Thursday, June 18, 2020

faram k chand din urdu novel by jia mugal downlod pdf

فارم ہاؤس کے چند  دن ۔
جیا مغل ۔ 

 اتوار کا دن تو سبزی منڈی کی طرح ہی ہوتا ہے ہمارے گھر ۔حنا بیگم ماچس دھونٹتے ہوۓ بڑبڑا رہی تھیں ۔ 

اللہ‎ جانے کدھر رکھ گئی ہیں ۔ 
https://www.moviesprofit.com/watch.xml?key=66a2047a1d01aa4177ecac13247a7c2a زرین ۔ رمشہ ارے کوئی ماچس لاؤ اتنا دن چڑ ھ آیا ۔ 
ناشتہ بناتے ہوئے حنا بیگم بول رھی تھیں ۔ 
آج ہم ناشتہ لاؤنج میں ہی کرینگے حنا  بیگم ۔ سرمد آغا نے وہیں سے آواز لگاتے ہوئے کہا ۔ 
 بچے گند بہت ڈال دیتے ہیں وہاں سب ٹیبل پر ہی آ جایں نا ساتھ ساتھ دیتی جاؤں گئی ۔ 
نہیں حنا  بیگم آج ہم سب ایک ساتھ ہی ناشتہ کریں گے کیوں کہ میں ایک اہم بات  کرنا چاهتا ہوں سب سے ۔اور میں چاهتا ہوں سبکے تاثرات بھی جان سکوں ۔ تو ناشتہ یہیں لے آیئے ۔ 
https://www.moviesprofit.com/watch.xml?key=66a2047a1d01aa4177ecac13247a7c2a سرمد آغا صمد آغا اور سلمان آغا تینوں بھائی ایک ہی گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہی تھے ۔ 
تینوں بھائیوں کے تین چار چار بچے کل ملا کر  سترہ فمیلی ممبر  بنتے تھے ۔ 
ont-size: large;">ناشتے کے دوران سرمد آغا نے ایک عجیب و غریب اعلان کردیا ۔ 
میں زرین کی شادی اپنے فارم ہاؤس میں ہی کروں گا ۔ 
کیا ۔۔۔۔سب کے منہ حیرت سے کھل گئے ۔ 
یہ کیسا مذاق ہے زرین کے بابا  حنا  بیگم نے خفگی سے کہا ۔ 
بچوں میں سے بھی کچھ نے مخالفت کی ۔اور کچھ نے  خوشی کا اظہار کیا ۔ 
صمد آغا اور سلمان آغا نے بھر پور تائید کی ۔ کہ یہ فیصلہ بالکل سہی ہے ۔ 
سعد اور زیشان نے بھی خوشی کا اظہار کیا جبکہ رمشہ عفت رانی اور صائمہ نے خوب شور ڈالا ۔ 
نہیں تایا جی پلیز ۔ ہم نے سنا ہے فارم ہاوس میں کسی چیز کا سایہ ۔ جنوں کا ذکر بھی سنا ہے ہم نے ۔ اور وہ ھے بھی بیحد دور جنگلوں کے وسط میں ۔ دور دور تک کوئی گھر بھی نہیں وہاں ۔ 
لوگوں نے کہانی بنائی ہوئی ہے ۔ ایسا ویسا کچھ بھی نہیں وہاں پر ۔ سرمد آغا نے جواب دیا ۔
لیکن تایا جی حنا  تائی جی نے ہمیں بتایا تھا کہ زرین جس کمرے میں پیدا ہوئی تھی اس کمرے میں کوئی تھا  ۔ اور اس کمرے کو  ہمیشہ کے لیے لاک کر دیا گیا تھا ۔ تاکہ جو کوئی بھی ھے اس کے اندر ہی رھے باہر نا آ سکے ۔ رمشہ نے بتایا ۔ 
بیٹا آپ کی تائی جی  کی بنائی ہوئی باتیں ہیں یہ ۔ میں نے خود یہ دروازہ کھولا تھا ۔ کچھ ضروری سامان رکھا اور پھر بند نہیں کیا ۔ ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا ۔ 
پر وہ تو اتنا دور ہے اگر ہمیں کسی ضروری چیز کی ضرورت پڑ گئی تو کون  تین چار گھنٹے کا سفر کر کے آئے گا لینے۔  اس  جنگل بیابان  سے ہمیں کچھ نہیں ملنے والا ۔ بیگم سلمان نے بھی مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔ 
ہم سوچ سمجھ کر اپنا سارا سامان لیکر جائیں گے اور پھر بھی اگر کچھ رہ گھا تو ہم
بتا کر سبکو مطمن کر دیا ۔  
زوشی نے کہا مطلب ہم جنگل میں منگل منائیں گے۔ 
سب نے اسکی ہاں میں  ہاں ملائی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔  
le="font-size: large;">ویسے اگر آپ سب سوچیں تو مزہ اے گا ایسے ۔ شادی کی شادی اور تفریخ الگ ۔ سلمان آغا نے کہا ۔ 
ناشتہ ختم ہوتے وقت تک سب فارم ہاؤس جانے کے لیے تیار ہو گئے ۔
زرین سرمد آغا کی سب سے بڑی بیٹی ہے ۔ خاندان بھر کی لاڈلی ۔ اللہ‎ تعالیٰ کی خاص مہربانی رھی اس پر ۔ بچپن سے اب تک هر چیز بن مانگے ملی ۔ هر خواہش
پوری ہوئی ۔ خوش مزاج اور نٹ کھٹ سی زرین اکیلے بیٹھے ہی کھیلتی رہتی تھی ۔ 
پڑھائی میں نمبر ون رھی ۔ هر کام میں پرفیکٹ ۔ اللہ‎ جانے کیوں لگتا تھا جیسے یہ  دنیا میں انے سے پہلے تمام کام سیکھ کر آئی ہو ۔ زرین کی پھرتی سے اکثر یہی لگتا تھا جیسے کام کو ٹال رھی ہو ۔ لیکن کام کی نفاست اسے داد دینے پر مجبور کر دیتی ۔ 
اسکول کے اساتذہ بھی حیران تھے کہ وہ جو پڑھاتے ہیں زرین کو پہلے سے آتا ہوتا تھا ۔ 
پپیرز میں کوئی ایسی غلطی نہیں ہوتی تھی کہ ایک نمبر بھی کاٹا جا سکے ۔ ہمیں تو زرین ایک غیر معمولی لڑکی لگتی ہے ۔  
اساتذہ کی اس بات سے گھر والے بھی اتفاق کرتے تھے ۔ کیوں کہ زرین کو کبھی کچھ سکھانا پڑھانا نہیں پڑتا تھا ۔ 
هر کام میں ماہر اور پھرتی سے کرنا ۔ اسکا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ۔ 
اب اسکی شادی بھی اچھی سی پلاننگ کے ساتھ ہونے چلی تھی ۔ 
لڑکا ایک انتہائی بڑے خاندان سے تھا ۔ لڑکے کا باپ کا اپنا کاروبار تھا ۔ اور پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا ۔ 
زرین ان لوگوں کو پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی ۔ حالآنکہ سلمان آغا نے ایک مرتبہ مداخلت  بھی کی ۔ کیوں کہ انھیں یہ رشتہ مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔ پر ان لوگوں کی بڑھتی دلچسبی  ختم نا ہو سکی اور بالآخر رشتہ طے پا گیا ۔ اور اب شادی جلد ہی ہونا تھی ۔ زرین اس سلسلے میں مطمن اور خاموش رھی ۔ اس نے کہیں بھی اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ۔ 
اور اب فارم ہاؤس میں شادی یعنی جنگل میں منگل ہونے جا رہا تھا ۔ اور یہ ایک انوکھی تقریب جو فارم ہاؤس میں ہونے جا رھی تھی ۔ 
پروگرام کے مطابق  اگلے اتوار کی صبح آٹھ بجے  سرمد آغا ۔ صمد آغا اور صمد آغا کے بیٹے رضی اور سعد کچھ ضروری سامان کے ساتھ فارم ہاؤس نکل پڑے ۔ حنا بیگم اور بیگم صمد نے تین چار سالن بنا دیے تھے ساتھ لیجانے کے لیے ۔ اور روٹیاں راستے میں کسی بھی تنور سے لی جا سکتی تھیں ۔ 
ویسے تو فارم ہاؤس کے ارد گرد کچھ گھر بھی تھے جہاں مقامی لوگ آباد تھے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے فارم ہاؤس اب اتنا بھی  ویران  نہیں رہا تھا ۔ لوگوں نے وہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیا جمع کر رکھی تھیں ۔ 
اندازہ  تو یہی تھا کہ بارہ ایک بجے کے قریب وہاں پہنچ جائیں گے ۔ موسم خاصا خوشگوار تھا ۔ 
دھوپ جسم کو حرارت بخش رھی تھی ۔ جس سے سفر خاصا خوشگوار لگنے لگا ۔  فارم ہاؤس جانے والے راستے بھی صاف ستھرے اور سڑک کشادہ تھی ۔  
فارم ہاؤس پہنچ کر کیا کیا کام کرینگے اس موضوع پر چاروں باتیں کرتے ہوئے جا رھے تھے ۔ 
تینوں بھائیوں کا مشترکہ فارم ہاؤس چھ کنال کے رقبے پر مشتمل تھا ۔  اس میں عورتوں اور مردوں کیلیے الگ الگ پورشن تھے ۔ دونوں اطراف میں بارہ بارہ کمرے ملحقہ باتھ روم ۔ جبکہ ان دونوں پورشن کا لاؤنج مشترکہ تھا ۔ملازمین کیلیے تین کمرے الگ سائیڈ پر بنائے گئے تھے ۔ 

وہاں پہنچنے کے بعد تمام کمروں کی جھاڑ پونچھ صفائی کروانا پھر پورے فارم ہاؤس میں بتیاں لگانا ۔ بسترے کچن وغیرہ سب کام شامل تھے ۔ گھر سے نکلے ڈیڑھ دو گھنٹے  ہو چلے  تھے  ۔ اب کچھ کچھ بھوک کا احساس ہونے لگا تو راستے میں کسی ایک ہوٹل کے قریب گاڑی کھڑی کرکے سعد نے روٹی لی اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سب نے کھانا کھایا ۔
کھانا کھانے کے فورا بعد پھر  اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے ۔ 

