Thursday, June 18, 2020

faram k chand din urdu novel by jia mugal downlod pdf

فارم ہاؤس کے چند  دن ۔
جیا مغل ۔ 

 اتوار کا دن تو سبزی منڈی کی طرح ہی ہوتا ہے ہمارے گھر ۔حنا بیگم ماچس دھونٹتے ہوۓ بڑبڑا رہی تھیں ۔ 

اللہ‎ جانے کدھر رکھ گئی ہیں ۔ 
https://www.moviesprofit.com/watch.xml?key=66a2047a1d01aa4177ecac13247a7c2a زرین ۔ رمشہ ارے کوئی ماچس لاؤ اتنا دن چڑ ھ آیا ۔ 
ناشتہ بناتے ہوئے حنا بیگم بول رھی تھیں ۔ 
آج ہم ناشتہ لاؤنج میں ہی کرینگے حنا  بیگم ۔ سرمد آغا نے وہیں سے آواز لگاتے ہوئے کہا ۔ 
 بچے گند بہت ڈال دیتے ہیں وہاں سب ٹیبل پر ہی آ جایں نا ساتھ ساتھ دیتی جاؤں گئی ۔ 
نہیں حنا  بیگم آج ہم سب ایک ساتھ ہی ناشتہ کریں گے کیوں کہ میں ایک اہم بات  کرنا چاهتا ہوں سب سے ۔اور میں چاهتا ہوں سبکے تاثرات بھی جان سکوں ۔ تو ناشتہ یہیں لے آیئے ۔ 
https://www.moviesprofit.com/watch.xml?key=66a2047a1d01aa4177ecac13247a7c2a سرمد آغا صمد آغا اور سلمان آغا تینوں بھائی ایک ہی گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہی تھے ۔ 
تینوں بھائیوں کے تین چار چار بچے کل ملا کر  سترہ فمیلی ممبر  بنتے تھے ۔ 
ont-size: large;">ناشتے کے دوران سرمد آغا نے ایک عجیب و غریب اعلان کردیا ۔ 
میں زرین کی شادی اپنے فارم ہاؤس میں ہی کروں گا ۔ 
کیا ۔۔۔۔سب کے منہ حیرت سے کھل گئے ۔ 
یہ کیسا مذاق ہے زرین کے بابا  حنا  بیگم نے خفگی سے کہا ۔ 
بچوں میں سے بھی کچھ نے مخالفت کی ۔اور کچھ نے  خوشی کا اظہار کیا ۔ 
صمد آغا اور سلمان آغا نے بھر پور تائید کی ۔ کہ یہ فیصلہ بالکل سہی ہے ۔ 
سعد اور زیشان نے بھی خوشی کا اظہار کیا جبکہ رمشہ عفت رانی اور صائمہ نے خوب شور ڈالا ۔ 
نہیں تایا جی پلیز ۔ ہم نے سنا ہے فارم ہاوس میں کسی چیز کا سایہ ۔ جنوں کا ذکر بھی سنا ہے ہم نے ۔ اور وہ ھے بھی بیحد دور جنگلوں کے وسط میں ۔ دور دور تک کوئی گھر بھی نہیں وہاں ۔ 
لوگوں نے کہانی بنائی ہوئی ہے ۔ ایسا ویسا کچھ بھی نہیں وہاں پر ۔ سرمد آغا نے جواب دیا ۔
لیکن تایا جی حنا  تائی جی نے ہمیں بتایا تھا کہ زرین جس کمرے میں پیدا ہوئی تھی اس کمرے میں کوئی تھا  ۔ اور اس کمرے کو  ہمیشہ کے لیے لاک کر دیا گیا تھا ۔ تاکہ جو کوئی بھی ھے اس کے اندر ہی رھے باہر نا آ سکے ۔ رمشہ نے بتایا ۔ 
بیٹا آپ کی تائی جی  کی بنائی ہوئی باتیں ہیں یہ ۔ میں نے خود یہ دروازہ کھولا تھا ۔ کچھ ضروری سامان رکھا اور پھر بند نہیں کیا ۔ ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا ۔ 
پر وہ تو اتنا دور ہے اگر ہمیں کسی ضروری چیز کی ضرورت پڑ گئی تو کون  تین چار گھنٹے کا سفر کر کے آئے گا لینے۔  اس  جنگل بیابان  سے ہمیں کچھ نہیں ملنے والا ۔ بیگم سلمان نے بھی مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔ 
ہم سوچ سمجھ کر اپنا سارا سامان لیکر جائیں گے اور پھر بھی اگر کچھ رہ گھا تو ہم
بتا کر سبکو مطمن کر دیا ۔  
زوشی نے کہا مطلب ہم جنگل میں منگل منائیں گے۔ 
سب نے اسکی ہاں میں  ہاں ملائی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔  
le="font-size: large;">ویسے اگر آپ سب سوچیں تو مزہ اے گا ایسے ۔ شادی کی شادی اور تفریخ الگ ۔ سلمان آغا نے کہا ۔ 
ناشتہ ختم ہوتے وقت تک سب فارم ہاؤس جانے کے لیے تیار ہو گئے ۔
زرین سرمد آغا کی سب سے بڑی بیٹی ہے ۔ خاندان بھر کی لاڈلی ۔ اللہ‎ تعالیٰ کی خاص مہربانی رھی اس پر ۔ بچپن سے اب تک هر چیز بن مانگے ملی ۔ هر خواہش
پوری ہوئی ۔ خوش مزاج اور نٹ کھٹ سی زرین اکیلے بیٹھے ہی کھیلتی رہتی تھی ۔ 
پڑھائی میں نمبر ون رھی ۔ هر کام میں پرفیکٹ ۔ اللہ‎ جانے کیوں لگتا تھا جیسے یہ  دنیا میں انے سے پہلے تمام کام سیکھ کر آئی ہو ۔ زرین کی پھرتی سے اکثر یہی لگتا تھا جیسے کام کو ٹال رھی ہو ۔ لیکن کام کی نفاست اسے داد دینے پر مجبور کر دیتی ۔ 
اسکول کے اساتذہ بھی حیران تھے کہ وہ جو پڑھاتے ہیں زرین کو پہلے سے آتا ہوتا تھا ۔ 
پپیرز میں کوئی ایسی غلطی نہیں ہوتی تھی کہ ایک نمبر بھی کاٹا جا سکے ۔ ہمیں تو زرین ایک غیر معمولی لڑکی لگتی ہے ۔  
اساتذہ کی اس بات سے گھر والے بھی اتفاق کرتے تھے ۔ کیوں کہ زرین کو کبھی کچھ سکھانا پڑھانا نہیں پڑتا تھا ۔ 
هر کام میں ماہر اور پھرتی سے کرنا ۔ اسکا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ۔ 
اب اسکی شادی بھی اچھی سی پلاننگ کے ساتھ ہونے چلی تھی ۔ 
لڑکا ایک انتہائی بڑے خاندان سے تھا ۔ لڑکے کا باپ کا اپنا کاروبار تھا ۔ اور پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا ۔ 
زرین ان لوگوں کو پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی ۔ حالآنکہ سلمان آغا نے ایک مرتبہ مداخلت  بھی کی ۔ کیوں کہ انھیں یہ رشتہ مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔ پر ان لوگوں کی بڑھتی دلچسبی  ختم نا ہو سکی اور بالآخر رشتہ طے پا گیا ۔ اور اب شادی جلد ہی ہونا تھی ۔ زرین اس سلسلے میں مطمن اور خاموش رھی ۔ اس نے کہیں بھی اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ۔ 
اور اب فارم ہاؤس میں شادی یعنی جنگل میں منگل ہونے جا رہا تھا ۔ اور یہ ایک انوکھی تقریب جو فارم ہاؤس میں ہونے جا رھی تھی ۔ 
پروگرام کے مطابق  اگلے اتوار کی صبح آٹھ بجے  سرمد آغا ۔ صمد آغا اور صمد آغا کے بیٹے رضی اور سعد کچھ ضروری سامان کے ساتھ فارم ہاؤس نکل پڑے ۔ حنا بیگم اور بیگم صمد نے تین چار سالن بنا دیے تھے ساتھ لیجانے کے لیے ۔ اور روٹیاں راستے میں کسی بھی تنور سے لی جا سکتی تھیں ۔ 
ویسے تو فارم ہاؤس کے ارد گرد کچھ گھر بھی تھے جہاں مقامی لوگ آباد تھے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے فارم ہاؤس اب اتنا بھی  ویران  نہیں رہا تھا ۔ لوگوں نے وہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیا جمع کر رکھی تھیں ۔ 
اندازہ  تو یہی تھا کہ بارہ ایک بجے کے قریب وہاں پہنچ جائیں گے ۔ موسم خاصا خوشگوار تھا ۔ 
دھوپ جسم کو حرارت بخش رھی تھی ۔ جس سے سفر خاصا خوشگوار لگنے لگا ۔  فارم ہاؤس جانے والے راستے بھی صاف ستھرے اور سڑک کشادہ تھی ۔  
فارم ہاؤس پہنچ کر کیا کیا کام کرینگے اس موضوع پر چاروں باتیں کرتے ہوئے جا رھے تھے ۔ 
تینوں بھائیوں کا مشترکہ فارم ہاؤس چھ کنال کے رقبے پر مشتمل تھا ۔  اس میں عورتوں اور مردوں کیلیے الگ الگ پورشن تھے ۔ دونوں اطراف میں بارہ بارہ کمرے ملحقہ باتھ روم ۔ جبکہ ان دونوں پورشن کا لاؤنج مشترکہ تھا ۔ملازمین کیلیے تین کمرے الگ سائیڈ پر بنائے گئے تھے ۔ 

وہاں پہنچنے کے بعد تمام کمروں کی جھاڑ پونچھ صفائی کروانا پھر پورے فارم ہاؤس میں بتیاں لگانا ۔ بسترے کچن وغیرہ سب کام شامل تھے ۔ گھر سے نکلے ڈیڑھ دو گھنٹے  ہو چلے  تھے  ۔ اب کچھ کچھ بھوک کا احساس ہونے لگا تو راستے میں کسی ایک ہوٹل کے قریب گاڑی کھڑی کرکے سعد نے روٹی لی اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سب نے کھانا کھایا ۔
کھانا کھانے کے فورا بعد پھر  اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے ۔ 

فارم ہاؤس ابھی کافی دور تھا اور وقت گزارنے کیلیے سعد نے پوچھا ۔ تایا جی کیا واقع ہی اس کمرے کی کوئی کہانی ہے جہاں زرین پیدا ہوئی تھی ۔ 
کچھ کہہ نہیں سکتا یار ۔ بیس سال گزر گئے اس بات کو اب ۔ 
پر اتنا ضرور ہوا تھا کہ زرین نے پندرہ دن کچھ کھایا پیا نہیں تھا ۔ پریشانی کا یہ عالِم تھا کہ ہم دونوں میاں بیوی بڑی مشکل سے ایک دو چمچ کھانا کھلاتے تو یہ الٹی کر دیتی اور اس کی الٹی میں مختلف چیزیں نکلتی جو ہم نے پکائی ہی نہیں ہوتیں ۔ 
پندرہ دن ایک بچہ کھائے پیے بغیر تو نہیں رہ سکتا ۔ 
ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا ۔ بچی بالکل صحت مند ھے ۔ اور اس کا معدہ خوراک سے بھرا ہوا ہے ۔ 
یعنی کوئی تھا جو اسے کھلاتا رہتا تھا ۔اور اکیلے بیٹھے کھیلتی رہتی تھی ۔ ہنستی مسکراتی تھی ۔ دن بدن اسکا رحجہان ہماری طرف کم ہوتا جا رہا تھا ۔ پھر ہم نے یہاں سے نکلنے کا سوچا ۔ تب زرین غائب ہو گئی تھی اور بہت ڈھونڈھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ یہی اسی گھر میں ھے لیکن ہماری نظروں سے اوجھل ھے ۔ ایک اللہ‎ والے نے مشورہ دیا تھا کہ زرین کے کمرے میں آئینے لگا دیں ۔ جب ہم نے چاروں جانب آ
ئینے لگائے زرین ہمیں نظر آنا شروع ہو گئی ۔ تب ہم اسے لیکر شہر منتقل ہو گئے ۔ 
یہ سن کر رضی بھی خوفزدہ ہو گیااور کہا کہ  پھر تو آپ نے غلطی کر دی ۔ یہاں شادی کا پروگرام رکھنا ہی نہیں چاهیے  تھا آپ کو ۔ ۔ 
سرمد آغا نے ہنس کر کہا ۔ یار اب تو کئی سال گزر گئے ۔ وہ بات وہیں ختم ہو چکی تھی ۔ 
فارم ہاؤس پہنچنے کے لیے  ایک گھنٹہ اور درکار تھا ۔ تین گھنٹے باتوں اور سفر میں اچھے گزر گئے پتا بھی نہیں چلا ۔ تمام راستہ بارونق رہا گاڑیوں کی آمدورفت بھی چلتی رہی ۔ 
اب جس سڑک پر پہنچے یہ سڑک فارم ہاؤس کی طرف مڑنے لگی ۔ یہاں دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں ا رھی تھی ۔ مقامی لوگ اکا دکا دکھائی دے رہے تھے اور کچھ عورتیں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں ۔ سڑک کی دونوں اطراف میں کچھ کچے پکے مکان بھی موجود تھے ۔ چند فاصلوں پر چھوٹے موٹے کریانہ سٹور بھی دکھائی دیئے ۔ 
یہ سڑک بیشک سنسان تھی لیکن بہت خوبصورت اور کشادہ تھی ۔ رضی اور سعد کو کافی تسلی ہوئی کہ فارم ہاؤس کی اطراف خوبصورت اور کشادہ ہیں ۔ چاروں  طرف گھنے جنگلات کا حسن انہیں اور بھی متاثر کر رہا تھا کہ ا
چانک گاڑی ایک بریک کے ساتھ رک گئی ۔ گاڑی کے بالکل سامنے سے ایک ضعیف عورت گزر گئی  سرمد آغا نے بریک لگائی تو عورت نظروں سے اوجھل ہو کر انکی سائیڈ پر شیشے پر دستک دینے لگی ۔ 
پیلے پیلے دانت نکالے ہنستے ہوئے کہا  ۔ 
صاحب ۔صدقہ تو دیتے جاؤ۔ اب تو آنا جانا بھی لگا رھے گا ۔

سرمد آغا اور صمد آغا نے جب اسکی طرف دیکھا تو حیران رہ گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ صدقہ دیتے اس عورت نے انتہائی غصے سے شیشے پر ہاتھ مارا اور  کہا ۔ سنبھال کر رکھ اپنے پاس تجھے کام اے گا ۔ اور بھاگتی واپس چلی گئی ۔ رضی اور سعد کی نظریں کافی دور تک اسکا عورت کا پیچھا کرتی رھی ۔ ایک مقام پر وہ غائب ہو گئی ۔ 
صمد یاد کرو اس عورت کو اس سے پہلے کہاں دیکھا تھا ہم نے ۔ 
صمد نے کہا ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ دیکھی ہوئی لگتی ھے ۔ دونوں نے ذہن پر بہت زور دیا مگربے سود ۔
رضی اور سعد بھی انکی باتوں میں حصہ لینے لگے ۔ابھی اسکا ذکر ہو ہی رہا تھا کہ گاڑی ایک جھٹکے سے پھر رک گئی ۔ سرمد آغا کی  کوشش  کے باوجود گاڑی سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رھی تھی ۔ رضی کو کافی معلومات تھی کہ گاڑی کے متعلق ۔ 

atOptions = { 'key' : '190dba851078b42b0fb086a97ec6936c', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} }; document.write('');

اسنے بونٹ کھول کر چیک کیا ۔ انجن بھی صحیح  حالت میں تھا بظاھر کوئی خرابی نظر نہیں آ رھی تھی ۔ ایک گھنٹے کا راستہ طویل ہوکر  اب کئی گھنٹوں میں بدل گیا ۔ 
شام کے چار بجنے کو تھے اور گاڑی سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رھی تھی ۔ رضی سعد اور صمد آغا نے گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کی مگر بے سدھ ۔ 
چاروں تھک چکے تھے اور کچھ دیر ایک درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گئے ۔ 
اچانک انکے سامنے سے وہی عورت گزری ۔ اس کے دونوں طرف  دو چھوٹے چھوٹے بچے انگلی پکڑ کر چل رہے تھے ۔ دونوں کے چہرے ڈھکے ہوۓ تھے ۔ 
عورت پاس سے گزری اور بولی ۔ 
کہا تھا نا کہ صدقہ دیتے جاؤ ۔ اتنا کہہ کر وہ ایک بڑے سے درخت کے پاس سے گزری اور درخت کے پیچھے غائب ہو گئی ۔ 
سرمد آغا ایک دم چونک پڑے ۔ اور بولے ۔ 
یاد کرو صمد یہ الفاظ ۔ یہ عورت جانی پہچانی ھے ۔ کون ھے یہ ذہن پر زور دو ۔ 
ابھی یہ باتیں کر ہی رھے تھے کہ گاڑی خود بخود سٹارٹ ہو گئی ۔
چاروں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور گاڑی کیطرف چل پڑے ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی رضی نے کہا ۔ تایا جی میری مانیں تو فارم ہاؤس میں شادی کا پروگرام ختم   کر دیں ۔مجھے یقین ہو چلا کہ کوئی نا کوئی مسلہ ضرور ہوگا ۔ 
سرمد آغا نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اور چپ چاپ ڈرائیو کرنے لگے ۔ اور دل میں سوچنے لگے رضی صحیح کہہ رہا ھے ۔پر مجھے کیوں ایسے محسوس ہو رہا جیسے مجھے کوئی طاقت کھینچے جا رھی ھے ۔ 
اب انہیں فارم ہاؤس پہنچنے کی  جلدی تھی ۔ تاکہ اندھیرا پھیلنے سے پہلے اپنے ٹھکانے تک پہنچ جایں ۔ 
سڑک تمام راستہ صاف ستھری اور کشادہ رھی ۔ اسکے باوجود  سفر طویل ہوتا جا رہا تھا ۔ 
صمد آغا نے خیال ظاہر کیا کہ کہیں ہم راستہ نا بھٹک گئے ہوں ۔ کیوں کہ دونوں لمبے عرصے تک یہاں نہیں آ سکے تھے ۔ڈرائیو کے دوران  بار بار انکی نظروں سے ایک ہی بورڈ گزر رہا تھا ۔ پیٹرول کی سوئی بھی آخر تک پہنچنے کا اشارہ  دے رھی تھی ۔بات  سمجھ سے باہر ہوتی جا رھی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا ۔ 
کافی دور  ایک نیا بورڈ نظر آیا  صمد آغا نے کہا کہ گاڑی روکیں میں اسپر پڑھنا چاهتا ہوں کہ یہ سڑک کہاں جا رھی ھے ۔ 
 بورڈ کے قریب انے پر صمد آغا نیچے اترے اور جیسے ہی بورڈ پر سے کچھ پڑھا بھاگتے گرتے پڑتے گاڑی میں بیٹھ گئے اور اپنی اکھڑی سانسیں بحال کرنے لگے اور بولے ۔ 
لگتا ہم کسی مصیبت میں پھنس گئے ہیں ۔سبکے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ بورڈ پر یہی لکھا تھا ۔ 

کہا تھا نا صدقہ دیتے جاؤ۔  
اب سب  آیت الکرسی کا ورد کرنے لگے۔ اگر پیٹرول ختم ہوا تو اگے جانا انتہائی دشوار ہو جاتا ۔ سرمد آغا نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔ کچھ گز دور انہیں فارم ہاؤس نظر ا گیا ۔ اسوقت  ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل رہا تھا ۔  سب نے دیکھا فارم ہاؤس پر بتیاں قمقمے جل رھے تھے ۔ پورا فارم ہاؤس دلہن کی طرح سجا ہوا تھا ۔  روشنیوں کا یہ عالِم تھا کہ آس پاس کے درخت بھی دکھائی دے رہے تھے ۔فارم ہاؤس کی خوبصورتی ایسے  تھی جیسے بالکل نیا نیا تعمیر کیا گیا ہو ۔ 
چاروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔ 

سرمد آغا نے بتایا کہ فارم ہاؤس میں کچھ ملازم ہیں تو سہی پر انھیں کیا معلوم کہ ہم یہاں آ رھے ہیں ۔ ایسا کیا ماجر
ا ھے کہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا ھے ۔
رضی نے کہا کہ ایسا نا ہو کہ ہمارے فارم ہاؤس میں کوئی ہماری غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر فنگشن کر رہا ھے۔ ہو سکتا ھے کسی جن کی شادی ہو رھی ہو ۔ 

چلو دیکھتے ہیں پہنچ تو گئے ہیں ہم ۔ سرمد آغا نے گیٹ کے پاس جا کر زور زور سے ہارن دیا تاکہ کوئی ملازم قریب ہو تو گیٹ کھول دے ۔ کچھ دیر بعد ہی گیٹ کھل گیا اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے سب نے دیکھا کوئی ملازم نظر نہیں آیا ۔ گیٹ کھولتے ہی غائب ہو چکا تھا ۔ سبکو برا بھی لگا اور حیرت بھی ہوئی ۔ 
چاروں نے اپنا سامان گاڑی سے نکالا اور صدر دروازے سے اندر جانے کیلیے جیسے ہی اگے بڑھے دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا ۔ 
سب نے اندر داخل ہونے کے بعد ادھر ادھر دیکھا یہاں بھی دروازہ کھولنے والا نظر نہیں آیا ۔ 
سعد کافی خوفزدہ ہو گیا ۔اور بولا یہ جن نے دروازہ کھولا ہوگا تبھی تو نظر نہیں آیا ۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہمیں واپس چلے جانا چاہئے کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی جن کی شادی ہو رھی ہو یہاں ۔ 
سعد نے کیا تو مذاق تھا مگر اس کی بات سنکر کسی کے ہنسنے کی آواز صاف سنائی دی گئی ۔ 
چاروں چلتے ہوئے مردوں والے حصے میں پہنچ گئے ۔ یہاں ایک پرانا ملازم نظر آیا جس نے فورا گڑ بڑا کر سلام کیا جیسے غیر متوقع آمد پر حیران ہو گیا ہو ۔ اور سبکو آرام کا کہہ کر چائے پانی کا بندوبست کرنے چلا گیا ۔ 
اتنی دیر میں سب نے دیکھا کمرے انتہائی نفاست سے سجے ہوئے تھے ۔ تازہ تازہ دیواریں پینٹ کی گئی تھیں ۔ تمام کمروں میں نیا سامان بھی رکھا گیا تھا۔ لاؤنج میں ایک بہت بارہ فانوس جس میں سو کے بھی زیادہ بلب لگی تھے  ۔چلتے ہوئے عورتوں والی سائیڈ آ  گئی ۔ 
یہی حال زنانہ سائیڈ پر تھا ۔ تمام کے تمام کمرے سجے ہوۓ ۔ هر کمرے میں بھاری پردے لٹک رھے تھے ۔ 
سرمد آغا نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ یہ فارم ہاؤس ہمارا ھے ۔ ہم کہیں غلط گھر تو نہیں آ گئے ۔ اتنے میں ملازم چائے اور کچھ کھانے کیلیے چیزیں بھی لے آیا۔   چاروں نے ملازم کی لائی ہوئی چائے پی کچھ پوچھنے کی سکت نہیں تھی پھر بھی انہوں نے ملازم سے پوچھا ۔ 

ہاں بھئی سناؤ یہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا کیوں ھے ۔ ملازم جواب دیے بغیر واپس چلا گیا ۔ 
صمد آغا نے مشورہ دیا کہ صبح ہم اس بات کا پتہ چلا لینگے ابھی تو اتنی سکت نہیں بات بھی کر سکیں اور چاروتھکن سے نڈھال  سو گئے ۔ 

صبح دروازہ بجنے کی آواز سے سبکی آنکھ کھلی تو سعد نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے وہی ملازم کھڑا تھا ۔ 
صاب ناشتے میں کیا کھانا پسند کرینگے ۔ ملازم نے پوچھا ۔ سرمد آغا نے کہا

فلحال جو ھے لے اؤ ۔ اور جلدی آنا ۔ 




ملازم نے حکم کی تعمیل کی اور جلد ہی بڑی بڑی ٹرے میں آملیٹ  پراٹھے اور چائے لیکر ا گیا ۔ 
ناشتے سے فارغ ہو کر صمد آغا نے پوچھا باقی کے ملازم کہاں ہیں سبکو بلا لاؤ کچھ باتیں کرنی ہیں ۔  ۔ ملازم صابر نے کہا سرکار باقی سب آج ہی دوسرے گاؤں گئے ہیں ۔ ہمارے کریانہ سٹور  کا سامان ختم ہو چکا تھا ۔ کل صبح تک سب واپس آ جائیں گے ۔ 
اچھا یہ بتاؤ ۔ یہاں کوئی آیا تھا کیا ۔ رضی نے پوچھا ۔ 
نہیں جناب یہاں تو سالوں سے کوئی بھی نہیں آیا ۔ نا ہی آپ لوگوں میں سے کوئی آیا ۔ صابر نے جواب دیا ۔ 
اچھا تو پھر یہ فارم ہاؤس اتنا سجا ہوا کیوں ھے ۔ رضی نے پھر پوچھا ۔ 
جناب جی آپ کے بندے نے ہی کیا ھے چند گھنٹے پہلے ۔ صابر نے کہا ۔ 
کونسے بندے نے اب سعد نے بھی  تحقیق شروع کر دی ۔ 
جناب جی شہر سے ایک بندہ آیا تھا ۔ اس نے بتایا تھا کہ
سرمد آغا نے بھیجا لائٹین لگا کر سجانا  ھے کیوں کہ انکی بیٹی کی شادی ھے ۔ 
چاروں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا اور خاموش رھے ۔
اسی نے سارا فارم ہاؤس صاف کیا ۔ نیا سامان رکھا اور پرانا باہر پھینک دیا ۔ حیرت تو یہ ھے کہ اس نے سارا کام آپ کے انے سے چند لمحے پہلے ہی کیا  ۔ 
بس اسکا کام ختم ہوا اور آپ داخل ہونے ۔ صابر نے بتایا ۔ 
اچھا ابھی تم جاؤ جب ضرورت ہوگی بلا لینگے ۔ 
صابر کے جاتے ہی آغا صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ھے کہ سلمان آغا نے سرپرائز دیا ہو بندہ انہوں نے بھیجا ہو ۔ 
یہ سوچ کر صمد آغا نے فون ملایا ۔ سگنل نا ہونے کی وجہ کال نہیں لگ سکی ۔ باری باری چاروں نے کوشش کی مگر بے سدھ ۔
صمد آغا نے سوچا پورے ہاؤس کا چکر لگا کر  جائزہ لیا جاۓ ۔ کہ یہاں شادی کرنا مناسب ھے بھی یا نہیں ۔ہاؤس کے اندرونی حصہ کافی سنوارا ہوا تھا ۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد سب گھر فون کرتے رہے مگر وہی سگنل پرابلم اتا رہا ۔ ہاؤس کو حیرت انگیز طور پر سجایا گیا تھا ۔ 
کافی زیادہ خرچہ کیا گیا ھے ۔ صمد آغا نے بغور جائزہ لینے لے بعد کہا ۔ پر مجھے ایسا نہیں لگتا کہ سلمان آغا نے یہ سب کیا ہو ۔ 
اندرونی جائزہ لینے کے بعد سب باہر نکل آئے ۔ رضی اور سعد تیز تیز پورے حصے کو دیکھ لینا چاہتے تھے ۔ صبح کی روشنی میں فارم ہاؤس کسی پیلس سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ اب انکا خوف بھی ختم ہو چکا تھا  ۔ بس ایک ہلکی سی بے چینی کہ اسے اتنا سجایا گیا ۔ کب اور کیوں ۔ 
ان سبکو یقین تھا کہ یہ سلمان آغا نے ہی سرپرائز دیا۔  اور فون پر بات کرنے کے بعد مطمئن ہو جائینگے ۔ 
 چلتے چلتے سعد اور رضی ہاؤس کی بالکل پچھلی سمت تک پہنچ گئے ۔ یہاں لائن سے گھنے درخت لگے تھے ۔ خاردار جھاڑیاں بھی موجود تھیں ۔ یہ سائیڈ انتہائی خوفناک منظر پیش کر رھی تھی ۔ اس سائیڈ پر کوئی حد نہیں تھی اور سامنے گھنے جنگلات صاف نظر ا رھے تھے ۔ 
درمیان میں صرف ایک باڑ تھی جسے آسانی سے پھلانکا جا سکتا تھا ۔ 
رضی اور سعد چلتے ہوئے اس حصے پر پہنچ گئےاور اپنا اپنا خیال ظاہر کرنے لگے کہ یہ سائیڈ خاصی خوفناک ھے یہاں سے جنگل کے جانوروں کا انے کا اندیشہ ہے ۔ لہٰذا اس جگہ مضبوط دیوار بنا لینی چاہئے ۔ 
ابھی یہ جائزہ لے ہی رھے تھے کہ رضی کی نظر کچھ کھودی ہوئی زمین پر پڑی جیسے تازہ تازہ کھودا گیا ہو ۔ 
دونوں جب اس جانب بڑھے تو حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔ زبان گنگ ہو کر رہ گئی دونوں نے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھا اور کہا ۔کیا تم بھی وہی دیکھ رہے ہو جو مجھے نظر آ رہا ہے ۔ سعد نے رضی کی ہاں میں ہاں ملائی  اور وہاں سے سرپٹ دوڑ لگا دی ۔

دونوں ہانپتے کانپتے گھر کے اندر داخل ہوۓ  تو پسینے سے شرابور ہو چکے تھے ۔ صمد آغا کے پوچھنے پر رضی نے بتایا کہ وہ چلتے ہوئے ہاؤس کی پچھلی سائیڈ پر نکل گئے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ پچھلی سائیڈ  پر  دیوار نہیں صرف باڑ لگی ہوئی تھی اور وہاں سے جنگلی جانوروں کے آجانے کا خطرہ ھے ۔ پھر ہماری نظر ایک ایسی جگہ پر پڑی جہاں زمین کو تازہ تازہ کھودا گیا ہو ۔ہم  وہاں تک پہنچ گئے اور دیکھا وو چار قبریں کھودی ہوئی تھیں اور ان پر قطبے بھی لگے ہوئے تھے ۔ ان  قطبوں پر ہم چاروں کے نام لکھے ہوۓ تھے ۔ رضی بات بتاتے ہوئے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو ا چکے تھے اور اس نے کہا ۔ تایا جی ہمیں یہاں سے جلد نکل جانا چاہئے ۔ پلیز یہاں شادی کا پروگرام ختم کر دیں ۔سرمد آغا نے رضی کی بات مان لی اور واپسی کی تیاری کرنے لگے ۔ 
انہوں نے اپنا سامان گاڑی میں واپس رکھا اور ملازم کو بلا کر کہا کہ وہ واپس جا رھے ہیں ابھی ۔ تم ہاؤس کا خیال رکھنا ۔  

ملازم نے کہا جیسے آپ کی مرضی ویسے شادی کب تک ھے ۔  سب لوگ کب تک  پہنچ جائیں گے ۔ 
صمد آغا نے کہا یہ جگہ کافی دور ھے اور ہم یہاں شادی نہیں کر سکتے ۔ صابر پرسرار ہنسی ہنسا اور کہا ۔ مگر سر یہاں تو تیاریاں مکمل ہیں ۔ 
کیا مطلب ھے تمہارا تیاری مکمل ھے ۔ رضی نے چڑ کر کہا تو ملازم نے جواب دیا ۔ مہمان تو بس پہنچنے والے ہیں اور آپ واپس جا رھے ہیں ۔ 
رضی کو غصہ تو بہت آیا پر اسکی بات کو اگنور کر کے سب نے  گاڑی میں  سامان رکھا اور واپس جانے کیلیے بیٹھ گئے  ۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے وہی عورت آتی دکھائی دی ۔ اس نے  ہاتھ میں دودھ سے بھری ہوئی بالٹی اٹھا رکھی ہوئی تھی ۔ اور   وہ گاڑی کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی اور سبکی انکھوں میں غصے سے دیکھنے لگی ۔ اور کہا ۔ شادی تو یہی ہوگی اور قہقہہ لگاتی ہاؤس کے اندر چلی گئی ۔
سرمد آغا سب سے زیادہ پریشان تھے ۔ یہاں کس طرح پتا چلا کہ ہم شادی کی نیت سے اے تھے۔ 
اتنا کہنا تھا عورت کا کہ گاڑی رک گئی اور لاکھ چاہنے کے باوجود گاڑی دوبارہ سٹارٹ نا ہو سکی ۔ پیٹرول بھی ختم ہونے کو  تھا ۔ صمد آغا نے صابر کو بلایا اور پوچھا یہ عورت کون ھے جو ابھی ابھی اندر گئی ۔ 
صابر نے لاعلمی سے کہا ۔ صاب یہاں ہم ملازمین کے علاوہ کوئی بھی نہیں اتا ۔ کئی سالوں بعد تو یہاں کی صفائی ہوئی ہے ۔ ہم کبھی کبھی اپنے  گھر والوں کو لے اتے ہیں ۔ مگر وہ بھی چند  دنوں کیلیے ۔ 
اچھا یہ بتاؤ ۔پیٹرول کا کیا کیا جاۓ ۔ اور کوئی گاڑی مکینک ھے نظر میں  ۔ ۔ صابر نے کہا میں ابھی فون کرکے پیٹرول کا کین منگوا دیتا ہوں ۔ 
رضی یکدم بولا ۔ کیا تمہارا فون یہاں کام کرتا ھے ۔ ہم سب کے فون کیوں نہیں کام کر رہے ۔ 
صابر نے اپنا فون نکال کر کہا کہ صاب اس سے کال کر لیں ۔ 
صمد آغا نے جلدی جلدی گھر کا نمبر ملایا ۔ حنا  بیگم نے فون پر سلام کیا ۔ صمد آغا نے کہا کہ ہم واپس آ رھے ہیں آج ہی ۔ مگر حنا  بیگم ہیلو ہیلو ہی کرتی رہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبر سنا دی کہ کل صبح سب خواتین اور بچے فارم ہاؤس جانے کیلیے نکل پڑیں گے اور شام تک پہنچ جائیں گے ۔ 
حنا بیگم کی بات سنکر سرمد آغا نے فون پر بات کرنا چاہی تو حنا  بیگم یہی کہتی رہیں آغا جی سرگوشیاں مت کریں اونچا بولیں آواز نہیں آ رھی ۔ بالآخر تنگ آکر سرمد آغا نے فون بند کر دیا ۔ اب تو واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بچے بھی کل پہنچ جائیں گے ۔ سرمد آغا نے انتہائی پریشانی میں کہا ۔ گاڑی کو دھکا لگا کر واپس پورچ میں لگا دیا گیا ۔
مرتا کیا نا کرتا اب چاروں نے گھر کے چپہ چپہ دیکھنے کی ٹھان لی ۔ ہاؤس کے دوسرے ملازمین بھی سامان لیکر واپس ا گئے جس سے سب کو کچھ تسلی ہوئی ۔
ملازمین کے ساتھ تمام کمروں کی لاؤنج واشروم غرض چپہ چپہ دیکھا گیا ۔ جو قبریں رضی اور سعد کو نظر آئیں تھیں وہ بھی غائب ہو گئی تھی ۔ سعد چلتے چلتے ایک کمرے میں گھس گیا ۔ یہاں آ کر اسکا دماغ ماؤف ہو گیا ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی ۔ وہ پاگلوں کی طرح دیواروں کو گھورتا رہا ۔ رضی بھی اسے دھونٹتے ہوئی ادھر آ نکلا ۔ کمرے میں گھستے ہی رضی کا بھی یہی حال ہو رہا تھا ۔ رضی چاروں طرف گھوم گھوم کر دیواروں پر گھورتا رہا ۔ دونوں ایک دوسرے سے کچھ کہہ نہیں پا رھے تھے کہ ایسے کیسے ہو سکتا ھے ۔ 
کافی دیر بعد صمد اور سرمد آغا بھی ادھر آ نکلے ۔ 
ان دونوں کا حال بھی رضی اور سعد سے مختلف نہیں تھا ۔ سرمد آغا نے سر پکڑ لیا اور پاس پڑے ہوئی بیڈ پر گر پڑے ۔ 
کمرے کی چارو دیواروں پر زرین کی تصویریں بچپن سے لیکر اب تک کی ۔ اور جتنی سالگرہ اسکی زندگی میں آئیں جو اس نے اپنے گھر منائیں سب یہاں لگی ہوئی تھی ۔ حیرت تو اس بات کی تھی کہ زرین کے علاوہ کوئی اور ان تصویروں میں نہیں تھا سوائے ایک دھندلے سائے کے ۔ وہ تقریبا هر تصویر میں دکھائی دے رہا تھا ۔ 
سرمد آغا نے صمد آغا رضی اور سعد سے کہا ۔ یار کوئی ترکیب سوچو کہ ہم گھر والوں  کو یہاں انے سے روک سکیں ۔ مجھے لگتا ھے کہ کچھ برا ہونے والا ھے ۔ مجھے یوں لگتا ھے کہ میں نے  یہاں شادی کرنے کا فیصلہ کیا نہیں مجھے سے کروایا گیا تھا ۔ مجھے خود بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ۔ سب نے ایک مرتبہ پھر گھر فون ملانے کی کوشش کی ۔ پھر وہی کہ سگنل کا مسلہ ۔ 
سعد نے مشورہ دیا کہ اب تو تمام ملازم واپس آ چکے ہیں ان میں سے کسی کا فون لیکر بات کر لیتے ہیں ۔ 
اب یہاں کے پرانے ملازم کو بلایا گیا ۔ اس کے فون سے نمبر ملایا گیا ۔ بیگم سلمان نے فون رسیو کیا تو آواز بلند اور صاف تھی ۔ صمد آغا نے خوشی خوشی بات کی اور صاف الفاظ میں منع کیا کہ آپ لوگ کل فارم ہاؤس میں مت آئیے ۔ پوری بات کرنے کے بعد جب بیگم سلمان کا کوئی جواب نہیں آیا تو انہوں نے کان سے فون ہٹا کر دیکھا تو مکمل ڈیڈ ہو چکا تھا ۔ بار بار آن کرنے کے باوجود موبائل دوبارہ کام کرنے کے قابل نہیں رہا ۔ ملازم نے پرسرار سی مسکراہٹ میں کہا ۔ صاب فون کافی پرانا ھے خراب رہتا ھے زیادہ تر ۔اور پیلے پیلے دانت نکال کر مسکرانے لگا ۔  
رضی کو اسکی مسکراہٹ کافی کھٹکنے لگی ۔ رضی خاموشی سے اٹھا تاکہ دوسرے ملازم سے فون لیکر بات کی جائے ۔ اور دبے قدموں ملازموں کے احاطے میں گھس گیا ۔ رضی کو عجیب سی بدبو محسوس ہوئی ۔ وہ جیسے جیسے اگے بڑھ رہا تھا بدبو تیز ہوتی گئی ۔ رضی نے ہاتھ دبا کر منہ پر رکھ دیے ۔بدبو قریب ایک کمرے سے آ رھی تھی ۔ رضی نے کمرے میں جھانک کردیکھا کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اس نے موبائل کی ٹارچ روشن کی تو کمرے کی سائیڈ پر ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔ غور کرنے پر رضی کا دماغ گھوم گیا ۔ اس نے دیکھا یہ ہڈیاں انسانی جسم کی تھیں ۔ قریب کچھ کٹے پھٹے کپڑے جو لازمی ان تمام بدنصیبوں کے تھے جنکی ہڈیاں یہاں پڑیں تھیں ۔   رضی نے جلد دو چار تصویریں کھینچ لیں اور رضی بھاگتا ہوا واپس اپنے کمرے میں پہنچا تو وہی ملازم اسے دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنسا اور واپس چلا گیا ۔ 
رضی نے تمام ماجرا سبکو سنایا اور کہا ۔ تایا جی ہم مکمل پھنس چکے ہیں ۔ بجاۓ اس کے کہ ہم بےبسی کی موت مریں ۔ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ھے اور کیسے کرنا ھے ہمیں سوچنا پڑے گا ۔ اس نے موبائل سے کھینچی ہوئی تصویر سبکو دکھائی تو  رضی چاروں کی سٹی گم ہو گئی ۔ انہوں نے دیکھا پہلی تصویر میں  ہڈیوں کے ڈھیر  کے پاس کوئی عورت بیٹھی ہوئی تھی ۔اسکے منہ میں بھی ہڈی تھی ۔دوسری تصویر میں وہ ڈر کر دیوار کے ساتھ ایسے چپکی ہوئی تھی کہ اس کی ٹانگیں زمین سے تقریبا دو فٹ اونچی تھیں اور اسکے منہ کے ساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ 
رضی نے کہا ۔اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں شائد اس طرف کا رخ بھی نہیں کرتا ۔ اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمام ملازمین بھی انسانوں کے روپ میں جن ہی ہیں ۔ رضی کی بات سے سب نے اتفاق کیا سعد کے آنسو خوف و ہراس سے لگاتار نکلنا شروع ہو گئے ۔
جیسے جیسے رات قریب آتی گئی سب کی بے چینی بڑھنے لگی کہ صبح سب لوگ ا گئے تو کیسی سنبھال پائیں گے ۔ اتنے میں صابر کھانا لیکر پہنچ گیا ۔ چاروں نے صابر کا سر سے تک جائزہ لیا ۔ چاروں نے یہ بھی محسوس کیا کہ صابر زیادہ تر خاموش رہتا تھا ۔  ٹھنڈ اور دن بھر کی تھکن سے بھوک کافی محسوس ہو رھی تھی ۔ کھانا میں دال اور تنور کی روٹیاں پکی تھیں ۔ سعد نے کہا کہ یہاں تنور بھی ھے ۔ حیرت ھے ہمیں نظر کیوں نہیں آیا ۔ 
صابر نے مسکرا کر کہا ۔ فارم ہاؤس سے باہر نکل کر تھوڑا گھومیں پھریں آپ کو نظر آ  جاۓ گا ۔ سبکو شدید بھوک محسوس ہو رھی تھی اور کھانا کھانے لگے ۔ رضی کو کھانا کھانے کے دوران منہ میں کوئی سخت چیز محسوس ہوئی تو ہڈی تھی ۔ اسنے بے دہانی سے ہڈی کو پلیٹ کی ایک سائیڈ پر رکھ دیا ۔ اچانک صمد آغا کی نظر پڑی تو وہ انسانی ہاتھ کی انگلی کی ہڈی تھی ۔  انہوں نے ہڈی کا  بغور جائزہ لیا اور  یکدم کھانے سے ہاتھ روک کر ابکاییاں لینے لگے ۔ باقی تینوں بھی سمجھ چکے تھے کہ انہیں انسانی گوشت کھانے کو دیا گیا۔  صمد آغا غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ صابر کی خبر لینی چاہئے ۔ انہوں نے صابر کو آواز دی لیکن وہ واپس نہیں آیا ۔ چاروں ایک ساتھ پر عزم ارادے سے اٹھے کہ اس طرح سے سسک سسک کر نہیں مرنا ۔ اگر کل گھر والوں کا آنا نا ہوتا ہم پیدل ہی گھر کو نکل جاتے ۔ خیر ابھی تو صابر کی خبر لیتے ہیں ۔ چاروں صابر کے کمرے کی جانب گئے ۔ پورا فارم ہاؤس چھان مارا کوئی ملازم صابر کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور نا ہی کچن میں کچھ پکانے کے اثرات نظر آ رے تھے ۔ 


