Monday, May 18, 2020

Dulhan Novel By Nasir Hussain - #Urdupointadab.ml

#دلہن
#از_ناصر_حُسین


میرا لیپ ٹاپ کہاں ہے. ..؟
افراہیم نے اپنی نئی نویلی دلہن سے پوچھا جو دو دن پہلے زبردستی اس کے سر پہ تهوپ دی گئی تھی. .........
جی...وہ..وہ..کیا ہوتا ہے اس نے حیرانی سے الٹا سوال کر دیا..وہ اس کی حیرت پہ مزید حیران ہوا.....
لیپ ٹاپ....مطلب وہ جس پہ بیٹھ کر میں رات کو اپنے آفس کا کام کرتا ہوں.....اس نے دانت پیس کر کہا.
اچها ....وہ....وہ..تو ہم نے اوپر سامان والے کمرے میں ڈال دیا...معصومیت سے کہا گیا. ........
کیا...میرا لیپ ٹاپ تم نے سٹور روم میں ڈال دیا. ..کیوں. .حیرت کے ساتھ ساتھ اسے غصہ بهی تها....
وہ جی ہم کو لگا ...وہ آپ کے کام کی نہیں ہے ایسے فالتو میں یہاں پڑی ہوئی ہے اس لیے ہم اسے اوپر ڈال آئے......اس نے ڈرتے ڈرتے کہا جب کہ افراہیم کا بی پی اوپر جا چکا تها ..اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تها وہ اس لڑکی کا کیا کرے.....
Dulhan Novel By Nasir Hussain
جاو ابهی جا کر میرا لیپ ٹاپ لے آو.....اس نے غصے کو کنٹرول کر کے آرام سے کہا....جبکہ وہ ایسے غائب ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. .اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کر اپنا غصہ باہر نکالنے کی کوشش کی اور بے بسی سے سر تهام کر بیڈ پر بیٹھ گیا.....
یہ بانی نامی آفت دو دن پہلے ہی اس کی زندگی میں آئی تهی جسے دادی پوری دنیا ڈهونڈ کر نہ جانے کہاں سے پکڑ کر لائیں تهیں..اتنی بڑی دنیا میں اتنے بڑے پاکستان میں دادی کو اپنے ہونہار پڑهے لکهے ہینڈسم پوتے کے لیے یہی ایک لڑکی ملی تهی.. جس نے اپنی زندگی میں لیپ ٹاپ کا نام تک نہیں سنا..جو انگریزی تو دور کهبی اردو سکول بھی نہیں گئی....
.پتا نہیں دادی کو اس بلا میں ایسا کیا نظر آ گیا جو انہوں نے اس جاہل لڑکی کو اس کے سر پر تهوپ دیا...اسے گونگی مٹی کی مادهو ٹائپ دیسی گاوں کی لڑکیوں سے اسے ہمیشہ سے چڑ تهی.. .اس نے اپنی زندگی میں کئی خوبصورت خواب دیکهے تهے اگر اس نے کسی پرستان کی پری کے خواب نہیں بهی دیکهے تو اس نے اس دیہاتی لڑکی کے بارے میں بهی تو کهبی خواب میں بھی نہیں سوچا...اس نے تو اپنی شادی کے بارے میں بهی ابهی اچهے سے سوچنا بهی شروع نہیں کیا تها اور اگر سوچتا بھی تب بهی یہ لڑکی اس کی سوچ میں کهبی نہ ہوتی..وہ ایک ایسی ماڈرن اور پڑهی لکهی بیوی کی توقع کر رہا تها جسے کسی کے سامنے متعارف کراتے ہوئے گردن نہ جهک جائے بلکہ انسان کے اندر فخر پیدا ہو جائے.. .اور یہ لڑکی اس کے ہر خواب کو چکنا چور کرتی اس کے گهر پہ پورے حق سے قبضہ جمانے آ گئی..اور قبضہ جمانے کا حق کس نے دیا اس کی اپنی سگی دادی نے. .........
یہ عجیب و غریب لڑکی اس کے سر پر تهوپ کر اس کی دادی محترمہ عمرے کے لیے نکل گئیں بقول ان کے اس کی شادی ہی ان کی راہ کی رکاوٹ تهی جو اب دور ہو گئی ان کی رکاوٹ تو دور ہو گئی مگر انہوں نے اپنے راستے کا پتهر اٹها کر سیدھا اس کے سر پر دے مارا........
میں اپنے پوتے اپنے افراہیم کے لیے چاند سے خوبصورت پری جیسی دلہن لاوں گی...اس کی دادی ہمیشہ یہی کہا کرتی تهی اور وہ ہمیشہ دادی کی اس بات پہ مسکرا دیتا تها لیکن زندگی میں پہلی بار اسے دادی کی یہ بات یاد کر کے صرف غصہ آ رہا تها.دادی نے ساری زندگی اپنے یتیم پوتے کی پرورش کر کے اپنے سبهی قرضے ایک ساتھ وصول کر ڈالے .جو محبت کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتی تهیں کہ اتنی محبت تو میں اپنے کسی نواسے یا کسی اور پوتے پوتیوں سے نہیں کرتی جتنی محبت اپنے افراہیم سے کرتی ہوں..دادی کی اگر یہ محبت تهی تو اللہ جانے ان کی نفرت کی کیا حد ہو گی.....پتا نہیں انہوں نے یہ کیسی محبت نبهائی اپنے لاڈلے پوتے کے ساتھ..ہاں اس نے خود انہیں یہ اختیار دیا تها کہ وہ اپنی پسند کی بہو تلاش کر کے لائیں اور یہ اختیار بھی اس نے ان کے رونے اور واویلا مچانے پہ ہی دیا تها ..اس نے کتنے بهروسے کے ساتھ اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا حق انہیں دیا تها اور انہوں نے دنیا جہاں کی ان پڑھ جاہل لڑکی اس کے سر پر مسلط کر دی...یہ انہوں نے سہی نہیں کیا تها اگر وہ ماڈرن بہو نہیں بهی چاہتی تهیں تو انہیں کوئی بھی لڑکی انتخاب کرنے کا حق بھی نہیں تھا. پتا نہیں کس گاوں سے وہ اس کے لیے یہ لڑکی پکڑ کر لائی تهی اور اس پہ حکم صادر کر کے بولیں...یہ لڑکی اب تماری بیوی ہے اور اسی کے ساتھ تمہیں اپنی پوری زندگی گزارنی ہے............
تماری ہونے والی دلہن تو دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہے..ایسی بہو تو تمہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں ملے گی..وہ جس علاقے میں رہتی ہے وہاں کی سب سے اچھی لڑکی ہے...یہ کچھ مخصوص جملے شادی سے پہلے دادی اس سے کہا کرتی تهی مگر اس وقت دادی کی ان باتوں کا مطلب وہ نہیں سمجھ سکا اگر سمجھ جاتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ وہ اچھی ہے خوبصورت ہے تو صرف دادی کے اپنے حساب سے اور ستر سالہ پرانی دادی اور آج کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے. ................Dulhan Novel By Nasir Hussain

وہ ایک کرسی لیے اندر داخل ہوئی وہ حیرت سے اٹھ کر کهڑا ہو گیا....
میرا لیپ ٹاپ کہاں ہے...اس نے بھرپور حیرانی سے پوچھا. ....
یہی تو ہے جی...اس کی زوجہ محترمہ نے نگاہیں نیچے جهکا کر با ادب طریقے سے جواب دیا.....
یہ...یہ..تو کرسی ہے...اس کا ایک بار پھر خون کهولنے لگا.....
آپ ہی تو بولے تهے جس پہ بیٹھ کر ہم کام کرتے ہیں. .اس کی یہ معصومیت اس کے چودہ طبق روشن کر گئی..اس نے غصے سے آنکھیں بند کیں...
مس بانی صاحبہ یہ اس پہ میں ایسے بیٹھ جاتا ہوں..وہ دانت پیس کر کرسی پر بیٹھ گیا وہ موٹی موٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تهی....
اور اس پہ بیٹھ کر جو چیز میں سامنے ادهر رکهتا ہوں اور جس پہ ایسے ایسے انگلیاں چلاتا ہوں میں اس کی بات کر رہا ہوں ..اس نے مکمل طور پر اسے لیپ ٹاپ کا نقشہ کھینچ کر بتایا شاید اس طرح اس کی موٹی عقل میں کوئی بات جاتی......
وہ مشین. ...؟. ..وہ اونچی آواز میں بولی..اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی شکر ہے کسی طرح تو سمجھی وہ کرسی سے کهڑا ہو گیا....
ہاں جی ....وہ...مشین...وہ اسی کے انداز میں بولا. .
وہ تو جی ہم نے سکهانے کے لیے اوپر رکھ دیا ہے. .اس نے اتنی آسانی سے اپنا جملہ مکمل کیا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو محترمہ ... 

