تھی----- تم دونو جب یہاں بیٹھ کر بات کرتے تھے میرے سینے پر خنجر چلتے تھے میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی تھی------ میں نے تمہارا روپ لیا اور اسے مار ڈالا......

تم کون ہو اصلی روپ ہے کیا تمہارا.. ؟  میں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا.....
احمد میں اصلی روپ میں آئ تو تم ڈر جاؤگے....

جب تمہیں پتا بھی تھا کے میں تم سے ڈر جاؤنگا تم نے پھر بھی میری سونم کو مار ڈالا------ میری آنکھوں میں پھر سے آنسو آنے لگے میں آپنے ہاتھ زمین پر مار رہا تھا کوئ کانچ کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں لگنے سے خون بہنے لگا....

خون دیکھتے ہی وہ ایک دم لپکی میری طرف------ احمد....
وہیں رُک جاؤ پاس آنے کی ضرورت نہیں میں نے زمین سے اٹھتے ہوئے کہا اور الٹے پاؤں حویلی سے باہر جانے لگا.... 

میں تم سے بدلہ ضرور لونگا تم نے میری زندگی برباد کی ہے اتنا کہتے ہوئے میں حویلی سے باہر نکل آیا....

میرے ہاتھ سے خون مسلسل جاری تھا اور میں رو رہا تھا سارا راستہ روتے روتے کٹ گیا....

گھر پہنچتے ہی امی نے ہاتھ سے خون بہتا ہوا دیکھا تو ایک دم میری طرف بھاگی....

احمد یہ کیسے ہوا ...؟ میری سُرخ آنکھیں بتا رہیں تھی میں بہت رویا ہوں....
کچھ نی چوٹ لگی بس....

میں ہاتھ پر پٹی باندتے ہی آپنے کمرے میں جا کر پھر سے رونے لگا------ میرا سب کچھ چھین گیا مجھے سونم سے بہت محبت ہوگئ تھی اس ظالم نے اسے بھی مار ڈالا...
رو رو کر تھک چکا تھا میرے اندر بدلے کی آگ جل رہی تھی میں نے اس سے بدلا لینے کا فیصلا کیا...
اگلے ہی روز میں کالج بجائے ایک کُتب خانے پر جا پہنچا وہاں پر جنات کی بہت ساری کتابیں پڑی تھیں....

ہر کتاب میں ایک الگ سا طریقہ موجود تھا میں ساری کتابیں پڑھ رہا تھا پھر ایک کتاب مجھے ملی جس میں اس سے بدلا لینے کا بہت اچھا طریقہ موجود تھا....

میں نے وہ کتاب خرید کر بیگ میں ڈالی اور گھر کی جانب چل پڑا...
گھر پہنچتے ہی میں نے وہ کتاب چھپا دی اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگا.....
رات کا کھانا کھا کر میں نے آپنے کمرے کو اچھی طرح سے بند کر لیا اور  کتاب نکال کر اسے پڑھنے لگا اور سارا. طریقہ بہت اچھے سے سیکھ لیا....

اب وقت تھا اس سے بلا لینے کا میں فُل تیاری کے ساتھ گھر سے کالج کے لیے نکل پڑا....

اب میں پُرانی حویلی کے اسی راستے پر کھڑا ہوں....

اتنا کہتے ہی بابا جی نے پُرانی بوسیدہ سی ڈائیری بند کردی....
میں جو یہ کہانی سُن رہا تھا ایک دم چونکا بابا جی آگے بھی سناؤ نا احمد نے پھر کیا کیا...؟

بابا جی کافی دیر خاموش رہے پھر بولے....

احمد جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا وہ سونم کے روپ میں ہی بیٹھی تھی احمد کو دیکھتے ہی ایک دم کھڑی ہوگئ....

احمد مجھے پتا تھا تم آؤ گے--------احمد نے اسے غصے دیکھتے ہوئے کلمات پڑھنے شروع کردیے جو رات بھر اس نے یاد کیے تھے....

احمد کے کلمات پڑھتے ہی اسکے جسم میں آگ لگ گئ اور وہ ایک بہت خوفناک شکل اختیار کر گئ.....

احمد مجھے معاف کردو-------احمد مجھے معاف کردو...

وہ مسلسل چیخ چیخ کر احمد سے معافی مانگ رہی تھی اسکا پورہ جسم آگ کی لپیٹ میں تھا ----- اسکی چیخوں سے پوری ہویلی کانپ رہی تھی....

کچھ دیر بعد وہ جل کر راکھ ہوگئ اسکے جلنے کی بدبو پوری حویلی میں پھیل گئ....

اسکے جلنے سے احمد بھی چیخ چیخ کر رونے لگا اور اندر کی طرف بھاگا جہاں سونم کی لاش لاٹک رہی تھی....

احمد سونم کے پاؤں سے لپٹ کر رو رہا تھا زور زور سے ایک دم جھٹکا کھا کر زمین پر گِر گیا اور پُرانی حویلی میں ہی احمد کی جان نکل گئ....

ختم شد
Reactions:

0 comments:

Post a Comment