فارم ہاؤس ابھی کافی دور تھا اور وقت گزارنے کیلیے سعد نے پوچھا ۔ تایا جی کیا واقع ہی اس کمرے کی کوئی کہانی ہے جہاں زرین پیدا ہوئی تھی ۔ 
کچھ کہہ نہیں سکتا یار ۔ بیس سال گزر گئے اس بات کو اب ۔ 
پر اتنا ضرور ہوا تھا کہ زرین نے پندرہ دن کچھ کھایا پیا نہیں تھا ۔ پریشانی کا یہ عالِم تھا کہ ہم دونوں میاں بیوی بڑی مشکل سے ایک دو چمچ کھانا کھلاتے تو یہ الٹی کر دیتی اور اس کی الٹی میں مختلف چیزیں نکلتی جو ہم نے پکائی ہی نہیں ہوتیں ۔ 
پندرہ دن ایک بچہ کھائے پیے بغیر تو نہیں رہ سکتا ۔ 
ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا ۔ بچی بالکل صحت مند ھے ۔ اور اس کا معدہ خوراک سے بھرا ہوا ہے ۔ 
یعنی کوئی تھا جو اسے کھلاتا رہتا تھا ۔اور اکیلے بیٹھے کھیلتی رہتی تھی ۔ ہنستی مسکراتی تھی ۔ دن بدن اسکا رحجہان ہماری طرف کم ہوتا جا رہا تھا ۔ پھر ہم نے یہاں سے نکلنے کا سوچا ۔ تب زرین غائب ہو گئی تھی اور بہت ڈھونڈھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ یہی اسی گھر میں ھے لیکن ہماری نظروں سے اوجھل ھے ۔ ایک اللہ‎ والے نے مشورہ دیا تھا کہ زرین کے کمرے میں آئینے لگا دیں ۔ جب ہم نے چاروں جانب آ
ئینے لگائے زرین ہمیں نظر آنا شروع ہو گئی ۔ تب ہم اسے لیکر شہر منتقل ہو گئے ۔ 
یہ سن کر رضی بھی خوفزدہ ہو گیااور کہا کہ  پھر تو آپ نے غلطی کر دی ۔ یہاں شادی کا پروگرام رکھنا ہی نہیں چاهیے  تھا آپ کو ۔ ۔ 
سرمد آغا نے ہنس کر کہا ۔ یار اب تو کئی سال گزر گئے ۔ وہ بات وہیں ختم ہو چکی تھی ۔ 
فارم ہاؤس پہنچنے کے لیے  ایک گھنٹہ اور درکار تھا ۔ تین گھنٹے باتوں اور سفر میں اچھے گزر گئے پتا بھی نہیں چلا ۔ تمام راستہ بارونق رہا گاڑیوں کی آمدورفت بھی چلتی رہی ۔ 
اب جس سڑک پر پہنچے یہ سڑک فارم ہاؤس کی طرف مڑنے لگی ۔ یہاں دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں ا رھی تھی ۔ مقامی لوگ اکا دکا دکھائی دے رہے تھے اور کچھ عورتیں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں ۔ سڑک کی دونوں اطراف میں کچھ کچے پکے مکان بھی موجود تھے ۔ چند فاصلوں پر چھوٹے موٹے کریانہ سٹور بھی دکھائی دیئے ۔ 
یہ سڑک بیشک سنسان تھی لیکن بہت خوبصورت اور کشادہ تھی ۔ رضی اور سعد کو کافی تسلی ہوئی کہ فارم ہاؤس کی اطراف خوبصورت اور کشادہ ہیں ۔ چاروں  طرف گھنے جنگلات کا حسن انہیں اور بھی متاثر کر رہا تھا کہ ا
چانک گاڑی ایک بریک کے ساتھ رک گئی ۔ گاڑی کے بالکل سامنے سے ایک ضعیف عورت گزر گئی  سرمد آغا نے بریک لگائی تو عورت نظروں سے اوجھل ہو کر انکی سائیڈ پر شیشے پر دستک دینے لگی ۔ 
پیلے پیلے دانت نکالے ہنستے ہوئے کہا  ۔ 
صاحب ۔صدقہ تو دیتے جاؤ۔ اب تو آنا جانا بھی لگا رھے گا ۔

سرمد آغا اور صمد آغا نے جب اسکی طرف دیکھا تو حیران رہ گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ صدقہ دیتے اس عورت نے انتہائی غصے سے شیشے پر ہاتھ مارا اور  کہا ۔ سنبھال کر رکھ اپنے پاس تجھے کام اے گا ۔ اور بھاگتی واپس چلی گئی ۔ رضی اور سعد کی نظریں کافی دور تک اسکا عورت کا پیچھا کرتی رھی ۔ ایک مقام پر وہ غائب ہو گئی ۔ 
صمد یاد کرو اس عورت کو اس سے پہلے کہاں دیکھا تھا ہم نے ۔ 
صمد نے کہا ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ دیکھی ہوئی لگتی ھے ۔ دونوں نے ذہن پر بہت زور دیا مگربے سود ۔
رضی اور سعد بھی انکی باتوں میں حصہ لینے لگے ۔ابھی اسکا ذکر ہو ہی رہا تھا کہ گاڑی ایک جھٹکے سے پھر رک گئی ۔ سرمد آغا کی  کوشش  کے باوجود گاڑی سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رھی تھی ۔ رضی کو کافی معلومات تھی کہ گاڑی کے متعلق ۔ 

atOptions = { 'key' : '190dba851078b42b0fb086a97ec6936c', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} }; document.write('');

اسنے بونٹ کھول کر چیک کیا ۔ انجن بھی صحیح  حالت میں تھا بظاھر کوئی خرابی نظر نہیں آ رھی تھی ۔ ایک گھنٹے کا راستہ طویل ہوکر  اب کئی گھنٹوں میں بدل گیا ۔ 
شام کے چار بجنے کو تھے اور گاڑی سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رھی تھی ۔ رضی سعد اور صمد آغا نے گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کی مگر بے سدھ ۔ 
چاروں تھک چکے تھے اور کچھ دیر ایک درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گئے ۔ 
اچانک انکے سامنے سے وہی عورت گزری ۔ اس کے دونوں طرف  دو چھوٹے چھوٹے بچے انگلی پکڑ کر چل رہے تھے ۔ دونوں کے چہرے ڈھکے ہوۓ تھے ۔ 
عورت پاس سے گزری اور بولی ۔ 
کہا تھا نا کہ صدقہ دیتے جاؤ ۔ اتنا کہہ کر وہ ایک بڑے سے درخت کے پاس سے گزری اور درخت کے پیچھے غائب ہو گئی ۔ 
سرمد آغا ایک دم چونک پڑے ۔ اور بولے ۔ 
یاد کرو صمد یہ الفاظ ۔ یہ عورت جانی پہچانی ھے ۔ کون ھے یہ ذہن پر زور دو ۔ 
ابھی یہ باتیں کر ہی رھے تھے کہ گاڑی خود بخود سٹارٹ ہو گئی ۔
چاروں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور گاڑی کیطرف چل پڑے ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی رضی نے کہا ۔ تایا جی میری مانیں تو فارم ہاؤس میں شادی کا پروگرام ختم   کر دیں ۔مجھے یقین ہو چلا کہ کوئی نا کوئی مسلہ ضرور ہوگا ۔ 
سرمد آغا نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اور چپ چاپ ڈرائیو کرنے لگے ۔ اور دل میں سوچنے لگے رضی صحیح کہہ رہا ھے ۔پر مجھے کیوں ایسے محسوس ہو رہا جیسے مجھے کوئی طاقت کھینچے جا رھی ھے ۔ 
اب انہیں فارم ہاؤس پہنچنے کی  جلدی تھی ۔ تاکہ اندھیرا پھیلنے سے پہلے اپنے ٹھکانے تک پہنچ جایں ۔ 
سڑک تمام راستہ صاف ستھری اور کشادہ رھی ۔ اسکے باوجود  سفر طویل ہوتا جا رہا تھا ۔ 
صمد آغا نے خیال ظاہر کیا کہ کہیں ہم راستہ نا بھٹک گئے ہوں ۔ کیوں کہ دونوں لمبے عرصے تک یہاں نہیں آ سکے تھے ۔ڈرائیو کے دوران  بار بار انکی نظروں سے ایک ہی بورڈ گزر رہا تھا ۔ پیٹرول کی سوئی بھی آخر تک پہنچنے کا اشارہ  دے رھی تھی ۔بات  سمجھ سے باہر ہوتی جا رھی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا ۔ 
کافی دور  ایک نیا بورڈ نظر آیا  صمد آغا نے کہا کہ گاڑی روکیں میں اسپر پڑھنا چاهتا ہوں کہ یہ سڑک کہاں جا رھی ھے ۔ 
 بورڈ کے قریب انے پر صمد آغا نیچے اترے اور جیسے ہی بورڈ پر سے کچھ پڑھا بھاگتے گرتے پڑتے گاڑی میں بیٹھ گئے اور اپنی اکھڑی سانسیں بحال کرنے لگے اور بولے ۔ 
لگتا ہم کسی مصیبت میں پھنس گئے ہیں ۔سبکے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ بورڈ پر یہی لکھا تھا ۔ 

کہا تھا نا صدقہ دیتے جاؤ۔  
اب سب  آیت الکرسی کا ورد کرنے لگے۔ اگر پیٹرول ختم ہوا تو اگے جانا انتہائی دشوار ہو جاتا ۔ سرمد آغا نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔ کچھ گز دور انہیں فارم ہاؤس نظر ا گیا ۔ اسوقت  ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل رہا تھا ۔  سب نے دیکھا فارم ہاؤس پر بتیاں قمقمے جل رھے تھے ۔ پورا فارم ہاؤس دلہن کی طرح سجا ہوا تھا ۔  روشنیوں کا یہ عالِم تھا کہ آس پاس کے درخت بھی دکھائی دے رہے تھے ۔فارم ہاؤس کی خوبصورتی ایسے  تھی جیسے بالکل نیا نیا تعمیر کیا گیا ہو ۔ 
چاروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔ 

سرمد آغا نے بتایا کہ فارم ہاؤس میں کچھ ملازم ہیں تو سہی پر انھیں کیا معلوم کہ ہم یہاں آ رھے ہیں ۔ ایسا کیا ماجر
ا ھے کہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا ھے ۔
رضی نے کہا کہ ایسا نا ہو کہ ہمارے فارم ہاؤس میں کوئی ہماری غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر فنگشن کر رہا ھے۔ ہو سکتا ھے کسی جن کی شادی ہو رھی ہو ۔ 