اس نے مکمل طور پر اسے لیپ ٹاپ کا نقشہ کھینچ کر بتایا شاید اس طرح اس کی موٹی عقل میں کوئی بات جاتی......
وہ مشین. ...؟. ..وہ اونچی آواز میں بولی..اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی شکر ہے کسی طرح تو سمجھی وہ کرسی سے کهڑا ہو گیا....
ہاں جی ....وہ...مشین...وہ اسی کے انداز میں بولا. .
وہ تو جی ہم نے سکهانے کے لیے اوپر رکھ دیا ہے. .اس نے اتنی آسانی سے اپنا جملہ مکمل کیا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو محترمہ ...
جبکہ اس کا حال ایسا تها جیسے اسے کسی نے اندھے کنویں میں ڈال دیا ہو....
سکهانے....کے لیے. ...لیکن کیوں.....؟؟؟؟..اس بار وہ زور سے چلایا..اس کے چلانے پہ وہ بہت گهبرا گئی...
وہ جی...بہت میلا ہو گیا تها ..تو ہم نے سوچا اسے دهو دیں...جیسے وہ کوئی رومال دهونے کی بات کر رہی ہو....
کیا...؟.تم نے لیپ ٹاپ دهو دیا ...؟..تم...تمارا  ..پاگل....یہ...
اور اس کا بلڈ پریشر دو سو کراس کر چکا تها. غصے سے اس کا منہ لال ہو چکا تها وہ سمجھ نہیں پا رہا تها اس بهولی بهالی لڑکی کا کیا کرے جو دو دن پہلے دادی جی اسے تحفے میں سونپ کر گئیں تهیں. .ایک بار اس کا دل چاہا کھینچ کر اس کے منہ پہ تماچا مارے ..لیکن خود پہ قابو رکهتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا...............
وہ دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کرتے کرتے بیڈ پہ بیٹھ گئی...یہ اس کا شوہر تها جس کے ساتھ دو دن پہلے اس کی شادی ہوئی تھی.  اس کے بہت محبت کرنے والے ماموں نے اپنی یتیم بھانجی کو ایک پڑهے لکهے بڑے گهرانے میں بهیج دیا مگر ماموں اس کا رشتہ کرتے وقت یہ بهول گئے کہ بڑے ڈگریوں والے یہ بڑے لوگ اپنے لیے کسی بڑی جیون ساتھی کا خواب دیکهتے تهے اس جیسی ان پڑھ گوار کے نہیں. ......
شادی سے پہلے اس کی ساری سہیلیاں کہا کرتی تھیں. .ہائے بانی تیرا شوہر تو بڑا گبرو جوان ہے ایک دم فلمی ہیرو جیسا..مگر ان بیچاریوں کو کیا پتا کہ فلمی ہیرو جیسا دکهنے والا وہ گبرو جوان اپنے لیے کسی فلمی ہیروئین کی ہی توقع کیے بیٹها تها...اس کے خوابوں میں اس کی زندگی میں بانی جیسی جاہل لڑکی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا. ..وہ تو زبردستی گهس آئی اس کی زندگی میں. شادی ایک لڑکی کی زندگی کا سب سے خوبصورت خواب ہوتا ہے.. اس نے اپنی آنکھوں میں اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ نئی زندگی کے کئی خواب سجائے تهے..لیکن اس گهر میں آ کر اسے پتا چلا خواب اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے. جب اس نے پہلی بار افراہیم کی تصویر دیکهی تو اسے بہت رشک آیا اپنے آپ پہ. لیکن اس کی ساری سوچوں پہ پانی اس وقت پهر گیا جب اس پہ انکشاف ہوا کہ اس کا شوہر اسے نا پسند کرتا ہے. یہ بات کسی بھی لڑکی کے لیے تکلیف دہ ہے کہ اس کا شوہر اس سے نفرت کرتا ہے. نفرت یا محبت جو بھی تها اب یہی اس کا شوہر اس کا جیون ساتھی تها اسی کے ساتھ اس نے اپنی ساری زندگی گزارنی تهی.یہ رشتہ چاہے جن حالات میں جس وجہ سے بھی ہوا ہو مگر اسے یہ رشتہ نبهانا تها..یکطرفہ رشتہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر وہ ایک عورت تهی جو بیاہ کر اس گهر میں لائی گئی تهی بچپن میں اس کی ماں نے اسے سکهایا تها لڑکی کا اصل گهر اس کا سسرال ہوتا ہے وہ ایک بار جس گهر میں جائے پهر اس گهر سے اس کا جنازہ ہی نکلنا چاہیے. ..اور یہی بات اس کے ذہن میں اپنے بچپن سے ہی بیٹھ گئی.وہ پوری کوشش کرے گی اپنے گهر کو بچانے کی اس نازک ڈور کو قائم رکهنے کی.وہ نفرت سے محبت کا سفر ضرور طے کرے گی..اس نے اپنے آنسو صاف کر کے ایک مضبوط ارادہ کر لیا .... 

Dulhan Novel By Nasir Hussain

افراہیم تو آفس جا چکا تها جبکہ وہ وہیں ٹی وی کے پاس گم سم سی کهڑی تهی. باقی کا وقت وہ ادهر ادهر گهر کا جائزہ لیتی رہی لیکن ان سب سے بهی اس کی بوریت بالکل ختم نہیں ہوئی حالانکہ وہاں ٹائم پاس کے لیے کافی چیزیں تهیں..میگزین اور ڈائجسٹ یہ تو وہ پڑھ نہیں سکتی تهی اور رہی بات ٹی وی کی تو وہ ڈر کے اسے آن نہیں کر رہی تهی کیونکہ بچپن میں اس نے سنا تھا ان سب چیزوں میں کرنٹ ہوتا ہے اور آن ہوتے ہی پهٹ جاتے ہیں. .وہ بچپن کے اس ڈر کو اپنے دل سے نکال ہی نہیں پائی.....دوپہر کا کهانا اس نے خود اپنے لیے بنایا تھا گهر میں ضرورت کی ہر شے موجود تهی یہ الگ بات ہے کہ ان چیزوں کو تلاش کرنے میں اس کا کافی وقت ضائع ہو گیا..امیر لوگوں کی ہر شے الگ ہوتی ہے واش روم سے لے کر کچن تک...
جتنا بڑا ان کا واش روم ہوتا ہے وہاں گاوں میں دو کمرے اتنی جگہ پہ بن جاتے ..اور باقی سازو سامان الگ..پہلے پہل تو وہ واش روم کو دیکھ کر حیران ہوئی ..اس کے شوہر محترم شادی کے تیسرے دن ہی آفس چلے گئے اپنی نئی نویلی دلہن کو اتنے بڑے گهر میں اکیلے چهوڑ کر.....................
اس نے تو کهبی زندگی میں ان سب چیزوں کی تمنا نہیں کی تهی یہ سب تو اسے بنا مانگے ہی مل گیا لیکن اتنی جلدی اتنی آسانی سے بڑی چیزیں کهبی نہیں ملا کرتیں.......
عصر کی نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں گهس گئی اتنی بڑی عمارت میں اس کی کام کی جگہ صرف کچن ہی تهی...وہ اپنے شوہر کے لیے اپنے ہاتھوں سے کچھ اچها بنانا چاہتی تهی اس لیے وقت سے پہلے ہی تیاری کرنے لگی..وہ جانتی تھی آدهے گهنٹے کے کام میں وہ تین گهنٹے تو ضرور لگا دے گی....اس نے کہیں سنا تها کہ شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر جاتا ہے اس لیے وہ اپنے شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اس کی پسندیدہ بریانی بنانا چاہتی تهی....اس کی پسند نا پسند اور اس کے بارے میں کچھ اور معلومات دادی نے عمرے پہ جانے سے پہلے اسے فراہم کیں تهیں..چاہے وہ اس سے ناپسند کرے چاہے وہ اس سے نفرت کرے مگر وہ ...وہ کهبی اس سے نفرت نہیں کرے گی وہ ایک بیوی ہونے کا فرض ضرور نبهائے گی....چاہے وہ شوہر ہونے کا فرض نبهائے یا نا نبهائے......
صبح سے کچن میں مختلف الٹے سیدھے تجربات کر کے وہ اب کافی حد تک سمجھ چکی تهی....اسے اس کے واپس آنے کا وقت نہیں پتا تها اس لیے سب کچھ جلدی جلدی کرنا چاہتی تهی. ..اپنی مطلوبہ ہر شے اس نے اپنے پاس کر لیا..اور پیاز کاٹنے لگ گئی پیاز کاٹنے سے اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے..یہ صرف پیاز کاٹنے کے آنسو تهے یا ان میں کوئی اور آنسو بھی شامل ہو گئے یہ وہ نہیں سمجھ سکی.......
فریج سے گوشت نکال کر اس نے پتیلے میں ڈال دیے .اور چولہے کی آگ تهوڑی کم کر کے وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کمرے میں چلی گئی.....
جب نماز پڑھ کر واپس آئی تو بریانی تیار ہو چکی تهی اس نے احتیاطی طور پر پہلے خود چیک کر کے دیکها.اسے تو ٹهیک لگا لیکن پتا نہیں اس کے شوہر محترم کو پسند آئے گا بهی یا نہیں. ..وہ اور بھی کچھ بنانا چاہتی تهی لیکن بریانی بنانے میں ہی اتنا وقت ضائع ہو گیا کہ مزید کچھ بنانے کی گنجائش نہیں رہی..وہ اب آہستہ آہستہ کچن سمیٹنے لگی ایک بریانی بنانے کے چکر میں اس نے پورے کا پورا کچن بکهیر کر رکھ دیا تها...........
اس نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی وہ بهاگتی ہوئی کچن کے دروازے تک گئی وہ اپنا بیگ اٹهائے اندر داخل ہو چکا تها. ..اس کے ہاتھوں میں شاید کچھ کهانے کا سامان بھی تها جو اس نے ٹیبل پر رکھ دیا اور خود اپنے کمرے کی طرف چلا گیا....................
ایک تو تهکن کافی محسوس ہو رہی تهی اور اوپر سے ٹینشن اسے کهائے جا رہے تھے اپنے کمرے میں آ کر اس نے بیگ صوفے پہ پهینک دیا اور خود جوتوں سمیت بیڈ پہ لیٹ گیا...یہ شاید اس کی زندگی کے سب سے برے دن چل رہے تهے گهر آتے ہی سب سے پہلے زوجہ محترمہ کے درشن ہو گئے ..وہ پہلے سے ہی بہت ڈسٹرب تها اور رہی سہی کسر محترمہ نے پوری کر دی..اسے تو یہ سوچ سوچ کر ہی تکلیف ہو رہی تهی یہ ان پڑھ گوار لڑکی اس کی بیوی کی حیثیت سے اس گهر میں موجود ہے.......

