Wednesday, May 27, 2020

Meri Dulhan By Um e Umera Urdu Novel pdf


💕میری دلہن💕
قسط#1
تحریر #ام _عمیر

عمر نہایت مؤدب دین دار اپنے والدین کی اکلوتی اولاد،والدین کی آنکھوں کا تارا،تمام دوست احباب اسکے اعلی اخلاق کے گرویدہ،اللہ نے اس کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔۔۔۔۔۔
عمر پڑھائی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم عمر نہایت ذہین اور ہونہار اپنے ساتھیوں اور اساتذہ کا پسندیدہ طالب علم جسکو دن رات مفید علم پا لینے کی جستجو رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا اور امی جان کی ہر فون کال پہ ایک ہی رٹ ہوتی،بیٹا اپنا گھر بسا لے نکاح کر لے !!!تیرا دین مکمل ہو جائے گا ان شاءاللہ!!!!ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں نا جانے کب زندگی کی بازی ہار جائیں،ہم چاہتے ہیں تیرے لئےاپنے ہاتھوں سے دین دار نیک لڑکی بیاہ کر لائیں جو تیری دین و دنیا کا کل سرمایہ ہو گی ۔ تیری آنے والی نسل کو پروان چڑھاے گی ان شاءاللہ ۔۔۔

عمر جو نہایت ادب سے والدین کی نصیحتوں کو سن رہا تھا آخر کار اس کو ہتھیار ڈالنے پڑ گئے ۔۔
لمبی سانس لے کر بولا ٹھیک ہے بابا جان! جیسے آپ کی خواہش ہے میں خوش ہوں لیکن میں صرف 2 ہفتے کی چھٹی کے لیے آ سکتا ہوں مجھے واپس آ کر اپنے امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہے ان شاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر بیٹا ایک بہت اچھا رشتہ ہے میرے بہت قریبی دوست کی بھانجی ہے تمھاری ماں مل چکی ہے اس سے بہت ہی عمدہ اخلاق اور اعلی صفات کی مالک ہے ۔ تیرے لیے بہترین جیون ساتھی ہو گی اور میں اپنی تحقیق کروا چکا ہوں الحمدللہ ۔۔۔۔۔۔عمر کا دل تھوڑی دیر کے لیے خیالی تصورات میں چلا گیا ۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ٹھیک ہے بابا جان جو آپ کو مناسب لگتا ہے کر گزریں،مجھے پورا یقین ہے آپکا یہ فیصلہ خیر سے خالی نہیں ہو گا ۔ آپ نے ہمیشہ میری بہترین رہنمائی کی ہے اور مجھے آپ کی پسند پہ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا تو نے میرا مان رکھ لیا ہے مجھے تم سے یہی امید تھی؛بابا بھرائی ہوئی آواز میں بولے ۔ فرحت جذبات سے لبریز بابا بولے بیٹا!اللہ تجھے دین اور دنیا میں کامیاب کرے میرے بچے آمین ۔
بابا کی آنکھیں شدت جذبات سے امڈ آئیں ۔
یہ لے میرے بچے ماں سے بات کر، ماں کی مامتا جوکہ پہلے ہی نچھاور تھی اپنے فرمانبردار بیٹےپہ، سلام اور دعا کے طویل سلسلے کے بعد امی بولیں میرے چاند تو جمعرات کو آ رہا ہے تو کیا ہم نکاح جمعہ کی نماز کے بعد طے کر لیں؟؟؟؟
میرے لعل تو ادھر زیادہ دنوں کے لیے نہیں ہوگا تو ہم چاہتے ہیں تو اپنی دلہن کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارے ۔ ۔۔۔۔۔۔

پر میرے بچے تو نے ابھی تک زلیخا کو تو دیکھا ہی نہیں ہے؟! جی امی نہیں دیکھا ہے میں نے زلیخا کو ؛آپ نے دیکھا میں نے دیکھا ایک ہی بات ہے۔۔۔ مجھے آپ دونوں پر مکمل بھروسہ ہے میری طرف سے آپ دونوں کو مکمل اختیار ہے!
آپ اپنے فیصلے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں ان شاءاللہ ۔۔۔۔

ایک دم عمر کے دل کے نرم گوشے نے انگڑائی لی ۔زلیخا اس کی ہونے والی جیون ساتھی جسکو نہ کبھی اس نے دیکھا نہ سنا لیکن پھر بھی دل اس کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔

☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_

جوں جوں وقت گزر رہا تھا عمر کی دعاؤں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا تھا ۔ سوچا جانے سے پہلے عمرے کی ادائیگی کی جائے ۔اللہ کے گھر عمر نے اپنے ہونے والی جیون ساتھی کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے،تقوی اور خیر و برکت کی دعائیں مانگی،چونکہ یہ اسکی زندگی کا ایک بہت اہم فیصلہ تھا ۔۔۔۔۔۔

دل میں سنت کی تڑپ اور لگاؤ نے اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔۔۔۔۔۔
مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت،6 فٹ کا قد ،کشادہ سینہ ۔۔۔

سرخ و سپید عمر چہرے پہ سنت رسول سجائے کسی بھی لحاظ سے کم نہ تھا ماشاءاللہ ۔۔۔۔
موتیوں جیسےدانت جو کثرت مسواک سے اور دمکتے تھے ،خوبصورت روشن آنکھیں اور کشادہ پیشانی کسی بھی دین دار دوشیزہ کے لیےایک عظیم نعمت سے کم نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان آمد پر والدین کی خوشی دیدنی تھی،ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا ۔نکاح کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔

بابا جان نے صبح کے انتظامات سے آگاہ کیا
راولپنڈی سے جہلم دو سے اڑھائی گھنٹے کا سفر ہے اور ہم سیدھا مسجد جائیں گے،نماز جمعہ کی ادائیگی اور پھر نکاح ان شاءاللہ ۔
عمر کے دل میں زلیخا کے دیدار نے ایک بار شدت سے انگڑائی لی ۔ ان دیکھی انجان زلیخا اس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
Next وہ وقت بھی آن پہنچا دعائیہ کلمات اور مبارکباد کی پر جوش آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔
چھوارے اور مٹھائی کا دور دورہ چل رہا تھا،فضا میں مسرت بھرے قہقہے بلند ہو رہے تھے ۔ طے پایا رخصتی نماز عصر کے بعد ان شاءاللہ ۔

چند قریبی لوگوں کی بارات رخصتی کے لیے پر تول رہی تھی کہ سر سے پاؤں تک ڈھکی زلیخا کو امی نے اپنے پہلو میں بٹھایا ۔ بابا جان نے ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھالا اور پھر عمر اگلی سیٹ پر بابا جانی کے ساتھ براجمان ہو گیا ۔

کچھ دیر بعد گاڑی جی ٹی روڈ پر فراٹے لے رہی تھی،بابا جانی اور عمر ملکی حالات پر مہو گفتگو تھے ۔ عمر کی بھاری مردانہ آواز زلیخا کو بہت بھا گئی جبکہ امی جان زلیخا کو ساتھ لگا کر بار بار دعائیہ کلمات دہرا رہی تھیں ۔
مسافت کو مد نظر رکھتے ہوئے بابا جان نے کہا کیوں نہ کسی جگہ پہ رکا جائے لیکن امی بضد تھیں کہ مغرب سے پہلے گھر پہنچا جائے ۔

دھیرے دھیرے سورج اپنی تپش کھو رہا تھا ۔
زلیخا کا دل دھک دھک کر رہا تھا لیکن دل ہی دل میں دعائیہ کلمات دہرا رہی تھی ۔ اجنبی منزل کا عجیب مزا، تڑپ،شوق اور تجسس کے ملے جلے جذبات کا امتزاج!!

ٹھیک آدھا گھنٹہ مغرب سے قبل وہ اپنے گھر کے دروازے پہ تھے امی سے چابی لے کر عمر نے مین گیٹ کھولا چنانچہ موقع غنیمت جان کر زلیخا نے دلہا جی کو دیکھنے کی ٹھانی لیکن گیٹ کھولتے ہی دلہا میاں اندر تشریف لے جا چکے تھے

بابا جانی نے کھلے گیٹ سے گاڑی گھر کے بڑے صحن میں پارک کی ۔۔
جبکہ دلہا میاں گھر کے تالے اور گھر کی بتیاں جلانے کی تگ و دو میں دکھائی دیئے ۔۔۔۔

زلیخا کا دل مچلا اور جی چاہا وقت ادھر ہی رک جائے اور وہ اپنے دلہا جی کو دیکھتی رہے ۔۔

واپڈا کی کرم نوازی کے کیا کہنے،بجلی کا جنازہ اٹھ چکا تھا ۔" واپڈا کے کارنامے ہر وقت لوگوں کی خوشیوں کو دوبالا کرنے میں کارفرماں "

پورے گھر کے دروازے کھل چکے تھے لیکن ہلکا اندھیرا چھا رہا تھا ۔
امی نے آواز لگائی عمر موبائل کی بیٹری لے آؤ تو دلہن اور سامان کو کمرے تک لے چلیں ۔ بابا واش روم جا چکے تھے اپنے موبائل کی بیٹری کے سہارے سے
جی امی آیا عمر کی مؤدب آواز گونجی ۔
بیٹے زلیخا کو اندر لے چلو میں تمھارے بابا کے ساتھ سامان نکالتی ہوں ۔ نہیں امی میں کرتا ہوں آپ جائیں ۔
ارے نہیں نہیں بیٹا دلہن لمبے سفر سے آئی ہے اس کو کمرے میں لے چلو ________
عمر نے اپنے دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا آ جائیں میں آپ کو اندر لے چلوں ۔

زلیخا کا دل بلیوں اچھل رہا تھا،خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کہ دین دار،خوبصورت اور خوب سیرت شخص اس کی زندگی کا ہم سفر ہے ۔ دل میں بسم اللہ بول کر اس نے اپنا دستانے والا ہاتھ آ گے بڑھا دیا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی خواب ہو، زلیخا نے دل ہی دل میں سوچا ۔

چند لمحوں میں وہ اپنے کمرے میں آن پہنچے ۔ آپ ادھر رکیں میں کچن سے موم بتیاں لے کر آتا ہوں اور آپ اپنا برقعہ(عبایہ ) اتار لیں

چند لمحوں بعد عمر دو موم بتیوں سمیت ان کو جلانے کی تگ و دو میں مصروف تھا،پھر بولا میں ایک موم بتی واش روم میں رکھ رہا ہوں اور ایک کمرے کے لیے ہے ۔

مغرب کی اذان کا وقت ہوا چاہتا ہے اور میں وضو کر کے مسجد جا رہا ہوں ۔
زلیخا نے دھیرے سے بولا جی ۔۔۔۔۔
دستانے اور برقعہ اتارا ہی تھا کہ عمر واش روم سے باہر نکلا، اچانک نظر اس کے مرمری پتلے ھاتھوں پہ پڑی ۔ بہت پتلے اور نازک ہاتھ لیکن رنگت کا اندازہ کرنے سے قاصر تھا