چلو دیکھتے ہیں پہنچ تو گئے ہیں ہم ۔ سرمد آغا نے گیٹ کے پاس جا کر زور زور سے ہارن دیا تاکہ کوئی ملازم قریب ہو تو گیٹ کھول دے ۔ کچھ دیر بعد ہی گیٹ کھل گیا اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے سب نے دیکھا کوئی ملازم نظر نہیں آیا ۔ گیٹ کھولتے ہی غائب ہو چکا تھا ۔ سبکو برا بھی لگا اور حیرت بھی ہوئی ۔ 
چاروں نے اپنا سامان گاڑی سے نکالا اور صدر دروازے سے اندر جانے کیلیے جیسے ہی اگے بڑھے دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا ۔ 
سب نے اندر داخل ہونے کے بعد ادھر ادھر دیکھا یہاں بھی دروازہ کھولنے والا نظر نہیں آیا ۔ 
سعد کافی خوفزدہ ہو گیا ۔اور بولا یہ جن نے دروازہ کھولا ہوگا تبھی تو نظر نہیں آیا ۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہمیں واپس چلے جانا چاہئے کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی جن کی شادی ہو رھی ہو یہاں ۔ 
سعد نے کیا تو مذاق تھا مگر اس کی بات سنکر کسی کے ہنسنے کی آواز صاف سنائی دی گئی ۔ 
چاروں چلتے ہوئے مردوں والے حصے میں پہنچ گئے ۔ یہاں ایک پرانا ملازم نظر آیا جس نے فورا گڑ بڑا کر سلام کیا جیسے غیر متوقع آمد پر حیران ہو گیا ہو ۔ اور سبکو آرام کا کہہ کر چائے پانی کا بندوبست کرنے چلا گیا ۔ 
اتنی دیر میں سب نے دیکھا کمرے انتہائی نفاست سے سجے ہوئے تھے ۔ تازہ تازہ دیواریں پینٹ کی گئی تھیں ۔ تمام کمروں میں نیا سامان بھی رکھا گیا تھا۔ لاؤنج میں ایک بہت بارہ فانوس جس میں سو کے بھی زیادہ بلب لگی تھے  ۔چلتے ہوئے عورتوں والی سائیڈ آ  گئی ۔ 
یہی حال زنانہ سائیڈ پر تھا ۔ تمام کے تمام کمرے سجے ہوۓ ۔ هر کمرے میں بھاری پردے لٹک رھے تھے ۔ 
سرمد آغا نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ یہ فارم ہاؤس ہمارا ھے ۔ ہم کہیں غلط گھر تو نہیں آ گئے ۔ اتنے میں ملازم چائے اور کچھ کھانے کیلیے چیزیں بھی لے آیا۔   چاروں نے ملازم کی لائی ہوئی چائے پی کچھ پوچھنے کی سکت نہیں تھی پھر بھی انہوں نے ملازم سے پوچھا ۔ 

ہاں بھئی سناؤ یہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا کیوں ھے ۔ ملازم جواب دیے بغیر واپس چلا گیا ۔ 
صمد آغا نے مشورہ دیا کہ صبح ہم اس بات کا پتہ چلا لینگے ابھی تو اتنی سکت نہیں بات بھی کر سکیں اور چاروتھکن سے نڈھال  سو گئے ۔ 

صبح دروازہ بجنے کی آواز سے سبکی آنکھ کھلی تو سعد نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے وہی ملازم کھڑا تھا ۔ 
صاب ناشتے میں کیا کھانا پسند کرینگے ۔ ملازم نے پوچھا ۔ سرمد آغا نے کہا

فلحال جو ھے لے اؤ ۔ اور جلدی آنا ۔ 




ملازم نے حکم کی تعمیل کی اور جلد ہی بڑی بڑی ٹرے میں آملیٹ  پراٹھے اور چائے لیکر ا گیا ۔ 
ناشتے سے فارغ ہو کر صمد آغا نے پوچھا باقی کے ملازم کہاں ہیں سبکو بلا لاؤ کچھ باتیں کرنی ہیں ۔  ۔ ملازم صابر نے کہا سرکار باقی سب آج ہی دوسرے گاؤں گئے ہیں ۔ ہمارے کریانہ سٹور  کا سامان ختم ہو چکا تھا ۔ کل صبح تک سب واپس آ جائیں گے ۔ 
اچھا یہ بتاؤ ۔ یہاں کوئی آیا تھا کیا ۔ رضی نے پوچھا ۔ 
نہیں جناب یہاں تو سالوں سے کوئی بھی نہیں آیا ۔ نا ہی آپ لوگوں میں سے کوئی آیا ۔ صابر نے جواب دیا ۔ 
اچھا تو پھر یہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا کیوں ھے ۔ رضی نے پھر پوچھا ۔ 
جناب جی آپ کے بندے نے ہی کیا ھے چند گھنٹے پہلے ۔ صابر نے کہا ۔ 
کونسے بندے نے اب سعد نے بھی  تحقیق شروع کر دی ۔ 
جناب جی شہر سے ایک بندہ آیا تھا ۔ اس نے بتایا تھا کہ
سرمد آغا نے بھیجا لائٹین لگا کر سجانا  ھے کیوں کہ انکی بیٹی کی شادی ھے ۔ 
چاروں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا اور خاموش رھے ۔
اسی نے سارا فارم ہاؤس صاف کیا ۔ نیا سامان رکھا اور پرانا باہر پھینک دیا ۔ حیرت تو یہ ھے کہ اس نے سارا کام آپ کے انے سے چند لمحے پہلے ہی کیا  ۔ 
بس اسکا کام ختم ہوا اور آپ داخل ہونے ۔ صابر نے بتایا ۔ 
اچھا ابھی تم جاؤ جب ضرورت ہوگی بلا لینگے ۔ 
صابر کے جاتے ہی آغا صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ھے کہ سلمان آغا نے سرپرائز دیا ہو بندہ انہوں نے بھیجا ہو ۔ 
یہ سوچ کر صمد آغا نے فون ملایا ۔ سگنل نا ہونے کی وجہ کال نہیں لگ سکی ۔ باری باری چاروں نے کوشش کی مگر بے سدھ ۔
صمد آغا نے سوچا پورے ہاؤس کا چکر لگا کر  جائزہ لیا جاۓ ۔ کہ یہاں شادی کرنا مناسب ھے بھی یا نہیں ۔ہاؤس کے اندرونی حصہ کافی سنوارا ہوا تھا ۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد سب گھر فون کرتے رہے مگر وہی سگنل پرابلم اتا رہا ۔ ہاؤس کو حیرت انگیز طور پر سجایا گیا تھا ۔ 
کافی زیادہ خرچہ کیا گیا ھے ۔ صمد آغا نے بغور جائزہ لینے لے بعد کہا ۔ پر مجھے ایسا نہیں لگتا کہ سلمان آغا نے یہ سب کیا ہو ۔ 
اندرونی جائزہ لینے کے بعد سب باہر نکل آئے ۔ رضی اور سعد تیز تیز پورے حصے کو دیکھ لینا چاہتے تھے ۔ صبح کی روشنی میں فارم ہاؤس کسی پیلس سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ اب انکا خوف بھی ختم ہو چکا تھا  ۔ بس ایک ہلکی سی بے چینی کہ اسے اتنا سجایا گیا ۔ کب اور کیوں ۔ 
ان سبکو یقین تھا کہ یہ سلمان آغا نے ہی سرپرائز دیا۔  اور فون پر بات کرنے کے بعد مطمئن ہو جائینگے ۔ 
 چلتے چلتے سعد اور رضی ہاؤس کی بالکل پچھلی سمت تک پہنچ گئے ۔ یہاں لائن سے گھنے درخت لگے تھے ۔ خاردار جھاڑیاں بھی موجود تھیں ۔ یہ سائیڈ انتہائی خوفناک منظر پیش کر رھی تھی ۔ اس سائیڈ پر کوئی حد نہیں تھی اور سامنے گھنے جنگلات صاف نظر ا رھے تھے ۔ 
درمیان میں صرف ایک باڑ تھی جسے آسانی سے پھلانکا جا سکتا تھا ۔ 
رضی اور سعد چلتے ہوئے اس حصے پر پہنچ گئےاور اپنا اپنا خیال ظاہر کرنے لگے کہ یہ سائیڈ خاصی خوفناک ھے یہاں سے جنگل کے جانوروں کا انے کا اندیشہ ہے ۔ لہٰذا اس جگہ مضبوط دیوار بنا لینی چاہئے ۔ 
ابھی یہ جائزہ لے ہی رھے تھے کہ رضی کی نظر کچھ کھودی ہوئی زمین پر پڑی جیسے تازہ تازہ کھودا گیا ہو ۔ 
دونوں جب اس جانب بڑھے تو حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔ زبان گنگ ہو کر رہ گئی دونوں نے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھا اور کہا ۔کیا تم بھی وہی دیکھ رہے ہو جو مجھے نظر آ رہا ہے ۔ سعد نے رضی کی ہاں میں ہاں ملائی  اور وہاں سے سرپٹ دوڑ لگا دی ۔

دونوں ہانپتے کانپتے گھر کے اندر داخل ہوۓ  تو پسینے سے شرابور ہو چکے تھے ۔ صمد آغا کے پوچھنے پر رضی نے بتایا کہ وہ چلتے ہوئے ہاؤس کی پچھلی سائیڈ پر نکل گئے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ پچھلی سائیڈ  پر  دیوار نہیں صرف باڑ لگی ہوئی تھی اور وہاں سے جنگلی جانوروں کے آجانے کا خطرہ ھے ۔ پھر ہماری نظر ایک ایسی جگہ پر پڑی جہاں زمین کو تازہ تازہ کھودا گیا ہو ۔ہم  وہاں تک پہنچ گئے اور دیکھا وو چار قبریں کھودی ہوئی تھیں اور ان پر قطبے بھی لگے ہوئے تھے ۔ ان  قطبوں پر ہم چاروں کے نام لکھے ہوۓ تھے ۔ رضی بات بتاتے ہوئے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو ا چکے تھے اور اس نے کہا ۔ تایا جی ہمیں یہاں سے جلد نکل جانا چاہئے ۔ پلیز یہاں شادی کا پروگرام ختم کر دیں ۔سرمد آغا نے رضی کی بات مان لی اور واپسی کی تیاری کرنے لگے ۔ 
انہوں نے اپنا سامان گاڑی میں واپس رکھا اور ملازم کو بلا کر کہا کہ وہ واپس جا رھے ہیں ابھی ۔ تم ہاؤس کا خیال رکھنا ۔  

