Sunday, March 29, 2020

Azmaish complet urdu novels

#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_1


سردیوں کی صبح تھی... ہوا میں خنکی محسوس کی جارہی تھی....لوگ موٹے اور گرم کپڑے پہن کر خود کو سردی سے بچاتے ہوئے گھروں سے نکلتے...ہر شخص اپنی دنیا میں مگن و مصروف تھا....کوئی آفس جانے کی غرض سے گھر سے نکلتا تو کوئی محنت مزدوری کرنے نکل پڑتے....
وہیں ایک چالیس سال کا آدمی (جو  محنت اور مشقت کی وجہ سے اپنی عمر سے کئی زیادہ بڑا لگ رہا تھا) کب سے ایک بڑے سے گھر کی بیل bell بجانے میں مصروف تھا...چہرے پر سنجیدگی طاری کیے,ماتھے پر پریشانی کے بل ڈالے سادہ سے کپڑوں اور کندھوں کے گرد گرم شال لپیٹے وہ بار بار گیٹ کے قریب لگی بیل بجا رہا تھا...لیکن گھر کے مکین تو جیسے سن ہی نہ رہے ہو...
وہ شخص دو دن سے یہاں کے چکر کاٹ رہا تھا پریشانی تھی جو اسے رات رات بھر سونے نہ دیتی...دو دن سے گیٹ نہیں کھلا اور آج پھر وہ اسی چوکھٹ پر آ کھڑا ہوا تھا لیکن آج بھی گیٹ نہیں کھلا آخر کار نا امید ہو کر وہ واپسی کیلئے پلٹا ہی تھا کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی.... اُس نے عجلت میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو گیٹ میں ایک انیس بیس سال کا نوجوان چہرے پر بیزاری لئے کھڑا تھا...
جی کہیے...؟دروازے میں کھڑے نوجوان نے اس آدمی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا
بیٹا مجھے شیرازی صاحب سے ملنا ہے...دو دن سے بچیاں میرے ساتھ کالج نہیں جارہی...کل بھی میں ان کو صبح لینے آیا تھا..لیکن وہ کسی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی...اسی سلسلے میں مجھے شیرازی صاحب سے.....
شیری بیٹا کون ہے گیٹ پر؟کوئی بھکاری ہے تو گیٹ بند کر کے اندر آجاؤ...آجکل حالات ٹھیک نہیں شہر کے...
اس سے پہلے کہ دروازے پر کھڑا آدمی اپنی بات مکمل کرتا اسے اندر سے شیرازی صاحب کی آواز سنائی دی..
جی پاپا آگیا اندر....
بیٹا مجھے شیرازی صاحب سے بہت ضروری بات کرنی ہے...آپ انہیں میرا بتا دیں کہ ساجد انکل رکشے والے آئے ہے ... میں....میں دو دن سے یہاں آرہا ہوں لیکن گیٹ نہیں کھلتا اور میں واپس چلا جاتا ہوں..آپ کی بڑی مہربانی ہوگی... نوجوان دروازہ بند کرنے ہی والا تھا جب ساجد نے تقریباً منت کرنے والے انداز میں اسے شیرازی صاحب سے ملاقات کا کہا...
پاپا....پاپا.....
باہر آ کر دیکھیں انہیں...آپ نے ان کا معاملہ ختم نہیں کیا تھا کیا؟دو دن سے دروازہ بجا بجا کر دماغ خراب کر دیا ہے...آج بھی صبح صبح پہنچ گئے ہے نیند خراب کرنے.....شیری نے نہایت بدتمیزی سے اپنے والد شیرازی کو آواز دی..
کیا ہوگیا ہے کس نے دماغ خراب کر دیا ہے؟شیری کی آواز پر شیرازی صاحب باہر کی جانب آئے
پاپا آپ نے ساجد انکل کو بتایا نہیں تھا کہ اب سے انہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے.. تو پھر کیوں وہ دو دن سے یہاں آرہے ہے... ان کی باتوں سے تو لگتا ہے جیسے انہیں کوئی خبر ہی نہیں ہے... شیری نے اندر آتے ہوئے چڑ کر کہا اور شیرازی صاحب کی بات سنے بغیر ہی اپنے کمرے کی جانب چلا گیا...
جبکہ گیٹ کے باہر ساجد شیرازی صاحب کے انتظار میں کھڑا تھا.....
######

یہ ساجد کا گھر تھا..ایک کمرہ, چھوٹا سا صحن اور صحن کی ایک طرف کچن اور واش روم بنا ہوا تھا... ساجد کرائے کے مکان میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا...
ساجد کی بیوی عائشہ ایک صابر خاتون تھیں...مشکل سے مشکل حالات دیکھ چکی تھی اپنی زندگی میں.. اور ناجانے یہ آزمائشیں کب ختم ہونی تھیں...
ساجد رکشہ چلانے کے ساتھ ساتھ سلائی کا کام بھی جانتا تھا...لیکن نظر کمزور ہونے کی وجہ سے سلائی کرنا کم کردیا تھا...اور رکشے سے جو کمائی ہوتی اس سے گھر کا کرایہ اور دوسرے اخراجات پورے کیے جاتے...
 جبکہ عائشہ بھی اپنے بچوں کی تعلیم اور دوسرے اخراجات کی خاطر لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی...
کرائے کا گھر,کرائے کا رکشہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کسی بھی غریب آدمی کی کمر توڑ دیتی ہے.... ساجد کو ایک گھر کی بچیاں کالج لے جاتے ہوئے تقریباً ایک سال ہوگیا تھا...اس گھر سے ملنے والی رقم سے مکان کے کرائے کی فکر کافی حد تک اب کم ہوگئی تھی.... زندگی پہلے سے بہتر گزررہی تھی....لیکن کوئی نہیں جانتا کہ مشکلات اور پریشانیاں کب ان کی دہلیز پر دستک دے دیں...
#######
ماما... ماما....
 غفور انکل کا فون آرہا ہے...ساجد کی بڑی بیٹی مریم ہاتھ میں فون تھامے کچن کے دروازے میں کھڑی تھی.....جہاں ساجد کی بیوی عائشہ آٹا گوندھنے میں مصروف تھی
غفور بھائی نے کرائے کا کہنا ہوگا.. تم فون نہ اٹھاؤ ابھی... تمہارے پاپا آتے ہے رات کو تو خود ہی بات کر لیں گے....ویسے بھی انہوں نے آج جانا تھا شیرازی صاحب کی طرف..دو دن سے ناجانے کیوں بچیاں نہیں بھیج رہے اُن کے ساتھ...عائشہ نے اپنی پندرہ سالہ بڑی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے ہدایت دی...
اچھا ٹھیک ہے...مریم نے فون رکھ دیا...
اور ماما اندر ہانیہ اور حارث لڑ رہے ہیں دونوں... میں سمجھاتی ہوں تو بدتمیزی کرتے ہیں...مریم نے کچھ یاد آنے پر عائشہ کو چھوٹے بہن بھائی کا بتایا...
ان دونوں نے تو میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے... پورے دو سال کا فرق ہے دونوں میں..پھر بھی ایسے لڑتے ہیں جیسے جڑواں ہو...عائشہ نے غصے میں تپتے ہوئے کہا... اور گوندھا ہوا آٹا ایک برتن میں نکالنے لگی...
اچھا تم جاؤ اندر ان دونوں کو کہو کہ لڑنا بند کر دیں...اگر میں آئی تو دونوں کو مار پڑے گی پھر... عائشہ نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا اور مریم سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے اندر کمرے کی طرف چل دی...

#
شیرازی صاحب گیٹ کی جانب آئے جہاں ساجد کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا....
ساجد کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے....وہ چہرہ جھکا کر کھڑا تھا....پلکوں کو نیچے گرائے وہ سوچوں کے محور میں گم تھا...اس کی آنکھوں کے سامنے عائشہ کا چہرہ آیا...غصے سے پھولا ہوا...بھیگیں ہوئی آنکھیں...سرخ پڑتی ناک جسے وہ بار بار رگڑ رہی تھی.... ساجد کا ایک بار ایکسیڈینٹ ہوا تھا اور عائشہ نے اپنا رو رو کر بُرا حال بنا لیا تھا....ساجد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی...
قدموں کی آواز نے اُسے خیالات کی دُنیا سے باہر نکالا....اس نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا تو شیرازی صاحب اس کی طرف آرہے تھے....
اسلام علیکم شیرازی صاحب....
ساجد نے شیرازی کو دیکھ کر مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا
وعلیکم اسلام...شیرازی نے ہاتھ تھام لیا... ہاں بھئی ساجد خیریت ہے تم دو دنوں سے یہاں کے چکر کاٹ رہے ہو؟شیرازی نے انجان بنتے ہوئے کہا
شیرازی صاحب پچھلے دو دن سے بچیاں میرے ساتھ کالج نہیں جا رہی..میں کل بھی آیا تھا انہیں لینے لیکن وہ کسی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی...اور میری دو دن سے آپ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی...بس میں اسی سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتا تھا....ساجد نے نہایت نرم لہجے میں اپنی بات مکمل کی..
او ہاں ساجد.....مجھے یاد نہیں رہا تمہیں بتانا... دراصل میں نے بچیوں کیلئے کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے تو اب سے تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے....
شیرازی نے اطمینان سے کہا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا...
لیک....لیکن...شیرازی صاحب بچیاں تو میرے ساتھ جاتی تھی....میں تو کوئی چھٹی بھی نہیں کرتا روزانہ لے کر جاتا ہوں بچیوں کو پھر آپ نے دوسرا رکشے والا کیوں لگوایا؟....ساجد کو لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر آسمان گرا دیا ہو.
ہاں بس میں دو دن سے شہر سے باہر تھا.....اسی لیے تمہاری ملاقات نہیں ہوئی مجھ سے ....اور مجھے یاد بھی نہیں رہا تمہیں بتانا نہیں تو تمہیں یہاں کے چکر نہ کاٹنے پڑتے...خیر اب تو پتا چل گیا ہے نا تمہیں.. اب کل سے مت آنا بچیوں کو لینے...شیرازی نے بیزار لہجے میں کہا اور سگریٹ کا کش بھرا
دیکھیے شیرازی صاحب اگر مجھ سے کوئی شکایت ہے یا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو آپ بتائیں مجھے.... لیکن ایسا مت کیجئے... آپ جانتے ہے کہ آپ کے گھر سے ملنے والی رقم سے میں نے گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے... م...میں اب وہ سب... اس سب کا کیا کروں گا... ؟ساجد کے الفاظ بے ربط ہو رہے تھے جیسے بہت بڑا صدمہ پہنچا ہو
بھئی ساجد مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے...تم اپنا کوئی اور بندوبست کر لو... اور ویسے بھی تمہارا رکشہ اب کافی خراب ہو چکا ہے....میری بچیوں کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے اُس میں بیٹھتے ہوئے بس اسی لئے میں نے کوئی اور رکشے والا لگوایا ہے... اور تمہارا جو باقی حساب ہے وہ دو دن بعد آ کر کر لینا..جو باقی پیسے بنتے ہیں میں تمہیں دے دوں گا...اور اب روز روز میرا دماغ مت خراب کرنا یہاں آکر....شیرازی نے حقارت بھری نظر ساجد پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا...
جبکہ ساجد خالی خالی نظروں سے بند دروازے کو دیکھنے لگا...ساجد کو لگا کہ دن کے اجالے میں رات کا سیاہ اندھیرا چھا گیا ہو....
######

ہانیہ.... ہانیہ یہاں آؤ زرا...
اپنے پاپا کو فون تو ملاؤ رات کے دس بجنے کو ہے اور ابھی تک وہ گھر نہیں آئے...عائشہ نے اپنی چھوٹی بیٹی ہانیہ کو آواز دی....
اللہ خیر کرے پتا نہیں ابھی تک کیوں نہیں آئے.. آٹھ نو بجے تک تو آجاتے ہے ساجد... عائشہ پریشانی میں بڑبڑائی..
لائیں ماما موبائل پکڑائیں میں پاپا کو کال کروں ... ہانیہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا کیونکہ اسی بہانے اُسے فون پکڑنے کا موقع جو مل گیا تھا
 ہاں یہ لو ملاؤ اپنے پاپا کو فون میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے... عائشہ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی اور اپنے پرس سے موبائل نکالنے لگی....
ماما میں ملا دیتی ہوں آپ کو فون اسے کہاں آتا ہے ملانا ...اس سے پہلے کہ ہانیہ موبائل پکڑتی مریم نے جلدی سے پکڑ لیا....
لیکن ماما....ہانیہ نے ماں کی جانب دیکھا... اُس کو ایک دم سے غصہ آیا
عائشہ نے ہانیہ کو انگلی سے خاموش کروانا چاہا
یہ نا انصافی ہے ماما آپ نے مجھے کہا تھا فون ملانے کا اور مریم آپی نے جان بوجھ کر پکڑا ہے موبائل.... مجھے بھی آتا ہے فون ملانا... ہانیہ نے غصے سے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا جبکہ مریم ہانیہ کو منہ چڑا کر فون ملانے  لگی...
ہانیہ بیٹا کچھ نہیں ہوتا... تم جاؤ کمرے میں جا کر سو جاؤ صبح پھر سکول کیلئے بھی اٹھنا ہے اور دیکھو حارث سویا ہے کہ نہیں ابھی تک... عائشہ نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا
آپ ہر بار ایسے ہی کرتی ہے ماما مجھے موبائل کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی اور آپی جب مرضی پکڑ لیتی ہیں .. ہانیہ غصے سے پیڑ پٹختی کمرے میں چلی گئی ...
مریم ملا نہیں فون ساجد کو ؟عائشہ نے مریم کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا
ماما بیلینس ختم ہوگیا ہے کال نہیں.....
اسلام علیکم...مریم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ساجد کی آواز آئی...ساجد کی آواز پر عائشہ نے مڑ کر دیکھا جہاں ساجد دروازے میں کھڑا جوتے اتار رہا تھا...
وعلیکم اسلام....
ساجد آپ نے آج کافی دیر کر دی آنے میں...دس بجے سے اوپر ٹائم ہوگیا ہے...عائشہ نے سلام کا جواب دیتے ہی عجلت میں پوچھا...
ہاں بس سواری مل گئی تھی اسی لئے دیر ہوگئی.... ساجد صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا...وہ اب خود کو کافی حد تک سمبھال چکا تھا....وہ نہیں چاہتا تھا کہ عائشہ اُس کی وجہ سے پریشان ہو...
مریم بیٹا جاؤ پاپا کیلئے پانی لے کر آؤ.....عائشہ نے مریم کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے کہا
اچھا ماما...مریم سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئی
کیا بات ہے ساجد آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟عائشہ نے ساجد کا چہرہ کھوجتے ہوئے پوچھا
ہاں ٹھیک ہوں میں.. ویسے بھی ہم غریبوں کو کہاں کچھ ہوتا ہے جلدی...ساجد نے تلخی سے کہا
اللہ خیر کرے ساجد... کیسی باتیں کر رہے ہے آپ.. اللہ آپ کو لمبی عمر دے... آپ کے اور اپنے بچوں کے سہارے ہی تو میں بھی جی رہی ہوں..ساجد کی بات پر عائشہ کا دل ہول اٹھا تھا....
کیا فائدہ عائشہ ایسی لمبی عمر کا جہاں ایک پل بھی سکون کا میسر نہ ہو... ہر وقت گھر کے کرائے,رکشے کے کرائے اور بچوں کی روٹی کی فکر سر پر منڈلاتی رہتی ہے.... ساجد کی آنکھوں میں نمی آئی جسے وہ بڑی مہارت کے ساتھ عائشہ سے چھپا گیا
پاپا یہ لیں پانی... مریم نے سٹیل کا پانی سے بھرا گلاس ساجد کے آگے کیا...ساجد نے گلاس ہاتھ میں تھام لیا
اچھا آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں ؟اب تو پہلے سے بہت بہتر حالات ہوگئے ہیں ہمارے... اللہ آگے بھی بہتر کرے گا..سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پانی پیے.... عائشہ نے ساجد کو تسلی دینا چاہی
حالات بہتر نہیں اور خراب ہوگئے ہیں اب... جس گھر کی میں بچیاں لے کر جاتا تھا انہوں نے فارغ کرا دیا ہے مجھے...  کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے...ساجد نے پانی کا گھونٹ بھرا..
لیکن کیوں ساجد... آپ تو ایک سال سے لے کر جارہے تھے ان کی بچیاں پھر ایسے کیسے کسی اور کو لگوا لیا آپ کی جگہ ؟....عائشہ کو ایک دم سے غصہ آیا تھا اُن لوگوں پر
 اب کیا کہہ سکتے ہیں ہم...بڑے لوگ ہیں وہ جب چاہیں جسے رکھیں جب چاہیں فارغ کروا دیں...ساجد نے خالی گلاس مریم کو تھمایا جو پاس کھڑی باتیں سن رہی تھی...
پر ساجد اب کرائے کا کیا ہوگا؟عائشہ کو کرائے کی پریشانی نے آن گھیرا..
اس مہینے کے پیسے لینے ہیں میں نے ابھی شیرازی صاحب سے... دو تین دن تک مل جائیں گے پھر دے دوں گا کرایہ.... آگے اللہ مالک ہے....کرتا ہوں کسی دوست سے بات کہ کوئی گھر نظر میں ہو تو مجھے لگوا دے... ساجد نے عائشہ کو پریشان ہوتے دیکھ کر تسلی دی
کرائے سے یاد آیا صبح غفور بھائی کا فون آرہا تھا دوپہر میں... شاید کرائے کا کہنا ہو... عائشہ نے یاد آنے پر بتایا
ہاں میں انہیں فون کر کے بتا دوں گا کہ دو دن تک کرایہ مل جائے گا.... ساجد اپنی بات ختم کرتا واش روم کی جانب چل دیا... جبکہ عائشہ سوچوں میں گم ہوگئ
##
صبح صادق کا وقت تھا....آسمان پر ابھی قدرے اندھیرا چھایا ہوا تھا....کچھ لوگ اپنی نیند کو قربان کر کے رب کے آگے سجدے میں جھکے ہوئے تھے اور کچھ رضائیوں اور کمبلوں میں خود کو لپیٹ کر دنیا سے بے خبر سو رہے تھے..فروری کی یخ بستہ ہوائیں روئی کے گالوں کی طرح چہرے کو چھو رہی تھیں...پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں کانوں میں پڑتی جو صبح کے نظارے کو مزید دلکش بنا رہی تھیں....پیدل چلتے مسافر.....اور پارک میں واک(walk)کرتے لوگ موسم کا لطف اٹھانے میں مصروف تھے....
جہاں سردی لوگوں کو باعث راحت لگتی وہیں کچھ لوگوں کو زحمت کے مترادف محسوس ہوتی...فٹ پاتھ اور سڑکوں پر اکثر لوگ پھٹی پرانی چادروں اور لحافوں میں خود کو سمیٹے لیٹے تھے... جو ہر روز امیر اور بے حس لوگوں کی ٹھوکریں برداشت کرتے😥
آج ساجد فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے ایک دوست سے ملاقات کرنے آیا تھا...... جہاں اور بھی کافی آدمی ایک چوک میں کھڑے باتیں کرنے میں مصروف تھے... حلوہ پوری, نان, چنے, بونگ پائے اور دیگر کھانوں کی خوشبو ہر راہ گیر کو اپنی طرف دعوت دیتی...
اسلام علیکم حمید....ساجد نے حمید کی جانب بڑھتے ہوئے سلام کیا
وعلیکم اسلام... کیسے ہو ساجد میاں؟حمید نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا
اللہ کا شکر ہے گزر رہی ہے زندگی... حمید دراصل مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی.... ساجد نے اپنے آنے کا مقصد پیش کیا
ہاں ہاں کہو ساجد کیا بات کرنی ہے.... بلکہ ایک کام کرو سامنے ہوٹل میں بیٹھتے ہیں دونوں... ناشتہ واشتہ کرتے ہیں پھر ساتھ باتیں بھی ہوتی رہیں گی
ساجد اور حمید دونوں ہوٹل کی جانب چل دیے
######

مریم....مریم بیٹا اٹھ جاؤ
صبح کے سات بج رہے تھے.... عائشہ نے بچوں کے سکول یونیفارم استری کرتے ہوئے مریم کو آواز لگائی
مریم.... اٹھ جاؤ سات بج گئے ہے... منہ ہاتھ دھو لو اٹھ کر... پھر حارث اور ہانیہ نے بھی اٹھنا ہے... عائشہ نے ایک بار پھر مریم کو آواز دی
اچھا ماما اٹھ گئی ہوں..... مریم سستی سے اٹھتی واش روم کی  جانب چل دی
عائشہ نے استری کا سوئچ نکالا اور ہانیہ اور حارث کو اٹھانے لگی...
مریم نہم جماعت کی جبکہ ہانیہ پانچوںں جماعت کی طالبہ تھی... مریم کی عمر 15 برس تھی جبکہ ہانیہ کی 11 برس....ہانیہ مریم سے چار سال چھوٹی تھی... لیکن لڑائی میں ہمیشہ سب سے آگے رہتی...ہانیہ اور مریم دونوں ایک ساتھ گرلز سکول میں پڑھتی جبکہ حارث بوائز سکول میں جاتا.......تینوں بچے پڑھائی میں بہت زہین تھے.....
ساجد اور عائشہ کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ بچے پڑھ لکھ جائیں اور اپنا مستقبل سنوار لیں......تاکہ جو حالات انہوں نے اپنی زندگی میں برداشت کیے ہیں وہ ان کے بچوں کی زندگی کا حصہ نہ بنیں... بچوں کے سکول اور ٹیوشن کی فیس پہلے ساجد ادا کرتا تھا لیکن جب سے گھر کے اخراجات میں اضافہ ہوا تھا یہ ذمہ داری عائشہ نے اٹھا لی اور لوگوں کے کپڑے سلائی کرنا شروع کر دیے

######

حمید اور ساجد ہوٹل کے باہر لگے پھٹے پر بیٹھے
کیا ناشتہ کرو گے ساجد...بھئی مجھے تو حلوہ پوری دیکھ کر ہی بھوک لگ گئی ہے... حمید نے خوشدلی سے پوچھا
نہیں یار مجھے ابھی بھوک نہیں ہے.... میں بس چائے پیو گا.... بھوک تو ساجد  کو بھی لگی تھی لیکن اس وقت اُس کی جیب میں صرف 100 سو روپے تھے اور ابھی رکشے میں پیٹرول بھی ڈلوانا تھا....اسی لیے اس نے صرف چائے ہی منگوائی...
ارے چھوٹو.... دو حلوہ پوری اور ساتھ دو چائے لے آؤ..... حمید نے بیرے کو آواز لگائی
اب بتاؤ ساجد کیا بات کرنی تھی؟
حمید میں جس گھر کی بچیاں کالج لے کر جاتا تھا انہوں نے کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے اور مجھے فارغ کروا دیا ہے.... اب اگر تمہاری نظر میں کوئی گھر ہو جسے رکشے والے کی
ضرورت ہو تو مجھے لگوا دینا.... تاکہ کرائے کی فکر تو کم ہوجائے...ساجد نے سر جھکائے کہا.....
بہت افسوس ہوا یار ویسے.... ایک سال سے لے کر جا رہے تھے تم بچیوں کو...تمہارے حالات سے بھی واقف تھے وہ لوگ پھر بھی ایسا کیا....حمید نے ساجد کے جھکے سر کو دیکھا...محنت اور مشقت نے اسے عمر سے زیادہ بڑا بنا دیا تھا.... ورنہ کہاں وہ پہلے والا خوبصورت اور دلکش ساجد جس پر ہر ایک کی نظر ٹھہر جاتی تھی..... اور کہاں یہ وقت اور حالات سے ہارا ہوا شخص....
ساجد خاموش نا جانے کن سوچوں میں گم تھا...
اچھا تم پریشان نہ ہو... میں دیکھتا ہوں اگر کسی گھر کو ضرورت ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤ گا.... باقی اللہ مالک ہے وہ کوئی نا کوئی سبب ضرور بنا دے گا... حمید نے ساجد کو تسلی دینا چاہی جس پر ساجد نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا..
یہ لیں بھائی صاحب آپ کی چائے اور پوریاں..بیرے نے ان کے پھٹے پر ناشتہ رکھ دیا
ساجد نے جیب سے 100 سو روپے کا نوٹ نکال کر بیرے کی جانب بڑھایا
ارے ساجد یار تم کیوں پیسے دے رہے ہو میں دے دیتا ہوں پیسے.... حمید نے فوراً پیسے نکال کر بیرے کو پکڑائے.....
اب میں اچھا لگوں گا تم سے چائے کے پیسے لیتا.... حمید نے مذاق میں بات اڑائی
ساجد نے اپنا کپ اٹھایا اور پھیکا سا مسکرا دیا
######

گڈ مارننگ ٹیچر ہیو آ نائس ڈے... ٹیچر فرینہ کے کلاس میں آتے ہی سب بچوں نے بلند آواز میں کہا
گڈ مارننگ سٹوڈینٹس...سٹ ڈاؤن....مس فرینہ نے خوشدلی سے جواب دیا
سب بچے اپنی اپنی اسلامیات کی کتاب نکالیں....
ہانیہ اپنی جگہ پر بیٹھی اور بیگ سے اسلامیات کی کتاب نکالنے لگی....
جی تو سب بچوں نے اپنی اپنی کتابیں نکال لی ہیں ؟مس فرینہ نے سوال کیا
یس ٹیچر.....بچوں کی بلند آواز کلاس روم میں گونجی
ہائے اللہ کہاں رکھ دی ہے میں نے کتاب... مل کیوں نہیں رہی... میں نے تو یاد سے رکھی تھی کل.... ہانیہ کو کتاب نہیں مل رہی تھی اور یہ اُس کا سب سے زیادہ favorite subject تھا
اللہ اب میں کیا کروں ؟مس کو پتا چلا کہ میرے پاس کتاب نہیں ہے تو وہ ماریں گی سب کے سامنے.... ہانیہ پریشانی میں بڑبڑائی
ہانیہ........مس فرینہ کی گرج دار آواز پر ہانیہ اپنی جگہ پر سہم گئی
حج... جی... جی مس.....وہ ہکلاتے ہوئے بولی
Where is your book?
مس فرینہ نے سختی سے پوچھا
وہ... مس میں نا گھ...گھر میں پڑھ رہی تھی پھر میں نے بیگ میں بھی رکھی تھی.... لیکن پھر پتا نہیں کہاں چلی گئی... ہانیہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا
اوووہ... تو آپ کا مطلب ہے کہ کتاب کو پاؤں لگ گئے اور وہ خود چل کر بیگ سے باہر نکل گئی.....مس فرینہ نے ہانیہ کو ڈھیٹ کرتے ہوئے کہا
سب بچے ہنسنے لگے
خاموش ہو جائیں سب بچے.... مس فرینہ کی آواز پر سب بچے خاموش ہوگئے
ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے.... اس نے تو یاد سے رکھی تھی کتاب پھر کہاں چلی گئی؟
اب یہاں کھڑی ہو کر آنسو مت بہانا.... اپنی ساتھ والی لڑکی کی کتاب سے پڑھو اور پورے پیریڈ میں تم کھڑی رہو گی..... مس فرینہ اپنا حکم صادر کرتی سب بچوں کو سبق پڑھانے لگی....
ہانیہ کے آنسو اس کے چہرے پر گرنے لگے
#

سبزی والے کی دکان پر رش لگا ہوا تھا.... صبح کے 11 بج رہے تھے....کوئی سبزی کا ریٹ کم کروانے میں لگا تھا تو کوئی سبزی لے کر جا رہا تھا....
بھائی صاحب گوبھی اور آلو کتنے کے کلو ہیں ؟ عائشہ نے سبزی والے سے پوچھا جو کسی اور کی سبزی تولنے میں مصروف تھا..
باجی آلو 40 روپے کلو اور گوبھی 60 روپے کلو.......سبزی والے نے شاپر میں سبزی ڈالتے ہوئے کہا اور آدمی سے پیسے لینے لگا
بھائی کچھ تو کم کریں...بہت زیادہ مہنگی لگا رہے ہے آپ سبزی......دوسری دکانوں پر تو 50 روپے کی گوبھی دے رہے ہیں.... عائشہ نے دکان پر پڑی باقی سبزیاں دیکھتے ہوئے کہا.
باجی ہماری سبزی خراب نہیں ہوتی....اور گوبھی تو منڈی میں بھی بہت مہنگی مل رہی ہے.... آپ کو جہاں سے 50 کی ملتی ہے آپ لے لیں....سبزی والا چڑ کر بولا
عائشہ نے اپنے پرس میں موجود پیسے دیکھے جہاں سو سو روپے کے دو اور دس دس کے تین نوٹ پڑے تھے....
اچھا آپ ایسا کریں آدھا کلو آلو دے دیں اور ایک کلو گوبھی....عائشہ نے پرس سے 100 روپے کا نوٹ نکال کر سبزی والے کو تھمایا....اور چادر درست کرنے لگی
یہ لیں باجی آپ کی سبزی...ایک کلو سے اوپر ہی ہے گوبھی...سبزی والے نے شاپر آگے کیا.عائشہ نے سبزی والا شوپر اور بقیا پیسے ہاتھ میں تھامے اور کریانے کی دکان کی جانب قدم بڑھا دیے
#######
ارے ساجد تم یہاں....
ساجد سڑک کنارے رکشے میں بیٹھا سواریوں کے انتظار میں تھا جب کسی نے اُس کا نام پکارا.... ساجد نے آواز کی سمت مڑ کر دیکھا تو وہاں حمید کا بھائی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کھڑا تھا
؟اسلام علیکم..کیسے ہو جمیل ؟... ساجد نے جمیل اور اُس کی بیوی کو سلام کیا.....اُس نے نخوت سے سلام کا جواب دیا اور اپنے بچوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی
ہاں یار میں ٹھیک ہوں...تم بتاؤ؟
اللہ کا شکر ہے....ساجد نے نرمی سے جواب دیا
تم یہاں خیریت سے آئے؟ساجد نے سوالیہ نظروں سے جمیل کو دیکھا
جمیل ایک مال دار شخص تھا... بڑا گھر,گاڑی غرض دنیا کی ہر نعمت موجود تھی..جب بھی سفر کرنا ہوتا گاڑیوں پر ہوتا اور آج جمیل کو سڑک کنارے کھڑا دیکھ کر ساجد کو حیرانی ہوئی تھی ..
ہاں دراصل صائمہ(جمیل کی بیوی)نے اپنے بھائی کی طرف جانا تھا اور گاڑی خراب ہوگئی  بس اسی لئے میں رکشے کا انتظار کر رہا تھا....چلو اچھا ہوگیا تم نظر آگئے اب تم ہی چھوڑ آؤ ان لوگوں کو...جمیل نے بیوی بچوں کی جانب دیکھا....صائمہ نے جمیل کو گھورا کیونکہ اسے خراب حالت کے رکشے میں بیٹھنا اپنی توہین لگی
 کیوں نہیں میں چھوڑ آتا ہوں بھابھی اور بچوں کو کہاں ہے بھائی کا گھر....ساجد نے حامی بھرتے ہوئے پوچھا.....آج صبح سے اُسے کوئی سواری نہیں ملی تھی
لکشمی چوک والی سائیڈ پر ہے... باقی صائمہ سمجھا دے گی آگے کہاں جانا ہے تم یہ بتاؤ کہ کرایہ کتنا لو گے؟جمیل نے صائمہ کے اشاروں کو نظر انداز کیا
کرایہ جو بنتا ہے وہ دے دینا.... ساجد مسکرایا اور سر جھکا دیا
نہیں یار تم بتا دو پھر ہی میں بچوں کو بٹھاتا ہوں.... جمیل نے ساجد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
200 روپے دے دینا.... ساجد نے جھکا سر اٹھاتے ہوئے کہا
چلو ٹھیک ہے.... صائمہ اور بچوں آؤ بیٹھو رکشے میں....یہ انکل آپ کو چھوڑ آتے ہیں...جمیل بچوں کی جانب مڑا
لیکن پاپا ان کا رکشہ کتنا گندا لگ رہا ہے میں نہیں جاؤں گی اس میں....جمیل کی چھوٹی بیٹی نے برا سا منہ بنایا
کچھ نہیں ہوتا بیٹا آؤ بیٹھ جاؤ اور کوئی رکشہ نہیں مل رہا ابھی چلو آؤ شاباش بیٹھو..صائمہ اور بچے منہ بناتے رکشے میں بیٹھ گئے
اچھا ساجد میں چلتا ہو دھیان سے لے کر جانا انہیں ....جمیل نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ساجد نے اثبات میں سر ہلا دیا
اور صائمہ مجھے فون کرنا گھر پہنچ کر اللہ حافظ
ساجد نے اپنی سیٹ سمبھالی اور منزل کی جانب چل دیا
######
تم نے نکالی تھی نا میری اسلامیات کی بک (کتاب) میرے بیگ سے؟ہانیہ نے سکول سے گھر آتے ہی حارث سے سوال کیا....جو اپنے سکول شوز اتارنے میں مصروف تھا
نہیں تو میں کیوں نکالوں گا تمہاری بک..... حارث نے اپنی ہنسی دبائی اور جرابیں اتارنے لگا
سچ سچ بتا دو حارث...ہانیہ نے کمر پر ہاتھ رکھے لڑاکا عورتوں کی طرح گھورا
مجھے کیا پتا میں کیوں نکالوں گا.... حارث نے کندھے اچکائے
مجھے پتا ہے تم نے ہی نکالی ہوگی تمہاری وجہ سے میں پورے پیریڈ میں کھڑی رہی... آج سے پہلے مجھے کبھی ڈانٹ نہیں پڑی ٹیچر نے سب بچوں کے سامنے مجھے ڈانٹا بھی....ہانیہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی اُسے اپنی صبح والی بےعزتی یاد آگئی
سوری ہانیہ آپی میں نے ہی نکالی تھی..میں پڑھ رہا تھا پھر مجھے یاد ہی نہیں رہا واپس رکھنا..... وہ ہانیہ کی معصوم شکل دیکھتے ہوئے بولا جو کہ صرف دیکھنے میں ہی معصوم تھی
کیااااا.........
کتنی مرتبہ کہاں ہے تم سے میری کتابیں مت چھیڑا کرو....تمہاری وجہ سے مجھے آج اُس نالائق لڑکی کی بک سے پڑھنا پڑھا.. کیوں نکالی تھی تم نے میری کتاب.....ہانیہ نے حارث کے بال ہاتھوں میں دبوچتے ہوئے کہا
آہ.......ماما دیکھیں یہ چڑیل میرے بال کھینچ رہی ہے...آہ....چھوڑو مجھے... مامااااا.....حارث نے عائشہ کو آواز لگائی جو کچن میں روٹیاں پکا رہی تھی
آئندہ پکڑو گے میری کتاب....ہانیہ نے حارث کے بالوں پر اپنی گرفت اور مظبوط کر دی
ہاں ہاں پکڑو گا بلکہ اب تو پھاڑوں گا بھی تمہاری کتاب...حارث نے ڈھٹائی سے کہا اور ہانیہ کی گرفت سے خود کو چھڑوانے میں لگ گیا.... حارث کو غصہ آیا کہ اُس نے کیوں سچ بتایا تھا... مکر ہی جاتا تو اچھا تھا
میں بتاتی ہوں تمہیں...پھاڑ کر دکھانا تم میری کتاب پھر دیکھنا کیا حشر کرتی ہوں میں تمہارا.... ہانیہ نے ایک ہاتھ سے حارث کی بازو دبوچی
ماما........ اب کی بار حارث کی آواز قدرے بلند تھی...
ماما ہانیہ اور حارث دونوں لڑ رہے ہیں اندر... مریم جو ابھی ابھی کمرے کا نظارہ دیکھ کر آرہی تھی عائشہ کو بتایا
یا اللہ خیر.... ان دونوں نے تو میری زندگی عذاب بنا دی ہے... مریم تم ادھر آؤ یہ روٹی سینکو میں ان دونوں کو دیکھ لوں زرا.....
عائشہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ہانیہ اور حارث دونوں ایک دوسرے کو مارنے میں مصروف تھے....
ہانیہ.....چھوڑو حارث کو..... عائشہ نے ہانیہ کے ہاتھوں سے بال چھڑوائے....حارث رونے میں مصروف ہوگیا
کیوں چھوڑوں اس کو میں...پوچھیں اس سے کیوں نکالی تھی اس نے میری کتاب.... ہانیہ ایک بار پھر حارث پر جھپٹی....لیکن اب کی بار عائشہ نے ہانیہ کو تھپر لگا دیا
شرم نہیں آتی تم دونوں کو جب دیکھو لڑتے رہتے ہو کبھی کھانے پر لڑتے ہو کبھی سونے سے لڑتے ہو... عائشہ نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا
آپ کو ہمیشہ میری غلطی ہی نظر آتی ہے... میں ہی بری لگتی ہوں سب کو... حارث کی وجہ سے آج کتنی انسلٹ ہوئی میری سارے بچے ہنس رہے تھے مجھ پر..... تھپر بھی آپ نے مجھے ہی مارا ہے.... اور.... اسے کچھ بھی نہیں کہا.... ہانیہ نے روتے ہوئے کہا
اسے تم نے جو اتنا مار دیا ہے کیا یہ کافی نہیں ہے... ایک بک ہی نکالی تھی نا اس نے کونسی جان نکال لی تھی....تمیز تو تمہیں بالکل بھی نہیں ہے....عائشہ نے حارث کے چہرے کو دیکھا جہاں ناخنوں کے نشان پڑ گئے تھے
مجھے تو لگتا ہے آپ نے مجھے اٹھایا ہوا ہے کہیں سے...ہمیشہ مجھے ہی مارتی ہے مجھے ہی ڈانتی ہے بس.... ہانیہ نے غصے سے حارث کی طرف دیکھا...حارث نے اپنی زبان باہر نکال کر اسے چڑانا چاہا
وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ عائشہ پریشان سی کچن کی جانب چل دی
جاری ہے...
###آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_5