جی وہ مجھے وضو کرنا ہے،زلیخا دھیمے لہجے میں بولی ۔

جی جی ضرور لیکن آپ اس لباس میں کیسے وضو کریں گی؟؟؟ عمر نے اچٹتی نگاہ ڈال کر استفسار کیا
جی وہ میں کر لوں گی مجھے عادت ہے اکثر برقعے میں بھی وضو کرنے کی جی ۔۔۔۔
عمر لمبی سانس کھینچ کر چلیں جیسے آپ کو مناسب لگتا ہے میں مغرب کے لیے جا رہا ہوں السلام علیکم!
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکتہ زلیخا نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔

نکاح کے دو بولوں نے اس کی ساری سوچوں کا مرکز عمر کو بنا دیا ۔ اس نے تو کبھی نہ کسی غیر محرم مرد کو چاہا ، نہ دیکھا اور نہ ہی کبھی کسی کو چھوا ، لیکن یہ شخص تو ابھی سے ہی اس کے دل میں ڈیرہ ڈال چکا ہے ۔ ایک الگ سا اطمینان ، تحفظ کا احساس اور شدید کشش کا احساس اسکو سرشار کیے جا رہا تھا

وضو سے سارا بناؤ سنگار،اور میک اپ پانی کی نظر ہو چکا تھا لیکن زلیخا اس چیز کی پرواہ کیے بغیر جائے نماز پہ کھڑی تھی، اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز تھی اور گڑا گڑا کر دعائیں مانگ رہی تھی ۔

دروازے پہ آہٹ نے زلیخا کے دل کو ایک اور بار تیزی سے دھڑکنے پر مجبور کر دیا، خود سے بولی یقینا عمر واپس آگئے ہیں ۔ باہر سے امی کی آواز آئی بیٹی میں ہوں!
زلیخا دروازے کی طرف لپکی اور امی کا استقبال کیا۔
امی اس حلیے میں بہو کو دیکھ کر صدقے واری ہو رہی تھیں
میری بچی، میری بہو کا اپنے رب سے مضبوط تعلق ہے ماشاءاللہ ۔ پیار سے گلے لگایا،ماتھا چوما اور ڈھیروں دعائیں دیں ۔

میری بچی کھانا لگاؤں؟ نہیں امی مجھے بھوک نہیں آپ ان سے پوچھ لیں شاید وہ کھائیں ۔

واپڈا کی کرم نواز یوں کے کیا کہنے؟!بجلی کے نزول کے ساتھ عمر اور بابا جان کمرے میں داخل ہو چکے تھے ۔قدرے اونچی آواز سے سلام بولا، اچانک نظر دلہن کے سانولے ہاتھوں پہ پڑی تو ایک دم دل بجھ سا گیا لیکن اپنے جذبات کو نا ظاہر کرنے میں کامیابی کا جھنڈا گاڑا۔
بابا جان نے بھی خوب محبتیں نچھاور کی اور کھانے کے لیے بلایا لیکن عمر نے بھی صاف انکار کر دیا کہ بھوک نہیں ہے ۔

بابا جان نے بولا بیگم پسے بادام اور دودھ لے آئیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا اس سنت کو پورا کرے۔
امی ٹھیک دو منٹ بعد ٹھنڈے دودھ کا گلاس لیے عمر کو تھماتے ہوئے بولیں بیٹا پہلے خود پیو اور پھر زلیخا کو پلاؤ

اور دودھ کی دعا یاد دلائی ۔ عمر نے غٹا غٹ دودھ کا آدھا گلاس پیا اور باقی زلیخا کو پکڑایا ، اس نے بھی عظیم دقت کے ساتھ چند گھونٹ نیچے اتارے اور امی بابا کی طرف دیکھا تو دونوں مسرت بھرے جذبات سے بولے اور پیو بیٹی، لیکن زلیخا کے مسلسل انکار پر عمر کو بقیہ دودھ ختم کرنے کا حکم صادر ہوا ۔ اس کے بعد امی بابا کو لے کر کمرے سے جاتے ہوئے بولیں بیٹی میں نے تمھاری ضرورت کا سارا سامان اس کونے میں رکھ دیا ہے، وہ دونوں جا چکے تھے، کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔

زلیخا شرم سے سر جھکائے کھڑی تھی تو عمر بولا آپ تشریف رکھیں اور خود وہ اپنی کتابوں کو اوپر نیچے کرنے لگا ، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ گود میں ہاتھ رکھے سر ضرورت سے زیادہ جھکائے بیٹھی تھی ۔

چہرہ تو ٹھیک طرح سے دکھائی نہیں دیالیکن ہاتھوں کی رنگت بتا رہی تھی محترمہ کافی سانولی ہیں
جس کےغم نے عمر کو اندر ہی اندر چاٹا ۔

اس کا دل بجھ سا گیا کہ آخر امی بابا نے اس کا انتخاب کیوں کیا؟؟؟ میرا اور اس کا بھلا کیا جوڑ ہے؟؟؟؟؟وہ خود ہی دل میں سوال و جواب کیے جا رہا تھا ۔
عمر کا دل ٹوٹ چکا تھا اس کو اپنے والدین سے ایسے انتخاب کی امید نہ تھی، آخر ظاہری حسن بھی کوئی چیز ہے؟؟؟؟
اتنے سال خود کو عورت کے فتنوں سے بچائے رکھا، زنا کاری کے گند سے خود کو بچایا تو کس کے لیے؟؟؟ ایک حلال رشتے کے لئے ایک دل کو موہ لینے والی بیوی کے لیے لیکن اس میں تو کشش ہی نہیں ہے، سانولی سی مریل ککڑی ۔