Dulhan Novel By Nasir Hussain

کافی دیر وہ یونہی بیڈ پہ لیٹا رہا جب تهکن کا احساس کافی حد تک کم ہوا تو اسے بهوک لگنا شروع ہوئی..واش روم میں جا کر اس نے ہاتھ منہ دهوئے اور نیچے چلا گیا...اس نے متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها وہ نظر نہیں آئی..لیکن اسے خود کے اس طرح متلاشی ہو کر دیکهنے پہ بہت غصہ آیا وہ کہاں ہے کیا کر رہی ہے اس سے اسے کیا مطلب جہنم میں جائے اس کی بلا سے.........
لیکن ٹیبل کے پاس پہنچ کر اس نے اپنا مطلوبہ شاپر غائب پایا جس میں وہ ہوٹل سے اپنے لیے کهانا لے کر آیا تها..ویسے تو وہ ہمیشہ اپنے لیے گهر پہ کهانا خود بناتا تھا لیکن آج تهوڑا تهکا ہوا اور پریشان تها اس لیے اس نے ہوٹل سے کهانا خرید لیا. .مگر یہ شاپر اچانک کیسے کہاں غائب ہو گئی. ..اسے سمجهنے میں دیر نہیں لگا یہ ضرور اس کی جاہل زوجہ محترمہ کا کام ہو گا..لیکن وہ اس طرح شاپر لے جا کر کہاں غائب ہو گئی. .کیا اسے بهوک لگ رہی تهی...اور وہ کهانا وہ اپنے لیے لے گئی...لیکن وہ خود بھی تو بنا کر کها سکتی تهی..بقول دادی کے تو وہ ہوٹلوں سے بهی اچها کهانا بناتی ہے. .....وہ غصے سے کهولتا ہوا کرسی پہ بیٹھ گیا. .....
اور آنکھیں بند کر کرسی کی پشت پر ٹیک لگا دی..اور پھر اس نے اپنی آنکھیں تب کهولیں جب اس نے ٹیبل پہ کچھ رکهنے کی آواز سنی...وہ ٹیبل پہ مختلف پلیٹوں میں کهانا لگا رہی تهی...اس نے ایک نظر اسے دیکها جو حد سے زیادہ خوش فہمی میں نظر آ رہی تهی..اور پھر کهانے کو دیکهنے لگا. .جو وہ بے ترتیبی سے ٹیبل پہ سجا رہی تهی..سالن کے بڑے ڈونگے میں اس نے بریانی ڈالی ہوئی تهی اور چاولوں کی پلیٹ میں اس نے سالن نکالا ہوا تها اور سب سے عجیب بات اس نے روٹیاں پتیلے میں رکھ دیں تهیں...اس نے غصہ ضبط کر لیا اور صرف خاموشی سے اسے یہ سب کاروائی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا. .جب وہ سب کچھ مکمل کر چکی تب بھی وہ وہیں کهڑی اسے دیکهتی رہی.....
کچھ چاہیے. ..اس نے سرد لہجے میں اسے مخاطب کیا..اسے مخاطب کرنا اس کی مجبوری تهی وہ کهانے کے دوران اسے بالکل بھی اپنے پاس نہیں دیکھ سکتا تها..وہ اپنی گردن ہلا کر دوبارہ کچن میں چلی گئی اور برتن دهونے لگی لیکن وہ جانتا تها وہ برتن دهوتے ہوئے بھی اسے ہی دیکھ رہی ہے. .......
وہ اسے نظر انداز کر کے کهانے کی طرف متوجہ ہوا.اس کی لائی ہوئی ساری چیزوں کے ساتھ بریانی کا بھی اضافہ تها .یہ بریانی وہ تو نہیں لایا تها تو پھر ضرور دادی کی اس سگهڑ بہو نے بنائے ہوں گے .ویسے تو بریانی اس کی پسندیدہ ڈش تهی لیکن یہ چونکہ اس محترمہ نے بنایا تھا اس لیے وہ اس ٹیبل پہ موجود بریانی کو چهوڑ کر ہر ڈش کے ساتھ انصاف کرنے لگا..حالانکہ اس کا دل بہت چاہ رہا تها وہ بریانی کهائے لیکن دل کی اس خواہش کے درمیان اس کی انا آ رہی تهی اور وہ صرف بریانی کے لیے اپنی انا کهبی نہیں کچل سکتا تها................
کهانے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا وہ لاونج میں رکهی ٹی وی دیکهنے لگا . ٹی وی دیکهتے وقت بھی وہ پتا نہیں کیوں بار بار ادھر ادھر دیکھ رہا تھا. .دو گهنٹے کے بعد وہ ٹی وی کو چهوڑ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہا تها حالانکہ وہ جو مووی دیکھ رہا تھا اس کے ختم ہونے میں ابهی آدها گهنٹہ باقی تها لیکن پتا نہیں کیوں اس کا ٹی وی دیکهنے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا .ایسا پہلے کهبی نہیں ہوا وہ ہر مووی مکمل ہی دیکها کرتا.....
  سیڑھیاں عبور کر کے وہ اپنے کمرے میں آیا ..کمرے میں جاتے ہی سب سے پہلی نظر اس پہ ہی پڑی وہ فرش پہ پوری دنیا سے بے خبر سو رہی تهی..کتنے اطمینان سے وہ نیند کی آغوش میں تهی. .اس کا سکون چهین کر ، اس کی خوشی چهین کر......
وہ بنا کوئی آواز پیدا کیے بیڈ پہ آ کر لیٹ گیا. نیند کو کافی دیر تک بلانے کی کوشش کرتا رہا..بہرحال رات کے جانے کون سے پہر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو چکا تها..................
 پهر اسے کی آنکھ رات کے دو بجے کهلی اس نے اس لڑکی کو دیکها جو بے خبر سو رہی تهی ..اسے پیاس اور بهوک کا احساس ہوا ..عموماً رات کو اسے بهوک اور پیاس کا احساس ہوتا رہتا اس لیے وہ ہمیشہ اپنے لیے فریج میں کهانا بچا کر رکهتا..لیکن آج جہاں تک اسے یاد پڑ رہا ہے وہ جو کهانا لایا تها وہ سارا ختم کر چکا تها اب اسے اپنی بهوک مٹانے کے لیے خود ہی کچھ نہ کچھ بنانا تها....وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا..........
دروازہ کھلنے کی آواز سے اس کی آنکھ کهلی..اس نے سب سے پہلے اٹھ کر دروازے کو نہیں بیڈ کو دیکها..جب اسے بیڈ سے غائب پایا تو وہ حیرانی سے کهڑی ہوگئی..سامنے دیوار پہ لگی سوئیوں والی گهڑی سے اس نے وقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو اسے حیرت ہوئی دو بج رہے تهے. .اتنی رات کو وہ باہر کیا کرنے چلا گیا...پانی پینے. ...؟
urdu novel 
نہیں پانی کا تو جگ رکها ہوا ہے پهر کہاں گیا ..اسے تجسس ہونے لگی اور وہ کمرے سے باہر نکل آئی ..آہستہ آہستہ ادهر ادهر نگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ  سنگ مرمر سے بنی سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی اسے کچن سے کچھ آوازیں آنے لگیں...اس نے قدموں کا رخ کچن کی جانب کر دیا .... ..........
کچن کے دروازے پہ پہنچ کر اس پہ عجیب انکشاف ہوا ..وہ رات کے دو بجے کهانا کها رہا تها اس کا منہ دوسری طرف تها اس لیے وہ اسے دیکھ نہ سکا....اور غور کرنے پہ اسے پتا چلا وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کها رہا تها ..یہ انکشاف خوشگوار تها اس کے چہرے پہ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ حیرت بهی تهی....
رات کے کهانے میں ٹیبل پہ موجود ہر شے کهانے والا اس کا وہ شوہر محترم صرف اور صرف اس کی بنائی ہوئی بریانی کو نظر انداز کر گیا...اسے اس وقت حقیقتاً بہت دکھ ہوا. .وہ کچن میں کافی دیر تک روتی رہی اس نے اتنی محنت سے اس کے لیے بریانی بنائی تهی اور اس نے چکهنا تک گوارا نہیں کیا. .اسے غصہ آیا اپنے مغرور شوہر پہ...اسے جتنا غصہ تها جتنا دکھ تها وہ سب اب ختم ہو چکا تها..رات کے کهانے میں اس کے انا پرست شوہر نے بریانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور اب رات کے دو بجے وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کتنی رغبت سے کها رہا تها.............
وہ دروازے سے واپس پلٹ آئی ..اور کمرے میں آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی..اسے پہلے اگر دکھ کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تهی تو اب وہ خوشی سے سو نہیں پائے گی............
بیس منٹ بعد اس نے دروازے پہ اس کی آمد کو محسوس کیا. .لیکن وہ خود کو سوتا ہوا ظاہر کر رہی تهی ..جبکہ دل ہی دل میں اپنے شوہر کی اس عجیب و غریب چوری پہ مسکرا بھی رہی تھی .....  
_____________________________
اگلی صبح وقت پہ بیدار نہیں ہو سکا ..اسے آفس جانا تها اور وہ آدها گهنٹہ دیر سے اٹها اور کل کی طرح آج بھی سب سے پہلے اس نے اپنے بائیں جانب اس لڑکی کے بستر کی طرف دیکها..وہ اسے وہاں نظر نہیں آئی ..وہ اٹھ کر واش روم کی طرف چلا گیا..اسے آفس جانے میں پہلے ہی دیر ہو چکی تھی .............
واش روم سے جب وہ نہا کر تولیے سے بال رگڑتا ہوا باہر آیا تو نیلے رنگ کی شرٹ بیڈ پہ دیکھ کر وہ ٹهٹک گیا..وہ استری کر کے بیڈ پہ رکھ دیا گیا تها..اتنے سارے کپڑوں میں اس نے نیلے رنگ کا ہی انتخاب کیوں کیا... گویا اس کی زوجہ محترمہ کو معلوم تھا کہ نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ ہے لیکن یہ اسے کیسے پتا چلا...؟..اسے اپنی بیوی کی یہ مشرقی ادا تسکین نہیں پہنچا سکی مزید سلگها گئی......
کیوں ہاتھ لگایا اس نے میرے کپڑوں کو...؟
کس حق سے اس نے میری شرٹ استری کی....؟
یہ وہ سوالات تهے جو وہ غصے سے اپنے آپ سے کر رہا تها. .لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تها جب وہ اسے بیوی تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس کے استری کیے ہوئے کپڑے کیوں پہنے...اس نے وہ شرٹ واپس الماری میں رکهی اور ایک سفید رنگ کی شرٹ پہن لی...یہ الگ بات ہے کہ اس سفید شرٹ میں کئی شکنیں پڑ چکی تهیں..عموماً وہ اپنے سارے کام خود کرتا تها کهانا پکانے سے لے کر کپڑے استری کرنے تک...لیکن آج تو وہ پہلے ہی کافی لیٹ ہو چکا تها اس لیے جیسے تیسے وہ شرٹ پہن کر بالوں میں جلدی جلدی کنگهی پهیر کر وہ بیگ اٹها کر نیچے آیا.................