ساجد بھائی بس یہی اُتار دیں آگے ہم خود چلے جائیں گے.... صائمہ نے رکشہ رُوکنا چاہا
نہیں بھابھی میں چھوڑ آتا ہوں آگے تک... ابھی ویسے بھی گھر کافی دور ہے.... ساجد رکشہ چلاتے ہوئے بولا
نہیں نہیں آپ بس یہی اتار دیں ہمیں...میرے گھر والے دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے کہ کتنے خراب رکشے میں آئی ہوں میں... ہم چلے جائیں گے آگے خود ہی آپ بس روک دیں رکشہ....صائمہ نے الفاظوں کا بے دردی سے استعمال کیا..
صائمہ کو رکشے میں بیٹھنا اپنی توہین کے مترادف لگ رہا تھا
لیکن اس رکشے کی کمائی سے ساجد کے بچوں کا پیٹ بھرتا تھا...سارا سارا دن وہ سڑکوں پر سواری کی تلاش میں خوار ہوتا پھرتا.... اکثر لوگ اچھے رکشے کی تلاش میں اُس کے خراب حالت کے رکشے کو نظر انداز کر دیتے اور وہ سارا دن دعا کرتا رہتا کہ کوئی سواری مل جائے جس سے گھر کا سرکل چلتا رہے....
جی اچھا بھابھی.... ساجد نے خاموشی سے رکشہ روک دیا
چلو بچوں اترو نیچے...دھیان سے اُترنا...صائمہ نے بچوں کو ہدایت دی اور خود بھی رکشے سے نیچے اتر کر چل دی
کرایہ.....ساجد کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے اور صائمہ کرائے سے بے خبر اپنے بچوں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوگئی
ساجد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی....دل کیا رب سے شکوہ کرے.. روئے گڑگڑائے.....سارا ضبط توڑ دے....ابھی تو خوش ہوا تھا کہ کوئی سواری تو ملی اور سواری بنا کرائے دیے ہی چل دی......اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی...بے دردی سے آنکھوں کو مسلا کہ کوئ آنسو باہر نہ آجائے.... رکشے میں بیٹھا اور اگلی سواری کا انتظار کرنے لگا

######

ہانیہ میری بچی کھا لو نا کھانا کیوں تنگ کر رہی ہو ماما کو.....دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا تم نے اب رات ہونے کو ہے کھانے سے ناراضگی نہیں رکھتے...عائشہ جو کب سے ہانیہ کو پیار سے سمجھا رہی تھی ایک بار پھر کوشش کی
ہانیہ نے دوپہر کی مار کی وجہ سے ناراض ہوکر کھانا نہیں کھایا تھا...تب تو عائشہ خاموش رہی کہ جب بھوک لگے گی تو خود ہی کھا لے گی لیکن اب رات کے 8 بج رہے تھے اور ہانیہ نے ایک نوالا بھی نہیں کھایا...ماں کے دل کو کچھ ہوا تھا....اپنی اولاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے..
مجھے نہیں کھانا.. آپ حارث کو کھلائیں وہی آپ کا بیٹا ہے...ہانیہ نے منہ موڑتے ہوئے کہا.... ایک پل کو دل کیا کہ ساری ناراضگی بھول جائے اور کھانے پر ٹوٹ پڑے.... لیکن نہیں وہ ہانیہ ہی کیا جو آسانی سے مان جائے...آخر حارث کو بھی تو مار پڑوانی تھی نا
دیکھو ہانیہ تمہاری بھی تو غلطی تھی کتنا مارا تھا تم نے حارث کو....ابھی بھی اس کے منہ پر ناخنوں کے نشان نظر آرہے ہیں دیکھو زرا اس کی شکل..... عائشہ نے حارث کے چہرے کی طرف اشارہ کیا جو دور بیٹھا ہنس رہا تھا
اور اُس نے جو میری بک بنا پوچھے نکالی...اُس کی وجہ سے  ڈانٹ پڑی مجھے اتنی وہ نہیں نظر آئی آپ کو.... ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
اچھا نا ماما سوری بول رہی ہے اب تو کھا لو کھانا...عائشہ نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے کہا
ایک شرط پر مانوں گی...
کیسی شرط ؟
پہلے آپ حارث کو بھی تھپر ماریں جتنی زور سے آپ نے مجھے مارا تھا...ہانیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
اچھا ٹھیک ہے ادھر آؤ حارث....عائشہ نے حارث کو آواز دی اور ساتھ ہی آنکھ ماری
حارث اپنی ہنسی دباتا معصوم سی شکل بنا کر آیا
ہانیہ مزے سے دیکھ رہی تھی
آہ.....عائشہ نے حارث کی کمر پر ہلکا سا تھپر مارا اور حارث ڈرامائی انداز میں رونے لگا
مجھے پتا ہے یہ ڈرامہ کر رہا ہے... اتنا ہلکا مارا ہے آپ نے اسے.... ہانیہ کو پھر شکایت ہوئی
عائشہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے جو اتنی گندی اولاد پیدا کی
ماما چھوڑیں اسے...اِس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے...نہیں کھانا نہ کھائے.... بدتمیز لڑکی....مریم جو کتابوں میں سر دے کر بیٹھی تھی اب کی بار مداخلت کی
مریم آپی تم چپ رہو.....کھارہی ہو میں کھانا صرف مما کے کہنے پر ورنہ میں پاپا کو بتاتی کے کیسے سارے ظلم کرتے ہیں مجھ پر.... ہانیہ نے دہائی دی .....اُس سے بھوک برداشت کرنا اب مشکل ہوگیا تھا
ہاں جیسے پاپا نے فوراً تمہاری بات مان لینی تھی انہیں بھی پتا ہے کتنی لڑاکی ہو تم...حارث نے مذاق اڑایا
مما....... ہانیہ نے بیچارگی سے عائشہ کی طرف دیکھا
مریم اور حارث اب بس کر جاؤ تم دونوں....
چلو میرا بچہ یہ لو کھانا کھاؤ...عائشہ نے نوالہ بنا کر ہانیہ کے منہ میں ڈالا
صرف آپ کے کہنے پر کھا رہی ہوں...ہانیہ نے پھر یاد کروایا اور کھانے میں مصروف ہوگئی
پاگل لڑکی.... عائشہ نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی اور ہانیہ کو کھانا کھلانے لگی
حارث اور مریم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل کمرے میں قہقہوں کی آواز بلند ہوئی جس میں ہانیہ اور عائشہ بھی شامل تھیں
#######
ساجد مجھ سے نہیں ہوتا اب 400 روپے میں گزارا......دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے پورے پورے مہینے کا اکٹھا راشن ڈلوا لیتے ہیں...اور ایک میں ہوں ہر روز پیسوں کے حساب سے چلنا پڑتا ہے..کلو آٹا, پاؤ گھی نمک مرچ سب کچھ تھوڑا تھوڑا لانا پڑتا ہے....عائشہ نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا
میں کیا کر سکتا ہوں عائشہ سارا دن سڑکوں پر خوار ہوتا...تم لوگوں کی خاطر ہی ہوتا ہوں نا... مجھے بھی شوق ہے میرے بچے اچھا کھائیں اچھا پہنیں کبھی کسی کے محتاج نہ ہو.... لیکن جب قسمت میں ہی یہ سب لکھا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں..... ساجد نے روٹی کا لقمہ منہ میں ڈالا
آپ تو تین چار سو پکڑا کر چلے جاتے ہیں کام پر...مجھے پتا ہے میں کیسے گزارا کرتی ہوں... بچے سبزی کو پسند نہیں کرتے..کسی ایک کی فرمائش پوری کروں تو دوسرے کا منہ بن جاتا...عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
میں کیا کروں عائشہ مجھے یہ بتا دو کوئی ایسا دم کوئی وظیفہ جس سے سواریاں میرے رکشے میں بیٹھیں....شکر کروں کہ 400 دے دیے ہیں یہ بھی دو سواریاں ملی تھی رات کو.....ورنہ تو آج خالی ہاتھ ہی آنا تھا میں نے گھر.... ساجد نے پانی کا گھونٹ بھرا
پڑھ لکھ جاتے تو آج کوئی اچھی نوکری کر رہے ہوتے... یوں میرے بچے اور میں افلاسی کی زندگی نہ بسر کرتے.... عائشہ نے ڈوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کیے
ہاں پڑھ لکھ جاتا تو تم جیسی عورت سے شادی نہ کرتا کبھی ..جسے شوہر کے حالات کا زرا بھی خیال نہ ہو.....تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں سارا دن آرام کرتا پھرتا ہوں؟...ایک پل بھی سکون کا نہیں گزرتا میرا ہر وقت تم لوگوں کی طرف دھیان لگا رہتا ہے....ساجد کا دل چاہا اپنا سر پھاڑ لے
قسمت تو میری خراب ہے جو میری امی نے تمہارے ساتھ بیاہ دیا مجھے... نہ گھر بار دیکھا نہ کاروبار... عائشہ نے کھانے کے برتنوں پر غصہ اتارنا چاہا
ہاں تو میں کونسا مرا جا رہا تھا تمہارے لیے.....
ماما پاپا بس کر دیں آپ دونوں کب سے لڑ رہے ہیں... نیند خراب کردی ہے.....ہانیہ اور حارث بھی جاگ جائیں گے اگر آپ لوگوں نے لڑنا بند نہ کیا.....مریم نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا
اچھا مریم بیٹا آپ سو جاؤ جا کر اب نہیں آئے گی ہماری آواز... ساجد نے پیار سے مریم کو سمجھایا
پاپا.... کیوں لڑتے ہیں آپ دونوں...ہر دوسرے دن آپ لوگوں کی لڑائی ہوتی ہے مجھے اچھا نہیں لگتا.... مریم ساجد کے پاس چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی اور ایک نظر خاموش آنسو بہاتی عائشہ کو دیکھا
اچھا میرا بچہ اب نہیں لڑتے ہم....ساجد نے مریم کے سر پر ہاتھ پھیرا
ماما یہاں آئیں.... مریم نے عائشہ کو پکارا جو غصے میں بھری بیٹھی تھی
ادھر آئیں نا ماما....اب کی بار مریم نے عائشہ کو بازو سے کھینچ کر ساجد کے ساتھ بٹھایا
چھوڑو مریم...مجھے نہیں بیٹھنا اس شخص کے ساتھ.... عائشہ نے منہ موڑ لیا
یہ کوئی شخص نہیں پاپا ہے میرے...اور پاپا آپ چلیں سوری کرے ماما کو جلدی...
ساجد نے پیار بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھا
پاپا....سوری کریں نا.... مریم نے ساجد کی بازو سے جھنجھوڑا
اچھا میری ماں...یہ لو بھئی سوری..... ساجد نے کانوں کو پکڑتے ہوئے کہا
عائشہ نے ایک نظر ساجد کو دیکھا
چلیں ماما اب آپ دل بڑا کریں اور معاف کر دیں پاپا کو... مریم نے پریشانی سے ماں کو دیکھا جس کی رو رو کر آنکھیں لال ہوچکی تھی
ماما......
اچھا نا مریم میں نہیں ناراض تمہارے پاپا سے.. اب تم جاؤ جا کر سو جاؤ کمرے میں عائشہ نے سنجیدگی سے کہا
آپ دونوں پیسوں کی وجہ سے لڑتے ہیں نا... میں پڑھ جاؤ گی نا تو کوئی اچھی سی جاب کروں گی پھر کبھی آپ دونوں کی لڑائی نہیں ہوگی..  مریم نے ماں کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا
اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے اور تمہیں ایسی آزمائشوں سے دور رکھے... عائشہ نے بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا
آمین....ساجد ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا
جاری ہے
######
اگلی قسط کل رات انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_6

صائمہ..... جمیل نے بیڈ پر بیٹھی صائمہ کو پکارا جو ہاتھوں پر لوشن لگانے میں مصروف تھی
صائمہ میں تم سے بات کر رہا ہوں.... جمیل کی آواز بلند ہوئی
ہاں ہاں سن رہی ہوں میں کان بند نہیں میرے.... صائمہ نے پاؤں پر لوشن لگانا شروع کیا
تم نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا تھا....جمیل صوفے پر لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا
کونسا میسج.... اُس نے جمیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
یار کل جب تم لوگوں کو رکشے پر بیٹھا کر آیا تھا تو مجھے یاد نہیں رہا تمہیں کرایہ کا کہنا.... اسی لئے میں نے پھر میسج کر دیا کہ 200 روپے کرایہ دے دینا.... جمیل کی انگلیاں کی بورڈ پر چلاتے ہوئے کہا
اوہ نہیں میں نے میسج نہیں دیکھا تمہارا...مجھے لگا تم نے کرایہ دے دیا ہوگا خود ہی.... صائمہ نے لاپرواہی سے کہا
کیااااا....تم ایک مرتبہ میسج تو پڑھ لیتی یا کم از کم ساجد سے ہی پوچھ لیتی.... حد کرتی ہو تم بھی... جمیل کو صائمہ سے اس قدر بے وقوفی کی امید نہیں تھی
ہاں تو نہیں پڑھا میں نے میسج تم کال کر دیتے... اور ویسے بھی خراب سے رکشے میں بیٹھا دیا مجھے اور میرے بچوں کو... وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے پہلے ہی رکوا لیا رکشہ نہیں تو کتنی انسلٹ ہوتی میری...صائمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اور لوشن ڈریسنگ ٹیبل پر رکھنے کیلئے اٹھی
شرم آنی چاہئے تمہیں صائمہ... جس رکشے کو تم خرا ب کہہ رہی ہو اُس کی کمائی پر ساجد کے بچے پلتے ہیں.....جمیل اافسوس میں سر ہلاتا بولا
ہاں ہاں میں ہی شرم کروں تم جو اُس دو ٹکے کے آدمی کی وجہ سے مجھ سے ایسے بات کر رہے ہو اُس کا کیا....میں تو ویسے بھی تمہیں زہر لگتی ہوں.....صائمہ کو موقع مل گیا تھا کل کی بات پر لڑنے کا
اب تم خوامخواہ بات کو بڑھا رہی ہو... اور وہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے کم از کم آج تک کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے... چاہے جیسے مرضی حالات دیکھے ہو لیکن کبھی اُس کی زبان سے شکوہ نہیں سنا میں نے...جمیل کو برا لگا تھا صائمہ کا اس طرح سے بات کرنا
تو مانگ لیا کرے تم سے پھیلا لیا کرے تمہارے آگے ہاتھ... صائمہ کسی بھی قسم کا لحاظ رکھے بغیر بولی
پیسے پر اتنا غرور مت کرو صائمہ پیسہ آنی جانی چیز ہے...اللہ جب چاہے تم سے چھین سکتا ہے اور مت بھولو جس پیسے پر تم عیاشی کرتی پھرتی ہو یہ اللہ کا ہی دیا ہوا ہے...اور اللہ ایک ایک پیسے کا حساب لے گا تم سے...جمیل نے صائمہ کو سمجھانا چاہا
تم ایک کام کرنا پھر کل سے پھٹے پرانے کپڑے پہن کر رکشہ چلانا شروع کر دو تاکہ تم سے حساب نہ ہو پیسوں کا یا اپنے نام کا دربار بنا لو ایک جہاں سارے غریبوں کا پیٹ بھرنا بیٹھ کر...صائمہ جمیل کی بات کا مذاق بناتے ہوئے بولی
تمہیں سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہے اللہ ہی ہدایت دے تمہیں....جمیل کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
اور ہاں جب میں مر جاؤں گا نا تو بنا لینا میرے نام کا دربار.....وہ غصے سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا

#######

ہانیہ.....یار دیکھنا کس کا فون آرہا ہے کب سے بج رہا ہے فون تمہارے کانوں کو آواز نہیں آرہی....مریم جو صحن میں برتن دھو رہی تھی کمرے میں ٹی وی دیکھتی ہانیہ کو آواز لگائی
مجھے نہیں پتا خود ہی دیکھ لو آکر میرے ڈرامے کا سین مس ہوجائے گا... ہانیہ نے لاپرواہی سے کہا اور پھر سے ڈرامے میں مگن ہوگئی
ہانیہ چھوڑ دو ٹی وی کی جان تھوڑی دیر کیلئے اور دیکھ لو کس کا فون ہے.. عائشہ نے کپڑے سلائی کرتے آواز دی
کیا مسئلہ ہے..... اتوار والے دن بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے...سارا ہفتہ سکول جاؤ ٹیوشن جاؤ سپارہ پڑھو... اور اتوار کو بھی ٹی وی نہ دیکھو.... ہانیہ غصے سے اٹھی اور موبائل پر نظر ڈالی جہاں فون آنا بند ہوچکا تھا
بہت بگاڑا ہوا ہے ماما آپ نے اسے... مریم نے افسوس سے کہا اور دھلے  ہوئے برتن اٹھانے لگی
یہ لیں پکڑے فون...غفور انکل کا آرہا ہے.....جب پاپا کا نمبر ہے ان کے پاس تو پھر کیوں کرتے رہتے ہیں یہاں فون..... ہانیہ نے مشین پر بیٹھی عائشہ کے ہاتھ میں فون تھمایا
پتا نہین تمہیں کیا چڑ ہے ان کے فون سے اور یہ جو تمہاری گز بھر کی زبان ہے نا اسے قابو میں رکھا کرو اگر غفور بھائی نے سن لی تو ایک منٹ میں ہمیں یہاں سے نکال دیں گے..... عائشہ نے ہانیہ کی بداخلاقی سے تنگ آکر کہا
ساری برائیاں تو مجھ میں ہی نظر آتی ہیں اور یہ جو ہر روز منہ اٹھا کر فون کر لیتے ہیں ان کا پتا نہیں.... ہانیہ آہستہ آواز میں بڑبڑائی اور دوبارہ ٹی وی کے سامنے جا کر بیٹھ گئی

######

اسد مجھے عائشہ کی طرف لے جاؤ...اسوہ کے گھر رہنے کی وجہ سے کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی میری.....نسیمہ نے اپنے بیٹے کو کہا
مجھے تو حیرانی ہورہی ہے آپ نے اتنے دن کیسے گزار لیے عائشہ خالہ کے بنا...اسوہ کے گھر یاد نہیں آئی آپ کو...اسد نے ماں کو شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا
ہاں تو چھوٹی بہن ہے میری بیٹیوں جیسی ہے میرے لئے.... وہ تو اسوہ نے ضد کی تو اس کی طرف رہنے چلی گئی میں..تم نہیں کرتے کیا اپنی بہنوں سے پیار....نسیمہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کو تہہ لگانے لگی
کرتا ہوں امی...بہنیں ہوتی ہی اتنی پیاری ہیں.... اسد مسکرا کر بولا
اچھا آپ جلدی سے تیار ہوجائیں میں لے جاتا ہوں آپ کو خالہ کی طرف مجھے بھی کافی دن ہوگئے ہیں ان سے ملے ہوئے...اسد بیڈ پر بیٹھا اور کپڑوں کو تہہ لگانے میں مصروف ہوگیا
ارے تم رہنے دو میں کر رہی ہوں نا...نسیمہ نے اسد کو روکنا چاہا
اوہو امی کچھ نہیں ہوتا میں کر لوں گا تو کیا ہوگا... آپ جائیں تیار ہوجائیں میں تب تک کپڑے تہہ کر دیتا ہوں
اچھا میری جان....نسیمہ نے فخر سے اپنے بائیس سالہ بیٹے کو دیکھا جس نے وقت سے پہلے ہی بہت سی زمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی.اُس کے ہونٹوں پر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی
نسیمہ عائشہ کی بڑی بہن تھی...نسیمہ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھی... ایک بیٹی شادی شدہ تھی... عائشہ کو باقی بہنوں کی نسبت نسیمہ سے زیادہ محبت تھی...اُس نے ہر اچھے برے وقت میں عائشہ کا ساتھ دیا...اور نسیمہ کی اولاد بھی عائشہ اور بچوں کا بہت خیال رکھتی..حارث کی پیدائش سے دو مہینے پہلے نسیمہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا.... تب سے نسیمہ کے بڑے دو بیٹوں نے گھر کی ساری زمہ داری اٹھا لی... اسد نے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی اور کام بھی کرتا رہا.... آہستہ آہستہ نسیمہ کے گھر کے حالات بہت بہتر ہوگئے

#######

ٹرن ٹرن.....ٹرن ٹرن.....ایک بار پھر موبائل کی سکرین روشن ہوئی اور اب کی بار عائشہ نے دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا
اسلام علیکم غفور بھائی... عائشہ نے سلام میں پہل کی
وعلیکم اسلام.... دوسری جانب سے ایک بھاری مردانہ آواز آئی
میں جب بھی فون کرتا کوئی اٹھاتا کیوں نہیں ہے... پرسوں بھی کر رہا تھا فون تب بھی نہیں اٹھایا کسی نے.... غفور کے الفاظ میں شکوہ تھا جو عائشہ کو اچھا نہیں لگا
جی بھائی بس موبائل پاس نہیں ہوتا اور جب تک بچے موبائل پکڑاتے ہیں آپ کا فون بند ہوجاتا ہے... عائشہ نے دھیمے لہجے میں کہا
تو پاس رکھا کریں نا موبائل کبھی بھی کسی کا فون آ سکتا ہے...غفور نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
جج... جی بھائی کیا مطلب.... عائشہ نے نا سمجھی سے پوچھا
ارے کچھ نہیں میں تو بس مذاق کر رہا تھا.... اور ساجد نے کرایہ نہیں بھیجا ابھی تک آج دس تاریخ ہو گئی ہے... غفور کا لہجہ کچھ سخت ہوا
جی بھائی انہوں نے پیسے لینے ہیں کہی سے تو وہ کل ملے گے... آپ کو کل تک کرایہ مل جائے گا.... اللہ حافظ.... عائشہ نے سنجیدگی سے جواب دیا اور رابطہ منقطع کر دیا
جاری ہے....
#########
اگلی قسط کل رات انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_7

ساجد نے فجر کی نماز پڑھ کر جائے نماز اٹھائی.... آج اس نے شیرازی صاحب کی طرف جانا تھا......
ساجد آج شیرازی صاحب سے پیسے لے آئیے گا تاکہ غفور بھائی کو کرایہ دے دیں کل بھی دوپہر میں فون آیا تھا اُن کا کرائے کا پوچھ رہے تھے میں نے کہہ دیا کہ آج مل جائے گا.... عائشہ نے ساجد کو جرسی پکڑاتے ہوئے یاد دہانی کروائی
ہاں مجھے یاد ہے وہاں جانا اور غفور بھائی کو میں نے کل ہی تو بتایا تھا صبح میں کہ میں کرایہ دے دوں گا پھر گھر فون کرنے کی کیا ضرورت تھی..... ساجد کو حیرانی ہوئی تھی
مجھے کیا پتا...عائشہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی اُسے غفور کی بے تکلفی یاد آگئی تھی
اچھا چلو چھوڑو یہ سب... میں انہیں کہہ دوں گا کہ جو بات کرنی ہو مجھے فون کیا کریں گھر پر نہ کیا کریں....ساجد جانے کیلئے کھڑا ہوا
آرام سے بات کیجیے گا کہیں غصہ نہ ہو جائیں... عائشہ پریشانی سے بولی
بھئی اس میں غصے والی کیا بات ہے جب میرا نمبر موجود ہے اُن کے پاس مجھے کال کیا کریں.... ساجد کو اچھا نہیں لگا تھا غفور کا بار بار گھر فون کرنا
غصے والی بات ہو یا نہ ہو ہم کرایہ داروں کو ہمیشہ جھک کر ہی رہنا پڑتا ہے...مالک مکان کا کیا ہے جب دل چاہا ہمیں نکال سکتے ہیں.... عائشہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی... پچھلے سولہ سالوں میں نا جانے کتنے مکان تبدیل کر چکے تھے دونوں...کبھی کرایہ لیٹ ہونے کی وجہ سے نکال دیا جاتا تو کبھی بلاوجہ... عائشہ اب ڈرنے لگی تھی آئے دن مکان بدلنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی
اچھا تم پریشان نہ ہو میں آرام سے ہی بات کروں گا.... ساجد نے عائشہ کو تسلی دی
کل باجی نسیمہ آئی تھی شام میں اسد کے ساتھ... آپ کا انتظار کر رہی تھی لیکن آپ کافی دیر سے گھر آئے اور وہ آپ کے آنے سے پہلے ہی چلی گئی.....عائشہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
آہاں کافی دنوں بعد آئی ہے باجی... چلو کوئی بات نہیں پھر ملاقات ہوجائے گی... اب میں چلتا ہوں تم بچوں کو اٹھاؤ سکول کیلئے... ساجد نے جوتا پہنتے ہوئے کہا
رکیں زرا مجھے آیت الکرسی تو پڑھنے دیں... عائشہ نے جلدی جلدی سر پر ڈوپٹا لیا اور آیت الکرسی پڑھنے لگی
ساجد عائشہ کو دیکھ کر مسکرا دیا
خیر سے جائیے گا اللہ آپ کو اپنے امان میں رکھے اور آپ کے رزق میں اضافہ عطا فرمائے... عائشہ کے لبوں سے دعا نکلی
آمین....اللہ حافظ... ساجد آہستہ آواز میں بولا اور دروازے کی دہلیز پار کر گیا

######

ہانیہ یار اٹھ جاؤ کب سے اٹھا رہی ہوں تمہیں.... مریم نے ہانیہ کے اوپر سے کمبل کھینچنا چاہا جسے ہانیہ نے اور مضبوطی سے پکڑ لیا
مریم آپی بس پانچ منٹ اور پھر اٹھتی ہوں.... ہانیہ کمبل سے ہاتھ باہر نکالتے ہوئے بولی
ہانیہ یار اٹھ جاؤ میں نے جلدی جانا ہے آج سکول ٹیسٹ ہے میرا.... مریم نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی لیکن ہانیہ ڈھٹائی سے لیٹی رہی
ماما.....
خود اٹھائیں اسے آکر.... اگر یہ نہ اٹھی جلدی تو میں اسے چھوڑ کر چلی جاؤں گی......مریم نے اونچی آواز میں دھمکی دی
ہانیہ بیٹا اٹھ جاؤ کیوں تنگ کر رہی ہو.... مریم بھی تو تم دونوں سے پہلے اٹھ جاتی ہے چلو جلدی سے اٹھو اور حارث کو بھی اٹھاؤ.....عائشہ نے کپڑے استری کرتے ہوئے آواز لگائی
اچھا ماما اٹھ گئی ہوں...اور میں بتا رہی ہوں یہ میرا آخری سال ہے سکول میں پیپرز کے بعد میں نے نہیں جانا... ہانیہ نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا
کیوں بھئی سکول کیوں نہیں جانا.... عائشہ نے استری کیے کپڑے تار پر لٹکاتے ہوئے پوچھا
اوہو ماما آپ کو کتنی بار تو بتایا ہے میں نے کہ five کلاس پڑھنے کے بعد میں نے قرآن پاک حفظ کرنا ہے.... ہانیہ نے ہر بار کی کہی بات یاد کروائی اور منہ دھونے لگی
اچھا اچھا پہلے five کلاس تو پڑھ لو پھر دیکھیں گے...عائشہ نے ٹالنا چاہا
ہاہاہاہا اس نے کرنا ہے حفظ...شکل دیکھی ہے اپنی حفظ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے بیٹا پورے تیس سپارے زبانی یاد کرنے پڑتے ہیں.... مریم نے شوز پالش کرتے ہوئے کہا
ہاں تو کر لوگی یاد ویسے بھی میرے ٹیچرز کہتے ہیں میں بہت لائق سٹوڈنٹ ہوں..اور دیکھنا ایک دن میرے نام کے ساتھ بھی حافظہ لگے گا لوگ عزت سے پکاریں گے میرا نام... ہانیہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا
صرف حفظ کرنا ہی کام نہیں ہوتا عمل بھی کرنا پڑتا ہے جو تم سے ہوگا نہیں تو یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو تم.....مریم ہنستے ہوئے بولی
ہاں جیسے تم بڑا نمازیں پڑھتی ہو بس سارا دن گانے سنتی رہتی ہوں...ہانیہ منہ بگاڑتے ہوئے بولی اور ینیفارم پہننے لگی
ہانیہ اور مریم بس کر جاؤ دونوں صبح صبح شروع ہوگئی ہو... عائشہ نے دونوں کو مزید بحث سے روکا
میں نے کچھ نہیں کہا آپی ہی مذاق بنا رہی تھی میرا...ہانیہ نے فوراً اپنی صفائی پیش کی
اچھا چلو بس کرو اب آؤ جلدی میں پونی بناؤ تمہاری...عائشہ کرسی پر بیٹھی اور ہانیہ کی پونی بنانے لگی
حارث جلدی ینیفارم پہنو اور ادھر آؤ بال کنگھی کروں تمہارے بھی... ہانیہ اپنی پونی بنوا کر شوز پالش کرنے لگی
مریم تمہارے پیپرز کب ہیں ؟عائشہ نے شوز پہنتی مریم سے پوچھا
ماما اگلے مہینے ہیں مارچ کے شروع میں ہی.... رولنمبر سلپ بھی کچھ دنوں تک آجائے گی...مریم نے بستہ کندھوں پر ڈالا
اللہ کامیاب کرے میرے بچوں کو.... عائشہ نے دل سے دعا دی

########

شام کے سات بج رہے تھے.ساجد شیرازی صاحب کے گھر کے باہر کھڑا تھا...پچھلے ایک سال کی ساری باتیں زہن میں گھومی... صبح صبح بچیوں کو لے کر جانا دوپہر میں واپس چھوڑنے آنا...اور کیسے ایک منٹ میں ہی ان لوگوں نے فارغ کروا دیا تھا...ساجد نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اور گیٹ کے قریب لگی بیل بجائی
اسلام علیکم کیسے ہو راحیل....ساجد نے شیرازی کے ملازم کو سلام کیا جس نے گیٹ کھولا تھا
وعلیکم اسلام اللہ کا شکر ہے تم کیسے ہو؟
الحمد للہ میں ٹھیک ہوں... مجھے شیرازی صاحب نے بلوایا تھا....کہاں ہے وہ ؟ساجد نے راحیل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ اندر ہی ہیں تم رکو میں انہیں بتاتا ہوں... راحیل کہتا اندر کی جانب چل دیا جبکہ ساجد باہر کھڑا انتظار کرنے لگا
صاحب جی وہ باہر ساجد آیا ہے کہتا ہے کہ آپ نے اسے بلایا تھا... راحیل نے شیرازی کے سامنے گردن جھکاتے ہوئے کہا
ہاں میں نے بلایا تھا یہ کچھ پیسے دینے تھے اسے....شیرازی نے اپنی جیب سے پیسے نکالے
یہ لو اسے دے دو اور کہنا کے اب یہاں مت آئے.... شیرازی نے حکم دیا
جی اچھا... راحیل جھکے سر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا
یہ لو ساجد یہ پیسے دیے ہیں صاحب نے اور کہہ رہے تھے کے اب یہاں مت آنا.... راحیل نے ساجد کے ہاتھ میں ہزار ہزار کے چار نوٹ تھمائے
اللہ حافظ... وہ مسکرا کر کہتا رکشے میں بیٹھا اور رکشہ گھر کی جانب موڑ لیا
ساجد نے کسی خیال کے تحت راستے میں نظر آتی بیکری کے سامنے رکشہ روک دیا
بھائی صاحب ایک پونڈ کا کیک پیک کر دیں.... ساجد نے بیکری پر کھڑے آدمی سے کہا
جی اچھا
کتنے کا ہے ؟
200 روپے کا.... بیکری والے نے کیک کا ڈبہ شاپر میں ڈالا
ساجد نے پیسے دیے اور کیک کا ڈبہ پکڑتا رکشے تک آیا... رکشے کی اگلی طرف کیک کو دھیان سے رکھا اور رکشہ سٹارٹ کر دیا
ساجد کا گزر ایک سنسان گلی سے ہوا.... اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی.....آج کتنے دنوں بعد وہ تھوڑا مطمئن ہوا تھا..وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب بائیک پر سوار دو لڑکے چلتے رکشے کے سامنے اپنی بائیک لے آئے...ساجد نے عجلت میں اپنا رکشہ روکا
کیا بدتمیزی ہے آپ لوگ دیکھ کر نہیں چلا سکتے موٹرسائیکل... ساجد رکشے سے اترا اور غصے سے بولا
دیکھ کر ہی تو چلا رہے تھے بھائی صاحب.... ایک لڑکا خباثت سے مسکرایا
ساجد نے دائیں بائیں دیکھا کوئی شخص موجود نہ تھا... یہ ایک سنسان گلی تھی جہاں سے لوگوں کا گزر بہت کم ہوتا
ساجد نے اُن دونوں سے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا...وہ رکشے کی جانب بڑھا جب ایک لڑکے نے اُس کے سر پر پستول تان دی
یہ...یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ.... ساجد کا دل بہت زور سے دھڑکا...آواز کانپنے لگی تھی... ساجد نے اپنی زندگی میں کبھی کسی شخص سے لڑائی نہ کی تھی...اور اب ایسے حالات اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے
جتنے پیسے ہیں آرام سے نکال دے ورنہ چھ کی چھ گولیاں تیرے سر میں اتار دوں گا....ان میں سے ایک لڑکے نے دھمکی دی جبکہ دوسرا بائیک پر بیٹھا اِدھر اُدھر دیکھنے میں مصروف تھا
لیک....لیکن کیوں.؟دیکھیے میں ایک غریب آدمی ہوں مجھے جانے دیجیے.. میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے....ساجد نے ڈرتے ہوئے کہا... ایک پل میں اس کی آنکھوں کے سامنے عائشہ اور بچوں کا چہرہ آگیا تھا
ارے یار.... یہ ایسے نہیں مانے گا تو ایک کام کر اِس کی تلاشی لے اور یہ پستول مجھے پکڑا.... بائیک پر بیٹھا لڑکا نیچے اترا اور پستول کو ہاتھ میں پکڑ کر ساجد کے سامنے کھڑا ہوگیا جبکہ دوسرا ساجد کی تلاشی لینے لگا
ن... . نہیں.. دیکھیے مجھے جانے دیجیے میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے.. مجھ پر رحم کیجیے... ساجد ان لڑکوں کی منتیں کرنے لگا
ابے چپ...ایک دم چپ.. ایک لفظ بھی زبان سے نکالا تو اچھا نہیں ہوگا... لڑکے نے سختی سے کہا
ساجد نے خوف سے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا جو ہاتھ میں پستول تھامے بے دھڑک کھڑا تھا
ساجد کے الفاظ دم توڑ گئے تھے... آواز جیسے حلق میں بند ہوگئی ہو.... ایک پل کو دل چاہا کہ گولی کھا کر مر جائے.. کم از کم ایسی ذلت بھری زندگی سے چھٹکارا  تو ملے
ساجد آپ کے سہارے ہی تو میں جی رہی ہوں اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو کیا میں زندہ رہ پاؤ گی.....عائشہ کے الفاظ کانوں میں گونجے ساجد نے زور سے آنکھیں میچ لی...
چل یار چار ہزار تو ملا کچھ دن آرام سے گزریں گے اب.....انہوں نے ساجد کو دھکا دیا اور بائیک پر بیٹھتے وہاں سے تیزی سے نکل گئے
ساجد جھٹکے سے زمین پر گرا...گرنے سے اس کے ہاتھ زخمی ہوگئے تھے.... وہ کس سے شکوہ کرتا.. رب سے ؟ اپنی قسمت سے ؟ اپنے نصیب سے ؟آخر کس سے... وہ چیخنا چاہتا تھا چلانا چاہتا تھا رونا چاہتا تھا لیکن اس کی آواز گلے میں دب گئی تھی...درد کی شدت سے اس نے اپنی آنکھیں بند کیں...آنکھ سے ایک آنسو نکل کر زمین پر گرا... ساجد نے آنکھیں کھول کر اپنے زخمی ہاتھوں کو دیکھا.... اُس کی نظریں خالی جیبوں کو طرف گئی جو لٹک رہی تھیں...