ملازم نے کہا جیسے آپ کی مرضی ویسے شادی کب تک ھے ۔  سب لوگ کب تک  پہنچ جائیں گے ۔ 
صمد آغا نے کہا یہ جگہ کافی دور ھے اور ہم یہاں شادی نہیں کر سکتے ۔ صابر پرسرار ہنسی ہنسا اور کہا ۔ مگر سر یہاں تو تیاریاں مکمل ہیں ۔ 
کیا مطلب ھے تمہارا تیاری مکمل ھے ۔ رضی نے چڑ کر کہا تو ملازم نے جواب دیا ۔ مہمان تو بس پہنچنے والے ہیں اور آپ واپس جا رھے ہیں ۔ 
رضی کو غصہ تو بہت آیا پر اسکی بات کو اگنور کر کے سب نے  گاڑی میں  سامان رکھا اور واپس جانے کیلیے بیٹھ گئے  ۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے وہی عورت آتی دکھائی دی ۔ اس نے  ہاتھ میں دودھ سے بھری ہوئی بالٹی اٹھا رکھی ہوئی تھی ۔ اور   وہ گاڑی کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی اور سبکی انکھوں میں غصے سے دیکھنے لگی ۔ اور کہا ۔ شادی تو یہی ہوگی اور قہقہہ لگاتی ہاؤس کے اندر چلی گئی ۔
سرمد آغا سب سے زیادہ پریشان تھے ۔ یہاں کس طرح پتا چلا کہ ہم شادی کی نیت سے اے تھے۔ 
اتنا کہنا تھا عورت کا کہ گاڑی رک گئی اور لاکھ چاہنے کے باوجود گاڑی دوبارہ سٹارٹ نا ہو سکی ۔ پیٹرول بھی ختم ہونے کو  تھا ۔ صمد آغا نے صابر کو بلایا اور پوچھا یہ عورت کون ھے جو ابھی ابھی اندر گئی ۔ 
صابر نے لاعلمی سے کہا ۔ صاب یہاں ہم ملازمین کے علاوہ کوئی بھی نہیں اتا ۔ کئی سالوں بعد تو یہاں کی صفائی ہوئی ہے ۔ ہم کبھی کبھی اپنے  گھر والوں کو لے اتے ہیں ۔ مگر وہ بھی چند  دنوں کیلیے ۔ 
اچھا یہ بتاؤ ۔پیٹرول کا کیا کیا جاۓ ۔ اور کوئی گاڑی مکینک ھے نظر میں  ۔ ۔ صابر نے کہا میں ابھی فون کرکے پیٹرول کا کین منگوا دیتا ہوں ۔ 
رضی یکدم بولا ۔ کیا تمہارا فون یہاں کام کرتا ھے ۔ ہم سب کے فون کیوں نہیں کام کر رہے ۔ 
صابر نے اپنا فون نکال کر کہا کہ صاب اس سے کال کر لیں ۔ 
صمد آغا نے جلدی جلدی گھر کا نمبر ملایا ۔ حنا  بیگم نے فون پر سلام کیا ۔ صمد آغا نے کہا کہ ہم واپس آ رھے ہیں آج ہی ۔ مگر حنا  بیگم ہیلو ہیلو ہی کرتی رہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبر سنا دی کہ کل صبح سب خواتین اور بچے فارم ہاؤس جانے کیلیے نکل پڑیں گے اور شام تک پہنچ جائیں گے ۔ 
حنا بیگم کی بات سنکر سرمد آغا نے فون پر بات کرنا چاہی تو حنا  بیگم یہی کہتی رہیں آغا جی سرگوشیاں مت کریں اونچا بولیں آواز نہیں آ رھی ۔ بالآخر تنگ آکر سرمد آغا نے فون بند کر دیا ۔ اب تو واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بچے بھی کل پہنچ جائیں گے ۔ سرمد آغا نے انتہائی پریشانی میں کہا ۔ گاڑی کو دھکا لگا کر واپس پورچ میں لگا دیا گیا ۔
مرتا کیا نا کرتا اب چاروں نے گھر کے چپہ چپہ دیکھنے کی ٹھان لی ۔ ہاؤس کے دوسرے ملازمین بھی سامان لیکر واپس ا گئے جس سے سب کو کچھ تسلی ہوئی ۔
ملازمین کے ساتھ تمام کمروں کی لاؤنج واشروم غرض چپہ چپہ دیکھا گیا ۔ جو قبریں رضی اور سعد کو نظر آئیں تھیں وہ بھی غائب ہو گئی تھی ۔ سعد چلتے چلتے ایک کمرے میں گھس گیا ۔ یہاں آ کر اسکا دماغ ماؤف ہو گیا ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی ۔ وہ پاگلوں کی طرح دیواروں کو گھورتا رہا ۔ رضی بھی اسے دھونٹتے ہوئی ادھر آ نکلا ۔ کمرے میں گھستے ہی رضی کا بھی یہی حال ہو رہا تھا ۔ رضی چاروں طرف گھوم گھوم کر دیواروں پر گھورتا رہا ۔ دونوں ایک دوسرے سے کچھ کہہ نہیں پا رھے تھے کہ ایسے کیسے ہو سکتا ھے ۔ 
کافی دیر بعد صمد اور سرمد آغا بھی ادھر آ نکلے ۔ 
ان دونوں کا حال بھی رضی اور سعد سے مختلف نہیں تھا ۔ سرمد آغا نے سر پکڑ لیا اور پاس پڑے ہوئی بیڈ پر گر پڑے ۔ 
کمرے کی چارو دیواروں پر زرین کی تصویریں بچپن سے لیکر اب تک کی ۔ اور جتنی سالگرہ اسکی زندگی میں آئیں جو اس نے اپنے گھر منائیں سب یہاں لگی ہوئی تھی ۔ حیرت تو اس بات کی تھی کہ زرین کے علاوہ کوئی اور ان تصویروں میں نہیں تھا سوائے ایک دھندلے سائے کے ۔ وہ تقریبا هر تصویر میں دکھائی دے رہا تھا ۔ 
سرمد آغا نے صمد آغا رضی اور سعد سے کہا ۔ یار کوئی ترکیب سوچو کہ ہم گھر والوں  کو یہاں انے سے روک سکیں ۔ مجھے لگتا ھے کہ کچھ برا ہونے والا ھے ۔ مجھے یوں لگتا ھے کہ میں نے  یہاں شادی کرنے کا فیصلہ کیا نہیں مجھے سے کروایا گیا تھا ۔ مجھے خود بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ۔ سب نے ایک مرتبہ پھر گھر فون ملانے کی کوشش کی ۔ پھر وہی کہ سگنل کا مسلہ ۔ 
سعد نے مشورہ دیا کہ اب تو تمام ملازم واپس آ چکے ہیں ان میں سے کسی کا فون لیکر بات کر لیتے ہیں ۔ 
اب یہاں کے پرانے ملازم کو بلایا گیا ۔ اس کے فون سے نمبر ملایا گیا ۔ بیگم سلمان نے فون رسیو کیا تو آواز بلند اور صاف تھی ۔ صمد آغا نے خوشی خوشی بات کی اور صاف الفاظ میں منع کیا کہ آپ لوگ کل فارم ہاؤس میں مت آئیے ۔ پوری بات کرنے کے بعد جب بیگم سلمان کا کوئی جواب نہیں آیا تو انہوں نے کان سے فون ہٹا کر دیکھا تو مکمل ڈیڈ ہو چکا تھا ۔ بار بار آن کرنے کے باوجود موبائل دوبارہ کام کرنے کے قابل نہیں رہا ۔ ملازم نے پرسرار سی مسکراہٹ میں کہا ۔ صاب فون کافی پرانا ھے خراب رہتا ھے زیادہ تر ۔اور پیلے پیلے دانت نکال کر مسکرانے لگا ۔  
رضی کو اسکی مسکراہٹ کافی کھٹکنے لگی ۔ رضی خاموشی سے اٹھا تاکہ دوسرے ملازم سے فون لیکر بات کی جائے ۔ اور دبے قدموں ملازموں کے احاطے میں گھس گیا ۔ رضی کو عجیب سی بدبو محسوس ہوئی ۔ وہ جیسے جیسے اگے بڑھ رہا تھا بدبو تیز ہوتی گئی ۔ رضی نے ہاتھ دبا کر منہ پر رکھ دیے ۔بدبو قریب ایک کمرے سے آ رھی تھی ۔ رضی نے کمرے میں جھانک کردیکھا کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اس نے موبائل کی ٹارچ روشن کی تو کمرے کی سائیڈ پر ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔ غور کرنے پر رضی کا دماغ گھوم گیا ۔ اس نے دیکھا یہ ہڈیاں انسانی جسم کی تھیں ۔ قریب کچھ کٹے پھٹے کپڑے جو لازمی ان تمام بدنصیبوں کے تھے جنکی ہڈیاں یہاں پڑیں تھیں ۔   رضی نے جلد دو چار تصویریں کھینچ لیں اور رضی بھاگتا ہوا واپس اپنے کمرے میں پہنچا تو وہی ملازم اسے دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنسا اور واپس چلا گیا ۔ 
رضی نے تمام ماجرا سبکو سنایا اور کہا ۔ تایا جی ہم مکمل پھنس چکے ہیں ۔ بجاۓ اس کے کہ ہم بےبسی کی موت مریں ۔ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ھے اور کیسے کرنا ھے ہمیں سوچنا پڑے گا ۔ اس نے موبائل سے کھینچی ہوئی تصویر سبکو دکھائی تو  رضی چاروں کی سٹی گم ہو گئی ۔ انہوں نے دیکھا پہلی تصویر میں  ہڈیوں کے ڈھیر  کے پاس کوئی عورت بیٹھی ہوئی تھی ۔اسکے منہ میں بھی ہڈی تھی ۔دوسری تصویر میں وہ ڈر کر دیوار کے ساتھ ایسے چپکی ہوئی تھی کہ اس کی ٹانگیں زمین سے تقریبا دو فٹ اونچی تھیں اور اسکے منہ کے ساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ 
رضی نے کہا ۔اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں شائد اس طرف کا رخ بھی نہیں کرتا ۔ اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمام ملازمین بھی انسانوں کے روپ میں جن ہی ہیں ۔ رضی کی بات سے سب نے اتفاق کیا سعد کے آنسو خوف و ہراس سے لگاتار نکلنا شروع ہو گئے ۔
جیسے جیسے رات قریب آتی گئی سب کی بے چینی بڑھنے لگی کہ صبح سب لوگ ا گئے تو کیسی سنبھال پائیں گے ۔ اتنے میں صابر کھانا لیکر پہنچ گیا ۔ چاروں نے صابر کا سر سے تک جائزہ لیا ۔ چاروں نے یہ بھی محسوس کیا کہ صابر زیادہ تر خاموش رہتا تھا ۔  ٹھنڈ اور دن بھر کی تھکن سے بھوک کافی محسوس ہو رھی تھی ۔ کھانا میں دال اور تنور کی روٹیاں پکی تھیں ۔ سعد نے کہا کہ یہاں تنور بھی ھے ۔ حیرت ھے ہمیں نظر کیوں نہیں آیا ۔ 
صابر نے مسکرا کر کہا ۔ فارم ہاؤس سے باہر نکل کر تھوڑا گھومیں پھریں آپ کو نظر آ  جاۓ گا ۔ سبکو شدید بھوک محسوس ہو رھی تھی اور کھانا کھانے لگے ۔ رضی کو کھانا کھانے کے دوران منہ میں کوئی سخت چیز محسوس ہوئی تو ہڈی تھی ۔ اسنے بے دہانی سے ہڈی کو پلیٹ کی ایک سائیڈ پر رکھ دیا ۔ اچانک صمد آغا کی نظر پڑی تو وہ انسانی ہاتھ کی انگلی کی ہڈی تھی ۔  انہوں نے ہڈی کا  بغور جائزہ لیا اور  یکدم کھانے سے ہاتھ روک کر ابکاییاں لینے لگے ۔ باقی تینوں بھی سمجھ چکے تھے کہ انہیں انسانی گوشت کھانے کو دیا گیا۔  صمد آغا غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ صابر کی خبر لینی چاہئے ۔ انہوں نے صابر کو آواز دی لیکن وہ واپس نہیں آیا ۔ چاروں ایک ساتھ پر عزم ارادے سے اٹھے کہ اس طرح سے سسک سسک کر نہیں مرنا ۔ اگر کل گھر والوں کا آنا نا ہوتا ہم پیدل ہی گھر کو نکل جاتے ۔ خیر ابھی تو صابر کی خبر لیتے ہیں ۔ چاروں صابر کے کمرے کی جانب گئے ۔ پورا فارم ہاؤس چھان مارا کوئی ملازم صابر کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور نا ہی کچن میں کچھ پکانے کے اثرات نظر آ رے تھے ۔ 