Dulhan Novel By Nasir Hussain

اس کا ناشتہ کرنے کا آج بالکل ارادہ نہیں تها وہ وہیں آفس میں ہی کچھ نہ کچھ لے لیتا ..پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تهی اس لیے وہ جلدی جلدی بڑے بڑے قدم اٹهاتا ہوا گهر کے بڑے دروازے تک گیا..ابهی اس نے دروازہ کهولنے کے لیے ہاتھ بڑهایا ہی تها کہ اپنی زوجہ محترمہ کی آواز پہ رک گیا...........
سنو جی....اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اسے اس طرح اپنا پیچھے سے آواز دے کر بلانا بالکل بھی اچها نہیں لگا. اس نے کوئی بات تو نہیں کی البتہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے ضرور دیکها. .........
وہ جی گهر کا تهوڑا سامان لانا ہے...اس نے ججهکتے ہوئے کہا. .جبکہ اسے اس طرح پیچھے سے بلایا جانا اور اب پورے حق کے ساتھ گهر کے سامان کا آرڈر دینا بالکل ناگوار گزرا اور یہ ناگواری اس کے چہرے سے بھی عیاں تهی..............
کیا لانا ہے....؟ چہرہ سپاٹ تها......
وہ..جی چینی اور چائے کی پتی......
بس...؟..
نہیں وہ سرخ مرچ اور پیاز بھی ختم ہو گیا....وہ پوری کی پوری مشرقی ادا میں مخاطب تهی........
اوکے...اور کچھ. ...؟.....
سبزی بھی ختم ہو گئی اس ڈبے سے...
کون سے ڈبے سے..؟.وہ حیران تها.....
وہی جی..جو اندر رکها ہوا ..جسے کهولو تو سرخ بتی جلتی ہے...
اس نے دماغ پہ زور دیا.....
وہ...وہ...اسے فریج کہتے ہیں بے وقوف. ...اس نے عجیب نظروں سے اس لڑکی کو دیکها. ....
ہاں جی وہی فراج سے ....
فراج نہیں فریج....اس نے اپنے لفظوں پہ زور دیا...
کیا جی....فا ریج ..؟..اس نے بهول پن سے سوال کیا. .
فا ریج..نہیں. ....اچها چهوڑو یہ بتاو اور کیا کیا لانا ہے..وہ دانت پیس کر بولا....
دہی بهی جی اور....اور.....وہ کچھ سوچنے لگی. ..
اگر اس کی کوئی پڑهی لکهی بیوی ہوتی تو وہ ایک منٹ میں ہی لسٹ بنا کر دیتی اسے لیکن یہ گاوں کی گوار اسے دو گهنٹوں سے گهر کا سامان رٹوا رہی ہے.......
کچھ یاد آیا محترمہ...یا پھر میں یہیں بیٹھ کر آپ کی یادداشت واپس آنے کا انتظار کروں...اس نے طنز بهرے لہجے میں اس مخاطب کیا. وہ پتا نہیں اس کے طنز کو سمجھ سکی یا نہیں بہرحال اس نے اپنی زبان کو تهوڑی تکلیف ضرور دی. .......
وہ جی وہ جو لال لال سی ہوتی ہے....اب اسے حقیقتاً غصہ آیا....
لال لال سی کوئی ایک چیز نہیں ہوتی ..اور کیا میں بازار میں جا کر یہ کہوں گا محترمہ بانی صاحبہ کسی لال چیز کا کہہ رہیں تهیں آپ مجھے وہی لال چیز دے دیں..اب کی بار وہ غصہ نہیں چهپا سکا وہ اس کے غصے سے ڈر گئی...............
میں سب سودے بهجوا دوں گا...او کے...اس کی آنکھوں میں بهرے وہ  آنسو دیکھ چکا تها اس لیے وہ نہیں چاہتا تها وہ اس کے سامنے کوئی سیلاب جاری کرے وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا..
 وہ وہیں کهڑی اپنے آنسو پہ قابو پانے کی کوشش کرتی رہی..اسے دکھ اس کے رویے سے نہیں بلکہ اس بات سے پہنچا ہے کہ وہ شرٹ جو اس نے اتنی محبت کے ساتھ استری کی وہ کیوں نہیں پہن کر گیا...
باقی کا سارا دن بھی وہ اداس رہی اس نے دوپہر کو ہی ایک ملازم کے ذریعے گهر کا سارا راشن بهیج دیا تها وہ بھی جو  اس نے کہا اور وہ بھی جو وہ نہ کہہ سکی ..باقی کا بہت سارا وقت اس نے سامان کو ترتیب دینے میں گزار دی ..اس لیے اسے کچھ سوچنے کی مہلت ہی نہ ملی سبزی آ چکی تهی اس نے کچھ سبزیاں فریج میں ڈالیں اور رات کے کھانے کی تیاری کے لیے آلو اور قیمہ الگ کرنے لگی...اب وہ ایک کام میں تو ماہر ہو چکی تهی کهانا بنانے میں. .ایسا نہیں تها کہ اسے کهانا بنانا نہیں آتا تها لیکن اس عجیب کچن میں کهانا بنانے کا اس کا تجربہ نیا تها... یہاں سب کام آ سان تهے گاوں کی نسبت. ..یہاں چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں ڈهونڈ ڈهونڈ کر نہیں لانی پڑتیں تهیں...پانی کا انتظام پاس میں ہی تها اور ہر چیز علیحدہ علیحدہ صاف نظر آ رہا تها جبکہ وہاں سالن میں نمک ڈالو تو دو گهنٹے تک مرچوں کا ڈبہ نہ ملے....یہاں ساری سہولیات ہونے کے باوجود بھی وہ شروع شروع میں کچھ جهجک رہی تھی لیکن اب چونکہ وہ کچن کے بارے میں کافی معلومات حاصل کر چکی تهی اس لیے اسے کام کرنے میں بہت مزا آ رہا تها ..روز بروز نئی نئی چیزوں سے آشنا ہو رہی تھی. .. قیمہ تیار ہونے میں ابهی کافی وقت تها اس لیے وہ اپنے کمرے میں آئی اسے ایک بار اس کی ایک سہیلی نے بتایا تها....
بانی یہ جو شہری مرد ہوتے ہیں ان کو کریم پاوڈر والی لڑکیاں بہت پسند آتی ہیں..اس وقت تو اس نے اس بات پہ غور نہیں کیا لیکن اب چونکہ مصیبت سر پہ آن پڑی تھی تو ان سب چیزوں کو استعمال کرنا تها..وہ میک اپ کا ڈبہ جو دادی نے اسے دیا تها وہ جوں کا توں پڑا ہوا تها اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا .اسے میک اپ سے ہمیشہ چڑ ہوا کرتی تهی اور اسے اچهے سے میک اپ آتا بھی کہاں تها اس نے کهبی میک اپ کیا ہی نہیں کهبی ضرورت ہی نہیں پڑی وہاں پہ بھی صرف صابن سے منہ دهویا کرتی تهی...............
اس نے اپنی پرانی لوہے کی پیٹی سے وہ میک اپ والا ڈبہ باہر نکالا..اس ڈبے میں ایسی چیزیں تهیں جن کے نام تو دور شکل تک کهبی نہیں دیکهی اس نے..اب ایسے میں انہیں استعمال کرنا کافی مشکل تها..
اس نے سارا سامان الٹ پلٹ کر دیکها اسے ان سیکڑوں چیزوں میں جو کام کی چیز لگی وہ منہ پہ لگانے والی کریم،  لپ اسٹک، اور آئی شیڈ تهی..باقی سارا کا سارا سامان اس کے لیے بے کار تها.......
یہ تینوں چیزیں لے کر وہ آئینے کے سامنے بیٹھ گئی. کریم تو جیسے تیسے لگا ہی لیا اس نے آئی شیڈ بهی ترتیب اور بے ترتیبی سے لگ گیا اب اصل مسئلہ لپ اسٹک کا تها...اس نے کهبی خود لپ اسٹک نہیں لگایا بچپن میں بھی جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی تو اس کی کزنز اس کو زبردستی لپ اسٹک لگایا کرتیں اسے ان سب چیزوں میں کهبی کوئی دلچسپی نہیں تھی.......
دس مرتبہ اس نے لپ اسٹک لگایا اور ایک مرتبہ بھی سہی نہ لگا سکی لیکن اس نے کوشش کرنا نہیں چهوڑا..وہ تب تک لگاتی رہی جب تک سہی نہیں لگا اور بیس منٹ کی مشقت کے بعد بہرحال اس نے کچھ ڈھنگ سے لپ اسٹک لگا ہی لی...اسے بالکل پرفیکٹ تو خیر اب بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن پہلے کی نسبت کافی بہتر تهی....اس نے نیلے رنگ کی فراک پہن رکهی تهی نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تها اس لیے اس نے اس کی پسند سے ہی خود کو تیار کیا .....
Dulhan Novel By Nasir Hussain

دس مرتبہ اس نے لپ اسٹک لگایا اور ایک مرتبہ بھی سہی نہ لگا سکی لیکن اس نے کوشش کرنا نہیں چهوڑا..وہ تب تک لگاتی رہی جب تک سہی نہیں لگا اور بیس منٹ کی مشقت کے بعد بہرحال اس نے کچھ ڈھنگ سے لپ اسٹک لگا ہی لی...اسے بالکل پرفیکٹ تو خیر اب بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن پہلے کی نسبت کافی بہتر تهی....اس نے نیلے رنگ کی فراک پہن رکهی تهی نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تها اس لیے اس نے اس کی پسند سے ہی خود کو تیار کیا ........
اور پھر میک اپ کے بعد کچن میں آئی آلو قیمہ کے ساتھ ساتھ اس نے میٹهے میں کهیر بھی بنائی...وہاں تو وہ صرف سالن بناتی تهی اور روٹیاں..بس اس کے علاوہ وہاں کوئی دوسرے لوازمات نہیں ہوتے تهے لیکن یہاں تو پندرہ طرح کے کهانے بنتے ہیں..............

وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا بیگ اس نے صوفے پہ رکھ دیا اور کهانا جو وہ ہوٹل سے اپنے لیے لایا تها وہ بھی اس نے وہیں رکھ دیا اور خود بھی گرنے کے انداز میں صوفے پہ بیٹھ گیا. ...اس نے ناگواری سے ادهر ادهر دیکها. ...وہ اسے نظر آ ہی گئی...اسے دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ اس سے نظریں نہیں ہٹا سکا...اس نے جو عجیب و غریب میک اپ کر رکھا تھا اس سے وہ خوبصورت تو کیا خاک لگتی الٹا عجوبہ بن چکی تهی اس کا یہ میک اپ دیکھ کر اس کے لیے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تها  ...تو وہ پاگل لڑکی اسے پٹانے کے لیے ان سب چیزوں پہ اتر آئی ہے مگر وہ جو کر لے وہ اسے کهبی قبول نہیں کرے گا................
وہ اب اس کا بیگ اٹهانے لگی وہ منہ دوسری طرف کر کے خاموش بیٹھا تھا. .وہ بیگ اٹها کر جانے کہاں لے گئی..جبکہ وہ فریش ہونے کے لیے اپنے کمرے میں آ گیا....جب وہ نیچے کهانے کے لیے گیا تب تک وہ کهانا میز پر سجا چکی تهی ..وہ ایک کرسی کهینچ کر بیٹھ گیا جبکہ وہ وہیں کهڑی اسے دیکھ رہی تھی. ....
کهانا کهایا تم نے...؟ ..کسی بھی جذبات سے عاری اس نے سنجیدہ لہجے میں اس سے پوچھا. .....
نہیں آپ کها لیں جی ہم بعد میں کهائیں گے..اس نے شرماتے ہوئے کہا وہ سمجھ نہیں سکا اس میں شرمانے والی بات کون سی تهی........
تو بیٹهو کهانا کهاو....اس نے اپنی پلیٹ میں سلاد ڈالتے ہوئے کہا. ....
جی...وہ..ہم...؟ اس کی اس جی میں حیرت کم اور انکار زیادہ تهی........
ہاں تم...اور کوئی نظر آ رہا ہے اس گهر میں. اس بار وہ اس کی طرف دیکهتے ہوئے بولا..........
urdu novel
ہمارے گاوں میں رواج ہے جی پہلے شوہر کهانا کهالے اس کے بعد بیوی اس کا بچا ہوا کهانا کهاتی ہے...اس نے سادگی سے کہا...جبکہ وہ حیران بھی تها اور خود کے شوہر کہے جانے پہ تهوڑا غصہ بھی تها لیکن اس نے مزید اسرار نہیں کیا...وہ کچھ دیر کهڑی اسے دیکهتی رہی پهر وہاں سے چلی گئی لیکن وہ جانتا تها وہ جہاں کہیں بھی گئی ہے اسے دیکھ رہی ہو گی...
کیا مصیبت ہے. ..؟..وہ نوالہ منہ میں رکهتے ہوئے بڑبڑایا...اس نے پہلی بار کهانے کی ٹیبل پہ نگاہ دوڑائی آج کل کی نسبت بہت ڈشز بنائی گئی تهیں...آلو قیمہ اس کا پسندیدہ تها لیکن چونکہ یہ اس نے بنایا ہے اس لیے وہ کهانا نہیں چاہتا تها .کل رات اس کے ہاتھ کی بنی بریانی کها کر ہی اس نے اعتراف کیا وہ کهانا واقعی بہت اچها بناتی ہے اور اب قیمے کی بهی زبردست خوشبو آ رہی تهی وہ کهانا بهی چاہتا تها اور نہیں بھی کهانا چاہتا تها....اس نے چور نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها جب اسے وہ نظر نہ آئی تو بچوں کی طرح چوری کرتے ہوئے اس نے تهوڑا قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈالا اور پھر ڈونگے کے اوپر ویسے ہی ڈهکن رکھ دیا یہ ظاہر کرنے کے لیے اس نے قیمے کو ہاتھ تک نہیں لگایا. .پہلا نوالہ منہ میں رکهتے ہی اسے ایک خوشگوار احساس ہوا ، ہوٹل کے کهانوں میں وہ ذائقہ کهبی نہیں آ سکتا جو گهر کے بنائے کهانوں میں ہوتا ہے اور ایک مرد چاہے کتنا بھی اچها کهانا کیوں نہ بناتا ہوں لیکن ایک عورت سے اچها کهانا وہ کهبی نہیں بنا سکتا..وہ خود ہمیشہ ٹی وی پہ ریسپیز دیکھ دیکھ کر مختلف پکوان بناتا تها اس نے خود قیمہ بھی کئی بار بنایا لیکن اس میں یہ ذائقہ کهبی نہیں تها جو اس کے بنائے ہوئے قیمے میں تها.............