کچھ نہیں ہے آج لکھنے کو"
مر گئے ہیں سب الفاظ میرے"

جاری ہے...
######
اگلی قسط کل رات انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_8

ساجد بڑی مشکل سے خود کو سنبھالنا گھر تک پہنچا تھا... وہ اپنے بیوی بچوں کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا...وہ رونا نہیں چاہتا تھا اُن کے سامنے.....کیونکہ وہ مرد تھا..اور وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوا تھا جہاں بچپن سے ہی سکھایا جاتا تھا کہ مرد روتے نہیں ہے...رونا تو عورتوں کا کام ہے
کیوں نہیں روتے مرد؟کیا انہیں تکلیف نہیں ہوتی..؟کیا وہ کسی کرب سے نہیں گزرتے...؟عورت کے رونے سے زیادہ مرد کے ضبط کرنے میں تکلیف چھپی ہوتی ہے کیونکہ رونے سے انسان کا آدھا دکھ کم ہوجاتا ہے...انسان کی تکلیف آنسوؤں کے راستے باہر آجاتی ہے.... جبکہ مرد ضبط کر کے دکھ کو اپنے اندر پناہ دیتا ہے جو اُسے ہر روز اندر ہی اندر سانپ کی طرح ڈستا رہتا ہے
کبھی اُس باپ کا دکھ پوچھو جسے سارا سارا دن اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کی فکر لگی رہتی ہے اور جس وقت وہ گھر داخل ہو اس کی جیب خالی ہو...مرد کے دکھ کا,کرب کا,تکلیف کا اندازہ صرف خود پر گزرنے والا شخص ہی لگا سکتا ہے
عائشہ اور بچوں کا چہرہ دیکھ کہ ساجد کا ضبط ٹوٹ چکا تھا....ہاں وہ مرد ہوکر رو رہا تھا...وہ نہ چیخا تھا نہ چلایا تھا بس بے آواز آنسو بہا رہا تھا...نا جانے کتنے دنوں کا ضبط ٹوٹا تھا آج...
عائشہ کے پاس الفاظ نہیں تھے جس سے وہ ساجد کو تسلی دیتی.... عائشہ کی آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھی...بچے سہم کر ماں باپ کو دیکھ رہے تھے...
اللہ پر بھروسہ رکھیں ساجد وہ سب بہتر کرے گا.... عائشہ نے ٹوٹے دل کے ساتھ ساجد کو تسلی دینا چاہی...اُس کی آنکھ سے آنسو نکل کر گرا تھا
عائشہ وہ....وہ میرے پورے مہینے کی محنت کی کمائی تھی...میں نے اپنی نیندیں قربان کیں تھی... اور وہ لوگ مجھ سے چھین کر لے گئے میں خالی ہاتھ سڑک پر بیٹھا تھا....ساجد نے اپنے خالی ہاتھوں کے جانب دیکھتے ہوئے کہا
عائشہ نے پہلی بار ساجد کو روتے دیکھا تھا... اُس کے سامنے ایک مجبور باپ رو رہا تھا...قسمت سے ہارا ہوا شخص رو رہا تھا...جو اپنے بیوی بچوں کا مضبوط سائبان تھا وہ آج خود کمزور پڑ گیا تھا
وہ کسی امیر آدمی کو لوٹ لیتے...میں نے منتیں بھی کیں تھی ان کی.. انہیں بتایا تھا میں ایک غریب آدمی ہوں....انہوں نے میرا ٹوٹا پرانا رکشہ بھی دیکھا تھا.. پھر بھی میری جیبوں سے پیسے لے گئے....ساجد نے اپنے بہتے آنسو صاف کیے
عائشہ نے بچوں کو دیکھا مریم نے حارث کو سلا دیا تھا...
اچھا آپ روئیں مت... عائشہ نے بھیگے لہجے کیساتھ کہا اور ساجد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چپ کروانا چاہا
ساجد نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر عائشہ کے چہرے کو دیکھا...عائشہ نے بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں پر قفل باندھا تھا.... ساجد نے اپنا چہرہ جھکا لیا
مریم اور ہانیہ آہستہ سے چلتی ساجد تک آئی تھیں...
پاپا آپ مت روئے نا... ہانیہ نے ساجد کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر آنسو صاف کیے
پاپا آپ دیکھنا اللہ تعالی ان لوگوں کو سزا دیں گے کسی کا مال ضبط کرنا بہت بڑا گناہ ہے.. مریم نے سمجھداری سے کہا اور ساجد کے کندھے پر سر ٹکادیا
ساجد کے آنسو تھم چکے تھے...اپنی بیٹیوں کا چہرہ دیکھ کر وہ خود کو خوش نصیب باپ سمجھ رہا تھا...وہ فخر سے اپنی دونوں بیٹیوں کو دیکھ رہا تھا...دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے..انہیں باپ کا رونا  بہت تکلیف پہنچا رہے تھا
عائشہ قریب خاموشی سے بیٹھی تھی
ساجد نے اپنا بھیگا چہرہ صاف کیا اور دونوں بیٹیوں کو اینے سینے سے لگا لیا... عائشہ وہاں سے اٹھی اور وضو کر کے جائے نماز بچھا لی
جائے نماز پر بیٹھتے ہی اُس کا ضبط جواب دے گیا تھا...وہ کسی غیر کے سامنے نہیں اپنے رب کے سامنے رو رہی تھی... شکوہ کرنے کیلئے منہ کھولنا چاہا...لیکن اتنی بڑی ذات...کیسے شکوہ کیا جائے...اُس نے تو کبھی ساری نمازیں بھی نہیں پڑھی تھی...
عائشہ نے اپنا سر سجدے میں رکھ دیا اور آنسوؤں کو بہنے دیا

میں لکھنا چاؤنا واں....کو ئی درد غریباں دا...
جنہاں نال پئے گیا اے...کوئی ویر نصیباں دا...
###########
ایک درد بھری رات گزر چکی تھی...ساجد نے فجر کی نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے...
یا اللہ تو دو جہانوں کا مالک ہے... تو سب کو پالنے والا ہے رزق دینے والا ہے....ساجد کا دل چاہا رب کی تعریفیں بیان کرتا جائے..وہ کتنا مہربان ہے رحم کرنے والا ہے درگزر کرنے والا ہے
انسان جب بھی رب کے سامنے جھکتا ہے گناہوں سے لتھرے وجود کے ساتھ لیکن وہ مالک کبھی رسوا نہیں کرتا...دھتکارتا نہیں ہے... بندے کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے.. اسے پرسکون کر دیتا ہے...
یا اللہ ہماری آزمائشیں ختم کردے... میں تیرا بہت گنہگار بندہ ہوں تیری آزمائشوں پر پورا نہ اتر پاؤ گا..ساجد کے لب کانپنے لگے...اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ڈھیر جمع ہوگیا
مجھ پر رحم کر میرے مولا مجھے میرے بچوں کے نصیب کا رزق دے...ساجد کی آنکھوں کے سامنے کل والی رات آگئی... اس نے دکھ سے اپنی آنکھیں بند کی... آنسو آنکھوں سے نکل کر چہرے کو بھگو رہے تھے... ساجد نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر دائیں جانب دیکھا...جہاں عائشہ سجدے میں گری رب سے مانگنے میں مصروف تھی
ہمیں اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کر....میرے گناہوں کو معاف فرما...آمین
ساجد نے منہ پر ہاتھ پھیرے اور جائے نماز اٹھانے لگا
عائشہ نے بھی نماز پڑھ کر جائے نماز اٹھائی
ساجد آپ غفور بھائی کو کیا کہیں گے؟عائشہ نے ساجد کے ہاتھ سے جائے نماز لیتے ہوئے پریشانی سے پوچھا....
منتیں کر لوں گا ان کی..ہاتھ جوڑ لوں گا ان کے سامنے کچھ دنوں کی محلت مانگ لوں گا ان سے... ساجد آہستہ آواز میں بول رہا تھا
عائشہ نے خاموشی سے ساجد کو جرسی پہنائی
وہ عائشہ کے سامنے کھڑا ہوگیا
عائشہ نے آیت الکرسی پڑھ کر پھونک ماری
خیر سے جائیے گا... عائشہ نے سر جھکا کر کہا
اللہ حافظ.... ساجد خاموشی سے گھر سے چلا گیا
########
اسلام علیکم غفور بھائی...ساجد نے سڑک کنارے رکشے میں بیٹھے غفور کو فون کیا
وعلیکم اسلام....دوسری طرف سے غفور کی آواز آئی
ہاں بھئی تم نے کرایہ نہیں پہنچایا ابھی تک... کل کا کہا تھا اور آج 12 تاریخ ہوگئی ہے... غفور نے سخت لہجے میں کہا
جی غفور بھائی کل کرایہ دے دینا تھا... دراصل مجھے راستے میں لڑکوں نے لوٹ لیا...
دیکھو بھئی اگر کرایہ نہیں دیا جاتا تو گھر خالی کردو...میں ایسے کرائے دار برداشت نہیں کرسکتا جو مجھے لیٹ کرایہ دیں....غفور نے ساجد کی بات درمیان میں کاٹ کر کہا
نہیں غفور بھائی.... میں نے آپ کو کرایہ دے دینا تھا اگر یہ حادثہ پیش نہ آتا...ساجد نے آرام سے جواب دیا
تو اب میں اس میں کیا کر سکتا ہوں... میں نے بھی سو کام کرنے ہوتے ہیں کرائے سے...اور سارے کرائے داروں کی مجبوریاں ہی ختم نہیں ہوتی...غفور بدتمیزی سے بولا
مجھ سے جتنے پیسے ہوسکے میں اگلے مہینے تک دے دوں گا.. باقی ہر مہینے کرائے کے ساتھ لگا کر دیتا رہوں گا..آپ کی بڑی مہربانی ہوگی...ساجد نے آہستہ آواز میں التجا کی
ٹھیک ہے لیکن مجھے اگلے مہینے تک دونوں مہینوں کا کرایہ چاہیے....ورنہ اپنا کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈ لینا... غفور غصے سے کہتا فون بند کر چکا تھا
ساجد نے رکشے میں پڑے کیک کے ڈبے کو دیکھا جو چیونٹیوں کی خوراک بن رہا تھا.. اُس نے ڈبہ اٹھا کر رکشے سے باہر رکھ دیا اور سواری کا انتظار کرنے لگا

#######
جاری ہے
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
اگلی قسط بدھ کی رات انشاءاللہ
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_9

مارچ کا مہینہ شروع ہوچکا تھا...سردی کی شدت میں قدرے کمی آگئی تھی....ساجد اور عائشہ کے سر پر ہر وقت کرائے کی فکر منڈلاتی رہتی...غفور آئے دن فون کر کے کرائے کی یاد دہانی کرواتا...
دوپہر کا وقت تھا...عائشہ کسی کے گھر سلائی کیلئے کپڑے لینے آئی تھی
صوبیہ بیٹا آنٹی کیلئے چائے لے کر آؤ...فائزہ نے اپنی بیٹی کو آواز دی اور خود کمرے میں لگے صوفے پر بیٹھ گئی جہاں عائشہ پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی
نہیں نہیں چائے کی ضرورت نہیں..آپ بس مجھے کپڑے سمجھا دیں جلدی سے..میرے بچے سکول سے آتے ہی ہوگے.... عائشہ نے کمرے میں لگی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو دوپہر کا ایک بجا رہی تھی
چائے سے کیا ہوتا ہے پی کر جانا..اور میری بڑی بیٹی جاب پر گئی ہے وہ آتی ہی ہوگی بس ..کہہ رہی تھی کہ اپنے کپڑے خود سمجھائے گی آکر... فائزہ نے کپڑوں کا شوپر بناتے ہوئے کہا
نہیں باجی میرے بچت سکول سے آگئے  ہوگے میں مزید انتظار نہیں کر سکتی...عائشہ نے دھیمے لہجے میں کہا
اوہوں کچھ نہیں ہوتا تھوڑی دیر بس..اور کپڑے یہ اس شاپر میں ہیں ناپ بھی اس میں موجود ہے... بس اچھے سے کر کے سینا کپڑے..فائزہ نے عائشہ کے سامنے کپڑوں کا شوپر رکھا
جی آپ بے فکر رہیں. انشاءاللہ آپ کو پسند آئیں گے... عائشہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا
ہاں بہن تمہاری بڑی تعریفیں سنی تھی میں نے ساجدہ سے.. اکثر بتاتی تھی کہ تم اس کے کپڑے سیتی ہو...میری درزن دراصل مصروف ہے آجکل.. بس اسی لیے میں نے سوچا تم سے سلوا لوں کپڑے...فوزیہ نے عائشہ کی ہمسائی ساجدہ کا بتایا..جو عائشہ سے کپڑے سلواتی تھی
جی ساجدہ باجی مجھ سے ہی سلواتی ہیں کپڑے...عائشہ نے ایک بار پھر گھڑی پر نظر ڈالی
اسلام علیکم..یہ لیں ماما چائے....صوبیہ نے ٹیبل پر چائے کی ٹرے رکھی اور عائشہ کو سلام کیا
وعلیکم اسلام...عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا
یہ لو عائشہ چائے پیو...
نہیں باجی میں اب چلتی ہوں..آپ ایک کام کیجیے گا اپنی بیٹی کو میرے گھر لے آئیے گا.. عائشہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی
تمہارا تو گھر ہی بہت تنگ گلیوں میں ہے..میری بچی وہاں آنا پسند نہیں کرے گی..فائزہ منہ بگاڑ کر بولی اور عائشہ کو بازو سے پکڑ کر دوبارہ صوفے پر بیٹھا دیا
عائشہ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی
تم مکان کیوں نہیں بدل لیتی...کہوں تو میں کوئی گھر دیکھتی ہوں تمہارے لئے.. فائزہ نے چائے کا کپ عائشہ کو پکڑایا
نہیں باجی مکان بدلنا کوئی آسان کام تھوڑی نا ہے..اور جتنی اچھی جگہ پر مکان ہوگا کرایہ بھی اتنا ہی مہنگا ہوگا..اور ہم تو اس مکان کا کرایہ بھی بہت مشکل سے نکالتے ہیں..عائشہ نے چائے کا گھونٹ بھرا
ہمممم کہتی تو صحیح ہو...فائزہ  نے افسوس سے سر ہلایا
######
مریم آپی ماما کہاں گئی ہے؟
مریم اور ہانیہ گھر کے دروازے کے سامنے کھڑی تھیں جہاں تالا لگا ہوا تھا
پتا نہیں کسی کے گھر گئی ہوگی...مریم نے بیگ سے چابی نکالتے ہوئے کہا
اور یہ چابی کہاں سے آئی تمہارے پاس.؟ہانیہ نے تشویش کرتے ہوئے پوچھا
یار ماما نے مجھے ایک ایکسٹرا چابی پکڑائی ہوئی ہے کہ اگر کبھی وہ گھر نہ ہو تو میں دروازہ کھول لوں....مریم اور ہانیہ دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئی
ہانیہ بیگ بیڈ پر پھینکتی کچن کی جانب چلی گئی
ہانیہ مجھے بھی پلانا پانی... مریم نے شوز اتارتے ہوئے کہا
یہ لو پانی...ہانیہ نے پانی کا گلاس مریم کو پکڑایا
مریم آپی مجھے بہت بھوک لگی ہے پتا نہیں ماما نے کچھ بنایا بھی ہے یا نہیں...ہانیہ شوز سمیت بیڈ پر ڈھیر ہوگئی
ہاں مجھے بھی بھوک لگی ہے سکول میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا....مریم نے پانی پیتے ہوئے کہا
کیوں نہیں کھایا تھا ماما نے پیسے دیے تو تھے...ہانیہ نے آنکھیں سکیڑی
میں پیسے جوڑ رہی ہوں نا اسی لئے...مریم بیڈ پر لیٹ گئی
کیوں...ایک اور سوال
اوہو کتنے سوال کرتی ہو تم ہانیہ..پیسے جوڑنے چاہیے اچھی عادت ہوتی ہے...اور اٹھو شوز اتارو پہلے پھر لیٹنا...مریم نے ہانیہ کو بازو سے کھینچ کر بیڈ سے اتارا
کیا ہے لیٹنے بھی نہیں دے رہی...ہانیہ بیڈ سے اترتے ہوئے بولی
پہلے شوز اتارو اپنے...دیکھ نہیں رہی ماما صفائی کر کے گئی ہے اگر انہیں گند نظر آیا تو ڈانٹے گی.. مریم نے ہانیہ کو ڈانٹا
اچھا نا اتار رہی ہوں...
 مریم آپی میرے بھی پیسے لے لیا کرو...میں بھی جوڑ لوں گی...ہانیہ شوز اتارتے ہوئے بولی
کوئی ضرورت نہیں ہے اپنے پاس ہی رکھو..دو دن پکڑاؤ گی پیسے تیسرے دن مانگ لو گی مجھ سے...مریم نے دو ٹوک انداز میں کہا
میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی نہیں تو نہ صحیح.. میں خود ہی جوڑ لوں گی....ہانیہ منہ بنا کر بولی اور شوز کو پیٹی کے نیچے رکھ دیے
اچھا اب جاؤ باہر گلی میں دیکھو حارث کو..بیگ لے کر پھر رہا ہوگا اِدھر اُدھر...اسے تو بہانہ چاہیے پھرنے کا...مریم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولی
ہانیہ نے ٹی وی لگایا اور ریموٹ پکڑ کر بیٹھ گئی
جاؤ بھی بلا کر لاؤ اسے پھر کھانا کھاتے ہیں...مریم نے سکون سے بیٹھی ہانیہ کو ایک بار پھر آواز لگائی
سارے کام مجھے ہی کہنے ہوتے ہیں ہانیہ منہ میں بڑبڑاتی گلی کی جانب چل دی
##########
بھائی صاحب کھلے پیسے نہیں ہیں آپ کے پاس... ساجد نے ابھی ایک سواری اتاری تھی جس نے پانچ سو روپے کا نوٹ نکالا تھا ساجد کو کرایہ دینے کیلئے
نہیں بھائی میرے پاس تو پانچ سو کا ہی نوٹ ہے.. آپ ایک کام کریں یہ سامنے دکان والا ہے اس سے کھلے پیسے لے لیں... آدمی نے پان والی دکان کی جانب اشارہ کرتے ہائے کہا
ساجد رکشے سے اترا اور دکان کی جانب چل دیا
بھائی پانچ سو روپے کا چینج ملے گا.. ساجد نے دکاندار کو مخاطب کیا
جی..دکاندار نے سو سو روپے کے پانچ نوٹ ساجد کو پکڑائے
ساجد نے پیسے پکڑے اور آدمی کی طرف بڑھا جو رکشے کے قریب کھڑا ساجد کا منتظر تھا
یہ لیں بھائی... ساجد نے بقیا پیسے آدمی کو دیے اور رکشے میں بیٹھ گیا
آج صبح غفور کا فون آیا تھا.. اور وہ کرائے کا کہہ رہا تھا... ساجد نے ابھی تک چند پیسے ہی اکٹھے کیے تھے جو ایک ماہ کا کرایہ بھی نہیں بنا تھا...ساجد دن رات پریشان رہتا...نہ کھانے کی پرواہ تھی نہ آرام سکون کا پتا تھا...بس ہر وقت کرائے کی فکر لاحق رہتی.
ساجد سوچوں کے محور میں گم تھا جب اس کا فون بجا
ساجد نے فون کی اسکرین کی جانب دیکھا جہاں کسی unknown نمبر  سے کال آرہی تھی
اسلام علیکم... دوسری جانب سے چھوٹتے ہی سلام کیا گیا
وعلیکم اسلام.. معزرت میں نے پہچانا نہیں... ساجد نے رکشے سے باہر نکلتے ہوئے کہا
ساجد میں جمیل بات کر رہا ہوں..کیسے ہو تم..جمیل کافی دنوں سے ساجد سے ملاقات کرنا چاہ رہا تھا...آج اس نے حمید سے نمبر لیا تھا ساجد کا
اللہ کا شکر میں ٹھیک ہوں..تم سناؤ کیسے ہو بچے کیسے ہیں...ساجد نے خوشدلی سے جواب دیا
ہاں شکر ہے اللہ کا سب ٹھیک ٹھاک...
میں کافی دنوں سے بات کرنا چاہ رہا تھا..آج میری حمید سے ملاقات ہوئی تو تمہارا نمبر لیا اس سے... ساجد نے وضاحت پیش کی
خیریت تھی..کوئی کام تھا مجھ سے...ساجد نے سوال کیا
ہاں یار سب سے پہلے تو بہت معزرت تمہیں کرایہ نہیں دیا اس دن...دراصل صائمہ کو لگا تھا کہ میں نے دے دیا ہوگا اور مجھے بھی یاد نہیں رہا صائمہ کو کہنا...جمیل کے لہجے میں شرمندگی واضع تھی جو ساجد کو محسوس ہوئی
ارے نہیں یار تم کیوں شرمندہ ہو رہے ہو کچھ نہیں ہوتا..انسان ہیں ہم بھول جاتے ہیں... ساجد نے جمیل کی شرمندگی کم کرنا چاہی
چلو پھر تم کل آنا میری فیکٹری حمید کو بھی بلا لوں گا.. مل کے چائے پانی پیے گے... جمیل مسکراتے ہوئے بولا
ہاں انشاءاللہ چکر لگاؤں گا...ساجد نے حامی بھرتے ہوئے کہا اور رکشے میں بیٹھ گیا
######
ہاں بھئی ماما نظر نہیں آرہی آپ کی...
مریم کچن میں سالن گرم کر رہی تھی جب اسے کسی کی آواز آئی... مریم نے مڑ کر دیکھا تو کچن کے ددروازے میں غفور کھڑا تھا...
اسلام علیکم انکل.. مریم نے جلدی سے ڈوپٹہ لیا
وعلیکم اسلام..غفور نے مریم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
انکل ماما گھر میں نہیں ہے... مریم نے چولہا بند کیا اور کچن سے باہر آگئی
چلو کوئی بات نہیں میں انتظار کر لیتا ہوں... غفور نے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا اور کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا
ہانیہ.... ہانیہ گھر آؤ...
مریم پانی تو پلاؤ زار... مریم جو دروازے میں کھڑی ہانیہ کو بلا رہی تھی غفور کی آواز پر اندر کی جانب آئی
انہیں بھی اس ٹائم ہی آنا تھا.. دیکھ بھی رہے ہیں ماما گھر نہیں ہے پھر بھی بیٹھ گئے ہیں اور اوپر سے ہانیہ پتا نہیں کہاں رہ گئی ہے... مریم نے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے دل میں کہا
یہ لیں انکل...اُس نے پانی کا گلاس غفور کے سامنے کیا
غفور نے گہری نظروں سے مریم کو دیکھا اور پانی کا گلاس تھامتے ہوئے مریم کے ہاتھ کو چھوا
مریم نے گھبراہٹ سے اپنا ہاتھ کھینچنا اور ایک طرف ہو کر کھڑی ہوگئی
اور کونسی کلاس میں ہے آپ... غفور نے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا
جی میں nine کلاس میں ہوں... مریم نے سنجیدگی سے جواب دیا
اسے شروع دن سے ہی غفور کی نظروں سے الجھن ہوتی تھی..لیکن کبھی عائشہ کو بتانے کی ہمت نہیں کی تھی
مریم آپی یہ دیکھ لو حارث تنگ کر رہا ہے..ہانیہ اور حارث جھگڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے
ہانیہ نے ایک ناگوار نظر بیڈ پر بیٹھے غفور پڑ ڈالی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سلام کیا
اب یہ کیا کرنے آئے ہیں..ہانیہ نے مریم کے پاس کھڑے ہوکر سرگوشی کی
ہانیہ...مریم نے ہانیہ کو وارن انداز میں ٹوکا
اوکے مریم میں چلتا ہوں پھر کسی دن آؤں گا..ماما آئیں تو مجھے مس کال کرنا میں خود فون کروں گا. غفور ہانیہ کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا
کیوں انکل آپ کو کوئی کام ہے کیا... ہانیہ نے ڈھٹائی سے پوچھا
جی بیٹا.. غفور نے جی پر زور دے دے کر کہا اور مسکراتا ہوا چلا گیا
زبان بند نہیں رہ سکتی تمہاری....مریم نے ساتھ کھڑی ہانیہ کو دھپ رسید کی
ہاں نہیں رہ سکتی...تم تو کچھ کہتی نہیں مجھے بھی چپ کرواتی ہو... ہانیہ کچن میں کھانا ڈالنےچلی گئی
آج بتاؤ گی میں ماما کو کیسے عجیب طرح سے دیکھتے ہیں یہ..ہانیہ نے دل میں فیصلہ کیا
جاری ہے
########
اگلی قسط ہفتے کی رات اانشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_10

مریم ادھر آؤ بیٹا...عائشہ نے پیار سے مریم کو بلایا
مریم جو اپنا بیگ صاف کر رہی تھی ایک پل کو اس کا ہاتھ رکا
ہانیہ کرسی پر سکون سے بیٹھی دیکھ رہی تھی
جی ماما...مریم بیگ بند کرتے آہستہ سے چلتے عائشہ کے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی
غفور انکل آئے تھے آج؟عائشہ نے مصروف سے انداز میں پوچھا وہ کھانا کھا رہی تھی
جج.. جی ماما آئے تھے جب آپ گئی ہوئی تھی کپڑے لینے...مریم نے ایک ترچھی نظر دور بیٹھی ہانیہ پر ڈالی
اچھا کچھ کہا تھا انہوں نے...عائشہ نے جیسے کچھ اگلوانا چاہا
مریم نے ماں کی جانب دیکھا جس کا چہرہ بے تاثر تھا
عائشہ نے روٹی کا لقمہ بنا کر منہ میں ڈالا
مریم بیٹا میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے...عائشہ نے خاموش بیٹھی مریم کو دیکھا
ماما وہ...وہ بس عجیب باتیں کرتے ہیں...عجیب طرح سے دیکھتے ہیں..مریم کو سمجھ نہ آیا کہ کیسے اپنی بات بتائے
افف او ماما میں بتاتی ہوں آپ کو..ہانیہ جو کرسی پر بیٹھی سب دیکھ رہی تھی فوراً اٹھ کر عائشہ کے قریب کھڑی ہوگئی
عائشہ کا دل ایک دم دھڑکا تھا اُس نے روٹی کو چھوڑ کر ہانیہ کو دیکھا
دیکھیں ماما.. میں نے آپ کو بتایا تھا نا غفور انکل آئے تھے آج..ہانیہ نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا
ہاں ہانیہ لیکن ہوا کیا تھا یہ بتاؤ کچھ کہا تھا کیا انکل نے آپ دونوں کو..عائشہ نے نرمی سے پوچھا اور پاس بیٹھی مریم کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی
ماما آج تو کچھ نہیں کہا..میں اور حارث جب گھر آئے تو تو وہ چلے گئے. اور کہہ رہے تھے کہ ماما کو کہنا مجھ سے بات کرے.. ہانیہ باقائدہ ایکشن کر رہی تھی...
اور آپ کو پتا ہے ایک دن پہلے بھی آئے تھے اور کافی دیر بیٹھے رہے..بس مجھے اچھا نہیں لگتا ان کا آنا..کیوں آتے ہیں وہ یہاں...ہانیہ نے آخر میں جھنجلا کر کہا اور عائشہ کے پاس ہی بیٹھ گئی
عائشہ دھڑکتے دل کیساتھ سب سن رہی تھی
بری بات ایسے نہیں کہتے بیٹا یہ ان کا گھر ہے وہ جب چاہیں یہاں آسکتے ہیں...عائشہ نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا.ورنہ ہانیہ کا کیا بھروسا تھا کبھی بھی کچھ بھی بول دیتی
غفور کا آنا اور فون کرنا تو عائشہ کو بھی پسند نہیں تھا
لیکن ماما ہم کرایہ تو دیتے ہیں نا...ہانیہ منہ بناتے بولی
اچھا جاؤ میرے لیے چائے بنا کر لاؤ...عائشہ نے ہانیہ کو
وہاں سے بھیجنا چاہا
چائے.... ہانیہ رونے والی شکل بناتی کچن کی جانب چل دی
مریم بیٹا...
جی ماما...مریم نے چونک کر سر اٹھایا
میں آپ کی دوست ہوں نا تو بتاؤ مجھے کیا کہتے ہیں غفور بھائی...عائشہ نے مریم کے چہرے پر پیار کرتے پوچھا
ماما وہ بس اچھے نہیں لگتے مجھے...میں نے انہیں کہا بھی تھا کہ آپ گھر میں نہیں ہیں لیکن وہ پھر بھی بیٹھ گئے تھے... مریم نے ڈرتے ڈرتے کہا..اور وہ دروازہ کھٹکٹا کر بھی نہیں آتے..ویسے ہی آجاتے ہیں..میں نے ڈوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا تھا پھر جلدی سے پکڑا ڈوپٹہ...مریم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے
اچھا کچھ نہیں ہوتا گھبراؤ مت...عائشہ نے مریم کو سینے سے لگا لیا
اور آئندہ جب بھی وہ آئیں تو آپ ساجدہ آنٹی کی طرف چلی جانا یا انہیں بلا لینا یہاں... ٹھیک ہے.. عائشہ نے مریم کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا
جی ٹھیک ہے ماما...مریم نے سر اثبات میں ہلایا
ڈرنے کی ضرورت نہیں بیٹا.. یہ دنیا ہے..بہت سے امتحان دینے پڑتے ہیں اس میں انسان تبھی رہ پاتا ہے جب تک وہ برائی کو ختم کرے اور اپنے حق کیلئے لڑتا رہے. اور ابھی تو آپ نے بہت کچھ دیکھنا ہے اور سبق حاصل کرنا ہے..عائشہ مریم نے مریم کے ہاتھوں کو پکڑتے کہا
پتا ہے ہم اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص سے کچھ نا کچھ سیکھتے ہیں...عائشہ مریم کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی.. مریم نے سکون سے اپنی آنکھیں بند رکھی تھی اور غور سے بات سن رہی تھی
اچھے لوگ ہمیں محبت کرنا مسکراہٹیں بانٹنا سیکھاتے ہیں.. جبکہ برے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں کیسے حالات کا مقابلہ کرنا ہے کیسے صبر کرنا ہے کیسے اپنے حق کیلئے لڑنا ہے...عائشہ کی آنکھوں کے سامنے غفور کا چہرہ آیا...اس نے نفرت سے اپنے تصور کو دیکھا
وہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی تھی.. کب اس کی بیٹیاں اتنی بڑی ہوگئی تھیں کہ لوگ انہیں گندی نظروں سے دیکھنے لگے تھے..اُس نے بہت سے لوگوں کی نظریں برداشت کیں تھی..لیکن وہ یہ کیسے برداشت کرتی کہ کوئی اس کی بیٹیوں پر بری نظر رکھے..ماں کا دل ہول اٹھا تھا ایسی بات پر
مریم نے عائشہ کی خاموشی پر اپنا سر اٹھایا
عائشہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھی
ماما..مریم نے خوف سے ماں کے آنسو دیکھے..
جی میری جان..عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور محبت سے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا
ماما میں اب چھوٹی نہیں ہوں...ہر بات سمجھتی ہوں اور میں آپ کا سر میری وجہ سے کبھی جھکنے نہیں دوں گی یہ میرا وعدہ ہے آپ سے... مریم عائشہ کے ہاتھوں کو پکڑتی اعتماد سے بول رہی تھی
عائشہ نے فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھا
میں بھی سمجھدار ہوں.. اور دیکھنا جب میں حفظ کرلوں گی نا تب ماما کو مجھ پر بھی فخر ہوگا.. سب کہیں گے یہ ہے حافظہ ہانیہ ساجد کی ماما....ہانیہ اچانک سے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے کمرے میں نمودار ہوئی اور اپنے تعریف کرنے میں مصروف ہوگئی
لو شروع ہوگئی یہ پھر سے شروع.. مریم نے دل ہی دل میں کہا
ہاں جی میری دونوں بیٹیاں میرا فخر ہیں...عائشہ نے محبت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا اور چائے کا کپ تھام لیا
##########
ساجد یار پتا ہے جمیل بھائی نا بھابھی سے بہت ڈرتے ہیں..تبھی تو آج اتنے دنوں بعد مجھ سے بھی ملاقات ہوئی..حمید نے ساجد کو رازدانہ انداز میں کہا اور وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں میں کیوں ڈرنے لگا صائمہ سے بھلا. بس مصروف ہوتا ہوں فیکٹری کے کاموں میں...جمیل نے جل کر کہا.. اسے حمید سے ایسی بات کی توقع نہ تھی
اور تم جو بھابھی کے کہنے پر بچوں کا پیمپر تبدیل کرتے ہو اس کے بارے میں کیا خیال ہے...اب کی بار جمیل نے طنز کیا
ہاں تو ثواب ملتا ہے بیوی کیساتھ کام کرنے سے..حمید سٹپٹا گیا تھا اپنی بے عزتی پر
واہ بھئی اپنی بار ثواب ملتا ہے...جمیل مصنوئی داد دیتا بولا
ارے یار بس کرجاؤ تم دونوں کیسے بچوں کی طرح لڑ رہے ہو....ساجد نے ہنستے ہوئے اپنا پیٹ پکڑتے کہا
خدا کا واسطہ ہے اب کچھ مت بولنا نہیں تو میں نے مر جانا آج ہنس ہنس کر... ساجد کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا زیادہ ہنسنے سے
جمیل اور حمید بھی ہنسنے لگے
وہ تینوں اس وقت جمیل کی فیکٹری میں بیٹھے تھے..ساجد جمیل کے بلاوے پر آیا تھا.. حمید کو بھی بلا لیا گیا
کافی دیر فیکٹری میں تینوں کو قہقہے گونجتے رہے...
میرے خدا..جمیل نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی دبائی
بھئی بس کرو اب تم دونوں بھی بہت ہنس لیا ہم نے اب چائے بھی پی لو.. جمیل نے دونوں کو ٹوکا
ہاں یار بہت عرصے بعد ہنسے ہیں آج..ورنہ تو زندگی کی تلخیوں نے لبوں سے مسکراہٹ ہی چھین لی تھی..ساجد اداسی سے مسکرایا تھا
یار تمہارے تو لب ماننے میں آتے ہیں.. جمیل ساجد کی ہونٹوں کی طرف اشارہ کرتا بولا اور ایک پل کو رکا
حمید اور ساجد سنجیدگی سے سننے لگے
لیکن حمید کے تو مجھے لباب لگتے ہیں...اگلے ہی پل وہ حمید کے بڑے بڑے ہونٹوں پر چوٹ لگاتا ہنسا تھا
ساجد پیچھے گردن گراتا اونچی آواز میں ہنسنے لگا
حمید نے جل کر دونوں کو دیکھا اور ان کے ساتھ قہقہوں میں شامل ہوگیا
ٹیبل پر پڑی چائے ٹھنڈی پڑ چکی تھی
########
مریم اور ہانیہ سکول سے چھٹی کے بعد گھر کی طرف جارہی تھی
مریم آپی آج مجھے رولنمبر سلپ ملی تھی.. ٹیچر نے کہا کہ اس بار ہمارے بورڈ کے پیپرز ہوگے...مریم خوش ہوتے بولی
ہاں مجھے بھی آج ملی تھی...تمہارے پیپرز کب شروع ہو رہے ہیں...مریم نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا اور پھر راستے پر نظر ٹکا دی
15 مارچ کو پہلا پیپر ہے میرا اور رولنمبر سلپ پر سکول کا نام بھی لکھا ہے جہاں میرا بورڈ بنا ہے... ہانیہ نے اپنا بستہ درست کیا
اوہو پاگل بورڈ نہیں کرتے.. سینٹر کہتے ہیں جہاں پیپرز ہوگے تمہارے... مریم ہنستے ہوئی بولی
ہاں تو مجھے کیا پتا پہلی بار دے رہی ہوں میں بورڈ کے پیپر...
ہاہا اچھا دکھاؤ سلپ
ابھی بیگ میں ہے گھر جا کر دکھاؤں گی.. ہانیہ اور مریم راستے میں آتی گلی میں مڑی
ٹھیک ہے گھر جا کر دکھانا ماما بھی دیکھ لیں گی... مریم نے ڈوپٹہ سر پر ٹکاتے ہوئے کہا
#########
اسلام علیکم...اسد آفس میں مصروف تھا جب اس کا موبائل بجا
وعلیکم اسلام کیا کر رہے ہو اسد..نسیمہ نے مصروف سے انداز میں پوچھا
وہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی
جی امی آفس میں کیا کرتے ہیں..اسد نے آبرو اچکائے اور لیپ ٹاپ پر کچھ لکھنے لگا
اوہو میرا مطلب ہے گھر کب تک آنا ہے.. نسیمہ نے ہانڈی میں چمچ چلایا اور ہلکی آنچ کرتی کمرے میں آگئی
کیوں امی خیریت...میں بس تھوڑی دیر تک ہوجاؤں گا فری..اسد نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھا جو شام کے پانچ بجا رہی تھی
ہاں بس میں نے عائشہ کی طرف جانا تھا..آج مریم کی پسند کا کھانا بنایا ہے تو سوچا اسے دے آؤں..نسیمہ نے محبت سے کہا
لو جی.. تو آپ عائشہ خالہ کو بلا لیں نا ہمارے جانے سے اچھا وہ خود جائیں.. اسد نے اپنی رائے پیش کی
آج تو وہ بالکل نہیں آئے گی ابھی بچے ٹیوشن ہوگے اور وہ خود سلائی میں مصروف ہوگی...نسیمہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
اچھا چلیں میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک گھر پھر چلتے ہیں.
ہاں ٹھیک ہے آجاؤ بس جلدی.. نسیمہ دوبارہ کچن کی جانب گئی
جی آپ بس تیار رہنا اللہ حافظ..اسد نے مسکرا کر کہا اور رابطہ منقطع کر دیا
جاری ہے.
#########
اگلی قسط جلد انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں 😊
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_11