صمد آغا نے مشورہ دیا کہ ہم چاروں  اس بات کی کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونے دینگے ۔  هر وقت چاک و چوبند رہیں گے ۔ اور اس کمرے کو مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں ۔ شادی کے بعد ہم یہاں پولیس کی مدد سے سارا معاملہ چیک کروا لینگے ۔ 
بس سب ملکر دعا کرو  یہاں چار دن کا قیام امن و سکوں سے گزر جائے 
پر ملازمین کے کمرے میں انسانی ہڈیوں کا کیا کام ۔ چلو اب کل صبح ہاؤس سے باہر نکلیں گے اور آس پاس کے لوگوں سے کچھ مدد طلب کرینگے ۔ میں تو اس بات سے پریشان ہوں کہ وہ عورت بہت دیکھی بھالی تھی تو مجھے یاد کیوں نہیں آ رھی ۔ 
سعد کو بھوک محسوس ہوئی اس  نے کچن کا رخ کیا شائد کچھ سامان مل جاۓ ۔ اس نے دیکھا کچن صاف ستھرا اور کھانے پینے کی تمام چیزیں بڑے طریقے سے رکھی گئی تھی ۔ وہ سوچ میں پڑ گیا اتنا سامان یہاں کس نے رکھا ہوگا ۔ ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ پیچھے کھڑا ملازم  جیسے اسکی سوچ پڑھ چکا تھا ۔ اس نے کہا ۔ آپ لوگوں کی اطلاع ملتے ہی تمام سامان منگوایا گیا تھا ۔ یار ایک بات تو بتاؤ ۔ سعد نے ملازم  سے پوچھا ۔ یہ اتنی اطلاع دیتا کون تھا ۔ اس نے پھر پیلے پیلے دانت نکال کر کہا ۔ کوئی بندہ آیا تھا شہر سے بتانے ۔ اچھا یہ بتاؤ صابر کہاں ھے ۔ 
ملازم نے بتایا کہ اس کی موت ہو گئی تھی دس بارہ سال پہلے ۔ سعد کو اب ڈر کم اور غصّہ زیادہ انے لگا تھا ۔ یہ کن بھول بھلیوں میں پڑ گئے ہم ۔ 
سعد نے رضی کی مدد سے رات کا کھانا بنایا ۔ کھانا اتنا اچھا تو نہیں بنا مگر سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور کل سب کے آنے کا انتظار لیے سو گئے ۔ رات کے کسی پہر سرمد آغا کی آنکھ عجیب و غریب آواز پر کھل گئی ۔ انہوں نے غور سے سننے کی کوشش کی اور اٹھ کر کھڑکی کے پاس اے ۔ سامنے جو منظر تھا ناقابل قبول ۔ انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ۔ زرین کی ابٹن کی رسم چل رہی تھی ۔  
زرین بچپن کی عمر میں تھی لگ بھگ دس گیارہ برس  کی ۔اسکے ساتھ کوئی لڑکا دولہا بنا بیٹھا تھا جسے سرمد آغا نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ انہوں نے دیکھا جس لڑکے سمیع سے زرین کی شادی تھی اسے ایک درخت سے الٹا لٹکایا ہوا تھا اور اس کے سر سے خون ٹپک ٹپک کر ایک ٹرے میں گر رہا تھا ۔   لوگ لائن بنا کر زرین کے ماتھے پر سمیع  کے  فریش خون سے زرین اور دوسرے بچے جو دولہا بنا بیٹھا تھا انکو  ٹیکا  لگاتے ہو جا رھے تھے ۔ زرین کا چہرہ خون سے لت پت ہو چکا تھا ۔ زرین کے ساتھ بیٹھے ہوئے بچے جو دولہا تھا اس کا چہرہ بھی خون کیوجہ سے پہچانا نہیں جا رہا تھا ۔  عورت کی نظر سرمد آغا کے ساتھ جب ملی تو سرمد آغا کو جھرجھری ا گئی ۔   وہ کھڑکی سے ہٹ گئے اور اپنے بیڈ پر بیٹھ کر زارو قطار رونے لگے ۔ اور اللہ‎ سے دعا کی کہ آے میرے پروردگار جو غلطی ہو گئی مجھ سے تو معاف فرما ۔ مجھے ایسی آزمایش میں مت ڈالنا کہ پورا نا اتر سکوں ۔ صمد آغا اور سعد۔ رضی سب سرمد آغا کے رونے کی آواز پر جاگ گئے ۔ سرمد آغا جیسے مضبوط انسان کو روتے دیکھ کر تینوں کی ہمت جواب دے گئی ۔ 
انہوں نے سارا ماجرا سنایا تو سعد نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو باہر کچھ بھی نہیں تھا ۔ آدھی رات اور سردی انتہا تھی ۔ اس ٹائم کسی کا باہر فنگشن منانا ایک انتہائی ناقابل یقین بات تھی ۔سرمد آغا نے جب کھڑکی میں آ کر دوبارہ دیکھا تو رات کا اندھیرا پوری طرح پھیلا ہوا تھا ۔سرد ہوا کے جھونکے نے  انہیں جلد ہی کھڑکی بند کرنے پر مجبور کر دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ زرین کے پیلے جوڑے پر جابجا خون کے دھبے بھی پڑ گئے تھے ۔ 
بقیہ رات چاروں نے آنکھوں میں کاٹی اور اس وقت کو کوسنے لگے جب یہاں انے کا سوچا تھا ۔ 
صمد آغا نے یاد دہانی کروائی کہ صبح جس کمرے میں زرین کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اسے پکا تالا ڈال دیا جاۓ تاکہ کوئی اس کمرے کا رخ نا کر سکے ۔
سرمد آغا  صبح اٹھتے ساتھ زرین کی تصویروں والے کمرے کو تالا لگا نے  گئے تو انہوں نے دیکھا زرین کی مزید تصویریں دیوار پر لگ چکی تھی ۔ جس میں اسے ابٹن لگایا جا رہا تھا ۔ 
یا اللہ‎ یہ کیا ہورہا ھے ۔ سرمد چکرا گئے ۔انہوں نے سب کو بلا کر نئی تصویریں دکھائی ۔ رضی نے کمرے پر بھاری تالا لگا دیا ۔ کیوں کہ آج کسی بھی وقت باقی گھر والے پہنچنے والے تھے ۔ رضی اور سعد پیدل ہی ارد گرد کے علاقے کو دیکھنے نکل گئے ۔ اکا دکا لوگ انہیں جیسے ہی دیکھتے خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔ جیسے یہ انسان نہیں کوئی دوسری مخلوق ہوں ۔ چلتے ہوئے انہوں نے  ایک یوٹلٹی سٹور دیکھا اور کچھ کھانے پینے کے لیے سامان بھی خرید لیا ۔ 
واپس پہنچنے پر پورچ میں گاڑیاں دیکھیں خوشی کے ساتھ ساتھ پریشانی اور بڑھ گئی ۔ 
سبکو دیکھ کر رضی سعد بہت خوش تھے ۔ بچے پورے ہاؤس میں ناچتے گھومتے پھر رھے تھے ۔ لڑکیاں اپنے اپنے کپڑے الماریوں میں سنبھالنے لگیں ۔ آج فارم ہاؤس میں سبکی پہلی رات تھی  اور پارٹی  کا اہتمام باہر لان میں کیا گیا تھا ۔ مختلف کھانے بنائے جا رھے تھے ۔ گانوں اور لڈی کی محفلیں سجائی گئی ۔ حنا  بیگم نے اپنی ملازمہ سے کہا جب سب لوگ تیار ہوکر باہر آ جائیں تب تمام کمروں کو تالا لگا دینا ۔ کھلی جگہ ھے کچھ بھی ہو سکتا ھے ۔ لڑکیاں ایک ایک کرتی جب سب باہر نکل گئی تو ملازمہ کمرے چیک کرتی جاتی اور ساتھ ساتھ تالے لگاتی جاتی ۔ ابھی وو تمام کمروں کو تالے لگا کر مڑ ہی رھی تھی کہ ایک دروازے کو اندر کی جانب سے زور زورسے کھٹکھٹانے کی آواز سنی ۔ اس نے سمجھا یہ میرا وہم ھے اور واپس نکل آئی چند سیکنڈ بعد پھر آواز اور شدت سے ای تو ملازمہ نے دروازہ جیسے ہی کھولا اسے سرمد آغا دکھائی دیئے ۔ اور انہوں نے غصے سے ملازمہ کو کہا کہ جاؤ زرین کو بھیجو مجھے اسے ایک خاص تحفہ دینا ھے ۔ 
ملازمہ  زرین کو بلا کر کمرے میں لے آئی ۔ کمرے میں انے سے پہلے باہر لان میں اسکی نظر پڑی تو سرمد آغا سعد سے باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ اس نے سوچا اگر سرمد آغا باہر ہیں تو اندر کون ھے ۔ کیوں کہ ابھی ابھی حنا بیگم نے بھی کہا کھلی جگہ ھے کچھ نا کچھ ہو سکتا ھے ۔لہٰذا وہ واپس جانے لے لئے مڑی ہی تھی کہ دیوار کے پیچھے سے کسی کو اتے دیکھ کر رک گئی ۔ وہ کوئی نقاب پوش عورت تھی جو عین اسکے سامنے آن کھڑی ہوئی اور چہرے سے نقاب اٹھا کر خاموش نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔ 
ملازمہ نے اپنے سامنے خود کو ہی دیکھا وہ بھی انتہائی قریب سے ۔ ابھی چیخ مارنے کو ہی تھی کہ اس عورت نے پنجہ مار کر ملازمہ کا چہرہ بگاڑ دیا ۔ 
باہر محفل کافی سجی ہوئی تھی ۔  رمشہ بھی باقی لڑکیوں کے ساتھ گانے بجانے میں مصروف رھی ۔  رضی سعد سرمد اور صمد آغا چاروں بظاھر نارمل رھے فنگشن کے دوران ۔پڑ انکی پوری توجہ زرین پر  رھی ۔ نجانے کس وقت تینوں کی توجہ کہیں اور بٹی کہ زرین انکی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ۔ سعد نے سرمد آغا کی طرف دیکھا اور زرین کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ زرین غائب ہو چکی تھی ۔ حنا  بیگم سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی ابھی ملازمہ کے ساتھ گھر کے اندر گئی ہے بس آتی ہوگی ۔ سرمد آغا  انتظار کیے بغیر گھر میں داخل ہونے تو دیکھا ملازمہ اس کمرے کے باہر زخمی حالت میں پڑی تھی جہاں زرین کی تصویریں دیوار اور لگی ہوئی تھی اور زرین کمرے میں لیٹی ہوئی تھی اور اس کا  جسم پیلا زرد ہو چکا تھا جیسے جسم سے تمام خون نچوڑ لیا گیا ہو ۔ سرمد آغا نے زور زور سے زرین کو جھنجھوڑا تو اس نے فورا آنکھیں کھول دی۔ 
زرین کی آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں اور جسم آگ برسا رہا تھا ۔ سرمد آغا کو دیکھتے ہی زرین نے نظر جھکا دی اور نڈھال سی دکھائی دینے لگی جیسے اسکے اندر گہری ٹوٹ پھوٹ ہو رھی ہو ۔ کچھ دیر بعد  وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ زرین نے بتایا کہ ملازمہ اسے بلا کر یہاں تک لائی اور کہا کہ وہ ایک تحفہ دینا چاہتی ہے جو اس کمرے میں ھے ۔ سرمد آغا کی نظر دیواروں پر پڑی تو دیکھا دیواریں بالکل خالی تھیں ۔ یہاں زرین کی کوئی تصویر نہیں تھی ۔ انہوں نے زرین سے پوچھا بیٹا تم نے یہاں کچھ دیکھا ۔ مطلب کمرے میں دیواروں پر یا آس پاس ۔ زرین کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ای اور ساتھ ہی غائب ہو گئی ۔ 
نہیں بابا جان ۔ یہاں تو کوئی بھی نہیں تھا ۔ 

زرین بیٹا آپ اب کبھی کسی کے بلانے پر نہیں جاؤ گی جب تک آپ مجھے یا صمد چاچو کو بتا نا دو ۔ صرف چار دن آپ نے بہت  اختیاط کرنا ہوگی ۔ 
بابا آپ بالکل پریشان نا ہوں میں  بہت آرام سے ہوں ۔ مجھے فارم ہاؤس سے ڈر بھی نہیں لگتا ۔ میں خوش ہوں ۔ آپ بے فکر ہو جائیں ۔ میری بہادر بیٹی ۔ میری بہت فکر ھے تمہاری ۔ اپنا خیال رکھنا ۔ سرمد آغا زرین کا ہاتھ پکڑ کر باہر سبکے درمیان لے آے۔
فنگشن کے دوران صمد آغا اور سرمد آغا نے سلمان آغا کو ایک سائیڈ پر لے جا کر پوچھا ۔ فارم ہاؤس کو اتنا سجانے کیلیے آپ نے کوئی بندہ بھیجا تھا کیا ۔ 
سلمان آغا نے کہا کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی فارم ہاؤس اسی طرح خوبصورت اور نیا کیوں لگ رہا ھے  ۔ اور یہاں سب نیا سامان رکھ کر کافی خرچہ کیا ہوگا آپ لوگوں نے ۔ سلمان آغا کی اس بات پر دونوں کے پسینے چھوٹ گئے ۔ آخر ایسا کون ھے جس نے رات و رات فارم ہاؤس کی حالت بدل دی ۔  دونوں نے سلمان آغا کو تمام ماجرا بتا کر سب پر نظر رکھنے کو بھی کہا ۔ 
کھانا لگ چکا تھا ۔ ٹھنڈ کی وجہ سے  سبکی بھوک زوروں پر تھی۔ 

کھانا لگتے ہی سب کھانے کی میز پر ٹوٹ پڑے ۔ حنا  بیگم کو ملازمہ کی ضرورت پڑی تو آوازیں دینے پر بھی جب نظر نہیں آئی تو پریشان ہو گئی۔  انہوں نے کسی کو کھانا کھانے کے دوران تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خود اٹھ کر اسے ڈھونڈنے ادھر ادھر دیکھنے لگیں ۔ 
ملازمہ کو ڈھونڈھتے ہوۓ وہ زرین کے کمرے تک پہنچ گئی تو انکی سانس اوپر کی اوپر رہ گئی اور بھاگم بھاگ لان تک پہنچ گئی ۔ کافی دیر اپنی سانس بحال کرنے کی کوشش کر تی رہیں ۔ انکے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا ۔ چونکہ سعد' رضی  ' صمد آغا اور سرمد آغا ہمہ وقت ہوشیار رہتے تھے ۔ انہوں نےحنا  بیگم کی بدلتی رنگت کو دیکھ لیا تھا ۔ سرمد آغا نے حنا  بیگم سے پوچھنے کی کوشش کی تو انہوں نے انجان بنکر کر کہہ دیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ مجھے بس نیند اور تھکاوٹ سے چکر ا گئے تھے ۔ 
سرمد آغا نے کہا ۔ حنا بیگم مجھے کیوں لگ رہا ھے جیسے آپ کچھ چھپا رھی ہیں مجھ سے ۔ 
نن ۔نہیں تو میں بھلا آپ سے کیا چھپاؤں گی  ۔سرمد آغا نے غور سے حنا  بیگم کو دیکھا اور کہا۔ اگر آپ میری بیوی نا ہوتی تو اس بدلتی  رنگت کو دیکھتے ہوئے کبھی آپ کی بات کا یقین نہیں کرتا ۔ اور اگر مجھ سے کچھ چھپا رھی ہیں تو بہت غلط کر رھی ہیں ۔ 
کھانا کھانے کے بعد سب خواتین  اپنے اپنے کمروں میں آ گئیں فیملی کے باقی لوگ بھی کھانے سے فارغ ہو کر سونے کی خواہش کرنے لگے ۔سفر اور رات کے فنگشن کی   تھکن وجہ سے سبھی نڈھال تھے ۔ ۔ باہر ٹھنڈ کا یہ عالِم ہو چکا تھا کہ مزید بیٹھنا دشوار  ہو رہا تھا ۔ آہستہ آہستہ سب کے جانے سے لان میں رونق ختم ہونے لگی ۔  کچھ منچلے لڑکوں نے باہر اپنی محفل سجاۓ رکھی ۔ زرین 'رمشہ' اویس ' علی 'حمزہ '  سعد' رضی بھی لان میں موجود رھے ۔علی نے کہا کہ اس فارم ہاؤس کے کافی قصے سن رکھے تھے ۔ چلو آؤ دیکھتے ہیں کہ یہاں کسی جن کا سایہ ھے بھی یا نہیں ۔ مجھے جن کو بلانےآتا ھے ۔  سب نے علی کی بات سے اتفاق کیا اور کہا۔  چلو ایسے رات بھی گزر جاۓ گی اور یادگار رھے گی یہ  رات ۔ سعد نے رضی کو معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔ حمزہ نے  علی کا ساتھ دیا اور کہا مجھے طریقہ پتا ھے ۔ میں بتا سکتا ہوں کہ ہاؤس میں جن ہیں یا نہیں ۔
حمزہ کی بات سنکر سب نے قہقہہ لگایا ۔  رضی اور سعد بھی انکی کھیل میں دلچسبی لینے لگے ۔ جبکہ لڑکیوں نے اعتراض کیا کہ اگر سچ مچ میں جن آ گئے تو ہم کیا کرینگی ۔ علی نے کہا ہم تو شغل لگا رہے ہیں ۔ کچھ نہیں ہوتا بس چپ چاپ بیٹھی رہو اور تماشا دیکھو ۔ 
حمزہ نے زمین سے چند ہموار پتھر اٹھا کر اوپر نیچے رکھے ۔ پتھر ایسے منتخب  گئے تھے کہ جو آسانی سے گر نہیں سکتے تھےاور اوپر نیچے بآسانی رکھے جا سکتے تھے ۔  ۔ حمزہ نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھا اور کہا ۔ اگر یہاں کوئی جن ذات موجود ہے تو وہ ان  تمام پتھروں کو گرا دیگا۔  چند لمحے بعد فضا سے ایک پتنگ کٹ کر آئی اور انہی پتھروں سے جا ٹکرائی اور تمام پتھر بکھر گئے ۔ حمزہ کے اس کھیل سے سب نے خوب انجوے کیا ۔ زرین کے قہقہے فضا میں گونج اٹھے ۔ آج سے پہلے زرین کو اتنا ہنستا کبھی نہیں دیکھا گیا تھا ۔ سعد اور رضی پتھروں کے گرنے سے بہت پریشان ہو گئے تھے ۔ حمزہ کا کھیل سب کیلیے مذاق لیکن رضی اور سعد کیلیے انکی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا ۔
حمزہ نے کہا چلو مذاق ہی سہی پر مزہ تو آیا نا سبکو ۔ رمشہ خوفزدہ ہو گئی اور اپنے بھائی رضی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوۓ کہا ۔ 
حمزہ یہ سچ بھی تو ہو سکتا ھے نا ورنہ سوچو اتنے ویرانے میں اس وقت جبکہ سردیوں کے ڈیڑھ بج چکے ہیں پتنگ کہاں سے اڑ کر آ سکتی ھے ۔ 
سعد نے سبکو غصے سے اندر جانے کو کہا کہ کل بارات ھے زرین کی۔  اور سبکو جلد اٹھنا ھے ۔بہت سے کام نبٹانے ہونگے ۔ دونوں نے اپنی موجودگی میں سبکو اندر بھیج کر تمام بیرونی دروازے بند کر دیے ۔ 
صمد آغا نے سرمد آغا سے کہا کہ شکر آج پہلا دن خیریت سے گزر گیا اور کوئی نا خوشگوار حادثہ رونما نہیں ہوا ۔ 
سرمد آغا نے کہا کہ ناخوشگوار واقعہ پیش ہو چکا ھے لیکن  میں نے کسی کو کان و کان  بھی اس بات کی خبر نہیں ہونے دی ۔ صمد آغا کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور بولے کہ ایسا کیا ماجرا ہوا ۔ 
سرمد آغا نے بتایا کہ جب زرین مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو میں خوفزدہ ہو گیا تھا ۔ میں بھاگ کر اندر آیا تو دیکھا ہماری ملازمہ زمین پر زخمی حالت میں پڑی تھیں ۔ میں بھاگ کر کمرے میں گیا اور دیکھا زرین اسی کمرے میں لیٹی ہوئی تھی ۔ اسکے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا ۔ ملازمہ کی حالت تو باہر دیکھ چکا تھا اور اب میں یہی سمجھ رہا تھا کہ زرین خدانخواستہ اب اس دنیا میں نہیں ھے ۔ مجھے حیرت ہوئی یہ دیکھ کر کہ میرے ایک مرتبہ بلانے پر زرین نے فورا آنکھیں کھول دیں ۔ اور اب اس کمرے سے زرین کی تمام تصاویر بھی غائب ہو چکی ہیں ۔ جب میں باہر آیا تو ملازمہ غائب تھی ۔ میں نے چاروں جانب گھوم پھر کر بھی دیکھ لیا لیکن اس کا نام و نشان بھی نا مل سکا ۔ 


فارم ہاؤس کے دوسرے دن کا آغاز ہو چکا تھا ۔ صبح صبح ہی سبکو ملازمہ کی گمشدگی کی خبر مل چکی تھی ۔  جسکی وجہ سے سب لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ۔ سعد اور رضی تمام کارروائی سے واقف تھے لہٰذا انہوں نے یہی بتایا کہ اسے کسی ضروری کام کی وجہ سے شہر واپس بھیج دیا گیا ۔ حنا بیگم کو ایک عجیب سی چپ لگ چکی تھی۔  جسے سرمد آغا واضح طور پر محسوس کر رہے تھے ۔ صبح ناشتے کے بعد سب بارات کے استقبال کی تیاریاں کرنے لگے ۔ 
 فارم ہاؤس کے ملازمین انتہائی خوش دکھائی دے رھے تھے ۔ ملازمین میں سے کسی نے بھی شادی کے کھانے کو چکھا بھی نہیں ۔ 
اس وقت فارم ہاؤس میں کافی تعداد میں لوگ  موجود تھے ۔ جگہ بہت کھلی اور کمرے بیشمار تھے ۔ فارم ہاؤس میں سب کچھ موجود تھا سوائے آئینے کے ۔ لڑکیوں کو تیار ہونے کیلیے آئینے کی جب ضرورت پڑی تو پورے فارم ہاؤس میں کوئی آئینہ نظر نہیں آہا ۔ 
رمشہ نے ملازم کو بلا کر آئینہ ما نگا تو اس نے کہا ۔ بی بئی  جی یہاں کے تمام آئینے وقت گررنے ساتھ اندھے ہو چکے ہیں ۔ 
لڑکیاں یونہی اندازے سے تیار ہوئیں ۔ آج زرین کی نکاح کی رسم تھی ۔ بارات اپنے ٹائم پر ہی پہنچ گئی ۔ سب نے باراتیوں کا شاندار استقبال کیا ۔ 
پروگرام کے مطابق نکاح کی رسم  کھانے سے پہلے ہی ادا ہونا تھی ۔ اور دوری کی وجہ سے آج کی رات باراتیوں کو یہیں رکنا تھا اور اگلی صبح سویرے واپس چلے جانا تھا ۔ 
کچھ وقت آرام کرنے کے  بعد دولہا کے والد نے کہا کہ اب نکاح پڑھوا دینا چاہئے ۔
سب کی  رضا مند ی سے مولوی صاحب نے کارروائی شروع کی ۔
دولہا سمیع اور دلہن کو الگ الگ کمروں میں بٹھایا گیا تھا ۔  مولوی صاحب  نے کہا کہ وہ سب سے پہلے دلہن سے رضامندی لینا چاہیں گے اور دلہن  کے کمرے تک پہنچ گئے ۔ انہوں نے زرین سے اجازت لی تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔ 
زرین کی یہ حرکت سبکو بیحد عجیب اور معیوب سی لگی ۔ زرین کی اجازت لیکر مولوی صاحب نے نکاح شروع کر دیا اور آخر میں نکاح نامہ پر زرین کے دستخط کروائے ۔ زرین نے مختلف جگہوں پر خوشی خوشی دستخط کر دییے ۔ مولوی صاحب زرین کے کمرے سے اٹھ کر دولہا کے کمرے میں آ گئے اور چھ کلمے اور کچھ دعائیں پڑھنے کے بعد سمیع  کو نکاح نامہ پر دولہا والی جگہ پر دستخط کرنے کو کہا ۔ سمیع اور مولوی صاحب نے دیکھا جہاں دولہے نے دستخط کرنے تھے وہاں کسی اور کے دستخط نمودار ہو گئے  اور سمیع  کے دستخط کرنے کی کوئی جگہ باقی نہیں تھی ۔
سمیع حیران و پریشان ہو کر بولا ۔مولوی صاحب یہ کس کے دستخط ہیں ۔ یہاں تو مجھے دستخط کرنے تھے ۔ مولوی صاحب بھی پریشان ہو گئے کہ ایسا کب ہوا کہ کسی اورنے دستخط کب کے ۔ مولوی صاحب نے  سوچا ہو سکتا ھے نکاح نامہ پر پہلے سی کسی نے سائن کے ہوں اور میں نے دیکھا نا ہو ۔ انہوں نے زرین کے کمرے میں جاکر نئے فارم پر زرین سے  دوبارہ سائن کروائے اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں جہاں سب مرد حضرات بیٹھے تھے آئے اور جب دوبارہ سمیع کو سائن کرنے کو کہا تو پھر سیے وہی سائن دوبارہ نمودار ہو گئے ۔  نکاح کی تقریب میں موجود سب لوگوں کو باری باری نکاح نامہ دکھایا کہ دلہن کے نکاح کے بعد یہ سائن کاغذ پر خود بخود  نمودار ہو رھے ہیں ۔اور ایسا دوسری مرتبہ ہوا ۔ 
تقریب میں شریک سب لوگوں نے نکاح نامہ کو باری باری دیکھنا شروع کر دیا ۔ اور پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ماجرا ہوا ۔ نکاح نامہ کی رو سے  تو زرین کا نکاح اس سائن والے سے ہو چکا ہے ۔مولوی صاحب نے حیرانی سے کہا ۔ اور ایسا ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ ہوا ۔ اور زرین کسی اندیکھی مخلوق کے نکاح میں آ چکی ۔ سرمد آغا یہ خبر سنکر غش کھا کر گر گئے ۔ صمد اور سلمان آغا نے اگے بڑھ کر انھیں سنبھالا اور تقریب میں موجود سب لوگوں کو فارم ہاؤس میں ہونے والی تمام باتیں شروع سے آخر تک بتا دیں ۔ کہ انکے یہاں پہنچنے سے پہلے پرانے اور قدیم فارم ہاؤس کو دلہن کی طرح سجا پایا ۔ فارم ہاؤس میں اتے ہوۓ ایک عورت کو دیکھا جو بار بار انکے سامنے آتی رہی ۔ اور اسکا کہنا یہی تھا کہ شادی تو یہیں ہوگی ۔ پھر فارم ہاؤس میں ہی ایک کمرے میں زرین کی بچپن سے اب تک کی تمام یادداشتیں بمہ تصویروں کے دیوار پر چسپاں تھیں ۔ زرین کی ابٹن کی رسم میں اس عورت کا زرین اور نا معلوم دولہے کو سمیع کے خون سے ابٹن لگانا یہ سب واقعات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ۔ ہمیں معلوم ھے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جنکو ماننا سب کیلیے ناممکن ھے ۔ پر ایسا ہی ہوا ۔ 
سرمد آغا نے سب سے التجا کی کہ ابھی اسی وقت ہم سبکو فارم ہاؤس سے نکل جانا چاهیے اور ہم شہر جا کر زرین کا دوبارہ سے نکاح کروائیں گے ۔ سب نے سرمد آغا کی بات سے اتفاق کیا اور جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ ایک ہی گھنٹے میں جانے کی تیاری مکمل ہو گئی اور سب گاڑیوں میں بیٹھ گئے ۔ سرمد آغا نے زرین کو اپنی گاڑی میں اپنے ساتھ ہی بٹھانا چاہا تو وہ اسے لینے کمرے میں پہنچے تو زرین غائب تھی ۔ پورے فارم ہاؤس میں زرین کا نام و نشان بھی نظر  نہیں آ رہا  تھا ۔ 
زرین کی گمشدگی کی اطلاع سبکو معلوم ہونے لگی ۔ حنا بیگم  سرمد آغا دکھ اور غم سے نڈھال ہو چکے تھے ۔ فارم ہاؤس کا چپا چپا چھان مارنے کے باوجود زرین کا پتا نہیں چل سکا ۔ 
دولہا سمیع اور باراتیوں نے بھی هر جگہ ڈھونڈھنے میں مدد کی ۔ کچھ کا کہنا یہ تھا کہ کہیں خدانخواستہ کوئی جنگلی جانور نا اٹھا کر لے گیا ہو ۔ لہٰذا ارد گرد کے تمام علاقے کو دیکھا گیا ۔سب طرف مایوسی ہوئی ۔ 

رات گئے سب تھک ہار کر  فارم ہاؤس واپس آ گئے ۔ 
پریشانی اور دکھ سے سرمد آغا کی حالت تشویشناک ہوتی جا رھی تھی ۔ سعد اور رضی نے کچھ لوگوں کو ساتھ لیا اور ملازموں کے اس کمرے میں پہنچ گئے جہاں انسانی ہڈیوں کا انبار لگا ہوا تھا ۔ وہیں انہوں نے ملازمہ کے پھٹے کپڑے دیکھے اور یقین کر لیا کہ اسکی ہڈیاں بھی یہاں سے ہی ملیں گی ۔ 
رضی کو شک تھا کہ کہیں زرین کے ساتھ بھی ایسا حادثہ نا ہوا ہو ۔ یہ سوچ کر  اسے جھر جھری سی آ گئی اور  اسکی آنکھوں سے  آنسو نکل پڑے ۔
ساری رات کے  گزر جانے کا  کسی کو احساس تک نا ہوا ۔ صبح کی روشنی میں ایک مرتبہ پھر سے سب   زرین کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوۓ۔  واپسی پر سب نے دیکھا فارم ہاؤس کی روشنیاں قمقمے وہ رونق قیمتی سامان سب ختم ہو چکے تھے ۔ فارم ہاؤس اپنی اسی پرانی اور بوسیدہ حالت میں آ چکا تھا ۔ ارد گرد کچھ گھر بھی دکھائی دیئے گئے ۔ فارم ہاؤس میں ایک ایک لمحہ صدیوں پر محیط دکھائی دینے لگا ۔ 
سمیع کے دل میں کچھ شک سا انے لگا ۔ وہ اکیلے ارد گرد کے علاقے دیکھنے نکل گیا ۔ چلتے چلتے وہ جنگل کی طرف بڑھنے لگا ۔ جنگل کے بیچ جا کر اسے گھنگروں کی آواز انے لگی ۔ سمیع نے آواز کو سنکر اس سمت چلنے لگا ۔ کافی دور پیچھا کرنے کے بعد وہ آواز کے قریب پہنچا تو دیکھا زرین عروسی لباس میں ملبوس خراماں خراماں چلتی جا رھی تھی ۔ اس سے قبل کہ سمیع اسے آواز دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا تو مولوی صاحب نے فارم ہاؤس کے لان میں اذان دی اور سبکو نماز کیلیے اکھٹا کیا ۔ 
تمام لوگوں نےصفیں باندھ لیں ۔ 
مردوں کی صفوں سے پیچھے خواتین نے بھی اپنی صفوں میں  ترتیب دی اور سب نے باجماعت نماز ادا کی ۔ 
نماز کے بعد مولوی صاحب نے سرمد آغا سے کہا۔ آپ لوگوں کی  باتوں سے اور زرین بیٹی کے اس طرح غائب ہو جانے سے صاف ظاہر ھے کہ اس فارم ہاؤس میں  جنّات موجود تھے ۔ اور اب اس فارم ہاؤس کی حالت بھی یہی کہہ رھی ھے کہ یہاں ایسی مخلوق آباد تھی ۔ 
کل فارم ہاؤس ایک خوبصورت محل دکھائی دے رہا تھا اور آج اسکی خستہ حالی یہ بتا رھی ھے جیسے اب وہ مخلوق یہاں سے جا چکی ھے ۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ھے کہ زرین بیٹی کا نکاح کسی جن زاد سے ہوا اور وہ اسے اپنی دنیا میں لے جا چکا ھے ۔ نکاح نامہ پر اسی کے دستخط نمودار ہوتے ہونگے ۔ مولوی صاحب ابھی آن  باتوں کا تذکرہ کر رھے تھے کہ انہیں دورسے کوئی  سائیکل  سوار فارم ہاؤس اتا  دکھائی دیا ۔ قریب انے پر اس نے سبکو دیکھا اور ادب سے سلام پیش کیا ۔ سرمد آغا نے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ۔ اس سے پہلے کہ سرمد آغا کچھ کہتے اس نے کہا ۔ سلام صاحب ۔ آپ سب کس وقت تشریف لائے ۔ مجھے بتاتے میں تھوڑی بہت صفائی کروا دیتا ۔ بس دس منٹ کے لیے بازار سے سودا لینے گیا تھا ۔  
رضی اسکی بات کا مطلب سمجھ کر بولا تو دس منٹ پہلے کہاں تھے آپ ۔ 
مجھے کہاں جانا ھے بیٹا ۔ جب سے سرمد اور سلمان صاحب یہاں چھوڑ کر گئے ہیں تب سے اب تک چوکیداری کرتا ہوں ۔ آپ لوگ بھی  آج برسوں بعد لوٹے ہیں ۔
رضی نے حیرت سے پوچھا اور باقی کے ملازم صابر 'شوکت اور انکے ساتھی وغیرہ کہاں ہیں ۔ 
انکو دنیا سے گئے ہووے زمانہ بیت گیا ۔ آپ نے تو برسوں یہاں کا رخ نہیں کیا ۔میں سب بتاتا ہوں آپ آرام کر لیں ابھی ابھی تھکے ہارے تو پہنچے ہیں ۔ 
لیکن بابا ہم کو آے آج چوتھا دن ھے ۔رضی نے جان بوجھ کر کہا ۔  چوکیدار نے ہنس کر کہا ۔ میں نے برسوں نمک کھایا ھے اپکا ۔ میں نمک حرامی نہیں دکھاؤں گا صاب ۔ میں ابھی دس منٹ پہلے ہی تو گیا تھا ۔ اور آپ لوگ میرے بعد ہی آ گئے ۔ پھر اس نے اپنی بیوی کو آواز لگائی ۔ 
زلیخا ادھر آؤ دیکھو کون آیا ھے ۔ زلیخا کو دیکھ کر رضی ' سعد ' سرمد آغا اور صمد آغا کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔ زلیخا وہی عورت تھی جو انکو راستے میں بار بار ملتی رھی ۔ اس نے اتے ہی سبکو سلام کیا اور خوشدلی سے سبکو باری باری خوش آمدید کہنے لگی اور بھاگ بھاگ کر بیٹھنے کے لیے  کرسی موڑھے پیش کرنے لگی جیسے یہ ابھی فارم ہاؤس پہنچے ہوں ۔
یہی تھی وہ جو ہمیں راستے میں ملیں  ۔ جنہوں نے کہا تھا کہ شادی تو یہیں ہوگی ۔ سعد نے شور مچا دیا ۔ حنا بیگم نے زلیخا کو پانی کے بہانے یہاں سے بھیج دیا تو رضی نے کہا اس عورت کو جانے مت دیں ۔ یہی ہمیں بتائے گئی اصّل بات ۔ 
سرمد آغا نے اس کو بتایا کہ ہم پچھلے چار دن سے یہاں ہیں اور ہماری بیٹی زرین یہاں کھو چکی ھے ۔ ملازم رمضان نے بتایا کہ صاب جی آپ نے تو بہت زیادہ دیر کر دی۔ زرین کو دفنائے ایک زمانہ بیت گیا  ۔ زرین کی پیدایش کے بعد آپ لوگ یہاں سے چلے گئےتھے ۔ اتنے برس تک کوئی یہاں آیا بھی تو نہیں ۔ اب رمضان کی باتیں سبکو چکرا دینے کیلئے کافی تھیں ۔ حنا بیگم کی حالت بھی خاصی خراب ہونے لگی ۔ انہوں نے رمضان کو اشارے سے چپ رہنے کو کہا ۔ فارم ہاؤس سے زرین کے بغیر میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤں گا ۔ سرمد آغا نے روتے ہوئے کہا ۔ اور انہوں نے رمضان کو مختصرا ساری بات بتا دی ۔ بات سنتے ہی زلیخا اور حنا بیگم کی نظر اپس میں ملی اور دونوں کھسیانی سی نظر انے لگی ۔ جیسے کوئی تو بات ھے ان  دونوں میں ۔ مولوی صاحب جو دور بیٹھے تمام ماجرا دیکھ رھے تھے ۔ مولوی صاحب کافی دیر تک سوچتے رھے اور بولے ۔ سرمد صاحب میں آپ کی بیگم سے چند سوالات پوچھنا چاهتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو ۔ 
حنا بیگم نے سرمد آغا کے کہنے سے پہلے ہی بتانا شروع کر دیا ۔ 
آج سے بیس برس پہلے کی بات ھے ۔ میری شادی کو سات سال گزر چکے تھے اور میرے ہاں اولاد نہیں تھی ۔ سرمد آغا بھی کافی پریشان رہنے لگے تھے ۔ پھر اللہ‎ نے ہم پر مہربانی کی اور زرین کی آمد کی خوشخبری دی ۔ اس وقت میں جو کھانا بناتی غائب ہو جاتا ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہاں کوئی اور مخلوق بھی آباد ھے ۔ پھر آہستہ آہستہ مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہونے لگا ۔ اور وہ مجھے نظر انے لگی ۔ پہلے پہل میں اسے زلیخا سمجھتی تھی ۔ اور وہ بھی امید سے تھی ۔ بعد میں اس نے بتایا کہ وہ زلیخا نہیں ۔ مجھے اعتماد میں لیکر بتایا کہ وہ زلیخا کی شکل میں ایک جن زاد ھے ۔اور اس کے ہاں  بچے کی ولادت ہونے والی ھے ۔ اور وہ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اسی جگہ رہ رھی ھے ۔ زلیخا اور میں نے اسکی بہت خدمت کی اور وہ ہم سے کافی خوش تھی ۔  پھر اللہ‎ تعالیٰ نے مجھے ایک مردہ بیٹی دی ۔ میں دکھ سے نڈھال تھی ۔ مجھے خود سے زیادہ سرمد آغا کی فکر تھی ۔ میں انھیں دکھی نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ پھر اسکے ہاں اسکی بیٹی یعنی جن زادی پیدا ہوئی ۔ اس نے میرے احسان کا بدلا اپنی جن زادی میری گود میں ڈال کر اتار دیا ۔ اور سختی سے منع کیا کہ اس بات کی خبر زلیخا اور میرے علاوہ کسی کو بھی معلوم ہوئی میں اسکی جان لیلونگی اور زرین کو لیجاونگی ۔میں نے ڈر کر سرمد آغا کو بھی نہیں بتایا ۔ مجھے انکی جان کی فکر تھی ۔ رمضان اور زلیخا نے اسی کمرے کے ایک کونے میں ایک قبر کھودی اور ہماری بچی کو دفنا دیا ۔ 
ہم زرین کو لیکر خوشی خوشی شہر آ گئے ۔ زرین یہ بات جان چکی تھی ۔ وہ ہم دونوں سے  بہت محبت کرتی تھی ۔ ایک مرتبہ سرمد آغا پر زرین کے جن باپ نے حملہ کر دیا ۔ زرین نے اس سے مقابلہ کیا اور اس مقابلے میں وہ بیحد زخمی بھی ہوئی۔ اور اپنے باپ کو وہاں سے بھگا دیا ۔ فارم ہاؤس میں اس نے ہم سب کی بہت رکھوالی کی ۔ یہاں تک کہ انکی کھودی ہوئی قبروں میں انہی جنوں کو دفن کردیا ۔ زرین ایک بہت طاقتور جن زاد ھے ۔ اس نے ہم سب سے حقیقی رشتہ نبھایا ۔ اور فارم ہاؤس میں انے والے سب لوگوں کی حفاظت خود کرتی رہی ۔ سوائے اس ملازمہ کے ۔ کیوں کہ اس وقت زرین اپنے باپ کے ساتھ انھیں تسلی دینے میں مصروف تھی ۔ زرین کے لیے سرمد آغا بہت اہم تھے ۔ 
یہ سب بتا کر  حنا بیگم نے رونا شروع کر دیا ۔ سرمد آغا اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگے ۔ میں اب بھی یہی کہونگا ۔ میں زرین کو یہاں چھوڑ کر ہرگز نہیں جاؤنگا ۔ 
سمیع ہانپتا کانپتا آیا اور کہا کہ اس نے زرین کو بہت عجیب حالت میں دیکھا تھا ۔ وہ چل رہی تھی لیکن اس کے پاؤں زمین پر نہیں تھے ۔ اس نے مجھے مڑ کر دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ واپس چلے جاؤ اور واپس میرے پیچھے مت آنا ۔ جل کر بھسم کر دیے جاؤ گے ۔ 
سرمد آغا نے سمیع کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا ۔ مجھے وہاں لے چلو جہاں میری زرین کو دیکھا ۔ میں جل کر بھسم ہو جانا چاهتا ہوں ۔ پر یہاں سے زرین کے بغیر نہیں جا پاؤں گا ۔یہ کہہ کر سرمد آغا نے زارو قطار رونا شروع کر دیا ۔ 
سرمد آغا اٹھ کر زرین کے کمرے میں آے تو زرین نے مسکرا کر دروازہ کھولا اور بولی ۔ بابا جان میں کب سے آپ کا انتظار کر رھی تھی ۔ سرمد آغا نے زرین کو سینے سے لگا لیا اور بچوں کی طرح رونے لگ پڑے ۔  زرین نے کہا کہ آپ نے تو بیٹی کی شادی کر دی ۔ کیا مجھے رخصت نہیں کرنا ھے آپ نے ۔ پھر اس نے ایک جن زاد سے ملوایا اور کہا ۔ اگر آپ مجھے میرے شوہر کے ساتھ رخصت نہیں کرنا چاہتے تو میں آپ کی بات مانے کو تیار ہوں ۔ میں آپ کی بیٹی ہوں اور رہونگی ۔ اور هر بیٹی کی طرح میں بھی آپ سے ملنے ضرور آیا کرونگی ۔ 
سرمد آغا زرین کی بات سے بہت خوش ہوۓ ۔ انہوں نے سبکے سامنے اپنی بیٹی زرین کا ہاتھ جن زاد کے ہاتھ میں دے دیا اور خوشی خوشی واپس اپنے گھر واپس چلے آئے ۔
                          ختم شد ! 
facebook pa is trha ka novels hasil r
krna kaly mra page like krn thanx page link
اللہ‎ حافظ ۔