صمد آغا نے مشورہ دیا کہ ہم چاروں  اس بات کی کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونے دینگے ۔  هر وقت چاک و چوبند رہیں گے ۔ اور اس کمرے کو مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں ۔ شادی کے بعد ہم یہاں پولیس کی مدد سے سارا معاملہ چیک کروا لینگے ۔ 
بس سب ملکر دعا کرو  یہاں چار دن کا قیام امن و سکوں سے گزر جائے 
پر ملازمین کے کمرے میں انسانی ہڈیوں کا کیا کام ۔ چلو اب کل صبح ہاؤس سے باہر نکلیں گے اور آس پاس کے لوگوں سے کچھ مدد طلب کرینگے ۔ میں تو اس بات سے پریشان ہوں کہ وہ عورت بہت دیکھی بھالی تھی تو مجھے یاد کیوں نہیں آ رھی ۔ 
سعد کو بھوک محسوس ہوئی اس  نے کچن کا رخ کیا شائد کچھ سامان مل جاۓ ۔ اس نے دیکھا کچن صاف ستھرا اور کھانے پینے کی تمام چیزیں بڑے طریقے سے رکھی گئی تھی ۔ وہ سوچ میں پڑ گیا اتنا سامان یہاں کس نے رکھا ہوگا ۔ ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ پیچھے کھڑا ملازم  جیسے اسکی سوچ پڑھ چکا تھا ۔ اس نے کہا ۔ آپ لوگوں کی اطلاع ملتے ہی تمام سامان منگوایا گیا تھا ۔ یار ایک بات تو بتاؤ ۔ سعد نے ملازم  سے پوچھا ۔ یہ اتنی اطلاع دیتا کون تھا ۔ اس نے پھر پیلے پیلے دانت نکال کر کہا ۔ کوئی بندہ آیا تھا شہر سے بتانے ۔ اچھا یہ بتاؤ صابر کہاں ھے ۔ 
ملازم نے بتایا کہ اس کی موت ہو گئی تھی دس بارہ سال پہلے ۔ سعد کو اب ڈر کم اور غصّہ زیادہ انے لگا تھا ۔ یہ کن بھول بھلیوں میں پڑ گئے ہم ۔ 
سعد نے رضی کی مدد سے رات کا کھانا بنایا ۔ کھانا اتنا اچھا تو نہیں بنا مگر سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور کل سب کے آنے کا انتظار لیے سو گئے ۔ رات کے کسی پہر سرمد آغا کی آنکھ عجیب و غریب آواز پر کھل گئی ۔ انہوں نے غور سے سننے کی کوشش کی اور اٹھ کر کھڑکی کے پاس اے ۔ سامنے جو منظر تھا ناقابل قبول ۔ انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ۔ زرین کی ابٹن کی رسم چل رہی تھی ۔  
زرین بچپن کی عمر میں تھی لگ بھگ دس گیارہ برس  کی ۔اسکے ساتھ کوئی لڑکا دولہا بنا بیٹھا تھا جسے سرمد آغا نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ انہوں نے دیکھا جس لڑکے سمیع سے زرین کی شادی تھی اسے ایک درخت سے الٹا لٹکایا ہوا تھا اور اس کے سر سے خون ٹپک ٹپک کر ایک ٹرے میں گر رہا تھا ۔   لوگ لائن بنا کر زرین کے ماتھے پر سمیع  کے  فریش خون سے زرین اور دوسرے بچے جو دولہا بنا بیٹھا تھا انکو  ٹیکا  لگاتے ہو جا رھے تھے ۔ زرین کا چہرہ خون سے لت پت ہو چکا تھا ۔ زرین کے ساتھ بیٹھے ہوئے بچے جو دولہا تھا اس کا چہرہ بھی خون کیوجہ سے پہچانا نہیں جا رہا تھا ۔  عورت کی نظر سرمد آغا کے ساتھ جب ملی تو سرمد آغا کو جھرجھری ا گئی ۔   وہ کھڑکی سے ہٹ گئے اور اپنے بیڈ پر بیٹھ کر زارو قطار رونے لگے ۔ اور اللہ‎ سے دعا کی کہ آے میرے پروردگار جو غلطی ہو گئی مجھ سے تو معاف فرما ۔ مجھے ایسی آزمایش میں مت ڈالنا کہ پورا نا اتر سکوں ۔ صمد آغا اور سعد۔ رضی سب سرمد آغا کے رونے کی آواز پر جاگ گئے ۔ سرمد آغا جیسے مضبوط انسان کو روتے دیکھ کر تینوں کی ہمت جواب دے گئی ۔ 
انہوں نے سارا ماجرا سنایا تو سعد نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو باہر کچھ بھی نہیں تھا ۔ آدھی رات اور سردی انتہا تھی ۔ اس ٹائم کسی کا باہر فنگشن منانا ایک انتہائی ناقابل یقین بات تھی ۔سرمد آغا نے جب کھڑکی میں آ کر دوبارہ دیکھا تو رات کا اندھیرا پوری طرح پھیلا ہوا تھا ۔سرد ہوا کے جھونکے نے  انہیں جلد ہی کھڑکی بند کرنے پر مجبور کر دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ زرین کے پیلے جوڑے پر جابجا خون کے دھبے بھی پڑ گئے تھے ۔ 
بقیہ رات چاروں نے آنکھوں میں کاٹی اور اس وقت کو کوسنے لگے جب یہاں انے کا سوچا تھا ۔ 
صمد آغا نے یاد دہانی کروائی کہ صبح جس کمرے میں زرین کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اسے پکا تالا ڈال دیا جاۓ تاکہ کوئی اس کمرے کا رخ نا کر سکے ۔
سرمد آغا  صبح اٹھتے ساتھ زرین کی تصویروں والے کمرے کو تالا لگا نے  گئے تو انہوں نے دیکھا زرین کی مزید تصویریں دیوار پر لگ چکی تھی ۔ جس میں اسے ابٹن لگایا جا رہا تھا ۔ 
یا اللہ‎ یہ کیا ہورہا ھے ۔ سرمد چکرا گئے ۔انہوں نے سب کو بلا کر نئی تصویریں دکھائی ۔ رضی نے کمرے پر بھاری تالا لگا دیا ۔ کیوں کہ آج کسی بھی وقت باقی گھر والے پہنچنے والے تھے ۔ رضی اور سعد پیدل ہی ارد گرد کے علاقے کو دیکھنے نکل گئے ۔ اکا دکا لوگ انہیں جیسے ہی دیکھتے خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔ جیسے یہ انسان نہیں کوئی دوسری مخلوق ہوں ۔ چلتے ہوئے انہوں نے  ایک یوٹلٹی سٹور دیکھا اور کچھ کھانے پینے کے لیے سامان بھی خرید لیا ۔ 
واپس پہنچنے پر پورچ میں گاڑیاں دیکھیں خوشی کے ساتھ ساتھ پریشانی اور بڑھ گئی ۔ 
سبکو دیکھ کر رضی سعد بہت خوش تھے ۔ بچے پورے ہاؤس میں ناچتے گھومتے پھر رھے تھے ۔ لڑکیاں اپنے اپنے کپڑے الماریوں میں سنبھالنے لگیں ۔ آج فارم ہاؤس میں سبکی پہلی رات تھی  اور پارٹی  کا اہتمام باہر لان میں کیا گیا تھا ۔ مختلف کھانے بنائے جا رھے تھے ۔ گانوں اور لڈی کی محفلیں سجائی گئی ۔ حنا  بیگم نے اپنی ملازمہ سے کہا جب سب لوگ تیار ہوکر باہر آ جائیں تب تمام کمروں کو تالا لگا دینا ۔ کھلی جگہ ھے کچھ بھی ہو سکتا ھے ۔ لڑکیاں ایک ایک کرتی جب سب باہر نکل گئی تو ملازمہ کمرے چیک کرتی جاتی اور ساتھ ساتھ تالے لگاتی جاتی ۔ ابھی وو تمام کمروں کو تالے لگا کر مڑ ہی رھی تھی کہ ایک دروازے کو اندر کی جانب سے زور زورسے کھٹکھٹانے کی آواز سنی ۔ اس نے سمجھا یہ میرا وہم ھے اور واپس نکل آئی چند سیکنڈ بعد پھر آواز اور شدت سے ای تو ملازمہ نے دروازہ جیسے ہی کھولا اسے سرمد آغا دکھائی دیئے ۔ اور انہوں نے غصے سے ملازمہ کو کہا کہ جاؤ زرین کو بھیجو مجھے اسے ایک خاص تحفہ دینا ھے ۔ 
ملازمہ  زرین کو بلا کر کمرے میں لے آئی ۔ کمرے میں انے سے پہلے باہر لان میں اسکی نظر پڑی تو سرمد آغا سعد سے باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ اس نے سوچا اگر سرمد آغا باہر ہیں تو اندر کون ھے ۔ کیوں کہ ابھی ابھی حنا بیگم نے بھی کہا کھلی جگہ ھے کچھ نا کچھ ہو سکتا ھے ۔لہٰذا وہ واپس جانے لے لئے مڑی ہی تھی کہ دیوار کے پیچھے سے کسی کو اتے دیکھ کر رک گئی ۔ وہ کوئی نقاب پوش عورت تھی جو عین اسکے سامنے آن کھڑی ہوئی اور چہرے سے نقاب اٹھا کر خاموش نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔ 
ملازمہ نے اپنے سامنے خود کو ہی دیکھا وہ بھی انتہائی قریب سے ۔ ابھی چیخ مارنے کو ہی تھی کہ اس عورت نے پنجہ مار کر ملازمہ کا چہرہ بگاڑ دیا ۔ 
باہر محفل کافی سجی ہوئی تھی ۔  رمشہ بھی باقی لڑکیوں کے ساتھ گانے بجانے میں مصروف رھی ۔  رضی سعد سرمد اور صمد آغا چاروں بظاھر نارمل رھے فنگشن کے دوران ۔پڑ انکی پوری توجہ زرین پر  رھی ۔ نجانے کس وقت تینوں کی توجہ کہیں اور بٹی کہ زرین انکی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ۔ سعد نے سرمد آغا کی طرف دیکھا اور زرین کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ زرین غائب ہو چکی تھی ۔ حنا  بیگم سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی ابھی ملازمہ کے ساتھ گھر کے اندر گئی ہے بس آتی ہوگی ۔ سرمد آغا  انتظار کیے بغیر گھر میں داخل ہونے تو دیکھا ملازمہ اس کمرے کے باہر زخمی حالت میں پڑی تھی جہاں زرین کی تصویریں دیوار اور لگی ہوئی تھی اور زرین کمرے میں لیٹی ہوئی تھی اور اس کا  جسم پیلا زرد ہو چکا تھا جیسے جسم سے تمام خون نچوڑ لیا گیا ہو ۔ سرمد آغا نے زور زور سے زرین کو جھنجھوڑا تو اس نے فورا آنکھیں کھول دی۔ 
زرین کی آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں اور جسم آگ برسا رہا تھا ۔ سرمد آغا کو دیکھتے ہی زرین نے نظر جھکا دی اور نڈھال سی دکھائی دینے لگی جیسے اسکے اندر گہری ٹوٹ پھوٹ ہو رھی ہو ۔ کچھ دیر بعد  وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ زرین نے بتایا کہ ملازمہ اسے بلا کر یہاں تک لائی اور کہا کہ وہ ایک تحفہ دینا چاہتی ہے جو اس کمرے میں ھے ۔ سرمد آغا کی نظر دیواروں پر پڑی تو دیکھا دیواریں بالکل خالی تھیں ۔ یہاں زرین کی کوئی تصویر نہیں تھی ۔ انہوں نے زرین سے پوچھا بیٹا تم نے یہاں کچھ دیکھا ۔ مطلب کمرے میں دیواروں پر یا آس پاس ۔ زرین کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ای اور ساتھ ہی غائب ہو گئی ۔ 
نہیں بابا جان ۔ یہاں تو کوئی بھی نہیں تھا ۔ 