نسیمہ اسد کے ساتھ عائشہ سے ملنے آئی تھی..اور جو کھانا بنایا تھا وہ بھی ساتھ میں لائی تھی...بچے ابھی ٹیوشن میں ہی تھے
عائشہ اور نسیمہ باتوں میں جبکہ اسد بور ہوتا ٹی وی کے چینل بدلنے میں مصروف تھا
درمیان میں ایک نظر دونوں بہنوں کو دیکھ کر مسکرا دیتا جو ناجانے کونسی رازو نیاز کی باتیں کرنے میں مصروف تھیں
عائشہ بچے نہیں آئے ابھی تک سات بجنے والے ہیں..نسیمہ نے کمرے میں لگی گھڑی کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور تکیے پر لیٹ کر ایک بازو سر کے نیچے رکھ دیا
جی باجی چھ بجے تک تو آجاتے ہیں آج ہی دیر ہوئی ہے...آگے پیپرز بھی شروع ہونے والے ہیں نا.. آج رولنمبر الپ ملی ہیں دونوں کو.عائشہ نے بھی ایک نظر گھڑی کو دیکھا
اچھا چلو کوئی نہیں آتے ہی ہوگے..تم ایک کام کرو یہ میں کھانا لائی ہوں بچوں کیلئے..مریم کی پسند کا دیکھے گی تو خوش ہوجائے گی.. تم اسے نکال لو شاپر میں سے.. نسیمہ نے اپنے پاس پڑا شاپر آگے کیا جسے عائشہ نے تھام لیا
اس نے تشکر بھری نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا اور شاپر لے کر کچن میں چلی گئی
ماما اسلام علیکم...تینوں بچے بلند آواز میں سلام کرتے گھر میں داخل ہوئے
ماما...نسیمہ خالہ آئی ہے نا... ہانیہ بستے سمیت کچن میں داخل ہوئی اور پرجوش انداز میں بولی
ہاں ہانیہ.. نسیمہ باجی آئی ہے....تمہیں کیسے پتا چلا. عائشہ کھانا برتن میں ڈال رہی تھی
میں نے جوتے دیکھے تھے نا ان کے...ہانیہ نے گلاس پکڑا اور کولر سے پانی بھرنے لگی
اچھا...پہلے بستہ تو اتار دیتی...عائشہ نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو بستہ کندھوں پر لٹکائے پانی پی رہی تھی
مجھے پیاس لگی تھی اتنی..ہانیہ اتنی پر زور دیتی لاپرواہی سے بولی اور  پانی پینے لگی
اچھا ٹھیک ہے پانی پی کر آ جاؤ اندر اور خالہ سے مل لو..عائشہ بنا کوئی اگلی بات کیے کھانے کے برتن اٹھاتی صحن کی جانب چل دی..
اس لڑکی سے تو بات کرنا ہی فضول ہے.. ہر بات کا جواب ہوتا ہے اس کے پاس.. عائشہ منہ میں بڑبڑائی تھی
اسلام علیکم....ہانیہ خوشدلی سے سلام کرتی داخل ہوئی اور نسیمہ کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی
وعلیکم اسلام...آج زیادہ دیر نہیں کردی آنے میں..نسیمہ نے پیار سے دیکھتے ہوئے پوچھا
جی خالہ.. ہمارے پیپرز شروع ہونے والے ہیں نا اسی لیے اب سے لیٹ چھٹی ہوگی...ہانیہ تھکے تھکے سے انداز میں بولی
مریم اور حارث نسیمہ سے ملتے  اسد کے ساتھ باتوں میں مصروف  ہوگئے تھے..
اسد کبھی حارث کا مزاق بناتا تو کبھی مریم کا..اور وہ دونوں کبھی منہ بناتے تو کبھی اونچی آواز میں ہنسنے لگتے اسد ہر ایک کے دل پر راج کرنے والا تھا..بچوں سے محبت اور بڑوں کی عزت کرنے والا
وعلیکم اسلام آنٹی جی...اسد اونچی آواز میں ہانیہ کو دیکھتا طنز کرتا بولا تھا
ہانیہ شرمندہ سی ہوگئ تھی
بھئی لوگوں کو تمیز ہی نہیں ہے کہ بڑوں کو سلام کرتے ہیں..اسد ہانیہ کو قریب آتا دیکھ کر مصنوئی خفگی سے بولا
پاگل لڑکا بچوں کیساتھ بالکل بچہ بن جاتا ہے..نسیمہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا
اب دیکھنا ہانیہ کی باری آگئی اسد بھائی کے ہاتھوں مذاق بننے کی..مریم نے حارث کے کان میں گھس کر کہا وہ دونوں اپنی ہنسی دبانے لگے
ہانیہ نے اسد کی جانب شرمندگی سے دیکھا..وہ نسیمہ سے باتوں میں مگن ہوگئی تھی.. اسد کو سلام تک نہیں کیا
اسلام علیکم...سوری اسد بھائی میں نے نا آپ کو دیکھا ہی نہیں..مجھے لگا خالہ اکیلی آئیں ہے..ہانیہ سلام کے ساتھ اپنی صفائی پیش کرتی اسد کے قریب حارث اور ہانیہ کے درمیان زمین پر بیٹھ گئی
ڈرامے باز لڑکی بہت تیز ہوگئی ہو تم.. میں کوئی چھوٹی سے چیونٹی ہوں جو تمہیں نظر نہیں آئی..وہ ہانیہ کی ناک دباتے بولا
آہ...ہانیہ درد سے چلائی
کیا اسد بھائی.. اتنی زور سے ناک دبائی ہے میری.. ہانیہ نے منہ پھلا کر کہا اور اپنی ناک مسلنے لگی
ہاں تمہاری جو اتنی موٹی ناک ہے نا اسے تھوڑا کم کیا ہے میں نے..وہ شرارت سے بولا اور حارث کو دیکھ کر آنکھ دبائی
حارث اونچی آواز سے ہنسنے لگا
مریم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی دبائی
نسیمہ بیڈ پر بیٹھی مزے سے دیکھ رہی تھی
کیا... میری ناک موٹی ہے کیا....ہانیہ شاک کے عالم میں بولی
کوئی اس کی پتلی دبلی ناک کا مذاق کیسے بنا سکتا ہے بھلا.. وہ جل گئی تھی اپنی بے عزتی پر اور اوپر سے مریم اور حارث کی ہنسی 😠
ہاں تو موٹی ناک اور موٹا ہی دماغ.. اسد نے اس کے سر پر چپت لگائی اور شرارت سے کہتا اونچی آواز میں قہقہے لگانے لگا
افف... عائشہ صحن میں کھانا لگا کر کمرے میں سب کو بلانے آئی تھی جہاں ایک الگ قسم کی جنگ چھڑی ہوئی تھی...وہ دروازے میں کھڑی دیکھ رہی تھی
اپنی ناک دیکھی ہے کبھی.. ہاتھی جتنی موٹی ہے..ہانیہ کسی بھی قسم کا لحاظ رکھے بنا بولی
اچھا جی ہاتھی کی ناک تو لمبی ہوتی ہے.. کبھی دیکھا نہیں ہاتھی کیا آنٹی جی.. اسد آنٹی پر زور دیتا ہانیہ کو چڑا رہا تھا
اور..پیٹ بھی دیکھیں کتنا بڑا ہے آپ کا..ہانیہ نے ترکی با ترکی جواب دیا
عائشہ نے افسوس سے ہانیہ کی تیز چلتی زبان دیکھی
ہانیہ بس کر جاؤ.. کتنی بدتمیزی سے بات کر رہی ہو بڑے بھائی ہے تمہارے...عائشہ کمرے میں آتی ہانیہ پر برستے ہوئے بولی
مریم اور حارث ایک دم سے خاموش ہوکر دیکھنے لگے
ماما..میں تو صرف مذاق....
بس چپ..ہر بات مذاق نہیں ہوتی..کوئی تمیز اور لحاظ بھی سیکھ لو بس زبان چلوا لو چاہے جتنی مرضی اس لڑکی سے. عائشہ قہر برساتی نظروں سے ہانیہ کو دیکھتی نسیمہ کے پاس بیٹھ گئی
سوری اسد بھائی.. ہانیہ نے اسد کو دیکھ کر شرمندگی سے اپنی گردن جھکا دی.اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے..کسی مہمان کے سامنے ماما نے ڈانٹا تھا اسے
اوہو عائشہ کیا ہوگیا ہے بچی ہے وہ مذاق کر رہی تھی بس  کتنا ڈانٹ دیا ہے اسے..نسیمہ عائشہ کو بولتے ہوئے ہانیہ کے قریب جاکر بیٹھ گئی
ہاں خالہ میں بھی تو مذاق کر رہا تھا آپ نے خوامخوا ہی ڈانٹ دیا ہانیہ کو.. اسد نے شکوہ کرتے کہا اور ہانیہ کو دیکھا جو رونے میں مصروف ہوگئی تھی
تم نہیں جانتے اسے خود مذاق کرتی ہے لیکن کسی کا برداشت نہیں کرتی اور چلو اٹھو تم دونوں باہر آکر بیٹھو کھانا لگا دیا ہے میں نے.. عائشہ ایک غصیلی نظر ہانیہ پر ڈالتی حارث اور مریم کی جانب متوجہ ہوئی
وہ دونوں خاموشی سے اٹھ کر باہر چلے گئے
میری اچھی دوست نہیں..چلو چپ ہوجاؤ جلدی سے شاباش.. اسد اور نسیمہ ہانیہ کو چپ کروانے میں لگے ہوئے تھے
باجی چھوڑیں اسے آپ لوگ آئیں کھانا لگا دیا ہے میں نے.. عائشہ نے سنجیدگی سے کہا
اچھا تم جاؤ باہر دیکھو ساجد آیا ہے اسے پانی وغیرہ پلاؤ ہم آتے ہیں اسے لے کر.. نسیمہ نے ساجد کے سلام کی آواز سن کر کہا جو صحن میں تھکا تھکا سا آکر بیٹھا تھا
عائشہ بنا جواب دیے چلی گئی
ہانیہ چلو اٹھو میرا بچہ.. کچھ نہیں ہوتا ماما سمجھا رہی تھی نا آپ کو..ایسے برا نہیں  مانتے ماما کی باتوں کا..نسیمہ نے ہانیہ کے آنسو صاف کیے اور بال صحیح کیے
اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر دیکھا
اب اٹھ بھی جاؤ ہانیہ مجھے بھوک لگی ہے بہت.. گھر میں بھی امی نے کچھ کھانے نہیں دیا.. اسد معصوم سی شکل بنا کر دیائی دیتا بولا
ہانیہ سو سو کرتی ناک کے ساتھ کھلکھلا دی اور وہ تینوں کھانا کھانے کمرے سے باہر آگئے
##########
میں کیسے گزارا کروں گی ان پیسوں کیساتھ...صرف دو سو روپے ہیں یہ.. بچوں کو بھی پیسے دینے ہوتے ہیں اور کھانا بھی بنانا ہوتا ہے..اتنے سے پیسوں میں کچھ نہیں ہوتا مجھ سے ساجد...عائشہ نے ہاتھ میں پکڑے پیسے غصے سے ساجد کے قریب پھینکتے ہوئے کہا
مجھے کوئی سواری نہیں ملتی میں کیا کروں اب اس میں..میں خود تو لوگوں کو منع نہیں کرتا نا کہ میرے رکشے میں نہ بیٹھو..ساجد بھی اب کی بار بگڑ کر بولا اور پاس پڑے پیسوں کو دیکھا
وہ دونوں کب سے بحث کرنے میں مصروف تھے...آج ہانیہ اور حارث بھی جاگ رہے تھے اور کمرے میں ایک طرف خاموشی سے بیٹھے سب دیکھ رہے تھے
مریم پریشان سی کبھی ساجد کو سمجھاتی کبھی عائشہ کو چپ کرواتی لیکن وہ دونوں ہی لڑائی میں لگے ہوئے تھے
تو خود پوچھ لیا کرو نا لوگوں سے جیسے دوسرے رکشے والے پوچھتے ہیں... عائشہ نے تجویز پیش کی
ہاں تم چاہتی ہو میں لوگوں کی منتیں کیا کروں کہ بھائی صاحب میرے رکشے میں بیٹھ جائیں آکر..مجھے زہر لگتے ہیں وہ رکشے والے جو سواریوں سے پوچھتے پھرتے ہیں..بھئی کسی نے بیٹھنا ہوگا تو بیٹھ جائے گا خود ہی...ساجد نے عائشہ کی بات پر جل کر کہا
ہاں بیٹھ جائے گا آکر..عائشہ زیر لب بڑبڑائی
رکشے کی حالت دیکھی ہے اپنی.. کبھی کپڑا تک تو مارا نہیں کہ رکشہ صاف ہی ہوجائے...وہ بولتے بولتے استری لگا کر ساجد کے کپڑے استری کرنے لگی
مجھ سے جتنی صفائی ہوتی ہے میں کرتا ہوں..زیادہ مسئلہ ہے تو خود آکر کر لیا کرو تم...ساجد کی آواز قدرے  بلند ہوگئی تھی ہانیہ نے سہم کر مریم کا بازو پکڑا..مریم نے پریشان ہوکر چھوٹے بہن بھائیوں کو دیکھا
حارث سونے کی تیاریوں میں تھا.. مریم نے اسے آہستہ سے بیڈ پر لٹا کر کمبل دے دیا
ہانیہ ابھی بھی سہمی آنکھوں میں نمی لیے سب دیکھ رہی تھی
جب دیکھو میری بہن پورا کرتی رہتی ہے میرا.. آج بھی وہی کھانا بنا کر لائی تھی تو رات کا گزارا ہوگیا نہیں تو بچے بھی بھوکے رہتے اور ہم بھی.. عائشہ نے نسیمہ کی تعریف کرتے کہا
تو کچھ نہیں ہوتا.. اچھے سے واقف ہیں وہ ہمارے حالات سے.. مدد کر دیتی ہیں تو نیکی کا کام ہی کرتی ہیں.. اور پکڑو یہ پیسے رکھو.. ساجد نے ایک بار پھر عائشہ کو پیسے پکڑانے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا
مجھے نہیں چاہئے...آج ناجانے کتنے دن ہوگئے ہیں میں ادھار سامان لا رہی ہوں.. کبھی کسی بچے کی کاپی ختم ہوجاتی ہے.. کبھی پینسل.. کہاں سے پورا کروں میں سب.. وہ بے بسی سے بی اور ساجد کا ہاتھ جھٹک دیا
ہاں تو مت پڑھاؤ پھر انہیں.. نہیں ہوتے پورے خرچے ہم سے.. غریبوں کے بچے نہیں  پڑھتے....ساجد نے بچوں کی طرف دیکھ کر کہا
غریبوں کے بچے .مریم نے دکھ سے باپ کی بات زیرِ لب دوہرائی
ہاں تمہاری ماں نے جو نہیں پڑھایا تمہیں.. اور تم چاہتے ہو کہ میرے بچے بھی نہ پڑھے تاکہ تمہاری طرح یا رکشہ چلائیں یا درزیوں کے کام پر بیٹھ جائیں.. اور ساری عمر یونہی ذلت سے کاٹ دیں..عائشہ نے قمیض کے دامن سے اپنے آنسو صاف کیے اور استری کی شلوار کو تار پر لٹکایا
ساجد نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں
میری ماں نے بھی بہت کچھ براداشت کیا ہے ہمارے لئے.. پر جب قسمت ہی خراب ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے.. ساجد نے کرب سے کہا اور کولر سے پانی ڈال کر پینے لگا
میں خود بناؤں گی اپنے بچوں کی قسمت..جھوٹ بولا تھا تمہاری ماں نے کہ بڑا کماتا ہے لڑکا بس اپنی بیٹی بیاہ دو اور مجھے ساری زندگی کا عذاب دے کر چلی گئی..ایک ایسے شخس کے پلے باندھ دیا جس سے دو وقت کی روٹی تک پوری نہیں ہوتی بیوی بچوں کی..عائشہ غصے سے جو دل میں آیا بولتی گئی
بس چپ..ساجد غصے سے آگ بگولہ ہوتا عائشہ کو تھپر مار گیا تھا
عائشہ نے پتھرائی آنکھوں سے دیکھا..آنسو مسلسل بہہ رہے تھے
بہت زبان چلنے لگ گئی ہے .. میری ماں کے خلاف زہر اگل رہی ہوں وہ بھی میرے بچوں کے سامنے..تمہاری اسی کھچ کھچ کی وجہ سے گھر میں رزق نہیں آتا...ساجد قہر برساتی نظروں سے کہتا کمرے سے باہر چلا گیا تھا
مریم اور ہانیہ نے تڑپ کر ماں کو دیکھا اور دوڑتی ہوئی عائشہ کے پاس آئیں
ماما آپ دادو کو برا نہ کہتی پاپا کو دکھ ہوا ہوگا بہت..مریم نے ماں کے آنسو صاف کیے
ہانیہ ماں کے آنچل میں منہ چھپا کر رونے لگی
عائشہ کو بھی افسوس ہوا تھا اپنی کہی بات پر
ہانیہ بیٹا کچھ نہیں ہوا.. میری جان ادھر دیکھو میری طرف.. عائشہ اپنا دکھ بھولتی ہانیہ کی طرف متوجہ ہوئی.. جو ڈری سہمی رونے میں مشغول تھی
ماما.. پاپا اچھے نہیں ہے انہوں نے کیوں مارا ہے آپ کو؟ہانیہ نے اپنا سر نفی میں ہلاتے عائشہ کو دیکھ کر کہا
وہ شام کی ساری ناراضگی بھول چکی تھی..بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں ماں باپ کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتی...
مریم کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھی.. اسے دکھ ہوتا تھا روز روز کی لڑائی دیکھ کر...اسے غریبی سے نفرت ہونے لگی تھی
ہانیہ بیٹا ایسے نہیں کہتے.. دیکھو ماما اب ٹھیک ہیں بالکل..چلو اب چپ ہوجاؤ جلدی سے.. عائشہ نے پیار سے ہانیہ کے آنسو صاف کیے اور دونوں بیٹیوں کو اپنے آنچل میں چھپا کر اپنے رکے ہوئے آنسوؤں کو بہنے دیا
استری ساجد کی قمیض کو جلاتی اپنا نشان چھوڑ گئی تھی
#########
اگلی قسط جلد انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_12

ساجد دیکھیں ایسا مت کریں..میری امی پہلے ہی بہت پریشان ہیں میرے لئے..اگر مجھے پھر سے گھر میں دیکھیں گی تو وہ بہت پریشان ہوگی...عائشہ نے منت بھرے لہجے میں کہا
مجھے کچھ نہیں پتا عائشہ..امی نے کہا ہے کہ تمہیں ابھی کے ابھی تمہارے گھر چھوڑ آؤ... جلدی سے اپنا سامان پیک کرو تم...ساجد سخت الفاظ میں کہتا الماری کی جانب بڑھا اور عائشہ کے کپڑے نکال کر بیڈ پر پھینکنے لگا
عائشہ بے بس سی سب دیکھ رہی تھی
ساجد آپ کو ہمیشہ ماں جی کی بات درست لگتی ہیں..کبھی آپ نے مجھ سے آکر پوچھا کہ سارا دن مجھ پر کیا گزرتی ہوگی..میری ہر چیز کا نقصان کیا جاتا ہے...چاہے وہ میرے جہیز کے برتن ہوں یا کپڑے دھونے والی مشین ہو.. عائشہ کی آواز رندھدی ہوگئی تھی
ہاں کیونکہ میری امی ہمیشہ صحیح کہتی ہیں..تم سارا دن بولتی ریتی ہوں یہ استعمال نہ کرے.. میری اس چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ..کیا یہ اوقات ہے تمہاری نظر میں میرے ماں باپ کی. ساجد الماری بند کرتا عائشہ کی جانب مڑا
عائشہ نے بے یقینی سے اُسے دیکھا..کتنی آسانی وہ سب کچھ کہہ گیا تھا جو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ تھا
ساجد میں نے گھر میں کسی کو بھی منع نہیں کیا..بس میں یہ کہتی ہوں کہ میری چیزوں کو استعمال کرنے کے بعد اُسے صاف کر کے رکھا کریں..اُس کی احتیاط کیا کریں....عائشہ نے ساجد کو سمجھانا چاہا
مجھے کچھ نہیں سننا عائشہ..سارا دن تمہاری کھچ کھچ ختم نہیں ہوتی.میری اِس چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ..اِسے پکڑا ہے تو صحیح طرح رکھو..اتنی بھی کوئی انوکھی چیزیں نہیں ہیں تمہاری جو ایک آدھی خراب ہوجائے تو بہت فرق پڑے گا...میں تنگ آگیا ہوں ان سب سے..ساجد نے پہلے نخوت سے کہا اور آخر میں جھنجلا کر بولا تھا
 میری امی نے بہت محبت سے دی ہیں مجھے سب چیزیں..اور سلیم میری چیزوں کا نقصان کرتا ہے.. اُس دن بھی سگریٹ پیتا ہوا آیا تھا کمرے میں اور یہ دیکھو... عائشہ بولتے بولتے بیڈ کی جانب بڑھی
ساجد خاموشی اُس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا
یہ دیکھو..سگریٹ کو بیڈ کے ڈھو پر لگا کر یہاں سے خراب کر دیا...ساری لکڑی جل گئی ہیں یہاں سے..کیا ابھی بھی میرا بولنے کا کوئی حق نہیں ہے..عائشہ اپنی صفائی پیش کرتی لاچار سی بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی..اور ایک نظر سوئی ہوئی مریم پر ڈالی
ہاں نہیں ہے ضرورت تمہیں کچھ بھی بولنے کی..میرے گھر والے چاہے جو مرضی کریں.. ساجد لاپرواہی سے کہتا دوبارہ الماری کی جانب مڑا اور مریم کے کپڑے بھی نکالنے لگا
تمہارے گھر والے چاہے جو مرضی کریں.. واہ کیا خوب کہا ہے.. مت بھولو کہ تمہاری بھی ایک جوان بہن ہے.. اگر کل کو اُس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا تو کیا تب بھی تم یہی کہو گے...عائشہ غصے سے کہتی ساجد کے مقابل کھڑی ہوگئی
بس خاموش...تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو بددعا دینے کی..ساجد غصے سے دھارا تھا..اُس نے  اپنی انگلیوں کو مٹھی میں بھینچ کر غصہ کم کرنا چاہا
میں بددعا نہیں دے رہی..تمہیں اللہ کے انصاف سے آگاہ کر رہی ہوں.تم نے ہمیشہ امی کی بات پر یقین کیا اور مجھے میرے میکے چھوڑ آئے کیا کبھی میری بات سننا گوارا کی.عائشہ نے تکلیف سے اپنی آنکھین موندی.. ایک آنسو گال کو چھوتا زمین پر جاگرا
مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری بات سننے کی.میری امی ہمیشہ سچ ہی کہیں گی..انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی کیا ہے..اور یہ پکڑو بیگ پیک کرو سارا سامان..ساجد الماری بند کرتا عائشہ کی جانب مڑا اور ایک ناگوار نظر اُس پر ڈالی..
ہاں ہاں تمہاری ماں تو کبھی جھوٹ بول ہی نہیں سکتی.. وہ تو فرشتہ ہے فرشتہ.. گنہگار تو ہم جیسے لوگ.. جن کی قسمت بھی خراب ہوتی ہے..عائشہ کا ضبط جواب دے گیا تھا اب کی بار وہ چلاتے ہوئے بولی
بس.... ساجد غصے سے دھارتے ہوئے عائشہ کے قریب آیا
عائشہ نے خوف سے اپنے مجازی خدا کو دیکھا..کتنے خواب سجائے تھے آنکھوں میں.. کیا کچھ نہیں سوچا تھا..لیکن کیا خبر تھی کہ خواب آنکھوں میں بھی ٹوٹ جاتے ہیں...
کب سے دیکھ رہا ہوں بکواس کر رہی ہو..خبردار جو ایک لفظ بھی اور نکالا زبان سے..ساجد نے سختی سے عائشہ کا بازو پکڑا اور جھنجھوڑ کر بول
ساجد....مجھے درد ہورہی ہے...عائشہ نے تکلیف سے تڑپتے کہا... آنسو مسلسل جاری تھے
آئندہ میرے گھر والوں کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان سے نکالا تو زبان کھینچ کر رکھ دو گا....ساجد جھٹکے سے عائشہ کا بازو چھوڑتا کمرے سے باہر نکل گیا...کمرے کے باہر عائشہ کی نند دیور اور ساس آپس میں منہ جوڑ کر چہ مگوئیاں کرنے میں مصروف تھے..ساجد کو دیکھتے ہی اپنی اپنی جگہ پر درست ہوکر بیٹھ گئے
ماما... مریم گھبر کر اٹھ گئی تھی اور سب کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی.
جی ماما کی جان.. عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور دکھ سے مریم کو اپنے اندر بھینچ لیا
مریم بیٹا چلو نانو کے گھر جانا ہے چلو اٹھو شاباش.. عائشہ نے پیار سے مریم کو اٹھایا
لیکن ماما مجھے نہیں جانا نیند آرہی ہے مجھے.. ڈھائی سالہ مریم نے منہ بناتے کہا
نانو گھر جاکر سو جانا... عائشہ بات ختم کرتی کپڑوں کو بیگ میں ڈالنے لگی..اِس گھر کے لوگوں کیلئے پہلے سے زیادہ نفرت دل میں بھر گئی تھی..
وہ اپنے آنسو صاف کرتی مریم کو گود میں اٹھائے دروازے سے باہر نکلی ایک ہاتھ سے بیگ کو گھسیٹ رہی تھی
ساجد...عائشہ کی ساس نے عائشہ کو خاموش کھڑے دیکھ کر اونچی آواز میں کہا
جی امی.ساجد احترام سے قریب آیا..اور ایک نظر عائشہ کے چہرے کو دیکھا..رونے سے آنکھیں لال ہوچکی تھی... ساجد کو ایک دم سے دکھ ہو تھا اپنے رویے پر
اِسے لے جاؤ.. اور تب تک نہ لانا جب تک عقل ٹھکانے نہ آجائے.. عائشہ کی ساس نے ایک غصیلی نظر عائشہ پر ڈالی جی امی..چلو..ساجد ادب سے کہتا عائشہ کی جانب بڑھا اور اُس کے ہاتھ سے بیگ پکڑ لیا
مجھے واپس لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے...جو دکھ آپ لوگوں نے میرے ماں باپ کو دیا یے وہ کسی قیمت کم نہیں ہوسکتا.. ہر روز وہ خود کو کوستے ہیں کہ کیوں آپ لوگوں کے گھر بیاہ دیا مجھے..عائشہ دو ٹوک انداز میں کہتی مریم کو ساتھ لیے آگی بڑھنے لگی
ساجد کو شرمندگی ہوئی تھی عائشہ کا اِس طرح سے بات کرنا
ہاں ٹھیک ہے مت آنا واپس..ہمیں بھی کوئی ضرورت نہیں تمہارے جیسی بہو کی...مجھے میری بڑی بہو ہی کافی ہے عائشہ کی ساس پیڑھی سے اٹھتے بولی اور پاس کھڑی عائشہ کی جیٹھانی کو دیکھ کر کہا
مریم سہمی سی سب دیکھ رہی تھی...
مریم بیٹا ادھر آؤ دادو سے تو مل لو..عائشہ کی ساس نے پیار سے مریم کو بلایا
مریم پہلے سے زیادہ سہم کر ماں کا بازو پکڑ لیا..عائشہ نے اپنے قدم روکے اور مڑی
میں بھی بیٹی ہوں کسی کی..میری ماں کو بھی تکلیف ہوتی ہے مجھے بار بار اپنی دہلیز پر دیکھ کر..مت بھولیں آپ ماں جی یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے..میں نے تڑپتے دیکھا ہے اپنے ماں باپ کو.اور ایک بے بس لاچار ماں کی آہ عرش تک ہلا دیتی ہے..دعا کیجیے گا کہ آپ کے بچوں کے آگے یہ سب زیادتیاں نہ آئیں...عائشہ تلخ حقیقت بیان کر رہی تھی...صحن میں کھڑے ہر وجود نے خوف سے عائشہ کی بات سنی...عائشہ کی نند اور ساس اونچی اونچی آواز میں عائشہ کو برا بھلا کہنے لگی
عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور دروازے سے باہر قدم نکال لیے
ساجد ماں سے معافی مانگتا بجھے دل کے ساتھ عائشہ کے پیچھے چل دیا...اُس میں ہمت نہ تھی وہ مریم کو اٹھاتا
########
رات کے تین بجے کا وقت تھا... عائشہ بیڈ پر کمبل میں لپٹی  چھت کو گھور رہی تھی....ماضی کی ساری تلخیاں آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگیں...
اُس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے گال کو چھوا جہاں ساجد کا ہاتھ اٹھا تھا...ہاتھ لگاتے ہی تکلیف پھر تازہ ہوگئی تھی..اسے اپنے رویے پر افسوس ہوا تھا... وہ چاہ کر بھی اُن سب کیلئے اپنا دل صاف نہیں کر پا رہی تھی....کیسے اتنی آسانی سے وہ ساری زیادتیاں بھول جاتی.. وہ انسان تھی کوئی فرشتہ نہیں
عائشہ نے گردن موڑ کر اپنے قریب لیٹی مریم اور ہانیہ کو دیکھا جو سونے میں مصروف تھیں...بیڈ کے ساتھ بچھی چارپائی پر ساجد اور حارث لیٹے تھے
میں بناؤ گی اپنے بچوں کا مستقبل...چاہے مجھے لوگوں کے برتن دھونے پڑے...میں کبھی اپنی اولاد کو تعلیم سے محروم نہیں رکھوں گی..میں چاہتی ہوں یہ علم سیکھیں ایک اچھا انسان بنیں تاکہ اچھائی اور برائی میں فرق سمجھ سکیں...عائشہ خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھی...
وہ عزم کرتی اٹھی اور احتیاط سے بیڈ سے نیچے قدم اتارے تاکہ کوئی اٹھ نہ جائے
عائشہ نے ساجد کا دوسرا سوٹ استری کیا اور دیوار کے ساتھ لگی تار پر لٹکا دیا
ساجد کی آنکھ کھلی تو اُس نے بیڈ پر نظر دوڑائی جہاں عائشہ نہیں تھی.. وہ گھبرا کر اٹھا اور صحن میں بیٹھی عائشہ کو دیکھا..جو سردی میں خاموشی سے بیٹھی تھی...شاید اُس کا دل جلاتی آگ پر باہر کا موسم کوئی اثر نہیں دے رہا تھا...
عائشہ....ساجد نے چارپائی سے اٹھتے ہلکی آواز میں پکارا
عائشہ ابھی بھی گم سم سر جھکائے بیٹھی تھی
عائشہ یہاں کیوں بیٹھی ہو.. ساجد نے اب کی بار عائشہ کے پاس جاتے کندھے سے جھنجھوڑ کر کہا
جی... عائشہ نے چونک کر اپنا سر اٹھایا
یہاں کیا کر رہی ہوں اِس وقت.؟ساجد نے بنا تاثر کے سوال کیا
کچھ نہیں.. آپ کے کپڑے استری کرنے آئی تھی بس..  عائشہ اٹھ کھڑی ہوئی.. وہ ساجد اے بات نہیں کرنا چاہتی تھی
رہنے دیتی..میں یہی پہن لیتا...ساجد نے تار پر لٹکتے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا..جس کی قمیض کا گھیرا تھوڑا سا جل گیا تھا
نہیں.. وہ جل گئے تھے.. میں نے دوسرے استری کر دیا ہیں آپ یہ پہن لیجیے گا صبح.. عائشہ بات ختم کرتی کمرے میں داخل ہوگئی
ساجد کو افسوس ہوا تھا عائشہ پر ہاتھ اٹھا کر...وہ بات کرنا چاہتا تھا عائشہ سے پر عائشہ نے اُسے موقع نہیں دیا.. وہ خود کو کوستا واش روم کی جانب بڑھ گیا..
#########
سکول میں بریک ہوچکی تھی...سب بچے کلاس سے بھاگتے ہوئے گراؤنڈ فلور کی جانب بڑھے.. مریم اپنا بستہ بند کرتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی..کچھ بچے چیز لے رہے تھے کچھ کھیلنے میں مصروف تھے.. کینٹین کے آگے بچوں کو رش لگا تھا... مریم ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے کل رات کے بارے میں سوچنے لگی...اُسے برا لگتا تھا ماں باپ کا لڑنا.. اور وہ جانتی تھی کہ یہ لڑائی صرف پیسوں کی وجہ سے ہے.. وہ جب بھی دعا کرتی تو یہی کرتی کہ اللہ کسی کو غریب نہ کرے..
مریم آپی چلو نیچے چلتے ہیں.. ہانیہ نے مریم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
مریم نے مڑ کر دیکھا تو ہانیہ کمر پر ہاتھ رکھے اپنا بے ترتیب سانس صحیح کر رہی تھی
کیا ہوا تمہارا سانس کیوں اتنا پھولا ہوا ہے..یہ لو پانی پی لو.. مریم نے ہانیہ کے سامنے بوتل کی
میں بھاگ کر آئی ہوں نا اسی لیے...ہانیہ نے لاپرواہی سے کہتے پانی کی بوتل پکڑی
لو جی.. تو بندہ آرام سے آجاتا ہے بھاگ کر آنے کی بھلا کیا ضرورت ہے.مریم نے ہنستے ہوئے کہا اور بینچ سے باہر نکل آئی
چلو چلیں..ہانیہ نے پانی کی بوتل مریم کو پکڑائی اور وہ دونوں بھی کلاس روم سے باہر نیچے کی جانب بڑھ گئی
ہانیہ یار تم چیز لے آؤ میری بھی میں بینچ پر بیٹھی ہوں.. مریم نے پارک میں لگے بینچ پر بیٹھتے کہا
لاؤ پیسے پکڑاؤ.. ہانیہ نے اِرد گِرد نظر گھمائی.. سارے بچے باتوں میں مصروف تھے..
ہانیہ پیسے پکڑتی کینٹین کی جانب چلی گئی..
مریم نے دونوں ہاتھ بینچ پر رکھے اور ہانیہ کا انتظار کرنے لگی
#########
عائشہ ہاتھ میں پیسے پکڑے کریانے کی دکان کی طرف جارہی تھی..پچھلے کئی دنوں سے وہ اِس دکان سے کچھ سامان ادھار لے لیتی کچھ رقم ادا کر دیتی...
آصف بھائی ایک کلو آٹا,ایک پاؤ چنے کی دال اور پاؤ گھی دے دیں...عائشہ نے دکان والے کو متوجہ کی جو دوسروں کا سامان تول رہا تھا
باجی پہلے مجھے پچھلے پیسے دیں.. آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے.. پورے سات سو روپے دینے ہیں آپ نے..جب تک پچھلی رقم ادا نہیں کر دیتی اگلا سامان نہیں ملے گا..دوکان والا دو ٹوک انداز میں بولا
عائشہ نے ہاتھ میں پکڑے پیسے دیکھے...ساجد صبح جاتے وقت دو سو روپے رکھ گیا تھا.. جس میں سے عائشہ نے بچوں کو بھی پیسے دیے تھے.. اب صرف ایک سو ستر روپے  باقی تھے. گھر میں گھی اور آٹا بھی ختم ہوچکا تھا
جی معزرت بھائی میرے شوہر کا آج کل کام نہیں چل رہا.. بس اسی لیے ادھار سامان لے رہی ہوں جیسے ہی اُن کا کام بہتر ہوگا میں آپ کی ساری رقم اتار دوں گی.. آپ بس آج مجھے آٹا ادھار دے دیں دال اور گھی کے پیسے ہیں میرے پاس...عائشہ نے ایک بار پھر آدمی کی منت کرتے کہا
نہ بہن پہلا ادھار اتارا نہیں اور اگلا بھی لینے آگئی ہو.. جاؤ لے لو جس سے جو دیتا ہے تمہیں.. وہ آدمی بدتمیزی سے بولتا گاہک کا سودا تولنا لگا
دکان کے پاس کھڑی ہمسائی نے عجیب نظروں سے عائشہ کو دیکھا اور اپنا سامان بتانے لگی
عائشہ آنکھوں میں نمی لیے دکان سے نیچے اتر آئی اور دوسری دکان پر جاکر تھوڑا سا سامان خرید کر گھر کی جانب چل دی
بہت مجبور آنکھیں تھیں بہت بے ربط جُملے تھے
‏ضرورت کو بیاں کرنے سے اک خوددار قاصر تھا
#########
ماما بہت بھوک لگی ہوئی ہے جلدی سے کھانا دے دیں.. بچوں نے سکول سے آتے ہی کھانے کا شور مچادیا
ہانیہ بیگ اتار کر ینیفارم سمیت کچن میں داخل ہوئی
عائشہ دال پکا رہی تھی.. اور کلو آٹا گوند کر ایک باؤل میں نکال رکھا تھا
ماما.. مجھے نہیں کھانی یہ دال.. ہانیہ دال دیکھتی منہ بگاڑ کر بولی
کیوں نہیں کھانی.. چنے کی دال بنائی ہے میں نے.. عائشہ نے ہانڈی میں چمچ چلاتے مصروف انداز میں کہا
کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں ہے.. اُس کی سوئی وہی اڑی ہوئی تھی
بری بات..اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں ہر حال میں.. وہ چاہے ہمیں جو بھی کھانے کو دے.. عائشہ نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا جو ینیفارم پہنے کھڑی تھی
اچھا کھا لوں گی.. ہانیہ بنا کسی بحث کے مان گئی
عائشہ کو خو شی ہوئی تھی ہانیہ کے سمجھنے سے
چلو جاؤ پہلے ینیفارم اتارو جاکر پھر بیٹھو میں لے کر آتی ہوں کھانا.. عائشہ نے روٹی کے پیڑے بنانا شروع کیے
ہانیہ پانی پیتی کپڑے بدلنے چلی گئی
عائشہ نے آٹا دیکھا. صرف دو وقت کی روٹی ہی پوری ہوسکتی تھی..وہ روٹیاں بناتی کمرے میں چلی گئی
چلو بچو کھا لو کھانا آکر.... اُس نے ٹیوی دیکھتے مریم اور حارث کو آوا دی.. وہ دونوں اٹھتے بیڈ کے قریب زمین پر بیٹھ گئے ہانیہ بھی ہاتھ دھوتی کمرے میں آکر بیٹھ گئی
سب نے کھانا شروع کیا سوائے عائشہ کے. وہ چاہتی تھی کہ رات کیلئے بھی کھانا بچ جائے
ماما آپ کیوں نہیں کھارہی کھانا.. مریم نے ماں کو دیکھتے پوچھا
میں نے کھا لیا تھا پہلے ہی ساجدہ باجی چاول دے کر گئی تھی وہی کھا لیے تم لوگ کھاؤ آرام سے. عائشہ نے جھوٹ بولتے  مصنوئی مسکراہٹ لبوں پر سجائی
ہانیہ نے کھانے سے نظر اٹھا کر ماں کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی.. وہ مطمئن سی ہوتی دوبارہ کھانے پر جھک گئی
مریم بھی خاموشی سے کھانا کھانے لگی
بچے پھر سے کھانے میں مشغول ہوگئے
بھوک سے عائشہ کا برا حال ہورہا تھا
بس ماما کھا لیا ہے ہم نے...حارث اٹھتا دوبارہ ٹیوی کے سامجے  بیٹھ گیا
ہانیہ اور مریم نے برتن اٹھا کر کچن میں رکھے.. اور کچھ دیر آرام کرنے لیٹ گئی
عائشہ کچن میں داخل ہوتی بچوں کا چھوڑا کھانا کھانے لگی. تاکہ پیٹ کی آگ بجھائی جاسکے