Thursday, June 4, 2020

Naveed Ahmed - " نکاح💑 و ❤ِ محبت۔ Urdu Novel Downlod PDF


" نکاح💑 و ❤ِ محبت۔
                 
  قسط نمبر ۱

   "مجھے تو ابھی پڑھنا ہے ابا میں ابھی شادی نہیں کروں          گی"،
"لیکن بیٹا وہ اچھا اور پڑھا لکھا لڑکا ہے۔'
"اور وہ تمھیں شادی کے بعد پڑھنے کی اجازت بھی دیگا،"
کیا کہا آپ نے؟؟؟(اجازت)؟؟

اب مجھے اجازت لینی ہوگی 


 کسی کی،وہ بھی پڑھائی کے لیے؟؟
میں آپ سب کو بوجھ لگتی ہوں نا،تو ٹھیک ہے کردیں میری شادی گھونٹ دے میرا گلا،میری خواہشوں کا دم ٹوڑھ دیں میں افف تک نا کروں گی،
کیوں کہ آپ لوگوں نے تو مجھے پالا ہے نا،اب اسکا بھی تو احسان اترنا ہے مجھے،

اور پھر وہ اپنے پیر پٹختی کمرے میں چلی گئی،

کچھ عرصہ بعد وہ شادی کے جوڑے میں ملبوس اپنے گھر کی دہلیز پار کر کے اپنے اصل گھر چلی گئی،
رات کو اپنے شوہر کے انتظار میں بیٹھی تخت پر بس زاروقطار روے چلی جا رہی تھی،

کے دروازے پر اسی وقت دستک ہوئی،
اسلام وعلیکم"میں اندر آجاؤ ؟"
کوئی جواب نا دیا،
لیکن وہ پھر بھی اندر آگیا،
اس نے شادی سے پہلے اور شادی کے دوران بھی اسے نہیں دیکھا تھا کیوں کے وہ اسے دیکھنا ہی نہیں چاہتی تھی،
لیکن جب وہ اسکے سامنے آکر بیٹھا تو اسکی سانسیں اوپر نیچے ہونے لگی،لیکن نگاھیں نہیں اٹھائی،

میں آپکے کچھ لایا تھا،آپکی منہ دکھائی کے لیے،
اور سامنے رکھے دو کنگن اسکے اور بڑھائے،
مجھے نہیں چاہئیے،منہ بصورتی ہوئی اس نے وہ کنگن پرے کیے،

مجھ پر احسان کیا ہے آپ سب نے آپ نے شادی کر کے اور اُن لوگوں نے پال کر،
بس!!!!

وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی لیکن دل کی بھڑاس دھڑا دھڑ اسی پر نکال رہی تھی
اور وہ بے فکر سے اسے سنے چلے جا رہا تھا،

اچھا اب ایک بار میری طرف دیکھ بھی لیں مجھے پتا ہے آپ نے ایک بار بھی مجھے نہیں دیکھا،
پلیز "الفت"
کیا کروں گی آپکا دیکھ کر نہیں دیکھنا مجھے کسی کو
،اور ہاں یاد رکھنا اگر آپ نے مجھے ہاتھ بھی لگانے کی کوشش کی تو میں۔۔۔۔۔۔۔تو میں۔۔۔۔۔۔۔
چلا دوں گی،
اور وہ چپ چاپ اسکی یہ بات سن کر بنا کچھ کہے وہاں اٹھ کھڑا ہوا اور جا کر زمیں پر ایک تکیہ رکھ کر لیٹ گیا،اور وہ یوں ہی آڑی آڑی آنکھوں سے اسے یہ سب کرتا دیکھتی رہی،

اس نے کپڑے تک چینج نہیں کیے تھے،اور یوں ہی بستر پر جا لیٹی،وہ اب بھی رو رہی تھی،

اسکی سسکیاں یاور حمزہ سن رہا تھا لیکن بول کچھ نہیں رہا تھا وہ جان چکا تھا کے الفت کی شادی اس کی مرضی سے نہیں ہوئی،اور دل ہی دل میں خیال آیا کے اگر اس نے ساتھ رہنے سے انکار کردیا تو؟؟
کیا یہ مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گی؟؟
کیا میں اسکے قابل نہیں ہوں؟؟؟
پھر اسنے نکاح میں ہاںمی کیوں بھری؟؟کردیتی انکار
لیکن یوں اسکا بی ہیو کرنا مجھے ڈرا کیوں رہا ہے؟؟؟

اتنے سارے من میں سوالات یاور حمزہ کے دل میں آگ بن کر جل رہے تھے،
وہ نہیں سمجھ پارہا تھا کے اسے کیا کرنا چاہئیے؟؟!!!

  "حنین کیا سن لیا کیا بول رہا ہے یار"،(حمزہ خوف کے عالم      میں۔ ڈوبا ہوا تھا،اور گھبرا گھبرا کر ایک ایک الفاظ جمع کر ادا  کر رہا تھا)

"بس یار چھوڑو، جب بھی میری ضروت پڑھے تو بلا جھجک یاد کر لینا"،(اور حنین یہ بات بول کر،اسکے کندھے کو تھپکی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا)

حمزہ وہی ساکن کھڑا رہا اور اب اسکے دل میں ایک اور خوف کا سوال پیدا ہوا، کیا حنین سبکو بتا دیگا؟؟!!!"
کیا حنین میری اذت کو تار تار کر دیگا؟؟؟
کیا وہ میری دوستی کا بھرم رکھے گا؟؟!!

اور حمزہ کو کل رات سے جو سوال من  میں آئے تھے اُن میں سب سے خطرناک لمحہ اِس وقت کا تھا،

_________________________________________________

"الفت بیٹا بتاؤں نا سب ٹھیک رہا نا؟؟"(پروین اب الفت کے بلکل سامنے بیٹھی تھیں اور فکرن انداز میں اس سے سوال کر رہیں تھیں)

"کیا۔۔ کیا بتا ؤں امی میں آپکو"
"کیا پوچھنا چاہتی ہیں آپ؟"
آپ نے نہیں دیکھا تھا کیا اپنے داماد کو؟؟
ہو،،،،،، سکون تو مل گیا ہوگا نا اب مجھے اس گھر سے رخصت کرکے؟؟؟

(الفت بہت بد سلوکی سے اپنی والدہ سے پیش آرہی تھی)

بیٹا کیوں تم اتنی بدگمان ہو اپنے والدین سے؟
"کیوں آخر" ہم نے تمھاری تربیت میں کونسی کمی چھوڑی ہے،؟؟

(پروین صاحبہ اپنی بیٹی کو سمجھانا چاہتی تھیں کے جو انہوں نے کیا ہے وہ ٹھیک ہے)!!!

"ہاہا ہا "(ایک تنزیہ ہنسی میں اس نے اپنی والدہ کی بات کو ہوا میں اڑا دیا)

"امی آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں کیا چاہتی تھی،اور کیا کرنا چاہتی تھی،"۔۔۔۔امی آپ جانتی تھیں آپ سب جانتی تھیں پھر بھی میرے ساتھ یہ ظلم کیا!!"

بیٹا۔۔۔۔۔
اور پیچھے سے (آغا ایوب الفت کے والد) پیچھے ہی کھڑے تھے اور کمرے کے اندر آنے سے پہلے انہوں نے گلے میں خراش کر کے ان دونوں کو مخاطب کیا،
ایہم ایہم؛
پروین بیگم (ایک روپ دار آواز میں انہوں نے پروین صاحبہ کو اپنی طرف متوجہ کیا،)
"کیا سن رہا ہوں میں؟؟؟"
"اس لڑکی کو بول دو یہ اب مرے یا جیے میں اب اسکو یاور حمزہ کے گھر مانگتا ہوں!"
اور الفت جیسے وہ پہلے چپ ہوجایا کرتی تھی آج بھی اس نے وہی کیا تھا وہ انہیں گھور رہی تھی اور لیکن خاموش تھی وہ جانتی تھی کے آغا ایوب اسکی کسی بات کو سنے بغیر کچھ بھی کر سکتے ہیں،،،،،،

(اور پروین آج ہی اسکے میاں کو بلاؤ اور اسکو یہاں چلتا کرو)

ج..ی۔ج۔۔ی آغا جی آپ بے فکر ہو جائیں میں سمجھاتی ہو اسے، (پروین کی زبان اسکے ہاتھوں سے زیادہ لڑکھڑا رہی تھی)

________________________________________________

شام کا وقت تھا سب اپنی اپنی مصروفیات میں لگے ہوئے تھے آج حمزہ کو بھی( ایوب ہاؤس) آنا تھا،اور خاطر توازن کے لیے پروین اور (محمل الفت کی بہن) دونوں کیچن میں کام کر رہے تھے،

اور الفت تنہا ہی اپنے کمرے میں پڑی تھی،،
یہ اور بات ہے اسکا دل ہی  نہیں چارہا تھا کے وہ کسی سے بھی کوئی بھی بات کرے،

وہ افسردہ سی اپنے کمرے میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے اکڑو بیٹھی تھی،
"امی جانتی ہیں میں آگے پڑھنا چاہتی تھی،ابھی میرے ساتھ کی لڑکیاں کالجیز میں اپنی زندگی کے خوبصورت لمحے گزار رہی ہیں ،اور ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم کر کے اچھا نہیں کیا،"میری عمر ۱۹ برس ہی تو ہے ابھی تو کیا میں اتنی بوجھ تھی ان سب پر،؟؟
"میں کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں،،،"
(وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی،آواز نکال نہیں سکتی تھی )

(اور بنا آواز کا رونا اسکے دل میں غبار بھر رہا تھا،ایک ایسا غبار جسکے پھٹنے پر نقصانات زیادہ ہیں ،)

________________________________________________

اسلام وعلیکم،،
یاور حمزہ اور اسکی والدہ رانی جی، ایوب ہاؤس آچکے تھے حمزہ اتنا خوش نظر نہیں آرہا تھا بلکہ وہ ڈرا ڈرا سا اور سہما سا لگ رہا تھا،
آؤ بیٹا وعلیکم السلام"آغا ایوب بھاری آواز کے ساتھ اسکے استقبال کے لیے کھڑے ہوے اور اسکی پشت کو تھپتھپاتے ہوئے اسے گلے لگایا،"

الفت تم اب تک تیار نہیں ہوئی وہ لوگ آچکے ہیں، محمل فکرمند انداز میں بولی،
"آنے دو" کونسا مجھے کوئی فرق پڑھتا ہے "
الفت یار تمھیں ہوکیا گیا ہے؟
کیوں تم اتنی خفا ہو ہم سب سے؟
اچھا مجھے بتاؤ!!!شاید میں کچھ تمھاری ہیلپ کرسکوں،

"ایک ٹوٹے دل کی مرمت کرنا آتی ہے تمھیں؟"
اور یہاں الفت کی بڑی بڑی آنکھوں میں۔ ڈگمگاتے موٹے موٹے آنسوں جھلکنے لگے،

محمل۔۔محمل بیٹے، زرا آپی کو تو لاؤ باہر،
اور یہ آواز پروین صاحبہ کی تھی جو لاؤنچ میں مہمانوں کے ساتھ بیٹھی تھیں،رانی جی  کے کہنے پر انہوں نے محمل کو آواز لگائی تھی،

"چلو چلو الفت اب باقی باتیں بعد میں کریں گے ابھی تم اٹھو اور جا کر تیار ہو ورنہ ابا غصہ کریں گے،"
پلیز میری خاطر اٹھو،،!!!

سرخ جوڑے میں ملبوس جس میں ستاروں   سے بھرا کام دانی سوٹ ، پہنے تیار ہوچکی تھی،
ایک خالی دل والی لڑکی،
آج پھر اپنے گھر سے پھر ایک بار رخصت ہونے والے تھی،
(میں اب دوبارہ یہاں کبھی نہیں آؤ گی)
اور یہ فیصلہ اس نے آپنے دل میں عہد کی طرح کر لیا تھا،

یاور حمزہ اور رانی جی سامنے ہی لاؤنچ میں بیٹھے پروین اور آغا صاحب سے  گفتگو کر رہے تھے،
تائی حمیدہ اور اور تایا افتخار بھی بیٹھے تھے اچھی خاصی رونق لگی تھی،
"ایک تو یہ دونوں خوب جلے پر نمک چھڑکنے آجاتے ہیں،"
الفت نے پہلی نگاھ دیکھی اور منہ ہی منہ بڑبڑانے لگی،

لو جی آگئی ہماری بیٹی،
تایا جان بہت خوش اخلاقیات میں کھڑے ہوگئے اور الفت پر خلوص انداز میں استقبال کیا،

ہو۔۔۔۔دکھاوے کی دکان،(ایک بار پھر وہ انہیں دیکھ کر منہ میں بڑبڑائی تھی)

"جی تایا جان اسلام وعلیکم"
"وعلیکم السلام میری جان"
آؤ بیٹا یہاں آؤ،
اور بتاؤ کیسی ہو؟؟
سسرال کیسا لگا؟

اس نے سب باتوں کا جواب بس ایک پھیکی سی مسکان میں دیا،
اور پھر خاموش ہوکر نظرے جھکائے صوفے پر بیٹھ گئی،
آغا ایوب اُسے دیکھ کر منہ بسورے چائے کی پیالی اٹھا کر چائے پینے لگے،
وہ اب تک اس سے ناراض تھے،

محفل ختم ہوئی،اور اب الفت کو واپس اسی گھر میں جانا تھا جس گھر میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جسکو وہ آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی،
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

محمل محمل سنو بیٹا،(پروین کھانے کے برتن اٹھاتی ہوئی اسے آواز لگا رہیں تھیں)
جی امی جی بولیں؟؟

"بیٹا میرا دل حول رہا ہے،" میری بچی ناجانے کس حال میں ہوگی؟"

امی؟؟کیا بول رہیں ہیں آپی ٹھیک ہیں،حمزہ بھائی اتنے اچھے تو ہیں،
"تو اسے کیوں کوئی مثلہ ہوگا" سو جسٹ چیل"

نہیں بیٹا وہ حمزہ کو نہیں پسند کرتی،اسکی بچپن سے خواہش رہی ہے کے وہ وکیل بنے اور۔۔۔۔۔

'اور کیا چاہتی ہیں آپ پروین بیگم؟'"
(آغا ایوب کمرے سے نکلتے ہوئے اب کی بار بہت زور سے چیخے تھے)
"میں آپ کو بول چکا ہوں،ہمارا فیصلہ غلط نہیں ہوسکتا"
ہم اپنی بچی کا اچھا برا سب جانتے ہیں"

ہاں لیکن(پروین صاحبہ اب کی بار کراہت کھا کر بولیں،)
ہاں لیکن آغا صاحب ہمارا فیصلہ ہماری بچی کی زندگی کا گلہ ہی نا گھونٹ دے،

میں اب اس ٹوپک پر بات نہیں کروں گا،"بہتر یہی ہے آپ سمجھ جائیں"

چاندنی مدھم تھی،اور ستارے آسمان  پر شیشے کے ٹوکڑوں کے مانند بکھرے تھے،سنسان سڑک تھی سڑک کے اس پار ندی تھی جس میں چاند روشن سا دکھائی دیتا تھا،
وہ اُس انسان سڑک پر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے گھری سوچوں میں گم چلا جا رہا تھا،
یار میری کیا غلطی ہے اِس میں ،
مجھے لگ رہا ہے میں اسکے ساتھ زیاتی کر رہا ہوں ،
مجھے شاید اسے اس زبردستی کے بندھن سے  نجات دے دینی چاہئیے!؟
اور یہ سوچ کر حمزہ نے گھری سانس لی،
آہ،، یا خدا میری مدد فرما،مجھے سیدھا اور نیک رستہ دیکھا،
میں کیا حنین کے پاس جاؤ مشورہ لینے؟
"لیکن نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا اِس میں اُسکی بھی بدنامی ہوسکتی ہے"!!
یار.....کہاں پھس گیا،افف (وہ غصہ میں راستے میں پڑی بوتل اپنے پیروں سے دکھیلنے لگا)
اسلام وعلیکم امی۔۔
وعلیکم سلام،
امی کو گھر میں گھستے ہی سلام دعا کی اور بنا کچھ کہے سیدھا اپنے ک۔رے میں چلا گیا،
رانی جی بھی اپنے ک۔رے میں جا چکی تھیں،
اسلام وعلیکم،
(سامنے سے سلام کا جواب نہیں ملا)
معمول کے مطابق وہ گردن جھکائے کمرے میں آیا،واشروم سے شاور لیا اور اب وہ تکیہ اٹھائے بیڈ کے ایک سائڈ میں رکھے صوفے پر جا لیٹا،
الفت جو کہ اسکی کسی بھی حرکت کو کوئی معنیٰ نہیں دے رہی تھی،وہ چپ چاپ سے بیڈ پر الٹے ہاتھ پر منہ کیے لیٹی تھی،
ٹون ٹون ٹون
فون کی گھنٹہ نے حمزہ کو رات کے اس پہر بیدار کیا تھا،
ہیلو،
جی کون؟
الفت کی بہن محمل حمزہ بھائی،
حمزہ جو سکون سے لیٹا تھا ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اس نے ایک نظر الفت کو دیکھا جو بے خبر سو رہی اور پھر اپنی فون کی اسکرین کو،
جی۔۔۔۔ بولیں،۔۔۔
حمزہ بھائی آپی ٹھیک ہیں؟(محمل شائستہ انداز میں بولی)
جی الحمدللہ۔۔۔۔۔۔ (حمزہ نے جواب دیا)
حمزہ بھائی وہ مجھے بات کرنی تھی،(محمل بولی)
جی بولیں سن رہا ہوں،(حمزہ)
بھائی وہ امی بہت پریشان ہیں آپی کو لیکر،وہ آپکے ساتھ ٹھیک تو ہیں نا؟؟
حمزہ کچھ بولتا اس سے پہلے ہی الفت کی آنکھ کھول گئی،
اس نے انگڑائی لیتے ہوے حمزہ اندھیری رات میں دھوکے سے دیکھا تو حمزہ نے فوراً ہی فون اسکے سامنے کردیا،
"وہ محمل"
محمل؟؟جوابً دوہرایا الفت نے،
ہمم۔۔
فون ہاتھ سے لیا اور
ہیلو ہاں بولو؟
آپی وہ امی کو آپکی بہت یاد آرہی ہے،
"اُن سے کہنا مر چکی ہے الفت،اور ہاں ابا اور اماں کی اب کوئی بھی بات مجھے مت بتانا،
اب اتنا حق تو میں بھی رکھتی ہوں نئی،اپنی مرضی چلانے کا؟"
"جیسے ان لوگوں میرے سر پر مسلط کی تھی؟"
حمزہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھ رہا تھا وہ الفت کے  اس رویے متاثر ہوا تھا،
الفت نے پٹخ کر فون بند کردیا،
ہو۔۔۔ سکون نہیں ملا اب تک ان لوگوں کو!؟
حمزہ جو کافی دیر  سے اسکی بدتمیزی برداشت کر رہا تھا ایک دم پھٹ کر بولا،
"اوو ہیلو مڈم کیا زندگی برباد،زندگی برباد کا تماشہ لگا رکھا ہے آپ نے،
اگر اتنا ہی برا تھا تو شادی کیوں کی؟؟اور کر بھی لی تو کونسا احسان کردیا؟؟میں نے اپنی زندگی میں آج تک اپنے ماں باپ اس طرح بات نہیں کی،جسطرح آپ کر رہی ہیں،"
"مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی یہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ؟؟؟"
الفت چند لمحے اسے ایسے ہی دیکھتی رہی،
اور پھر زرا سی ہمت پکڑ کر بولی،
"قبر کا حال مردہ جانتا ہے"
اور رہی میری والدین سے گفتگو کی بات تو یہ میرا مسلئہ ہے آپ کا نہیں بہتر ہوگا منہ نا لگے میرے،
آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں لیے وہ رضائی منہ تک اوڑھ کر سوگئی،
حنین کو آج اتنے دنوں بعد گھر دیکھ کر وہ خوش ہوا تھا،
الفت سکین کلر کا جارجٹ کا بھرا ہوا سوٹ پھنی تھی،
آجائیں بیٹھ جائیں بھابھی ساتھ ناشتہ کرتے ہیں؟
الفت ایک نظر اپنی سانس کو دیکھا اور پھر حنین کو،
رانی جی نے جب کہا،ہاں آؤ بیٹا،بیٹھ جاؤ،تو اسنے یاور حمزہ کے سائڈ والی سیٹ کھسکائی اور براجمان ہوئی،
اور بتائیں کہاں جانے کا پلن ہے پھر آپ لوگوں کا؟
ہنی مون پر،
حمزہ (ایک سیکنڈ کے لیے چونکہ تھا)
(اور دل میں بولا یہ حنین کا قسم کا سوال کر رہا ہے الفت سے؟)
الفت نے پھیکی سی ہنسی لیے کہا،"جی نہیں میں یہی ٹھیک ہوں"
حنین نے حمزہ تنزیہ ہنسی دیتے ہوئے کہا،
"اور تم کہاں ٹھیک ہو؟"
حمزہ نے جواب نا دیا،
فوراً اٹھا فون جیب میں ڈالا گھڑی پہنی اور کہا،"امی خدا حافظ آفس جارہا ہوں رات کو لیٹ ہو جاؤ گا"
"اچھا بیٹا خدا حافظ خیال رکھنا آپنا"رانی جی ہمیشہ ہی سے بہت میٹھا بولتی تھیں)
الفت بھی حمزہ کے جاتے ہی ڈائنگ سے اٹھی اور کمرے میں چلی گئی،
حنین یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا،
"آنٹی ویسے ہمارا حمزہ بدلہ بدلہ سا نہیں لگ رہا؟"
"ظاہر ہے حنین بیٹے شادی شدہ ہوچکے ہیں اب وہ بڑا تو ہونا ہی پڑے گا نا"
"ہاہاہاہا"
اور دونوں خوب زور سے ہنسے تھے اس بات پر،
یاور ح۔زہ اپنی کمپنی میں آج ایک ہفتہ بعد آیا تھا یہاں کا سی ایم او ہونے کی وجہ سے ذمہ داریاں بہت تھیں اس پر،
ہر ایک چھوٹا ایم پلائے اسے آٹھ کر سلام کرتا،
"واہ رے خدا کہی کتنی اذت دے دی،کہی اذت کا نام و نشا نہیں"
اور یہ کہہ کر وہ اداس ہنسی لیے اپنے آفس میں جا بیٹھا،
آؤ ہیلو حمزہ سر گوڈ مارنگ!!
اوہ حسنین کیسے ہو؟"
حمزہ نے اپنے منیجر سے خوش دلی کا مظاہرہ کیا اور بہت خوش اخلاقیات سے اسے گلے لگایا،
اور سر کیسی رہی آپکی میرج؟
(ہمم گوڈ)
وہ اس بارے میں کسی سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتا تھا،
اور پھر وہی سوالات جنکا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا،
بھابھی کیسی ہیں،آپکو اچھی لگی؟
ہنی مون پر کب جارہے ہیں؟
اب تو لائف چینج ہوگئی ہوگی آپکی؟
اس نے ان سب کا جواب بس ایک پھیکی نہایت میں دیا،
ہمم۔
آپ کام کریں پھر ملتے ہیں اوکے؟
"اوکے سر"
یہاں اس نے مینیجر کو رخصت کیا یہاں فوراً کال بجنا شروع ہوگئی،
پہلے تو اسکرین کو دو منٹ تک دیکھتا رہا،
اور پھر سانس ہلک میں اگئی،


سکرین پر جو نام تھا وہ واقعی حیران کن تھا،" آغا آنکل؟"
ایک تصدیقیا سوال "جی اسلام وعلیکم"
"وعلیکم" بیٹا مجھے آپ سے ضروری کام ہے اگر آپ میرے ہوٹل آسکے تو۔۔۔۔
"جی جی جو حکم"
حمزہ واقعی بہت نیک انسان تھا،بیوی سے اذت نہیں مل رہی لیکن اسکے گھر والوں کی اذت وہ خود سے زیادہ کرتا تھا،
یہی وجہ تھی کے آغا ایوب کو یاور حمزہ بہت پسند آیا تھا،
فون رکھ چکا تو سوچوں کے میدان ایک اور گھوڑا دوڑا
"انکو کیا کام ہوسکتا ہے ؟"
"کہی الفت نے تو کچھ۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا کیوں کرے گی؟"
"لیکن حمزہ بیٹا وہ ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟"
ہم کلامی میں مشوارات  کرنا اسکی عادت سی تھی،

❤❤❤❤
الفت بیٹا بات سنیں، (رانی جی نے لاؤنچ سے آواز لگائی تھی)
جی بولیں۔۔؟
"بیٹا آپ سے کچھ کہوں گی تو برا تو نہیں مانیں گی آپ؟"
الفت انہیں سوالیاں نظر سے دیکھتے ہوئے بولی جی۔۔نہیں!
بیٹا میں آج کل دیکھ رہی ہوں کے حمزہ بہت پریشان سا رہنے لگا ہے،
اور سب سے بڑی بات بیٹا وہ میرا اکلوتا وارث ہے،میں اسکی خوشیاں اسکا آباد گھر ساری زندگی دیکھنا چاہتی ہوں،
الفت جو متازبز سے انہیں خالی خالی سا دیکھ رہی تھی،
بیٹا آپ سے گزارش ہے کے اسے خوش رکھیں اسکے غم کو اپنا سمجھیں،
ویسے تو میں جانتی ہوں کے آپ ایک نہایت شریف گھرانے کی پیاری لڑکی اور اذتدار لڑکی ہیں لیکن پھر بھی،
اب اپنے آپ کو ہمارے گھر کے رنگ میں رنگ ڈالیں،
اسنے سر کو جنبش دی اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی،
رانی جی اتنا میٹھا بولتی تھیں کے الفت تو کیا کوئی بھی پھسل کر انکی باتوں کو غور سے سن سکتا تھا،
❤❤❤❤
آغا صاحب کوئی یاور حمز کے آدمی آئیں ہیں آپ سے ملنے
ہو۔۔۔اندر بھیجو،
اور دوسرے ہی لمحے حمزہ انکے آفس کے عقب سے ہوتا ہوا گیٹ تک پہنچا
"میں اندر آجاؤ"
ہاں بیٹا آجاؤ،
"سلام علیکم"
اب کی بار آغا صاحب خوش دلی سے اٹھے حمزہ کی پشت تھپکی دی اور کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا،
ایک ہاتھ میں سگریٹ تھی جسے انہوں نے بیٹھتے کے ساتھ ہی خاک میں بوجھا دیا،،،
❤❤❤❤❤
"اور بتاؤ سب ٹھیک؟"
"جی جی سب ٹھیک الحمدللہ"(چہرے شائستہ آنا مسکراہٹ سجائے وہ بہت پر اعتماد طریقے سے بولا)
"انہوں نے الفت کا کوئی ذکر کیوں نہیں کیا؟"
حمزہ کو یہ بات زرا سی عجیب لگی
بیٹا میں چاہتا ہوں کے آپ اب کسی کی مزدوری نا کریں اپنا خود کا بزنیز اسٹارٹ کریں،
میری ایک دوست ہیں ارفان صاحب ان سے میں آپکی بات کرا دیتا ہوں وہ ایک بہت عمدہ بزنیز مین ہیں،
ہمم جی،(حمزہ نے سر کو جنبش دی)
"مگر آنکل میں خوش ہوں اپنی جاب سے"
ہاں جانتا ہوں لیکن جو میں نے کہا اس پر غور کرنا مجھے اچھا لگے گا،
(اور یوں انہوں نے اپنی مرضی مسلط کردی، پھر ایک بار)

❤❤❤❤❤❤❤
رمشہ میری جان کیسی ہو؟؟
اتنے دنوں بعد اپنی دوست کی یاد آئی،
(الفت کافی عرصہ بعد اتنی خوش ہوئی تھی)
(اسکے لبوں پر مسکان شبنمی بوندوں کی طرح جھلک رہی تھی) (وہ ہنستے ہوئے واقعی کسی افسرہ سے کم نہیں لگتی تھی)
رَمشہ اسکی سکول کی بیٹی فرینڈ ان دونوں نے ایک ساتھ سکول ختم کیا
لیکن افسوس کے الفت کو شادی کے بندھن میں زبردستی باندھا گیا
اور رمشہ آج بھی کالجیز میں مزے کر رہی ہے،
"اور سناؤ کیسے ہیں ہمارے جیجو؟"(ایک شرارتی سی مسکان لیے وہ الفت سے سوال گو تھی)
"ہو۔۔۔۔ رمشہ اب تم تو نا میرے جلے پر نمک چھڑکو،"میرا دل تو کرتا ہے میں یہاں سے بھاک جاؤ،
❤❤❤❤❤
"کیا ہوگیا ہے الفت تمھیں اب شادی ہوگئی ہے تمھاری پھر بھی؟"
(رمشہ کراہت کھا کر بولی تھی)
تو تم کیا چاہتی ہو ساری زندگی بس اب اسہی کی غلامی کروں،کھانے پکا پکا کر اسکا پیٹ بھرتی رہوں،
اسکے بچوں کو سنبھالوں اور پھر وہی ٹیپیکل ہاؤس وائف بن کر رہ جاؤں؟؟؟
دل کی بھڑاس آج دوست پر بھی نکل گئی،
رمشہ نے سامنے سے کچھ نا کہا بس زرا خاموش ہوئی اور کہنے لگی(اللہ صبر دے یار تمھیں)
"چلو میں رکھتی ہوں پھر کبھی بات کروں گی خدا حافظ"
الفت کا لہجہ دن با دن بگڑتا جا رہا تھا، اسکے منہ سوائے زہر کے اور کچھ نہیں نکلتا تھا،
❤❤❤❤❤❤
بدقسمتی سے حمزہ نے باہر کھڑے یہ سب باتیں سن لی تھیں،
وہ۔وہی دیوار سے کھڑا اپنے سر کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا،
اسے اسکی باتیں حیران زدہ بلکل نہیں لگی تھیں بس وہ حیرت میں اس لئیے تھا کے اسکے دل کتنا میل کا غبار جمع ہے،
❤❤❤❤
حمزہ بیٹے۔۔۔
ڈائینگ ٹیبل پر کھانے کی اشیاء رکھیں تھی اور وہ تینوں اپنی اپنی جگہوں پر براجمان تھے،
"حمزہ بیٹے میں نے آپکی اور الفت کی ٹکٹ بک کردی ہیں آپ دونوں ایک دن بعد مری جا رہے ہیں"
الفت کے گلے میں نیوالا اٹک گیا اور یہاں حمزہ کی دم ٹوٹھنے لگا،
بٹ ماما!!"
میں۔۔
وہ کچھ بولتا اس سے پہلے ہی رانی جی بول پڑیں
میںمیں کچھ نہیں بس آپ دونوں ایک ساتھ ٹائم سپینڈ کریں کچھ دن،
اوکے؟"
بٹ ماما؟" میں۔۔۔ آفس۔۔۔
"حمزہ میں نے جو کہا بیٹا وہی کریں گیں آپ،ڈیٹ ایٹز "
اوکے ماما،(وہ مجبوراً مانا تھا)
الفت کمرے میں آنے کے بعد سر پکڑ بیٹھ گئی،
کیونکہ اب اسے یہ وقت بھی جھیلنا تھا،
ایک ایسے شخص کے ساتھ گھومنے جانا تھا جسکا ساتھ وہ ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی
وہ الفت آپکے والد ملے تھے مجھ سے،
اس نے بے اختیار ہی الفت سے اِس رات کے پہر بات کی تھی، اُس نے کہا "اچھا"
الفت وہ میں معذرت چاہتا ہوں ماما کی طرف سے،انہوں نے مجھ سے بنا پوچھے یہ سب پلین کیا،
ہو۔۔۔ الفت نے کروٹ لیتے ہوئے سر ہلا یا
آپ۔۔۔ وہ کچھ کہنے والا تھا لیکن الفت آنکھیں بند کر چکی تھی اسکا مطلب وہ بلکل بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی،
حمزہ اب سیدھا ہوکر لیٹا تھا سر پر ہاتھ رکھے خالی خالی سا گھومتے پنکھے کو دیکھ رہا تھا،
اسے نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا نمازِ تہجد ہی ادا کرلی جائے،
وہ اٹھا وضو بنایا اور سجدہ ریز ہوا،
نماز پڑھتے ہی اس نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے،
یا اللہ میں تیرا گنہگار بندا ہوں،
یااللہ میں نے تیرے حکم کے مطابق نکاح جیسی شریعت کو قبول کیا،
میں اس میں تیری اطاعت اور مہربانی چاہتا ہوں،
مجھے ہمت دینا تاکہ میں تاعمر اسکو نبھا سکوں،اور پوری ذمہ داریوں کے ساتھ اسکو ایک نیک عمل میں اتر سکوں،