زرین بیٹا آپ اب کبھی کسی کے بلانے پر نہیں جاؤ گی جب تک آپ مجھے یا صمد چاچو کو بتا نا دو ۔ صرف چار دن آپ نے بہت  اختیاط کرنا ہوگی ۔ 
بابا آپ بالکل پریشان نا ہوں میں  بہت آرام سے ہوں ۔ مجھے فارم ہاؤس سے ڈر بھی نہیں لگتا ۔ میں خوش ہوں ۔ آپ بے فکر ہو جائیں ۔ میری بہادر بیٹی ۔ میری بہت فکر ھے تمہاری ۔ اپنا خیال رکھنا ۔ سرمد آغا زرین کا ہاتھ پکڑ کر باہر سبکے درمیان لے آے۔
فنگشن کے دوران صمد آغا اور سرمد آغا نے سلمان آغا کو ایک سائیڈ پر لے جا کر پوچھا ۔ فارم ہاؤس کو اتنا سجانے کیلیے آپ نے کوئی بندہ بھیجا تھا کیا ۔ 
سلمان آغا نے کہا کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی فارم ہاؤس اسی طرح خوبصورت اور نیا کیوں لگ رہا ھے  ۔ اور یہاں سب نیا سامان رکھ کر کافی خرچہ کیا ہوگا آپ لوگوں نے ۔ سلمان آغا کی اس بات پر دونوں کے پسینے چھوٹ گئے ۔ آخر ایسا کون ھے جس نے رات و رات فارم ہاؤس کی حالت بدل دی ۔  دونوں نے سلمان آغا کو تمام ماجرا بتا کر سب پر نظر رکھنے کو بھی کہا ۔ 
کھانا لگ چکا تھا ۔ ٹھنڈ کی وجہ سے  سبکی بھوک زوروں پر تھی۔ 

کھانا لگتے ہی سب کھانے کی میز پر ٹوٹ پڑے ۔ حنا  بیگم کو ملازمہ کی ضرورت پڑی تو آوازیں دینے پر بھی جب نظر نہیں آئی تو پریشان ہو گئی۔  انہوں نے کسی کو کھانا کھانے کے دوران تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خود اٹھ کر اسے ڈھونڈنے ادھر ادھر دیکھنے لگیں ۔ 
ملازمہ کو ڈھونڈھتے ہوۓ وہ زرین کے کمرے تک پہنچ گئی تو انکی سانس اوپر کی اوپر رہ گئی اور بھاگم بھاگ لان تک پہنچ گئی ۔ کافی دیر اپنی سانس بحال کرنے کی کوشش کر تی رہیں ۔ انکے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا ۔ چونکہ سعد' رضی  ' صمد آغا اور سرمد آغا ہمہ وقت ہوشیار رہتے تھے ۔ انہوں نےحنا  بیگم کی بدلتی رنگت کو دیکھ لیا تھا ۔ سرمد آغا نے حنا  بیگم سے پوچھنے کی کوشش کی تو انہوں نے انجان بنکر کر کہہ دیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ مجھے بس نیند اور تھکاوٹ سے چکر ا گئے تھے ۔ 
سرمد آغا نے کہا ۔ حنا بیگم مجھے کیوں لگ رہا ھے جیسے آپ کچھ چھپا رھی ہیں مجھ سے ۔ 
نن ۔نہیں تو میں بھلا آپ سے کیا چھپاؤں گی  ۔سرمد آغا نے غور سے حنا  بیگم کو دیکھا اور کہا۔ اگر آپ میری بیوی نا ہوتی تو اس بدلتی  رنگت کو دیکھتے ہوئے کبھی آپ کی بات کا یقین نہیں کرتا ۔ اور اگر مجھ سے کچھ چھپا رھی ہیں تو بہت غلط کر رھی ہیں ۔ 
کھانا کھانے کے بعد سب خواتین  اپنے اپنے کمروں میں آ گئیں فیملی کے باقی لوگ بھی کھانے سے فارغ ہو کر سونے کی خواہش کرنے لگے ۔سفر اور رات کے فنگشن کی   تھکن وجہ سے سبھی نڈھال تھے ۔ ۔ باہر ٹھنڈ کا یہ عالِم ہو چکا تھا کہ مزید بیٹھنا دشوار  ہو رہا تھا ۔ آہستہ آہستہ سب کے جانے سے لان میں رونق ختم ہونے لگی ۔  کچھ منچلے لڑکوں نے باہر اپنی محفل سجاۓ رکھی ۔ زرین 'رمشہ' اویس ' علی 'حمزہ '  سعد' رضی بھی لان میں موجود رھے ۔علی نے کہا کہ اس فارم ہاؤس کے کافی قصے سن رکھے تھے ۔ چلو آؤ دیکھتے ہیں کہ یہاں کسی جن کا سایہ ھے بھی یا نہیں ۔ مجھے جن کو بلانےآتا ھے ۔  سب نے علی کی بات سے اتفاق کیا اور کہا۔  چلو ایسے رات بھی گزر جاۓ گی اور یادگار رھے گی یہ  رات ۔ سعد نے رضی کو معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔ حمزہ نے  علی کا ساتھ دیا اور کہا مجھے طریقہ پتا ھے ۔ میں بتا سکتا ہوں کہ ہاؤس میں جن ہیں یا نہیں ۔
حمزہ کی بات سنکر سب نے قہقہہ لگایا ۔  رضی اور سعد بھی انکی کھیل میں دلچسبی لینے لگے ۔ جبکہ لڑکیوں نے اعتراض کیا کہ اگر سچ مچ میں جن آ گئے تو ہم کیا کرینگی ۔ علی نے کہا ہم تو شغل لگا رہے ہیں ۔ کچھ نہیں ہوتا بس چپ چاپ بیٹھی رہو اور تماشا دیکھو ۔ 
حمزہ نے زمین سے چند ہموار پتھر اٹھا کر اوپر نیچے رکھے ۔ پتھر ایسے منتخب  گئے تھے کہ جو آسانی سے گر نہیں سکتے تھےاور اوپر نیچے بآسانی رکھے جا سکتے تھے ۔  ۔ حمزہ نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھا اور کہا ۔ اگر یہاں کوئی جن ذات موجود ہے تو وہ ان  تمام پتھروں کو گرا دیگا۔  چند لمحے بعد فضا سے ایک پتنگ کٹ کر آئی اور انہی پتھروں سے جا ٹکرائی اور تمام پتھر بکھر گئے ۔ حمزہ کے اس کھیل سے سب نے خوب انجوے کیا ۔ زرین کے قہقہے فضا میں گونج اٹھے ۔ آج سے پہلے زرین کو اتنا ہنستا کبھی نہیں دیکھا گیا تھا ۔ سعد اور رضی پتھروں کے گرنے سے بہت پریشان ہو گئے تھے ۔ حمزہ کا کھیل سب کیلیے مذاق لیکن رضی اور سعد کیلیے انکی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا ۔
حمزہ نے کہا چلو مذاق ہی سہی پر مزہ تو آیا نا سبکو ۔ رمشہ خوفزدہ ہو گئی اور اپنے بھائی رضی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوۓ کہا ۔ 
حمزہ یہ سچ بھی تو ہو سکتا ھے نا ورنہ سوچو اتنے ویرانے میں اس وقت جبکہ سردیوں کے ڈیڑھ بج چکے ہیں پتنگ کہاں سے اڑ کر آ سکتی ھے ۔ 
سعد نے سبکو غصے سے اندر جانے کو کہا کہ کل بارات ھے زرین کی۔  اور سبکو جلد اٹھنا ھے ۔بہت سے کام نبٹانے ہونگے ۔ دونوں نے اپنی موجودگی میں سبکو اندر بھیج کر تمام بیرونی دروازے بند کر دیے ۔ 
صمد آغا نے سرمد آغا سے کہا کہ شکر آج پہلا دن خیریت سے گزر گیا اور کوئی نا خوشگوار حادثہ رونما نہیں ہوا ۔ 
سرمد آغا نے کہا کہ ناخوشگوار واقعہ پیش ہو چکا ھے لیکن  میں نے کسی کو کان و کان  بھی اس بات کی خبر نہیں ہونے دی ۔ صمد آغا کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور بولے کہ ایسا کیا ماجرا ہوا ۔ 
سرمد آغا نے بتایا کہ جب زرین مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو میں خوفزدہ ہو گیا تھا ۔ میں بھاگ کر اندر آیا تو دیکھا ہماری ملازمہ زمین پر زخمی حالت میں پڑی تھیں ۔ میں بھاگ کر کمرے میں گیا اور دیکھا زرین اسی کمرے میں لیٹی ہوئی تھی ۔ اسکے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا ۔ ملازمہ کی حالت تو باہر دیکھ چکا تھا اور اب میں یہی سمجھ رہا تھا کہ زرین خدانخواستہ اب اس دنیا میں نہیں ھے ۔ مجھے حیرت ہوئی یہ دیکھ کر کہ میرے ایک مرتبہ بلانے پر زرین نے فورا آنکھیں کھول دیں ۔ اور اب اس کمرے سے زرین کی تمام تصاویر بھی غائب ہو چکی ہیں ۔ جب میں باہر آیا تو ملازمہ غائب تھی ۔ میں نے چاروں جانب گھوم پھر کر بھی دیکھ لیا لیکن اس کا نام و نشان بھی نا مل سکا ۔ 