عمر کے اندر سرد جنگ کا سلسلہ جاری تھا ، دماغ جیسے ماؤف ہو رہا ہو۔

لیکن اس کا ضمیر بار بار ملامت کر رہا تھا
احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

"""دنیا ایک پونجی ہے اور دنیا کی سب سے بہترین پونجی نیک عورت ہے ""(صحیح مسلم )

"""کسی عورت سے ان چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے:
1-اس کا مال 2-اس کا حسب نصب 3- اس کا حسن و جمال
لیکن دیکھو!!!!!
تم دین والی کو ترجیح دینا """(بخاری،مسلم،ابو داؤد،نسائی،بیہقی)
لیکن اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لیکن اس کا ضمیر بار بار ملامت کر رہا تھا
احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

"""دنیا ایک پونجی ہے اور دنیا کی سب سے بہترین پونجی نیک عورت ہے ""(صحیح مسلم )

"""کسی عورت سے ان چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے:
1-اس کا مال 2-اس کا حسب نصب 3- اس کا حسن و جمال
لیکن دیکھو!!!!!
تم دین والی کو ترجیح دینا """(بخاری،مسلم،ابو داؤد،نسائی،بیہقی )

کتابوں کی ترتیب کے بعد عمر زلیخا کی طرف پلٹا اور بولا دیکھیں میں کتابی کیڑا ہوں،کتابوں میں رہنے والا لہذا محدود وقت کی بنا پر آپ کے لیے ایک کتاب کا انتخاب کیا ہے" تحفتہ العروس "یہ صنف نازک کے موضوع پر پہلی جامع اور دلکش کتاب ہے ۔ امید ہے آپ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔

زلیخا جھکے چہرے اور دھیمے لہجے سے صرف "جی "کر پائی ۔
میرے خیال میں آپ یہ بھاری بھرکم لباس تبدیل کر سکتی ہیں، عمر کو جیسے اس کے بناؤ سنگار سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن اس نے اس احساس کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی ۔۔۔
زلیخا بھی جوان، جذبات، احساسات رکھنے والی لڑکی تھی ۔

اسکے رویے کو سمجھ گئی اور لباس تبدیل کرنے کے لئے کونے میں پڑے سوٹ کیس کا رخ کیا اور سفید کاٹن کا سادہ سا شلوار قمیض نکالا جسکے اوپر ہلکے گلابی اور کالے رنگ کی کڑھائی تھی اور ساتھ بڑا سا چھوٹے چھوٹے پھولوں والا دوپٹہ ۔۔۔۔۔

""اللهم انی أعوذ بك من الخبث و الخبایث "
دعا پڑھتے ہی وہ واش روم کے اندر تھی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر اپنے بے قابو آنسوؤں کی جھڑی کو نہیں روک سکی ۔

خوب آنسو بہا کر شاور لیا اور باہر نکلنے سے پہلے چاروں طرف دوپٹا لپیٹ کر ماتھے پہ ہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا۔
باہر آئی تو عمر عشاء کے لیے جا چکا تھا تو اس نے بھی عافیت نماز میں ہی جانی اور پورے خشوع کے ساتھ نماز شروع کر لی، اپنی ہمیشہ کی عادت کو اپناتے ہوئے لمبی سورتوں کا انتخاب کیا اور اپنی نماز کو تسلی سے مکمل کیا ۔۔۔۔۔۔۔

اپنے مرمریں ھاتھوں کو اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے پھیلا دیا ۔۔۔

"اے میرے رب میرے خاوند کے دل میں میرے لیے محبت اور الفت پیدا کر، مجھے ان کی نظر میں پر کشش بنا دے۔"آمین
بنا کسی دقت کے آنسوؤں کی جھڑی زلیخا کے گالوں کو بھگوےء جا رہی تھی ۔

نا چاہتے ہوئے بھی آنسو سارے بند توڑ کر لگا تار اس کے سوتی دوپٹے کو گیلا کیے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دم سے آہٹ سن کر اس نے اپنے چہرے کو رگڑ ڈالا اور بستر پہ پڑی تحفتہ العروس کے اوراق الٹنا پلٹنا شروع کر دئیے ۔

دوبارہ سے مردانہ سلام نے اس کے دل پہ دستک دی ۔
پھر وہی دھیما انداز اور جکھی جکھی گردن سے جواب آیا ۔
سنیں!!!!عمر پکارا!
جی زلیخا کا جواب ۔
آپ نے کھانا کھانا ہے؟؟؟؟؟؟؟میں امی کو بولتا ہوں آپ کو گرم کر دیں ۔۔۔۔
جی نہیں شکریہ مجھے بھوک نہیں ہے،!زلیخا بولی۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آپ نہیں کھاتی تو میں بھی نہیں کھاتا ۔۔۔۔۔
میں سونے کے لیے جا رہا ہوں، دو دنوں سے سفر کی تھکاوٹ ہے اور آپ بھی لمبے سفر سے آئی ہیں آرام کریں ۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کسی روبوٹ کی طرح اٹھی اور بستر کے ایک کونے میں لیٹ کر خود کو اپنے دوپٹے میں لپیٹا اور" اذکار مسنونہ "میں مشغول ہو گئی ۔
ادھر دوسری طرف بھی یہی سلسلہ جاری تھا ۔۔۔۔۔
نیند کے آثار دونوں طرف دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔
لیکن راہ فرار کا یہی ایک ذریعہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر بند آنکھیں لیکن دل دماغ شدت غم سے چور تھا ۔ زلیخا بار بار اس نقطہ کو سوچے جا رہی تھی کہ کیا میری نادرا والی تصویر عمر کو نہیں دکھائی گی؟؟جبکہ امی جان نے ممانی سے خاص درخواست کر کے عمر کو دیکھانے کے لیے لی تھی ، پھر آخر کیا ہوا ہے؟؟؟؟؟
جو ان کی آنکھوں میں میرے لئے کسی قسم کے جذبات نہیں ہیں؟مجھے تو ان لوگوں نے تصویر دکھا دی پر اپنے بیٹے کو کیوں نا دکھائی؟؟؟؟
میں تو رشتوں سے ترسی ہوئی ہوں،بچپن میں والدین کا انتقال،نا کوئی بہن اور نا کوئی بھائی اور اب خاوند ملا ہے وہ اتنا قریب ہو کے بھی کوسوں دور ۔
دل میں ٹھیس اٹھی اور آنکھوں نے کھل کر برسنا شروع کر دیا، کیا ہوا جو میرا رنگ سانولا ہے؟؟؟ دل ودماغ تو نہیں ہے ؟!!!۔ آنکھوں میں برسات کا سلسلہ تسلسل سے جاری تھا ۔ دل شدت غم سے نڈھال تھا اور اپنے پسندیدہ شعر کو دہرا رہا تھا ۔