یااللہ آپکو آپکے رسول کا واستہ مجھے سیدھا راستہ دیکھانا،
اور آمین کھ کر وہ کھڑا ہوا،جائے نماز لپیٹی اور پیچھے مڑا ،
پیچھے دیکھا تو الفت بھی سجدے ریز اپنے رب کے سامنے دعا گو تھی،
ہائے یا رب اتنا حسین منظر اگر تہجد میں ہی دیکھنے کو ملے گا تو میں تہجد کو اب فرض سمجھ کر ادا کروں گا ،
وہ اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا،ایک ایسی خوشی جو اسکو ناجانے بہت سکون دے رہی تھے،
الفت نماز پڑھ چکی تو جائے نماز اٹھانے لگی،
ا
وہ یک دم اٹھا اور "لائیں میں رکھ دیتا ہوں"
اور الفت نے اسے ایک نظر دیکھا اور جائے نماز دے دی،
اسکارف کھولے اب وہ اپنے بیڈ پر تھی،
حمزہ صوفے پر،
کلام نہیں کر رہے تھے،بس خاموشی کو سن رہے تھے چل چاپ یہ خاموشی انہیں ناجانے کب نیند کے سمندر میں ڈوبا لے گئی پتا ہی نہیں چلا،
❤❤❤❤❤
فون کی گھنٹہ پچھلے آدھے گھنٹے سے بج رہی تھی،لیکن ماجال ہے یہ الفت میڈم اٹھا لیں،
بل آخر جب فون بند ہوا تو اس نے ایک نظر سکرین پر ڈالی،
"میں نہیں کروں گی تم لوگوں سے بات کبھی"
یہ دل کا خیال تھا لیکن آخر بہن تھی سگا خون،وہ اتنی دیر تک اگنور بھی تو نہیں کر سکتی تھی،
دوبارہ فون جگمگ جگمگ  ہونے لگا تو الفت دھڑام کر کے کال اٹھا لی، ہیلو"اسلام وعلیکم " کیسی ہو،
"وعلیکم السلام"یہ آواز محمل کی تو نہیں تھی پھر؟؟
اس نے پھر ایک بار اسکرین کو دیکھا، اوہ یہ کال رمشہ کی تھی اس نے بے دھیانی میں محمل کی سمجھ کر اٹھا لی تھی،
"ہاں بولو میری جان؟"
(الفت ہمیشہ ہی سے رمشہ سے بہت اٹیچ تھی ،اور رمشہ بھی الفت کی کسی بات کا برا نہیں لگاتی تھی)
"یار سنو الفت؟"
میں تمھارے گھر آرہی ہوں اڈریس بتاؤ،
"نہیں نہیں رمشہ یہاں نا آؤ یار،یہاں میری ساس ہیں اور تمھیں تو پتا ہی ہے تم سے کتنی ساری باتیں کرنی ہے مجھے،؟"
"تو تم آجاؤ یہاں؟"(رمشہ نے فوراً مسلے کا حل نکال لیا)
ہاں یہ ٹھیک ہے!"
میں آتی ہوں آدھے گھنٹے بعد اوکے،
"اوکے !!"
                      اور بتاؤں الفت کیسی ہو!؟
میں تو ٹھیک ہی ہوں بس یار یہ چھوڑو رسمن باتیں اور سناؤ تمھاری پڑھائی کیسی جارہی ہے؟
یار وہ تو ٹھیک بلکل،
 بہت ساری گفتگو ہونے کے بعد وہ ٹاپک کھولا جسکا انتظار رمشہ سے زیادہ الفت کو تھا،
❤❤❤❤❤
رمشہ تمھیں پتا ہے میں نے بچپن سے یہ خواب اپنے سر ہانے رکھیے تھے،کے میں کب بڑی ہوں گی کب یونیورسٹی جاؤں گی ،اور کب وکیل بنو گی،
اسکی آنکھوں میں باتوں سے زیادہ آنسو تھے،
"یار مگر وہ اچھے بھی تو ہیں یہ بھی تو دیکھو!!"
اب کی بار الفت جھّلا اٹھی (دانت پیس کر بولی) "رمشہ وہ مجھ سے گیارہ سال بڑا ہے!!! میں صرف 19۔ کی اور وہ 29 سال کا ہے،کچھ دن بعد 30 سال کا بھی ہوجائے گا،
آخر میں پوچھتی ہوں کیا ضرورت پڑی تھی میرے ماں باپ کو مجھ پر یہ ظلم کرنے کی،"
رمشہ جو خاموشی سے اسکی بات سن رہی تھی،اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور بولی،
"الفت میری جان یہ اللہ کی مسلیحت ہے،اُسہی نے تم دونوں کا یوں ساتھ لکھا تھا،"آسمان سے جوڑے بنتے ہیں" اور مجھے تم بتاؤ کیا تمھیں اللہ کے کاموں میں کوئی شک و شباہت کا ریزہ بھی نظر آتا ہے؟
لیکن رمشہ آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟
کیوں کیا میں اللہ کی عبادت میں کوئی غلطی کرتی ہوں،
جو انہوں مجھے یہ سزا دی ہے،میرے ارمانوں پر ایک بہت بڑا تیر آکر کمر سے آر پار ہوا ہے،!!!"
"دیکھوں الفت یہ سزا نہیں جزا ہے"
جو تمھیں انعمات کی صورت میں ملا ہے "نکاح" اور تم ابھی تک صرف اس سے سمجھوتا کر رہی ہو، اس سے "محبت "کر کے دیکھو,,
کیا پتا یہ ظلم تمھیں سکون دینے لگے؟؟، یہ کرواہٹ تمھیں مٹھاس دینے لگے؟؟
کیا پتا کے یہ بوجھ ہٹ کر بہار بن جائے؟؟
لیکن رمشہ ؟؟وہ اسے سوالیاں نظر سے دیکھنے لگی، تو رمشہ نے کہا "کیا ہوا'؟"
وہ کل میں اور وہ مری جا رہیں ہیں !"
"اچھا تو پھر؟"(رمشہ نے اپنی ایک آیبروز اٹھا کر اسے سوال کا نشان بنایا)
میں کیسے برادشت کروں گی یار؟؟
ہمم۔۔رمشہ نے گھری سانس لی اور اور الفت  کے بائے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولی،
دیکھو دوست تم کل جارہی ہو ٹھیک ہے،لیکن اس دورانِ صفر تم اسے نہیں اپنے آپ کو ڈھونڈو گی،تم اسکی ہر وہ بات دیکھو گی جس میں تمھیں سکون محسوس ہو، تم دورانِ صفر اسکی اور اپنی الجھنوں کو سلجھاؤ گی،
(اور باقی اللہ تعالیٰ تمھارے حق میں بہتر کریں گیں)
اب تم اپنے اندر سے یہ کرواہٹ دور کرو اور چھوڑ دو یہ عمر کی زد بحث،
ٹھیک ہے؟
اس نے بس سر کو جنبش دی لیکن وہ دل سے نہیں بولی تھی،
رمشہ کی باتیں اثر دار تھیں،
لیکن یہ بات الفت کو کون سمجھائے؟؟؟
❤❤❤❤❤
یہاں حنین حمزہ سے ملنے آیا تھا،اسکے آفس،
سلام صاحب، وہ آپکے دوست حنین صاحب آئیں ہیں بھیج دوں؟
حمزہ کے میڈ نے جب اسے حنین کی خبر دی تو وہ سیدھا ہوا اور بالوں کے سیٹ کرتے ہوئے بولا ہاں بھیجو،
وہ کرسی پر بیٹھا سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین روشن تھی وہ لگ بھگ اپنے کام مصروف صرف حنین کی وجہ سے ہوا تھا،
ارے بڑے صاحب کیا حال و احوال ہیں آپکے،(حنین شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا)
اور یہاں یاور حمزہ بھی اکثر پگھل جاتا حنین تھا ہی اتنا ملن سار بلکل اپنے دوست کی طرح،
آؤ بیٹھو،
حمزہ نے ٹیبل کے سامنے والی کرسی پر اشارہ کیا،
ہمم۔۔۔اور حنین بیٹھ گیا،
سنا ہے کچھ لوگ حنی مون پر جا رہے ہیں!!
افف۔۔ماما بھی ناں،(حمزہ منہ ہی منہ بڑبڑایا)
ہاں!!( اسنے پھیکی مسکان دی)
ہاں تو مان گئی بھابھی جی؟؟
نہیں یار،،
لیکن تو تو جانتا ہے یار میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو میں۔۔۔
حمزہ کہتے کہتے روکا،
تو کیا ۔۔؟ حنین نے بات کو دھرایا
تو میں اسے آزاد کردوں گا,,,,,,,,,
"او او پاگل ہوگیا ہے بھائی؟؟"
"ایسا کچھ نہیں کروں گے تم آئی سمجھ؟
تم جاؤ کل اور اس  کے ساتھ وقت صرف گزارنا نہیں بلکہ اُن لمحات کو جینا اور کچھ ایسا کرنا کے بھابھی کا دل مائل ہوجائے اور وہ بھی تم سے محبت کرنے لگے؟؟"
ہاں دیکھ یار کوشش تو پوری ہوگی میری،
لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ نا ہوا تو میں،۔۔۔
اب کی بار حنین نے بات مکمل کردی ، ہاں ہاں کردیا آزاد،
لیکن پہلے اٗس سے اُسکی آزادی پوچھنا،
کیوں کے اکثر بھٹکے پنچھی،اپنا پنجرہ ہی اچھا سمجھتے ہیں،
❤❤❤❤
تم الفت سے بات تو کرنے کی کوشش کرو،
باقی اللہ پر چھوڑ دو،
ٹھیک ہے میرے بھائی؟؟
اور یہاں بات کا اختمام
وہ جب آفس سے نکلا تو بہت رات ہوچکی تھی ہر طرف سنسناہٹ تھی وہ جلدی جلدی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا تو،اچانک ہی فون کی گھنٹی دھڑا دھم بجنے لگی
وہ ایک ہاتھ سے کار کی چابی گھما رہا تھا اور ایک میں فون لے رکھا تھا،
جی ہیلو،
جی حمزہ بھائی میں محمل،
ہاں بولیں،"آپکا نمبر سیو ہے سالی جی"اور مدھم مسکراہٹ لیے وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا،
جی وہ بھائی الفت آپی کو بولیں نا کے وہ گھر آئیں کسی دن مجھے بہت یاد آرہی ہے انکی
ہاں ضرور کیوں نہیں بہن، لیکن ابھی تو میں انہیں کل گھمانے لے جا رہا ہوں،
اور سامنے سے بہت ہی دلچسپی کا مظاہرہ ہوا "اچھا جی کہاں" محمل بہت پر جوش سے بولی،
"مری"
اچھا بہن میں فون رکھتا ہوں میں ڈرائیونگ کر رہا ہوں اوکے،
اور اس نے خدا حافظ کہہ کر کر فون رکھ دیا،
❤❤❤❤❤
بہت افسوس ہے ویسے کے الفت اپنے گھر والوں کے ساتھ ایسا کر رہی ہے،
"لیکن کیوں؟"
""مجھے پوچھنا چاہئیے کیا؟"
نہیں نہیں ایسا کروں گا تو یقینن وہ خفا ہو جائے گی،
لیکن یہ  بات کسیے پتا کروں کے وہ اپنے گھر والوں سے آخر کس بات پر خفا ہے،؟؟
کیا وہ۔کسی اور سے محبت کرتی تھی، جبھی اسکی شادی مجھ سے اتنی جلدی کرا دی گئی؟
اور یہ سوال اسکے لیے بہت خوفناک بھی ہوسکتا تھا،،،
"یہ شک تھا یا ڈر حمزہ کا وہ خود ہی نہیں سمجھ پایا"
امی میں آپ کو بتا رہی ہوں آپی بہت خوش ہیں اپنے گھر میں،آپ خامخہ ہی پریشان ہوجاتی ہیں،
محمل اپنی ماں کے پیروں دباتی جارہی تھی اور انہیں حوصلہ دے رہی تھی کے نہیں ایسا نہیں ہے جو ہم سوچ رہے ہیں، وہ بلکل ٹھیک ہے وہاں،
بیٹا میں تو ماں ہوں"اور ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے فکر مند ہوا کرتی ہے"
❤❤❤❤
اچھا چلیں انکے نصیب کے لیے دعا کریں بس!!!
محمل نے بات کا اختتام کیا،،
وہ سارے راستے گھری سوچوں میں گم تھی، ناکوئ بات نا کوئی جواب بس خاموش خاموش،
اور یاور حمزہ اسے اب مکمل اسکے حال پر چھوڑ کر کانوں میں ہیڈ فون لگائے موسیقی سن رہا تھا،
الفت اپنے دونوں ہاتھوں کے گرد دائرہ بنا کر اور اس میں اپنا منہ چھپا کر بیٹھی تھی، دنیا سے بلکل لاتعلق
سفر میں بہت حسین حسین منظر نامے پیش آئے تھے،
حمزہ کی نظر پڑتی تو وہ سرگوشی کرتا،
یہ کیلے کا کھیت ہے،
یہ فلاں ندی ہے
یہ وہ جگہ ہے یہ یے جگہ ہے،
الفت کبھی اسکی سن لیتی کبھی نا سنتی
لیکن حمزہ کو اس بات پر بھروسہ تھا کے،الفت کی ناراضگی عارضی ہے،وہ انشاللہ مجھے دل سے قبول کر ہی لے گی،
زرا سی دیر ٹرین روکی تو وہ اٹھا اور کھانے پینے کا کچھ سامان لینے اسٹیشن پر اتر گیا،
اور الفت یوں ہی لاتعلق سی کھڑکی کے باہر دیکھے جا رہی تھی،
کے ا اچانک زہن میں رمشہ کی بات آئی تھی،"یہ سزا نہیں جزا ہے الفت"
"جو نکاح کی صورت تم کو ملا ہے، اِس سے محبت کرو"
یہ سزا نہیں تو اور کیا ہے یار رمشہ مجھے ایک ایسے آدمی کے ساتھ وقت کاٹنا پڑھ رہا ہے جسکو میں ساتھ تک بیٹھانا پسند نہیں کر رہی،
اور انہی سوچوں میں گم تھی کے ایک بوگی سے سفید لباس اوڑھے بڑھیا سی خاتون اسکے سامنے والی سیٹھ پر آبیٹھی،
بیٹا۔۔۔(آواز میں لڑکڑاھٹ تھی)
الفت نگاھیں معروفیت سے اٹھائیں اور اسے زرا سا دیکھا،
❤❤❤❤
وہ اُسے بلکل پسند نہیں آئی تھی،
"بیٹا وہ میرا سامان ہے زرا یہاں رکھ لو"
الفت نے اپنا سوٹ کیس ہٹایا اور انہیں رکھنے کی اجازت بھی دی!!
اور سناؤ کہاں سے ہو،؟
بڑھیا خاتون اس سے بلا وجہ ہی مخاطب ہو رہی تھیں،
الفت پھر ایک بار نظر اٹھائی اور جھٹک سر گھما دیا،
وہ اب ٹرین کی کھڑکی سے دوبارہ نظارے کرنے لگی،
❤❤❤❤
"میں تو لاہور سے ہوں،میرا بیٹا دبئی میں ہوتا ہے،اسکی بیوی میرے پاس ہی ہے، وہ نہیں جاتی دبئی،کہتی ہے میں اپنی ساس کی خدمت کروں گی،تو مجھے جنت میں ایک خوب صورت سا مکان ملے گا جس میں ہر طرف سونے کے باغ ہونگے،"
الفت قطعاً انکی باتوں سے بے زار ہوئی تو ایک پھیکی سی مسکان دی اور اب وہ بے صبری سے یاور حمزہ کا انتظار کرنے لگی، کبھی یہاں دیکھتی تو کبھی وہاں،
افف یہ آدمی کہاں چلا گیا،
اس ایک دم غصہ آیا تو دھیرے سے سرگوشی کی،
"لیجئے آگیا میں"
(شاید حمزہ دل کی آواز بھی سن لیتا تھا؟)
اور الفت نے پہلے تو  گھبرا کر اسے پیچھے منہ کر کے دیکھا اور لمحہ بھر کو سر جھٹکا اس نے آواز کیسے سنی؟؟؟
جو تاثرات ابھی کچھ لمحہ پہلے اسکے بڑھیا کو دیکھ تھے، وہ اب حمزہ کے آنے سے کافی کم ہوگئے تھے،
وہ حمزہ سے بلکل بھی بات کرنا پسند نہیں کر رہی تھی لیکن اُس وقت اُسے حمزہ کا ساتھ سکون کا لگا تھا،،،،


اور کیسی ہیں آپ آنٹی جی؟
حمزہ اور وہ بڑھیا بلا وجہ ہی ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے،حمزہ بہت خوش دلی سے اُن  سے بات کر رہا تھا
،جبکہ اُن بڑھی اماں نے تو جب بولنا شروع کیا تو بس پھر بولے ہی جا رہی تھی،
پہلے وہی بات میری بہو ایسی میری بہو ویسی،
بھو کے قصیدے پڑھ پڑھ کر اُنکا منہ زرا نہیں دکھا تھا،،،،،،
یاور حمزہ انکی باتوں میں دلچسپی ظاہر کر رہا تھا،
اور یہاں الفت کا دماغ پک چکا تھا،
لیکن مجبوری یہی تھی کے ابھی اسے چپ چاپ یہ سب سننا تھا اور وہ یہی کر بھی رہی تھی،
"بیٹے میں تمھیں بتاؤ میری بہو جب بھی میری خدمت کرتی ہے تو بس یہی بولتی ہے،امی اللہ مجھے جزائے خیر دیگا"
اور پھر میں جواباً بولتی ہوں"انشاللہ"
حمزہ کو لگا الفت نہایت بور ہورہی ہے تو اسے خیال آیا یہی سہی موقع تھوڑی دل میں جگہ بنانے کا،
وہ۔۔۔۔۔زرا سا ہچکچاتے ہوئے بولا،
"الفت میں آپ  کچھ  کھا لیں میں یہ کچھ چیزیں لایا تھا تو۔۔۔"
وہ کہتے کہتے روکا،
اسکے بالوں میں کچھ لگا تھا،
حمزہ نے وہ ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو الفت نے جھجھک سی کھائی، اور سیمنٹ کر زرا پیچھے ہوئی،
"ارے نہیں نہیں یہ کچھ لگا تھا آپکے سر پر،اب ٹھیک ہے!!"(حمزہ نے بات کی تصدیق کی)
اور یوں ہی سفر تھوڑی تھوڑی باتوں میں گزرتا چلا گیا،
اب رات ہوچکی تھی ٹرین کی اور باقی بگیاں بھی اندھرے کے عالم میں تھیں سامنے سیٹھ والی بڑھیا آنٹی بھی سوچکی تھیں جبکہ الفت بھی نیند کے سمندر میں ڈوب چکی تھی،
وہ  سوتے ہوئے اور بھی حسیں لگ رہی تھیں، اسکے لبوں پر لال سرخی کسی گلاب کی پنکھڑی کی مانند لگ رہی تھی، وہ بس گم سم سا اسے دیکھے جا رہا تھا دیکھے جا رہا تھا،
"یا اللہ ایک اور حسین منظر،میں آپکا شکر کس طرح ادا کروں؟یا اللہ بس پیاری لڑکی کے دل میں میرے لیے تھوڑی سی ہی سہی لیکن محبت پیدا ہوجائے"
اور اس دل کی مراد کو دل میں ہی مانگتے ہوئے، آنکھیں بیچ لیں،
❤❤❤❤❤
بیٹا !!" سفر میں کی گئی دعا بہت جلدی قبول ہوتی ہے"
اور یہ اور کوئی نہیں وہی ضعیف آنٹی بولی تھیں،
میں نے دیکھا ہے یہ لڑکی بہت خوبصیرت ہے،اور اللہ نے چاہا تو تمھارے لیے نعمت بھی بن جائے گی"
"یہ نعمت ہی ہے میرے لیے"(وہ ہلکے سے سرگوشی کرتے ہوئے بولا)
اگلی صبح ہی ان لوگوں کی منزل آچکی تھی،یعنی (مری)
اسٹیشن سے باہر آتے ہی لکھا تھا
(ویلکم ٹو مری)
ہیلو باس جی بولیں،!
وہ اصل میں ایک روز کا سفر کرکے میں ابھی یہاں پوچھا ہوں،اور اب دیکھیں کب تک واپسی ہو!
جی جی اوکے!!!
❤❤❤❤❤
اس نے کچھ سن کر ہی فون رکھ دیا تھا،
اور وہاں موجود الفت بس خالی سی کھڑی کسی اور جانب دیکھ رہی تھی،
کے حمزہ نے کہا"چلیں؟"
اس نے سر کو جنبش دی اور آگے بڑھی
دھڑام۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی زور سے سوٹ کیس سے ٹکرا کر گری تھی کے اسکے ٹخنے اور سر پر چوٹ لگی تھی،
الفت الفت وہ لمحے بھر کو گھبرا گیا تھا،
اپنے ہاتھ میں پکڑا فون بھی اس نے جلد بازی میں نیچے پھینک دیا تھا،
الفت تھوڑا سنبھل کر اٹھ ہی رہی تھی کے حمزہ اپنے پیروں تلے زمین پر بیٹھ گیا تھا،
اور اسکے کپڑوں پر جو مٹی لگی تھی اسے صاف کرنے لگا،یہاں تک کے حمزہ نے اسکی چوٹ پر اپنا فیورٹ رومال تک رکھ دیا تھا،
وہ اُس وقت بہت زیادہ گھبرا گیا تھا،
الفت جو اُسے یہ سب کرتا دیکھ رہی تھی،
آپ۔۔۔آپکو کچھ ہوا تو نہیں؟؟ زیادہ تو نہیں لگی؟؟؟ڈاکٹر۔۔ڈاکٹر کے پاس چلیں؟؟؟ یار آپ کیسے گر گئی،؟؟اوہ مجھے ہی یہاں سوٹ کیس نہیں رکھنا چاہئے تھا!!!
اُففف" ہاہاہا کچھ نہیں ہوا مجھے،اٹھے چلیں سب دیکھ رہے ہیں ہمیں!"
الفت نے آج پہلی بار اس انداز میں بات کی تھی یاور حمزہ سے،
حمزہ کا تو آج دل گارڈن گارڈن ہورہا تھا،
اور یہاں الفت نے دل میں جو سب سے پہلے بات آئی وہ یہ تھی کے حمزہ بہت کئیرنگ بھی ہے،،،،،،،،،،،،،،،
" شاید یہ کرواہٹ تمھیں مٹھاس دینے لگے"
افف رمشہ کی باتیں،، اور سر جھٹک کر وہ کھڑی ہوئی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اب وہ گاڑی میں جا بیٹھی جو اسکے لیے حمزہ نے کروائی تھی،
یہ لوگ اب سیدھا ہوٹل جا رہے تھے،
یہاں کے نظارے جیسے سنے تھے بلکل ویسے ہی ہیں، حمزہ ڈرائیور سے مخاطب تھا،
جی صاحب اور یہاں لوگ اکثر مئی،جون،جولائی میں زیادہ آتے ہیں کیونکہ یہاں کا موسم اور باقی جگہوں سے خوبصورت ہوتا ہے،
یعنی آج کل پبلک زیادہ ہوگی؟(حمزہ کچھ سوچتے ہوئے بولا)
"ہاں جی صاحب"(ڈرائیور نے باقاعدہ سوال کا جواب دیا)
الفت کھڑکی سے باہر بڑی بڑی پہاڑیوں کو نظارہ کر رہی تھی،
                  "اور حمزہ بس اُس کا!!"
ہاے!!
کاؤنٹر میں کھڑی نیلی جینس اور لال شرٹ میں ملبوس وہ لڑکی انتہائی خوبصورت تھی،
"یس کین آئے ہیلپ یو؟"
جی وہ روم ،"مسڑ اینڈ مسز حمزہ ؟"
لڑکی رجیسٹر کھولا پورا ڈیٹا چیک کیا اور چابی اسکے ہاتھ میں دے دی،
روم نمبر "115"
ہیو فن!!!
اور خوش دلی سے اس نے اپنے کسٹمرز کو اٹین کیا،
آپ یہاں ں بیٹھیں میں فرسٹ سٹریٹ لاتا ہوں ،،،
وہ اسے بیڈ پر بیٹھا کر کمرے کی تلاشی لینے لگا،
الفت نے زیادہ دھیان نا دیا ہاں بس وہ خاموش تھی وہ جو کر رہا تھا الفت کو اس میں کوئی پریشانی نہیں تھی،،،،
تھوڑی دیر بعد وہ ایک سفید رنگ کے ڈبے کو ہاتھ میں لیے سامنے سا آرہا تھا،
شکر مل گئی، (کہہ کر وہ اس نے بکس کو کھولا اور سنی پلاس نکالی وہ کھول کر اسکی متاثرہ جگا پر لگا ہی رہا تھا کے الفت نے اسکا ہاتھ روک دیا،اور اسکے ہاتھ سے لیکر  خود ہی اپنی چوٹ پر مرہم پٹی کرنے لگی،)
حمزہ نے اسے گھورا اور بکس کو دھڑام کر کے بند کیا اور واپس وہی رکھ آیا جہاں سے لایا تھا
❤❤❤❤
آغا صاحب بھابھی بہت اصرار کر رہی ہیں محمل اور علی کے رشتے کے لیے!!!
میں نے کہا آپ سے پوچھ کر جواب دنگی،
اب آپ مجھے اپنی رائے دیں!؟
پروین صاحبہ صوفے کے ایک طرف بیٹھی تھیں جبکہ آغا ایوب اپنے بیڈ پر بیٹھے سگریٹ کے دھوئیں اڑا رہے تھے،
پروین بیگم ابھی ہم کوئی جواب نہیں دے سکتے،
علی جب تک خود بزنیز مین نہیں بن جاتا جب تک!!!
آغا صاحب یہ کیسی زد ہے،ایک بیٹی کو بھی تو اپنے کسی کمپنی کے ملازم سے باندھ دیا ہے نا، اب؟؟؟
پھر تو یہ گھر کا بچہ ہے،،،،،
پروین بیگم (آغا ایوب کی بھاری آواز میں زرا سا روپ جاگا تھا)
ہم نے اپنی بیٹی کی شادی کسی ملازم سے نہیں کی ہے،اور وہ بہت زیادہ فرمانبردار اور تعبِدار بچا ہے،
اور ہم نے اسے کہا ہے کے جلد ہی اپنا بزنیز اسٹارٹ کریں،،،
ورنہ ہم ہی کوئی اسکی مدد کریں گے!!
پروین خاموشی سے ساری بات سن چکی تو آخر میں بولیں،
"چلیں اب کی بار جو فیصلہ کریں وہ اس سے اچھا کریں"
آغا صاحب نے پروین بیگم کو ایک نظر دیکھا اور غصیلے پن میں ہی سر کو جنبش دی،
❤❤❤❤
ہاں خیریت سے ہوں
،ہاں وہ بھی ٹھیک،
ہاں کچھ باتیں ہوئی ہیں
 ہاں ہاں کل بتاؤں گا
حمزہ دھیرے دھیرے فون پر حنین سے بات کر رہا تھا وہ اتنا آہستہ بول رہا تھا کے سامنے والے کمرے تک بلکل بھی آواز نا جائے،
اور حنین ماما کا خیال رکھنا یار اور انکو میڈیسن ٹائم سے دے دینا،
وہ تھوڑا ہنسا تھا(جیسے حنین نے اسے کہا ہو ہاں میرے باپ ہاں اوکے)
تم بس انجوئے کرو اوکے؟
ہاں میرے بھائی اوکے؟
فون رکھ کر وہ سارے کمرے کی سیٹنگ کرنے لگا الفت کا اور اپنا سارا سامان سمیٹنے لگا،
جبکہ الفت دوسرے کمرے میں سو رہی تھی،
جب وہ سارا کمرا سمیٹ چکا تو جلدی سے جاکر دو کپ چائے اور کچھ ناشتے کا سامان لے کر آیا،
سارا سامان ٹیبل پر سجایا اور الفت جو اٹھانے اس کے کمرے میں چلا گیا اسے دیکھ کر تو ویسے ہی یاور حمزہ کی آواز نہیں نکلتی تھی لیکن ابھی تو وہ سورہی تھی اور!!اور ایک سوتے ہوئے خیر کو اٹھانا وہ جانتا تھا کیا ہوگا،،
لیکن پھر بھی(الفت ۔الفت۔الفت اٹھ جائیں ہمیں پھر گھومنے بھی چلنا ہے)
الفت جو خوابوں کے محل سے باہر آئی تھی نیند کے طوفان سے نکل آئی تھی،
آنکھیں رگتی ہوئی اٹھی،
"ایک تو اسکی شکل صبح ہی صبح دیکھ لی اوپر سے گھومنے بھی جانا ہے اسکے ساتھ"وہ دانت بیچ کر سرگوشی کرنے لگی،
اب وہ دونوں فریش ہوکر ڈائینگ ٹیبل کے پاس آئے،
تو الفت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی،
اور دانت بیچ کر زور سے چلائی،
یہ سب جو بھی آپ کر رہیں ہے نا،مجھے ایمپریس کرنے کے لیے،؟!
"نہیں بلکل نہیں"(یاور حمزہ مسکراتے ہوئے بولا)
الفت نے نظرے جھکائیں تو ایسا لگا جیسے وہ ندامت میں میں سر جھکا رہی ہے،
جب یہ لوگ ناشتہ کر چکے تو فوراً ہی تیار ہوگئے، مری کیمپ گھومنے کے لیے،
❤❤❤
الفت نے ہرے رنگ کی شرٹ  پہنی تھی جو ٹخنوں سے اوپر اور پیچھے سے ٹخنوں کے نیچے تک آتی تھی،
اور بلک کلر کی ٹائز وہ خاصی موڈرن اور خوبصورت دکھائی دے رہی تھی، ے میں میں سیم شرٹ کلر کا دوبٹا لیا ہوا تھا،
اور حمزہ بلیک جینز اور لائٹ گرے کلر کی شرٹ میں تھا،
شیو فرینش اور بال سائڈ مانگ اور پف والے کٹے تھے،
وہ خاصا ہینڈ سم لگ رہا تھا،
دونوں کی موٹی بہت اچھی لگ رہی تھی،
الفت اپنے رنگ کی وجہ سے اور چمکتی تھی اور اسکے چہرے کی معصومیت اسے اور پر کشش بناتی تھی،
ہوٹل سے نکلے تھے کے حمزہ کی نظر سائڈ بینچ پر پڑی،اس نے واقعتاً الفت کو مخاطب کر کے کہا،"وہ دیکھو وہی آنٹی جو ٹرین میں دیکھی تھیں"
الفت نے انہیں دیکھا اور حمزہ کو بولی"افف، تو میں کیا کروں؟"
اور منہ میں کچھ بڑبڑاتی ہوئی آگے نکل گئی ،،،
جبکہ یاور حمزہ انہیں پیچھے موڑ موڑ کر دیکھ رہا تھا،
❤❤❤❤
ٹیکسی ٹیکسی___(حمزہ ٹیکسی کو ہاتھ دیکھا کر روک رہا تھا جبکہ الفت بلکل لاتعلق سی یہاں وہاں کے نظارے کر رہی تھی)
کے اسی دوران الفت کا فون بجا!!
یہ نمبر کس کا ہے؟
اس نے فون کو بیت غور سے دیکھا،،
وہاں حمزہ ڈرائیور سے مقامی جگہ کا بتانے لگا،
اس نے  لمحے بھر کو الفت کی اور دیکھا جو اپنے موبائل کو بہت غور سے دیکھ رہی اسکے تاثرات دیکھنے میں کچھ مشقوق دیکھائی دے رہے تھے،
"اس نے دل سوچا کون ہوسکتا ہے؟"
"میں پوچھوں؟"۔۔۔۔۔"۔نہیں رہنے دیتا ہوں"
اور سر جھٹک کر واپسی ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرنے لگا،
جب تک وہ اٹھاتی فون بند ہوچکا تھا،
اس نے واپس ریٹن کرنا مناسب نہیں سمجھا اور پھر سے ہاتھ پر ہاتھ رکھے کھڑی ہوگئی،
جب ٹیکسی بک ہوچکی تو حمزہ نے آواز لگائی
"آجایئں"
اور وہ بالوں کان کے پیچھے کرتی دھوپ کے باعث آنکھیں چھوٹی چھوٹی کر کے آگے بڑھی،
حمزہ بھی اسکے پیچھے گاڑی میں بیٹھا تھا،
بھابھی میں نے آغا صاحب سے بات کی ہے ابھی دیکھیں کیا کہتے ہیں وہ،ویسے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں،اور ایک بار الفت کی رائے لینا بھی بہت ضروری ہے،
❤❤❤❤
ہاں ہاں جیسے آپ مناسب سمجھیں تائی حمیدہ نے فون
مری کی خوبصورتی اسکی پہاڑیاں تھیں،
اور یہ لوگ بھی وہی جا رہے تھے،
فلائینگ چیر سے کچھ دوری پر،ڈرئیور نے حمزہ کو جو جگہ بتائی تھی بس وہی حمزہ کا دل چاہا کے الفت کو لیجانا چاہئے،
مری شروع سے ہی سیاحوں کے لیے ایک اچھی تفریح گاہ رہا ہے،
یہاں کے لوگ پہاڑی علاقے میں رہتے ہیں زیادہ تر،ویسے تو اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ہے اسی لیئے یہاں کے بندرگاہوں میں سیاح کراچی اور دیگر پاکستان کے صوبے سے آئے سیاح کاروں کا نیلا نظر آتا ہے، کہیں کہیں باہر ممالک کے کچھ گورے بھی نظر آتے   دیکھائی دیتے ہیں،
 سب طرف بازار اور مارکیٹوں میں رش بھی تھا اور کچھ تفریح کے لیے لیے یہاں سے وہاں گھمتے پھر رہے تھے،اور کچھ لوگ تصویریں بنا رہے تھے،
❤❤❤❤
یاور حمزہ اور الفت دونوں مری کی ان گلیوں میں خود سے لاتعلق تھے،جبکی انکے آس پاس بہت سارے کپل تھے کچھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور کچھ تصویروں میں اپنی یہ سُہانی یادیں قید کر رہے تھے،
حمزہ کے دل میں بھی کچھ اسی طرح کہ خواہشات جاگی تھیں۔ تو وہ تیز تیز قدموں سے چلتا الفت کے قریب آنا چارہا تھا،
الفت جو آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی،
وہ زرا روکا اور ایک ریڑھی والے سے وہاں کی مشہور ترین چاٹ لینے لگا تھا،
الفت کو محسوس ہوا کے اسکا فون پھر بج رہا ہے،
تو بیگ میں ہاتھ ڈال کر دیکھنے لگی اور پھر وہی نمبر،جو اسکے فون سیو بھی نا تھا،
یہ تاثرات پھر ایک بار حمزہ کے سامنے آئے،۔۔۔۔۔۔