فارم ہاؤس کے دوسرے دن کا آغاز ہو چکا تھا ۔ صبح صبح ہی سبکو ملازمہ کی گمشدگی کی خبر مل چکی تھی ۔  جسکی وجہ سے سب لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ۔ سعد اور رضی تمام کارروائی سے واقف تھے لہٰذا انہوں نے یہی بتایا کہ اسے کسی ضروری کام کی وجہ سے شہر واپس بھیج دیا گیا ۔ حنا بیگم کو ایک عجیب سی چپ لگ چکی تھی۔  جسے سرمد آغا واضح طور پر محسوس کر رہے تھے ۔ صبح ناشتے کے بعد سب بارات کے استقبال کی تیاریاں کرنے لگے ۔ 
 فارم ہاؤس کے ملازمین انتہائی خوش دکھائی دے رھے تھے ۔ ملازمین میں سے کسی نے بھی شادی کے کھانے کو چکھا بھی نہیں ۔ 
اس وقت فارم ہاؤس میں کافی تعداد میں لوگ  موجود تھے ۔ جگہ بہت کھلی اور کمرے بیشمار تھے ۔ فارم ہاؤس میں سب کچھ موجود تھا سوائے آئینے کے ۔ لڑکیوں کو تیار ہونے کیلیے آئینے کی جب ضرورت پڑی تو پورے فارم ہاؤس میں کوئی آئینہ نظر نہیں آہا ۔ 
رمشہ نے ملازم کو بلا کر آئینہ ما نگا تو اس نے کہا ۔ بی بئی  جی یہاں کے تمام آئینے وقت گررنے ساتھ اندھے ہو چکے ہیں ۔ 
لڑکیاں یونہی اندازے سے تیار ہوئیں ۔ آج زرین کی نکاح کی رسم تھی ۔ بارات اپنے ٹائم پر ہی پہنچ گئی ۔ سب نے باراتیوں کا شاندار استقبال کیا ۔ 
پروگرام کے مطابق نکاح کی رسم  کھانے سے پہلے ہی ادا ہونا تھی ۔ اور دوری کی وجہ سے آج کی رات باراتیوں کو یہیں رکنا تھا اور اگلی صبح سویرے واپس چلے جانا تھا ۔ 
کچھ وقت آرام کرنے کے  بعد دولہا کے والد نے کہا کہ اب نکاح پڑھوا دینا چاہئے ۔
سب کی  رضا مند ی سے مولوی صاحب نے کارروائی شروع کی ۔
دولہا سمیع اور دلہن کو الگ الگ کمروں میں بٹھایا گیا تھا ۔  مولوی صاحب  نے کہا کہ وہ سب سے پہلے دلہن سے رضامندی لینا چاہیں گے اور دلہن  کے کمرے تک پہنچ گئے ۔ انہوں نے زرین سے اجازت لی تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔ 
زرین کی یہ حرکت سبکو بیحد عجیب اور معیوب سی لگی ۔ زرین کی اجازت لیکر مولوی صاحب نے نکاح شروع کر دیا اور آخر میں نکاح نامہ پر زرین کے دستخط کروائے ۔ زرین نے مختلف جگہوں پر خوشی خوشی دستخط کر دییے ۔ مولوی صاحب زرین کے کمرے سے اٹھ کر دولہا کے کمرے میں آ گئے اور چھ کلمے اور کچھ دعائیں پڑھنے کے بعد سمیع  کو نکاح نامہ پر دولہا والی جگہ پر دستخط کرنے کو کہا ۔ سمیع اور مولوی صاحب نے دیکھا جہاں دولہے نے دستخط کرنے تھے وہاں کسی اور کے دستخط نمودار ہو گئے  اور سمیع  کے دستخط کرنے کی کوئی جگہ باقی نہیں تھی ۔
سمیع حیران و پریشان ہو کر بولا ۔مولوی صاحب یہ کس کے دستخط ہیں ۔ یہاں تو مجھے دستخط کرنے تھے ۔ مولوی صاحب بھی پریشان ہو گئے کہ ایسا کب ہوا کہ کسی اورنے دستخط کب کے ۔ مولوی صاحب نے  سوچا ہو سکتا ھے نکاح نامہ پر پہلے سی کسی نے سائن کے ہوں اور میں نے دیکھا نا ہو ۔ انہوں نے زرین کے کمرے میں جاکر نئے فارم پر زرین سے  دوبارہ سائن کروائے اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں جہاں سب مرد حضرات بیٹھے تھے آئے اور جب دوبارہ سمیع کو سائن کرنے کو کہا تو پھر سیے وہی سائن دوبارہ نمودار ہو گئے ۔  نکاح کی تقریب میں موجود سب لوگوں کو باری باری نکاح نامہ دکھایا کہ دلہن کے نکاح کے بعد یہ سائن کاغذ پر خود بخود  نمودار ہو رھے ہیں ۔اور ایسا دوسری مرتبہ ہوا ۔ 
تقریب میں شریک سب لوگوں نے نکاح نامہ کو باری باری دیکھنا شروع کر دیا ۔ اور پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ماجرا ہوا ۔ نکاح نامہ کی رو سے  تو زرین کا نکاح اس سائن والے سے ہو چکا ہے ۔مولوی صاحب نے حیرانی سے کہا ۔ اور ایسا ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ ہوا ۔ اور زرین کسی اندیکھی مخلوق کے نکاح میں آ چکی ۔ سرمد آغا یہ خبر سنکر غش کھا کر گر گئے ۔ صمد اور سلمان آغا نے اگے بڑھ کر انھیں سنبھالا اور تقریب میں موجود سب لوگوں کو فارم ہاؤس میں ہونے والی تمام باتیں شروع سے آخر تک بتا دیں ۔ کہ انکے یہاں پہنچنے سے پہلے پرانے اور قدیم فارم ہاؤس کو دلہن کی طرح سجا پایا ۔ فارم ہاؤس میں اتے ہوۓ ایک عورت کو دیکھا جو بار بار انکے سامنے آتی رہی ۔ اور اسکا کہنا یہی تھا کہ شادی تو یہیں ہوگی ۔ پھر فارم ہاؤس میں ہی ایک کمرے میں زرین کی بچپن سے اب تک کی تمام یادداشتیں بمہ تصویروں کے دیوار پر چسپاں تھیں ۔ زرین کی ابٹن کی رسم میں اس عورت کا زرین اور نا معلوم دولہے کو سمیع کے خون سے ابٹن لگانا یہ سب واقعات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ۔ ہمیں معلوم ھے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جنکو ماننا سب کیلیے ناممکن ھے ۔ پر ایسا ہی ہوا ۔ 
سرمد آغا نے سب سے التجا کی کہ ابھی اسی وقت ہم سبکو فارم ہاؤس سے نکل جانا چاهیے اور ہم شہر جا کر زرین کا دوبارہ سے نکاح کروائیں گے ۔ سب نے سرمد آغا کی بات سے اتفاق کیا اور جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ ایک ہی گھنٹے میں جانے کی تیاری مکمل ہو گئی اور سب گاڑیوں میں بیٹھ گئے ۔ سرمد آغا نے زرین کو اپنی گاڑی میں اپنے ساتھ ہی بٹھانا چاہا تو وہ اسے لینے کمرے میں پہنچے تو زرین غائب تھی ۔ پورے فارم ہاؤس میں زرین کا نام و نشان بھی نظر  نہیں آ رہا  تھا ۔ 
زرین کی گمشدگی کی اطلاع سبکو معلوم ہونے لگی ۔ حنا بیگم  سرمد آغا دکھ اور غم سے نڈھال ہو چکے تھے ۔ فارم ہاؤس کا چپا چپا چھان مارنے کے باوجود زرین کا پتا نہیں چل سکا ۔ 
دولہا سمیع اور باراتیوں نے بھی هر جگہ ڈھونڈھنے میں مدد کی ۔ کچھ کا کہنا یہ تھا کہ کہیں خدانخواستہ کوئی جنگلی جانور نا اٹھا کر لے گیا ہو ۔ لہٰذا ارد گرد کے تمام علاقے کو دیکھا گیا ۔سب طرف مایوسی ہوئی ۔ 