کوئی جو پوچھے__________ آخری خواہش میری
امیری کو بنا ڈالوں________ غریبی سے بڑا مسئلہ
########
اگلی قسط جلد انشاءاللہ
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#ڈبل_ایپیسوڈ
#
#قسط_13_14

#ماضی
عائشہ کی شادی کو تین سال ہوچکے تھے....مریم کی عمر ڈھائی سال کے قریب تھی..اور عائشہ پھر امید سے تھی.. شادی کے تین سالوں میں اُس نے بہت دے دکھ جھیلے.. بہت سی باتیں برداشت کیں..سسرال والوں کی باتوں میں آکر ساجد کی بے رخی نے اُسے دن با دن مارا تھا اندر سے...اکثر ساجد اُس پر ہاتھ بھی اٹھا چکا تھا..وہ خود کو کمزور نہیں سمجھتی تھی. وہ ہمیشہ سے ہی ایک ہمت والی لڑکی تھی.. لیکن اپنے ماں باپ کے دکھ کا سوچ کر وہ اکثر ہار مان جاتی تھی.. ساجد کی انا کے آگے جھک جاتی تھی..
شاید جوانی کا فتور ہی کچھ ایسا ہوتا ہے مرد خود کو طاقتور اور ایک عورت کو کمزور سمجھتا ہے..اور پھر اُس عورت کو کمزور سمجھنا جو رب کی طرف سے امانت ہیں..عورت پر ہاتھ اٹھا کر خود کو مرد تصور کرنا میری نظر میں جہالت کی انتہا ہے
ایک عورت کمزور نہیں ہوتی...وہ عورت جو موت کی گہرائیوں کو چھو کر آپ کو باپ ہونے کا درجہ دیتی ہے..جو اپنا گھر بار چھوڑ کر آپ کے نام اپنی ساری عمر لگا دے وہ کمزور کیسے ہوسکتی ہے...؟
ایک مرد کو دنیا میں لانے والی بھی عورت ہی ہوتی ہے.. اور پھر وہی مرد جسے باپ کی صورت میں شفیق پایا ہو.. بھائی کی صورت میں محبت کرنے والا,کبھی اپنا مان سمجھنے والا دیکھا ہو..لیکن جب تیسرا روپ..جو سب سے اہم ہے سب سے اوپر ہے..جو آپ کا ہمراز ہو..مہربان ہو...آپ کی روح کا ساتھی ہو..اور وہی آپ کو رسوا کر کے ذلیل و خوار کرکے.. آپ کا مان توڑ کر آپ کو گھر سے بے گھر کر دے.. تو یہ سب عورت کو تکلیف کے اُس درجے تک لے جاتا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا...اور کبھی کبھی نا ممکن سا
اپنی بیویوں کی قدر کرنا سیکھیں..ماں باپ اپنا کلیجہ کاٹ کر آپ کو بیٹی سونپتے ہیں اُن کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں..اُن کا حق ادا کریں.. اپنے فرائض انجام دیں تبھی آپ اس قابل ہوگے کہ اپنا حق طلب کر سکیں...
######
عائشہ خاموش سی اپنی امی کے گھر کی جانب چل رہی تھی. .دروازے کے باہر کھڑے اُس کا جسم کانپنے لگا..آنکھوں کے سامنے آنسوؤں کا ڈھیر سا جما ہوگیا.. اُس کی آنکھیں دھندلانے لگی تھی... اُس نے اپنی آنکھوں کو مسلا اور اپنے قدم گھر کے اندر داخل کیے...
امی....عائشہ نے کمرے میں داخل ہوتے اونچی آواز سے بولنا چاہا.. مگر آواز حلق میں دب کر نکلی تھی
عائشہ کی امی اپنے بستر پر بیٹھی پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی
عائشہ کی آواز پر دکھڑکتے دل کے ساتھ پلٹی تھی..
عائشہ مریم کو گود سے اتارتی بھاگتی ہوئی ماں کے سینے سے لپٹ گئی تھی..
اور رونے لگی..
عائشہ میرے بچے کیا ہوا ہے.. ادھر دیکھو میری طرف...عائشہ کی ماں نے آہستہ سے اُس کا سر اٹھایا اور چہرے پر ہاتھ رکھتے پیار سے پوچھا..
امی.. میں نے کبھی منع نہیں کیا کسی کو کہ میری چیزیں استعمال نہ کریں.. ماں جی نے غلط بات بتائی ہے ساجد کو.. عائشہ نے اپنے صفائی دیتے بہتے آنسو صاف کیے...آنسوؤں کے نشان جم چکے تھے چہرے پر
امی نے پریشانی سے عائشہ کو روتے دیکھا.. دل بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا تھا
ساجد بیٹا عائشہ کیوں رو رہی یے...امی نے سوالیہ نظروں سے ساجد کو دیکھتے پوچھا جو دروازے کی دہلیز میں خاموش کھڑا سب دیکھ رہا تھا
خود ہی پوچھ لیں اِس سے.. ایسے کوئی ظلم کے پہاڑ نہیں توڑ دیے ہم نے اِس پر جو یوں رو رہی ہے...بدتمیزی کرتی ہیں میرے گھر والوں کے ساتھ... ساجد سخت لہجے بولا تھا..شاید وہ خود کو غلط نہیں دکھانا چاہتا تھا
نہیں امی....میں نے..
اور اب اِسے تب ہی بھیجیے گا جب یہ میرے گھر والوں کی عزت کرنا سیکھ لے... عائشہ نے اپنا سر اٹھا کر کچھ کہنا چاہا تھا..لیکن ساجد عائشہ کی بات کاٹتا فوراً بولا
عائشہ کی ماں نے خوف سے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا.. رونے سے آنکھوں میں لال دڑاڑیں پر چکی تھی..
ساجد بیٹا تم ادھر آؤ بیٹھو یہاں. بیٹھ کر بات کرو تحمل سے.. امی نے پاس پڑے صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کا کہا
مریم ڈرتے ہوئے ماں کی جانب بڑھی..سب بچے پھپھو کو دیکھتے اپنے اپنے پورشن کی جانب بھاگے.
میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا..آپ کی جاہل بیٹی واپس دینے آیا ہوں..ساجد اونچی آواز میں بولا تھا...وہ اپنا رعب اور دبدبہ برقرار رکھنا چاہتا تھا
عائشہ کے بھائی اور بھابھی نیچے سے آوازیں سنتے اپنی کمروں سے نکل آئے تھے
اتنی ہی جاہل تھی تو شادی نہ کرتے مجھ سے..بس ہر وقت اپنی مردانگی جتانی آتی ہیں..مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی ماں کی تربیت دکھاتے ہیں آپ...عائشہ غصے سے اٹھی اور ساجد کے مقابل کھڑے ہوکر بولنے لگی
آنسو مسلسل بہہ رہے تھے..اُس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا
ساجد کو اپنا آپ چور لگنے لگا...تین سال پہلے والی عائشہ کہی نظر نہ آئی..اُسے عائشہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر خوف آنے لگا تھا
وہ عائشہ کو نظر انداز کرتا امی کی جانب بڑھا
دیکھ رہی ہیں آپ امی.. ایسے چلتی ہے اِس کی زبان سارا دن گھر میں.. بات تک کرنے کی تمیز نہیں اِس عورت کو.. ساجد عائشہ کو دیکھتا آہستہ آواز میں غرایا
مریم نے عائشہ کی ٹانگ پکڑی اور اوپر منہ کرتی کبھی ساجد کو دیکھتی کبھی عائشہ کو...وہ ڈری سہمی سی کھڑی تھی..
عائشہ اپنے آنسو صاف کرتی مریم کو اٹھانے کیلئے جھکی
بیٹا کم از کم اِس کی حالت تو دیکھ لیتے.. ماں بننے والی ہیں یہ..آگے ہی اِس میں جان نہیں ہے.. اگر کوئی غلطی کر دی تھی تو نظر انداز کر دیتے.. امی اپنا بھارا وجود سنبھالتے ہوئے دروازے کی طرف آئی اور ایک نظر آنسو بہاتی عائشہ پر ڈالی جو مریم کو گود میں لئے سلانے کی کوشش کر رہی تھی
یہ اِن سب کی خود ذمہ دار....
ارے بس کر جاؤ ساجد میاں.. اور کتنے ظلم کرنے ہیں میری بہن پر... ساجد کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی عائشہ کا بھائی اونچی آواز میں ساجد پر برس پڑا.. بھابھیاں ساجد کو گھورتے ہوئے عائشہ کی طرف بڑھی
اپنی بہن کو رکھے اپنے پاس ہی.. آپ جیسے بھائی گھر نہیں بسنے دیتے.. جو اپنی بہن بیٹیوں کو شہہ دیتے ہیں.. ساجد نے بھی ترکی با ترکی جواب دیا
عائشہ نے درد سے اپنی آنکھیں بند کی..اُس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا  ..وہ مریم کو لٹاتی دور کھڑے ساجد کو دیکھنے لگی.. جو بھائیوں کے ساتھ بحث میں لگ چکا تھا
بھابھیاں عائشہ کے قریب کھڑی اسے تسلی دینا چاہ رہی تھی...عائشہ کی امی نے ڈوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کیے...
عائشہ کے ابو گھر میں نہ تھے اِس وقت
عائشہ کو اپنی سماعت ختم ہوتی محسوس ہوئی..اُس نے بولنا چاہا مگر حلق سے آواز نہ نکلی...
وہ غائب دماغی سے سامنے چھڑی جنگ دیکھ رہی تھی
ساجد بھائیوں کو سناتا غصے سے پیر پٹختا وہاں سے روانہ ہوگیا
امی....عائشہ اپنے سر پر ہاتھ رکھتی حلق کے بل چلائی اور ہوش سے بےگانہ ہوکر صوفے پر ہی گر گئی
سب گھر والے بھاگتے ہوئے عائشہ کی جانب آئے
ساجد گھر سے باہر نکلتے سڑک پر چلنے لگا...اُسے اپنا آپ ادھورا لگنے لگا تھا.. وہ عائشہ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن ماں کا حکم ماننے سے بھی انکار نہیں کرسکتا تھا...وہ بھی ایک پر سکون زندگی بسر کرنا چاہتا تھا..عائشہ کا روتا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا... شکوہ کرتی نگاہیں جو ساتھ مانگنے کی طلب گار تھی.. اُسے اپنی بے رخی یاد آگئی.... اپنا دھتکارنا یاد آگیا تھا...عائشہ کی منت بھری آواز کانوں میں گونجنے لگی.اُس نے خوف سے دل پر ہاتھ رکھا دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی تھی..اُس نے ہاتھ گرایا اور آسمان کی جانب نظر اٹھائی...روشنی کی چمک سے آنکھوں میں چبھن ہونے لگی.. وہ اپنی پلکیں گراتا بھاری قدموں کے ساتھ گھر کی جانب چل دیا
###########
عائشہ کو امی کی طرف آئے 7 ماہ ہوچکے تھے....بیٹی کی پیدائش ہوکر وفات ہوگئی تھی..جبکہ 6 ماہ پہلے ابو بھی وفات پاگئے تھے.. عائشہ خاموش اور گم سم سی رہنے لگی تھی... ساجد کو کبھی جو بیوی اور اولاد کی محبت ستاتی تو وہ چھپکے سے ملنے آجاتا.. عائشہ ساجد کی موجودگی سے بچتی خود کو پہلے سے زیادہ کام میں مصروف کر دیتی...ساجد کی ماں اور بھائی عائشہ کا گھر بسانا چاہتے تھے...امی منتظر تھیں کہ ساجد کب عائشہ کے حوالے سے بات کرے... اور ساجد اپنی ماں کے حکم کا منتظر
عائشہ بیٹا ادھر آؤ.. چھوڑ دو یہ کام.. ادھر آکر بیٹھو میرے پاس...امی نے پلنگ پر بیٹھے عائشہ کو آواز لگائی جو فریج صاف کرنے میں مصروف تھی..
جی امی بس آئی.. تھوڑا سا کام رہ گیا ہے..عائشہ مصروف سے انداز میں فریج  کے اندر گردن گھسائے بولی
چھوڑ دو کام. ادھر آکر بات سنو میری...جب دیکھو کام میں ہی لگی رہتی ہو.. کبھی ماں کے پاس بھی دو گھڑی بیٹھ جایا کرو.. امی نے حکم دیتے مصنوئی ناراضگی سے کہا
عائشہ نے فریج سے گردن باہر نکال کر ماں کو دیکھا..جو غصے سے اُسے گھور رہی تھی وہ مدھم سا مسکراتے ہوئے ان کی جانب بڑھی
جی امی...کہیے کیا بات ہے.. آپ کو کچھ چاہئے کیا..؟عائشہ پلنگ کے کنارے پر ماں کے پاس بیٹھی اور محبت سے پوچھا
مجھے میری بیٹی کی خوشیاں چاہئے.. کیا مل سکتی ہیں مجھے.. امی نے عائشہ کے رخسار پر ہاتھ رکھا..
عائشہ نے الجھی نظروں سے دیکھا..اُس کی آنکھوں کی ویرانی ماں کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی..
کیا مطلب امی...عائشہ نے انجان بنتے پوچھا
عائشہ بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے گھر کی ہوجاؤ.. ساجد آئے دن ملنے آتا ہے تم لوگوں سے..
امی مجھ سے نہیں صرف اپنی بیٹی سے. عائشہ بات کاٹتی بے رخی سے ببولیقہ ساجد کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ تم سے بھی ملنے آتا ہے.. پر تم تو اُس کے پاس تک نہیں بیٹھتی..وہ کتنی کتنی دیر انتظار کرتا ہے تمہارا... امی نے عائشہ کو سمجھانا چاہا
مجھے کوئی غرض نہیں ہے اِن سب سے.. عائشہ نے منہ موڑ کر کہا اور دور بیٹھی مریم کو دیکھا جو بھائی کے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی..وہ جلتے دل کے ساتھ نظریں جھکا گئی
بیٹا زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے.. تمہارے ابو بھی رخصت ہو چکے ہیں اِس دنیا سے.. اور ناجانے کب میری سانسوں کا اختتام ہوجائے..میں چاہتی ہوں تم ساجد کے ساتھ چلی جاؤ...میں خود کر لوں گی اُس سے بات...ابھی تو میں ہوں.. کیا میرے بعد بھی بھائیوں کے سہارے بیٹھی رہو گی...وہ عائشہ کو دیکھتی بے بسی سے بولی
عائشہ نے اپنی جھکی پلکیں اٹھاتے ماں کو دیکھا.اُسے تکلیف پہنچی تھی ماں کی بات سے.. اُسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے
دیکھو عائشہ مریم کو باپ کے پیار کی ضرورت ہے. وہ اکثر تم سے گھر جانے کا پوچھتی ہے آخر کب تک ٹالو گی اُسے..امی نے بے بسی سے ایک اور جواز پیش کیا
امی آپ کو برا لگتا ہے میرا یہاں رہنا تو میں دارالامان چلی جاؤں گی لیکن ساجد کے پاس واپس نہیں جاؤں گی..وہ بے یقینی سے ماں کو دیکھتے دو ٹوک انداز میں بولی اور پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی
امی نے افسوس سے عائشہ کو دیکھا
اور آپ واپس جانے کی بات کر رہی ہیں اُس شخص کے پاس جس نے ایک دن بھی آپ سے بات تک نہیں کی اُس موضوع پر.وہ مجھے نہیں مریم کو ملنے آتے ہیں..اور میں بہت جلد اُن سے خلاء لے لوں گی. پھر چاہے مجھے ساری زندگی دربدر ہی کیوں نا گزارنے پڑے... عائشہ آنکھوں میں نمی لئے وہاں سے کچن کی جانب چلی گئی
امی نے ڈر سے عائشہ کی باتیں سنی.. وہ باغی ہونے لگی تھی
###########
#قسط_14
مزید دو ماہ گزر چکے تھے...امی عائشہ کو دیکھ کر پریشان ہوتی تھیں..انہیں بیٹی کا غم اندر اندر کھا رہا تھا..
ساجد اکثر فون بھی کرتا تھا گھر کے نمبر پر تاکہ عائشہ سے بات ہوسکے..لیکن عائشہ ہر بار ٹال دیتی تھی...وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی...لیکن راتوں کی تنہائی میں اکثر آنسو بہاتی.. اپنے نصیبوں پر روتی.. کبھی رب سے شکوہ کر لیتی...
گھر والوں کے کام بھر چڑھ کر کرتی تاکہ کسی کو بات کا موقع نہ ملے... نسیمہ بھی اپنی بہن کو دیکھ کر افسردہ ہوجاتی...ساجد نے بات کی تھی نسیمہ سے عائشہ کے حوالے سے.. وہ اُسے واپس لے جانا چاہتا تھا...عائشہ نے کچھ وقت مانگا تھا..آخر وہ کب تک ماں کے در پر پڑی رہتی.. اور سب سے بڑھ کر مریم کا سوچنا تھا... اُسے باپ کی محبت سے کیسے دور رکھتی...
رات کا وقت تھا...عائشہ صحن میں اوپر جاتی سیڑھیوں میں بیٹھی تھی...وہ ساجد کے بارے میں سوچ رہی تھی...کتنی آسانی سے اُسے اپنے گھر سے نکال دیا تھا..اور اب پچھتانا..کیا یہ اہمیت ہوتی ہے شوہر کی نظر میں بیوی کی..؟ کیا بیوی کے حق کیلئے آواز بلند کرنا گناہ ہوتا ہے..؟کیا صرف ماں کا حکم ماننے کا کہا گیا ہے اسلام میں... بیوی کے کوئی حقوق نہیں...
عائشہ کو شادی سے لے کر اب تک کی ساری باتیں یاد آگئی.. نا چاہتے ہوئے بھی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکل آئے...وہ سیڑھیوں سے اٹھی اور آنسو صاف کرتی اندر کی جانب بڑھی جہاں امی,مریم اور عائشہ کی چھوٹی بہن سو رہے تھے...
عائشہ....جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی ماں کی آواز کانوں میں پڑی...
جی امی آپ کو کچھ چاہئے... عائشہ نے نظریں چراتے کہا
بیٹا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے.. سانس نہیں آرہا... امی بامشکل بولی تھی
عائشہ نے نم آنکھوں سے ماں کو دیکھا.. جو اپنے سینے پر ہاتھ رکھے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھیں
امی..کیا ہوا ہے آپ کو... وہ حواس باختہ سی ماں کی طرف دوڑی.. اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر سینا مسلنے لگی
بیٹا شاید زندگی کا سفر یہی تک تھا... تم فکر مت کرنا..اپنا گھر بسا لینا پھر سے.. ساجد تمہارا منتظر ہے...امی نے عائشہ کے ہاتھوں کو تھامتے کہا
عائشہ نے خوف سے ماں کو دیکھا...
نہیں امی.... وہ چلاتے ہوئے بولی.. پاس لیٹی بہن اچانک گھبرا کر اٹھی اور عائشہ کو روتے دیکھا
امی کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی...
عائشہ کی کہنے پر بہن بھاگتے ہوئے بھائیوں کے کمروں کی جانب بڑھی اور زور زور سے دروازے کھٹکٹانے لگی
امی.. آپ کو کچھ نہیں ہوگا.. بھائی آتے ہیں ابھی تو آپ کو ہسپتال لے کر جاتے ہیں...وہ ٹوٹے لہجے میں ماں کے بال سہلاتی بولی
عائشہ میری جان..میرا بلاوا آگیا ہے.. تمہارے ابا جان کے پاس بھی تو جانا ہے نا میں نے.. وہ میرا انتظار کر رہے ہیں... امی آہستہ سے بولی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی
عائشہ کو لگا اُس کا دل بند ہوجائے گا... ابھی تو باپ کی موت کا صدمہ برداشت نہ ہوا تھا.. اور ماں کا یہ حال  کلیجہ پھاڑنے کو کافی تھا
بھائی بھابھیاں بھاگتے ہوئے امی کے گرد جمع ہوئے...بہن اونچی اونچی آواز میں رونے لگی تھی.. اور امی کو اٹھنے کا کہنے لگی
امی کا سر اب بھی عائشہ کی گود میں تھا..عائشہ آنکھیں پھاڑے ماں کو دیکھ رہی تھی..
بھائی نے ماں کو اٹھانا چاہا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا..
امی نے مسکراتے ہوئے کلمہ ادا کرنے کیلئے ہونٹوں کو کھولا بھائی عقیدت اور محبت سے سر جھکائے کھڑے ہوگئے
کلمے کے الفاظ کمرے میں گونجنے لگے....امی نے آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کیں اور عائشہ کی گود میں گردن گرا دی
##########
ساجد اور اُس کے گھر والے بھی آگئے تھے.. ہر طرف کہرام کا منظر تھا.. ہر آنکھ اشک بار تھی.. عائشہ جنازے کی چارپائی سے لپٹی ماں کو دیکھ رہی تھی..
عائشہ اپنا گھر بسا لینا.. اُس کے کانوں میں ماں کے آخری الفاظ گونجنے لگے...اُسے لگا شدت غم سے دل پھٹ جائے گا
مریم ساجد کے پاس تھی.. ساجد بھی دور سے کھڑا عائشہ کو روتے دیکھ ریا تھا.. اُسے تکلیف ہورہی تھی.. وہ عائشہ کو حوصلہ دینا چاہتا تھا..اُس سے معافی مانگ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا تھا..اسے گلے سے لگانا چاہتا تھا.. ُلیکن یہ موقع نہ تھا کچھ کرنے کا..
رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا.. بھابھیوں نے مشکل سے عائشہ کو جنازے سے دور کیا تھا.. وہ حلق کے بل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی..نسیمہ نے آگے بڑھ کر عائشہ کو اپنے حصار میں لیا
بھائی آخری بار ماں کا دیدار کرتے نم آنکھوں کے ساتھ جنازے کو کندھا دینے کیلئے بڑھے.. اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے انہیں آخری آرام گاہ کی طرف لے چلے
اگلے دن ساجد نے بھائیوں سے عائشہ کی رخصتی کی اجازت چاہی..اور انہیں کہا کہ اب سے عائشہ اور وہ ایک الگ گھر میں رہیں گے..
عائشہ کے بھائی نے اجازت دے دی... اور عائشہ اپنا دل صاف کرتی ماں کی آخری بات دل میں رکھے ایک نئی زندگی کی شروعات میں نکل پڑی... یہ امید کرتی کہ مستقبل بہتر ہوگا..
انشاءاللہ
############
#حال
ساجد خاموش سا رکشے میں پیچھے کی جانب سر جھکائے بیٹھا تھا اسے عائشہ پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں لگا تھا...
وہ کیسے عائشہ کو سمجھاتا کہ ماضی کو بھول جائے.. جو زیادتیاں اُس کے ساتھ ہوئی تھی وہ نصیب میں لکھی تھی.. اب تو اُس کی ماں مر چکی ہے.. اور مرنے والوں کی برائی نہیں کرتے....عذاب بڑھ جاتا ہے...
وہ اپنا سر جھٹکتا رکشے سے باہر نکلا.. اور پاس ہی ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا...آج پھر غفور کا فون آیا تھا.. ساجد نے کچھ پیسے مشکل سے جوڑ کر دے دیے تھے جو پچھلے مہینے کا کرایہ بھی پورا نہ تھا.. غفور نے ساجد کی منتوں پر مزید کچھ دنوں کی محلت دی تھی..اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر کرایہ ادا نہ کیا تو گھر خالی کرنا ہوگا.
فون کی آواز پر وہ سوچوں کے دلدل سے نکلا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا..حمید کی کال تھی
اسلام علیکم
.کیسے ہو حمید.. ساجد نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں میں بالکل ٹھیک اللہ کا شکر.. وہ ارد گرد دیکھتے ہوئے بولا
جی...
ضرور ضرور کیوں نہیں میں لے جاؤں گا بچوں کو.. تم بات کر لو اُن لوگوں سے.. یا میری بات کروا دو.. ساجد کی آنکھوں میں ایک دم خوشی کی لہر دوڑی تھی
حمید نے ساجد کو کسی گھر کا بتایا تھا جسے رکشے والے کی ضرورت تھی...
ساجد حمید سے بات کرنے لگا..
ہاں ٹھیک ہے میں کل آؤں گا انشاءاللہ..وہ آہستہ سے بڑے پتھر سے اٹھ کھڑا ہوا
اوکے اللہ حافظ.. ساجد نے گہری مسکراہٹ سے کہا اور موبائل جیب میں رکھ دیا
آذان کی آواز مسجدوں میں بلند ہوئی..ٹریفک کے شور میں بھی کانوں میں رس گھول رہی تھی..
حی علی الفلاح..موؤذن نے کامیابی کی طرف بلایا
ساجد کے قدم خود بخود مسجد کی جانب چلنے لگے
وہ اذان کے سحر میں کھویا مسحور سا مسجد میں داخل ہوا...
وضو کر کے تر چہرہ لئے اندر کی جانب بڑھا اور پہلی صف میں کھڑا ہوگیا...
رب کے سامنے جھکتا وہ اپنی ساری تکلیف سجدے میں گرا چکا تھا
#############
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_15