حمزہ نے ایک ہاتھ میں اپنے لیے اور دوسرے ہاتھ میں الفت کی پلیٹ لے رکھی تھیں،وہ اسکے قریب آیا اور پلیٹ سامنے کو کی،
"اوہ،میں نے ابھی تو ناشتہ کیا ہے!!" (الفت نے چاٹ کو دیکھتے ہوئے تھوڑا تقلف کیا)
"تو وہ تُو میں نے بھی کیا تھا",لیکن مڈم یہاں کی فیورٹ چیزیں ٹرائے کرنا بھی تو ضروری ہے نا؟
(وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کہنے لگا)
ہمم،، الفت نے سر کو جنبش دی،
"کچھ پوچھ سکتا ہوں،اگر آپ برا نا مانے تو؟"
حمزہ اب اسکے عقب میں چلتا جا رہا تھا اور الفت نگاھیں نیچے کرتی ہاتھ میں پارسل پلیٹ لیے چل رہی تھی،
اُس نے فوراً ہی کہا تھا "جی"
الفت جو پہلے دن اتنا اکڑ رہی تھی،اب اسکے مزاج میں کافی نرمی پیدا ہوگئی تھی،
یہ سوچنا بلکل غلط تھا کے الفت اس سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق برداشت کرنا چاہتی ہے،بلکہ یہ کہہ لیجئے کے اونٹ کی گردن اب دھیرے دھیرے نیچے کی اور آرہی تھی،
وہ آپ اپنے گھر والوں سے کیوں خفا ہیں؟؟
کوئی مثلہ ہے تو مجھے بتائیں میں کوشش کروں گا کے آپکے کام آو،
(کچھ اور سمجھ کے نہیں ایک اچھا دوست سمجھ کے ہی سہی؟؟؟!!)
اب وہ پلیٹ پر خالی خالی سے چمچ چلا رہا تھا،
دل کی دھڑکنیں اندر ہی اندر تیز ہوتی جا رہی تھی،وہ نہیں جانتا تھا کے اب اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟
میں بہت بری ہوں "حمزہ" یا پھر یوں کہلو مڈل کلاس سی لڑکی جو خواب تو اپنی اوقات سے باہر دیکھ لیتی ہے،اور جب وہ پورے نہیں ہو پاتے تو انہیں ٹوٹتا دیکھتی ہے،ہاں دوچار آنسوں ہوتے ہیں اسکے پاس بہانے کے لیے لیکن وہ آواز نہیں ہوتی جو وہ دنیا کو سنا سکے"
اسکے بڑے بڑے دیدوں میں موٹے موٹے آنسوں اپنی جگہ بنانے لگے اور وہ اس قدر پھیل گئے کے باہر آنے کے لیے الفت کی اجازت بھی نا لے سکے،،،،،،
آنسوں صاف کرتی الفت نے اوپر سر نہیں اٹھایا کیوں کے وہ یاور حمزہ کو مضبوط دیکھنا چاہتی تھی نا ہی کے کمزور!!!
حمزہ جو ہمیشہ کی طرح بلکل خاموش ہوکر ساری باتیں سن رہا تھا، آخر کار بول پڑا،
"انسان اپنی تکلیفات کو جب دوسروں سے چھپانے لگتا ہے تو وہ اندر ہی اندر کھوکھلا ہوجاتا ہے"
میں آپ کو اگر پسند نہیں تھا تو۔۔۔۔۔
الفت نے گھری سانس لی اور حمزہ کی طرف دیکھا،
"نہیں آپ بہت اچھے ہیں بس میں ہی بری ہوں"
اب وہ اس کے آگے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی وہ تیز تیز قدم بڑھانے لگی،اور حمزہ آج پھر دو قدم پیچھے رہ گیا،
        یوں ہی نا چھوڑ جانا اسطرح رش کے درمیاں،
             میں بہت آس لگائے بیٹھا ہوں کوئی ساتھ دیگا میرا،
بے اختیار ہی اسے یہ شعر یاد آیا تو زبان نے پڑھ بھی لیا،
حمزہ بہت صبر والا انسان تھا،اسکے لیے الفت کا نرم پڑھ جانا ہی بہت کچھ تھا،
یہ دونوں پہاڑی کے اوپر اور باقی سیاحوں کے ساتھ جا پہنچے تھے،
الفت کی نظر وہاں کھڑی ننھی اور معصوم  ایک بچی پر پڑھی وہ غباروں کے ساتھ کھیل رہی تھی،
اُسے دیکھ کر الفت کو محمل کی یاد سی آئی تھی،
تو اسنے أنکھیں بیچی اور دل میں سوچا کے أج صرف محمل سے بات کروں گی گھر پہنچ کر،
حمزہ اور دیگر سیاح کار خوبصورت نظاروں کو اپنے کیمروں کی زینت بنا رہے تھے وہی ایک جگہ بیٹھی بوجھل طبیعت الفت خاموش بیٹھی سب کا تماشہ دیکھنے لگی،،
❤❤❤
"کیا پتا یہ بوجھ ہٹ کر بہار بن جائے؟"رمشہ کی کہی باتیں کہی نا کہی اسکے دل میں اثر کر رہی تھی،
"ابا میں شادی نہیں کروں گی مجھے پڑھنا ہے"
"یہ مرے یا جیے اب اسے ہم یاور حمزہ کے گھر مانگتے ہیں"
"تم کیوں اتنی خفا ہو بیٹے اپنے والدین سے؟"
"ایک ٹوٹے دل کی مرمت کر سکتی ہو تم؟"
"انسان اپنی تکلیفات جب دوسروں سے چھپانے لگتا ہے تو وہ اندر ہی اندر کھوکھلا ہوجاتا ہے،"
اور وہ گھبرا کر اٹھ پڑی،اسکی نیند کسی خوفناک خواب سے جا کھلی تھی،وہ گھری گھری سانسیں لے رہی تھی،
اندھرے کے باعث وہ کہی نہیں دیکھ رہی تھی،
لیکن زرا سی آہٹ پر حمزہ کی بھی آنکھ کھول گئی،
اسے محسوس ہوا کے الفت بیڈ پر بیٹھی ہے،
سائڈ ٹیبل سے لیمپ کی ڈور کھینچی اور وہ کھول گئی زرا سی دیر میں ساری تاریکی ایک لیمپ کی مدھم روشنی میں سمٹ گئی،
آپ۔۔۔گھبرا کیوں رہی ہیں،کیا ہوا ہے،۔۔۔
میں۔۔میں پانی لاتا ہوں،
اور وہ یہ کہتا ہوا کمرے سے باہر آیا،کچن کے اندر رکھے فریج سے بوتل نکالی ایک گلاس میں پانی بھرا اور واپس بیڈ روم میں آیا
وہ اب تک ایسی صدمے میں پڑی تھی
حمزہ نے گلاس سامنے کیا تو الفت نے اسے نگاھ بھر کے دیکھا
"آج پہلی بار ایک ضدی لڑکی نے اپنی ضد خود بخود چھوڑ دی تھی،"(یاور حمزہ کو نگاھ بھر کر دیکھاتھا،حمزہ بھی اسے ہزاروں سوال بھری نگاھوں سے دیکھ رہا تھا)
گلاس لیا،پانی پیا اور تھوڑے ہوش میں آئی،،،
"کیا دیکھ لیا خواب میں؟"
الفت  سر جھٹک کر بولی "کچھ نہیں"
اچھا تو پھر کیوں گھبرا گئی آپ؟؟
"نہیں بس کچھ نہیں"
الفت کے ماتھے پر موٹی موٹی پسینے کی بوندھے واضح دیکھائی دے رہی تھی،
اچھا تو پھر؟؟؟
وہ سوال پر سوال کر رہا تھا جبکہ الفت ابھی تک گھبرائی ہوئی تھی،تھوڑا ہوش آیا تو دانت بیچ کر بولی،
"افف خدا میں کسی کی جواب دے نہیں ہوں،بول دیا نا ایک بار کچھ نہیں تو کچھ نہیں"
حمزہ اب کی بار غصہ سے کمرے میں سے باہر نکل گیا،وہ نہایت ہی غصے میں لگ رہا تھا،غصہ بہت کم ہی کیا کرتا تھا لیکن جب بھی آجاتا تو دونوں آنکھیں آشک بہانے لگتی، "یعنی وہ رو رہا تھا"
الفت کو حمزہ کا کمرے سے باہر جانا،تھوڑا ڈرا سا گیا،کیونکہ اس سے پہلے  حمزہ نے اسکی بات کو اتنا دل پر نہیں لیا تھا،
وہ دروازہ پٹختا ہوا کمرے سے باہر آیا،،
کافی دیر گزر چکی تھی اس نے سوچا کے ایک بار دیکھ لینا چاہئیے کے حمزہ کہا گیا ہے؟؟
وہ تھوڑا گھبراتی ہوئی کمرے سے باہر آئی تو نظارہ بلکل اداس تھا،
اسکی انسانیت اخلاقیت کو چماٹ پڑا تھا،اور یہ لمحہ اسکے لیے واقعی بہت بڑی شرمندگی کا باعث بنا تھا،
حمزہ جو ڈئیرائینگ روم کے عقب  میں کھولی گیلری میں بیٹھا تھا،آج  5 مئی تھی،لیکن پھر بھی مری جسے اس شاندار شہر میں خدا کی قدرت برس رہی تھی ،،ہلکی ہلکی بوندا بارش ہر ہر بوند ہوا کے سہارے ادھر سے اُدھر گر رہے تھی موسم خوشگوار تھا لیکن یہاں حمزہ ۔۔۔
اپنی آنکھوں میں بارش سا سماء لیے بیٹھا تھا، وہ رو رہا تھا،وہ بس رو رہا تھا
آج اسکی ہمت جواب دیےگئی، آج اسکے حوصلے نے اسے سہارا دینے سے انکار کردیا تھا،
وہ باہر کی جانب دیکھ رہا تھا،ہاہر برسات ہورہی تھی،اور یہاں حمزہ کی آنکھیں برس رہی تھی،
وہ خاموشی سے چلتی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی،روم کو پار کر کے وہ اسکے پاس آئی اسکا دلت کہیں نا کہیں تو مائل ہوہی جانا تھا سو آج اسکا دل مائل ہوا تھا،
اس نے ایک بہادر انسان کے دل کو ٹھیس پہنچائی تھی،
سہی ہے اسکی ناراضگی ایک طرف لیکن وہ اپنی زد کے آگے اللہ کو تو ناراض نہیں کر سکتی تھی نا؟؟
اس ہچکچاتے ہوئے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
حمزہ نے دھیرے سے سر کو گھمایا اور پلٹ کر اسے دیکھا،
اسکی آنکھیں موٹے موٹے آنسوں کی بہار لیے ہوے تھی، یہاں الفت بھی اپنی آنکھوں میں آشک لے ہوے تھی،
اب وہ دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں ڈھیر سارے سوال کر رہے تھے،
حمزہ کو جیسے کچھ یاد آیا تھا،اس نے الفت کا رکھا ہاتھ فوراً سے اپنی پشت سے ہٹایا،
گھری سانس لی اور بولا،۔۔۔میں۔۔۔میں چاہتا ہوں آپ مجھے اپنا فیصلہ بتائیں تاکہ میں آپ کو صبح ہونے سے پہلے طلاق نامہ پہنچا دوں!!!
بس!!
الفت اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی،
نہیں ۔۔۔ وہ ۔۔میں ،،
ابا...!
وہ کیا کہنا چارہی تھی اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا،
آج الفت ایوب بلکل ڈر چکی تھی،
طلاق کے نام سے، حالانکہ اّس بات سے اسے خوشی ملتی چاہئیے تھی لیکن پھر کیوں؟!!!
وہ سیمٹ کر نیچے بیٹھ گئی وہی جہاں حمزہ کچھ دیر پہلے بیٹھا تھا،
حمزہ پیچھے موڑا اور الفت کو مخاطب کر کے بولا،
"میں نہیں جانتا آپ کیا چاہتی ہیں لیکن اب میرے صبر کی بس ہوگئی ہے،"
تھک گیا ہوں میں!!"میری معاشرے میں اتنی اذت ہے اتنا وقار ہے،اور آپ کے سامنے میں کچھ بھی معنیٰ نہیں رکھتا"
چلیں میں آپکو سوچنے کے لیے دو روز دے رہا ہوں،
اور اِن دو روز میں میں یہاں نہیں ہونگا میں اپنے دوست کے گھر جو یہاں سے کچھی دوری پر رہتا ہے،اسکے گھر چلا جاؤ گا،
لیکن جب لوٹوں گا تو بس جواب مانگو گا ،صرف جواب؟
(ہاں یا نا)
الفت اب تک اسکی باتوں کا کوئی جواب نہیں دے رہی تھی اگر وہ بتادے کے وہ کس بات پر خفا ہے سب سے،تو یہ معاملہ یہی ٹھیک۔ہوجائے لیکن وہ تو الفت ایوب ہے ایک ضدی لڑکی وہ کیوں کچھ بولے گی،
حمزہ اب بھی سوائے خاموشی کے کچھ نا ملا تو وہ پیر پٹختا ہوا کمرے میں گیا
موبائل گھڑی اور وولیٹ نکالا اور گھر سے چلا گیا،
جو ابھی کچھ دیر پہلے ہلکی ہلکی بوندیں آسمان سے گر رہی تھی اب تیز ہوچکی تھی،
باہر تیز بارش ہورہی تھی،
الفت یہاں رو رہی تھی،
اور حمزہ غصے میں آگ بگولا ہورہا تھا،اور وہ یہ سب بنا کچھ سوچے سمجھے کر رہا تھا،
اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا کے الفت اکیلے یہاں کیسے رہے گی!؟؟
❤❤❤
`وہ پوری رات نہیں سوئی تھی،"
اور ایک بار بھی نہیں سوچا کے وہ کیسے رات کو گیا ہوگا،
بیڈ سے کرراہٹ آنے لگی تو فوراً ہی بالوں میں جوڑا باندھا اور کھڑی ہوئی،
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،
ایک تو ابا کی دی گئی دھمکی، "مرے یا جیے اب اسے وہی رہنا ہے"
اور اوپر سے ایک بے قصور کے دل کو ٹھیس پہنچا دی،
وہ دانتوں میں انگلیا پھسائے ٹھل لگا رہی تھی
اسکا دل گھبرا رہا تھا وہ کل رات سے نا سوئی تھی ناہی کچھ کھایا تھا،
یاور حمزہ بھی اسے یوں اکیلا چھوڑ گیا تھا،
دل زیادہ گھبرانے لگا تو ہوٹل سے باہر آگئی،
سامنے فوٹ پارٹ پر جابجا بینچیز بچھی تھی،ہلکی پھلکی سردی کا عالم بھی تھا وہ یوں ہی اِن بینچیز پر جاکر بیٹھ گئی،جُوڑا اب تک بندھا تھا ہاتھ میں بس ایک کالے رنگ کے فون کے سوا کچھ بھی نا تھا،
انُابی رنگ کی چال جو اُسے یاور حمزہ نے مری میں آکر دلائی تھی وہ وہی پہنے پہنے نیچے آگئی تھی،
سوچوں میں گم سم یہ لڑکی اپنی الجھنوں کو کوسنے لگی تھی،
"یارب میرے ساتھ ہی کیوں؟؟"
میرا کیا قصور ہے؟"
اسکا کیا قصور ہے جسکو تم نے سرے پہر دھتکار دیا تھا؟؟
(آواز میں لڑکھڑاٹ پن،)یہ اور کوئی نہیں وہی ٹرین والی آنٹی تھیں،
آج انکا لباس پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا، کافی حد تک وہ،وہ نہیں لگ رہی تھی جیسے پہلے دن دکھائی دی تھہں،ہلکا بسکیٹی کلر کا جوڑا جس میں کڑھائی ہوئی تھی،سر سے لپٹا ایک بڑا دوبٹا،
آنکھوں میں آج چشمہ بھی تھا گولڈن رنگ کا فریم،انکا قد یہی کوئی 5فٹ کچھ اینچ ہوگا،
وہ اِس وقت بلکل الفت کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھیں،
الفت انہیں دیکھ کر زرا چونکی، کیوں کے یہ ہر جگہ کیوں نظر آجاتی ہیں،کیا انہیں حمزہ نے بھیجا ہے؟؟؟
دل  میں جو سوال آیا وہی منہ پر بھی،
"مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی جائیں آپ!"
"لیکن مجھے کرنی ہے،"(پر خلوص لہجا بظاہر انکی آواز میں لڑکھ پن تھا لیکن لہجاے بہت پر خلوص تھا)
وہ الفت کے منع کرنے کے باوجود اسکے برابر میں آبیٹھی اسکے اتنے قریب آ بیٹھی کے الفت اب وہاں سے اٹھ نہیں سکتی تھی،
"وہ تمھیں نہیں چھوڑے گا!"
 "یہ بات آپ اتنے اعتماد سے کیسے بول سکتی ہیں؟؟"
الفت نے بنا جھجک بولا تھا،
"تم نے اسکی آنکھوں میں کبھی غور سے دیکھا ہے؟"
الفت کا شرم سے سر جھک گیا کیوں کے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا،اس نے اسکی شکل آنکھ بھر کر نہیں دیکھیں تھیں،پھر تو یہ آنکھوں کا سوال تھا،
"میں نے دیکھا ہے"
"وہ تم سے بے پناہ محبت کرتا ہے بلکل میرے بیٹے کی طرح"
اسکی بیوی بھی اسے سب کے سامنے چھوڑ کر چلی گئی اور وہ پھر دبئی چیفٹ ہوگیا،
لیکن!!!
الفت کو جیسے وہ قصیدے یاد آئے تھے، بہو کی اتنی تعریفیں کرنے والی یہ خاتون کیا بول رہیں ہے اسے کچھ نہیں پتا چلا..
"ہاں ہاں بیٹا اپنے دل کو بھلانے کے لیے،"
بس!!
تم میری مانو تو اب بھی وقت ہے اسے دل سے قبول کرلو،
وہ نہایت خوبصیرت بچہ ہے
اور اللہ کے کاموں میں کوئی نا کوئی مصلیحت ہوتی ہے،
وہ کندھے کو تھپکی دیتے ہوئے الفت کو خدا حافظ کر کے اٹھ کھڑی ہوئی،
اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
الفت جیسے ایک اور بات یاد آئی تھی،
الفت میری جان یہ اللہ کی مسلیحت ہے،اُسہی نے تم دونوں کا یوں ساتھ لکھا تھا،"آسمان سے جوڑے بنتے ہیں" اور مجھے تم بتاؤ کیا تمھیں اللہ کے کاموں میں کوئی شک و شباہت کا ریزہ بھی نظر آتا ہے؟
اور یہاں الفت کو لگا جیسے اب اسے گھر چلنا چاہئیے اسکا دل باہر آکر اور گھبرانے لگا تھا،
حنین میں اسے بول کر آگیا ہوں،،،
بس اب وہ جانے اسکا فیصلہ جانے،
وہ فون پر زور زور سے باتیں کر رہا تھا ،
حنین سامنے فون بولا،(یار حمزہ ایسا کچھ مت کرنا جس آنٹی جی کی طبیعت خراب ہو،زمانے کے سامنے رسوا ہو جائے گا یار تو،مت کر خدارا،وہ سمجھ جائے گئی انشاللہ،تم کیوں اتنی ٹینشن لیتے ہو؟؟)
نہیں بس اب جو ہوگا دیکھا جائے گا.................
❤❤❤❤
پھر فون بج رہا تھا،
اس نے اب کی بار غصے سے اٹھایا،
ہیلو۔۔۔
کون ہیں آپ کیوں فون کر رہیں بار بار،
ویٹ ویٹ الفت میں ہوں" علی"
(تایا ارفان کا بیٹا،تایا ارفان کی فیملی یہ واحد انسان تھا جو الفت کو زرا ٹھیک لگتا تھا،باقی تو سارے ڈرامے باز تھے،
تائی حمیدہ اور انکی بیٹی لائبہ تو الفت کو اتنی میٹھی چہرہ کی طرح آغا صاحب کے سامنے باتیں سناتی تھیں کے بس۔۔۔ لیکن علی اسے اس لیے ٹھیک لگتا تھا کیوں وہ بہت خاموش طبیعت کا مالک تھا)
الفت کو بہت اچھا لگا اسکا فون سن کر،
ہاں علی تم ہو؟!!یار کیسے ہو،اتنے دنوں بعد یاد کیا؟؟
کہاں غائب تھے،
تم وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ،یہ اتنا غصہ جو ابھی تم نے کیا ہے مجھ پر،کیسں خیریت تو ہے نا؟؟
کس سے لڑ کر بیٹھی ہو؟
کسی سے نہیں وہ۔۔۔
وہ کہتے کہتے روکی،
اچا سنو الفت تم دی کراچی آؤ ایک گڈ نیوز ہے،
اوکے،، کہہ کر فون رکھ دیا
افف یہ علی تھا میں سمجھیں ناجانے کون ہے،
❤❤❤❤
"حنین یا تو تم جو سمجھا دو کے میں اب اور برداشت نہیں کرسکتا یا پھر میں خود ہی اُن سے بات کرلو،۔۔۔۔۔۔۔
میں فون رکھتا ہوں، کہہ کر حنین نے فون رکھ دیا،
اور حمزہ اب بہت گھری سوچوں میں تھا،
اور پھر سے ہم۔کلامی میں مشوارات ،
"کیا میں نے ٹھیک کیا"؟؟
"کیا وہ اب مان جائے گی"؟
"لیکن وہ ایسا کرتی تو روک لیتی مجھے اسی رات!!؟"
"پھر؟؟؟"
یااللہ راستہ دیکھا دیں،
میں بہت پریشان ہوں کہہ کر صبر کے دو آنسوں اسکے گال کو چھونے لگے

سارا دن گزار کر اب الفت اپنے کمرے میں تھی،
کوئی سہارا دینے والا نہیں تھا،خالی اور خاموش طبیعت وہ دھیمی سی روشنی کرے ہوے تھی،پورا کمرا آج پھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا،
اسے یاد آیا کے محمل کو کال کرلی جائے،وہ ویسے بھی اسکے بارے میں کل سوچ ہی رہی تھی،

وہی کالے رنگ کا اینڈروئیڈ فون، جس کے کور پر ایک بلی بنی تھی،
الفت کو آج تک کوئی نمبر یاد نہیں ہوا تھا،اپنا بھی نمبر یاد رکھنے کی اتنی بار کوشش کی لیکن اِس چھوٹے سے فون میں سارے جہان کی انفورمیشن موجود تھی تو پھر کیوں وہ کسی کا نمبر یاد رکھے؟
❤❤❤❤
الفت نمبر سرچ کیا ملایا، اور
بیل جا رہی تھی دھیمی دھیمی
ہیلو!!
اسلام وعلیکم آپی،
اور یوں سامنے سے پہلے سے ہی ادبی طور پر چھوٹی بہن نے احترام سے پکارا،
ہاں کیسی ہو محمل؟؟
میں ٹھیک ہوں آپ بتائیں کیسی ہیں،اور حمزہ بھائی؟؟

اس نے کہانا چاہا کچھ اور نکل کچھ اور گیا منہ سے،
وہ محمل سب ٹھیک ہے تم یہ بتا ؤ امی ابا سب کیسے ہیں؟

یعنی الفت نے اپنی اور حمزہ کی لڑائی کو بنا کسی مطلب چھپایا تھا،
ہاں سب خیریت،۔۔۔۔۔

اور یوں دو چار باتیں کر کے اُس نے فون رکھ دیا،

زرا لمحے بھر کو وہ سوچتی رہی کے کل کیا کرنا ہے کیا فیصلہ لینا ہے،
گہری سوچوں کا انبار کھڑا ہوگیا تھا،

کہیں نا کہیں وہ بڑھیا آنٹی کی بھی باتیں ذہن سے ٹکرا رہی تھی،

"میں پڑھنا چاہتی ہوں آگے، ابا یہ نے حق مجھ سے چھینا ہے لیکن اس میں حمزہ کی تو کوئی غلطی نہیں ناں؟
❤❤❤❤❤❤❤
وہ اب خود سے باتیں کر رہی تھی، شیشہ کے عکس مانند جیسے اسکا عکس سامنے آکھڑا ہو،

مجھے اُس سے اسطرح بات بلکل نہیں کرنی چاہئیے تھی،اگر اسکی دل سے آہ نکل گئی تو؟؟؟

یہ مجھے کیا ہورہا ہے؟؟
میں یہ ح۔زہ کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں،؟؟؟

اور یوں ہی الجھنوں میں لیپٹی الفت آخر کار تھک ہار کر وہی سو گئی،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

نہیں نہیں چھوڑوں مجھے چھوڑوں،
یہ زنجیریں کھولو،
مجھے جانے دو،کون ہو تم؟؟؟

اندھیرا،تپش، تاریکی، خوف کا عالم، سناٹا،
اور بس وہ اور اسکے ہاتھ پیر زنجیروں سے جگڑے ہوئے،
❤❤💕❤❤❤
بال بکھرے ہوے، دم نکل سا رہا ہے، آنکھوں میں لگا کاجل اب کہیں حد تک پھیل چکا ہے،
وہ نہایت بھیانک منظر کے عالم میں خود دیکھتے ہی فوراً ہی خواب سے جاگ اٹھی،،،،،

ہاں ہاں ہاں،،،،
لمبی لمبی سانسیں، ماتھے پر آج پھر موٹی موٹی بوندھے،
ایک خوف کا عالم، لیکن!!آج کوئی نا تھا جو اسکو بولے" کیا ہوا' آج کوئی نہیں جو اسے بولے "روکو پانی لاتا ہوں"
آج کوئی نہیں جو اسکے لیے فوراً کمرے میں روشنی کردے ہٹاتے اس تاریکی کو،
آج کوئی نہیں!!!!

آج پہلی بار حمزہ کی کمی شدید محسوس ہوئی؛
آج لگا جیسے اب کوئی اسکا حال پوچھے گا'''''
لیکن نہیں'''''''''''''''''
آج کوئی نہیں،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

صبح تو جیسے تیسے ہو ہی گئی، ناشتہ وغیرہ کر کے وہ گیلری میں بیٹھ گئی تھی تھوڑا  سا دماغ کو ادھر اُدھر لگانے کے لیے،
❤❤❤❤❤
وہ بہت سکون سے اُس کرسی پر جا بیٹھی جہاں آخری بار حمزہ کو بیٹھا دیکھا تھا،

وہ نیچے اسلئے بھی نہیں جا رہی تھی کیوں کہ اسے ڈر تھے کے آج کہیں نا وہ آنٹی سامنے آجائیں،

بس اسی لئیے اس نے گیلری کا انتخاب کیا تھا،

وہ دماغ کو ادھر اُدھر لگانے کے باہر کے نظارے کرنے لگی،

سامنے سے بہت لوگ ووک کر رہے تھے، صبح ہی صبح کا وقت تھا، اسی لیے بہت سارے کپل بھی دیکھنے کو مل رہے تھے،
❤❤❤❤❤
ایک کپل جو سیم ڈریس کیے ہوئے تھا،
کالے رنگ کی ٹی شرٹس وہ دونوں لڑکا اور لڑکی پہنے کانوں میں ہنڈفری لگائے ووک کر رہے تھے،

بہت دور سے یہ مناظر بلکل پاس سے دیکھنے کو مل رہے تھے،

وہ لڑکی ووک کرتے کرتے وہاں گر گئی جہاں بینچیز بیچھیں ہوئی تھیں،
الفت کی نظر جیسے بس یہی نظارہ بہت  غور سے دیکھنے کے لیے بیٹھی ہوں،

وہ لڑکا آتا ہے اسے اٹھاتا ہے بہت گھبرایا ہوا تھا بلکل حمزہ کی طرح کے جس طرح الفت کے گر جانے پر حمزہ بھی گھبرایا ہوا تھا،
❤❤❤❤❤
اففف۔۔ پھر اسکا خیال،،،،
میں کیا کروں ہر بات پر اسکا خیال کیوں آرہا ہے،

اندر کمرے سے رنگ ٹون کی آواز دھڑا دھڑ بجے جارہی تھی،

اسکا گیلری کے نظاروں سے زرا دھیان ہٹا تو وہ بھاگتی ہوئی کمرے کے اندر آئی،

سکرین پر نام اسے ہر بار ہی سکون دیتا ہے
رمشہ.....!!!!!

ہاں مجھے اسکی ہی ضرورت ہی تھی، دل کی وہ گفتگو جو وہ خود سے نہیں کر پاتی تھی وہ رمشہ ہی تھی جو اسکے باطن کو اس سے زیادہ جانتی تھی،
❤❤❤
ہیلو میری جان۔۔۔۔!
مجھے تمھاری کمی اس وقت بہت شدت سے محسوس ہورہی تھی،۔
رمشہ زیادہ بولتی نہیں تھی اسی لئیے کافی کم الفاظ میں اپنی بات مکمل کرلیا کرتی تھی،

"ہمم۔۔۔دل سے دل کو راہ"
بولو کیا ہوا؟؟؟

یار وہ ۔۔۔ وہ حمزہ مجھے بہت بڑے امتحان میں ڈال گیا ہے،
میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہی،

"ہوا کیا ہے لڑکی؟"

یار وہ۔۔۔ اس نے کہا ہے کے اسے فیصلہ بتاؤ اپنا کے میں۔۔۔کے میں اسکے ساتھ رہوں گی نہیں،،،،

رمشہ جیسے بہت دلچسپی سے بولی،

"ارے یار تو بول دو ہاں میرا مرنا میرا جینا اب آپ کے ساتھ ہے"ہاہاہاہاہاہا
رمشہ وہ دانت بیچ کر بولی"یار یہ مزاخ کا وقت نہیں ہے مجھے حل بتاؤ کچھ بتاؤ یار،"

الفت میں تو بس یہی کہوں گی،
"خدا کے فیصلوں پر اگر آپ کوئی ٹانگ اڑایں گے تو وہ پھر ناراض ہوکر آپکی ٹانگ ہی کھینچ لے گا،"
اور ویسے بھی الفت"نکاح خدا کی طرف وہ خوبصورت عمل ہے جسے وہ دل سے پسند کرتا ہے"

الفت سر پکڑ کر بیٹھی تھی، رمشہ کی باتیں آج بھی اس پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

"حنین سنو میں آج جارہا ہوں الفت کے پاس دعا کرنا سب ٹھیک رہے"

حنین کو میسج کر کے اب وہ اپنے دوست کے گھر سے رخصت ہورہا تھس،

آج یاور حمزہ کئی امیدوں اور احساسوں کو سر پر باندھے اپنی منزل کی طرف نکل چکا تھا،
وہ چاہتا ہے کے الفت اب جو بھی فیصلہ کرے وہ اسکے لیے بہت فائدے مند ثابت ہو،،،،،

وہ ہوٹل آچکا تھا، اور سیدھا کمرے کی جانب چلا گیا،

دروازہ اتنی بار کھٹکھٹانے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا،
دروازہ بھی باہر سے لوک تھا اسکا مطلب فلیٹ میں کوئی نہیں تھا،

وہ سیڑھیاں اترتا، کاؤنٹر پر آیا جہاں وہی لڑکی کھڑی تھی جس نے پہلے دن حمزہ اور الفت کو چابی دی تھی،

جی۔۔۔وہ مسٹر اینڈ مسز الفت روم ہیز لوکڈ،

ویٹ کہہ کر وہ کمپیوٹر سے پوری ڈیٹیل نکالنے لگی،

سوری سر آپکی وائف آج ہی وہ کمرہ خالی کر کے جا چکی ہیں ،

کیا؟؟؟؟؟
حمزہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی،
مگر کیوں؟؟

وہ سو گو تھا کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی سے،
لمحے بھر کے لیے تو حمزہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی،

کچھ بتایا نہیں انہوں نے سر!!
او۔و۔ک۔ے
بامشکل ہی وہ وہاں سے ہٹا اور ٹوٹتا جسم لیے ہوٹل سے باہر آیا،

یہ الفت نے کیا کیا!؟
اب میں اسے کہاں ڈھونڈوں گا؟؟

یااللہ یہ کیسی آزمائیش ہے،
یہ کیا ہورہا ہے، ؟؟

میں تھک گیا ہوں یا رب،
میں تھک گیا ہوں!!!

وہ سر پکڑ کر بیٹھا اب اسی بینچ پر جا بیٹھا تھا جہاں کل صبح ہی الفت بیٹھی تھی،

حمزہ کا دماغ بلکل بند ہوچکا تھا،
اسے سب طرف کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھی،

وہ لوگوں کو آتا جاتا دیکھ رہا تھا خالی خالی بوجھل نگاھیں آنکھوں میں موٹے موٹے آشکار کسی طوفان کے مانند بس نکلے جارہے تھے نکلے جارہے تھے،

وہ آج پھر اپنی امیدوں کو اپنے ہی کوتہائی سمجھ رہا تھا،
اپنے احساسوں کو اپنا بہت بڑا مجرم سمجھ رہا تھا،

مجھے اُس سے اِس طرح کی امید نہیں رکھنی چاہئیے تھی،
میں کیسے بھول گیا کے الفت ایوب مجھ سے بے پناہ نفرت کرتی ہے ایسی نفرت جس کی وجہ مجھے خود نہیں نعلوم،

موسم ایک بار اسکے ساتھ رو پڑا تھا، آسمان پر کالے بادل گرج برس رہے تھے اور یہاں حمزہ کے جذبات بلکل بھیگ چکے تھے،
وہ مکمل ٹوٹ چکا تھا،

ناجانے وہ کہاں ہوگی،؟؟
نا جانے کہاں گئی،؟؟
وہ کیوں ایسا کر رہی ہے؟؟

حمزہ کے من میں پھر کہیں سوالات ،
پھر ایک بار اسکے دل میں ایک غلط وس وسے،

سارا دن وہ اسے تلاش کرتا کرتا ناجانے کہاں کہاں نہیں گیا،

ا
وہ اسے کہیں نہیں ملی،
پھر آخر کار یاور حمزہ نے کراچی جانے کا پلین بنالیا تھا،

اب وہ اسٹیشن جانے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر کا تو اٹھا کھڑا ہوا،

دور سے ٹیکسی کہیں پاس آتی نظر نظر آرہی تھی،

روکنے کے لیے اس نے ہاتھ کا اشارہ کرا،

ٹیکسی روکی تو اس نے ڈرائیور سے اسٹیشن جانے کے لیے پوچھا وہ مان گیا
کرایہ مخصوص ہوا اور اب وہ اس میں بیٹھ چکا تھا،

بال جو اسکے ماتھے پر بکھرے پڑے تھے، آنکھوں میں اب تک آنسوں کا سمندر تھا، حال بے حال ہوچکا تھا،

سامان سارا اسکے ہاتھوں میں ہی تھا،

بس اب یہ مڈل کلاس سا ہینڈسم لڑکا تھک کر جنگ چھوڑ کر میدان سے نکل گیا تھا،

اسٹیشن آتے ہی اس نے گاڑی کی پیمینٹ کی، اب وہ ٹکٹ بک کر رہا تھا،
وہ نہیں جانتا تھا کے کیا ہوگا آگے بس اب وہ یہاں سے جانا چاہتا تھا
جب وہ لڑکی اسکے لیے نہیں روکی تو پھر وہ کیوں رکے؟؟
آخر کیوں؟؟؟

ٹرین کی ٹکٹ بک ہوچکی تھی وہ ایک کندھے پر بیگ لے کر اسٹیشن پر ایک جگہ آکر بیٹھ گیا،

سب لوگ اپنی مصروفیت میں تھے،کسی کو کسی کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہاں، وہ اب بھی ٹوٹا ہوا شخص سوچوں کے سمندر میں ٹوٹی ہوئی کشتی کا سوار ڈوبتا جا رہا ڈوبتا جا رہا تھا،

بہت نیچے اور نیچے،

ایک بزرگ وہاں سے گزرے تھے بظاہر سے تو ملنگ دیکھ رہے تھے،

اسے پریشان دیکھا تو اسکے پاس آئے،

"او محبوب دے مرجاڑیاں،،،
سارا یار وی کلاں چھوڑ گیا،
تے توڈا یار وی، ہاہاہاہا،

بس ملنگا دی سن پتر
آس لگا رکھا اللہ سائیں نو،

اور مانگتا رے ہاں مانگتا رے ہاں،،،،،،،،

حمزہ انکی باتوں کو بلکلr سمجھ نہیں سکا تھا،
ٹرین کا ٹائم ہو رہا تھا،یعنی اب وہ کراچی جانے کے لیے واقعی تیار تھا،

سب لوگ ایک ایک کرکے ٹرین میں بیٹھتے جا رہے تھے بیٹھتے جا رہے تھے،

اور وہ گردن جھکائے ناجانے کس کا انتظار کر رہا تھا،

حق ہو!!!!!
وہ بابا اتنا زور سے بولے کے حمزہ کی نظریں انکی اور اٹھی انکو اور اٹھتی نظر اسے کچھ اور بھی دیکھا گئی،

یہ منظر اسکے لیے حیران کن تھا،
سانسیں ہلک میں۔ اٹک گئیں،۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کی دھڑکنیں دھڑکنا بھول گئی،۔۔۔۔۔

معذرت پیارے ریڈرز،آج کی ایپی چھوٹی ہے لیکن کل پکا کوشش کروں گی کے اسے بڑی دوں


 
وہ جو مناظر دیکھ رہا تھا،اب اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے جلدی سے اسکے پاس چلا جائے،

آواز لگا کر اسے مخاطب کرنا چاہا لیکن شور کے باعث آواز جا ہی نہیں رہی تھی،

الفت۔۔۔الفت،،،
وہ بینچ پر بیٹھی ہرا اور گلابی رنگ کا کنٹراز سوٹ پھنی ہوئی تھی،وہ ڈری سی سہمی سی لگ رہی تھی،
یاور حمزہ اسکے حالات بہت دور سے بھی خوب جان سکتا تھا آخر وہ اسکا مزاجی خدا تھا،

حمزہ نے اسکی پشت پر ہاتھ رکھا
وہ گھبرا کر پیچھے موڑی،اور وہ حمزہ کو دیکھ کر دنگ رہ گئی،
ت۔۔ت۔۔م؟

ہاں میں!!! یہ کیا حرکت تھی الفت؟؟کیوں میدان چھوڑ کر یوں منہ چھپائے بیٹھی ہو؟؟
کیوں گئی تم گھر سے؟؟

بہت بہت مزا  آتا ہے تمھیں مجھے تنگ کرنے میں،؟؟؟
اگر آغا صاحب اتنے سخت مزاج نا ہوتے تو یقین کرو اب تک تمھیں میں انکے پاس چھوڑ آتا،

وہ۔گم سم سی کھڑی اسکی ساری باتیں سن رہی تھی،

اچھا اب یہ بتاؤ کہ کیوں چھوڑ آئی ہوٹل؟

شور اتنا تھا اسیشن پر کے ناممکن سا ہورہا تھا وہاں بات کرنا،
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اسٹیشن سے باہر لے آیا وہ اب تک کچھ نا بولی تھی بس آنسوں بہہ رہے تھے اور گردن جھکی ہوئی تھی،

جب وہ اسے ایسی جگہ لے آیا جہاں بات آرام سے ہوسکے تو پھر بولا"دیکھو الفت میں آپکی عزت کرتا ہوں، دل سے، ٹھیک ہے میں آپ کو اچھا نہیں لگتا؟"میں عمر میں بڑا ہوں؟" یہ پھر آپکے نسبت بہت سانولا ہوں؟ آپ کو میرا لائف اسٹائل نہیں پسند؟ آخر کیا کیا وجہ ہے مجھ سے اتنی نفرت کرنے کی،؟؟؟!!!

آپ کو پتا ہے میں نے وہ دو روز کا قدر اذیت میں گزارے ہیں؟؟
دو دن سے نا ٹھیک سے کھایا نا سویا اور صبح ہوتے ہی آپکے پاس چلا آیا اِن دو روز میں میں نے اللہ تعالٰیٰ سے آپکا اور آپنا رشتہ برقرار رکھنے ڈھیروں دعائیں مانگی ہیں "لیکن اب لگتا ہے کے میں نے سب غلط کیا"" میں تھا ہی غلط شروع پہلے دن سے"

الفت جو سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اس نے اب تک نہیں بتایا تھا کے وہ وہاں سے کیوں چلی آئی؟؟؟

حمزہ اسے روتا دیکھ کر خود بھی رونے لگا!!

میں۔۔۔میں حمزہ میں،،
مجھے لگا کے آپ گھر واپس آئیں گے تو پھر غصے ہوجائے گئیں مجھے دیکھ کر،
میں گھبرا گئی تھی کچھ اور سمجھ نہیں آیا تو یہاں آ گئی، میں صبح سے یہاں ایسی ہی بیٹھی ہوں،

یقین کریں میں اپنی ساری۔۔۔آہ۔۔۔
اسکی سانسیں اوپر نیچے ہورہی تھی ویسے ہی جیسے شادی کی پہلی رات کو اسکی ایسی کیفیت تھی،
لیکن۔ آج اسے بولنا تھا آج سچ بتانا تھا،
آج اگر وہ چپ بیٹھی تو اسکے اوپر بدنامی کا بڑا دھبہ بھی لگ سکتا ہے،

وہ میں اپنی ساری غلطیوں کی تلافی چاہتی ہوں دل سے،
آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔اور آپ ایک نیک انسان ہیں،
شکل و صورت میں کچھ نہیں رکھا،،،

آج یہ بد دماغ لڑکی کو ہو کیا گیا تھا؟؟
یہ اتنے اچھے الفاظ کیسے منہ سے نکال رہی ہے،

حمزہ دل ہی دل میں ایک اور جستجو میں لگا رہا،

یہاں وہ سسکیاں لے لے کر اپنی ساری غلطیوں کی معافی مانگ نے لگی،

"اچھا اب بس ایک بات کا جواب دے دو الفت؟"

"تم کس بات پر خفا ہو پہلے دن سے؟"
کیا ماجرا ہے؟کیا آپکا شادی نہیں کرنی تھی؟"

وہ سانس روک کر بولی "نہیں"
یاور حمزہ کو لگا دھجکا یہ کوئی نہیں تھا،(کسی اور سے محبت کا چکر تو نہیں ہے؟)(دل کی سوچوں کے غبار میں یہ سوچ بہت خوفناک تھی)
"مگر کیوں؟؟"

"وہ ناک سکیڑتی ہوئی بولی"

"میں آگے پڑھنا چاہتی تھی، وکیل بننا چاہتی  تھی"
"مگر ابا نے میرے سارے ارمانوں پر شادی کا ڈھول بجا دیا"
"انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کے کس اذیت سے اپنی آگے کی زندگی گزاروں گی"
"شادی تو کرنی تھی لیکن۔۔۔نہیں تو وہ اماں کو طلاق کی دھمکیاں دینا شروع ہوجاتے"
بس!!! پھر ہو۔۔۔۔
"میں نے اپنی خواہشوں کی مہندی کے رنگ میں ایسے رنگا کے اب اسکا رنگ نہیں اتر سکتا"

وہ اب دونوں ہاتھوں کو منہ کے گرد دائرہ بنائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،،،،
وہ آواز نکال کر رو رہی تھی آج اسکا دل پھٹ چکا تھا،
وہ یہ سب کہہ چکی تھی جسکو وہ کبھی نہیں کہنا چاہتی
آج ایک دل برداشتہ لڑکی اپنا صبر کھو چکی تھی،

اور اوپر حمزہ نے جو باتیں کی وہ سب برحق تھیں،
اب اسے اندازہ ہونے لگا تھا، کے الفت ایک معصوم لڑکی ہے اپنے باپ کے فیصلوں سے بندھی وہ لڑکی جو اپنی ماں کو اِس عمر میں طلاق کا دھبہ نہیں دینا چاہتی تھی،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

سنو الفت ابھی فل حال ہم کراچی نہیں جارہے آپ ایک کام کرو میرے ساتھ واپس ہوٹل چلو

اور ابھی بات کا مکمل اختتام نا ہوا،
وہ اُسے سب کے سامنے تماشہ بنتے ہوئے بلکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا بس اسی لیے وہاں سے اسے چپ چاپ ہوٹل لے آیا،

ٹیکسی کی ہوٹل کا پتہ بتایا کرایہ منقعد ہوا،

وہ دونوں اب ہوٹل میں تھے،
وہی کمرہ "115" بک کرایا اور سیدھا کمرے میں،

اسنے جو بیگ ہینڈ کیری کیے ہوئے تھے وہ سب ایک جگہ رکھے اور الفت کو کہا آپ سکون سے بیٹھ جائیں

الفت جو کہ اسکے جواب کی منتظر تھی کیوں کے اب تک حمزہ نے کوئی ایکشن ہی نہیں لیا تھا،

وہ کمرے پر بیڈ پر جا بیٹھی،
کچھی لمحے بعد یاور حمزہ جسکا چہرا کل شب اتنا اترا اترا سا تھا اب وہ کافی حد تک بہتر ہوچکا تھا،

وہ اسکے قدموں تلے آ بیٹھا،اسکے نرم ملائم ہاتھوں کے غوشو کو اپنے ہاتھوں میں لیا،

"الفت میں آپ کو پڑھاؤں گا آگے" "اگر یہ بات آپ مجھے پہلے کہہ چکی ہوتی تو اب تک کسی اچھی یونیورسٹی میں ہوتی!"
الفت جسکی خوشی پھولے نا سمائے تھی وہ آنکھوں کو صاف کرتے ہوے خوشی کے مارے جھوم پڑی ،

"کیا کہا آپ نے؟؟"
"ایک بار پھر بولیے گا؟؟"

"میں آپ کو پڑھاؤں گا"

الفت نے جو اب تک اسکو اپنے ہاتھ تھمائے تھے تھوڑا سا ہچکچائیں حمزہ نے ہاتھ چھوڑ دیا،

وہ خوش تھی لیکن پڑھائی ہی صرف ایک مسلہ نہیں تھا اسکا،اسے یاور حمزہ کی عمر اور خود یاور حمزہ سمجھ ہی نہیں آیا تھا،

اب یہ بات تو وہ نہیں بول سکتی تھی نا؟؟

سو چپ کر گئی،
ابا کے گئے فیصلوں پر وہ اب بھی پر اعتماد نہیں تھی،

وہ سوچوں میں گم تھی کے حمزہ اسکے منہ کے سامنے چوٹکی بجا کر دوبارہ مخاطب کیا،

اوہ۔۔۔۔۔۔۔لگتا ہے ابھی بھی کچھ باقی ہے،؟

نہیں بس کچھ نہیں ،،،

ہم کراچی کب جا رہے ہیں؟؟
الفت نے آنکھے اوپر کرکے کہا، تو حمزہ کو لگا جیسے اسے الفت نے اب قبول کرلیا ہے وہ بھی اس غلط فہمی میں خوش تھا،

ہاں چلیں گے لیکن اس سے پہلے آپ مجھے بتائیں کیا اب بھی آپ کو میرا ساتھ اچھا نہیں لگا؟؟؟

الفت سر جھکائے بیٹھی تھی تاثرات بھی کچھ عجیب ہی تھے،
الفت نے منہ پھٹ جواب دیا،

"مجھے وقت چاہئیے تھوڑا!"
اللہ اللہ
حمزہ اب کی بار زرا سا افسوس کرنے لگا،

اسے کچھ یاد آیا تو آنکھیں بڑی کر کے بولا
"وہ ہم دونوں جب تک دوست بن سکتے ہیں؟"

اور الفت کو لگا اب اتنا بھی ظلم نہیں کرنا چاہئیے،

اور ہونٹوں پر مسکان لیے آنکھیں بیچ کر بولی" جی ضرور"

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

امی یہ جو آپ لوگوں نے میرے پیچھے چٹنی بنائی ہے نا،میں نہیں کروں گا محمل سے شادی،
مجھے صرف الفت پسند تھی،اور اسے آپ لوگوں نے کسی اور کا ہونے دیا،
یہ بات پتا تھی جبکہ کے میں اس سے محبت کرتا ہوں،

علی کمرا بند کر کے خوب چیخ رہا تھا،

سنو لڑکے جیسا کہا جارہا ہے ویسا ہی کرو،
الفت کا خیال بلکل زہن سے نکال دو،وہ اب شادی شدہ ہے نکاح میں ہے کسی کے تمھیں تو شرم آنی چاہئیے اب اسکے بارے میں ایسا سوچنے سے!!!!!!!

وہ اسی دروازے کے پیچھے کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی،
وہ تو کیا خواب سجائے بیٹھی تھی اور یہ کیا ہوگیا،،،،
اس کا ہونے والا منگیتر تو اسکی آپی کے بارے میں خیال سجائے بیٹھا ہے،
وہ وہاں سے بھاگ آئی،
ہاتھ میں پکڑا سوٹ جو وہ تائی حمیدہ کو دیکھانے آئی تھی وہ بھی واپسی ہی لے آئی،

وہ رو رہی تھی!!:
 باغوں  کو پانی دیتے دیتے پروین بیگم نے محمل کو اندر جاتا دیکھا،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

ہم۔کل ہی نکلیں گے کراچی لیکن آج آپ سے تھوڑی سی فرمائش کر رہا ہوں
"کیا آپ آج میرے ساتھ ڈینر پر چلیں گی؟"
وہ اسے بچوں کی طرح سے خواہش کرتے ہوے ہنس پڑی،

"ہاہاہاہا ہاں ہاں کیوں نہیں لیکن زینگر کھاؤں گی!!"