رات گئے سب تھک ہار کر  فارم ہاؤس واپس آ گئے ۔ 
پریشانی اور دکھ سے سرمد آغا کی حالت تشویشناک ہوتی جا رھی تھی ۔ سعد اور رضی نے کچھ لوگوں کو ساتھ لیا اور ملازموں کے اس کمرے میں پہنچ گئے جہاں انسانی ہڈیوں کا انبار لگا ہوا تھا ۔ وہیں انہوں نے ملازمہ کے پھٹے کپڑے دیکھے اور یقین کر لیا کہ اسکی ہڈیاں بھی یہاں سے ہی ملیں گی ۔ 
رضی کو شک تھا کہ کہیں زرین کے ساتھ بھی ایسا حادثہ نا ہوا ہو ۔ یہ سوچ کر  اسے جھر جھری سی آ گئی اور  اسکی آنکھوں سے  آنسو نکل پڑے ۔
ساری رات کے  گزر جانے کا  کسی کو احساس تک نا ہوا ۔ صبح کی روشنی میں ایک مرتبہ پھر سے سب   زرین کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوۓ۔  واپسی پر سب نے دیکھا فارم ہاؤس کی روشنیاں قمقمے وہ رونق قیمتی سامان سب ختم ہو چکے تھے ۔ فارم ہاؤس اپنی اسی پرانی اور بوسیدہ حالت میں آ چکا تھا ۔ ارد گرد کچھ گھر بھی دکھائی دیئے گئے ۔ فارم ہاؤس میں ایک ایک لمحہ صدیوں پر محیط دکھائی دینے لگا ۔ 
سمیع کے دل میں کچھ شک سا انے لگا ۔ وہ اکیلے ارد گرد کے علاقے دیکھنے نکل گیا ۔ چلتے چلتے وہ جنگل کی طرف بڑھنے لگا ۔ جنگل کے بیچ جا کر اسے گھنگروں کی آواز انے لگی ۔ سمیع نے آواز کو سنکر اس سمت چلنے لگا ۔ کافی دور پیچھا کرنے کے بعد وہ آواز کے قریب پہنچا تو دیکھا زرین عروسی لباس میں ملبوس خراماں خراماں چلتی جا رھی تھی ۔ اس سے قبل کہ سمیع اسے آواز دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا تو مولوی صاحب نے فارم ہاؤس کے لان میں اذان دی اور سبکو نماز کیلیے اکھٹا کیا ۔ 
تمام لوگوں نےصفیں باندھ لیں ۔ 
مردوں کی صفوں سے پیچھے خواتین نے بھی اپنی صفوں میں  ترتیب دی اور سب نے باجماعت نماز ادا کی ۔ 
نماز کے بعد مولوی صاحب نے سرمد آغا سے کہا۔ آپ لوگوں کی  باتوں سے اور زرین بیٹی کے اس طرح غائب ہو جانے سے صاف ظاہر ھے کہ اس فارم ہاؤس میں  جنّات موجود تھے ۔ اور اب اس فارم ہاؤس کی حالت بھی یہی کہہ رھی ھے کہ یہاں ایسی مخلوق آباد تھی ۔ 
کل فارم ہاؤس ایک خوبصورت محل دکھائی دے رہا تھا اور آج اسکی خستہ حالی یہ بتا رھی ھے جیسے اب وہ مخلوق یہاں سے جا چکی ھے ۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ھے کہ زرین بیٹی کا نکاح کسی جن زاد سے ہوا اور وہ اسے اپنی دنیا میں لے جا چکا ھے ۔ نکاح نامہ پر اسی کے دستخط نمودار ہوتے ہونگے ۔ مولوی صاحب ابھی آن  باتوں کا تذکرہ کر رھے تھے کہ انہیں دورسے کوئی  سائیکل  سوار فارم ہاؤس اتا  دکھائی دیا ۔ قریب انے پر اس نے سبکو دیکھا اور ادب سے سلام پیش کیا ۔ سرمد آغا نے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ۔ اس سے پہلے کہ سرمد آغا کچھ کہتے اس نے کہا ۔ سلام صاحب ۔ آپ سب کس وقت تشریف لائے ۔ مجھے بتاتے میں تھوڑی بہت صفائی کروا دیتا ۔ بس دس منٹ کے لیے بازار سے سودا لینے گیا تھا ۔  
رضی اسکی بات کا مطلب سمجھ کر بولا تو دس منٹ پہلے کہاں تھے آپ ۔ 
مجھے کہاں جانا ھے بیٹا ۔ جب سے سرمد اور سلمان صاحب یہاں چھوڑ کر گئے ہیں تب سے اب تک چوکیداری کرتا ہوں ۔ آپ لوگ بھی  آج برسوں بعد لوٹے ہیں ۔
رضی نے حیرت سے پوچھا اور باقی کے ملازم صابر 'شوکت اور انکے ساتھی وغیرہ کہاں ہیں ۔ 
انکو دنیا سے گئے ہووے زمانہ بیت گیا ۔ آپ نے تو برسوں یہاں کا رخ نہیں کیا ۔میں سب بتاتا ہوں آپ آرام کر لیں ابھی ابھی تھکے ہارے تو پہنچے ہیں ۔ 
لیکن بابا ہم کو آے آج چوتھا دن ھے ۔رضی نے جان بوجھ کر کہا ۔  چوکیدار نے ہنس کر کہا ۔ میں نے برسوں نمک کھایا ھے اپکا ۔ میں نمک حرامی نہیں دکھاؤں گا صاب ۔ میں ابھی دس منٹ پہلے ہی تو گیا تھا ۔ اور آپ لوگ میرے بعد ہی آ گئے ۔ پھر اس نے اپنی بیوی کو آواز لگائی ۔ 
زلیخا ادھر آؤ دیکھو کون آیا ھے ۔ زلیخا کو دیکھ کر رضی ' سعد ' سرمد آغا اور صمد آغا کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔ زلیخا وہی عورت تھی جو انکو راستے میں بار بار ملتی رھی ۔ اس نے اتے ہی سبکو سلام کیا اور خوشدلی سے سبکو باری باری خوش آمدید کہنے لگی اور بھاگ بھاگ کر بیٹھنے کے لیے  کرسی موڑھے پیش کرنے لگی جیسے یہ ابھی فارم ہاؤس پہنچے ہوں ۔
یہی تھی وہ جو ہمیں راستے میں ملیں  ۔ جنہوں نے کہا تھا کہ شادی تو یہیں ہوگی ۔ سعد نے شور مچا دیا ۔ حنا بیگم نے زلیخا کو پانی کے بہانے یہاں سے بھیج دیا تو رضی نے کہا اس عورت کو جانے مت دیں ۔ یہی ہمیں بتائے گئی اصّل بات ۔ 
سرمد آغا نے اس کو بتایا کہ ہم پچھلے چار دن سے یہاں ہیں اور ہماری بیٹی زرین یہاں کھو چکی ھے ۔ ملازم رمضان نے بتایا کہ صاب جی آپ نے تو بہت زیادہ دیر کر دی۔ زرین کو دفنائے ایک زمانہ بیت گیا  ۔ زرین کی پیدایش کے بعد آپ لوگ یہاں سے چلے گئےتھے ۔ اتنے برس تک کوئی یہاں آیا بھی تو نہیں ۔ اب رمضان کی باتیں سبکو چکرا دینے کیلئے کافی تھیں ۔ حنا بیگم کی حالت بھی خاصی خراب ہونے لگی ۔ انہوں نے رمضان کو اشارے سے چپ رہنے کو کہا ۔ فارم ہاؤس سے زرین کے بغیر میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤں گا ۔ سرمد آغا نے روتے ہوئے کہا ۔ اور انہوں نے رمضان کو مختصرا ساری بات بتا دی ۔ بات سنتے ہی زلیخا اور حنا بیگم کی نظر اپس میں ملی اور دونوں کھسیانی سی نظر انے لگی ۔ جیسے کوئی تو بات ھے ان  دونوں میں ۔ مولوی صاحب جو دور بیٹھے تمام ماجرا دیکھ رھے تھے ۔ مولوی صاحب کافی دیر تک سوچتے رھے اور بولے ۔ سرمد صاحب میں آپ کی بیگم سے چند سوالات پوچھنا چاهتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو ۔ 
حنا بیگم نے سرمد آغا کے کہنے سے پہلے ہی بتانا شروع کر دیا ۔ 
آج سے بیس برس پہلے کی بات ھے ۔ میری شادی کو سات سال گزر چکے تھے اور میرے ہاں اولاد نہیں تھی ۔ سرمد آغا بھی کافی پریشان رہنے لگے تھے ۔ پھر اللہ‎ نے ہم پر مہربانی کی اور زرین کی آمد کی خوشخبری دی ۔ اس وقت میں جو کھانا بناتی غائب ہو جاتا ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہاں کوئی اور مخلوق بھی آباد ھے ۔ پھر آہستہ آہستہ مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہونے لگا ۔ اور وہ مجھے نظر انے لگی ۔ پہلے پہل میں اسے زلیخا سمجھتی تھی ۔ اور وہ بھی امید سے تھی ۔ بعد میں اس نے بتایا کہ وہ زلیخا نہیں ۔ مجھے اعتماد میں لیکر بتایا کہ وہ زلیخا کی شکل میں ایک جن زاد ھے ۔اور اس کے ہاں  بچے کی ولادت ہونے والی ھے ۔ اور وہ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اسی جگہ رہ رھی ھے ۔ زلیخا اور میں نے اسکی بہت خدمت کی اور وہ ہم سے کافی خوش تھی ۔  پھر اللہ‎ تعالیٰ نے مجھے ایک مردہ بیٹی دی ۔ میں دکھ سے نڈھال تھی ۔ مجھے خود سے زیادہ سرمد آغا کی فکر تھی ۔ میں انھیں دکھی نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ پھر اسکے ہاں اسکی بیٹی یعنی جن زادی پیدا ہوئی ۔ اس نے میرے احسان کا بدلا اپنی جن زادی میری گود میں ڈال کر اتار دیا ۔ اور سختی سے منع کیا کہ اس بات کی خبر زلیخا اور میرے علاوہ کسی کو بھی معلوم ہوئی میں اسکی جان لیلونگی اور زرین کو لیجاونگی ۔میں نے ڈر کر سرمد آغا کو بھی نہیں بتایا ۔ مجھے انکی جان کی فکر تھی ۔ رمضان اور زلیخا نے اسی کمرے کے ایک کونے میں ایک قبر کھودی اور ہماری بچی کو دفنا دیا ۔ 
ہم زرین کو لیکر خوشی خوشی شہر آ گئے ۔ زرین یہ بات جان چکی تھی ۔ وہ ہم دونوں سے  بہت محبت کرتی تھی ۔ ایک مرتبہ سرمد آغا پر زرین کے جن باپ نے حملہ کر دیا ۔ زرین نے اس سے مقابلہ کیا اور اس مقابلے میں وہ بیحد زخمی بھی ہوئی۔ اور اپنے باپ کو وہاں سے بھگا دیا ۔ فارم ہاؤس میں اس نے ہم سب کی بہت رکھوالی کی ۔ یہاں تک کہ انکی کھودی ہوئی قبروں میں انہی جنوں کو دفن کردیا ۔ زرین ایک بہت طاقتور جن زاد ھے ۔ اس نے ہم سب سے حقیقی رشتہ نبھایا ۔ اور فارم ہاؤس میں انے والے سب لوگوں کی حفاظت خود کرتی رہی ۔ سوائے اس ملازمہ کے ۔ کیوں کہ اس وقت زرین اپنے باپ کے ساتھ انھیں تسلی دینے میں مصروف تھی ۔ زرین کے لیے سرمد آغا بہت اہم تھے ۔ 
یہ سب بتا کر  حنا بیگم نے رونا شروع کر دیا ۔ سرمد آغا اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگے ۔ میں اب بھی یہی کہونگا ۔ میں زرین کو یہاں چھوڑ کر ہرگز نہیں جاؤنگا ۔ 
سمیع ہانپتا کانپتا آیا اور کہا کہ اس نے زرین کو بہت عجیب حالت میں دیکھا تھا ۔ وہ چل رہی تھی لیکن اس کے پاؤں زمین پر نہیں تھے ۔ اس نے مجھے مڑ کر دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ واپس چلے جاؤ اور واپس میرے پیچھے مت آنا ۔ جل کر بھسم کر دیے جاؤ گے ۔ 
سرمد آغا نے سمیع کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا ۔ مجھے وہاں لے چلو جہاں میری زرین کو دیکھا ۔ میں جل کر بھسم ہو جانا چاهتا ہوں ۔ پر یہاں سے زرین کے بغیر نہیں جا پاؤں گا ۔یہ کہہ کر سرمد آغا نے زارو قطار رونا شروع کر دیا ۔ 
سرمد آغا اٹھ کر زرین کے کمرے میں آے تو زرین نے مسکرا کر دروازہ کھولا اور بولی ۔ بابا جان میں کب سے آپ کا انتظار کر رھی تھی ۔ سرمد آغا نے زرین کو سینے سے لگا لیا اور بچوں کی طرح رونے لگ پڑے ۔  زرین نے کہا کہ آپ نے تو بیٹی کی شادی کر دی ۔ کیا مجھے رخصت نہیں کرنا ھے آپ نے ۔ پھر اس نے ایک جن زاد سے ملوایا اور کہا ۔ اگر آپ مجھے میرے شوہر کے ساتھ رخصت نہیں کرنا چاہتے تو میں آپ کی بات مانے کو تیار ہوں ۔ میں آپ کی بیٹی ہوں اور رہونگی ۔ اور هر بیٹی کی طرح میں بھی آپ سے ملنے ضرور آیا کرونگی ۔ 
سرمد آغا زرین کی بات سے بہت خوش ہوۓ ۔ انہوں نے سبکے سامنے اپنی بیٹی زرین کا ہاتھ جن زاد کے ہاتھ میں دے دیا اور خوشی خوشی واپس اپنے گھر واپس چلے آئے ۔
                          ختم شد ! 
facebook pa is trha ka novels hasil r
krna kaly mra page like krn thanx page link
اللہ‎ حافظ ۔
Reactions:

0 comments:

Post a Comment