کهانے سے فارغ ہو کر وہ صوفے پہ بیٹھ کر ٹی وی دیکهنے لگا ابهی وہ سوچ رہا تھا کہ اپنے لیے چائے بنائے لیکن اس کی سوچ سے بھی پہلے وہ اس کے لیے چائے لیے اس کے پاس کهڑی تهی. .اب وہ چائے اس کی طرف بڑها رہی تهی اس نے چائے کا کپ اس کے ہاتھوں سے لے لیا حالانکہ اس کا کپ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تها پهر بھی پتا نہیں کیوں اس نے کپ تهام لیا اور اب جب کپ  اس کے ہاتهوں میں تها تو مطلب اسے چائے بھی پینی تهی....
 وہ بھی اس کے برابر رکهے صوفے پہ بیٹھ گئی اس کا اس طرح بیٹهنا اسے بہت برا لگا..لیکن وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تها...........
یہ کیا ہے جی...؟..اس نے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا...
ٹی وی ہے ..اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا. ...
یہ ٹی بی کرنٹ تو نہیں مارتا جی.......
نہیں اگر اسے انسانوں کی طرح آن کیا جائے تو....وہ ناگواری سے بولا.......
یہ کدھر سے آن ہوتا ہے جی ...اس نے ایک اور سوال کیا.....
وہ اس بڑے والے بٹن سے....اس نے ٹی وی کے بٹن کی طرف اشارہ کیا. ....چائے پیتے ہوئے اس نے محسوس کیا وہ کهانے کی طرح چائے بھی زبردست بناتی ہے..   ....Dulhan Novel By Nasir Hussain

اور یہ کیا ہے جی....اب اس کا اشارہ ریموٹ کی طرف تها......
یہ ریموٹ ہے....وہ شدید کوفت میں مبتلا ہو چکا تها...
یہ رٹوٹ ( ریموٹ ) کیسے چلتا ہے جی....اس نے معصومیت سے ایک اور سوال کیا...اس کے ریموٹ کو رٹوٹ کہنے پہ بے ساختہ اس کے ہونٹوں پہ تبسم پهیل گئی........
اس سے آواز کم اور زیادہ ہوتا ہے..اور یہ بٹن چینل تبدیل کرتا ہے ..وہ ریموٹ اٹها کر اسے کسی چهوٹے بچے کے انداز میں سمجها رہا تها......
یہ چینل کیا ہوتا ہے جی....اور اس کا دل چاہا ریموٹ اپنے سر پہ دے مارے......
چینل مطلب. ..یہ فوٹو تبدیل ہوتے ہیں. ..اب کی بار وہ زرا غصے سے بولا. ....
اچها جی آپ کتنے پڑهے ہوئے ہو...اب اس کی زاتی زندگی پہ سوال کیا گیا. .....
ایم بی اے کیا ہوا ہے میں نے. ..وہ تنک کر بولا. ..
یہ کتنا ہوتا ہے جی....اور وہ یہ کیوں بهول گیا کہ اس کی زوجہ محترمہ پڑهی لکهی نہیں ہے. ...
سولہ جماعتیں....اس نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر کہا...لیکن اس نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا. ...
آپ کہاں سے پڑهے ہو جی....
لندن سے....اس نے چائے کا گهونٹ بهر کر کہا..لیکن اگلا سوال سب سے زیادہ عجیب و غریب تها.....
لندن کون سے صوبے میں ہے....؟..اس سوال پہ اس نے گهور کر مخاطب کو دیکها. ...
لندن....لندن...یہاں نہیں ہے لندن جہاز پہ جاتے ہیں وہ بہت دور ہے......وہ ایک ایک لفظ  کهینچ کر بولا. ..
جہاں دادی گئی ہیں جی...؟..اب وہ چائے ختم کر چکا تها.....

ہاں....اس نے مزید سوالات سے بچنے کے لیے سراسر جهوٹ بولا....لیکن اس نے سوالات کا سلسلہ منقطع نہیں کیا...........
آپ گاڑی خود چلاتے ہوئے. ...پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے یہ سوال کیا.....
جی ہاں.......
آپ کو گاڑی چلانا آتا ہے جی...اس نے ایک بار پھر حماقت سے بهر پور سوال کیا......
ظاہر ہے میں اگر گاڑی چلا کر آفس جاتا ہوں تو مجھے گاڑی چلانا آتا ہے....اب کی بار وہ تیز آواز میں بولا. ..اور وہ شاید اس کے جواب سے زیادہ اس کے لہجے سے گهبرا گئی تبهی وہ کپ اٹها کر کچن میں چلی گئی. ..اس نے ایک بار پھر ٹی وی دیکهنے کی کوشش کی. .لیکن اب وہ ٹی وی نہیں دیکھ پا رہا تها. اس کا دماغ کہیں اور تها...اسے الجهن تهی...ٹی وی پہ اسے صرف تصویریں نظر آ رہی تھیں آواز وہ نہیں سن پا رہا تها...اسے اچانک کیا ہو گیا تهوڑی دیر پہلے تو وہ بالکل ٹهیک تها..جب وہ یہاں بیٹهی تهی تو اس کا دل چاہا وہ یہاں سے چلی جائے تا کہ وہ ٹی وی دیکھ سکے اور اب جب وہ چلی گئی..تو اس  کا ٹی وی دیکهنے کو بالکل بھی دل نہیں کر رہا تها...ٹی وی بند کر کے وہ اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا............
________________________________
صبح صبح اٹھ کر اس نے نماز قرآن پاک کی تلاوت کے بعد ناشتہ بنایا...وہ ابهی تک گہری نیند میں تها وہ کافی دیر تک اس کے چہرے کو دیکهتی رہی ..وہ اس وقت نیند میں ساری دنیا سے بے خبر بہت معصوم لگ  رہا تها...اس پر سے نظریں ہٹا کر اس نے الماری سے اس کے کپڑے نکالے اور وہ ڈسڑب نہ ہو اس لیے انہیں استری کرنے دوسرے کمرے میں لے گئی..........
کل صبح تو جناب نے اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنی لیکن آج وہ اس کے سارے شرٹس نکال لائی تهی. .وہ کوئی نہ کوئی شرٹ تو ضرور پہنے گا....اگر وہ ضدی ہے تو اسے راہ راست پہ لانے کے لیے وہ بھی ضدی بن جائے گی...
اس کا وہ شوہر محترم اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنتا اس کے بنائی ہوئی بریانی نہیں کهاتا لیکن رات کو دو بجے بریانی بڑے شوق سے کهائی جاتی ہے..اس سے نظریں بچا بچا کر قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈالا جاتا ہے ...اس کے ہاتھوں کی چائے پی جاتی ہے...
کب تک بچیں گے آپ شہری بابو.....وہ استری کرتے ہوئے سوچ رہی تهی...اس کے سارے کے سارے کپڑے استری کرنے کے بعد وہ انہیں واپس الماری میں رکھ آئی وہ بیدار ہو چکا تها کیونکہ واش روم سے آواز آ رہی تهی...وہ نیچے کچن میں اس کے لیے ناشتہ لگانے چلی آئی...............