"جو حکم میری۔۔۔۔دوست"
اسے جیسے اپنا معاہدہ یاد آیا اور وہ اپنے بالوں میں ہاتھ مارتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا،

"کیا میں۔ حنین کو بتاؤں؟"
"نہیں ابھی نہیں بعد میں بتادوں گا"

(یہاں الفت بہت خوش تھی،)

"ابھی صرف دوستی ہوئی ہے حمزہ صاحب محبت ہونی باقی ہے"
وہ دل کو تسلی دیتا ہوا دل ہی دل دعا گو تھا،،،،،،،،

آج لگ رہا تھا حمزہ خوشی کے مارے جھوم اٹھے گا،
اسکی چہرے پر شبنمی ہنسی اسکی شخصیت کو اور نکھار رہی تھی،

ابھی تو لنچ پر بھی جانا تھا
دیکھتے ہیں وہاں کہا ہوتا ہے،،،،،،
الفت ساری باتیں بھولا کر جو ہونے والا ہے اس پر زیادہ دیھان دے رہی تھی،

ویسے الفت مڈم یاور حمزہ اتنا بر بھی نہیں،،،،
اور ایک مدھم مسکراہٹ اسکے جذباتوں کا سارا قصہ بیان کر گئی،،،۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

الفت اور حمزہ تیار تھے اپنے پہلے لنچ کے لیے،
الفت نے کالے رنگ کا انتہائی خوبصورت جوڑا پہنا تھا، جس میں جا بجا ستاروں کا کام ہوا تھا،
جبکہ حمزہ نے سفید شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی تھی اور شرٹ پر بلیک ٹائے وہ بالوں کو ہمیشہ سائڈ مانگ پر سجاتا تھا،
الفت نے آج بال کھول رکھے تھے، اور لال رنگ کی سرخی لگا کر وہ خاصی خوبصورت اور دلکش نظر آرہی تھی،
یہی وجہ ہے کے حمزہ اسکی محبت میں مبتلا ہوچکا ہے،

یہ لوگ مری کے سب سے مہنگے پوٹل میں گئے تھے،

یہاں پبلک تھی،اور جو جگہ انہیں ملی تھی وہ تھوڑا اندر جاکر تھی ہوٹل کے،

اب انہیں سیٹ پر بیٹھا کر ایک ویٹر اوڈر لے کر چلا گیا،
الفت یہاں وہاں کا نظارے کر رہی تھی جبکہ حمزہ ہمیشہ کی طرح "صرف اسکا"

آج اس نے محسوس کیا کے حمزہ باغور اً اسے ہی دیکھ رہا ہے تو وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے شرما کر گردن جھکائے بیٹھ گئی،

آج یہ نائٹ ڈنر حمزہ کے بہت اہم تھا، وہ اسے پہلی بار کہیں گھمانے لایا تھا، کیوں کہ پہلی بار ہی الفت دل سے آئی تھی اسکے ساتھ،،،،
وہ واقعی خوش تھا،

"آپکا پتا ہے الفت"
الفت:"جی کیا"
"میں نے آپ کو پہلی بار بارات میں دیکھا تھا ٹھیک سے"

"اور پھر پتا ہے دل کو وہی بول دیا تھا مبارک ہو اے دل چاند مل گیا تمھیں"

الفت نے  نگاھیں اب تک جھکا رکھی تھی،،،،،

میں کیسے بیان کرو کے کیا ہیں آپ میرے لیے؟؟

سر ۔۔۔ یہ لیں
ویٹر انکی باتوں کے دوران آیا سارا سامان رکھا،،

اور چلا گیا،

بہت دیر سے کچھ لڑکے الفت کو دیکھ کر آوازیں اونچی اونچی کررہے تھے،

یاور حمزہ تو بہت دیر تک اگنور کیا لیکن جب ان میں سے ایک لڑکا الفت بلکل پیچھے والی سیٹ پر آکے بیٹھا تو حمزہ پارا ہائے ہوگیا،
اور الفت سے کہا آپ پیچھے موڑ کر نہیں دیکھیں گی ٹھیک ہے

"جی اچھا"

جی اچھا سن کر ہی وہ اٹھا ان میں سے ایک لڑکے کے پاس جاکر بیٹھ گیا
کہنے لگا کیا چاہئیے کیوں اتنی بچکانہ ہرکتیں کر رہے ہو،؟؟؟

الفت پیچھے نہیں موٹی تھی لیکن کان سارے وہیں لگے تھے،

وہ سارے لڑکے اب ان دونوں کے پاس آگئے،

اور حمزہ کو کہنے لگے وہ آئٹم ادھر دو،
ہمیں، اور پھر جاؤ،

اپنی زبان سنبھال کر بات کرو ،،
ورنہ!!!!

ہاہاہاہاہاہاہاہا
ایک خوفناک کہکا،، ایک خوفناک کہکا،
اس میں سے ایک بولا ورنہ کیا؟؟؟

یہ پودے چھ سات لڑکے تھے اور یاور حمزہ ان میں۔ بس ایک،


ورنہ کیا بے؟؟
یہ آئٹم تو ہماری ہوگئی اب نکل شاباش یہاں سے..!
الفت کو دھیرے دھیرے ڈر لگنے لگا تھا، یاور حمزہ سختی سے منا کر کے گیا تھا کے پیچھے موڑ کر بلکل بھی مت دیکھنا،
وہ مجبور ہوگئی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابے ماروں سالے کو۔۔۔
یہ چھ سات لڑکے اور وہ اکیلا حمزہ؟
یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے،؟!.
حمزہ کی پشت پر کھڑا لڑکا اچھا خاصا ہٹا کٹا انسان دیکھائی دے رہا تھا،
اس نے حمزہ کی گودی پر رکھ کر چماٹ لگایا،
حمزہ کی تو دنیا ہی گھوم گئی،وہ اتنا ہتھوڑے جیسا ہاتھ اسکی گردن پر جا لگا تھا،

حمزہ کو اب اتنا شدید غصہ آیا تھا،حالانکہ یہ اسکا پیچہ نہیں تھا وہ عزت دار گھر سے تعلق رکھتا تھا لیکن!!!
محبت کے آگے تو کچھ بھی نہیں پھر وہ بھی اسکی عزت پر کوئی انگلیا اٹھائے وہ کیسے برداشت کر سکتا ہے؟؟

وہ اٹھا اور کرسی کو اسکے جسم پر دے مارا،
یہ سب لڑکے جو کوئی بیس انیس سال کے لگ رہے تھے سب اس پر حاوی ہوگئے،
ایک نے اسکے دونوں ہاتھ پیچھے سے پکڑے ایک نے اسکے پیٹ پر دھڑا دھڑ موکوں کی برسات کردی

آہ۔۔۔آہ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔
الفت کو حمزہ کی ایک ایک درد کی آواز بہت تکلیف دے رہی تھی،

وہ حمزہ کی بات کی بات کا بھرم رکھ رہی تھی کبھی اب تک پیچھے موڑ کر نہیں دیکھ رہی تھی،

چیزوں کی توڑ پھوٹ،آہ او کی آوازیں کافی حد تک معاملہ ایسے ہی چلتا رہا،

جب آوازیں تھوڑی کم ہونے لگی تو الفت کو ڈر لگنے لگا کہیں حمزہ کو کچھ کر تو نہیں دیا ان لوگوں نے،

لیکن پیچھے کیسے موڑوں؟؟؟؟

تھوڑی دیر بعد ہی آواز آئی،
الفت پیچھے دیکھو،

اور یہ آواز یاور حمزہ کی تھی جو سارے گنڈوں پر بھاری پڑ چکا تھا،
اس نے اپنی ہیروئن کو ایک ہیرو کی طرح بچا لیا تھا،

اسکے سر پر اور آنکھ کے قریب بہت گھری چوٹیں لگی تھیں
لیکن وہ پھر جیت گیا تھا،

الفت تو صدمے میں تھی یہ سب ہوا کیا ہے؟؟؟!!!
ایسے کیسے سارے گنڈے ایک ہی لڑکے سے پیٹ گئے؟؟

حیرت ہے،

وہ منہ میں انگلیا دبائے اب حمزہ کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی،

پتا ہے الفت یہ کچھ بھی نہیں اگر کوئی میری عزت اور میرے گھر والوں کے سامنے انگلی اٹھائے تو میں اسکی انگلی ہی توڑ دوں،

ہاہاہاہاہا

وہ جیسے فتح کر کے کسی جنگ کو ایک غازی کی طرح ہنس رہا تھا،

الفت یہ حمزہ تو بہت سینسیٹو بھی ہے،
وہ اب تک نہیں سمجھ پائی تھی یہ ہوا کیا؟؟؟
جبکہ یاور حمزہ نے دشمنوں کو ہار کی خاک چٹا دی تھی،وہ بھی صرف اپنی شریکِ حیات کے لیے،،،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

گھر پہنچ کر وہ بیڈ پر جا بیٹھا جبکہ الفت نے اپنے سارے بال سیمٹ کر ان پر جوڑا باندھا اور واشروم سے فرسٹ سٹریٹ لائی اور ساتھ ہی برف کے کچھ کیوبز ،

یہ سب سامان اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا اور ہلکی آواز میں بولی
آپ لیٹیں میں زرا مرہم پٹی کرلوں،

حمزہ کو وہ بات یاد آئی جب وہ اسکی مرہم پٹی کرنے بیٹھا تھا تو کیسے اس نے ہاتھ سے لے لیا تھا،
لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ وہ ایسا نہیں کرسکتا ،،،

الفت نے اپنے نرم ملائم ہاتھوں سے پہلے تو دوا لگائی اور پھر برف سے سکائی کرنے لگی،
آہ۔۔۔

لگی نا مزا آیا!
کیا ضرورت تھی اتنے سارے بندوں میں یوں اکیلے جانے کی؟؟
بن گئے حیرو آگیا مزا؟؟

(وہ غصہ کر رہی تھی،اور اس طرح کے غصہ میں وہ تو یاور حمزہ کا دل سینے سے ہی نکال رہی تھی)
ہائے اگر تم ایسی ہی میری خدمت کرتی رہو تو روز پیٹ کر آو،،
(وہ آنکھے بیچ کر دل میں بولا تھا)

ہاں ۔۔ الفت اگر کوئی آ پ کو ایسا کچھ بولے گا تو اسکا یہی حال ہوگا بس!!!!

تو ٹھیک ہے اب ساری دنیا سے لڑجانا،،،،
اجازت دو بس؟!(وہ ڈھٹائی سے بولا)

الفت سنسی کہاتے ہوئے وہاں سے کھڑی ہوئی،اسکے لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی،
(یاور حمزہ الفت کے دل میں جگہ بنا چکا تھا)
اس نے یہ بات ثابت کردی تھی کے نکاح کے دوبول میں اثر ہوتا ہے،
ایک بدتمیز لڑکی کو اس نے اپنی محبت کی پہلی منزل پر دیکھ لیا تھا،
اسے تھوڑی اور محنت کرنی تھی،اور پھر یہ زبردستی کا نکاح ایک محبت میں بدل جائے گا،

الفت اسکی مرہم پٹی کر چکی تو صوفے پر آکر بیٹھ گئی،

ویسے الفت آپنے بتایا نہیں مجھے؟؟؟
ک۔۔ک۔۔یا؟

آپ کونسی یونیورسٹی میں لیں گی ایڈ میشن؟

الفت بنا پلک جھپاکئے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی،بڑی بڑی پھٹی آنکھوں سے،

(کوئی بھی) "اور یہ کہہ کر وہ دل ہی دل میں  خوشیاں منا رہی تھی،اسکی سب سے بڑی خواہش ،،،سب سے بڑا سپنا،"

"اچھا ہم کراچی کب جائیں گے"؟

"کل صبح!"

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

ٹرین کا سفر کر کے کراچی پہنچ گئے تھے یہ دونوں گھر آ کے تھے،

الفت اپنے کپڑے سمیٹتی جا رہی تھی اور الماری میں سب لگا رہا تھی،
حمزہ ابھی ابھی فریش ہوکر بیڈ روم میں آیا تھا ،

حمزہ نے الفت سے کہا وہ الفت میرے پاس محمل کی ایک ہفتہ پہلے کال آئی تھی،وہ کہہ رہی تھی کے آپکی یاد آرہی ہے تو میں آپ کو انکے پاس ملانے لے چلوں؟"

الفت تھوڑی دیر سوچتی رہی اور پھر بولی جی اچھا،،

الفت کا راضی ہوجانا اپنے ماں باپ کے گھر جانے کے لیے یہ حمزہ کے لیے بہت حیران کن بات تھی،

جو لڑکی کل تک انہیں بس نفرت میں یاد کرتی تھی آج انہی لوگوں کے یاد کرنے پر جانے کے لیے مان گئی،

وہ خوش تھا اتنا خوش تھا کے آج اسے تہجد تویل پڑھنی تھی،وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا،
اسے ہمت طاقت اس ہی رب نے تو دی تھی ایک بدگمان لڑکی کو راہِ راست پر لے آنا آسان کام تھوڑی تھا،
خیر آج وہ نوافل ادا کرنے کے لیے اٹھا،
حالانکہ ان میں دوری برقرار تھی اِس دوری میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا لیکن دل۔۔۔!
دل تو اب مان گیا تھا، یہ اسے منا لیا گیا تھا،
وہ اٹھا اور اب اپنی مکمل زندگی کو تریقے سے گزارنے کے لیے اپنے رب سے مانگ نے لگا،
وہ جانتا تھا کے تہجد لاڈلہ نماز ہے ،
اور جس نے اتنا کرم کیا ہے وہ اور بھی کرے گا،

"اور پھر جسکا یقین جسکا بھروسہ خدا سے منسوخ ہو جائے تو پھر اسکے ارادے کمزور نہیں پڑتے، تو پھر اسکے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا"

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

ایوب ہاؤس میں آج چہل پھل تھی بہت مختصر لاؤنچ میں جگمگاتی روشنیاں اور سجاوٹ یہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہیں تھی،
وہ غور سے دیکھتی ہوئی حمزہ کے ساتھ گاڑی سے اتری،

حمزہ نے الفت کو دیکھتے ہوے کہا!

"واہ الفت اپنے کیا بتا دیا تھا کے آپ آج آئینگی ؟"
"نہیں۔۔۔نہیں تو"
یہ میرے لیے تو نہیں ہے یہ سب کیا ہورہا ہے گھر میں؟؟؟

آؤ پھر اندر چلتے ہیں دیکھتے ہیں کیا ہورہا ہے،،،،،،

الفت نے سر کو جنبش دی اور تیزی سے قدم بڑھا کر اپنے گھر کے دروازے تک جا پہنچی،
بیل دی دستک دی، وہ پریشان ہوچکی تھی کے اسکے پیچھے یہ گھر میں کیا ہورہا تھا؟؟؟

ٹھک۔۔۔ٹھک۔۔۔۔ٹھک۔۔۔۔

ہاں ہاں آرہی ہوں،

اندر سے پروین صاحبہ بولیں تھیں،
امی کی آواز اتنے دنوں بعد سن کر اسکا دل بھر آیا تھا لیکن۔۔۔۔اپنی ضد کے ہاتھوں مجبور لڑکی اپنے جذباتوں پر پتھر رکھ چکی تھی،
آخر اسکی ناراضگی بھی بجا تھی،

ارے میرا پیارا بیٹا"جگ جگ جیو"پروین صاحبہ اپنی بیٹی کو اتنے دنوں بعد دیکھ کر اسکی دعاہئی لینے لگی،

پیچھے لمبے قد کا سادھا لڑکا حمزہ بھی کھڑا تھا، آج وہ شلور قمیض ہرے رنگ کا پہن کر اور آستینوں کو موڑے وہ ابھی بھی بہت اچھا لگ رہا تھا،
جبکہ الفت سفید رنگ کی چوڑی دار شلوار اور لال رنگ کی آیت لاین قمیض پہنی تھی،
وہ دونوں آج بھی ساتھ اچھے لگ رہے تھے،

آغا صاحب گھر میں۔ نہیں تھے لیکن جلدی آنے کا کہہ کر گئے تھے،

الفت نے انکو دیکھا اور ایک نظر اُن سجاوٹ کو دیکھا جو آج سے ایک ماہ پہلے اپنی شادی پر دیکھا تھا،تو سوال گو ہوئی؟!

امی۔۔۔۔!
یہ کیا ہورہا ہے؟؟

ہاں تم اندر آؤ بتاتی ہوں،
اس مے پھر اپنی ماں کو ایک نظر دیکھا اور اندر آگئ،
محمل بھی دروازے کی دستک سن کر باہر نہیں آئی تھی،

آؤ بیٹھو بیٹا،،
حمزہ بیٹا آپ یہاں آئیں،
اور دونوں کو صوفے پر بیٹھا کر وہ خود بھی بیٹھ کر پروین صاحبہ بھی بیٹھ  گئیں وہی،،،،

امی کچھ پوچھا ہے کیا ہورہا ہے گھر میں؟؟

پروین صاحبہ بولنے لگی ہی تھیں کے اچانک سامنے سے لائبہ تایا ارفان کی بیٹی چلتی ہوئی انکے پاس آئی،

اوہ دیکھو تو کون آیا ہے،
الفت مڈم اور حمزہ بھائی،
وہ جیسے حمزہ کو چھڑنے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی،