عجب رنگوں میں گزری ہے زندگی اپنی
دلوں پہ راج کیا پھر بھی پیار کو ترسے

سفید کاٹن کا دوپٹہ زخموں پہ مرہم کا کام کر رہا تھا آنکھوں سے برستی برسات کو کافی حد تک جزب کر چکا تھا ۔ نیند کوسوں دور تھی، دل کر رہا تھا زور زور سے دھاڑیں مارےلیکن وہ عمر کو اپنی کمزوری نہیں دکھانا چاہتی تھی ۔
اگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہیں تو میں کبھی ان کو مجبور نہیں کروں گی ہاں اپنے حقوق ضرور پورے کروں گی جو کہ میری تربیت کا حصہ ہیں ۔ میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابیات کی رضی اللہ علیھن کی سنت پہ عمل پیرا ہوں گی ان شااللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
بے شک خاوند کی فرمانبردار عورتیں ہی جنت جائیں گی ۔
کمرے میں دیوار پہ لگےگھڑیال کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی ۔ واپڈا کی آنکھ مچولی جاری تھی، کمرے میں لگا زیرو واٹ کا بلب بھی بجھ چکا تھا ۔

زلیخا انتظار میں تھی کہ لائٹ آئے تو وہ وقت کا تعین کر سکے اور اپنی روزانہ کی روٹین" تہجد "کے نوافل شروع کرے ۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے لگ بھگ بجلی کا نزول ہو چکا تھا ۔
رات کے دو بج رہے تھے،زلیخا چپکے سے دھیمی چال سے کمرے سے نکل کر واش روم میں جا چکی تھی ۔
اچھی طرح سے وضو کیا چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور واپس خاموشی سے کونے میں پڑے جائے نماز پہ کھڑی ہو گئی ۔
نوافل میں طویل قیام کے بعد اپنے مرمری ہاتھ اپنے رب کے سامنے پھیلا دیئے
پھر وہی برسات کا سلسلہ اور سینے میں تڑپ،چار و ناچار خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود ۔۔۔
اپنی پیشانی کو سجدہ ریز کر دیا اور خوب گڑگڑائی، میرے مالک میری اس آزمائش کو آسان کر،بے شک تو ہی مشکل کشا ہے ۔
طویل دعاؤں کے بعد دل میں اطمینان محسوس کیا،اتنے میں فجر کی آذان سنائی دی ۔۔۔
عمر تو نجانے رات کےکس پہر نیند کی گہری وادی میں جا چکا تھا ۔۔۔
اب زلیخا اس شش و پنج میں تھی کہ ان کو اٹھاؤں یا نا اٹھاؤں اور اگر اٹھاوں تو کیسے؟؟؟؟؟؟
5 منٹ کی سوچ بچار کے بعد زلیخا نے عمر کے پاؤں کو ہلکا سا جھنجھوڑا لیکن وہ گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا ۔ آخر تیسری کوشش پہ ہڑ بڑا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں ملیں تو دیکھا زلیخا اسے کی پالتی پہ کھڑی تھی،فورا بولی ج ج جی وہ آپ کی فجر کی جماعت نکل جائے گی اذان ہو چکی ہے ۔
عمر دل ہی دل میں خوش ہوا چلو محترمہ نماز کی تو پابند ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
فورا اٹھ کھڑا ہوا،وضو کیا اور مسجد کا رخ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا نے فجر ادا کی اور تلاوت کلام پاک شروع کر دی ۔۔۔۔
خوبصورت آواز اور قواعد التجويد ،اور مخارج سے بخوبی واقف زلیخا رقت آمیز لہجے میں تلاوت میں مشغول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کی تلاوت نے عمر کو دروازے پہ ہی سننے پر مجبور کر دیا
اتنی خوبصورت آواز اور شیریں لہجہ اس نے آج دن تک نہ سنا ۔۔۔۔ماشااللہ
وہ دل ہی دل میں داد دے گیا
عمر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بابا نے آواز لگائی، جی بابا جان فرمایئے،وہ بیٹا مجھے لگتا ہے ہمیں کل اتوا کا ولیمہ ملتوی کرنا پڑے گا؟؟؟
سب خیریت ہے نا بابا جان؟؟؟؟؟
تھوڑی دیر پہلے تمھارے پھوپھا کا فون آیا تھا،تمھاری پھپھو کافی بیمار ہیں اس لیے مجھے کھاریاں جانا پڑے گا ہو سکتا ہے کچھ دن رکنا بھی پڑھ جا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔
پیچھے سے امی کی آواز آئی میں بھی جاؤں گی اتنا اچھا وقت گزرا ہے ہمارا باجی نصرت کے ساتھ،زندگی موت کا کچھ پتا نہیں لہذا میں جاؤں گی ۔۔۔
پر عمر کی ماں پیچھے دلہن اکیلی ہے اس کو گھر کی کسی چیز کا پتا نہیں ہے کونسی چیز کدھر پڑی ہے ۔۔۔
مجھے اپنی زلیخا پہ پورا بھروسہ ہے یہ مجھے کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گی، امی فاتحانہ انداز میں مسکرائیں ۔۔۔۔۔۔۔
آخر بابا کو ماننا ہی پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا میری بچی ادھر آ میں تجھے ضرورت کی ساری چیزیں دکھاؤں، زلیخا قرآن مجید کو رکھ کر فورا ان کے پاس آن پہنچی ۔۔۔۔۔
امی بابا کی دعاؤں کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ۔
بابا بولے عمر کی ماں پھر سے سوچ لو ،
ارے آپ کیوں گھبراتے ہیں؟؟؟؟ میرا عمر ہے نا زلیخا کا خیال رکھنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے زلیخا کے دل میں ٹھیس اٹھی اور آنکھوں کی نمی کو چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔۔
چند سیکنڈوں میں امی اور زلیخا کچن میں جا چکے تھے ۔۔۔
انکے جاتے ہی بابا نے لمبی سانس لی اور سمجھانے کے انداز میں بولے؛ دیکھو بیٹا ہمارے پیچھے تم نے بہو کا خاص خیال رکھنا ہے اس بچی نے یتیمی کی زندگی گزاری ہے اور بہت مشکلات دیکھی ہیں ۔۔۔۔