واش روم سے نکل کر اس نے الماری کهولی اور ایک شرٹ نکال کر پہننے لگا تب اسے احساس ہوا یہ اس لڑکی نے استری کی...اس نے ایک اور شرٹ نکالی وہ بھی استری شدہ ملی...پهر تیسری چوتهی حالانکہ اس کے سارے کپڑے استری ہو چکے تهے....اسے تهوڑا غصہ بھی آیا اور حیرت بھی ہوئی جانے کب اٹھ کر اس نے یہ سارے کپڑے استری کیے.............
لیکن وہ بھی ایک نمبر کا ضدی تها اس نے وہی پرانی شرٹ پہن لی جو اس نے کل سے پہنی ہوئی تھی. ..
وہ جب سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہا تها تو اس نے دیکها وہ اسے غور سے دیکھ رہی ہے اور نہ صرف دیکھ رہی ہے بالکل مسکراہٹ ضبط کرنے کے لیے منہ پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے ...وہ قطعی طور پر اسے نظر انداز کرتا ہوا کهانے کی ٹیبل پہ جا کر بیٹھ گیا. .وہ اندر سے اس کے لیے ناشتہ لے آئی...آج اس نے خود ناشتہ نہیں بنایا جب اس کے ہاتھ کی بنی بریانی وہ کها سکتا ہے چائے پی سکتا ہے تو ناشتہ کیوں نہیں. .....؟
وہ ناشتہ رکھ کر اندر چلی گئی جبکہ وہ آرام سے ناشتہ کرنے لگا ..ناشتے کے بعد وہ آفس کے لیے نکل گیا..........
جبکہ وہ ٹیبل پر سے برتن سمیٹنے لگی..سارے کام مکمل کرنے کے بعد اس ڈرتے ڈرتے ٹی وی  آن کیا .. ٹی وی خوبصورت تصویریں دیکھ کر وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی. .کوئی گانوں کا چینل لگا تها وہ حیران ہو کر پوری طرح ٹی وی پہ متوجہ تهی...وہ ہیرو اور ہیروئین کو بہودہ ڈانس کرتے دیکھ کر انہیں دل ہی دل میں ملامت کر رہی تھی اور کافی شرما بھی رہی تهی حالانکہ گهر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا پھر بھی وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. ........
کل افراہیم نے جو اسے چینل بدلنا سکهایا تو انہی بٹنوں کو دباتے ہوئے وہ مختلف چینلز تبدیل کرتی رہی..اچانک فون کی گهنٹی پورے گهر میں گونج اٹهی اس نے حیران ہو کر پیچھے دیکها اور نظر انداز کر دیا. ...
ٹرن....ٹرن....ٹرن....
ایک بار گهنٹی سنائی دی اس بار وہ بدک کر صوفے سے کهڑی ہو گئی گهبراہٹ کے مارے اسے پسینہ آ گیا وہ سمجھ نہ سکی یہ ٹرن ٹرن کی آواز کہاں سے آ رہی ہے...... 
کہیں کوئی جن بهوت تو نہیں ہیں اس گهر میں. ...وہ ڈرتے ڈرتے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ....گهنٹی ایک بار پهر سنائی دی. ..اب کی بار وہ چیخ مار کر پیچھے ہٹی........
گهنٹی مسلسل بجتی ہی جارہی تهی..اس نے آواز کا تعاقب کرنے کی کوشش کی. .تب اسے پتا چلا یہ گهنٹی کی آواز اس چهوٹے ڈبے سے آ رہی ہے.......
کچھ سوچنے پہ اسے یاد آیا ایسا ہی ایک ڈبہ اس کی سہیلی نجمہ کے گهر بهی تها جس سے وہ اپنے ابو جو سعودی عرب میں تهے ان سے بات کرتی...لیکن اس سے بات کیسے ہوتی ہے....وہ سوچ رہی تهی جبکہ گهنٹی بجی جا رہی تھی. ...
اس نے درود پاک کا ورد کرتے ہوئے اس چهوٹی چیز کو اٹها ہی لیا جو اس کے اوپر رکھا تھا. ..تب اسے آواز سنائی دی......
ہیلو.....
ہیلو....
کوئی ہے.....بات کرو ....
وہ اس آواز کو پہچان گئی یہ افراہیم کی آواز تهی..
جی آپ...وہ.....اس نے کچھ کہنا چاہا جب کہ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ......
سنو ...شام کو میرے آفس کے کچھ دوست کهانے پہ آ رہے ہیں ہوٹلوں کا کهانا وہ نہیں کهاتے اگر تم بنا سکو تو......
 جی ہم بنا دیں گے.  .وہ جلدی جلدی بولی....
ٹهیک ہے میں بھی جلدی آ جاوں گا. ..جو سامان ختم ہو چکا ہے وہ بتاو میں آتے وقت لے آوں گا....
اس نے سامان جو ختم ہو گیا تها وہ اسے بتائیں...اور آخر میں جب وہ پوچهنے لگا بس اور تو کچھ نہیں تب وہ بولی.....
جی وہ یہ ٹی بی بند کیسے ہوتا ہے  ..اس نے چلا تو لیا اب اسے بند کرنے کا نہیں پتا ...کل بھی اس نے نہیں پوچھا تھا....
اسی بٹن سے جس سے تم نے آن کیا.....اس نے سنجیدگی سے کہہ کر فون کٹ کر دیا...اس نے بهی وہ چیز دوبارہ اپنی جگہ پہ رکھ دی. ..اسے ویسے تو اس کی آواز ہمیشہ سے پسند تهی لیکن فون پہ اس کی آواز اسے ہمیشہ سے بھی زیادہ اچهی لگی اور اس کا اس طرح اسے کهانا بنانے کا کہنا یہ بات بھی اسے اچهی لگی............
ٹی وی بند کر کے وہ سیدھا کچن میں گهس گئی.وہ سامان چیک کرنے لگی اور اپنی ضرورت کی تمام اشیا الگ کرنے لگی..کوئی مہمان پہلی بار گهر آ رہا تها اس لیے وہ کوئی بھی کمی چهوڑنا نہیں چاہتی تهی..اس نے بہت سامان استعمال کے لیے علیحدہ کر کے رکھ دیا اسے مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی. ...
سارے کام چھوڑ کر وہ نماز ادا کرنے اپنے کمرے میں چلی گئی. ..وہ نماز کو اپنی ہر ضروری سے ضروری کام پر ترجیح دیتی..اس کے ماموں نے بچپن میں ہی اسے ایک بات سکهائی تهی جو اسے نے ایک گانٹھ باندھ کر محفوظ کر لی.............
ہم انسان بھی بہت عجیب ہوتے ہیں کامیابی کو ہر جگہ ڈهونڈتے ہیں حالانکہ ہمیں دن میں دس بار آواز آتی ہے. .. ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح 
ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح
 (آو کامیابی کی طرف )
(  آو کامیابی کی طرف)
ہم اس آواز کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں ہم اپنے چوبیس گھنٹوں پہ مشتمل طویل دن میں سے صرف ایک گهنٹہ بهی خدا کو نہیں دے سکتے جو ہمیں اتنا کچھ دیتا ہے......وہ ہمیں نماز کی طرف بلاتا ہے ہم انکار کر دیتے ہیں اور اس کی رحمت تو دیکهو وہ پھر بھی ہمیں کهانا دیتا ہے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے..اگر وہ ہم سے کہے آج تو آپ نے نماز نہیں پڑھی آج آپ کو کهانا کیوں دوں...؟..لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کتاب میں ننانوے ناموں سے ایک نام رحمن بھی ہے. ................

Dulhan Novel By Nasir Hussain
یہ بات اسے اس کے ماموں نے اس انداز میں سمجهائی کہ وہ دوبارہ کهبی اپنا کوئی نماز نہیں چهوڑ سکی..اور جو بھی کام کر رہی ہوتی اذان کی آواز سن کر وہ کام ادھورا چھوڑ کر نماز ادا کرنے جاتی....
نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں آئی..وہ الماری میں سے خوبصورت برتن بھی نکالنے لگی اپنی طرف سے وہ جتنا سمجھ سکتی تهی اتنا کرنے لگی..اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی وہ کچن سے باہر نکل آئی ..افراہیم بیگ اٹهائے اندر آ رہا تھا. .اس نے بتایا تها وہ جلدی آئے گا لیکن اتنی جلدی آئے گا یہ اس نے نہیں سوچا تها...وہ کچن میں اس کے لیے ایک گلاس پانی لے آئی ....اس نے ایک نظر پانی کو اور ایک نظر اسے دیکها اور پانی پی لیا..وہ خالی گلاس لے کر جب واپس پلٹنے لگی تو اس نے آواز دے کر اسے صوفے پہ بیٹهنے کو کہا وہ ججهکتے ہوئے بہرحال بیٹھ ہی گئی....
سنو. . میرے آفس کے کچھ دوست شام کو کهانے پہ آئیں گے وہ لوگ دس بارہ کے قریب ہوں گے..میں نہیں چاہتا ان لوگوں کے سامنے ہماری شادی شدہ زندگی کے غلط اثرات پڑیں...اس لیے میں چاہتا ہوں تم اچهے سے تیار ہو جانا ...کپڑے بھی میں لا دوں گا اور ایک بات نیلے رنگ کے کپڑوں کے ساتھ کالے رنگ کی آئی شیڈ کوئی نہیں لگاتا ....او کے.......وہ غور سے اس کی بات سن رہی تهی.وہ اسے کل کے میک اپ کی بات جتا رہی تهی.......
اچها چهوڑو میں تمہیں بیوٹی پارلر لے کر جاوں گا وہیں سے تیار ہو جانا اور ابهی ان کے آنے میں کافی وقت ہے. ......
جی ..کون سا کارلر.....
کارلر نہیں بیوٹی.....بیوٹی....ب...ی...و...ٹ...ی...پا...رلر...اس نے ایک لفظ الگ الگ کر کے اسے سمجهانے کی کوشش کی. ....
ببٹی پرلر جی....؟..اس نے سوالیہ انداز میں پوچها جبکہ اس نے زور سے اپنے ماتهے پہ ہاتھ مارا....
ببٹی نہیں   ...بیوٹی....اچها چهوڑو...اس بات کو.....تم ان لوگوں کے سامنے کوئی بات نہیں کرو گی او کے. ..اگر تم بات کرو گی تو انہیں پتا چلا جائے گا کہ تم ان پڑھ ہو.....سلام دعا کے علاوہ اور کوئی بھی بات نہیں کرو گی تم اور سلام دعا بھی مدهم آہستہ آواز میں کرنا....ویسے نہیں جیسے فون پہ چلا چلا کر بات کر رہی تھی. .کوئی بہرہ نہیں ہوتا ..او کے ......
اس نے اپنی گردن ہلائی..    ..
اور اتنے لوگوں کا  کهانا بنا لو گی. ..؟..
جی ہم بنا لیں گے ......
ٹهیک ہے تم ابهی سے تیاری شروع کرو کیونکہ وقت بہت کم ہے اور بعد میں بیوٹی پارلر بھی جانا ہے او کے .....وہ حکم صادر کر کے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا.......  

اس رات وہ اپنے بستر پہ یونہی لیٹا تها جب وہ اس کے کمرے میں آئی اس کے ہاتھوں میں دودھ کا ایک گلاس تها وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے اس کے لیے دودھ لانا نہیں بهولتی تهی..وہ ایک مشرقی بیوی کے روپ میں بالکل پوری اترتی تهی کهبی کهبی وہ اس لڑکی کو بالکل بھی سمجھ نہیں پاتا وہ اس سے جتنی بدتمیزی سے بات کرتا یا کهبی کهبی غصے سے بات کرتا تو وہ جواباً خاموش ہو جاتی....دوسرے بیویوں کی طرح لڑتی جهگڑتی بالکل بھی نہیں تهی لڑنا تو دور وہ کهبی اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرتی تهی........
وہ اپنے دوستوں کی جب شکائتیں سنتا جو وہ اپنی اپنی بیویوں کے بارے میں کرتے تو حیران ہو جاتا کہ کون سی بیوی سہی قسم کی ہے ...ایک ان پڑھ جاہل گاوں کی لڑکی یا وہ پڑهی لکهی ماڈرن لڑکیاں..جو اپنے شوہروں پہ حکومت کرتی تهیں..نہ کهانا بنانا نہ بچوں کو سنبهالنا ہر وقت میک اپ سے لدے رہنا....ہنس ہنس کے ہر مرد سے بات کرنا ...اسے اس قسم کی عورتیں کچھ عجیب لگتیں..لیکن وہ اپنی زندگی میں ایک بہت مختلف لڑکی دیکھ رہا تھا ایک ایسی لڑکی جو اس نے آج تک کهبی نہیں دیکهی............
ایک وہ بیویاں تهیں جو شوہروں کی ہر بات پہ اعتراض کرتی تهیں اور ایک یہ ہے اگر اس سے کہا جائے کہ رات سفید ہے تو یہ اپنے شوہر کی ہاں میں ہی ہاں ملائے گی یہ لڑکی تو اپنے شوہر کو مجازی خدا سمجهتی تهی.ہر بات ماننے والی ..ہر کام کرنے والی....
ایک بار اس کے آفس کے ایک دوست نے اس سے پوچھا تها اسے کس قسم کی بیوی چاہیے وہ کوئی جواب نہیں دے سکا اسے اب تک نہیں معلوم تها کہ بیویوں کی بهی اقسام ہوتی ہیں. .اس نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتهوں میں تهما دیا وہ دودھ پیتے ہوئے اسے مسلسل اپنی نگاہوں کے حصارے میں لیے ہوئے تها اور وہ نگاہیں جھکائے کھڑی تهی....کتنی عجیب لڑکی تهی کسی اور تو کیا شوہر سے نگاہیں ملاتے ہوئے بھی شرماتی تهی وہ پہلی بار اس کے اس ادا سے لطف اندوز ہو رہا تها....................Dulhan Novel By Nasir Hussain