الفت نے اسے مکمل آگنور کرت ہوئے پھر سے اپنی امی کو دیکھا ،

ہاں بیٹا ہم محمل اور علی کی آج منگنی کر رہیں ہیں،

بس یہ اسی کی سجاوٹ وغیرہ ہیں،
الفت کی تو آنکھیں جیسے پھٹی کی پھٹی رہ گئی،
وہ حیرت زدہ سی پروین صاحبہ کو دیکھ رہی تھی،

~~~~~~~~~~~~~~~~~|

وہ اٹھ کر سیدھا محمل کے کمرے میں گئی،
محمل پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی،
اور الفت کو دیکھتے ہی بنا کچھ بولے اسکی باہوں میں جا گرہ،
وہ بہن کو دیکھ کر رو رہی تھی خوب رو رہی تھی،

الفت نے اسے چپ کروایا اور کہنے لگی،

"کیا ہوا ہے محمل امی نے جو بولا۔۔۔۔!!
جی آپی میں اس علی سے شادی نہیں کروں گی وہ۔۔۔ وہ

وہ کیا محمل اچھا تو ہے اتنا،اور ایک وہ ہی ہے جو تایا کی فیملی میں اچھا لگتا ہے وہ تو تمھیں پسند بھی تھا پھر!!!

"جی آپی وہ ۔۔۔۔ بس؛
محمل نے علی کی چپکے سے سنی ہوئی بات الفت کو نہیں بتائی تجی،
کیونکہ وہ جانتی تھی اس وقت گھر میں ایک قیامت پیدا ہوجائے گی،
اس لیئے بس چپ کر گئی اور کہنے لگی،
آپی اما ابا ہماری کوئی بات سنتے کیوں نہیں ہیں؟؟؟؟

الفت نے اسکے آنسوں صاف کیے اور بولی،

میری جان لیکن اب ایسا نہیں ہوگا میں ہونا میں سب ٹھیک کردوں گی،،،


پروین بیگم ہم چاہتے ہیں کے اگلے جمعہ ہی ہم اِن دونوں بچوں کا نکاح پڑھوا دیں،(آغا ایوب اپنی وہی بھاری آواز میں کہنے لگے)
تایا کی فیملی اور دیگر مہمان سب یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے،
جشن تو پہلے بھی منایا جا رہا تھا لیکن یہ بات سن کر سب نے اپنی خوشی کا اظہار بہت اچھے سے کیا،
محمل اور الفت بلکل بھی اِس فیصلے سے خوش نہیں تھے،

اور حمزہ باغور اً الفت کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہا تھا،
محفل ختم ہوچکی تھی، سب اپنے اپنے گھر جا چکے تھے،
گھر والوں نے اب تک کھانا نہیں کھایا تھا تو اب اِن لوگوں کے لیے اندر والے حال میں کھانا پیش ہورہا تھا ساری عورتیں ایک کمرے میں تھیں جبکہ سارے مرد ایک۔کمرے میں،

الفت اور محمل ہی کام میں لگے تھے، لائبہ تو نہایت ہی کامچور لڑکی تھی بس کھانے کے لیے ادھر اُدھر دیکھ جاتی تھی اور کام کے لیے بولو تو سارے مسلے میں اسی پر آن پڑتے تھے،

علی محمل کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن تایا ارفان نے تو جیسے ان دونوں کا رشتہ نہیں  ان دونوں کو میاں بیوی بنا دیا تھا،

محمل علی کو دونا، محمل بیٹا اسکے پاس آکر بیٹھ جاؤ کچھ نہیں ہوتا
محمل علی کو یہ پسند،محمل اور علی تم دونوں باہر بیٹھ کر آرام سے اکیلے کھانا کھالو،

الفت کو انکی باتوں پر غصہ آیا تو ، پیر پٹختی ہوئی کمرے میں آئی،

"محمل سیدھا میرے ساتھ چلو،"
وہ تایا کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ہاں لیکن سنا انہی کو رہی تھی،
پتا نہیں کیا سمجھ لیتے ہیں لوگ خود کو زرا سا فیصلہ کیا کرلیں ،ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے اپنے ساتھ کچن میں لے گئی،

محمل:آپی اچھا کیا آپنے یار میں تو انکی باتیں سن کر ہی چکرانے لگی تھی،،،،

ہاہاہا،،
وہ دونوں ایسے ہی ہنستی تھیں جب بھی تایا یا تائی کو کچھ اسطرح کہہ کر آتی تھیں تو،۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

اب سب کھانا کھا چکے تھے، برتن تائی حمیدہ اور پروین صاحبہ دھو رہی تھیں لائبہ تو اپنے موبائل میں مست ایک کمرے میں پڑھ گئی تھی جبکہ محمل نے پیٹ کا بجانا بنا کر سبکو اپنے کمرے میں آنے سے منا کردیا تھا، کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب کوئی بھی اسے ڈسٹرب کرے،الفت سمجھ چکی تھی اسے تنہائی کیوں چاہئیے،

مرد حضرات اپنی سیاسی گفتگو میں مشغول تھے، کے اسی دوران علی وہاں سے اٹھا اور الفت کے پاس جا کھڑا ہوا
الفت جو ان سب سے بچ کر لاؤنچ میں تنہا کھڑی دیوار سے ٹیک لگائے ہوے تھی،پورے لاؤنچ میں جگمگاتی لائٹس لگی تھی جن میں اِس تاریکی پہر میں بھی خوب ٹمٹماتی روشنیاں اجاگر تھیں،

علی اسکے عقب میں آکھڑا ہوا اور دھیمی آواز میں بولا
"کیسی ہو"
الفت نے فوراً ہی منہ پھیرا،
اوہ تم۔۔۔؟ "ٹھیک ہوں میں تو ،تم بتاؤ"؟
ہمیشہ سے پرفیکٹ اور ایک کھل کھلاتی مسکراہٹ ۔۔
(علی الفت سے بس پانچ سال بڑا تھا، چھوٹی عمر میں پڑھائی مکمل کرچکا تھا،ایک اچھے آفس میں مینجر بھی تھا جبکہ آغا صاحب کا ہوٹل بھی اکثر اسی کی نگرانی میں چلتا تھا،)

تایا ارفان تین سال قبل ریٹائر ہوچکے تھے،
کبھی پورے گھر خرچہ علی دیکھتا تھا......!

علی دیکھنے میں انتہائی مقبول اور ہینڈسم لڑکا تھا داڑھی فرینچ تھی جبکہ بال کافی حد سٹائل میں کٹے رہتے تھے،

الفت نے علی کو دیکھتے ہوئے بولا،
علی اُس دن کال کی تھی کیا گڈ نیوز تھی؟؟

ارے ہاں ۔۔۔یاد آیا اچھا ہوا الفت تم نے یاد دلا دیا،
لیکن ابھی نہیں بتاؤ،،علی سر کو نفی میں ہلاتا ہوا کھنے لگا ،

انکی عین پیچھے یاور حمزہ ان دونوں کو اتنا ہنستے مسکراتے بات کرتا دیکھ رہا تھا،

اسکا ایک رنگ آرہا تھا اور ایک رنگ جا رہا تھا،
لیکن پھر وہ دل ہی دل میں مشورہ کرتے ہوئے کہنے لگا،"ارے بھائی حمزہ کزن ہے اسکا کوئی بات نہیں کرنے دو بات"

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

محمل اپنے پورے کمرے میں تاریکی کر کے کونے میں بیٹھی تھی بلکل گمنام سی،،
وہ الفت کی طرح ضدی تو نہیں تھی ہاں لیکن ہر بات دل میں لے لیتی تھی،
وہ الفت کی طرح زبان بھی نہیں چلاتی تھی اسی لیے اس نے اپنے ماں باپ سے اب تک کسی بھی قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی،

وہ جانتی ابا اماں وہی کریں جو انہیں کرنا ہے،

وہ دونوں ہاتھوں کے گرد دائرہ بنائے منہ چھپائے رو رہی تھی،

اچھا تو پھر کب بتاؤ گے،
الفت اپنی چنچل مسکراہٹوں سے علی سے باتیں کر رہی تھی،

حمزہ سے یہ سب برداشت نا ہوا وہ مردوں کی لگی محفل سے اٹھا اور ان دونوں کے پاس آکھڑا ہوا

اور بھئی کیا باتیں ہو رہی ہیں علی نے اسے ایک نظر دیکھا اور منہ بسورے  کہنے لگا "کچھ نہیں"
اچھا الفت میں گھر جا رہا ہوں کل آؤ گا امی کو بتا دینا،

الفت نے سر کو جنبش دی اور آنکھوں سے ہاں کا اشارہ کیا،

حمزہ کافی حیران ہوا اور الفت کو دیکھ کر کہنے لگا
"لگتا ہے انہیں میرا آنا اچھا نہیں لگا"

الفت جو حمزہ سے اتنی بات کرنے کی عادی نہ تھی کہنے لگی"ہمم مجھے نہیں معلوم۔۔۔آئیں اندر چلیں"

وہ یہ کہہ کر پیچھے موڑی حمزہ نے اسکا ہاتھ وہی تھام لیا،
الفت کے جسم کے ایک سنسناہٹ ہوئی،اسکا جیسے ایک لمحے میں دم نکل گیا ہو،

"ارے کیا کر رہیں چھوڑیں میرا ہاتھ"
(اسے شرم سی آنے لگی تھی)

حمزہ نے بھی اُس لمحے بلکل سستی فلم کا ڈائلاگ بولا تھا،

"یہ ہاتھ پکڑنے کے لیے تھوڑی چھوڑا ہے"

اور الفت نے پیچھے موڑ کر اسے دیکھا
افف پھر ڈائلاگ بازی، ویسے یاور حمزہ تم مجھے کوئی پورانے زمانے کے ہیرو نظر آتے ہو،

ہاہاہاہا اور وہ دونوں ہی اپنی گفتگو کے دوران ہنسے تھے،
یاور حمزہ کے دل میں تو لڈو پھوٹ پڑے تھے،

الفت ایک ضدی لڑکی،ایک نکچڑی لڑکی اب اس سے بات کرنے پر ہنس بھی رہی ہے،

""الفت الفت بیٹے"
پروین صاحبہ اندر سے خوب آوازیں دینے لگی،

الفت نے حمزہ سے اپنا ہاتھ چھوڑوایا اور امی کی آواز سن کر انکے پاس گئی،

وہ ابھی بھی اپنے ماں باپ سے ناراض تھی لیکن وہ نافرمان نہیں تھی،انکے حکم انکی باتیں آج بھی اسکے سر آنکھوں تھی
بس دل میں خلیل جو پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہو جائے تو الفت واپس سے اپنے والدین کو اچھا سمجھنے لگے،

الفت اس کمرے میں گئی جس میں سب ہی عورتیں بیٹھی تھیں تائی حمیدہ خالہ زاد بہن خالہ اور بھی بہت سی مہمان عورتیں ایک خاندان تھا الفت کا یعنی یہ ایک وجہ اور بھی تھی جو الفت اب  تک حمزہ کے ساتھ جوہری ہوئی تھی وہ تھا اسکا خاندان
اور ایک خاندانی لڑکی اپنی عزت پر اٹھنے والی انگلیوں کا دفع اپنی قربانیوں سے کیا کرتی ہیں،

حمزہ بھی خاندانی تھا جو اسکی حرکتوں کو اب تک برداشت کر رہا تھا،

آؤ بیٹا یہاں آؤ
پروین صاحبہ نے اسے بیڈ پر بلایا وہا بہت سے نئے کپڑے بکھرے ہوئے تھے

پروین صاحبہ نے الفت کو مخاطب کر کے بولا بتاؤ کونسا سوٹ تمھیں اچھا لگ رہا ہے،

الفت جو اِن سب کو دیکھ کر پہلے ہی بہت تنگ تھی اب ایک کمرے سبکو دیکھ کر اسے اور گھبراہٹ ہوئی،

امی میں بعد میں دیکھ لوں گئی،

وہاں سے نصرین خالہ بولیں،

ارے پروین باجی اسکا کیا ہوا پھر حمزہ کے ساتھ خوش تو ہے نا،
وہ آغا بھائی کی مرضی تھی نہیں تو میں نے اپنے دیور کے لیے آپ سے بولا تھا،

تائی حمیدہ نے بھی دو چار مثالے لگانا چاہے
ہاں بھئی اب بیٹی زاد ہے آغا پریشان نا ہوتا تو کیا ہوتا؟
اور ویسے بھی اتنی عمر میں لڑکیوں کی شادی ہوجائے تو ماں باپ کے کندھے زرا ہلکے ہوجاتے ہیں،

الفت انکی باتیں سن رہی تھی اور غصے میں آگ بگولا ہورہی تھی،

کیوں تائی لائبہ کو پھر کیوں آپ نے اب تک گھر بیٹھا رکھا ہے،
اور خالہ آپ کو بتا دوں مجھے حمزہ سے کوئی شکایت نہیں ہے اللہ کا شکر ہے ہم دونوں بہت خوش ہیں ساتھ،
وہ دل پر اتنا بڑا پتھر رکھ کر بولی تھی،
آج اس نے الفت ایوب ہونے کا ثبوت دے دیا تھا،
لوگوں کی زبان روکنا وہ ہمیشہ سے بہت طریقے سے کرتی تھی،

اب وہ اپنا دوبٹا سیٹ کرتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی تھی،

موبائل کی سکرین جگمگ ہورہی تھی اور وہ غصہ میں آگ بگولا،،،
سکرین پر نام آج پہلی بار دیکھا تھا،
یاور حمزہ!!!
یہ مجھے کیوں کال کر رہیں ہیں؟؟
اس نے ادھر ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں اور وہ نہیں دیکھا تھا،

اس نے کال پک کرلی
ہاں جی بولیں،،باریک آواز میں بولی،
الفت آپ گھر چلیں گی میں گھر کے باہر کھڑا ہوں گاڑی لیکر،

الفت ابھی ویسے ہی غصے میں آئی تھی کمرے سے اور اب وہ غصہ یاور حمزہ پر اتر گیا
"کیا مثیبت ہے،؟؟میں نہیں جارہی آپکا جانا ہے تو جاؤ"

اور پٹخ کر فون رکھ دیا،

یاور حمزہ سر کو نفی میں ہلاتا رہ گیا،
اسکی بدتمیزی کی وجہ وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پایا تھا،

اسے افسوس ہوا تھوڑا ،،،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

حنین اسکے آتے ہی گھر میں آگیا تھا،
اور بھائی، حنین اسکی پشت پر ہاتھ پھیرا،

کافی پیو گے،؟
حمزہ نے پوچھا

ہاں کیوں نہیں،،،

یہ دونوں  اب ٹی وی لاؤنچ پر بیٹھے تھے،
اور بھائی کیسا رہا پھر مری کا ٹرپ؟؟

حمزہ پہلے تو ہنسا اور پھر کہنے لگا،
حنین زندگی میں میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا جو اس لڑکی کے ساتھ گھومنے میں ہوا
،یار لیکن وہ پڑھنا چاہتی ہے

اچھا!!
حنین اسکی باتوں میں دلچسپی رکھ رہا تھا،

"ہاں یار پھر پتا ہے کیا ہوا؟"
ہاں کیا ہوا؟"(حنین بولا)

وہ وہاں پر میری لڑکوں کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی،

کافی ساری باتیں تھیں جو حمزہ اسے ڈیٹیل میں بتا رہا تھا،

سٹوری کے لاسٹ میں پیج کا لنک دیا گیا تو پلیز سٹوری کےلنک کو ضرور شیئر کریں پیج کے لنک کو بھی ضرور شیئر کریں آپ جیسے شیر کا بٹن دبائیں گے تو یہ لنک سب تک پہنچ جائے گا اپ نے کرنا  شیئر کے بٹن کو دبا نہ اور یہ لنک آٹومیٹک آپ کی پروفائل پہ چلا جائے گا

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

یہاں الفت محمل کو سمجھانے میں لگی تھی،
کے "یار محمل اب کچھ نہیں ہوسکتا اب بہت دیر ہوچکی ہے،"

وہ آپی آپی کر تے ہوے رو رہی تھی،

آپی ابا ظالم ہیں کیا؟؟
ارے نہیں میری جان،(اس نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا)
اور پوری قوت سے اسے روکنا چاہا،،،،،،،،،،

محمل اپنے ماں باپ کے بارے میں ناجانے کیا کیا بول رہی تھی
اسکی بدقسمتی یہ تھی کے دروازے پر کان لگے تھے ،کسی کے جو انکی یہ دل شکستہ گفتگو سن رہا تھا،

اور یہ اسکے لیے قیامت کی ایک چنگاری کے مانند تھاکیا


آپی میں بس اُس انسان سے شادی نہیں کروں گی،اور اماں ابا کو آپ بتا دیں جاکر،
جو شخص میرا دل توڑ سکتا ہے وہ رشتے بھی آسانی سے توڑدے گا،اور میں ہی کیوں قربانی دوں ایسے شخص کے لیے جو۔۔۔!
کیا جو۔۔۔!
مجھے بتاؤ تو سہی محمل میری جان ہوا کیا ہے؟؟

(نہیں میں نہیں بتاؤ گی)

ابا نے آپکے ساتھ بھی ظلم کیا اب میری باری ہے، کیا ابا نے ہمیں اس لئیے پیدا کیا اور اتنا بڑا کیا کے ہماری خواہشوں کو اپنی آنا میں روند دیں،؟اور آپی مجھے بتائیں کیا ہم دونوں ابا کی بیٹیاں نہیں۔۔
اسکی آنکھوں کے گوشے آنسوں سے بھر چکے تھے وہ بوری طرح رو رہی تھی،
اور آپی آپ کو پتا ہے میری دوست "یسرا" اسکی پوری تین بہنیں اور دو بھائی ہیں لیکن انکے ابا  بیٹیوں کو اتنی اہمیت دیتے ہیں جتنی وہ اپنے بیٹوں کو نہیں دیتے،

آپی یہ ظلم یہ رسوائی ہمارے ساتھ کیوں،،،آخر کیوں آپی کیا ہم بہت بد لحاظ لڑکیاں ہیں،

اور دھڑام سے دروازہ پٹختے ہوئے آغا ایوب چٹان کی طرح آکھڑے ہوئے،

ان دونوں کے جسم میں ایک خوف کی لہر دوڑی انکی سانسیں اوپر نیچے ہونے لگیں، وہ ایک دوسرے کو اسطرح دیکھ رہیں تھیں جیسے آخری بار دیکھ رہی ہوں
پروین بیگم
پروین بیگم (ایک روپ دار آواز)
پروین بیگم کی سانس پھول رہی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئی آغا صاحب کی آواز سن کر آئیں تھیں
جی۔۔جی آغا صاحب بولئے؟

ہم یہ بتاؤ کے اب اِس گھر میں ہماری کوئی حثیت باقی ہے یا نہیں؟؟؟

میں پوچھتا ہوں کیا ہم نے کوئی جرم کیا ہے اپنی اولاد کا فیصلہ خود کر کے،؟؟؟؟؟

وہ اتنا غصے میں تھے کے شاید انکی زبان بھی انکا ساتھ دینا مناسب نہیں سمجھ رہی تھی،

آغا صاحب ہوا کیا ہے؟؟کچھ تو بولیں (پروین صاحبہ بہت گھبرا رہیں تھیں)

"پو چھو اپنی چھیتیوں سے کیا سمجھتی ہیں یہ اپنے باپ کو،"

اچھا میں پوچھتی ہوں آپ اپنا غصہ تو ٹھنڈا کریں،،،

الفت اور محمل یوں ہی ساکن کھڑے تھے،

کے محمل نے جھلا کر جواب دیا،
ابا میں بتا رہی ہوں میں علی سے شادی ہرگز نہیں کروں گی،
پھر دھیما لہجہ کر کے بولی، ابا!! میں آپکی عزت کرتی ہوں اور پھر اسلام نے بھی تو اجازت دی ہے نا ہمیں اپنی پسند اور نا پسند بتانے کی؟؟؟

محمل سسک سسک کے رو رہی تھی جبکہ الفت اب تک ساکن الف کھڑی تھی،

پہلے تو آغا ایوب اسکی باتوں پر آگ بگولا ہورہے تھے لیکن جہاں بات آئی اسلام کی تو انہیں لگا اب بیٹی اتنی بڑی بات بول رہی ضرور کوئی نا کوئی بات ہوگی،
محمل منہ کھول کر آگر بتا دے کے کیوں وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تو بات ہی ختم ہو جائے لیکن وہ جتنا چاہے تایا اور تائی کا مزاک بنا لے مگر عزت وہ اپنے ماں باپ کے جتنی ہی کرتی تھی بس پھر آغا صاحب خاموش کر گئے اور بنا کچھ کہے کمرے سے چلے گئے،

پروین صاحبہ محمل کے پاس آئیں کیا ہوا بیٹا کیوں نہیں کرو گی علی سے شادی؟

بس امی میں کچھ نہیں بتاؤں گی،،،

لیکن کوئی وجہ تو بتاؤ گی تو رشتہ اُس بنا پر ختم کریں گے نا ہم؟"

بس مجھے نہیں معلوم اتنا سمجھ لیں میں ایک ایسے شخص سے شادی کبھی نہیں کروں گی جو کسی اور کی محبت کو اپنے دل میں سجا کر رکھتا ہے"

پروین صاحبہ کمرے سے چلی گئیں جبکہ الفت اور محمل وہیں تھیں،
الفت محمل کے قریب آئی اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے لگی

~jisa new part chia isa shir kra

اگلی روز ہی الفت ایوب ہاؤس سے جانے کے لیے تیار ہوگئی تھی، وہ واپس آئے گی شام تک جس وقت  تایا اور تائی کو آغا صاحب نے بات کرنے کے لیے بولایا تھا،

اُس نے یاور حمزہ کو نہیں بولایا تھا خود ہی ٹیکسی کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی،

گاڑی میں دھیمی آواز میں گانا چل رہا تھا،

"میں تو اس واستہ چپ ہوں کے تماشہ نا بنیں"

مطمئن ایسا ہے جیسے ہوا کچھ بھی نہیں"

تو سمجھتا ہے کے میں سمجھتا کچھ بھی نہیں"

اسکے نزدیک غمِ ترقے سوا کچھ بھی نہیں'''''''''''''''''

وہ دھیرے دھیرے اپنی ماضی کی کچھ یادوں کے گلدستے کو اپنے سوچوں کے باغات میں پھیلانے لگی،

وہ حمزہ کو پہلی رات ہی کس طرح دھتکار دیا تھا،
وہ اسکا رات کے اندھیرے میں خواب سے اٹھ جانا اور اسکا پانی پیلانا،
وہ چوٹ لگتے ہی اسکا گھبرا جانا،
اور کل جو اس نے کلائی کو اتنے پیارے انداز سے پکڑنا،
اور اسکی کسی بھی بات کا برا نا ماننا،

ایک دل برداشتہ لڑکی دھیرے دھیرے اسکی محبت کی گرفت میں آرہی تھی،

اور لمحے بھر میں ہی اسکا سسرال آچکا تھا،

دروزے پر دستک دی،

تو فوراً ہی حنین نے کھٹ کر کے دروازہ کھولا تھا،

اسلام وعلیکم بھابھی،
اور ایک پر خلوص لہجہ بلکل یاور حمزہ کی طرح،

وعلیکم السلام،
کیسے ہیں حنین بھائی آپ؟
الفت بھی اچھے مزاج میں بات کر رہی تھی،

جی بھابھی بس آپنے دوست سے باتیں کر کے میں تو ٹھیک ہوجاتا ہوں،
لیکن آپ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہیں،

نیند پوری نہیں ہوئی لگتا ہے،
اور انگلیوں سے نشاندھی کرنے لگا،

ہاں سو تو ہے...!
لیکن پہلے گھر کے کام دیکھ لوں اسکے بات ہی سونگی،

ارے بھابھی دروازہ بند کرتا ہوا حنین بولا
بھابھی آپ جائیں آرام کریں میں دیکھ لوں گا،میں ہوں نا،

آپ جائیں،

نہیں حنین بھائی میں کرلوں گی،

اور ان دونوں کی یہ تھوڑی میٹھی نوک جھوک سے یاور حمزہ کمرے سے نکل کر آنگنائی میں آگیا تھا،

ارے الفت آپ....!؟
وہ دیکھ زرا چونکہ،

یار مجھے بولا لیا ہوتا،!!؟

الفت نے اسے اور حنین کو دیکھا اور بہت ہی پیارے انداز میں بولی
"کیوں میں اکیلے آپکے پاس نہیں آسکتی، اور ویسے بھی میں الفت ہوں سب کام خود ہی کر لیتی ہوں، اور اتنے سے کاموں کے لیے میں آپکی نیند کیوں خراب کرتی؟؟؟"

ایہم :::
(حنین شرارتی نظروں سے دیکھتا حمزہ کو گھر سے ا گیا)
اچھا دوست پھر ملتے ہیں!؛

اوکے''
حمزہ نے آخری کلمات بولے اور اب وہ اپنی پیاری سی بیوی کو کمرے تک چھوڑنے آیا،

حمزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
الفت نے ایک شائستہ انداز میں پکارا،
(جی بولیں)"
وہ محمل ہے نا۔۔؟
رات کو بہت اداس تھی، وہ شادی نہیں کرنا چاہتی علی سے،
اچھا مگر کیوں،؟"(حمزہ زرا حیران ہوا)

مجھے نہیں بتایا اس نے۔۔،
لیکن بابا بہت غصے والے ہیں وہ وہی کریں گے جو انہیں کرنا ہوگا؛
اور ایک مایوس انداز میں صوفے پر براجمان ہوئی

میں بات کروں آنکل سے؟
مجھے یقین ہے وہ میری بات تحمل سے سنے گیں اور سختی بھی کریں گیں،

نہیں حمزہ رہنے دیں آپ،،،،کہی وہ مجھے ہی غلط نا سمجھیں،

ہو۔۔۔۔۔۔!

اور منہ بسورے وہ واشروم میں جانے لگی،تو جاتے جاتے اسے یاد آیا کے شام میں امی کے گھر جانا ہے اسے
سنیں حنزہ۔۔۔۔!
اتنی مدھر آواز اسکے کانوں میں رس گھول گئی،
جی بولیں الفت؟
وہ شام میں امی کے گھر جانا ہے مجھے،!!
ہاں ضرور چلیں گے میں بھی چلوں گا،
جی سہی؛
بات کو ختم کر کے وہ واشروم میں چلی گئی،
جبکہ یاور حمزہ خوشی میں ناچنے لگا اور بار بار دھرانے لگا،

"سنیں حمزہ"
سنیں حمزہ"
سنیں حمزہ"

ہائے!!!!یہ اللہ ایک اور بات شکریہ آپکا،،،،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

وہ تیار تھی امی کے گھر جانے کے لیے، یاور حمزہ گاڑی میں اسکا ویٹ کر رہا تھا،

اپنے بالوں کو اکثر ہی کبھی یہاں سیٹ کرتا تو کبھی وہاں،لیکن اس پار آڑھی مانگ ہی اچھی لگتی تھی،

الفت بلکل سادہ کاٹن کا سوٹ پہنے ہوئے تھی،
اور ایک ہی لمحے میں وہ حمزہ کی گاڑی فرسٹ سیٹ پر بیٹھ گئی،
یہ آج پہلی بار ہی اسطرح حمزہ کے ساتھ ڈرائیو پر جارہی تھی!!!!!!

شام کی تاریکی تھی جبکہ آسمان میں بادل کی چادر الگ الگ جگہ ادھڑی ہوئی تھی،
حمزہ نے گاڑی میں موسیقی کی آواز تیز کردی تھی،

الفت اِس وقت ٹینشن میں ہے اب اسکا دل کہیں نا کہیں تو لگانا تھا نا؟

حمزہ یہ بند کردیں میرا سر پھٹ رہا ہے اِس سے،،،

"اچھا جی کردیتا ہوں بند!"

اب دورانِ سفر ایک بات بھی حرام ہو جو الفت صاحبہ نے یاور حمزہ سے کی ہو!!!!!

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

گھر میں اب وہ بتیاں نہیں تھیں جو کل تک جل بوجھ ہورہیں تھیں،
وہ چہل پھل نہیں تھی جو کل ہر سُو ہورہی تھی،

سناٹا پہیلا ہوا تھا،سارے مہمان صبح ہی اپنے گھر جاچکے تھے،

الفت گاڑی سے اتری اور یاور حمزہ گاڑی پارک کرنے چلا گیا،

دروازے پر ایک بار پھر دستک لیکن آج ایک ہی دستک پر دروازہ کھول گیا تھا،

اور یہ محمل تھی جو دروازہ کھولنے آئی تھی،

اسلام وعلیکم آپی
ایک اداس لہجہ اترا ہوا چہرا،
وعلیکم السلام"

وہ اسے ایک نظر دیکھ کر سمجھ گئی تھی کے اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا،

آؤ آؤ الفت،
پروین صاحبہ ہمیشہ ہی سے الفت کو بہت اہمیت دیتی تھیں،
لیکن فیصلے کی باری آئی تو سارا حق آغا ایوب کو دے دیا گیا،

وہ چاہتی تو دونوں بیٹیوں کی شادی یا انکے اور فیصلے ابا سے لڑ کر ٹھیک کرا سکتی تھیں،

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

کیا ہوا امی تایا کی فیملی نہیں آئی؟
نہیں ابھی تک نہیں،،،۔۔۔

حمزہ بھی پیچھے آیا تھا الفت کے،

وہ سب صورتحال دیکھ رہا تھا گھر کی،
آغا صاحب اپنے کمرے میں تھے جبکہ پروین اور محمل بڑے کمرے سے ہوکر سامنے ایک چھوٹے کمرے میں بیٹھیں تھیں اب الفت کے آتے ہی وہ لاؤنچ میں آ بیٹھیں،

الفت نے بے اختیار ہی پوچھا،
"محمل کچھ کھایا؟"

جی آپ وہ۔۔۔!
یعنی نہیں کھایا،
چلو آؤ کچھ کھالیتے ہیں،

وہ اسطرح کرتے ہوے اسے کچن کی جانب لے گئی،

کچن میں لے جاتے ہی الفت نے محمل کے کان میں دھیرے سے سرگوشی کی،،

محمل مجھے بس ایک بات بتادو اس سے منہ پھیرنے کی وجہ کیا ہے؟؟

آپی کچھ نہیں میں نہیں بتاؤ گی،اور ویسے بھی آپ کونسا بتاتی تھیں۔ اپنی پربلم جو میں بتاؤں؟

بس جائیں میں کسی سے اس بارے میں بات نہیں کروں گی،

محمل ایک سمجھدار لڑکی تھی،سہ جانتی تھی اگر اُس نے یہ راز کسی کو بتایا تو ایک لمحہ نہیں لگے گا پورے گھر کو برباد ہونے میں،،،،

حمزہ اٹھ کر سگریٹ سلگانے بالکونی میں کھڑا ہوگیا،
وہ اکثر ہی سگریٹ پیتا تھا زیادہ نہیں،

اور ِّس وقت اُسکی  بوریت عروج پر تھی،بس یوں ہی پھر بالکونی کو اپنا ٹھکانا بنا کر یاور صاحب سگریٹ سلگانے لگے،،

بہت دیر گزر چکی تھی پروین ادھر سے اُدھر ٹھل لگا رہیں تھیں،
جبکہ آغا صاحب پورے انتظار میں تھے کے بس کسی طرح یہ معاملہ ہل ہوجائے،,,,,,,

ناجانے انکے دماغ میں کیا چل رہا تھا آگے کیا کرنے والے ہیں وہ،،

آغا اور حمزہ دونوں ساتھ بیٹھے تھے اب
Is oart ko shir kra ga jo usa fork us ki timline oa isi k coment na new oart. Mil jia ga

جبکہ الفت محمل
ساتھ بیٹھیں تھیں،

پروین صاحبہ کچن میں کچھ کام نمٹا رہیں تھیں،

الفت نے محمل سے پھر پوچھا،
تمھاری محبت کا پھر کیا بنا؟؟وہ بھی ہے یہ ختم؟
آپی محبت پاک جذبہ ہے،
اور محبت اپنے راستے خود نکالتی ہے،اسے کسی کے جذباتوں کی دھجیاں نہیں اڑانی پڑتیں،
لیکن آپی اگر اس محبت کو دھوکہ مل جائے،
تو یہ آپکی زندگی میں ایک موت کے برابر ہوتی ہے اور آپی آپ کی بہن مرچکی ہے،
وہ یہ کہہ کر اسکے گلے لگ گئی اور آنسوں پانی کی طرح بہہ رہے تھے،

ٹیبل پر رکھا پی ٹی سی ایل فون بجے جارہا تھا،
لیکن کوئی بھی اسکی آواز سن نے سے کاسر تھا،

وہ تو پروین صاحبہ کچن کے نمٹا کر وہاں سے آئیں تو انہیں فون کی بیل بجتی سنائی دی،
انہوں نے فوراً ہی کال پک کر لی،
اور نمبر سکرین پر کسی اور کا تھا،

ہیلو!!
ہاں پروین، پروین وہ۔۔۔وہ۔۔۔۔علی۔۔۔؛؛؛
کیا ہوا علی کو کس کے نمبر سے بات کر رہی ہو بھابھی؟؟

ہ۔۔۔۔س۔۔۔پ۔ت۔۔ا۔۔ل۔
کافی سسک سسک کر انہوں نے بتایا وہ رو رہیں تھیں،

اللہ رحم بھابھی سب خیر تو ہے کونسے ہسپتال کیا ہوا ہے علی کو،اچھا روکیں ہم آتے ہیں آپ بتائیں کہاں ہیں؟؟

سیٹی ہسپتال،۔۔۔!
با مشکل بولیں

اور پروین صاحبہ کے تو حواس ہی قابو میں۔ نا رہے وہ روتی ہوئی کمرے میں آئی۔ اور آغا صاحب کو ساری بات بتا دی،

یہ سب لوگ پریشانی کے عالم میں ہسپتال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے
وہاں محمل کا حال بحال ہونے لگا۔۔۔۔!

ہسپتال پہنچ کر پتا چلا کے ارفان صاحب کو ہرٹ اٹیک آیا ہے
محمل اور لائبہ گھر پر ہی ہیں،اور حمیدہ تائی نے تو آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے، وہ الفت کے آنے پر  دل جلوں کی طرح باتیں کر رہیں تھیں جلی کٹی،
پہلے بیٹے کو مثیبتوں نے کم گھیرا تھا جو اب انکے بھی پیچھے پڑھ گئی یہ ہسپتال کی چوکھٹیں، وہ مانو الفت کو اپنے الفاظوں کا نشانہ بنا رہی ہوں،

حد ہے ویسے حمزہ انکے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے،
(الفت نے سر گوشی کی)

ڈاکٹر صاحب اور ایک نرس انکے ہمراہ واٹ روم سے چلتے آتے دیکھے،
تو یاور حمزہ نے انہیں روک کر تفصیل حاصل کی،

ایک ہی ہسپتال میں دونوں باپ بیٹے زندگی اور موت سے لڑ رہے تھے,،جبکہ انکی والدہ ماجدہ اور زوجہ محترمہ ناجانے کیوں جالی کٹی سنا رہیں تھیں،

"ہائے لائبہ ہمارے گھر کو نظر لگ گئی"
ہائے میں کہاں جاؤ گی،ان دونوں کے سوا کوئی بھی میرا اس دنیا میں"

"تو یہ آپکے محلے والے انہیں یہاں ہسپتال لائے ہوے ہیں؟"(الفت نے دھیرے سے بات کی مضمت کی)

حمزہ جو کہ چند دوائیاں اور جوس کے پیکٹس لایا تھا وہ الفت کو دھیرے سے ہم۔کلامی کرتے ہوے سن چکا تھا اور اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا،

(اللہ یہ لڑکی کسی کو نہیں چھوڑتی)کہہ کر پہلے دوائیاں دے آیا پھر جوس حمیدہ تائی سمیت دیگر افراد کو بھی دینے لگا،
جب وہ آخر یں بچنے والے پیکٹ کو الفت کے پاس لایا تو اس نے انکار کردیا
کہنے لگی"آپ پیلیں ویسے بھی آپ نے کچھ نہیں کھایا ہے اتنی دیر سے"

نہیں اگر آپ پی لیں گی تو مجھے اچھا لگے گا۔۔۔۔!

نہیں مجھے نہیں پی نا آپ پی لیں۔۔۔،

                            ~~~~~~~~~

رات آج پھر عروج پر تھی اور یہ تیسرا دن تھا انکا آج ہسپتال کے اندر، وہ تھکا ہارا یاور حمزہ بینچ پر بیٹھا تھا،
الفت تو اپنی امی کے کندھوں پر سر رکھ بیٹھی تھی،تو آغا صاحب اسکے عقب میں آ بیٹھے،
حمزہ۔۔۔۔!!
بیٹے تھک گئے ہو تو گھر ہو آؤ صبح آجانا بھلے،
نہیں ابا وہ آپکا ضرورت بھی تو پڑسکتی ہے میری میں نہیں جاتا آپکے پاس ہی ہوں،

ارے۔۔۔! برخوردار
اتنے فرمانبردار بھی نا بنو کہیں ہمیں اپنی بیٹی کے نصیب پر رشک آنے لگے،،،،،
وہ اسکی پشت کو دات دیتے ہوے آٹھ کھڑے ہوئے،،،
اور یاور حمزہ پھر سے دیوار پر ٹیک لگائے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر کے سونے لگا،

ناجانے تائی حمیدہ کو بار بار کس بات کے دورے اٹھ رہے تھے،
اسکی آنکھ لگی ہی تھی کے پھر سے انکا ڈرامہ سیریل شروع ہوگیا

ہائے پروین کیا ہوگا اب۔۔۔۔

کوئی جواب ہی نہیں دیتے یہ ڈاکٹرز۔۔۔

ہائے۔۔۔۔۔کیا کروں گی اب میں۔۔۔۔

الفت انہیں ناک سکیڑتی گھورے جا رہی تھی جبکہ حمزہ انکے قریب آیا اور کہنے لگا،
(آنٹی جی اللہ پر بھروسہ رکھیں کچھ نہیں ہوگا)
(یوں تو رو کر خود کو ہلکان نا کریں)

(میں بیٹھا ہوا ہوں نا یہاں تو بس پھر)!!

تائی آنسوں پونچھتے ہوئے اسے دعاہئی دینے لگی،

                                 ~~~~~~~

مبارک ہو ارفان صاحب کا آپریشن ٹھیک ہوگیا ہے،۔
ایک ڈاکٹر واٹ سے نکلتا ہوا خوش دلی کا مظاہرہ کرنے لگا،

حمزہ اور آغا صاحب انکے پاس گئے اور باقی تفصیلات بھی لینے لگے،

حمزہ نے ڈاکٹر سے پوچھا،
"وہ سر علی ایوب کا کیا ہوا کچھ بتا دیں"
جی انہیں مسلسل ڈیریپس لگائی جارہی ہیں،
انکے ہوش میں آتے ہی کوئی ایسا انسان انکے پاس رہے گا جن سے انہیں سکون ملتا ہو،

"جی وہ تو ہم دیکھ لیں گیں بس آپ گڈ نیوز دیں جلدی سے"
(حمزہ نے ایک فکرمند اور بڑے پن کا مظاہرہ کیا تھا،)

اور پھر وہ ڈاکٹر انُہیں (ایسکیوز می) کہتا ہوا وہاں سے چلتا بنا،،،،،،

                             ~~~~~~~~~

چوتھے روز کی صبحوں ہی ڈاکٹر نے آکر نیوز دی کے علی ہوش میں آچکا ہے،

تائی حمیدہ تو خوشی کے مارے پھولے نا سمائی،
آخر اپنی اولاد سے اتنے دنوں بعد ملنے کا موقع ملا تھا،

انکی بیٹا موت کو شکست دے آیا تھا،
تائی حمیدہ ہی نہیں بلکہ پورے گھر والے ہی شکر ادا کر رہے تھے،
کے بس اب شاید سب ٹھیک ہوجائے،

اللہ کا کرم ہوگیا نہیں تو ہم نے آپ کو کسی امید میں نہیں رکھنا تھا،
وہ ڈاکٹر دو ٹوک بات کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا،

بار باری سب ہی ملنے گئے،،۔۔حمزہ اور الفت نہیں گئے تھے بس،
الفت نے آغا صاحب سے کہا،"میں گھر جانا چاہتی ہوں اب یہ بھی پریشان ہوگئے ہیں دو چار دن سے"
ہاں ہاں بیٹے میں نے کب روکا، تم جاؤ اور صاحب زادے کو بھی لے جاؤ،

یک دم نرس نے پھر وہی کلمات بولے
"الفت کون ہے ادھر۔؟"

"جی جی میں ہوں،"(وہ بے اختیار بولی)

آپکو پیشنٹ نے پھر بلایا ہے،
اُس نے اب کی بار ایک نظر حمزہ کو دیکھا تھا،
جو نرس کی بات سن کر بس پھر اسے ہی گھورے جا رہا تھا،

آستینے موڑ کر شرٹ کے بٹن کھولے یاور حمزہ بے حال کھڑا تھا،بال بھی خاصے بکھرے بکھرے سے تھے،

الفت نے نگاھوں میں جیسے حمزہ سے بولا ہو آپ بھی چلیں،،

اس نے بھی پلک جھپکائیں اور اسکے ساتھ ہولیا،

علی کے کمرے تک پونچھ کر یاور حمزہ نے کہا الفت آپ اندر جائیں میں یہی کھڑا ہوں،

"اچھا"کہہ کر اندر گئی،
علی کی حالت پہلے سے کافی بہتر تھی وہ اب ٹھیک سے بول سکتا تھا،

الفت تم یہی رہ جاؤ میرے پاس،،،
(وہ الفت کو دیکھ کر جیسے آپنے قابو میں نا رہا تھا،)
اسکی آنکھیں نم تھیں لیکن دل میں میل)
یہ بات الفت نہیں سمجھ سکتی تھی کبھی بھی نہیں

علی مگر میں اب وہ الفت نہیں ہوں جو تمھاری ایک چوٹ لگنے پر سارا دن پریشان پھرتی تھی،۔میں اب وہ نہیں ہوں جو تمھاری زرا زرا سی خواہشوں کو محمل کی طرح پورا کر سکوں،
میں اب کسی اور گھر میں رہتی ہوں،
میرا اب کہیں اور ٹھکانہ ہے، مجھے سسرال جانا ہے،تمھاری طبیعت کے باعث وہ بھی چار روز سے ٹھیک سے نہیں سوئے،

مگر الفت۔۔۔!
میں وہی علی ہوں جسے تمھاری بات بات پر ضرورت پڑتی تھی،
جسے تم ہر خوشی اور غم چاہئے ہوتی تھیں،
لیکن الفت تم جاؤ تم اب وہ نہیں رہی،
کچھ نا سہی مگر تم نے تو دوستی کا بھی مان نہیںرکھا،
مجھے ضرورت تھی تمھاری،تم سامنے رہتی تو ،اید میں کل تک ہی ٹھیک ہوجاتا،
اور اب وہ ایک مدھم مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا،

الفت نے اسکی باتوں کو دل میں نا لیا،اور اسکے چہرے پر ہاتھ پھرتی ہوئی اٹھی
چلو علی انشاللہ میں کل صبح جلدی آنے کی کوشش کروں گی،
جب حمزہ آفس جائیں گے تو میں یہاں آجاؤ گی انکے ساتھ اوکے،
لیکن ابھی جانا ضروری ہے،
اوکے !!!(گیٹ ول سون علی)
خدا حافظ،

اور باہر کھڑا یاور حمزہ توئے پر رکھے کسی گوشت کے مانند بھون رہا تھا،

اسے علی پہلے دن سے اچھا نہیں لگا تھا،،وہ الفت پر بلکل بھی غصہ نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا،
الفت کے دل میں کوئی چور نہیں،

                             ~~~~~~~~~~

ٹن۔۔۔ٹن۔۔۔۔۔ٹن۔۔۔۔
صبح کے بارہ بجے اسکے فون کی اسکرین جگمگ ہورہی تھی،
سکرین پر نام ہمیشہ کی طرح دل کو سکون پہنچاتا تھا،
رمشہ......!
کیسی ہو دوست (فون اٹھاتے ہی الفت نے لاشعوری سے پوچھا)
ہمم۔۔۔ایک نیوز دینی ہے پھر تم۔بتانا میں کیسی ہوں،
(رمشہ سسپینس کریٹ کرتی ہوئی بولی)

اچھا تو پھر بتاؤ،(الفت نے سر کو جنبش دی اور بولی)

الفت۔۔۔۔!میرا رشتہ تے ہوگیا ہے یار۔۔۔!
(الفت بولی،یہ گڈ ہے یا بیڈ؟)
یار کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن یار میرے ماما بابا کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی ہے تو یہ میرے لیے اچھا ہی ہوا نا؟"

(رمشہ ہمیشہ سے ہی پازیٹو مائنڈٹ تھی)

یار رمشہ پھر پڑھائی کا کیا ہوگا،؟
کیسا ہے وہ دکھنے میں؟؟
رمشہ عمر کتنی ہے؟؟
کرتا کیا ہے؟
کہاں رہتا ہے؟؟

سانس روکے ڈھیر سارے سوال۔۔الفت کی بے چینی کے سبب تھے۔۔

یار دیکھو تم گھر آؤ گی تو بتاؤ گی،ابھی فل حال نیوز دینی تھی میں نے دے دی،
اور ہاں سنو لڑکی، یہ میرے لیے گڈ ہی ہے کیونکہ خدا رب تعالٰی نے مجھ پر کوئی عنایت کی ہے جو مجھے اب کسی اور کے نام کا ساتھ ملنے والا ہے!!!؛؛؛؛؛

"یار رمشہ میں کیسے آونگی،؟"(الفت پریشان ہوکر بولی)

"کیوں کیا ہوا؟"(رمشہ نے تجویز کی)

یار وہ میرا کزن ہے نا علی۔۔!!

ہاں وہی لائبہ کا بھائی؟؟تمھارا بیسٹ فرینڈ؟

ہاں ہاں وہی، اسکا چند روز قبل اتنا خوفناک ایکسیڈنٹ ہوا کے میں کیا بتاؤں،؟"
یار اب اسکے پاس بھی تو بار بار جانا پڑے گا،نہیں تو تائی امی کا یہ بڑا منہ بن جائے گا،،

ہمم۔۔۔چلو یار جب بھی فری ہو تو ضرور آنا گھر میرے،!!

اسنے کہہ کر فون رکھا،
حمزہ اپنی والدہ کے کمرے میں انکے ساتھ باتیں کر رہا تھا،

اور الفت اپنے کمرے میں اکیلی تھی،
اسے دوپہر کے ایک بجے تک ہسپتال جانا تھا اور کچھ دیر بعد حمزہ بھی آفس کے لیے نکلنے والا تھا،

وہ حمزہ آپ چلیں گے مجھے لیکر؟

الفت اب اپنی ساس کے کمرے میں تھی،

حمزہ نے کہا"،کہاں"کہاں جانا ہے آپ نے"؟

رانی جی بھی بیچ میں بول پڑیں
نہیں بیٹا آپ دونوں اتنے دنوں کے تھکے ہوئے ہیں کچھ دیر گھر میں آرام کریں"!!

نہیں وہ آنٹی۔۔۔۔۔

الفت امی بولا کریں۔۔۔یہ آپکی ماں کی جیسی ہیں،،(یاور حمزہ اب بلکل سنجیدہ لہجے میں بولا)

الفت نے اسکی بات کو دھیان سے سنا اور سر جھکا کر بولی،
معذرت مجھے یاد نہیں رہا آئیندہ خیال رکھوں گی،

رانی جی نظریں چڑھا کر حمزہ کو دیکھا تھا انہیں یوں حمزہ کا ٹوکنا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا،
یہ بات آپ اگر اکیلے میں کرتے یاور حمزہ تو ٹھیک رہتا،،آج آپ نے میرے سامنے بہو کو اسطرح ٹوک دیا کل آپ کسی اور کے سامنے بھی ایسا کرسکتے ہیں اور بیٹا الفت آپکا جو دل کرے آپ مجھے ویسے پکاریں مجھے برا نہیں لگے گا!!""
ایک خوبصورت اور شائستہ لہجہ الفت کے دل میں اتنی جگہ کر گیا کے وہ انکے ہاتھ پکڑ کر بولی

نییں۔۔۔امی یہ ٹھیک بول رہیں ہیں،اور امی آپکا شکریہ اتنا پیار دینے کے لیے،،،،وہ انکے ہاتھ چوم کر بولی تھی،

الفت ایوب دھیرے دھیرے اپنے انداز کو بھلا کر یاور حمزہ کے گھر والوں میں رنگتی جارہی تھی،

حمزہ کو الفت کا ہاتھ چومنا اور اپنی ماں کی اذت کرتا دیکھ کر دل ایک بار پھر خوش ہوا تھا،

                                ~~~~~~~~

یہ دونوں اب یاور حمزہ کی گاڑی میں تھے،
الفت لاتعلق سی کھڑکی کے باہر سے نظارے کر رہی تھی جبکہ حمزہ سیدھا ڈرائیو کر رہا تھا،،،،،،

الفت مجھے لگتا ہے محمل کو شادی کر لینی چاہیے علی سے!!؛

"نہیں"(وہ دبے لہجے میں بولی)
کیوں؟؟حمزہ نے تصدیق کرنا چاہی

مجھے لگتا ہے کے یہ اسکا اپنا فیصلہ ہے اور اگر ابا چاہیں تو میری طرح اسکے خواب اور خواہش کو نا توڑیں،

الفت آپ کو میں نے زبان دے دی نا کے آپ آگے پڑھیں گی پھر؟؟

نہیں وہ میں اسکی بات کر رہی تھی،

یاور حمزہ کا موڈ اب خراب ہوچکا تھا،
وہ اسکے روز روز کے ظلمت کے قصے سن کر تنگ آگیا تھا،

لیکن الفت کو یوں کچھ بولنا بھی تو بیکار تھا،

ہسپتال آگیا تو وہ نیچے اتر گئی اپنا بیگ اٹھایا اور خدا حافظ کہہ کر دروازہ لوک کیا گاڑی کا،
الفت سنیں؟؟

میں آج ہی آپکے لیے یونیورسٹی کا فارم لے آؤ گا،

الفت نیچے جھکی اور حمزہ کو دیکھ کر کہنے لگی،

نہیں ابھی آپ اپنا کام دیکھیں میری پڑھائی بات میں دیکھ لی جائے گی،
ویسے بھی سال تو برباد ہو ہی گیا ہے،

اور زرا علی بھی ٹھیک ہو جائے تو پھر دیکھوں گی میں،،۔۔۔۔

                                   ~~~~~~~~

وہ آفس سے سارا دن کا تھکا ہارا تھا،
لیکن بیوی کو بھی تو ہسپتال سے لینا تھا،
وہ ایک گھنٹے کی ڈرائیو کر کے وہاں پہنچا، ارفان صاحب کے علاوہ وہاں صرف الفت تھی،
وہ بھی علی کے واٹ میں تھی،۔۔۔۔
حمزہ دوڑتا ہوا واٹ کے پاس آیا تو آنکھیں یہ نظارہ دیکھ کر بھیگ سی گئی اسکی،

الفت اور علی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے،...!!!

الفت بھاگتی ہوئی بالکونی میں آئی حمزہ کو بولنے کے لیے کہ وہ آغا صاحب کے ساتھ جائے،
وہ وہی کھڑا تھا بلکل دنیا سے لاتعلق،کے الفت کی آواز نے اسے خیالوں سے بیدار کیا،
حمزہ سنیں،
ہاں جی مڈم بولیں..!
(بہت شگفتہ انداز ہمیشہ کی طرح)
وہ علی ہے نا۔۔، وہ۔۔ہسپتال میں ہے،،

حمزہ نے حیرانگی کا اظہار کیا، اچھا تو چلیں پھر؟؟
کونسے ہسپتال میں ہے؟؟ہوا کیا ہے؟؟
سیڑھیاں اترتا جا رہا اور اسکے سوال اس سے زیادہ آگے جا رہے ےھے،
الفت سب باتوں کا جواب صرف ایک جملے میں دیا "مجھے نہیں  پتا"

آغا صاحب کندھوں پر سیاہ رنگ کی چادر ڈالے ہوئے تھے جبکہ پروین صاحبہ بلکل تیار تھیں ہسپتال جانے کے لیے،
محمل اور الفت کو کہا گیا تھا کے وہ دونوں گھر ہی رہیں،

                                          ***

رات کالی ہوچکی تھی ہر طرف سناٹا تھا لیکن ہسپتال کے رونق یوں ہی لگی تھی مانو یہاں کسی کو فرق ہی پڑتا کسی کے آنے جانے سے،

پروین اور آغا صاحب کو یاور حمزہ نے ایک سائڈ پر کھڑے رہنے کو کہا اور خود جاکر کاؤنٹر پر علی کی ڈیٹیل لینے لگا کے سامنے سے ہی ارفان ایوب، ٹوٹتے جسم کے ساتھ آتے دیکھائی دیے،