جی بابا آپ گھبرائیں نہیں میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا ان شااللہ ۔۔۔۔مجھے تم سے یہی امید تھی میرے بچے اللہ تیرا دامن خوشیوں سے بھر دے آمین ۔۔۔۔۔
اور ہاں میں گاڑی چھوڑے جا رہا ہوں پیچھے سے تمہیں ضرورت پڑ سکتی ہے، بہو کو تھوڑی دیر باہر لے جانا یا ایک چکر مری کا لگا لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچوں میں گم عمر جی جی بابا جانی ۔۔۔۔۔

اچھا بیٹا ہم ابھی ناشتےکے بعد نکلیں گے ان شاءاللہ، تم آرام کرو ۔۔۔۔ جی بابا جانی
امی اور زلیخا کی ہنسنے کی آوازیں کیچن سے آ رہی تھیں جیسے ایک دوسرے کو سالوں سے جانتی ہیں

عمر دوبارہ سونے کے لئے پر تولنے لگا جبکہ زلیخا امی کے ساتھ گوش گپیوں میں مصروف تھی اور ساتھ ساتھ ہر چیز کا جائزہ بھی لے رہی تھی ، ماموں کے گھر کتنی غربت تھی اور یہاں ہر چیز کتنی نفیس ہے ۔۔۔۔۔۔
کاش ان چیزوں کا مالک بھی میرا ہو جائے، دل میں دوبارہ سے ایک ہوک اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا میری بچی جاؤ ناشتےکے لیے عمر کو بھی بلا لاؤ تم دونوں نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔
زلیخا کمرے میں آئی تو دیکھا عمر تو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔
کمرے کی ہلکی سی روشنی میں دل کیا ادھر ہی کھڑی ہو کر ا پنے دل کے مالک کو اسی طرح دیکھتی رہے لیکن امی ابو کو خوش کرنے کے لئے چار و ناچار ناشتہ ان کے ساتھ کھایا ۔

ان کی روانگی کا وقت آ گیا، زلیخا کا دل غمگین تھا میں تو اکیلی رہ جاؤں گی عمر کے ساتھ اور ان کو تو کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے میرے میں، بجھے دل کے ساتھ سوچا ۔۔۔۔
امی بابا کو رخصت کر کے کیچن میں صفائی کی ٹھانی، پھر صحن میں سفید کپڑوں کی ٹوکری سے کپڑے نکال کر ان کو سرف میں ڈبو دیا ۔۔۔۔۔
کچن کو لشکا کر دوپٹے کو ایک سائیڈ پہ رکھا اور کپڑوں کی رگڑائی شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔۔
کپڑوں کی رگڑائی میں اس قدر مگن تھی کہ آگے پیچھے کا کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے 5 منٹ خوب جائزہ لیا اور پھر سلام جھاڑا ۔۔۔۔زلیخا ایک دم اپنے خیالوں میں مگن گھبرا گئی اور منہ پہ ہاتھ رکھ کر چیخ کو روک لیا