عائشہ..اوہ عائشہ..کہاں یے تو..؟ساتھ والی ہمسائی کوثر عائشہ کو آوازیں دیتی ہوئی صحن میں آگئی
جی باجی کوثر کیا بات ہے سب خیریت تو ہے.. ؟عائشہ کمرے میں بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی..کوثر کے انداز پر باہر آتی پریشانی کے عالم میں پوچھا
ہاں ہاں سب خیریت ہے..میں نے سوچا کہیں سو نہ رہی ہو اسی لیے اونچی آواز دی...کوثر نے آرام سے جواب دیا
عائشہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے ایسے جواب پر
توبہ ہے کوثر باجی.. میں تو ڈر ہی گئی آپ کے انداز پر...بھلا میں دن کے وقت کہاں سوتی ہوں.. کام سے ہی فرصت نہیں ملتی..عائشہ نے چارپائی بچھاتے کہا
کوثر گھر کا جائزہ لیتی چارپائی پر بیٹھ گئی
ہانیہ نے بیڈ پر بیٹھی ترچھی ہو کر باہر دیکھا کوثر باتوں میں مصروف ہوگئی تھی
لو جی..اب دیکھنا عجیب عجیب سی باتیں کرتیں ماما کے ساتھ..اور اتنا وقت ضائع کرتی ہمارا....ہانیہ کوثر کو دیکھتی عجیب منہ بنا کر بولی
تمہیں کیا کہہ رہی ہیں وہ..مریم نے سرسری سا پوچھا
آگے ہی بہت کم وقت ملتا ہے ہمیں ماما کے ساتھ باتیں کرنے کا..سارا دن تو وہ کام میں لگی رہتی ہیں..اور جب تھوڑا سا فارغ ہوتی ہیں تو کوئی نا کوئی آجاتا ہے..ہانیہ اداسی سے بولی
کوثر کا ہر روز آجانا اُسے پسند نہیں تھا
ہاں صحیح بات یے....اب ٹائم بھی ہونے والا ہے ٹیوشن کا..مریم نے گھڑی کو دیکھتے کہا
میرا دل نہیں کر رہا آج جانے کا..ہانیہ آرام سے کہتی بیڈ پر لیٹ گئی
کیوں بھئی.تمہیں پتا ہے نا پیپرز شروع ہونے والے ہیں ہمارے.. اور تم چھٹی کی بات کر رہی ہو.؟مریم نے حیرت سے دیکھتے پوچھا
یار...پتا نہیں کب ختم ہوگے پیپرز...اور کب میرا حفظ شروع ہوگا..اور کب میرے نام کے ساتھ حافظہ لگے.. اور سب مجھے عزت سے پکاریں گے...ہانیہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے تفصیل سے کہا
یہ دیکھ بہن.. ہاتھ جوڑ رہی ہوں اب اپنا ہانیہ نامہ مت شروع کر لینا..مریم نے اکتاتے ہوئے ہاتھ جوڑے
اپنی مرتبہ جو مرضی بول لو..میں بولوں تو برا لگتا ہے.. ایک دن جب کچھ نہیں بولو گی نا پھر منتیں کرنا سارے...لیکن میں بتا رہی ہوں پھر بھی نہیں بولوں گی..ہانیہ شہادت کی انگلی دکھاتی بولی
ہاں اور وہ دن پتا نہیں کب آئے گا.. مریم نے بات مذاق میں اڑا دی..
ہانیہ نے گھورتے ہوئے مریم کو دیکھا جو ٹیوشن کی تیاری کرنے میں مصروف ہوچکی تھی اُس نے مزید بولنا اپنی توہین سمجھی اور کچھ دیر کیلئے ہی سہی خاموش ہوگئی😑
##############
ساجد تھکا تھکا سا گھر میں داخل ہوا. رات کے 9 بجے کا وقت تھا....وہ مطمئن ہوگیا تھا کافی..حمید نے اُس کی بات کروا دی تھی اُن لوگوں سے جس کے بچوں کو سکول چھوڑنے اور واپس لانے کی ذمہ داری دی گئی تھی.. ساجد نے اُن لوگوں سے ایڈوانس پیسوں کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ مکان کا کرایہ ادا کرسکے..اور وہ لوگ حمید کے کہنے پر مان گئے تھے...
انہوں نے ایک ہفتے تک پیسے دینے کا کہا تھا.. وہ رب کا شکر ادا کرتا پر امید ہوگیا تھا.. بے شک زندگی میں مشکلات اور ْزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں..لیکن انسان کو کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے..اور اللہ پر توکل کو پختہ رکھنا چاہئے.. وُہ غیب سے مدد فرماتا ہے....
ساجد نے سلام کیا اور صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا..جہاں عائشہ بیٹھی سوئی دھاگے سے کچھ سینے میں مصروف تھی
عائشہ نے ایک نظر اُسے دیکھا اور آہستہ آواز میں جواب دیتی کچن کی جانب چلی گئی.. اُس نے کوئی بات نہیں کی تھی..شاید ابھی تک ناراض تھی وہ..
ساجد کو ایک دم سے دکھ ہوا..لیکن وہ سوچ چکا تھا عائشہ کو منا لے گا..عائشہ کی ناراضگی برداشت کرنا بہت مشکل تھا اُس کیلئے
مریم پانی پکڑا دو اپنے پاپا کو... عائشہ نے کچن سے ہی آواز لگائی
مریم پانی کا گلاس پکڑ کر ساجد کے قریب لے آئی
یہ لیں پاپا..
تمہارے پیپرز کب شروع ہورہے ہیں.. ساجد نے پانی کا گلاس پکڑتے مریم کو دیکھتے کہا
پاپا بس کچھ دن بعد..آپ دعا کیجیے گا اچھے ہو پیپرز.. بورڈ کے پیپرز بہت مشکل ہوتے ہیں نا..مریم نے پیپرز کا سوچ کر ڈرتے ہوئے کہا
کچھ مشکل نہیں ہوتا بیٹا..بس انسان میں لگن ہونی چاہئے..اور جو شخص محنت اور دل جمئی سے کوئی کام کرتا ہے.کامیابی اُس کے قدم چومتی ہے...ساجد آج کافی عرصے بعد مریم سے اِس طرح بات کر رہا تھا...عائشہ نے خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لئے ساجد کو دیکھا..اور چارپائی سے کپڑے پکڑتی زمین پر بیٹھ گئی
مریم کو خوشی ہوئی باپ کا رویہ دیکھ کر..وہ بہت کم بچوں سے بات کرتا تھا.. اور خاص طور پر پڑھائی کے معاملات میں.. جس کی وجہ سے اکثر عائشہ ساجد سے شکوہ بھی کرتی "کہ ایک باپ ہونے کی حیثیت سے اُسے بچوں کو ہر بات سے واقف ہونا چاہئے"..
جی میں بہت اچھا پڑھوں گی.. اور انشاءاللہ اچھے نمبر لوں گی.. مریم نے خوش ہوتے کہا اور ساجد کے ساتھ ہی بیٹھ گئی
انشاءاللہ..ساجد بھی مسکرا کر بولا اور پانی پینے لگا
حارث اور ہانیہ کہاں ہیں.. ساجد نے وہی بیٹھے کمرے میں دیکھنا چاہا.. جہاں مدھم سی روشنی چل رہی تھی..
پاپا وہ دونوں ٹی وی دیکھ رہے ہیں.. انہیں پتا نہیں ہوگا کہ آپ آئیں ہیں کام سے.. مریم نے تفصیل دیتے کہا
ہممممم...اُس نے محض سر ہلایا
عائشہ ابھی بھی لاتعلق سی اپنے کام میں مصروف نظر آئی لیکن کان لگا کر باپ بیٹی کی گفتگو ضرور سن رہی تھی
پاپا آپ کو اچھا نہیں لگتا ہمارا پڑھنا..مریم نے ایک دم سنجیدہ ہوتے سوال کیا
ساجد کو حیرت ہوئی مریم کے سوال پر.. وہ تو چاہتا تھا کہ اُس کے بچے علم حاصل کریں..ایک اچھے مقام پر پہنچیں..پھر مریم کا ایسا سوال..
آپ کو کس نے کہا ہے یہ...ساجد نے بغیر کسی تاثر کے پوچھا
آپ نے ہی تو کہا تھا کہ غریبوں کے بچے نہیں پڑھتے..ہمیں بھی سکول سے ہٹا لیں...مریم نے یاد دہانی کروائی
ساجد کو اپنا دماغ گھومتا محسوس ہوا
عائشہ نے چونک کر مریم کو دیکھا جو جواب طلب نظروں سے باپ کو دیکھ رہی تھی
اُس کے بچے باتوں کا کتنا اثر لیتے تھے.. یہ کبھی سوچا ہی نہیں..ہمیشہ بچوں کے سامنے لڑتے تھے وہ دونوں.. بنا یہ سوچے کہ بچوں پر کیا اثر پڑتا ہوگا
بیٹا وہ تو میں نے بس ایسے ہی کہہ دیا تھا..ساجد کچھ شرمندہ سا ہوتا بولا
اور علم حاصل کرنا ہر ایک کا حق ہے.. اور نہ صرف حق بلکہ فرض بھی...ساجد اب کی بار مسکرا کر بولا
پھر پاپا آپ ہم سب کو پڑھانا..ماما اور آپ مل کر ہمیں پڑھانا.. اور جب ہم پڑھ جائیں گے تو سارے پیسے واپس آجائیں گے جو ہم پر لگے ہیں...مریم نے پوری پلیننگ بتائی
اچھا جی سارے پسے کیسے واپس آئیں گے.ساجد نے دلچسپی سے پوچھا
اوہو پاپا.. ظاہر سی بات ہے پھر ہم تینوں جاب کریں گے.. تو پیسے واپس آجائیں گے.. مریم نے منہ بنا کر کہا جیسے ساجد کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہو
ساجد مریم کے انداز پر ہنسنے لگا
مریم اٹھو اور کھانا دو پاپا کو.. میں کام کر رہی ہوں.. صبح سوٹ دینا ہے میں نے..عائشہ مصروف سے انداز میں بولی
مریم سر اثبات میں ہلاتی کچن میں سالن گرم کرنے چلی گئی..
ساجد چارپائی سے اٹھا اور زمین پر عائشہ کے قریب بیٹھ گیا.. وہ قمیض کے گھیرے کو ترپائی کر رہی تھی
عائشہ ساجد کو نظر انداز کرتی اپنے کام میں لگی رہی
عائشہ... ساجد نے اُسے پکارا
جی.... اُس نے ہاتھ روک کر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
ناراض ہو مجھ سے ابھی تک.. ساجد نے معصوم سی شکل بنا کر کہا
عائشہ کو ساجد سے اِس بات کی توقع نہ تھی وہ حیرت سے آنکھیں کھولے ساجد کو دیکھنے لگی
میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا عائشہ..لیکن میں کیسے برداشت کرلوں کہ کوئی میری ماں کو کچھ کہے..انہوں نے جو کیا وہ اُن کا اپنا عمل تھا.. سزا اور جزا دینے کا حقدار اللہ تعالی ہے..مجھے اچھا نہیں لگتا جب تم میری مرحومہ ماں کو کچھ کہتی ہو..ساجد بے بسی سے بولا
عائشہ نے بنا کچھ کہے اپنی گردن جھکا دی
وہ بھی شرمندہ تھی خود پر.. اپنے کہے الفاظوں پر...لیکن ساجد جتنا ظرف نہ تھا کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتی..
میں نہیں ناراض آپ سے.. وہ ہلکی آواز میں بولی
شاید بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتی تھی
تو پھر تم نے آج مجھے خود پانی کیوں نہیں پلایا.. اور نہ ہی کھانا دیا.. ساجد عائشہ کو دیکھنے شکوہ کرتے ہوئے بولا
ساجد مجھے صبح تک یہ سوٹ دینا ہے..ابھی بھی اِس کی شلوار سلائی کرنی ہیں میں نے.. عائشہ بے زار سے لہجے میں بولی
ابھی تم آرام کر لو صبح اٹھ کر سلائی کر لینا...ساجد نے فوراً  محبت سے کہا
نہیں بس سل جائے گی جلدی ہی.. اور یہ ترپائی بھی ہوگئی ہے بس.. عائشہ نے قمیض کو ایک طرف رکھا اور مشین میں دھاگہ ڈالنے لگی
ساجد کچھ دیر خاموش ہوگیا
عائشہ.. اُس نے پھر سے کہا
جی..
مجھے سکول کے بچے مل گئے ہیں..اب انشاءاللہ میں اِس ماہ کا کرایہ دے دوں گا جلد ہی...ساجد نے عائشہ کو خوشخبری دینا چاہی
شکر ہے اللہ پاک کا میں صبح نفل پڑھوں گی
.عائشہ نے اللہ کا شکر ادا کیا
پاپا کھانا کھا لیں.. مریم نے چارپائی پر کھانا رکھتے کہا
ساجد عائشہ کو دیکھتا مطمئن سا وہاں سے اٹھ گیا اور کھانا کھانے لگا
مریم بیٹا سو جاؤ جاکر صبح سکول کیلئے بھی اٹھنا ہے.. عائشہ نے مشین چلاتے ہوئے کہا
لیکن ماما آپ..مریم کو ماں پر ترس آیا.. وہ سارا سارا دن گھر کا کام کرتی اور اکثر رات کو مشین پر بیٹھ جاتی بنا اپنے آرام کی پرواہ کیے.. تاکہ اولاد کی پڑھائی کے اخراجات پورے کر سکے
میں بھی سو جاؤں گی تم جاؤ اندر دیکھو ہانیہ اور حارث سوئے ہیں ابھی تک یا نہیں..عائشہ نے لا پرواہی سے کہا
ابھی بھی اُسے بچوں کی ہی فکر تھی
مریم خاموش سی وہاں سے کمرے میں داخل ہوئی.. جہاں ہانیہ اور حارث دونوں بیڈ پر آڑے ترچھے پڑے سو رہے تھے..اور ٹی وی چل رہا تھا..جس کی ہلکی سی روشنی کمرے میں پڑ رہی تھی..
کوئی حال نہیں اِن کا بندہ ٹی وی بند کر دیتا یے... مریم دونوں کو دیکھتی بڑبڑائی اور ٹی وی بند کرتی ہانیہ کے ساتھ جا کر لیٹ گئی
#############
ایک ہفتہ گزر چکا تھا.. ساجد کو آج پیسے ملے تھے اُن لوگوں سے اور اُس نے غفور کو کرایہ ادا کر کے ُسکھ کا سانس لیا تھا.. غفور اپنی فیکٹریوں میں مصروف تھا شاید اِسی لیے کافی دن سے گھر کا چکر نہیں لگایا
اور اگر گھر فون کرتا تو کوئی نہیں اٹھاتا یا حارث کو پکڑا دیا جاتا.. اور غفور کو بھلا حارث سے کیا مطلب تھا دو چار عائشہ اور مریم کا پوچھ کر فون بند کر دیتا
مریم اور ہانیہ کے بھی پیپرز شروع ہوچکے تھے.. وہ دونوں سارا سارا دن کتابوں میں سر دیے بیٹھیں رہتی..حارث کچھ دنوں سے بیمار تھا..عائشہ کو ایک پریشانی چھوڑتی تو دوسری گھیر لیتی..اور پھر بچے کی دوائی اور کھانے کا الگ خرچہ...عائشہ جو سلائی کرتی وہ حارث پر لگا دیتی
#####
مریم ابھی ٹیوشن سے واپس نہیں آئی تھی ہانیہ پیپر کی تیاری مکمل کرتی واپس آگئی تھی اور اب وہ کب حارث کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن حارث نہیں کھا رہا تھا بس رو رہا تھا
ماما حارث کو بہت تیز بخار ہے وہ رو رہا ہے بہت.. ہانیہ کمرے سے نکلتی پریشانی سے بولی
عائشہ نے مشین سے سر اٹھا کر دیکھا
میں نے اُسے دوائی دی تھی نا..اور تمہیں کہا تھا کہ اُسے کھانا کھلاؤ..عائشہ نے کپڑوں کو ایک طرف رکھتے کہا
جی ماما لیکن وہ کچھ کھا نہیں رہا بس رو رہا ہے بہت..میں نے کتنی منتیں کیں ہیں لیکن پھر بھی نہیں کھا رہا کھانا..کہہ رہا ہے ماما کو بلاؤ..ہانیہ نے بے بسی سے کہا
اُسے تکلیف ہوتی تھی حارث کو دیکھ کر..وہ چاہے جتنی لڑاکا سہی لیکن کسی کو درد میں نہیں دیکھ سکتی تھی اور پھر حارث تو اُس کا بھائی تھا...بیمار ہونے کی وجہ سے کافی دنوں سے اُس نے لڑائی بھی تو نہیں کی تھی😞
عائشہ نے کچھ دیر اپنے ہاتھ روکے. وہ کتنی مصروف ہوگئی تھی اپنے کاموں میں کہ بچوں کو وقت تک نہ دے پاتی.
اچھا تم ایک کام کرو ایک برتن میں پانی ڈال کر لاؤ اور ایک کپڑا بھی لے کر آنا میں پٹیاں کرتی ہوں حارث کو. بخار کم ہوجائے گا.. عائشہ مشین کر چھوڑتی اٹھی اور ہانیہ کو ہدایت دیتی اندر کی جانب چلی گئی
اُس نے حارث کو دیکھا جو بخار سے تڑپتا رو رہا تھا..ماں کا دل بری طرح دھڑکا
حارث میرے بچے کیا ہوگیا.. یہ دیکھو ماما آگئی ہیں..ادھر دیکھو میری طرف.. عائشہ تیز تیز قدم اٹھاتی حارث تک آئی اور پریشانی سے اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی
حارث نے شکوہ کنا نظروں سے ماں کی جانب دیکھا.. وہ بخار میں تپ رہا تھا اور ماں مشین پر بیٹھی سلائی کرنے میں مصروف تھی
میں نہیں بولتا آپ سے..حارث نے منہ موڑ کر کہا
عائشہ نے دکھ سے اُسے دیکھا
کیوں نہیں بولنا ماما سے... وہ انجان بنتے بولی
کیونکہ آپ میرے پاس نہیں بیٹھتی.. میں بیمار ہوں اور آپ نے ہانیہ کو کہہ دیا ہے مجھے کھانا کھلانے کا.. مجھے آپ کے ہاتھ سے کھانا کھانا تھا... وہ نقاہت سے اٹھنا شکوہ کرتے بولا
اچھا میری جان ماما اب خود آپ کو خود کھانا کھلائیں گی..عائشہ نے پیار سے حارث کا ماتھا چوما
ہانیہ بھی باؤل میں پانی بھر کر لے آئی تھی اُس نے خاموشی سے عائشہ کے قریب پانی رکھا اور بیڈ پر بیٹھ گئی
ہانیہ کھانا پکڑاؤ مجھے میں حارث کو کھلاتی ہوں.. عائشہ نے پیٹی پر پڑے کھانے کی طرف اشارہ کرتےکہا
ہانیہ بنا کچھ کہے اٹھی اور کھانا بھی لا کر رکھ دیا
عائشہ نے اُس کی طرف دیکھا. آج وہ خاموش تھی بہت
کیا ہوا ہے ہانیہ..عائشہ اُس کے جھکے سر کو دیکھتے کہا.اور حارث کو کھانا کھلانے لگی
کچھ نہیں ماما.. ہانیہ نے فوراً اپنا سر اٹھایا اُس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے
ماما اللہ کرے حارث ٹھیک ہوجائے اور اُس کی جگہ میں بیمار ہوجاؤ اور آپ مجھے بھی ایسے ہی کھانا کھلائیں اپنے ہاتھوں سے...ہانیہ نے حسرت سے کہا جیسی بہت بڑی خواہش کا اعتراف کر رہی ہو
نہ میری بچی.. عائشہ نے خوف سے ہانیہ کی بات سنی اور اُسے آگے بڑھ کر اپنے آنچل میں چھپا لیا
ہانیہ کے رکے ہوئے آنسو بہنے لگے
ماما کام کر رہی ہوتی ہے نا.. اور آپ کیلئے ہی کرتی ہیں تاکہ ماما کے بچے پڑھ جائیں اور ایک اچھے مقام پر پہنچ جائیں.. عائشہ نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا
ہانیہ نے خاموشی سے ماں کی بات سنی.. وہ بھی جانتی تھی ماں کی محنت اور مشقت کے بارے میں
پر ماما آپ ہمارے ساتھ بھی تو وقت گزارا کریں.. ہانیہ نے منہ اٹھاتے کہا
اچھا ٹھیک ہے آج میں نہیں بیٹھتی مشین پر اب اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہتی ہوں.. اور چلو آؤ اب تم دونوں کو کھانا کھلاتی ہوں.. عائشہ آسانی سے مانتے ہوئے بولی
ہانیہ خوش ہوتے اپنے آنسو صاف کر کے بیٹھ گئی
حارث کا بھی آدھا بخار ماں کے ساتھ سے اتر گیا تھا..
عائشہ نے دونوں بچوں کو باری باری نوالہ منہ میں ڈالا اور گھڑی پر نظر ڈال کر مریم کا بھی انتظار کرنے لگی

میرے بچے میری......قُربت کو ترستے ہیں...
میں کہیں رِزق کمانے میں لگی رہتی ہوں... 💔💔
##########
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#از_حافظہ_کنزہ_شاہد
#قسط_16
#تھرڈ_لاسٹ_ایپی

حارث کی طبیعت اب قدرے سنبھل چکی تھی..ساجد کا کام بھی اپنے معمول پر آگیا تھا...جو کمایا جاتا اُس سے گھر کے اخراجات پورے ہوجاتے...مریم اور ہانیہ کے پیپرز بھی ختم ہونے والے تھے..

ہانیہ اور مریم پیپر دے کر سکول سے آئی تھی...اور بھوک سے نڈھال ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئی...
مریم نے شوز اتار کر پیٹی کے نیچے رکھے..اور ہانیہ کو دیکھا جو ابھی بھی شوز سمیت ہی بیٹھی تھی
ہانیہ یار شوز اتار لو..پھر کھانا بھی کھانا ہے..مریم نے بیڈ پر بیٹھتے کہا..اور یقیناً کسی عجیب و غریب جواب کی توقع کی
اچھا.. ہانیہ آرام سے اٹھی اور شوز اتار کر کمرے سے باہر چلی گئی
بڑی بات ہے.. لگتا ہے آج بھوک زیادہ لگی ہے تبھی کچھ نہیں بولی...مریم کو حیرانی ہوئی ہانیہ پر
ماما کھانا دے دیں..بہت بھوک لگی ہے..ہانیہ نے کمرے سے باہر آتی کہا...اُس نے عائشہ کو دیکھا جو کوثر سے بات کر رہی تھی...کوثر آج پھر آکر بیٹھ گئی تھی....
اچھا تم ایک کام کرو کچن میں کھانا پڑا ہے...مریم کو کہو وہ ڈال دے گی... عائشہ نے ہانیہ کی رونی صورت دیکھ کر کہا جو کوثر کو دیکھ کر بن گئی تھی
ایک تو ہم پیپر دے کر آئیں اور اوپر سے کھانا بھی خود ہی ڈال کر کھائیں..رہنے دیں آپ باتیں کریں. جب دل کرے گا دے دینا کھانا...کوثر کو دیکھ کر ہانیہ کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا...وہ سکون سے کہتی وہاں سے چلی گئی...
ہانیہ تو دن با دن بدتمیز ہوتی جارہی ہے.....بہت سر پر چڑھا رکھا ہے تم نے..کوثر افسوس سے بولی
نہیں کوثر باجی..وہ بس ابھی سکول سے تھکی آئی ہے نا اسی لیے...عائشہ نے شرمندہ ہوتے کہا
مجھے تو لگتا یے کوثر آنٹی کو کوئی کام نہیں ہوتا تبھی آکر بیٹھ جاتی ہیں.ہانیہ منہ میں بڑبڑاتی پھر سے کمرے میں داخل ہوئی
تمہیں کیا ہوا ہے.. ایسے منہ کیوں بنایا ہوا ہے.. مریم نے ہانیہ کو دیکھ کر کہا جو جلی ہوئی بیٹھی تھی
کیوں کہ میرا منہ ہی ایسا یے...ہانیہ غصے سے بولی اور بیڈ پر لیٹ گئی
ہو ہی بد تمیز تم..بات کرنا ہی فضول ہے تم سے تو..مریم کو بھی ایک دم غصہ آیا ہانیہ پر
اچھا یار مت بلاؤ مجھے. آرام کرنے دو..ہانیہ بے زار سے لہجے میں بولی
پاگل....مریم نے ہانیہ کو گھور کر دیکھا اور کچن میں کھانا ڈالنے چلی گئی
مریم نے کوثر کو سلام کیا اور کچن میں چلی گئی
کوثر نے ایک عجیب نظر اُس پر ڈالی اور پھر سے شروع ہوگئی
کیا بتاؤ میں..آج کل تو جوان لڑکیوں کا کوئی حال ہی نہیں ہے..عشق معشوقی لڑاتی پھرتی ہیں...ابھی دو دن پہلے میں نے ساتھ والے گھر کی لڑکی کو گلی میں کھڑے کسی لڑکے سے بات کرتی دیکھا....بھئی ہمارے زمانے میں تو لڑکیاں اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتی تھیں کہ گھر سے آواز باہر نہ چلی جائے....یہ جو زیادہ پڑھ جاتی ہیں نا یہی تارے دکھاتی ہیں پھر ماں باپ کو..کوثر نے افسوس سے سر نفی میں ہلاتے کہا
مریم بیٹا آنٹی کو چائے بھی بنا دو..عائشہ نے مریم کو دیکھا جو کھانا لے کر کمرے میں جا رہی تھی
مریم نے بے چارگی سے ماں کو دیکھا البتہ کہا کچھ نہیں
اچھا پہلے کھانا کھا لو پھر بنا دینا..اور دیکھو ہانیہ سو تو نہیں گئی..عائشہ نے مسکرا کر کہا
مریم سر اثبات میں ہلاتی چلی گئی
کوثر باجی وہ آپ کے زمانے تھے جب لڑکیاں ایسی تھیں..اب تو لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے ہر کام میں زیادہ آگے ہوتی ہیں...اور رہی بات اُس بچی کی تو ضروری نہیں ہے کہ لڑکوں سے بات کرنے والی لڑکیاں بد کردار ہو..اب لڑکیاں پڑھتی ہیں.. جاب بھی کرتی ہیں....زمانہ بدل گیا ہے کوثر باجی آپ بھی اپنی سوچ بدل لیں... عائشہ نے کوثر کو سمجھانے کی ایک ناکام کوشش کی
ارے نا بہن..مجھے نہیں بننا مارڈن.. کوثر نے منہ بسوڑ کر کہا
لڑکیوں کو کیا ضرورت ہے گھر سے باہر نکلنے کی..عورتیں تو گھر کی زینت ہوتی ہیں اور گھروں میں ہی اچھی لگتی ہیں..میری بیٹی کو ہی دیکھ لو کبھی نکلی ہے گھر سے باہر...کوثر نے مائیوں والے انداز میں ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے کہا مریم کھانا کھا کر کچن میں چائے بنانے آگئی.. ہانیہ تھک کر سو چکی تھی اور مریم کے کہنے پر بھی نہیں اٹھی..وہ عائشہ کے منانے پر ہی کھانے کھائے گی
آپ تو سارا دن تقریباً گھر سے باہر ہی ہوتی ہیں...پھر آپ کو کیا پتا سائرہ کا...عائشہ نے پہلی مرتبہ کوثر کو جواب دیا تھا
کوثر ہکا بکا سی اُسے دیکھنے لگی.
یہ لیں آنٹی.. مریم نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ سامنے کیا
بڑی ہوگئی ہے تمہاری بیٹی بھی..نظر رکھا کرو.. سکول آتی جاتی ہے کہیں ایسے ویسے چکروں میں نہ پڑ جائے..کوثر نے مریم کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کپ ہاتھ میں تھام لیا
خدا کا خوف کریں کوثر باجی...بولنے سے پہلے سوچ تو لیا کریں...میری بچی چاہے جتنی جتنی مرضی بڑھی ہوجائے آپ کی سائرہ سے چھوٹی ہی ہے.. آپ اُس کی فکر کریں..عائشہ کو غصہ آگیا تھا کوثر کی بات پر
کوثر نے حیرانی سے عائشہ کو دیکھا..وہ جل گئی تھی اندر سے اپنی بے عزتی پر
اور تم جاؤ کمرے میں جاکر آرام کرو..عائشہ نے اب کی بار مریم کو گھور کر دیکھا جو پریشان کھڑی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
مریم ماں کو غصے میں دیکھ فوراً وہاں سے چلی گئی
توبہ توبہ زبان دیکھو زرا کیسے چلتی ہے..میں تو سمجھا رہی تھی تمہیں اور تم نے میری بیٹی کو ہی بات کر ڈالی.. کوثر باجی دہائیاں دیتی چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی
عائشہ نے ایک ناگوار نظر اُس پر ڈالی
میری بیٹی نے تو آج تک کسی غیر مرد کو دیکھا تک نہیں..اور یہ لو پکڑو اپنی چائے دیکھ لی تمہاری عزت میں نے گھر آئے مہمان کو باتیں سنا ڈالیں...کوثر عائشہ کو چائے پکڑاتی بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
عائشہ نے بھی اُسے روکنے کی ضرورت محسوس نہ کی
عائشہ آج بھی کچھ نہ بولتی لیکن اب بات اُس کی بیٹی کی تھی وہ کیسے خاموش رہ لیتی
مائیں خود پر آنے والی ہر آنچ برداشت کر لیتی ہیں لیکن اپنی اولاد کی خاطر کچھ بھی کر گزرتی ہیں
عائشہ نے بھی تو آج تک اپنی اولاد کیلئے ہی سب کچھ برداشت کیا تھا. پھر چاہے وہ سسرال والوں کی زیادتیاں ہو یا لوگوں کی باتیں
اگر وہ ساجد کے پاس سب کچھ بھلا کر واپس آئی تھی تو صرف اسی لیے کہ اُس کے بچے باپ کی شفقت سے محروم نہ ہوجائیں
###########

#پانچ_سال_بعد
اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے.. لیکن جن کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہو وہ جلدی نہیں گزرتی..ایک ایک سانس گزارنا مشکل لگتا ہے....کوئی ایسے لوگوں سے پوچھے کہ وقت نے انہیں کس کس طرح دکھ دیے ہیں..کیسے وہ اپنی زندگی کے اتنے سال گزار کر یہاں تک آئے ہیں.
ہاں وقت کی یہ بات اچھی ہے کہ وہ گزر ضرور جاتا ہے پھر چاہے اچھا ہو یا برا...