وہ رہے بھائی ۔۔۔ (پروین فکر مند انداز میں بولیں)
تو حمزہ اور آغا ایوب نے فوراً ہی اُس جانب دیکھا،
آغا صاحب تو انکے گلے ہی لگ گئے،
بھائی کیا ہوا ہے علی کو،،
سب خیریت تو ہے نا۔۔!
ارفان صاحب آنکھوں کے گوشے آنسوں سے بھرتے ہوے بولے،
نہیں آغا کچھ ٹھیک نہیں ہے،،
میرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے،
راستے میں فرنٹ لائٹ بند ہوگئی تھی اور آندھرا سیاہ ہورہا تھا،،سامنے ایک بڑے سے درخت سے اسکا ۔۔۔۔۔
اب وہ رو رہے تھے،،،،
خوب بے تہاشا،

آغا صاحب انہیں دلاسہ دینے لگے،
اور پروین بھی اب حمیدہ کے پاس جا چکی تھیں،

اس وقت وہ منظر دیکھنے کے بلکل قابل نا تھا

خون میں لبریز جسم،اور سارے جسم میں چوٹ کی خراشیں،
دماغ پر زیادہ چوٹ أنے کے باعث ڈاکٹرز نے قومے میں جانے کے خدشات ظاہر کیے تھے،

                                      ***

حمزہ صبح ہوتے ہی الفت اور محمل کو ہسپتال لے آیا،
محمل تو ڈر کے مارے اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی
جبکہ الفت نے اسے دیکھتے ہی الٹیاں کرنا شروع کردی تھی،

اب یہ وقت ایسا تھا کے نا ہی تو آغا صاحب رشتہ ختم کرنے کی بات کرسکتے تھے، اور نا ہی ارفان صاحب شادی کرنے کے معملات دیکھ سکتے تھے،
یہ دونوں ہی اب حالات کے ہاتھوں مجبور ہوگئے تھے،

کہیں محمل انہی حالات کے نظر نا ہوجائے؟؟؟

                               ****

آج دو روز گزر جانے کے باوجود بھی ڈاکٹرز کوئی اچھی خبر نہیں دے پائے تھے،
پروین ، حمیدہ،محمل اور لائبہ کو گھر بھیج دیا گیا تھا،

آغا صاحب،ارفان صاحب،یاور حمزہ اور الفت ٹھرے تھے ہسپتال،

کیا بول رہے ہیں ڈاکٹرز وہ کافی دیر خاموش رہنے کے بعد بولی تھی،
حمزہ اسکے بلکل برابر میں آبیٹھا تھا،وہ بھی دو روز کا تھکاوا تھا لیکن گھر کا بڑا ہونا آسان بھی تو نہ تھا،
اسے یہ سب قربانی اپنی دولت اپنی عزت "الفت"کو حاصل کرنے کے لیے یہ سب چپ چاپ سہنا پڑرہا تھا،

کے سفید لباس میں ملبوس نرس ایوب فیملی کے قریب آئی،

اور آتے ہی کہنے لگی "الفت" کون ہے یہاں؟؟

وہ اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی اور نرس کے پاس آئی،
جی میں ہوں بولیں!.....

آپ کو پیشنٹ یاد کر رہا ہے،

کسی نے اِس بات کا اتنا ایکشن نہیں لیا جتنا حمزہ کے دل میں چُہریاں چلیں تھی،

اسکا ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا رنگ جا رہا تھا،،،

اچھا جی میں آتی ہوں...!
کہہ کر الفت نے پرس اور موبائل وہی سیٹ پر رکھا اور ماکس اور ہیر کور پہن کر آئی سی یو واٹ میں جانے کے لیے تیار ہوئی،

اُس وقت اسکے خیال میں بس ایک کزن اور اچھا دوست علی ہی تھا، اس نے غور نہیں کیا کے دو دن بعد بھی اگر پیشنٹ کو ہوش آیا ہے تو اُس نے مجھے کیوں بلایا یے،
آخر الفت ایوب بیوقوفانہ حرکتوں میں اول بھی تو آتی ہیں،،۔۔
نا شوہر سے اجازت نا باپ کو دیکھا،
بس نرس بلایا اور یہ جا وہ جا،،

حمزہ نے لیکن اِس بات کو بہت دل پر لیا تھا، وہ یہی سوچ رہا تھا آخر الفت ہی کو کیوں بلایا گیا ہے؟؟

                                   ******

اب تو بات کرلو محمل اپنے باپ سے،،
پوچھ تو لو کیا حال ہیں وہاں کے ،،،
اچھا امی کرتی ہوں کال،
کہہ کر وہ ٹیبل پر رکھے ٹیلی فون  پر کال ملانے لگی،
ابا نے تھوڑی ہی دیر میں کال پک کرلی،
جی بیٹا بولو!!!
سب خیر وہاں،
جی ابا یہاں سب ٹھیک ہے آپ وہاں کا بتائیں، امی اور تائی بہت پریشان ہیں،۔۔۔۔

ان سے کہہ دو ابھی ابھی ہوش آیا علی کو، اور ایک ایک کر کے سب ملنے بھی جائیں گے،
ابھی فل حال الفت گئی ہے اندر،

اچھا۔۔۔۔ابا ٹھیک ہے میں پھر بات کروں گی،

ہمم ٹھیک ہے۔۔۔!کہہ کر فون رکھ دیا گیا،

                                    ******

ا۔۔ل۔۔ف۔۔ت
ہاں۔۔۔۔۔۔!!؛؛
اسکی سانسیں اکھڑ رہیں تھیں، مسنوعی سانس کی مدد سے وہ کچھ الفاطلظ بولنے کے قابل تھا،
اسیکی حالت قدراً اتنی حد تک ٹھیک ہوچکی تھے کے اسکے پاس بیٹھا جا سکتا تھا،

ایک پاؤں پر پلستر اور ایک ہاتھ کا بازؤں اسے اجازت نہیں دے رہا تھا کے وہ موڑ کر ادھر اُدھر دیکھے،

ال۔فت

ہاں بولو علی میں یہی ہوں،
ا۔ل۔فت ت۔م ۔۔۔ہا۔۔۔۔محم۔ل کو ۔۔ہا۔۔۔۔کہنا میں اس سے شادی نہیں  کروں گا!!!
مجھے۔۔ ہا۔۔۔۔۔پتا چلا تھا کے چچا جان اِس رشتے سے انکار کر رہیں ہیں،!!
تو...!
تو کیا علی؟؟
تم دونوں اتنی نفرت کیوں کر رہے ہو ایک دوسرے سے؟؟
"وہ وہاں بلکل یہ فیصلہ کر چکی ہے اور یہاں تم..!؟"

اچھا ابھی یہ وقت ایسی باتیں کرنے کا نہیں ہے، تم ٹھیک ہو جاؤ پھر کچھ سوچتے ہیں

اِن لوگوں کی گفتگو کے دوران ہی وہی نرس آئی اور کہنے لگی میم بس ٹائم ختم اب نیکسٹ جو بھیج دیں،
پیشنٹ پر اتنا زور نہیں دے سکتے،

ا"چھا"
 کہہ کر وہ وہاں سے چلی آئی،

یہاں ارفان صاحب اندر آگئے،

حمزہ کو دیکھ کر وہ وہی آ بیٹھی،
"کیا ہوا الفت کیا کہہ رہا تھا وہ"؟
(حمزہ نے پوچھا)

الفت نے کہا:وہی شادی کا رونا، جب یہ دونوں چاہتے ہی نہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا تو ابا اور تایا کو کیا پڑی ہے ان دونوں کی شادی کرانے کی؟؟

"آہستہ بولو الفت سب سن لیں گے"(الفت کو منا کرتا ہوا وہ اٹھا اور کہنے لگا تم گھر چلو اب میں یہی ہوں)

                                    ******

وہ اسے گھر چھوڑ کے آچکا تھا اب وہ ہسپتال کے گراؤنڈ میں بیٹھا تھا،

اور یہی سوچ رہا تھا کے یہ بات الفت سے کرنا ضروری تھی؟
اپنی والدین سے کرتا نا،
افف خدا جلدی سے ٹھیک کرو اسے تاکہ میں بھی تھوڑا سکون میں آو،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو محمل میں اب کل جاؤ گی ہسپتال تم امی وغیرہ کا خیال رکھنا،
جی آپی وہ۔۔۔

ہاں بولو سن رہی ہوں،

آپی وہ ٹھیک تو ہے نا!؟
(ایک فکرمند لہجہ،)محمل بہت آہستگی سے بولی تھی،

کیوں آپ کو کیا۔۔۔!
آپ تو نفرت کرتی ہے نا اس سے پھر؟پھر کیوں پوچھ رہی ہیں،؟

آپی بس ویسے ہی،،،،،۔۔

ہمم۔۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے، اب تم ٹینشن مت لو جلدی گھر بھی آجائے گا،

ویسے محمل جب محبت کرتے ہیں تو اسے چھپاتے نہیں ہیں،،۔

جی نہیں آپی۔۔۔!؛؛
دشمن کے بھی حال کی خبر رکھنی پڑتی ہے،

اور ویسے بھی وہ کزن ہیں ہم لوگوں کے اتنا تو حق بنتا ہے کے میں انکا حال احوال پوچھا لوں،

                                     *******

کل شب گزر جانے کے بعد وہ گھر آیا تھا،
الفت سو رہی تھی،
اسے اس نے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور پاس ہی جا کر لیٹ گیا،

اسکی نیند بیدار ہوئی تو وہ کہنے لگی،
آگئے آپ؟
جی میڈم۔۔۔!
(ایک شائستہ نا لہجہ)

کہانا کھایا آپ نے؟
نہیں وہ میں کھالوں گا بعد میں،
لائیں میں بنا دیتی ہوں،

کہا کھانا پسند کریں گے آپ ،
(وہ اٹھی اور پیاری سی مسکراہٹ دیے اسکے لیے کھانا بنانے کے لیے اٹھی،)

حمزہ کو لیٹ کر سکون نہیں مل رہا تھا وہ بھی اسکے ساتھ ہی اٹھا

یہاں وہ چائینیز بنا رہی تھی، اور حمزہ اسے دیکھ رہا تھا،
کچن امریکن ٹائپ بنا تھا،
جبھی حمزہ بھی اسے بلکل ڈائینگ پر بیٹھا اسکا نظارہ کر رہا تھا،

حمزہ صاحب کو اتنی خوشیاں راز تھوڑی تھہں،

لمحے بھر میں ہی فون بجنے لگا،

وہ اپنے نظاروں سے بیدار ہوا اور کال اٹھا کر بات کرنے لگا،
فون پر آغا صاحب تھے،

"جی جی آنکل آجاتا ہوں"
آپ ٹینشن نا لیں"
جی جی انہیں بھی لے کر آؤں گا"

جی اچھا کہہ کر فون رکھا،

الفت پریشانی سے بولی،
"کیا ہوا۔۔کیا بول رہیں بابا،"

بس کچھ نا پوچھیں جلدی چلیں۔۔۔۔۔۔!

اور اب الفت کے دل میں بہت بھیانک خیال آنے لگے
کہیں علی کو کچھ ہوتو نہیں گیا،۔۔۔

وہ دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے  اور حمزہ یہ نظارہ دیکھ کر دل شکستہ حالت کھڑا تھا،اسے لگا کہ دنیا بس ختم ہو چکی ہے ہے اس نے الفت کو کھو دیا ہے،
ایک دیوار تھی ان کے بیچ جو شیشے کی مانند تھی جس سے آرپار دیکھا   جا سکتا تھا،وہ شیشے کے دروازے کو اندر دھکیلتا ہوا اندر آیا،الفت کی پشت پر ہاتھ رکھا الفت نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کہا حمزہ آپ،،،
 آنکھیں نیچے رکھی  ہوئی تھی وہ اپنی نظریں جھکا ئیں کہنے لگا گھر  چلیں بہت دیر ہوگئی ہے،
اور الفت وہاں سے کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی " جی چلیں"

                             ~~~~~~~~~~

یاور حمزہ ا گھنٹے کی مزید ڈارئیو کر کے الفت کو گھر لے آیا یا،
الفت کو تو کانوں کان خبر نہ تھی  کے  حمزہ رویا بھی ہے،
ہاں بس اتنا کہنے لگی کھانا کھائیں گے آپ،
یار حمزہ نے نفی میں سر ہلایا یا اور بیک کو پٹکتا ہوا  سیدھا چھت پر چلا گیا،،
یہ اس کی آرام گاہ کی مانند تھی،ایک ہاتھ میں سیگریٹ ، سر پر ٹینشن ،سنسناہٹ تیز ہوا اور سنسان سی چہت وہ جب بھی اپنے آپ سے پریشان ہوتا یا پھر مشکلوں میں گر جاتا تو یہی آکے بیٹھتا تھا،
اس کے دل میں پھرسے سوالوں کی لہر اٹھی،وہ بالکل اپنے آپ سے لاتعلق  اپنے  عکس سے باتیں کر رہا تھا
 کیا الفت علی کو پسند کرتی ہے؟
یہ علی میری زندگی میں کیوں آگیا ؟
مجھے الفت سے بات کرنی چاہیے اس بارے میں؟
یا اللہ میں ٹینشن میں مر جاؤں گا،،،،،

پر الفت وہاں نیچے  سکون سے اپنے بستر پر لیٹی تھی،اسے تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ حمزہ اس سے ناراض ہو کہ چھت پر بیٹھا ہے ،
محمل کا خیال آیا تو اس میں کال ملائیں،

ہیلو
کیسی ہو محمل،
جی آپی ٹھیک ہوں!!
آپی آپ کی ملاقات تایا  جان  سے ہوئی؟
وہ یکدم ہی سوال گوتھی
ہاں ہوئی تھی ٹھیک ہے وہ،،،،
محمل اب مجھے سہی سے بتاؤ کیا بات ہے علی بھی کہہ رہا تھا کہ وہ
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور وہ کہتے کہتے  رکی
آپی آپ کیا سمجھتی ہیں کہ صرف آپ ہی ہیں جو ہر بات پر پر قادر ہیں میرا کوئی حق نہیں ہے میری زندگی کر میں نے کہہ دیا نا نہیں بتاؤ گی تو نہیں بتاؤ گی،
اور آپ کو بھی کوئی ضرورت نہیں ہے حمزہ بھائی کے ہوتے علی کے پاس ادھر ادھر بھٹکنے کی بھی،،!!
"وہ ہنسی اور بولی کیوں بھائی"؟
ایسا کیا کر دیا علی نے !!!؟
اور حمزہ کے سامنے کیوں نہیں،!!؟

انکا رشتہ پہلے ہی اتنا کمزور تھا پھر دوسرا الفت کا عمر اور شکل و صورت کو لیکر جو دل خلل اور وس وسے تھے وہ تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے کے اب تیسرا مسلئہ در پیش آگیا تھا یاور حمزہ کو" شک" جیسی بیماری نے گھرے میں لے لیا تھا(اسے خود نہیں معلوم تھا کے وہ شک کر رہا ہے یا کوئی غلط فہمی ہے؟)

انکا رشتہ بجائے سلجھ نے کے اور الجھتا جا رہا تھا،جنکے خیالات ملنے چاہئیں وہ الگ الگ سوچ رکھ رہے تھے،جنکی سوچ یک جا ہونی چاہئیے تھی وہ  مختلف سمت کا رخ کر رہے تھی،،

وہ تھوڑا ریلکس ہوگیا تو نیچے آیا اس نے الفت کو موبائل چلاتا دیکھا تو سیدھا جاکر صوفے پر لیٹ گیا،،،بنا کچھ کہے بنا کچھ سنے

حمزہ نے اسے اگنور کیا تو اسے یہ بات تھوڑی کھَلکی،
وہ موبائل کی دنیا سے باہر نکلی اور" سنیں"کہہ کر اسے مخاطب کیا،

یاور حمزہ نے بے دلی سے اسے دیکھا
آج یاور حمزہ کو اسکا "سنیں" کہنا بھی بےزاریت لگا تھا،

بولیں سن رہا ہوں، (ایک بےزار لہجہ)
آج اسکے لہجے میں وہ شائستہ نا انداز کہیں نظر نہیں آرہا تھا،

نہیں کچھ نہیں لگتا ہے آپ تھک چکے ہیں سوجائیں،

نہیں تھکا نہیں ہوں،الفت بس ڈر گیا ہوں،اور ڈرا ہوا انسان اکثر بے زار طبیعت نظر آتا ہے،،،
الفت نے اسکی بات کی تصدیق کرنا چاہی،
"کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نا؟؟"

نہیں ٹھیک ہوں،
لائٹ بند کی اور منہ اوندھے سوگیا،

الفت بس یہ سب کرتا اسے دیکھتی رہی،
وہ اب بھی جان نا سکی کے حمزہ کو ہوا کیا ہے،؟؟!

                                 ~~~~~~~

وہ نماز کے لیے اٹھا تھا، تہجد کی نماز یہ نماز اسکے لیے باقی سب نمازوں سے بڑھ کر تھی
،
اس نماز میں وہ سمجھتا تھا کے خدا خود سامنے آبیٹھا ہے اسکی باتیں سن نے کے لیے،

لیکن آج وہ اپنے سامنے بیٹھے رب سے بھی کوئی فریاد نہیں کر رہا تھا،سلام پہر کر مصلہ لپیٹا اور واپس اپنے صوفے پر آرام کرنے لگا،
وہ سویا نہیں تھا
آج اسکا تکیہ اسکے آنسوں سے بھیگ گیا تھا،

اور یوں ہی یہ رات گزر گئی، وہ صبر کرنے والا نیک انسان تھا،یہ بات اگر الفت کو ٹھیک سے پتا لگ جائے تو اسکے دل میں جو بے وجہ کے خلل ہیں ختم ہوجائیں،

                                   ~~~~~~~

یاور حمزہ آج ڈائینگ ٹیبل پر بھی چپ چاپ سا تھا،
وہ ناشتہ پیش کرتی جا رہی تھی اور اسکے رویے کو پہچانتی جا رہی تھی،

کے اتنی دیر میں حنین آگیا،
حنین ہر دوسرے روز ہی اپنے دوست سے اور رانی جی سے ملنے آجاتا تھا، وہ اتنے بڑے بنگلے میں اکیلا رہتا تھا،
دیکھنے میں بھی اچھا خاصا نوجوان لڑکا تھا، اسکی ڈریسنگ یاور حمزہ سے زیادہ اچھی ہوتی تھی لیکن یاسر حمزہ جیسا دل اسکے پاس میسر نہیں تھا ،

اور بھائی کیسے ہو،
بھابھی کیسی ہیں آپ،؟

جی ٹھیک ہوں آ ئیں بیٹھیں،
یاور نے اسے ایک نظر دیکھا اور حنین کو  پھیکی سی مسکراہٹ دی آج اپنے دوست کو دیکھ یاور حمزہ خوش بھی نا ہوا،!!!

پہلا لقمہ اٹھایا ہی تھا کے رنگ ٹون بجنے لگی،
ہیلو جی ابا۔،
وہ جب بھی ابا کہتا الفت سمجھ جاتی کے آغا ایوب کی کال آئی ہے،

جی اچھا گڈ،،
نہیں ابا میں آج نہیں لاسکوں گا آفس میں پریزینٹیشن ہے اور اسکے بعد میری ایمپرٹنٹ میٹنگ ہے،
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!؛
وہ خاموش ہوا
سامنے کال پر ایوب صاحب کہنے لگے،بیٹا اگر ٹائیم مل جائے تو ضرور چھوڑجانا الفت کو
جی اچھا کہہ کر فون رکھ دیا دونوں نے،

الفت اسے دیکھ رہی تھی کے اب حمزہ کچھ بتائے گا کے ابا نے کیا کہا،
لیکن یاور حمزہ نے تو کچھ بھی نہیں بتایا،
وہ اٹھا گاڑی کی چابی اپنا فون پرس اور گھڑی اٹھاتا ہوا،
ٹیبل سے باہر آیا،
جاتے جاتے پیچھے موڑ کر روکا اور کہنے لگا،

حنین یار زرا لیجانا ایوب ہاؤس،،،

(نا کہا انہیں نا کہا میکے)
صرف کہا ایوب ہاؤس؟!!!!

یاور بہت ناراض تھا اسکا مطلب لیکن الفت نے اسے سمجھنے کی صلاحیتوں سے ہاتھ اٹھا رکھے تھے، وہ شاید جان کر بھی اسے جاننا گورا نہیں کر رہی تھی،

اور وہ یہ کہتا ہوا سیدھا گھر سے چلا گیا،

"الفت کے دل میں خیال آیا
گھر میں کیا ہوا ہے جو بابا بولا رہے ہیں؟"

بابھی کب تک چلیں گی آپ؟
میں۔۔وہ خود چلی۔۔۔
ارے نہیں بیٹا کیا ہوگیا،(رانی جی فکرن انداز میں بولی)
حنین ہے نا یہ چھوڑ آئے گا کوئی ایسی بات نہیں ہے بلکہ تم ایک کام کرو ابھی چلی جاؤ،

نہیں امی وہ میں شام تک چلی جاؤں گی کیونکہ مجھے کچھ کام ہے گھر پر،

کام تو ہوتے رہیں گے نا بیٹا؟!
نہیں بس،
بھابھی پھر میں چار بجے تک آؤں گا آپکو لینے،
"ہاں یہ ٹھیک ہے"(الفت نے ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا)

                            ~~~~~~~~~~~

حمزہ کی گاڑی یاور حمزہ سے بڑی اور اسٹائلش تھی،وہ اسکے ساتھ پہلی دفاعی یوں جا رہی تھی،
اسے کچھ عجیب سا بھی محسوس ہورہا تھا،

وہ پورے آدھے راستے خاموش رہنے کے بعد خاموشی توڑتا ہوا بولا،
ا
بھابھی آپکو پتا ہے حمزہ آپ سے کتنی محبت کرتا ہے،!؟
الفت نے اسکی یہ بات سنتے ہوئے آنکھیں بڑی بڑی کی اور اسکی جانب گھورنے لگی،

ارے بھابھی پریشان مت ہوں مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھیں،

اُس دن جب آپ پہل صبح اپنے گھر جا رہی تھیں تب وہ بہت پریشان تھا،،،

اور میں نے اسکی آنکھوں میں آپکے لیے جو چمک دیکھی ہے میں آپ کو بیاں نہیں کرسکتا،
وہ بہت نائیس پرسن ہے،،،،!!!

یقین کریں

الفت نے آنکھیں موندی اور سر کو جنبش دی،
ویسے حنین بھائی بس ایک آپکے دوست ہی اچھے نہیں ہیں،
باقی لوگ بھی اچھے ہیں جیسے ہم۔۔!!!؛؛

(وہ بے اختیار ہنسا..)جی بھابھی یہ تو ہے،،،

اسکا گھر آچکا تھا،

شکریہ کہہ کر گاڑی سے اتری،

حنین نے اپنی لال رنگ کی مرسیڈیز گھمائی،
اور وہاں سے چلا گیا،

گھر پہنچ کر اس نے حمزہ کو کال بھی کی کے وہ بتا سکے میں گھر آگئی لیکن کوئی آنسر نہیں آیا،!

وہ اندر آچکی تو پروین صاحبہ سے پوچھا کیا ہوا ہے کیوں کال کی تھی حمزہ کو،

وہ بتا ہی رہی تھیں کے تائی حمیدہ بول پڑیں،

بیٹا گھر کو سجانے میں مدد کرو ہماری علی گھر واپس آئیگا آج رات،
یہ خبر سن کر وہ خوش تو ہوئی لیکن اسے افسوس ہوا کے وہ رات میں ہی آجاتی کم ز کم تایا اور تائی سے باتیں تو نا کرنا پڑتیں،

اب رات تک یہاں رکنا اسے ایک نہایت بور کام لگا،،،

                             ~~~~~~~~~

اندھیرا اور تاریکی یک جا تھیں،
محمل اپنے افسانوں کی دنیا یعنی ناولز پڑھنے میں مشغول تھی،
لائبہ کے ہاتھوں میں ایک احمق فون جسکے بنا اسکا گزارا ناممکن سا تھا،،،

اور الفت باہر لاؤنچ کے صوفوں پر بیٹھی ٹی وی پر پروگرام دیکھ رہی تھی،

اسے خیال آیا کے ایک بار پھر سے حمزہ کو یاد دلا دے کے وہ ہاں آئی ہے،

اس نے ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا اور اسے کال کی،

ہیلو،
سامنے سے پہلے ریسو ہوئی کال سے آواز آئی،
وہ میں کہہ رہی تھی کے!!
جلدی بولیں میں مصروف ہوں،
اسکی آواز سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے وہ واقعی مصروف ہے اس وقت،

"میں گھر پر ہوں تو آپ مجھے لینے آجائیں گے،؟"
یہاں حمزہ کو دل لبھانے والی بات کرنی چاہئیے تھی لیکن اس نے تو
دانت بیچ کر کہا،" یہاں سے فارغ ہوا تو آجاؤں گا"
اور پٹخ کر فون رکھ دیا،
الفت ابھی اللہ اللہ کر کے اسکی عزت کرنے لگی تھی لیکن یہ کیا کے حمزہ اب اُس سے اِس طرح پیش آرہا تھا

کیا سمجھتا ہے یہ اپنے آپ کو ؟"
"میں اب کبھی اسے کال نہیں کروں گی"کبھی نہیں"
اس نے فون کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا اور غصہ عروج پر تھا،
وہ الفت ایوب جو کے کچھ دیر پہلے آپ آپ کے قصیدے پر تھی
اب  اسے برا بھلا کہہ رہی تھی،

محمل باہر آئی تھی پانی پینے،اسکی نظر الفت پر پڑی تو اسکے پاس آئی،

آپی کیا ہوا کیوں غصے میں ہو؟"

محمل میں نے اس آدمی کا منہ توڑھ دینا ہے اب!!

مزاج ہی نہیں ملتے۔۔۔!

محمل نے اسے ٹوکا؛(کس کے آپکے یا انکے؟)
محمل۔۔۔!
وہ زور سے چلائی،،،،،

میں نہیں کروں گی بات اب کسی سے بھی اور حمزہ سے تو کبھی نہیں۔۔۔!

وہی غصے میں خالی خالی بیٹھی صوفے پر اپنے بالوں کو سہلا رہی تھی کہ اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اس وقت رمشا کے گھر چلاجائے ، اس نے فون نہیں کیا اسے، وہ فورا وہاں سے کھڑی ہوگی،،،
آج تو میں ساری باتیں پوچھ لوں گی کہ اس کا منگیتر دیکھنے میں کیسا ہوگا ظاہر ہے وہ اچھی تو اس کا منگیتر بھی اسی طرح اچھا ہوگا،،
اور یوں ہی خیالِ گفتگو  کرتے کرتے اب رمشا کے گھر جانے کے لیے تیار تھی

پروین صاحبہ اور تائی حمیدہ نے اسے کہا ہاں پیچھے سے روکا  "کہاں جا رہی ہو تم؟"  تمہیں پتہ ہے نا ابھی آٹھ بجے تک علی اور آغا اور تایا  آنے والے ہیں
بیٹا الفت مل کے کچھ کام بھی کر لو میرے ساتھ ساتھ( پروین صاحبہ شگفتی سے بولی)
امی میں آکے دیکھ لو گی نہ، دیکھا جائے گا بعد میں، میں ابھی رمشا کے پاس جا رہی ہوں مجھے اسے سے بہت ضروری کام ہے،کہہ کروہ گھر سے چلی گئی،،

                                    ~~~~~~~~

کیسی ہو رمشا (وہ اس سے خوش اخلاقی سے ملی)
ہائے اللہ اتنا پیارا سرپرائز (رمشا بھی اسے بہت خوش دلی سے ملی)

رمشا نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور  اس کے لئے چائے بنانے گئی،،،

الفت کا موڈ رمشا  کو دیکھ کر بہتر ہو جایا کرتا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہوا وہ حمزہ کی بےرخی کو نظر انداز کرکے رمشا اپنی دوست سے مل کر خوش دلی کا مظاہرہ کرنے لگی

اور سناؤ الفت کیسی جارہی ہے تمہاری میرج لائف
"پوچھو ہی مت رمشا تم تو جلے پر نمک مت چھڑکو کو"!
"کیوں بھائی کیا ہوا"(رمشا حیرانی سے بولی)
"یہ یاور حمزہ نا میرے ہاتھوں قتل ہو جائے گا اتنی بے رخی
ہاں مانا میں اسے پسند نہیں کرتی لیکن یار اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ میری بےعزتی کرے"
"ارے ارے کیا ہوا ہے"
"بس رہنے دو تم بتاؤ تمہارا منگیتر دیکھنے میں کیسا ہے تم نے مجھے بتایا بھی  نہیں تم تو بہت ہی زیادہ بےوفا ہو گئی ہو یار"(الفت بالوں سے کھلتی ہوئی بولی)
"افف  !!بس کرو تمہارے شکوہ شکایت بس کرو ان کو"!!
"آو میں ان کی تصویر دکھاتی ہوں,'' اور وہ یہ کہہ  کر ایک مدھم  مسکراہٹ لیے فون کی اسکرین کوآن  کیا اور گیلری سے ڈھونڈ نے لگی  تصویر،،،،،

ایک 30 سالہ مرد کی تصویر جب اس نے الفت کے سامنے کی تو الفت کا خون کھول گیا
وہاں سے ایک نظر غصے کے دیکھتی اور دوسری نظر اس انسان کی تصویر کو جو اسے  بالکل نہ پسند آیا تھا
یہ تو یاور حمزہ سے کہیں زیادہ گیا گزرا نکلا تھا
لیکن پھر بھی رمشا  فوٹو کو لیکر اتنی مدہم مسکراہٹ  سجائے ہوئے تھی اور اسی حیرت میں  وہ سوال گو ہوئی!!

یار مشا تم اندھی تو نہیں ہو؟؟ منع کر دو اس سے اس کے رشتے سے،،،

شکل دیکھی ہے اس کی عمر میں تم سے کتنا بڑا ہے یہ جو میرے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی یار ایسا کیسے ہو سکتا ہے،،،،

نہیں الفت بالکل نہیں
تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے جو میرے ساتھ ہو رہا ہے؟؟! وہ اپنی ایک آنکھ کی آئی برو کو اوپر اٹھاتے ہوئے الفت کو گھورنے لگی،،،

یار ویسے حد ہے تمہارا دماغ تو پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے کیا ہوگیا ہے یار تمہیں رمشا
ہو۔۔۔۔!!
الفت تمہیں پتا ہے،رب تعالی قرآن مجید میں کیا فرماتے  ہیں؟" کہ مجھے نکاح کرنے والے پسند ہیں میں نکاح کو پسند کرتا ہوں ""ہو اور طلاق جیسی   جائز چیز مجھے حرام لگتی  ہے "میری طرف یہ حرام ہے  اور تم مجھے یہ بتاؤ او خدا نے نے اپنے بندوں میں کبھی کوئی فرق رکھا ہے؟؟  جو ہم اس کے بندوں سے فرق رکھیں ؟؟ ذات عزت دولت شکل و صورت پیسہ گاڑی بنگلہ اللہ مجھے حیرت ہوتی ہے تمہاری سوچ پر  تم ماشاءاللہ ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی ہوں
اور اپنی سوچ دیکھو کتنی گری ہوئی ہے
"ارے ارے ایسا کیا بول دیا میں نے جو تم  اتنا غصہ کر رہی ہو"(وہ گھبرا کر بولی)

ہر لڑکی کا ایم ہوتا ہے کہ اس کا شوہر ہر ایک جیسی عمر کا ہو  اچھا ہو ہینڈسم  ہو پیسے والا ہوں اور  میں بھی اگر دو خواہش رکھتی ہوں تو یہ کیا میرا حق نہیں!!!

سچ میری جان  اللہ تعالی کو کو یہ بات سخت نا پسند ہے  کہ اس کے بندوں میں  سے نقص نکالا جائے  الفت تم سمجھو میری بات کو نہیں تو بہت پچھتاؤ گی ابھی میں تمہاری دوست ہوں جب ہی یہ بات  میں تمہیں بتا رہی ہوں

بچھڑنا صورت میں کچھ نہیں رکھا کچھ بھی نہیں  اور مجھے بتاؤ کیا یاور حمزہ تمہاری کوئی ویلیو  نہیں رکھتا بتاؤ کیا وہ تم سے محبت نہیں کرتا کیا وہ یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں کوئی غیر نہ دیکھ سکے کے یہ ایک سچا پابند رشتہ ہے الفت  جس کی ڈور کَس کے بن جاتی ہے  اور اس ڈور کے بیچ میں  جو مضبوطی دیتا ہے وہ ہے نکاح ،،،

ہاں جانتی ہوں تمہیں پڑھنے کا شوق ہے  تم پڑھو گی انشاءاللہ  لیکن الفت جب تک تمہاری سوچ نہیں بدل سکتی جب تک تم ان پڑھ جاہل ہو  میری سوچ میں،،،

الفت  اس کی باتیں سن کر ثاقب کھڑی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کیا جواب دے اسے لیکن پھر بھی اس نے ہمت پکڑی اور کہا یار رمشا تمہیں بتاؤ میں کیا کروں  کیا کروں ایسا جس سے میرے دل میں اس کے لئے محبت پیدا ہوجائے

رمشا بےاختیار ہنسی  اور کہا جب تمہارا دل ہی نہیں ہے تو محبت کیسے ہوگی
محبت تو وہ احساس ہے جو آپ سامنے والے کو ایک بار صحیح طرح سمجھ جائیں  اس کی ہر اچھی بری عادت کو سمجھ جائیں  تو وہ خود بخود ہو جاتی ہے خودبخود

اور اس سے پہلے اپنے اللہ کو راضی کرنا پڑتا ہے
یہ جذبہ نعمت ہے میں تمہیں پہلے بھی بتا چکی ہوں الفت یہ جذبہ نعمت ہے،

ایک لمبی تقریر سننے کے بعد بعد افتکار  سر چکرانے لگا تھا۔۔۔!!
وہ اسے اب بس خالی سا دیکھ رہی تھی،

پھر اسکے گلے لگ کر بولی،"یار رمشا ویسے دوست ہو تو ایسی"

                            ~~~~~~~~

الفت گھر آچکا تھی اور اسے پتا لگا کے ابا اور تایا،علی بھی گھر آگئے ہیں،
وہ گھبراتی ہوئی لاؤنچ کے اُس پار والے کمرے میں داخل ہوئی،
سب وہی بیٹھے تھے،
محمل اور علی دونوں الگ الگ تھے لیکن تھے اسی ایک کمرے میں،

الفت زرا سی ہچکچاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تو کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا نا ہی کچھ بولا،

اب وہ بات ہونے جا رہی تھی جسکا انتظار محمل سے زیادہ الفت اور باقی گھر والوں کو تھا،

"بھائی میں معذرت چاہتا ہوں یہ وقت ایسی بات کرنے کا نہیں ہے لیکن،،،،میں یہ رشتہ ختم کرتا ہوں،"
"دو لمحے کے لیے تو پورا کمرا خاموشی میں ڈوب گیا،

لیکن اِس خاموشی کو ارفان صاحب کی ہنسی نے جھنجوڑ دیا تھا،
الفت سر گوشی کرتے ہوئے بولی،
(لگتا ہے تایا جان کو دورا پڑھ گیا)

محمل نے اسکی عادت سے واقف تھی وہ سمجھ گئی تھی کے الفت نے کیابولا ہے ،
وہ بھی دھیرے سے ہنسی،

اللہ کا شکر ہے آغا تو نے یہ بات خود اپنے منہ سے کہہ دی،
ورنہ میں بھی یہی بولنا چاہتا تھا،
علی برخوردار اس رشتہ متفق نہیں تھا،
خیر!!!

آغا صاحب بھاری آواز لیکن سنجیدہ ہوکر بولے،
نہیں بھائی میں سمجھ گیا ہوں، بیٹیاں ظہمت نہیں ہوتیں

الفت اور محمل نے جھکایا ہوا سر بلند کیا،اور اپنے والد کو آج پہلی بار اتنی شمک بھری آنکھوں سے دیکھا،

ہاں بیٹا جب محمل نے مجھے اسلام کی بات سے آگاہ کیا تو میں اُس وقت ٹوٹ گیا اور سوچنے لگا کے اپنی آنا میں یہ کیا کرگیا ہوں میں،
اپنی اتنی لائق بچی کو اتنی جلدی خود سے جدا کردیا
(الفت کی آنکھوں کے گوشے دھیرے دھیرے بھرنے لگے)
وہ اب تک اپنے والد کو حسراتی نگاھوں سے دیکھنے لگی،

مجھے معاف کردوں بیٹے اگر ہوسکے تو،،،
اور یہ کہہ کر وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑھنے لگے،

الفت بھاگتی ہوئی انکے سینے جا لگی،
ابا۔۔۔۔!
وہ سسکیاں لیتے ہوئے رو رہی تھی،
نہیں ابا۔۔۔؛مجھے یوں شرمندہ نا کریں،اور ابا آپکے فیصلے میری سر آنکھوں پر ہیں۔ خدارا یوں شرمندہ نا کریں،،،

میں بھی بہت بری ہوں ابا جو آپکے لیے دل میں  بغض رکھے ہوئے تھی ،،،،
ابا معاف کردیں مجھے،کہہ کر وہ دونوں لڑکیا اپنی باپ کی باہوں میں آکر سیمٹ گئی،
انکی سانسیں اوپر نیچے ہورہی تھی لیکن یہ وقت ایک اہم وقت تھا جب والدین اور اولاد کے دل سے میل نکل چکا تھا،!!!

اور یہ لمحہ ایک نہایت نعمت سے کم نہیں تھا،

اب دونوں بھائی بھی آپس میں گلے مل رہے تھے
انہیں بلکل بھی کوئی غم نا ہوا تھا، کے دونوں کے بچوں کے رشتے ہٹ چکے ہیں یا کچھ اور۔۔۔،

تائی حمیدہ بھی پروین صاحبہ سے گلے ملیں،

یہ نظارہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہا تھا،،،،،،،،!!!!

یہ لوگ اب تک گھر نا گئے تھے،اور الفت چہت پر کھڑی ابا کی باتوں پر خود کو شرمسار محسوس کر رہی تجی،

تنہائی میں ہی سہی لیکن اسے احساس ہوگیا تھا کے ابا نے میرے لیے برا نہیں سوچا تھا،

وہ انہی سوچوں میں گم تھی کے پیچھے علی نے بہاؤ کر کے ڈرایا
وہ لمحہ بھر چونکی،،

ہائے۔۔۔!
ارے یار علی مت ڈرایا کرو ایسے،

اور تم اوپر کیوں آگئے ڈاکٹرز نے منا کیا ہے نا،تمھیں زیادہ چلنے پھرنے سے،،،

اچھا اچھا بس بس اب لیکچر نے دینا میں کچھ بتانے آیا ہوں،

(الفت نے پیار بھرے لہجے میں بولا کیا؟)

وہ ہی گڈ نیوز جو میں تمھیں دینے والا تھا،،،

ہاں ہاں یاد آگیا،،،
بتاؤ؟

ہمم بتا دوں گا، اتنی جلدی بھی کیا ہے،،؟!

"الفت اب چیڑ کر بولی"
"دیکھو تمھیں بتانا ہے تو بتاؤ ورنہ جاؤ"

افف غصہ۔۔۔۔۔۔جب غصہ کرتی ہو تو اور پیاری لگتی ہو۔۔،

چلو نیچے میں بتا تا ہوں کے وہ کونسی گڈ نیوز ہے۔۔۔!!!!

اور دونوں بھاگتے ہوئے گیسٹ روم کی طرف گئے،،،،

وہ دونوں سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے سیدھا گیسٹ روم میں جارہے تھے،
علی نے اسکا ہاتھ تھاما ہوا تھا،

اور اب وہ لیپ ٹاپ کی سکرین سے کچھ ڈاکیومنٹ نکلنے لگا،،،

وہ دونوں مشغول سے تھے
الفت کو پتا ہی نہیں لگا کے کب یاور حمزہ اسکے گھر اور اپنے سسرال آچکا تھا یعنی حمزہ اس وقت وہی تھا،!!!

جس شخص کے دل میں شک کی تھوڑی بہت بھی چنگاری جلنے لگے تو اس کے سامنے قدم پھونک پھونک کے رکھنے پڑتے ہیں،

لیکن یہاں الفت صاحبہ کو تو کانوں کان خبر نا تھی کے حمزہ آخر اتنی بے رخی کیوں دیکھا رہا تھا کل شب اور آج شام،

دیکھوں الفت میں نے تمھارے لیے لندن کی ہائے کلاس یونیورسٹی میں یہ فام فیل کیا تھا جسکا ان لوگوں نے رسپانس ابھی کچھ وقت پہلے دیا تھا،

الفت کے کانوں میں کسی نے آرنگ کے تار بجا دیے ہوں،
وہ بلکل بے علمی کے عالم کھڑی کی  کھڑی رہ گئی،
کیا واقعی؟!!
سچ میں علی،!!
(اس نے علی کا ہاتھ اب اور مضبوطی سے پکڑا تھا)

ہاں الفت اب تم لندن کی ہائے کلاس یونیورسٹی میں پڑھو گی انہیں میں نے تمھارے سارے ڈاکیومنٹ بھی دیے تھے جن سے انکا اچھا رسپانس دیکھنے کو ملا،
تمھیں ایک اور گڈ نیوز دینی ہے،

اب کیا مار ڈالو گے علی ایک اور گڈ نیوز بتاؤ؟

تم وہاں انکی سروس سے جاؤ گی اور پورے ایک سال تک یہ یونیورسٹی تمھارا خرچہ برداشت کرے گی،

ارے واہ علی یہ تو بہت بڑی خوش خبری ہے یار۔۔۔!
مجھے اب بتا رہے ہو تم۔۔۔!

لیکن اب ایک پرابلم ہے الفت...!
بولو وہ کیا؟!

یہاں میرڈ لوگ نہیں جا سکتے۔۔۔
یہ اس یونیورسٹی کا رول ہے،،،،

یعنی ہاتھ تو آیا منہ نا لگا...!

اسکی ساری خوشیوں پر پانی کی نہر جا چکی تھی،

"علی یہ تم نے میرے ساتھ مزاخ کیا ہے...؟"

الفت اب کمرے سے باہر آگئی
اور علی اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا،

وہاں حمزہ جو ان دونوں کو ساتھ دیکھتے دیکھتے اس کمرے تک آچکا تھا جہاں یہ دونوں ابھی کچھ دیر پہلے ساتھ موجود تھے،

اس نے باتیں تو نہیں سنی تھی لیکن ان دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتا ضروت دیکھا تھا،
لڑائی ہونے پہلے وہ وہاں سے چلا گیا کیوں کے وہ برداشت ہی نا کرسکا کے اسکی بیوی ایک غیر مرد کا ہاتھ پکڑی ہوئی ہو،
اس سے پہلے وہ اسکے ساتھ اکیلی واٹ میں بیٹھ کر ہنس ہنس کر گفتگو کر رہی تھی،

یاور حمزہ کسی کو بنا کچھ بتائے وہاں سے چلا گیا،

الفت کو ابھی تک پتا نہیں چل سکا تھا کے وہ آیا بھی تھا یا نہیں

منہ میں بڑبڑاتی ہوئی محمل کے کمرے تک آئی،

جب پتہ ہے شادی شدہ ہوں اسکے باوجود بھی،،
علی نے میرا مزاخ بنایا ہے،میں اسے نہیں چھوڑوں گی،

اتنی ہی دیر میں محمل ایک ہاتھ میں چائے اور دوسرے میں اپنا پلو سیمٹتی ہوئی کمرے میں آئی،

یاور بھائی یہ لیں۔۔۔۔۔۔!اور یک دم خاموش،،
جیجو کہاں گئے، آپی،

کب۔۔۔کہاں؟؟!وہ سٹپٹا گئی،
ارے ابھی تو یہی تھے میں انکے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور،،

ہائے آپی غضب ہوگیا ،کہیں وہ میری باتوں کا برا تو نہیں مان گئے،،،؟!

الفت نے پھر ایک بار اسکی جانب حیرانی سے دیکھا،

کیا بول رہی ہو۔۔۔،کیا بول دیا ایسا؟؟
افف انکا آج موڈ بھی ٹھیک نہیں تھا محمل کیا بولا ہے تم نے؟

آپی پہلے وعدہ کریں کے گھر میں کسی کو نہیں بتائیں گی؟؟

الفت نے بنا سوچے سمجھے کہا(ہاں۔۔ٹھیک ہے آگے بولو)

آپی وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کے میں نے شادی سے کیوں انکار کیا؟
پھر؟؟
پھر میں نے بولا آپکو نہیں بتاؤں گی،
تو انہوں نے کہا محمل میں آپکا بڑا بھائی ہوں تو مجھے بتا سکتی ہو آپ،،،،،
ٹرسٹ می کسی کو نہیں بتاؤں گا،،،
اب بتاؤ کیوں نہیں کر رہی شادی اس سے؟کیا برائی ہے؟

پھر میں نے آپی ہمت پکڑی اور اپنے دل کی بات آخر انہیں بتا دی،
میں نے بولا
بھائی وہ آپی سے محبت کرتے ہیں جبکہ میں ان سے بے پناہ محبت کرتی تھی،بس یہی وجہ ہے دل کو ٹھیس پہنچی تو معلوم ہوا کے ہم۔جیسا سوچتے ہیں ویسا کبھی نہیں ہوتا۔۔۔۔!

اور وہ چپ ہوکر مایوسی سے کھڑی ہوگئی،

الفت کو اسکا ہر ایک الفاظ اسکے کانوں میں جلتا سیسہ ڈال گیا تھا،،۔۔۔

یہاں میرڈ لوگ نہیں جا سکتے،،،

تم غصہ میں اور بھی پیاری لگتی ہو،،

مجھے چھوڑ کر کبھی مت جانا۔۔۔۔۔!

الفت کے پیروں تلے زمین کھسک گئی،

اس نے اٹھتے وقت محمل کو گھورا اور بولی"جب میں پوچھ رہی تھی تو بتایا نہیں اور اسے بتا دیا جسے یہ بتانا نہیں تھا"

وہ پریشانی کے عالم میں اوپر چھت پر آئی،
نگاھیں یہاں وہاں دوڑائی یہاں تک پارکنگ کو بھی ٹھیک سے دیکھا لیکن نا حمزہ دیکھا نا اسکی گاڑی،،،

الفت نے دھڑا دھڑ فون کرنا شروع کیا حمزہ کو لیکن حمزہ نے اسکا فون نا اٹھایا،

جب اسکے دل میں خوف کی گھنٹی نے بجنا شروع کیا تو وہی دماغ نے حل بتا یا ،،،،

حنین بھائی!!!......

ہاں حنین بھائی سے بات کرتی ہوں،
اس نے کال ملائی سامنے تین بار رنگ بجنے کے بعد چوتھی پر کال اٹھا لی گئی،

جی کون...!
میں الفت بول رہی ہوں بھائی،،
ہاں بھابھی آجاؤں کیا لینے آپکو؟

نہیں نہیں بس ایک فیور چاہئیے آپکی!!

جی کیسی فیور،
واس نے پوری ڈیٹیل تفصیل ً سنائی اور پوچھا کے اب وہ کیا کرے،

حنین سیدھا سا ہل بتاتے ہوئے اسکی پریشانی دور کردی،،

بھابھی وہ اس وقت سی ویو گیا ہوگا،،،
جب بھی کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو وہ وہاں چلا جاتا ہے،

اب میں کیا کروں۔۔۔؟
آپ بھی وہی چلی جائیں،،،میں لے چلو گا آپ آئیں نیچے میں بھی آتا ہوں تھوڑی دیر میں

کچھ ہی دیر بعد حنین اپنی بڑی گاڑی لیکر آیا الفت کو بیٹھا کر سی ویو کے گیا،

وہاں دیکھا تو سامنے ہی یاور حمزہ کی گاڑی کھڑی تھی،

اور وہ خود بھی لاتعلق سا بہتے سمندر کو خالی نگاھوں سے دیکھ رہا تھا،،،،،

الفت نے اسکی پشت پر ہاتھ رکھا
تو گھبرا کر پیچھے موڑا،

لیکن اسے دیکھ کر بھی حمزہ کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں آئی تھی،

حنین ان دونوں کے بیچ نہیں آنا چاہتا تھا تو وہ وہاں سے فوراً ہی چلا گیا،

تاریکی اور ٹھندی ہوائیں،
ایک طرف ٹوٹا ہوا دل،
ایک طرف شکستہ خواب،،
اور دونوں کے پیروں کو چھوتی معصوم لہریں،

کیا ہوا ہے..؟(وہ بے اختیار بولی)

دل ٹوٹا ہے،،۔۔۔۔!!
آنکھوں میں نمی اور آواز میں سنجیدگی،

میں نے کچھ کیا ہے..؟

نہیں میں ہی سب کچھ کرتا ہوں۔۔۔!

ناراض ہو۔۔!

نہیں ناراضگی اپنوں سے بیاں کی جاتی ہے،،،،

وہ چونکہ تھی اس بار اسکا لہجہ اور رویہ اسے چہری کی طرح اندر تک کاٹ گیا تھا،

کیا میں اپنی نہیں ہوں...؟(وہ لب بینچ کر بولی)

سمجھا تو یہی تھا لیکن اب جو اللہ کو منظور،،،،(اسکی آواز میں اب تک درد اور سنجیدگی تھی)

مجھے پتا ہے آپ کو میری عمر اور میری شکل پسند نہیں ہیں نا؟؟

وہ علی۔۔۔۔۔!

اسے کہتے کہتے روکا اس نے،

ایک منٹ علی کو تو بیچ میں نہیں لانا ایک نمبر کا چیپ انسان ہے،
اور رہی آپ کو نا پسندگی کی بات تو اب یہ "الفت ایوب"
"الفت یاور" بننا چاہتی ہے، ،،،

اسکی سانسیں ہلک میں اٹک گئی،

وہ کسیے؟؟

وہ ایسے کے اب یہ الفت آپکی سادگی پر اپنی آنا قربان کرتی ہے،

ہائے یہ لمحات اسکی زندگی کے سب سے بہترین لمحات تھے،

اس نے یہ جنگ آج فتح کرلی تھی شاید،

اس نے الفت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے مخاطب کیا،
کیا یہ الفت میری الفت بن سکتی ہے؟؟
کیا یہ الفت میرے ساتھ زندگی بسر کرسکتی ہے؟؟؟

ہاں۔۔۔۔!
اور وہ اپنا ضبط کھو چکا تھا
اسکے کانوں میں یہ الفاظ محظ الفاظ نہیں تھے،
اسکے کانوں میں رس گھولنے کا سامان تھے،

میں آگے بھی پڑھوں گی،اور آپکا ساتھ بھی دونگی ہر موڑ پر،
کیوں کے میری دوست نے مجھے آج اتنا بڑا سبق سکھایا ہے،،

کے نکاح خدا کو پسند ہے اور اس میں مبتلا ہونے والے کے دلوں میں خودبخود محبت کا پھول اجاگر ہوتا ہے,,,

لگتا ہے رب نے میری تہجد قبول کرلی،،
اور یہ کہتا ہوا وہ اسکے سر کا بوسہ لینے لگا،،،

اسکے ہاتھ چومے اور خدا کا شکر ادا کیا،،،

                                ~~~~~~~

اگلے روز جب وہ اپنی سوہانی رات سے بیدار ہوئی تو اسکے برابر میں لیٹا حمزہ اب بیٹی پر نہیں تھا
اس نے آنکھوں کو رگڑا تو،دبے دبے قدموں سے چلتا یاور حمزہ اسکے لیے ناشتہ بنا کر لایا تھا،

اس ناشتے کی ٹرے میں کچھ سفید کاغذات بھی تھے،

ارے میں بنا لیتی ناں،
نہیں میری جان تھوڑی خدمت ہمیں بھی کرنے دیں،
چائے کی پیالی اسکے ہاتھ میں تھمائی تو اسکی نظر ان کاغذات پر پڑی،،،،

یہ کیا ہے،(الفت نے تصدیق کی)

یہ ہے آپکی ترقی کی پہلی منزل۔۔۔!

مطلب۔۔۔؛؟

لندن کی Munich University میں آپکا ایڈمیشن ہوگیا ہے ایز آ لایر،
۔

آپکا خواب پورا،
وہ خوشی سے پھولے نا سمائی،،،،

"جب راہ میں خدا کا ساتھ ہو تو منزل آسمان پر بھی بن جاتی ہے،
عشق سچا ہو تو بات عرش پر بھی چلی جاتی ہے،"

ختم شد۔۔۔۔!

آپ نے اس کہانی یا ناول سے کیا سیکھا؟
مجھے نیچے کمنٹ میں ضرور بتائیے،،،