بے دھیانی میں صابن والے ہاتھ چہرے کو کافی حد تک میلا کر چکے تھے اور صابن کا جھاگ نمایاں ہو رہا تھا ۔۔۔ عمر نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئےپوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟؟؟
جی جی جی وہ میں کپڑے دھو رہی ہوں ۔۔۔۔
اچھا تو یہ مشین کس خوشی میں پڑی ہے ؟؟؟ صرف گھر کی خوبصورتی کے لیے؟؟؟؟؟؟
آپ کو پتا ہے آپ کون ہیں؟؟؟؟؟
جی مجھے پتا ہےمیں زلیخا مراد ہوں !!!!!
عمر ہنسی چھپاتے ہوئے بولا نہیں بالکل غلط بول رہی ہیں آپ!!!
زلیخا حیرت سے اس کا چہرہ پڑنے لگی
آپ دلہن ہیں اور وہ بھی نئی نویلی ،،، عمر نے زور دےکر بولا
ایک ٹھیس پھر اٹھی اور آہستہ سے جی بول پائی۔۔۔۔۔
ہوا کے جھونکے نے ماتھے پہ پڑے بالوں کو الجھا دیا پھر بنا سوچے صابن والے ہاتھوں سے انکو پیچھے ہٹایا ۔۔۔۔۔
عمر کی ہنسی چھوٹ گئی یہ کیا حال بنایا ہوا ہے؟؟؟؟
شکل دیکھیں آئینے میں اپنی ذرا،
زلیخا نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن آئینہ نظر نہ آیا،
چھوڑیں آئینہ کو میں خود صاف کر دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
عمر نے گیلے ہاتھوں سے صابن سے اٹے بال اور چہرہ صاف کیا اور پھر پوچھا آپ کو کھانا پکانا آتا ہے؟؟؟؟؟؟
بڑے ہی پرجوش لہجے میں جی مجھے سب کچھ آتا ہے زلیخا نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ماشااللہ ۔ عمر بولا
پھر تو آپ مکانوں کی تعمیر کا کام بھی جانتی ہوں گی؟؟؟؟
زلیخا حیرت سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

میں سوچ رہا ہوں آپکو اینٹیں، بجری اور ریت منگوا دوں اور آپ مجھے ایک غسل خانہ تعمیر کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ساختہ زلیخا کی ہنسی چھوٹ گئی اور عمر نے بھی زور کا قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں باہر سے کھانا لاتا ہوں آپ یہ سب سمیٹیں ۔۔۔

ارے نہیں نہیں باہر سے کھانا نا لائیں میں نے تو پراٹھوں کے لیے مصالحہ اور آٹا تیار کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔

آپ کچھ بھول رہی ہیں کہ آپ نئی نویلی دلہن ہیں اور نئی دلہنیں ایسے کارنامے سر انجام نہیں دیتی بلکہ نخرے اٹھواتی ہیں ۔۔۔۔۔
زلیخا: دلہن پرانی ہو یا نئی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس احساس ذمہ داری ہونا چاہئے، اور یہ سب میری تربیت کا حصہ ہے اور ویسے بھی مجھے فارغ بیٹھنا پسند نہیں ہے
فارغ انسان شیطان کا گھر ہے "۔۔۔۔۔۔۔عمر بڑے انہماک سے اس کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ اچھا جی جیسے آپ کی خوشی عمر بولا۔۔۔۔۔

یہ دیں میں تار پہ لٹکا دوں عمر نے ہمدردی جھاڑی ۔۔۔
بس میں اچھی طرح کھنگال کے لائی۔۔۔
زلیخا کا پاؤں ایک دم گیلے فرش پر پھیلے سرف سے پھسلا جو کہ اس کے 14 طبق روشن کرنے کیلئے کافی تھا ۔۔۔۔
عمر نے فورا آگے بڑھ کر اس کو مضبوطی سے تھام لیا ۔
عمر زلیخا کو تھامے ہوئے بولا سنیں محترمہ آپکے یہ شوق میرا کچومر نکال دیں گے اگر کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی تو بابا نے میری ہڈیاں بھی توڑ دینی تھی لہذا ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔
زلیخا ایک دم سنبھلی اور شرمندگی سے بولی کوشش کروں گی آئندہ شکایت کا موقع نہیں دوں ان شااللہ
جائیں جا کر کپڑے بدلیں میں یہ سب فارغ کرتا ہوں جی اچھا زلیخا بولی ۔۔۔۔
اور ہاں سنیں دھیان سے پلیز ۔۔۔۔۔۔۔جی اچھا ان شااللہ

زلیخا کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے تھا کمرے میں آکر لمبی سانس لی
سوٹ کیس سے سادہ سا فیروزی سوٹ نکالا،شاور لیا اور سیدھی کچن میں پراٹھے بنانے لگ گی ۔۔۔باہر دیکھا تو عمر کپڑوں کو پھیلانے کی تگ و دو میں مصروف تھا ۔۔۔
پراٹھوں کی تیاری کے ساتھ زلیخا دل ہی دل میں ذکر بھی کر رہی تھی جوکہ اس کی عادت کا حصہ تھا ۔۔۔
تیار شدہ پراٹھے اور چائے میز پہ سجائی اور دھیمے لہجے میں عمر کو پکارا ۔۔
اندر آتے ہی عمر کی نظر زلیخا کے گھٹاؤں جیسے کالے لمبے بالوں پہ پڑی جن سے پانی کی بوندیں موتیوں کی طرح ٹپک رہی تھیں ۔۔۔ دل ہی دل میں بولا سانولی تو ضرور ہے لیکن خوبیوں سے بھری ہوئی ہے ۔۔۔ماشااللہ
آپ بھی آ جائیں عمر نے پکارا ۔۔
نہیں میں امی اور بابا کے ساتھ کھا چکی ہوں ، میں ذرا کمرہ درست کر لوں، ساری چیزیں سمیٹیں بستر درست کیا،
باہر سے عمر نے پکارا!!!
آئی جی!!
ادھر بیٹھیں ۔
کرسی کھینچ کر سامنے بیٹھ گئی ۔
میری طرف دیکھیں ۔۔۔ عمر نے نرمی سے پکارا
ایک دم سے نظر یں اٹھائیں اور پھر فورا نیچے جھکا لیں ۔
آپ کھانا کھا چکے ہیں تو میں یہ برتن دھو لوں، بڑی مشکل سے پھنسی ہوئی آواز نکالی ۔