پانچ سال گزر چکے تھے...ساجد اور عائشہ کی ابھی بھی وہی روٹین تھی.. ساجد کبھی رکشہ چلاتا تو کبھی سلائی کر لیتا.. اور عائشہ بھی سلائی کر کے بچوں کے دوسرے اخراجات پورے کرتی..ان پانچ سالوں میں عائشہ کے ایک بھائی بھابھی اور نسیمہ کا انتقال ہوچکا تھا
نسیمہ کو کینسر جیسی بیماری لاحق ہوچکی تھی..اسد کا زیادہ سے زیادہ وقت نسیمہ کی خدمت میں گزرتا...اسد کے بڑے بھائی اور چھوٹی بہن کی بھی شادی ہوچکی تھی...عائشہ نے بھی بیماری کے تین سالوں میں نسیمہ کی بہت خدمت کی..
ماں کے جانے کے بعد نسیمہ نے اُسے ہمیشہ ماں کی طرح ہی پیار کیا تھا..
نسیمہ کی موت نے عائشہ اور اسد کو اندر سے توڑ ڈالا تھا
عائشہ کا جانا کم گیا تھا نسیمہ کے گھر..
البتہ اسد کبھی کبھی ملنے آجاتا تھا..
مریم کی گریجویشن کمپلیٹ ہو چکی تھی..اور اب وہ کسی سکول میں ٹیچنگ کر رہی تھی.اُس کیلئے اسد کا رشتہ آیا تھا...اسد کی بڑی بہن جو سعودیہ میں رہتی تھی اُس نے عائشہ سے بات کی تھی...اسد مریم سے عمر میں کافی بڑھا تھا لیکن عائشہ راضی تھی پھر بھی...اسد کو کمپنی والوں نے سعودیہ عرب میں جاب کی آفر کی تھی اور وہ گھر کی ویرانی سے بچنے کیلئے سعودیہ شفٹ ہوچکا تھا..مریم ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ ابھی ماں باپ کو سٹیڈ کرنا چاہتی تھی لیکن عائشہ اور ساجد کے سمجھانے پر وہ سمجھ گئی تھی..اُس نے اسد کیلئے ہاں کر کے ماں باپ کا مان رکھ لیا تھا.اور اب وہ اپنی شادی کیلئے پیسے جوڑ رہی تھی..سکول کی جتنی بھی سیلری ملتی وہ اسے سنبھال لیتی..اور گھر میں بھی ٹیوشن پڑھاتی
ہانیہ بھی بچوں کو سپارہ پڑھاتی تھی
ہانیہ کا بھی حفظ مکمل ہوچکا تھا...اور اُس نے آگے اپنی پڑھائی کی دوبارہ شروعات کر لی تھی....عائشہ ہانیہ کے حفظ کرنے کے حق میں نہ تھی کیونکہ اُس کا ماننا تھا لڑکیاں شادی کے بعد حفظ بھول جاتی ہیں.. اور اُس نے حفظ شروع کرنے سے پہلے بہت مرتبہ ہانیہ کو منع بھی کیا لیکن ہانیہ نے ماں کو منا لیا اور حفظ شروع کردیا...حفظ کرنا آسان نہ تھا.. کئی بار وہ گھبرائی بھی لیکن پھر خاندان والوں کی حوصلی افزائی کی وجہ سے اُس نے اپنی کوشش جاری رکھی اور آخر کار اُس کے نام کے ساتھ حافظہ لگ ہی گیا..وہ صبح کے وقت مدرسے جاتی اور رات کو ٹیوشن تاکہ میٹرک کی تیاری کرسکے..ہانیہ حفظ کی وجہ سے پڑھائی میں پیچھے ہوگئی تھی لیکن وہ مطمئن تھی کہ اُس نے اپنی زندگی کا بہت بڑا مقصد پورا کیا تھا....
حارث کا بھی میٹرک مکمل ہونے والا تھا..وہ اب بھی شرارتی تھا.. زندگی کو جینے والا.. مسکرانے والا اور سب کو ہنسانے والا
البتہ ہانیہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوچکی تھی..کسی غلط بات کو دیکھ کر چپ رہنا ناممکن تھا اُس کیلئے...اجنبیوں سے بات نہ کرنا عادت بن گئی تھی.. وہ دوست بھی بہت کم بناتی..اور رازدان صرف اللہ..یہ کہنے بجا ہوگا کہ وہ جیسی اندر سے تھی ویسے باہر سے بالکل بھی نہیں تھی...اُسے دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر دکھ پہنچتا
کسی کو روٹی کیلئے ترستا دیکھ کر اسے تکلیف پپہنچتی تھی
کسی مالک مکان کو کرایہ دار پر برستا دیکھ کر غصہ آجاتا
وہ ماں باپ کا ماضی سوچ کر ازیت میں مبتلا ہوتی.. اکثر رات میں روتی بھی لیکن کبھی اپنے آنسو دوسروں پر آشکار نہ ہونے دیتی
سب کی نظر میں اب بھی وہ پہلے والی ہی ہانیہ تھی.. شرارت کرنے والی.. بہت جلد برا مان جانے والی.. بدتمیز سی.. لیکن ہانیہ اندر سے کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا تھا...وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتی تھی .وہ دنیا کے سامنے ایک پر اعتماد نَظر آنی والی لڑکی اندر سے بہت حساس تھی...ماں باپ کی خاطر کچھ کرنے کا جزبہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا تھا
############
سکول میں بریک ہوچکی تھی
مریم ایک قطار بناتی اپنے سٹوڈنٹس کو کینٹین کی جانب لے کر گئی..اور انہیں چیز دلانے لگی... یہ سکول کا اصول تھا ٹیچرز اپنے اپنے سٹوڈنٹس کو قطار بنا کر کینٹین تک لے جاتی.. تاکہ سکول کا ڈسپلین برقرار رہ سکے اور بچے لڑائی جھگڑے سے محفوظ رہیں
مریم نے بچوں کو چیز دلوائی اور کلاس میں آکر بیٹھ گئی
اُس کی بات ہوئی تھی اسد سے..وہ اگلے ماہ واپس آرہا تھا..اور شادی بھی اسد کے آنے کے کچھ دن بعد تھی
اسد نے مریم سے پوچھا تھا کہ اُسے اِس رشتے سے کوئی احتراز تو نہیں
اور مریم نے ماں باپ کی خوشی کو سب سے پہلے رکھا تھا.. اُسے کوئی احتراز نہیں تھا..اسد ایک پڑھا لکھا سمجھدار لڑکا تھا..لیکن اُس کے دل میں ایک ڈر ساتھا.. نئے رشتے کی شروعات کیسی ہوگی.. کیا اسد اسے سمجھ سکے گا بھی یا نہیں
ہیلو مریم... ایک ٹیچر نے کلاس میں داخل ہوتے کہا
مریم سوچوں کے دلدل سے نکلی
ہیلو.. مریم نے بھی جوابا مسکرا کر کہا
کیسی ہو..کافی دنوں بعد ملاقات ہورہی ہے..ٹیچر نے ہاتھ میں پکڑی لیز کا پیکٹ کھولا اور مریم کے آگے بھی کیا.. مریم نے مسکراتے ہوئے منع کر دیا
ہاں بس بچوں سے ہی فرصت نہیں ملتی... مریم نے آہستہ سے جواب دیا
اُس نے گھڑی کو دیکھا بریک بند ہونے میں پانچ منٹ رہ گئے تھے
مریم تم کچھ نہیں کھاتی بریک میں...نہ لنچ لاتی ہو نہ یہاں سے کچھ خریدتی ہو...ٹیچر نے ہر بار کا کہا سوال پھر سے پوچھا
جی میں دراصل گھر جاکر کھا لیتی ہوں کھانا.. باہر سے کم ہی کھاتی ہو... مریم بمشکل مسکراتے ہوئے بولی
وہ پریشان تھی اپنی شادی کو لے کر
صرف ایک ماہ رہ گیا تھا...وہ اپنی شادی کی ذمہ داری خود اٹھانا چاہتی تھی....تبھی وہ اپنا جیب خرچ بھی جوڑ لیتی..
اوکے میں چلتی ہو پھر ملاقات ہوگی.. وہ لڑکی ہاتھ ملاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی... بیل بجی..بریک بند ہوچکی تھی مریم دوبارہ سے کلاس کی جانب متوجہ ہوگئی
#########
جاری ہے
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#آزمائشیں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_17
#سیکینڈ_لاسٹ_ایپیسوڈ

اسد پاکستان واپس آچکا تھا.. اور آج عائشہ کے کہنے پر ملنے آنا تھا....وہ جھجک رہا تھا..مریم کا سامنا کرنا پہلی بار مشکل لگا اُسے....اِس گھر میں وہ پہلے بھی آتا تھا لیکن اب رشتہ بدل چکا تھا..اب مقام الگ تھا..تین دن بعد نکاح تھا اُس کا مریم سے....
اُس نے آج تک کبھی مریم کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچا تھا..وہ ہمیشہ اُسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا..لیکن وقت اور حالات کتنے بدل چکے تھے..وہ دونوں اب ایک دوسرے کے ہمسفر بننے والے تھے..وہ اب بھی سب سے محبت کرنے والا بڑوں کی عزت کرنے والا اسد ہی تھا..لیکن ماں کی کمی کی خلش تھی دل میں...وہ دو دن پہلے واپس آیا تھا پاکستان اور گھر کی ویرانی دیکھ کر اُس کا دل پھر سے اداس ہوگیا تھا..لیکن وہ مرد تھا اپنا دکھ اپنا غم کسی پر آشکار کر کے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتا تھا....اُسے عائشہ سے مل کر سکون حاصل ہوتا...اُسے عائشہ میں اپنی ماں کی جھلک نظر آتی..

مریم بیٹا دیکھو کس کا فون آرہا ہے...؟
عائشہ نے سلائی کرتے ہوئے آواز لگائی....
اِن کچھ سالوں میں عائشہ کی روٹین اب بھی وہی تھی تبدیلی یہ آئی تھی کہ اُسے نظر کا چشمہ لگ گیا تھا
جی ماما دیکھتی ہوں برقع تو اتار لوں زرا...مریم تھکے تھکے انداز میں بولی.. وہ ابھی سکول سے پڑھا کر واپس آئی تھی
موبائل پھر سے بجنے لگا
ہانیہ بھی کچھ دیر پہلے مدرسے سے آئی تھی..
اِس سے پہلے کہ مریم پکڑتی.. ہانیہ نے کمرے میں آکر پیٹی پر پڑا موبائیل اٹھا لیا..مریم ہانیہ کو ایک نظر دیکھتی کمرے سے باہر چلی گئی
اسلام علیکم....ہانیہ نے چھوٹتے ہی سلام کیا
وعلیکم اسلام آنٹی جی....
دوسری جانب سے اسد کی خوشگوار آواز آئی ہمیشہ کی طرح ہانیہ کو چڑانے کیلئے آنٹی پر زور دیا گیا
ہانیہ ہنسنے لگی.. اُس نے پہلے کی طرح برا نہیں منایا تھا
کیا حال ہے بیٹا جی..ہانیہ بھی اُسی کے انداز میں بولی
وہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی
اسد ہانیہ کے انداز پر مسکرا دیا
کہاں پر ہیں آپ..ہم انتظار کر رہے ہیں آپ کا کب سے..اُس دن بھی آپ ہم سے مل کر چلے گئے تھے کہیں اور آج بھی ابھی تک ملنے نہیں آئے...ہانیہ نے لڑائی کرنے کے انداز میں سوالات کی لائن لگا دی
اوہ بی بی حوصلہ....اسد نے اُسے چپ کروانا چاہا
توبہ توبہ کتنا بولتی ہو تم.. مجھے لگا تھا دو سالوں میں بولنے میں کمی آجائے گی.. سمجھدار ہوجاؤ گی پر تم تو ابھی بھی ویسی کی ویسی ہی ہو.....اسد نے مصنوئی افسوس سے کہا
ہاں تو جو زیادہ بولتا ہے کیا وہ سمجھدار نہیں ہوتا...ہانیہ پھر ہنسنے لگی
میں سمجھدار ہوگئی ہوں الحمد للہ.. اور میرا حفظ بھی مکمل ہوگیا ہے..میرے نام کے ساتھ حافظہ بھی لگ گیا ہے ..اور آگے سٹڈی بھی کنٹی نیو کردی ہے...ہانیہ نے شیخی بگاڑی..
اچھا جی...بہت مبارک ہو بہن جی آپ کو..آخر اتنا بڑا خواب پورا ہوگیا آپ کا...اب عمل بھی کرنا صرف حفظ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا..اسد نے سمجھاتے ہوئے کہا
جی ان شاءاللہ ضرور عمل کروں گی بھی اور آپ کو بھی کرواؤں گی.. ہانیہ نے پہلے ادب سے اور آخر میں شرارت سے کہا
ماسی پہلے خود تو کرو عمل پھر ہمیں بھی کروا دینا..
میک تو تم نے چھوڑا نہیں ہوگا ابھی تک.. بلکہ اور نئے نئے طریقے سیکھ لئے ہوگے لوگوں کو ڈرانے کے...اسد اونچی نے آواز میں قہقہہ لگایا
جی اور آپ کو پتا یے سارے طریقے مریم آپی سے سیکھیں ہیں میں نے..اور وہ اب آپ کی بیوی بننے والی ہیں... پھر آپ کو بھی ڈرائیں گی میک اپ کر کے...ہانیہ نے ترکی با ترکی جواب دیا

مریم کو میک اپ میں کافی مہارت حاصل تھی..وہ اکثر محلے کی لڑکیوں کو بھی تیار کردیتی.. اور مہندی لگانے میں بھی وہ بہت ماہر تھی

مریم ماشاءاللہ سے بہت پیاری ہے.. اُسے میک اپ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے...اسد نے ہانیہ کو تنگ کرنے کیلئے مزید کہا
جی جانتی ہوں..وہ بہت پیاری ہے ماشاءاللہ..ہانیہ نے آسانی سے قبول کیا
مریم اور ہانیہ دونوں ہی خوبصورت تھی..اور سب سے بڑھ کر اللہ نے انہیں مکمل بنایا تھا.. مریم کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں جو اُسے مزید دلکش بنا دیتیں
ہانیہ اور مریم اکثر ایک جیسے کپڑے پہنتی اور تیار ہوکر جڑواں لگتی..

اچھا یہ بتائیں کب آرہے ہیں آپ.. ہانیہ نے یاد آنے پر پھر پوچھا
ہاں ابھی گھر پر ہوں.. شام میں آؤں گا...خالہ کہاں ہیں...اسد نے صوفے پر لیٹتے ہوئے کہا
وہ ابھی ابھی بازار سے آیا تھا
جی ماما تو کچن میں ہیں.. مریم آپی کیلئے کھانا گرم کر رہی ہیں.. اور مریم آپی ابھی فریش ہورہی ہیں..اور حارث سکول سے نہیں آیا ابھی تک. ہانیہ نے تفصیل سے بتایا اور بیڈ کے کونے پر ہی بیٹھ گئی
ایک نظر گھڑی کو دیکھا
دوپہر کے 2 بج رہے تھے
مریم منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آئی اور ہانیہ کو فون پر باتیں کرتے دیکھا
کس سے بات کر رہی ہو ہانیہ...مریم نے ابرو اچکا کر پوچھا..اور تولیے سے منہ پر چمکتی پانی کی بوندیں صاف کرنے لگی
ماما کھانا دے دیں بہت بھوک لگی یے...آپ کو پتا یے میں سکول میں بھی کچھ نہیں کھاتی.. مریم نے عائشہ کو بھی آواز دی..وہ بھوک سے ہلکان ہورہی تھی
ہاں لا رہی ہو مریم بس ہوگیا ہے گرم.. عائشہ نے کچن سے ہی آواز دی
یہ لو بات کرو اسد بھائی سے...ہانیہ نے مریم کے سوال کے جواب میں بنا کچھ کہے زبردستی فون اُس کے کان کے ساتھ لگا دیا
مریم نے ہانیہ کو گھور کر دیکھا..
اسد کے نام پر اُس کا دل زور سے دھڑکنے لگا
بدتمیز لڑکی....وہ دل میں ہانیہ کو کوسنے لگی
اور خاموشی سے فون کو کان کے ساتھ لگائے رکھا
وہ کچھ نہیں بولی
میڈم کچھ بولیں گی بھی اب آپ یا میں بولوں... اسد نے شرارت سے کہا
جج...جی... اسلام علیکم.. مریم نے نروس ہوتے کہا..
ہارٹ بیٹ رفتار پکڑ گئی تھی..
جس دن سے اُس کا رشتہ طے ہوا تھا وہ میسج پر کبھی کبھی بات کر لیتی وہ بھی صرف شادی کے حوالے سے...
اور آج فون پر بات کرنا اُسے عجیب لگ رہا تھا.. اور اوپر سے ہانیہ کی موجودگی بھی..
ہانیہ دور بیٹھے اُسے اشارے کر رہی تھی..
وعلیکم اسلام....کیسی ہو مریم.. اسد نے آرام سے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
وہ مریم کا جھجکنا سمجھ گیا تھا
جی میں ٹھیک ہوں.. آپ کیسے ہیں..؟مریم نے بھی رسما حال چال پوچھا
"الحمد للہ بالکل ٹھیک"
اسد کچھ دیر خاموش ہوگیا..
مریم بھی خاموش تھی..
اُسے سمجھ نہ آیا وہ کیا بات کرے
بولو بھی.. اسد بھائی انتظار کر رہے ہوگے... ہانیہ نے مریم کے پاس بیڈ پر بیٹھتے سرگوشی کی
کیا بولوں..مجھ سے نہیں ہوتی بات...مریم نے فون کو کان سے دور کرکے بیچارگی سے کہا
اُس کی آواز اسد کے کانوں تک پہنچ چکی تھی
اسد کے لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی
افف او مریم آپی... ہانیہ نے اکتا کر اپنے سر پر ہاتھ مارا
میں جا رہی ہوں کچن میں تم کر لو بات اپنے "اُن"سے
ہوسکتا یے کوئی ضروری بات کرنی ہو...
ہانیہ ہاتھ ہلاتی شرارت سے بول کر کچن میں چلی گئی
اسد نے پھر سے بات کا سلسلہ شروع کیا اور مریم ہچکچاتے ہوئے. اُس سے بات کرنے لگی

کس کا فون تھا ہانیہ...عائشہ نے ہانیہ کو کچن میں آتا دیکھ کر سوال کیا
اسد بھائی کا ہے.. میں نے مریم آپی کو پکڑا دیا ہے کہ بات کر لیں..اسد بھائی نے صبح بھی کال کی تھی تب مریم آپی سکول گئی ہوں تھی...ہانیہ نے تفصیل سے بتایا.
وہ کچن کے دروازے میں کھڑی ماں کو دیکھ رہی تھی
اچھا...کب تک آرہا یے اسد..پوچھا نہیں اُس سے.. عائشہ نے کھانا برتن میں ڈالا
جی کہہ رہے تھے شام تک آئیں گے.. ابھی گھر پر ہی ہیں... ہانیہ نے سنجیدگی سے جواب دیا

وہ ایک دم اداس ہوگئی تھی..جس دن سے مریم کا رشتہ ہوا تھا وہ اداس رہنے لگی تھی..مریم کی مشقت اُس کے سامنے تھی..وہ کچھ کرنا چاہتی تھی مریم کیلئے. لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی...اُسے ایک سکول سے آفر آئی تھی..بچوں کو قرآن پڑھانے کی...لیکن وہ مریم کی شادی کے بعد ہی کچھ کرسکتی تھی..وہ خود بھی سارا دن تھک جاتی تھی

ہاں صحیح ہے..آرام سے آئے میرا بچہ..پورے دو سال بعد آرہا ہے..عائشہ نے لہجے میں محبت بھر کر کہا
جس دن اسد آیا تھا سب اُسے ملنے گئے تھے...سوائے مریم کے..
وہ سب سے بہت اچھے سے ملا تھا. لیکن کچھ مصروفیات کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکا انہیں..
اسی لیے آج عائشہ کے کہنے پر آرہا تھا تاکہ کچھ وقت گزار لے اور پھر شادی کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کرنا تھی...
###########
مریم کا نکاح تھا آج...اُس نے اور ہانیہ نے مل کر رات کو مہندی لگائی تھی....وہ کسی پارلر میں نہیں گئی تھی..اُسے زیادہ بھری ہوئی مہندی پسند نہیں تھی...
جمعہ کے دن نکاح رکھا گیا تھا اور رات کو اکٹھے ہی مہندی کا فنکشن تھا اسد کے گھر
اسد نے عائشہ کو کسی قسم کا بھی جہیز لینے سے منع کیا تھا.. وہ بہت احساس کرنے والا تھا....وہ عائشہ کے گھر کے حالات سے بخوبی واقف تھا....وہ شادی بھی سادگی سے کرنا چاہتا تھا لیکن مریم کی خواہش تھی کہ سب خاندان والوں کو شامل کیا جائے اور پھر اسد اور مریم کا خاندان ایک ہی تو تھا...اور سب سے بڑھ کر خاندان میں عرصے بعد کوئی رشتہ اپنوں میں ہوا تھا.. سب خوش تھے اور شادی پر آنے کے خواہش مند بھی

وہ لوگ اب بھی اُسی چھوٹے سے گھر میں ہی رہتے تھے....جس میں گزارا کرنا کبھی کبھار بہت مشکل لگتا.. اگر کوئی مہمان آجاتا تو بیٹھنے کیلئے جگہ کم پڑجاتی....

ساجد کے گھر والوں میں سے بس اُس کا چھوٹا بھائی سلیم ہی تھا.. جو اپنے بیوی بچوں کا ساتھ گوجرانوالہ رہتا تھا

والدہ کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہوچکا تھا..جبکہ بڑا بھائی بھی جوانی میں ہی چل بسا اور اُس کی بیوہ نے دوسری شادی کرکے اپنا گھر بسا لیا....بڑے بھائی کے دو بیٹے تھے جو اپنے مامو کے پاس ہی رہتے تھے البتہ کبھی کبھی اپنے چاچو سے ملنے آجاتے

اور ساجد کی بہن بھی بیماری کی  وجہ سے جوانی میں  ہی وفات پاگئی تھی...اب صرف گنے چنے لوگ ہی بنتے تھے...
##

ہانیہ یار دیکھنا میں ٹھیک لگ رہی ہوں نا...مریم نے آئینے سے پیچھے ہو کر مڑتے ہوئے کہا
ہانیہ چھوٹا شیشہ پیٹی پر رکھ کر حجاب کر رہی تھی.. اُس نے حجاب کرتے ہوئے ایک نظر مریم کو دیکھا...
مریم نے لال رنگ کا گرارہ اور اُس کے اوپر سکن کلر کی قمیض پہنی تھی..جس پر ہلکا ہلکا سا کام ہوا تھا...اور سر پر اچھے سے ڈوپٹے کو رکھے وہ بالکل تیار کھڑی تھی...

ماشاءاللہ سے بہت پیاری لگ رہی ہو....ہانیہ اپنا حجاب مکمل کرتی اُس تک آئی اور محبت سے اُس کی گردن کے گرد بازو حائل کردیے

اچھا جی خیریت ہے آج بہت پیار آرہا ہے....مریم نے ہانیہ کو محبت سے دیکھا..وہ سادہ سی حجاب میں پیاری لگ رہی تھی
ہانیہ نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا..اور نفاست سے ڈوپٹے کو حجاب کی شکل دی تھی...
ہاں بس ایسے ہی.. پتا نہیں کیوں آج زیادہ پیاری لگ رہی ہو مجھے...ہانیہ مریم سے دور ہوئی..
اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی جسے وہ آسانی سے چُھپا گئی تھی
مریم نے بھی دوسری طرف منہ کرکے اپنی آنکھوں کو جھپکا....آنسو پیچھے دکھیلنے کیلئے
کب وہ دونوں اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ بچھرنے کا وقت بھی آگیا تھا..
ہانیہ چاہے جتنا مرضی لڑتی ہو لیکن بہن بھائی سے دوری برداشت کرنا مشکل تھا..
اور پھر مریم تو اُس کا بہت بڑا سہارا تھی
اُن دونوں نے بہت سے مشکل حالات دیکھے تھے ایک ساتھ
وہ دونوں ہر روز رات کو اپنی ساری دن کی روٹین بتاتی..
مریم کبھی سکول کی کوئی بات بتاتی اور ہانیہ اپنے مدرسے کی..

کچھ دیر خاموشی رہی..مریم اگر ہانیہ کو ایک بار گلے سے لگا لیتی تو شاید وہ رو دیتی
لیکن ہانیہ رونا نہیں چاہتی تھی..وہ ایک مضبوط لڑکی تھی.. حالات سے لڑ کر یہاں تک پہنچی تھی...وہ دونوں عمر سے پہلے ہی بہت بڑی ہوگئی تھی..

ماما نے بھیجا نہیں ابھی تک حارث کو لینے....مریم نے خاموشی توڑی
ہاں.. کیا
ہانیہ خیالوں میں الجھی تھی
آرہا ہوگا بس..
جمعہ ختم ہوگیا ہوگا نمازی مسجد سے نکلیں گے تو وہ آجائے گا لینے ہمیں...وہ چونکی پھر خود کو سنبھالتی ہوئی بولی
ہاں ٹھیک ہے.. مریم آہستہ سے کہتی کرسی پر بیٹھ گئی
وہ بالکل سادہ سی تیار ہوئی تھی..بڑی بڑی آنکھیں کاجل سے بھر کر اور دلکش لگ رہی تھیں
اُس نے جو سوٹ پہنا تھا وہ ہانیہ نے اُسے سلائی کر کے دیا تھا...اِن کچھ سالوں میں ہانیہ سلائی بھی سیکھ لی تھی لیکن صرف اپنے اور مریم کیلئے....

مریم آپی چلو جلدی سے ماما بلا رہی ہیں اسد بھائی آگئے ہیں بس نکاح شروع کرنے کیلئے آپ کا انتظار ہیں...حارث گھر میں داخل ہوتا اونچی آواز سے بولا
ہانیہ خاموشی سے سر جھکائے مریم کے موبائیل میں ساری تصویریں دیکھ رہی تھی.. ہر یاد تازہ ہوگئی تھی

مریم نے ہانیہ کو دیکھا اور اٹھ کر چادر اوڑھ لی..
ہانیہ کو نہیں لے کر جاؤ گے ساتھ.؟
مریم نے نقاب کرتے ہوئے پوچھا
نہیں ابھی تم چلی جاؤ پہلے پھر یہ مجھے بھی آکر لے جائے گا...ہانیہ موبائیل مریم کے آگے کرتے بولی
اچھا ٹھیک ہے تم بھی نقاب کر کے بیٹھ جاؤ..اور گھر کو تالا لگا کر آنا...حارث مجھے چھوڑ کر آتا ہے بس
مریم نے موبائل پکڑتے ہدایت دی
"ہاں ٹھیک ہے میں بس تیار ہوں"
مریم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی صحن تک آئی
اُس نے مڑ کر ہانیہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی تھی.
ہانیہ نے ہاتھ ہلا کر اُسے الوداع کیا اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی
حارث کسی کی بائیک لے کر آیا تھا تاکہ دونوں کو لے جاسکے..
عائشہ اور ساجد پہلے ہی چلے گئے تھے.. نکاح ہانیہ کے قاری صاحب نے پڑھانا تھا..نکاح کا انتظام مدرسے کے نیچے بنی مسجد میں کیا گیا...اسد اور خاندان کے بڑے افراد نکاح میں شامل تھے...
########
نکاح شروع ہوا..ساتھ ہی مریم کی دھڑکنیں تیز ہوگئی...اُس کا دماغ ایک دم سُن ہوگیا تھا...ہاتھ کانپنے لگے تھے..اُس کا ووجود ٹھنڈا پڑنے لگا.وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے جارہی تھی اپنی زندگی کا...ماں باپ کے گھر کو چھوڑ کر وہ اپنے مجازی خدا کے پاس جارہی تھی...
اسد کا نکاح ہوچکا تھا.. قاری صاحب اٹھ کر مریم کے قریب آئے...مریم سر جھکائے بیٹھی تھی..
مریم کی ایک طرف عائشہ بیٹھی تھی.. اور عائشہ کے ساتھ ہی ساجد بیٹھا تھا..
ہانیہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی موبائیل میں ویڈیو بنا رہی تھی....
ایک طرف مامو کھڑے کیمرہ میں مووی بنا رہے تھے اور ساتھ ہی دوسرے مامو ہاتھ میں کیمرہ تھامے وقفے وقفے سے تصویریں کھینچ رہے تھے

قاری صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا...نکاح کا ایک ایک حرف مریم کو اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا...
دستخط کرتے وقت مریم کے ہاتھ کانپنے لگے...گلے میں آنسوؤں کا گولا جمع ہوگیا تھا
مریم بیٹا سائین کرو...عائشہ نے شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا..
ہانیہ بھی دم سادے اُسے دیکھ رہی تھی
مریم نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دستخط کیے
ہر طرف مبارک باد کی صدا بلند ہوئی... سب نے آگے بڑھ کر مریم کو پیار دیا..
مریم کا ضبط جواب دے گیا تھا.. وہ عائشہ کے گلے لگ کر رونے لگی..
ساجد بھی وقفے وقفے سے اپنی آنکھیں مسلتا..اُس نے آگے بڑھ کر مریم کو گلے لگایا..
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے.. اور ڈھیر ساری خوشیاں دیں..
عائشہ نے روتے ہوئے کہا
مریم خاموش آنسو بہا رہی تھی..
وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر بھی آنسو بہہ رہے تھے..تھوڑی دیر بعد اسد کو بھی مریم کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا
ہانیہ کی آنکھ سے ایک آنسو لڑھک کر زمین پر گرا
وہ سب کی نظروں سے اوجھل دور ہوکر کھڑی ہوگئی
وہ رو رہی تھی...

ہانیہ...مریم نے اُسے پکارا
ہاں جی.. ہانیہ اپنی کتاب بند کرتی اُس کی جانب متوجہ ہوئی
تم مجھے مس کرو گی شادی کے بعد...مریم نے جیسے کسی امید کے تحت پوچھا
نہیں تو. میں بھلا کیوں مس کروں گی..ہانیہ لاپرواہی سے کہتے دوبارہ اپنی کتاب پر جھک گئی
مریم نے ٹوٹے دل کے ساتھ ہانیہ کو دیکھا
تھوڑا سا بھی نہیں.. مریم نے معصوم شکل بنائی
ہانیہ نے کتاب سے نظر اٹھا کردیکھا
نہیں تھوڑا سا بھی نہیں..ہانیہ نے آرام سے کہا
مریم آنکھیں کھولیں اُسے دیکھ رہی تھی.. کتنی بے مروت تھی وہ
مریم اٹھ کر جانے لگی
ہانیہ نے کتاب بند کی..وہ بیڈ پر دو زانوں ہو کر بیٹھ گئی
میں تمہیں بہت مس کروں گی..ہانیہ سرگوشی کے انداز میں بولی
مریم نے بیڈ سے نیچے اتارتے قدم دوبارہ اوپر اٹھا لیے
ہانیہ نے آگے آکر مریم کے ساتھ ٹیک لگا لی
مریم کو خوشگوار حیرت ہوئی
ماما کو اتنی جلدی شادی نہیں کرنی چاہیے.. ابھی تو میرا میٹرک بھی نہیں ہوا..
ہانیہ اداس ہوتے بولی
مریم گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُسے سُن رہی تھی
میں جب کالج سے واپس آؤں گی تو پھر کس کو بتاؤں گی کہ میرا دن کیسا گزرا..اپنی باتیں کس سے شیئر کروں گی...ہانیہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ڈھیر جمع ہوگیا
وہ اب بھی مریم کے کاندھے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی..
ہانیہ کیا ہوا یے.. مریم نے پریشانی سے اُس کا چہرہ اوپر
جو آنسوؤں سے گیلا تھا
مریم نے اُس کو گلے سے لگایا اور اُسے خاموش کروانی لگی
میری جان...جب تم کالج جاؤ گی تو تم موبائیل لے لینا اور پھر مجھے اپنے سارے دن کی باتیں بتانا.. مریم نے پیار سے اُس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا
ہاں تب تک تم نے اسد بھائی سے ہی فارغ نہیں ہونا..ہانیہ نے منہ بنایا..رونے سے ناک سرخ ہوگئی تھی
ہاہاہا پاگل ہو تم بالکل....مریم نے پھر سے ہانیہ کو اپنے ساتھ لگا لیا

اوہ دلہن کی بہن صاحبہ..آپ یہاں بیٹھی آنسو بہا رہی ہیں اور ادھر مریم آپ کو ڈھونڈ رہی ہے...ہانیہ کی کزن اُس کے پاس آتی ہنستے ہوئے بولی
جی بس جانے ہی لگی تھی...ہانیہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور مریم کو ملنے چلی گئی
############
مریم کی شادی کو ایک ماہ ہوچکا تھا...وہ بہت خوش تھی اسد کے ساتھ..
عائشہ بھی مطمئن تھی مریم کی طرف تھی....وہ رب کا شکر ادا کرتی جس نے اُس کی لاج رکھ لی تھی اور مریم کو اپنے گھر کا کردیا تھا.. اسد مریم کا بہت خیال رکھتا تھا.. اُس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش بھی پوری کرتا

ہانیہ اب بھی اکثر مریم کو یاد کرکے رو دیتی..اور جب دل کرتا وہ مریم سے بات کرلیتی
#####
آج اسد سعودیہ واپس چلا گیا تھا..لیکن وہ سختی سے مریم کو منع کر کے گیا تھا کہ اُس کے پیچھے سے آنسو نہ بہائے
مریم اسد کے جانے پر بہت روئی تھی..اسد نے اُسے امید دلائی تھی کہ وہ بہت جلد مریم کو بھی سعودیہ بلا لے گا...

ہانیہ کچھ دیر میرے پاس بھی بیٹھ جاؤ...بندہ چھٹی ہی کرلیتا یے..دیکھ بھی رہی ہو کہ بہن آئی ہوئی یے..مریم نے ہانیہ کو ٹوکتے ہوئے کہا
ہانیہ برقع پہن رہی تھی...
سوری مریم آپی.. مجھے آج اکیڈمی جانا ضروری یے بہت.. ٹیسٹ یے نا میرا..ہانیہ نے جلدی جلدی کہا اور نقاب کرنے لگی
ہاں ٹیسٹ ہے..جب نہیں آئی تھی پورا مہینہ تو روز فون کر کے روتی تھی اور مجھے بھی رلاتی تھی.. اور اب جب آگئی ہوں رہنے تو اکیڈمی کی پڑی ہوئی یے..مریم نے اموشننل بلیک میل کرنا چاہا
ہانیہ نے بیگ کندھے پر لٹکایا اور مریم کا پھولا ہوا منہ دیکھا
میری جان.. میں بس ٹیسٹ دے کر آجاؤں گی پھر ساری رات باتیں کریں گے.. ہانیہ مریم کے قریب آتی اُس کا گال چوم کر بولی
اچھا ٹھیک یے..لیکن جلدی آنا.. مریم نے انگلی اٹھا کر اُسے وارننگ دی
ہاں پکاا جلدی آؤں گی..دعا کرنا اچھا ہو ٹیسٹ..ہانیہ جاتے جاتے مڑی
ان شاءاللہ..اللہ تمہیں ہمیشہ کامیاب کرے..مریم نے دل سے دعا دی
ہانیہ مشین پر بیٹھی عائشہ کو سلام کرتی گھر سے نکلی

وہ چھوٹی گلیاں عبور کرتی بڑی گلی میں آگئی...وہ سر جھکائے دونوں ہاتھوں کو آگے باندھے چل رہی تھی..ہانیہ کی عادت تھی وہ ہمیشہ سے نظریں نیچے کر کے چلتی..درمیان میں کبھی ایک نظر اٹھا کر سامنے دیکھ لیتی اور دوبارہ سے نظریں جھکا دیتی

اُس کی نظر راستے میں چلتے ایک بچے پر پڑی جو برف والی دکان سے برف شاپر میں ڈال کر چل رہا تھا.. میلے کپڑے.. سونی آنکھیں اور ٹوٹے ہوئے جوتے کے ساتھ... وہ بچہ اُس کے قریب سے گزرا
ہانیہ نے مڑ کر اُسے دیکھا..اور دور تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا
اُس نے پھر سے اپنے قدم چلانا شروع کیے...بچپن کی ایک تلخ یاد اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگی..تلکیف آنکھوں میں چبھن بن کر ابھری

آنٹی ماما کہہ رہی ہے برف دے دیں...ہانیہ نے ہمسائی کے گھر جاکر برف مانگی
اُس نے ہاتھ میں شوپر پکڑا ہوا تھا
اُس گھر میں موجود عورت نے بے زار ہوکر ہانیہ کو دیکھا
آج برف نہیں ہے.. وہ عورت سکون سے کہتی ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوگئی
لیکن آنٹی ہم نے آج صبح سے برف نہیں لی تھی...ہانیہ کا دل چاہا اُس موٹی عورت کو برا بھلا کہہ کر گھر واپس آجائے.. روز روز کون بے عزتی کرواتا ہے اپنی بھلا
ہاں لیکن برف کسی اور کو دے دی تھی میں نے.. اب جاؤ تم بازار سے خرید لو گے ایک دن تو کیا بگڑ جائے گا..اُس عورت نے بات ختم کرتے ہانیہ کو جانے کا کہا
ہانیہ خشک گلے کے ساتھ خالی ہاتھ گھر واپس آگئ
رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا کولر میں پڑا پانی گرم ہوچکا تھا..
ماما آنٹی کہہ رہی ہے کہ انہوں نے برف کسی اور کو دے دی ہے..پر وہ جھوٹ بول رہی تھی.. ہانیہ نے غصے سے کہا
کیوں کسی اور کو کیوں دے دی برف..کولر میں تو بالکل بھی ٹھنڈا پانی نہیں ہے اور مریم کو بھی پیاس لگی ہے.. عائشہ نے کولر میں سے چند قطرے اپنے ہاتھ پر بہائے جو گرم تھے
گرمی بھی اپنے عروج پر تھی
انہوں نے کسی کو نہیں دی برف.. اپنے پاس سنبھالی ہوئی ہے.. دیکھنا قیامت کے دن حساب ہوگا اُن کا...ہانیہ نے کولر کے پاس آکر کہا اور گرم پانی ڈالنے لگی
اب کیا کرنے لگی ہو گرم پانی کا..عائشہ نے ابرو اچکائے
پینے لگی ہوں... گلا خشک ہوگیا میرا...ہانیہ نے گرم پانی کو حلق میں انڈیلا
جو اُس کی پیاس کسی صورت کم نہ کرسکا
عائشہ نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو دیکھا.. اُس کی معصوم شکل پر ترس آنے لگا
ماما..جب ہم فریج لے لیں گے نا.. تو سب کو برف دیں گے تاکہ کوئی بھی گرم پانی نہ پیے.. اور دیکھنا پھر سب ہمیں دعا دیں گے...ہانیہ نے معصومیت سے کہا
عائشہ نے نم آنکھوں سے بیٹی کی سوچ دیکھی
کتنا معصوم دل ہوتا ہے بچوں کا..انتقام سے عاری.. محبت سے بھر پور..احساس کرنے والا

ہانیہ کا اکیڈمی کا راستہ طے ہوا.. اُس نے ماضی کے خیال کو جھٹکا اور درود پڑھنا شروع کیا وہ آنکھوں کو صاف کرتی اندر داخل ہوئی اور ٹیسٹ دینے میں مصروف ہوگئی