اس لڑکی کے ساتھ رہتے ہوئے اسے بیس دن ہو چکے تهے اور ان بیس دنوں میں اس نے نوٹ کیا کہ وہ لڑکی جهوٹ کهبی نہیں بولتی ...بنا مقصد بنا مطلب کوئی بات نہیں کرتی...نماز پابندی سے ادا کرتی ہے...اور کئی بار اس نے صبح صبح اسے قرآن پاک کی تلاوت کرتے بھی سنا.......
وو اب نیچے فرش پہ اپنا بستر ڈال کر سو رہی تهی ..اس نے کهبی نہیں کہا کہ میرا حق ادا کرو ...بیڈ پہ سونا میرا حق ہے. ...وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے کوئی نہ کوئی عجیب سا ٹاپک پکڑ کر اس پہ مختلف سوالات کرتی تهی. .اور وہ بس ہوں ہاں میں یا کهبی کهبی تو اسے غصے سے بهی جهڑک دیتا تها...مگر وہ کهبی اس کے غصے پہ ناراض نہیں ہوتی تهی کوئی شکوہ نہیں کرتی تهی......
لیکن آج وہ خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ رہی تهی. اسے ہمیشہ رات کو اس لڑکی کی باتیں بہت بری لگتیں لیکن عجیب بات تو یہ تهی کہ اگر وہ لڑکی بات نہ کرتی تو وہ الجھن کا شکار ہو جاتا ....
اور آج بھی جب وہ بنا کوئی بات کیے سو رہی تهی تو اسے ایک عجیب کرب کا احساس ہوا.....
سو رہی ہو تم......؟..پہلی بار اس نے خود سے اسے مخاطب کیا. ...
جی کچھ چاہیے تها آپ کو...وہ ایک دم چاق و چوبند ہو کر کهڑی ہو گئی...وہ اس طرح جلد بازی میں اس کے کهڑے ہونے پہ ہنس دیا......

نہیں وہ......وہ....یہ تم ہمیشہ یہی کپڑے ہی کیوں پہنتی ہو.... اس نے بات شروع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب سوال کیا..اس نے غور سے اپنے کپڑوں کو دیکها جو سادہ لان کے کپڑے تهے. .......
جی...وہ باقی میلے تهے. وہ اس لیے .اس نے حیران ہو کر جواب دیا. ....
کتنے جوڑے ہیں تمارے.....
جی پانچ. ..اس نے سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ حیران ہوا. ..جس لڑکی کا شوہر لاکھوں کے حساب سے تنخواہ لیتا ہو اس کی بیوی کے پاس صرف پانچ سادہ لان کے کپڑے ہیں. .یہ بات اسے بہت عجیب لگی اس کے خود کے ہزاروں کپڑے تهے اور اس نے بھی کهبی کچھ نہیں مانگا..اس کے پاس کپڑے جوتے جو بھی چیز نہیں تهی اس نے اپنے لیے اس سے کهبی کچھ نہیں مانگا.....
کیوں نہیں مانگا...اسے مانگنا چاہیے تھا یہ اس کا حق تها وہ اس کا شو.........
تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا.....وہ دکھ سے پوچھ رہا تها جبکہ وہ نظریں جهکا گئی جیسے اس  نے بہت بڑی غلطی کر دی ہو... ......
اچها ٹهیک ہے ہم کل کو چلیں گے شاپنگ پہ پهر لے لینا اپنے لیے کپڑے ..اور بهی تمہیں جو کچھ چاہیے وہ بھی..او کے  ....
جی....
اچها اب سو جاو   ....وہ سونے کے لیے لیٹ گئی اس نے لیمپ آف کر دیا ...اب اسے بهی اچهی نیند آتی وہ سابقہ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر چکا تها کہ جب بھی وہ لڑکی اس  سے بات نہیں کرتی اسے نیند بڑی دیر سے آتی.   .............
 رات تقریباً گزر چکی تهی دور دور سے کہیں موذن کی آواز آ رہی تهی ..اس نے سوتے سوتے محسوس کیا کوئی اس کے ماتهے پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے وہ کرنٹ کها کر اٹھ گیا....وہ اس کے بالکل پاس کهڑی تهی اس اٹهتا دیکھ کر وہ گهبرا گئی .......
اسے اتنی صبح صبح اس کا چهونا بہت برا لگا..غصے کی شدید لہر اس کے جسم میں پیدا ہو گیا پورا جسم جیسے جلنے لگا ہو...وہ کمبل کو پرے دھکیل کر بالکل اس کے برابر کهڑا ہو گیا وہ سہمے ہوئے نگاہیں نیچے جهکا کر کهڑی تهی....اس کے دل میں اس وقت آگ لگی ہوئی تهی اس نہیں پتا تها اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے لیکن وہ مزید اپنے غصے پہ قابو نہیں رکھ سکا....
تماری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی..کیا سمجهتی ہو تم خود کو.....اور کیا سوچ کر تم نے مجھے ہاتھ لگایا..میں نے تمہیں بتایا تها ناں میں تمہیں بیوی کا درجہ کهبی نہیں دے سکتا تو زبردستی میری زندگی میں گهسنے کی کوشش مت کرو ..او کے ...نہ تو میں تمہیں کهبی قبول کر سکتا ہوں اور نہ کهبی کروں گا اس لیے یہ روایتی بیویوں والی حرکتیں کرنا بند کر دو....
وہ چلا چلا کر بات کر رہا تها اندر کے لاوا کو باہر آنے کا راستہ مل چکا تها ...اس کا پارہ ایک دم چڑھ چکا تها وہ بدستور سر نیچے کیے ہوئے کهڑی تهی اس نے محسوس کیا اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں  ...
گیٹ آوٹ.....اس نے چلا کر کہا..پهر اسے یاد آیا وہ جاہل گوار لڑکی انگلش نہیں سمجھ سکتی اس لیے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے کمرے سے باہر نکالا اور کنڈی لگا کر بیڈ پہ بیٹھ گیا. ..........
اس کا خون کهولنے لگا تها...کافی دیر بعد وہ جب خود کو نارمل کرنے میں تهوڑا کامیاب ہوا تو دوبارہ بستر پہ لیٹ گیا....پهر جانے کب اس کی آنکھ لگی.....
چهٹی کا دن تها اس لیے اسے بیدار ہونے کی کوئی جلدی نہیں تهی لیکن دس بجے آلارم نے اپنے ہونے کا احساس دلایا وہ اٹھ کر واش روم میں گهس گیا ...سر میں ہلکے درد کا بھی احساس ہوا صبح چھ بجے والا واقعہ ابهی بهی ذہن میں تازہ تها.................
وہ نہا کر جب باہر نکلا تو ٹهٹک گیا اس کی شرٹ بیڈ پہ آج نہیں پڑی ہوئی تهی ایسا پہلی مرتبہ ہوا تها کہ وہ نہا کر نکلا ہو اور بیڈ پہ شرٹ نہ ہو...اسے کچھ عجیب لگا. ..اس نے الماری سے ایک شرٹ نکال کر پہن لی اور ناشتے کے لیے نیچے چلا گیا. ....ناشتے کے دوران دوسری حیرت اسے تب ہوئی جب اسے ٹیبل پہ ناشتہ نظر نہیں آیا یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا تها ورنہ وہ ہمیشہ اس کے جاگتے ہی میز پہ ناشتہ سجا دیا کرتی تهی....
تو اس کا مطلب وہ ناراض ہے....اس نے سوچا....
ناراض ہے تو ہوتی رہے ناراض.....میں نے کیا کیا.....
تو نے اچها بھی تو نہیں کیا ..کتنی بری طرح سے پیش آئے اس سے.....دل سے آواز آئی. .   
وہ کچن میں چلا گیا اور خود اپنے لیے ناشتہ بنانے لگا پھر اسے یک دم محسوس ہوا اسے ناشتہ بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اتنے دنوں سے وہ اس کے ہاتھوں کا بنا ناشتہ کها رہا تها ...خود کهانا بنانے کی تو اس کی عادت ہی چهوٹ گئی.......وہ بنا ناشتہ بنائے کچن سے باہر نکل آیا.....
وہ یونہی صوفے پہ ڈهیر ہو گیا.....ایک سوچ جو پہلی بار اس کے ذہن میں آئی....
وہ کہاں ہے....؟..یہ سوچ کر وہ کهڑا گیا ...اور گهر کے کمروں میں اسے تلاش کرنے لگا لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی اس کی ٹینشن میں مزید اضافہ ہوا ...وہ ایسے تڑپنے لگا جیسے مچھلی کو پانی سے باہر نکال دیا جائے....
کہاں چلی گئی......
{  دلہن ناول ناصر حسین }

وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچ رہا تها.....
جہاں چلی گئی چلی گئی...اس سے اسے کیا...وہ بھی کہاں اسے اس گهر میں چاہتا تها ...اچها ہوا خود چلی گئی...ویسے بھی کسی نہ کسی دن تو اسے جانا ہی تها ناں....؟
نہیں. ..نہیں. ...وہ ہمیشہ یہی چاہتا تها وہ چلی جائے لیکن آج جب وہ چلی گئی تو وہ اس طرح پریشان کیوں تها...وہ خوش کیوں نہیں تها جبکہ اصولاً تو اسے بہت زیادہ خوش ہو جانا چاہیے تها.........
کیا وہ اس لیے پریشان ہے کہ جب دادی واپس آئے گی تو وہ اسے کیا جواب دے گا......
نہیں. ..نہیں. ..دل سے فوراً آواز آئی....
وہ دادی کے لیے نہیں خود اپنے لیے پریشان تها مگر کیوں اس نے دل سے پوچها. ......
کیونکہ تم اس سے پیار کرنے لگے ہو....دل نے ایک عجیب انکشاف کر دیا...وہ گم سم ہو گیا....یہ کیا کہہ رہا تها دل...وہ اس....اس...سے...وہ ..اس سے پیار کیسے کر سکتا ہے وہ...تو...وہ...تو اس سے نفرت کرتا تها شدید نفرت. ..نہیں دل جهوٹ بول رہا ہے...
اس نے دل کو جهٹلانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا نہیں کر سکا کیونکہ دل جهوٹ نہیں سچ بول رہا تها...
ہاں ...ہاں ...میں اس سے پیار کرتا ہوں بہت پیار. ...مجھے صرف اس کی عادت نہیں ہو گئی میں اس سے پیار بھی کرنے لگا ہوں مگر وہ کہاں ہے....اس نے چلا چلا کر  پورے گهر سے پوچھا اور جواباً پورا گهر خاموش تها ..اسے زندگی میں پہلی بار گهر میں اکیلے پن کا احساس ہوا اسے پہلی بار گهر کی خاموشی ڈرا رہی تهی........
اس پہ پہلی بار انکشاف ہوا وہ اس سے محبت کرنے لگا تها..وہ جسے اپنی زندگی کا ساتهی بنانا چاہتا تها وہ یہی لڑکی تهی اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی..اس سے پیاری تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اتنی معصوم اتنی سچی.اسے جیون ساتھی کے روپ میں صرف یہی لڑکی چاہیے تهی اور تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے جیسی..ایسی لڑکی دنیا میں کہیں نہیں ہے جو اس کے اتنے غصے کے باوجود خاموش رہے جو اس کے جاگتے ہی ناشتہ لگا دے اس کے مانگنے سے پہلے اسے چائے پلا دے...اتنی صبر اتنی قناعت والی لڑکی اور کہاں ہو گی..واقعی اگر دادی اس پہ بهروسہ کرتیں تهیں تو بالکل سہی کرتیں تهیں..وہ واقعی اپنے پوتے کے لیے سب سے اچهی بیوی ڈهونڈ لائیں تهیں. .اگر وہ خود ان کی مرضی کے خلاف کسی ماڈرن لڑکی سے شادی کرتا تو کیا ہو جاتا...وہ لڑکی کیا گهر کے کام کرتی..کیا اس میں اتنا صبر ہوتا..کیا وہ اس کے اس طرح چلانے پہ خاموش ہوتی..نہیں ...نہیں نہیں. ....وہ پہلی بار اس کی کہی ہوئی ساری باتیں یاد کر رہا تها.........
{  دلہن ناول ناصر حسین }
کیا جی ببٹی پارلر....؟
یہ ٹی بی کرنٹ تو نہیں مارتا جی. ...؟
ہمارے گاوں میں پہلے مرد کهانا کهاتا ہے پهر عورت اس کا بچا ہوا کهانا کهاتی ہے.......
آپ کو گاڑی چلانا آتا ہے جی.....؟
یا اللہ مجھے اپنے گهر سے خاکی ہاتھ مت لوٹائیں میں آپ سے جو مانگ رہی ہوں وہ مجھے دے دیں......
جی آپ کی وہ نیلی شرٹ جل گئی......
آپ سے جهوٹ بول سکتی ہوں خدا سے تو نہیں. ..
وہ تو سب جانتا ہے. ..آپ سے جهوٹ بول کر میں بچ بھی جاوں تو خدا سے کیسے جهوٹ بول سکتی ہوں..
او میرے اللہ. ...یہ میں نے کیا کر دیا...کیوں کر دیا....میں نے اس سے کتنی بدتمیزی سے بات کی صبح. ..مجھے کیوں اتنا غصہ آ گیا تها حالانکہ اس نے ایسا بھی کچھ غلط نہیں کیا تها...صرف ہاتھ ہی تو لگایا تها..اور میں  .....
اور وہ ...وہ اتنی اچهی تهی کہ اس نے کوئی شکوہ کوئی شکایت تک نہیں کیا....لیکن وہ کہاں چلی گئی  ...
پلیز واپس آ جاو ....میں تمہیں پهر کچھ نہیں کہوں گا ہم دونوں مل کر پیار محبت سے رہیں گے...میں تمارے بنا نہیں رہ سکتا بانی ...لوٹ آو ....اسے اپنے گالوں پہ نمی کا احساس ہوا. ..وہ بهاگتے ہوئے پورچ میں  گیا اور گاڑی میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا. .....
گاڑی وہ فل سپیڈ سے چلا رہا تها..اتنے رش میں اتنے سپیڈ سے گاڑی چلانا خطرے سے خالی نہیں تها لیکن وہ ہر خطرے سے انجان بس جلدی جلدی ریلوے اسٹیشن پہنچ جانا چاہتا تها ..کئی بار اس کی گاڑی دوسرے گاڑیوں سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تهی...وہ ریلوے اسٹیشن کے بالکل پاس پہنچ چکا تها گاڑی سے نکل کر وہ بهاگتے ہوئے اسٹیشن تک گیا لیکن وہاں کوئی نہیں تها یہ تو ابھی تک ریل گاڑی آئی ہی نہیں ہو گی یا پھر آ کر..........
وہ بهاگ کر بنچ پہ بیٹهے اس انسان تک گیا جو پتا نہیں کن خیالوں میں گم تها......
ایکسکیوز می....جناب یہ ریل گاڑی کی ٹائمنگ کیا ہے...
اس آدمی نے حواس باختہ مخاطب کو دیکها. ....
ابهی تهوڑی دیر پہلے ریل گاڑی تو نکل  چکی ہے. .اسے لگا جیسے وہ آدمی کہہ رہا ہو آپ کی تو جان نکل چکی ہے....اس کے جسم میں خون کی گردش اچانک رکنے لگی ....وہ مایوس ساری دنیا سے بیزار گهر لوٹ آیا......اور صوفے پر ڈهیر ہو گیا ......
ایسے کیسے جا سکتی ہے وہ...؟
مجھے چهوڑ کر وہ نہیں جا سکتی....
اتنی معمولی غلطی کی اتنی بڑی سزا کون دیتا ہے. ..
کیا سب کچھ ختم ہو گیا...اب کچھ بھی باقی نہیں رہا تها کیا....
{  دلہن ناول ناصر حسین }
وہ سر تهامے صوفے پہ بیٹها تها ...جب اسے اپنے بالکل پاس ہی کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی اس نے گردن موڑ کر دیکها تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی.........
وہ ...وہ..اس کے بالکل پاس کهڑی تهی اس سے کچھ ہی فاصلے پر...وہ کرنٹ کها کر کهڑا ہو گیا.....
تم...تم...کہاں چلی گئیں تهیں...میں نے ....کیوں گئیں تهیں تم....؟ وہ کرنٹ کها کر کهڑا ہو گیا  ..
جی وہ ہم تو....ہم تو یہیں تهے...اس نے اس کی بات نہیں سنی اور آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا. .وہ اس طرح اس کے گلے لگانے سے حیران بھی تهی اور خوش بھی. ....
اب آئندہ تم کهبی مجھے چهوڑ کر مت جانا اوکے...چاہے میں تمہیں جتنا ڈانٹوں...او کے...جان نکل جاتی ہے میری..ہم سب کچھ پهر سے شروع کریں گے تم ایک بار پھر سے دلہن بنو گی اور اس بار تمہیں کمرے سے باہر نکالنے کی بجائے بانہوں میں سمیٹ لوں گا..
...خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.....
وہ صبح اس کے منہ سے نکلنے والے شعلے سن کر تو ٹوٹ ہی گئی تهی ..اسے لگا اب اس کی زندگی کا تو کوئی مقصد ہی باقی نہیں رہا سب کچھ ختم ہو گیا. ..
وہ کمرے سے نکل کر اس کے برابر والے کمرے میں جا کر روتی رہی ...اور روتے روتے وہ کب سو گئی اسے پتا ہی نہیں چلا. .اس کی آنکھ تب کهلی جب اسے نے سنا کوئی اسے پکار رہا ہے..وہ بهاگ کر کهڑکی تک گئی تو اس کے شوہر محترم جو صبح آگ برسا رہے تهے اب بڑی بے تابی سے اپنی زوجہ محترمہ کو ڈهونڈ رہے تھے. .اس حیرت بھی ہوئی اور اچها بھی لگا وہ بہت دیر تک کهڑکی سے اس کی اداس شکل دیکهتی رہی پهر اس نے چلا چلا کر اپنی محبت کا اظہار کیا ...ان دیواروں کے سامنے اس گهر کے اندر..لیکن وہ نہیں جانتا تها جس کے لیے وہ اقرار کر رہا ہے وہ اس کے بہت قریب ہے .......
وہ جانتی تهی کہ وہ اس سے پیار کرنے لگا ہے ..وہ کئی بار اس کے چہرے پہ اپنے لیے محبت کا پیغام پڑھ چکی تهی لیکن وہ اقرار نہیں کر رہا تها کیونکہ ابهی تک خود اس کے دل نے ہی اقرار نہیں کیا تها..
رات کو دو بجے اٹھ کر بریانی کهائی جاتی ہے. .جناب چوری چوری قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈال کر کهانے لگتے ہیں. .گاڑی میں بیٹھ کر چپکے چپکے اسے دیکها جاتا ہے. ..صرف اقرار کرنے میں ہی مشکل پیش آ رہی تهی جناب کو.....اس کے منہ سے اپنے لیے محبت کا اقرار سن کر اسے بہت اچها لگا...... ....
وہ اس وقت اس کے پاس جانا چاہتی تهی اسے بتانا چاہتی تهی کہ وہ اس کے قریب ہے لیکن وہ نہیں گئی...وہ اسے تنگ کرنا چاہتی تهی...جس شوہر محترم نے اسے اتنے دن تنگ کیا وہ بهی اپنا بدلہ وصول کرنا چاہتی تهی............
صبح وہ اس سے غصہ تهی ناراض تهی روئی تهی لیکن اگر آج کی صبح وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا تو وہ کهبی اپنی محبت کا اقرار نہ کرتا.یہ تقدیر کاتب کا فیصلہ تها..جو ہوتا ہے اچهے کے لیے ہی ہوتا ہے ..بے شک کوئی ہے جو ہماری ہر سوچ پہ اختیار رکهتا ہے اور ہمارے لیے بہتر فیصلے تجویز کرتا ہے. .وہی جو اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے ...یہ ساری دنیا جس کے ماتحت ہے وہی تو خدا ہے...........
اس نے تشکر آمیز نگاہوں سے اوپر آسمان کی طرف دیکها ..بے شک جوڑے وہی بناتا ہے آسمانوں پر...وہ اپنے انسانوں میں کهبی فرق نہیں کرتا ..نہ دیہاتی اور شہری میں اور نہ ہی غریب اور امیر میں. ...وہ سب کو دو آنکھیں دو کان دو ہاتھ اور دو پاوں نواز کر بھیجتا ہے. .فرق تو 
Dulhan Novel By Nasir Hussain
urdupointadab.ml
Reactions:

0 comments:

Post a Comment