جی میں کھا چکا ہوں اور بہت مزا آیا ہے آپ کو شکریہ کے لئے بلایا تھا ۔
ظہر کے بعد ہم دامن کوہ جائیں گے اور اس کے بعد عصر فیصل مسجد میں ان شااللہ ۔۔۔۔
آپ کبھی آئی ہیں پنڈی پہلے؟؟؟؟
جی کبھی بھی نہیں، میں تو صرف جہلم سے دینہ اور دینہ سے جہلم تک ہی محدود تھی۔

ظہر کے بعد نوبیاہتا جوڑا دامن کوہ کی طرف روانہ تھا ۔۔۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی، زلیخا پردے میں لپٹی گہری سوچوں میں گم تھی ۔۔۔۔
عمر نے خاموشی کو توڑ ا آپ بولتی بہت کم ہیں؟!
میں بولتی ہوں وقت ضرورت !!
اچھا پھر مجھے 1 سے100 تک گنتی سنائیں
جی؟؟؟؟ زلیخا نےسوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا
اچھا اگر 100 تک نہیں آتی تو 1 سے 10 تک سنائیں اور پھر 10 سے 1
آپ واقعی مجھ سے گنتی سننا چاہتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟
زلیخا سراپا احتجاج تھی
پھر میں 1 سے 100 تک سناؤں گی کیونکہ مجھے گنتی آتی ہے ۔
زلیخا نے بھی ایک ہی سپیڈ میں ساری سنا ڈالی ، ابھی اور کچھ سننا ہے آپ نے ؟؟؟؟؟؟؟؟جی 12 کا پہاڑا سنائیں
اچھا وہ بھی سن لیں کیا یاد کریں گے
ایک ہی سانس میں سارا سنا دیا، جوکہ عمر کو بھی نہیں آتا تھا ۔۔۔۔
دونوں دامن کوہ پہنچ چکے تھے، گہرے سر سبز سرو اور سفیدے کے درخت، ناہموار زمین پھر دونوں ایک کونے میں جا بیٹھے ۔۔۔۔
زلیخا پھر سے خاموش اور سوچوں میں گم ۔۔۔
عمر نے سوال داغا، آپ کہاں تک پڑھی ہیں؟؟؟؟؟ اور شادی سے پہلے کیا مصروفیات تھیں؟؟؟؟

پرائیویٹ بی-اے کیا ہے ، مدرسے میں قرآن اور گھر میں ٹیوشن پڑھاتی تھی
آپکے والدین کو کیا ہوا تھا؟؟؟؟
میں دو سال کی تھی تو ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے اور پھر میرے ماموں نے میری کفالت کی ذمہ داری لے لی ۔۔۔
بچپن سے آج تک غربت کے باوجود دونوں نے دین کو نہیں چھوڑا اور دینی تربیت کی الحمدللہ ۔۔۔۔
زلیخا دل بول رہی تھی اور عمر پوری توجہ سے اس کو سن رہا تھا ۔۔۔۔
شاعری پسند کرتی ہوں؟؟؟؟؟
جی!
پھر سناؤ کچھ!

"نگاہیں میرے گرد آلود چہرے پہ ہیں دنیا کی
جو پوشیدہ ہے باطن میں وہ جوہر کون دیکھے گا
یہاں تو سنگ مر مر کی----- چمک پہ لوگ مرتے ہیں
میرے کچے مکان تیرا کھلا در----- کون دیکھے گا؟!"

واہ واہ ہم ہیں نا آپکا کھلا در دیکھنے کے لیے، عمر نے زور سے قہقہہ لگایا ۔ ۔۔۔
میں آپکو ایک شعر سناتا ہوں

""ڈبے میں ڈبا،ڈبے میں کیک
میری زلیخا لاکھوں میں ایک "

بے ساختہ زلیخا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔۔

سنیں آپ کو میرا سانولا رنگ پسند نہیں ہے اور میں یہ کل ہی جان گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا مراد کل رات تک نہیں تھا ، لیکن تہجد کی نماز اور تلاوت قرآن نے آپ کو دنیا کی سب سے خوبصورت عورت بنا دیا ہے اور مجھے پتا تھا کہ آپ تہجد کے لیے اٹھی تھیں مجھےفخر ہے کہ میری مضبوط عقیدہ اور سنت سے لگاؤ رکھنے والی بیوی میری مضموط نسل کو پروان چڑھاے گی ان شاءاللہ

میں داد دیتا ہوں امی بابا کی پسند کو
زلیخا مراد آپ "میری دلہن " ہیں

آپ میری پاکیزہ،باکردار اور با حیا دلہن ہیں
جس کی اعلی تربیت نے میرے دل میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلیخا کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے بھر آئیں جنکو عمر نے اپنے ہاتھوں میں سمو لیا۔۔

ختم شد:::::::::::::::::::::::::::::::::
(مصر کے ایک سچے واقعے سے متاثر ہو کر یہ فرضی کہانی لکھی تھی ، چونکہ مجھے اردو ٹائپنگ میں عبور حاصل نہ تھا جس کی بنا پر ناول لمبا نہیں لکھ پائی ۔ قارئین کرام اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں)

OR Facebook Pa HI Novel Hasil krna Kaly mra page ko like zror krn 
Click hear
Reactions:

0 comments:

Post a Comment