بچپن بہت معصوم ہوتا یے....ہاں ٹینشن فری بھی ہوتا یے.. لیکن بچپن میں گزری تلخ یادیں انسان کی روح پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہیں...وہ جب جب کسی اپنے جیسے کو دیکھتا یے..اُس کی یاد پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں جو کبھی کبھی بہت تکلیف پہنچاتی ہیں..اور ایک لمحے میں انسان کو تکلیف کی گہرائیوں میں اتار دیتی ہیں
#########
جاری ہے
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
#حقیقی_کہانی
#
#قسط_18_آخری
#حصہ_اوّل

ماما....ماما کہاں ہیں آپ..؟
مریم اونچی آواز میں بولتی گھر میں داخل ہوئی
عائشہ نے کمرے سے باہر آکر دیکھا..وہ گھبرا گئی تھی مریم کے ایسے بولنے پر
ہاں مریم کیا ہوا ہے.. نہ سلام نہ دعا آتے ہی بس ماما ماما.. عائشہ مریم کو مسکراتا دیکھ کر تپ گئی تھی
اوہو ماما...اسلام علیکم.مریم نے عائشہ کے قریب ہوکر کہا اور اُسے گلے سے لگا لیا
وعلیکم اسلام..کیسی ہیں میری بیٹی..عائشہ نے مریم کے چہرے پر پیار کیا
جی میں بالکل ٹھیک..اللہ کا شکر...مریم نے چمکتی آنکھوں سے کہا اور عائشہ سے پیچھے ہوئی
کس کے ساتھ آئی ہو...عائشہ اُسے لے کر کمرے کی جانب چل دی
علی کے ساتھ آئی ہوں وہ واپس چلا گیا ہے..کہہ رہا تھا واپسی پر لے جائے گا...اُس نے دیور کا نام بتایا..
مریم بیڈ پر بیٹھ گئی اور کمرے کا جائزہ لینے لگی....
اچھا تم بیٹھو میں آتی ہوں ابھی.. سالن دیکھ لوں زرا...عائشہ مریم کو کہتی عجلت میں کمرے سے باہر چلی گئی
کمرہ ابھی بھی ویسا ہی تھا..چھوٹا سا.. دیواروں پر جگہ جگہ سے کلی اُتری ہوئی تھی..جو صفائی کو اکثر خراب کردیتی...بیڈ کے ساتھ ایک الماری تھی..مریم نے اٹھ کر الماری کھولی .میک اپ اب بھی ویسے ہی پڑا ہوا تھا..مختلف رنگوں کی نیل پالش کی لائن لگی ہوئی تھی..اُس نے ایک نیل پینٹ اٹھائی اور اُسے کھولا..وہ سوکھ گئی تھی..شاید ہانیہ نے اُسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا..
اُس نے نیل پالش رکھ کر الماری بند کی اور کمرے میں نظر دوڑائی اُس کی نظر بیڈ کے ساتھ دیوار پر گئی
وہاں اُس کی اور ہانیہ کی بچپن کی تصویریں لگی ہوئی تھی..
ہانیہ نے مریم کی گردن میں بازو ڈالا ہوا تھا..وہ تصویر دیکھ کر مسکرائی
ایک اور تصویر میں ہانیہ اور مریم عائشہ کے ساتھ کھڑی تھیں..
بچپن کی حسین یاد...مریم ذیرِ لب بڑبڑائی
ایک پل میں آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہوگیا تھا
وہ پلکوں کو جھپکتی کمرے سے باہر نکل آئی
ماما...اُس نے کچن میں بیٹھی عائشہ کو پکارا
میں آپ سے ملنے آئی ہوں اور آپ کچن میں چلی گئی ہیں..
مریم کچن کے دروازے میں کھڑی ہوتی بولی...لہجہ روٹھا ہوا تھا
عائشہ نے سالن کے نیچے چلتی آنچ آہستہ کی اور مریم کی طرف دیکھا جو منہ پھلائے کھڑی تھی
جی میری جان..میں بس ہانڈی دیکھنے آئی تھی.. ابھی ہانیہ اور حارث آجائیں گے واپس..تو پھر کھانا کھانا کریں گے دونوں.. عائشہ ہنستے ہوئے بولی
بس وہی دونوں آپ کی اولاد ہیں..مجھے تو آپ شادی کے بعد بھول ہی گئے ہیں.مریم مصنوئی خفگی سے گویا ہوئی
وہ دونوں تمہارے بعد پیدا ہوئے ہیں...اور ماں کیلئے سارے بچے ایک جیسے ہوتے ہیں..عائشہ کھڑی ہوئی اور مریم کی طرف بڑھی
اور جب تم بھی ماں بن جاؤ گی نا تب سجھو گی اولاد کی محبت...یہ میں ہی جانتی ہوں کہ کیسے میں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو خود سے الگ کیا ہے...عائشہ نے مریم کو محبت سے دیکھ کر کہا
ماما کیا بیٹیاں ہمیشہ ماں باپ کے گھر نہیں رہ سکتی.. مریم اچانک سے اداس ہوئی
نہیں..کیونکہ بیٹیاں امانت ہوتی ہیں...اور انہیں شادی کر کے اپنے محرم کے پاس جانا ہوتا ہے.. عائشہ نے پیار سے اُسے سمجھایا
وہ دونوں کچن کے دروازے سے باہر آگئی تھی
"ماما" مریم نے کچھ کہنا چاہا
"جی ماما کی جان"...
مریم کچھ دیر خاموش رہی
ماما میرا بلاوا آگیا ہے..مریم نے سرگوشی کے انداز میں کہا
عائشہ نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا
"اللہ نے مجھے اپنے در کی حاضری کیلئے چن لیا ہے ماما"
وہ ایک دم جوش سے بولی
میں بھی روضئہ رسول کو دیکھوں گی..میں بھی جاؤں گی اللہ کے دربار..م..ماما..
مریم نے کانپتی آواز کے ساتھ کہا
اُس سے مزید بولا نہ گیا..وہ خاموش ہوگئی
عائشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کی بات سُنی..وہ بے یقینی سے مریم کو دیکھنے لگی..
مریم میری جان..کیا واقعی.. تم سعودیہ جارہی ہو..؟..عائشہ خود کو سنبھالتی مریم تک آئی..اُس کے الفاظ بے ربط ہونے لگے..
وہ خوش تھی.. بہت خوش...اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی..
اُس نے زور سے مریم کو گلے سے لگایا
جی ماما...میرا ویزا لگ گیا ہے.. سارا پروسیجر بھی کمپلیٹ ہوگیا یے..اُس نے مسکراتے ہوئے عائشہ کو یقین دلانا چاہا
اب بس کچھ دن ہیں میرے یہاں پھر میں چھ ماہ کیلئے سعودیہ چلی جاؤں گی..اسد کے پاس.. مریم نے جوش سے کہا
وہ اسد کو یاد کر کے مسکرائی
اُس کا دل چاہا وہ ابھی اُڑ کر سعودیہ پہنچ جائے
ماشاءاللہ...عائشہ نے مریم کی پیشانی چومی
یا اللہ تیرا شکر ہے..عائشہ نے بھیگتی آنکھوں سے رب کا شکر ادا کیا

وہ مریم کو ہر روز دیکھ کر خوش ہوتی تھی..رب کا شکر ادا کرتی...اپنے بچوں کے نیک نصیب کی دعائیں مانگتی
اور یہ ماؤں کی ہی دعائیں ہوتی ہیں.. جو آپ کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرواتی ہیں....ماں باپ کی دعائیں اولاد کیلئے ہوتی ہیں.. دل سے دی گئی دعائیں..جو عرش تک جاتی ہیں....

ماما آپ رو کیوں رہی ہیں... مریم نے عائشہ کے سینے سے سر اٹھایا.. عائشہ کے آنسو جاری تھی..البتہ ہونٹوں پر ایک دلکش مسکرہٹ تھی
میں چھ ماہ بعد واپس آجاؤں گی ماما آپ مت روئیے.. مریم کو لگا کہ عائشہ اُس کے دور جانے سے رو رہی ہے..
نہیں مریم.. میں اِس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ تم مجھ سے دور چلی جاؤ گی..عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے
یہ تو خوشی کے آنسو ہیں...اللہ تمہیں بار بار اپنے در پر بلائے..تمہاری ساری خواہشات پوری کرے...عائشہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائی
آمین....مریم کے لب ہلے تھے
ماما میں بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے اسد جیسے ہمسفر ملے...وہ بہت اچھے ہیں ماما.. بہت زیادہ اچھے..مریم مسحور کن انداز میں بولی
عائشہ نے اپنی پلکوں کو جھپکا
وہ دوبارہ رونا نہیں چاہتی تھی
اور....آپ نے میرے لیے بہت اچھے شخص کا انتخاب کیا یے ماما...بہت شکریہ.. مریم نے عائشہ کے ہاتھوں کو پکڑا
وہ مسکرا رہی تھی.. اسد کی محبت نے اُس کے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی...دل کی گہرائیوں میں اترتی محبت..وہ بہت خیال رکھنے والا تھا.. محبت لٹانے والا..احساس کرنے والا

تم دونوں کا ساتھ اللہ نے لکھا تھا..ہم تو وسیلہ بنے ہیں بس..اور میری اللہ سے دعا ہے کہ جیسے میری بیٹی کی نصیب اچھے کیے ہیں ویسے ہی ہر بیٹی کے نصیب اچھے ہو...عائشہ نے دل سے دعا دی
میں پاپا کو فون کرکے بتاتی ہوں..مریم نے چارپائی کے ساتھ لٹکتا پرس اتارا اور فون نکالنے لگی
"ہاں تم فون کرو میں روٹی بنانے لگی ہوں تم کھاؤ گی."؟.عائشہ کچن جاتی جاتی مڑی
جی ماما بنا دیں..اور ایک اور بات
مریم نے ساجد کو فون ملایا.. بیل جارہی تھی..وہ فون کان کے ساتھ لگائے ہی بولی
"ہاں کیا"..عائشہ نے پوچھا
مجھے کپڑے بھی سلائی کر کے دینے ہیں آپ نے..اور ہانیہ سے بھی کہہ دوں گی کہ میرے دو چار سوٹ سی دے..مریم نے فون کان سے ہٹا دیا..ساجد فون نہیں اٹھا رہا تھا
اچھا ٹھیک ہے..میں سی دوں گی..فون نہیں اٹھایا تمہارے پاپا نے.. عائشہ کچن میں داخل ہوتی بولی..کچن میں لگی چھوٹی کھڑکی سے باہر آواز با آسانی پہنچتی تھی
"نہیں..
وہ ابھی رکشہ چلا رہے ہوگے.تھوڑی دیر بعد کرلوں گی"..مریم نے موبائل واپس بیگ میں ڈالا اور روٹیاں پکاتی عائشہ کو دیکھنے لگی
#########
مریم کے جانے میں دو دن باقی تھے...
ہانیہ کے نہم جماعت کے پیپرز شروع ہوچکے تھے..اور وہ آجکل پڑھائی میں بہت زیادہ مصروف تھی....اتنے سالوں بعد کلاسز چھوڑ کر کے دوبارہ پڑھائی کا آغاز کرنا بہت مشکل تھا
وہ مریم کے سعودیہ جانے سے خوش تھی بہت. لیکن مریم کا اُس سے دور ہوجانا..یہ سوچتے ہی وہ افسردہ ہوجاتی
مریم بھی گن گن کر دن گزار رہی تھی.. وہ جلد از جلد سعودیہ جانا چاہتی تھی..
#########

"ہانیہ مجھے سوٹ سلائی کردیا کردینا...دو دن رہ گئے ہیں میرے جانے میں"
مریم نے نیل پالش لگاتے ہوئے کہا
میں فارغ نہیں ہوں..میرے پیپرز ہورہے ہیں"..ہانیہ بیگ سے کتاب نکال رہی تھی..وہ مصروف سے انداز میں بولی
اُس نے آرام سے مریم کو منع کردیا جو اب منہ بنا کر اُسے دیکھ رہی تھی
"کتنی بے مروت ہو ویسے تم..بندہ ٹائم نکال کر ایک آدھا سوٹ ہی سی دیتا ہے"...مریم کو ہانیہ سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی
اُس نے پھر سے نیل پالش لگائی اور ہاتھ آگے کر کے پھونک مارنے لگی
"یار تمہیں پتا ہے میرے پیپرز ہورہے ہیں..اور آگے اتنے سالوں بعد میں نے پڑھائی شروع کی ہے..بہت مشکل ہوتی ہیں پڑھنے میں..اسپیشلی میتھ کو (specially mathematics)...ہانیہ رونی صورت بنا کر بولی
اُس نے میتھ کی کتاب ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی..جسے دیکھ دیکھ کر ہول پڑ رہا تھا
اچھا اچھا ٹھیک ہے رو مت..ماما سے ہی سلوا لوں گی سارے کپڑے...مریم نے ہانیہ کی بے زار شکل دیکھ کر کہا اور نیل پالش بند کر کے بیڈ پر رکھ دی
ہانیہ کتاب رکھتی اپنے نوٹس ڈھونڈنے میں لگ گئی..اُس نے سارا بیگ ڈھیر کیا ہوا تھا لیکن اُسے کہیں نوٹس نہیں ملے..وہ پریشان سی بار بار بیگ دیکھ رہی تھی
"کل میتھ کا پیپر ہے تمہارا..؟"...مریم پھر سے بولی..وہ کب سے ہانیہ کو دیکھ رہی تھی جو بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی
"ہاں یار اور میرے نوٹس بھی نہیں مل رہے..نیا سیاپا"وہ تھک ہار کر بیٹھ گئی
"تو دھیان سے رکھنے تھے نا تم نے...اب ڈھونڈتی رہو"..مریم افسوس سے سر ہلا کر بولی
"میں اپنی چیزوں کو دھیان سے ہی رکھتی ہوں..ایک تو میں آگے پریشان ہوں اور اوپر سے تمہاری باتیں.....ہانیہ نے بیڈ سے نیچے اتر کر مریم کو گھورا
"شرم نہیں آتی بڑی بہن کو گھورتے ہوئے"مریم نے اس کے کندھے پر ایک چپت لگائی اور نیل پالش اٹھا کر الماری کی جانب چلی گئی
ہانیہ برا سا منہ بناتی وہاں سے چلی
"ماما...میرے نوٹس نہیں مل رہے..آپ نے تو نہیں رکھے کہیں".؟.ہانیہ صحن میں آتی بولی
رات کے دس بجے کا وقت تھا عائشہ چارپائی بچھا رہی تھی
"پتا نہیں ہانیہ..اپنے بیگ میں دیکھنے تھے"عائشہ چارپائی بچھا کر بسترا کرنے لگی..
"نہیں مل رہے نا.. کب سے ڈھونڈ رہی ہوں.. پیٹی پر بھی دیکھے تھے پر نہیں ملے.."وہ جھنجلا کر بولی
"اُچھا چلو کوئی بات نہیں میں ڈھونڈ دیتی ہوں..جا کر آرام کرو تم..دیکھو کتنا تیز بخار ہے تمہیں.."عائشہ ہانیہ قریب آئی اور اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو بخار سے تپ رہی تھی..
"نہیں مجھے نہیں کرنا آرام..صبح پیپر ہے میرا اور مجھے ابھی تیاری کرنی ہے"..وہ نیند بھری آنکھوں کے ساتھ پریشان سی واپس کمرے میں آگئی
"یہ سارا بخار صرف میتھ کے پیپر کا ہے"عائشہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی
"کیا مصیبت ہے..کب سے ڈھونڈ رہی ہوں میں"وہ نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ منہ میں بڑبڑاتی پیٹی پڑ پڑی کتابیں دیکھنے لگی
"یہ دیکھو تمہارے نوٹس..ایک مرتبہ الماری میں بھی نظر ڈال لیتی"...مریم الماری کھولے ہاتھ میں ہانیہ کے نوٹس لئے کھڑی تھی
"شکر ہے اللہ کا مل گئے"..ہانیہ کی جان میں جان آئی تھی
اُس نے فوراً اپنی آنکھیں صاف کی
"اتنی سی بات پر رونے بیٹھ گئی ہو"مریم نے تاسف سے سر ہلایا
"یہ اتنی سی بات نہیں ہے..میرے پورے سال کی محنت ہے..اگر نوٹس نہ ملتے تو میرے تیاری اچھی نہ ہوتی اور پھر نمبر اچھے نہ آتے"..ہانیہ نے رجسٹر کے صفحے پلٹتے ہوئے کہا
"چلو اب اچھا اچھا پیپر دینا..میں  پانی لے کر آتی ہوں میڈیسن کھا لو"مریم الماری بند کرتی وہاں سے چلی گئی
ہانیہ بیڈ پر دو زانوں ہوکر بیٹھی اور نوٹس پر سر جھکا دیا
#####
 "ہانیہ یار پلیز چپ ہوجاؤ..کب سے رو رہی ہو تم..میں صرف چھ ماہ بعد واپس آجاؤں گی"مریم نے ہانیہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
ہانیہ نے سرخ پڑتی ناک کے ساتھ مریم کی جانب دیکھا..اُس کی آنکھوں میں ابھی بھی آنسو تھے..
"چھ ماہ کیا کم ہوتے ہیں"..ہانیہ نے صدمے سے کہا
عائشہ بھی نم آنکھوں سے دونوں بہنوں کو دیکھ رہی تھی
ایک طرف ساجد اور حارث کھڑے تھے..وہ دونوں بھی اداس تھے مریم کے جانے سے
"ماما کو پڑی ہوئی تھی شادی کرنے کی..جیسے اُن کی بیٹی بوڑھی ہوگئی ہو..کیا فرق پڑتا اگر کچھ سال اور صبر کر لیتی"ہانیہ نے اب کی بار شکایتی نظروں سے عائشہ کو دیکھا
"چل پاگل لڑکی..جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو کسی کی مرضی نہیں چلتی..اور اب تم بھی رونا بند کرو اور دعا کرو مریم کیلئے کہ خیر و عافیت سے جائے "عائشہ اُسے دیکھ کر مسکرا دی..وہ کبھی بھی کچھ بھی بول دیتی تھی
ہانیہ نے بیگ سے ٹشو نکال کر بہتے آنسو صاف کیے
"ہانیہ آپی".حارث نے اونچی آواز میں کہا
سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے
"مریم آپی کا تو پتا نہیں لیکن اسد بھائی کچھ سالوں تک ضرور بوڑھے ہوجاتے..پھر کون کرتا اُن سے شادی"..حارث سنجیدگی سےبولا البتہ آنکھوں میں شرارت بھر پور تھی
"حارث"..مریم چلاتی ہوئی حارث کی جانب بڑھی
حارث نے اپنے بچاؤ کرنے کیلئے صوفے پر پڑا کشن اٹھایا
"تم مجھ سے بہت بری مار کھاؤ گے."مریم نے حارث کو بالوں سے پکڑ کر جھنجوڑا
عائشہ اٹھ کر ہانیہ کے پاس جا بیٹھی تھی..اور اُسے خاموش کروانے لگی اب وہ دونوں مزے سے بہن بھائی کی لڑائی دیکھ رہی تھیں
"آہ مریم آپی چھوڑ دو یار..کیا جان لو گی بچے کی..آگے تم اتنی موٹی ہو...اور ..اوپر سے اسد بھائی تم سے ڈبل"حارث کی زبان پر پھر کھجلی ہوئی
وہ مشکل سے اپنے بال چھڑاتا بھاگا
مریم نے قہر برساتی نظروں سے اُسے گھورا
حارث صوفے سے کشن ہاتھ میں لیتا بھاگ کر ساجد کے پاس چلا گیا جو مسکراتے ہوئے دونوں کو دیکھ رہا تھا
"پاپا یار بچا لیں آج مجھے..مریم آپی کے ارادے مجھے نیک نہیں لگتے"..وہ بیچارگی سے بولا
"اور تم جو اسد کے بارے میں ایسے بول رہے ہو اُس کا کیا...ساجد نے حارث کو آنکھیں دکھائی...
مریم ساجد کے قریب کھڑی حارث کو گھور رہی تھی
"مریم آؤ اور مارو اِسے..بہت بد تمیز ہوگیا ہے یہ"ساجد اپنی جگہ سے اٹھتا مریم کا راستہ صاف کرتا بولا
مریم نے فاتحانہ مسکراہٹ اچھالی
ہاں مریم آپی مارو اِسے..بلکہ میں بھی مل کر مارتی ہوں..جب سے تمہاری شادی ہوئی یے مجھے بہت تنگ کرتا ہے"ہانیہ کو بھی اپنا رونا یاد آگیا
"بالکل بچے لگ رہے ہیں دونوں..اور مریم کو دیکھو زرا کہیں سے بھی شادی شدہ نہیں لگ رہی."عائشہ نے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں حارث اپنی جان بچانے کے طریقے ڈھونڈ رہا تھا اور مریم اور ہانیہ بھوگے شیر کی طرح کسی بھی وقت اُس پر جھپٹنے کیلئے تیار کھڑی تھیں
"ہاں واقعی..ابھی تھوڑی دیر بعد اِس لڑکی نے ایئر پورٹ جانا ہے..اور لڑنا ہی ختم نہیں ہورہا..ساجد بھی مریم کو دیکھ کر مسکرا دیا
"اچھا یار سوری میری بہنو..یہ دیکھو میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں اب تو بخش دو"حارث نے مشکل سے اپنے ہاتھ جوڑے
اُس کے بال اب کی بار ہانیہ کے ہاتھ میں تھے
"میری ایک بات سن لو کان کھول کر"..مریم نے اُس کا کان دبایا
آہ..ماما..وہ معصوم سی شکل بنا کر ماں باپ کو دیکھ رہا تھا جو ناجانے کون سی رازونیاز کی باتیں کرنے میں لگے ہوئے تھے
"اگر آئندہ تم نے اسد کے بارے میں کچھ بھی کہا تو میں نے منہ توڑ دینا ہے تمہارا"مریم نے اُس کے کان پر گرفت ڈھیلی کی البتہ چھوڑا نہیں
اچھا اچھا کچھ نہیں کہتا آئندہ اب چھوڑ دو میرا کان"..اُس نے خود کو بے بس محسوس کیا
اور خبردار جو ہانیہ کو کچھ کہا تو..مریم نے اُسے سمجھایا اور آہستہ سے اُس کا کان چھوڑ دیا
"اور میری بھی ایک بات سن لو..ہانیہ نے اُس کے بال کھینچے
"مجھے بھی کبھی تنگ نہیں کرنا آئندہ نہیں تو میں مریم آپی کو بتا دوں گی"..وہ اُسے وارن انداز میں بول کر بالوں کو زور سے کھینچتے ہوئے اُس سے دور ہوگئی
حارث نے غصیلی نظر ہانیہ پر ڈالی جو اب مزے سے کھڑی اُس کی بگڑی ہوئی حالت دیکھ رہی تھی..وہ کچھ دیر کیلئے اپنا رونا بھول چکی تھی
"تمہیں تو میں گھر جاکر پوچھوں گا"..وہ صرف دل میں سوچ کر رہ گیا
حارث صوفے سے اٹھا اور اپنے بال درست کرنے لگا
"ویسے مریم آپی مجھے سمجھ نہیں آتا آپ اسد بھائی کے ساتھ بائیک پر کیسے بیٹھ جاتی ہیں..میرا مطلب یے دونوں ہی موٹے ہیں..ٹائر پنکچر نہیں ہوتا...؟.."حارث اپنی بات مکمل کرتا اونچی آواز میں قہقہہ لگا کر کمرے سے بھاگ گیا
"ماما..دیکھیں اِس بد تمیز کو"میں سعودیہ جاکر اِسے فون نہیں کروں گی".مریم نروٹھے انداز بولی.. اُسے برا لگا تھا حارث کا ایسے تنگ کرنا
"یے ہی بدتمیز."ہانیہ دانت پیس کر بولی
"اچھا چلو بس کرو تم دونوں..وہ بولا یے تو تم دونوں نے اپنا رونا بند کیا ہے..کب سے رو رہی تھیں"عائشہ حارث کی سائیڈ لیتی بولی
"چلو بیٹا میں اور حارث گھر جارہے ہیں..اپنا خیال رکھنا اور خیر سے جاؤ.. اللہ تمہیں اپنے امان میں رکھے ".. ساجد کھڑا ہوتا مریم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتا بولا
"جی"
آپ بھی اپنا خیال رکھنا میں بہت مس کروں گی سب کو"
ساجد مریم سے ملتا حارث کو لے کر گھر چلا گیا

"آپ نے کیوں جلدی شادی کی مریم آپی کی.."ہانیہ صوفے پر براجمان عائشہ اور مریم کو دیکھ کر بولی جو سامان پیک کرنے میں مصروف تھیں..اُسے پھر سے شکایت ہوئی
مریم ہنستے ہوئی اپنے بڑے سے بیگ میں سامان دیکھنے لگی
"جتنی تمہاری زبان چلتی یے نا میں نے دو سال تک تمہاری بھی شادی کردینی ہے..میری جان کو تو کچھ سکون ہوگا."..عائشہ نے لا پرواہی سے کہا
ہانیہ منہ کھولے ماں کو دیکھنے لگی
مریم نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی
"مریم,خالہ آجائیں آپ لوگ گاڑی آگئی ہے"..اِس سے پہلے کہ ہانیہ جوابی کاروائی کرتی اسد کا بڑا بھائی کمرے میں داخل ہوتا بولا
"جی بھائی آپ یہ بیگ لے جائیں میں بس برقع پہن لوں.مریم نے بیگ کی طرف اشارہ کیا...اور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی
"اور ہانیہ تم بھی نقاب کرو جلدی سے"
"ماما آپ یہ ہینڈ کیری پکڑیں میرا اور گاڑی میں رکھ دیں"مریم نے جلدی جلدی برقع پہنا
عائشہ بھی بیگ اٹھاتی مریم کے جیٹھ کے پیچھے چل دی..
مریم اور ہانیہ تیار ہوکر گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اپنے سفر کو روانہ ہوگئی
#########
ہانیہ اور عائشہ مریم کو ایئر پورٹ چھوڑنے آئے تھے...ساجد نے صبح بچوں کو لے کر جانا تھا اسی لئے وہ مریم سے مل کر گھر واپس چلا گیا تھا..حارث کو بھی عائشہ نے گھر بھیج دیا تھا..ہانیہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھ رہی تھی..بہت سی گاڑیاں پیچھے چھوڑتی اُن کی گاڑی منزل کی جانب رواں تھی...ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے اُس کے چہرے کو چُھوا..اُس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں موندی اور ہوا کو محسوس کرنے لگی....رات کے دو بجے کا وقت تھا...مریم عائشہ کے کندھے پر سر رکھے باتیں کر رہی تھی..عائشہ اُس کے بالوں میں ہاتھ چلا رہی تھی..مریم خوش تھی بہت..

گاڑی ایئر پورٹ میں داخل ہوئی.
مریم سیدھی ہوکر بیٹھی اور اپنا بیگ دیکھنے لگی..
ہانیہ نے گردن اندر کی جانب موڑی..وہ خاموش تھی..
سب باری باری گاڑی سے نیچے اترے..
مریم اسد کے بڑے بھائی کے ساتھ آگے بڑھی..اسد کا بھائی بڑا سا بیگ کندھے پر ڈالے چلا اور ایئر پورٹ پر کام کرتے آدمی کو کارٹن کو اٹھانے کا کہہ کر آگے چل دیا
عائشہ اور ہانیہ بھی پیچھے پیچھے چل رہے تھے...
مریم اپنا سامان رکھتی رکی

"اپنا خیال رکھیے گا ماما..وہ مسکرا کر کہتی عائشہ کے گلے ملی
"تم بھی اپنا بہت خیال رکھنا..اور وہاں بھی سب کا..اسد کا بھی.."عائشہ مریم کا ماتھا چوم کر بولی

مریم کی بڑی نند اور اُس کے شوہر بھی سعودیہ میں رہتے تھے..اسد اُن دونوں کے پاس ہی رہتا اور اب مریم بھی اُن کے پاس ہی رہنے جا رہی تھی

"جی ان شاءاللہ میں آپ کو وہاں جا کر روزانہ فون کروں گی "مریم ماں سے الگ ہوئی

"ہانیہ میری جان"وہ ہانیہ کی جانب آئی
"تم خیال رکھنا اپنا..اور گھر میں تنگ مت کرنا کسی کو"مریم اسے سمجھاتے ہوئے بولی
ہانیہ نے اثبات میں سر ہلایا
وہ کچھ بول نہ سکی
مریم نے اُسے زور سے گلے لگایا اور دونوں کو دیکھتی اپنے قدم منزل کی جانب بڑھا دیے
ہانیہ ضبط کرتی اُسے دیکھنے لگی..نقاب میں چھپی آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ چھانے لگی تھی.. وہ خود سے دور جاتی مریم کو دیکھ رہی تھی.. بچپن سے لے کر اب تک کی ساری باتیں زہن میں گردش کرنے لگی..
عائشہ  نے ڈوپٹے کے پلو سے اپنے بہتے آنسو صاف کیے.. اور آیت الکرسی پڑھنے لگی
مریم نے دور جاکر مڑ کر دیکھا..اُس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی.جسے وہ چھپانا چاہ رہی تھی
اُس نے اپنا ہاتھ ہلا کر الوداع کہا اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوگئی
########
مریم اور اسد سر جھکائے ادب سے حرم میں داخل ہوئے...مریم کو اپنا وجود آج سے پہلے کبھی اتنا گناہوں بھرا محسوس نہیں ہوا جتنا اِس پاک زمین پر قدم رکھ کر ہوا
اُسے حرم کی زمین پر قدم رکھنا برا لگا..وہ سر جھکائے بے یقینی سے اپنے پاؤں کی جانب دیکھ رہی تھی..اُس میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ سر اٹھا کر سامنے دیکھ سکتی.....

"حرم کی زمیں اور قدم رکھ کر چلنا
ارے سر کا موقع ہے اوہ جانے والے"

ٹھنڈے فرش پر بیٹھے لوگ خانہ کعبہ کا دیدار کر رہے تھے.. آنکھوں کو سکون بخشتا دیدار.. دنیا کی ہر چیز سے افضل..

"مریم وہ دیکھو سامنے.. اللہ کا گھر"..اسد نے مریم کا ہاتھ پکڑ کر اسے متوجہ کرنا چاہا
مریم نے اپنی جھکی نظر اٹھا کر سامنے دیکھا..اُس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا..خانہ کعبہ پوری شان و شوکت کے ساتھ کالے رنگ کے غلاف میں ڈھکا ہوا تھا..آسمان سے آتی چاند کی مدھم سی روشنی اُس پر پڑ رہی تھی..اُس کا وجود کانپنے لگا... اُس نے اور مضبوطی سے اسد کا بازو پکڑ لیا
"کیا ہوا ہے مریم"اسد سامنے دیکھتا مسحور کن انداز میں بولا
"مجھے یقین نہیں آرہا کہ میرا گناہوں بھرا وجود اللہ کے دربار میں کھڑا ہے...وہ کانپتے لبوں کے ساتھ گویا ہوئی
اُس نے پھر اپنی نظریں جھکا دیں..

"حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں
اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر
اللہ ھو اکبر اللہ ھو اکبر"

"میں نے تو آج تک کبھی ساری نمازیں بھی ادا نہیں کیں..میں...میں بہت گنہگار ہوں اسد..اللہ نے مجھے پھر بھی اپنے در پر بلایا ہے..وہ پھر سے بولی..اُس کی آنکھیں جھرنے لگی تھیں
اسد نے اُس کے کندھوں کے گرد بازو حائل کرکے اسے خود سے قریب کرلیا
"اللہ جسے چاہتا یے اپنے در پر بلاتا ہے..اور کیا پتا اللہ کے ہاں تمہارا مقام کتنا بڑا ہو..اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا یے اپنے بندوں سے...وہ تم سے راضی ہے تبھی تمہیں اِس مقام تک پہنچایا یے.."
وہ مریم کی طرف مڑا اور اُس کے آنسو صاف کیے..مریم کے اندر ڈھیروں سکون اتر گیا تھا
"یہاں آنا قسمت کی بات ہوتی ہے..کئی بہت نیک و کار بھی یہ شرف حاصل نہیں کرسکتے اور کوئی گنہگار ہوکر بھی اِس در کی حاضری کا شرف پا لیتا ہے..وہ دونوں چلتے ہوئے کعبہ کے سامنے آئے اور ایک طرف ہوکر کھڑے ہو گئے.. خانہ کعبہ کا منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا

"اسد..میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ آپ میری زندگی میں آئیں گے..آپ ایک معجزے کی طرح میری زندگی میں شامل ہوئے ہیں..اور میری پوری زندگی کو بدل دیا ہے آپ نے..آپ کا ساتھ حاصل کر کے میں ماضی کی ہر تلخ یاد کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ چکی ہوں.."وہ کچھ دیر خاموش ہوئی

"میں نے کبھی بڑے بڑے خواب نہیں سجائے تھے..لیکن ایک دعا ضرور کی تھی..وہ بولتے بولتے اسد کی جانب دیکھنے لگی جو دلچسپی سے اُس کی باتیں سن رہا تھا
"میں نے دعا کی تھی کہ میری زندگی میں جو بھی شخص آئے وہ مخلص ہو..اُس کا دل صاف ہو..وہ محبت کرنے والا ہو...اور میرے گھر والوں کو اپنا مانے..اُن کا خیال رکھے..اور دیکھیں اللہ نے کیسے میری دعا قبول کی.."
مریم نے اسد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا
"میں بس یہ جانتا ہوں کہ اللہ نے مجھے میری نیت کے مطابق عطا کیا ہے....اور میں شکر گزار ہوں اُس پاک ذات کا جس نے تمہیں میرا ہمسفر بنایا ہے.."اسد بھی جوابا مسکرا کر بولا
وہ دونوں آگے بڑھے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے
دعاؤں کا سیلاب امنڈ آیا تھا ذہن میں..یہاں آنے سے پہلے بہت سے لوگوں نے دعا کا کہا تھا...مریم نے اسد کا بازو پکڑتے ہوئے طواف جاری رکھا....آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی تھی.. اُس کے لب مسکرا رہے تھے..وہ برقع پہنے حجاب میں منہ کو چھپائے بہت خوبصورت لگ رہی تھی..
اسد نے بھی احرام باندھ رکھا..وہ مریم کو تھامے چل رہا تھا.. دونوں کے سر جھکے ہوئے تھے
وہاں ہر شخص برابر تھا..کوئی رتبے میں ادنی یا اعلی نہیں تھا.. یہ خدا کا گھر تھا.. خدا کا انصاف
کوئی گورا ہو یا کالا ہر شخص سفید رنگ کے احرام میں لپٹا طواف کر رہا تھا..اشکوں سے آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں..گناہوں کی معافی طلب کی جارہی تھی..اپنے پیاروں کیلئے دعا کی جارہی تھی...
لکھ دے میرا نام بھی خوش نصیبوں میں !❤❤
بار بار مجھے بھی خانہ کعبہ کا دیدار کروا دے میرے مالک!
آمین
Is trha k mzed acha acha novel hasil krna kaly mra facebook page ko zror lik krn
Thanx
Facebook link  Click her5

Reactions:

0 comments:

Post a Comment